Ayah 18:1(18:1) عبدہ۔ مضاف مضاف الیہ۔ عبد سے مراد ذات اقدس نبی اکرم ﷺ ہے اور ضمیر واحد مذکر غائب ہ کا مرجع ذات باری تعالیٰ ہے۔ الکتب۔ ای القران۔
عوجا۔ العوج (باب نصر) کے معنی کسی چیز کے سیدھا کھڑا ہونے کی حالت سے ایک طرف جھک جانا کے ہیں۔ العوج اس ٹیڑھے پن کو کہتے ہیں جو آنکھ سے بسہولت دیکھا جاسکے۔ مثلاً لکڑی وغیرہ کا ٹیڑھا پن۔ اور العوج اس ٹیڑھے پن کو کہتے ہیں جو صرف عقل اور بصیرت سے دیکھا جاسکے۔ مثلاً معاشرہ میں دینی اور معاشی ناہمواریاں ۔ یا فہم و ادراک میں کجی۔
اور جگہ قرآن کی تعریف میں ارشاد ہے قرانا عربیا غیر ذی عوج (39:28) یہ قرآن عربی جس میں کوئی عیب واختلاف (لفظی یا معنوی ناہمواری) نہیں ہے۔ عوج۔ اسم ، پیچیدگی۔ ٹیڑھا پن۔ صاحب ضیاء القرآن رقمطراز ہیں۔ عوجا کی تنوین تقلیل کیلئے ہے یعنی اس میں ذرا سی بھی کجی نہیں ہے۔
Ayahs 18:2–4(18:2) قیما۔ درست کرنے والے۔ یعنی ایسی کتاب جو (نہ صرف بذاتہٖ ہر قسم کی کجی یا خامی سے مبرّا ہے بلکہ) دوسروں کی کجیوں اور خامیوں کی اصلاح کرتی ہے۔ ای ثابتا ومقوما لامور معاشہم ومعادہم یعنی کود کجی سے بالاتر اور دوسروں کے معاش ومعاد کو درست کرنے والی۔ حروف مادہ ق و م۔
ولم یجعل لہ عوجا قیما۔ صاحب کشاف نے وائو کو حرف عطف اور ولم یجعل لہ کو انزل پر معطوف لیا ہے۔ ان کے نزدیک قیما کو الکتب کا حال ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ فعل مضمر کی وجہ سے ہے اور تقدیر کلام یوں ہے ولم یجعل لہ عوجا جعلہ قیما۔ لیکن بعض کے نزدیک ولم یجعل لہ عوجا میں وائو حالیہ ہے گویا ولم یجعل لہ عوجا اور قیمادونوں حال ہیں جب دونوں حال ہوئے تو حال اور ذوالحال میں فاصلہ نہ رہا۔
لینذر۔ لام تعلیل کے لئے ہے ینذر مضارع واحد غائب منصوب بوجہ عمل لا۔ انذار (افعال) مصدر تاکہ وہ ڈرائے (ڈرائے کا فاعل کتاب ہے)
لینذر باسا شدیدا۔ تقدیر کلام یوں ہے۔ لینذر والذین کفروا باسا شدیدا تاکہ وہ کافروں کو عذاب شدید سے ڈرائے۔ مفعول اول محذوف ہے۔ من لدنہ۔ اس کی طرف سے۔ ان لہم اجرا حسنا۔ یہ بشارت کا بیان ہے۔ اور مراد اس اجر سے جنت ہے
Ayah 18:5(18:5) کبرت۔ ماضی واحد مؤنث غائب اس کا فاعلھی ضمیر مستتر ہے۔ اور کلمۃ اس کی تمیز ہے اور اس واسطے منصوب ہے۔
کبرت کلمۃ تخرج من افواہہم۔ کتنی بڑی بات ہے جو ان کے مونہوں سے نکلتی ہے۔ یعنی ان کی زبانیں کیسے شدید گستاخانہ عقیدہ بیان کر رہی ہے (یہ اسلوب بیان اظہار تعجب کے لئے اختیار کیا گیا) ۔ ان یقولون میں ان نافیہ ہے۔
Ayah 18:6(18:6) فلعلک باخع لفسک۔ لعل۔ حرف مشابہ بفعل ہے۔ ک اس کا اسم۔ شاید تو۔
لعل۔ امید یا خوف پر دلالت کرنے کے لئے آتا ہے ان ان کان کی طرح ناصب ِ اسم اور رافع خبر ہے۔ امید کا رجوع کبھی متکلم کی طرف ہوتا ہے جیسے لعلنا نتبع السحرۃ (26:40) (اگر ہمارے جادوگر غالب آگئے تو ہمیں امید ہے کہ ہم ان ہی کی راہ پر رہیں گے) ۔
کبھی مخاطب کو امید دلانے کے لئے آتا ہے اس وقت امید کا رجوع مخاطب کی طرف ہوتا ہے مثلاً لعلہ یتذکر او یخشی (20: 44) پھر اس سے نرم گفتگو کرنا یہ امید رکھتے ہوئے کہ) شاید وہ نصیحت مان جائے یا ڈر ہی جائے۔
کبھی امید کا تعلق نہ متکلم سے ہوتا ہے نہ مخاطب سے بلکہ تیسرے شخص سے ہوتا ہے۔ جیسے آیت ہذا میں فلعلک باخع لفسک الا یکونوا مؤمنین۔ یعنی آپ کی حالت کو دیکھ کر لوگ یہ امید یا اندیشہ کرتے ہیں کہ آپ اپنی جان کھو دیں گے۔ اور جگہ اس کی مثال۔ فلعلک تارک بعض ما یوحی الیک (11:12) یعنی لوگ یہ امید رکھتے ہیں کہ آپ وحی کا کوئی حصہ ترک کردیں گے۔
باخع۔ اسم فاعل۔ واحد مذکر۔ بخع مصدر باب فتح۔ البخع کے معنی غم سے اپنے تئیں ہلاک کر دالنا کے ہیں۔ ایک شاعر نے کہا ہے :۔
الا ایھا الباخع الوجد نفسہ۔ اے غم کی وجہ سے اپنے آپ کو ہلاک کرنے والے۔
علی اثارہم۔ اثارجمع اثر واحد۔ اثارہم مضاف مضاف الیہ۔ اثر۔ نشانی۔ علامت نشان قدم۔ جیسے فارتد اعلی اثارہما قصصا۔ (18:46) پھر دونوں اپنے قدموں کے نشان پر الٹے چلے۔ یہاں علی اثارہم۔ کے معنی ہیں من بعدہم ای من بعد تولیہم عن الایمان وتباعدہم منہ یعنی ان کے ایمان سے اعراض کرنے پر اور اس سے بعد پر۔ فلعلک باخع نفسک علی اثارہم۔ لوگ امید کرتے ہیں کہ آپ ان کے ایمان سے اعراض کے پیچھے غم سے اپنے آپ کو ہلاک کرلیں گے۔
الحدیث۔ ای القران۔ اسفا۔ مفعول لہ ہے باخع کا اسف بمعنی افسوس کرنا۔ پچھتانا۔ ان لم یؤمنوا بھذا الحدیث شرط فلعلک باخع نفسک جزائ۔ خبر الفظاً مقدم لائی گئی ہے لیکن معنی مؤخر ہے۔ الفاء جواب شرط کا ہے۔
Ayah 18:7(18:7) لنبلوہم۔ میں لام تعلیل کا ہے۔ نبلو۔ مضارع جمع متکلم ۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب۔ سکان الارض۔ اہالیان ارض کے لئے ہے تا کہ ہم اہل زمین کو آزمائیں۔
Ayah 18:8(18:8) صعیدا۔ زمین ۔ خاک۔ صعود مصدر جس کے معنی بلند ہونے کے ہیں۔ صعیدبروزن فعیل۔ صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔
جرزا۔ بنجر ۔ چٹیل۔ جرز سے جس کے معنی کاٹ دینے اور کھا کر صاف کردینے کے ہیں صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ یعنی وہ زمین جس کے درخت اور گھاس چھانٹ دئیے گئے ہوں۔ چونکہ چٹیل میدان اور بنجر زمین درختوں اور گھاس سے خالی ہوتی ہے اس لئے جرز کہلاتی ہے۔ یعنی ایک دن ہم اس سرسبز و شاداب زمین کو چٹیل میدان بنادیں گے (یہ اپنی صنعت ِ ایجاد کے بعد حکمت اعدام کی طرف اشارہ ہے) ۔
Ayah 18:9(18:9) أم۔ أم حرف عطف ہے اس کی دو قسمیں ہیں متصل۔ منقطع۔ متصل وہ ہے جس کے پہلے ہمزہ تسویہ (سواء کا ہمزہ) آئے جیسے سواء علیہم انذرتہم ام لم تنذرہم (2:6) یا اس سے پہلے ہمزہ استفہام ایسا آئے جس کو أم کے ساتھ ملانے سے تعیین و تخصیص مطلوب ہو مثلاً : أزید عندک أم عمرو یا جیسے ارشاد باری تعالیٰ ہے أ الذکرین حرم ام الانثیین (6:143) اس کو متصل اس لئے کہتے ہیں کہ اس کا ماقبل اور مابعد دونوں ایک دوسرے سے مربوط ہوتے ہیں۔
منقطعہ جو متصل کے خلاف ہو۔ جیسے ام جعلوا للہ شرکاء (13:16) ام منقطعہ کے وہ معنی جو اس سے کبھی جدا نہیں ہوتے ” اضراب “ ہے (اضراب یعنی پہلی بات سے اعراض کرنا) ۔ ام۔ کئی معنوں میں مستعمل ہوتا ہے۔ مثلاً یا۔ خواہ۔ کیا۔ اور کبھی بمعنی بل استعمال ہوتا ہے۔ اور کبھی بل اور ہمزہ استفہام کے لئے آتا ہے۔ جیسا جمہور کے قول کے مطابق آیہ ہذا میں ہے ۔ اس صورت میں ام حسبت ای بل أحسبت تو کیا تو خیال کرتا ہے۔ جیسا کہ اوپر بیان ہوچکا ہے۔ ام منقطعہ کی مستقل خصوصیت اضراب یعنی پہلی بات سے اعراض ہے۔
اوپر آیات 7:8 میں زمین کو پیدا کرنے اور پھر روئے زمین پر زینت و آرائش کے مختلف سامانوں کے پیدا کرنے اور پھر اس کائنات کی ساری رعنائیوں اور دلفریبیوں کو فنا کر کے بےآب وگیاہ چٹیل میدان میں تبدیل کرنے کا ذکر ہے اور آیۃ 9 میں اصحاب کہف والرقیم کے قصہ کا ذکر ہے ارشاد ہوتا ہے کہ جس ذات والا صفات کے قبضۂ قدرت میں تخلیق ارض وسماوات بمعہ ان کے جملہ لوازمات ہے کیا اس کا اصحاب کہف کو کچھ مدت کے لئے ان پر نیند طاری کر کے مرور وقت سے بیخبر رکھ کر دوبارہ اٹھا کر کھڑنا تعجب کی بات ہے ؟ ہرگز نہیں۔ بلکہ اس تخلیق کے مقابلہ میں یہ بات تو بالکل معمولی اور حقیر سی ہے۔
ام۔ بعض دفعہ زائدہ بھی آتا ہے جیسے افلا تبصرون ام انا خیر (43:51 ۔ 52) اس عبارت کی تقدیر یوں ہے افلا تبصرون انا خیر۔ (کیا تم نہیں دیکھتے کہ میں بہتر ہوں) ۔ لغت ِ یمن میں ام ال کے بدل میں بھی استعمال ہوتا ہے مثلاً لیس من امبر أمصیام فی امسفر۔ ای لیس من البر الصیام فی السفر (سفر میں روزہ رکھنا خاص نیکی نہیں) ۔
الکہف۔ پہاڑ میں وسیع غار کو کہف کہتے ہیں۔ اس کی جمع کھوف ہے۔ الرقیم۔ اس کے متعلق مختلف اقوال ہیں :
(1) بعض کے نزدیک اصحاب کہف کے کتے کو رقیم کہتے ہیں۔ جیسا کہ امیہ بن صلت کا قول ہے۔
(2) الرقیم۔ روم میں ایک قریہ کا نام ہے الضحاک۔ (3) یہ اس پہاڑی کا نام ہے جس میں الکہف ہے۔
(4) الرقہم بروزن فعیل بمعنی مفعول ہے نوشتہ۔ تحریر۔ لکھی ہوئی عبارت۔ قرآن میں اور جگہ آیا ہے کتاب مرقوم (83:9، 20) ایک لکھی ہوئی کتاب۔ لہٰذا الرقیم وہ لوح جس پر اصحاب کہف کے نام۔ ان کا حسب ونسب ۔ ان کا قصہ اور ان کے خروج کے اسباب تحریر ہیں اور جو ان کے مدفن پر لگائی گئی ہے۔
بعض کے نزدیک اصحاب کہف اور اصحاب رقیم دو مختلف طائفہ ہیں لیکن صحیح یہی ہے کہ یہ ایک ہی گروہ تھا۔ اور لفظ اصحاب کی اضافت دواشیاء کی طرف کی گئی ہے کیونکہ قرآن میں صرف اصحاب کہف کا ہی تذکرہ ہے اصحاب الرقیم کا الگ کوئی تذکرہ نہیں ہے۔
عجبا۔ مصدر ہے بمعنی عجیب بطور صفت کے آیا ہے اور یہ عجیب ہے زیادہ بلیغ ہے اس کا موصوف محذوف ہے۔ ای ایۃ او شیئا عجبا۔ تعجب خیز آیت یا شئے۔ اصحاب الکہف والرقیم۔ اسم کانوا فعل ناقص۔ حسبت عجبا۔ کانوا کی خبر۔ من ایتنا حال ہے۔ ترجمہ یوں ہوگا۔ تو کیا تو خیال کرتا ہے کہ اصحاب الکہف والرقیم ہماری نشانیوں میں سے کوئی تعجب خیز شے تھے۔
Ayah 18:10(18:10) اذ۔ ای اذکر اذ۔ یاد کر جب۔
اوی۔ اوی سے ماضی واحد مذکر غائب ۔ وہ اترا۔ وہ جا بیٹھا۔ الماوی۔ کسی جگہ نزول کرنا یا پناہ حاصل کرنا۔ جیسے قرآن مجید میں آیا ہے قال ساوی الی جبل۔ (11:43) اس نے کہا کہ میں ابھی پہاڑ پر جا بیٹھوں گا۔ یا پہاڑ پر جا پناہ لوں گا۔
الفتیۃ۔ فتیۃ۔ فتی۔ کی جمع قلت ہے ۔ بعض کے نزدیک یہ اسم جمع ہے مراد اصحاب الکہف سے ہے۔ (جب ان جوانوں نے پناہ لی) ۔ من الدنک اپنی طرف سے۔
ھیٔ لنا۔ فعل امر۔ واحد مذکر حاضر۔ ھیئا یھییٔ تھییٔ۔ (باب تفعیل) کسی معاملہ کے لئے اسباب مہیا کرنا۔ ھییٔ لنا من امرنا رشدا (آیہ ہذا) اور ہمارے کاموں میں درستی (کے سامان) مہیا کر۔ اور جگہ اس سورت میں آیا ہے۔ ویھیی لکم من امرکم مرفقا۔ (18:16) اور تمہارے کاموں میں آسانی (کے سامان) مہیا کرے گا۔
الھیئۃ اصل میں کسی چیز کی حالت کو کہتے ہیں خواہ وہ محسوسہ ہو یا معقولہ، لیکن عام طور پر حالت ِ محسوسہ یعنی شکل و صورت پر بولا جاتا ہے۔ علم الھیئۃ۔ وہ علم جس میں اجرام سماویہ سے بحث ہو،
رشدا۔ رشد یرشد (باب نصر) کا مصدر ہے۔ راستی ۔ بھلائی۔ نیکی۔ راہ یابی راہ راست پانا۔
Ayah 18:11(18:11) فضربنا علی اذانہم۔ اس میں مفعول محذوف ہے یعنی فضربنا حجابا علی اذانہم۔ ہم نے ان کے کانوں پر پردہ ڈالے رکھا۔ یعنی ایسی گہری نیند طاری کر رکھی کہ وہ کوئی آواز سنتے ہی نہ تھے۔
عددا۔ بمعنی معدودۃ۔ مصدر بمعنی صفت آیا ہے اور سنین موصوف ہے ای سنین معدودۃ۔ کچھ سال۔ گنتی کے کئی سال۔
Ayah 18:12(18:12) بعثنہم۔ ہم نے ان کو اٹھا کھڑا کیا۔ لنعلم۔ لام تعلیل کا ہے نعلم مضارع جمع متکلم منصوب بوجہ عمل لا۔
ای الحزبین۔ دونوں گروہوں میں سے کون سا گروہ۔ حزبین۔ تثنیہ حزب واحد گروہ، جماعت ۔ فرقہ۔ ان دو فرقوں سے کونسا فرقہ مراد ہے۔ اس کے متعلق مختلف اقوال ہیں۔
(1) ایک فرقہ اصحاب کہف کا دوسرا فرقہ اہل شہر کا جو اس زمانہ میں وہاں آباد تھے جب اصحاب کہف کو دوبارہ اٹھایا گیا تھا۔
(2) دونوں گروہ اہالیانِ شہر میں سے تھے۔ ایک مؤمنوں کا گروہ۔ دوسرا کافروں کا۔
(3) اس زمانہ کے مؤمنوں میں سے ہی دو گروہ تھے۔
(4) کافروں کے دو گروہ مراد ہیں۔ ایک گروہ یہود ایک گروہ نصاریٰ ۔
(5) دونوں گروہ اصحاب کہف میں سے تھے۔ ایک گروہ جو کہتا تھا لبثنا یوما او بعض یوم۔ (18:19) اور دوسرا گروہ جو کہتا تھا کہ ربکم اعلم بما لبثتم (ایضا) ۔
احصی۔ خوب گننے والا۔ احصاء (باب افعال) سے افعل التفضیل کا صیغہ۔ یا احصی یحصی احصاء (افعال) ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے۔ اس نے گنا۔ اس نے شمار کیا۔ حصاء سے مشتق ہے جس کے معنی کنکری کے ہیں۔ عرب کنکریوں کو گنتی کے لئے استعمال کیا کرتے ۔ امدا۔ بلحاظ مدت کے۔ ازروئے مدت۔ تمیز ہے احصی کی۔ یا احصی فعل ماضی کا مفعول ہے مدت۔
Ayah 18:13(18:13) نباہم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان کی خبر۔ ان کا قصہ۔
Ayah 18:14(18:14) ربطنا۔ ماضی جمع متکلم۔ ہم نے باندھا ۔ ہم نے گرہ دی۔ ربط مصدر۔ (باب ضرب ، نصر) مضبوط باندھنا۔ ربط اللہ علی قلبہ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے دل کو قوت بخشی اور صبر عطا کیا وربطنا علی قلوبہم۔ اور ہم نے ان کے دلوں کو قوت بخشی۔ ارتبط فرسا۔ سرحد کی حفاظت کے لئے گھوڑا تیار کرنا۔
اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے لولا ان ربطنا علی قلبھا (28:10) اگر ہم اس کے دل کو مضبوط نہ کئے رکھتے (تو عجب نہ تھا کہ وہ ہمارا سارا معاملہ ظاہر کر دیتیں) ۔
اذ قاموا۔ یہ ربطنا سے متعلق ہے یعنی ہم نے ان کے دل (صبروثبات) سے مضبوط کر دئیے جب وہ اٹھ کھڑے ہوئے (باطل کے مقابلہ میں یا جبار حاکم کے روبرو یا اپنی بت پرست قوم کے سامنے) فقالوا۔ تو وہ بولے آپس میں۔ بادشاہ کے روبرو یا اپنی قوم سے۔ اذ تعلیل کے لئے ہے۔ بمعنی چونکہ، جبکہ۔ جیسے ولن ینفعکم الیوم اذ ظلمتم (43:39) اب جبکہ تم ظالم ٹھہر چکے تم کو آج کے دن کوئی فائدہ نہیں۔
لن ندعوا۔ مضارع نفی تاکید بلن بوجہ عمل لن مضارع منصوب ہوا اور نون اعرابی گرگیا۔ ہم ہرگز نہیں پکاریں گے، ہم ہرگز عبادت نہیں کریں گے۔ دعائ۔ دعوۃ مصدر (باب نصر) ۔
لقد قلنا۔ ای لئن سمیناہم الھۃ لقد قلنا اذا شططا۔ یعنی اگر ہم نے رب السموت والارض کے علاوہ کسی دوسرے کو الہ یا معبود قرار دیا تو ہم نے حق سے دور کی بات کہی۔
شططا۔ ای قولا شططا۔ اوقولا ذاشطط۔ حق سے دور کی بات۔ شطط کے معنی حد سے زیادہ تجاوز کرنے کے ہیں (باب نصر، ضرب) چونکہ حد سے بڑھنا جو روستم ہوتا ہے اس لئے ان معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ شط النھر۔ دریا کا کنارہ جہاں سے پانی دور ہو۔
اور جگہ قرآن میں ہے وانہ کان یقول سفیہنا علی اللہ شططا (72:4) اور ہم میں سے جو احمق ہوئے ہیں وہ اللہ کی شان میں حد سے بڑھی ہوئی باتیں (حق سے دور کی) باتیں کہتے ہیں۔ یا فاحکم بیننا ولا تشطط (38:22) سو آپ ہم میں انصاف سے فیصلہ کر دیجئے اور بےانصافی نہ کیجئے ۔
Ayah 18:15(18:15) ھؤلاء قومنا اتخذوا۔ ھؤلاء مبتداء قومنا عطف بیان اتخذوا خبر۔
علیہم۔ ای علی عبادتہم (ان کی عبادت کے متعلق) مضاف کو حذف کردیا گیا۔ او علی الوہیتم ان کی الوہیت پر۔
سلطان۔ بین۔ کھلی دلیل۔ فمن۔ میں من استفہامیہ ہے کون۔ کس نے۔ مثلاً قالوا یویلنا من بعثنا من مرقدنا (36: 52) کہی گے ہائے ہماری کم بختی کس نے ہم کو ہماری خواب گاہوں سے اٹھایا ؟
Ayah 18:16(18:16) اعتزلتموہم۔ ماضی جمع مذکر حاضر۔ وائو اشباع کا ہے۔ اعتزال مصدر۔ تم نے ان سے کنارہ کرلیا۔ (اور جب) تم نے (ان مشرکوں سے اور جن کی یہ خدا کے سوا عبادت کرتے ہیں) ان سے کنارہ کرلیا۔ قرآن مجید میں ہے فاعتزلوا النسائ۔ (2:222) عورتوں سے کنارہ کش رہو اسی سے ہے معتزلۃ عقل پرست فرقہ جو اہل سنت سے الگ ہوگیا تھا۔
خواجہ حسن بصری (رح) ایک دن کس مسئلہ پر دلائل دے رہے تھے کہ ان کا ایک شاگرد واصل بن عطاء اختلاف رائے کی بنا پر الگ ہو کر ایک گروہ سے اپنا نقطۂ نظر بیان کرنے لگا۔ خواجہ حسن بصری نے فرمایا اعتزل عنا۔ وہ ہم سے کنارہ کش ہوگیا۔ اسی بناء پر واصل بن عطاء کے پیروکار معتزلہ مشہور ہوگئے۔
واذاعتزلتموہم۔ سے اخیر آیہ ہذا تک کلام ان توحید پرست نوجوانوں کا آپس میں بطور مشورہ کے ہے۔
وما یعبدون الا للہ۔ میں ما موصولہ ہے۔ ای واذاعتزلتموہم واعتزلتم الذین یعبدونہم اور الا اللہ استثناء متصل ہے۔ بنا بریں کہ وہ (ان نوجوانوں کی قوم) اللہ کی عبادت بھی کرتے تھے اور بتوں کی بھی۔
یا وما یعبدون الا اللہ جملہ معترضہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ جملہ معترضہ اللہ کی جانب سے ہے کہ یہ نوجوان سوائے اللہ کے کسی کی عبادت نہ کرتے تھے اس صورت میں ما نافیہ ہوگا۔
فاوٗا۔ تم جا بیٹھو۔ تم فروکش ہوجائو۔ ایوائ۔ (افعال) سے امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ اوی۔ یؤوی۔
ینشر۔ مضارع واحد مذکر غائب ۔ مجزوم بوجہ جواب امر۔ النشر۔ کے معنی کسی چیز کو پھیلانے کے ہیں۔ یہ کپڑے صحیفے کے پھیلانے، بارش اور نعمت کے عام کرنے اور کسی بات کو مشہور کردینے پر بولا جاتا ہے۔ جیسے واذا الصحف نشرت (81:20) اور جب عملوں کے دفتر کھولے جائیں گے اور وھو الذی ینزل الغیث من بعد ما قنطوا وینشر رحمتہ (42:48) اور وہی تو ہے جو لوگوں کے مایوس ہوجانے کے بعد مینہ برساتا ہے اور اپنی رحمت پھیلاتا ہے۔ ینشرلکم ربکم من رحمتہ تمہارا پروردگار تم پر اپنی رحمت عام کر دے گا۔
یھییئ۔ مضارع مجزوم واحد مذکر غائب تھیئۃ وتھییء (تفعیل) مصدر۔ وہ فراہم کر دے گا وہ تیار کر دے گا۔ (نیز ملاحظہ ہو 18:10) ۔ مرفقا۔ رفق یرفق (نصر) رفق یرفق (کرم) ورفق یرفق (سمع) رفقا۔ مرفقا ومرفقا۔ بہ۔ لہ۔ علیہ۔ نرمی اور مہربانی سے پیش آنا۔ یہاں اس کا معنی ہے ما یرتفق ای ینتفع بہ۔ جس سے فائدہ اور نفع حاصل کیا جائے۔ فائدے اور نفع کا سامان۔ یہاں مرفقا مفعول ہے یھییء کا۔ ویھیی لکم من امرکم مرفقا۔ اور مہیا کر دے گا تمہارے لئے تمہارے کام میں آسانی۔
Ayah 18:17(18:17) تز اور مضارع واحد مؤنث غائب الزور کے معنی ملاقات کرنا۔ زیارت کرنا باب تفاعل سے باہم ایک دوسرے کی زیارت کرنا
الزور کے معنی سینے کے ایک طرف جھکا ہونے کے بھی ہیں۔ اسی لئے جس کے سینے میں ٹیڑھا پن ہو اسے الازور کہتے ہیں جب تز اور کے صلہ میں عن آئے تو رخ بچانے، سینہ موڑنے ، بچ کر نکلنے اور کترانے کے معنی ہوتے ہیں لہٰذا تز اور عنہ اس نے اس سے پہلو تہی کی۔ اس سے ایک جانب ہٹ گیا۔ یہاں اس آیت میں یہی معنی مراد ہیں۔ تز اور اصل میں تتز اور تھا تخفیف کے لئے ایک ت کو حذف کیا گیا۔ تز اور عن کھفہم کے معنی ہیں کہ سورج ان کے غار سے ایک طرف کو ہٹ کر نکل جاتا ہے۔
تقرضہم۔ مضارع واحد مؤنث غائب ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ وہ ان سے کترا جاتی ہے قرض کے معنی کترنا اور قطع کرنے کے ہیں۔ اس سے مقراض بمعنی قینچی قرضۃ ومقروض ہیں۔ فجوۃ۔ الفجوۃ کے معنی ود چیزوں کے درمیان کشادگی کے ہیں۔ کھلی جگہ، وسیع میدان ۔ منہ۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب کہف کے لئے ہے۔
Ayah 18:18(18:18) تحسبہم۔ مضارع واحد مذکر حاضر ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ تو ان کو خیال کرتا ہے یا کرے گا۔ اس سے قبل لو رأیتہم محذوف ہے تقدیر کلام ہے ولو رأیتہم تحسبہم ایقاضا اور اگر تو ان کو دیکھے تو تو ان کو بیدار خیال کرے گا۔
ایقاضا۔ یقظ کی جمع جیسے نکد۔ (درشنت خو، کم داد ودہش والا) کی جمع انکاد ہے صفت مشبہ کا صیغہ ہے ایقاضا بمعنی جاگنے والے۔ رقود۔ راقد کی جمع۔ سوئے ہوئے، سونے والے۔ اسم فاعل جمع مذکر مرقد (ظرف مکان) خواب گاہ۔
نقلبہم۔ ہم ان کو کروٹ دیتے ہیں۔ ہم ان کی کروٹ بدلتے رہتے ہیں۔ مضارع جمع متکلم (باب تفعیل) ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ تقلیبمصدر۔ ذات الیمین وذات الشمال۔ دائیں جانب ۔ بائیں جانب۔
باسط۔ دراز کرنے والا۔ کھولنے والا۔ پھیلانے والا۔ بسط سے اسم فاعل واحد مذکر۔
ذراعیہ۔ اس نے دونوں ہاتھ۔ اس کے دونوں بازو، ذراعی۔ ذراع کا تثنیہ ہے۔ مضاف ہے ہ ضمیر واحد مذکر غائب مضاف الیہ۔ اضافت کی وجہ سے نون تثنیہ کا حذف ہوگیا ہے ۔ ذراعی منصوب بوجہ باسط کے مفعول ہونے کے ہے۔ باسط ذراعیہ اپنے دونوں بازو پھیلانے والا۔ (اپنے دونوں بازو پھیلائے بیٹھا ہے) ۔
الوصید۔ اسم ۔ گھر کی دہلیز۔ گھر کا صحن۔ یہاں مراد غار کی دہلیز یا غار کا صحن ہے۔ الوصید اصل میں اس احاطہ کو کہتے ہیں جو مویشیوں کے لئے پہاڑ میں بنایا جائے ۔ اسی سے ہے اوصدت الباب میں نے دروازہ کو بند کردیا۔ اور قرآن مجید میں آیا ہے علیہم نار مؤصدۃ ان پر بند کی گئی آگ محیط ہوگی۔
لواطلعت علیہم۔ لو حرف شرط۔ اطلعت ماضی واحد مذکر حاضر۔ (باب افتعال) تو نے جھانک کر دیکھا۔ اگر تو ان کو جھانک کر دیکھے۔ اطلع علی۔ ای الوقوف علی الشیٔ بالمعائنۃ۔ کسی شے کو سامنے کھڑا ہو کر اوپر سے نیچے کی طرف اس پر جھانکنا یا دیکھنا۔ لولیت۔ لام تاکید کے لئے ہے۔ ولیت۔ تولیۃ سے تو منہ پھیر لیتا۔
فرارا۔ مصدر حالت نصب۔ ڈر کر بھاگنا۔ لولیت منہم فرارا۔ تو تو منہ پھیر کر خوف کے مارے ان سے بھاگ جانا۔
ملئت ماضی مجہول، واحد مذکر غائب۔ تو بھر گیا ۔ تو بھر جاتا۔ ملا۔ ملاۃ۔ ملاۃ مصدر بھرنا۔ ما لیء بھرنے والا۔ مملوئ۔ بھرا ہوا۔ ملأ۔ صاحب الرائے۔ گروہ وہ جماعت جو کسی امر پر مجتمع ہو تو نظروں کو ظاہری حسن و جمال اور نفوس کو ہیبت و جلال سے بھر دے۔
Ayah 18:19(18:19) وکذلک بعثناہم۔ یعنی کماا نمناہم فی الکھف وحفظناہم من البلاء علی طور الزمان بعثناہم من النومۃ التی تشبہ الموت۔ یعنی جس طرح ہم نے ان کو غار (کہف) میں سلا دیا تھا اور طویل مدت تک ان کی ہر بلا سے حفاظت کر رکھی تھی اسی طرح ہم نے ان کو اس نیند سے جو بمشابہ موت کے تھی پھر اٹھا کھڑا کیا۔
لبثتم۔ ماضی جمع مذکر حاضر۔ تم رہے (باب سمع) فلبث فیہم الف سنۃ۔ (29:24) تو وہ ان میں ہزار برس رہے۔ ابعثوا۔ بعث سے۔ امر جمع مذکر حاضر۔ تم بھیجو۔ ورقکم۔ مضاف مضاف الیہ۔ تمہارا ورق۔ بمعنی چاندی کا سکہ۔
فلینظر۔ امر کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ پس چاہیے کہ وہ دیکھے (یعنی وہ آدمی جس کو بھیجا جائے۔ وہ دیکھے) ۔ ایھا۔ ای ای اھلہا۔ اس کے (یعنی شہر کے) اہالیان میں سے کونسا۔
ازکی طعاما۔ ازکی۔ افعل التفضیل کا صیغہ ہے ای اطیب۔ زیادہ پاک وستھرا و پاکیزہ، ایھا ازکی طعاما۔ کہ اہل شہر میں سے کون زیادہ پاکیزہ وستھرا کھانا مہیا کرتا ہے۔
ولیتلطف۔ امر کا صیغہ واحد مذکر غائب (باب تفعل) تلطف سے۔ اسے چاہیے کہ خوش خلقی اور حسن تدبیر سے کام لے ۔ اس کا عطف فلینظر پر ہے۔ لا یشعرن۔ فعل نہی واحد مذکر غائب با نون ثقیلہ۔ اشعار (افعال) مصدر۔ اس کا عطف بھی فلینظر پر ہے ۔ اور وہ (کسی کو تمہاری) خبر نہ ہونے دے۔
Ayahs 18:20–21(18:20) انہم۔ میں ضمیر جمع مذکر غائب اہل شہر کے لئے ہے۔
ان یظھروا علیکم۔ اگر وہ تمہاری خبر پالیں گے۔ اگر وہ تم پر دسترس پالیں گے۔ ظھر بالمقابل بطن کے ہو تو بمعنی ظاہر ہونا۔ نمایاں ہونا جیسے ما ظھر منہا وما بطن (6:15) ظاہر ہوں یا پوشیدہ۔ ظھر بمعنی زیادہ ہونا اور پھیل جانا کے بھی آیا ہے۔ مثلاً ظھر الفساد فی البر والبحر۔ (30:14) خشکی اور تری میں (لوگوں کے اعمال کے سبب) فساد پھیل گیا۔ ظھرجب بصلہ علی آئے تو بمعنی پانا کے ہوتا ہے، جیسے آیۃ ہذا میں ۔ اگر وہ تم پر دسترس پالیں گے۔
یرجموکم۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ مجزوم بوجہ جواب شرط کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ وہ تم کو سنگسار کردیں گے وہ تم کو پتھر مار کر ہلاک کردیں گے۔ یعیدوکم۔ اعادۃ مصدر۔ وہ دوبارہ تم کو (اپنے طریقہ میں) لوٹا دیں گے۔ مضارع مجزوم بوجہ جواب شرط۔
لن تفلحوا۔ مضارع معروف نفی تاکید بلن۔ صیغہ جمع مذکر حاضر۔ نون اعرابی۔ بوجہ عمل لن گرگیا۔ تم فلاح نہیں پائو گے۔
Ayah 18:22(18:22) سیقولون ابھی (کچھ لوگ) کہیں گے۔ ان سے مراد نبی کریم ﷺ کے زمانہ کے وہ لوگ ہیں جنہوں نے اصحاب کہف کا قصہ چھیڑا تھا۔
رجما بالغیب۔ اٹکل پچو۔ غیب کے متعلق محض قیاس آرائی۔ رجما منصوب بوجہ مصدر کے ہے۔ ای یرجمون رجما بالغیر الغائب عنہم۔ الرجم کے معنی سنگسار کرنے کے ہیں لیکن استعارہ کے طور پر رجم کا لفظ جھوٹے گمان۔ توہم۔ سب وشتم۔ اور کسی کو دھتکارنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔
عدتہم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان کی تعداد۔ لا تمار۔ فعل نہی واحد مذکر حاضر۔ تو جھگڑا نہ کر۔ تو بحث نہ کر۔ مماراۃ (مفاعلۃ) سے جس کا معنی کسی ایسی بات پر جھگڑا کرنا اور گفتگو کرنے کے ہیں کہ جس میں شبہ اور تردد ہو۔ مری مادہ۔
مرائ۔ مصدر۔ گفتگو جو کسی مشکوک امر کے متعلق ہو مراء ظاہرا سرسری سی گفتگو۔
لا تستفت۔ فعل نہی۔ واحد مذکر حاضر۔ تو سوال نہ کر۔ تو دریافت نہ کر۔ تو نہ پوچھ۔ تو تحقیق نہ کر۔ استفتاء (استفعال) مصدر سے جس کے معنی ہیں فتویٰ طلب کرنا۔ افتاہ (افعال) فتویٰ دینا اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے ویستفتونک فی النسائ۔ (ای پیغمبر) لوگ تجھ سے (یتیم) عورتوں کے بارے میں فتویٰ طلب کرتے ہیں۔ دریافت کرتے ہیں۔ پوچھتے ہیں۔ فی مادہ۔
ولا تستفت فیہم منہم احدا۔ اور نہ پوچھو ان (اصحاب کہف) کے متعلق ان میں سے (جو آپ سے اصحاب کہف کے بارہ میں پوچھ رہے ہیں) کسی سے۔
Ayah 18:23(18:23) غدا۔ کل آئندہ۔ فردا۔ مستقبل کو کوئی زمانہ۔
Ayahs 18:24–25(18:24) الا ان یشاء اللہ میں الا حرف استثناء ہے تقدیر کلام یوں ہے۔ الا ان تقول ان شاء اللہ۔ الا۔ تو یہ بھی کہے کہ اگر اللہ نے چاہا۔ نسیت۔ ماضی واحد مذکر حاضر۔ نسیانمصدر۔ تو بھول جاوے۔ (یعنی انشاء اللہ کہنا بھول جاوے۔ یا اللہ کا نام لینا بھول جاوے)
عسی ان یھدین عسی افعال مقارب میں سے ہے۔ عنقریب ہے، ممکن ہے، توقع ہے۔ ان حرف ناصب فعل مستقبل یھدین مضارع منصوب۔ بوجہ عمل ان۔ ھدایۃ سے۔ ن وقایہ اور یمتکلم محذوف کہ وہ مجھے ہدایت کر دے۔ میری رہنمائی کردے۔
لاقرب من ھذا۔ اس سے بھی قریب تر ۔ اقرب افعل التفضیل کا صیغہ ہے ھذا کا اشارہ اصحاب کہف کے قصہ کی طرف ہے یا اس کا اس بات کی طرف اشارہ ہے جس کے متعلق انشاء اللہ کہنا بھول جائے۔ رشدا۔ باعتبار رشدو ہدایت کے۔
واذکر ربک اذا نسیت وقل عسی ان یھدین ربی لاقرب من ھذا رشدا اگر تم زبان سے (انشاء اللہ کہنا) بھول جائو یا تم بھولے سے ایسی بات زبان سے نکالو یعنی بغیر انشاء اللہ کہے انی فاعل ذلک غدا کہہ دو تو فورا اپنے رب کو یاد کرو (یعنی انشاء اللہ کہو) اور (مزید یہ بھی ) کہو کہ امید ہے کہ میرا رب میری رہنمائی فرمائے گا ایسی بات کی طرف جو اس موجودہ معاملہ میں رشد سے قریب تر ہو۔ اس صورت میں آیات 23 اور 24 بطور جملہ معترضہ ہیں اور اصحاب کہف کا ذکر آیت 24 سے آگے 25 میں جاری ہے۔ (تفہیم القرآن)
صاحب بیان القرآن رقمطراز ہیں :۔
اور جب آپ (اتفاقاً انشاء اللہ تعالیٰ کہنا) بھول جاویں (اور پھر کبھی یاد آوے تو اس وقت انشاء اللہ تعالیٰ کہہ کر) اپنے رب کا ذکر کرلیا کیجئے (یعنی جب یاد آوے کہہ لیا کیجئے اور یہ حکم افادۂ برکت کے اعتبار سے ہے جو کہ وعدوں میں مقصود ہے تعلیق وابطال اثر کے لحاظ سے نہیں ہے جو کہ طلاق وعتاق ویمین وغیرہ میں مقصود ہے پس اس میں متصل کہنا ابطال اثر میں مفید ہوگا اور منفصل کہنا مفید نہ ہوگا) اور (ان لوگوں سے یہ بھی) کہہ دیجئے کہ (تم نے جو امتحان نبوت کے لئے اصحاب کہف کا قصہ مجھ سے پوچھا تھا جس کا جواب دینا میری نبوت کے دلائل میں سے ہے سو یہ نہ سمجھا جائے کہ میرے نزدیک اس سوال کا جواب دینا اعظم الدلائل اور سرمایہ نازوافتخار ہے جیسا کہ تم نے اس قصہ کو عجیب تر سمجھ کر پوچھا ہے اور اس کے جواب کو اعظم الدلائل سمجھتے ہو سو چونکہ یہ قصہ اعجب الآیات نہیں جیسا کہ تمہید قصہ میں بھی فرمایا گیا ہے : ام حسبت۔۔ الخ (آیت 9) اس لئے میرے نزدیک دلالۃ علی النبوۃ میں سب سے اعظم واقرب نہیں ہے۔ مطلب یہ کہ میری نبوت ایسا امر محقق ومتقین ہے کہ اس پر استدلال کرنے کے لئے جس دلیل کو تم اعظم سمجھتے ہو میں اس سے بھی اعظم دلیلیں اس پر رکھتا ہوں۔ چناچہ ان میں سے بعض دلائل تو وقتاً فوقتاً تمہارے روبروپیش کرچکا ہوں مثل اعجاز قرآن وغیرہ کے جو یقینا اس سوال کے کہ گو میرے اعتبار سے وہ معجزہ ہے لیکن عالم بالنقل بھی ایسے سوالات کا جواب دے سکتا ہے اور بعضے ایسے دلائل کی نسبت ) مجھ کو امید ہے کہ میرا رب مجھ کو (نبوۃ) کی دلیل بننے کے اعتبار سے اس (قصہ) سے بھی نزدیک تربات بتلا دے (چنانچہ اصحاب کہف سے بھی زیادہ جن کا زمانہ قدیم تھا۔ اور جن کے اخبار کا پتہ نہ چل سکتا تھا وہ وحی سے بتلائے گئے کہ وہ یقینا اس قصہ کے جواب سے اخبار عن الغیب میں زیادہ عجیب و غریب ہیں۔
Ayah 18:26(18:26) ابصر بہ واسمع۔ (اسمع کے بعد بہ محذوف ہے) ہر دو افعال تعجب ہیں۔ افعال تعجب کے دو صیغے ہیں ما افعالہ وافعل بہ جیسے ما احسن زیدا زید کیا ہی اچھا ہے اور احسن بزید زید کیا ہی اچھا ہے۔ ابصر بہوہ (یعنی اللہ) کیا ہی خوب دیکھنے والا ہے اور اسمع بہ وہ کیا ہی خوب سننے والا ہے۔
لہم۔ میں ضمیر جمع مذکر غائب اھل السموت والارض کے لئے ہے۔ ولی۔ کارساز۔ ناصر، حامی۔ مددگار۔ لا یشرک۔ مضارع منفی واحد مذکر غائب وہ کسی کو شریک نہیں کرتا۔
Ayah 18:27(18:27) اتل۔ تلاوۃ سے امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ تو پڑھ۔ تو تلاوت کر۔
اوحی۔ ماضی مجہول ۔ وحی کی گئی ۔ حکم بھیجا گیا۔ صیغہ واحد مذکر غائب۔ من کتاب ربک ای من القران۔
مبدل۔ اسم فاعل۔ واحد مذکر۔ تبدیل مصدر۔ بدلنے والا۔ منصوب بوجہ عمل لا کے ہے۔ ملتحدا۔ اسم ظرف ۔ بروزن اسم مفعول التحاد (افتعال) مصدر۔ پناہ کی جگہ ۔ یا باب افتعال سے مصدر میمی ہے۔ بمعنی پناہ۔
اللحد۔ اس گڑھے یا شگاف کو کہتے ہیں کہ جو قبر کی ایک جانب بنایا جاتا ہے۔ الحدالی۔ کسی کی طرف مائل ہونا۔ کسی کی طرف نسبت کرنا۔ جیسے لسان الذی یلحدون الیہ (16:103) اس شخص کی زبان جس کی طرف یہ نسبت کرتے ہیں (عجمی ہے) الحدعن۔ پھرنا مثلاً الحد عن الدین وہ دین سے پھر گیا۔ اسی سے ملحد جو دین سے پھر گیا ہو۔ اور الحاد (باب افعال) دین سے پھرجانا ہے
Ayah 18:28(18:28) اصبر نفسک۔ احبسھا۔ تو اس کو روک۔ یعنی اپنے نفس کو روک۔ استقلال سے رہ۔ صبر سے جس کے معنی نفس کو عقل وشرع کے مطابق روکے رکھنے کے ہیں۔
لا تعد علینک عنہم فعل نہی واحد مذکر حاضر تو اپنی آنکھوں کو ان سے نہ پھیر۔ عدو (باب نصر) سے جس کے معنی پھرنے، دوڑنے، کسی چیز سے تجاوز کرنے اور گزرنے کے ہیں۔ العدو کے معنی حد سے بڑھنے اور باہم ہم آہنگی نہ ہونے کے ہیں اگر اس کا تعلق دل کی کیفیت سے ہو تو عداوت کہلاتی ہے رفتار سے تعلق ہو تو عدو کہا جاتا ہے۔ عدل و انصاف میں خلل اندازی کی صورت میں عدوان وعدو کہا جاتا ہے۔ معاداۃ سے اشتقاق کے ساتھ رجل عدو۔ وقوم عدو۔ بمعنی دشمن۔
ترید زینۃ الحیوۃ الدنیا۔ الحیوۃ الدنیا موصوف صفت دونوں مل کر مضاف الیہ زینۃ مضاف۔ مضاف مضاف الیہ مل کر مفعول ۔ ترید فعل بافاعل یہ سارا جملہ ضمیر لا تعد سے حال ہے۔ دنیوی زندگی کی رونق کا خیال کرتے ہوئے۔
لا تطع۔ فعل نہی واحد مذکر حاضر، تو کہا نہ مان ۔ تو اطاعت نہ کر۔ امرہ۔ مضاف مضاف الیہ اس کا معاملہ۔
فرطا۔ حد سے بڑھا ہوا۔ فرط یفرط (نصر) آگے بڑھنا۔ مقدم ہونا۔ افراط (افعال) حد سے بڑھ جانا۔ تفریط (تفعیل) ضائع کرنا۔ کوتاہی کرنا۔ فرطا۔ افراط و تفریط میں حد سے بڑھا ہوا ۔
Ayahs 18:29–30(18:29) قل۔ تو کہہ۔ یعنی ان لوگوں سے کہہ دے جن کے دلوں کو ہم نے اپنے ذکر سے غافل کردیا ہے اور جو اپنی خواہشات کے پیچھے لگ گئے ہیں۔
الحق خبر۔ جس کا مبتداء ھذا الذی اوحی الی (یہ کلام جو میری طرف وحی کیا گیا ہے) محذوف ہے۔ من ربکم حال مؤکدہ ہے۔ احاط بہم۔ اس نے ان کو (یعنی ظالمین کو) گھیر رکھا ہواگ۔ (ماضی بمعنی مضارع مستقبل) ۔
سرادقہا۔ مضاف مضاف الیہ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب نارا کے لئے ہے۔ سرادق فارسی سے معرب ہے اس کا اصل سرادر یعنی دہلیز تھی یا بقول ایک اور عالم کے سرادق فارسی لفظ سرا پردہ سے ہے جس کے معنی ہیں گھر کے آگے پڑا ہوا پردہ۔ سرادق کی جمع سرادقات ہے سرادق ہر وہ چیز جو کسی کو اپنے گھیرے میں لے لے۔ جیسے دیوار، خیمہ وغیرہ۔
حضرت ابو سعید خدری ؓ رسول کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ اس مراد آگ کی چار دیواریں ہیں۔ س ر د ق حروف مادہ۔ نیز بمعنی شعلہ۔ دھواں۔
یستغیثوا۔ مضارع مجزوم بوجہ عمل ان شرطیہ۔ صیغہ جمع مذکر غائب۔ استغاثۃ (باب استفعال) سے مصدر۔ (اگر ) وہ پانی مانگیں گے غیث جس کے معنی بارش کے ہیں۔ یہ اجوف یائی ہے۔ اس کے مشابہ غوث اجوف وادی ہے۔ اغاث یغیث (باب افعال) اس نے مدد کی۔ باب استفعال میں پہنچ کر غیث اور غوث دونوں کی شکل ظاہری ایک طرح کی ہوجاتی ہے۔
استغاث یستغیث اجوف یائی کی صورت میں اس کے معنی پانی مانگنا۔ بارش کے لئے استدعا کرنا اور اجوف واوی کی صورت میں مدد طلب کرنا فریاد کرنا کے ہوں گے۔
یغاثوا۔ مضارع مجہول جمع مذکر غائب۔ اغاثۃ (باب افعال) سے ان کی فریاد رسی کی جائے گی۔ مھل۔ پیپ اور خون (مجاہد) تیل کا سیاہ تلچھٹ جو نیچے جم جاتا ہے (ابن عباس ؓ ) پگھلا ہوا تابنا (راغب) اسی مادہ سے المھل ہے۔ جس کے معنی حلم اور سکون کے ہیں اسی سے ہے فمھل الکافرین (86:17) تو کافروں کو مہلت دے۔
یشوی۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ شی مصدر۔ (باب ضرب) وہ بھون ڈالے گا۔ شوی اللحم۔ اس نے گوشت کو بھونا۔ شوی الماء اس نے پای کو ابالا۔ ساء ت۔ ساء یسوء سوء سے ماضی کا صیغہ واحد مؤنث غائب۔ بری ہے۔
مرتفقا۔ قرار گاہ۔ آرام گاہ۔ تکیہ لگانے کی جگہ وساءت مرتفقا۔ اور کیا ہی برا ہوگا ان کا ٹھکانا اس کے بالمقابل آیت (31) میں آیا ہے۔ وحسنت مرتفقا۔ اور کیا ہی عمدہ ہوگی ان کی آرام گاہ۔
Ayah 18:31(18:31) یحلون۔ مضارع مجہول جمع مذکر غائب۔ تحلیۃ (تفعیل) سے مصدر۔ وہ زیور پہنائے جائیں گے۔ حلی زیور ۔ گہنا۔ حلی جمع۔ اساور۔ سوار کی جمع۔ کنگن۔ پہنچیاں۔
سندس۔ باریک ریشم ۔ باریک دیبا۔ معرب ہے فارسی سے فارسی میں سندس باریک ریشمی کپڑے کو کہتے ہیں۔ استبرق۔ معرب ہے۔ ریشم کا زریں موٹا کپڑا۔ متکئین۔ اسم فاعل جمع مذکر منصوب۔ متکیء واحد اتکاء (افتعال) مصدر۔ تکیہ لگائے ہوئے پیچھے کو گائو تکیہ سے سہارا لگائے ہوئے۔
الارائک اریکۃ کی جمع۔ وہ تخت جو مزین ہو اور اس پر پردہ پڑا ہوا ہو۔ نعم الثواب۔ کتنا اچھا ہے صلہ۔ کتنا اچھا ہے یہ اجر۔
مرتفقا۔ اوپر آیت 18:30 ملاحظہ ہو۔
Ayah 18:32(18:32) حففنھما۔ حففنا۔ ماضی جمع متکلم ہما ضمیر مفعول تثنیہ مذکر غائب۔
الحف (باب نصر) کے معنی کسی چیز کو دونوں جانب سے گھیرنے یا احاطہ کرلینے کے ہیں۔ حف مادہ ہم نے ان دونوں کو گھیر لیا۔ ہم نے ان دونوں کے گردا گرد پیدا کردیا۔ حففنہما بنخل ہم نے ان دونوں کے گرد کھجور کے درخت اگا رکھے تھے۔ اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے وتری الملئکۃ حافین من حول العرش (39:75) اور تم فرشتوں کو دیکھو گے کہ عرش کے گرد گھیرا ڈالے ہوئے ہیں یعنی اس کے دونوں جانب کو گھیرے ہوئے ہیں۔
Ayah 18:33(18:33) کلتا۔ تاکید تثنیہ مؤنث کے لئے آتا ہے اس کا استعمال تثنیہ مذکر کلا کی طرح ہے ہر دو ۔ دونوں ۔ دونوں میں سے ہر ایک۔
اکلھا۔ مضاف مضاف الیہ۔ اس کا میوہ۔ اس کا پھل۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب دونوں جنتوں میں سے ہر ایک جنت کے لئے ہے۔ کلتا الجنتین اتت اکلھا۔ یہ دونوں باغ اپنے اپنے پھل لائے۔
لم تظلم۔ مضارع واحد مؤنث غائب نفی حجد بلم اس نے نہ گھٹایا۔ اس نے نہ کم کیا۔ اس نے ظلم نہ کیا۔ یہاں ظلم کے معنی گھٹانے کے ہیں۔ اور کم کرنے کے ہیں۔ لم کے استعمال سے مضارع ماضی منفی کے معنی میں ہوگیا ہے۔ ضمیرفاعل ہر دو جنتوں میں سے ہر جنت کے لئے ہے یعنی دونوں باغوں میں سے کسی باغ نے بھی پھل لانے میں کوئی کمی نہ کی۔ (یعنی ہر دو باغ پورا پورا پھل لائے تھے اور کسی قسم کی کسر نہ اٹھا رکھی تھی) ۔
منہ میں ضمیر ہُ واحد مذکر غائب اکل (ثمر، پھل) کے لئے ہے۔ شیئا۔ مفعول کی وجہ سے منصوب ہے۔
فجرنا۔ ماضی جمع متکلم ۔ تفجیر (تفعیل) مصدر۔ ہم نے بہایا۔ ہم نے پھاڑ کر بہایا۔ ہم نے پھاڑا۔ یعنی ہم نے جاری کر رکھی تھی (ایک نہر) دونوں کے درمیان ۔ یا ہم نے دونوں باغوں میں نہریں بہا رکھی تھیں۔ (انھار متفرقۃ ھنا وھنا)
خللہما مضاف مضاف الیہ۔ خلل درمیان ۔ وسط۔ بیچ۔ خلل کی جمع ہے جس کے معنی دو چیزوں کے درمیان کشادگی کے ہیں
Ayah 18:34(18:34) ثمر۔ بمعنی مال و دولت۔ (انواع و اقسام کا دیگر مال) ۔ یح اور۔ ح اور یح اور محاورۃ (مفاعلۃ) وہ گفتگو کر رہا تھا۔ وہ جواب دے رہا تھا۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ اعز۔ زیادہ زور والا۔ زیادہ عزت والا۔ عز سے افعل التفضیل کا صیغہ ہے۔
نفرا۔ اسم جمع منصوب۔ جماعت۔ کنبہ۔ خاندان۔ کثرت انصار واولاد نفری کے لحاظ سے مالا ونفرا تمیز ہیں۔ اکثر اور اعز کی
Ayah 18:35(18:35) تبید۔ باد یبید (ضرب) بیاد سے مضارع واحد مؤنث غائب وہ ہلاک ہوگی۔ وہ برباد ہوگی۔ وہ تباہ ہوگی۔ وہ خراب ہوگی۔ باد کے اصل معنی بیداء یعنی بیاباں میں کسی چیز کے متفرق اور پراگندہ ہونے کے ہیں اور اسی اعتبار سے کامل تباہی اور بربادی کے متعلق استعمال ہوتا ہے یہاں مطلب یہ ہے کہ :۔ میں نہیں خیال کرتا کہ یہ باغ کبھی تباہ ہو۔
Ayah 18:36(18:36) ولئن رددت۔ ماضی مجہول واحد متکلم اور اگر میں لوٹایا گیا۔ یعنی اگر قیامت آبھی گئی اور میں اپنے رب کے حضور لایا گیا۔ رد یرد (نصر) لوٹانا۔ پھیرنا۔ واپس کرنا۔
لاجدن۔ مضارع بلام تاکید ونون ثقیلہ واحد متکلم۔ وجود مصدر۔ میں ضرور پائوں گا۔ وجد یجد (ضرب) سے۔
منھا۔ ای من ھذہ الجنۃ اس باغ سے (بہتر باغ مجھے ملے گا) ۔ منقلبا۔ اسم ظرف مکان ۔ لوٹنے کی جگہ۔ تمیز ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ لاجدن خیرا منہا منقلبا۔ تو میں یقینا اس باغ سے بہتر پلٹنے کی جگہ پائوں گا۔
Ayah 18:37(18:37) سوک۔ اس نے تجھ کو پورا پورا بنادیا۔ اس نے تجھ کو برابر کیا۔ ماضی واحد مذکر غائب ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ سوی یسوی تسویۃ (تفعیل) پورا پورا بنانا۔ برابر کرنا۔ کسی چیز کو ہموار کرنا۔ خدا کا کسی چیز کو اپنی حکمت کی اقتضاء کے مطابق بنانا۔ قرآن مجید میں ہے علی ان نسوی بنانہ ہم قادر ہیں کہ اس کی پور پور درست کردیں۔
Ayah 18:38(18:38) لکنا۔ اصل میں لکن انا ہے۔ عبارت یوں ہے لکن انا ھو اللہ ربی۔ اس کی ترکیب یہ ہے انا مبتدا اول ھو مبتدا ثانی۔ اللہ مبتدا ثالث۔ ربی مبتدا ثالث کی خبر۔ دونوں مل کر مبتدا ثانی کی خبر یہ اپنی خبر سے مل کر انا مبتدا اول کی خبر۔ لیکن جہاں تک میرا تعلق ہے میرا تو عقیدہ ہے کہ وہ اللہ ہی ہے جو میرا رب ہے ھو ضمیر شان ہے اللہ کے لئے۔
Ayah 18:39(18:39) ان ترن۔ ان شرطیہ ترن مضارع واحد مذکر حاضر رای یری رای رویۃ سے دیکھنا اصل میں تراینی تھا۔ ان کے آنے سے ی جو کہ حرف علت ہے ساقط ہوگئی ن وقایہ ہے آخر میں ی ضمیر واحد متکلم محذوف ہے ۔ ان ترن اگر تو مجھے دیکھتا ہے۔
اقل منک۔ اقل قلۃ سے افعل التفضیل کا صیغہ ہے بمعنی زیادہ کم۔ مالا وولدا۔ تمیز ہے۔ ان ترن انا اقل منک مالا وولدا۔ تاکید ضمیر واحد متکلم یکے لئے آیا ہے اگر تو مال واولاد میں مجھے اپنے سے کمتر دیکھتا ہے۔
فعسی ربی۔۔ حنتک۔ جملہ ان ترن۔۔ ولدا شرطیہ ہے اور جملہ فعسی۔۔ جنتک قائم مقام جواب شرط ہے ہر دو جملوں کے درمیان فلا باس مقدر ہے۔ تقدیر کلام یوں ہے ان ترن انا اقل منک مالا وولدا فلا باس عسی ربی ان یؤتین خبرا من جنتک اگر تو مجھے مال اولاد میں اپنے سے کمتر دیکھتا ہے۔ تو کوئی مضائقہ نہیں ہوسکتا ہے کہ میرا پروردگار تیرے باغ سے کوئی بہتر چیز عطا فرما دے۔
Ayah 18:40(18:40) یؤتین۔ مضارع واحد مذکر غائب ایتاء سے ن وقایہ ی ضمیر واحد متکلم محذوف ہے کہ وہ مجھے دے دے۔ مجھے عطا کردے۔
یرسل۔ مضارع واحد مذکر غائب منصوب بوجہ جواب شرط۔ علیھا۔ میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب جنۃ کے لئے ہے۔
حسبانا۔ علامہ بیضاوی نے لکھا ہے کہ یہ حسبان، حسبانۃ کی جمع ہے اس کا معنی بجلی کی کڑک ہے بروزن بطلان وغفران حسب یحسبکا مصدر ہے بمعنی حساب، شمار۔ قرآن حکیم میں اور جگہ آیا ہے وجعل اللیل سکنا والشمس والقمر حسبانا (6: 96) اور اسی نے رات کو (موجب) آرام (ٹھہرایا) اور سورج اور چاند کو (ذریعہ) شمار بنایا ہے۔
موجودہ آیت میں حسبانا کی دو تفسیریں کی گئی ہیں۔ ایک آگ یا بھبوکا۔ دوسرے عذاب، حقیقت میں حساب کے مطابق سزا مراد ہے۔ یعنی عسی ان یرسل ۔۔ الخ ہوسکتا ہے کہ بھیج دے اس باغ پر کوئی آسمانی عذاب۔
فتصبح۔ میںنتیجہ کے لئے ہے۔ فتصبح مضارع منصوب بوجہ عمل ان۔ صیغہ واحد مؤنث غائب ۔ پس ہوجائے وہ۔
صعیدا زلقا۔ موصوف صفت، ایسی زمین جس پر کوئی روئیدگی نہ ہو۔ صعید۔ زمین۔ خاک۔ زلقا۔ زلق یزلق سے مصدر۔ بمعنی ایسا صاف کہ جس پر پائوں پھسلنے لگے ۔