Ayah 18:19تفسیر :
اس نظام الہی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کتنا عرصہ گزرا اللہ ہی جانتا ہے :
20۔ وہ اپنے پروگرام کے مطابق زندگی گزارتے رہے اور اس طرح کتنا عرصہ گزرا اللہ ہی اس بات کو خوب جانتا ہے ہاں حالات یہ بتاتے ہیں کہ اتنی مدت کم از کم گزر چکی تھی کہ وہ ظالم بادشاہ مر چکا تھا یا معزول کیا جا چکا تھا اور ملک کی حالت مکمل نہیں بدلی تھی تو بھی بہرحال بہتر ہوچکی تھی اور رب اللہ وحدہ لا شریک لہ کی مدد قابل سزا نہیں رہا تھا کہ ایک بار وہ نیند سے جاگے وہ اس دفعہ وہ کتنی دیر سوئے تھے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے جاگ کر کچھ کرنے کا باقاعدہ پروگرام بنایا تھا اور وہ اس پروگرام کے مطابق غالبا دیر میں جاگے تھے جیسا کہ اکثر انسان کے ساتھ ہوتا ہی رہتا ہے اس لئے انہوں نے جاگتے ہی ایک دوسرے سے دریافت کرنا شروع کیا کہ ہم کتنی دیر سوئے یعنی اٹھنے کے پروگرام سے کہیں زیادہ ہی لیٹ ہوگئے ۔
اسی اثنا میں ایک بولا کہ تم اپنے پروگرام کے مطابق ایک آدمی کو اشیا خوردنی لانے کیلئے بھیج دو :
21۔ اس طرح کی گفتگو جاری تھی کہ کسی نے کہا چلو جتنی دیر بھی ہوئی ایک دن سے زیادہ کیا سوئے ہوں گے تم یہ معاملہ تو اللہ کے سپرد کرو جتنی دیر اس نے چاہا سلائے رکھا اب کھانا لانے کے لئے ایک آدمی کو شہر میں روانہ کرو ، ظاہر ہے کہ یہاں اشیائے خوردنی کو کھانا کہا گیا ہے کیونکہ ان کا پروگرام تو ابھی لمبا ہی تھا اور ممکن ہے کہ ہو ہر ماہ یا ہر سال کے لئے خوراک اکٹھی لاتے ہوں بہرحال ان کا جو پروگرام بھی تھا اس کے مطابق انہوں نے ایک آدمی کو موجودہ سکہ دے کر شہر کی طرف بھیج دیا اور اس کو تاکید کی کہ اشیاء خوردنی جو خریدی جائیں وہ صاف ستھری اور دیر تک چلنے والی ہوں اور خرید وفروخت میں کوئی بات آپ کے منہ سے ایسی نہ نکلنے پائے جس سے ان لوگوں کی جستجو بڑھے کہ یہ خریدار کون ہے ؟ جو اس طرح کی باتیں کرتا ہے یعنی محتاط انداز اختیار کرے ، باتوں ہی باتوں میں کوئی ایسی بات نہ کہہ دے جس سے ہمارے یہاں پناہ گزیں ہونے کا راز کھل جائے کیونکہ وہ لوگ بھی آخر اس واقعہ کو سن چکے ہوں گے کہ کچھ لوگ اتنے عرصہ سے غائب ہیں جو حکومت کو مطلوب تھے :
Ayah 18:20تفسیر :
اپنے خدشے کو مزید واضح کیا اور جانے والے کو بتایا کہ اگر راز کھل گیا تو اس کا نتیجہ کیا ہوگا ؟ :
22۔ پروگرام کے مطابق بھیجنے والے آدمی کو انہوں نے مزید تاکید کی کہ اگر ان کے اس جگہ رہائش پذیر ہوجانے کا راز کسی پر کھل گیا تو اس کے نتیجہ میں کیا کچھ ممکن ہے یعنی یہ راز کوئی معمولی راز نہیں بلکہ اس کے نتیجہ میں ہم لوگ رجم بھی کئے جاسکتے ہیں اور ہم کو دوبارہ کفر وشرک کی حلت پر مجبور بھی کیا جاسکتا ہے ، اور اگر ایسا ہوگیا تو ہماری دنیا تو پہلے گئی اس طرح ہم دین سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گے ‘ ہمیں وہ سزا بھگتنا ہوگی جو دوسروں کے لئے بھی باعث عبرت ہو اور اس کے نتیجے میں ہماری تحریک کو بھی مزید نقصان پہنچے گا ، لیکن انسان اپنی کتنی ہی حفاظت کرے اور کیا کیا تدبیریں سوچتا رہے اس کے سارے پروگرام اس وقت دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں جب اللہ کا بنایا ہوا پروگرام نافذ ہونے کے لئے آنکھ کھول دیتا ہے ، اس لئے اسلام نے یہ سبق دیا ہے کہ ” اونٹ کا گھٹنا باندھ اور اللہ پر بھروسہ کر ۔ “ یعنی جو کچھ تیرے اختیار میں ہے وہ نیکی نیتی کے ساتھ کر اور نتیجہ اللہ پر چھوڑ دے کیونکہ اصل حقیقت اس کے حکم کے تابع ہے اور اس کے حکم پر راضی رہنا انسان سیکھ لے تو یہی اسلام کی اصل تعلیم ہے ادھر اس طرح حفاظتی اقدام جاری تھے اور ادھر اللہ تعالیٰ کے علم میں یہ بات تھی کہ اب وہ وقت آگیا ہے کہ ان اللہ کی راہ میں ہجرت کر جانے والوں کا پروگرام جو انہوں نے نافذ کرنے کی کوشش کی تھی اور روک دیئے گئے تھے اب قانون الہی کے مطابق وہی پروگرام چل نکلے اور دنیا دیکھے کہ اللہ تعالیٰ کے وعدے کتنے سچے ہوتے ہیں اور ایک طرف اصحاب کہف کی کامیابی کی خبر دے دی اور دوسری طرف خود نبی اعظم وآخر ﷺ کے لائے ہوئے نظام کی کامیابی کی خبر بھی مکہ والوں کو اور اطراف میں بسنے والے یہود ونصاری کو دے دی کہ تم چاہے جتنی بھی مخالفت کرلو لیکن اللہ کو اپنا پروگرام نافذ کرتے کوئی دیر نہیں لگتی وہ وہی ذات ہے جو بظاہر ناکامیوں کے اندر ہی سے کامیابیاں پیدا کردیتا ہے کیونکہ مردوں سے زندہ اور زندوں سے مردہ پیدا کرنے والا صرف اور صرف وہی ہے اس کا قانون قدرت چاہے آزر سے ابراہیم پیدا کر دے اور چاہے تو نوح (علیہ السلام) سے بدبخت بیٹا ۔
Ayah 18:21جس بات کو چھپانا چاہتے تھے وہ کھل گئی اور ان کی وہ پذیرائی ہوئی جس کے وہ مستحق تھے :
23۔ اصحاب کہف جس احتیاط سے کام لینا چاہتے تھے اب اس کا وقت گزر چکا تھا اور یقینا ان کے بارے میں کسی کو معلوم نہ ہوا ان کے حق میں بہتر نہیں رہا تھا گویا ان کے واقعہ کو واضح ہوجانا چھپے رہنے سے زیادہ بہتر تھا اس لئے ان کی تدبیر کے خلاف اللہ تعالیٰ کی مشیت کے ہاتھ نے اپنا کام کر دکھایا اور وہ ہو کر رہا جو مشیت میں ہونا طے پایا تھا ۔ (عشر) جس کے معنی بغیر چاہے کسی چیز پر مطلع ہوجانے کے ہیں اور اس مادہ کے دو ہی لفظ قرآن کریم میں بیان ہوئے ہیں ایک اس جگہ (اعثرنا) اور دوسرا سورة المائدہ کی آیت 107 میں (عثر) کا لفظ بولا گیا ہے ، مطلب یہ ہے کہ جس چیز کو وہ ظاہر کرنا نہیں چاہتے تھے تو اس کو اللہ نے ظاہر کردیا اور لوگوں پر ان کے عقائد کا حال کھل گیا اور قیامت کے منکرین نے ان کے عقائد کو قبول کر کے سارے لوگوں کو ان کی حالت سے آگاہ کیا اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے اس تحریک کو جو ایک غار کے اندھیرے میں گم ہوچکی تھی سورج کی طرح روشن کرکے رکھ دیا وہی لوگ جو انکی جان کے در پے تھے اب ان کو مبارکیں پیش کرنے کے لئے آرہے تھے اور جس دن کو وہ بیخ وبن سے اکھاڑ پھینکنا چاہتے تھے اس کو اس طرح قبول کیا گویا یہی انکی گمشدہ پونجی تھی ، اس طرح اللہ تعالیٰ نے ایک طرف مکہ والوں کے ایک سوال کا جواب ان کو دیا اور دوسری طرف محمد رسول اللہ ﷺ کو پیش آنے والے سارے واقعات کے اشارات ان کے گوش گزار کردیئے اور ان کو بتا دیا کہ جس رسول ﷺ کی تحریک کو تم ختم کردینا چاہتے ہو وہ ایک دن بالکل اسی طرح کامیاب ہوگی جس طرح اصحاب کہف والرقیم کی تحریک کامیاب ہوئی اور جس طرح ان کی تحریک کے پیچھے الہی ہاتھ کام کر رہا تھا اس طرح بلکہ اس سے ہزار بار بڑھ کر محمد رسول اللہ ﷺ کو تائید ایزدی حاصل ہے ، وہ اپنے زمانے کے نیک لوگ اور ولی اللہ تھے اور محمد رسول اللہ ﷺ اللہ کے آخری نبی اور رسول ہیں اگر تمہارے پاس بینا آنکھیں موجود ہیں اور اگر تم اندھے اور بہرے ہی بنے رہے تو بھی قانون الہی کو تو اپنے وقت پر نافذ ہو کر رہنا ہے اس لئے تم اللہ اور اس کے رسول کا تو کچھ بگاڑ نہیں سکوگے ہاں ! ایک دن تمہارا ہی منہ کالا ہوگا اور تم ہی کو ذلیل ورسوا ہونا ہوگا ۔
پھر وہ وقت بھی آیا کہ اس غار کو جس میں وہ پناہ گزیں ہوئے تھے زیارت گاہ خلائق بنا دیا :
24۔ ایک وقت وہ تھا کہ ان غریب الوطن چند دین کے ساتھیوں کو اس بھیانک غار کے سوا کوئی جگہ ہی میسر نہ تھی کہ وہ اس میں زندگی کے دن بسر کرلیتے اور پھر وہ وقت بھی آیا کہ لوگ اس کو برکت حاصل کرنے کے لئے دیکھنے آتے تھے ، انہی باتوں کے پیش نظر کہا جاتا ہے کہ دنیا بھیڑ چال ہے کہ کسی کو کچھ پتہ نہیں کہ مخالفت کرتے ہیں تو کیوں ؟ اور موافقت کرتے ہیں تو کیوں ؟ جس کی مخالفت کریں گے اندھا دھند کریں گے اور موافقت کریں گے تو اندھا دھند ، جہالت کا تو یہ خاصہ ہے وہ کرتی آئی ہے ‘ کر رہی ہے اور کرتی رہے گی لیکن بڑے سمجھدار اور پڑھے لکھے بیوقوفوں کی بھی کوئی کمی نہیں وہ بھی وہی کریں گے جو سب کر رہے ہیں اور بالکل نہیں دیکھیں گے کہ یہ جہالت ہے ‘ علم وبصیرت ہے ‘ وہ زمانہ تو جو تھا وہ تھا آج کل بھی یہی کچھ ہو رہا ہے اس میں سرمو بھی فرق نہیں آیا ، فرمایا جو لوگ آپس میں بحث کرنے لگے کہ ان لوگوں کے معاملہ میں کیا کیا جائے کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ اس غار پر ایک عمارت بنا دی جائے تاکہ لوگ آئیں جائیں تو ان کو سہولت ہو اور بعض نے کہا کہ عام عمارت کی بجائے بہتر ہے کہ اس پر ایک سجدہ گاہ یا عبادت خانہ بنا دیا جائے اور ان پچھلے لوگوں کی رائے کے مطابق ہی عمل ہوا کیونکہ یہی لوگ زیادہ تھے ، یہ اشارہ اس لئے کیا گیا کہ معلوم ہوجائے کہ ایک طرف وہ تفریط تھی اور دوسری طرف یہ افراط ہے اور یہی کچھ ہوتا چلا آیا ہے اور یہی ہو رہا ہے ، یہ بحث کب ہوئی اور یہ عبادت گاہ کب بنائی گئی ظاہر ہے کہ یہ ان کی وفات کے بعد کی بات ہے ، رہی یہ بات کہ ان کی وفات کہاں اور کب ہوئی ؟ تو ان زائد باتوں سے قرآن کریم بحث نہیں کرتا وہ صرف وہ بات کہتا ہے جس کی انسانی زندگی کو ضرورت ہو بلکہ موجودہ انسانوں کو اس سے فائدہ حاصل ہو اور وہ گزشتہ واقعہ سے سبق حاصل کریں ، وہ چونکہ مہاجر تھے اور جہاں ہجرت کر کے گئے تھے یعنی غار میں ممکن ہے کہ انہوں نے وہاں سے واپس آنا پسند نہ کیا ہو اور ان کی مرقدیں وہیں بنائی گئی ہوں یا اپنی مذہبی روایات کے مطابق انہوں نے وہیں بحالت عبادت وفات پائی ہو اور اپنی اپنی موت کے وقت تک بحالت عبادت جان دینا اور جس حالت میں ہوں اس پر قائم رہتے ہوئے جان دینا بھی قابل ستائش عمل تھا اور اس طرح کی تاریخی شہادتیں بھی موجود ہیں ۔
Ayahs 18:22–23اصحاب کہف کی تعداد کے بارے میں بھی لوگوں کے مختلف نظریئے ہیں :
25۔ یہ لوگوں کی کہانیوں کی نشاندہی کی جا رہی ہے اور یہ ایسی ہی بات ہے جیسے ہماری زبان میں کہتے ہیں کہ جتنے منہ اتنی باتیں مطلب یہ ہوتا ہے کہ جو آتا ہے کوئی نہ کوئی بات کہہ دیتا ہے کوئی اس کا سرپیر ہو یا نہ ہو اور اس طرح ایک بنتے بنتے معلوم نہیں کہ کچھ ہی بن جاتا ہے یہی کچھ اصحاب کہف کے بارے میں بھی ہوا کہ جو کسی کے منہ میں آیا اس نے کہہ دیا اور ہوتے ہوتے ان کے متعلق کئی ایک باتیں مشہور ومعروف ہوگئیں اس طرح ان کی تعداد کے متعلق بھی لوگوں کے مختلف بیان دیئے کسی نے کہا ان کی تعداد تین تھی اور چوتھا ان کے ساتھ کتا تھا پھر تعداد میں اختلاف ہوتا رہا کبھی پانچ اور کبھی چھ لیکن جتنی تعداد بھی بتائی گئی کتے کا ذکر بھی ساتھ ہوتا رہا اور پھر یہ بحث اٹھی کہ آیا کتا ساتھ کیوں تھا ؟ پھر اس کی مختلف توجیہات بیان کی گئیں اور مختلف ثبوت دیئے گئے اور پھر اس سے بھی آگے بات بڑھی تو یہ بحث چل نکلی کہ یہ کتا جنت میں جائے گا یا نہیں تو ہمارے مفسرین میں سے کتنے تھے جنہوں نے اس کے ثبوت بھی فراہم کئے کہ ان کا کتا یقینا جنت میں جائے گا پھر اس کو ثابت کرنے کے لئے اونٹنی اور کسی کا گھوڑا ‘ کسی کی گائے اور کسی کی بکری کی روایات بھی بیان کی گئیں ۔ قرآن کریم نے چھ کی تعداد کو لوگوں کے منہ سے بیان کرنے کے بعد ایک جملہ بیان کیا کہ یہ لوگ غیب میں پتھر پھینکتے ہیں اور اس کے بعد فرمایا کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ان کی تعداد سات تھی اور آٹھوایں ان کا کتا تھا تو ہمارے مفسرین نے تعداد چھ تک بیان کرنے والوں کو تیر تکے مارنے والے قرار دیا اور خود اس بات کو پکا کرلیا اور اس پر جم گئے کہ ان کی تعداد سات تھی اور آٹھواں کتا تھا اور باوجود اس کے کہ قرآن کریم نے بڑی وضاحت سے یہ فرمایا کہ ” اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ ان کی اصل گنتی تو میرا پروردگار ہی خوب جانتا ہے کیونکہ ان کا اصل حال بہت کم لوگوں کو معلوم تھا اور یہ سارے بحثیں ان کے زمانہ سے بہت بعد کی ہیں اور وقت کے ساتھ ان بحثوں میں اضافے ہوتے رہتے ہیں اور کمی کا احتمال بھی رہتا ہے پھر ان کی تعداد معلوم ہوجانے سے کچھ فائدہ اور نقصان بھی نہیں ہے اس لئے بحث برائے بحث سے آخر فائدہ ؟
نبی اعظم وآخر ﷺ کو ہدایت کہ آپ ﷺ کسی سے سوال و جواب حتی المقدور نہ کریں :
26۔ دراصل یہ صرف ایک واقعہ جو اس جگہ بیان کیا گیا ہے فقط اس کے متعلق نہیں بیان کیا گیا کہ متعلق بحث نہ کریں بلکہ فرمایا یہ جارہا ہے کہ ایسی باتوں کے متعلق بحث در بحث چلانے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا اس لئے اس طرح کی بےسروپا باتوں میں الجھنا مناسب نہیں ہوتا کیونکہ جن لوگوں کی یہ عادت ہوجاتی ہے وہ وقت گزاری کے لئے خواہ مخواہ کے قصے سنتے اور سناتے رہتے ہیں جن کا ماحصل ذہنی عیاشی کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتا حالانکہ ایسی باتیں عقل وفکر والے لوگ زیر بحث ہی نہیں لاتے ، ان کی تعداد خواہ کتنی ہی کیوں نہ ہو اصل غرض تعداد سے نہیں بلکہ ان نظریات سے ہے جن نظریات کے باعث ان کو یہ کلفت اٹھانا پڑی ۔ جن کا تعلق اللہ تعالیٰ کی توحید اور انسانی اخلاق وکردار کے ساتھ ہے لیکن کچھ لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ بال کی کھال اتارتے رہتے ہیں اور اس طرح کی چھوٹی بڑی باتوں میں الجھے رہتے ہیں اور بڑے بڑے کاموں کی طرف کبھی آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے اس لئے نبی اعظم وآخر ﷺ کے ذریعے سے آپ ﷺ کی امت کو درس دیا جا رہا ہے کہ بیکار بحثوں میں الجھ کر وقت ضائع نہ کیا کرو ۔ کام کی بات جو زندگی کے لئے مفید ہو اور دوسروں کے لئے سبق آموز ہو اور صرف اتنی ہی بات جو عزم وجزم سے کی جاسکے ورنہ کام کے وقت کام اور کام اور بات کے وقت فقط کام کی بات ۔
Ayahs 18:24–25آپ ﷺ کے ذریعہ سے آپ ﷺ کی امت کے لئے دوسری ہدایت :
27۔ فرمایا جب بھی تم کوئی بات کرو یا کرنا چاہو تو حتمی طور پر مت کیا کرو کہ اس کام کو کل میں ضرور کروں گا اس لئے کہ کسی انسان کو آنے والے کل کے متعلق علم نہیں کہ وہ کل کیسے اور کس طرح آئے گا یا ہماری زندگی میں وہ کل آئے گا بھی یا نہیں ۔ ہاں ! جب کسی کام کے کرنے کا پختہ ارادہ کرلو تو اس طرح کہو کہ انشاء اللہ میں کل ایسا کرنا چاہتا ہوں ۔ میرا ارادہ میں ہے کہ میں کل اللہ چاہے تو ضرور ایسا کروں گا یہ اس لئے کہ آنے والے کل کے متعلق کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کیسا ہوگا ؟ جب وہ انشاء اللہ یا اللہ چاہے کہ الفاظ استعمال کرے گا اور دل میں اس کا پختہ ارادہ رکھے گا تو اللہ چاہے گا اور وہ کام ضرور ہوگا اور اس کام کے بارے میں انشاء اللہ یا اللہ چاہئے کے الفاظ جس پر استعمال ہوں اس کو قسمیہ طور پر پورا کرنے کا عزم کرلے اور سرتوڑ کوشش کے باوجود اگر اس کو نہ کرسکے تو سمجھ لے کہ اس کام کا ہونا اللہ کو منظور نہ تھا بلکہ اس کے حق میں وہ اچھا نہ تھا جس وجہ سے باوجود کوشش کے نہیں ہوسکا ۔ اس انشاء اللہ کے لفظ پر بھی علمائے اسلام کے درمیان مختلف بحثیں پیدا ہوگئی ہیں لیکن ان میں سے ایک بحث بھی ایسی نہیں جو بحث برائے بحث نہ ہو بلکہ وہ بامقصد کوئی بات ہو ۔ ہم صرف یہ کہہ سکتے ہیں کہ انشاء اللہ کہہ کر باز کو مزید پکا کیا جاتا ہے اور اس کی حیثیت قسم کی طرح پختہ ہوجاتی ہے اس کی حیثیت میں کوئی کمزوری نہیں آتی جس طرح عام لوگوں نے اس کو سمجھ لیا ہے اور علمائے کرام نے انشاء اللہ کے لفظ سے جو فائدے حاصل کرنے کی کوشش کی ہے وہ سب کی سب فضول اور لغو ہے ، سرسید مرحوم نے اپنے ایک آرٹیکل میں انکی خوب خبر لی ہے اور تہذیب الاخلاق میں اس کی پوری وضاحت کردی ہے فرمایا سہو ونسان انسان کے ساتھ ساتھ ہے اگر بھول کر انسان کوئی ایسی بات کہہ دے تو اپنے پروردگار کی یاد تازہ کرلے امید ہے کہ اس سے بھی تمہارا پروردگار تم پر کامیابی کی راہ کھول دے اور جس چیز کا تم نے ارادہ کیا تھا وہ بتوفیقہ پورا ہوجائے ۔
Ayah 18:26اصحاب کہف کی تعداد میں بحثیں ہوئیں تو ان کے غار میں رہنے کی مدت بھی زیر بحث رہی :
28۔ لوگوں نے جس طرح اصحاب کہف کی تعداد میں بیکار بحثیں کیں جن کا حاصل کچھ بھی نہیں تھا اسی طرح ان کی غار میں رہنے کی مدت بھی زیر بحث رہی ہے پھر کسی نے ان کی غار کی نیند کو تین سو سال تک نیند میں رہنا بیان کیا اور کسی نے 309 سال کا ذکر کیا ، پھر ان دونوں تعدادوں میں جو فرق ہے اس کو پورا کرنے کی کوشش کی گئی اور کہا گیا کہ دراصل تین سو سال شمسی سال کے لحاظ سے تھے اور 9 سال قمری سالوں کی گنتی سے زیادہ ہوجاتے ہیں اس لئے ایک مدت شمسی لحاظ سے بیان کی گئی ہے اور دوسری مدت قمری لحاظ سے اور دونوں کا ایک ہی ساتھ ذکر بھی کردیا ہے ، حالانکہ یہ بھی ایک لحاظ سے بیان کی گئی ہے اور دوسری مدت قمری لحاظ سے اور دونوں کا ایک ہی ساتھ ذکر بھی کردیا ہے حالانکہ یہ بھی ایک تکا ہی ہے جیسا کہ لوگوں نے پہلی باتوں میں لگائے مدت میں بھی لگا دیئے تاکہ کوئی بات متفق علیہ نہ رہ جائے حالانکہ قرآن کریم بار بار اور ساتھ ساتھ یہ بات کہتا جاتا ہے کہ یہ بات اس کی بالکل لغو تھی اور لغویات کے پیچھے پڑنے کی کوئی ضرورت نہیں ۔ اے پیغمبر اسلام ! آپ برملا اعلان کردیں کہ ان کی گنتی اللہ ہی بہتر جانتا ہے اور ان کی مدت غار بھی علم الہی میں محفوظ ہے ہمیں چونکہ اس مدت کی ضرورت نہ تھی اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کو واضح نہیں فرمایا ۔ اللہ ہی ہے جو آسمانوں اور زمین کی ساری پوشیدہ چیزوں کو اچھی طرح جانتا ہے ، غیب کی باتوں کو جاننا اس کی صفت خاص ہے کسی انسان کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ غیب کی باتوں کو زیر بحث لائے اس لئے کہ غیب جاننے میں بھی اس کا کوئی شریک نہیں جس طرح عبادت میں اس کا کوئی شریک نہیں ، اس آیت پر اصحاب کہف کا بیان ختم ہوا اب اختصار کے ساتھ اس کا خلاصہ دیا جاتا ہے تاکہ باز مزید واضح ہوجائے ۔
اصحاب کہف والرقیم کا مختصر ذکر :
سیرت ابن اسحاق میں بروایت ابن عباس ؓ بیان کیا گیا ہے کہ ایک مرتبہ قریش نے مشورہ کیا کہ محمد ﷺ کا معاملہ بہت سنگین ہوتا چلا جا رہا ہے اس لئے کوئی ایسا یقینی فیصلہ ہونا چاہئے کہ یہ صادق ہیں یا نہیں تاکہ ہم ان کے متعلق اپنی آخری رائے پر عمل کرسکیں اور بہتر یہ ہے کہ اس مسئلہ کو یہود سے حل کروایا جائے کیونکہ وہ خود کو اہل کتاب کہتے ہیں اور اس قسم کے معاملات میں صاحب بصیرت ہیں ۔ قریش نے اس غرض سے نضر بن حارث اور عقبہ بن معیط پر مشتمل ایک وفد علمائے یہود کے پاس بھیجا ، علمائے یہود نے ان سے کہا کہ تم ان سے تین باتیں دریافت کرو اگر وہ صحیح صحیح جواب دیں تو بلاشبہ اللہ کے سچے رسول ہیں تم کو ہرگز ان کی مخالفت نہ کرنی چاہئے اور اگر وہ جواب نہ بتا سکیں تو تم کو اختیار ہے جو چاہو ان کے ساتھ کرو وہ تین سوال یہ ہیں :
1۔ ذوالقرنین کا واقعہ کیا ہے ؟
2۔ اصحاب کہف کون تھے ؟
3۔ روح کی حقیقت کیا ہے ؟
وفد نے مکہ جا کر صنادید قریش سے صورت حال کہہ سنائی اور قریش نے اس بات کو بہت پسند کیا اور آپ کے سامنے تینوں سوالات رکھ دیئے ، آپ نے فرمایا کہ اس کا جواب وحی آنے پر دوں گا چناچہ جب وحی الہی کے ذریعہ آپ کو خبر دی گئی تو آپ ﷺ نے تنواں باتوں یا تینوں سوالوں کے جواب دے دیئے اور سورة کہف میں ان تینوں سوالوں کا جواب مذکور ہے ، اس روایت کے بعد ایک اختلاف تو یہ شروع ہوا کہ آیا یہ مشورہ علمائے یہود سے ہوا تھا یا علمائے نصاری سے پھر اس پر تفاسیر میں بہت لے دے کی گئی لیکن ہم اس کو ذکر نہیں کرنا چاہتے جس کو تحقیق کی ضرورت ہو وہ تفاسیر کا مطالعہ کرے خصوصا پرانی تفاسیر کا یا سیر کی کتابوں کا ۔
تاریخ میں چونکہ مسیحی مذہب کی ابتدائی قرنوں میں متعدد واقعات ایسے گزرے ہیں کہ راسخ الاعتقاد عیسائیوں نے مخالفین کے ظلم وجور سے عاجز آکر پہاڑوں کی غاروں میں پناہ لے لی اور آبادیوں کنارہ کش ہوگئے یہاں تک کہ وہیں وفات پا گئے اس لئے یہاں سے یہ بحث پیدا ہوگئی کہ اس سوال میں جس میں کہف والوں کا ذکر ہے وہ کہاں پیش آیا پھر اس کے متعلق روایات کا ایک انبار ہے اور مختلف لوگوں نے مختلف رائیں پیش کی ہیں ۔ لیکن قرآن کریم نے چونکہ کہف کے ساتھ (الرقیم) کا لفظ بھی استعمال کیا ہے اس لئے علمائے اسلام میں اس لفظ میں بہت زیادہ بحث کی گئی ہے کسی نے کہا یہ اس شہر کا نام ہے جس سے یہ لوگ بھاگے تھے ، بعض نے اس غار کا نام (الرقیم) لکھا اور بعض نے یہ ثابت کیا کہ (الرقیم) رقم سے ہے اور اس غار پر کوئی کتبہ لگایا گیا ہوگا جس پر ان لوگوں کے نام اور ان کی دوسری معلومات درج تھیں ، دریں وجہ ان کو (الرقیم) کہا گیا ہے ۔
پھر محققین نے تحقیق کی تو یہ بات بتائی گئی کہ (الرقیم) وہی ہے جس کو تورات نے (زاقیم) نقل کیا ہے اور یہ فی الحقیقت ایک شہر ہیا کا نام تھا جس کو بعد میں لوگوں نے ” پٹیرا “ اور عربوں نے ” بطرا “ کے نام سے یاد کیا ہے ، چناچہ عالمگیر جنگ کے بعد جب آثار قدیمہ کے نئے نئے گوشے کھلے تو ان میں ایک گوشہ شہر پٹیرا کا بھی ہے اس لئے اس انکشاف نے ایک نیا دروازہ کھول دیا اور پھر اس دروازہ سے داخل ہونے والوں نے جزیرہ نمائے سینا اور خلیج عقبہ سے سیدھے شمال کی طرف بڑھ کر دیکھا جہاں سے دو متوازی سلسلہ کوہ شروع ہوجاتے ہیں اور سطح زمین بلندی کی طرف اٹھنا شروع ہوجاتی ہے تو انہوں نے وہ علاقہ دریافت کرلیا جو نبطی قبائل کا علاقہ بتایا جاتا ہے اور اس جگہ ایک پہاڑی سطح پر (راقیم) نامی شہر آباد تھا ، انہوں نے معلوم کیا کہ دوسری صدی عیسوی میں جب رومیوں نے شام اور فلسطین کا الحاق کرلیا تو یہاں کے دوسرے شہروں کی طرف راقیم نے بھی ایک رومی نو آبادی کی حیثیت اختیار کرلی اور یہی زمانہ ہے جب پیٹرا کے نام سے اس کے عظیم الشان مندروں اور تھیڑوں کی شہرت دور دراز علاقوں تک پہنچی ۔ 640 عیسوی میں یہ علاقہ جب مسلمانوں کے تسلط میں آیا تو اس وقت (راقیم) کا نام لوگوں کی زبانوں پر نہیں رہا تھا بلکہ نیا نام پیٹرا ہی جاری تھا جس کو مسلم فاتحین نے ” بطرا “ کہا ۔
جنگ عظیم کے بعد جب اس علاقہ کی از سرنواثری پیمائش کی گئی تو نئی نئی باتیں روشنی میں آئیں ان میں اس علاقہ کے عجیب و غریب غار بھی ہیں جو دور دور تک چلے گئے ہیں اور اندر سے بہت وسیع ہیں اور اپنی نوعیت میں ایسے بھی ہیں جن میں دن کی روشنی اور خصوصا دھوپ ہرگز نہیں پہنچ سکتی اور پھر ایک غار ایسا بھی ملا جس کے دہانہ کے پاس قدیم عمارت کے آثار پائے جاتے ہیں اور بیشمار ستونوں کی کرسیاں بھی دیکھی گئیں اور خیال کیا گیا کہ یہ کوئی معبد ہوگا جو اس جگہ تعمیر کیا گیا تھا اس انکشاف سے یہ فرض کرلیا گیا کہ یقینا وہ واقعہ جس کو اصحاب کہف کا واقعہ کہا گیا ہے اس جگہ پیش آیا تھا اور قرآن کریم نے صاف صاف لفظ میں اس کا نام (الراقیم) بنادیا اور پھر جب اس نام کا ایک شہر موجود تھا تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ (رقیم) کے معنی میں تکلفات کئے جائیں اور بغیر کسی بنیاد کے اسے کتبہ پر محمول کیا جائے ۔
ابن اسحاق کچھ کہیں لیکن قرآن کریم کی زبان سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس واقعہ کی عربوں میں شہرت تھی اور لوگ اس معاملہ میں بحثیں کیا کرتے تھے اور اسے نہایت ہی عجیب و غریب بات تصور کرتے تھے اور یہ بات بھی معلوم ہے کہ عربوں کے وسائل معلوم اس وقت محدود تھے اس لئے بہت کم امکان ہے کہ دور دراز کی باتیں ان کے علم میں ہی آتی ہوں پس یا یقینا یہ بات ان کے قرب و جوار ہی میں تھی جو لوگوں کی زبانی انہوں نے سنی تھی اور جب اس کو پیٹرا کا واقعہ قرار دیا جائے تو بات واضح ہوجاتی ہے کیونکہ یہ مقام عرب سے کوئی زیادہ دور نہیں ہے بلکہ عرب کی حدود کے ساتھ ستر میل دور واقع ہے اور دوسرے یہ کہ نبطیوں کی وہاں آبادی تھی اور نبطیوں کے تجارتی قافلے برابر حجاز میں آتے جاتے رہتے تھے اور نبطیوں میں اس واقعہ کی یقینا شہرت ہوگی اور انہیں سے عربوں نے سنا ہوگا ۔ اس طرح خود قریش مکہ کے تجارتی قافلے بھی ہر سال شام جایا کرتے تھے اور سفر کا ذریعہ بھی وہی شاہراہ تھی جو رومیوں نے ساحل خلیج سے لے کر ساحل ‘ رمور تک تعمیر کردی تھی پہلی جنگ عظیم کے بعد اس شاہراہ کا سراغ لگایا گیا تھا اور اب یہ اس خط پر دوبارہ تعمیر کردی گئی ہے اسی شاہراہ پر ترسیس آباد تھا جہاں سے ماین کے جہاز ہندوستان کو آیا کرتے تھے اور بحراحمر کے تجارتی بیڑوں کا بھی یہی مرکز تھا ، بہرحال پیڑا اس شاہراہ پر واقعہ ہے اور اس نواح کی سب سے پہلی تجارتی منڈی ہے لہذا یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ اس کی تفصیلات عربوں کی زبان پر خاص وعام طریقہ سے پائی جاتی تھیں ۔
جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے کہ یہ علاقہ اس وقت نبطیوں کے قبضہ میں تھا اور یہ نبطی کون تھے ؟ اس بحث نے طول پکڑا تو لمبی ہوتی چلی گئی پھر محققین نے اس کے متعلق تحریر کیا کہ یہ دراصل اسمعیل عربوں ہی کی ایک شاخ کے لوگ تھے اور اسمعیل (علیہ السلام) کے بڑے بیٹے نابت یا نبط کی اولاد تھے ، نبطیوں کا زمانہ حکومت 700 ق م سے شروع ہو کر 106 ق م تک رہا اور دوریں نبطیوں نے شرک میں مبتلا ہو کر بتوں کی پرستش شروع کردی اور جب رومیوں نے اس علاقہ کو فتح کیا تھا اس وقت یہ ساری قوم شرک کی بیماری میں لت پت تھی ۔ یہی وہ زمانہ تھا جب زکریا (علیہ السلام) ‘ یحییٰ (علیہ السلام) اور سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) یکے بعد دیگرے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرتے رہے لیکن ان مشرک قوموں نے رومیوں کی مدد سے ان پر بہت زیادتیاں کیں اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے انتقال کے بعد آپ کے ماننے والوں کو مزید مظالم کا نشانہ بنایا گیا اور ان کو شہروں سے بھاگ کر پہاڑوں کی غاروں میں پناہ لینی پڑتی رہی ۔
اسی دور میں یعنی مسیح (علیہ السلام) کے انتقال کے سویا اس سے زیادہ سالوں کے بعد یہ واقعہ اصحاب کہف کا پیش آیا ۔ یہ چند نفوس تھے جنہوں نے عیسائیت کو قبول کیا تھا اور بت پرستی سے بیزار تھے انہوں نے جب تبلیغ کا کام شروع کیا تو لوگوں نے ان کی بہت مخالفت کی معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ بھی علاقہ کے کھاتے پیتے لوگ تھے اس لئے ان کی مزاحمت اتنی آسان نہیں تھی اور ان کی شکایت جلد ہی حکومت وقت تک پہنچائی گئی اور لوگوں نے اپیف مذہبی روش کے خلاف ان کو برداشت نہ کرتے ہوئے حکومت کو اپیل کی کہ ان کو تبلیغ سے روکا جائے ورنہ ہمارے لوگوں کو یہ بدمذہب بنا دیں گے کیونکہ بروں کو کبھی اچھائی پسند نہیں آتی حکومت نے بھی سلجھے ہوئے انداز سے ان کو طلب کیا ‘ ان کی باتیں سنیں اور ان کی دلیری اور بیباکی کے باعث فورا عمل درآمد کرنا مناسب نہ سمجھا اور ان کو سمجھا بجھا کر سوچنے سمجھنے کی مہلت دی معلوم ہوتا ہے کہ یہ مہلت دراصل حکومت وقت نے ان کے معاملہ میں خود حاصل کی تھی تاکہ اس تحریک کا نام وشان مٹانے کے لئے کوئی سخت سے سخت ترین قدم اٹھایا جائے اور قدم اٹھانے سے پہلے اس کے ہر پہلو پر غور کرلیا جائے ۔
ظاہر ہے کہ ان کے گھر والوں سے رابطہ کیا گیا ہوگا اور خاندان کو آگاہ کردیا ہوگا کہ اگر یہ لوگ باز نہ آئے تو ہم کیا کریں گے اور صحیح صورتحال کا ان کو بھی علم ہوچکا ہوگا اور اس طرح ان کے خاندانوں اور گھر والوں نے بھی ان سے رابطہ کرکے صورتحال سے ان کو آگاہ کیا ہوگا تاکہ وہ اس مشن سے باز آجائیں لیکن جب انہوں نے آپس میں مل کر مشورہ کیا تو ان کو اس علاقہ سے ہجرت کرکے کسی غار میں پناہ گزیں ہوجانے کا راستہ پسند آیا ہوگا اس لئے انہوں نے وہی کیا جس پر ان کے دلوں کو اطمینان ہوا اور وہ یہی تھا کہ وہ اپنا گھر بار چھوڑ کر اور اشیائے ضرورت میں سے جو کچھ لے جاسکتے تھے ساتھ لے کر کسی طے شدہ غار کی طرف چل دیئے اور وہیں انہوں نے مستقل رہائش اختیار کرلی اور شہر سے رابطہ ختم کردیا ، مخالفت کے باعث یقینا لوگوں نے یا حکومت نے ان کی تلاش کی ہوگی لیکن وہ کسی آبادی میں تھے ہی کب کہ کہیں سے مل جاتے آخر کار وہ یہ سمجھ کر کہ کہیں مرکھپ گئے چپ ہوگئے لیکن جو تحریک ایک بار چل چکی ہو اور پھر خلوص نیت کے ساتھ چلائی بھی گئی ہو تو کیا وہ کسی کے مرنے سے ختم ہوجاتی ہے نہیں بلکہ ایسے حالات میں وہ پہلے سے زیادہ پنپنے لگتی ہے اصحاب کہف کے نکلنے کی دیر ہوئی کہ کتنے ہی لوگ مزید پیدا ہوگئے ، اور انہوں نے توحید کا علم کھڑا کردیا اور آہستہ آہستہ حکومت وقت بھی بدل گئی اور آنے والی حکومت نے ان لوگوں کی حیثیت کو بھی تسلیم کرلیا اس طرح عیسائیت کو پھلنے پھولنے کا موقع مل گیا۔
ایک مدت تک وہ غار میں رہے اگرچہ اس مدت کا ذکر قرآن کریم نے نہیں کیا اور نہ ہی کسی صحیح حدیث میں اس کا واضح ثبوت ملتا ہے تاہم لوگوں کی افواہوں میں وہ تین سو سال کی مدت قرار دی گئی اور اس سے کم وپیش کی روایات بھی پائی جاتی ہیں حالانکہ یہ مدت جو بیان کی گئی اس میں بیسیوں کا نہیں بلکہ سینکڑوں کا مبالغہ پایا جاتا ہے ، مختصر یہ کہ لوگوں نے اصل مقصد کی بات تو بالکل بلا دی کہ ” ان لوگوں نے آبادی سے نکل کا غار کی زندگی کو کیوں ترجیح دی ؟ “ اور اس طرح کی بحثیں پیدا ہوگئیں کہ وہ کہ وہ کتنے لوگ تھے ؟ پھر کسی نے تین کا نام لیا اور کسی نے چار ‘ پانچ اور چھ کا اور ساتواں ان کا کتا بیان کیا اور کسی نے ان کی تعداد سات بتائی اور آٹھواں ان کا کتا قرار دیا ، قرآن کریم کے بیان کرنے کا ماحصل یہ تھا کہ لوگوں نے وہ بحثیں شروع کردی جن کے شروع کردینے کا کچھ بھی مقصد نہیں تھا اور پھر روز بروز انہیں میں طول پکڑتے گئے لیکن آج ہمیں تعجب ہے کہ قرآن کریم نے جس بات سے منع کیا تھا اور لوگوں کی جو کمزوری بتائی تھی آج وہی کمزوری بدستور موجود ہے اور ہمارے مفسریں نے انہی روایتوں کو ان آیات کی تفسیر میں لا کر بیان کردیا ہے جو اس وقت لوگوں میں چکر لگاتی نظر آتی تھیں ، اور جن کا کوئی سر پیر نہیں ہے وہی روایتا اور سندا بیان کی جاتی ہیں علمائے اسلام نے تفاسیر میں ان کو اس طرح درج کردیا ہے اور آج ہم مسلمانوں کے ہاں بھی وہ بالکل اسی طرح گردش کرتی ہیں جیسے اس وقت یہودیوں ‘ عیسائیوں اور عربوں کے ہاں گردش کرتی تھیں ، اس وقت ہمارے ہاں جو بہت سلجھے ہوئے اور محقق لوگ سمجھے جاتے ہیں وہ اس واقعہ کو اس طرح نقل کرتے ہیں کہ :
” اسماعیلی عربوں کے مذہب سے متعلق تاریخ کے صفحات یہ شہادت دیتے ہیں کہ ان میں گو کچھ عرصہ باپ دادا کا دین حق یعنی ” ملت ابراہیم “ باقی رہا مگر آہستہ آہستہ مصر وشام اور عراق کے صنم پرستوں کے تعلقات نے عمر بن لحی کے ذریعہ ان میں بت پرستی اور ستارہ پرستی کی داغ بیل ڈال دی اور کچھ عرصہ کے بعد ان عربوں کو شرک پرستی میں ایسا یدطولی حاصل ہوگیا کہ وہ دوسروں کے لئے پیشرو بن گئے ، چناچہ نابت کی اولاد بھی شرک کی گمراہی میں مبتلا ہوگئی اور ان کے مشہور بت ” ذوالشری “ ” لات “ ” منات “ ” ہبل “ ” عمیانس “ اور ” حریش “ تھے (کتاب الاصنام) صدیوں تک نبطی بت پرستی کی اس گمراہی میں مبتلا رہے کہ مسیحی دور کے اوائل میں دارالحکومت (رقیم) کے اندر ایک عجیب معاملہ پیش آیا جس کی تفصیل حسب ذیل ہے ۔ “
” مسیحی مذہب کا ابتدائی دور ہے نبطی حکومت کے اطراف یعنی شام وغیرہ میں عیسائیت کا زور ہے کہ ” رقیم “ کی چند نوجوان سعید روحیں شرک سے بیزار اور نفود ہو کر توحید کی جانب مائل ہوجاتی ہیں اور دین عیسوی کو قبول کرلیتی ہیں ۔ شدہ شدہ یہ بات بادشاہ وقت تک بھی پہنچ جاتی ہے بادشاہ نوجوانوں کو دربار میں بلاتا ہے اور انکشاف کرتا ہے ، نوجوان کلمہ حق بلند کرتے ہیں اور بہت بیباک اور جری ثابت ہوتے ہیں ۔
یہ بات بادشاہ کو ناگوار گزرتی ہے مگر وہ دوبارہ معاملہ پر غور کرنے کے لئے ان کو چند روز کی مہلت دیتا ہے یہ دربار سے واپس آکر آپس میں مشورہ کرتے ہیں طے پاتا ہے کہ خاموشی کے ساتھ کسی پہاڑ کے غار میں پوشیدہ ہوجانا چاہئے تاکہ مشرکوں کے شر سے محفوظ رہ کر عبادت الہی میں مشغول رہ سکیں ، یہ سوچ کر وہ ایک غار میں پوشیدہ ہوجاتے ہیں ، جب وہ غار میں داخل ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان پر نیند طاری کردیتا ہے اور وہ خواب ہی کی حالت میں کروٹیں بدلتے رہتے ہیں ، غار کی بھی عجیب کیفیت ہے کہ اندر سے بہت وسیع ہے مگر قدرت نے اس کو ایسا موقع نصیب کیا ہے کہ زندگی کی بقاء کے قدرتی سامان وہاں سب موجود ہیں ایک طرف دہانہ ہے تو دوسری طرف ہوا گزرنے کے منفذ اور سوراخ ہیں جن کی وجہ سے ہر وقت تازہ ہوا اندر آتی جاتی رہتی ہے ۔ غار شمال وجنوب رویہ ہے اس لئے طلوع و غروب کے وقت آفتاب کی تپش اندر نہیں پہنچ پاتی مگر ہلکی ہلکی روشنی برابر پہنچتی رہتی ہے اور ایسی کیفیت پیدا ہوگئی ہے کہ نہ تاریکی ہی ہے کہ کچھ نظر آئے اور نہ اتنی روشنی ہے کہ کھلے میدان کی طرح جگہ روشن ہوجائے ، اسی حالت میں چند انسان اس غار میں خواب آلود ہیں اور ان کا رفیق کتا اپنے الگے ہاتھ پھیلائے غار کے دہانہ پر باہر کی جانب منہ کر کے بیٹھا ہے ، اس مجموعی صورتحال نے ایسی کیفیت پیدا کردی ہے کہ پہاڑوں کے درمیان غار کے اندر جھانکنے والے انسان پر خوف وہراس کی حالت طاری ہوجاتی ہے اور وہ لوگ کھڑے ہونے پر مجبور ہوجاتا ہے ۔ “
” برسوں تک یہ نوجوان اس حالت میں آرام کے ساتھ محفوظ رہتے ہیں کہ شہر میں انقلاب برپا ہوجاتا ہے رومی عیسائی نبطی حکومت پر حملہ آور ہوتے ہیں اور دشمن کو شکست دے کر اس پر قابض ہوجاتے ہیں اور اس طرح رقیم عیسائیت کے آغوش میں آجاتا ہے اب خدائی مشیت فیصلہ کرتی ہے کہ یہ نوجوان بیدار ہوں ، وہ بیدار ہوجاتے ہیں اور آپس میں سرگوشیاں کرتے ہوئے ایک دوسرے سے دریافت کرتے ہیں کہ ہم کتنی مدت سوتے رہے ایک نے جواب دیا کہ ایک دن اور دوسرے نے کہا یا دن کا بھی کچھ حصہ پھر کہنے لگے کہ ہم میں سے کوئی شہر جا کر کھانا لے آئے اور یہ سکہ لے جائے مگر جو بھی جائے اس لین دین کرے کہ شہر والوں کو پتہ نہ لگ سکے کہ ہم کون ہیں اور کہاں ہیں ؟ ورنہ مصیبت آجائے گی ، بادشاہ ظالم بھی اور مشرک بھی وہ یا تو شرک پر آمادہ اور بےدینی پر مجبور کرے گا یا ہم سب کو قتل کرڈالے گا اور یہ باتیں ہمارے دین و دنیا کو برباد کرنے والی ثابت ہوں گی ۔ “
” اب نوجوانوں میں سے ایک سکہ لے کر شہر کو گیا وہاں دیکھا تو حالات بالکل بدل چکے ہیں اور نئے آدمی اور نیا طور طریقہ نظر آرہا ہے مگر پھر بھی وہ ڈرتے ڈرتے ایک باورچی کی دکان پر پہنچا اور کھانے پینے کی چیزیں خریدیں جب قیمت ادا کرنے لگا تو باورچی نے دیکھا کہ سکہ قدیم ہے ۔ اس طرح آخر بات کھل گئی اور لوگوں کو جب اصل حقیقت معلوم ہوئی تو انہوں نے اس شخص کا خیر مقدم کیا اور اس عجیب و غریب معاملہ سے بہت زیادہ دلچسپی لی کیونکہ عرصہ ہوا کہ یہاں سے مشرک بادشاہوں کا دور ختم ہوچکا تھا اور یہاں باشندوں نے عیسائیت قبول کرلی تھی ، اس شخص نے جب یہ حال دیکھا تو اگرچہ عیسائیت پھیل جانے سے اس کو بیحد خوشی ہوئی مگر اپنے اور اپنے رفیقوں کے لئے یہی پسند کیا کہ دنیا کے ہنگاموں سے علیحدہ رہ کر یاد خدا میں زندگی گزار دیں اس لئے کسی طرح مجمع سے جان بچا کر پہاڑ کی راہ لی اور اپنے رفقاء میں پہنچ کر سب حال کہہ سنایا ، ادھر شہریوں میں ان کی جستجو کا شوق پیدا ہوا اور انہوں نے آخر ان کو ایک غار میں پالیا۔ لوگوں نے اصرار کیا کہ وہ شہر چلیں اور اپنی پاک زندگی سے اہل شہر کو فائدہ پہنچائیں مگر وہ کسی طرح آمادہ نہیں ہوئے اور انہوں نے اپنی عمر کا باقی حصہ راہبانہ زندگی کے ساتھ ہی اس غار میں گزار دیا ۔ “
” جب ان مردان خدا راہبوں کا انتقال ہوگیا تو اب لوگوں میں چرچا ہوا کہ ان کی یادگار قائم ہونی چاہئے چناچہ ان میں جو حضرات ذی اثر اور باقتدار تھے انہوں نے کہا کہ ہم تو ان کے غار پر ہیکل (مسجد) تعمیر کریں گے اور اس طرح غار کے دہانہ پر ایک عظیم الشان ہیکل تعمیر کردیا اور عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت کے مطابق جب اس جوان کے پیچھے بادشاہ وقت اور پبلک کے لوگ سب آئے تو غار کے قریب پہنچ کر وہ یہ نہ معلوم کرسکے کہ جوان کس جانب چلا گیا اور جب بہت جستجو کے بعد بھی اصحاب کہف کا پتہ نہ پا سکے تب مجبور ہو کر واپس ہوگئے اور ان کی یادگار میں پہاڑ پر ایک ہیکل (مسجد) تعمیر کردی ۔ “ (البدایہ والنہایہ جلددوم)
یہ عبارت نہایت محتاط انداز کے ساتھ تحریر کی گئی ہے ورنہ پرانی تفاسیر میں جو کچھ بیان ہوا ہے وہ بڑا عجیب ہے اگر دیکھنا منظور ہو تو تفسیر مظہری میں دیکھ لیں لیکن ہم ان روایات کو درج نہیں کر رہے تاکہ عبارت میں طول نہ ہو ۔
زیر نظر بیان میں سورة کہف کی آیت گیارہ کا ترجمہ ایک بار پھر دیکھیں آیت اس طرح (آیت) ” فضربنا علی اذانھم فی الکھف سنین عددا “۔ اور اس کا ترجمہ کیا گیا کہ ” سو ہم نے غار میں ان کے کانوں پر سالہا سال تک (نیند کا) پردہ ڈال رکھا “۔ ہم نے آیت کے اس حصہ کا ترجمہ کیا ہے ” پس غار میں کئی برسوں تک ہم نے ان کے کان بند کر رکھے ۔ “ یعنی غار سے باہر کے لوگوں کی کوئی صدا ان کے کانوں تک نہیں پہنچتی تھی ، ترجمہ کے اس فرق سے معلوم ہوگیا ہمارے مفسرین نے ان کے غار میں رہنے کو نیند پر محمول کیا یعنی ان پر نیند طاری ہوگئی تھی اور چونکہ نیند کی حالت میں انسان کوئی آواز نہیں سنتا اس لئے اس حالت کو (ضرب علی الاذان) سے تعبیر کیا گیا ہے اور ہم نے اس سے یہ مراد لی ہے کہ انہوں نے نماز کے اندر رہ کر اپنی تحریک کو جاری رکھا اور الگ تھلگ ہو کر عبادت الہی میں مصروف رہے ، اس لئے ان کے بھاگ آنے کا مقصد یہی تھا اور نکلتے وقت جو دعا انہوں نے کی تھی وہ بھی یہی تھی کہ اللہ تعالیٰ ہمارے کام کو آسان فرما دے گا اگر یہاں رہنا دشوار ہوگیا ہے تو کسی ایسی محفوظ جگہ چلے جاتے ہیں جہاں ان لوگوں تک ہماری بات نہ پہنچے اور ان کے شرک کی داستانیں اور افعال ہمارے لئے تکلیف کا باعث نہ ہوں اور ظاہر ہے کہ ان کا کام قوم سے الگ تھلگ ہو کر سونا نہیں تھا بلکہ اپنی تحریک کو جاری رکھنا تھا کیونکہ یہ فطری بات بھی تھی اور مقصود ومطلوب بھی ۔
اصل یہ ہے کہ اصحاب کہف کا جو قصہ عام طور پر مشہور ہوگیا تھا وہ یہی تھا کہ وہ غار میں برسوں تک سوئے رہے اس لئے یہ کوئی عجیب بات نہیں کہ بعد کو بھی اسی طرح کی روایتیں مشہور ہوگئیں ، عرب میں قصہ کے اصل راوی شام کے نبطی تھے اور ہم دیکھتے ہیں کہ اس قصہ کی اکثر تفصیلات تفسیر کے انہی راویوں پر جا کر منتہی ہوتی ہیں جو اہل کتاب کے قصوں کی روایت میں مشہور ومعروف ہوچکے ہیں ، مثلا ضحاک اور سری ، اس لئے انہی روایتوں کی بنا پر مفسرین کا خیال نیند کی طرف چلا گیا ورنہ قرآن کریم میں کوئی ایسا لفظ نہیں جس کے معنی یہاں نیند کے کئے گئے ہوں اور یہ روایتیں اس پایہ کی نہیں کہ ان کو قرآن کریم کے الفاظ کی تفسیر سمجھ لیا جائے اگر کوئی شخص ان کو قبول کرتا ہے تو دوسرا ان کو رد بھی کرسکتا ہے اور اس قبول ورد سے اسلام پر کچھ اثر نہیں ہوتا ۔ ہاں ! جو بات عوام میں مشہور ومعروف ہو اس کا ماننا اور تسلیم کرنا آسان ہے اور جو بات معروف نہ ہو اس کا منوانا اور پیش کرنا نہایت مشکل ‘ اسی لئے علمائے اسلام نے زیادہ تر یہی طرز اختیار کیا ہے کہ جو بات عوام میں مشہور ومعروف ہے اس کی ترجمانی کرکے اس کو مزید پکا کردیتے ہیں اور اس میں وہ خیرسمجھتے ہیں و اور استروں کی مالا کو گلے کا ہار بنانے کے لئے وہ تیار نہیں ہوتے اور اپنے دل بہلانے کے لئے بہانہ یہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے اپنی طرف سے تو کچھ بیان نہیں کیا جو کچھ ہم نے کہا وہ وہی ہے جو فلاں فلاں نے کہا اس لئے اس کی ذمہ داری ان لوگوں پر ہے ہم پر نہیں ۔ پھر دوسروں کی ذمہ داری ہم اپنے سر کیوں لیں ؟ اسی ہوتے ہوتے ایک بات بعد میں آنے والوں کے لئے پختہ دلیل ہوجاتی ہے ۔
” قرآن کریم نے جن باتوں کو عام لوگوں کی باتیں کہہ کر بیان کردیا ہے لوگ سمجھتے ہیں کہ قرآن کریم نے ان باتوں کی تصدیق کردی ہے کہ یہ باتیں اس طرح واقعہ ہوئی ہیں ۔ حالانکہ قرآن کریم کے الفاظ خود یہ بتا رہے ہوتے ہیں یہاں کس بات کی تصدیق کی ہے اور کس کی تردید ؟ لیکن قصہ گو قصہ کو بیان کرتے وقت ان باتوں کو بالکل نظر انداز کردیتے ہیں وہ تو صرف یہ دیکھتے ہیں کہ اس طرح بیان کرنے سے ایک دلچسپ بات بنتی ہے یا نہیں پھر وہ وہی بات سچی تسلیم کرتے ہیں جس کی طرف لوگوں کی دلچسپی بڑھتی ہے تاکہ اس دلچسپی کے باعث فریقین کی دنیوی اغراض بھی پوری ہوں اور عوام کے ذہنوں کی ترجمانی بھی ہوجائے تاکہ عوام ان کا ساتھ دیں اور ان کی حمایت کریں ، مثلا اس قصہ کو لے لیجئے قرآن کریم نے ان کی تعداد کو بیان کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ لوگ مختلف بیان دیتے ہیں لیکن ان کی تعداد کو اللہ کے سوا اب کوئی نہیں جانتا صرف اتنی بات فرمائی کہ وہ چند نوجوان تھے ، پھر لوگوں کے اختلافی اقوال کا ذکر کنے کے بعد واضح الفاظ میں ارشاد فرمایا کہ (آیت) ” قل ربی اعلم بعدتھم “ لیکن آج بھی بڑے زور وشور سے ان کی گنتی بتاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ قرآن کریم میں لکھا ہے کہ ان کی تعداد سات تھی اور آٹھواں ان کا کتا تھا۔
قرآن کریم نے ان کے غار میں رہنے کی مدت کے متعلق کوئی وضاحت نہیں کی کیونکہ یہ وضاحت طلب مسئلہ نہیں تھا لیکن لوگوں کا جملہ نقل فرمایا کہ لوگ کہتے ہیں کہ وہ غار میں تین سو سال تک سوتے رہے اور بعض کہتے ہیں کہ 309 سال تک رہے اور بڑی وضاحت سے فرمایا کہ
(آیت) ” قل اللہ اعلم بما لبثوا لہ غیب السموات والارض)
” آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ میرا پروردگار ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ کتنی مدت تک رہے وہی آسمان و زمین کی ساری پوشیدہ چیزوں کو جانتا ہے “۔
لیکن لوگوں آج بھی یہ بات معروف ہے کہ وہ غار میں تین سو سال یا ساڑھے تین سو سال سوئے رہے ۔ اس تقابل سے ہمارا مطلب فقط یہ ہے کہ یہ جو باتیں عوام میں معروف ہوتی ہیں وہ بغیر کسی دلیل کے کہی جاتی ہیں اور علماء کرام ان باتوں کی فقط ترجمانی کرتے رہتے ہیں اور حققتی حال کو بہت کم واضح کرتے ہیں کیوں ؟ اس لئے کہ عوامی نظریات کے خلاف کوئی بات کرنا لوہے کے چنے چپانے کے مترادف ہوتی ہے اور وہ مشکل سے بھی چبائے نہیں جاسکتے ۔
قرآن کریم نے صرف یہ اشارہ دیا کہ اصحاب کہف نے اپنے ایک آدمی کو شہر میں اشیائے خوردنی خریدنے کے لئے روپیہ دے کر روانہ کیا اور تاکید کی کہ اپنی حالت اور اپنا مقام کسی کے سامنے بیان نہ کرنا ، لیکن مفسرین نے عوامی سطح کی بات کو بڑی وضاحت سے بیان کیا کہ چونکہ ساڑھے تین سو سال گزر رہے تھے اس سکہ کو لہذا اس کو دیکھتے ہی لوگوں نے اس کو پکڑ لیا کہ تجھے کوئی خزانہ ملا ہے یا یہ کہ تم لوگ کون ہو اور اس استفار سے وہ پکڑ لئے گئے اور انجام کار اس کو غار تک جب لے گئے اور وہ اندر داخل ہوا تو وہ لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہوگیا اور دوسرے غار والوں پر بھی اللہ نے ایسا پردہ ڈالا کہ کسی کو دیکھنے ہی نہیں دیا اور لوگ حیران و ششدر خالی ہاتھ واپس لوٹ آئے اور اس وقت ہمارے مفسریں یہ بات بالکل بھول گئے ابھی اوپر آیت گیارہ میں ہم نے ” گنتی کے چند سال “ جو کہے تھے اور یہاں تین سو سال کا ذکر کر رہے ہیں کیا ” گنتی کے چند سال “ تین سو سال کی مدت مدید کو بھی کہا جاسکتا ہے ، پھر آخر دونوں اقوال میں صحیح کونسا ہے اور غلط کونسا ؟ یہ یا وہ ‘ شاید آپ کہیں گے کہ آیت گیارہ میں ” گنتی کے چند سال “ صحیح ہے اور آیت 26 میں ” تین سو نوسال “ صحیح ہے کیوں ؟ اس لئے کہ لوگ اس طرح کہتے آئے ہیں ‘ سبحان اللہ ۔
قرآن کریم کے اس واقعہ کے بیان سے مقصود اصلی ان کے سوال کا جواب بھی تھا اور یہ بتانا بھی تھا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئی ہوئی ہدایت کسی حال میں بھی رک نہیں سکتی بلکہ جو لوگ روکنے کوشش کرتے ہیں وہ خود اپنے وقت پر ختم ہوجاتے ہیں اور تحریک یقینا کامیاب ہوتے ہے اور یہی بات اصحاب کہف کے ساتھ بھی ہوئی جیسا کہ آیت 10 ‘ 11 میں ان کی کامیابی کی خبر سنائی گئی لیکن ہماری مفسرین نے اس کا نتیجہ یہ نکالا کہ ان کی غار کا منہ بند کر کے اس طرح عمارت بنا دی کہ ان کے لئے باہر آنے جانے کا کوئی راستہ نہ رہا اور اس طرح وہ غار کے اندر ہی رہ کر مر گئے گویا کامیابی کی بجائے ناکامی کی موت مرے ۔ چونکہ تفصیلات اس قصہ کی بہت لمبی ہیں ہمارے پاس نہ وقت ہے نہ ضرورت محسوس ہوتی ہے اس لئے ان الفاظ پر اس کو ختم کر رہے ہیں کہ ” قرآن کریم کی تفسیر کے لئے جو مقصد تھا وہ بہت کم لوگوں نے یاد رکھا اور ان باتوں کی بہت لمبی چوڑی تشریح شروع کردی جن کی امت کو ضرورت نہ تھی اور جن باتوں کی ضرورت تھی ان پر بہت کم دھیان دیا ۔ “ اللہ ان پر رحم فرمائے اور ہمیں سیدھی راہ کی توفیق بخشے کہ وہی ہے جو انسانوں کی لغزشوں سے در گزر کرنے والا ہے ۔
Ayah 18:27آپ کتاب اللہ میں لگے رہیں اور یقین جانیں کہ اللہ کی باتیں بدلا نہیں کرتیں :
29۔ لوگ باتیں کرتے ہیں رہتے ہیں اور گزشتہ باتوں میں افراط وتفریط کا احتمال یقینی ہے جو باتیں آپ کو بتائی گئی ہیں خصوصا ان لوگوں کے متعلق جو اصحاب کہف کے نام سے معروف ہیں وہ تو حقیقت ہے اور ان کو اس آیت میں بیان کردیا ہے جس رنگ میں وہ معرض وجود میں آئیں لیکن جب لوگ ان کو سنیں گے تو کیا وہ تصدیق کردیں گے نہیں جن لوگوں نے پہلے تہیہ کیا ہو کہ فلاں کی بات کو ہم نہیں تسلیم کریں گے تو وہ تسلیم نہیں کرسکتے ، سوال کرنے والے ضروری نہیں کہ اس وجہ سے سوال کریں کہ ہمیں حق اور ناحق کا پتہ چل جائے بلکہ کوئی بات ان کے دماغ کے خانہ میں محفوظ ہوئی جو انہوں نے کہیں سے سن کر اس کو محفوظ کرلیا ہے اب جب وہ کسی دوسرے سے پوچھتے ہیں تو دراصل ان کا مقصد امتحان کرنا ہوتا ہے اور وہ تصدیق اس وقت کرتے ہیں جب ان کے ذہن کی ترجمانی کی جائے اگر ان کی سنی ہوئی بات کے ذرا بھی کچھ خلاف ہوا تو وہ جھٹ انکار کردیں گے ، کوئی پوچھے کہ کیا تم اس وقت پاس تھے جب وہ واقعہ ہوا تھا لیکن ایسا سوال کون کرے گا اور کون اس کو تسلیم کرے گا لہذا ہوتا یہی ہے کہ انسان ہمیشہ اپنی سنی ہوئی بات کے پیچھے لگا رہتا ہے اور اس کو صحیح کرنے کے لئے دلیلیں گھڑتا اور پیش کرتا رہتا ہے یہی کچھ یہ لوگ بھی کریں گے ، آپ اے رسول ﷺ اس بات کو یاد رکھیں جو آپ ﷺ کو بتائی گئی اور اس کتاب کو پڑھ کر سناتے رہیں اور یہ خیال میں رکھیں کہ اللہ کی باتیں بدلا نہیں کرتیں جو کچھ آپ ﷺ کو سنایا گیا وہ حق ہے اور آپ ﷺ کی اپنی تحریک کا بھی بالکل وہی انجام ہوگا اس لئے کہ وہ بھی ہمارے پروگرام سے شروع ہوئی ہے اور انجام کار اللہ کے سوا کوئی جائے پناہ نہیں ہے باقی سب پناہ گاہیں عارضی اور فانی ہیں (ملتحدا) ایک طرف مائل ہونے کہتے ہیں اور ظاہر ہے کہ جس سے انسان پناہ چاہتا ہے اس کی طرف مائل ہوتا ہی ہے لہذا اللہ کی ذات کی طرف مائل ہونے والے کا مائل ہونا ہی صحیح اور درست ہے کیونکہ اس کی ذات کے سوا کوئی صحیح جائے پناہ نہیں اللہ ہم سب کو اپنی پناہ میں رکھے ۔
Ayah 18:28جو صبح وشام اللہ کی یاد میں مصروف ہیں انہی کے ساتھ رہنے کی ہدایت الہی :
30۔ اللہ کی یاد میں صبح وشام مصروف رہنے سے ان واقعات کا حصر نہیں بلکہ ہمہ وقت مصروف رہنے کی ہدایت ہے ، اللہ کی یاد میں مصروف رہنے والے کون ہیں ؟ وہی غریب اور مساکین جو عمر کے لحاظ سے زیادہ پختہ نہیں تھے اور مال و دولت کے لحاظ سے ادنی اور مزدور تھے یعنی بلال ؓ ، صہیب ؓ ‘ عمار ؓ ‘ خباب ؓ اور ابن مسعود ؓ جیسے لوگ ۔
قریش مکہ کو دوسرے اعتراضوں کے ساتھ ایک یہ بھی اعتراض تھا کہ آپ کی صحبت میں بیٹھنے والے وہ لوگ ہیں جن کے ساتھ مل کر بیٹھنے کے لئے کوئی قریشی سردار تیار نہیں کم از کم آپ کو ہمارا خیال ہوتا تو کچھ تو ہماری رعایت کی جاتی ۔ جب ہم میں سے کوئی آپ کے پاس جاتا تو کسی دوسرے کو آپ کے پاس آنے کی اجازت نہ ہوتی ، رب کریم کی طرف سے ان کو جواب دیا جا رہا ہے کہ تم لوگوں نے یہ کیسے منہ بھر کر کہہ دیا کہ ان لوگوں کے ساتھ مل کر ہم نہیں بیٹھ سکتے یہی تو وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے منظور نظر ہیں اور تمہارے دلوں میں جن کی کوئی وقعت نہیں انہی لوگوں کو اللہ کے فرشتے بھی سلام کرتے ہیں اور یہی تو وہ ہیں جو عرش کے سائے میں آنے والے ہیں اور آسمان کے ستاروں سے بھی ان کا بلند مقام ہے اس آیت میں بھی خطاب اگرچہ رسول اللہ ﷺ کو ہے لیکن دراصل سنایا سرداران قریش ہی کو جارہا ہے اور قرآن کریم میں یہ انداز خطاب عام ہے ۔
قرآن کریم میں جہاں اور جس مقام پر بھی اللہ تعالیٰ کے لئے (وجہ) کی نسبت کی گئی ہے وہاں اللہ تعالیٰ کی رضا مراد ہے چونکہ انسان کی خوشی اور ناخوشی کا احساس اس کے چہرہ سے فورا ہوتا ہے اس لئے یہ لفظ رضا اور مرضی کے لئے عام طور پر بولا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ ہر طرح کے جسم اور جسم کی کیفیت وماہیت سے پاک ہے اس لئے اس کی طرف اس لفظ کی نسبت سے اس کی رضا ہی مراد لی جاسکتی ہے ۔ فرمایا یہ جا رہا ہے کہ وہ لوگ جو اللہ کی رضا کے لئے اسلام لاتے ہیں اور اس کی رضا کے لئے اس کو اپنی حاجات میں پکارتے ہیں اور اس سے دعائیں مانگتے ہیں اور ہمہ وقت اس کی یاد میں رہنے والے ہیں آپ ﷺ کی نظریں ان سے مطلق نہ پھریں ورنہ اس کا مطلب لیا جائے گا کہ آپ ﷺ دنیا کی دل فریبیوں میں مبتلا ہیں ، اتنا سخت جملہ بول کر قریش مکہ کے سرداروں کو چوکنا کردیا گیا کہ وہ آئندہ ان خیالات کا رسول ﷺ کے سامنے اظہار بھی نہ کرسکیں کیونکہ ایسی بات سننا بھی اسلام میں گوارا نہیں ہے لہذا آئندہ لوگ خود متنبہ رہیں اور ایسی بات زبان تک نہ لائیں ۔
اللہ کی یاد سے غافل لوگوں کی طرف آپ ﷺ آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھیں :
31۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے غافل رہنے والے انسان دنیوی زندگی کے لحاظ سے کتنے ہی بڑے دکھائی دیں لیکن اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کی کوئی قدر و قیمت نہیں ، چونکہ دنیا کا رواج کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے کہ انہی کی بات چلتی ہے جن کے پاس مال و دولت ‘ برادری ‘ خاندان اور عزت ووقات ہوتا ہے دوسروں کے بارے میں یہی کہا جاتا ہے کہ ان کا نہ بات ہے نہ دادا اور اسی طرح یہ بھی کہا جاتا ہے ، بات تو انہیں کی چلتی ہے ، کوئی پوچھتا بلاتا ہے تو انہی کو جن کے پاس دنیوی زندگی کی فراوانیاں ہیں ، اس کے پیش نظر اس جگہ فرمایا جارہا ہے کہ جن لوگوں کے دل یاد الہی سے غافل ہیں اور وہ دنیا کی ہو ہوا میں مگن ہیں گویا وہ اپنی کو اہشات کے بندے ہیں اور زیادتی سے وہ باز آنے والے نہیں ان کا ہر کام زیادتی پر مبنی ہے آپ ﷺ ان کی طرف کبھی مائل نہ ہوں ۔
قرآن کریم کے اس حکم کو دوبارہ پڑھیں ارشاد فرمایا ” جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا ہے اور وہ اپنی خواہش کے پیچھے پڑگیا ہے تو تم ایسے آدمی کی باتوں پر کان نہ دھرو اس کا معاملہ حد سے گزر گیا ہے ۔ “ اب غور کرو کہ کیا ایسے لوگ اب بھی ہیں یا نہیں ” جن کے دل اللہ کی یاد سے غافل ہیں ؟ “ اگر ہیں تو کیا ہم انہیں کی باتوں پر کان دھرتے ہیں یا نہیں ؟ اچھا ہمارے عوام تو عوام ہیں ہی ہمارے خواص کا کیا حال ہے ؟ پھر خواص میں سے بھی وہ جو مذہبی پیشوا ہیں وہ کیا کر رہے ہیں ؟ ایک بار پھر غور کرلو اور سوچ کر بتاؤ کہ اس ملک عزیز میں جتنے ایم ، پی ، اے اور ایم ۔ این ۔ اے ہیں ۔ گورنر ‘ وزیر اعلی ‘ وزیراعظم اور ان کے سارے وزیر ومشیر ہیں ان کے دل ” اللہ کی یاد سے غافل ہیں یہ نہیں ؟ “۔ قانون تو بہرحال قانون ہے خواہ کہیں کا بھی ہو لیکن قانون کے علاوہ بھی ہم انہیں لوگوں کی باتوں پر کان دھرتے ہیں یا نہیں ؟ پھر عوام تو عوام ہیں ہی ہمارے مذہبی رہنما اور مذہبی جماعتوں کے امیر وصدور بھی انہی لوگوں کی باتوں پر کان دھرتے ہیں یا نہیں ؟ اگر دھرتے ہیں تو یہ حکم جو قرآن کریم نے دیا ہے یہ کن کے لئے ہے ؟ فرشتوں کے لئے ‘ جنوں کے لئے ‘ انسانوں کے لئے یا خصوصا مسلمانوں کے لئے ؟ اگر مسلمانوں کے لئے ہے تو کیا ہم انسان نہیں یا مسلمان نہیں ؟ ہاں ! ہمارے مذہبی راہنما اور پیشوا اور امیر وصدور انسان نہیں یا مسلمان نہیں ؟ ان ڈھیر سارے سوالوں کا جواب قارئین کے ذمہ امانت ہے اور امانت میں خیانت کسی مذہب وملت میں بھی جائز نہیں ۔