18. Surah Al-Kahf

الكهفThe Cave · 110 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 18:29

وَ قُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ١۫ فَمَنْ شَآءَ فَلْیُؤْمِنْ وَّ مَنْ شَآءَ فَلْیَكْفُرْ١ۙ اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلظّٰلِمِیْنَ نَارًا١ۙ اَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا١ؕ وَ اِنْ یَّسْتَغِیْثُوْا یُغَاثُوْا بِمَآءٍ كَالْمُهْلِ یَشْوِی الْوُجُوْهَ١ؕ بِئْسَ الشَّرَابُ١ؕ وَ سَآءَتْ مُرْتَفَقًا Open ayah 18:29 in the Quran reader

اور کہہ دو یہ سچائی تمہارے پروردگار کی جانب سے ہے ، اب جو چاہے مانے اور جو چاہے نہ مانے ، ہم نے ظالموں کے لیے ایسی آگ تیار کر رکھی ہے جس کی چادریں چاروں طرف سے انہیں گھیر لیں گی ، وہ فریاد کریں گے تو ان کی فریاد کے جواب میں ایسا پانی ملے گا جیسے پگھلا ہوا شیشہ ہو وہ ان کے منہ پکا دے گا تو پینے کی کیا ہی بری چیز انہیں ملی اور بیٹھنے کی کیا ہی بری جگہ ہوئی

سچائی بہرحال سچائی ہے اس لئے وہ اس بات کی محتاج نہیں کہ کوئی اس کو مانے : 32۔ فرمایا قرآن کریم اللہ کی کتاب ہے جو حق اور سچ ہے اور جو کچھ اس میں بیان کیا گیا ہے وہ بھی حق اور سچ ہے ، اس حق اور سچ کو لوگوں کے سامنے پیش کیا جارہا ہے ، اب اس کو ماننا یا اس سے انکار کردینا لوگوں کا اپنا کام ہے اس لئے کہ اللہ نے اس بات کا ہر انسان کو اختیار دے دیا ہے کہ وہ حق اور سچ کو مانے یا جھوٹ کا ساتھ دے ، ہاں حق اور سچ اس بات کا محتاج نہیں کہ کوئی اس کو مانے تب ہی وہ حق اور سچ ہوگا ۔ حق بہر حال حق ہے کوئی اس کو مانے یا نہ مانے ، اللہ تعالیٰ نہ کسی شخص کو ایمان پر مجبور کرتا ہے نہ کفر پر پھر جیسے کسی کے اعمال ہوں گے ویسی جزا وسزا ہوگی ، جس طرح حرص وہوس نے دنیا داروں کو چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے وہی حرص وہوس آگ بن کر وہاں ان کو گھیر لے گی اور جس طرح دنیا کی محبت کی پیاس یہاں نہیں بجھتی وہاں بھی اس کے بجھنے کا کوئی سامان نہیں ہوگا ۔ (سرادقھا) اس کی چادریں یا قناتیں سرادق مضاف ہے ہا ضمیر اور مونث غائب مضاف الیہ ۔ مراد ہر وہ شے جو کسی چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہو خواہ چار دیواری ہو یا شامیانہ یا خیمہ وہ ” سرادق “ ہے (النہایہ) لغات میں اس پر بہت کلام کیا گیا ہے ۔ (مھل) ڈھیل یا مہلت دینے کو کہا جاتا ہے اور (مھل) تلچھٹ کو بھی کہتے ہیں اور پگھلے ہوئے تانبے اور شیشے وغیرہ کو بھی جو تلچھٹ کی طرح گاڑھا ہوتا ہے پانی کی طرح پتلا نہیں ۔ (یشوی) جھلس دینے یا بھون دینے کو کہا جاتا ہے اور (مرفق) کے معنی کہنی پر ٹیک لگانے کے ہیں اور یہ بات فطری ہے کہ انسان جب آرام کرتا ہے کہنی پر ٹیک لگاتا ہے اس لئے اس سے مراد استراحت اور آرام لیا جاتا ہے اور اسی نسبت سے اس جگہ کو بھی کہا جاتا ہے جہاں آرام واستراحت کے لئے بیٹھا یا لیٹا جائے ۔ زیر نظر آیت کو پڑھتے وقت اصحاب کہف کے پورے قصہ کو نگاہ میں رکھو انہیں نے حق کو دیکھا اور سنا تو قبول کرلیا پھر کس طرح قبول کیا ؟ دنیا کی فروانیاں جو انکو چاروں طرف سے گھیرے ہوئے تھیں ان کی ذرا بھی پروا نہ کی اور سب کچھ چھوڑ کر وہ کیوں نکل کھڑے ہوئے ؟ اور کیوں انہوں نے اپنی قوم اور اپنی حکومت کے وڈیروں سے مصالحت نہ کرلی ؟ انہوں نے ایک اللہ کی عبادت میں دوسروں کو شریک کرنے سے کیوں انکار کردیا ؟ حق کو مان لینے سے ان کو کن حالات سے گزرنا پڑا اور وہ خوشی سے ان سے گزرنے کیلئے تیار ہوگئے ، پھر ان ساری باتوں کا نتیجہ کیا رہا ۔ اس حکومت کی طاقت وزور کو کون کھا گیا ؟ جب ایسے حالات پیدا ہوجائیں کہ حق کو ماننے والا کوئی نہ رہے اور اس کو قبول کرنے والوں پر ظلم وستم ڈھائے جائیں تو انسان کو کیا کرنا چاہئے ؟ اس سے کیا سبق حاصل ہوا ؟ یہی نا کہ مشرکین ومنکرین سے قطعا مصالحت نہیں ہوسکتی ۔ بڑے بڑے سرداروں اور رئیسوں اور شان و شوکت والوں کی کچھ پروا کرتے ہوئے اپنے آپ میں مگن ہوجانا چاہئے اور اگر ان کے ظلم وستم سہنے کی طاقت وہمت نہ رہے تو ان سے بھاگ کر کسی پہاڑ کی غار میں گزر بسر کر لینی چاہئے اور حالات کی بہتری کا انتظار کرنا چاہئے ، لیکن افسوس کہ آج یہ آیتیں صرف پڑھنے کے لئے رہ گئی ہیں اور وہ بھی مردوں پر تاکہ زندوں سے ان کا تعلق ہی نہ رہنے دیا جائے تاکہ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری ۔
Ayah 18:30

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اِنَّا لَا نُضِیْعُ اَجْرَ مَنْ اَحْسَنَ عَمَلًاۚ Open ayah 18:30 in the Quran reader

مگر جو لوگ ایمان لائے اور اچھے کام کیے تو جس نے اچھے کام کیے ہوں ہم کبھی اس کا اجر ضائع نہیں کرتے

بلاشبہ ایمان لانے والوں کا اجر بھی ان کو پورا پورا دیا جائے گا : 33۔ دنیا میں ہرچیز کی پہچان اس کی ضد سے ہوتی ہے اگر ضد نہ رہے تو کسی چیز کا کوئی وجود باقی نہ رہے ، دوزخ اور اس کی سختیوں کا ذکر کیا گیا تو جب تک اس کے ساتھ اس کی ضد جنت اور اس کی نعمتوں کا بیان نہ ہو اس پہلی بات کی تکمیل ممکن نہیں ۔ یہی معاملہ ہر جگہ پر ہے ، قرآن کریم جب ایک کا ذکر کرتا ہے تو ساتھ ہی دوسرے کا ذکر بھی کردیتا ہے ، گزشتہ آیت میں ان لوگوں کا بیان تھا جو حق اور سچ کو ماننے کے لئے تیار نہیں اور پھر ان کی سزا کا بھی ذکر کردیا کہ اس دنیا میں تو وہ و ڈیرے اور عزت و تکریم کے مالک بنے بیٹھے ہیں لکنی آخر کب تک ؟ جو کچھ وہ کر رہے ہیں آخر ان کا نتیجہ بھی تو ایک روز ان کے سامنے آئے گا پھر اس نتیجہ سے ان کو اس دنیا میں واقف بھی کرا دیا ۔ زیر نظر آیت میں ان لوگوں کا بیان ہے جنہوں نے حق کو حق مانا اور تسلیم کیا اس لئے جھوٹ کے نگہبانوں اور محافظوں نے ان کی سخت مخالفت کی جس کے نتیجہ میں ان کو بہت سختیاں برداشت کرنا پڑیں لیکن انہوں نے ان سختیوں کو بخوشی برداشت کیا پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ ان کو یہ سختیاں برداشت کرنے کے نتیجہ سے واقف نہ کیا جائے ، یہاں بتایا گیا کہ ان کے ان صالح اعمال کے نتیجہ کو بھی ضائع نہیں کیا جائے گا بلکہ پورا پورا ان کی طرف لوٹایا جائے گا پھر آنے والی آیت میں اس کی مزید وضاحت فرما دی کہ وہ کیا ہوگا ۔
Ayah 18:31

اُولٰٓئِكَ لَهُمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ یَلْبَسُوْنَ ثِیَابًا خُضْرًا مِّنْ سُنْدُسٍ وَّ اِسْتَبْرَقٍ مُّتَّكِئِیْنَ فِیْهَا عَلَى الْاَرَآئِكِ١ؕ نِعْمَ الثَّوَابُ١ؕ وَ حَسُنَتْ مُرْتَفَقًا۠ Open ayah 18:31 in the Quran reader

یہ لوگ ہیں جن کے لیے ہمیشگی کے باغ ہوں گے اور باغوں کے تلے نہریں بہہ رہی ہوں گی (بادشاہوں کی طرح) یہ سونے کے کنگن پہنے ہوئے سبز ریشم کے باریک اور دبیز کپڑوں سے آراستہ مسندوں پر تکیہ لگائے ہوئے (بڑی شان و شوکت سے) بیٹھے ہوں گے ! تو کیا ہی اچھا ان کا ثواب ہوا اور کیا ہی اچھی انہوں نے جگہ پائی

جنت میں نیکوکاروں کو وہ سب کچھ ملے گا جس کی ان کو خواہش ہوگی : 34۔ فرمایا ان لوگوں کے لئے جو اچھے عمل کرتے رہے ‘ باغات ہوں گے ‘ باغات کے نیچے نہریں جاری ہوں گی وہ سونے کی کنگن پہنے ہوئے سبز ریشم کے باریک اور دبیز کپڑوں میں آراستہ ہوں گے اور مسندوں پر تکیے لگائے ہوئے بیٹھے ہوں گے اور قرآن کریم میں دوسرے مقامات پر اس سے بھی آگے بڑھ کر بہت کچھ بیان کیا گیا اور بالآخر فرمایا ہے کہ یہ سب کچھ ان کو ملے گا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ جو کچھ وہ طلب کریں گے پائیں گے ، اب غور کرو کہ انسانوں کی ساری طلبوں کے مجموعہ کو کسی لفظ سے ادا کیا جاسکتا ہے ؟ ظاہر ہے کہ ہو ایک لفظ ہے ” مسرت “ اور مسرت ایک نفسی کیفیت کا نام ہے جو انسان کو اپنی کسی خواہش کے پورے ہوتے وقت حاصل ہوتی ہے اس بنا پر مسرت کے وجود کے لئے کسی خواہش کی تکمیل ضروری ہے ، اب انسانی خواہشوں کی تحلیل کرو تو الآخر ان کی انتہا ان ہی باتوں پر ہوگی جن کی طلب اس کی فطرت کے اندر ودیعت کردی گئی ہے ، اب غور کرو کہ وہ کیا چیزیں ہیں یا کیا چیزیں اس کے فہم میں آسکتی ہیں وہ یقینا یہی ہیں ‘ باغ و بہار لباس وطعام ‘ حور و قصور ‘ حذم وحشم ‘ سامان واسباب اور زروجواہر ، مسرت اور راحت کا جب کبھی تخیل آئے گا اور جب کبھی ہم ان کو سمجھنا چاہیں گے اور کہنا چاہیں گے تو ہم کو انہی چیزوں کا نقشہ کھینچنا پڑے گا اور ہماری انسانی فطرت ان ہی مسرتوں اور خوشیوں کو ڈھونڈنے کی عادی ہے اور ان ہی کے حصول کی خاطر دنیا ہر طرح کی سیاہ کاریوں اور گناہ گاریوں کی مرتکب ہوتی ہے اس لئے ان سے احتراز کرنے پر جو چیزیں ہم کو وہاں ملیں گی وہ ہمارے ان ہی عادی ومانوس اسباب مسرت کی صورتوں میں ہمارے سامنے پیش ہوں گی اور ہم ان سے لطف اندوز ہوں گے ۔ مختصر یہ کہ جنت وہ مقام ہے جہاں ہم کو وہ سب کچھ ملے گا جہاں تک ہمارا مرغ خیال اڑ کر پہنچ سکتا ہے لطف ومسرت کا وہ بلند سے بلند معیار جو تصور میں آسکتا ہے وہاں ہمارے لئے مہیا ہوگا ۔ صحابہ اکرم میں بھی ہر قسم کے لوگ تھے بلند تخیل کے بھی اور دوسرے بھی اس لئے جنت کے متعلق وہ بلند سے بلند معیار جو تصور میں آسکتا ہے اس کے متعلق سوال کرتے اور اپنی اپنی اور آرزو کے مطابق آپ ﷺ سے پوچھتے رہتے تھے اور آپ ﷺ سب کو جواب دیتے تھے ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ” جنت میں جو سب سے کم رتبہ ہوگا اس کی کیفیت یہ ہوگی کہ اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا تو اپنی انتہائی آرزو دل میں خیال کر وہ کرے گا تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا تجھ کو وہ سب دیا گیا جس کی تو نے آرزو کی اور اس کے برابر اور بھی ۔ “ (صحیح مسلم) ایک صاحب نے جنت میں گھوڑا ملنے کا سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا ” اگر تم کو جنت ملی اور تم نے گھوڑا چاہا تو سرخ یاقوت کا گھوڑا ملے گا جو تم کو جنت کی سیر کرائے گا ۔ “ (ترمذی)
Ayah 18:32

وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا رَّجُلَیْنِ جَعَلْنَا لِاَحَدِهِمَا جَنَّتَیْنِ مِنْ اَعْنَابٍ وَّ حَفَفْنٰهُمَا بِنَخْلٍ وَّ جَعَلْنَا بَیْنَهُمَا زَرْعًاؕ Open ayah 18:32 in the Quran reader

ان لوگوں کو ایک مثال سنا دو ، دو آدمی تھے ان میں سے ایک کے لیے ہم نے انگور کے دو باغ مہیا کردیئے ، گرداگرد کھجور کے درختوں کا احاطہ تھا ، بیچ کی زمین میں کھیتی تھی

پیغمبر اسلام ﷺ کے ذریعہ سے ایک مثال بیان کر کے تفہیم کرادی : 35۔ زیر نظر آیت 32 سے آیت 44 تک تیرہ آیتوں میں دو آدمیوں کی مثال بیان فرما کر تفہیم کرانے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ اچھی زندگی اور بری زندگی کے مآل سے انسان اچھی طرف واقف ہوجائے اور جو کچھ ہو رہا ہے اور ہونے والا ہے اس سے آگاہ ہوجائے ، لیکن ایسا کب ہوگا ؟ جب انسان خود غور وفکر کرے گا اور سمجھ سوچ سے کام لینے کی کوشش کرے گا ، اگر وہ خود کوشش نہ کرے تو بھینس کے سامنے بین بجانے کے مترادف ہوگا ۔ اس طرح گویا وہ انسانوں کے درمیان مناظرانہ گفتگو کی شکل میں ذکر ہوا ہے اور ساتھ ہی اس کا نتیجہ اور ثمرہ بھی بیان فرما دیا گیا ہے ، اس کے متعلق بعض مفسریں کا خیال ہے کہ قرآن کریم نے اس واقعہ کو مثال کے طور پر پیش کیا ہے اور اس طرح کفار مکہ اور مسلمانوں کی جماعت کے حالات کو سامنے رکھ کر تذکیر ونصیحت کے لئے بیان کیا ہے اور یہ بات نہیں ہے کہ اس طرح کا واقعہ اور حقیقت دو آدمیوں (مومن اور کافر) کے درمیان زمانہ ماضی میں پیش آیا تھا اور بعض کا خیال ہے کہ جس طرح اصحاب کہف کا واقعہ پیش آیا ہے اس طرح نزول قرآن کریم سے قبل دو انسانوں کے درمیان یہ واقعہ بھی پیش آیا ہے اور قرآن کریم نے ان دونوں واقعات کو مشرکین مکہ کی تذکر وتنذیر کے لئے بیان کیا ہے ۔ فرمایا ” اے پیغمبر اسلام ! ان لوگوں کو ایک مثال سنا دو ‘ دو آدمی تھے ان میں سے ایک کے لئے ہم نے انگور کے دو باغ مہیا کر دئے اور ان کے گرداگرد کھجور کے درختوں کا احاطہ تھا اور درمیان میں کھیتی تھی ۔ “ یہ گویا اس باغ کی خوبصورتی کا تفصیلی بیان ہے ۔
Ayah 18:33

كِلْتَا الْجَنَّتَیْنِ اٰتَتْ اُكُلَهَا وَ لَمْ تَظْلِمْ مِّنْهُ شَیْئًا١ۙ وَّ فَجَّرْنَا خِلٰلَهُمَا نَهَرًاۙ Open ayah 18:33 in the Quran reader

پس دونوں باغ پھلوں سے لد گئے ، پیداوار میں کسی طرح کی بھی کمی نہ ہوئی ہم نے ان کے درمیان ایک نہر جاری کردی تھی

اس کے دونوں باغ خوب پھل دیتے تھے جس کے باعث وہ خوشحال ہوگیا : 36۔ ان آیات سے پہلے چونکہ اس بات کا ذکر ہو رہا تھا کہ جو لوگ منکر ہیں ان کے لئے جہنم کی آگ ہے اور جو مومن ہیں ان کے لئے ہر قسم کی خوش عیشیاں اور ابدی باغات ہیں اس کے بعد آیات زیر نظر میں یہ کہا جا رہا ہے کہ جو منکرین ہیں ان کے لئے صرف آخرت ہی کی محرومیاں نہیں بلکہ وہ اس دنیا میں بھی عنقریب ناکامیوں اور بدبختیوں سے دوچار ہونے والے ہیں ، اس وقت تو ان کو یہ گھمنڈ ہے کہ ان کو ہر قسم کی رفاہت وخوش عیشی حاصل ہے اور وہ کثیر مال و دولت کے مالک ہیں اور ان کی برادری اور خاندان بھی بہت ہے لیکن ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ جو کچھ ہے سب فانی ہے اور اس طرح مومن اپنی موجودہ تنگ حالی پر دل گیر اور بد دل نہ ہوں کہ عنقریب وقت آئے گا کہ ان کی یہ بیچارگی اور بےبسی ہمہ قسم کی طاقت عزت سے بدل دی جائے گی اس حقیقت کو واضح کرنے کے لئے یہ مثال پیش کی جا رہی ہے کہ دو آدمی تھے ان میں سے ایک کو ہم نے دنیوی عیش و عشرت کے سارے سامان دے رکھے تھے اور وہ تنگ دست تھا پہلا خدا کا منکر اور دولت کے نشہ میں چور تھا اور دوسرا مومن نادار وذخیر الرماد تھا ، پہلے نے جو دولت پائی تھی وہ سب کی سب اس کے باغات کا دنیوی ثمرہ تھی اس طرح باغات فانی تھے اس کی ساری دولت بھی فانی تھی لیکن دوسرے رضائے الہی پر راضی ہونے کے باعث آخرت کی خوشیوں کا مستحق تھا لیکن اس کے پاس ظاہری بودوباش نہیں تھی ۔
Ayah 18:34

وَّ كَانَ لَهٗ ثَمَرٌ١ۚ فَقَالَ لِصَاحِبِهٖ وَ هُوَ یُحَاوِرُهٗۤ اَنَا اَكْثَرُ مِنْكَ مَالًا وَّ اَعَزُّ نَفَرًا Open ayah 18:34 in the Quran reader

تب وہ ایک دن اپنے دوست سے باتیں کرتے کرتے بول اٹھا دیکھو میں تم سے زیادہ مالدار ہوں اور میرا جتھا بھی بڑا طاقتور جتھا ہے

خوش حال نے تنگ دست مومن سے کہا کہ بھلا میرا اور تمہارا معاملہ کیا ہے ؟ : 37۔ خوشحال دوست نے تنگ دست سے کہا کہ دیکھو میرا مال اور دولت اور یہ میرے باغات اور نوکر چاکر اور خدمت گزار ہیں اور میں ان کو جس کام پر لگانا چاہتا ہوں اشارہ کرتا ہوں تو وہ منٹوں میں اس کو کردیتے ہیں اور میرے پاس ہر وقت چوکس و تیار کھڑے رہتے ہیں میرے منہ سے بات نکلتی ہے کہ وہ فورا حکم بجا لاتے ہیں اور میرے باغات کے پھلوں کو توڑتے اور منڈیوں میں پہنچاتے ہیں اور ہر طرح سے ان کی نگہبانی کرتے ہیں اور تو ہے کہ ہر وقت مسجد میں گھسا رہتا ہے اور کوئی کام وام کرنے کی تیار نہیں اور تیری بات سننے کو کوئی تیار نہیں ہے ۔
Ayah 18:35

وَ دَخَلَ جَنَّتَهٗ وَ هُوَ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ١ۚ قَالَ مَاۤ اَظُنُّ اَنْ تَبِیْدَ هٰذِهٖۤ اَبَدًاۙ Open ayah 18:35 in the Quran reader

پھر وہ اپنے باغ میں گیا اور وہ اپنے ہاتھوں اپنا نقصان کر رہا تھا اس نے کہا میں نہیں سمجھتا کہ ایسا شاداب باغ کبھی ویران ہوسکتا ہے

وہ تنگ دست دوست سے باتیں کر رہا تھا اور باغ کی طرف بڑھ رہا تھا : 38۔ وہ اس طرح کی گفتگو کرتے ہوئے باغ تک پہنچ گیا اور وہ ایسے وقت اور ایسی حالت میں باغ کے اندر داخل ہوا کہ اپنی جان پر ظلم کرنے والا تھا اور اس کا سب سے بڑا ظلم یہ تھا کہ اس نے آخرت کی زندگی سے بےجھجک انکار کرتے ہوئے بڑے زور وشور سے کہہ دیا کہ میں کبھی خیال نہیں کرسکتا کہ میرے اس باغ پر کبھی فنا بھی آئے گی اور یہ کبھی ضائع ہوجائے گا جن ادہام میں تو مبتلا ہے مجھے اس طرح کا کوئی وہم نہیں ہے ۔ کوئی طاقت ایسی نہیں ہے جو مجھ سے یہ میری دولت و حشمت چھین لے ‘ آخر میں کسی سے مانگ تھوڑا ہی لایا ہوں کہ کل وہ آجائے گا اور یہ سب کچھ لے کر اپنی راہ لے گا ، یہ میں ہی ہوں جس کی عقل وفکر اور سمجھ سوچ کا یہ نتیجہ ہے ۔ کم سمجھ دنیا دار آج بھی اس طرح کی باتیں کرتے ہیں اور یہی کچھ سمجھتے ہیں جو اس نے آج سے ایک مدت پہلے کہہ دیا تھا ۔
Ayah 18:36

وَّ مَاۤ اَظُنُّ السَّاعَةَ قَآئِمَةً١ۙ وَّ لَئِنْ رُّدِدْتُّ اِلٰى رَبِّیْ لَاَجِدَنَّ خَیْرًا مِّنْهَا مُنْقَلَبًا Open ayah 18:36 in the Quran reader

مجھے توقع نہیں کہ قیامت کی گھڑی بپا ہو اور اگر ایسا ہوا بھی کہ میں اپنے پروردگار کی طرف لوٹایا گیا تو مجھے ضرور اس سے بہتر ٹھکانا ملے گا

اس نے کہا یہ قیامت ویامت کیا ہے ؟ اور اگر کچھ ہے تو ہمارے ہی لئے تو ہے : 39۔ اس نے اپنے دوست سے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ یہ جو تو قیامت ‘ قیامت ہر وقت کرتا رہتا ہے یہ کیا ہے ؟ کسی مجنون کا جنون ہی تو ہے مجھے اس پر کوئی یقین نہیں کہ قیامت نام کی بھی کوئی چیز ہے ، تیرے جیسے ناسمجھ اس طرح کہتے آئے ہیں اور ہم بھی مدت سے یہی باتیں سنتے آئے ہیں کہ قیامت آئے گی ‘ کب آئے گی ؟ اگر آنا ہوتی تو آخر آبھی تو جاتی ۔ اب تک نہیں آئی اور کبھی نہیں آئے گی تاہم اگر میں اور میرے جیسے سارے لوگ لوٹائے بھی گئے تو ہم کو وہاں بھی یہاں سے اچھا ہی ملے گا ، بھلا ہمیں یہاں کون دے رہا ہے وہی اللہ ہی تو دے رہا ہے اور پھر یہاں دے رہا ہے تو وہاں کیوں نہیں دے گا۔ تمہارے کہنے کے مطابق قیامت آہی گئی تو ہم تم کو وہاں سے کچھ حاصل کرنے ہی کیوں دیں گے کیا ہم یہی نہیں ہوں گے جو یہاں ہیں اور تم بھی یہی نہیں ہوگے جو تم اس وقت ہو ، وہ گویا ایسی باتیں کر رہا تھا کہ بات بات پر اس کی تضحیق ہو اور لوگ اس کو بیوقوف سمجھ کر اس کا مذاق اڑائیں ۔ لیکن وہ دوست اگرچہ تنگ دست تھا لیکن زبان اس کے منہ میں بھی موجود تھی ۔
Ayah 18:37

قَالَ لَهٗ صَاحِبُهٗ وَ هُوَ یُحَاوِرُهٗۤ اَكَفَرْتَ بِالَّذِیْ خَلَقَكَ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ سَوّٰىكَ رَجُلًاؕ Open ayah 18:37 in the Quran reader

یہ سن کر اس کے دوست نے کہا اور باہم گفتگو کا سلسلہ جاری تھا ، کیا تم اس ہستی کا انکار کرتے ہو جس نے تمہیں پہلے مٹی سے اور پھر نطفہ سے پیدا کیا اور پھر آدمی بناکر نمودار کردیا ؟

تنگ دست نے خوشحال کو مخاطب کر کے پھر کہا ‘ کیا تو اللہ کا انکار کر رہا ہے ؟ : 40۔ مفلس دوست اگرچہ مفلس ہی تھا لیکن اللہ نے زبان اس کو بھی دی تھی علمائے کرام کی طرح وہ بےزبان نہیں تھا کہ صاحب کی بات سن کر ہنس دیں ، اس نے بڑے نرم لہجہ میں اپنے دوست سے کہا کہ یار تو اپنی دولت اور ان باغات کے نشہ میں اس قدر چور نہ ہوجا کہ ایک مغرور انسان ہو کر رہ جائے دیکھ ! تیرا پیدا کرنے والا کون ہے جس نے تیری جنس کو مٹی سے پیدا کیا ہے اور پھر تجھے تیری ہی جنس کے نطفہ سے جو پیشاب کی نالی سے اس طرح نکلتا ہے کہ سارے جسم کو بھی ناپاک کر کے رکھ دیتا ہے ، پھر اس کی کاری گری کا اندازہ لگا کہ اس نے تیرے جیسا اچھی شکل و صورت کا انسان بنا کھڑا کیا تو جو اپنی تخلیق کے لئے اور اپنی زندگی کے لئے ہر انسان کے لئے اس کا محتاج ہے اتنا اترا اترا کر باتیں نہ کر اور اپنے مقام کو پہچاننے کی کوشش کر کہیں ایسا نہ ہو کہ تو ذلیل و خوار ہو کر رہ جائے ، تیرے جیسے کتنے چراغ تھے جو اس کی قدرت کے ایک جھونکے نے بجھا دیئے اور پھر وہ کبھی روشن نہیں ہوئے ۔
Ayah 18:38

لٰكِنَّاۡ هُوَ اللّٰهُ رَبِّیْ وَ لَاۤ اُشْرِكُ بِرَبِّیْۤ اَحَدًا Open ayah 18:38 in the Quran reader

س لیکن میں تو یقین رکھتا ہوں کہ وہی اللہ میرا پروردگار ہے اور میں اپنے پروردگار کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا

میرا وہی پروردگار ہے اور میں کبھی کسی کو اس کا شریک نہیں ٹھہرا سکتا : 41۔ اس مفلس دوست نے بھی اپنا بیان جاری رکھتے ہوئے اس سے مزید تفیلی سے گفتگو کرنا شروع کردی اور بڑے جذبہ کے ساتھ کہا کہ تو بھی اچھی طرح سن لے کہ ” میں یقین رکھتا ہوں کہ وہی اللہ میرا پروردگار ہے اور میں اس کے سوا کسی کا پرستار نہیں ہو سکتا اور نہ کسی کی ربوبیت کو تسلیم کرتا ہوں اور پھر یہی نہیں کہ وہ میرا ہی رب ہے اور تیرا بھی رب ہے اور اس کائنات میں جو کچھ ہے اس کا بھی رب ہے ، ہاں ! تو صاحب مال ‘ صاحب اولاد ‘ صاحب جاہ و جلال اور صاحب اقتدار ہے تو آخر ان چیزوں میں سے کونسی وہ چیز ہے جس کو ہمیشگی ہے ۔ جس مقام پر آج تو ہے نہ معلوم کتنے اس مقام پر آئے اور وہ یہی کچھ کہتے رہے اور یہی کچھ کرتے رہے جو تم کر رہے ہو اور آج ان کا نام ونشان بھی نہیں اور ان کی جگہ تم براجمان ہو اور آنے والے کل میں تمہاری جگہ کوئی اور ہوگا اور تم وہیں جواب دینے کے لئے حاضر کئے جاؤ گے جہاں تمہارے پیش روؤں کو حاضر کیا گیا ہے اور وہ کوڑوں کی مار میں مبتلا ہیں ۔
Ayah 18:39

وَ لَوْ لَاۤ اِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَآءَ اللّٰهُ١ۙ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ١ۚ اِنْ تَرَنِ اَنَا اَقَلَّ مِنْكَ مَالًا وَّ وَلَدًاۚ Open ayah 18:39 in the Quran reader

اور پھر جب تو اپنے باغ میں آیا تو کیوں تو نے یہ نہ کہا کہ وہی ہوتا ہے جو اللہ چاہتا ہے اس کی مدد کے بغیر کوئی کچھ نہیں کرسکتا ؟ اور یہ جو تمہیں دکھائی دے رہا ہے کہ میں تم سے مال و اولاد میں کم تر ہوں

تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تم نے باغ میں داخل ہوتے وقت اللہ کا نام تک نہیں لیا : 42۔ اس مفلس دوست نے اپنے مال دار عزت وجاہ والے دوست سے مزید کہا کہ دیکھ تو نے ان باغوں میں داخل ہوتے وقت اتنی بات بھی نہیں کی کہ وہی کچھ ہوگی جو اللہ کو منظور ہوگا ‘ میرا کیا کمال ہے کہ ان باغات کا مالک میں قرار پا گیا ہوں یہ تو اللہ ہی کا فضل ہے کہ اس نے اس ناکارہ پر یہ انعام واکرام کیا ہے اور کس کو خبر ہے کہ وہ کل کیا کرے گا ؟ تو نے بڑے کروفر سے اپنی ان چیزوں کا ذکر کردیا جو دراصل تیری نہیں ہیں بلکہ اللہ کی عطا کردہ ہیں ، دیکھ عین ممکن ہے تو نے بڑے کروفر سے اپنی ان چیزوں کا ذکر کردیا جو دراصل تیری نہیں ہیں بلکہ اللہ کی عطا کردہ ہیں ، دیکھ عین ممکن ہے کہ کل یہ سب کچھ مجھے عطا کر دے اور پھر یہی نہیں کہ یہ سب کچھ بلکہ اس سے بھی زیادہ ۔ اور جن چزکوں پر تو مغرور ہے آنے والے کل میں تیرے سے ایک ایک چھن جائے اور تجھے کچھ معلوم بھی نہ ہو کہ وہ سب کچھ کہاں چلا گا ے اور کون تھا جو ان کو مجھ سے لے گیا اور تو بالکل اپنا سا منہ لے کر رہ جائے اور آج اگر میں تجھ سے ان انعامات دنیوی میں کم ہوں تو اس کو زیادہ کرتے بھی کوئی دیر نہیں لگتی ۔
Ayah 18:40

فَعَسٰى رَبِّیْۤ اَنْ یُّؤْتِیَنِ خَیْرًا مِّنْ جَنَّتِكَ وَ یُرْسِلَ عَلَیْهَا حُسْبَانًا مِّنَ السَّمَآءِ فَتُصْبِحَ صَعِیْدًا زَلَقًاۙ Open ayah 18:40 in the Quran reader

تو کیا عجب ہے میرا پروردگار تمہارے اس باغ سے بہتر مجھے دے دے اور تمہارے باغ پر آسمان سے کوئی ایسی اندازہ کی ہوئی بات اتار دے کہ وہ چٹیل میدان ہو کر رہ جائے

ان باغات کا دینے والا تجھ سے واپس بھی لے سکتا ہے ذرا غور کرے : 43۔ اس مفلس نے دوست نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے اس کو یہاں تک کہہ دیا کہ وہ میرا پروردگار جس نے تجھ پر باغات اور دنیوی زندگی کا سارا کروفر عطا کیا ہے اس کو واپس لیتے کوئی دیر نہیں لگتی اور اس کام کے لئے اس کو کوئی فوجیں نہیں چڑھانا پڑتیں عین ممکن ہے کہ آنے والے وقت تیرے سے بہتر باغات اور مال و دولت کے ڈھیر مجھے عطا فرما دے اور تیرے باغ پر ایسی آفت بھیج دے کہ تو ہاتھ ملتا رہ جائے اور جس باغ میں تو اتنے رعب وداب سے داخل ہو رہا ہے کہ اس کی جگہ چٹیل میدان دیکھ کر تو دم بخود ہوجائے اور تجھے یقین ہی نہ آئے کہ میں خواب دیکھ رہا ہوں یا میری آنکھیں جو دیکھ رہی ہیں وہ حقیقت ہے اور تیرے اوسان اس طرح خطا ہوں کہ تو زبان تک نہ کھول سکے ۔
Ayah 18:41

اَوْ یُصْبِحَ مَآؤُهَا غَوْرًا فَلَنْ تَسْتَطِیْعَ لَهٗ طَلَبًا Open ayah 18:41 in the Quran reader

یا پھر اس کا پانی بالکل نیچے اتر جائے اور تم کسی طرح بھی اس تک نہ پہنچ سکو

جس نہر کے پانی پر تیرے باغات کا انحصار ہے اگر یہی خشک ہوجائے تو کیا کرے ؟ : 44۔ اس طرح اس کے مفلس وفادار دوست نے ایک ایک کرکے کتنی ہی باتیں تھیں جو کردی اور کہا کہ یہ نہر جو تیرے باغات ، کو سیراب کر رہی ہے اگر میرا رب اس کو خشک کردے تو ذرا خیال کر پھر کیا ہو ؟ اگر اس پانی کو میرا رب روک لے تو تیرے پاس کوئی طاقت ہے جس طاقت کے ذریعے تو پانی واپس لے آئے یا اس کو خشک ہی نہ ہونے دے ۔ بڑبکنے سے پہلے اپنی طاقت کا اندازہ تو صحیح لگا لے آخر تو ٹیوب ویل لگائے گا تو کیوں ؟ اس لئے ناکہ اس زمین کے نیچے اس نے پانی کے درمیان چلا رکھے ہیں جو نہ تیرے حکم کے پاپند ہیں اور نہ تیرے باپ دادا کے حکم ، آخر اس نظام کو چلانے والا اللہ ہی تو ہے ۔
Ayah 18:42

وَ اُحِیْطَ بِثَمَرِهٖ فَاَصْبَحَ یُقَلِّبُ كَفَّیْهِ عَلٰى مَاۤ اَنْفَقَ فِیْهَا وَ هِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا وَ یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ لَمْ اُشْرِكْ بِرَبِّیْۤ اَحَدًا Open ayah 18:42 in the Quran reader

اور پھر اس کے پھل گھیرے میں آگئے وہ ہاتھ مل مل کر افسوس کرنے لگا کہ ان باغوں کی درستگی پر میں نے کیا کچھ خرچ کیا تھا اور باغوں کا یہ حال ہوا کہ وہ اوندھے گر کر زمین کے برابر ہوگئے ، اب وہ کہتا ہے ، اے کاش ! میں اپنے پروردگار کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتا !

زیادہ وقت نہ نکلا تھا کہ اس کے باغات کو گھیرلیا گیا اور وہ آفت زدہ ہو کر رہ گئے : 45۔ بالاخر یہی ہوا کہ اس کے وہ دونوں باغات جن کی شادابیوں اور عطر بیزیوں پر اس کو گھمنڈ تھا اچانک جل بھن کر خاک ہوگئے اور کل جہاں چمن زار تھا آج وہاں ویرانی کے سوا کچھ نہ تھا اس حالت کو دیکھ کر اس پر کیا گزری ہوگی قرآن کریم نے آگے بات نہیں چلائی اس لئے کہ اس ناگفتنی حالت کو فطرت انسانی خود سمجھتی ہے کہ آسانیوں اور فراونیوں کے بعد مشکلات اور تنگ دستیاں آجائیں تو کیا ہوتا ہے ؟ وہ منظر اللہ نہ دکھائے کہ انسان نہ مرتا ہے نہ جیتا ۔ اللہ کرے کہ انسان کی گزشتہ زندگی سے آنے والی زندگی آسان سے آسان تر ہوتی جائے ، اگر ایسا ہو تو سمجھ لو کہ یہ اللہ کا خاص فضل و احسان ہے اور پھر اس طرح آخر سے آخر تک اللہ انہی آسائشوں سے دوچار کردے اور اس طرح دشواریاں دور ہوتی جائیں ، غور کرو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ پر اپنے احسانات کا ذکر فرمایا تو اس میں یہ بھی ارشاد فرمایا کہ (آیت) ” وللاخرۃ خیرلک من الاولی “۔ یقینا آپ ﷺ کے لئے بعد کا دور پہلے دور سے بہتر ہے ۔ (93 : 4) اور یہ خوشخبری اس وقت سنائی جب مٹھی بھر آدمی آپ کے ساتھ تھے اور ساری قوم آپ ﷺ کی مخالفت میں کمر بستہ تھی اور اسلام کی شمع مکہ میں بس ذرا ذرا ٹمٹما رہی تھی اور بجھانے کے لئے مکہ میں طوفان پر طوفان اٹھ رہے تھے ، لیکن پھر کیا ہوا ؟ وہی جو اللہ نے فرمایا دیا تھا اس لئے اللہ کا کہا لوہے پر لکیر ہے جو کسی کے مٹائے نہیں مٹتی اس لئے دنیا نے دیکھا کہ آپ ﷺ کی زندگی پر آنے والا دن جانے والے دن سے بہتر ثابت ہوا اگرچہ ظاہر بینوں کو یہ بات ایک مدت کے بعد نظر آئی ۔ بہرحال جب اس کا باغ آفت زدہ ہوگیا اور اس کی حالت ایسی ہوگئی کہ جو آنکھ اس کو دیکھتی وہ اشکبار ہوجاتی اور ہر دل جو اس کی حالت سنتا توبہ توبہ کرتا اس وقت اس نے دست افسوس ملنا شروع کئے اور کہنے لگا ” ان باغوں کی درستگی پر تو میں نے کیا کچھ ہی خرچ کیا تھا اور اب باغوں کا یہ حال ہوا کہ ٹٹیاں گر کر زمین کے برابر ہوگئیں ۔ ہائے افسوس ! کہ میں اپنے پروردگار کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتا۔ “ لیکن اب وقت نکل چکا تھا وہ نقصان تو واپس آ نہیں سکتا تھا تاہم یہ افسوس اگر وقتی نہیں تھا تو یقینا اس کے کام آیا ہوگا اور اگر وقتی بات تھی تو ظاہر ہے کہ اس کا انجام بخیر نہیں ہوا ہوگا بہرحال مثال سبق آموز ہے اگر کوئی سبق حاصل کرنا چائے ۔
Ayah 18:43

وَ لَمْ تَكُنْ لَّهٗ فِئَةٌ یَّنْصُرُوْنَهٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ مَا كَانَ مُنْتَصِرًاؕ Open ayah 18:43 in the Quran reader

اور کوئی جتھا نہ ہوا کہ اللہ کے سوا اس کی مدد کرتا اور نہ خود اس نے یہ طاقت پائی کہ بدلہ لینے والا ہو

کوئی جماعت نہ تھی جو اس کو آڑے وقت کام آتی ہاں چلتی کا نام تو پہلے ہی گاڑی ہے : 46۔ فرمایا اس طرح اس کا سارا نشہ کافور ہوگیا اور جن جن چیزوں پر اس نے زندگی میں انحصار کیا تھا ان میں سے ایک ایسی نہ تھی جو اس کے کچھ کام آتی ، معلوم ہوا کہ ہر آدمی اپنی غرض کے لئے دوسروں کا ساتھ دیتا ہے ، جب اس کی غرض کو ٹھیس پہنچے تو گزرا ہوا وقت اس کو کبھی یاد نہیں رہا عوام تو عوام تاج وتخت کے ایوانوں تک کا یہی حال ہے کہ جب مشکل وقت آجائے تو انسان تو انسان درودیوار بھی انسان کو کھاتے نظر آتے ہیں اور ہر وہ چیز جو اس کے سکون کا باعث تھی اس کی بےآرامی اور وبال جان بن کر رہ جاتی ہے ، اللہ تعالیٰ اس حالت سے ہر فرد وبشر کو بچائے کہ اس کے اعوان وانصار ہی اٹھ کر اس پر کوڑے برسانے لگیں اور اس کے محافظ و خدام ہی کے ہاتھوں میں کڑیاں ہوں کہ اس کو گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیں ۔
Ayah 18:44

هُنَالِكَ الْوَلَایَةُ لِلّٰهِ الْحَقِّ١ؕ هُوَ خَیْرٌ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ عُقْبًا۠ Open ayah 18:44 in the Quran reader

یہاں سے معلوم ہوگیا کہ سارا اختیار اللہ ہی کے لیے ہے ، وہی ہے جو بہتر ثواب دینے والا ہے اور اسی کے ہاتھ بہتر انجام ہے

کوئی سمجھنا چاہے تو سمجھ سکتا ہے کہ اختیار کل صرف اور صرف اللہ ہی کے پاس ہے : 47۔ ایسے ہی حالات وواقعات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ فی الحقیقت سارا اختیار اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے ، کیونکہ جب اس کی طرف سے گرفت آتی ہے تو سارے سامان ‘ سارا اقتدار ودھرے کا دھرا رہ جاتا ہے اور جو ہونا ہوتا ہے وہ ہوجاتا ہے ، فرعون کے پاس کس چیز کی کمی تھی ؟ لیکن جب اللہ کی پکڑ آئی تو اس کے کام کوئی چیز آئی ؟ اس طرح آج اگر مکہ والے سمجھتے ہیں کہ اقتدار ‘ عزت اور مال واولاد ان کے پاس ہے اس لئے ان کا جتھا بہت مضبوط ہے تو سنت اللہ بھی یہی چلی آرہی ہے کہ جب کوئی اپنے جتھے کو مضبوط سمجھ کر حدود سے متجاوز ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ ایسی جگہ سے پکڑتا ہے کہ تجاوز کرنے والا دیکھتا ہی رہ جاتا ہے اور قانون الہی اپنا کام کرجاتا ہے ۔ (الولایۃ) بالفتح کے معنی کارسازی وانصرام امور کے ہیں اور (ولایہ) بالکسر کے معنی مددونصرت کے ہیں اس جگہ (الولایۃ) بالفتح ہی ہے گویا مطلب یہ ہے کہ کارسازی اور انتظام امور حقیقت میں اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے اور وہ اپنے بندوں کی آزمائش کے لئے چھوٹ دیتا رہتا ہے اور اگر بندہ اس قدر تجاوز کرجائے کہ وہ خود ہی سب کچھ بن بیٹھے تو پھر گرفت اس پر لازم ہوجاتی ہے اور یہی مقام ہے جہاں پہنچ کر معلوم ہوتا ہے کہ نصرت اللہ ہی کی طرف سے ملتی ہے کیونکہ دنیا دار طاقتور آخر اپنی طاقت کو ہلاکت سے نہیں بچا سکتا اور نہ ہی اپنی ہلاکت کو طاقت سے بچا سکتا اور نہ ہی اپنی ہلاکت کو طاقت سے بچا سکتا ہے اور اس طرح بھی کہ اللہ تعالیٰ سے ہی ولایت اور دوستی کا تعلق کام آتا ہے ، جس طرح اس دونوں باغ کے مالک کی مثال سے واضح کیا گیا کہ جب تک اللہ نے چاہا کہ وہ بناتا رہے جو وہ بنانی چاہتا ہے تو وہ طرح طرح کی باتین بناتا رہا لیکن جب اللہ تعالیٰ کی پکڑ آگئی تو وہ سب کچھ برباد ہو کر رہ گیا جس پر وہ نازاں تھا ۔
Ayah 18:45

وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا كَمَآءٍ اَنْزَلْنٰهُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ فَاَصْبَحَ هَشِیْمًا تَذْرُوْهُ الرِّیٰحُ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ مُّقْتَدِرًا Open ayah 18:45 in the Quran reader

اور انہیں دنیا کی زندگی کی مثال سنا دو اس کی مثال ایسی ہے جیسے آسمان سے ہم نے پانی برسایا اور زمین کی روئیدگی اس سے مل جل کر ابھر آئی ، پھر سب کچھ سوکھ کر چورا چورا ہوگیا ، ہوا کے جھونکے اسے اڑا کے منتشر کر رہے ہیں اور کونسی بات ہے جس کے کرنے پر اللہ قادر نہیں ؟

دنیوی زندگی کی مثال پانی کے ساتھ جس پر ساری چیزوں کی زندگی کا انحصار ہے : 48۔ زیر نظر آیت اور اس جیسی کتنی ہی آیات قرآن کریم میں ہیں ان سب سے جو بات انسان کو ذہن نشین کرائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ دنیا کی زندگی دراصل زندگی ہے ، یہاں کی بہار بھی عارضی ہے اور خزاں بھی عارضی ، دل بہلانے کا سامان یہاں بہت کچھ ہے مگر درحقیقت وہ نہایت حقیر اور چھوٹی چھوٹی چیزیں ہیں جنہیں اپنی کم ظرفی کی وجہ سے آدمی بڑی چیز سمجھتا ہے اور اس دھوکے میں پڑجاتا ہے کہ انہی کو پالینا گویا کامیابی کی منتہی تک پہنچ جانا ہے حالانکہ جو بڑے بڑے فائدے اور لطف ولات کے سامان بھی یہاں حاصل ہونے ممکن ہیں وہ بہت حقیر اور صرف چند سال کی حیات کے لئے کافی ہے ، اس کے برعکس آخرت کی زندگی ایک عظیم اور ابدی زندگی ہے وہاں فائدے بھی عظیم اور مستقل ہیں ۔ کسی نے اگر وہاں اللہ کی مغفرت اور اس کی خوشنودی پالی تو اس کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے وہ نعمت نصیب ہوگئی جس کے سامنے دنیا بھر کی دولت و حکومت بھی ہیچ ہے اور جو وہاں اللہ کے عذاب میں گرفتار ہوگیا اس نے اگر دنیا میں وہ سب کچھ بھی پالیا ہو جسے وہ اپنے نزدیک بڑی چیز سمجھتا تھا تو اس سے معلوم ہوجائے گا کہ وہ بڑے خسارے کا سودا کر کے آیا ہے ۔ زیر نظر آیت میں دنیا کی زندگی سے وہی زندگی مراد ہے جو اوپر والی آیت میں زیر بحث آئی ہے ، یعنی اس کی وہ زمینیں اور رونقیں جن پر فریفتہ ہو کر انسان اللہ اور آخرت کو بھول جاتا ہے اور دنیوی زندگی کی لہو ولعب اور تفاخر وتکاثر کی زندگی میں پھنس کر امراء واغنیاء تمام حقائق سے آنکھیں بند کرلیتے ہیں اور عیش ونعم اور مال و جائیداد اور کو ٹھیوں ‘ کاروں اور کارخانوں ‘ عہدوں ‘ امارتوں وزارتوں کے سوا انکی نگاہوں میں کوئی چیز نہیں جچتی اور نہ ان کی نظروں میں اتنی وسعت ہوتی ہے اور نہ ان کے پاس اتنی فرصت ہوتی ہے کہ اس طرف دھیان دیں ، فرمایا انہوں نے کبھی غور ہی نہیں کیا اگر یہ لوگ غور کرتے تو ان کو صاف صاف نظر آنے لگتا کہ اس دنیا کی زندگی کی مثال تو بالکل ایسی ہے جیسے پانی کہ ہم اس کو آسمان سے اتارتے ہیں تو اس کے ساتھ زمین کی انگوری نکل آتی ہے ایک طرف ایسا ہوتا ہے کہ دوسری طرف اس کے تیار ہونے کا وقت آجاتا ہے تو اچانک وہ چورا چورا ہو اجاتی ہے اور ہوا کے جھونکے اسے اڑا کر زمین میں منتشر کردیتے ہیں ، اگر یہ سب کچھ یہ آنکھوں سے دیکھتے ہیں تو پھر ان کو یقین کیوں نہیں آتا کہ اس سرزمین میں کسی چیز کو ثبات نہیں اور اپنے اپنے وقت پر ہر ایک انسان نے یہاں سے کوچ کرنا ہے اور اپنے کئے ہوئے اعمال سے دو چار ہونا ہے ۔
Ayah 18:46

اَلْمَالُ وَ الْبَنُوْنَ زِیْنَةُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ الْبٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ اَمَلًا Open ayah 18:46 in the Quran reader

مال و دولت اور آل و اولاد دنیوی زندگی کی دلفریبیاں ہیں اور جو نیکیاں باقی رہنے والی ہیں تو وہی تمہارے پروردگار کے نزدیک بہ اعتبار ثواب کے بہتر ہیں اور وہ ہیں جن کے نتائج سے بہتر امید رکھی جاسکتی ہے

دنیوی مال واسباب اور آل واولاد ایک دل فریبی ہے اس کے سوا کچھ نہیں : 49۔ غور کرو کہ دنیا کا مال واسباب اور افرادی قوت کیا ہے ؟ ایک دل فریبی ہی تو ہے اور مال واولاد ہی وہ چیزیں ہیں جن کی خاطر انسان ایمان کے تقاضوں سے منہ موڑ کر منافقت یا ضعف ایمان یا فسق و فساد میں مبتلا ہوجاتا ہے اور دنیا کی ساری چیزیں انہیں دونوں چیزوں کے سامنے ہیچ ہیں ویسے دنیا کی ہرچیز ہی انسان کو اپنے اندر اتنا مشغول کرلیتی ہے کہ انسان اللہ کی یاد سے غافل ہوجاتا ہے اور غفلت ہی ساری خرابیوں کی جڑ ہے ، اگر انسان کو یہ یاد رہے کہ وہ آزاد نہیں ہے بلکہ ایک معبود حقیقی کا بندہ ہے اور وہ خدا اس کے تمام اعمال سے باخبر ہے اور اس کے سامنے جا کر ایک روز اسے اپنی اعمال کی جوابدہی کرنی ہے تو وہ کبھی کسی گمراہی اور بدعملی میں مبتلا نہ ہو اور بشری کمزوری سے اس کا قدم اگر کسی وقت پھسل بھی جائے تو ہوش آنے پر وہ فورا سنبھل جائے ، چند آیات اوپر وہ صاحب جس کے پاس دو باغات تھے اس نے اپنے کمزور اور نادار ساتھی سے کیا کہا تھا ؟ یہی کہ (آیت) ” انا اکثر منک مالاواعز نفرا “ کہ دیکھو میں تیرے سے مال اور عزت میں کتنی فوقیت رکھتا ہوں اور یہ کہ میرا یہ مال اور لاؤ لشکر ہی میرے کام آنے والی چیزیں ہیں ایک دل فریبی کے سوا کچھ بھی نہیں ۔ چناچہ دوسری جگہ مال واولاد کو سراسر خسارہ کہا گیا ہے جیسا کہ ارشاد الہی ہے کہ : ” اے لوگوں جو ایمان لائے ہو ! تمہارے مال اور تمہاری اولادیں تم کو اللہ کی یاد سے غافل نہ کردیں جو لوگ ایسا کریں وہی خسارے میں رہنے والے ہیں ۔ “ (المنافقون 63 : 9) اور ایک جگہ ارشاد فرمایا : ” اور یاد رکھو ‘ تمہارا مال اور تمہاری اولاد تمہارے لئے ایک آزمائش (فتنہ) ہے اور یہ بھی نہ بھولو کہ اللہ ہی ہے جس کے پاس بہت بڑا اجر ہے ۔ “ (الانفال : 8 : 28)
Ayah 18:47

وَ یَوْمَ نُسَیِّرُ الْجِبَالَ وَ تَرَى الْاَرْضَ بَارِزَةً١ۙ وَّ حَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًاۚ Open ayah 18:47 in the Quran reader

اور وہ دن جب ہم پہاڑوں کو چلا دیں گے اور زمین کو تم دیکھو گے کہ اپنی اصل حالت میں ابھر آئی ہے اور ہم تمام انسانوں کو اکٹھا کردیں گے ، کوئی نہ ہوگا جسے چھوڑ دیا ہو ؟

تفسیر : جس دن پہاڑ چلائیں جائیں گے اور زمین کی اونچان نچان ختم کردی جائیگی : 50۔ قرآن کریم نے قیامت میں حشر اجساد کا بیان کئی رنگ میں کیا ہے تاکہ انسانوں کو یقین آنے کی کوئی صورت پیدا ہوجائے چناچہ ایک جگہ ارشاد فرمایا کہ ” وہ دن جب کہ یہ زمین بدل کر ایک دوسری ہی زمین بچھا دی جائے گی اور آسمان بھی بدل جائیں گے اور سب لوگ خدائے یگانہ و غالب کے حضور حاضر ہوں گے ۔ “ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ جس حادثہ کو قرآن کریم قیامت سے تعبیر کرتا ہے وہ اجرام سماویہ کا کوئی ایسا حادثہ ہوگا جو کرہ ارض کو بالکل بدل دے گا نہ تو زمین یہ زمین رہے گی جیسی کہ اب ہے اور نہ ہی آسمان ایسا آسمان ہوگا جاسد کہ اب نظر آ رہا ہے ، زیر نظر آیت میں ارشاد فرمایا کہ یہ زمین جیسے تم کو لدی پھدی نظر آرہی ہے اور پہاڑ اس میں گڑے ہوئے ہیں اور عالی شان ایوان ومحل کھڑے ہیں اور جس طرح یہ باغوں اور چھتوں سے آراستہ ہے لیکن ایک دن یقینا ایسا بھی آئے گا کہ اس کی ہر رونق اس سے چھین لی جائے گی اور یہی وہ دن ہوگا جو سب کو اکٹھا کرلینے کا دن ہے اور کوئی نہیں جو اس دن حاضر نہ ہو خواہ کتنا امیر ہے یا کتنا غریب ‘ کوئی آقا ہے یا غلام ہر ایک کو حاضر کرلیا جائے گا اور زمین کی یہ اونچان بھی ختم کردی جائے گیا اور زمین ہاتھ کی ہتھیلی کی طرح صاف نظر آئے گی ۔
Ayah 18:48

وَ عُرِضُوْا عَلٰى رَبِّكَ صَفًّا١ؕ لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍۭ١٘ بَلْ زَعَمْتُمْ اَلَّنْ نَّجْعَلَ لَكُمْ مَّوْعِدًا Open ayah 18:48 in the Quran reader

اور ان کی صفیں تمہارے پروردگار کے سامنے پیش ہوں گی جس طرح ہم نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا اسی طرح تمہیں آج ہمارے سامنے حاضر ہونا پڑا مگر تم نے خیال کیا تھا ہم نے تمہارے لیے اس کا کوئی وقت نہیں ٹھہرایا ہے

تمہاری صفیں بنا کر رب کریم کے حضور کھڑا کردیا جائے گا : 51۔ یہ وہی دن ہے جس دن سب کی پیشی رب العزت والاکرام کے سامنے اس طرح ہوگی کہ وہ صف بستہ کھڑے ہوں گے اور کوئی نہیں جو ایک صف کے اندر کھڑا ہونے سے سر پھیرے اور کوئی نہیں جو گھمنڈ میں آ کر اکڑے اور اترائے اور محمود وایاز ایک صف میں ایک ہی حالت اور صورت میں نظر آئیں گے اور ہم سب کو اس طرح اکیلے اکیلے لاکھڑا کریں گے جس طرح ہم نے دنیا میں ہر ایک کو اکیلے اکیلے پیدا کیا تھا اور کوئی چیز ان کے ہاتھ یا منہ میں نہ تھی بالکل اسی طرح اس روز بھی وہ خالی ہاتھ ہوں گے ، مطلب تو بالکل صاف تھا کہ جس طرح دنیا میں آتے وقت کوئی اعوان وانصار میں سے ساتھ نہیں ہوتا بالکل اکیلے پیدا کیا گیا اسی طرح قیامت کے روز میدان حشر میں بھی ہر ایک انسان اکیلا اکیلا ہی ہوگا کوئی دوست ویار اور مددگار ساتھ نہیں ہوگا جو دوستی اور یاری کے نشہ میں دوسرے کے گناہ کا بوجھ اٹھانے کے لئے تیار ہوگا لکنی ہمارے مفسرین نے اس سے ایک ہی بحث اٹھائی کہ اس روز مرد اور عورتیں سب ننگے ہوں گے اور پھر اس کی جوں تشریح کرنے لگے صفحات کے صفحات سیاہ کرتے چلے گئے لیکن جس مقصد کے لئے یہ فقرہ استعمال کیا گیا تھا کہ (آیت) ” لقد جئتمونا کما خلقنکم اول مرۃ “۔ اس کو بالکل نظر انداز کردیا ، پیارے رسول ﷺ نے اس سلسلہ میں جو کچھ فرمایا اس کا ماحصل یہی ہے کہ سب کے سب اپنے حال میں اس طرح بےچین ہوں گے کہ کسی کو کسی کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھنے کی بھی ہوش نہیں ہوگی حالانکہ ان میں بڑے بڑے نبی ورسول اور اللہ کے دوسرے نیک بندے بھی ہوں گے جن کا جنت پہنچنا یقینی بلکہ لازمی ہے لیکن یہ حالت ایسی ہوگی کہ ہر ایک عالم گھبراہٹ میں مبتلا ہوگا اور اس وقت ان لوگوں کو معلوم ہوگا کہ قیامت حق ہے جو دنیاوی زندگی کی مصروفیات میں یہ یقین کرنے کے لئے تیار نہیں کہ کوئی وعدے کا وقت یا دن مقرر کیا گیا ہو۔
Ayah 18:49

وَ وُضِعَ الْكِتٰبُ فَتَرَى الْمُجْرِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا فِیْهِ وَ یَقُوْلُوْنَ یٰوَیْلَتَنَا مَالِ هٰذَا الْكِتٰبِ لَا یُغَادِرُ صَغِیْرَةً وَّ لَا كَبِیْرَةً اِلَّاۤ اَحْصٰىهَا١ۚ وَ وَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا١ؕ وَ لَا یَظْلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا۠ Open ayah 18:49 in the Quran reader

اور اس روز نوشتے دیئے جائیں گے ، تم دیکھو گے جو کچھ ان میں لکھا ہے اس سے مجرم ہراساں ہو رہے ہیں وہ بول اٹھیں گے افسوس ہم پر ! یہ کیسا نوشتہ ہے کہ کوئی بات چھوٹی ہوئی نہیں ، بڑی ہو یا چھوٹی سب کو اس نے ضبط کرلیا ہے ، غرضیکہ جو کچھ انہوں نے کیا تھا سب اپنے سامنے موجود پائیں گے اور تمہارا پروردگار کسی پر زیادتی نہیں کرتا

یہی وہ دن ہے کہ ہر ایک کا اعمال نام کھول کر اس کے اس کے سامنے رکھ دیا جائے گا : 52۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں جو چیز بھی ایک دفعہ پیدا ہوجاتی ہے پھر وہ بےحکم اللہ تعالیٰ فنا نہیں ہوتی اس طرح افعال و اعمال بھی جو انسان سے ظہور پذیر ہوتے ہیں وہ فنا نہیں ہوتے ۔ موجودہ سائنس جس نے یہ اصول تسلیم کرلیا ہے کہ دنیا میں کوئی حرکت بھی پیدا ہو کر فنا نہیں ہوتی یہاں تک کہ فضا میں ہر آواز اور ہر صدا بھی جو کچھ بلند ہوئی ہے آج موجود ہے اور ہمیشہ رہے گی اور ہم اس کو پکڑ پائیں تو سن سکتے ہیں وہ اعمال وافعال کے دوام وجود سے اسلامی عقیدہ کو قبول کرنے میں پس وپیش نہیں کرسکتی ، دنیا کے ریکارڈ میں انسان کا ہر عمل وفعل ہمیشہ کے لئے گویا بھرا جا رہا ہے ، قرآن کریم نے اس اصول کو بیان کیا تھا اور اسی سے ان لوگوں نے حاصل کیا اور اگر یہ کہنا صحیح نہیں تو ان لوگوں نے ریسرچ کرکے قرآن کریم کے اس اصول کی تصدیق کردی ہے جو اس قرآن کریم کے الہی کلام پر بہت بڑی دلیل ہے اور قرآن کریم نے اس نظریہ کو بار بار پیش کر کے اپنے ماننے والوں کو باور کرانے کی بھرپور کوشش کی ہے اگرچہ اس کے ماننے والوں نے سنی ان سنی کردی ہو یا سن کر سمجھ ہی نہ سکے ہوں اس طرح کے ارشادات قرآن کریم میں بہرحال پائے جاتے ہیں فرمایا ” اس وقت ہر جان جو اس نے پہلے کیا اس کو آزمائے گی ۔ “ (10 : 30) ” ہر آدمی اپنے عمل کے بدلے گرو ہے ۔ “ (52 : 21) ” ہر جان اپنے عمل کے بدلے گرو ہے ۔ “ (74 : 38) ” جو کوئی ایک ذرہ برابر نیکی کرے گا وہ اس کو دیکھے گا اور جو شخص ایک ذرہ برابر بدی کرے گا وہ اس کو دیکھے گا ۔ “ (99 : 7 ، 8) رہی یہ بات کہ انسان کا ہر عمل وفعل صحیفہ عالم پر ہمیشہ کے لئے ثبت ہوجاتا ہے اس کو قرآن کریم نے کئی طریقوں سے ادا کیا ہے ، اس طرح کہ انسان کی زبان سے جب کبھی کوئی لفظ نکلتا ہے خواہ وہ کتنا ہی تنہائی میں بولا جائے خدائی شاہد اس کے سننے کے لئے موجود رہتے ہیں اور وہ اس کو سن کر محفوظ کرلیتے ہیں ۔ “ دو کاتب اس کے دائیں اور بائیں بیٹھے ہرچیز ثبت کر رہے ہیں کوئی لفظ اس کی زبان سے نہیں نکلتا جسے محفوظ کرنے کے لئے ایک حاضر باش نگران موجود نہ ہو۔ “ (ق 50 : 17 ، 18) کبھی اس کو اعمال کی تحریر و کتابت کے الفاظ سے ظاہر کیا ہے ” کیا انہوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم ان کی راز کی باتیں اور ان کی سرگوشیاں سنتے نہیں ہیں ؟ ہم سب کچھ سن رہے ہیں اور ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) ان کے پاس ہی لکھ رہے ۔ “ (الزخرف 43 : 80) اور یہ مضمون ہم پیچھے سورة یونس کی آیت 21 ‘ 61 جلد چہارم میں تفصیل سے لکھ چکے ہیں وہاں سے ملاحظہ کریں اور اس جگہ ارشاد فرمایا ” اور اس روز نوشتے لائے جائیں گے تم دیکھو گے کہ جو کچھ ان میں لکھا ہے اس سے مجرم ہراساں ہو رہے ہیں وہ بول اٹھیں گے افسوس ہم پر یہ کیسا نوشتہ ہے کہ اس میں کوئی بات بھی چھٹی ہوئی نہیں بڑی ہو یا چھوٹی سب کو اس نے ضبط کرلیا ہے ، غرض کہ جو کچھ انہوں نے کیا تھا سب اپنے سامنے موجود پائیں گے اور تمہارا پروردگار کسی پر زیادتی نہیں کرتا “۔ اس کے بعد معا تخلیق انسانی کی کہانی اس کی تخلیقی قوتوں کو مخاطب کر کے بیان کی جارہی ہے ۔
Ayah 18:50

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ اَمْرِ رَبِّهٖ١ؕ اَفَتَتَّخِذُوْنَهٗ وَ ذُرِّیَّتَهٗۤ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِیْ وَ هُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ١ؕ بِئْسَ لِلظّٰلِمِیْنَ بَدَلًا Open ayah 18:50 in the Quran reader

اور جب ایسا ہوا تھا کہ ہم نے فرشتوں کو حکم دیا تھا کہ آدم (کی خلافت) کو (قبول کرتے ہوئے) سجدہ کرو تو وہ سب سجدہ ریز ہوگئے مگر ابلیس نے سجدہ نہ کیا وہ جِنّوں میں سے تھا ، پس اپنے پروردگار کے حکم سے وہ باہر ہوگیا ، پھر کیا تم مجھے چھوڑ کر اسے اور اس کی نسل کو اپنا کارساز بناتے ہو حالانکہ وہ تمہارے دشمن ہیں ؟ ظلم کرنے والوں کے لیے کیا ہی بری تبدیلی ہوئی

ملکوتی طاقتوں اور ابلیسی قوتوں کے مجموعہ حضرت انسان کی کہانی اس کی زبانی : 53۔ نیکی کی قوتوں اور برائی کی طاقتوں کے مجموعہ یعنی انسان کی کہانی اس کی زبانی بار بار بیان کی گئی ہے تاکہ وہ اپنی ذات کو پہچانے اور اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنا چھوڑ دے اور جس ٹہنی پر بیٹھے اس کا نہ کاٹے اور اپنا منہ اپنی چپیڑ کا مصداق نہ ہو ۔ لیکن اس مجموعہ اضداد کی کیفیت بڑی عجیب ہے کہ اس کو جس سے منع کیا گیا اس نے ہمیشہ وہی کیا ۔ اس کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے ایک من دودھ کو چھٹانک بھر پیشاب ناپاک کرکے رکھ دیتا ہے اور دونوں کی مقدار کو نہیں دیکھا جاتا دونوں کی حقیقت اور اصلیت کو دیکھا جاتا ہے یہی اس مجموعہ اضداد حضرت انسان کا حال ہے کہ یہ اپنی ملکوتی طاقت سے کام لیتا ہے اور لیتا ہی جاتا ہے لیکن اس ایک من طاقت کے استعمال کے بعد ایک چھٹانک بھر ابلیسی طاقت کو بھی شامل کردیتا ہے جس کا نتیجہ وہی نکلتا ہے جو پہلی مثال میں دکھایا گیا ہے ، اس دو طاقتوں کے مجموعہ کے پاس نہ فقط خیر ہے اور نہ صرف شر پھر شر اور خیر کی مقدار بھی ایک جیسی نہیں تاہم شر خیر کو اس طرح ناپاک کردیتا ہے جس طرح من بھر دودھ کو چھٹانک بھر پیشاب ناپاک کردیتا ہے ، چونکہ اس کا خیر خواہ اور اس کا دشمن دونوں اپنا اپنا زور لگاتے ہیں لیکن ان کے خالق نے جو ہرچیز کا خالق ہے انکی کہانی بیان کرنے کے لئے خیر وشر کو اور ان دونوں کے مجموعہ کو علیحدہ علیحدہ خطاب کر کے بات کی ہے تاکہ انسانی جبلت اجاگر ہوجائے اور اس کو معلوم ہو کہ میرا دشمن کہیں دور سے نہیں آیا بلکہ اس مجسمہ انسانی کے اندر ہی موجود ہے لیکن افسوس کہ علمائے اسلام نے اس کو سمجھنے کی بہت کم کوشش کی پھر جو چیز انہوں نے خود سمجھنے کی کوشش نہیں کی تو وہ دوسروں کو کیا سکھائیں گے ، اس طرح یہ داستان نہایت ہی گہری اور نہایت ہی معیش خیز ہے اور جو انسان اس کو سمجھنا چاہے اس کو چاہئے کہ وہ اپنے آپ کو سمجھنے کی بھرپور کوشش کرے ، اپنی حرکات و سکنات پر اپنے نظریات پر خود تنقید کرکے اپنی اصلاح کی کوشش کرے تو یہی اصل کامیابی ہے ، اگر ابلیسی طاقت وقوت کو وہ ایک الگ شے اور ملکوتی طاقت وقوت کو ایک الگ شے سمجھے گا تو اس کی سمجھ میں اس کی اپنی ذات ہرگز ہرگز نہیں آسکتی ۔ کاش کہ ہمارے مذہبی راہنما اور پیشوا اس حقیقت کو سمجھتے اور اپنے ماننے والوں کو سمجھاتے تو آج قوم مسلم کی یہ حالت نہ ہوتی جو اس وقت ہو رہی ہے کہ ہر انسان پر اس کی ابلیسی طاقت اور قوت کا مکمل قبضہ ہوچکا ہے یہی بات اس کی دلیل ہے کہ اس نے اس طاقت کو اپنے ہی اندر کی طاقت تصور نہیں کیا اور اپنی اصلاح کی بجائے کسی ایسے کی اصلاح کرتا رہا ہے جس سے وہ صحیح معنوں میں متعارف ہی نہ تھا کہ وہ ہے کیا اور ہے کہاں ؟ مزید دیکھنا مطلوب ہو تو ” عروۃ الوثقی “ جلد دوم سورة النساء : کی تفسیر میں آیت 60 ، 61 کو دیکھیں اور اسی طرح آیت 116 ، 117 کو بھی اور سورة الانعام کی آیت 120 ، 121۔
Ayah 18:51

مَاۤ اَشْهَدْتُّهُمْ خَلْقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَا خَلْقَ اَنْفُسِهِمْ١۪ وَ مَا كُنْتُ مُتَّخِذَ الْمُضِلِّیْنَ عَضُدًا Open ayah 18:51 in the Quran reader

میں نے انہیں اپنے ساتھ شریک نہیں کیا تھا ، جب آسمان و زمین کو پیدا کیا اور نہ اس وقت وہ شریک ہوئے جب خود انہیں پیدا کیا میں ایسا نہ تھا کہ گمراہ کرنے والوں کو اپنا دست وبازو بناتا

اللہ تعالیٰ کی طرف سے اعلان کہ اپنے اپنے شریکوں کو لے آؤ جو تم نے بنا رکھے تھے : 54۔ غور کرو کہ کیا للہ کا کوئی شریک ہے ؟ نہیں اور یقینا نہیں تو پھر یہ کیسے کہا گیا کہ میرے شریکوں کو بلا لاؤ ، جس طرح یہ بات بیان کی گئی ہے کہ تم میرے شریکوں کو بلاؤ اور اس کا کوئی شریک نہیں اسی طرح اوپر کی آیت میں ابلیس کو مخاطب کیا گیا ہے اگرچہ انسان کے باہر اس کا کوئی مرئی وجود نہیں ہے الا یہ کہ وہ ایک طاقت یاقوت ہے اور بلاشبہ ہر طاقت وقوت ایک تخلیق شدہ چیز ہے اس لئے اس کے مخلوق ہونے میں کوئی شبہ نہیں اور کتنی ہی مخلوقات ہیں جو ایسا جسم نہیں رکھتیں جو انسانی آنکھ دیکھ سکے ، میرے شریکوں کو بلاؤ یعنی جن جن کو تم نے بزعم خویش شریک خداوندی بنا رکھا تھا ، فرمایا میں نے تو اپنے ساتھ کسی کو شریک نہیں کیا تھا جب آسمان و زمین جیسے بڑے بڑے اجرام کو پیدا کیا اور نہ وہ خود اس وقت شریک تھے جب ان کو پیدا کیا جن کو تم شریک ٹھہرا رہے ہو ، پھر جب وہ مخلوق ہیں تو مخلوق ہو کر فعل خلق ہی میں ان کو شریک ٹھہرایا جاتا یہ کیسے ممکن تھا ؟ بات وہ کرو جس کی کم از کم کوئی دلیل تو پیش کرسکو ایک چیز خالق بھی ہو اور مخلوق بھی ناممکن امر ہے ، کم از کم تم نے اتنا ہی خیال کیا ہوتا کہ اللہ ان کو اپنا دوست وبازو بناتا جو اللہ ہی کے مقابلہ میں لوگوں کو گمراہ کرنے والے تھے اور آج بھی بدقسمتی سے کتنے لوگ ہیں جو مسلمان کہلانے کے باوجود اس بیماری میں مبتلا ہیں کتنے ہیں جن کو اولاد دینے والے ، تکلیفیں دور کرنے والے ، رزق تقسیم کرنے والے ‘ آفات وبلیات آسمانی سے بچانے والے مختلف قسم کی حاجتوں کو پورا کرنے والے حاجت روا اور مختلف مشکلوں سے بچانے والے مشکل کشا بنا رکھتے ہیں حالانکہ حقیقت یہی ہے کہ کوئی نہیں جو اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا حاجت روا یا مشکل کشا ہو پھر تعجب یہ ہے کہ جن کو حاجت روا سمجھتے ہیں ان کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے بھی ہیں کہ وہ سارے کے سارے خود محتاج ہیں اور جتنے لوگوں کو مشکل کشا سمجھتے ہیں ان میں سے ایک ایک کے متعلق جانتے ہیں کہ وہ خود اپنی زندگی میں مشکلات میں پھنسا رہا اور جو خود محتاج ہو وہ کسی کی حاجت کیا پوری کرے گا اور اسی طرح جو خو مشکلات میں پھنسا ہوا ہے اور وہ دوسروں کو مشکلات سے کیا نکالے گا ۔
Ayah 18:52

وَ یَوْمَ یَقُوْلُ نَادُوْا شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهُمْ وَ جَعَلْنَا بَیْنَهُمْ مَّوْبِقًا Open ayah 18:52 in the Quran reader

اور وہ دن جب اللہ فرمائے گا جن ہستیوں کو تم سمجھتے تھے کہ وہ میرے ساتھ شریک ہیں اب انہیں بلاؤ ، وہ پکاریں گے مگر کچھ جواب نہیں پائیں گے ، ہم نے ان دونوں کے درمیان آڑ کردی ہے

دنیا میں جن کی پرستش کرتے ہیں قیامت کے روز ان کو پکاریں گے لیکن وہ جواب نہ دیں گے : 55۔ غور کرو کہ ہم میں سے کون ہے جو آج بھی شیطان کو گالیاں نہیں دیتا اور اس کو برا نہیں سمجھتا ، ڈاکو ، چور ، قاتل ، زانی ، شرابی ، اور ہر قسم کی بدکاریوں میں پھنسے ہوئے انسان بھی اس کو برا جانتے اور سمجھتے ہیں اور ان ساری برائیوں کا اصل منبع کون ہے ؟ یہی شیطان پھر اسی کی پیروی وفرمانبردداری اور اسی کو گالیاں ‘ اس سے بڑا ثبوت کیا ہو سکتا ہے ؟ لیکن نہ ماننے والوں کے لئے کوئی دلیل بھی ثبوت نہیں ہو سکتی اس لئے کہ ان کا نہ ماننا کسی دلیل کے ساتھ نہیں ہوتا ، اسی طرح غیر اللہ کی پرستش ، غیر اللہ کو حاجت روا اور مشکل کشا تسلیم کرنا بھی دراصل شیطان ہی کی فرمانبرداری ہے اور اس کو اللہ کے ساتھ شریک ٹھرانے سے تعبیر کیا گیا ہے چناچہ قرآن کریم میں دوسری جگہ ارشاد فرمایا : ” اور یہ لوگ اس دن کو (بھول نہ جائیں) جب کہ وہ ان کو پکارے گا اور پوچھے گا کہاں ہیں میرے وہ شریک جن کو تم گمان رکھتے تھے ؟ یہ قول جن پر چسپاں ہوگا وہ کہیں گے اے ہمارے رب ! بلاشبہ یہی لوگ ہیں جن کو ہم نے گمراہ کیا تھا انہیں ہم نے اس طرح گمراہ کیا تھا جیسے ہم خود گمراہ ہوئے ، ہم آپ کے سامنے برات کا اظہار کرتے ہیں یہ لوگ ہماری تو بندگی نہیں کرتے تھے ۔ پھر ان سے کہا جائے گا کہ پکارو اب اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو یہ انہیں پکاریں گے مگر وہ ان کو کوئی جواب نہ دیں گے اور یہ لوگ عذاب دیکھ لیں گے کاش یہ ہدایت اختیار کرنے والے ہوتے ۔ “ (القصص 28 : 62 تا 64) زیر نظر آیت میں ارشاد فرمایا کہ ” اس دن اللہ فرمائے گا جن ہستیوں کو تم سمجھتے تھے کہ وہ میرے ساتھ شریک ہیں اب انہیں بلاؤ وہ بلائیں گے مگر کچھ جواب نہ پائیں گے ہم نے ان دونوں کے درمیان آڑ کردی ہے ۔ “ اس میں بھی بتایا گیا ہے کہ محض اپنے دنیوی مفاد کی خاطر شرک وبت پرستی اور شخصیت پرستی اور عملا انکار نبوت کی جس گمراہی میں یہ لوگ اصرار کر رہے ہیں آخرت کی ابدی زندگی میں اس کا کیسا برا نتیجہ انہیں دیکھنا پڑے گا ، اس سے یہ احساس دلانا مقصود ہے کہ فرض کرو دنیا میں تم پر کوئی آفت نہ بھی آئے اور یہاں کی مختصر زندگی میں تم حیات دنیا کی متاع وزینت سے خوب بہرہ اندوز بھی ہو لو تب بھی اگر آخرت میں اس کا انجام یہی کچھ ہونا ہے تو خود سوچ لو کہ یہ نفع کا سودا ہے جو تم کر رہے ہو یا سراسر خسارے کا سودا ؟ رہا یہ ارشاد کہ (آیت) ” جعلنا بینھم موبقا “ ۔ ہم نے ان کے درمیان آڑ کردی ہے یعنی ان کی دنیوی دوستیوں کو دشمنیوں میں بدل دیا ہے اور ان کے سارے تعلقات منقطع کردیئے ہیں کیونکہ جب وہ نظام ہی نہ رہا کہ وہ دارالعمل تھا یہ دارالجزاء میں کھڑے ہوں گے ۔
Ayah 18:53

وَ رَاَ الْمُجْرِمُوْنَ النَّارَ فَظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ مُّوَاقِعُوْهَا وَ لَمْ یَجِدُوْا عَنْهَا مَصْرِفًا۠ Open ayah 18:53 in the Quran reader

اور مجرم دیکھیں گے کہ آگ بھڑک رہی ہے اور سمجھ جائیں گے اس میں انہیں گرنا ہے ، وہ کوئی گریز کی راہ نہیں پائیں گے

مجرم جب آگ کو دیکھیں گے تو آنکھیں کھلیں گی اور ان کو یقین آئے گا کہ بس اب گرائے گئے : 56۔ کوئی مجرم بھی جب جرم کرتا ہے تو اس وقت اس جرم کی سزا کا علم رکھنے کے باوجود شیطانی قوت سے مغلوب ہو کر اس جرم کو کر بیٹھتا ہے لیکن جرم کرنے کے بعد اس کی حالت آہستہ آہستہ بدلنا شروع ہوجاتی ہے اور پھر جب اس کو کڑی لگ جاتی ہے تو اس وقت اس کی وہ پہلی حالت نہیں رہتی اور اس کی ساری سوچیں تقریبا بدل جاتی ہیں ایسا کیوں ہوتا ہے ؟ اس لئے کہ اب اس کا انجام اس کی آنکھوں کے سامنے گھومنے لگتا ہے بس اسی کیفیت وحالت کو زیر نظر آیت میں بیان کیا گیا ہے ۔
Ayah 18:54

وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لِلنَّاسِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ اَكْثَرَ شَیْءٍ جَدَلًا Open ayah 18:54 in the Quran reader

اور ہم نے اس قرآن کریم میں لوگوں کی ہدایت کے لیے ہر طرح کی مثالیں لوٹا لوٹا کر بیان کردیں مگر انسان بڑا ہی جھگڑالو واقع ہوا ہے

قرآن کریم میں ہم نے کتنی مثالیں بیان کردیں لیکن انسان بہت ہی پھڈے باز ہے : 57۔ اس جگہ انسان کا مقابلہ دوسری چیزوں سے نہیں کیا گیا جس کے نتیجہ میں یہ بیان کیا ہے کہ وہ بہت پھڈے باز ہے بلکہ انسانوں کے درمیان ہی مقابلہ ہے گویا انسانوں ہی میں سے کتنے انسان ہیں جن کے سامنے حق کو طرح طرح کے پیرایوں میں بار بار بیان کیا جاتا ہے مگر باایں ہمہ بھی انسان سے جھگڑا ہی زیادہ سرزد ہوتا ہے اور وہ اسے قبول کرنے کی بجائے کٹ حجتیاں ہی کرتا چلا جاتا ہے ، ایک بات کا غلط مفہوم بیان کرتا ہے ، سمجھتا ہے لیکن اس کے باوجود کہ اس کو صحیح ثابت کرنے کی کوئی دلیل نہیں رکھتا اس پر اڑا رہتا ہے ، جدال وہی ہے جس کو ہماری زبان میں دھاندلی کہتے ہیں (جدلت الحبل) کے معنی اس بٹنے کے ہیں چونکہ جھگڑا کرنے میں بھی بڑے بیچ وتاب کھانے پڑتے ہیں اور ہر ایک دوسرے کی رائے کو اپنے ہی پیچ میں لانا چاہتا ہے اس لئے اس طرح کی گفتگو کو جدال کہا جاتا ہے ، بعض لوگوں نے جدال کے معنی کشتی لڑنے کے بھی کئے ہیں اور مقابل کو زمین پر دے مارنے کے بھی اور اسی طرح (جدالہ) سخت زمین کو بھی کہتے ہیں جو ہل چلانے میں مانع آتی ہے اور کھودنے میں نہایت سخت ہوتی ہے ۔ زیر نظر آیت میں حق واضح ہوجانے کے بعد حقیقت کو تسلیم نہ کرنے اور خواہ مخواہ الجھاؤ پیدا کرنے کے لئے یہ لفظ بولا گیا ہے ، مزید دیکھنا مطلوب ہو تو سورة ہود کی آیت 32 کا مطالعہ کریں اور یہ سورة تفسیر عورۃ الوثقی کی چوتھی جلد میں آئی ہے وہاں نوح (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کی گفتگو قرآن کریم میں بیان کی ہے :
Ayah 18:55

وَ مَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ یُّؤْمِنُوْۤا اِذْ جَآءَهُمُ الْهُدٰى وَ یَسْتَغْفِرُوْا رَبَّهُمْ اِلَّاۤ اَنْ تَاْتِیَهُمْ سُنَّةُ الْاَوَّلِیْنَ اَوْ یَاْتِیَهُمُ الْعَذَابُ قُبُلًا Open ayah 18:55 in the Quran reader

اور جب لوگوں کے سامنے ہدایت آگئی تو ایمان لانے اور طلبگار مغفرت ہونے سے انہیں کونسی بات روک سکتی ہے ؟ مگر یہی کہ اگلی قوموں کا معاملہ انہیں بھی پیش آجائے یا ہمارا عذاب سامنے آکھڑا ہو

ایسے لوگوں کے پاس ہدایت آنے کا کچھ فائدہ نہ ہوا ، سنت اللہ کے مطابق وہ پکڑے گئے : 58۔ (الناس) سے مراد وہی لوگ ہیں جن کا ذکر گزشتہ آیت میں گزر چکا یعنی وہی پھڈے باز اور مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم میں ان کو ہر طرح کی تنبیہات سنا دی گئیں اور ان پر کوئی چیز مخفی نہ رکھی گئی جس کو بیان نہ کیا گیا جبکہ اس کا بیان کرنا ضروری ہو لیکن جو لوگ حققتے کو سمجھنے سے گریزاں ہوں وہ کوئی نہ کوئی بہانہ تلاش کر ہی لیتے ہیں وہ ایک سوال کرتے ہیں ان کو جب اس کا ایسا جواب ملتا ہے کہ وہ اس پر کوئی مزید سوال نہیں اٹھا سکتے تو فورا ایک نیا سوال جڑ دیتے ہیں جس کا پہلے سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ، غور کرو کہ اب ان کا مطالبہ کیا ہے ؟ ان کا مطالبہ یہ ہے کہ یا تو ان پر اس طرح کی تباہی پچھلی قوموں پر آئی اور جس سے قرآن کریم ڈرا رہا ہے یا کم از کم اتنا تو ہو کہ وہ اس عذاب کو سامنے آتا دیکھ لیں اور اگر دونوں باتوں میں ایک بھی نہ ہو تو وہ اس ہدایت پر ایمان لانے اور توبہ و استغفار کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ قرآن کریم ان کے سامنے آسمانی دستر خوان بچھا رہا ہے لیکن وہ قہر و عذاب آسمانی کے خواہش مند ہیں کہ وہ چلا آئے اور اتنی بات نہیں سمجھ رہے کہ اگر وہ آگیا تو ان کا دیدار کرنے کے لئے نہیں آئے گا بلکہ اس کا نتیجہ ان کی ہلاکت ہوگا اور جو ہونا ہے اگر وہ ہوجائے تو عذاب ‘ ثواب کی آخر تصدیق کون کرے گا کہ ہاں ہم نے دیکھ لیا ، جب انہوں نے گزشتہ قوموں کے عذاب کی داستا سنی تو اس میں یہ پہلو موجود نہیں تھا کہ جب وہ وقت آیا تو عذاب کے طلب کرنے والوں کو تہس نہس کر کے رکھ دیا ، حالانکہ آج تک سنت اللہ تو یہی رہی ہے کہ عذاب طلب کرنے والوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا اور اب ان کے لئے اللہ اپنی سنت کو بدل دے گا ؟ بہتر ہوتا کہ وہ گزشتہ اقوام کی روداد سے فائدہ حاصل کرتے اور اللہ سے اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کرتے تاکہ دنیا وآخرت دونوں کی خرابی سے بچ جاتے ۔
Ayah 18:56

وَ مَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّا مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ١ۚ وَ یُجَادِلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِالْبَاطِلِ لِیُدْحِضُوْا بِهِ الْحَقَّ وَ اتَّخَذُوْۤا اٰیٰتِیْ وَ مَاۤ اُنْذِرُوْا هُزُوًا Open ayah 18:56 in the Quran reader

اور ہم تو پیغمبروں کو صرف اس لیے بھیجتے ہیں کہ بشارت دیں اور خبردار کردیں مگر جنہوں نے کفر کی راہ اختیار کی ہے وہ جھوٹی باتوں کی آڑ پکڑ کر جھگڑنے لگتے ہیں کہ اس طرح سچائی کو متزلزل کردیں انہوں نے ہماری نشانیوں کو اور اس بات کو جس سے انہیں خبردار کیا گیا ہے تمسخر کی بات بنا رکھا ہے

انبیائے کرام (علیہم السلام) کی آمد کا مقصد کیا تھا اور ان لوگوں نے اس کو کیا سمجھ لیا ؟ : 59۔ (الناس) کے مطالبہ عذاب کا جواب ان کو سنایا جارہا ہے کہ ہم رسولوں کو عذاب لانے کے لئے تو نہیں بھیجا کرتے بلکہ ان کی آمد کا مقصد تو قوم کو ڈرانا اور خوشخبری پہنچانا ہوتا ہے وہ کافروں کو عذاب سے خبردار کرتے اور ایمان والوں کو باغات آخرت اور انعامات آخرت کی خبر دیتے ۔ ان سے عذاب اور قیامت کا مطالبہ کرنا ایک بےجوڑ بات ہے اور حق کو باطل سے مٹانے کی بیکار ضد اسی طرح جن لوگوں (الناس) نے بوجہ شرارت عذاب الہی اور قیامت کی حقیقت کو نہیں سمجھا ان کو سمجھانے کے لئے ایک وقت مقرر کیا گیا ہے ان کو سب کچھ انکی آنکھوں سے دکھا دیا جائے اگرچہ اس وقت ان کا دیکھنا ان کو کچھ فائدہ نہیں دے گا ۔ کافروں کا کام بھی الٹا ہی ہوتا ہے کہ وہ باطل کے ساتھ حق کو مٹانے کے درپے ہوتے ہیں اور نہیں سمجھتے کہ حق و باطل کا جب آمنا سامنا ہوگا تو باطل ہی مٹے گا کیونکہ باطل مٹنے والی چیز ہے اس باطل کو چلانے کے لئے حق کو دبانا یا حق کو چھپانا ہی پڑتا ہے تاکہ نہ دونوں کا آمنا سامنا ہوں اور نہ حق باطل کو مٹا سکے اور باطل ہے کہ حق کا لبادہ پہن کر پھرتا ہے ۔ (لیدحضوا) وہ دھکیلنا چاہتے ہیں ‘ پھسلانا چاہتے ہیں ۔ وہ زائل کرنا چاہتے ہیں وغیرہ ۔