18. Surah Al-Kahf

الكهفThe Cave · 110 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 18:1–12

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ عَلٰى عَبْدِهِ الْكِتٰبَ وَ لَمْ یَجْعَلْ لَّهٗ عِوَجًاؕٚ Open ayah 18:1 in the Quran reader

تمام خوبیاں اللہ کے لئے ہیں جس نے اپنے (خاص) بندے پر (یہ) کتاب نازل فرمائی اور اس میں کسی طرح کی پیچیدگی نہیں رکھی

قَیِّمًا لِّیُنْذِرَ بَاْسًا شَدِیْدًا مِّنْ لَّدُنْهُ وَ یُبَشِّرَ الْمُؤْمِنِیْنَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ اَجْرًا حَسَنًاۙ Open ayah 18:2 in the Quran reader

سیدھی (قائم رکھنے والی؍استقامت والی؍سلیس) تاکہ وہ (لوگوں کو) سخت عذاب سے ڈرائے جو اس کی طرف سے آنے والا ہے اور ایمان والوں کو جو نیک کام کرتے ہیں خوشخبری سنائے کہ ان کے لئے اچھا بدلہ (جنت) ہے

مَّاكِثِیْنَ فِیْهِ اَبَدًاۙ Open ayah 18:3 in the Quran reader

جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے

وَّ یُنْذِرَ الَّذِیْنَ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًاۗ Open ayah 18:4 in the Quran reader

اور ان لوگوں کو ڈرائے جو کہتے ہیں کہ اللہ اولاد رکھتا ہے

مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ وَّ لَا لِاٰبَآئِهِمْ١ؕ كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ اَفْوَاهِهِمْ١ؕ اِنْ یَّقُوْلُوْنَ اِلَّا كَذِبًا Open ayah 18:5 in the Quran reader

اس کی کوئی دلیل ان کے پاس نہیں اور نہ ان کے باپ دادوں کے پاس تھی بہت بھاری بات ہے جو ان کے منہ سے نکلتی ہے جو کچھ یہ کہتے ہیں ، محض جھوٹ ہے

فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ اِنْ لَّمْ یُؤْمِنُوْا بِهٰذَا الْحَدِیْثِ اَسَفًا Open ayah 18:6 in the Quran reader

(آپ ان پر اتنا غم کھاتے ہیں) سو شاید آپ ان کے پیچھے اگر وہ اس بات (قرآن) پر ایمان نہ لائے تو مارے غم کے اپنی جان ہی دے دیں (یعنی اتنا غم نہ کیجئے)

اِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَى الْاَرْضِ زِیْنَةً لَّهَا لِنَبْلُوَهُمْ اَیُّهُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا Open ayah 18:7 in the Quran reader

بیشک ہم نے زمین پر چیزوں کو اس (زمین) کے لئے رونق کا سبب بنایا ہے تاکہ ہم ان (لوگوں) کو آزمائیں کہ ان میں کون اچھے کام کرنے والا ہے

وَ اِنَّا لَجٰعِلُوْنَ مَا عَلَیْهَا صَعِیْدًا جُرُزًاؕ Open ayah 18:8 in the Quran reader

اور یقینا ہم اس پر تمام چیزوں کو (فنا کرکے) ایک صاف میدان کردیں گے

اَمْ حَسِبْتَ اَنَّ اَصْحٰبَ الْكَهْفِ وَ الرَّقِیْمِ١ۙ كَانُوْا مِنْ اٰیٰتِنَا عَجَبًا Open ayah 18:9 in the Quran reader

کیا آپ خیال کرتے ہیں یہ کہ غار والے اور رقیم (پہاڑ) والے ہمارے عجائبات (قدرت) میں سے عجیب تھے

اِذْ اَوَى الْفِتْیَةُ اِلَى الْكَهْفِ فَقَالُوْا رَبَّنَاۤ اٰتِنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً وَّ هَیِّئْ لَنَا مِنْ اَمْرِنَا رَشَدًا Open ayah 18:10 in the Quran reader

جب ان نوجوانوں نے غار میں پناہ لی تو کہنے لگے اے ہمارے پروردگار ! ہم کو اپنے پاس سے رحمت عطا فرمائیے اور ہمارے لئے ہمارے کام میں درستی (کا سامان) مہیا فرما دیجئے

فَضَرَبْنَا عَلٰۤى اٰذَانِهِمْ فِی الْكَهْفِ سِنِیْنَ عَدَدًاۙ Open ayah 18:11 in the Quran reader

سو ہم نے ان کے کانوں پر اس غار میں سال ہا سال تک (نیند کا پردہ) ڈال دیا۔

ثُمَّ بَعَثْنٰهُمْ لِنَعْلَمَ اَیُّ الْحِزْبَیْنِ اَحْصٰى لِمَا لَبِثُوْۤا اَمَدًا۠ Open ayah 18:12 in the Quran reader

پھر ہم نے ان کو جگا اٹھایا تاکہ معلوم کریں دونوں جماعتوں میں سے جتنی مدت وہ (غار میں) رہے ہیں (اس کی مقدار) کس کو خوب یاد ہے

سورة الکہف : (رکوع نمبر 1) اسرارومعارف سورة کہف بھی مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی اور اس میں انہی دو سوالوں کے جوابات ارشاد فرمائے گئے جو کفار مکہ نے یہود مدینہ سے پوچھ کر کئے تھے ، تیسرے سوال کا جواب سورة بنی اسرائیل میں اجمالا بیان ہوچکا جو روح کے بارے میں تھا ، مگر ان دونوں کے جواب مفصل دیئے گئے ، اگرچہ ان کی تفصیل بھی جغرافیائی محل وقوع تاریخی اعتبار سے زمانہ افراد کی حتمی تعداد وغیرہ باتوں کو بیان نہیں کرتی ، کہ قرآن حکیم کا موضوع تاریخ و جغرافیہ نہیں بلکہ لوگوں کو اللہ کی طرف بلانا اور ان کی اصلاح احوال ہے تو جس حد تک واقعہ سے اس امر میں مدد حاصل ہوتی ہو اس حد تک اس واقعہ کو بیان کیا جاتا ہے بلکہ بعض واقعات کے مختلف اجزا مختلف مواقع پر بیان فرمائے گئے کہ وہاں ان کی مثال پیش کرنا مطلوب تھا اور بعض واقعات کو کئی کئی بار دہرایا گیا جس سے بھی یہی مقصود ہے ۔ مفسرین نے اس سورة کے بہت زیادہ فضائل نقل فرمائے ہیں اور مختلف فتنوں سے حفاظت کے لیے اس کی تلاوت کا ارشاد فرمایا گیا ہے روزانہ پڑھے یا ہر جمعہ کو پڑھے ، یا پھر پہلی اور آخری آیات یاد کر کے بطور وظیفہ پڑھنا فتنوں سے حفاظت کا سبب ہے ۔ قصہ ان حضرات کا مختصرا یہ ہے کہ اس شہر پر جس کے یہ لوگ باسی تھے ایک ظالم اور کافر دقیانوس نامی بادشاہ حکومت کرتا تھا ، مفسرین نے اسے اندلس کا شہر لکھا ہے اور ایسیائے کوچک کا شہر بھی لکھا ہے اور بعض مفسرین نے فلسطین سے نیچے آپلہ یا موجودہ عقبہ کے قریب لکھا ہے جو سب اندازے ہیں اور کوئی بھی قطعی نہیں بلکہ دین عیسوی میں رہبانیت کی بہت فضیلت تھی ، اس اعتبار سے اکثر لوگوں نے عمریں غاروں میں گذار دیں تو مختلف جگہوں پر ایسے غار ملتے ہیں جن میں فوت شدہ لوگوں کے ڈھانچے پائے گئے ہیں لیکن یہ متعین نہیں کیا جاسکتا کہ جن لوگوں کا قصہ قرآن حکیم میں بیان ہوا ہے وہ یہی اصحاب کہف ہیں یا یہ ان کا غار ہے ، رقیم بعض حضرات کے نزدیک ایک وادی کا نام ہے جس میں یہ غار ہے اور بعض حضرات کے نزدیک اس بستی کا نام ہے جس کے یہ لوگ رہنے والے تھے جدید مؤرخین نے بھی اس موضوع پر بہت تحقیق کی ہے مگر نتیجہ سوائے بحث کے کچھ نہیں کہ یقینی اور حتمی بات کوئی نہیں بتا سکتا سوائے اس کے کہ یہ لوگ دین عیسوی پر تھے اور چند نوجوان تھے جو امراء سلطنت کے کھاتے پیتے گھرانوں کے بچے تھے بادشاہ ظالم تھا اور قوم بت پرستی میں مبتلا تھی انہیں اس بات سے نفرت پیدا ہوئی اور ایک قومی اجتماع میں بت پرستی دیکھ کر وہاں سے الگ ہوگئے ، مگر بادشاہ کے پاس کسی نے شکایت کردی اس نے انہیں بلا کر ڈانٹا اور موقع دیا کہ آبائی مذہب اپنا لو ورنہ قتل کردئیے جاؤ گے ، انہوں نے موقع سے فائدہ اٹھایا اور واپس کفر میں جانے پر آبادی چھوڑنے اور جنگل میں پناہ لینے کو ترجیح دی چناچہ ایک غار میں پناہ گزین ہوئے اور اللہ سے پناہ چاہی ، اللہ جل جلالہ نے انہیں اپنی قدرت کاملہ سے آرام کی نیند سلا دیا ، اور وہ تین سو سال سوتے رہے ۔ دریں اثنا زمانہ بدل گیا ملک ایک مسلمان حکمران نے فتح کرلیا جو دین عیسوی پر تھا اور جس کا نام بیدوسیس تھا تب اللہ جل جلالہ نے انہیں جگا دیا وہ خوراک حاصل کرنے بازار گئے تو سکہ دیکھ کر لوگ حیرت میں پڑگئے ، چناچہ بادشاہ تک بات پہنچی اور یوں سارا واقعہ قدرت الہی کا کرشمہ اور قیامت میں جی اٹھنے کا ثبوت بن کر ظاہر ہوا وہ بادشاہ سے رخصت ہو کر اپنے غار میں آئے تو اللہ جل جلالہ نے موت وارد کردی اور پھر انہیں کوئی نہ دیکھ سکا یہ تو تھا اس سارے قصے کا اجمالی تذکرہ اب جو بات قرآن نے ارشاد فرمائی حق وہی ہے لہذا اس کی طرف ہی متوجہ ہونا ضروری ہے ۔ سب سے پہلے اللہ جل جلالہ کی عظمت اور بلندی شان اور احسان عظیم عظیم کا تذکرہ ہے کہ تمام خوبیاں اور کمالات اسی ذات کے لیے ہیں جس نے اپنے بندے پر ایسی کتاب نازل فرمائی جس میں کسی طرف کے جھکاؤ یا کسی جانب میلان کا شائبہ تک نہیں ، فصاحت وبلاغت ہو یا معنوی کمال ہر طرح سے خود ایک سیدھی راہ متعین فرمائی ہے اور کسی واقعہ یا طبقہ یا شے متاثر نہیں ہوتی بلکہ صاف صاف اور حق بات بیان کرتی ہے ۔ جو بھی غلطی اور اللہ جل جلالہ کی نافرمانی کرے اسے اس کے شدید اور پریشان کن نتائج سے خبردار کرتی ہے ، اور ایسے لوگوں کو جنہیں ایمان نصیب ہو جو اپنے ایمان اور عقیدے کا نری دعوی نہیں کرتے بلکہ ایمان کے مطابق احکام نبوی ﷺ کی پیروی میں نیک کام کرتے ہیں کہ یہی ایمان کا تقاضا ہے انہیں خوشخبری سناتی ہے اور بہترین اجر کی خبر دیتی ہے جس سے وہ ہمیشہ لطف اندوز ہوا کریں گے ۔ نیز ان لوگوں کو جو یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ معاذ اللہ اللہ کی اولاد ہے خاص طور پر اس کے انجام بد سے خبردار کرتی ہے کہ ان کے منہ سے نکلنے والی یہ بات بہت بڑی گستاخی ہے جس کے بارے میں نہ انہیں کوئی علم ہے اور ان کے آباء و اجداد کے پاس کوئی دلیل تھی ، ایسا کہنے والے لوگ بہت بڑا جھوٹ بولتے ہیں ۔ (انسانیت پر شفقت نبوی ﷺ کا حال) کفار ومشرکین کی ان خرافات اور گستاخیوں کے باوجود آپ ﷺ کی شفقت کا یہ حال کہ ان کی ایمان سے محرومی کے دکھ میں گویا آپ جان دے دیں گے یعنی آپ ﷺ اس قدر محسوس نہ فرمائیے کہ دنیا امتحان کی جگہ ہے اور کسی کو حکما مومن نہ بنایا جائے گا ، اللہ جل جلالہ کا یہ احسان کیا کم ہے کہ آپ ﷺ جیسی کریم ہستی اور قرآن جیسی کتاب عطا فرمائی ، اب فیصلہ ان کا ہے کہ کونسی راہ اپناتے ہیں لہذا آپ ﷺ ان باتوں کو اتنی شدت سے محسوس نہ فرمائیں کسی نے کیا خوب کہا ہے ۔ دوستاں راکجا کنی محروم تو کہ بادشمناں نظر داری : (مال و دولت دنیا باعث زینت ہے) زمین پر ہم نے جو بھی بنایا ہے وہ سب دنیا کی سجاوٹ ، زینت اور خوبصورتی کا سبب ہے ، اور لوگوں کو اپنی طرف راغب کرلیتا ہے مگر مقصد حصول دنیا میں کمال حاصل کرنا نہیں ، بلکہ آزمائش ہی یہی ہے کہ اس زیب وزینت کو راستے کی دیوار نہ بناتے ہوئے کون بہترین اور اچھے کام کرتا ہے یعنی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کو مال و دولت دنیا سے عزیز تر رکھتا ہے اور یہ سب رونق ایک خاص وقت تک کے لیے ہے آخر کو یہ سب تباہ وبرباد کرکے دنیا کو ایک چٹیل میدان کردیا جائے گا ۔ تو اے مخاطب تیرے خیال میں اصحاب کہف والرقیم کا حال ہماری قدرت کے کمال کی بہت عجیب و غریب بات ہے یعنی یہ اتنی بڑی بات نہیں بلکہ ارض وسما کی تخلیق ایک وسیع نظام کا قیام اور اس کا مسلسل چلنا یہ سب کچھ اس بات سے عجیب تر ہے جسے تم کوئی اہمیت نہیں دے رہے اور اس کی عظمت کا اقرار نہیں کرتے ، چند آدمیوں کو باقی رکھنا عجیب ہے یا ایک کائنات کو قائم رکھنا ۔ چناچہ وہ بات اس طرح ہے کہ چند نوجوانوں نے ایک ظالم حکمران سے بھاگ کر اور ساری دولت دنیا کو اپنے ایمان پر قربان کرکے ایک غار میں پناہ لی اور اللہ کو پکارا کہ اے ہمارے رب ہم پر اپنی رحمت کی بارش کر اور ہمارے کام کو درست کر دے یعنی تیری خاطر جہان سے منہ موڑ کر جب ہم نے غار کو اپنایا ہے تو ہمارے اس کام کو کامیاب فرما یہ نہ ہو کہ ہم مجبور و لاچار ہو کر پھر کفار کے ہتھے چڑھ جائیں ،۔ (مقبولیت دعا کی شرط) گویا جو دعا دنیاوی مفادات سے بالا ہو کر محض دینی فائدے اور حصول قرب الہی کے جذبے سے کی جائے وہ ضرور قبول ہوتی ہے خواہ وہ امر عقلا محال بھی ہو ، چناچہ ہم نے انہیں غم دنیا ، خوف کفار اور حوائج ضروریہ سب سے بچانے کے لیے ان پر گہری نیند طاری کردی جو برسوں ان پر طاری رہی یعنی تین صدیاں بیت گئیں تو ایک روز انہیں بیدار کردیا کہ دیکھیں ان میں سے کون سمجھ پاتا ہے کہ اس آغوش رحمت میں کتنا عرصۃ بیت گیا کہ خود ان میں سے بعض کا خیال تھا کہ تھوڑی دیر ہی گذری ہے ، یعنی دن کا کچھ حصہ اور بعض نے کہا کہ اللہ جل جلالہ ہی بہتر جانتا ہے اور دنیا کے لوگوں کو بھی ایک بہت بڑی نشانی دکھائی جائے جو اس کی قدرت پہ دلالت کرتی ہو۔
Ayahs 18:13–17

نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْكَ نَبَاَهُمْ بِالْحَقِّ١ؕ اِنَّهُمْ فِتْیَةٌ اٰمَنُوْا بِرَبِّهِمْ وَ زِدْنٰهُمْ هُدًىۗۖ Open ayah 18:13 in the Quran reader

ہم ان کا واقعہ آپ سے ٹھیک ٹھیک بیان کرتے ہیں۔ یقینا وہ چند نوجوان تھے جو اپنے پروردگار پر ایمان لائے تھے اور ہم نے ان کو ہدایت میں اور ترقی کردی تھی

وَّ رَبَطْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اِذْ قَامُوْا فَقَالُوْا رَبُّنَا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَنْ نَّدْعُوَاۡ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلٰهًا لَّقَدْ قُلْنَاۤ اِذًا شَطَطًا Open ayah 18:14 in the Quran reader

اور ہم نے ان کے دلوں کو مربوط (مضبوط) کردیا جب وہ (دین کے لئے) اٹھ کھڑے ہوئے تو کہنے لگے ہمارا پروردگار آسمانوں اور زمین کا پروردگار ہے ہم اس کے سوا ہرگز کسی کو معبود جان کر نہ پکاریں گے کہ اگر ایسا کیا تو یقینا اس وقت ہم نے بڑی ہی بےجا بات کہی

هٰۤؤُلَآءِ قَوْمُنَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً١ؕ لَوْ لَا یَاْتُوْنَ عَلَیْهِمْ بِسُلْطٰنٍۭ بَیِّنٍ١ؕ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًاؕ Open ayah 18:15 in the Quran reader

ہماری قوم کے ان لوگوں نے اس (اللہ) کو چھوڑ قرار دے رکھے ہیں یہ لوگ ان (معبودوں) پر کوئی واضح دلیل کیوں نہیں لاتے تو اس سے بڑا ظالم کون ہوگا جو خدا پر جھوٹی تہمت لگا دے

وَ اِذِ اعْتَزَلْتُمُوْهُمْ وَ مَا یَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰهَ فَاْوٗۤا اِلَى الْكَهْفِ یَنْشُرْ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَ یُهَیِّئْ لَكُمْ مِّنْ اَمْرِكُمْ مِّرْفَقًا Open ayah 18:16 in the Quran reader

اور جب تم ان سے اور ان معبودوں سے جو اللہ کے سوا ہیں الگ ہوگئے ہو تو غار میں چل کر رہو تمہارا پروردگار تمہارے لئے اپنی رحمت پھیلا دے گا اور تمہارے لئے اس کام میں کامیابی کا سامان درست فرما دے گا

وَ تَرَى الشَّمْسَ اِذَا طَلَعَتْ تَّزٰوَرُ عَنْ كَهْفِهِمْ ذَاتَ الْیَمِیْنِ وَ اِذَا غَرَبَتْ تَّقْرِضُهُمْ ذَاتَ الشِّمَالِ وَ هُمْ فِیْ فَجْوَةٍ مِّنْهُ١ؕ ذٰلِكَ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ١ؕ مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ وَلِیًّا مُّرْشِدًا۠ Open ayah 18:17 in the Quran reader

اور (اے مخاطب ! ) جب دھرپ نکلتی ہے تو تو اس کو دیکھے گا کہ وہ ان کے غار کی داہنی جانب کو بچی رہتی ہے اور جب چھپتی ہے تو ان کے بائیں جانب ہٹی رہتی ہے اور وہ اس (غار) کے ایک فراخ موقع میں تھے یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے جسے اللہ ہدایت بخشیں سو وہ ہی راہ پاتا ہے اور جسے وہ بےراہ کردیں تو آپ اس کے لئے کوئی مددگار راہ بتانے والا ہرگز نہ پائیں گے

(رکوع نمبر 2) اسرارومعارف تو سنئے ہم نے آپ کو ان واقعہ کا ٹھیک ٹھیک بیان کرتے ہیں کہ لوگوں نے تو بہت بےسروپا باتین اس میں شامل کر رکھی ہوں گی ، لہذا ارشاد ہوا کہ درست واقعات یہاں کتاب میں بیان کئے جاتے ہیں کہ وہ کچھ نوجوان تھے جو اللہ جل جلالہ پر ایمان لائے ، اپنے پروردگار کی عظمت کو خلوص دل سے تسلیم کرلیا تو ہم نے ان کے لیے راہ ہدایت کی سوجھ بوجھ بڑھا دی اور انہیں نیکی اور بدی میں فرق کا احساس شدت سے ہوگیا ایسا کہ جو بدی کو چھوڑنے اور نیکی کو اپنانے پر مجبور کر دے ۔ (ایمان کی خصوصیت) اس جگہ ایمان کی خصوصیت ارشاد ہوئی ہے کہ اگر خلوص نصیب ہو تو ایمان کے باعث اللہ جل جلالہ کی طرف سے شعور بیدار ہوجاتا ہے نیکی اور برائی کا نہ صرف فرق سمجھ آنے لگتا ہے بلکہ آدمی بڑی سے بڑی قربانی دے کر نیکی اپنانے کی کوشش کرتا ہے اور برائی سے بچنے کی بھرپور سعی کرتا ہے ، لہذا دعوی ایمان کے ساتھ مسلسل برائی کرنا غالبا خلوص میں کمی کی علامت ہے ، ورنہ جذبہ خلوص پہ اس کا قدرتی پھل ضرور لگتا ہے اور خلوص قلب کا خاصہ ہے اسی لیے گروہ صوفیا ذکر قلبی پہ بہت زور دیتے ہیں نیز ذاکرین کے لیے بھی یہی معیار ہے کہ ذکر قلبی کی بدولت نیکی طبعا مرغوب ہونے لگے اور بدی سے نفرت پیدا ہوجائے ۔ (خلوص قلبی پہ دوسرا انعام) ہم نے ان کے دلوں سے ایک خاص تعلق کے ذریعے ان کو بہت مضبوط کردیا ، یہ خلوص قلبی پہ دوسرا انعام مرتب ہوتا ہے کہہ ہدایت سے مراد نیکی کی پہچان ہے تو قلب کے رابطے اور مضبوطی سے مراد دل کی وہ جرات رندانہ ہے کہ سب کچھ قربان کر کے بھی اللہ جل جلالہ کی اطاعت ہی کو اختیار کرنے کا حوصلہ پالے ۔ (رابطہ) راہ سلوک میں لطائف کی درستی اور قلب کی روشنی کے بعد شیخ توجہ اور ہمت سے طالب کے قلبی انوارات کا رشتہ عرش عظیم سے استوار کرتا ہے اور اسے یہ حال نصیب ہوتا ہے کہ اللہ جل جلالہ پر اس کے دل سے جو نور اٹھتا ہے وہ عرش عظیم سے جا کر لگے اس کو رابطہ کہ جاتا ہے جب یہ رابطہ مضبوط ہوجائے تو روح کے لیے زینہ کا کام دیتا ہے اور وح اس پر سفر کرکے عالم بالا میں داخل ہو سکتی ہے جس کی منازل میں سے پہلی منزل احدیت کے نام سے موسوم ہے ، غالبا اس کا تذکرہ پہلے گذر چکا ، دنیا کے اعتبار سے اس قلبی حال کا اثر یہ ہوتا ہے کہ اس کا حامل جان دے کر بھی اللہ جل جلالہ کی اطاعت ہی اختیار کرتا ہے ۔ چناچہ جب ان جوانوں کے قلوب کو یہ ربط نصیب ہوا تو انہوں نے اعلان کردیا کہ ہمارا رب تو وہی ہے جو زمین اور آسمانوں کا پروردگار ہے ہم اس کی ذات کے سوا کسی کو معبود قبول نہیں کرتے کہ یہ شان صرف اس کی ہے ساری کائنات کا اکیلا پروردگار اکیلا ہی عبادت کا مستحق بھی ہے ، یہ محض ہمارے کہنے کی بات نہیں بلکہ حق یہی ہے ، خدانخواستہ اگر ہم بھی اس کے خلاف کہہ دیں جیسے باقی کی ساری قوم کہہ رہی ہے تو اس کی شان میں کوئی فرق نہ آئے گا الٹا ہماری بات ہی خلاف عقل اور جاہلانہ ہوگی ۔ (نوجوانوں پہ زیادہ توجہ کی ضرورت) یہاں سے ثابت ہوتا ہے کہ عادات کو بدلنا بھی نوجوانوں کے لیے آسان ہوتا ہے اور بوڑھوں کے لیے مشکل نیز کچھ کر گذرنے کا جذبہ جو جوانی میں ہوتا ہے بڑھاپے میں سرد پڑجاتا ہے لہذا انقلابی تبدیلی کے لیے نوجوان نسل پر بھرپور توجہ کی ضرورت ہے خود نبی کریم ﷺ پر ایمان لانے والوں میں نوجوانوں کی کثرت تھی جو ابتدا سے اسلام میں آگے آئے ۔ رہی بات ہماری قوم کی مشرکانہ رسومات اور کافرانہ عقائد کی کہ انہوں نے اللہ جل جلالہ کی ذات کے علاوہ مختلف بتوں کی پوجا شروع کر رکھی ہے اور اس کے علاوہ ان کو معبود بنایا ہوا ہے تو اپنی بات پر کوئی دلیل کیوں نہیں لاتے جیسے اللہ جل جلالہ کی تخلیق اور بقائے عالم ہی اس کی عظمت پہ گواہی کے لیے کافی ہے ، ان کے معبودان باطلہ نے کیا تخلیق کیا اور کس کے پروردگار ہیں جبکہ وہ خود ایک ادنی درجے کی مخلوق یعنی مٹی ، گارا یا پتھر ہیں۔ (مشرکانہ رسومات اور بدعات دراصل ذات باری پر بہتان باندھنے کے برابر ہے) اور اس سے بڑھ کر کسی ظلم کا تصور تک نہیں کیا جاسکتا کہ کوئی اللہ جل جلالہ پر جھوٹ بولے کہ کسی بھی رسم کو ثواب بتانا یا ماننا جبکہ شرعا اس کا ثبوت نہ ہو تو وہ اللہ جل جلالہ پر جھوٹ باندھنے کے مترادف ہے کہ کسی کام کو ثواب یا پسندیدہ بتانا یہ خود اللہ جل جلالہ کا منصب ہے اور نبی اللہ جل جلالہ ہی کے حکم سے بتاتا ہے اپنی طرف سے رسومات اور بدعات ایجاد کرنے والا گویا اللہ جل جلالہ پر جھوٹ بولتا ہے اور بہتان لگاتا ہے جو اتنا بڑا جرم ہے کہ ایسے لوگوں سے مل کر رہنا بھی خطرے سے خالی نہیں کسی وقت بھی عذاب الہی آسکتا ہے ۔ الہذا انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ جب ہم نے قوم کے معبودان باطلہ کو چھوڑا ان کی رسومات و خرافات سے الگ ہوئے تو اب ان کے ساتھ رہنا درست نہیں ، خواہ دنیا کی ساری نعمتیں چھوڑنا پڑیں ، ماحول دوست احباب ، رشتہ دار ، گھر بار ، آرام یہ سب قربان کیا جاسکتا ہے ، اور عالیشان مکانوں کی جگہ غار میں وقت بسر کرلو مگر ان سے الگ ہوجاؤ ۔ (جہاں اللہ جل جلالہ کی عبادت نہ ہو سکتی ہو وہ جگہ چھوڑ دینا یہ انبیاء کی سنت ہے) گویا قانون یہ ہے اور یہی تمام نبیوں کا طریقہ ہے کہ جس آبادی میں اللہ جل جلالہ کی عبادت نہ ہو سکتی ہو یا عقائد محفوظ نہ رہ سکتے ہوں اسے چھوڑ دیا جائے کہ اس سے ویرانے بہتر ہیں ، اس میں ان لوگوں کے لیے درس عبرت ہے جو رات دن گھر بار بیچ کر یورپ اور مغربی دنیا جانے کو تیار بیٹھے ہیں۔ چناچہ ان نوجوانوں نے ایک غار میں پناہ لینے کا فیصلہ کیا کہ جب ہم اسباب دنیا کو اللہ جل جلالہ کے لیے چھوڑ دیں گے تو وہ ہمیں اپنی رحمت سے ڈھانپ لے گا اور اپنی قدرت کاملہ سے ہمارے آرام و سکون کا اہتمام کر دے گا ۔ (اصحاب کہف پر اللہ جل جلالہ کا انعام اور ان کی کرامات) چناچہ جب انہوں نے اس وجہ سے وہ اختیاری اسباب جو ان کے آرام کے تھے ترک کردیئے کہ وہ انہیں اللہ جل جلالہ کی راہ سے ہٹا نہ دیں تو اللہ جل جلالہ نے ان اسباب کو بھی ان کی خدمت پر لگا دیا جن پہ ان کا اختیار نہ تھا مثلا انہوں نے قیمتی مکان چھوڑے تو اللہ جل جلالہ نے کھلی چھت کے نیچے بھی سورج کی تمازت اور دھوپ کی گرمی کو ان سے روک دیا اور اے مخاطب تو دیکھے گا کہ ہر طلوع و غروب کے وقت سورج اپنا دامن ان سے بچاتا ہے اور اپنی کرنوں کو ان سے روک کر بکھیرتا ہے کہ انہوں دھوپ پریشان نہ کرسکے حالانکہ وہ غار کی ڈھکی ہوئی جگہ پر نہیں بلکہ کھلی ہوئی جگہ میں آرام کر رہے ہیں ۔ اکثر علماء نے غار کی سمت کا اندازہ لکھا ہے کہ اس کا رخ شمالا جنوبا ہو تو دھوپ نہ لگے بعض نے ریاضی کے قواعد سے طول بلد اور عرض بلد کی بحث سے ثابت کرنا چاہا ہے ، مگر حق یہ ہے کہ یہ خرق عادت ہے اور اسے ان کی کرامت کے طور پر قدرت کاملہ کی بہت بڑی نشانی کہہ کر بیان فرمایا ہے ۔ کہ ارشاد ہوتا ہے کہ یہ اس کی قدرت کاملہ کی بہت بڑی نشانی ہے کہ کچھ لوگ سرمیدان آرام کر رہے ہیں اور موسم اپنے اثرات کا دامن ان سے سمیٹ رہے ہیں نہ صرف یہ کہ دھوپ نے ان پر اثر نہ کیا بلکہ تمام موسموں کے تغیر وتبدل کا بہت بڑا مرکز بھی تو سورج ہے اور تین سونوسال ان کے وجودوں پر کسی موسم نے کوئی اثر نہ کیا نہ صرف وجود بلکہ لباس تک فرسودہ نہ ہوئے نہ ان پہ گرد پڑی اور نہ بارش نہ گرمی وسردی نے متاثر کیا اور نہ طوفانی ہواؤں نے چھیڑا کہ اللہ جل جلالہ نے ان اسباب کو جن پر ان کا اختیار نہ تھا ان کی حفاظت پر لگا دیا اور یہ اس کی قدرت کاملہ کی دلیل بھی ہے ۔ لہذا یاد رکھو کہ اللہ کو دل کی گہرائی سے ماننا ہی باعث کمال ہے کہ جو اللہ جل جلالہ سے تعلق قائم کرے اور اللہ جل جلالہ اس کو ہدایت دے وہی ہدایت پاسکتا ہے اور جسے اللہ جل جلالہ محروم کر دے یعنی اللہ کے لیے اس کے دل میں خلوص نہ ہو اور اللہ جل جلالہ اسے گمراہ کردے تو پھر نہ کوئی اسے ہمدرد نصیب ہوتا ہے اور نہ کوئی مرشد جو اسے راہ پر لے آئے گویا شیخ کا ملنا بھی عطائے باری ہے ۔
Ayahs 18:18–22

وَ تَحْسَبُهُمْ اَیْقَاظًا وَّ هُمْ رُقُوْدٌ١ۖۗ وَّ نُقَلِّبُهُمْ ذَاتَ الْیَمِیْنِ وَ ذَاتَ الشِّمَالِ١ۖۗ وَ كَلْبُهُمْ بَاسِطٌ ذِرَاعَیْهِ بِالْوَصِیْدِ١ؕ لَوِ اطَّلَعْتَ عَلَیْهِمْ لَوَلَّیْتَ مِنْهُمْ فِرَارًا وَّ لَمُلِئْتَ مِنْهُمْ رُعْبًا Open ayah 18:18 in the Quran reader

اور (اے مخاطب ! ) تم ان کو جاگتا ہوا سمجھتے ہو حالانکہ وہ سوتے تھے اور ہم ان کو (کبھی) داہنی اور (کبھی) بائیں طرف کروٹیں بدلاتے تھے اور ان کا کتا چوکھٹ پر اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے ہوئے تھا۔ اگر (اے مخاطب ! ) تو ان کو جھانک کر دیکھتا تو ان سے پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑا ہوتا اور تیرے اندر ان کی دہشت سماجاتی

وَ كَذٰلِكَ بَعَثْنٰهُمْ لِیَتَسَآءَلُوْا بَیْنَهُمْ١ؕ قَالَ قَآئِلٌ مِّنْهُمْ كَمْ لَبِثْتُمْ١ؕ قَالُوْا لَبِثْنَا یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ١ؕ قَالُوْا رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثْتُمْ١ؕ فَابْعَثُوْۤا اَحَدَكُمْ بِوَرِقِكُمْ هٰذِهٖۤ اِلَى الْمَدِیْنَةِ فَلْیَنْظُرْ اَیُّهَاۤ اَزْكٰى طَعَامًا فَلْیَاْتِكُمْ بِرِزْقٍ مِّنْهُ وَ لْیَتَؔلَطَّفْ وَ لَا یُشْعِرَنَّ بِكُمْ اَحَدًا Open ayah 18:19 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے ان کو جگا دیا تاکہ آپس میں ایک دوسرے دریافت کریں ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا کہ تم یہاں کتنی مدت رہے ؟ انہوں نے کہا کہ ہم ایک دن یا ایک دن سے بھی کچھ کم دیر رہے انہوں (دوسروں) نے کہا یہ تو تمہارا پروردگار ہی جانتا ہے کہ تم کتنا عرصہ رہے تو اپنے میں سے کسی کو یہ روپیہ دے کر شہر کی طرف بھیجو پھر وہ دیکھے کہ پاکیزہ کھانا کون سا ہے سو اس میں سے تمہارے پاس کچھ کھانا لے آئے اور آہستہ آہستہ (احتیاط کے ساتھ) آجائے کہ کسی کو تمہاری خبر نہ ہونے دے

اِنَّهُمْ اِنْ یَّظْهَرُوْا عَلَیْكُمْ یَرْجُمُوْكُمْ اَوْ یُعِیْدُوْكُمْ فِیْ مِلَّتِهِمْ وَ لَنْ تُفْلِحُوْۤا اِذًا اَبَدًا Open ayah 18:20 in the Quran reader

اگر ان لوگوں کا تم پر بس چلا گیا (تمہاری خبر ہوگئی) تو یقینا تم کو سنگسار کردیں گے یا پھر اپنے مذہب میں داخل کرلیں گے تو ایسے میں تم ہرگز کبھی فلاح (کامیابی) نہ پاؤ گے

وَ كَذٰلِكَ اَعْثَرْنَا عَلَیْهِمْ لِیَعْلَمُوْۤا اَنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ اَنَّ السَّاعَةَ لَا رَیْبَ فِیْهَا١ۗۚ اِذْ یَتَنَازَعُوْنَ بَیْنَهُمْ اَمْرَهُمْ فَقَالُوا ابْنُوْا عَلَیْهِمْ بُنْیَانًا١ؕ رَبُّهُمْ اَعْلَمُ بِهِمْ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ غَلَبُوْا عَلٰۤى اَمْرِهِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَیْهِمْ مَّسْجِدًا Open ayah 18:21 in the Quran reader

اور اس طرح ہم نے ان (لوگوں) کو ان (کے حال) سے باخبر کردیا تاکہ وہ جانیں کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور یہ کہ قیامت میں کوئی شک نہیں اس وقت (اس زمانہ کے) لوگ ان کے معاملے میں آپس میں باہم جھگڑ رہے تھے سو ان لوگوں نے کہا کہ ان لوگوں (کے غار) پر کوئی عمارت بنادو۔ ان کا پروردگار ان کے حال سے خوب واقف ہے جو لوگ ان کے معاملے میں غلبہ رکھتے تھے کہنے لگے ہم ضرور ان (کے غار) پر مسجد بنائیں گے

سَیَقُوْلُوْنَ ثَلٰثَةٌ رَّابِعُهُمْ كَلْبُهُمْ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ خَمْسَةٌ سَادِسُهُمْ كَلْبُهُمْ رَجْمًۢا بِالْغَیْبِ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ سَبْعَةٌ وَّ ثَامِنُهُمْ كَلْبُهُمْ١ؕ قُلْ رَّبِّیْۤ اَعْلَمُ بِعِدَّتِهِمْ مَّا یَعْلَمُهُمْ اِلَّا قَلِیْلٌ١۫۬ فَلَا تُمَارِ فِیْهِمْ اِلَّا مِرَآءً ظَاهِرًا١۪ وَّ لَا تَسْتَفْتِ فِیْهِمْ مِّنْهُمْ اَحَدًا۠ Open ayah 18:22 in the Quran reader

اب وہ (لوگ) کہیں گے وہ تین ہیں چوتھا ان کا کتا اور وہ (بعض) کہیں گے وہ پانچ ہیں چھٹا ان کا کتا ہے ، بےتحقیق بات کر رہے ہیں۔ اور کہیں گے وہ سات ہیں اور آٹھواں ان کا کتا ہے۔ آپ فرمادیجئے میرا پروردگار ان کا شمار خوب (صحیح صحیح) جانتا ہے ان (کے شمار) کو بہت تھوڑے لوگ جانتے ہیں سو آپ ان کے بارے میں سوائے سرسری بات کے زیادہ بحث نہ کیجئے اور آپ ان کے بارے ان لوگوں میں سے کسی سے نہ پوچھئے

(رکوع نمبر 3) اسرارومعارف جو بھی انہیں دیکھے وہ سمجھے گا کہ یہ جاگ رہے ہیں یعنی نیند کے اثرات تک اس سے ظاہر نہیں ہو پا رہے جیسے آنکھوں کا بند ہونا یا بدن کا ڈھیلا پن یا سانس کا اکھڑنا بلکہ صدیوں کی نیند بھی محض ان کے آرام اور قدرت الہی کے اظہار کے لیے ہے ، ان پر اپنا وہ اثر بھی مرتب نہیں کر پا رہی جو عام حالات میں چند لمحے سونے والے انسان پر بھی مرتب ہوتا ہے اور لطف یہ ہے کہ وہ سو بھی رہے ہیں ان کے اس نیند کے دور میں ہم خود یعنی ذات باری خود ان کو کروٹیں تبدیل کراتی ہے ، کبھی دائیں اور کبھی بائیں ۔ (قرب الہی کا عجیب حال) یعنی ان پر رب جلیل کا اس قدر احسان ہے کہ نہ یہ کہ صرف خارجی اثرات انہیں متاثر نہیں کرسکتے جیسے موسم وغیرہ یا وجود کی حالت انہیں تھکا نہیں پا رہی ہے جیسے مسلسل نیند بلکہ فطری طور پر جو کام خود ان کے وجودوں کو کرنا چاہئے تھا کہ نیند میں تھک جاتے تو کروٹ بدل لیتے وہ بھی ہم ذاتی طور پر کر رہے ہیں اور انہیں کروٹیں تک تبدیل کروا رہے ہیں یہی حال اہل حق کے لیے مطلوب ہوتا ہے کہ ہر حرکت و سکون اللہ کی خاطر ہوجائے اور یہ قرب الہی سے نصیب ہوتا ہے ، جیسا کہ حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ بندہ میرا قرب حاصل کرتا ہے اور اس حال کو پا لیتا ہے کہ میں اس کے ہاتھ پاؤں اور سماعت و بصارت بن جاتا ہوں ۔ (نیک لوگوں کی معیت اور ان کا ساتھ بجائے خود حصول رحمت کا باعث ہے) ان کی ذات کی تو بات ہی الگ ، جب وہ شہر سے نکلے تو ایک کتا جو انہوں نے پال رکھا تھا ان کے ساتھ ہولیا ، تو رحمت باری نے اس کتے کو ضائع نہیں ہونے دیا اور اسے بھی زمانے تک کے اثر سے محفوظ کردیا اور موسموں کے اثرات بھی بچا لیا ، چناچہ وہ بھی اسی غار کے دہانے پر مزے سے پاؤں پھیلائے بیٹھا رہا ۔ مفسرین فرماتے ہیں کہ صلحا کے ساتھ لگ کر کتا بھی محروم نہ رہا تو ایک مومن اہل اللہ کے ساتھ لگ کر کیا کچھ حاصل کرسکتا ہے ، بخاری شریف کی ایک روایت ہے کہ آپ ﷺ مسجد سے باہر تشریف لا رہے تھے کہ دروازے پر ایک شخص نے سوال کیا یا رسول اللہ ﷺ قیامت کب ہوگی فرمایا کیا تم نے تیار رکھی ہے تو شرمندہ سا ہو کر بولا نماز روزہ اور صدقات وغیرہ تو زیادہ نہیں مگر اللہ اور اس کے رسول کی محبت میرا سرمایہ ہے تو فرمایا سن لو قیامت میں تم اسی کے ساتھ ہوگے جس سے محبت رکھتے ہو حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ اسلام لانے کے بعد یہ ارشاد سن کر سب سے زیادہ خوشی محسوس ہوئی اور فرماتے تھے میں اللہ جل جلالہ سے اس کے رسول ﷺ سے اور ابوبکر ؓ اور عمر ؓ سے محبت رکھتا ہوں ، لہذا ان کے ساتھ کا امیدوار ہوں اور لوگوں سے ان کی حفاظت کا باعث ایک قدرتی رعب اور جلال کو بنا دیا ہے کہ اے مخاطب اگر تو اس جگہ جھانک بھی لے جہاں وہ ہیں تو ایسی دہشت طاری ہوجائے کہ پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑا ہو ، یہ ایک اور خرق عادت ہے کہ کفار اگر وہاں پہنچ بھی جاتے تو بجائے انہیں نقصان پہنچانے کے الٹے قدموں بھاگ کھڑے ہوتے ۔ چناچہ صدیوں بعد انہیں پھر سے بیدار کردیا گیا تو سوال پیدا ہوا کہ ہم نے یہاں کتنا وقت سو کر گذارا کہ بھوک سی لگ رہی ہے یہ ایک اور خرق عادت امر تھا کہ صدیاں بغیر غذا کے گذر گئیں مگر بیداری پر وجود پہ ان کا کوئی اثر نہ تھا بلکہ معمول کے مطابق کھانے کی طلب ہوئی اور کہنے لگے کیا خیال ہے ہم کتنی دیر سوئے ہیں تو بعض نے کہا ابھی دن تو گذر ہی گیا یا دن کا بیشتر وقت تو سوتے ہی کٹا کہ اب تو بھوک بھی لگ رہی ہے یہ پھر ایک اور خرق عادت اور کرامت تھی کہ صدیوں کی طوالت انہیں اپنا احساس تک نہ دلا سکی تو کہنے لگے رب کریم ہی بہتر جانتا ہے کتنا وقت گذرا ، بھلا اب اس بحث کی کیا ضرورت ، یہ تو وہی بہتر جانتا ہے کہ کتنا وقت گذرا اب ایسا کرو کہ کسی کو رقم دے کر روانہ کرو کہ شہر سے دیکھ بھال کر حلال اور پاکیزہ کھانا لیتا آئے ، اور بہت سلیقے سے جائے کہ وہ لوگ تم سے باخبر نہ ہونے پائیں ورنہ تو وہ ہر ظلم روا رکھیں گے اگر کفار کو ہمارے حال کی خبر ہوگئی اور انہوں نے ہم پر قابو پالیا تو پتھر مار مار کر ہی مار ڈالیں گے یا یہ چاہیں گے کہ ہم لوگ واپس انہی کے مذہب کو اپنا لیں اور اگر ایسا ہوا تو ہمیشہ کی بھلائی سے محرومی کا سبب بنا جائے گا ، اس سے ظاہر ہے کہ غار شہر سے قریب ہی تھا اور چند ضروری امور جو یہاں سے مستضاد ہوئے وہ یہ ہیں ۔ (ضرورت کے لیے سرمایہ کمانا توکل کے خلاف نہیں) کہ اللہ کریم نے ان کے توکل علی اللہ کو سراہا ہے مگر ان کے پاس بھی ضرورت کے لیے خرچ کا اہتمام تھا لہذا جائز سرمایہ کا ہونا توکل کے خلاف نہیں ۔ (پاکیزہ اور حلال کھانا) چونکہ ان کی قوم بتوں پر چڑھاوے چڑھاتی اور حرام کھاتی تھی لہذا خصوصا اہتمام کیا کہ جو بھی جائے دیکھ بھال کے حلال اور پاکیزہ کھانا لائے یعنی اگر گوشت حلال نہ ہو تو سبزی وغیرہ یا کوئی اور پاکیزہ کھانا لے آئے تو جن ممالک یا شہروں میں حرام کھایا جاتا ہے اور فروخت ہوتا ہے وہاں بلاتحقیق کھانا جائز نہیں خصوصا دیار مغرب میں رہنے والے مسلمانوں کو اس کا اہتمام کرنا چاہئے ۔ اور فقہی اعتبار سے علماء کا ارشاد ہے کہ مال میں شرکت جائز ہے اور مشترکہ مال سے کسی ایک کو وکیل بنایا جاسکتا ہے کہ دوسروں کی طرف سے تصرف کرے ، نیز کھانے پینے میں بھی شراکت جائز ہے جب بخوشی ہو۔ چناچہ حکمت الہیہ سے ان کا بھید ظاہر کردیا گیا ، مفسرین نے پورا واقعہ نقل فرمایا ہے کہ وہ ظالم بادشاہ تو مرکھپ گیا اور مسلمان اور نیک بادشاہ وہاں حکمران تھا کہ آخرت کے بارے لوگوں میں اختلاف پیدا ہوا جیسا آج کل ہمارے ہاں حیات برزخ کا انکار پیدا ہوگیا ہے چناچہ بادشاہ دعا کیا کرتا تھا کہ اللہ جل جلالہ تو اپنی قدرت کاملہ سے کوئی نشانی ظاہر کر دے کہ بحث سے تو بات طے ہونے سے رہی ، ادھر اللہ جل جلالہ نے اصحاب کہف کو جگا دیا ان کا آدمی جب دکاندار کے پاس سکہ لے کر گیا تو وہ تین سو سال پہلے کا تھا ، اسے بہت حیرت ہوئی ، دوسروں کو بتایا اور جوں جوں تفتیش کی حیرت بڑھتی گئی ، آخر بات بادشاہ تک پہنچی اور سب کو علم ہوا کہ گذشتہ اہم واقعات میں ان کے بھاگ کر روپوش ہونے کا قصہ تو تھا لہذا قیام قیامت اور حیات آخرت پر ایک بہت بڑی دلیل سامنے آگئی اور سب کو واضح ہوگیا کہ اللہ جل جلالہ ہر شے پر قادر ہے کسی کو بغیر اسباب کے زندہ رکھے تو وہ اس پر بھی قادر ہے کہ برزخ میں عذاب وثواب دے مٹی ہوجانے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے پہ بھی ویسا ہی قادر ہے اور اللہ جل جلالہ کا وعدہ سچا ہے اور قیامت یقینا قائم ہوگی جس میں کوئی شبہ نہیں ہو سکتا ۔ (کرامت ولی کا حاصل) جب طرح نبی کا معجزہ نبوت کو ثابت کرنے کے لیے ہوتا ہے اسی طرح ولی کرامت دین کے اثبات واحیاء کے لیے ہوتی ہے کہ دراصل نبی ہی کا معجزہ ولی کے ہاتھ پہ صادر ہو کر امت کہلاتا ہے اور نبی کی صداقت کا ثبوت بنتا ہے ۔ چناچہ جب ان کا سب حال واضح ہوگیا تو اللہ جل جلالہ نے انہیں موت دے دی ، اب لوگوں میں اس بات پہ بحث شروع ہوئی کہ یہ بتہ بڑا واقعہ تھا ، اس کی شان کے مطابق اس کی یاد گار بنائی جائے مگر پھر یادگار میں کیا لکھا جائے یہ کون لوگ تھے کیا نام تھے ، خاندان کونسا تھا وغیرہ تو یہ سب امور تو صرف اللہ جل جلالہ کے علم میں تھے کہ ان کے اظہار سے تاریخ بیان کرنا مقصد نہ تھا بلکہ لوگوں کو ہدایت کی طرف بلانا مقصود تھا جو حاصل ہوگیا تو تھک ہار کر وہ لوگ بھی کہنے لگے کہ ان کے حالات کو اللہ جل جلالہ ہی جانتا ہے مگر یہ طے ہے کہ اللہ جل جلالہ کے مقبول بندے تھے ، لہذا نیک لوگوں نے جو صاحب اقتدار تھے فیصلہ کیا کہ غار پر ایک مسجد بنا دی جائے کہ جو یہاں آئے اللہ جل جلالہ کی عبادت کرسکے ۔ (مزارات اولیاء کے ساتھ مساجد) مفتی محمد شفیع (رح) لکھتے ہیں کہ اس سے ثابت ہے کہ اہل اللہ کے مزارات کے ساتھ مساجد بنانا منع نہیں ہاں خود قبر کو سجدہ کرنا اور سجدہ گاہ بنانا حرام اور شرک ہے ، اب جو بات مقصد کے لیے مفید تھی وہ تو بیان ہوگئی ، اب یہ لوگ بحث کریں گے کہ وہ لوگ تین تھے ، اور چوتھا کتا تھا یا بعض کہیں گے پانچ تھے اور چھٹا کتا تھا یہ سب بحث بغیر کسی ٹھوس ثبوت اور مضبوط دلیل کے کرتے چلے جائیں گے کوئی یہ بھی کہہ دیں گے کہ سات افراد تھے اور آٹھواں کتا تھا تو فرما دیجئے کہ ان کی تعداد کیا تھی ، یہ بات اللہ کریم ہی خوب جانتے ہیں کہ تعداد کا کم یا زیادہ ہونا تو لوگوں کی ہدایت کے لیے ضروری نہیں ہاں جو حصہ ضروری تھا بیان ہوا تو اب ایسے لوگ بہت کم ہیں جو تعداد بھی جانتے ہوں یعنی اللہ کو علم بخش دے تو محال بھی نہیں اور ظاہری اسباب تو ایسے موجود نہیں کہ ہر کوئی جان سکے لہذا ایس بحث ہی میں مت پڑئیے اور ان میں سے کسی سے بھی اس موضوع پر کچھ معلوم کرنے کی کوشش نہ کیجئے کہ جتنا ضروری تھا اللہ جل جلالہ نے بیان کردیا اور غیر ضروری کے لیے کاوش فضول ہے ۔ (غیرضروری امور میں بحث سے اجتناب چاہیے) لہذا یہ بھی طے ہوگیا کہ ضروری امور میں محض بحث نہ کی جائے بلکہ بحث وتمحیص سے دلائل کو جانچا جائے اور نہایت وقار اور تحمل سے گفتگو کی جائے ، نیز حق بات کو قبول کیا جائے اور غیر ضروری باتوں میں جن کا عقیدے یا عمل سے تعلق نہ ہو سرے سے بحث ہی نہ کی جائے کہ وقت اور قوت کے ضیاع کے ساتھ مزید اختلافات کے پیدا ہونے کا اندیشہ ہے ،
Ayahs 18:23–31

وَ لَا تَقُوْلَنَّ لِشَایْءٍ اِنِّیْ فَاعِلٌ ذٰلِكَ غَدًاۙ Open ayah 18:23 in the Quran reader

اور آپ کسی کام کی نسبت یوں نہ کیا کیجئے کہ میں اس کو کل کردوں گا

اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١٘ وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ اِذَا نَسِیْتَ وَ قُلْ عَسٰۤى اَنْ یَّهْدِیَنِ رَبِّیْ لِاَقْرَبَ مِنْ هٰذَا رَشَدًا Open ayah 18:24 in the Quran reader

مگر اللہ کے چاہنے کو ملا لیجئے (ان شاء اللہ کہہ لیجئے) اور جب آپ بھول جائیں تو اپنے پروردگار کا ذکر کیجئے اور کہہ دیجئے کہ امید ہے کہ میرا پروردگار مجھے (دلیل نبوت کے طور پر) اس سے بھی زیادہ نزدیک تر ، ہدایت کی بات بتلادے

وَ لَبِثُوْا فِیْ كَهْفِهِمْ ثَلٰثَ مِائَةٍ سِنِیْنَ وَ ازْدَادُوْا تِسْعًا Open ayah 18:25 in the Quran reader

اور وہ لوگ اپنے غار میں (حالت نیند میں) تین سو (300) برس تک رہے اور نو (9) برس اوپر اور رہے (کل تین سو نو (309) برس رہے) ۔

قُلِ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثُوْا١ۚ لَهٗ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اَبْصِرْ بِهٖ وَ اَسْمِعْ١ؕ مَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّلِیٍّ١٘ وَّ لَا یُشْرِكُ فِیْ حُكْمِهٖۤ اَحَدًا Open ayah 18:26 in the Quran reader

فرمادیجئے کہ جتنی مدت رہے اسے اللہ ہی خوب جانتا ہے اسی کے لئے ہیں آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ باتیں وہ کیا خوب دیکھنے والا اور کیا خوب سننے والا ہے اس کے سوا ان کا کوئی کارساز نہیں اور نہ وہ اپنے حکم میں کسی کو شریک فرماتا ہے

وَ اتْلُ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنْ كِتَابِ رَبِّكَ١ؕۚ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ١۫ۚ وَ لَنْ تَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًا Open ayah 18:27 in the Quran reader

اور اپنے پروردگار کی کتاب جو آپ کے پاس وحی کے ذریعے بھیجی جاتی ہے (لوگوں کے سامنے) پڑھتے رہا کیجئے اس کی باتوں (وعدوں) کو کوئی بدل نہیں سکتا اور آپ اس کے علاوہ کوئی جائے پناہ ہرگز نہ پائیں گے

وَ اصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗ وَ لَا تَعْدُ عَیْنٰكَ عَنْهُمْ١ۚ تُرِیْدُ زِیْنَةَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ لَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَهٗ عَنْ ذِكْرِنَا وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ وَ كَانَ اَمْرُهٗ فُرُطًا Open ayah 18:28 in the Quran reader

اور اپنے آپکو ان لوگوں کے ساتھ روکے رکھئے جو صبح وشام (یعنی علی الدوام) اپنے پروردگار کو پکارتے ہیں اس کی خوشنودی کے طالب ہیں اور دنیا کی زندگی کی رونق کے خیال سے آپ کی توجہ ان سے ہٹنے نہ پائے اور ایسے شخص کا کہنا نہ مانیئے جس کے قلب کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کررکھا ہے اور وہ اپنی خواہش کی پیروی کرتا ہے اور اس کا کام حد سے بڑھ گیا ہے

وَ قُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ١۫ فَمَنْ شَآءَ فَلْیُؤْمِنْ وَّ مَنْ شَآءَ فَلْیَكْفُرْ١ۙ اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلظّٰلِمِیْنَ نَارًا١ۙ اَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا١ؕ وَ اِنْ یَّسْتَغِیْثُوْا یُغَاثُوْا بِمَآءٍ كَالْمُهْلِ یَشْوِی الْوُجُوْهَ١ؕ بِئْسَ الشَّرَابُ١ؕ وَ سَآءَتْ مُرْتَفَقًا Open ayah 18:29 in the Quran reader

اور فرمادیجئے کہ (یہ دین) حق ہے تمہارے پروردگار کی طرف سے جس کا جی چاہیپس وہ ایمان لے آئے اور جو کوئی چاہے پس وہ کافر رہے یقینا ہم نے ظالموں کے لئے آگ تیار کررکھی ہے جس کی قناتیں ان کو گھیرے ہوں گی اور اگر (پیاس سے) فریاد کریں گے تو ایسے پانی سے ان کی فریاد رسی کی جائے گی جو پگھلے ہوئے تانبے کی طرح گرم (ہوگا) مونہوں کو بھون ڈالے گا کیا ہی برا پانی ہوگا اور کیا ہی بری جگہ ہوگی

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اِنَّا لَا نُضِیْعُ اَجْرَ مَنْ اَحْسَنَ عَمَلًاۚ Open ayah 18:30 in the Quran reader

بیشک جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے تو یقینا ہم نیک کام کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں فرماتے

اُولٰٓئِكَ لَهُمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ یَلْبَسُوْنَ ثِیَابًا خُضْرًا مِّنْ سُنْدُسٍ وَّ اِسْتَبْرَقٍ مُّتَّكِئِیْنَ فِیْهَا عَلَى الْاَرَآئِكِ١ؕ نِعْمَ الثَّوَابُ١ؕ وَ حَسُنَتْ مُرْتَفَقًا۠ Open ayah 18:31 in the Quran reader

ایسے ہی لوگوں کے لئے ہمیشہ رہنے کے باغ ہیں جن کے تابع نہریں بہتی ہیں ان کو وہاں سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اور وہ باریک اور دبیز سبز ریشم کے کپڑے پہنیں گے وہاں مسہریوں پر تکیہ لگائے ہوں گے کیا ہم خوب صلہ ہے اور کیا ہی خوب جگہ ہے

(رکوع نمبر 4) اسرارومعارف آپ کے مرتبہ کو یہ زیب نہیں دیتا کہ آپ کہہ دیں کل یہ کام کر دوں گا کہ آپ تو سراپا ہدایت تھے اور آپ کے معجزات دیکھ کر لوگ آپ ہی کی پرستش نہ کرنے لگ جائیں ، اور یہ نہ سمجھ لیں کہ سب کچھ کرنا آپ ﷺ کے ذاتی اختیار میں ہے ، لہذا کبھی مت کہیے کہ میں یہ کام کر دوں گا ، سوائے اس کے کہ انشاء اللہ ملا لیجئے یعنی اللہ جل جلالہ نے چاہا تو یہ کام کر دوں گا ۔ جب آپ ﷺ پر یہ تین سوال پیش کئے گئے تو آپ ﷺ نے فرما دیا کہ کل جواب دوں گا اور انشاء اللہ ساتھ نہ فرمایا تو کم وبیش پندرہ روز تک کوئی وحی نازل نہ ہوئی جس پر آپ ﷺ بھی بہت افسردہ ہوئے اور کفار نے بڑا مذاق اڑایا مگر پھر اس آیۃ کریمہ کے نزول سے تسلی ہوئی اور آئندہ کے لیے ایک ضابطہ معین ہوگیا ۔ تو عام مسلمانوں کے لیے بھی انشاء اللہ کہنا مستحب قرار پایا چناچہ اگر بھول چوک ہوجائے اور بات کرتے وقت اللہ جل جلالہ کا ذکر یاد نہ رہے یعنی اتفاقا انشاء اللہ نہ کہا جائے تو جیسے یاد آئے کہہ دیجئے کہ آپ ﷺ کو یہی طرز عمل زیبا ہے ۔ ان لوگوں سے فرمائیے کہ تمہیں یہ قصہ بہت عجیب معلوم ہوا حالانکہ اس سے بہت زیادہ بڑی اور اہم باتیں اللہ جل جلالہ نے مجھے بتائیں اور میرے ذریعے تم تک پہنچیں ، آدم (علیہ السلام) اور ان سے بھی پہلے کا ذکر عرش اور آسمانوں ، فرشتوں کی باتیں ، موت کے ، زندگی کے احوال اور سب سے بڑھ کر اللہ جل جلالہ کی ذات اور اس کی صفات کے بیان یہ انسانی ہدایت کے لیے اس قصے کی نسبت بہت بڑی دلیلیں ہیں ۔ اور یہ جو جھگڑا ان کے غار میں رہنے کی میعاد میں کرتے ہیں تو چونکہ مدت کا دراز ہونا اس واقعہ کے خرق عادت اور کرامت کی اہمیت واضح کرتا ہے لہذا انہیں فیصلہ کن بات بتا دیں کہ وہ لوگ نیند کی حالت میں غار کے اندر تین سو نوسال رہے جس طویل عرصہ میں نہ صرف ان کے وجود اور لباس تک محفوظ رہے بلکہ بغیر کھائے پیئے ان کے وجود زندہ رہے اور وہ صرف سوتے رہے ، اگر کفار یقین نہ کریں تو کوئی فرق نہیں پڑتا ، ہاں یہ فرما دیجئے کہ اللہ ہی یقینا صحیح عرصہ قیام جانتا ہے اور وہی بتا سکتا ہے اور یہ مدت وہی بتا رہا ہے ، اور اس کی ذات اتنی عظیم ہے کہ آسمانوں اور زمینوں کے سب غیب تک اس پہ آشکارا ہیں ، وہ خوب دیکھتا ہے اور سنتا ہے ، اگر یہ اعتبار نہ بھی کریں گے تو کونسا کسی کو اللہ کے مقابل مددگار بنا لیں گے کہ ان کے لیے بھی سوائے اسی کی ذات کے کوئی مددگار نہیں اور نہ کوئی اس کے احکام اور امور سلطنت میں مداخلت کی جرات کرسکتا ہے کہ کفار بھی اللہ جل جلالہ کی قدرت کو اپنے اوپر قیاس کرکے ایسے امور کی باطل تاویلیں کیا کرتے تھے جیسے آج کل کے کرامات ومعجزات کا انکار کرنے والے حیلے تراشتے رہتے ہیں مگر حق یہ ہے کہ کرامات ومعجزات خرق عادت ہوتے ہیں ، لہذا امور عادیہ پہ قیاس کرنا ہرگز درست نہیں ہو سکتا ۔ آپ ﷺ کا فریضہ اس وحی الہی کو لوگوں پہ پڑھنا اور سنانا ہے جو اللہ جل جلالہ کی طرف سے آتی ہے اور آپ ﷺ منوانے کے تو ذمہ دار نہیں آپ ﷺ نے پہنچا دیا حق ادا ہوگیا کہ نزول کتاب اللہ کی شان ربوبیت کا تقاضا ہے اور انسانی تربیت کے لیے بہت اہم دولت ہے ، لہذا اس میں کفار کے رؤساء کے مطالبہ پر تبدیلی ممکن نہیں نہ آپ ﷺ اس کی فکر کریں کہ یہ لوگ ایمان نہ لائے تو اسلام کیسے پھیلے گا اور دین میں ترقی کیسے ہوگی بلکہ آپ ﷺ تعمیل ارشاد میں بات پہنچاتے رہئے کہ اگر کوئی بھی اللہ جل جلالہ کے حکم کی تعمیل میں کوتاہی کرے گا یا اللہ جل جلالہ کی اطاعت چھوڑ کر مخلوق کی طرف جھکے گا تو اسے اللہ کی گرفت سے بچنے کو کوئی پناہ نہ مل سکے گی کہ سب کی پناہ بھی اللہ جل جلالہ ہی کی ذات ہے لہذا مشرکین مکہ کا یہ مطالبہ کہ فقیر اور غیر صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین کو الگ کر دیجئے کہ ہم بھی آپ ﷺ کی مجلس میں تو بیٹھ سکیں ہرگز قابل توجہ نہیں ۔ (معیت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بلکہ آپ ﷺ اپنی ذات گرامی کو اپنی معیت ذاتی کو ان ہی لوگوں کے لیے مخصوص کر دیجئے جو اللہ جل جلالہ کے قرب کی طلب میں اور اس کی رضا کی خاطر اس کا ذکر علی الدوام کرتے ہیں اور کسی لمحے ان سے اس کی یاد نہیں چھوٹتی ۔ (ذکر دوام) ہاں علماء نے علی الدوام عبادت کرنا بھی لکھا ہے مگر حق یہ ہے کہ یہ بھی درست ہے اور حقیقی مراد ذکر قلبی ہے جو نصیب ہوجائے تو اس میں کوئی لمحہ غفلت واقع نہیں ہوتی ، نیز آپ ﷺ حجرہ مبارک سے مسجد میں تشریف لائے تو کچھ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین بیٹھے ذکر الہی کر رہے تھے آپ ﷺ ان کے ہمراہ بیٹھ گئے ، یہی آیہ مبارکہ تلاوت فرمائی اور فرمایا اللہ جل جلالہ کا شکر ہے جن لوگوں کے ساتھ رہنے کا حکم دیا وہ لوگ بھی مہیا فرما دیئے ، نیز اگلے جملے میں تقابل بھی انہی لوگوں سے ہے کہ ان کو پرکاہ اہمیت نہ دیں جن کے قلوب ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیئے ، حدیث شریف میں جہاں ذکر لسانی پر ذکر قلبی کی بہت زیادہ فضلیت ارشاد فرمائی ہے ، وہاں قرآن حکیم کے مطابق صحبت نبوی ﷺ کے اثر اور برکات سے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین کے نہ صرف قلوب ذاکر تھے بلکہ وجود کا ذرہ ذرہ ذاکر تھا جیسے ارشاد ہے (آیت) ” ثم تلین جلودھم وقلوبھم الی ذکر اللہ “۔ کہ ان کی کھال سے لے کر قلوب تک ہر ذرہ بدن ذاکر تھا ، دراصل ذکر مختلف مدارج ہیں ۔ (ذکر کے مدارج) ایمان قبول کرنا بھی ذکر ہے ، جبکہ خلوص دل سے ہو یہ کم از کم کیفیت اور پہلا درجہ ہے ۔ دوسرا یہ ہے کہ عمل سنت کے مطابق نصیب ہو تو ہر عمل بجائے خود ذکر ہے ۔ تیسرا درجہ یہ ہے کہ زبانی تسبیحات پڑھی جائیں یہ ذکر لسانی کہلاتا ہے اور چوتھا اور کامل درجہ یہ ہے کہ قلب ذاکر ہوجائے اور ذکر پر دوام نصیب ہوجائے یہ صحبت شیخ سے انعکاسی طور پر نصیب ہوتا ہے ، اس کے سوا اس کا کوئی اور طریقہ نہیں اور ہر درجے کے ذکر پر اسی کی نسبت سے معیت نبوت اور آپ ﷺ کی شفقت وکرم نصیب ہوتا ہے ۔ اس ادائے احسان وکرم میں کبھی یہ نہ سوچیں کہ دنیا کے اعتبار سے یا مال وزر اور اقتدار واختیار میں کون بڑا ہے اور ظاہرا اس سے دین کو زیادہ قوت ملنے کی توقع کی جاسکتی ہے لہذا اسے آپ وقت عطا کریں ، اپنی مجلس مبارک میں بٹھائیں ہرگز نہیں بلکہ آپ ﷺ کی نگاہ کرم اللہ جل جلالہ کے ان بندوں کے لیے ہے جو اپنے قلوب آپ ﷺ کی برکات سے روشن کرکے ہر آن اللہ جل جلالہ کا ذکر کرتے ہیں ، لہذا جن لوگوں کا قلب ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا ہو جس کا سبب ان کی نافرمانی اور انکار کفر ہی بنتا ہے ۔ (قلب غافل ہوجائے تو انسان خواہشات کے تابع ہوجاتا ہے) اور جب قلب پہ غفلت کی موت آئے تو انسان انسانیت کے شرف سے محروم ہو کر حیوانوں کی طرح محض خواہشات کے تابع ہوجاتا ہے تو ایسے لوگوں کو آپ پرکاہ اہمیت نہ دیجئے ان کی بات سنیئے نہ ان کی طرف توجہ فرمائیے ۔ بلکہ یہ واضح طور پر ارشاد فرما دیجئے کہ یہ دین اور برکات رسالت حق ہیں جو تمہارے پروردگار کا تم پر احسان ہے اب جو چاہے انہیں قبول کرے اور اللہ کی بارگاہ میں سرخرو ہو اور جو رد کرنا چاہے وہ بھی اپنی پسند کی راہ اپنا کر دیکھ لے ، مگر یہ یاد رکھ لو کہ اللہ جل جلالہ نے ایسے ظالموں کے لیے جہنم کی آگ بھڑکا رکھی ہے ، جہاں دیواریں یا قناتیں جو انہیں محیط ہوں گی وہ بھی آگ ہی کی بنی ہوں گی بلکہ اگر پینے کو کچھ مانگیں گے تو پیپ جیسا مایہ ملے گا جو آگ سے زیادہ گرم ہوگا کہ منہ کی طرف لے کے جائیں گے تو چہرے جھلس دے گا ، بہت ہی سخت اور تکلیف دہ شے ہوگی پینے کی بھی اور سارا ٹھکانہ اپنی تمام حالتوں میں بہت دردناک اور برا ہے ، اس کے مقابل جن لوگوں نے ایمان قبول کیا اور اسے حسن عمل یعنی اطاعت سے سجایا تو ہم نیکی کرنے والوں کے اعمال رائیگاں نہ جانے دیں گے بلکہ عمل کے حساب سے بہت بہترین اجر عطا فرمائے گا ۔ ان کے رہنے کو بہترین اور سدا بہار باغ ہوں گے ، پانی کی نہریں ان باغوں کے تابع ہوں گے کہ ہمیشہ اپنی بہار قائم رکھیں ، اور اللہ جل جلالہ کے بندوں کو وہاں انعامات سے نوازا جائے گا ، سونے کے کنگن اور بہترین نفیس سبز کپڑے پہن کر اعلے درجے کے ریشمی تکیے لگا کر قیمتی تختوں پہ جلوہ افروز ہوں گے ، بہترین بدلہ اور اجر اور بہت ہی اعلی ٹھکانہ ہوگا ، یاد رہے یہ لباس اور زیور نیز زیب وزینت کی بات آخرت کے اعتبار سے ہو رہی ہے ، اسے دنیا پہ قیاس نہ کیا جائے کہ سونا اور ریشم مردوں کے لیے جائز ہے یا نہیں ۔