Ayah 18:1سب اچھی تعریفوں کے لائق ہے وہ اللہ جس نے اپنے بندے پر قرآن کریم نازل کیا :
1۔ گزشتہ سورت کو حمد و ستائش پر ختم کیا گیا تھا اور اس سورة کو اسی حمد و ستائش سے شروع کیا جارہا ہے تاکہ مضمون کی مناسبت قائم رہے اور انسان اللہ کی حمد و ستائش کرتا رہے کام کے شروع میں بھی اور اختتام میں بھی ، اسی طرح مضمون کے شروع ہی میں یہ بات بھی واضح فرما دی کہ جس شخص پر یہ قرآن کریم نازل کیا جارہا ہے وہ اللہ تعالیٰ کا ایک خاص بندہ ہے نہ وہ اللہ ہے اور نہ ہی اللہ کا بیٹا ہے اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کا تیسرا جز ہے بلکہ وہ اللہ کے بندوں میں سے ایک بندہ ہے اور جو کچھ اس پر اتارا گیا ہے اس میں کوئی بات بھی ایسی نہیں جس میں کسی طرح کی کوئی کجی یا ٹیڑھ ہو گویا نہ تو اس میں کوئی میل عن الحق ہے اور نہ ہی کوئی التباس ہے بلکہ جو کچھ بیان کیا گیا ہے بالکل صاف صاف اور ہر لحاظ سے سچ ہی سچ ہے جس میں نہ تو اختلال لفظی ہے اور ہی تناقض معنوی ہے گویا اس میں کوئی اینچ پینچ نہیں ہے کہ عام آدمی کے لئے اس کو سمجھنے میں کوئی مشکل پیش آئے بلکہ صاف صاف سیدھی بات کہی گئی ہے جس سے ہر آدمی جان سکتا ہے کہ یہ کتاب کس چیز کو غلط کہتی ہے اور کیوں کہتی ہے ؟ اور کس چیز کو صحیح کہتی ہے اور کس بناء پر ؟ کیا منوانا چاہتی ہے اور کس طرح ؟ کس چیز کا انکار کرانا چاہتی ہے اور اس کا فائدہ کیا ہے ؟ کن کاموں کا حکم دیتی ہے اور کن کاموں سے روکتی ہے ؟ اس مضمون کو قرآن کریم میں مزید دہرایا گیا ہے چناچہ ایک جگہ ارشاد فرمایا :
(آیت) ” قرانا عریبا غیر ذی عوج لعلھم یتقون “۔ (الزمر 39 : 28) ” ایسا قرآن کریم جو عربی زبان میں ہے جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں ہے ۔ “ بلکہ دین میں کجی پیدا کرنے والوں کو قرآن کریم نے ہر ممکن روکنے کی کوشش کی ہے اور کہا ہے کہ تمہاری یہ عادت اچھی نہیں ہے اس سے باز آجاؤ جیسا کہ ارشاد فرمایا :
(آیت) ” قل یاھل ال کتاب لم تصدون عن سبیل اللہ من امن تبغونھا عوجا وانتم شھدآء وما اللہ بغافل عما تعملون “۔ (آل عمران 3 : 99)
” اے پیغمبر اسلام ! آپ کہہ دیجئے کہ اے اہل کتاب ! یہ تمہاری کیا روش ہے کہ جو اللہ کی بات مانتا ہے اسے بھی تم اللہ کے راستے سے روکتے ہو اور چاہتے ہو کہ وہ ٹیڑھی راہ چلے حالانکہ تم خود گواہ ہو۔ (یاد رکھو) تمہاری حرکتوں سے اللہ غافل نہیں ہے ۔ “
دوسری جگہ فرمایا :
(آیت) ” الذین یصدون عن سبیل اللہ ویبغونھا عوجا وھم بالاخرۃ کافرون “۔ (الاعراف 7 : 45 ‘ ) (ھود 11 : 19)
” (اللہ کی لعنت) ان لوگوں پر جو اللہ کی راہ سے لوگوں کو روکتے تھے اور وہ چاہتے تھے سیدھی نہ ہو ‘ اس میں کجی ڈال دیں اور وہ آخرت کی زندگی سے منکر تھے ۔ “
ایک جگہ فرمایا :
(آیت) ” الذین یستحبون الحیوۃ الدنیا علی الاخرۃ ویصدون عن سبیل اللہ ویبغونھا عوجا اولئک فی ضلل بعید “۔ (ابراہیم 14 : 3)
” (خرابی ہے ان منکروں کے لئے) جنہوں نے آخرت چھوڑ کر دنیا کی زندگی پسند کرلی جو اللہ کی راہ سے انسانوں کو روکتے ہیں اور اس میں کجی ڈالنا چاہتے ہیں یہی لوگ ہیں جو بہت بڑی گہری گہرائی میں جا پڑے ہیں ۔ “
زیر نظر آیت میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اس کتاب کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے محمد رسول اللہ ﷺ پر نازل کیا ہے اور اس طرح قیم صورت میں نازل کیا ہے کہ جو لوگ راہ الہی سے روکنے اور کلام اللہ میں وساوس پیدا کرنے کے عادی ہیں وہ کبھی کامیاب نہیں ہوں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو ایسی ساری کجیوں سے پاک کردیا ہے اور جب اس کلام کے اندر وہ کمی بیشی نہیں کر پائیں گے تو اگر مفہوم میں وہ اپنی طرف سے کچھ ڈالیں گے بھی تو وہ ساتھ ساتھ صاف کرنے والے اس کو صاف بھی کرتے رہیں گے کیونکہ اصل ان کے پاس محفوظ ہوگا اور اس طرح یہ اللہ کا آخری کلام اس وقت تک محفوظ رہے گا جب تک اس دنیا کا نظام اسی طرح چلائے رکھنا چلانے والے کو منظور ہے ۔
چونکہ اس سورت میں سیدھا اور صاف خطاب عیسائیوں سے ہے اس لئے سب سے پہلے اس خطاب کے بھی وہی مصداق ہیں اس لئے خطاب شروع ہوتے ہیں ان کو بتایا جا رہا ہے کہ تم کجی ڈالنے اور اینچ پینچ کے بڑے ماہر ہو تاہم اس کلام الہی میں تم ایسا کرنے میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے کیونکہ اس کتاب کے اتارنے کا اصل مقصد ہی ان کجیوں اور گورکھ دھندوں کو دور کرنا ہے اس لئے ضروری ہے کہ جس غرض وغایت کے لئے یہ کتاب اتاری گئی ہے اس کو پورا کیا جائے یہی وجہ ہے کہ اس کی حفاظت کا اعلان کردیا گیا ہے جس کو نہ غلط کیا جاسکتا ہے نہ منسوخ کیا جاسکتا ہے ، غور کرو کہ آج سچائی کے لئے دنیا کی عالمگیر تعبیر یہ ہے کہ وہ سیدھی اور صاف بات ہو اور اس میں ٹیڑھا پن نہ ہو اور یہ کہ جس بات میں کجی ہو اینچ پینچ اور خم ہو اور الجھی ہوئی ہو وہ سچائی کی بات نہیں ہو سکتی ، یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے سعادت کی راہ کو صراط مستقیم سے تعبیر کیا ہے اور ہر جگہ وہ اپنا یہ وصف بیان کرتا ہے کہ اس میں کوئی بات بھی کجی کی نہیں ہے وہ اپنے ہر معاملہ میں دنیا کی زیادہ سے زیادہ سیدھی اور صاف بات کرتا ہے ، ہمیں افسوس ہے کہ ہمارے مفسرین نے اگر قرآن کریم کے اس ایک ہی اعلان کو مدنظر رکھا ہوتا تو آج ہمارے سامنے قرآن کی تفسیر اس طرح نہ ہوتی جس طرح پیش کی جاتی ہے اور ایک آیت کی تفسیر پیش کرتے ہوئے بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ قرآن کریم کی دوسری آیات کو بھی پیش نظر رکھا گیا ہو ۔ اس کی تفصیل تو اتنی لمبی ہے کہ اگر اس کو بیان کیا تو ایک کتاب تانر ہوجائے لیکن یہاں ایک مثال دی جاتی ہے تاکہ بات سمجھ میں آجائے مثلا قرآن کریم نے ” بہتان “ کی تعریف کی ہے کہ وہ کیا ہوتا ہے ؟ اور اس کی برائی بھی بیان کی ہے جس کی بہت بڑا جرم قرار دیا ہے ، اگر اس بات کو سمجھنا ہو تو سورة النساء کی آیت 112 کی تفسیر دیکھیں ، اگر ہمارے مفسرین کے پیش نظر بہتان کی یہ تعریف ہوتی تو وہ سورة یوسف کی آیت 70 کی تفسیر کرتے ہوئے کبھی یہ نہیں لکھ سکتے تھے کہ ” جب یوسف (علیہ السلام) نے بھائیوں کا سامان تیار کروایا تو انہوں نے اپنے بھائی بن یامین کے سامان میں اپنا پیالہ رکھوا دیا پھر ایک پکارنے والے نے پکارا اور کہا کہ اے قافلہ والو ! تم چور ہو ۔ “
ہمیں معلوم ہے کہ مفسرین نے اپنے پاس سے یہ بات گھڑی کہ یوسف (علیہ السلام) نے بنیامین سے مشورہ کرکے یہ بات کہی تھی ، لیکن کیا اس طرح کے فریب کرنے کی قرآن کریم نے اجازت دی ہے ؟ اگر دی ہے تو وہ اجازت کہاں اور کس جگہ ہے ؟ کیا ایسی بات سے حقیقت بدل جاتی ہے ؟ پھر ایک چیز نہیں اس طرح کی سینکڑوں جگہ قرآن کریم میں آئی ہیں جہاں آنکھیں بند کرکے صرف ایک واقعہ کو پیش نظر رکھ کر اس کی تفسیر کردی گئی ہے اور اپنی مرضی کے مطابق یا تورات کے محرف شدہ بیانات کی تصدیق میں ایسا کیا گیا ہے اگر اس واقعہ کو اٹھا کر کسی دوسری جگہ رکھا جائے تو اس کی صاف کجی نظرلگتی ہے ، حالانکہ صاف اور سیدھی بات کو جہاں بھی رکھوگے وہ صاف اور سیدھی ہی نظر آئے گی ، ایک بار آیت کا ترجمہ پھر پڑھ لیں تاکہ مفہوم سمجھنے میں آسانی ہو فرمایا ” ساری ستائشیں اللہ کے لئے ہیں جس نے اپنے بندے پر (الکتاب) اتاری اور اس میں کسی طرح کی بھی کجی نہ رکھی ۔ “
Ayah 18:2وہ بالکل سیدھی بات ہے تاکہ برائی سے روکے اور نیکی کی طرف ترغیب دے :
2۔ اس آیت میں قرآن کریم کے نزول کا مقصد مزید واضح کردیا کہ وہ تبشیر وتنذیر ہے کیونکہ ہدایت وحی جب کبھی ظاہر ہوئی ہے اس لئے ظاہر ہوئی ہے کہ ایمان وعمل کے نتائج کی بشارت دے اور انکار و بدعملی کے نتائج سے متنبہ کرے ، قرآن کریم کی صفت جو اس جگہ بیان ہوئی وہ (قیما) ہے قیام کے معنی ہی کسی چیز کی نگہداشت اور حفاظت کرنے کے ہیں ” قیم “ مبالغہ کا صیغہ ہے یعنی یہ کتاب ایسی ہے جو بہت ہی نگہداشت اور بہت ہی حفاظت کرنے والی ہے یا یہ کہ اس کی بہت ہی نگہداشت اور حفاظت کی گئی ہے اس طرح دین اسلام کو بھی (آیت) ” ذلک دین القیمۃ “۔ کہا گیا ہے اور اس دین کے قیم ہونے کا مطلب بالکل صاف اور سیدھا ہے کہ وہ مضبوط اور معاش ومعاد کے امور کو قائم رکھنے والا ہے گزشتہ کتابوں کو اس پر رکھ کر پرکھنا ہے کہ ان کی غلطیاں جو لوگوں نے ان میں ڈال دی ہیں ان کی چھان بین کی جائے نہ کہ الٹا اس کتاب مبین کو ان کی عبارات پر فٹ کرنا ہے گویا گزشتہ کتب کی کسوٹی قرآن کریم ہے ان کتابوں کا ہو قصہ ‘ ہر ہدایت اور ہر بات کو اس پر رکھنا ہے اور اس پر پیش کرنا ہے ‘ یہ ان کو صاف کرکے حق کو حق اور باطل کو باطل کرکے رکھ دے گا اور یہ بات یقینی ہے کہ جو اس پر فٹ نہ آیا وہ عیسائیوں کا اختراع ہے تورات جو اللہ کی کتاب تھی وہ نہیں ، لیکن افسوس کہ ہمارے مفسرین نے ان قصص اور احکام کو اس کے قصص پر رکھ کر دیکھنے کی بجائے قرآن کریم کی واقعات کو تورات پر فٹ کرنے کی کوشش کی جو آج بھی بتا رہی ہے کہ یہ قرآن کریم کی زبان نہیں ‘ قرآن کریم کا نظریہ نہیں ‘ قرآن کریم کی ہدایت نہیں ‘ قرآن کریم کی رہنمائی نہیں ، چونکہ قرآن کریم میں وہی قصے بیان کئے اور وہی احکام بیان ہوئے ہیں جو پہلی کتابوں میں بیان کئے گئے تھے لیکن ان کتابوں کے ماننے والوں نے بہت کچھ اپنی طرف سے ان میں ملا دیا تھا ‘ قرآن کریم نے ان کو چھانٹ کر الگ کردیا اور ان میں سے صرف اور صرف وہ باتیں بیان کیں جو دراصل کہی گئی تھیں ہمارے مفسرین نے یہ کام کیا کہ جو قرآن کریم نے چھانٹ کر الگ کیا تھا اس کو بطور تفسیر اس میں رکھ دیا اور آج تک اس پر زور دیا جا رہا ہے کہ اس کو قبول کرو اگرچہ قرآن کریم کی عبارت اس کو آج بھی قبول کرنے کے لئے تیار نہیں اور کبھی بھی اس کو قبول نہیں کرے گی بلکہ وہ آج بھی اپنا کام اسی طرح جاری وساری رکھے ہوئے کہ برابر تنذیر وتبشیر کر رہا ہے کہ برے اعمال کا نتیجہ ہمیشہ برا ہے خواہ ان کا کرنے والا کون ہو اور اچھے اعمال کا نتیجہ ہمیشہ اچھا ہی ہوگا خواہ ان کا کرنے والا کوئی ہو ۔ ایک برائی کرنے والا کتنا بھی نیک ہو وہ برائی برائی ہی رہے گی اور ایک اچھائی کرنے والا کتنا ہی برا کیوں نہ ہو وہ اچھائی اچھائی ہی رہے گی یہ الہی قانون اور وعدہ ہے اس کا بدلنا محال ہے ، فراء نے بھی یہی کہا ہے کہ وہ ساری کتب سماوی پر (قیم) ہے یعنی ان کی حفاظت کرنے والی ہے اور اپنی ذات میں کامل ہے اور دوسروں کو کامل کرنے والی ہے ، بلاشبہ وہ دونوں رنگ میں صحیح ہے اور دوسری جگہ اس کو (مھیمنا علیہ) (المائدہ 5 : 48) کہا گیا ہے وہ دوسروں پر محافظ ونگہبان ہے اور انسان کو اس کے کمال تک پہنچانے والی ہے اس کی تعیمی اتنی کامل ہے کہ اس کے مطابق عمل کرنے والا بھی کمال کو پہنچ جاتا ہے اور اس طرح جتنی جس کی مطابقت ہوگی اتنا ہی وہ کمال کو پہنچے گا ۔
Ayah 18:3اس ابدی تعلیم کا نتیجہ بھی ابدی ہی ہوگا کیونکہ فیصلہ الہی بدلا نہیں کرتا :
3۔ مومنوں کا اجر ایسا نہیں جو وقتی ہو بلکہ وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ہوگا جو اس زندگی میں بھی فائدہ دے گا اور آخرت کی زندگی کو بھی سنوار دے گا ، گویا یہ وہ انعام ہے جو کسی انسان کے وہم و گمان میں نہیں آسکتا اور پھر وہ دائمی وابدی اور غیر منقطع بھی ہوگا۔
Ayah 18:4اس کتاب میں ان لوگوں کو بھی تنبیہ کی گئی ہے جو اللہ کے لئے اولاد قرار دیتے ہیں :
4۔ عیسائیوں کا قول تھا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کا بیٹا ہے یا اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو بیٹا بنایا ہے لیکن اس کا یہ کہنا کسی علم پر مبنی نہیں کہ ان کو اللہ کے ہاں اولاد ہونے یا اللہ تعالیٰ کا کسی کو اولاد بنانے کا علم ہے یعنی کوئی عقلی یا نقلی دلیل ان کے پاس ہے بلکہ وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ محض ان کی عقیدت مندی ہے اور فقط ایک قومی نظریہ ہے جس کے متعلق ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے ، فلسفیانہ تجسس جس کا مقصد یہ پتہ چلانا ہے کہ اس کائنات میں بظاہر جو کچھ ہم دیکھتے اور محسوس کرتے ہیں اس کے پیچھے کوئی حقت بھی پوشیدہ ہے یا نہیں اور ہے تو وہ کیا ہے ؟ دنیا میں ان سب لوگوں کے لئے جو وحی والہام سے براہ راست حقیقت کا علم نہیں پاتے مذہب کے متعلق رائے قائم کرنے کا واحد ذریعہ ہے کوئی شخص بھی خواہ وہ کسی ملت سے تعلق رکھے ‘ شرک کو اپنائے یا توحید پر جم جائے بہرحال ایک نہ ایک طرح کا فلسفیانہ تجسس کئے بغیر مذہب کے بارے میں کسی نتیجہ پر نہیں پہنچ سکتا اور پیغمبروں نے جو مذہب پیش کیا ہے اس کی جانچ بھی اگر ہو سکتی ہے تو اسی طرح ہو سکتی ہے کہ آدمی اپنی بساط بھرفلسفیانہ غور وفکر کرکے اطمینان حاصل کرنے کی کوشش کرے کہ پر غم ہمیں مظاہر کائنات کے پیچھے جس حقیقت کے مستور ہونے کا پتہ دے رہے ہیں وہ دل کو لگتی ہے یا نہیں ؟ اس تجسس کے صحیح یا غلط ہونے کا تمام ترانحصار طریق تجسس پر ہے تاہم اس کے غلط ہونے سے رائے غلط اور صحیح ہونے سے رائے صحیح قائم ہوگی ، اب ذرا جائزہ لے کر دیکھئے کہ دنیا میں مختلف گروہوں نے اس تجسس کے لئے کون کون سے طریقے اختیار کئے ہیں تو معلوم ہوجائے گا کہ مشرکین کے خالص وہم پر اپنی تلاش کی بنیاد رکھی ہے ، اشرافیوں اور جو گیوں نے اگرچہ مراقبہ کا ڈھانگ رچایا ہے اور دعوی کیا ہے کہ ہم ظاہر کے پیچھے جھانک کر باطن کا مشاہدہ کرلیتے ہیں ، لیکن فی الواقع انہوں نے اپنی اس سراغ رسانی کی بنا گمان پر رکھی ہے ، وہ مراقبہ دراصل اپنے گمان کا کرتے ہیں اور جو کچھ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں نظر آتا ہے اس کی حقیقت اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ گمان سے جو خیال انہوں نے قائم کرلیا ہے اس پر تخیل کو جما دینے اور پھر اس پر ذہن کا دباؤ ڈالنے سے ان کو وہی خیال چلتا پھرتا نظر آنے لگتا ہے اور اس پر یہ انحصار کرلیتے ہیں ، اصطلاحی فلسفیوں نے قیاس کو بنائے تحقیق بنایا ہے جو اصل میں تو گمان ہے لیکن اس گمان کے لنگڑے پن کو محسوس کرکے انہوں نے منطقی استدلال اور مصنوعی تعقل کی بیساکھیوں پر اسے چلانے کی کوشش کی ہے اور اس کا نام انہوں نے ” قیاس “ رکھ دیا ہے ۔ سائنس دانوں نے اگرچہ سائنس کے دائرے میں تحقیقات کے لئے علمی طریقہ اختیار کیا ہے مگر ما بعد الطبعیات کے حدود میں قدم رکھتے ہیں وہ بھی علمی طریقے کو چھوڑ کر قیاس و گمان اور اندازے اور تخمینے کے پیچھے چل پڑتے ہیں ۔ پھر ان سب گروہوں کے ادہام و گمان کو کسی نہ کسی طرح تعصب کی بیماری بھی لگ گئی جس نے انہیں دوسرے کی بات نہ سننے اور اپنی راہ پر مڑنے اور مڑ جانے کے بعد مڑے رہنے پر مجبور کردیا ۔
قرآن کریم اس طریق تجسس کو بنیادی طور پر غلط قرار دیتا ہے ، وہ کہتا ہے کہ تم لوگوں کی گمراہی کا اصل سبب یہی ہے کہ تم تلاش حقیقت کی بنا ‘ گمان اور قیاس آرائی پر رکھتے ہو اور پھر تعجب کی وجہ سے کسی کی معقول بات سننے کے لئے بھی آمادہ نہیں ہوتے اس دہری غلطی کا نتیجہ یہ ہے کہ تمہارے لئے خود حقیقت کو پالینا تو ناممکن تھا ہی انبیاء کرام کے پیش کردہ دین کو جانچ کر صحیح رائے پر پہنچنا بھی غیر ممکن ہوگیا ۔ اس کے مقابلہ میں قرآن کریم فلسفیانہ تحقیق کے لئے صحیح علمی و عقلی طریقہ بتاتا ہے کہ پہلے تم حقیقت کے متعلق ان لوگوں کا بیان کھلے کانوں سے بلاتعصب سنو جو دعوی کرتے ہیں کہ ہم قیاس و گمان یا مراقبہ واستدراج کی بنا پر نہیں بلکہ ” علم “ کی بنا پر تمہیں بتا رہے ہیں کہ حقیقت یہ ہے پھر کائنات میں جو آثار یعنی نشانات تمہارے مشاہدے اور تجربے میں آتے ہیں ان پر غور کرو ‘ انکی شہادتوں کو مرتب کرکے دیکھو اور تلاش کرتے جاؤ کہ اس ظاہر کے پیچھے حقیقت کی نشاندہی یہ لوگ کر رہے ہیں اس کی طرف اشارہ کرنے والی یہ علامات تم کو اس ظاہر میں ملتی ہیں یا نہیں ؟ اگر ایسی علامات نظر آئیں اور انکے اشارے بھی واضح ہوں تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ تم خواہ مخواہ ان لوگوں کو جھٹلاؤ جن کا بیان آثار کی شہادتوں کے مطابق پایا جا رہا ہے ۔ یہی طریقہ فلسفہ اسلام کی بنیاد ہے جسے چھوڑ کر افسوس ہے کہ مسلمان فلاسفہ بھی افلاطون اور ارسطو کے نقش قدم پر چل پڑے ۔
قرآن کریم میں جگہ جگہ نہ صرف اس طریق کی تلقین کی گئی ہے بلکہ خود آثار کائنات کو پیش کر کے ان سے نتیجہ نکالنے اور حقیقت تک رسائی حاصل کرنے کی گویا ترتیب دی گئی ہے کہ سوچنے اور تلاش کرنے کا یہ ڈھنگ ذہنوں میں راسخ ہوجائے ، چناچہ سورة یونس کی آیت 67 میں دو آثار کی طرف توجہ دلائی ہے جہاں فرمایا گیا ہے کہ ” وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لئے رات بنائی تاکہ تم سکون پکڑو اور دن کو روشن بنایا ‘ اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو کھلے کانوں پیغمبر کی بات سنتے ہیں ۔ “ یہ انقلاب لیل ونہار دراصل سورج اور زمین کی نسبتوں میں انتہائی باضابطہ تغیر کی وجہ سے رونما ہوتا ہے ، یہ ایک عالم گیر ناظم اور ساری کائنات پر غالب اقتدار رکھنے والے حاکم کے وجود کی صریح علامت ہے ، اس میں صریح حکمت اور مقصدیت بھی نظر آتی ہے کیونکہ تمام موجودات زمین کی بیشمار مصلحتیں اس گردش لیل ونہار کے ساتھ وابستہ ہیں اس میں صریح ربوبیت اور پروردگاری کی علامتیں بھی پائی جاتی ہیں کیونکہ اس سے یہ ثبوت ملتا ہے کہ جس نے زمین پر یہ موجودات پیدا کی ہیں وہ خود ہی ان کے وجود کی ضروریات بھی فراہم کرتا ہے اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ عالمگیر ناظم ایک ہے اور یہ بھی کہ وہ کوئی کھلنڈرا نہیں بلکہ حکیم ہے اور بامقصد کام کرتا ہے اور یہ بھی کہ وہی محسن اور مربی ہونے کی حیثیت سے عبادت کا مستحق ہے اور یہ بھی گردش لیل ونہار کے تحت جو کوئی بھی ہے وہ رب نہیں مربوب ہے ‘ آقا نہیں غلام ہے ، ان آثاری شہادتوں کے مقابلہ میں مشرکین نے گمان و قیاس سے جو مذہب ایجاد کئے وہ آخر کس طرح صحیح ہو سکتے ہیں ؟
Ayah 18:5لوگوں میں کتنے ہیں جو اپنے مذہب کی بنیاد علم کی بجائے باپ دادا کی پیروی پر رکھتے ہیں :
5۔ غور کرو کہ لوگوں کو اس جاہلیت سے ٹوکا گیا تھا کہ وہ اپنے مذہب کی بنا علم کی بجائے قیاس پر رکھتے ہیں اور پھر کسی طرح علمی طریقہ سے یہ تحقیق کرنے کی بھی کوشش نہیں کرتے کہ ہم جس مذہب پر چلے جا رہے ہیں اس کی کوئی دلیل بھی ہے یا نہیں اور سلسلہ میں عیسائیوں اور بعض دوسرے اہل مذاہب کی اس نادانی پر ٹوکا گیا ہے کہ انہوں نے محض گمان سے کسی کو خدا کا بیٹا ٹھہرا لیا ہے ، جو بات زیر نظر آیت میں بیان کی گئی ہے وہی سورة یونس میں بھی بیان ہوئی جیسا کہ فرمایا ” لوگ کہتے ہیں کہ اللہ نے کسی کو بیٹا بنایا ہے ، سبحان اللہ ! آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اس کی ملک ہے تمہارے پاس اس قول کی آخر دلیل کیا ہے ؟ (آیت) ” ان عندکم من سلطن بھذا “۔ کیا تم اللہ کے متعلق وہ باتیں کہتے ہیں جو تمہارے علم میں نہیں ہیں ؟ “۔ (یونس 10 : 69) ان کے اس قول کی تردید میں اس جگہ تین باتیں کہی گئی ہیں (1) اللہ بےعیب ہے ۔ (2) ۔ وہ بےنیاز ہے ۔ (3) آسمانوں و زمین کی ساری موجودات اس کی ملک ہیں ۔
یہ مختصر جوابات تھوڑی سی تشریح سے بآسانی سمجھ میں آسکتے ہیں ۔
ظاہر بات ہے کہ بیٹا یا تو صلبی ہوگا یا متبنی ۔ اگر یہ لوگ خدا کا بیٹا صلبی معنوں میں قرار دیتے ہیں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ خدا کو وہ اس حیوان پر قیاس کرتے ہیں جو شخصی حیثیت سے فانی ہوتا ہے اور جس کے وجود کا تسلسل بغیر اس کے قائم نہیں ہو سکتا کہ اس کی کوئی جنس ہو اور پھر اس جنس سے کوئی اس کا جوڑا بھی ہو اور ان دونوں کے صنفی تعلق سے اس کی اولاد ہو جس کے ذریعہ سے اس کا نوعی وجود اور اس کا کام باقی رہے اور اگر یہ لوگ اس معنی میں خدا کا بیٹا قرار دیتے ہیں کہ اللہ نے کسی کو متبنی بنایا ہے تو یہ بھی دو حال سے خالی نہیں یا تو انہوں نے خدا کو اس انسان پر قیاس کیا ہے جو لاولد ہونے کی وجہ سے اپنی جنس کے کسی فرد کو اس لئے بیٹا بناتا ہے کہ وہ اس کا وارث ہو اور اس نقصان کی جو اسے بےاولاد رہ جانے کی وجہ سے پہنچ رہ ہے برائے نام ہی سہی کچھ تو تلافی کردے یا پھر ان کا گمان یہ ہے کہ خدا بھی انسان کی طرح جذباتی میلانات رکھتا ہے اور اپنے بیشمار بندوں میں سے کسی ایک کے ساتھ اس کا کچھ ایسی محبت ہوگئی ہے کہ اس نے اس کو بیٹا بنا لیا ہے ۔
اب ان تینوں صورتوں میں سے جو صورت بھی ہو بہرحال اس عقیدے کے بنیادی تصورات خدا پر بہت سے عیوب بہت سی کمزوریاں بہت سے نقائص سی احتیاجوں کی تہمت لگی ہوئی ہے ، اس بنا پر پہلے فقرے میں فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ ان تمام عیوب ‘ نقائص اور کمزوریوں سے پاک ہے جو تم اس کی طرف منسوب کر رہے ہو ، دوسرے فقرے میں ارشاد ہوا کہ وہ ان حاجتوں سے بھی بےنیاز ہے جس کی وجہ سے فانی انسانوں کو اولاد کی یا بیٹا بنانے کی ضرورت پیش آتی ہے اور تیسرے فقرے میں صاف صاف کہہ دیا گیا کہ زمین و آسمان میں سب اللہ کے بندے اور اس کے مملوک ہیں ان میں سے کسی کے ساتھ بھی اللہ کا کوئی ایسا مخصوص ذاتی تعلق نہیں ہے کہ سب کو چھوڑ کر اسے وہ اپنے بیٹا یا اکلوتا یا ولی عہد قرار دے لے ۔ صفات کی بنا پر بلاشبہ اللہ بعض بندوں کو بعض کی بہ نسبت زیادہ محبوب رکھتا ہے مگر اس محبت کے یہ معنی ہیں ہیں کہ کسی بندے کو بندگی کے مقام سے اٹھا کر خدائی کا مقام دیدے ، زیادہ سے زیادہ اس محبت کا تقاضا بس وہ ہے جو اس آیت میں بیان کردیا کہ ” جو ایمان لائے اور جنہوں نے تقوی اختیار کیا ان کے لئے کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں ‘ دنیا اور آخرت دونوں میں ان کے لئے بشارت ہی بشارت ہے ۔ “ (یونس 10 : 62 ، 63)
غور کرو گے تو معلوم ہوجائے گا کہ آج بھی دوسری قوموں کی جو حالت ہے وہ ہے ہی خود مسلمانوں کی حالت یہ ہے کہ وہ جو کچھ مذہب کے طور پر مانتے اور تسلیم کرتے ہیں اس میں کثیر حصہ انہیں ادہام اور قیاسات اور باپ دادا کے رسم و رواج کا ہے جن کی بنیاد علم پر یقینا نہیں ، پھر تعجب یہ ہے کہ وہ گزشتہ گمراہیوں کو تو گمراہیاں مانتے اور تسلیم کرتے ہیں لیکن جو گمراہیان انہوں نے خود اختیار کر رکھی ہیں یا ان کے باپ دادوں سے آئی ہیں ان پر دھیان دینے کے لئے کبھی تیار نہیں بلکہ الٹا ان لوگوں پر لعن طعن کرتے ہیں جو ان کی گمراہیوں کی نشاندہی کرتے ہیں اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ علم وفکر سے کام لینے کی توفیق دے اور ان وہمی اور قیاسی مفروضوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔
Ayah 18:6اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ نہ ماننے والوں کے لئے افسوس سے ہلاک نہ ہوں :
6۔ ب خ ع ۔ کے معنی اپنے آپ کو ہلاک کردینے کے ہیں (علی اثارھم) کے معنی ہیں ان کے پیچھے ان کے ایمان نہ لانے کی وجہ سے یا ایمان سے پھرجانے کے باعث ۔ نبی کریم ﷺ کی اس حالت کا ذکر قرآن کریم میں مختلف مقامات پر کیا گیا ہے مثلا سورة الشعراء میں ہے کہ (آیت) ” لعلک باخع نفسک الا یکونوا مؤمنین “۔ (26 : 3)
” اے پیغمبر اسلام ! تم اس غم میں اپنی جان کھو دے گے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لائے ۔ “
اور سورة فاطر میں ارشاد فرمایا :
(آیت) ” فلا تذھب نفسک علیھم حسرات “۔
” ان لوگوں کی حالت پر رنج وافسوس میں تمہاری جان نہ گھلے “ (35 : 8)
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس دور میں اپنی قوم کی گمراہی وضلالت ‘ اس کی اخلاقی پستی ‘ اس کی ہٹ دھرمی اور اصلاح کی ہر کوشش کے مقابلہ میں اس کی مزاحمت کا رنگ دیکھ دیکھ کر نبی کریم ﷺ برسوں اپنے شب وروز کس دل گداز وجاں گسل کیفیت میں گزارتے رہے ہیں ۔
جب اللہ کا بیٹا ماننے والی قوم کا ذکر کیا تو ساتھ ہی ان کے اس کفر پر اصرار کا بھی ذکر کردیا آج چودہ سو سال سے اسلام ان کے سامنے ہے مگر سوائے چند معدودے آدمیوں کے انہوں نے بظاہر اس کو قبول نہیں کیا اور اندر ہی اندر اس قوم کے ذی علم وفضل لوگوں نے قرآن کریم کا بڑی گہری نظر سے مطالعہ کرکے اس کے اصولوں کو دل کی گہرائیوں سے تسلیم کیا اور اپنے مذہب سے مقابلہ کر کے جان لیا کہ ہمارے ہاں تحریف ہے اور قرآن کریم کی تعلیم تحریف سے محفوظ ہے ۔ بظاہر زبان قال ان کو قومی اپچ آڑے آئی اس لئے وہ کچھ نہ کہہ سکے ان کے صاحب عقل لوگوں نے مذہب اور دنیوی زندگی کے اصولوں کو الگ الگ قرار دے دیا تاکہ مذہبی حیثیت کو بالکل الگ کر کے اس سے جان چھڑائی جاسکے ۔
اب مذہب کے لحاظ سے وہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ ‘ اللہ کا تیسرا حصہ اور اللہ کا بیٹا ‘ عیسوی گروہ بندیوں کے لحاظ سے ہر گروہ نے جو تسلیم کیا بس تسلیم کرلیا اور صلیب کانشان گلے میں لٹکا کر مذہب سے جان چھڑائی اور گناہوں کے کفارہ کے لئے ان کے مزہبی رہنما جو فیصلہ دیں وہ کفارہ ادا کردیا اور دنیا کو الگ کرکے اس کے چلانے کے لئے خود ساختہ اصول قائم کر لئے اس لئے وہ مذہب سے بالکل آزاد ہوگئے ، کیوں ؟ اس لئے کہ ان کے لئے سوائے اس کے کہ کوئی اور آسان راہ نہیں تھی اور قومی نظریات خواہ کتنے بوگس اور جہل کیوں نہ ہوں ان سے چان نہیں چھڑائی جاسکتی اور اگر کوئی سرسری اس کی مخالفت میں زبان کھول دے تو اس کا جینا اس کے مرنے سے زیادہ مشکل ہوجاتا ہے اور بدقسمتی سے آج قوم مسلم کی اکثریت اور علمائے اسلام کی اکثریت کا بھی یہی ہے ، اس سے بےنیاز ہوجانا لوہے کے چنے چبانے کے مترادف ہے ۔
Ayah 18:7زمین میں جو کچھ ہے ان کی آزمائش کے لئے ہے تاکہ اچھے برے کی تمیز ہوجائے :
7۔ جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے یہ سورت مکی ہے بلکہ مکی عہد کی آخری سورتوں میں سے ایک ہے یہ وہ وقت تھا کہ منکروں کی سرکشی انتہائی حد تک پہنچ چکی تھی اور پیغمبر اسلام کا قلب مبارک لوگوں کی شقاوت و محرومی کے غم سے بڑا ہی دل گیر ہو رہا تھا ، ان کے جوش دعوت واصلاح کا یہ حال تھا کہ چاہتے تھے ہدایت گھونٹ بنا کر ان کو پلا دیں اور منکروں کا یہ حال تھا کہ سیدھی سے سدھی بات بھی ان کے دلوں کو نہیں پکڑتی تھی ، انبیائے کرام ہدایت واصلاح کے صرف طالب ہی نہیں ہوتے عاشق ہوتے ہیں انسان کی گمراہی ان کے دلوں کا ناسور ہوتی ہے اور انسان کی ہدایت کا جوش ان کے دل کے ایک ایک ریشہ کا عشق ‘ اس سے بڑھ کر ان کے لئے کوئی غم گینی نہیں ہو سکتی کہ ایک انسان سچائی سے منہ موڑے ، اس سے بڑھ کر ان کے لئے کوئی شادمانی نہیں ہو سکتی کہ ایک گمراہ قوم راہ راست پر آجائے ، قرآن کریم میں اس صورت حال کی بار بار مثالیں ملتی ہیں گزشتہ آیتوں میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان کی گمراہی عجب نہیں کہ تجھے شدت غم سے بےحال کر دے لیکن جو گمراہی میں ڈوب چکے ہیں وہ کبھی اچھلنے والے نہیں اور زیر نظر آیت میں واضح کردیا کہ قانون الہی اس بارے میں ایسا ہی واقع ہوا ہے یہ دنیا آزمائش گاہ عمل ہے یہاں جو چیز کار آمد نہیں ہوتی چھانٹ دی جاتی ہے پس جن لوگوں نے اپنی ہستی خراب کردی ہے ضروری ہے کہ وہ چھانٹ دیئے جائیں ان کی محرومی پر غم کرنا لاحاصل ہے ، دوسری جگہ اس طرح ارشاد فرمایا گیا کہ ” وہ ذات جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تم لوگوں کو آزما کر دیکھے کہ تم میں سے کون بہتر عمل کرنے والا ہے ۔ “ گویا دنیا میں انسانوں کے مرنے اور جینے کا یہ سلسلہ اس لئے شروع کیا ہے کہ ان کا امتحان لے اور یہ دیکھے کہ کس انسان کا عمل زیادہ بہتر ہے ، اس مختصر سے فقرے میں بہت سی حقیقتوں کی طرف اشارہ کردیا گیا ہے اول یہ کہ موت اور حیات اس کی طرف سے ہے کوئی دوسرا زندگی بخشنے والا ہے نہ موت دینے والا ، دوسرے یہ کہ انسان جیسی ایک مخلوق جسے نیکی اور بدی کرنے کی قدرت عطا کی گئی ہے اس کی نہ زندگی بےمقصد ہے نہ موت ، خالق نے اسے یہاں امتحان کے لئے پیدا کیا ہے زندگی اس کے لئے امتحان کی مہلت ہے اور موت کے معنی یہ ہیں کہ اس کے امتحان کا وقت ختم ہوگیا تیسرے یہ کہ اس امتحان کی غرض سے خالق نے ہر ایک کو عمل کا موقع دیا ہے تاکہ وہ دنیا میں کام کرکے اپنی اچھائی یا برائی کا اظہار کرسکے اور عملا یہ دکھا دے کہ ہو کیسا انسان ہے ؟
چوتھے یہ کہ خالق دراصل اس بات کا فیصلہ کرنے والا ہے کہ کس کا عمل اچھا ہے اور کس کا برا ؟ اعمال کی اچھائی اور برائی کا معیار تجویز کرنا امتحان دینے والوں کا کام نہیں ہے بلکہ امتحان لینے والے کا کام ہے لہذا جو بھی امتحان میں کامیاب ہونا چاہے اسے یہ معلوم کرنا ہوگا کہ ممتحن کے نزدیک حسن عمل کیا ہے ؟ پانچواں نکتہ خود امتحان کے مفہوم میں پوشیدہ ہے اور وہ یہ کہ جس شخص کا جیسا عمل ہوگا اس کے مطابق اس کو جزا دی جائے گی کیونکہ اگر جزا نہ ہو تو سرے سے امتحان لینے کے کوئی معنی ہی نہیں رہتے ۔
Ayah 18:8جو کچھ زمین پر ہے اس کو مٹا دیا جائے گا اور زمین چٹیل میدان کردی جائے گی :
8۔ دنیا میں ایک سرے کی کوئی چیز اللہ نے پیدا نہیں کی ۔ اگر اس کا کوئی شروع ہے تو یقینا اختتام بھی ہوگا ۔ جس کا نہ شروع ہے اور نہ آخر وہ خالق ہے اور اس جگہ بحث خالق کی نہیں بلکہ مخلوق کی ہے ، فرمایا تم اس غلط فہمی میں مبتلا ہو کہ یہ سب کچھ ہم نے تمہاری عیش و عشرت کے لئے فراہم کیا ہے اس لئے تم زندگی کے مزے لوٹنے کے سوا کسی مقصد کی طرف توجہ نہیں کرتے کہ تمہارا مطمع نظر درست نہیں اس لئے تم سمجھانے والے کی باتوں پر کان نہیں دھرتے مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ سامان عیش نہیں بلکہ وسائل امتحان ہیں جن کے درمیان تم کو رکھ کر دیکھا جا رہا ہے کہ تم میں سے کون اپنی اصل کو فراموش کر کے دنیا کی ان دل فریبیوں میں گم ہوجاتا ہے اور کون اپنے اصل مقام کو یاد رکھ کر صحیح رویے پر قائم رہتا ہے ، جس روز یہ امتحان ختم ہوجائے گا اس روز یہ بساط عیش الٹ دی جائے گی اور یہ زمین ایک چٹیل میدان کے سوا کچھ نہ رہے گی اور اس زمین کو بدل کر نئی زمین بچھا دی جائے گی جس میں اونچان اور نچان نہیں ہوگی اور اس زمین میں حشر ہوجائے گا ۔
Ayah 18:9کیا آپ کا خیال ہے کہ اصحاب کہف ورقیم ہماری عجیب نشانیوں میں سے تھے :
9۔ اس جگہ بظاہر خطاب نبی اعظم وآخر ﷺ سے ہے لیکن مقصود وہی لوگ ہیں جنہوں نے سوال کیا تھا ، رہی یہ بات کہ وہ سوال کرنے والے کون تھے ؟ تو ہم ان آیات کے نوٹ کے بعد اس پورے واقعہ کو ذرا تفصیل سے بیان کریں گے تو یہ بات واضح ہوجائے گی ‘ تھوڑا سا توقف کریں گے چناچہ فرمایا کہ آپ کو کیا خیال ہے کہ کہف ورقیم والے ہماری نشانیوں میں سے عجیب نشانی تھے ؟ یعنی جو لوگ اس واقعہ کو اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے بہت بڑی نشانی سمجھ رہے ہیں ان پر ظاہر ہوجانا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ویسے تو کائنات انسانی کے لئے بلاشبہ عجیب ہیں لیکن اس کی قدرت کاملہ کے پیش نظر اس کے دوسرے نشانات کے مقابلہ میں یہ کوئی عجیب و غریب نشان نہیں ہے اس لئے کہ زمین و آسمان کی صناعی سورج ‘ چاند اور ستاروں کی تخلیق اور ان کا حیرت زا نظام کشش ، نظام فلکی کی یہ بےنظیر ترتیب ‘ انسان پر وحی الہی کا نزول اور بظاہر اسباب حق کی کمزوری اور باطل کی قوت کے باوجود حق کی فتح اور باطل کی شکست ایسے امور ہیں جو اس واقعہ سے کہیں بہت زیادہ تعجب خیز اور حیرت انگیز ہیں پس جن لوگوں کو یہ واقعہ بادی النظر میں عجیب معلوم ہوتا ہے وہ اگر قدرت حق کی مسطورہ بالا کافرمائیوں پر نگاہ حقیقت سے غور کریں تو پھر ان کو بھی اقرار کرنا پڑے گا کہ بلاشبہ قدرت حق کے سامنے یہ واقعہ نہ عجیب ہے ‘ نہ حیرت انگیز البتہ عبرت زا اور بصیرت افروز ضرور ہے ۔ ” کاش کہ لوگ بھی یہ بات سمجھیں “۔
Ayah 18:10چند نوجوان جو اللہ کے نیک بندے تھے حکومت وقت سے ڈر کر غار میں پناہ گزیں ہوئے تھے ۔
10۔ یہ مسیحی مذہب کا دور ہے اور نبطی حکومت کے اطراف یعنی شام وغیرہ میں عیسائیت کا زور ہے لیکن حکومت وقت علاقائی لوگوں کے زور سے مشرکین کی حمایت میں ہے اس لئے وہ ان لوگوں پر اس طرح ظلم ڈھاتی ہے جس طرح آج مکہ والے محمد رسول اللہ ﷺ پر ظلم ڈھا رہے ہیں اس لئے رقم یا راقیم (پیڑا) کے چند نوجوان یعنی سعید روحیں شرک سے بیزار اور نفور ہو کر توحید کی جانب مائل ہوجاتی ہیں اور دین عیسوی کو قبول کرکے اس پر عمل پیرا ہوجاتی ہیں اور اس کی تبلیغ بھی کرتی ہیں ، آہستہ آہستہ یہ بات حکومت وقت تک بھی پہنچ جاتی ہے ، توحید پرستوں سے دنیا داروں کی حکومت ہمیشہ خائف رہی ہے اور آج بھی ہے یہی وجہ ہے کہ مختلف ادوار میں ہر حکومت نے سب سے زیادہ نشانہ انہی لوگوں کو بنایا ہے اس لئے کہ ان میں اور کتنے بھی عیب ہوں لیکن توحید الہی کی حفاظت میں جان پر کھیلنا ان کے لئے بہت آسان ہوتا ہے ، بادشاہ وقت جو مشرک ہونے باعث وہم پرست بھی تھا جیسا کہ ہمیشہ مشرک وہم پرست ہوتے ہیں اس نے ان نوجوانوں کو دربار میں طلب کیا اور ان سے صورت حال پوچھی جو انہوں نے بےدھڑک بیان کردی نوجوان جب کلمہ حق بلند کرنے میں بےباک اور جری ثابت ہوئے تو بادشاہ کو ان کی یہ بات یقینا ناگوار گزرنا تھی وہ ناگوار گزری لیکن اس نے دوبارہ معاملہ پر غور کرنے کے لئے ان کو چند روز کی مہلت دی ، یہ لوگ دربار سے واپس آئے تو آپس میں مشورہ کیا اور طے پایا کہ پورے ملک کے حالات اچھے نہیں ہیں اس لئے خاموشی کے ساتھ کسی پہاڑ کے غار میں پوشیدہ ہوجانا چاہئے تاکہ مشرکوں کے شر سے محفوظ رہ کر عبادت الہی میں مشغول رہیں اور اپنی تحریک کو پوشیدہ رہ کر چلائیں ، یہ سوچ کر وہ ایک غار میں پوشیدہ ہوجاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کے کام کو آسان فرما دیتا ہے اور اس طرح وہ اپنے پروگرام میں کامیاب ہوجاتے ہیں ۔
Ayah 18:11وہ اسی غار میں سالہا سال رہتے ہیں اور باقاعدہ اپنے پروگرام کو چلاتے ہیں :
11۔ غار کے اندر وہ اپنے کام میں اس طرح مصروف ہوتے ہیں کہ گویا پوری دنیا سے الگ تھلگ ہیں اور دنیاداروں سے ان کا کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی حکومت کے کاموں سے ان کو کوئی سروکار ہے اور اس طرح وہ کئی سال تک اس غار میں پوشیدہ رہ کر اپنا کام کرتے رہے اور آبادی سے ان کا کوئی علاقہ نہ رہا اور زندگی کی کوئی صدا ان کے کانوں تک نہیں پہنچتی تھی کہ ملک کے اندر کیا ہو رہا ہے اور کون کیا کہتا ہے اور کیا کرتا ہے ؟ گویا جو طریقہ محمد رسول اللہ ﷺ نے اپنا رکھا ہے وہی وہ بھی کرتے تھے فرق یہ تھا کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول تھے اس لئے تبلیغ کا کام بند کرکے لوگوں سے لاتعلق نہیں ہو سکتے تھے اور ان لوگوں پر رسالت کا بوجھ نہیں ڈالا گیا تھا انہوں نے اپنی تحریک کو لوگوں سے الگ تھلگ رہ کر چلایا اور عبادت الہی میں مصروف رہے تاکہ ان کی رپورٹیں حکومت تک نہ پہنچیں اور حکومت ان کے لئے کوئی پروگرام نہ بنائے جس کے نتیجہ میں حالات خراب ہوں کیونکہ ان پر کوئی ایسی ذمہ داری نہیں ڈالی گئی حالات کے پیش نظر وہ اپنی جانوں کے ذمہ دار ہیں پوری قوم کے نہیں اور یہ بھی کہ چونکہ اس دور میں کتنے ہی واقعات اس طرح رونما ہوچکے تھے جن کی داستانیں انہوں نے بھی یقینا سنی ہوں گی لہذا یہی بات ان کو پسند آئی اور یہی انہوں نے کیا ، جو کچھ وہ وقتی طور پر کرسکتے تھے وہ کرلیا اور جیسے اور جب تک اللہ نے ان کو زندہ رکھنا تھا رہے اور اپنا کام کرتے رہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ جب انسان ہر طرف سے کٹ کر رجوع اللہ ہوجاتا ہے تو اللہ اس کا ہوجاتا ہے پھر جس کا اللہ ہوگیا اس کو آخر کس چیز کی کمی رہ گئی لوگ اس ٹوہ میں رہتے ہیں کہ یہ لوگ کھاتے کہاں سے ہیں اور ان کے سارے کام کیسے چلتے ہیں ؟ لیکن یہ بات وہ خود بھی نہیں جانتے اس لئے کہ وہ مسبب الاسباب خود ہی سبب بناتا رہتا ہے اور ان کی دال روٹی چلتی رہتی ہے اور یہی کچھ ان لوگوں کے ساتھ ہوا اور جب تک اللہ نے چاہا وہ اس غار کے اندر زندہ رہے اور باہر ملک کے اندر بھی حالات بدلتے رہے اور ان کی تحریک ان کی عدم موجودگی میں اس طرح چلی کی شاید وہ خود بھی اس طرح نہ چلا سکتے ۔
Ayah 18:12اللہ تعالیٰ نے اپنے وقت پر اٹھا کھڑا کیا اور ان کا پروگرام ظاہر ہوگیا :
12۔ ” پھر ہم نے ان کو اٹھا لیا تاکہ معلوم کرلیں کہ دو جماعتوں میں سے کس نے اس مدت کو محفوظ رکھا جس میں وہ ہے ۔ “
یہاں دو جماعتوں سے کیا مراد ہے ؟ بعض مفسرین نے غار والوں ہی کو دو جماعتوں میں تقسیم کیا اور کہا ہے کہ انہوں نے آپس میں اختلاف کیا جیسا کہ آگے آرہا ہے ، لیکن ہمارے خیال میں ان مفسرین کی بات میں زیادہ وزن ہے اور زیادہ صحیح ہے جنہوں نے دو جماعتوں سے ایک اصحاب کہف اور دوسرے اہل ملک یا اہل شہر مراد لئے ہیں جو ان کے مخالف تھے ۔ ایک نے حق کی پیروی کی اور دوسری نے ظلم وتشدد پر کمر باندھی پھر چند سالوں کی مدت دونوں جماعتوں پر گزری گھی اس پر بھی جو غار میں پناہ لینے پر مجبور ہوئی اور اس پر بھی جس نے غار میں پناہ لینے کے لئے انہیں مجبور کیا ، اب دیکھنا یہ تھا کہ دونوں میں سے کس نے کمایا ہے ؟ اور کس نے کھویا ہے ؟ کون ان دونوں میں وقت کا بہتر اندازہ شناس تھا ؟ چناچہ آگے چل کر جو تفصیلات آتی ہیں ان سے واضح ہوجاتا ہے کہ ظالم جماعت کے ظلم کی عمر بہت تھوڑی تھی اور بالآخر وہی راہ فتح مند ہونے والی تھی جو اصحاب کہف نے اختیار کی تھی کیونکہ بالآخر مسیحی دعوت تمام ملک میں پھیل گئی اور جب کچھ عرصے کے بعد وہ غار سے نکلے اور ایک آدمی کو آبادی میں بھیجا تو اب مسیحی ہونا کوئی ناقابل معافی جرم نہیں تھا بلکہ انہی کے لئے عزت وسربراہی کی سب سے بڑی عزت تھی ، جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ ان پرستاران حق کی استقامت ہی تھی جس نے دعوت حق کو فتح من کیا اور اگر وہ مظالم سے تنگ آکر اتباع حق سے دست بردار ہوجاتے تو یقینا یہ انقلاب ظہور میں نہ آتا۔
Ayah 18:13اب ہم پورا واقعہ ذرا تفصیل کے ساتھ آپ کو سناتے ہیں وہ چند نوجوانوں کی داستان ہے :
13۔ گویا ایک مجمل خلاصہ لوگوں کو پہلے سنا دیا جنہوں نے سوال کیا تھا اور یہ خلاصہ آیت دس سے بارہ تک گزر چکا ہے اور اب ذرا تفصیل سے ان کی داستان سنائی جاتی ہے فرمایا وہ چند نوجوان تھے جنہوں نے سچائی کی راہ میں دنیا اور دنیا کی راحتوں سے منہ موڑا اور ایک غار میں پناہ گزیں ہوگئے ان کے پیچھے ظلم وستم کی قوتیں تھیں سامنے غار کی تاریکی اور وحشت تاہم وہ ذرا بھی ہراساں نہ ہوئے انہوں نے کہا ” خدایا ! تیری ہی رحمت کا آسرا ہے اور تیری ہی چارہ سازی پر بھروسہ ۔ “ چناچہ کئی سال تک وہ وہیں رہے اور اس طرح رہے کہ دنیا کی صداؤں کی طرف سے ان کے کان بالکل بند تھے ، یہ جوان کون تھے ؟ کس علاقہ کے تھے ؟ کس قوم سے ان کا تعلق تھا ؟ کس بادشاہ نے ان کو تنگ کیا ؟ اس کا مطالبہ کیا تھا ؟ یہ غار میں کیوں گھس گئے ؟ یہ اور اس طرح کے کئی سوالات ان کے متعلق ہیں اور ان سب کا جواب ان کی مکمل حکایت میں آجائے گا جو ان آیات کی تفسیر کے انشاء اللہ العزیز ہم بیان کریں گے ۔
زیر نظر آیت میں فرمایا کہ جب انہوں نے راہ الہی میں نکلنے کی ہمت کرلی تو ہم نے ان کے ایمان کی حالت کو مزید مضبوط سے مضبوط تر کردیا وہ عمر کے جوان تھے ہی لیکن اب وہ عزم وہمت کے بھی جوان ہوگئے اور ہم نے ان کے اپنی راہ کو مزید آسان کردیا ۔
Ayah 18:14انہوں نے پوری قوم سے منہ موڑا تو ہم نے ان کی مشکلات کو آسمان کردیا :
14۔ یہ ان کی اس وقت کی حالت کا بیان ہے جب وہ اپنی قوم اور اپنی حکومت کے خلاف توحید الہی کا درس لے کر اٹھے تھے فرمایا (آیت) ” وربطنا علی قلوبھم “۔ ربط کے معنی باندھنے کے ہیں اور دلوں پر ربط سے مراد وہی ہے جو سکینت کے نازل کرنے اور روح القدس سے تائید حاصل کرنے کے ہیں مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انکے دلوں کو اور بھی مضبوط کردیا ۔ (شططا) شطط کے معنی بہت ہی زیادہ دوری کے ہیں اور مطلب یہ ہے کہ ایسا قول یا ایسی بات جو حق سے بہت ہی دور ہو ظاہر ہے کہ جب خالق کو مخلوق کے ساتھ ملا کر مخلوق کے سپرد خالق کے کام لگائے جائیں اور خالق کے لئے اولاد قرار دی جائے اور اسی طرح خالق حقیقی کو محتاج بنا کر رکھ دیا جائے تو اس سے زیادہ حق سے دوری اور کیا ہو سکتی ہے ؟ یہی بات انہوں نے کہی تھی کہ ” ہمارا پروردگار تو وہی ہے جو آسمان و زمین کا پروردگار ہے ہم اس کے سوا کسی اور کو معبود بنا کر پکارنے والے نہیں اگر ہم اس کے سوا کسی کو اپنا حاجت روا اور مشکل کشا سمجھیں تو یہ بڑی ہی بیجا بات ہوگی ۔ “ پھر جان بوجھ کر ایک بیجا بات اللہ کے حق میں کہیں تو ایسی زندگی پر ہم موت کو ہزار بار ترجیح دیں گے اور ہمارا مر جانا زندہ رہنے سے بہتر ہوگا ۔
Ayah 18:15انہوں نے قوم سے کہا تم نے جو معبود بنا رکھے ہیں آخر تمہارے پاس اس کی دلیل کیا ہے ؟ :
15۔ انہوں نے آپس میں بھی بیٹھ کر سیر حاصل بحث کی کہ آج کل جو کچھ ہماری قوم کر رہی ہے یہ زندہ قوموں کا شیوہ نہیں اور قوم کو بھی مخاطب کرکے کہا کہ ” یہ جو تم نے اللہ کے سوا دوسروں کو پکڑ رکھا ہے تو آخر تمہارے پاس اس کی دلیل کیا ہے ؟ ذرا اپنی وہ دلیل تو بیان کرو اگر تمہارے پاس کوئی دلیل نہیں تو تم ہی بتاؤ کہ اس شخص سے زیادہ ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھے اور اللہ کے ذمہ وہ باتیں لگا دے جو اس میں نہیں ہیں اور جس سے اللہ اللہ نہ رہے بلکہ وہ خود مخلوق تصور ہونے لگے تم ہی بتاؤ کہ یہ اللہ پر بہتان نہیں تو اور کیا ہے ؟ قوم کے پاس اور ظالم حکمرانوں کے پاس جواب تو تھا نہیں لیکن طاقت وزور ضرور تھا اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے آخر میں زور دکھایا اور حکومت وقت کو ان کی حالت سے آگاہ کیا ، حکومت نے ان کو طلب کیا اور ان کے عقائد پر ان کی سرزنش کی اور قومی عقائد اختیار کرلینے کی ہدایت کر کے معاملہ غور طلب قرار دے دیا اور اس کے لئے انکو ایک تاریخ مقرر کردی کہ ان دنوں میں آپ لوگ اچھی طرح سوچ سمجھ لیں کل تم کو یہ اعتراض نہ رہے کہ ہم نے تم کو سوچنے کا موقع ہی فراہم نہ کیا ، لیکن اب اگر تم باز نہ آئے تو تمہارا انجام بخیر نہیں ہوگا ۔
Ayah 18:16حکمرانوں کا الٹی میٹم سن کر انہوں نے مشورہ کیا اور غار میں پناہ لینے کیلئے چل نکلے :
16۔ مسیحی دعوت کے ابتدائی قرنوں ہی میں زہد وتقوی کی ایک خاص صورت بنا لی گئی تھی اگرچہ وہ اختراعی تھی یہی وجہ ہے کہ اس کی حالتیں مختلف رہیں ۔ یہی وہ چیز ہے جس نے آگے چل کر باقاعدہ رہبانیت کی مختلف شکلیں اختیار کرلی تھیں ، اس زندگی کی ایک نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ لوگ ترک علائق کے بعد کسی پہاڑ کی غار میں یہ کسی غیرآباد گوشہ میں معتکف ہوجاتے تھے اور اس طرح کی داستانیں سننے آتی رہتی تھیں اور اللہ کے نیک بندے ظلم وستم سے بچنے کے لئے تدابیر اختیار کرتے تھے ، ان لوگوں نے بھی اس مہلت کو غنیمت جانا جو حکومت وقت نے ان کو دی اور آپس میں ایک بات طے کر کے اللہ کی راہ میں نکل کھڑے ہوئے اپنے دوسرے ہم سفروں کی طرح یہ لوگ بھی غذا کی طرف سے بےپرواہ ہوگئے ، آبادی قریب ہوگئی تو خاموشی سے کام چلتا رہا اور ادھر ادھر کی انہوں نے جستجو نہ کی ادھر اللہ تعالیٰ نے ملک کی حالت بدلنی شروع کردی اور ظالم بادشاہ اپنے انجام کو پہنچ گیا اور عیسائیت نے پنپنا شروع کردیا اور وہ حالت جو پہلے تھی اب نہ رہی ۔ اس طرح زیر نظر آیت میں بھی بیان ہوا کہ انہوں نے ایک دوسرے سے مخاطب ہو کر جب مشورہ کیا تھا تو اس طرح کہا تھا کہ ” جب ہم نے ان لوگوں اور ان سے جن کی وہ پرستش کرتے تھے کنارہ کشی کرلی ہے تو چاہئے کہ اب کسی غار میں چل کر پناہ لیں اور ہمارا پروردگار اپنی رحمت کا سایہ ہم پر پھیلائے گا اور ہمارے اس معاملہ کے لئے یقینا کچھ نہ کچھ سروسامان کر دے گا ۔ “ وہ خود بےآسروں کا آسرا ہے اور بےسہاروں کا سہارا ہے ، معلوم ہوتا ہے کہ اس مشورہ کے مطابق وہ اپنے گھروں سے اللہ کا نام لے کر نکل پڑے اور کسی بستی کے قریب ہی پہاڑ کی ایک غار میں پناہ گزیں ہوگئے ۔
Ayah 18:17جس غار میں انہوں نے پناہ لی اس کا نقشہ بھی بڑا ہی عجیب تھا ۔
17۔ فرمایا وہ غار جس میں وہ پناہ گزیں ہوئے تھے اس طرح واقع ہوئی تھی کہ اس میں گھسنے اور داخل ہونے کہ جگہ تو تنگ تھی ، لیکن اندر سے بہت کشادہ تھی خواہ وہ اس غار کو پہلے جانتے تھے یا اتفاقات کے تحت وہ اس طرف آنکلے تھے دونوں ہی صورتوں میں یہ اللہ تعالیٰ ہی کی مدد سے ایسا ہوا تھا گویا قدرت نے پہلے ہی ان کے لئے یہ ایک شاندار اور نہایت پختہ بلڈنگ تیار کر رکھی تھی جو معلوم ہوتا ہے کہ جنوبا شمالا واقع ہونے کے باعث طلوع اور غروب ہونے کے وقتوں میں سورج کے بالمقابل نہیں پڑتی اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سورج نکلتے وقت وہاں سے داہنی جانب کو ہٹ جاتا ہے ، اور غروب کے وقت بائیں طرف کترا جاتا ہے اور ان پر سورج کی دھوپ کا گزر نہیں ہوتا ، یہ دائیں طرف جھکنے اور بائیں طرف کترا جانے کا مطلب ایسا ہی ہے جے سب دیکھتے وقت ہمیں نظر آتا ہے اور دوسرے کو بتانے کے لئے ہم کہتے ہیں کہ اس درخت کے اوپر چاند نظر آتا ہے یا فلاں مینار کے ساتھ ہی وہ دکھائی دے رہا ہے دیکھو یہ سورج کیا ہے ؟ آگ کا گولا ہے جو لوہار نے ابھی ابھی تپا کر بھٹی سے باہر نکالا ہے اور دیکھو یہ سورج پانی کے چشمہ میں ڈوب رہا ہے وغیرہ ظاہر ہے کہ یہ ساری صورتیں ہم اپنے مشاہدہ کی بنا پر بیان کرتے ہیں جو بالکل سچ ہوتی ہیں اگرچہ نہ تو چاند کسی مینارہ کے ساتھ ہوتا ہے اور نہ درخت پر لگا ہوتا ہے اور اس طرح نہ ہو سورج طلوع و غروب ہوتا ہے بلکہ سورج تو فقط ایک لٹو کی طرح اپنے محور میں گردش کر رہا ہے چونکہ زمین گردش میں ہوتی ہے جس کے باعث سورج آتا جاتا نظر آتا ہے اور ساری دنیا کے لوگ ساری زبانوں میں سورج ہی کو طلوع ہوتا اور غروب ہوتا بیان کرتے ہیں جو مشاہد کی بنا پر نظر آتا ہے اور اس کو بیان کیا جاتا ہے ، اس سے یہ سمجھ لیا جائے کہ سورج ان کے تابع فرمان ہے یا اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص رحمت سے غار والوں کا یہ لحاظ رکھا ہے کہ ان بیچاروں کو دھوپ نہ لگے ۔ قرآن کریم نے اس غار کا پورا نقشہ اس لئے کھینچ کر رکھ دیا ہے کہ غار کی پہچان آسان ہو اور اس کی حالت مشتبہ نہ رہے اور یہ بھی کہ تحقیق سے اگر کوئی اس کا کھوج نکالنا چاہے تو آسانی سے کھوج لگا سکے ۔
غار کا اس طرح واقع ہونا اللہ تعالیٰ کے نشانات میں سے ایک نشانی ہے :
18۔ جس چیز کو ہم اتفاق کہتے ہیں قدرت الہی میں وہ باقاعدہ ایک پروگرام کے تحت واقعہ ہوتا ہے مشیت ایزدی کے فیصلے سے انسان اس وقت آگاہ ہوتا ہے جب فیصلہ صادر ہو کر واقعہ ہوجاتا ہے حالانکہ وہی واقعہ نشانات الہی میں سے ایک نشانی قرار پاتا ہے ، بچے پیدا ہوتے ہی رہتے ہیں لیکن عیسیٰ (علیہ السلام) ، یحییٰ (علیہ السلام) ، اسحاق (علیہ السلام) اور اسمعیل (علیہ السلام) بھی بچے ہی تھے اور اسی پیدا ہوئے تھے جس طرح سارے بچے پیدا ہوتے ہیں اور اس کے باوجود وہ اپنے اپنے وقت اللہ تعالیٰ کے نشانات میں سے ہیں ۔ لوگو دریاؤں اور سمندروں سے پار ہوتے ہی رہتے ہیں ، اس وقت بھی اور آج بھی لیکن موسیٰ (علیہ السلام) کا بحر قلزم سے پاس ہونا نشانات الہی میں سے ایک نشانی ہے ، لوگ موت کے منہ میں جا کر بھی بچتے رہتے ہیں لیکن محمد رسول اللہ ﷺ کا مکہ سے بچ نکلنا ایک بہت بڑا نشان ہے اس وقت کے لوگوں کو خصوصا ہمارے لئے عموما ایک نشان سے کم نہیں بلکہ یہ بات ان آیات سے ثابت کی جا رہی ہے کہ مکہ والوں کو الٹی میٹم ہے کہ تم جب محمد رسول اللہ ﷺ کے قتل پر متفق ہوگئے تو ہم تم کو دکھا دیں گے کہ انسان جس کو مارنا چاہیں اگر اللہ اس کا بچانا چاہے تو کوئی طاقت نہیں ہے جو اس کو موت دے سکے ، اور یہی کچھ اصحاب کہف کے ساتھ ہوا۔ حکومت وقت اور اس ملک وشہر کے لوگوں نے مل کر ان کو قتل کی دھمکی دی لیکن رب العزت کا کمال دیکھئے کہ ان کو شہر سے نکال کر ایسی جگہ لا بسایا جہاں سب کچھ خدمت کے لئے ان کے انتظار میں کھڑا تھا ، دیکھنے کو تو وہ پہاڑ کے اندر چلے گئے تھے لیکن رہنے کے لئے یہ ان کے لئے ایک پختہ محل سے بھی زیادہ آرام دہ ثابت ہوا کہ نہ وہاں گرمی ستاتی ہے نہ سردی پریشان کرتی ہے ‘ نہ سخت اور گھپ اندھیرا ہے اور نہ ایسی روشنی جو آرام کرنے میں بھی مخل ہو۔ کھڑکیاں اور دروازے بھی نہیں اور ہوا کا گزر بھی ہو رہا ہے ۔ زندگی کے سروسامان کی فراوانی بھی نہیں اور کھانے کے وقت اللہ کھانے میں بھیج رہا ہے ‘ مکان ایسا دیا ہے کہ اس کو تالا بھی نہیں لگایا جاسکتا اور باہر سے آنے کی ہمت بھی نہیں ہوتی کہ وہ اندر داخل ہوجائے ، پلنگ اور چارپائیاں سونے کے لئے نہیں ہیں ۔ لیکن ان کو آرام و سکون کی نیند بھی وہیں دستیاب ہوتی ہے ، دنیا جہاں کے تکلفات بھی نہیں اور دلوں میں چین اور آنکھوں میں ٹھنڈک بھی ہے اور دماغوں میں ایک خاص قسم کا سرور بھی ہے اس لئے فرمایا کہ اصل ہدایت تو وہی ہدایت ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئے اور جس کو اللہ تعالیٰ ہی اپنے قانون کے مطابق گمراہ کردے اس کے لئے کون ہے جو راہ دکھانے والا ہو جن کے پاس کچھ بھی نہیں وہ علم الہی میں ہدایت یافتہ ہیں اور جو سارے وسائل رکھتے ہیں وہ گم گشتہ رہ ہیں ۔
Ayah 18:18کوئی دیکھتا تو ان کو جاگتا سمجھتا حالانکہ وہ سوئے ہوئے تھے :
19۔ انسانی کی زندگی میں سونا اور جاگنا دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہیں نہ سونے والے ہمیشہ سوئے رہتے ہیں اور نہ جاگنے والے ہمیشہ ہی جاگتے رہتے ہیں پھر ایک طرح سے جاگنے کا تعلق زندگی سے ہے اور سونے کا تعلق مرنے سے کیونکہ زندہ آدمی اٹھتا بیٹھتا اور چلتا پھرتا بھی ہے لیکن مرنے والا مسلسل پڑا ہی رہتا ہے ۔ وہ کسی طرح کی حرکت نہیں کرسکتا اس طرح ہو پڑے رہنے میں مردہ سے تشبیہ پاسکتا ہے ۔ زیر نظر آیت میں جو کیفیت ان کو بتائی گئی ہے وہ کب کی ہے ؟
اس وقت کی جب یہ واقعہ ہوا تھا اور وہ ابھی سوتے جاتے ہیں اس لئے اس سوتے جاگنے سے لوگوں نے فی الواقع سونا جاگنا بھی مراد لیا ہے اور زندگی اور موت بھی اس سے مراد لی گئی ہے ۔
اگر یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب وہ فی الواقع ابھی زندہ وجاوید غار میں رہ رہے تھے اور سوتے جاگتے بھی تھے تو یقینا اس سے مراد ان کا سونا اور جاگنا ہے اور سینکڑوں سال بعد کی بات ہے تو ظاہر ہے کہ اس سے مراد ان کی زندگی اور موت ہی ہے اور مطلب یہ ہے کہ آپ ان کو دیکھیں تو زندہ نظر آئیں لیکن درحقیقت وہ مرے پڑے ہیں ۔ لیکن ہمارے خیال میں وہ مفسرین جنہوں نے اس سے سونا جاگنا مراد لیا ہے ان کی بات زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے اور یہ اس وقت کی حالت بیان کی گئی ہے جب وہ بحالت زندگی سونا جاگنا کرتے رہتے تھے اور حسب دستور وہ ایک دن یا رات سو کر اٹھے تو ایک دوسرے سے انہوں نے سوال کرکے پوچھ لیا کہ ہمیں سوئے ہوئے کتنی دیر ہوچکی ہے ۔ لیکن یہ تخیل بہرحال صحیح نہیں ہے کہ یہ ساڑھے تین سو سال کے بعد انہوں نے ایک دوسرے سے سوال کیا تھا اس مدت کا اس واقعہ سے کوئی تعلق نہیں اور اس کی تفصیل ہم انشاء اللہ مسلسل واقعہ بیان کرتے وقت کریں گے تو واضح کردیں گے ۔