18. Surah Al-Kahf

الكهفThe Cave · 110 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 18:98

قَالَ هٰذَا رَحْمَةٌ مِّنْ رَّبِّیْ١ۚ فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ رَبِّیْ جَعَلَهٗ دَكَّآءَ١ۚ وَ كَانَ وَعْدُ رَبِّیْ حَقًّاؕ Open ayah 18:98 in the Quran reader

ذوالقرنین نے کہا یہ میرے پروردگار کی مہربانی ہے جب میرے پروردگار کی بات ظہور میں آئے گی تو وہ اسے ڈھا کر ریزہ ریزہ کر دے گا اور میرے پروردگار کی بات سچ ہے جو ٹلنے والی نہیں

ذوالقرنین کے عقائد کا اظہار اس کی اپنی زبان سے : 104۔ اس دیوار کی تکمیل کے بعد ذوالقرنین کا جو بیان قرآن کریم نے درج کیا ہے اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ذوالقرنین اللہ تعالیٰ اور روز قیامت کا قائل تھا کہ اس نے اتنا بڑا کارنامہ سرانجام دے کر بھی اپنا کوئی کمال تسلیم نہیں کیا بلکہ یہ کہا کہ ” میرے پروردگار کی فرمائی ہوئی بات پوری ہوئی اور وہی جب چاہے گا اس کو منہدم کردے گا اور میرے پروردگار کی فرمائی ہوئی بات بالکل سچ ہے جو کبھی ٹلنے والی نہیں “ بات بالکل واضح ہوگئی کہ ذوالقرنین ایک بہت بڑا فاتح ہونے کے باوجود اپنے سارے کاموں کا انحصار اپنی ذات پر نہیں بلکہ اللہ کی ذات پر رکھتا ہے اور جو کچھ اس کے پاس ہے اس کو اللہ تعالیٰ کا انعام تصور کرتا ہے اور یہ بھی مانتا ہے کہ روز جزاء یقینا ہے اور ہم سب کو اپنے اپنے اعمال کا جواب اللہ کے حضور پیش کرنا ہے یہی نظریات ہیں جو اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ وہ اللہ کا ایک نیک سیرت ونکت کردار بندہ تھا اور یقینا وہ زردشت کی لائی ہوئی تعلیمات کا ماننے والا تھا اور اس کی حکومت حکومت الہی کہلانے کی مستحق تھی اور آج مسلمان فرمانرواؤں کو اس کی دی ہوئی اور قائم کی ہوئی ہدایات سے فائدہ حاصل کرنا چاہئے اور اس کی قائم کردہ فرمانروائی روایات کو قائم کرنا چاہئے اور خصوصا اموال کو اموال الہی قرار دے کر ذاتی ملکیتوں کو کم کرکے ملکی ملکیتوں کی حفاظت ونگرانی کرنی چاہئے اور یہ بھی کہ اپنے ذاتی بینک بیلنس سے رقمیں نکلوا کر قومی خزانہ میں رکھنی چاہئیں اور قوم کی بھلائی کے کاموں کو (اپنے ذاتی کاموں سے بھی اولیت دینی چاہئے ، اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو وہ سکندر ‘ دارا اور ہلاکو تو ہوسکتے ہیں لیکن ذوالقرنین نہیں بن سکتے ۔ زیر نظر آیت 98 پر ذوالقرنین کا قصہ ختم ہو رہا ہے اور بلاشبہ یہ قصہ کفار مکہ کے سوالات پر سنایا گیا ہے تاہم گزشتہ دونوں قصوں کی طرح قرآن کریم نے اس طرح اس کو بیان کیا ہے کہ اس کا اپنا مدعا بھی اس سے واضح ہوتا چلا گیا ہے اور سوال کرنے والوں کو بتایا گیا ہے کہ ذوالقرنین جس کی عظمت کا حال تو تم نے اہل کتاب سے سنا ہے وہ محض ایک فاتح ہی نہیں تھا بلکہ توحید الہی اور آخرت کو ماننے والا تھا اور عدل و انصاف اور فیاضی میں ضرب المثل اور تمہاری طرح کم ظرف اور اپنی شاہی وسرداری پر اس کی ذرا بھر بھی ناز نہیں تھا اور اس میں تمہاری طرح نخوت وتکبر نام کی کوئی چیز موجود نہیں تھی ۔ تفسیر ہو یا تاریخ ہمارا سارا انحصار سلف پر ہے اور ہمارے ہاں براہ راست قرآن وحدیث سے استفادہ کرنا حرام قرار دیا گیا ہے جس مکتبہ فکر کے آدمی سے بات کرو وہ یہی کہے کہ اس معاملہ میں ہمارے سلف نے کیا کہا ، حکایتا عرض ہے کہ ایک دفعہ ایک مولانا نہیں بلکہ حضرت العلام سے میری بات ہورہی تھی ‘ میں نے قرآن کریم کی آیت (آیت) ” قل ان کان للرحمن ولد فانا اول العابدین “۔ (الزخرف 43 : 81) کا ترجمہ اس طرح کردیا ” ان سے کہو اگر واقعی رحمن کی اولاد ہوتی تو میں سب سے پہلے اس کا انکار کرتا ۔ “ تو وہ چونک گئے اور ذرا توقف کے بعد جو کچھ وہ مجھے کہہ سکتے تھے کہہ گئے اور آخر الکلام انہوں نے ’ لاحول “ پڑھا اور تشریف لے جانے لگے تو میں نے پکڑ لیا اور عرض کیا حضرت میں نے یہ ترجمہ اپنی طرف سے نہیں کیا بلکہ سلف سے سنا ہے پھر ” سلف ہی سے سنا ہے “ کے لفظ کو بھی وہ برداشت نہ کرسکے اور جزبز ہوتے نکل گئے حالانکہ ” سلف ہی سے سنا ہے “ کا مطلب یہ نہیں تھا کہ میری ملاقات سلف میں سے کسی سے ہوئی تھی مطلب میرا یہی تھا کہ سلف میں سے امام بخاری (رح) نے اس کا ترجمہ اس طرح تحریر کیا ہے ایسے مولاناؤں پر ” لاحول “ نہ بھیجی جائے تو اور کیا جو کسی کی بات سننے کے لئے تیار نہ ہوں ۔ اس وقت ذکر ہو رہا تھا ذوالقرنین کا اور ذوالقرنین کی شخصیت کو سمجھنا تو ایک بڑی بات ہے صرف اس نام کی وجہ تسیمہ پر جو سلف نے تحریر کیا ہے نمونہ کے لئے یہی کافی ہے اور سیکھنے والا اس سے بہت کچھ سیکھ سکتا ہے چناچہ یہ بحث اٹھائی گئی کہ ذوالقرنین کو ذوالقرنین کیوں کہتے ہیں ؟ اس کے مختلف جواب دیئے گئے ہیں جن کی فہرست اس طرح ہے کہ : 1۔ اس لئے کہا گیا ہے کہ وہ روم وفارس دو مملکتوں کا مالک تھا اور (قرن) جس کے معنی سینگ ہیں بطور استعارہ کے طاقت و حکومت کے معنوں میں استعمال ہوا ہے یعنی دو حکومتوں کا والی اور مالک تھا اس لئے اس کو ” ذوالقرنین “ کہا گیا (بعض مفسرین کا یہی قول ہے) 2۔ وہ فتوحات کرتا ہوا چونکہ اقصائے مشرق ومغرب تک پہنچا اور دونوں جہات میں بہت سے ممالک پر قابض و مسلط ہوا (زہری کا قول) 3۔ اس کے سر میں دونوں جانب سینگ کے مشابہ دو غدود ابھرے ہوئے تھے (وہب بن منبہ) 4۔ اس کی زلفیں دراز تھیں اور وہ ہمیشہ بالوں کے دو حصے کرتا اور انکی پٹیاں گوندھ کر دونوں کندھوں پر ڈالتے رکھتا تھا ان دونوں کو (قرن) سے تشبیہہ دے کر یہ لقب دیا گیا ہے ۔ (منسوب بہ حسن بصری (رح) 5۔ اس نے ایک جابر بادشاہ کو توحید کی دعوت دی بادشاہ نے غضبناک ہو کر اس کے سر کی ایک جانب ایسی چوٹ لگائی کہ وہ مرگیا پھر اس نے دوبارہ زندہ ہو کر تبلیغ کرنا شروع کردی اس دفعہ دوسری طرف چوٹ لگا کر بادشاہ نے اسے ہلاک کردیا اس طرح اس کے سر پر دو نشان پڑگئے اس وجہ سے اس کا یہ لقب قرار پایا ۔ (منسوب بہ حضرت علی ؓ 6۔ وہ نجیب الطرفین تھا اس لئے والدین کی نجابت کو قرنین کے ساتھ تشبیہ دی گئی ۔ 7۔ اس نے اس قدر طویل عمر پائی کہ انسانی دنیا کے دو قرن یعنی صدیوں تک زندہ رہا ۔ 8۔ وہ جنگ میں دونوں ہاتھوں سے تلوار چلاتا تھا اور دونوں پاؤں سے بھی ٹھوکر لگاتا تھا ۔ 9۔ اس نے زمین کی تاریکی اور روشنی دونوں حصوں کی سیاحت کی تھی ۔ 10۔ وہ ظاہر و باطن دونوں علوم کا حامل تھا (یہ سب اقوال فتح الباری ج 6 ‘ تاریخ ابن کثیر ج 2 میں ہیں) یہ تو نام کے متعلق ہے اور جو کچھ اس کے کام کے متعلق ہے وہ اس سے بھی زیادہ دلچسپ اور زیادہ وضاحت سے منقول ہے اور پھر مثل ہے کہ ” شنیدہ کے بوددیدہ “
Ayah 18:99

وَ تَرَكْنَا بَعْضَهُمْ یَوْمَئِذٍ یَّمُوْجُ فِیْ بَعْضٍ وَّ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَجَمَعْنٰهُمْ جَمْعًاۙ Open ayah 18:99 in the Quran reader

اور جس دن وہ بات ظہور میں آئے گی تو ایک قوم دوسری قوم کے درمیان بسنے لگے گی اور نرسنگھا پھونکا جائے گا اور اس وقت ساری قوموں کی بھیڑ اکٹھی ہوجائے گی

وہ دن آئے گا تو ہم قوموں کو سمندر کے پانیوں کی طرح چلادیں گے ۔ 105۔ گزشتہ آیت میں ” ذوالقرنین “ نے جو اشارہ قیامت کے وعدہ برحق کی طرف کیا تھا اس کی مزید تشریح فرما دی اور فرمایا کہ جب مقررہ وقت آئے گا تو یہ ساری قومیں نکلیں گی اور وہ سمندر کی موجوں کی طرح ایک دوسرے پر آپڑیں گی پھر ایک وقت آئے گا جب سب کو اکٹھا ہوجانا ہے اور اس وقت منکرین حق دیکھ لیں گے کہ دوزخ ان کے سامنے ہے ، اس وقت جب لوگوں کو جمع کرنا مقصود ہوتا تھا تو نرسنگھا پھونکا جاتا تھا اور اس کی آواز سنتے ہی ہر گوشہ سے لوگ نکل آتے تھے فرمایا ایک ایسی ہی بات اس روز بھی ہونے والی ہے ۔ ‘ نرسنگھا پھونکا جائے گا کہ سب لوگ نکل آئیں گے ۔ قرآن کریم میں قیامت کے ذکر میں صور پھونکنے کا بار بار ذکر آیا ہے ۔ (آیت) ” فاذا نفخ فی الصور “ پھر جب صور پھونکا جائے گا ۔ اس لفظ (صور) کے معنی نرسنگھا کے ہیں اور اصل اس کی یہ ہے کہ قدیم الایام میں بابلیوں ‘ کنعانیوں ‘ آرامیوں اور عبرانیوں وغیرہ تمام پرانی قوموں میں بادشاہ جلال وجلوس اور اعلان جنگ کے علاقوں پر نرسنگھا پھونکا جاتا تھا اس لئے نرسنگھا پھونکنے کے معنی شاہی جلال کا اظہار یا غیر معلولی خطرہ کا اعلان سمجھا جاتا تھا اس کے پیش نظر قرآن کریم میں یہ الفاظ بولے گئے جس کے معنی دراصل سب لوگوں کو اکٹھا کرنے کے ہیں ۔
Ayah 18:100

وَّ عَرَضْنَا جَهَنَّمَ یَوْمَئِذٍ لِّلْكٰفِرِیْنَ عَرْضَاۙ Open ayah 18:100 in the Quran reader

اس دن ہم منکروں کے سامنے دوزخ اس طرح نمودار کردیں گے جیسے ایک چیز بالکل سامنے دکھائی دے

دوزخ کو منکرین کے سامنے پیش کیا جائے گا : 106۔ انسان جب عدم حفظ صحت کی غلط کاریوں کے سبب بیماری ہوجاتا ہے تو اکثر یہی سمجھا جاتا ہے کہ فطرت نے اس کو ان کے معاوضہ میں بیماری میں بیماری کی تکالیف کی سزائیں دی ہیں مگر واقعہ یہ نہیں ہے کہ ان غلط کاریوں کے جو برے نتائج انسان کے جسم کے اندر پیدا ہوگئے ہیں ان کو دور کرنے کے لئے جسم جدوجہد کرتا ہے بس اس لڑائی کا نام بیماری اور اس لڑائی کی کشمکش کا نام بیماری کی تکالیف وآلام ہے جن کو ہم درد سر ‘ درد شکم ‘ اعضا شکنی اور بےخوابی وغیرہ کے الفاظ سے تعبیر کرتے ہیں یہی روحانی بیماریوں کا حال ہے جن کو ہم اصطلاح شرعی میں گناہ اور جن کے نتائج بد کو ” عذاب “ کہتے ہیں یہ نتائج آتش دوزخ اور اس کے شدائد وآلام کی صورت میں ظاہر ہوں گے جن کا منشا یہ ہوگا کہ روح انسانی اپنی غلط کاریوں کے نتائج بد کو دور کرنے کے لئے جدوجہد میں مصروف ہوگی وہ ان سے عہدہ بر آ ہوگی ، رب ذوالجلال والاکرام کی رحمت سے سرفرازی پا کر اس عذاب سے نکل کر موروثی بہشت میں داخل ہوگی ۔ لیکن غور کرو کہ اگر کوئی شخص اس کے وجود ہی سے انکار کر دے اور پھر بیمار ہوجائے تو کیا کریں گے یہی کہ اس کو اس دروازے پر لا کر کریں گے اور اس کو وہاں داخل کرا کر جو علاج اس کے مناسب ہوگا وہ شروع کردیں گے ، اس لئے دوزخ کے نہ ماننے والوں کو جب دوزخ کے دروازے پرلا کھڑا کیا جائے گا تو یہ ان سے استفسار ہی ہوگا کہ یہ وہی ہسپتال ہے جس کا تم انکار کیا کرتے تھے اور اب اسی شفاخانہ میں تمہارا علاج کیا جائے گا اور کڑوی سے کڑوی دوا پیناپڑے گی ۔ بدمزہ سے بدمزہ کھانا کھانا ہوگا ضرورت پڑی تو نشتر بھی تم پر چلائے جائیں گے اور یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی اعضاء ہی کاٹ دینا پڑے ، کیا اب تم اس کا انکار کرسکتے ہو ؟
Ayah 18:101

اِ۟لَّذِیْنَ كَانَتْ اَعْیُنُهُمْ فِیْ غِطَآءٍ عَنْ ذِكْرِیْ وَ كَانُوْا لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَمْعًا۠ Open ayah 18:101 in the Quran reader

وہ منکر جن کی نگاہوں پر ہمارے ذکر سے پردہ پڑگیا تھا اور (کانوں میں ایسی گرانی کہ) کوئی بات سن نہیں سکتے تھے

یہ مریض کس مرض میں مبتلا تھے ؟ فرمایا وہی جو میری نصیحت کی طرف سے اندھے تھے : 107۔ یہ کون لوگ ہیں ؟ فرمایا وہی جو میری نصیحت کی طرف سے اندھے بنے ہوئے تھے اور کچھ سننے کے لئے تیار ہی نہ تھے ، ان کو ایک بار نہیں بلکہ بار بار نصیحت یاد دلائی جاتی رہی لیکن ان کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی اور ان کی آنکھوں پر ایسا پردہ پڑا تھا کہ یہ سب کچھ دیکھنے کے باوجود کچھ نہیں دیکھتے تھے دنیوی زندگی نے ان کی آنکھوں پر پردہ ڈالا ہوا تھا اور اب ان سے کہا جا رہا ہے کہ ” اس چیز کی طرف سے تم غفلت میں تھے آج ہم نے تمہارا پردہ ہٹا دیا جو تمہارے آگے پڑا ہوا تھا اور آج تمہاری نگاہ خوب تیز ہے یعنی آج تم کو خوب نظر آرہا ہے کہ وہ سب کچھ یہاں موجود ہے جس کی اطلاع ہم کو دنیا میں دے دی گئی تھی لیکن اب اس بیماری کا واحد علاج شفاخانہ ہی میں ہے اور وہی داخل ہونا ہوگا ۔
Ayah 18:102

اَفَحَسِبَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنْ یَّتَّخِذُوْا عِبَادِیْ مِنْ دُوْنِیْۤ اَوْلِیَآءَ١ؕ اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا جَهَنَّمَ لِلْكٰفِرِیْنَ نُزُلًا Open ayah 18:102 in the Quran reader

جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی ہے کیا انہوں نے خیال کیا ہے کہ ہمیں چھوڑ کر ہمارے بندوں کو اپنا کارساز بنا لیں ؟ ہم نے کافروں کی مہمانی کے لیے دوزخ تیار کر رکھی ہے

فرمان الہی کہ مجھے چھوڑ کر میرے بندوں کو دوست بنانے والے ہی تو کافر ہیں : 108۔ (عبادی) سے مراد کیا ہے ؟ (عبادی) سے مراد فرشتے ‘ عزیر ‘ مسیح ‘ قبریں اور بت سب مراد ہیں ۔ پہلی تین چیزیں یعنی فرشتے عزیر اور مسیح کی بات تو لوگوں کی سمجھ میں آجاتی ہے لیکن قبریں اور بت لوگوں کو اضافہ لگتا ہے اور بعض کے نزدیک تو یہ تفسیر ہی تفسیر بالرائے ہے جس سے انسان کا ٹھکانہ سیدھا جہنم ٹھہرتا ہے لیکن ذرا غور کرنے سے بات سمجھ میں آجائے گی کہ یہ بات صحیح نہیں ہے ، غور کرو کہ یہ قبریں جو بنتی ہیں اور روضے اور مقبرے تیار کئے جاتے ہیں ان کے اندر کیا ہوتا ہے ؟ آپ اگر غور کریں گے تو پورے ایمان ویقین سے اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ ان کے اندر وہی انسان ہیں جن میں سے بعض اپنے اپنے وقت میں اللہ کے نیک بندے سمجھے جاتے تھے جب وہ وفات پاگئے تو لوگوں نے ان کو عام قبرستاں کی بجائے مخصوص جگہوں پر دفن کردیا اور پھر عقیدت مندوں نے اٹھ کر ان کی قبروں پر قبے اور مقبرے تیار کردیئے بعض ناکارہ وہ بھی تھے جنہوں نے یہ کام خود اپنے ہاتھوں سے کیا یہ حالت ہم مسلمانوں کے ہاں ہے اور غیر مسلموں کے ہاں جب کوئی ان کا مذہبی بزرگ ‘ اوتار ‘ ولی اللہ مرجاتا تو وہ قبروں کی بجائے ان کی یاد میں ان کے بت اور مجسمے بنا کر رکھتے تھے پھر دونوں فریقوں کے درمیان قبر اور بت کا فرق تو یقینا ہے لیکن حقیقت دونوں جگہ ایک ہے یعنی اس شخصیت سے محبت وعقیدت جس شخصیت کا وہ قبہ یا قبر ہے یا دوسروں کے نزدیک جس شخصیت کا وہ بت ہے معلوم ہوا کہ عقیدت دونوں جگہ اس شخصیت سے ہے جس کو وہ اپنے خیال میں اللہ کا دوست اللہ کا ولی ‘ اللہ کا بندہ سیرت وکردار کا نیک خیال کرتے تھے اس طرح فرشتے اللہ کے بندے ‘ عزیر اللہ کا بندہ ‘ مسیح اللہ کا بندہ ‘ صاحب قبر اللہ کا بندہ اور صاحب بت اللہ کا بندہ قرآن کریم کی زیر نظر آیت میں فرمایا گیا کہ ” جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی کیا انہوں نے خیال کیا کہ ہمیں چھوڑ کر ہمارے بندوں کو اپنا کارساز بنا لیں گے ؟ معلوم ہوا کہ جو شخص اللہ کے سوا کسی کو بھی خواہ عزیر کو خواہ مسیح کو خواہ کسی فرشتے کو خواہ کسی صاحب قبر کو خواہ کسی صاحب بت کو اپنا حاجت روا ‘ مشکل کشاء کارساز ‘ بگڑی بنانے والا ‘ نفع ونقصان کا مالک ‘ خیر دینے والا ‘ شر سے بچانے والا خیال کرے گا وہ اس آیت کی زد میں آئے گا خواہ وہ کون ہو اور خواہ وہ کسی کے ساتھ اس طرح کی عقیدت رکھے اس کا یہی حکم ہے اور قرآن کریم ان سب کو ایک ہی طرح کا کافر قرار دیتا ہے اور ان کی ضیافت کا انتظام دوزخ میں کئے جانے کی پکی اور پختہ واضح الفاظ مین خبر دیتا ہے ۔
Ayah 18:103

قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُمْ بِالْاَخْسَرِیْنَ اَعْمَالًاؕ Open ayah 18:103 in the Quran reader

اے پیغمبر اسلام آپ کہہ دیں کیا ہم تمہیں خبر دے دیں کہ کون لوگ اپنے کاموں میں سب سے زیادہ نامراد ہوئے ؟

اعمال بجا لانے والوں میں سے گھاٹے کے اعمال بجا لانے والوں کی خبر : 109۔ غور کیجئے کہ ایک انسان کسی طرح کی محنت ہی نہیں کرتا رہتا ہے لیکن اس کے مقابلہ میں دوسرا بہت محنت شاقہ سرانجام دیتا ہے لیکن جو کچھ اس محنت ومشقت سے کماتا ہے وہ ضائع ہوجاتا ہے ، اس دونوں میں زیادہ نقصان کس کا ہوا ؟ ظاہر ہے کہ اس کا جس نے بہت محنت ومشقت اٹھائی اور اس کا سارا کیا کرایا خراب ہوگیا اور اس طرح کے اعمال کرنے والے بہت ہی گھاٹے میں رہے ، محنت بھی کی اور کچھ وصول بھی نہ ہوا ۔
Ayah 18:104

اَلَّذِیْنَ ضَلَّ سَعْیُهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ هُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعًا Open ayah 18:104 in the Quran reader

وہ جن کی ساری کوششیں دنیا کی زندگی میں کھوئی گئیں اور وہ اس دھوکے میں پڑے ہیں کہ بڑا اچھا بنا رہے ہیں

وہی لوگ جن کا کیا کرایا خراب ہوگیا انعام کی بجائے جوتے پڑے : 110۔ زیر نظر آیت کے دو مطلب بیان کئے جاسکتے ہیں اور دونوں ہی اس سے مراد ہو سکتے ہیں یا مراد لئے جاسکتے ہیں ایک تو وہی جن کا ذکر اوپر آچکا یعنی اپنے اعمال میں سب سے زیادہ ناکام ونامراد وہی ہوئے جن کی دنیاوی زندگی میں ساری جدوجہد اور سعی و کوشش راہ راست سے بھٹکی ہی رہی اور انہوں نے جو قدم اٹھایا منزل مقصود سے دور ہی ہوتے چلے گئے ، بجائے اس کے کہ ان کے قدم رسول اللہ ﷺ کی ہدایت کے مطابق اٹھتے انہوں نے جو قدم اٹھایا بدعت وگمراہی کی طرف اٹھایا اور سنت سے منہ موڑے ہی رہے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ ان کی ساری سعی و کوشش دنیا کی زندگی ہی کے لئے رہی ان کا مقصد زندگی کمانے ‘ کھانے اور عیش و عشرت سے زندگی گزارنے کے سوا کچھ نہ تھا اس کی محنت تھی تو اس زندگی کے لئے انہوں نے کمایا تو اس زندگی کے لئے خرچ کیا تو اس زندگی کے لئے ‘ جمع کیا تو اس زندگی کے لئے گویا ان کی عقل وفکر میں اس دنیا کے سوا کسی دنیا کا تصور ہی نہ تھا اور اگر تھا تو وہ کہیں وہم و گمان ہی کی نذر ہوگیا ، ان ساری جدوجہد اس زندگی کے لئے تھی اور اس ادھیڑ بن میں وہ لگے رہے ، انہوں نے عقل سے کام لیا تو اس زندگی کی خاطر انہوں نے فکر کا استعمال کیا تو پیش نظر یہی زندگی تھی لیکن جب دنیا میں ہی عارضی تھی تو ان کی ساری کوشش بھی عارضی ہی رہی اور جب آخرت آئی تو اس وقت وہ خالی ہاتھ تھے معلوم ہوا کہ جس کو وہ بہت اچھا اور بہت خوب سمجھتے رہے وہ ایک راکھ کے ڈھیر کے سوا کچھ بھی نہ نکلا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہوا کے ایک ہی جھونکے نے کا حلیہ بگاڑ دیا ان کے چہروں پر راکھ ہے اور دل ان کے اڑ رہے ہیں کسی حال میں بھی ان کو چین نہیں اور اس حال سے اب نکلنے کی بھی کوئی صورت نہیں ایسا کیوں ہوا ؟
Ayah 18:105

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ وَ لِقَآئِهٖ فَحَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فَلَا نُقِیْمُ لَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَزْنًا Open ayah 18:105 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں کہ اپنے پروردگار کی آیتوں سے اور اس کے حضور حاضر ہونے سے منکر ہوئے پس ان کے سارے کام اکارت گئے اور اس لیے قیامت کے دن ہم ان کا کوئی وزن تسلیم نہیں کریں گے

وہ اللہ کی آیتوں کا عملی انکار کرتے تھے ‘ ان کے اعمال ضبط ہوگئے : 111۔ فرمایا ایسا اس لئے ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی آیتوں انکار کرتے تھے وہ آیتیں جو قرآن کریم کے اندر ہیں ان کا بھی اور جو آفاق نفس میں ہیں ان کا بھی ، یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے دنیا میں بڑے بڑے اعمال کئے فتوحات کیں ‘ ملکوں کو توسیع دی ‘ بڑے بڑے اعمال کئے فتوحات کیں ‘ ملکوں کو توسیع دی ‘ بڑے بڑے کارخانے لگائے ‘ کائنات کے اندر انہوں نے ہلچل مچا دی اور دنیا میں نام پیدا کیا ، بڑے بڑے عہدوں پر فائز رہے اقتدار کی کرسیوں پر براجمان رہے ، محلات ‘ یونیورسٹیاں اور لائبریریاں قائم کیں ‘ سڑکیں اور ریل کی پٹریاں تیار کرائیں ‘ رفاہ عامہ کے بڑے کام سرانجام دئیے ‘ بڑی بڑی ایجادیں کیں ‘ علوم وفنون میں نام پیدا کیا لیکن یہ سب کچھ انہوں نے اس عارضی زندگی کے لئے کیا اور جوں ہی عارضی زندگی کا دروازہ بند ہوا ان کے یہ سارے کارہائے نمایاں بھی ساتھ ہی بند ہوگئے ، کیا انہوں نے یہ کچھ کا ب تو ہم نے ان کا نام دنیا میں بلند نہیں کیا آخر وہ کس صلہ میں ہوا دنیا میں لاکھوں کروڑوں ‘ عربوں بلکہ کھربوں اور پدموں لوگ تھے ان میں کتنے ہوئے جن کے نام اس طرح لئے گئے جس مقصد کے لئے انہوں نے یہ سب کچھ کیا اس مقصد کو انہوں نے حاصل بھی کرلیا ، ان کے مقاصد دنیا تک محدود تھے اور نتائج بھی ان کو دنیا ہی کے اندر مطلوب تھے اس لئے ان کا یہ سب کیا کرایا دنیا کی زندگی کے ساتھ ہی ختم ہوگیا نہ دنیا رہی اور نہ ہی ان کا عمل اور اس کا صلہ رہا انہی دنیا کی خاطر کئے گئے اعمال میں ان سے کوئی اتفاقی کام ایسا بھی ہوگیا جو آخرت میں کام آنے والا تھا بشرطیکہ ان کی نیت میں آخرت کا یہ تصور ہوتا لیکن آخرت کا یہ تصور ہی اگر ان میں موجود نہیں تھا تو ظاہر ہے کہ ان کے وہ اعمال ضائع ہوگئے بلکہ ان کا صلہ روک لیا گیا کیونکہ وہ اس کے مستحق نہ ٹھہرتے تھے اور آج کے ترازو میں ان کا کوئی وزن نہیں ہے جس طرح وہ خود اندر سے کھائے ہوئے تھے ایسے ہی ان کے اعمال بھی بےوزن نکلے اب کیا ہوگا ؟
Ayah 18:106

ذٰلِكَ جَزَآؤُهُمْ جَهَنَّمُ بِمَا كَفَرُوْا وَ اتَّخَذُوْۤا اٰیٰتِیْ وَ رُسُلِیْ هُزُوًا Open ayah 18:106 in the Quran reader

(ان کی سزا دوزخ ہوگی) انہوں نے جیسی کچھ کفر کی راہ اختیار کی تھی اور ہماری آیتوں اور رسولوں کی ہنسی اڑائی تھی

ان کا بدلہ جہنم ہے کیونکہ انہوں نے آیات اللہ اور رسل کا مذاق اڑایا تھا : 112۔ زیر نظر آیت میں بتایا گیا کہ ایسا کیوں ہوگا ؟ فرمایا اس لئے کہ وہ دنیا کی زندگی پر مغرور تھے اور ان کے غرور کی حد یہ ہے کہ انہوں نے اپنے عمل سے بھی اور نظریہ سے بھی اللہ کی آیتوں میں اور اس کے رسولوں کا مذاق کیا ، ظاہر ہے کہ کسی کے حکم اور اس کی مرضی کے خلاف اس کو دکھا کر عمل کیا جائے تو اس سے زیادہ بڑا مذاق اور ٹھٹھا اور کیا ہو سکتا ہے ؟ ان لوگوں کے پاس اللہ کی ہدایت آئی اور اللہ کے رسول کی حدیث پڑھی گئی لیکن انہوں نے اس کو اس طرح پیٹھ پیچھے پھینکا اور ہر بات کو سن کر ان سنی اور ان سمجھی کردیا ۔ اس لئے ضروری ہے کہ آج ان کی ایک نہ سنی جائے اور ان کو دوزخ کے دروازے سے نیچے اتار کر اس کے کیواڑ کو بند کردیا جائے اور ان کے اس غرور اور تکبر کا اس طرح علاج کیا جائے کہ ان کا سارا زعم باطل کافور ہوجائے اور ان کے سارے وسیلے اور آسرے بیکار کرکے رکھ دیئے جائیں اور ان کا تکبر و غرور جس قسم کا تھا اس قسم کا ان کا آپریشن بھی ہو تاکہ ان کو وہ وقت بھی یاد آئے جب اس طرح کی حرکتیں کرتے تھے ۔
Ayah 18:107

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنّٰتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًاۙ Open ayah 18:107 in the Quran reader

لیکن جو لوگ ایمان لائے اور اچھے کام کیے تو ان کی مہمانی کے لیے فردوس کے باغ ہوں گے

ہاں ! کچھ ایسے بھی تھے جو ایمان کے باعث ان کانشانہ ٹھہرے : 113۔ فرمایا ہم کو معلوم ہے کہ کچھ ایسے بھی تھے تو جو محض اس لئے کہ انہوں نے ہماری آیات اور ہمارے رسولوں کا ساتھ دیا اگرچہ وہ چند معدودے آدمی ہی تھے تاہم تھے ضرور انہوں نے دنیا میں خوب مذاق اڑایا اور ان کو بیوقوف سمجھا اور ناسمجھ قرار دیا لیکن انہوں نے ہماری رضا کے لئے یہ سب کچھ برداشت کیا اور ایمان پر قائم رہے اور آخرت کے لئے عمل کرتے رہے آج ان کو ان کے اعمال صالحہ کا صلہ دیا جائے گا اور ہمارے ہاں انکے لئے فردوس میں ضیافت تیار ہے ۔
Ayah 18:108

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا لَا یَبْغُوْنَ عَنْهَا حِوَلًا Open ayah 18:108 in the Quran reader

وہ ہمیشہ ان میں رہیں گے کبھی نہیں چاہیں گے کہ اپنی جگہ بدلیں

فردوس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے ‘ نہ نکلیں گے نہ نکالے جائیں گے : 114۔ وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور پھر ہمیشہ رہنے کے باعث وہ کبھی نہیں اکتائیں گے اور ان کو سیر و تفریح کی کھلی اجازت ہوگی اور ان کے درجات مزید بڑھا دیئے جائیں گے اور ان کے لئے ہر طرح کی نعمتیں تیار ہیں جن کو اگر کوئی گننا چاہے تو نہیں گن سکتا اور جس چیز کی ان کو اس وقت خواہش ہوگی وہ اسی وقت پوری کردی جائے گی اور وہ اس سے نکلنا کبھی بھی برداشت نہیں کریں گے اور ہم آخر ان کو نکالیں گے بھی کیوں ؟
Ayah 18:109

قُلْ لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّكَلِمٰتِ رَبِّیْ لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ اَنْ تَنْفَدَ كَلِمٰتُ رَبِّیْ وَ لَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهٖ مَدَدًا Open ayah 18:109 in the Quran reader

اعلان کر دے ، اگر میرے پروردگار کی باتیں لکھنے کیلئے دنیا کے تمام سمندر سیاہی بن جائیں تو سمندروں کا پانی ختم ہوجائے گا مگر میرے پروردگار کی باتیں ختم نہ ہوں گی ، اگر ان سمندروں کا ساتھ دینے کے لیے ویسے ہی سمندر اور بھی پیدا کردیں جب بھی وہ کفایت نہ کریں گے

دنیا کی ہرچیز کو فنا ہے لیکن اللہ کے کلمات ابدی ہیں اور ان گنت بھی : 115۔ ذات الہی لامحدود ہے یعنی کوئی شخص خواہ نبی ورسول ہی کیوں نہ ہو اس کے احاطہ عقل میں ذات الہیہ نہیں آسکتی اور ظاہر ہے کہ جس کا احاطہ ممکن ہی نہیں اس کی باتوں کا احصاء ممکن ہے ؟ بلاشبہ اس کی باتیں شمار نہیں کی جاسکتیں اور پھر نہ ہونے والے کام آخر کوئی کرے گا کیوں ؟ اور اگر وہ کرے گا تو کیا وہ اس کا کرپائے گا ؟ اس لئے زیر نظر آیت میں اس مثال سے اس بات کو واضح کردیا کہ اس کے کلمات کو کوئی گن نہیں سکتا اگر ساری دنیا کے لوگ لکھنا شروع کردیں اور سارے درختوں کی قلمیں بنا دی جائیں اور سارے سمندر سیاہی ہوجائیں تو کلمات خداوندی ختم نہیں ہوں گے اور باقی سب کچھ ختم ہوجائے گا کیونکہ اس کا اپنا فیصلہ ہوچکا ہے ۔ کہ (آیت) ” کل من علیھا فان ویبقی وجہ ربک ذوالجلال والاکرام “۔ غور وفکر کرو کہ آفاق وانفس میں جو کچھ ہے سب اسی کی تو نشانیاں ہیں پھر کوئی اس آفاق وانفس کی ان فانی چیزوں کو شمار کرنا چاہے تو کرسکتا ہے ؟ جب یہی ممکن نہیں تو ممتنع کو کرنے سے کیا وہ ممکن ہو سکے گا یا کوئی شخص ممتنع کو کرنا چاہے تو کر پائے گا ؟ پھر ہرچیز کے اندر اتنی نشانیاں موجود ہیں کہ اگر وہ ان کو شمار کرے تو نہیں کرسکتا اچھا ذوی العقول میں سے انسان کے اپنے جسم کے اندر قدرت الہی کے کتنے نشان ہیں کہ ان کا نہ تو کوئی بڑے سے بڑا معجزہ مقابلہ کرسکتا خواہ موسیٰ و عیسیٰ (علیہما السلام) ہی کا کیوں نہ ہو اور نہ ہی اس کو کوئی سمجھ سکتا ہے پھر کوئی انسان انسان کہلا کر معجزات کا انکار کیسے کرسکتا ہے ؟ اور اگر کوئی کرے گا تو گویا اس نے اپنے انسان ہونے سے انکار کیا ؟ اس لئے اچھی طرح یاد رکھئے کہ معجزہ کا انکار ممکن ہی نہیں اور اس طرح کی رٹ لگانے والے دراصل وہم پرست ہیں اور اپنے ادہام کو انہوں نے معجزات قرار دیا ہے اور جب کوئی شخص ان کے کسی وہم سے انکار کرتا ہے یا تسلیم نہیں کرتا تو وہ اس طرح فورا فتوی صادر کردیتے ہیں کہ فلاں شخص معجزات کو نہیں مانتا اور تعجب یہ ہے کہ وہ اس سے بھی ایک قدم آگے بڑھ کر اپنے وہم کو اللہ کا حکم قرار دے لیتے ہیں اور یہ غلطی آج سے نہیں بلکہ بہت پرانی ہے اس لئے وہم پرستوں کو اس وہم سے نکلنا ہی پڑے گا اگرچہ یہ بات اتنی مشکل ہے جتنی کہ آسان نظر آتی ہے یاد رکھیے کہ اللہ کے کلمات اور انسانوں کے ادہام کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ۔ اس جگہ بات اللہ تعالیٰ کے کلمات کی ہے نہ کہ لوگوں کے ادہام کی ۔ خالق کا کلمہ اور مخلوق کا وہم ایک ترازو کے ایک پلڑے پر نہیں رکھے جاسکتے ، اللہ کرے کہ یہ بات آپ کی سمجھ میں آجائے اور یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ اللہ کے کلمات کی خوبی اور پہچان ہی یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کے متضاد اور ایک دوسرے کے خلاف مطلق نہیں ہوتے اور جو کلمات ایک دوسرے کے خلاف اور متضاد ہوں وہ اللہ کے کلمات نہیں ہو سکتے کیونکہ (آیت) ” لا تبدیل لکلمات اللہ “ خود اسی رب ذوالجلال والاکرام کا فرمان ہے ۔ فافھم فتدبر۔
Ayah 18:110

قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ یُوْحٰۤى اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ فَمَنْ كَانَ یَرْجُوْا لِقَآءَ رَبِّهٖ فَلْیَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّ لَا یُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهٖۤ اَحَدًا۠ Open ayah 18:110 in the Quran reader

آپ ﷺ کہہ دیجئے میں تو اسکے سوا کچھ نہیں ہوں کہ تمہارے ہی جیسا ایک آدمی ہوں البتہ اللہ نے مجھ پر وحی کی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی ہے اس کے سوا کوئی نہیں پس جو کوئی اپنے پروردگار سے ملنے کی آرزو رکھتا ہے وہ اچھے کام انجام دے اور اپنے پروردگار کی بندگی میں کسی کو شریک نہ کرے

پیغمبر اسلام کا اعلان کہ میں ایک انسان ہوں لیکن ایسا کہ جس کی طرف وحی بھیجی جاتی ہے : 116۔ مختلف طرح کی نشانیان طلب کرنے والوں اور گزشتہ واقعات کی خبریں پوچھنے والوں سے آپ کہہ دیں کہ میں بھی ایک بشر ہوں جیسے کہ تم بشر ہو ہاں ! مجھ میں اور آپ میں فرق یہ ہے کہ مجھ پر وحی کی جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے والا ہوں اور یہی وہ فرق ہے کہ میں انسان ہونے کے باوجود تم سے اتنا ہی امتیاز رکھتا ہوں جتنا عام حیوان سے حیوان ناطق ، مجھے یہ پیغام تم تک پہنچانا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ مخلوق میں سے کوئی بھی اس کا مستحق نہیں کہ اس کو معبود مانا جائے اس لئے معبود وہی ہے جو خالق اور خالق کائنات وہی ہے جو معبود ہے اور توحید کے بعد میں نے تم کو یہ پیغام پہنچانا ہے کہ جو شخص اپنے مالک حقیقی رب ذوالجلال والاکرام کی ملاقات کا طالب وشوقین ہے اس کو چاہئے کہ وہ نیک اعمال کرے اور برے اعمال سے بچے اور زندگی میں جو کچھ کرے وہ رضائے الہی کے لئے کرے اور آخرت پر یقین رکھے اور اللہ رب العزت کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرے یعنی اپنا حاجت روا مشکل کشا ، نفع ونقصان کا مالک ‘ خیر وشر کا پیدا کرنے والا ‘ دلوں کے رازوں سے واقف ‘ بگڑی بنانے والا ‘ آقا مولا اور داتا فقط اس کی ذات کو سمجھے اور اس کی ذات وصفات میں کسی کو شریک نہ جانے اور اگر کوئی لغزش سرزد ہو تو اس سے معانی طلب کرے اللہ ہم سب کو بلا شرکت غیرے اپنے فضل خاص اور رحمت سے اپنی ہی عبادت کی توفیق بخشے ۔ آمین اب انہی الفاظ پر سورة الکہف کی تفسیر ختم کی جاتی ہے ۔ واخر دعونا ان الحمد للہ رب العلمین۔ بعداز نماز مغرب 16۔ اکتوبر 1996 ء