18. Surah Al-Kahf

الكهفThe Cave · 110 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 18:82

وَ اَمَّا الْجِدَارُ فَكَانَ لِغُلٰمَیْنِ یَتِیْمَیْنِ فِی الْمَدِیْنَةِ وَ كَانَ تَحْتَهٗ كَنْزٌ لَّهُمَا وَ كَانَ اَبُوْهُمَا صَالِحًا١ۚ فَاَرَادَ رَبُّكَ اَنْ یَّبْلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَ یَسْتَخْرِجَا كَنْزَهُمَا١ۖۗ رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ١ۚ وَ مَا فَعَلْتُهٗ عَنْ اَمْرِیْ١ؕ ذٰلِكَ تَاْوِیْلُ مَا لَمْ تَسْطِعْ عَّلَیْهِ صَبْرًا٢ؕ۠ Open ayah 18:82 in the Quran reader

اور وہ جو دیوار درست کردی گئی تو وہ اس گاؤں کے دو یتیم بچوں کی تھی جس کے نیچے ان دونوں کا خزانہ گڑا ہوا ہے ان کا باپ ایک نیک آدمی تھا پس تمہارے پروردگار نے چاہا کہ دونوں لڑکے اپنی جوانی کو پہنچیں اور اپنا خزانہ محفوظ پا کر نکال لیں یہ ان لڑکوں کے حال پر ان کے پروردگار کی طرف سے ایک مہربانی تھی جو اس طرح ظہور میں آئی اور میں نے جو کچھ کیا اپنے اختیار سے نہیں کیا ، یہ ہے حقیقت ان باتوں کی جن پر تم صبر نہ کر سکے

رہی وہ دیوار تو اس کے متعلق بھی تم سمجھ لو کہ اس کی حقیقت کیا تھی : 88۔ دیوار بلا اجرت جو بنائی گئی تو اس کی وجہ یہ ہے کہ بلاشبہ اس بستی کے لوگ تو اچھے نہ نکلے اور انہوں نے ہمارے ساتھ اچھا سلوک نہ کیا لیکن دیوار ساری بستی والوں کی تو نہیں تھی وہ تو دو یتیم بچوں کی تھی جو بلا باپ زندگی بسر کر رہے تھے حالانکہ ان کا والد ماجد ایک نہایت نیک سیرت آدمی تھا اور یہ بات ہمارے علم میں ہے کہ اس کا خزانہ اس دیوار کے نیچے محفوظ ہے اور اگر یہ دیوار گر جاتی تو نہ معلوم اس کا کیا ہوتا اب ہم نے اس کو احسانا درست کیا ہے اور ان یتیموں کے گھر سے کھانا کھانا اور ان سے مزدوری طلب کرنا تو ظاہر ہے کہ انسانیت ہی کے خلاف تھا ہم چودہویں ‘ پندرہویں صدی کے ملاں تو نہیں ہیں کہ ہمیں حلال و حرام میں بھی تمیز کرنا نہ آتا اور بستی والوں کے سلوک کی سزا ہم ان بچوں کو تو نہیں دے سکتے تھے ، بستی کے لوگوں کا معاملہ اپنی جگہ اور ان یتیم بچوں کا معاملہ اپنی نوعیت کا تھا اور ہم اپنے پیٹ کی بھوک دوزخ کی آگ سے بجھا ہی نہیں سکتے تھے اور تیرے رب کا حکم یتیموں کے متعلق یہی ہے کہ وہ جس نیک سلوک کے مستحق ہیں ان کے ساتھ بغیر کسی لالچ کے وہ نیک سلوک کیا جائے ، ہم ان کی پہلے بھی دیکھ بھال رکھتے ہیں اور انشاء اللہ العزیز آئندہ بھی رکھیں گے اور جب تک یہ جوان نہ ہوجائیں ان کا وہ خزانہ جو ان کے باپ کا ہے اور ان کی ملکیت اور حق ہے اور انکی بلاغت کے بعد جب ہم ان کو بتائیں گے تو وہ نکال لیں گے اور اس طرح اس کے والد کے ساتھ جو ایک نیک آدمی تھا ہم اپنا وعدہ پورا کردیں گے اور دوستی کا یہ حق آخرت میں یقینا ہمارے کام آئے گا ، اور اب آپ کو معلوم ہوچکا ہوگا یہ جو کچھ میں نے کیا اپنی مرضی اور اپنی ذاتی خواہش سے نہیں کیا بلکہ ایک حکومت کی نمائندگی میں اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق اس کو سرانجام دیا اس میں جو کچھ میں نے اپنی ذاتی صوابدید اور ذاتی تعلقات کے باعث کیا وہ بھی اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہدایت کے مطابق سرانجام دیا اور جو حکومت وقت کے حکم وآرڈر سے سرانجام دیا وہ بھی اللہ کے قانون اور اس کی حمایت میں سرانجام دیا اور جو کچھ کیا اور مجھ سے ہوا وہ بھی میرا کمال نہیں تھا بلکہ اللہ تعالیٰ ہی کے خاص فضل و کرم اور اس کی رضا کی طلب میں اس کے حکم کے مطابق ہو پایا ورنہ کیا پدی اور کیا پدی کا شوربا ، یہ ان کاموں کی حقیقت تھی جو میں نے سرانجام دئیے اور جس پر آپ نے اتنی جلدی کی میرے کہنے کے باوجود آپ صبر نہ کرسکے اور ان ہدایت میں مشیت ایزادی نے جو آپ کے لئے بھلائیاں رکھی ہیں ان کو وہی جانتا ہے اور اس پورے واقعہ کے اندر جو نصیحتیں اور عبرتیں انسان زندگی کے لئے مخفی ہیں ان کو بھی اللہ ہی بہتر جانتا ہے اور وہ جس جس کو چاہے گا اس سے سبق حاصل کرا دے گا کہ ہر انسان کی پیشانی اس کے قبضہ قدرت میں ہے۔ خلاصہ الکلام مع تنقیح واقعہ خضر و موسیٰ (علیہ السلام) : 1۔ یہ واقعہ کب پیش آیا ؟ ہمارے مفسریں نے اس کی کوئی وضاحت نہیں کی سوائے اس کے کہ سب متفق ہیں کہ یہ واقعہ نبوت کے بعد پیش آیا ، لیکن قرآن کریم ، صحیح حدیث اور تاریخ تینوں سے کوئی ایسی شہادت نہیں ملتی جس سے یہ سمجھا جائے کہ یہ واقعہ نبوت کے بعد پیش آیا اس لئے ہم اس نظریہ کو تسلیم نہیں کرتے اور ہم ایقان سے یہ کہتے ہیں کہ یہ واقعہ نبوت سے پہلے کا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) جب جوان ہوئے اور آپ کی وہ فطری ہدایت اجاگر ہوئی جو انبیاء کرام (علیہم السلام) کے لئے اللہ تعالیٰ نے مخصوص طور پر رکھی تھی تو اس دور میں مصر اور مضافات مصر کے واقعات سے آپ کو دلچسپی یقینا تھی اور اسی دور میں آپ نے کسی مضافاتی حکومت کے کارہائے نمایاں کے متعلق سن رکھا تھا اور آپ کے علم میں یہ بات بھی تھی کہ (مجمع البحرین) کی دوسری طرف وہ حکومت قائم ہے اور حقیقت اس کی اسی مقام سے واضح ہو سکتی ہے ۔ اتفاق دیکھئے کہ یہ وہی وقت تھا جب موسیٰ (علیہ السلام) سے مصر میں اتفاق قتل ہوگیا اور پھر یہ راز کھلتے بھی کچھ زیادہ دیر نہ لگی کہ قتل کرنے والے موسیٰ (علیہ السلام) ہیں ۔ فرعون جو پہلے ہی کوئی بہانہ تلاش کر رہا تھا جب اس کو معلوم ہوا تو اس نے موسیٰ (علیہ السلام) کو پکڑنے اور قتل کردینے کا آرڈر دے دیا اور یہ بات موسیٰ (علیہ السلام) تک بھی پہنچا دی گئی اور مشورہ دینے والوں فورا یہاں سے نکل جانے کا فیصلہ دیا ، موسیٰ (علیہ السلام) ایک طرح کے شہزادہ بھی تھے اور سروسامان کی فراوانی اور اعوان وانصار کی کثرت بھی تھی ، آپ خفیہ طور پر وہاں سے جب نکلے تو اپنے ساتھیوں میں ایک متعمد خاص کو اپنے ساتھ لے لیا اور اس کو اپنا عزم واضح کردیا کہ ہم کو (مجمع البحرین) کی طرف جانا ہے خواہ ہم کو کتنی ہی مدت کیوں نہ چلنا پڑے ۔ 2۔ (مجمع البحرین) کیا ہے اور کہاں ہے ؟ کیا ہے اس کا جواب تو اس کے نام ہی کے اندر موجود ہے کہ وہ دو پانیوں کے ملنے کی جگہ ہے اور کہاں ہے میں مفسرین کا بہت اختلاف ہے ، مجاہد (رح) وقتادہ (رح) کا بیان ہے کہ بحر فارس اور بحر روم کے ملنے کی جگہ ہے لیکن نقشہ یہ کہتا ہے کہ یہ دونوں کہیں ملتے ہیں نہیں ، بعض نے کہا ہے کہ یہ آرمینیا میں دو دریا ہیں لیکن موسیٰ (علیہ السلام) کا وہاں جانا ثابت نہیں ۔ ابی ؓ کہتے ہیں کہ وہ افریقہ میں ہے اور ظاہر ہے کہ افریقہ میں ہے تو یہ دریائے نیل ہی کی دو بڑی شاخوں کے ملنے کی جگہ ہے جن کو بحر ابیض اور بحر اسود کے ناموں سے بھی یاد کیا جاتا ہے اور یہ جگہ ” خرطوم “ میں ہے جہاں دریائے نیل کی یہ دونوں شاخیں آپس میں ملتی ہیں ، اب اس مقام پر پہنچنے کا طریقہ کیا ہے ؟ ایک سادہ طریقہ یہی جو اس وقت استعمال کیا جاسکتا تھا کہ مصر سے نکلتے ہی دریا کے کنارے کنارے چلیں اور جہاں بھی اور جب بھی وہ مقام آجائے یہی ایک طریقہ تھا اور اسی کو آپ نے اختیار فرمایا ۔ (مجمع البحرین) پر بحث کرتے ہوئے ہمارے مفسرین ‘ مفکرین ‘ صوفیائے کرام اور علمائے عظام نے بڑے بڑے عجیب و غریب انکشافات کئے ہیں لیکن یہ سب کچھ ان کو مبارک ہو جو یہ محنت فرماتے رہے ہم نہ مفکر ہیں ‘ نہ صوفی اور نہ ہی ان نام کے علمائے کرام میں ہمارا شمار ہے اس لئے ہم اتنی ہی بات کہہ سکتے ہیں جو بظاہر قرآن کریم سے واضح ہوتی ہے اور اس دنیا میں وہ دیکھی یا پائی جاسکتی ہے جس میں موسیٰ (علیہ السلام) نے سفر کیا تھا ۔ 3۔ موسیٰ (علیہ السلام) کا وہ ساتھی کون تھا ؟ قرآن کریم ‘ احادیث اور تاریخ سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچتی ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے دوست و احباب اس وقت بنی اسرائیل اور مصریوں دونوں گروہوں میں موجود تھے اور اگر مصریوں میں سے کسی کو موسیٰ (علیہ السلام) نے ساتھ لیا ہے تو یہی تھا اور اگر وہ بنی اسرائیل میں سے ہے تو اس کا نام یوشع بن نون ہے جو بعد میں موسیٰ (علیہ السلام) کا جانشین بھی ہوا لیکن ہمارے خیال میں اس کی تلاش کی کوئی ضرورت نہیں قرآن کریم نے اس کو (فتی) کہا ہے یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کا ساتھی ‘ خادم ‘ دوست تھا اب اس کا نام کچھ ہو اور وہ کوئی ہو اس میں اختلاف ہوجائے تو کوئی نقصان نہیں جو بات دل مان جائے وہی آپ کہہ سکتے ہیں جن باتوں میں قرآن کریم نے اور صحیح حدیث نے کچھ نہیں کہا ان میں مغز مارنے کی آخر ضرورت ؟ 4۔ (مجمع البحرین) پر کون تھا ؟ ہم نے اوپر عرض کیا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو مصر اور مصر کے اردگرد کے ممالک کے حالات کی جستجو تھی اسی جستجو میں آپ نے سنا تھا کہ اس علاقہ کی حکومت عدل و انصاف میں ضرب المثل ہے اور اس بادشاہ کے اعوان وانصار بھی نیک سیرت ونیک کردار ہیں اور یہی جستجو آپ کو اس طرف لے گئی تھی اور وہی سے وہ مدین کی طرف چلے گئے تھے ، لیکن روایات میں اس کا شخص کا نام ” خضر “ آیا ہے اور کہا جاتا ہے کہ ایک روز موسیٰ (علیہ السلام) تقریر کرنے کے لئے کھڑے ہوئے تو کسی نے پوچھ لیا کہ اس وقت دنیا میں سب سے بڑا عالم کون ہے ؟ موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ ” میں “ اللہ تعالیٰ کو یہ بات پسند نہ آئی تو اللہ نے وحی بھیجی کہ اے موسیٰ ! تم سے زیادہ عالم میرا ایک اور بندہ ہے جو دو سمندروں کے سنگم پر رہتا ہے ، بس یہی وجہ ہوئی کہ موسیٰ (علیہ السلام) اس کی تلاش میں نکلے ، اس کے پیش نظر یہ بحث چلی کہ خضر کیا تھے ؟ پھر قیاس آرائیاں شروع ہوئیں اور اپنے اپنے دلائل لوگوں نے پیش کئے ، کسی نے کہا کہ وہ ” ولی اللہ ‘ ‘ تھے ، بعض نے کہا کہ وہ ” نبی غیر مرسل “ تھے اور بعض نے کہا نہیں ” نبی ورسول “ تھے ، پھر یہ بھی کہا گیا کہ وہ انسان نہیں تھے بلکہ ایک ” فرشتہ “ تھے ۔ کسی نے کہا وہ آدم کی پیٹھ سے نکلے ہوئے ان کے ” حقیقی فرزند “ تھے ، کسی نے انکو ” قابیل کا بیٹا “ تحریر کیا اور کسی نے ” ارمیاہ “ یا ” الیسع “ قرار دیا اور یہ بھی کہا گیا کہ وہ ” فرعون کا بیٹا “ تھا اور کسی نے ” اس کی بیٹی کا بیٹا “ بھی لکھا اور یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ وہ اب تک زندہ ہیں اور یہ کہ ان کا قبضہ پانیوں پر ہے اور یہ بھی بیان ہوا کہ وہ زندہ ہیں اور رہیں گے یہاں تک کہ ” دجال “ پیدا ہوگا اور وہ اس کی تکذیب کریں گے ۔ اس طرح بات سے بات نکلتی چلی گئی اور جو کسی کے منہ میں آیا وہ کہتا گیا اور آی یہ سب کچھ کتب تفاسیر سمجھ کر ہم کو بتایا جاتا ہے اور جو ان باتوں کو قصہ گوئی قرار دے اس کو ہمارے علمائے کرام پہلی ہی جست میں ” کافر “ کا نام دے کر ملت اسلامیہ سے خارج کردیتے ہیں اور نہیں سمجھتے کہ ایسا کہہ کر کہیں ہم خود ہی تو اس ملت اسلامی سے خارج نہیں ہوگئے ؟ اس پر بڑی بڑی بحثیں اٹھائی گئی ہیں کہ ولی و امام کا رتبہ بڑا ہے یا نبی ورسول کا اور ان بحثوں کا نتیجہ یہ بھی نکالا گیا ہے کہ امامت وولایت کا درجہ نبوت و رسالت سے بہت بڑا ہے اور پھر ” خضر “ کی وجہ تسمیہ بھی بتائی گئی ہے کہ وہ جہاں بیٹھتے ہیں زمین ہری بھری ہوجاتی ہے اور یہی ان کی پہچان ہے جس کی بنا پر ان کو خضر کہا جاتا ہے اور چونکہ وہ ولی اللہ تھے ، اس لئے اب بھی انکی ملاقات ولیوں سے ثابت کی جاتی ہے ہم نے صرف اشارات دیئے ہیں تاکہ قارئین کو واقفیت حاصل ہوجائے ۔ 5۔ مچھلی کا معجزہ کا ہے ؟ روایات میں بیان کیا گیا ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے عالم ہونے کا بیان دیا تو اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی ایک بڑے عالم کا نام بتایا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کی اے اللہ ! مجھے ان کا کوئی پتہ ونشان بتائیں تاکہ میں انکے پاس جاؤں ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ایک مچھلی اپنی زنبیل میں رکھ لو اور (مجمع البحرین) کی طرف سفر کرو جس جگہ پہنچ کر یہ مچھلی گم ہوجائے بس وہی جگہ ہمارے اس بندے کے ملنے کی ہے موسیٰ (علیہ السلام) نے حکم کے مطابق ایک مچھلی زنبیل میں رکھ لی اور چل دیئے ان کے ساتھ ان کا خادم یوشع بن نون بھی تھا دوران سفر ایک پتھر کے پاس پہنچ کر اس پر سررکھ کر لیٹ گئے اس جگہ اچانک یہ مچھلی حرکت میں آئی اور زنبیل سے نکل کر دریا میں چلی گئی ، پھر بعض نے کہا یہ مچھلی بھنی ہوئی اور تلی ہوئی تھی ، بعض نے کہا کہ صرف اس کو نمک لگایا گیا تھا تاکہ بود باس نہ آئے اور بعض نے کہا کہ وہ صرف مری ہوئی تھی ، گویا کہ مری ہوئی ‘ بھنی یا تلی ہوئی یا صرف نمک مرچ لگی ہوئی مچھلی دوبارہ زندہ ہو کر پانی میں غائب ہوئی تو یہ معجزہ کے طور پر ہوا اور یہی وہ مچھلی کا معجزہ ہے ۔ لیکن اگر کوئی شخص ان حضرات سے یہ پوچھ لے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے مچھلی کا ذکر جو اپنے ساتھی سے کیا تھا تو وہ محض غذا کے لئے کیا تھا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ مچھلی انہوں نے غذا کے لئے رکھی تھی نہ کہ بطور نشان ، کیونکہ قرآن کریم کے الفاظ ہیں کہ انہوں نے اپنے نوجوان سے فرمایا (لفتہ اتنا غداء نا) ” لاؤ ہمارا ناشتہ “ اگر یہ مچھلی بطور نشان رکھی تھی تو ان کو صرف یہ کہنا چاہئے تھا کہ دیکھو مچھلی ابھی پٹارے میں ہے یا نکل گئی ہے کیونکہ ہم تو چل چل کر ہلکان ہو رہے ہیں اور ابھی معلوم نہیں ہمارا سفر کتنا ہے ؟ تو علمائے کرام وہی شور کریں گے کہ دیکھو یہ ہے ” معجزات کا منکر کافر “ دیکھو یہ مچھلی کے معجزہ کو نہیں مانتا پھر یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ مچھلی خود بھی معجزہ تھی اور اس مچھلی نے زندہ ہو کر بڑے بڑے معجزات دکھائے تھے مثلا یہ کہ جہاں مچھلی رکھی تھی وہاں قریب ہی میں آب حیات کا چشمہ تھا اس میں یوشع بن نون نے وضو کیا اور اس کے چند قطرے اس پٹارہ پر پڑے جس میں مچھلی تھی اور اس سے مچھلی زندہ ہوگئی ، پھر جہاں جہاں سے یہ مچھلی گزرتی گئی پانی جمتا چلا جاتا تھا یا پتھر کی طرح ہوتا جاتا تھا ، نہیں بلکہ واقعی پتھر ہوگیا تھا ۔ آگے آگے مچھلی بھاگتی گئی اور پیچھے پیچھے موسیٰ (علیہ السلام) اپنے عصا کی مدد سے بھاگتے جا رہے تھے یہاں تک کہ ایک جزیرہ تک پہنچ گئے اور وہیں خضر سے ملاقات ہوگئی ، یہ اور اس طرح کی بہت ساری باتیں ہیں جو اس مچھلی کے متعلق بیان کی جاتی ہیں ، اب چاہے تم یہ تسلیم کرو کہ چونکہ یہ سفر دریا کے کنارے کنارے تھا اس لئے دونوں ساتھیوں نے بطور غذا مچھلی پکڑی تھی اور ضرورت کے مطابق بھونی اور کھائی تھی جیسا کہ قرآن کریم نے بیان کیا ہے اور چاہے اس پٹارہ کی مچلی کے زندہ وجاوید معجزہ کو تسلیم کرو ۔ ہماری تفہیم کے مطابق تو یہ واقعہ ہی موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت سے پہلے کا ہے اور مچھلی غذائی ضرورت کے لئے پکڑی اور کھائی جاتی رہی تھی اور اسی مقصد کے لئے آپ نے اس کو زنبیل میں رکھا تھا اور مچھلیاں ایسی آج بھی پائی جاتی ہیں جو پکڑنے کے بعد گھنٹوں تک زندہ رہتی ہیں اور کسی طرح پانی کے قریب ہوجائیں تو پانی میں گھس جاتی ہیں جس سے زندگی کی رمق ان کو دوبارہ صحت یاب کردیتی ہے ، ہاں ! موسیٰ (علیہ السلام) کو وہ غذا کی مچھلی جہاں بھول جاؤ رؤیا میں دکھایا گیا ہو تو ممکن ہے کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) کا فرمانا (ماکنا نبغ) اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے پچھلے مقام پر سستاتے وقت کوئی رویا دیکھا ہو جس کی تعبیر انکو مچھلی گم ہونے کی خبر سن کر معلوم ہوئی ہو ۔ اور اگرچہ وہ نبی نہیں تھے تاہم رویا میں ایسی باتوں کا آنا آج بھی پایا جاتا ہے کیونکہ ان کا مفہوم بعد میں متعین کیا جاتا ہے اور یہ باقاعدہ ایک علم ہے جو نبوت ہی کی شاخ سے تعلق رکھتا ہے اور یہ سارے انسانوں میں پایا جاتا ہے اس بحث کو ہم نے سورة یوسف میں بیان کردیا ہے ۔ 6۔ کشتی کو عیب دار کرنے اور نوجوان کو قتل کرنے سے موسیٰ (علیہ السلام) کے سوا کسی اور نے کوئی اعتراض کیوں ؟ بعض مفسرین نے سوال کو درج کرکے چھوڑ دیا اور جواب نہیں دیا اور اکثر نے اس کا بیان ہی نہیں کیا اور بعض نے اس کا جواب بھی دیا ، جن لوگوں نے جواب دیا ان کا جواب یہ ہے کہ ” خضر (علیہ السلام) ایک ایسا انسان تھا جسے عام آنکھیں نہیں دیکھتی تھیں فقط موسیٰ (علیہ السلام) ہی دیکھتے تھے وہ بھی اس لئے کہ وہ نبی ورسول تھے ورنہ دوسرے لوگ بھی مزاحمت کرتے لیکن کسی دوسرے نے آخر مزاحمت کیوں نہ کی اور خصوصا قتل کرنا تو ایک بہت بڑا مسئلہ ہے اس پر تو ایک ہنگامہ بپا ہونا چاہئے تھا ، بعض نے کہا کہ دراصل خضر انسان نہ تھے بلکہ فرشتہ تھے اس لئے وہ موسیٰ (علیہ السلام) کے سوا کسی اور کو نظر ہی نہ آئے اور بعض نے کہا کہ صورت حال ظاہری طور پر نہیں ہوئی بلکہ یہ ایک مکاشفہ کا بیان ہے اور ہم نے اوپر اصل مقام پر عرض کردیا ہے کہ دراصل کشتی کو جو عیب دار کیا گیا تو وہ کشتی بانوں کی افہام و تفہیم سے ایسا کیا گیا اور چونکہ ایسے سفروں پر وہ آتے جاتے رہتے تھے اور اس بادشاہ کو جو مہم درپیش تھی اور جہاں کشتیاں پکڑ کر وہ لے جانا چاہتا سب ان کے علم میں تھا اس لئے انہوں نے کشتی والوں سے کہہ دیا ہوا تھا کہ جب وہ وقت آئے گا کہ بادشادہ اپنی ضرورت کے لئے کشتیاں پکڑے تو آپ کی کشتی کو داغ دار یا عیب دار کردیا جائے گا تاکہ وہ غصب نہ کرے اور آپ کا کام چلتا رہے اور عیب دار کرنے اور توڑنے میں بہت فرق ہے اور قتل کا معاملہ جہاں پیش آیا وہاں کے لوگ اس کے اشتہاری ہونے کی خبر سن چکے تھے اور یہ بھی کہ وہ لوگ ان صاحب سے اچھی طرح واقف تھے کہ وہ حکومت کے کارندہ تھے اور ان کا یہ کام تھا کہ حکومت کے احکام کی پابندی کریں اور لوگوں سے پابندی کرائیں چناچہ نووی نے ” تہذیب الاسماء “ میں نقل کیا ہے کہ خضر بادشاہ کے خاندان سے تھے اور ممکن ہے کہ وہ کسی علاقہ کے یا ریاست کے خود مختار حکمران قرار پائے ہوں اور وہاں کے لوگوں کو یہ بات اچھی طرح معلوم بھی ہو ۔ 7۔ قتل کیا جانے والا (غلام) تھا اور (غلام) بچہ ہی کو کہا جاتا ہے ؟ ہم نے اس آیت کے مقام پر اس کی وضاحت کردی ہے کہ وہ بچہ نہیں تھا بلکہ نوجوان تھا اور یہ بھی کہ (غلام) کا لفظ نوجوان اور معمر شخص پر بھی بولا جاتا ہے آپ ہی بتائیے کہ رسول اللہ ﷺ کو جب معراج ہوئی تو کیا آپ ﷺ بچے تھے ؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو حدیث معراج میں مشکوۃ المصابیح کے اندر بحوالہ بخاری شریف مرفوعا آیا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے نبی اعظم وآخر ﷺ کے متعلق بیان فرمایا کہ ” لان غلاما بعث بعدی یدخل الجنۃ من امتہ اکثر ممن یدخلھا من امتی “۔ ” اس غلام کی امت جو میرے بعد نبی ہو کر مبعوث ہوا ہے میری امت کی نسبت جنت میں زیادہ جائے گی ۔ “ اور ایک صحابی کے متعلق حدیث میں ہے کہ قد علم ھذا الغلام علما لم یعلمہ احد ” یہ نوجوان آدمی بہت بڑا عالم وفاضل ہے “ اور ایک نوجوان کے متعلق رب ھذا الغلام “۔ کے الفاظ بھی آئے ہیں ۔ (اس نوجوان کے رب کی قسم) اس لئے جن لوگوں نے (غلام) سے ایک نابالغ بچہ کا تصور کیا ہے وہ صحیح نہیں اور روایات میں جو غلاما یلعب مع الغلمان کے الفاظ آئے ہیں اس سے چھوٹے بچوں کا تصور لینا بھی ضروری نہیں کیونکہ کھیل کھیل ہی ہے اگرچہ وہ نوجوان کھیلتے ہوں اور نوجوانون کا کھیلنا کسی سے پوشیدہ نہیں کہ یہ تصور لیا جائے کہ نوجوان نہیں کھیلا کرتے بلکہ نابالغ بچے ہی کھیلتے ہیں ، اب تو نابالغوں سے زیادہ بالغ بلکہ بڑے بڑے سرکش اور غالی قسم کے نوجوان بھی کھیلتے ہیں ‘ اب اس بات پر تعجب کیوں ؟ پھر بخاری ومسلم میں صاف موجود ہیں کہ واما الغلام کافرا ، کہ وہ نوجوان کافر تھا کیونکہ کفر واسلام کا اطلاق بلاغت کے بعد ہی ہوتا ہے اور درمنثور میں اس کو بیس سالہ نوجوان لکھا ہے اور مواہب الرحمن میں حسن بصری سے منقول ہے کہ یہ طفل نہیں بلکہ نوجوان تھا ‘ زنا کرتا اور لوگوں کا مال چھین لیتا تھا اور والدین کو تنگ کرتا تھا اور ان کا پیچھا نہیں چھوڑتا تھا ۔ پھر تفسیری روایات خواہ ہو معتبر کتب ہی میں کیوں نہ ہوں یہ روایات زیادہ تر بالمعنی ہی ہوتی ہیں جو بیان کرنے والے کے اپنے تخیل کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں پھر ایک واقعہ جو مکہ میں نبی کریم ﷺ پر نازل ہوا اس کے برسوں بعد اسلام لانے والے جب بیان کریں گے تو وہ بھی معاملہ مخدوش ہوگا پھر یہ بھی کہ احادیث کا قرآن کریم کی عبارت کے صریح مطلب لینا کبھی جائز و درست نہیں ہوسکتا راوی کو غلطی لگ سکتی ہے لیکن قرآن کریم میں اس کا امکان محال ہے ۔ 8۔ علم لدنی کیا ہے ؟ صوفیوں کی اصطلاح میں علم لدنی اور ہے ‘ علمائے اسلام کی اصطلاح میں اور تشریحات و تمثیلات اس کی اس قدر ہیں کہ ان کو بیان کرنے کے لئے نہ وقت ہے نہ کاغذ اور دوات۔ چونکہ صاحب موسیٰ کے پاس ” علم لدنی “ سمجھا گیا ہے اس لئے ” علم لدنی “ والوں کی دنیا ہی الگ بنا دی گئی ہے وہ نہ کتاب وسنت کے پابند ہوتے ہیں اور نہ ظاہری شریعت کے بلکہ وہ اس سب کچھ کو ایک بکھیڑا سمجھتے ہیں ، حلال و حرام اور جائز وناجائز کی بحث ان کے ہاں نہیں ہوتی ۔ ان کا جو جی چاہے وہ بن سکتے ہیں اور بن بیٹھتے ہیں ، کائنات ارضی کی ہرچیز ان کے قبضہ قدرت میں سمجھی جاتی ہے وہ چاہیں سورج طلوع ہونے دیں چاہیں نہ ہونے دیں اور چڑھے ہوئے کو غروب کردیں اور غروب ہوئے کو واپسی کا حکم صادر کردیں ، جس چیز کو وہ چاہیں ہر ابھرا کردیں اور چاہیں تو جلا کر خاکستر کردیں ، لیکن ہمارے جیسے سرسڑے بھی ” علم لدنی “ کو مانتے آرہے ہیں اس لئے صوفیوں کی باتیں وہ جانیں اور علمائے کرام کی علمائے کرام ۔ ہم اپنی بات کریں گے سو گزارش ہے کہ ارشاد الہی ہے (آیت) ولقد اتینک من لدنا ذکر “۔ (طہ 20 : 99) ” اور ہم نے خاص اپنے ہاں سے تم کو ایک (ذکر) عطا کیا ہے ۔ “ اور فرمایا (آیت) کتاب احکمت ایاتہ ثم فصلت من لدن حکیم خبیر “۔ (ہود 11 : 1) ” یہ کتاب ہے جس کی آیتیں مضبوط ہیں اور کھول کھول کر واضح کردی گئی ہیں یہ اس کی طرف سے ہیں جو حکمت والا ساری باتوں کی خبر رکھنے والا ہے ۔ “ بلاشبہ یہ وحی الہی کی بات ہے لیکن قرآن کریم ہم کو بتاتا ہے کہ اس کا عرفی وحی اور الہام ہونا کوئی ضروری نہیں بلکہ عقلمندانہ روش پر کسی کام کو سرانجام دنیا بھی علم الہی ہے جیسے کہ ارشاد الہی ہے (آیت) ” ولا یاب کاتب ان یکتب کماعلمہ اللہ فلیکتب) (البقرہ : 2 : 282) ” جسے اللہ نے لکھنے پڑھنے کی قابلیت بخشی ہے اسے لکھنے سے انکار نہ کرنا چاہئے ۔ “ اور ایک جگہ ارشاد فرمایا (آیت) ” وما علمتم من الجوارح مکلبین تعلمونھن مما علمکم اللہ “۔ (المائدہ 5 : 4) ” اور جن شکاری جانوروں کو تم نے سدھایا ہو جن کو اللہ کو دیئے ہوئے علم سے تم شکار کی تعلیم دیا کرتے ہو۔ “ اس طرح جو امور اسباب سے پیدا ہوں وہ بھی ” لدنی “ کہلاتے ہیں جیسے (آیت) ” فھب لی من لدنک ولیا “۔ (مریم 19 : 5) ” پس تو اپنے خاص فضل سے مجھے ایک وارث بخش دے ۔ “ اور اسی طرح فرمایا ۔ (آیت) ” وجعل لنا من لدنک ولیا واجعل لنا من لدنک نصیرا “۔ (النساء 4 : 75) ” اور اپنی طرف سے کسی کو ہمارا مددگار بنا دے اور اپنی طرف سے کسی کو ہماری مددگاری کے لئے کھڑا کردے ۔ “ اس طرح انسان جو کام بھی اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے مطابق اور اللہ اور اس کے رسول کی رضا جوئی کے لئے کرے گا وہ یقینا اللہ ہی کی طرف ہوں گے اور ہر ہر کام کے لئے ساتھ ساتھ وحی نہیں ہوتی رہے گی اور اس طرح جو کچھ انسان کرتا ہے ‘ کماتا ہے ‘ کھاتا ہے ‘ خرچ کرتا ہے سب ” علم لدنی “ کے تحت ہی ہوتا ہے اور یہ علم کسی خاص انسان کے ساتھ ہی خاص نہیں بلکہ ہر صلاحیت رکھنے والا انسان اس ضمن میں آجاتا ہے ۔ 9۔ (الغلام الذی قتلہ الخضر طبع یوم طبع کافرا “۔ کا مطلب کیا ہے ؟ یہ الفاظ بخاری ‘ مسلم ‘ ابو داؤد اور ترمذی میں مرفوعا آئے ہیں اس کا ترجمہ مترجمین نے اس طرح کیا ہے ” وہ بچہ جو خضر (علیہ السلام) نے قتل کیا تھا روز اول ہی سے کافر پیدا ہوا تھا ۔ “ لیکن یہ مطلب یا ترجمہ ہرگز ہرگز صحیح بلکہ صحیح مطلب اور ترجمہ یہ ہے کہ ” ہر انسان کے لئے جو کفر اور اسلام سے مطبوع ہونے کا دن مقرر ہے اس دن سے وہ لڑکا جس کو خضر نے قتل کیا تھا کفر ہی سے مطبوع ہوا تھا “۔ گویا یہ کہ اس لڑکے کو صحبت اور مجلس اچھی نہ ملی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ دن جو سب کے لئے بلوغت کا دن ہوتا ہے حالت کفر ہی پر آیا اور وہ بدستور اسی حالت پر قائم رہا ، اس نے اپنے والدین کی طرف کبھی خیال ہی نہ کیا کہ میں کیسے والدین کا بیٹا ہوں اور یہ کہ مجھے کیا کرنا چاہئے اور کیا نہیں کرنا چاہئے ؟ حالانکہ عقل وفکر اور بلوغ و شعور آجانے کے بعد ہر انسان کا حق ہے کہ وہ حق اور ناحق میں امیتاز کرے اور صحیح اور غلط کی پہچان کرے ، بلکہ احادیث میں اس کی وضاحت اس طرح کی گئی کہ ” ہر مولود فطرتا اسلام ہی پر پیدا ہوتا ہے اور اس کے پیدا ہونے کے بعد اس کے والدین اسے یہودی ‘ عیسائی اور مجوسی بنا لیتے ہیں اور ابو داؤد ص 293 جلد 2 میں حماد بن سلمہ سے جو بیان ہوا ہے وہاں سے ملاحظہ کریں اس میں اس کی پوری وضاحت مل جائے گی ۔ اور (الست بربکم) کی تفسیر ہم پیچھے بیان کر آئے ہیں ۔ 10۔ کیا دیوار صاحب ارادہ چیز ہے ؟ قرآن کریم میں ہے کہ (آیت) ” فوجدا فیھا جدارایرید ان ینقض “۔ ” پس ان دونوں نے دیکھا کہ اس گاؤں میں ایک پرانی دیوار گرا چاہتی ہے “۔ دیوار بلاشبہ صاحب ارادہ چیز نہیں اس لئے اس کی ہئیت کذائی کے پیش نظر ایسا فرمایا ہے اور اس طرح کا کلام ہر زبان اور ہر لغت میں موجود ہے ، بےجان چیزوں ‘ ناسمجھ اور غیر ذوی العقول سب کے لئے اس کا استعمال جائز اور درست ہے ، جانوروں کا بولنا ، شکایت کرنا ، کھنڈرات کا بتانا کہ عمارت عجیب تھی ، بےزبانوں کا بولنا ، بچوں کا باتیں کرنا ‘ اپنے اپنے حال کے مطابق صحیح اور درست ہے ، قرآن کریم میں پہاڑوں ، زمینوں اور آسمانوں پر امانت کا رکھنا اور ان کا انکار کرنا احادیث میں درختوں اور پتھروں کا سلام پیش کرنا ، اس طرح کے بیسیوں اشارات پائے جاتے ہیں ، جو سب کے سب صحیح اور درست ہیں اس دیوار کا ارادہ کرنا اس کی ہئیت کذائی کا بیان ہے لیکن چالاک وہوشیار لوگ ان باتوں سے کچھ کا کچھ مطلب نکالتے اور اپنی عیاریوں اور مکاریوں کو ان میں چھپاتے رہتے ہیں اور اسی طرح دانا اور سمجھدار لوگ اپنے اپنے وقت میں اس کی حقیقت کو آشکارا کرتے ہیں لیکن ادہام پرست اپنے وہم و گمان کی پیروی میں ان پر سب وشتم کرتے رہے ہیں کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے ان سے گھبرا کر حقیقت سے گریز نہیں کرنا چاہئے اور حق کو بیان کرتے ہی رہنا چاہئے یہی راہ صحیح ہے ۔
Ayah 18:83

وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنْ ذِی الْقَرْنَیْنِ١ؕ قُلْ سَاَتْلُوْا عَلَیْكُمْ مِّنْهُ ذِكْرًاؕ Open ayah 18:83 in the Quran reader

آپ ﷺ سے ذوالقرنین کا حال دریافت کرتے ہیں تم کہہ دو میں اس کا کچھ حال تمہیں پڑھ کر سنا دیتا ہوں

ذوالقرنین کا حال آپ ﷺ سے دریافت کرتے ہیں تو آپ ﷺ ان کو بتادیں : 89۔ سلف میں اگرچہ ” ذوالقرنین “۔ کے متعلق بہت کچھ بیان کیا گیا ہے لیکن آج اگر اس کو بیان کیا جائے گا تو لوگ ہنسیں گے اگرچہ وہ اسلام کی باتیں سمجھ کر منہ سے کچھ نہ کہیں ، یہی وجہ ہے کہ متاخرین نے اس سلسلہ میں دو راہیں اختیار کیں ایک جماعت سلف کے بعض اقوال کو نقل کرنے کے بعد یہ کہہ دینے پر اکتفا کرتی ہے کہ زیر بحث باتیں جو قرآن کریم کے بیان کردہ ” ذوالقرنین “ کے ساتھ پوری طرح مطابقت نہیں رکھتیں اس لئے ہمارے لئے یہ کافی ہے کہ ایک طرف یہ یقین جانیں کہ قرآن کریم نے جس حد تک ” ذوالقرنین “ کی شخصیت پر روشنی ڈالی ہے اس کو حق سمجھیں اور باقی تفصیلات اللہ کے سپرد کردیں ، اور اسی طرح بیان کرتے چلیں جس طرح سنتے آئے ہیں ۔ لیکن دوسری جماعت اس بات کے درپے ہے کہ قرآن کریم کی عطا کردہ روشنی میں ان حقائق کی تفصیلات کو واضح کریں چناچہ اس سلسلہ میں جو کوشش انہوں نے کی وہ بہت حد تک کامیاب رہی اور بہت سے گوشے روشنی میں آئے اور کتنے حقائق تھے جو واضح ہوئے ، اس سوال کے متعلق جو قریش نے یہود کے ایما پر کیا تھا اس کا ذکر ہم سورت کے شروع میں کرچکے ہیں اور بار بار دہرانے کی ضرورت نہیں ، بہرحال ” ذوالقرنین “ کا سوال بھی انہیں سوالوں میں سے ایک ہے ۔ اس کا جو جواب قرآن کریم میں دیا گیا وہ ان لوگوں کے لئے مسکت تھا جو مخاطبین اول تھے اور آج کی تحقیق ان لوگوں کے لئے یقینا مسکت ہے جنہوں نے اسلام پر اعتراض کرتے ہوئے اس کو ایک وہمی مفروضہ قرار دیا ہے ۔ ” ذوالقرنین “ کس شخصیت کا لقب ہے ؟ اس بحث کے لئے دو شخصیتیں سامنے آتی ہیں سکندر مقدونی اور پارس کے ایک نوجوان گورش جسے یونانیوں نے ” سائرس “ عبرانیوں نے ” خورس “ اور عربوں نے ” خسرو “ کے نام سے یاد کیا ۔ لیکن اس بحث نے اتنا طول پکڑا کہ اگر اس کا مختصر سے مختصر ذکر بھی کیا جائے تو کم از کم 400 صفحات سے زائد کی کتاب تیار ہوجائے ، اس ساری بحث کا نتیجہ متاخرین نے یہ نکالا کہ قرآن کریم کا بیان کردہ ” ذوالقرنین “ دوسری شخصیت یعنی گورش جس کو سائرس ‘ خورس اور خسرو کے ناموں سے بھی یاد کیا جاتا ہے یہی ہے اور سکندر مقدونی قطعا اس شخصیت سے مراد نہیں لیا جاسکتا ۔ اور یہی بات صحیح ہے ۔ اس کی مختصر سی تفصیلات دیکھنا ہوں تو قصص القرآن حفظ الرحمن سیوہاروی کی جلد سوم میں عنوان ” ذوالقرنین “ کا مطالعہ کریں اور تفسیری اوراق میں دیکھنا مطلوب ہوں تو ترجمان القرآن جلد دوم تفسرن سورة الکہف کے آخر میں ایک مقالہ ” ذوالقرنین “ کو دیکھیں دونوں کتابیں اردو زبان میں ہیں اور عام جگہوں میں دستیاب ہیں اس لئے ہمیں انہی پر اکتفا کرنا ہے اس لئے تفصیلات درج کرنے کی ضرورت نہیں۔ ہاں تفسیر نوٹس میں جو آئے گا اس کو دیکھتے جائیں ۔
Ayah 18:84

اِنَّا مَكَّنَّا لَهٗ فِی الْاَرْضِ وَ اٰتَیْنٰهُ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ سَبَبًاۙ Open ayah 18:84 in the Quran reader

ہم نے اسے زمین میں حکمرانی دی تھی نیز اسکے لیے ہر طرح کا ساز و سامان مہیا کردیا تھا

” ذوالقرنین کو بہت بڑا اقتدار حاصل ہونے کی تصدیق : 90۔ جیسا کہ اوپر بیان ہوا کہ یہ وہی شخصیت ہے جس کا نام ” گورش “ ’ سائرس “ ’ خورس “ اور ” خسرو “ ہے ۔ یہ شخصیت 559 قبل مسیح غیر معمولی حالات کے اندر ابھری اور اچانک اس وقت کی تمام دنیا کی نگاہیں اس کی طرف گئیں یہ پارس کے ” ایکے می نیز “ خاندان کا ایک نوجوان تھا اس کے والد کا نام کم بی سیزاول (کیقباد) تھا اور سائرس نے اپنے بیٹے کا نام بھی کم بی سیز ہی رکھا اسے پارس کے تمام امیروں نے اپنا فرمانروا تسلیم کرلیا اور پھر بغیر کسی خونریزی کے میڈیا کی مملکت بھی اس کے زیر سایہ آگئی اور اس دونوں مملکتوں نے مل کر ایران کی عظیم الشان شہنشاہی کی صورت اختیار کرلی پھر اس کی فتوحات کا سلسلہ شروع ہوا اور یہ فتوحات وہ نہ تھیں جو ظلم وقہر کی خونریزیوں کے ذریعہ حاصل کی جاتی رہیں بلکہ انسانیت وعدالت کی فتوحات جو تمام تر اس لئے تھیں کہ مظلوم قوموں کی دادرسی پامال ملکوں کی دستگرلی ہو چناچہ ابھی بارہ برس کی مدت بھی پوری نہ ہوئی تھی کہ بحراسود سے لے کر باختر تک ایشیا کی تمام عظیم الشان مملکتیں اس کے آگے تہ زانو ہوچکی تھیں اور یہی کچھ قرآن کریم کی اس آیت میں بتایا گیا فرمایا ” ہم نے اسے زمین میں حکمرانی دی نیز اس کے لئے ہر طرح کا سازوسامان مہیا کردیا ۔ “ اس طرح قرآن کریم کی شہادت اس کی عادل حکومت کے چھاجانے کی طرف اشارہ کر رہی ہے اور تاریخ اس شہادت کو قبول کرتی ہے ۔
Ayah 18:85

فَاَتْبَعَ سَبَبًا Open ayah 18:85 in the Quran reader

تو اس نے ایک مہم کا ساز و سامان کیا

اس نے سب سے پہلے ایک راہ اختیار کی : 91۔ زیر نظر آیت نے صرف اتنی بات فرمائی کہ (فاتبع سببا) اس نے ایک مہم کا سازوسامان کیا اور تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ تخت نشینی کے بعد پہلی جنگ میں جو اسے پیش آئی وہ لیڈیا کے بادشاہ کروئسیس سے تھی ، لیکن تمام تاریخیں متفق ہیں کہ حملہ کروئسیس کی طرف سے ہوا تھا اور اس نے سائرس کو دفاع پر مجبور کردیا تھا اور لیڈیا سے مقصود ایشائے کو چک کا مغربی اور شمالی حصہ ہے جو اس وقت یونانی تمدن کا ایشائی مرکز بنا گیا تھا اور اس کی حکومت بھی اپنے تمام خصائص سے ایک یونانی حکومت تھی جنگ میں سائرس فتح یاب ہوا لیکن رعایا کے ساتھ کسی طرح کی بدسلوکی نہیں کی ۔
Ayah 18:86

حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ مَغْرِبَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَغْرُبُ فِیْ عَیْنٍ حَمِئَةٍ وَّ وَجَدَ عِنْدَهَا قَوْمًا١ؕ۬ قُلْنَا یٰذَا الْقَرْنَیْنِ اِمَّاۤ اَنْ تُعَذِّبَ وَ اِمَّاۤ اَنْ تَتَّخِذَ فِیْهِمْ حُسْنًا Open ayah 18:86 in the Quran reader

یہاں تک کہ سورج کے ڈوبنے کی جگہ پہنچ گیا وہاں اسے سورج ایسا دکھائی دیا جیسے ایک سیاہ دلدل کی جھیل میں ڈوبا جاتا ہے اور اس کے قریب ایک قوم کو بھی آباد پایا ، ہم نے کہا اے ذوالقرنین تو چاہے انہیں عذاب میں ڈالے ، چاہے اچھا سلوک کر کے اپنا بنالے

” ذوالقرنین “ کی حکومت کی وسعت کہاں تک تھی ؟ 92۔ قرآن کریم نے اس کی حکومت کی وسعت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا ” وہ ملک فتح کرتا ہوں سورج کے ڈوبنے کی جگہ پہنچ گیا وہاں اسے سورج ایسا دیکھائی دیا جیسے ایک سیاہ دلدل کی جھیل میں ڈوبا جاتا ہے ۔ اس کی تصدیق تاریخ نے اس طرح کی کہ ” گورش کی یہ مہم ایسی عجیب اور معجزانہ تھی کہ پیٹریا کے معرکہ سے صرف چودن دن کے اندر اس نے لیڈیا کے مستحکم اور مضبوط دار الحکومت کو مسخر کرلیا اور کروئسیس گرفتار ہو کر مجرم کی حیثیت میں اس کے سامنے کھڑا نظر آیا اب اگرچہ بحراسود تک تمام ایشیاء کو چک اس کے زیر نگیں تھا مگر پھر بھی وہ آگے ہی بڑھتا چلا گیا یہاں تک کہ مغربی ساحل تک جا پہنچا یعنی دارالحکومت سے چودہ سو میل فاصلہ طے کرکے مغربی جانب جا کھڑا ہوا اہل جغرافیہ کا بیان ہے کہ لیڈیا کا درالحکومت ” سارڈیس “ مغربی ساحل کے قریب تھا اور ایشائے کو چک کے مغربی ساحل کی حالت یہ ہے کہ یہاں سمرنا کے قریب چھوٹے چھوٹے جزیرے نکل آنے کی وجہ سے ساحل جھیل کی طرح بن گیا ہے اور بحرایجین کے اس ساحل کا پانی خلیج کی وجہ سے بہت ہی گدلا رہتا ہے جیسے کیچڑ اور ظاہر ہے کہ شام کے وقت سورج غروب ہوتے ہوئے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا ایک گدلے حوض میں ڈوب رہا ہے ۔ قرآن کریم نے ارشاد فرمایا کہ ” اس کے قریب اس نے ایک قوم کو پایا ‘ ہم نے کہا اے ذوالقرنین ‘ تو چاہے انہیں عذاب میں ڈالے ‘ چاہے اچھا سلوک کر کے اپنا بنا لے ۔ “ اس سلسلہ میں تاریخ کا بیان ہے کہ خورس نے اگرچہ ایشیائے کو چک کو مردانہ وار فتح کیا لیکن وقت کے دوسرے بادشاہوں کی طرح اس نے ممالک مفتوحہ پر ظلم روا نہیں رکھا اور نہ ہی ان کو وطن سے بےوطن ہونے دیا حتی کہ سارڈیس کی پبلک کو یہ بھی محسوس نہیں ہوا کہ یہاں کوئی انقلاب رونما ہوگیا ہے ۔ انقلاب ہوا مگر فقط شخصیت کا یعنی ان کو کروئسیس کی جگہ خورس جیسا عادل بادشاہ مل گیا چنانہ ہیروڈوٹس لکھتا ہے کہ ” خورس نے اپنی فوض کو حکم دے دیا کہ دشمن کی فوج کے سوا اور کسی انسان پر ہاتھ نہ اٹھایا جائے اور دشمن کی فوج میں سے بھی جو کوئی نیزہ جھکا دے اسے ہرگز قتل نہ کیا جائے اور کروئسیس اگر تلوار بھی چلائے تب بھی اس کو کوئی گزند نہ پہنچائی جائے ۔ “ (انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا ” سائرس “ )
Ayah 18:87

قَالَ اَمَّا مَنْ ظَلَمَ فَسَوْفَ نُعَذِّبُهٗ ثُمَّ یُرَدُّ اِلٰى رَبِّهٖ فَیُعَذِّبُهٗ عَذَابًا نُّكْرًا Open ayah 18:87 in the Quran reader

ذوالقرنین بولا ہم ناانصافی کرنے والے نہیں جو سرکشی کرے گا اسے سزا دیں گے پھر اسے اپنے پروردگار کی طرف لوٹنا ہے وہ سخت عذاب میں مبتلا کرے گا

” ذوالقرنین “ نے کہا کہ ہم نافرمانوں کے سوا کسی کو سزا نہیں دیں گے : 93۔ اور مزید اس نے لکھا کہ حکومت کے متعلق اس کا عقیدہ وہی تھا جو ایک صالح اور نیک بادشاہ کا ہونا چاہئے چناچہ یونانی مورخین کا کہنا ہے کہ ” اس کا عقیدہ یہ تھا کہ دولت بادشاہوں کے ذاتی آرام وعیش کے لئے نہیں ہے بلکہ اس لئے ہے کہ رفاعہ عامہ کے کاموں میں صرف کی جائے اور ماتحتوں کو اس سے فائدہ پہنچے ۔ “ (حوالہ بالا) کاش کہ ہمارے اس دور کے فرمانرواؤں کو بھی اتنی ہی بات سمجھ آجائے کہ دولت کا مصرف کیا ہے ؟ افسوس کہ آج مسلمان حکومتوں کے سربراہ بھی اسی اصول کو اپنا لیتے اور سب ایک ہو کر اپنے ہی لوگوں میں کسی ایک کا انتخاب کرکے اس کے پیچھے لگ جاتے ، کاش کہ جن کے دعوی میں اللہ ایک ہے اور اس کا رسول محمد رسول اللہ ﷺ خاتم النبیین ہے ‘ قرآن کریم ان کی کتاب ہے اور ان سب کا قبلہ بھی ایک ہے ، اللہ کرے کہ ان سب کا امام و پیشوا وقت کا امیر المومنین اور خلیفہ بھی ایک ہوتا اور ایک جھنڈے تلے سب کے سب اکٹھے ہوتے اور سارے اسلامی ممالک کے لوگ ایک ہی رعایا کہلاتے اسی طرح کے خوابات تو سنتے آئے ہیں اللہ کرے کہ وہ شرمندہ تعبیر بھی ہوجائیں ۔ زیر نظر آیت نے بھی یہی بیان کیا کہ ” ذوالقرنین نے کہا ہم ناانصافی کرنے والے نہیں جو سرکشی کرے گا اسے ضرور سزا دیں گے ۔ “ اور تاریخ نے اس کی وضاحت کردی کہ اس مہم میں نہ تو اس کے ساتھ کسی نے زیادتی کی اور نہ ہی اس کی طرف سے کسی پر زیادتی کی گئی بلکہ امن اسی طرح بحال رہا کہ جو ہونا تھا وہ تو ہوگیا لیکن کسی کو معلوم بھی نہ ہوا کہ کیا ہوا ؟ ۔
Ayah 18:88

وَ اَمَّا مَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَهٗ جَزَآءَ اِ۟لْحُسْنٰى١ۚ وَ سَنَقُوْلُ لَهٗ مِنْ اَمْرِنَا یُسْرًاؕ Open ayah 18:88 in the Quran reader

اور جو ایمان لائے گا اور اچھے کام کرے گا تو اس کے بدلہ میں اسے بھلائی ملے گی اور ہم اسے ایسی ہی باتوں کا حکم دیں گے جس میں اس کے لیے آسانی ہو

” ذوالقرنین “ کا اعلان کہ بھلائی کا بدلہ بھلائی سے دیا جائے گا : 94۔ بلاشبہ اس کی نیک سیرت اس بات کا جیتا جاگتا اعلان تھی اور تاریخ کے صفحات میں اس کے نام اپنے تو اپنے مخالفین نے بھی کوئی الزام نہیں رکھا اس کا یہ اعلان دنیوی زندگی کے لئے بھی ہوگا اور آخرت کی زندگی میں تو ایسا ہونا لازم قرار پایا ہے ۔ تاریخ اس بات کی بھی گواہ ہے کہ اس نے برائی کے بدلہ میں نیکی ہی کی اور یہ سب سے بڑی کردار کی خوبی ہے کہ برائی کے بدلہ میں نیکی کی جائے چناچہ تحریر ہے کہ ” حملہ کروئسیس کی طرف سے ہوا حالانکہ کروئسیس کے باپ نے خورس کے نانا اسٹیاگس سے صلح کرلی تھی اور باہم رشتہ داری بھی تاکہ مستقل طور پر جنگ کا خاتمہ ہوجائے لیکن کروئسیس اس کو برداشت نہ کرسکا اور آگے بڑھ کر خورس پر حملہ کردیا تاہم خورس کو فتح ہوئی اور کروئسیس قید کرلیا گیا ، اس کے بعد خورس نے اس کو زندہ جلا دینے کے لئے ایک الاؤ تیار کیا اور عین اس وقت جب کروئسیس اس الاؤ کے قریب گیا خورس نے اس کی رہائی کا اعلان کردیا اور اس کو باعزت زندگی گزرانے کی تلقین کی اور یہی وہ نیکی ہے جو اس نے برائی کے بدلہ میں کی جس سے دنیا کا کوئی شخص انکار نہیں کرسکتا کہ ایسا کرنا نیکی نہیں ۔ اسی طرح کی باتیں یہ ثابت کرتی ہیں کہ وہ نبی یا رسول نہیں تھا تو ایک نہایت ہی صالح اور نیک طینت انسان ضرور تھا جس کی مثالیں اس دنیا میں کم ہی ملتی ہیں ۔
Ayah 18:89

ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا Open ayah 18:89 in the Quran reader

اس کے بعد پھر اس (ذوالقرنین) نے ایک مہم کی تیاری کی

ذوالقرنین نے اس کے بعد ایک اور مہم کی تیاری شروع کی : 95۔ قرآن کریم کا ارشاد ہے کہ ذوالقرنین نے ایک ” دوسرے لشکر کی تیاری شروع کی ۔ “ اور تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ خورس ابھی مفتوحہ علاقہ سے واپس نہیں آیا تھا کہ اس کو ایران کے کچھ قبائل کی بیوفائیوں کی خبر مل گئی اور اس نے بابل کی طرف بڑھنے کی بجائے ان بےوفا قبائل کی طرف واپس آنے کا ارادہ کرلیا ۔
Ayah 18:90

حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ مَطْلِعَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَطْلُعُ عَلٰى قَوْمٍ لَّمْ نَجْعَلْ لَّهُمْ مِّنْ دُوْنِهَا سِتْرًاۙ Open ayah 18:90 in the Quran reader

وُہ نکلا یہاں تک کہ سورج نکلنے کی آخری حد تک پہنچ گیا اس نے دیکھا کہ سورج ایک جماعت پر نکلتا ہے جس سے ہم نے کوئی آڑ نہیں رکھی

وہاں سے واپسی پر ذوالقرنین سورج کے طلوع ہونے کی جگہ تک واپس چلا آیا : 96۔ قرآن کریم میں ارشاد فرمایا گیا کہ ” وہ وہاں سے نکلا یہاں تک کہ سورج نکلنے کی آخری حد تک پہنچ گیا ۔ “ گویا کہ اس کی یہ دوسری مہم مشرق کی طرف تھی چناچہ ہیروڈوٹس اور ٹی سیاز دونوں مورخ اس کی مشرقی لشکر کشی کا ذکر کرتے ہیں جو لیڈیا کی فتح کے بعد اور بابل کی فتح سے پہلے پیش آئی تھی اور دونوں ہی نے تصریح کی ہے کہ مشرق کے بعض وحشی اور صحرانشین قبائل کی سرکشی اس کا باعث ہوئی تھی اور یہ بات ٹھیک ٹھیک قرآن کریم کے اس اشارہ کی تصدیق کرتی ہے کہ ” یہاں تک کہ وہ سورج نکلنے کی آخری حد تک پہنچ گیا اور وہاں اس نے دیکھا کہ سورج ایک جماعت پر نکلتا ہے جس کے لئے ہم نے کوئی آڑ نہیں رکھی ۔ “ یعنی جب وہ مشرق کی طرف پہنچا تو اسے ایسی قوم ملی جو سورج کے لئے کوئی آڑ نہیں رکھتی تھی گویا کہ وہ خانہ بدوش قبائل تھے ۔ یہ خانہ بدوش قبائل کون تھے ؟ ان مورخین کی صراحت کے مطابق بکٹریا یعنی بلخ کے علاقہ کے قبائل تھے اور بکٹریا ٹھیک ٹھیک ایران کے لئے مشرق اقصی کا حکم رکھتا ہے کیونکہ اس کے آگے پہاڑ ہیں اور انہوں نے راہ روک دی ہے اور اس کا بھی اشارہ ملتا ہے کہ گیڈوسیا کے وحشی قبائل نے اس کی مشرقی سرحد میں بدامنی پھیلائی تھی اور ان کی گوشمالی کے لئے اسے نکلنا پڑا اور گیڈوسیا سے مقصود وہی علاقہ ہے جو آج کل مکران کہلاتا ہے ، اس صورت میں ہندوستان کی طرف ہمیں کوئی اشارہ نہیں ملتا اس لئے عقل کہتی ہے کہ مکران سے نیچے اس کے قدم نہیں اترے ہوں گے اور اگر اترے ہوں گے تو دریائے سندھ سے آگے یقینا نہیں بڑھے کیونکہ دارا کے زمانہ میں بھی اس کی جنوب مشرقی سرحد دریائے سندھ ہی تک معلوم ہوتی ہے ۔
Ayah 18:91

كَذٰلِكَ١ؕ وَ قَدْ اَحَطْنَا بِمَا لَدَیْهِ خُبْرًا Open ayah 18:91 in the Quran reader

ان کی حالت ایسی ہی تھی اور جو کچھ ذوالقرنین کے پاس تھا اس کی ہمیں پوری خبر تھی

مشرقی سرحد کے قبائل کی حالت اور ذوالقرنین کی شخصیت : 97۔ مطلب آیت کا یہ ہوا کہ ذوالقرنین کے پاس جو کچھ تھا لاؤ لشکر اور مال واسباب اور افواج وغیرہ وہ ہم سے کچھ پوشیدہ نہ تھے گویا کہ اس کے پاس اس مہم کے سر کرنے کے لئے یہ سب کچھ وافر تھا ہم اچھی طرح جانتے ہیں کیونکہ وہ ہمارا ہی دیا ہوا تھا اور جہاں تک وہ پہنچا تھا وہاں تک مہذب دنیا کی سرحد ختم ہوگئی تھی جو اس کے علاقہ کے متعلق تھی اور اس کے آگے ایسی وحشی قوموں کا علاقہ تھا جو عمارتیں بنانا تو درکنار خیمہ لگانا بھی نہیں جانتے تھے گویا اس وقت تک ابھی اس سے آگے کے لوگ جنگلوں میں رہنے والے لوگ ہی تھے اور آج بھی ان کی حالت اس بات کی زندہ وجاوید دلیل ہے اور ان کا وحشی ہونا اظہر من الشمس ہے ۔
Ayah 18:92

ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا Open ayah 18:92 in the Quran reader

اس نے پھر ایک مہم کا ساز و سامان تیار کیا

ذوالقرنین کی تیسری مہم جو شمالی مہم کے نام سے معروف ہے : 98۔ تیسری لشکر کشی اس نے ایسے علاقہ تک کی جہاں یاجوج ماجوج کے حملے ہوا کرتے تھے ، یہ یقینا اس کی شمالی مہم تھی جس میں وہ بحر خزر (کاسپین) کو داہنی طرف چھوڑا ہوا کا کیشیا کے سلسلہ کوہ تک پہنچ گیا تھا اور وہاں اس کو ایک درہ ملا تھا جو دو پہاڑوں دیواروں کے درمیان تھا اسی راہ سے یاجوج ماجوج آکر اس طرح کے علاقہ میں تاخت وتارج کیا کرتے تھے اور یہیں اس نے سد تعمیر کی تھی ۔
Ayah 18:93

حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ بَیْنَ السَّدَّیْنِ وَجَدَ مِنْ دُوْنِهِمَا قَوْمًا١ۙ لَّا یَكَادُوْنَ یَفْقَهُوْنَ قَوْلًا Open ayah 18:93 in the Quran reader

یہاں تک کہ دو پہاڑوں کی دیواروں کے درمیان پہنچ گیا وہاں اس نے دیکھا کہ پہاڑوں کے اس طرف ایک قوم آباد ہے جس سے بات کہی جائے تو وہ بالکل نہیں سمجھتی

دو پہاڑوں کے درمیان تک وہ پہنچ گیا اور قوم یاجوج ماجوج کی روک کی : 99۔ اس مہم کے متعلق قرآن کریم کے الفاظ اس طرح ہیں (آیت) ” حتی اذا بلغ بین السدین وجد من دونھما قوما لا یکادون یفقھون قولا “۔ یہاں تک کہ وہ دو دیواروں (پہاڑو) کے درمیان پہنچ گیا ان دیواروں کے اس طرف سے ایک قوم ملی جو کوئی بات بھی سمجھ نہیں سکتی تھی ، بات بالکل صاف اور واضح ہوگئی کہ ” بین سدین “ سے مقصود کا کیشیا کا پہاڑی درہ ہے کیونکہ اس کی داہنی طرف بحر خزر ہے جس نے شمال اور مشرق کی راہ روک رکھی ہے اور بائیں جانب بحراسود ہے جو شمال مغرب کے لئے قدرتی روک ہے درمیانی علاقے میں اس کا سربفلک سلسلہ کوہ ایک قدرتی دیوار کا کام دے رہا ہے پس اگر شمالی قبائل کے حملوں کے لئے کوئی راہ باقی رہ جاتی ہے تو وہ صرف اس سلسلہ کوہ کا ایک عریض درہ یا وسطی وادی تھی اور یقینا وہیں سے یاجوج ماجوج کو دوسری طرف پہنچنے کا موقعہ ملتا تھا اسی راہ کے بند ہوجانے کے بعد نہ صرف بحر خزر سے لے کر بحر اسود تک کا علاقہ محفوظ ہوگیا بلکہ سمندروں اور پہاڑوں کی ایک ایسی دیوار قائم ہوگئی جس نے تمام مغربی ایشیاء کو اپنی پاسبانی میں لے لیا اور شمال کی طرف سے حملہ کا کوئی خطرہ باقی نہ رہا ۔ اب ایران ‘ شام ‘ عراق ‘ عرب ‘ ایشاء کو چک بلکہ مصر بھی شمال کی طرف سے بالکل محفوظ ہوگیا تھا ۔ ایشاء کے نقشہ میں یہ مقام دیکھو کہ تمام مغربی ایشیاء نیچے ہے اوپر شمال میں بحرخزر ہے اس سے بائیں جانب شمال مغرب میں بحرا سود ہے درمیان میں بحر خزر کے مغربی ساحل سے بحراسود کے مشرقی ساحل تک کا کیشیا کا سلسلہ کوہ چلا گیا ہے ۔ ان دو سمندرؤں اور درمیان کے سلسلہ کوہ نے مل کر سینکڑوں میلوں تک اپنی قدرتی روک پیدا کردی ہے ، اب اس روک میں اگر کوئی شگاف رہ گیا تھا جہاں سے شمالی اقوام کے قدم اس کو لانگ سکتے تھے تو وہ صرف یہی دو پہاڑوں کے درمیان کی راہ تھی جس کو ذوالقرنین نے بند کردیا اور اس طرح شمالی اور مغربی ایشیا کا یہ درمیانی پھاٹک پوری طرح مقفل ہوگیا ، رہی یہ بات کہ وہاں جو قوم ذوالقرنین کو ملی تھی اور جو بالکل ناسمجھ تھی اور کونسی قوم تھی ؟ تو اس سلسلہ میں دو قومیں نمایاں ہوتی ہیں اور دونوں کا اس زمانہ میں وہاں قریب قریب آباد ہونا تاریخ کی روشنی میں آچکا ہے ، پہلی قوم وہ ہے جو بحرخزر کے شمالی ساحل پر آباد تھی ، اسے یونانی مورخین نے ’ کا سپن “ کے نام سے پکارا ہے اور اس کے نام سے بحرخزر کا نام بھی ” کا سپن “ پڑگیا ہے ۔ دوسری قوم وہ ہے جو اس مقام سے ذرا آگے بڑھ کر عین کا کیشیا کے دامن میں آباد تھیں یونانیوں نے اسے ” کو لچی “ یا ” کو لشی “ کے نام سے پکارا ہے اور دارا کے کتبہ اسطحز میں اس کا نام ” کو شیہ “ آیا ہے انہی دو قوموں میں سے کسی نے یا دونوں قوموں نے ذوالقرنین سے یاجوج ماجوج کی شکایت کی ہوگی اور چونکہ یہ غیر متمدن قومیں تھیں اس لئے ان کی نسبت فرمایا گیا کہ (آیت) ” لا یکادون یفقھون قولا “۔
Ayah 18:94

قَالُوْا یٰذَا الْقَرْنَیْنِ اِنَّ یَاْجُوْجَ وَ مَاْجُوْجَ مُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ فَهَلْ نَجْعَلُ لَكَ خَرْجًا عَلٰۤى اَنْ تَجْعَلَ بَیْنَنَا وَ بَیْنَهُمْ سَدًّا Open ayah 18:94 in the Quran reader

اس قوم نے کہا اے ذوالقرنین یاجوج اور ماجوج اس ملک میں آ کر لوٹ مار کرتے ہیں کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ آپ ہمارے اور ان کے درمیان ایک روک بنا دیں اور اس غرض سے ہم آپ کے لیے کچھ خراج مقرر کردیتے ہیں ؟

غیر معروف قوم کی اپیل ذوالقرنین کی خدمت میں اور اسی ملاقات پر فیصلہ کا حکم : 100۔ اس تیسری مہم میں ذوالقرنین کا کیشیا تک پہنچ گیا جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا پھر وہاں اس کو جس قوم سے واسطہ پڑا وہ غیر متمدن قوم تھی یعنی اس وقت کے حالات کے مطابق لیکن اس کے باوجود وہ کسی ایسی قوم سے زخم خوردہ تھے جس کے بار بار حملوں کی وہ تاب نہیں رکھتے تھے اس لئے انہوں نے ذوالقرنین سے اپیل کی کہ ہمارے اس قریب کے درہ سے ہم پر ایک قوم حملہ آور ہوتی ہے اور اس نے ہم کو بہت تنگ کر رکھا ہے ہمارے ساتھ کچھ نیکی کرسکتے ہو تو یہ کریں کہ اس درہ کو بند کرا دیں تاکہ ان لوگوں سے ہماری جانیں بچ جائیں اس سلسلہ میں ہم آپ کو مالی تعاون (خراج) بھی پیش کرنے کے لئے تیار ہیں جو آپ پسند فرمائیں ۔
Ayah 18:95

قَالَ مَا مَكَّنِّیْ فِیْهِ رَبِّیْ خَیْرٌ فَاَعِیْنُوْنِیْ بِقُوَّةٍ اَجْعَلْ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ رَدْمًاۙ Open ayah 18:95 in the Quran reader

ذوالقرنین نے کہا ، میرے پروردگار نے جو کچھ میرے قبضہ میں دے رکھا ہے وہی کچھ میرے لیے بہتر ہے مگر تم اپنی قوت سے میری مدد کرو میں تمہارے اور یاجوج ماجوج کے درمیان ایک مضبوط دیوار کھڑی کر دوں گا

ذوالقرنین کی طرف سے اس غیر معروف قوم کو جواب : 101۔ ذوالقرنین نے ان لوگوں کی اپیل سنی اور اسی وقت دیوار کی منظوری دے دی اور ان کو کہا کہ میرے پاس اللہ کا دیا ہوا مال بحمد للہ بہت ہے آپ میرا مالی تعاون نہ کریں نہ مجھے تمہارے اس تعاون کی ضرورت ہے ہاں ! آپ مالی تعاون کی بجائے اپنی طاقت وقوت کا تعاون مجھے دیں اس لئے کہ میرے یہ سپاہی اتنا کام سرانجام نہیں دے سکتے اور افرادی قوت کی اس سلسلہ میں زیادہ ضرورت ہے میں تمہارے درمیان اور اس قوم یاجوج ماجوج کے درمیان دیوار کھڑی کروں گا اور انشاء اللہ العزیز وہ اس دیوار کے مکمل ہوجانے کے بعد آپ پر حملہ آور نہیں ہوسکیں گے ، اس سلسلہ میں اس نے اس جگہ کی لمبائی ‘ دیوار کی چوڑائی اور اونچائی کا خوب جائز لیا اور جو کچھ سامان اس کے لئے چاہئے تھا اس کو اکٹھا کرنے کے لئے ایک پروگرام مرتب کیا ۔
Ayah 18:96

اٰتُوْنِیْ زُبَرَ الْحَدِیْدِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا سَاوٰى بَیْنَ الصَّدَفَیْنِ قَالَ انْفُخُوْا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَعَلَهٗ نَارًا١ۙ قَالَ اٰتُوْنِیْۤ اُفْرِغْ عَلَیْهِ قِطْرًاؕ Open ayah 18:96 in the Quran reader

لوہے کی سلیں میرے لیے مہیا کر دو ، پھر جب دونوں پہاڑوں کے درمیان دیوار برابر بلند کردی تو اس نے حکم دیا کہ اسے دھونکو ، پھر جب بالکل آگ کی طرح ہوگئی تو کہا گلا ہوا تانبا لاؤ کہ میں اس پر انڈیل دوں

ذوالقرنین نے اس دیوار کے لئے جو سامان تیار کیا وہ کچھ اس طرح کا تھا : 102۔ اس نے لوہے کی بڑی سلیں تیار کرنے کا حکم دیا جب وہ تیار ہوگئیں تو اس درہ میں ان کی جو ڑائی شروع کرا دی اس دیوار کی لمبائی بیسیوں گز تھی اور اس کو خاصا چوڑا رکھا گیا اور دونوں پہاڑوں کے برابر اس کی اونچائی بنا دی گئی جب سلیں رکیت گئیں تو اس نے تانبا کے بڑے بڑے ٹکڑے لے کر ان سلوں کے جوڑوں میں بھرنے شروع کردیا اور آگ رکھ کر کوئلہ استعمال کرکے ان کو دھونکوانا شروع کردیا جس سے وہ تانبے کے ٹکڑے پگھل کر ان جوڑوں میں مل گئے اور اس طرح ان لوہے کے ٹکڑوں کو جوڑ کر ایک جان کردیا گیا جس سے وہ دیوار گویا ایک پہاڑ بن کر کھڑی ہوگئی اس کی تدبیر اور پھر تدبیر کے مطابق عمل درآمد اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ ایک نہایت ہی مخلص اور رعایا کا خیر خواہ بادشاہ تھا اور یہ بھی کہ وہ عزم و ارادہ کا بہت پکا اور ہمت و استقلال کا دھنی تھا اور جو کام اس نے کیا کہنے سننے کے لئے تو آسان ہے لیکن حقیقت میں ایک بہت ہی مشکل کام تھا جس کو اس نے قلیل عرصہ میں سرانجام دے دیا ۔
Ayah 18:97

فَمَا اسْطَاعُوْۤا اَنْ یَّظْهَرُوْهُ وَ مَا اسْتَطَاعُوْا لَهٗ نَقْبًا Open ayah 18:97 in the Quran reader

یہ ایک ایسی دیوار بن گئی کہ وہ (یاجوج ماجوج) نہ تو اس پر چڑھ سکتے تھے نہ اس میں سرنگ لگا سکتے تھے

سدذوالقرنین کے متعلق قرآن کریم کا بیان : 103۔ یہی وہ دیوار ہے جس سے میتھین قوم یعنی یاجوج ماجوج کے حملے رک گئے ، اس پر چڑھنا بھی ان کے لئے ممکن نہیں ہے اور اس دیوار کا توڑنا بھی آسان نہیں ہے کہ اس میں سرنگ لگا کر نکل آئیں اس لئے کہ اینٹ گارا اس طرح کی دوسری اشیاء سے نہیں بنائی گئی حتی کہ یہ پتھر بھی نہیں کہ اس کو کاٹ لیا جائے بلکہ اس اس میں لوہے کی بڑی بڑی سلوں سے کام لیا گیا ہیں اور پھر سلوں کے شگافوں کو پگھلے ہوئے تانبے سے جوڑ دیا گیا ہے اس طرح اس کے جوڑ اس کی سلوں سے بھی زیادہ مضبوط ہوگئے ہیں ، مورخین نے چونکہ اس طرف تین چار دیواروں کو ڈھونڈ نکالا ہے اور پھر ان دیواروں کو اپنے علم کے مطابق مختلف بادشاہوں کی طرف منسوب کیا ہے کوئی دیوار سد سکندری کے نام سے معروف ہے کوئی نوشیروان کے نام سے کوئی دیوار چین کے نام سے معروف ہے کوئی درہ دربند کے نام سے پھر دربند بھی ایک سے زیادہ ثابت کئے گئے ہیں اس لئے یہ بحث بہت طول پکڑ گئی ہے کہ وہ دیوار جس کو ” ذوالقرنین “ کے نام سے قرآن کریم نے بائن کیا ہے وہ کونسی دیوار ہے سب نے اپنے دلائل اور اپنی راؤں کا اظہار کیا ہے جس سے یہ بحث مزید طویل ہوتی چلی گئی ہے اس تحقیق میں خود ” ذوالقرنین “ کی ذات زیر بحث آئی ہے اور مختلف لوگوں نے اس کے متعلق مختلف بیانات دیئے ہیں کسی نے سکندر اور ذوالقرنین کو ایک بنا دیا ہے اور کسی نے اس نظریہ کی سخت تغلیط بیان کی ہے بحرحال یہ ساری باتیں اشارتا عرض کی جا رہی ہیں ورنہ اس وقت سب حالات روز روشن کی طرح واضح ہوچکے ہیں اور دلائل نے سب کچھ روشنی میں لا کر رکھ دیا ہے اور فرسودہ بحثوں کو دیکھنے کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ یہ بات معلوم ہوجائے کہ گزشتہ لوگوں سے بھی کیا کیا غلطیاں ہوئی ہیں جو جان بوجھ کر نہ سہی تاہم جب علمی روشنی نہیں تھی تو باتیں کس کس رنگ میں بیان کی جاتی تھیں اور وہی رنگ مذہب یا دین اسلام کا رنگ سمجھا گیا ہے اور روشنی کے دور میں بھی ہم اکثر انہیں چیزوں کو زیر بحث رکھتے ہیں جن کو اب زیر بحث لانا مذاق و استہزاء سمجھا جاتا ہے لیکن ہم سلف کے ناموں کی بحث آج بھی بدستور جاری رکھے ہوئے ہیں اور انہی کی شخصیتوں کی جانچ پڑتال میں لگے رہتے ہیں اور کبھی خیال نہیں کرتے کہ اس روشنی کے زمانہ میں اس کی ضرورت نہیں انہوں نے جو خدمت کی اس کے ہم معترف ہیں اور سمجھتے ہیں کہ انہیں کے دم سے آج دین اسلام کا نام روشن ہے تاہم وہ انسان تھے اور ہر انسان کا علم محدود ہے اور ہر انسان جو علم رکھتا ہے اس میں غلطی کا امکان ہے غلطی سے کوئی چیز مبرا ہے تو وہ کلام اللہ ہے اور اللہ تعالیٰ کے رسل وانبیاء ہیں جو کبھی جان بوجھ کر غلطی نہیں کرتے اور اگر کوئی بھول ہوجائے تو فورا اس کو تسلیم کرتے ہیں ۔ مختصر یہ کہ اس روشنی کے زمانہ میں جب لوگوں نے زمین کا چپہ چپہ چھان مارا ہے کوئی بات صاحب علم حضرات سے پوشیدہ نہیں لہذا اس وقت جو بات روشنی میں آئی ہے اس سے واضح ہوتا ہے کہ سدذوالقرنین وہی ہے جو آج کل کی زبان میں درہ دارپال کی سد کے نام سے معروف ہے کیوں ؟ اس لئے یہی وہ دیوار ہے جو قرآن کریم کی بتائی ہوئی باتوں کی عملی تصدیق کرتی ہے اور اس کے مقابلہ میں درہ دربند کی دونوں دیواریں اور دیوار چین میں وہ باتیں نہیں پائی جاتیں ۔ قرآن کریم نے اس دیوار کے متعلق جو بیان دیا ہے وہ اوپر آپ پڑھ چکے ہیں کہ وہ دیوار لوہے کی سلوں سے تعمیر کی گئی ہے جس کے شگافوں اور جوڑوں میں تانبا پگھلا دیا گیا ہے جس سے وہ یک جان ہوچکی ہے اور یہ کہ اس دیوار میں اینٹ ‘ پتھر اور گارا استعمال نہیں کیا گیا اور ان ساری دیواروں کا جب تجزیہ کیا گیا تو ان میں سے درہ دارپال کے علاوہ کوئی دوسری دیوار اس کی تصدیق نہیں کرتی کیونکہ علاوہ ازیں سب دیواریں ‘ پتھر کی سلوں اور اینٹ ‘ گارے سے تعمیر کی گئی تھیں جن میں اکثر ٹوٹ پھوٹ بھی چکی ہیں اور صرف کھنڈرات سے پتہ چلتا ہے کہ یہاں کوئی دیوار بنائی گھی تھی لیکن سد ذوالقرنین تاحال موجود ہے اور وہ اس محل وقوع کے مطابق ہے جو قرآن کریم نے بیان کیا ۔ ہاں ! اس پہلی دیوار کے بعد اس نے مزید دیواریں بھی بنوائی ہوں یہ ممکن ہے اور یہ بھی کہ اس کے جانشینوں نے اپنی اپنی ضرورتوں کے مطابق ان کو تعمیر کرایا ہو کیونکہ جب ایک کام ہوتا ہے تو اس کی نقالی اور اس کی طرز کے دوسرے کام ہونا بعید از عقل و قیاس نہیں ۔