Ayah 18:1آیت 1 اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْٓ اَنْزَلَ عَلٰي عَبْدِهِ الْكِتٰبَ
رسول اللہ کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ جو تعلق اور نسبت ہے اسے یہاں لفظ ”عبد“ سے نمایاں فرمایا گیا ہے۔
Ayahs 18:2–3آیت 2 قَـيِّمًا لِّيُنْذِرَ بَاْسًا شَدِيْدًا مِّنْ لَّدُنْهُ
یعنی نبی اکرم پر نزول قرآن کے مقاصد میں سے ایک مقصد یہ بھی ہے کہ آپ لوگوں کو ایک بہت بڑی آفت کے بارے میں خبردار کردیں۔ یہاں لفظ بَاْسًا بہت اہم ہے۔ یہ لفظ و احد ہو تو اس کا مطلب جنگ ہوتا ہے اور جب بطور جمع آئے تو اس کے معنی سختی مصیبت بھوک تکلیف وغیرہ کے ہوتے ہیں۔ جیسے سورة البقرۃ کی آیت 177 آیت البر میں یہ لفظ بطور واحد بھی آیا ہے اور بطور جمع بھی : وَالصّٰبِرِیْنَ فِی الْْبَاْسَآءِ وَالضَّرَّآءِ وَحِیْنَ الْبَاْسِ ۔ چناچہ وہاں دونوں صورتوں میں اس لفظ کے معنی مختلف ہیں : ”الْْبَاْسَآءِ“ کے معنی فقر و تنگدستی اور مصائب و تکالیف کے ہیں جبکہ ”وَحِیْنَ الْبَاْسِ“ سے مراد جنگ کا وقت ہے۔
بہر حال آیت زیر نظر میں ”بَاْسًا شَدِیْدًا“ سے ایک بڑی آفت بھی مراد ہوسکتی ہے اور بہت شدید قسم کی جنگ بھی۔ آفت کے معنی میں اس لفظ کا اشارہ اس دجالی فتنہ کی طرف ہے جو قیامت سے پہلے ظاہر ہوگا۔ حدیث میں ہے کہ کوئی نبی اور رسول ایسا نہیں گزرا جس نے اپنی قوم کو دجال کے فتنے سے خبردار نہ کیا ہو کیونکہ یہ فتنہ ایک مؤمن کے لیے سخت ترین امتحان ہوگا اور پوری انسانی تاریخ میں اس فتنے سے بڑا کوئی فتنہ نہیں ہے۔
دوسری طرف اس لفظ بَاْسًا شَدِیْدًا کو اگر خاص طور پر جنگ کے معنی میں لیا جائے تو اس سے ”المَلحَمۃُ الْعُظمٰی“ مراد ہے اور اس کا تعلق بھی فتنہ دجال ہی سے ہے۔ کتب احادیث کتاب الفتن کتاب آثار القیامۃ کتاب الملاحم وغیرہ میں اس خوفناک جنگ کا ذکر بہت تفصیل سے ملتا ہے۔ عیسائی روایات میں اس جنگ کو ”ہرمجدون“ Armageddon کا نام دیا گیا ہے۔ بہر حال حضرت مسیح کے تشریف لانے اور ان کے ہاتھوں دجال کے قتل کے بعد اس فتنہ یا جنگ کا خاتمہ ہوگا۔
بہت سی احادیث میں ہمیں یہ وضاحت بھی ملتی ہے کہ دجالی فتنہ کے ساتھ سورة الکہف کی ایک خاص مناسبت ہے اور اس فتنہ کے اثرات سے محفوظ رہنے کے لیے اس سورة کے ساتھ ذہنی اور قلبی تعلق قائم کرنا بہت مفید ہے۔ اس مقصد کے لیے احادیث میں جمعہ کے روز سورة الکہف کی تلاوت کرنے کی تلقین فرمائی گئی ہے اور اگر پوری سورت کی تلاوت نہ کی جاسکے تو کم از کم اس کی ابتدائی اور آخری آیات کی تلاوت کرنا بھی مفید بتایا گیا ہے۔
یہاں پر دجالی فتنہ کی حقیقت کے بارے میں کچھ وضاحت بھی ضروری ہے۔ ”دجل“ کے لفظی معنی دھوکہ اور فریب کے ہیں۔ اس مفہوم کے مطابق ”دجال“ ایسے شخص کو کہا جاتا ہے جو بہت بڑا دھوکے باز ہو ‘ جس نے دوسروں کو دھوکا دینے کے لیے جھوٹ اور فریب کا لبادہ اوڑھ رکھا ہو۔ اس لیے نبوت کے جھوٹے دعوے داروں کو بھی دجال کہا گیا ہے۔ چناچہ نبی اکرم نے جن تیس دجالوں کی پیدائش کی خبر دی ہے ان سے جھوٹے نبی ہی مراد ہیں۔
دجالیت کے اس عمومی مفہوم کو مدنظر رکھا جائے تو آج کے دور میں مادہ پرستی بھی ایک بہت بڑا دجالی فتنہ ہے۔ آج لوگوں کے اذہان و قلوب نظریات و افکار اور اخلاق و اقدار پر مادیت کا اس قدر غلبہ ہوگیا ہے کہ انسان اللہ کو بھول چکا ہے۔ آج وہ مسبب الاسباب کو بھول کر مادی اسباب پر توکل کرتا ہے۔ وہ قرآن کے اس فرمان کو یکسر فراموش کرچکا ہے کہ : وَمَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَآ اِلاَّ مَتَاعُ الْغُرُوْرِ آل عمران یعنی دنیوی زندگی محض دھوکے کا سامان ہے جبکہ اصل زندگی آخرت کی زندگی ہے۔ آخرت کی زندگی پر پڑے ہوئے دنیا اور اس کی مادیت کے پردے سے دھوکا کھا کر انسان نے دنیوی زندگی ہی کو اصل سمجھ لیا ہے ‘ لہٰذا اس کی تمام دوڑ دھوپ اسی زندگی کے لیے ہے۔ اسی زندگی کے مستقبل کو سنوارنے کی اس کو فکر ہے اور یوں وہ مادہ پرستی کے دجالی فتنے میں گرفتار ہوچکا ہے۔
اس کے علاوہ دجال اور دجالی فتنے کا ایک خصوصی مفہوم بھی ہے۔ اس مفہوم میں اس سے مراد ایک مخصوص فتنہ ہے جو قرب قیامت کے زمانے میں ایک خاص شخصیت کی وجہ سے ظہور پذیر ہوگا۔ اس بارے میں کتب احادیث میں بڑی تفصیلات موجود ہیں لیکن بعض روایات میں کچھ پیچیدگیاں بھی ہیں اور تضادات بھی۔ ان کو سمجھنے کے لیے اعلیٰ علمی سطح پر غور و فکر کی ضرورت ہے کیونکہ ظاہری طور پر نظر آنے والے تضادات میں مطابقت کے پہلوؤں کو تلاش کرنا اہل علم کا کام ہے۔ بہر حال یہاں ان تفاصیل کا ذکر اور ان پر تبصرہ کرنا ممکن نہیں۔ اس موضوع کے بارے میں یہاں صرف اس قدر جان لینا ہی کافی ہے کہ رسول اللہ نے قرب قیامت کے زمانے میں دجال کے ظاہر ہونے اور ایک بہت بڑا فتنہ اٹھانے کے بارے میں خبریں دی ہیں۔ جو حضرات اس حوالے سے تفصیلی معلومات چاہتے ہوں وہ مولانا مناظر احسن گیلانی کی کتاب ”تفسیر سورة الکہف“ کا مطالعہ کرسکتے ہیں۔ اس موضوع پر ”دنیا کی حقیقت“ کے عنوان سے میری ایک تقریر کی ریکارڈنگ بھی دستیاب ہے ‘ جس میں میں نے سورة الکہف کے مضامین کا خلاصہ بیان کیا ہے۔
Ayah 18:4آیت 4 وَّيُنْذِرَ الَّذِيْنَ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا
دور حاضر کی دجالیت کی اصل جڑ موجودہ مسیحیت ہے جس کی بنیاد تثلیث پر رکھی گئی ہے اور اب اسے مسیحیت کے بجائے Paulism کہنا زیادہ درست ہے۔ اس میں سب سے پہلے حضرت مسیح کو اللہ کا بیٹا قرار دیا گیا۔ پھر اس میں کفارے کا عقیدہ شامل کیا گیا کہ جو کوئی بھی حضرت مسیح پر ایمان لائے گا اسے تمام گناہوں سے پیشگی معافی مل جائے گی۔ اس کے بعد شریعت کو ساقط کر کے اس سلسلے میں تمام اختیارات پوپ کو دے دیے گئے کہ وہ جس چیز کو چاہے حلال قرار دے اور جس کو چاہے حرام۔ ان تحریفات کی وجہ سے یورپ میں عام لوگوں کو لفظ ”مذہب“ سے ہی شدید نفرت ہوگئی۔ پھر جب ہسپانیہ میں مسلمانوں کے زیر اثر جدید علوم کو فروغ ملاتو فرانس اٹلی جرمنی وغیرہ کے بیشمار نوجوانوں نے قرطبہ غرناطہ اور طلیطلہ کی یونیورسٹیوں میں داخلہ لیا۔ یہ نوجوان حصول تعلیم کے بعد جب اپنے اپنے ممالک میں واپس گئے تو یورپ میں ان کی نئی فکر کی وجہ سے اصلاح مذہب Reformation اور احیائے علوم Renaissance کی تحریکات شروع ہوئیں۔ ان کی وجہ سے یورپ کے عام لوگ جدید علوم کی طرف راغب تو ہوئے مگر معاشرے میں پہلے سے موجود مذہب مخالف جذبات کی وجہ سے مذہب دشمنی خود بخود اس تحریک میں شامل ہوگئی۔ نتیجتاً جدید علوم کے ساتھ مذہب سے بیزاری روحانیت سے لا تعلقی آخرت سے انکار اور خدا کے تصور سے بیگانگی جیسے خیالات بھی یورپی معاشرے میں مستقلاً جڑ پکڑ گئے ‘ اور یہ سب کچھ عیسائیت میں کی جانے والی مذکورہ تحریفات کا رد عمل تھا۔ آیت زیر نظر میں انہی لوگوں کی طرف اشارہ ہے جنہوں نے یہ عقیدہ ایجاد کیا تھا کہ مسیح نعوذ باللہ اللہ کا بیٹا ہے۔
Ayah 18:5آیت 5 مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ وَّلَا لِاٰبَاۗىِٕهِمْ
انہوں نے یہ جو عقیدہ ایجاد کیا ہے اس کی نہ تو ان کے پاس کوئی علمی سند ہے اور نہ ہی ان کے آباء و اَجداد کے پاس تھی۔
كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ اَفْوَاهِهِمْ
یہ لوگ اللہ تعالیٰ سے اولاد منسوب کر کے اس کی شان میں بہت بڑی گستاخی کا ارتکاب کر رہے ہیں۔
Ayah 18:6آیت 6 فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلٰٓي اٰثَارِهِمْ اِنْ لَّمْ يُؤْمِنُوْا بِهٰذَا الْحَدِيْثِ اَسَفًا
تثلیث جیسے غلط عقائد کے جو بھیانک نتائج مستقبل میں نسل انسانی کے لیے متوقع تھے ان کے تصور اور ادراک سے رسول اللہ پر شدید دباؤ تھا۔ آپ خوب سمجھتے تھے کہ اگر یہ لوگ قرآن پر ایمان نہ لائے اور اپنے موجودہ مذہب پر ہی قائم رہے تو ان کے غلط عقائد کے سبب دنیا میں دجالیت کا فتنہ جنم لے گا جس کے اثرات نسل انسانی کے لیے تباہ کن ہوں گے۔ یہی غم تھا جو آپ کی جان کو گھلائے جا رہا تھا۔
Ayah 18:7آیت 7 اِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَي الْاَرْضِ زِيْنَةً لَّهَا
یہاں یہ نکتہ ذہن نشین کرلیجئے کہ لفظ ”زینت“ اور دنیوی آرائش و زیبائش کا موضوع اس سورت کے مضامین کا عمود ہے۔ یعنی دنیا کی رونق چمک دمک اور زیب وزینت میں انسان اس قدر کھو جاتا ہے کہ آخرت کا اسے بالکل خیال ہی نہیں رہتا۔ دنیا کی یہ رنگینیاں امریکہ اور یورپ میں اس حد تک بڑھ چکی ہیں کہ انہیں دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے اور انسان اس سب کچھ سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہم امریکی اور یورپی اقوام کی علمی ترقی سے متاثر اور ان کے مادی اسباب و وسائل سے مرعوب ہیں۔ اپنی اسی مرعوبیت کے باعث ہم ان کی لادینی تہذیب و ثقافت کے بھی دلدادہ ہیں اور ان کے طرز معاشرت کو اپنانے کے بھی درپے ہیں۔
لِنَبْلُوَهُمْ اَيُّهُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا
دُنیا کے یہ ظاہری ٹھاٹھ باٹھ دراصل انسان کی آزمائش کے لیے پیدا کیے گئے ہیں۔ ایک طرف دنیا کی یہ سب دلچسپیاں اور رنگینیاں ہیں اور دوسری طرف اللہ اور اس کے احکام ہیں۔ انسان کے سامنے یہ دونوں راستے کھلے چھوڑ کر دراصل یہ دیکھنا مقصود ہے کہ وہ ان میں سے کس کا انتخاب کرتا ہے۔ دنیا کی رنگینیوں میں کھوجاتا ہے یا اپنے خالق ومالک کو پہچانتے ہوئے اس کے احکام کی تعمیل کو اپنی زندگی کا اصل مقصود سمجھتا ہے۔ اس سلسلے میں کسی شاعر کا یہ شعر اگرچہ شان باری تعالیٰ کے لائق تو نہیں مگر اس مضمون کی وضاحت کے لیے بہت خوب ہے :
رُخِ روشن کے آگے شمع رکھ کر وہ یہ کہتے ہیں
اِدھر آتا ہے دیکھیں یا ادھر پروانہ جاتا ہے !
اب جس پروانے انسان کو اس شمع کی ظاہری روشنی اور چمک اپنی طرف کھینچ لے گئی تو وہ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًا مُّبِیْنًا النساء کے مصداق تباہ و برباد ہوگیا اور جو اس کی ظاہری اور وقتی چکا چوند کو نظر انداز کر کے حسن ازلی اور اللہ کے جلال و کمال کی طرف متوجہ ہوگیا وہ حقیقی کامیابی اور دائمی نعمتوں کا مستحق ٹھہرا۔
Ayah 18:8آیت 8 وَاِنَّا لَجٰعِلُوْنَ مَا عَلَيْهَا صَعِيْدًا جُرُزًا
قیامت برپا ہونے کے بعد اس زمین کی تمام آرائش و زیبائش ختم کر کے اسے ایک صاف ہموار میدان میں تبدیل کردیا جائے گا۔ نہ پہاڑ اور سمندر باقی رہیں گے اور نہ یہ حسین ود لکش عمارات۔ اس وقت زمین کی سطح ایک ایسے کھیت کا منظر پیش کر رہی ہوگی جس کی فصل کٹ چکی ہو اور اس میں صرف بچا کھچا سوکھا چورا ادھر ادھر بکھرا پڑا ہو۔
Ayah 18:9آیت 9 اَمْ حَسِبْتَ اَنَّ اَصْحٰبَ الْكَهْفِ وَالرَّقِيْمِ ۙ كَانُوْا مِنْ اٰيٰتِنَا عَجَبًا
اب اصحاب کہف کے متعلق اس سوال کے جواب کا آغاز ہو رہا ہے جو یہود مدینہ نے قریش مکہ کے ذریعے حضور سے پوچھا تھا۔ کہف کے معنی غار کے ہیں اور رقیم سے مراد وہ تختی ہے جس پر اصحاب کہف کے حالات لکھ کر اسے غار کے دہانے پر لگا دیا گیا تھا۔ اس نسبت سے انہیں اصحاب کہف بھی کہا جاتا ہے اور اصحاب الرقیم بھی۔ مراد یہ ہے کہ تم لوگ شاید اصحاب کہف کے واقعہ کو ایک بہت غیر معمولی واقعہ اور ہماری ایک بڑی عجیب نشانی سمجھتے ہو مگر تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ہماری تخلیق اور صناعی میں تو اس سے بھی بڑے بڑے عجائبات موجود ہیں۔
اس قصے کے بارے میں اب تک جو ٹھوس حقائق ہمارے سامنے آئے ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے : حضرت مسیح کی فلسطین میں بعثت کے وقت بظاہر یہاں ایک یہودی بادشاہ کی حکمرانی تھی مگر اس بادشاہ کی حیثیت ایک کٹھ پتلی سے زیادہ نہ تھی اور عملی طور پر یہ پورا علاقہ رومن ایمپائر ہی کا حصہ تھا۔ رومی حکمران مذہباً بت پرست تھے جبکہ فلسطین کے مقامی باشندے اہل کتاب یہودی تھے۔ حضرت مسیح کے رفع سماوی کا واقعہ 30 اور 33 عیسوی کے لگ بھگ پیش آیا۔ اس کے بعد یہودیوں کی ایک بغاوت کے جواب میں رومی جنرل ٹائیٹس نے 70 عیسوی میں یروشلم پر حملہ کر کے اس شہر کو بالکل تباہ و برباد کردیا ہیکل سلیمانی مسمار کردیا گیا یہودیوں کا قتل عام ہوا اور جو یہودی قتل ہونے سے بچ گئے انہیں ملک بدر کردیا گیا۔ مقامی عیسائیوں کو اگرچہ علاقے سے بےدخل تو نہ کیا گیا مگر حضرت عیسیٰ کے پیروکار اور موحد ہونے کی وجہ سے انہیں رومیوں کی طرف سے اکثر ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔ اسی حوالے سے رومی بادشاہ دقیانوس Decius کے دربار میں چند راسخ العقیدہ موحد نوجوانوں کی پیشی ہوئی۔ بادشاہ کی طرف سے ان نوجوانوں پر واضح کیا گیا کہ وہ اپنے عقائد کو چھوڑ کر بت پرستی اختیار کرلیں ورنہ انہیں سولی پر چڑھا دیا جائے گا۔ بادشاہ کی طرف سے انہیں اس فیصلے کے لیے مناسب مہلت دی گئی۔ اسی مہلت کے دوران انہوں نے شہر سے نکل کر کسی غار میں پناہ لینے کا فیصلہ کیا۔ جب یہ لوگ غار میں پناہ گزیں ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے ان پر ایسی نیند طاری کردی کہ وہ تقریباً تین سو سال تک سوتے رہے۔ سورۃ البقرۃ آیت 259 میں بھی اسی نوعیت کے ایک واقعہ کا ذکر ہے کہ حضرت عزیر کو ان کی موت کے سو سال بعد زندہ کردیا گیا اور ان کی نیند کے دوران ان کی کروٹیں بدلنے کا بھی باقاعدہ اہتمام رہا۔ جس غار میں اصحاب کہف سو رہے تھے وہ ایسی جگہ پر واقع تھی جہاں لوگوں کا آنا جانا بالکل نہیں تھا۔ اس غار کا دہانہ شمال کی جانب تھا جس کی وجہ سے اس کے اندر روشنی منعکس ہو کر تو آتی تھی لیکن براہ راست روشنی یا دھوپ نہیں آتی تھی۔ اس طرح کے غاروں کا ایک سلسلہ افسس شہر موجودہ ترکی کے علاقے میں پایا جاتا ہے جبکہ ہندوستان ایجنٹا میں بھی ایسے غار موجود ہیں۔
بعد ازاں قسطنطین Constantine نامی فرمانروا نے عیسائیت قبول کرلی اور اس کی وجہ سے پوری رومن ایمپائر بھی عیسائی ہوگئی۔ پھر 400 عیسوی کے لگ بھگ Theodosius کے عہد حکومت میں اللہ تعالیٰ نے اصحاب کہف کو جگایا۔ جاگنے کے بعد انہوں نے اپنے ایک ساتھی کو چاندی کا ایک سکہ دے کر کھانا لینے کے لیے شہر بھیجا اور ساتھ ہدایت کی کہ وہ محتاط رہے ایسا نہ ہو ان کے غار میں چھپنے کی خبر بادشاہ تک پہنچ جائے۔ وہ اپنی نیند کو معمول کی نیند سمجھ رہے تھے اور ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ تین سو سال تک سوئے رہے تھے۔ بہرحال کھانا لانے کے لیے جانے والا ان کا ساتھی اپنی تین سو سال پرانی وضع قطع اور کرنسی کی وجہ سے پکڑا گیا اور یوں ان کے بارے میں تمام معلومات لوگوں تک پہنچ گئیں۔ جب لوگوں کو حقیقت حال کا علم ہوا تو ہم مذہب ہونے کی وجہ سے عیسائی آبادی کی طرف سے ان کی بہت عزت افزائی کی گئی۔ اس کے بعد وہ لوگ غار میں پھر سے سوگئے یا اللہ تعالیٰ نے ان پر موت طاری کردی۔ ان لوگوں کی طبعی موت کے بعد غار کے دہانے کو بند کردیا گیا اور ایک تختی پر ان لوگوں کا احوال لکھ کر اسے اس جگہ پر نصب کردیا گیا۔ اصحاب کہف کا یہ قصہ گبن کی کتاب The Decline and fall of Roman Empire میں بھی Seven Sleepers کے عنوان سے موجود ہے۔ اس قصے کا ذکر چونکہ رومن لٹریچر میں تھا اور یہودی ان تمام تفصیلات سے آگاہ تھے اس لیے انہوں نے یہ سوال حضور سے امتحاناً پوچھ بھیجا تھا۔
Ayah 18:10آیت 10 اِذْ اَوَى الْفِتْيَةُ اِلَى الْكَهْفِ فَقَالُوْا رَبَّنَآ اٰتِنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً وَّهَيِّئْ لَنَا مِنْ اَمْرِنَا رَشَدًا
اپنے خاص خزانہ فضل سے ہمارے لیے رحمت کا بندوبست فرما دے۔
Ayah 18:11آیت 11 فَضَرَبْنَا عَلٰٓي اٰذَانِهِمْ فِي الْكَهْفِ سِنِيْنَ عَدَدًا
یعنی ہم نے غار کے اندر متعدد سال تک انہیں سلائے رکھا۔ یہاں پر یہ بحث نہیں چھیڑی گئی کہ کتنے سال تک انہیں نیند کی حالت میں رکھا گیا۔
Ayah 18:12آیت 12 ثُمَّ بَعَثْنٰهُمْ لِنَعْلَمَ اَيُّ الْحِزْبَيْنِ اَحْصٰى لِمَا لَبِثُوْٓا اَمَدًا
ان دو گروہوں سے کون لوگ مراد ہیں اس کا ذکر آگے آئے گا۔
Ayah 18:13آیت 13 نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ نَبَاَهُمْ بالْحَقِّ
یہ واقعہ جیسے وقوع پذیر ہوا تھا بالکل ویسے ہی ہم آپ کو بلا کم وکاست سنانے جا رہے ہیں۔
Ayah 18:14فَقَالُوْا رَبُّنَا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ لَنْ نَّدْعُوَا۟ مِنْ دُوْنِهٖٓ اِلٰـهًا لَّقَدْ قُلْنَآ اِذًا شَطَطًا
جس طرح حضرت ابراہیم نے نمرود کے دربار میں ڈٹ کر حق بات کہی تھی ویسے ہی ان نوجوانوں نے بھی علی الاعلان کہا کہ ہم رب کائنات کو چھوڑ کر کسی دیوی یا دیوتا کو اپنا رب ماننے کو تیار نہیں ہیں۔
Ayahs 18:15–16لَوْلَا يَاْتُوْنَ عَلَيْهِمْ بِسُلْطٰنٍۢ بَيِّنٍ
اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ کوئی دلیل یا سند وہ اپنے اس دعوے کے ساتھ کیوں پیش نہیں کرتے ؟
فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَي اللّٰهِ كَذِبًا
شاہی دربار میں اس تند و تیز مکالمے کے بعد جب انہیں چند دن کی مہلت کے ساتھ اپنا دین چھوڑنے یا موت کا سامنا کرنے کے بارے میں فیصلہ کرنے کا اختیار دے دیا گیا تو وہ آپس میں یوں مشورہ کرنے لگے :
Ayah 18:17وَاِذَا غَرَبَتْ تَّقْرِضُهُمْ ذَات الشِّمَالِ
یعنی اس غار کا منہ شمال کی طرف تھا جس کی وجہ سے سورج کی براہ راست روشنی یا دھوپ اس میں دن کے کسی وقت بھی نہیں پڑتی تھی۔ ہمارے ہاں بھی دھوپ اور سائے کا یہی اصول کار فرما ہے۔ سورج کسی بھی موسم میں شمال کی طرف نہیں جاتا۔ اسی اصول کے تحت کارخانوں وغیرہ کی بڑی بڑی عمارات میں یہاں north light shells کا اہتمام کیا جاتا ہے تاکہ ایسے shells سے روشنی تو بلڈنگ میں آئے مگر دھوپ براہ راست نہ آئے۔
وَهُمْ فِيْ فَجْــوَةٍ مِّنْهُ
یعنی غار اندر سے کافی کشادہ تھی اور اصحاب کہف اس کے اندر کھلی جگہ میں سوئے ہوئے تھے۔
Ayah 18:18آیت 18 وَتَحْسَبُهُمْ اَيْقَاظًا وَّهُمْ رُقُوْدٌ ڰ وَّنُقَلِّبُهُمْ ذَاتَ الْيَمِيْنِ وَذَات الشِّمَالِ
گویا اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو ان کی دیکھ بھال کے لیے نرسنگ ڈیوٹی پر مامور کر رکھا تھا جو وقفے وقفے سے ان کی کروٹیں بدلتے رہے تاکہ سالہا سال تک ایک ہی پہلو پر لیٹے رہنے سے وہ bed sores جیسی کسی تکلیف سے محفوظ رہیں۔
وَكَلْبُهُمْ بَاسِطٌ ذِرَاعَيْهِ بالْوَصِيْدِ
اس دوران ان کا کتا اپنی اگلی دونوں ٹانگیں سامنے پھیلا کر کتوں کے بیٹھنے کے مخصوص انداز میں غار کے دہانے پر بیٹھا رہا۔
لَوِ اطَّلَعْتَ عَلَيْهِمْ لَوَلَّيْتَ مِنْهُمْ فِرَارًا وَّلَمُلِئْتَ مِنْهُمْ رُعْبًا
ایک ویرانے میں اندھیری غار اور اس کے سامنے اپنے بازو پھیلائے بیٹھا ہوا ایک خوفناک کتا یہ ایک ایسا منظر تھا جسے جو بھی دیکھتا ڈر کے مارے وہاں سے بھاگنے میں ہی عافیت سمجھتا۔
Ayah 18:19قَالُوْا لَبِثْنَا يَوْمًا اَوْ بَعْضَ يَوْمٍ ۭ قَالُوْا رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثْتُمْ
جب کچھ ساتھیوں نے اپنی رائے کا اظہار کیا کہ انہوں نے ایک دن یا اس سے کچھ کم وقت نیند میں گزارا ہے تو ان کے جواب پر کچھ دوسرے ساتھی بول پڑے کہ اس بحث کو چھوڑ دو اللہ کو سب پتا ہے کہ تم لوگ یہاں کتنا عرصہ تک سوئے رہے ہو۔
فَلْيَنْظُرْ اَيُّهَآ اَزْكٰى طَعَامًا فَلْيَاْتِكُمْ بِرِزْقٍ مِّنْهُ
ظاہر ہے کہ اپنے اعتقاد اور نظریے کے مطابق انہیں پاکیزہ کھانا ہی چاہیے تھا۔
وَلْيَتَلَطَّفْ
یعنی جو ساتھی کھانا لینے کے لیے جائے وہ لوگوں سے بات چیت اور لین دین کرتے ہوئے خصوصی طور پر اپنا رویہ نرم رکھے۔ ایسا نہ ہو کہ وہ کسی سے جھگڑ پڑے اور اس طرح ہم سب کے لیے کوئی مسئلہ کھڑا ہوجائے۔
یہاں پر نوٹ کر لیجیے کہ قرآن کے حروف کی گنتی کے اعتبار سے لفظ وَلْیَتَلَطَّفْ کی ”ت“ پر قرآن کا نصف اوّل پورا ہوگیا ہے اور اس کے بعد لفظ ”ل“ سے نصف ثانی شروع ہو رہا ہے۔
Ayah 18:20آیت 20 اِنَّهُمْ اِنْ يَّظْهَرُوْا عَلَيْكُمْ يَرْجُمُوْكُمْ اَوْ يُعِيْدُوْكُمْ فِيْ مِلَّتِهِمْ وَلَنْ تُفْلِحُوْٓا اِذًا اَبَدًا
اگر انہوں نے تمہیں مجبور کردیا کہ تم پھر سے ان کا دین قبول کرلو تو ایسی صورت میں تم ہمیشہ کے لیے ہدایت سے دور ہوجاؤ گے۔
Ayah 18:21آیت 21 وَكَذٰلِكَ اَعْثَرْنَا عَلَيْهِمْ
چنانچہ اصحاب کہف کا ایک ساتھی جب کھانا لینے کے لیے شہر گیا تو اپنے لباس حلیے اور کرنسی وغیرہ کے باعث فوری طور پر اسے پہچان لیا گیا کہ وہ موجودہ زمانے کا انسان نہیں ہے۔ پھر جب اس سے تفتیش کی گئی تو سارا راز کھل گیا۔ اس وقت اگرچہ اس واقعہ کو تین سو سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا تھا مگر اس کے باوجود یہ بات ابھی تک لوگوں کے علم میں تھی کہ فلاں بادشاہ کے ڈر سے اس شہر سے سات آدمی کہیں روپوش ہوگئے تھے اور پوری مملکت میں تلاش بسیار کے باوجود کہیں ان کا سراغ نہ مل سکا تھا۔ اسی طرح یہ بات بھی لوگوں کے علم میں تھی کہ اس پورے واقعے کو ایک تختی پر لکھ کر ریکارڈ کے طور پر شاہی خزانے میں محفوظ کرلیا گیا تھا۔ لہٰذا اصحاب کہف کے ساتھی سے ملنے والی معلومات کی تصدیق کے لیے جب مذکورہ تختی ریکارڈ سے نکلوائی گئی تو اس پر اس واقعہ کی تمام تفصیلات لکھی ہوئی مل گئیں اور یوں یہ واقعہ پوری وضاحت کے ساتھ لوگوں کے سامنے آگیا۔
لِيَعْلَمُوْٓا اَنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّاَنَّ السَّاعَةَ لَا رَيْبَ فِيْهَا
یہ واقعہ گویا بعث بعد الموت کے بارے میں ایک واضح دلیل تھا کہ جب اللہ تعالیٰ نے تین سو سال تک ان لوگوں کو سلائے رکھا اور پھر اٹھا کھڑا کیا تو اس کے لیے مردوں کا دوبارہ زندہ کرنا کیونکر ممکن نہیں ہوگا ؟
اِذْ يَتَنَازَعُوْنَ بَيْنَهُمْ اَمْرَهُمْ
اس کے بعد اصحاب کہف تو اپنی غار میں پہلے کی طرح سوگئے اور اللہ تعالیٰ نے ان پر حقیقی موت وارد کردی لیکن لوگوں کے درمیان اس بارے میں اختلاف پیدا ہوگیا کہ ان کے بارے میں حتمی طور پر کیا معاملہ کیا جائے۔
فَقَالُوا ابْنُوْا عَلَيْهِمْ بُنْيَانًا ۭ رَبُّهُمْ اَعْلَمُ بِهِمْ
کچھ لوگوں نے رائے دی کہ اس معاملہ کی اہمیت کے پیش نظر یہاں ایک شاندار یادگار تعمیر کی جانی چاہیے۔
Ayah 18:22قُلْ رَّبِّيْٓ اَعْلَمُ بِعِدَّتِهِمْ مَّا يَعْلَمُهُمْ اِلَّا قَلِيْلٌ
قرآن مجید میں ان کی تعداد کے بارے میں صراحت تو نہیں کی گئی مگر اکثر مفسرین کے مطابق بین السطور میں آخری رائے کے درست ہونے کے شواہد موجود ہیں۔ اس میں ایک نکتہ تو یہ ہے کہ پہلے فقرے ثَلٰثَۃٌ رَّابِعُہُمْ کَلْبُہُمْ اور دوسرے فقرے خَمْسَۃٌ سَادِسُہُمْ کَلْبُہُمْ کے درمیان میں ”و“ نہیں ہے ‘ جبکہ تیسرے فقرے میں سَبْعَۃٌ وَّثَامِنُہُمْ کَلْبُہُمْ کے درمیان میں ”و“ موجود ہے۔ چناچہ پہلے دونوں کلمات کے مقابلے میں تیسرے کلمہ کے بیان میں ”و“ کی وجہ سے زیادہ زور ہے۔
اس ضمن میں دوسرا نکتہ یہ ہے کہ جب وہ لوگ جاگے تھے تو ان میں سے ایک نے سوال کیا تھا : کَمْ لَبِثْتُمْ کہ تم یہاں کتنی دیر سوئے رہے ہو ؟ اس سوال کا جواب قرآن حکیم میں بایں الفاظ نقل ہوا ہے : قَالُوْا لَبِثْنَا یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ انہوں نے کہا کہ ہم ایک دن یا ایک دن سے کچھ کم عرصہ تک سوئے رہے ہیں۔ یہاں پر قالُوْا چونکہ جمع کا صیغہ ہے اس لیے یہ جواب دینے والے کم از کم تین لوگ تھے جبکہ اس سوال کے جواب میں ان کے جن ساتھیوں نے دوسری رائے دی تھی وہ بھی کم از کم تین ہی تھے کیونکہ ان کے لیے بھی قالُوْا جمع کا صیغہ ہی استعمال ہوا ہے : قَالُوْا رَبُّکُمْ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثْتُمْ ۔ اس طرح ان کی تعداد سات ہی درست معلوم ہوتی ہے۔ یعنی ایک پوچھنے والا تین لوگ ایک رائے دینے والے اور ان کے جواب میں تین لوگ دوسری رائے کا اظہار کرنے والے۔
اس کے علاوہ قدیم رومن لٹریچر میں بھی جہاں ان کا ذکر ملتا ہے وہاں ان کی تعداد سات ہی بتائی گئی ہے۔ قبل ازیں گبن کی کتاب کا حوالہ بھی دیا جا چکا ہے جس میں Seven Sleepers کا ذکر ہے۔ لیکن یہاں جس بات کی طرف خاص طور پر توجہ دلائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ اس معاملے میں بحث کرنے اور جھگڑنے کی ضرورت ہی نہیں ہے :
فَلَا تُمَارِ فِيْهِمْ اِلَّا مِرَاۗءً ظَاهِرًا ۠ وَّلَا تَسْتَفْتِ فِيْهِمْ مِّنْهُمْ اَحَدًا
یعنی جو بات دعوت دین اور اقامت دین کے حوالے سے اہم نہ ہو اس میں بےمقصد چھان بین کرنا اور بحث و نزاع میں پڑنا گویا وقت ضائع کرنے اور اپنی جدوجہد کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔
Ayah 18:23آیت 23 وَلَا تَقُوْلَنَّ لِشَايْءٍ اِنِّىْ فَاعِلٌ ذٰلِكَ غَدًا
اس آیت میں ایک بہت اہم واقعہ کا حوالہ ہے۔ جب اہل مکہ نے رسول اللہ سے سوالات کیے تو آپ نے فرمایا کہ میں آپ لوگوں کو ان سوالات کے جوابات کل دے دوں گا۔ اس موقع پر آپ نے سہواً ”ان شاء اللّٰہ“ نہیں فرمایا۔ اس کے بعد کئی روز تک وحی نہ آئی۔ یہ صورت حال آپ کے لیے انتہائی پریشان کن تھی۔ مخالفین خوشی میں تالیاں پیٹ رہے ہوں گے آپ کو ناکامی کے طعنے دے رہے ہوں گے اور آپ کو یہ سب کچھ برداشت کرنا پڑ رہا ہوگا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے محبوب بندوں کو کیسی کیسی سخت آزمائشوں سے دوچار کرتا ہے :
جن کے رتبے ہیں سوا ان کی سوا مشکل ہے !“
عام لوگ اپنی روز مرہ کی گفتگو میں کیسی کیسی لایعنی باتیں کرتے رہتے ہیں لیکن اللہ کے ہاں ان کی پکڑ نہیں ہوتی اس لیے کہ وہ اللہ کے ہاں اہم نہیں ہوتے مگر یہاں ایک انتہائی مقرب ہستی سے سہواً ایک کلمہ ادا ہونے سے رہ گیا تو باوجود اس کے کہ معاملہ بیحد حساس تھا وحی روک لی گئی۔ بالآخر کئی روز کے بعد جب اللہ کو منظور ہوا تو حضرت جبرائیل سوالات کے جوابات بھی لے کر آئے اور ساتھ یہ ہدایت بھی کہ کبھی کسی چیز کے بارے میں یوں نہ کہیں کہ میں کل یہ کروں گا :
Ayah 18:24آیت 24 اِلَّآ اَنْ يَّشَاۗءَ اللّٰهُ
یعنی مستقبل کے بارے میں جب بھی کوئی بات کریں تو ”ان شاء اللّٰہ“ ضرور کہیں کہ اگر اللہ نے چاہا تو میں یوں کروں گا۔ اللہ تعالیٰ کا مسلمانوں پر یہ خصوصی فضل ہے کہ انہیں اپنی معاشرتی زندگی میں روز مرہ کے معمولات کے لیے ایسے کلمات سکھائے گئے جن میں توحید کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ آپ نے کوئی خوبصورت چیز دیکھی جس سے آپ کا دل خوش ہوا آپ نے کہا : سبحان اللّٰہ ! گویا آپ نے اقرار کیا کہ یہ اس چیز کا کمال نہیں اور نہ ہی یہ چیز بذات خود لائق تعریف ہے بلکہ تعریف تو اللہ کی ہے جس نے یہ خوبصورت چیز بنائی۔ آپ کی کوئی تکلیف دور ہوئی تو منہ سے نکلا : الحَمد للّٰہ ! یعنی جو بھی مشکل آسان ہوئی اللہ کی مدد اس کی مہربانی اور اس کے حکم سے ہوئی لہٰذا شکر بھی اسی کا ادا کیا جائے گا۔ آپ اپنے گھر میں داخل ہوئے اہل و عیال کو خوش و خرم پایا آپ نے کہا : مَاشَاء اللّٰہ ! کہ اس میں میرا یا کسی اور کا کوئی کمال نہیں یہ سب اللہ کی مرضی اور مشیت سے ہے۔ اسی طرح مستقبل میں کسی کام کے کرنے کے بارے میں اظہار کیا تو ساتھ ان شاء اللّٰہ کہا۔ یعنی میرا ارادہ تو یوں ہے مگر صرف میرے ارادے سے کیا ہوتا ہے حقیقت میں یہ کام تبھی ہوگا اور میں اسے تبھی کر پاؤں گا جب اللہ کو منظور ہوگا کیونکہ اللہ کی مشیت اور مرضی کے بغیر کچھ نہیں ہوسکتا۔ گویا ان کلمات کے ذریعے قدم قدم پر اور بات بات میں ہمیں توحید کا سبق یاد دلایا جاتا ہے۔ اللہ کے علم اس کے حکم اس کے اختیار و اقتدار اس کی قدرت اس کی مشیت کے مطلق اور فائق ہونے کے اقرار کی ترغیب دی جاتی ہے۔ ان میں سے زیادہ تر کلمات اَلْحَمْدُ لِلّٰہ ‘ اِنْ شَاء اللّٰہ ‘ مَاشَاء اللّٰہ اس سورت میں موجود ہیں۔
وَاذْكُرْ رَّبَّكَ اِذَا نَسِيْتَ
اگر کسی وقت بھول جائیں تو یاد آنے پر دوبارہ اللہ کی طرف اپنا دھیان لگا لیجئے۔
وَقُلْ عَسٰٓي اَنْ يَّهْدِيَنِ رَبِّيْ لِاَقْرَبَ مِنْ هٰذَا رَشَدًا
یعنی کسی بھی کام کے لیے کوشش کرتے ہوئے انسان کو ”تفویض الامر الی اللہ“ کی کیفیت میں رہنا چاہیے کہ اگر اللہ کو منظور ہوا تو میں اس کوشش میں کامیاب ہوجاؤں گا ورنہ ہوسکتا ہے میرا رب میرے لیے اس سے بھی بہتر کسی کام کے لیے اسباب پیدا فرما دے۔ گویا انسان اپنے تمام معاملات ہر وقت اللہ تعالیٰ کے سپرد کیے رکھے :
سپردم بتو مایۂ خویش را تو دانی حساب کم وبیش را !
Ayah 18:25آیت 25 وَلَبِثُوْا فِيْ كَهْفِهِمْ ثَلٰثَ مِائَةٍ سِنِيْنَ وَازْدَادُوْا تِسْعًا
یعنی غار میں ان کے سونے کی مدت شمسی کیلنڈر میں تین سو سال جبکہ قمری کیلنڈر کے مطابق تین سو نو سال بنتی ہے۔
Ayah 18:26آیت 26 قُلِ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثُوْا
یعنی اس بحث میں بھی پڑنے کی ضرورت نہیں کہ وہ غار میں کتنا عرصہ سوئے رہے۔ اس کا جواب بھی آپ ان کو یہی دیں کہ اس مدت کے بارے میں بھی اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔
مَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّلِيٍّ ۡ وَّلَا يُشْرِكُ فِيْ حُكْمِهٖٓ اَحَدًا
اس کے سوا ان کا کوئی ساتھی کارساز مددگار حمایتی اور پشت پناہ نہیں ہے۔ لفظ ”ولی“ ان سب معانی کا احاطہ کرتا ہے۔
وہ اپنے اختیار اور اپنی حاکمیت کے حق میں کسی دوسرے کو شریک نہیں کرتا۔ یہ توحید حاکمیت ہے۔ اس بارے میں سورة یوسف آیت 40 و 67 میں اس طرح ارشاد ہوا : اِنِ الْحُکْمُ الاَّ لِلّٰہِ ”اختیار مطلق تو صرف اللہ ہی کا ہے“۔ جبکہ سورة بنی اسرائیل کی آخری آیت میں یوں فرمایا گیا : وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ شَرِیْکٌ فِی الْْمُلْکِ ”اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے بادشاہت میں۔“
Ayah 18:27آیت 27 وَاتْلُ مَآ اُوْحِيَ اِلَيْكَ مِنْ كِتَابِ رَبِّكَ
یعنی اس وقت آپ بہت مشکل صورت حال کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس کیفیت میں آپ کو صبر و استقامت کی سخت ضرورت ہے : وَاصْبِرْ وَمَا صَبْرُکَ الاَّ باللّٰہِ النحل : 127 ”اور اے نبی ! آپ صبر کیجیے اور آپ کا صبر تو اللہ کے سہارے پر ہی ہے“۔ یہ سہارا آپ کو اللہ کے ساتھ اپنا قلبی تعلق اور ذہنی رشتہ استوار کرنے سے میسر ہوگا اور یہ تعلق مضبوط کرنے کا سب سے مؤثر ذریعہ قرآن مجید کی تلاوت ہے۔ّ تمسک بالقرآن کا یہ مضمون سورة العنکبوت میں اکیسویں پارے کے آغاز میں دوبارہ آئے گا۔ حق و باطل کی کشمکش میں جب بھی کوئی مشکل وقت آیا تو رسول اللہ کو خصوصی طور پر تمسک بالقرآن کی ہدایت کی گئی ‘ اور آپ کی وساطت سے تمام مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ وہ قرآن کی تلاوت کو اپنا معمول بنائیں قرآن کے ساتھ اپنا تعلق مضبوط بنانے کے لیے زیادہ سے زیادہ وقت اس کے ساتھ صرف کریں۔ اسی طرح وہ مشکلات و شدائد کو برداشت کرنے اور اپنے دشمنوں کا مقابلہ کرنے کے قابل ہو سکیں گے۔
لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ ڟ وَلَنْ تَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًا
یقیناً یہ راستہ بہت کٹھن ہے اور اس راستہ کے مسافروں نے سختیوں کو بہر حال برداشت کرنا ہے۔ یہ اللہ کا قانون ہے جو کسی کے لیے تبدیل نہیں کیا جاتا۔ اس مہم میں واحد سہارا اللہ کی مدد اور نصرت ہے۔ چناچہ اگر آپ کو کہیں پناہ ملے گی تو اللہ ہی کے دامن میں ملے گی اس در کے علاوہ کوئی جائے پناہ نہیں ہے۔ علامہ اقبال نے اسی مضمون کی ترجمانی اپنے اس شعر میں کی ہے :
نہ کہیں جہاں میں اماں ملی جو اماں ملی تو کہاں ملی
میرے جرم خانہ خراب کو ‘ تیرے عفو بندہ نواز میں !
Ayah 18:28آیت 28 وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَدٰوةِ وَالْعَشِيِّ
یہ بلال حبشی عبد اللہ بن اُمّ مکتوم عمار بن یاسر اور خباب جیسے لوگ اگرچہ مفلس اور نادار ہیں مگر اللہ کی نظر میں بہت اہم ہیں۔ آپ ان لوگوں کی رفاقت کو غنیمت سمجھئے اور اپنے دل کو ان لوگوں کی معیت پر مطمئن کیجیے۔
يُرِيْدُوْنَ وَجْهَهٗ وَلَا تَعْدُ عَيْنٰكَ عَنْهُمْ ۚ تُرِيْدُ زِيْنَةَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا
ان غلاموں اور بےآسرا لوگوں سے آپ کی توجہ ہٹ کر کہیں مکہ کے سرداروں اور امراء کی طرف نہ ہونے پائے جس سے لوگوں کو یہ گمان ہو کہ آپ بھی دنیا کی زیب وزینت ہی کو اہمیت دیتے ہیں۔ لہٰذا ولید بن مغیرہ بظاہر کتنا ہی با اثر اور صاحب ثروت سہی آپ عبد اللہ بن اُمّ مکتوم کو نظر انداز کر کے اسے ہرگز اہمیت نہ دیں۔ ترجمہ کے اعتبار سے یہ آیت مشکل آیات میں سے ہے۔ یہاں الفاظ کے عین مطابق ترجمہ ممکن نہیں۔ حضور کی یہ شان ہرگز نہ تھی کہ آپ کی نظریں غرباء سے ہٹ کر امراء کی طرف اٹھتیں۔ چناچہ ان الفاظ سے یہی مفہوم سمجھ میں آتا ہے کہ دراصل آپ کو یہ بتانا مقصود ہے کہ آپ دعوت و تبلیغ کی غرض سے بھی ان امراء کی طرف اس انداز میں التفات نہ فرمائیں جس سے کسی کو مغالطہ ہو کہ آپ کی نگاہ میں دنیوی مال و اسباب کی بھی کچھ وقعت اور اہمیت ہے۔ سورة الحجر میں یہی مضمون اس طرح بیان ہوا ہے : لاَ تَمُدَّنَّ عَیْنَیْکَ اِلٰی مَا مَتَّعْنَا بِہٖٓ اَزْوَاجًا مِّنْہُمْ وَلاَ تَحْزَنْ عَلَیْہِمْ وَاخْفِضْ جَنَاحَکَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ ”آپ آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھیں اس مال و متاع کی طرف جو ہم نے ان کے مختلف گروہوں کو دے رکھا ہے اور آپ ان امراء کے بارے میں فکرمند نہ ہوں اور اہل ایمان کے لیے اپنے بازو جھکا کر رکھیں !“
کسی بھی داعی حق کے لیے یہ معاملہ بہت نازک ہوتا ہے۔ معاشرے کے اونچے طبقے کے لوگوں کا بہر حال اپنا ایک حلقہ اثر ہوتا ہے۔ ان میں سے اگر کوئی اہل حق کی صف میں شامل ہوتا ہے تو وہ اکیلا بہت سے افراد کے برابر شمار ہوتا ہے اور اس کی وجہ سے کئی دوسرے لوگ خود بخود کھنچے آتے ہیں اور پہلے سے موجود لوگوں کے لیے بھی ایسے شخص کی شمولیت تقویت اور اطمینان کا باعث ہوتی ہے۔ جیسے حضور نے اللہ تعالیٰ سے اپنی اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ عمر بن الخطاب یا عمرو بن ہشام ابوجہل میں سے کسی ایک کو ضرور میری جھولی میں ڈال دے ! ان دونوں میں سے کوئی ایک ایمان لے آئے۔ ظاہر ہے کہ ان جیسی بااثر شخصیات میں سے کسی کا ایمان لانا اسلام کے لیے باعث تقویت ہوگا اور اس کی رفاقت سے ان کمزور مسلمانوں کو سہارا ملے گا جن پر قافیہ حیات تنگ ہوا جارہا ہے۔ اور پھر واقعتا ایسا ہوا بھی کہ حضرت عمر اور حضرت حمزہ کے ایمان لانے کے بعد مکہ میں کمزور مسلمانوں پر قریش کے ظلم وتعدی میں کافی حد تک کمی آگئی۔
بہر حال اس سلسلے میں معروضی حقائق کسی بھی داعی کو اس طرف راغب کرتے ہیں کہ معاشرے کے متمول طبقوں اور ارباب اختیار و اقتدار تک پیغام حق ترجیحی بنیادوں پر پہنچایا جائے اور انہیں اپنی تحریک میں شامل کرنے کے لیے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ مگر دوسری طرف اس حکمت عملی سے تحریک کے نادار اور عام ارکان کو یہ تاثر ملنے کا اندیشہ ہوتا ہے کہ انہیں کم حیثیت سمجھ کر نظر انداز کیا جا رہا ہے اور اس طرح ان کی حوصلہ شکنی ہونے کا امکان پیدا ہوتا ہے۔ اس معاملے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ جب کوئی داعی حق اثر و رسوخ کے حامل افراد کی طرف ترجیحی انداز میں متوجہ ہوگا تو عوام میں اس کی ذات اور اس کی تحریک کے بارے میں یہ تاثر ابھرنے کا اندیشہ ہوگا کہ یہ لوگ بھی امراء اور ارباب اختیار سے مرعوب ہیں اور ان کے ہاں بھی دنیوی ٹھاٹھ باٹھ ہی کو ترجیح دی جاتی ہے۔ چناچہ دولت مند اور اثر و رسوخ کے حامل افراد تک دین کی دعوت کو پھیلانے کی کوشش کے ساتھ ساتھ اس سلسلے میں مذکورہ بالا دو عوامل کے منفی اثرات سے بچنا بھی نہایت ضروری ہے۔ چناچہ حضور کو اس آیت میں حکم دیا جا رہا ہے کہ آپ اس سلسلے میں احتیاط کریں کہیں لوگ یہ تاثر نہ لے لیں کہ محمد کے ہاں بھی دولت مند لوگوں ہی کو خصوصی اہمیت دی جاتی ہے۔
وَلَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَهٗ عَنْ ذِكْرِنَا وَاتَّبَعَ هَوٰىهُ وَكَانَ اَمْرُهٗ فُرُطًا
یہ بات متعدد بار بیان ہوچکی ہے کہ کفار مکہ رسول اللہ کے ساتھ مداہنت پر مصر تھے اور وہ آپ کے ساتھ کچھ دو اور کچھ لو کی بنیاد پر مذاکرات کرنا چاہتے تھے۔ اس سلسلے میں سرداران قریش کی طرف سے آپ پر شدید دباؤ تھا۔ اس پس منظر میں یہاں پھر متنبہ کیا جا رہا ہے کہ جن لوگوں کے دلوں کو ہم نے اپنی یاد سے غافل اور محروم کردیا ہے آپ ایسے لوگوں کی باتوں کی طرف دھیان بھی مت دیجیے !
Ayahs 18:29–30آیت 29 وَقُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ ۣ فَمَنْ شَاۗءَ فَلْيُؤْمِنْ وَّمَنْ شَاۗءَ فَلْيَكْفُرْ
کفار مکہ کی طرف سے کوئی درمیانی راستہ نکالنے کی کوششوں کے جواب میں یہاں حضور کی زبان مبارک سے واضح اور دو ٹوک انداز میں اعلان کرایا جا رہا ہے کہ تمہارے رب کی طرف سے جو حق میرے پاس آیا ہے وہ میں نے تم لوگوں کے سامنے پیش کردیا ہے۔ اب تمہارے سامنے دو ہی راستے ہیں اسے من و عن قبول کرلو یا اسے رد کر دو۔ لیکن یاد رکھو اس میں کچھ لو اور کچھ دو کے اصول پر تم سے کوئی سودے بازی ممکن نہیں۔ یہ وہی مضمون ہے جو سورة الدھر میں اس طرح بیان ہوا ہے : اِنَّا ہَدَیْنٰہُ السَّبِیْلَ اِمَّا شَاکِرًا وَّاِمَّا کَفُوْرًا یعنی ہم نے انسان کے لیے ہدایت کا راستہ واضح کردیا ہے اور اس کو اختیار دے دیا ہے کہ اب چاہے وہ شکر گزار بنے اور چاہے نا شکرا۔
اِنَّآ اَعْتَدْنَا للظّٰلِمِيْنَ نَارًا ۙ اَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا
جہنم کی آگ قناتوں کی شکل میں ہوگی اور وہ اللہ کے منکرین اور مشرکین کو گھیرے میں لے لے گی۔
بِئْسَ الشَّرَابُ ۭ وَسَاۗءَتْ مُرْتَفَقًا
”مُہْل“ کا ترجمہ تیل کی تلچھٹ کے علاوہ لاوا بھی کیا گیا ہے اور پگھلا ہوا تانبا بھی۔ سورة ابراہیم کی آیت 16 میں جہنمیوں کو پلائے جانے والے پانی کو ”مَآءٍ صَدِیْدٍ“ کہا گیا ہے جس کے معنی زخموں سے رسنے والی پیپ کے ہیں۔ بہرحال یہ سیال مادہ جو انہیں پانی کے طور پر دیا جائے گا اس قدر گرم ہوگا کہ ان کے چہروں کو بھون کر رکھ دے گا۔ اب آئندہ آیات میں فوری تقابل کے لیے اہل جنت کا ذکر آ رہا ہے۔
Ayah 18:31يُحَلَّوْنَ فِيْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّيَلْبَسُوْنَ ثِيَابًا خُضْرًا مِّنْ سُنْدُسٍ وَّاِسْتَبْرَقٍ
یعنی ان کا اوپر کا لباس باریک ریشم کا ہوگا جبکہ نیچے کا لباس موٹے ریشم کا ہوگا۔
Ayah 18:32اس رکوع میں دو اشخاص کے باہمی مکالمے کی تفصیل بیان ہوئی ہے۔ ان میں سے ایک شخص کو اللہ تعالیٰ نے مال و دولت اور بہت سی دوسری دنیوی نعمتوں سے نواز رکھا تھا۔ وہ شخص اپنی خوشحالی میں اس قدر مگن ہوا کہ اس کی نگاہ اللہ سے ہٹ کر مادی وسائل پر ہی جم کر رہ گئی اور انہی اسباب و وسائل کو وہ اپنے توکل اور بھروسے کا مرکز بنا بیٹھا۔ اس کے ساتھ ایک دوسرا شخص تھا جو دنیوی لحاظ سے خوشحال تو نہیں تھا مگر اسے اللہ کی معرفت حاصل تھی۔ اس نے اس دولت مند شخص کو نصیحت کی کہ اللہ نے تمہیں بہت سی نعمتوں سے نوازا ہے مگر تم اسے بالکل ہی بھولے ہوئے ہو۔ تمہیں چاہیے کہ تم اللہ کا شکر ادا کرو۔ دولت مند شخص نے گھمنڈ میں آکر اس کی نصیحت کا بہت تلخ جواب دیا اور کہا کہ مجھے تو یہ ساری نعمتیں اس لیے ملی ہیں کہ میں اللہ کا چہیتا ہوں جبکہ میرے مقابلے میں تمہاری کوئی حیثیت نہیں۔ اللہ کے اس بندے نے اسے پھر سمجھایا کہ دیکھو اپنے دنیوی مال و اسباب پر مت اتراؤ ‘ کیونکہ اللہ اگر چاہے تو تمہارے یہ سارے ٹھاٹھ باٹھ پل بھر میں ختم کر کے رکھ دے۔ وہ چاہے تو تمہاری ساری دولت اور مال و اسباب کو ضائع کرسکتا ہے۔ اس نے جواباً کہا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے ؟ میں نے اپنے مال و اسباب کی حفاظت کا خوب بندوبست کر رکھا ہے۔ الغرض ان تمام نصیحتوں کا اس شخص پر کچھ بھی اثر نہ ہوا۔ دنیوی اسباب کے نشے نے اس کو اس قدر اندھا کر رکھا تھا کہ اسے حقیقی مسبب الاسباب کی قدرت کا کچھ اندازہ ہی نہ رہا۔ بالآخر اس کے اس رویے کا نتیجہ یہ نکلا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا سب کچھ برباد کر کے رکھ دیا اور وہ اپنے رویے پر کف افسوس ملتا رہ گیا۔ اپنی بربادی کے بعد جب اس شخص کی آنکھیں کھلیں تو تب بہت دیرہو چکی تھی۔
یہاں اس دولت مند شخص کا وہ فقرہ خاص طور پر قابل غور ہے جو اپنی بربادی کے بعد پچھتاتے ہوئے اس کی زبان سے نکلا تھا کہ ”کاش میں نے اپنے رب کے ساتھ شرک نہ کیا ہوتا !“ دیکھا جائے تو اس سارے واقعے میں کسی ظاہری شرک کا ارتکاب نظر نہیں آتا۔ کسی دیوی یا دیوتا کی پوجا پاٹ کا بھی کوئی حوالہ یہاں نہیں آیا اللہ کے سوا کسی دوسرے معبود کا بھی ذکر نہیں ہوا تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کون سا اقدام تھا جس پر وہ شخص پچھتایا کہ کاش میں نے اپنے رب سے شرک نہ کیا ہوتا ! اس پہلو سے اگر اس سارے واقعے کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو یہ نکتہ سمجھ میں آتا ہے کہ یہاں جس شرک کا ذکر ہوا ہے وہ ”مادہ پرستی“ کا شرک ہے۔ اس شخص نے اپنے مادی اسباب و وسائل کو ہی اپنا سب کچھ سمجھ لیا تھا۔ جو بھروسا اور توکل اسے حقیقی مسبب الاسباب پر کرنا چاہیے تھا وہ بھروسا اور توکل اس نے اپنے مادی وسائل پر کرلیا تھا اور اس طرح ان مادی وسائل کو معبود کا درجہ دے دیا تھا۔ یہی رویہ اور یہی سوچ مادہ پرستی ہے اور یہی موجودہ دور کا سب سے بڑا شرک ہے۔
موجودہ دور ستارہ پرستی اور بت پرستی کا دور نہیں۔ آج کا انسان ستاروں کی اصل حقیقت جان لینے اور چاند پر قدم رکھ لینے کے بعد ان کی پوجا کیونکر کرے گا ؟ چناچہ آج کے دور میں اللہ کو چھوڑ کر انسان نے جو معبود بنائے ہیں ان میں مادہ پرستی اور وطن پرستی سب سے اہم ہیں۔ آج دولت کو معبود کا درجہ دے دیا گیا ہے اور مادی وسائل اور ذرائع کو مسبب الاسباب سمجھ لیا گیا ہے۔ یہ موجودہ دور کا بہت خطرناک شرک ہے اور اس سے محفوظ رہنے کے لیے اسے بہت باریک بینی سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔
جَعَلْنَا لِاَحَدِهِمَا جَنَّتَيْنِ مِنْ اَعْنَابٍ وَّحَفَفْنٰهُمَا بِنَخْلٍ
انگوروں کی بیلوں کے گردا گرد کھجوروں کے درختوں کی باڑ تھی تاکہ نازک بیلیں آندھی ‘ طوفان وغیرہ سے محفوظ رہیں۔
وَّجَعَلْنَا بَيْنَهُمَا زَرْعًا
بنیادی طور پر وہ انگوروں کے باغات تھے۔ ان کے اطراف میں کھجوروں کے درخت تھے جن کی دوہری افادیت تھی۔ ان درختوں سے کھجوریں بھی حاصل ہوتی تھیں اور وہ حفاظتی باڑ کا کام بھی دیتے تھے۔ درمیان میں کچھ زمین کاشت کاری کے لیے بھی تھی جس سے اناج وغیرہ حاصل ہوتا تھا۔ گویا ہر لحاظ سے مثالی باغات تھے۔
Ayah 18:33آیت 33 كِلْتَا الْجَنَّتَيْنِ اٰتَتْ اُكُلَهَا وَلَمْ تَظْلِمْ مِّنْهُ شَـيْــــًٔـا
وہ دونوں باغات ہر سال موسم کے مطابق خوب پھلتے تھے اور ان کی پیدوار میں کبھی کوئی کمی نہیں آتی تھی۔ ان باغوں کا مالک شخص سالہا سال سے ان کی پیداوار سے مسلسل فائدہ اٹھاتے اٹھاتے انہیں دائمی سمجھ بیٹھا اور وہ بالکل ہی بھول گیا کہ یہ سب کچھ اللہ کی مشیت اور اجازت ہی سے ممکن ہے۔
وَّفَجَّرْنَا خِلٰلَهُمَا نَهَرًا
ان دونوں باغوں کے بیچوں بیچ ایک نہر بہتی تھی۔ گویا ان کی آب پاشی کا نظام بھی مثالی تھا۔
Ayah 18:34آیت 34 وَّكَانَ لَهٗ ثَمَــــرٌ
اس کا ایک مفہوم تو یہی ہے کہ جب ان دونوں کا آپس میں مکالمہ ہو رہا تھا اس وقت وہ دونوں باغات پھلوں سے خوب لدے ہوئے تھے جبکہ دوسرا مفہوم جو میرے نزدیک راجح ہے یہ ہے کہ اس شخص کو اللہ نے اولاد بھی خوب دے رکھی تھی۔ اس لیے کہ انسان کے لیے اس کی اولاد کی وہی حیثیت ہے جو کسی درخت کے لیے اس کے پھل کی ہوتی ہے۔
فَقَالَ لِصَاحِبِهٖ وَهُوَ يُحَاوِرُهٗٓ اَنَا اَكْثَرُ مِنْكَ مَالًا وَّاَعَزُّ نَفَرًا
یہاں جس فخر سے اس شخص نے اپنی نفری کا ذکر کیا ہے اس کے اس انداز سے تو وَّکَانَ لَہٗ ثَمَرٌ کا یہی ترجمہ بہتر محسوس ہوتا ہے کہ اس شخص کو اولاد خصوصاً بیٹوں سے بھی نوازا گیا تھا۔
Ayah 18:35قَالَ مَآ اَظُنُّ اَنْ تَبِيْدَ هٰذِهٖٓ اَبَدًا
یعنی میرا یہ باغ ہر لحاظ سے مثالی ہے۔ اسے میں نے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت ہر قسم کے خطرات سے محفوظ بنا رکھا ہے۔ انگوروں کی نازک بیلوں کے گردا گرد کھجوروں کے بلند وبالا درخت سنتریوں کی طرح کھڑے ہر قسم کے طوفان اور باد صرصر کے تھپیڑوں سے اس کی حفاظت کر رہے ہیں۔ آب پاشی کے لیے نہر کا وافر پانی ہر وقت موجود ہے۔ لہٰذا میں نہیں سمجھتا کہ اسے کبھی کسی قسم کا کوئی خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔
Ayah 18:36آیت 36 وَّمَآ اَظُنُّ السَّاعَةَ قَاۗىِٕمَةً
یہ قیامت وغیرہ کی باتیں سب ڈھکوسلے ہیں۔ میں نہیں سمجھتا کہ ایسا کوئی واقعہ حقیقت میں رونما ہونے والا ہے۔
وَّلَىِٕنْ رُّدِدْتُّ اِلٰى رَبِّيْ لَاَجِدَنَّ خَيْرًا مِّنْهَا مُنْقَلَبًا
قیامت و آخرت کا اول تو میں قائل ہی نہیں لیکن قیامت اگر ہوئی بھی تو میں بہرحال وہاں اس سے بھی بہتر زندگی پاؤں گا۔ ان الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ شخص اللہ کا منکر نہیں تھا مگر دنیوی مال و دولت اور مادی اسباب و ذرائع پر بھروسا کر کے شرک کا ارتکاب کر رہا تھا۔ یہ شخص یہاں پر جو فلسفہ بیان کر رہا ہے وہ اکثر مادہ پرست لوگوں کے ہاں بہت مقبول ہے۔ یعنی اگر مجھے دنیا میں اللہ تعالیٰ نے خوشحالی و فارغ البالی سے نواز رکھا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ مجھ سے خوش ہے۔ اسی لیے اس نے مجھے خصوصی صلاحیتیں عطا کی ہیں جن کی وجہ سے میں نے یہ اسباب و وسائل اکٹھے کیے ہیں۔ چناچہ وہ آخرت میں بھی ضرور اپنی نعمتوں سے مجھے نوازے گا۔ اور جو لوگ یہاں دنیا میں جوتیاں چٹخاتے پھر رہے ہیں وہ آخرت میں بھی اسی طرح بےیارو مددگار ہوں گے۔
Ayahs 18:37–38اَكَفَرْتَ بالَّذِيْ خَلَقَكَ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ سَوّٰىكَ رَجُلًا
یہاں یہ نکتہ بہت اہم ہے کہ وہ شخص بظاہر اللہ کا منکر نہیں تھا مگر پھر بھی اسے اللہ سے کفر کا مرتکب بتایا گیا ہے۔ وہ اس لیے کہ اس سے پہلے وہ آخرت کا انکار کرچکا تھا اور آخرت کا انکار دراصل اللہ کا انکار ہے۔ گویا جو شخص آخرت کا منکر ہو اس کا ایمان باللہ کا دعویٰ بھی قابل قبول نہیں۔
Ayah 18:39آیت 39 وَلَوْلَآ اِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَاۗءَ اللّٰهُ ۙ لَا قُوَّةَ اِلَّا باللّٰهِ
تجھے جب باغ میں ہر طرف خوش کن مناظر دیکھنے کو ملے اور پورا باغ پھلوں سے لدا ہوا نظر آیا تو تیری زبان سے ”ما شاء اللہ“ کیوں نہ نکلا اور تو نے یہ کیوں نہ کہا کہ یہ میرا کمال نہیں بلکہ اللہ کی دین ہے جو اصل طاقت اور اختیار کا مالک ہے ‘ اس کی اجازت اور مرضی کے بغیر کچھ نہیں ہوسکتا۔ یہ ”ماشاء اللہ“ وہ کلمہ ہے جس میں توحید کوٹ کوٹ کر بھری ہے ‘ کہ جو اللہ چاہتا ہے وہی ہوتا ہے کسی اور کے چاہنے سے یا اسباب و وسائل کے ہونے سے کچھ نہیں ہوتا۔
Ayah 18:40آیت 40 فَعَسٰي رَبِّيْٓ اَنْ يُّؤْتِيَنِ خَيْرًا مِّنْ جَنَّتِكَ
مجھے یقین ہے کہ میرا رب اگر چاہے تو تمہارے ان باغوں سے بہتر نعمتوں سے مجھے نواز دے۔
وَيُرْسِلَ عَلَيْهَا حُسْـبَانًا مِّنَ السَّمَاۗءِ فَتُصْبِحَ صَعِيْدًا زَلَقًا
یہ بھی ممکن ہے کہ تمہارے اس کفر وتکبر کے باعث اللہ تعالیٰ تمہارے باغوں پر کوئی ایسی آفت نازل کر دے کہ اس قطعہ زمین پر کسی درخت یا کسی بیل وغیرہ کا نام و نشان تک نہ رہے۔