18. Surah Al-Kahf

الكهفThe Cave · 110 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 18:57

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ فَاَعْرَضَ عَنْهَا وَ نَسِیَ مَا قَدَّمَتْ یَدٰهُ١ؕ اِنَّا جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا١ؕ وَ اِنْ تَدْعُهُمْ اِلَى الْهُدٰى فَلَنْ یَّهْتَدُوْۤا اِذًا اَبَدًا Open ayah 18:57 in the Quran reader

اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوسکتا ہے جسے اس کے پروردگار کی آیتیں یاد دلائی جائیں اور وہ ان سے گردن موڑ لے اور اپنی بدعملیاں بھول جائے جو پہلے کرچکا ہے ؟ بلاشبہ ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیئے ہیں کہ کوئی بات پا نہیں سکتے اور کانوں میں گرانی ہے تم انہیں کتنی ہی سیدھی راہ کی طرف بلاؤ مگر وہ کبھی راہ پانے والے نہیں

احکام الہی سے منہ موڑنے والے سے زیادہ ظالم کون ہو سکتا ہے ؟ : 60۔ ظلم شرک ہے ، ظلم اندھیرا ہے ، ظلم زیادتی ہے اسی طرح ظالم ہر شرک کرنے والا ہے ، ہر اندھیرے میں رکھنے والا ہے اور ہر زیادتی کرنے والا ہے اور سب سے بڑے ظالم وہ ہیں جن کے سامنے اللہ کی آیتیں پڑھی جائیں اور وہ ان کے احکام کو سمجھ جائیں لیکن اس کے باوجود ان سے منہ پھیر دیں اور وہی کریں جو سارے لوگ کر رہے ہیں اگرچہ وہ احکام الہی کی خلاف ورزی کر رہے ہوں ، لیکن چونکہ ان کی کثرت ہے اس لئے وہ کثرت کا خلاف سمجھتے کہ اگر میں ان کا خلاف کروں گا تو یہ سب ملکر مجھے پریشان کریں گے تو اس کا مطلب کیا ہوا ؟ یہی کہ اس نے لوگوں کے خوف و ڈر کو اللہ کے خوف وڈر سے بڑا جانا اور سمجھا حالانکہ یہی وہ گمراہی ہے جس نے آج تک حق پر چلنے والوں کو سب سے زیادہ پریشان کیا اور آج بھی پریشان کر رکھا ہے کہ سارے لوگ ایک کام کرتے ہیں ‘ سارے لوگ اسی طرح سمجھتے ہیں سارے لوگ اسی طرح بیان کرتے چلے آئے ہیں اور یہ آدمی ان سب کے خلاف کام کرتا ہے ‘ سب کے خلاف سمجھتا ہے ، سب کے خلاف بیان کرتا ہے تو یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ سارے غلط ہوں اور یہ صحیح ہو حالانکہ یہ نہ کوئی دلیل ہے اور نہ ہی کوئی حجت ہے ہاں ! دلیل وحجت یہ ہے کہ کتاب وسنت میں وہ بات یا وہ کام موجود نہ ہو جو وہ کر رہا ہے اگر کتاب وسنت کے خلاف نہ ہو بلکہ کتاب وسنت کے خلاف وہ ہو جو سارے کر رہے ہیں اور کرتے آئے ہیں تو حق یہ ہے کہ سارے غلط ثابت ہوں گے اور ان کے مقابلہ میں وہ ایک ہی صحیح قرار دیا جائے گا کیونکہ صحیح اور غلط کو پرکھنے کا آلہ قلت و کثرت نہیں بلکہ کتاب وسنت ہے ، افسوس کہ پہلے بھی یہی ہوتا چلا آ رہا تھا اور اب بھی یہی کچھ ہو رہا ہے کہ حق و باطل کا معیار قلت و کثرت کو سمجھا جاتا ہے اگرچہ زبان سے اقرار بھی کیا جاتا ہے کہ حق وہ ہے جو کتاب وسنت میں ہے اور اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے مطابق ہے ، لیکن جب وقت آتا ہے تو کیا وہی جاتا ہے ، جو وقت کارواج اور برادری وخاندان کی ریت ہوتی ہے ۔ وہ کیوں نہیں سمجھتے اس لئے کہ وہ کان اور آنکھ سے وہ کام نہیں لیتے جو لینا چاہئے : 61۔ جو بات بالکل سیدھی اور صاف ہے اس کے سمجھنے سے وہ قاصر ہیں ‘ کیوں ؟ فرمایا اس لئے کہ وہ قانون الہی کی زد میں ہیں اس لئے کہ جو کام ان کو دلوں سے لینا چاہئے وہ دلوں سے اور جو کام کانوں سے لینا چاہئے وہ کانوں سے لینے کے لئے تیار نہیں اس لئے جب کوئی شخص غیر فطری کام کرے گا تو اس کا رزلٹ فطرت کے مطابق کیسے ہو سکتا ہے اور جو اعضاء جس مقصد کے لئے بنائے گئے ہیں اگر وہ کام ان سے نہ لیا جائے تو دوسرا کام دینے کے لئے وہ تیار نہیں اور اگر کوئی لینے کی کوشش بھی کرے گا تو سوائے وقت ضائع کرنے کے اس کو کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا چاہے ایسا کرنے والا ایک ہو یا ایک ہزار۔ قلت و کثرت اس راہ میں کام نہیں دیتی ، فرمایا جب انہوں نے سیدھی بات نہ ماننے اور سیدھا کام نہ کرنے کی قسم کھائی ہو تو وہ بات ان کے دلوں میں کیسے بٹھائی جاسکتی ہے ، جس کے لئے وہ دلوں کو استعمال ہی نہ کریں کانوں تک وہ کیسے پہنچائی جاسکتی ہے جس لئے وہ کان ہی نہ کھولیں ، یاد رہے کہ جو بات سن کر ان سنی کردی جائے اور پھر سمجھ کر اس کو نہ کرنے کا تہیہ کرلیا جائے ممکن نہیں کہ دل خود بخود ہی اس کو سرانجام دینے لگے ، اس طرح جو کان سن کر ان سنی کر دے اس سننے کو سننا نہیں کہا جاسکتا اس لئے فرمایا کہ اگر آپ انکو ہدایت کی طرف دعوت دیں تو بھی وہ اس دعوت کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں اور جب وہ خود تیار نہیں تو دعوت اٹھ کر ان کی گود میں جانے سے رہی کیونکہ جو ئندہ ہی یا بندہ ہوتا ہے یہ قانون الہی ہے اور وہ رب العزت والا کرام ذات کسی کو بزور ہدایت دینے کے لئے تیار نہیں کیونکہ یہ بات اس کے قانون کے خلاف ہے ، معلوم ہوا کہ دلوں پر پردے ابتداء نہیں بلکہ بطور سزا ڈالے جاتے ہیں جو شخص ہدایت سے روگردانی کرتا اور بدکاریوں کی طرف دوڑتا ہے اور جو اس کے ہاتھ کرتے ہیں اس کو ساتھ ہی ساتھ بھولتا چلا جاتا ہے تو اس کے نتیجہ میں اس کا دل سیاہ ہونا شروع ہوجاتا ہے اور حق کو وہ قبول نہیں کرتا اور یہی حال تھا ان لوگوں کو جو اس وقت نبی کریم ﷺ کے مخاطب تھے ۔
Ayah 18:58

وَ رَبُّكَ الْغَفُوْرُ ذُو الرَّحْمَةِ١ؕ لَوْ یُؤَاخِذُهُمْ بِمَا كَسَبُوْا لَعَجَّلَ لَهُمُ الْعَذَابَ١ؕ بَلْ لَّهُمْ مَّوْعِدٌ لَّنْ یَّجِدُوْا مِنْ دُوْنِهٖ مَوْئِلًا Open ayah 18:58 in the Quran reader

مگر تیرا پروردگار بڑا ہی بخشنے والا ، بڑا ہی رحمت والا ہے اگر وہ ان لوگوں کو ان کے عمل کی کمائی پر پکڑنا چاہتا تو فوراً عذاب نازل کردیتا لیکن ان کے لیے ایک میعاد ٹھہرا دی گئی ہے ، اس کے سوا کوئی پناہ کی جگہ نہیں پائیں گے

بدعملیوں میں جو ان کو نہیں پکڑا جا رہا تو یہ اس کی رحمت کے باعث ہے : 62۔ قانون الہی یہ نیں کہ جب کوئی شخص قانون الہی کی خلاف ورزی کرے تو اس کو اسی وقت پکڑ لے ، کیوں ؟ اس لئے کہ اگر وہ ایسا کرے تو انسان کو خود اختیاری کا جو تمغہ اس نے دیا ہے وہ برقرار نہیں رہتا اس لئے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہی معا اس کو پکڑ لیا جائے اس کے قانون کے خلاف ہے اور اپنے قانون کے خلاف وہ ہرگز ہرگز نہیں کرتا اس لئے اس کی مغفرت کا تقاضا یہ ہے کہ ایک وقت تک اس کو ڈھیل دی جائے جب تک اس کے قانون میں ڈھیل دیا جانا منظور ہے وہ دیتا رہتا ہے اور جب وہ وقت ختم ہوجاتا ہے پھر اس کو کوئی پناہ دینا بھی چاہے تو نہیں دی جاسکتی ، یہی وجہ ہے کہ ظالموں کے کام تو ایسے ہوتے ہیں کہ ان پر فورا عذاب آجائے مگر اللہ تعالیٰ کی صفت رحم کا تقاضا ہے کہ ایسا نہ ہو اس لئے ایسا نہیں ہوتا بلکہ بڑی مہلت کے بعد وہ عذاب نازل کرتا ہے اور جب عذاب نازل کرنا شروع کردیتا ہے تو اس کے بعد اس کو کوئی بچانا چاہے تو بچا سکے یہ بات بھی ممکن نہیں ۔
Ayah 18:59

وَ تِلْكَ الْقُرٰۤى اَهْلَكْنٰهُمْ لَمَّا ظَلَمُوْا وَ جَعَلْنَا لِمَهْلِكِهِمْ مَّوْعِدًا۠ Open ayah 18:59 in the Quran reader

اور یہ بستیاں ہیں جب ان کے باشندوں نے ظلم کا شیوہ اختیار کیا تو ہم نے انہیں ہلاک کردیا ہم نے ان کی ہلاکت کے لیے ایک [ میعاد ٹھہرا دی تھی

کتنی ہی بستیاں تھیں جن کو قبل ازیں ختم کیا جا چکا اور سب کے لئے وقت مقرر تھا : 63۔ ان بستیوں کا تفصیلی ذکر پیچھے سورة ہود میں گزر چکا ہے جن کا ذکر ثمود اور عاد ‘ مدین اور قوم لوط کے ناموں سے آپ پڑھ چکے ہیں جنہیں قریش کے لوگ بھی اپنے تجارتی سفروں میں دیکھتے تھے کیونکہ ان کے راستہ کے قریب ہی یہ واقع تھیں اور ان کے ذکر کی ضرورت اس لئے تھی کہ اوپر انکی طرف اشارہ کیا گیا تھا اور اب شہادت کے طور پر ان کی توجہ ان بستیوں کی طرف مبذول کرائی گئی تاکہ ان کے انجام سے عبرت حاصل کریں اور یہ بات واضح کردی کہ ان سب بستیوں کی ہلاکت کا بھی ایک وقت مقرر تھا اور جب تک وہ وقت نہ آیا ان کو ہلاک نہ کیا گیا اور جب وقت آیا تو ان کو تباہ وبرباد کرکے رکھ دیا اور کوئی نہ ہوا جو اس کی مزاحمت کرتا اور ان کو ہلاک ہونے سے بچا لیتا ، اسی طرح قریش مکہ کو یہ بات بھی سمجھا دی کہ آج اگر تم کو مہلت دی جا رہی ہے تو یہ بھی عین اس کے قانون کے مطابق ہے اگر تمہارے یہی چلن رہے تو یقینا تمہارے ساتھ بھی وہی ہوگا جو پہلی دعوتوں کے ساتھ ہوچکا لہذا بہتر ہے کہ تم باز آجاؤ اور آج بھی یہ حکم بدستور اسی طرح قائم ہے اور وقتا فوقتا عذاب دیئے جاتے ہیں تاکہ لوگ باز آئیں لیکن لوگ ہیں کہ گزشتہ اقوام کی طرح بدستور کسی بڑے عذاب کا انتظار کر رہے ہیں جس کا آنا یقینی ہے اور اس کے وقت کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا ۔
Ayah 18:60

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِفَتٰىهُ لَاۤ اَبْرَحُ حَتّٰۤى اَبْلُغَ مَجْمَعَ الْبَحْرَیْنِ اَوْ اَمْضِیَ حُقُبًا Open ayah 18:60 in the Quran reader

اور موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے ساتھی سے کہا تھا کہ میں اپنی کوشش سے باز آنے والا نہیں جب تک اس جگہ نہ پہنچ جاؤں جہاں دونوں سمندر آ ملے ہیں ، میں تو چلتا ہی رہوں گا

کوئی نبی نبوت ملنے سے پہلے اس بات کو نہیں جانتا کہ وہ نبی ورسول بنایا جائے گا : 64۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات زندگی میں سے اس واقع کو ذکر کیا گیا ہے جس واقعہ کا ذکر آپ کی نبوت کی زندگی سے پہلے کی زندگی کے ساتھ تھا اور آپ ﷺ سے اس کے متعلق جو سوال کیا گیا وہ بھی محض اس لئے تھا کہ یہ بات معلوم ہوجائے کہ آپ ﷺ اللہ کے سچے نبی ورسول ہیں یا نہیں ؟ آپ ﷺ نے وحی الہی سے اس واقعہ کا ذکر ان کو سنادیا جس طرح آپ ﷺ کو سنایا گیا اس واقعہ کی پوری تفصیل آگے آئے گی اور آیات کے بعد ایک مربوط واقعہ کے طور پر بھی ہم بیان کریں گے لیکن اس کے شروع ہونے سے قبل ہی اتنا عرض کردینا ضروری ہے کہ یہ جو بیان کیا جاتا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) سے کسی نے پوچھ لیا کہ آپ سے بڑا عالم بھی کوئی دنیا میں موجود ہے تو آپ نے اس کی نفی کردی کہ میرے سے بڑا عالم کوئی بھی دنیا میں موجود نہیں اس لئے آپ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے گرفت ہوئی اور آپ کو خضر کی معیت میں سفر کرنے کا حکم دیا گیا اور پھر اس قصہ کو بڑے عجیب رنگ میں نقل کیا گیا ہے حالانکہ اس کو بیان کرنے میں بہت حد تک بےاحتیاطی سے کام لیا گیا اور پھر ہوتے ہوتے یہ قصہ اس قدر مشہور ہوا کہ آج بچہ بچہ کی زبان پر جاری ہے ہم اس کی اصل حقیقت کو بھی واضح کریں گے لیکن آیات قرآنی کی ترتیب وار تفسیر بیان کرنا ہی مناسب معلوم ہوتا ہے تاکہ بات اچھی طرح ذہن نشین ہوجائے اور جو کچھ اس میں ملاوٹ کی گئی ہے وہ کھل کر سامنے آجائے ، سب سے پہلے یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ ہم نے قبل ازیں بھی بیان کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ واقعہ نبوت ملنے سے قبل پیش آیا تھا اور یہ وہ زمانہ تھا جب موسیٰ (علیہ السلام) سے مصر میں ایک قتل ہوگیا اور اس خوف سے آپ اپنے ایک ساتھی کے ساتھ مصر سے بھاگ کر نکلے تھے اور راستے میں یہ خضر کا واقعہ پیش آیا ہم نے خضر کا نام محض تفسیری بیان کے مطابق لیا ہے اگرچہ اس نام کی صحیح تحقیق نہیں کہ واقعی وہ خضر نامی کوئی شخص تھے ، بہرحال اس کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) مدین پہنچے اور شعیب (علیہ السلام) کے پاس رہے ، شعیب (علیہ السلام) نے دامادی کا شرف بخشا اور وہاں سے فراغت حاصل کرنے کے بعد آپ مصر کو آرہے تھے کہ راستے میں نبوت کا پیغام آپ کو سنایا گیا اور اس طرح مصر میں داخل ہونے سے پہلے آپ اللہ کے رسول تھے پھر آپ نے اللہ کے حکم سے مصر سے ہجرت کی اور دوبارہ مصر میں آکر رہائش پذیر نہیں ہوئے اگرچہ آپ کا مدمقابل وقت کا حکمران تھا جس کو بنی اسرائیل کی آنکھوں کے سامنے دریا میں غرق کردیا گیا تھا اور یہ بات بھی اس بات کا پختہ ثبوت ہے کہ کوئی نبی اپنے ہجرت کئے ہوئے مقام پر واپس آکر آباد نہیں ہوتا خواہ وہ علاقہ اس کی دعوت کو قبول ہی کیوں نہ کرلے ۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ میں مجمع البحرین پر جا کر رہوں گا خواہ مجھے کتنا سفر کرنا پڑے : 65۔ موسیٰ (علیہ السلام) جب جوان ہوئے اور بنی اسرائیل کی مدد ونصرت میں حصہ لینے لگے تو آپ سے ایک شخص جو فرعون کے گروہ سے تعلق رکھتا تھا اتفاقا قتل ہوگیا اور اس کے بعد آپ پر حکومت مزید سختی کرنا چاہتی تھی کہ آپ کے ایک خیر خواہ نے شاہی محل سے فیصلہ گاہ سے نکل کر آپ کو اطلاع دی کہ آپ کے پکڑنے کا پروگرام بنایا جارہا ہے اس لئے آپ یہاں سے نکل جائیں تو اچھا ہوگا آپ نے مصر سے نکلنے کا پختہ ارادہ کرلیا اور اس ساتھی کو ساتھ لے جانے کا اصرار کیا اور اس سے کہا کہ زیادہ نہیں تو ؤپ دو دریاؤں کے سنگم تک ضرور میرا ساتھ دیں اس طرح اس کو ساتھ آمادہ کرلیا اور دونوں ساتھی مل کر مصر سے بھاگ گئے اور آپ کے ساتھی نے حسب وعدہ دونوں دریاؤں سے سنگم تک آپ کا ساتھ دیا ، یہاں سے نکلتے وقت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے ساتھی سے جو الفاظ بیان کئے وہ اس بات کے ثبوت کے لئے کافی ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ مصر میں ایسے واقعات پیش آتے رہے جس سے آپ کو احساس تھا کہ یہاں سے نکل جانے کے حالات کسی وقت بھی پیدا ہو سکتے ہیں اور یہ بھی کہ اگر یہاں سے نکلنا ہے تو کس طرف کو جانا مناسب ہے اور اس طرح کی باتوں میں سفر کے راستہ اور حالات کے متعلق گفتگو اپنے خاص خاص ساتھیوں سے ہوتی رہتی تھی جس میں اس راستے کی طرف جانے کے مشورے ہوتے ہیں جس طرف کو وہ فی الواقعہ نکلنے پر جب مجبور ہوئے تو نکل کھڑے ہوئے اور اپنے نکلتے وقت ہی وہ راز کی بات اپنے ساتھی سے کھول دی اور منزل کی طرف اور سمت متعین کرکے یہاں سے نکلے اگرچہ منزل کا آخری مقام آپ کے ذہن میں ابھی نہیں ہوگا ۔ اور یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ آپ شکل و صورت کے ساتھ باطنی خوبیوں میں معروف تھے اور آپ کی خداداد قابلیت جو انبیاء کرام (علیہم السلام) میں فطری ہوتی ہے سے لوگ ایک حد تک متاثر تھے اگرچہ یہ بات ابھی آپ کو بھی معلوم نہ تھی کہ آنے والے وقت میں ‘ میں اللہ کا نبی یا رسول بنایا جانے والا ہوں اور (حقبا) کا لفظ اس جگہ تاکید کے لئے مبالغہ کے طور پر بولا گیا ہے جس طرح ایسا مبالغہ ہر زمانہ میں اور ہر زبان میں عام طور پر بولا جاتا ہے ۔ :
Ayah 18:61

فَلَمَّا بَلَغَا مَجْمَعَ بَیْنِهِمَا نَسِیَا حُوْتَهُمَا فَاتَّخَذَ سَبِیْلَهٗ فِی الْبَحْرِ سَرَبًا Open ayah 18:61 in the Quran reader

پھر جب وہ دونوں سمندروں کے ملنے کی جگہ پہنچ گئے تو مچھلی کا انہیں خیال نہ رہا ، اس نے سمندر میں جانے کے لیے سرنگ کی طرح ایک راہ نکال لی

موسیٰ (علیہ السلام) ابھی اصل جگہ نہیں پہنچے تھے کہ آپ کھانے کے لئے بےقرار ہوگئے : 66۔ یہ راستہ جو دونوں دوستوں نے طے کرنا شروع کیا تھا کتنے دنوں تک چلنے کے بعد طے ہوا قرآن کریم نے اس کو زائد از مقصد سمجھتے ہوئے بیان نہیں کیا ہاں اتنا معلوم ہوتا ہے کہ یہ کئی دنوں پر مشتمل تھا اور چونکہ دریا کے کنارے کنارے تھا اس لئے دونوں ساتھی مچھلی کا شکار کرتے ، اس کو پکڑتے اور کھاتے چلے جا رہے تھے ، راستہ میں جب مچھلی پکڑی ضرورت کے مطابق پکائی اور باقی کو اس طرح ٹوکری میں رکھ لیا کہ ضرورت کے وقت پھر اس کو استعمال کے لئے پکا لیا جائے گا کسی جگہ آرام کے لئے بیٹھے خواہ اس جگہ جہاں سے مچھلی شکار کرکے پکائی گئی تھی بیٹھنے لیٹنے میں کچھ وقت تو ضرور لگا ہوگا اور پھر سیر ہونے کے بعد مسافر جب آرام کرتا ہے تو ظاہر ہے کہ نیند کے غلبہ اور سفر کی تکان مل کر اس کو کچھ وقت کے نیند کی صورت میں غافل کردیتی ہے ایسی ہی حالت تھی کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھی نے کیا دیکھا کہ اس ٹوکری سے مچھلی نے ایسی جست لگائی کہ اچھل کر پانی کے قریب چلی گئی اور اس نے اس طرف ابھی دیکھا ہی تھا کہ مچھلی پانی میں اتر کر تیزی کے ساتھ دریا میں داخل ہوگئی اس طرح مچھلی تو نکل گئی لیکن اس دوست نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اطلاع نہ دی تاکہ ان کے سستانے کی حالت میں بےآرامی کا باعث نہ ہو ، کچھ دیر کے بعد جب وہاں سے اٹھ کر چلے تو چلتے ہی گئے اور کافی دور جا کر موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے ساتھی سے دوبارہ پڑاؤ ڈالنے اور کھانے پینے کے معاملہ میں گفتگو کرنا چاہی :
Ayah 18:62

فَلَمَّا جَاوَزَا قَالَ لِفَتٰىهُ اٰتِنَا غَدَآءَنَا١٘ لَقَدْ لَقِیْنَا مِنْ سَفَرِنَا هٰذَا نَصَبًا Open ayah 18:62 in the Quran reader

جب وہ آگے بڑھے تو موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے ساتھی سے کہا ، آج کے سفر نے ہمیں بہت تھکا دیا ، لاؤ صبح کا کھانا کھا لیں

دوبارہ کسی جگہ ٹھہر گئے اور موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے ساتھی سے کھانا طلب کیا : 67۔ جب دوبارہ کسی جگہ ٹھہرے اور کھانے کے لئے موسیٰ (علیہ السلام) نے وہ رکھی ہوئی مچھلی کے متعلق پوچھا کہ اس کو لاؤ اور پکاؤ تاکہ ایک بار پھر تازہ دم ہو لیں کہ اس سفر میں ہم نے بہت ہی تکان پائی ہے اور ابھی معلوم بھی نہیں کہ یہ سفر کہاں تک آگے چلنا ہے اس طرح کی گفتگو سے آپ کے ساتھی کو مچھلی کی وہ بات یاد آئی جو اس سے پہلے پڑاؤ پر واقع ہوئی تھی اور دراصل وہی وہ جگہ تھی جہاں دونوں دریاؤں کا سنگم ہو رہا تھا لیکن وہاں سے چلتے وقت انہوں نے اس کا خیال نہ کیا ۔
Ayah 18:63

قَالَ اَرَءَیْتَ اِذْ اَوَیْنَاۤ اِلَى الصَّخْرَةِ فَاِنِّیْ نَسِیْتُ الْحُوْتَ١٘ وَ مَاۤ اَنْسٰىنِیْهُ اِلَّا الشَّیْطٰنُ اَنْ اَذْكُرَهٗ١ۚ وَ اتَّخَذَ سَبِیْلَهٗ فِی الْبَحْرِ١ۖۗ عَجَبًا Open ayah 18:63 in the Quran reader

اس نے کہا کیا آپ نے نہیں دیکھا ؟ جب ہم چٹان کے پاس ٹھہرے تھے تو مجھے مچھلی کا کچھ خیال نہیں رہا تھا اس نے تو عجیب طریقہ پر سمندر میں جانے کی راہ نکال لی تھی اور شیطان ہی کا کام ہے کہ میں اس کا ذکر کرنا بالکل بھول گیا

موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھی نے مچھلی کی بات بیان کردی کہ وہ تو وہیں غائب ہوگئی تھی : 68۔ اب چونکہ مچھلی کی ضرورت پیش آئی اور اس جگہ ٹھہرے جہاں موسیٰ (علیہ السلام) نے اس دفعہ کھانا طلب کیا تو ساتھی نے مچھلی کا سارا واقعہ کہہ سنایا کہ وہ تو اس طرح اس جگہ پر غائب ہوگئی تھی آپ چونکہ ایک پتھر پر ٹیک لگا کر سستا چکے تھے میں نے اس وقت بات عرض کرنا مناسب نہ سمجھا اور جب وہاں سے چلے تو اس وقت تک مجھے یہ بات ہی بھول چکی تھی اور شیطان نے ایسا سست کیا کہ اس طرف دھیان ہی نہ گیا کہ مچھلی کی بات آپ کے ساتھ عرض کروں حالانکہ اس نے تو بڑے عجیب طریقہ سے اچھل کر اپنی جان بچالی تھی بہتر تھا کہ اگر وہاں بات یا دآئی ہوتی تو وہی سے دوبارہ مچھلی پکڑ لی ہوتی تاکہ اس وقت وہ ہمارے کام آتی ، موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھی کے طرز بیان سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو رہی ہے کہ وہ بیچارہ اس وقت بہت کھسیانہ ہوا لیکن اب اس کے سوا چارہ ہی کیا تھا کہ مچھلی کو دوبارہ شکار کیا جائے اور بھوک مٹائی جائے آبادی تو دور دور تک وہاں موجود ہی نہ تھی ۔
Ayah 18:64

قَالَ ذٰلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِ١ۖۗ فَارْتَدَّا عَلٰۤى اٰثَارِهِمَا قَصَصًاۙ Open ayah 18:64 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا ، جو بات ہم چاہتے تھے وہ یہی ہے پس وہ اپنے پاؤں کا نشان دیکھتے ہوئے لوٹ آئے

ساتھی تو اپنی جگہ شرمندہ ہوا لیکن موسیٰ (علیہ السلام) اپنے ہی اندر سے حقیقت کا سراغ پاگئے : 69۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے جب اپنے ساتھی کی یہ بات سنی تو بجائے عتاب کے آپ کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی اور اپنی ساری سرگزشت بیک لمحہ آپ کی آنکھوں کے سامنے پھر گئی آپ کی فراست کسی عام انسان کی فراست نہ تھی خواہ وہ کتنا ہی عقل مند کیوں نہ ہو بلکہ ایک ہونے والے نبی کی فراست تھی یقینا اس سستانے میں آپ نے کوئی مشاہدہ کیا تھا لیکن سستانے کے بعد وہ زمین سے محو ہوگیا اور جبھی دوست نے اس مچھلی کا ذکر کیا تو بجلی کی طرح وہ واقعہ آپ کے ذہن میں چکر کھا گیا اور فورا فرمانے لگے کہ سبحان اللہ ! ہم تو منزل سے آگے نکل آئے اب تو ہم کو اس جگہ واپس جانا ہوگا کیونکہ مجھے تو وہی ایسے اشارات ہوچکے تھے کہ آپ کی منزل کی جگہ یہی ہے اور یہیں سے آپ کا ایک نیا سفر شروع ہونے والا ہے اور آپ کی مراجعت مصر کی بھی وہی جگہ تھی گویا آپ ہی کیا بھولے کہ ہم بھی بھول گئے اب اٹھو اور یہاں سے ہماری منزل پیچھے کو چلے گی اور ہم کو اس جگہ پہنچنا ہے جہاں ہم اس وقت سستائے تھے لیکن اب راستہ پر ہمارے آنے کے آثار بھی موجود ہیں اور واپس جانا اتنا مشکل نہیں جتنا کہ یہاں تک پہنچنا مشکل تھا اٹھو اب انہی آثار پر واپس چلیں اور اس طرح وہ اپنے قدموں کے نشانات پر ہی واپس چل دیئے ۔
Ayah 18:65

فَوَجَدَا عَبْدًا مِّنْ عِبَادِنَاۤ اٰتَیْنٰهُ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا وَ عَلَّمْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّا عِلْمًا Open ayah 18:65 in the Quran reader

تو انہیں ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ مل گیا کہ اس پر ہم نے خصوصیت کے ساتھ مہربانی کی تھی اسے اپنے پاس سے علم عطا فرمایا تھا

جب وہ واپس اس مقام پر پہنچے تو ان کی ملاقات ایک اللہ کے بندہ سے ہوگئی : 70۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے جب اپنے ساتھی کی بات سنی تو مطمئن ہوگئے اور وہاں سے واپس چل کر جب اس مقام پر پہنچے تو اس جگہ ان کی ملاقات ایک بندے سے ہوگئی جو عام بندہ نہیں تھا بلکہ اللہ تعالیٰ کے خاص بندوں میں سے ایک تھا جو اس وقت کی اس علاقہ کی حکومت کا کوئی صاحب اختیار بندہ تھا جو باقاعدہ کسی مہم پر نکلا تھا جیسا کہ اس کے کاموں سے خودبخود اس بات کا ثبوت مل جاتا ہے جو آگے بیان ہوئے ہیں اور اس علاقہ کی اس وقت کی حکومت کا کھوج نکالا جائے اور تاریخ کے ابواب کی ورق گردانی کی جائے تو یہ بات یقینا پایہ ثبوت کو پہنچ جائے گی کہ اس علاقہ کی حکومت کی باگ دوڑ کسی خاص بندہ کے ہاتھ میں تھی خواہ اس حکومت کا رقبہ کتنا ہی کم یا زیادہ ہو اور اس نے علاقہ میں قانون الہی کو نافذ کیا ہوا تھا اور یہ اللہ کا بندہ بھی اسی حکومت کا کوئی خاص بااختیار بندہ تھا ۔ موسیٰ (علیہ السلام) اگرچہ اس وقت تک ابھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے مبعوث نہیں ہوئے تھے تاہم آپ میں نبوت و رسالت کی صلاحیتیں تو یقینا موجود تھیں کیونکہ آپ نبی بنائے جانے ہی والے تھے اور یقینا آپ کو کسی رویا میں ایسے آدمی کی ملاقات کے ہونے کی یقینی توقع تھی اور یہی وہ توقع تھی جو آپ کو آگے بڑھنے سے اللہ تعالیٰ کے تکوینی حکم کے تحت روک رہی تھی اور آگے نکل جانے کے بعد واپس لے آئی تھی ، رہی یہ بات کہ اس کے علم کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی گئی ہے اس لئے اس کو وقت کا کوئی نبی تسلیم کرلیا جائے کسی حال میں بھی صحیح نہیں ہے کیونکہ اس نے جو کام کئے ہیں وہ نبوت کے کاموں سے میل نہیں کھاتے بلکہ حکومت الہیہ سے میل کھاتے ہیں ، بہرحال موسیٰ (علیہ السلام) نے جب اس سے ملاقات کی اور یہ معلوم ہوا کہ یہ بندہ کسی خاص پروگرام کے تحت نکلا ہوا ہے تو آپ نے اس سفر میں اس کے ساتھ رہنے کی خواہش کا اظہار کردیا اور اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اس وقت جو ساتھی آپ کے ساتھ تھا اس کو واپس مصر روانہ کرنا چاہتے تھے کیونکہ وہ عارضی طور پر ساتھ لے لیا گیا تھا ۔
Ayah 18:66

قَالَ لَهٗ مُوْسٰى هَلْ اَتَّبِعُكَ عَلٰۤى اَنْ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا Open ayah 18:66 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) نے اس سے کہا کہ آپ اجازت دیں تو میں آپ کے ساتھ رہوں بشرطیکہ جو علم آپ کو سکھایا گیا ہے اس میں سے کچھ مجھے بھی سکھا دیں

موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کے ساتھ رہنے کی خواہش کا اظہار کردیا : 71۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے تعارف ہوجانے کے بعد اور شناسائی حاصل ہوجانے کے بعد اس سفر میں جس میں وہ اللہ کا بندہ نکلا تھا ساتھ رہنے کی جب درخواست کی تاکہ ان کاموں کی تعلیم وہ بھی حاصل کرلیں جن کاموں کے لئے وہ سفر کر رہا تھا اور خصوصا جب اس سے یہ بات بھی معلوم ہوگئی کہ اس کا سفر ایک سرکاری سفر ہے جس میں نہ معلوم کتنی باتیں بھلائی کی پوشید ہوگی جو انسان کے لئے مفید ثابت ہو سکتی ہیں لیکن آپ کی درخواست کا جو جواب اس نے دیا وہ آنے والی آیت میں ذکر کیا گیا ہے ۔
Ayah 18:67

قَالَ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا Open ayah 18:67 in the Quran reader

اس نے جواب دیا ہاں ، مگر تم میرے ساتھ رہ کر صبر نہ کرسکو گے

صاحب موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ آپ میرے اس سفر کے کاموں کو دیکھ کر صبر نہیں کرسکیں گے : 72۔ چونکہ اس سفر کے پورے پروگرام سے وہی واقف تھا اور یہ پروگرام گویا حکومت کی امانت ہے جب تک پروگرام کی تکمیل نہ ہوجائے اسکے متعلق کچھ کہنا خیانت کے مترادف ہے جو کسی حال میں جائز نہ تھی اندریں وجہ اس نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ مجھے ساتھ رکھنے میں تو کوئی اعتراض نہیں بلکہ دوسرے انسان کا ساتھ ہونا مفید مطلب ہی ہو سکتا ہے لیکن تم میرے ساتھ صبر نہ کرسکو گے کیونکہ میرے پروگرام میں کچھ اس طرح کے کام ہیں جو بظاہر دیکھنے والوں کو عجبی محسوس ہوں گے ۔
Ayah 18:68

وَ كَیْفَ تَصْبِرُ عَلٰى مَا لَمْ تُحِطْ بِهٖ خُبْرًا Open ayah 18:68 in the Quran reader

جو بات تمہاری سمجھ سے باہر ہے تم دیکھو اور صبر کرو یہ کیسے ہوسکتا ہے ؟

صاحب موسیٰ نے یہ بھی کہا کہ یہ باتیں چونکہ آپ کے علم میں نہیں ہیں اس لئے صبر مشکل ہے : 73۔ ان کے معرض وجود میں لانے کا آپ کو علم نہیں ہے آپ اس علاقہ کے حالات سے واقف نہیں اور حدیث کے الفاظ میں اس نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اس طرح کہا کہ یا موسیٰ انک علی علم من علم اللہ علمک اللہ لا اعلمہ وانا علی علم من علم اللہ علمنی اللہ لا تعملہ “۔ ” اے موسیٰ آپ اپنے ہاں کے مقامی حالات سے واقف ہیں اور میں ان سے ہرگز واقف نہیں اور یہاں کے کچھ مقامی حالات ہیں جن سے میں واقف ہوں اور آپ نو وارد ہونے کے باعث ان کو نہیں جانتے “ اور پھر حکومت کے راز بتائے بھی نہیں جاسکتے اندریں وجہ آپ میرے ساتھ رہ کر صبر نہیں کرسکیں گے اور ظاہر ہے کہ جب ایک بات کا علم نہ ہو تو وہ بعض اوقات تعجب میں ڈالتی ہے لیکن جب حقیقت ظاہر ہوتی ہے تو نقشہ بدل جاتا ہے ، موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کی بات بغور سن کر جو جواب دیا وہ آنے والی آیت میں بیان کیا گیا ہے ۔
Ayah 18:69

قَالَ سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا وَّ لَاۤ اَعْصِیْ لَكَ اَمْرًا Open ayah 18:69 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا ، اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے میں آپ کے کسی حکم کی خلاف ورزی نہیں کروں گا

موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے صاحب کو جواب دیا میں انشاء اللہ صبر کروں گا اور خلاف ورزی نہیں کروں گا : 74۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے صاحب سے کہا کہ میں انشاء اللہ آپ کے کاموں کو دیکھ کر ہر ممکن صبر کروں گا اور آپ کے کسی کام کی خلاف ورزی نہیں کروں گا ، آپ اپنی مصاحبت میں مجھے ساتھ رہنے کی اجازت دیں اور یہیں سے میں اپنے اس ساتھی کو جو مصر سے میرے ساتھ آیا تھا واپس بھیجنا چاہتا ہوں اور اب آپ کی مصاحب میں میں اس وقت تک رہوں گا جب تک اللہ تعالیٰ کے علم میں ہمارا مل کر رہنا ایک دوسرے کے لئے مفید ہوگا ۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی یہ بات سن کر وہ اپنی مصاحبت میں رکھنے کے لئے تیار ہوگیا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے اس ساتھی کو جو مصر سے ساتھ لائے تھے رخصت کردیا اور آپ اپنے صاحب کی مصاحبت کے لئے اس کے پاس ٹھہر گئے اس اللہ کے بندے نے یہاں سے اپنے سفر کا آغاز کرتے ہوئے موسیٰ (علیہ السلام) سے جو کچھ کہا اس کا ذکر اگلی آیت میں ہے ۔
Ayah 18:70

قَالَ فَاِنِ اتَّبَعْتَنِیْ فَلَا تَسْئَلْنِیْ عَنْ شَیْءٍ حَتّٰۤى اُحْدِثَ لَكَ مِنْهُ ذِكْرًا۠ Open ayah 18:70 in the Quran reader

اس نے کہا اچھا اگر تم کو میرے ساتھ رہنا ہی ہے تو اس بات کا خیال رکھو کہ جب تک میں خود تم سے کچھ نہ کہوں تم کسی بات کی نسبت سوال نہ کرنا

صاحب موسیٰ نے سفر شروع کرنے سے پہلے دوبارہ موسیٰ (علیہ السلام) کو تاکید کی : 75۔ صاحب موسیٰ نے یہ سفر شروع کرنے پہلے ایک بار پھر موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ آپ میرے ساتھ چل رہے ہیں میں دو بار آپ سے عرض کروں گا کہ راستہ میں جو حالات بھی ہم کو درپیش آئیں گے آپ خاموشی سے دیکھتے رہئے لیکن کسی قسم کا سوال و جواب میرے ساتھ شروع نہ کیجئے جب ہمارے سفر کی تکمیل ہوگی یعنی مجھے جہاں تک جانا ہے جب میں وہاں پہنچ جاؤں گا تو جو کچھ راستہ میں پیش آئے گا اس کے متعلق میں آپ کو پوری معلومات فراہم کے لئے واضح دلیل ہے کہ راستہ میں جو کچھ پیش آیا وہ کوئی اتفاقی امر نہیں تھا بلکہ باقا اعدہ ایک پروگرام کے تحت تھا اس افہام و تفہیم کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے صاحب کی مصاحبت میں سفر شروع کیا۔
Ayah 18:71

فَانْطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا رَكِبَا فِی السَّفِیْنَةِ خَرَقَهَا١ؕ قَالَ اَخَرَقْتَهَا لِتُغْرِقَ اَهْلَهَا١ۚ لَقَدْ جِئْتَ شَیْئًا اِمْرًا Open ayah 18:71 in the Quran reader

پھر دونوں سفر میں نکلے یہاں تک کہ سمندر کے کنارے پہنچے اور کشتی میں سوار ہوئے ، اب موسیٰ (علیہ السلام) کے صاحب نے یہ کیا کہ کشتی میں ایک جگہ دراڑ ڈال دی ، یہ دیکھتے ہی موسیٰ (علیہ السلام) بول اٹھا کہ آپ نے کشتی میں دراڑ ڈال دی کہ مسافر غرق ہوجائیں آپ نے کیسی خطرناک بات کی ؟

تفسیر : جب دونوں چلے تو راستہ میں ایک کشتی کو زخمی کرنے کا واقعہ پیش آیا : 76۔ صاحب موسیٰ کا یہ سفر موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی مصاحبت میں رکھتے ہوئے شروع ہوگیا اور یہاں تک کہ وہ چلتے رہے کہ ایک جگہ پہنچ کر ایک کشتی میں سوار ہوگئے ، کشتی میں کتنے لوگ تھے اور وہ کس جگہ سے روانہ ہوئی اور کہاں اتری اور صاحب موسیٰ کو کس طرف کو جانا تھا ان ساری باتوں میں سے کسی بات کا ذکر نہیں کیا گیا اس لئے کہ ان باتوں کی کوئی ضرورت نہیں تھی کہ ان کا ذکر کیا جائے اس طرح جب وہ دونوں بھی دوسرے کشتی کے ساتھیوں سمیت سوار ہوئے اور کشتی چل پڑی تو صاحب موسیٰ نے کسی طریقہ سے اس کشتی کو کسی خاص مقام سے زخمی کردیا تاکہ وہ عیب دار ہوجائے اور دیکھنے والے دیکھتے ہی اس کے متعلق جان جائیں کہ یہ کشتی عیب دار ہے ، اس صورتحال کو دیکھتے ہیں موسیٰ (علیہ السلام) سے نہ رہا گیا اور فورا اپنے صاحب کو ٹوک دیا کہ ارے صاحب ! یہ آپ نے کیا کردیا کیا آپ کشتی میں بیٹھنے والوں کو غرق کرنا چاہتے ہیں تاکہ جو اس میں بیٹھے وہ دوسرے کنارہ پر پہنچنے سے پہلے ہی ایک کنارہ لگ جائے بڑا عجیب کام آپ نے کردیا یہ حرکت تو آپ کی بڑی ہی ناگوار ہے ، صاحب موسیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی بات سنی اور جو جواب دیا وہ آنے والی آیت میں درج ہے ۔
Ayah 18:72

قَالَ اَلَمْ اَقُلْ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا Open ayah 18:72 in the Quran reader

اس نے کہا کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہ کرسکو گے

صاحب موسیٰ نے کہا کہ میں نے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ اس سفر میں صبر نہیں کر پائیں گے : 77۔ صاحب موسیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو یاد دلایا کہ یہ بات تو سفر شروع کرنے سے پہلے ہی میں نے آپ کو کہہ دی تھی کہ آپ میرے اس سفر کے متحمل نہیں ہیں تو وہی بات ہوئی جو میں نے کہی تھی اور آپ سے صبر نہ ہوسکا اور آپ فورا مجھے ٹوک دیا حالانکہ یہ بات کرنے کا اگر حق تھا تو سب سے پہلے کشتی کے مالکوں کو تھا اور پھر ان لوگوں کو جو آپ کے علاوہ اس میں سوار تھے ، تعجب ہے کہ سب سے پہلے آپ ہی بول اٹھے جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ جو کچھ میں نے سفر شروع کرنے سے پہلے کہہ دیا تھا وہ بالکل سچ تھا کہ آپ میرے اس سفر میں میرے ساتھ رہنے کے متحمل نہیں ہیں موسیٰ (علیہ السلام) نے صاحب کی یہ بات سنی تو تقاضا چھوڑ دیا اور فرمانے لگے ۔
Ayah 18:73

قَالَ لَا تُؤَاخِذْنِیْ بِمَا نَسِیْتُ وَ لَا تُرْهِقْنِیْ مِنْ اَمْرِیْ عُسْرًا Open ayah 18:73 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا ، بھول ہوگئی اس پر نہ پکڑئیے اگر ایک بات بھول چوک میں ہوجائے تو آپ سخت گیری کیوں کریں ؟

صاحب ! میں بھول گیا اور بھول چوک انسانیت کا خاصہ ہے مجھے زیادہ شرمندہ نہ کریں : 78۔ صاحب موسیٰ نے جب موسیٰ (علیہ السلام) کو سفر شروع کرنے سے پہلے کی بات پر توجہ دلائی تو موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی فورا معذرت کرلی اور کہنے لگے کہ صاحب ! میں بھول گیا اور وہ بات میرے ذہن میں سے نکل گئی کہ میں نے تو سوال نہ کرنے کا وعدہ کیا ہوا تھا بہرحال اب جو ہوا سو ہوا مجھے معاف فرمائیے اور مجھ پر اتنا ہی بوجھ ڈالئے جتنے کا میں متحمل ہوں اور میرے معاملہ میں زیادہ سخت گیری نہ کیجئے کہ میری عمر کا بھی تقاضا ہے میں معذرت خواہ ہوں ۔ گزشتہ سے آپ درگزر فرمائیں اور آئندہ میں احتیاط کروں گا اور اس طرح گویا ایک بار پھر تجدید عہد ہوئی اور وہاں سے آگے سفر جاری ۔
Ayah 18:74

فَانْطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا لَقِیَا غُلٰمًا فَقَتَلَهٗ١ۙ قَالَ اَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِیَّةًۢ بِغَیْرِ نَفْسٍ١ؕ لَقَدْ جِئْتَ شَیْئًا نُّكْرًا Open ayah 18:74 in the Quran reader

پھر وہ دونوں آگے چلے یہاں تک کہ انہیں ایک لڑکا ملا ، موسیٰ (علیہ السلام) کے صاحب نے اسے قتل کر ڈالا اس پر موسیٰ (علیہ السلام) بول اٹھا ، آپ نے ایک بےگناہ کی جان لے لی حالانکہ اس نے کسی کی جان نہیں لی تھی آپ نے کیسی سخت بات کی …

صاحب موسیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی معذرت قبول کرتے ہوئے سفر کو دوبارہ شروع کیا : 79۔ صاحب موسیٰ ، موسیٰ (علیہ السلام) کو ساتھ لے کر اس جگہ سے تجدید عہد کے بعد دوبارہ سفر جاری رہا اور کتنا سفر طے ہوا اور راستے میں کیا کچھ ہوا اس کا ذکر نہیں کیا گیا کہ ضرورت ذکر نہ تھی اور چلتے چلتے وہ ایک ایسے مقام پر پہنچے کہ صاحب موسیٰ نے اچانک ایک نوجوان کو پکڑا اور زمین پر پٹخ دیا اور ایک وار میں اس کا کام تمام ہوگیا ۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے صاحب کی یہ حرکت دیکھی تو آپ کی رگ پھر پھڑک گئی اور بولے کہ ارے صاحب ! یہ آپ نے کیا کردیا ایک ایسے انسان کو اس طرح قتل کردینا کہاں کی شرافت ہے ۔ اس بیچارے نے کیا کیا تھا کہ اس کی بےوجہ جان لے لی ، یہ تو آپ نے بڑا ہی عجیب معاملہ کردیا (شیئا نکرا) بڑے ہی سخت امر کو کہا جاتا ہے جیسے (شیئا امرا) ہے دونوں میں سخت کونسا تھا کشتی کو عیب دار کرنے کا یا قتل کرنے کا ؟ تو اس پر مفسرین نے بہت بحث کی ہے کسی نے پہلے کو سخت کام قرار دیا ہے اور کسی نے پچھلے کو ، دونوں ہی باتیں دیکھنے میں بلاشبہ سخت تھیں اگرچہ حقیقت میں پہلی بھلائی اور محبت کے تقاضے کے مطابق تھی جس میں انسانی زندگی کے لئے بہت بڑا سبق تھا اور دوسری قانون اسلامی کے مطابق تھی اگرچہ بھلائی کا تقاضا اس میں بھی موجود تھا ۔
Ayah 18:75

قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكَ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا Open ayah 18:75 in the Quran reader

اس نے کہا کیا میں نے (اس سفر کے شروع) میں نہیں کہہ دیا تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہ کرسکو گے

انجام کار صاحب موسیٰ کو پھر اپنی پہلی بات کو دہرانا پڑا : 80۔ صاحب موسیٰ نے جب ایک شخص کو قتل کردیا تو موسیٰ (علیہ السلام) سے رہا نہ گیا سوال کردیا جیسا کہ پیچھے گزر چکا تو صاحب موسیٰ نے دوبارہ اپنی بات کو دہرایا کہ میں نے تو آپ کو اے موسیٰ ! پہلے ہی کہا تھا کہ آپ اس سفر میں میرے کاموں کا تحمل نہیں رکھتے اس لئے کہ ان کی حقیقت آپ کو معلوم نہیں اور جب تک حقیقت معلوم نہ ہو کتنے کام ہیں جو ظاہری صورت میں بدنما نظر آتے ہیں لیکن جب حقیقت ظاہر ہوجائے تو ساری ناگواری کافور ہوجاتی ہے ۔
Ayah 18:76

قَالَ اِنْ سَاَلْتُكَ عَنْ شَیْءٍۭ بَعْدَهَا فَلَا تُصٰحِبْنِیْ١ۚ قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَّدُنِّیْ عُذْرًا Open ayah 18:76 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا ، اگر پھر میں نے (آپ سے) کچھ پوچھا تو مجھے اپنے ساتھ نہ رکھئے گا اس صورت میں آپ میری طرف سے پوری طرح معذور سمجھے جائیں گے

موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی دوبارہ معذرت کرلی : 81۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اس دفعہ بھی اپنے صاحب سے معذرت کرلی اور معذرت کے ساتھ اتنا مزید کہہ دیا کہ صاحب ! اگر میں نے آئندہ آپ پر کوئی ایسا سوال کیا تو آپ مجھے اپنی مصاحبت میں بیشک نہ رکھیے اور میری طرف سے آئندہ ایسی اپیل نہیں ہوگی اور نہ ہی میں اس کا مجاز ہوں گا ، جیسا کہ آپ پیچھے پڑھ چکے پہلی بار موسیٰ (علیہ السلام) نے بھول جانے کا عذر کیا تھا لیکن اب کی دفعہ یہ نہیں فرمایا کہ میں بھول گیا جس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ وہ سمجھ گئے کہ میری طبیعت ہی ایسی باتوں کو برداشت نہیں کرسکتی اور یہی بات ان کو باور کرانا مقصود تھی کیونکہ مصر میں جو ایک قتل آپ سے ہوگیا تھا وہ بھی اپنی طبیعت ہی کے باعث ہوا تھا جب کہ اتنے جھگڑے میں اتنا بڑا کام ہونا فی نفسہ درست نہیں تھا اگرچہ وہ اتفاقا تھا یعنی آپ کی نیت میں اس کو قتل کرنا نہیں تھا لیکن حدود کے دائرے میں اس کی تو سنگین تھی ، جو اس وقت نہ سہی لیکن اب موسیٰ (علیہ السلام) کسی حد تک اس بات کو بھانپ گئے تھے اس لئے معذرت کے ساتھ مزید اضافہ کے طور پر یہ الفاظ بھی کہہ دیئے کہ آئندہ مجھ سے اگر کوئی ایسی حرکت سرزد ہوئی تو آپ مجھے اپنی مصاحبت میں نہ رکھیے گا ۔
Ayah 18:77

فَانْطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَیَاۤ اَهْلَ قَرْیَةِ اِ۟سْتَطْعَمَاۤ اَهْلَهَا فَاَبَوْا اَنْ یُّضَیِّفُوْهُمَا فَوَجَدَا فِیْهَا جِدَارًا یُّرِیْدُ اَنْ یَّنْقَضَّ فَاَقَامَهٗ١ؕ قَالَ لَوْ شِئْتَ لَتَّخَذْتَ عَلَیْهِ اَجْرًا Open ayah 18:77 in the Quran reader

وہ دونوں آگے بڑھے یہاں تک کہ ایک گاؤں کے پاس پہنچے ، گاؤں والوں سے (بزبان حال) کہا کہ ہمارے کھانے کا انتظام کرو تو انہوں نے مہمان نوازی سے انکار کردیا ، پھر ان دونوں نے دیکھا کہ گاؤں میں ایک پرانی دیوار ہے اور وہ گراہی چاہتی ہے ، موسیٰ (علیہ السلام) کے صاحب نے اسے از سر نو مضبوط کردیا ، اس پر موسیٰ (علیہ السلام) بول اٹھا کہ اگر آپ چاہتے تو اس محنت کا کچھ معاوضہ وصول کرتے

موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے مصاحب کے ساتھ تیسری بار سفر شروع کیا : 82۔ اب تجدید عہد کے ساتھ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے مصاحب کے ساتھ تیسری بار سفر کو جاری رکھنے کے لئے کمر ہمت باندھی ، سفر جاری تھا کہ ان کا گزر ایک ایسی بستی پر ہوا جس میں وہ عین اس وقت پہنچے کہ کھانے کا وقت تھا اور ان کو کھانے کی ضرورت بھی تھی مصاحب موسیٰ چونکہ حکومت کے کارندہ ہیں ظاہر ہے کہ انہوں نے اس بستی کے لوگوں کے کئی ایک امور پر تبادلہ خیال بھی کیا ہوگا لیکن اتفاق یہ ہوا کہ کسی شخص نے ان کو کھانے کی دعوت نہ دی جب کہ وہ کھانے کی طلب بھی رکھتے تھے اور کھانے کا وقت بھی تھا لیکن ان ساری باتوں کے باوجود کسی نے پوچھا تک نہیں ۔ اس کیفیت کو قرآن کریم نے ان الفاظ میں بیان فرمایا کہ ” انہوں نے کھانا طلب کیا اور بستی والوں نے ان کی ضیافت سے انکار کردیا ۔ “ اس میں یہ ہدایت رکھ دی کہ جب کھانے کا وقت ہو اور مسافر ایسے وقت میں بستی میں داخل ہوں تو ان کو ان کی ضروریات خروردنوش کا انتظام لازم اور ضروری ہوجاتا ہے اور ایسے حالات میں اگر کوئی نہ پوچھے تو ساری بستی کے لوگ اس گناہ میں برابر کے شریک ہوں گے اور اگر کسی ایک نے بھی ان کی ضروریات خورد ونوش کو پورا کردیا تو گویا ساری بستی سے اس کا ازالہ ہوگیا کہ ایسے اجتماعی کاموں کا انتظام اجتماعی طور پر ہونا چاہئے تاکہ انسانیت کے لئے جو سہولت بہم پہنچائی جاسکے وہ پہنچائی جائے اور مسافروں کی سہولت ہو ۔ اس بستی میں ایک پرانی دیوار گرا چاہتی تھی کہ صاحب موسیٰ نے اس کو کھڑا کرنے کا ارادہ کیا : 83۔ صاحب موسیٰ نے اس بستی میں ایک دیوار اس طرح کی دیکھی جس کی حالت خراب تھی اور معلوم ہوتا تھا کہ وہ گری کہ گری اس کو دیکھ کر صاحب موسیٰ نے حکم دیا کہ اس کو کھڑا کردیں یعنی اس کے ساتھ اس طرح کی ٹیک لگا دیں یا دو بار کھڑا کردیں تاکہ کچھ دیر تک یہ مزید چل جائے اور دھڑام سے گر نہ پڑے لہذا انہوں نے حکم دے کر اور نہایت جلدی سے پوری لگن و محنت سے اس کو کھڑا کردیا ۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی بھوک نے ستایا ہوگا وہ تیسری بار بول اٹھے اور کہنے لگے کہ اگر آپ چاہتے تو اس پر کچھ معاوضہ ہی ان لوگوں سے وصول کرلیتے کہ ایک طرف بھوک نے ستایا ہوا اور دوسری طرف آپ نے اپنی محنت شاقہ ہم سے کرا دی ، اس طرح موسیٰ (علیہ السلام) نے اس تیسری بار کی اجازت سے بھی خاطر خواہ فائدہ نہ اٹھایا ۔
Ayah 18:78

قَالَ هٰذَا فِرَاقُ بَیْنِیْ وَ بَیْنِكَ١ۚ سَاُنَبِّئُكَ بِتَاْوِیْلِ مَا لَمْ تَسْتَطِعْ عَّلَیْهِ صَبْرًا Open ayah 18:78 in the Quran reader

تب موسیٰ (علیہ السلام) کے صاحب نے کہا ، بس اب مجھ میں اور تم میں جدائی کا وقت آگیا ، ہاں ! جن باتوں پر تم سے صبر نہ ہوسکا ان کی حقیقت تمہیں بتلا دیتا ہوں

صاحب موسیٰ نے کہا آپ میں اور ہم میں جدائی ہے لیکن گزشتہ واقعات کی حقیقت سن لیں : 84۔ صاحب موسیٰ نے جب موسیٰ (علیہ السلام) کا یہ اعتراض سنا تو موسیٰ (علیہ السلام) سے مخاطب ہو کر فرمانے لگے صاحب معاملہ یہ ہے کہ اب تیسری بار بھی آپ نے وہی کیا جو پہلے دو بار کرچکے اب کی دفعہ تو آپ کا اپنا ارشاد بھی تھا کہ اس کے بعد جب میں نے کسی بات سے آپ کو روک دیا تو آپ میری طرف سے عذر کو پہنچ گئے لہذا یہ وقت آپ کی اور میری جدائی کا ہوگا سو اب آپ نے جو فرمایا تھا اس کی مدت اللہ کے نزدیک اتنی ہی تھی اب آپ ان تینوں باتوں کی اصلیت کو سمجھ لیں اس لئے کہ جو کچھ میں نے کیا میں نے نہیں کیا بلکہ باقاعدہ ایک پروگرام کے تحت یہ سب کچھ کیا گیا اور یہی بات میں نے آپ کو سفر کے شروع میں بھی کہی تھی ، معلوم ہوتا ہے کہ اتنی دیر میرے ساتھ آپ کا رہنا اللہ کو منظور تھا اس سے زیادہ نہیں لہذا اب تفریق ہوا چاہتی ہے لیکن الگ الگ ہونے سے پہلے ان تینوں باتوں کی حقیقت سے واقفیت حاصل کرلیں ، جن پر آپ صبر نہ کرسکے لیکن اس میں ‘ میں آپ کا کوئی قصور نہیں ٹھہراتا بلکہ یہ سمجھتا ہوں کہ مشیت ایزدی کا فیصلہ اسی طرح تھا جو ہوا اسی رب ذوالجلال والاکرام کے حکم سے ہوا ، یاد رہے کہ ” تاویل “ کے معنی اصلی حقیقت کے ہیں جو موسیٰ (علیہ السلام) پر پوشیدہ تھی ۔
Ayah 18:79

اَمَّا السَّفِیْنَةُ فَكَانَتْ لِمَسٰكِیْنَ یَعْمَلُوْنَ فِی الْبَحْرِ فَاَرَدْتُّ اَنْ اَعِیْبَهَا وَ كَانَ وَرَآءَهُمْ مَّلِكٌ یَّاْخُذُ كُلَّ سَفِیْنَةٍ غَصْبًا Open ayah 18:79 in the Quran reader

سب سے پہلے کشتی کا معاملہ لو وہ چند مسکینوں کی تھی جو سمندر میں مزدوری کرتے تھے وہ جس طرف بڑھ رہے تھے وہاں ایک بادشاہ تھا وہ جس کی کشتی پاتا زبردستی لے لیتا میں نے چاہا کہ ان کی کشتی میں ایک عیب نکال دوں

کشتی جس کو عیب دار بنایا گیا اس کی اصلیت کیا تھی ؟ 85۔ صاحب موسیٰ نے کہا کہ تفریق سے پہلے اس سفر میں جن باتوں پر آپ صبر نہ کرسکے ایک بار سن لیں ، آپ کو معلوم ہے کہ پہلا واقعہ کشتی کا تھا جس کو میں نے عیب دار بنادیا تھا اور آپ کو یہ بات بری لگی تھی اس کی اصلیت کیا تھی ؟ اس کی حقیقت یہ تھی کہ وہ کشتی چند مساکین کی ملکیت تھی جو اس دریا میں چلا کر اس کی قلیل مزدوری پر گزارہ کرتے تھے اور بڑی مشکل سے اپنا اور اپنے بال بچوں کا پیٹ بھرتے تھے ، میں نے ان کی کشتی کو عیب دار کیا تاکہ اپنے عیب کی وجہ سے ظلما لی جانے سے بچ جائے اور اس کے ظلما لی جانے کی اصلیت یہ تھی کہ یہاں کی حکومت کے کارندوں کو کچھ کشتیوں کی ضرورت تھی اور وہ ظلما ان کو عارضی طور پر لوگوں سے لے لینا چاہتے تھے تاکہ اپنی ضرورت کے لئے ان کو کام میں لاسکیں اور پھر جب ضرورت پوری ہوجائے تو کشتیاں واپس کردی جائیں مجھے ان کی اس اسکیم کا علم تھا میں نے اس کو اس لئے عیب دار بنایا کہ وہ لوگ اس کا ظاہری عیب دیکھ کر غصب کرنے سے باز آجائیں گے اور ان مسکینوں کی روزی کا سلسلہ چلتا رہے گا اور ظاہر ہے کہ میری اس اسکیم سے کشتی والے بھی واقف تھے تب ہی تو انہوں نے مجھ پر کوئی اعتراض نہیں کیا اور میرے اس فعل پر انہوں نے کوئی نکیر نہیں کی ظاہر ہے کہ وہ مجھ سے بھی واقف تھے اور میرے اس کام کا بھی ان کو علم تھا ، آپ نے غور نہیں کیا ورنہ آپ کو بھی خود بخود معلوم ہوجاتا کہ اس عیب سے کشتی ڈوب نہیں سکتی تھی ، ہاں ! عیب دار وہ ہوئی اور وہ میں نے اس کو خود کیا اور اس کی وجہ بھی آپ کو بتا دی اور میرا یہ فعل ان کے حق میں اچھا رہا کہ وہ ایک بہت بڑے نقصان سے بچ گئے ورنہ نہ ان کا پتہ چلتا اور نہ ہی ان کی کشتی کا اور گھروالے ان کے علیحدہ پریشان ہوتے ، ظاہر ہے کہ گورنمنٹ کی ایسی اسکیموں کا اگر عوام کو پتہ چل جائے تو وہ اسکیمیں کیسے کامیاب ہو سکیگ ہیں اور حکومت کے ایسے رازوں کو کسی حال میں بھی بیان نہیں کیا جاسکتا ہاں ! اپنی جگہ اپنی حفاظت کے پیش نظر ایسا کام کیا جاسکتا ہے جس سے اپنا فائدہ ہو اور دوسروں کا کوئی نقصان نہ ہو۔ (فاردت) کے الفاظ سے یہ بات مترشح ہوتی ہے کہ میں نے احسانا یہ کام اس لئے کیا ہے کہ کشتی والے زیادہ غریب ومسکین ہیں اور چونکہ میں حکومت کی اسکیم کو بھی جانتا ہوں لہذا یہ سہولت میں نے کشتی والوں کو فراہم کردی ہے اور حکومت کے غصب کا نہ راز فاش ہوا ہے اور نہ ہی کوئی نقصان اس لئے کہ ملک کے اندر بیشمار اور ان گنت کشتیاں موجود ہیں اگر ان کی ایک کشتی اس سے مستثنی ہوگئی تو اس سے کیا فرق پڑے گا ؟ اور ظاہر ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو حکومت کے اس قضیہ کا علم نہیں تھا جس کا علم صاحب موسیٰ کے پاس تھا ۔
Ayah 18:80

وَ اَمَّا الْغُلٰمُ فَكَانَ اَبَوٰهُ مُؤْمِنَیْنِ فَخَشِیْنَاۤ اَنْ یُّرْهِقَهُمَا طُغْیَانًا وَّ كُفْرًاۚ Open ayah 18:80 in the Quran reader

رہا لڑکے کا معاملہ تو اس کے ماں باپ مومن تھے یہ دیکھ کر ہم ڈرے کہ وہ اپنی سرکشی اور کفر سے ان کو اذیت پہنچائے گا

وہ نوجوان حکومت اور والدین کا باغی تھا اور حکومت نے اس کو اشتہاری قرار دیا ہوا تھا : 86۔ غلام کا لفظ بلاشبہ چھوٹے بچہ سے لے کر جوان بلکہ بوڑھے شخص تک بولا جاتا ہے ، اس جگہ مفسرین نے عام طور پر اس کو بچہ ہی قرار دیا ہے لیکن یہ بات صحیح معلوم نہیں ہوتی ، موسیٰ (علیہ السلام) نے جو اس کو ” نفس ذکیہ “ کہا ہے تو ظاہر ہے کہ ناواقفی کی بنا پر تھا کو ن کہ اس وقت جب وہ پکڑا گیا اور قتل کیا گیا اس وقت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو دیکھا اور ظاہر ہے کہ اس وقت تو اس نے کچھ نہیں کیا تھا جو کچھ کیا تھا وہ تو اس سے پہلے کرچکا تھا جس کی پاداش میں وہ قتل کیا گیا یہی بات صاحب موسیٰ نے کہی کہ یہ نوجوان ایسا تھا کہ اس کے والدین تو نہایت شریف اور مومن لوگ تھے لیکن اس کو صحبت نے ایسا خراب کیا کہ اس کا کوئی چلن بھی درست نہ تھا اور اس بات کا ڈر عوام تو عوام حکومت تک کے لوگوں کو تھا کہ اس کی وجہ سے اس کے والدین کو بھی پریشان ہونا پڑے گا اور کسی وقت بھی وہ وقت آسکتا ہے کہ ناکردہ گناہ میں اس کے والدین کے ساتھ کوئی عمل ہوجائے ، وہ تو جو کچھ کرتا ہے کرکے بھاگ جاتا ہے لیکن اس کے والدین تو صاف گرفت میں ہیں (یرھقھما) کی اصل رھق ہے اور رھق کے معنی سرکش ‘ متکبر ‘ سرچڑھنا ‘ ستم اور زیادتی کے ہیں اصل میں اس کے معنی ایک شے کے دوسرے شے پر زبردستی چھا جانے کے ہیں یہ مادہ قرآن کریم میں مذکورہ جگہوں پر استعمال ہوا آپ جس جگہ سے چاہیں نکال کر دیکھیں اور یہی معنی نکلیں گے جو اوپر بیان کئے گئے (ترھقھا) (عبس : 41) ‘ (ترھقھم) (یونس : 27) (القلم : 23) ‘ (المعارج : 44) (یرھق) (یونس : 26) (رھقا) (الجن : 6) (الجن : 13) (سارھقہ) (المدثر : 17) ‘ (ترھقنی) (الکہف : 73) (یرھقھما) (الکہف : 80) ۔ یعنی زیر نظر آیت جس میں یہ لفظ بیان ہوا ہے ظاہر ہے کہ یہ صفت اس شخص کی ہو سکتی ہے جو عاقل وبالغ ہو اور جرائم کا مرتکب ہوچکا ہو اور صرف اس وجہ سے کسی کو سزا دینا کہ فلاں بچہ بڑا ہو کر ایسے ایسے کام کرے گا لہذا اس کو آج ہی قتل کر دو یہ نہ کسی شریعت میں جائز ہو سکتا ہے اور نہ ہی کسی دنیوی قانون میں اور اس طرح کی ایک مثال بھی بیان نہیں کی جاسکتی بس کسی صاحب نے اس کو ایک بار بچہ کہہ دیا تو وہ بچہ ہی کہا جاتا رہا ۔ روایات میں بلاشبہ (غلام) کا لفظ ہے اور اس طرح قرآن کریم میں بھی لیکن اس کا نابالغ بچہ ہونا نہ تو کسی صحیح حدیث میں ہے اور نہ ہی قرآن کریم میں فقط ہمارے مفسرین نے لفظ (غلام) سے اس کو نابالغ بچہ تصور کرلیا ہے ۔ بہرحال ہم پورے وثوق سے اس کو ایک نوجوان کہتے ہیں اور وہ بھی قتل جیسے جرائم میں ملوث جو حکومت وقت کو مطلوب تھا اور صاحب موسیٰ کے علم میں تھا بلکہ جس مقصد کے لئے انہوں نے یہ سفر اختیار کیا تھا اس میں باقاعدہ ایک کام تھا جو خفیہ طریقہ سے کیا جانا مقصود تھا کہ بدامنی اور انار کی نہ پھیلے اور مطلوب بھی حاصل ہو اور یہی کچھ صاحب موسیٰ نے کیا ورنہ موسیٰ نے تو صرف ایک اعتراض کیا تھا اس کے گھر والے ، شہر وبستی والے اور دوسرے لوگ یقینا مزاحمت کرتے جب کسی نے مزاحمت نہ کی تو ظاہر ہے کہ لوگوں نے دلوں میں بھی اس کے لئے نفرت کے جذبات ضرور تھے اگرچہ وہ ظاہر نہ کرتے ہوں اور پھر غور کرو جب موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کے صاحب نے اس کی حقیقت سے مطلع کردیا تو اس کے بعد انہوں نے بھی کوئی سوال نہیں کیا ۔ اور یہ بھی اس بات کی واضح دلیل ہے ورنہ اگر کوئی بات قابل اعتراض ہوتی تو موسیٰ (علیہ السلام) جیسا آدمی اس کو کیونکر برداشت کرسکتا تھا وہ تو یقینا اس موقع پر بھی کوئی سوال کھڑا کردیتے جب وہ مطمئن ہوگئے تو اب ہمارے علمائے اسلام اس کو نہ مانیں تو اس سے حقیقت پر تو کچھ اثر نہیں پڑے گا ، اس لئے اس نوجوان کو بچہ اور نابالغ قرار دینا قرآن کریم کے ساتھ زیادتی اور دین اسلام کے ساتھ مذاق ہے اور (غلام) کے لفظ سے بچہ کا تصور پیدا کرنا حماقت نہیں تو سراسر زیادتی ضرور ہے نیز قرآن کریم کی آیات کا وہ مفہوم بیان کرنا قرار پاتا ہے جو قرآن کریم کی تعلیم کے سراسر خلاف ہے ۔
Ayah 18:81

فَاَرَدْنَاۤ اَنْ یُّبْدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَیْرًا مِّنْهُ زَكٰوةً وَّ اَقْرَبَ رُحْمًا Open ayah 18:81 in the Quran reader

پس ہم نے ارادہ کیا کہ ان کا پروردگار اس لڑکے سے بہتر انہیں لڑکا دے دینداری میں بھی اور محبت کرنے میں بھی

ہماری دعا ہے کہ اللہ اس نوجوان کے والدین کو ولدصالح عطا فرمادے : 87۔ وہ نوجوان تو اپنے انجام کو پہنچ گیا اب ہم چاہتے ہیں یعنی ہماری دعا ہے کہ ان دونوں کا رب یعنی اس نوجوان کے والدین کو اللہ اس سے بہتر فرزند عطا کرے جو اچھے کام کر کے اپنی زندگی کو بھی اچھی طرح سے بسر کرے اور والدین کے لئے بھی سکون کا باعث ہو ۔ مطلب یہ ہے کہ اب ہمارا یہ خدشہ تو دور ہوا کہ اس نوجوان کے والدین کو کوئی ناگہانی آفت نہ پڑے کیونکہ ان کو وہ بیٹا جس کے باعث ان کی اپنی حالت بھی مخدوش ہوچکی تھی وہ تو اپنے انجام کو پہنچ چکا اب ہم سوائے دعا کے کیا کرسکتے ہیں ۔ (اراد یراد) چاہت ‘ خواہش یعنی ہم تو چاہتے ہیں اور ہماری خواہش یہی ہے کہ اس نوجوان کے مومن والدین کو اللہ تعالیٰ کوئی ستھری اور فرمانبردار اولاد عطا فرمائے اور اس طرح ان کے آنسو خشک ہو سکتے ہیں اگر ان کے اکلوتے بیٹے کے بچانے کی کوئی تدبیر ہم کرتے تو ممکن تھا کہ اس سے اس ان کے لئے وہی بچہ وبال جان بنتا اور اب ان کو اس طرح کی فکر تو نہیں رہی اور باقی دن تو وہ بےخوف وخطر بسر کریں گے اور اللہ تعالیٰ قادر وکریم ہے اگر ان کو نیک اولاد مرحمت فرما دے تو یہ اس سے کوئی بعید بات نہیں ہماری دعا ہے کہ اللہ ان کو اس کا نعم البدل عطا فرمائے ۔ جو ان کے لئے دین و دنیا میں کام آئے ۔