18. Surah Al-Kahf

الكهفThe Cave · 110 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayah 18:1

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ عَلٰى عَبْدِهِ الْكِتٰبَ وَ لَمْ یَجْعَلْ لَّهٗ عِوَجًاؕٚ Open ayah 18:1 in the Quran reader

سب تعریف اللہ کو جس نے اتاری اپنے بندہ پر کتاب اور نہ رکھی اس میں کچھ کجی1

1 یعنی اعلیٰ سے اعلیٰ تعریف اور شکر کا مستحق وہ ہی خدا ہوسکتا ہے جس نے اپنے مخصوص و مقرب ترین بندے محمد رسول اللہ ﷺ پر سب سے اعلیٰ و اکمل کتاب اتاری اور اس طرح زمین والوں کو سب سے بڑی نعمت سے مشرف و ممتاز فرمایا۔ بیشک اس کتاب میں کوئی ٹیڑھی ترچھی بات نہیں۔ عبارت انتہائی سلیس و فصیح، اسلوب بیان نہایت موثر و شگفتہ، تعلیم نہایت متوسط و معتدل جو ہر زمانہ اور ہر طبیعت کے مناسب اور عقل سلیم کے بالکل مطابق ہے۔ کسی قسم کی افراط وتفریط کا اس میں شائبہ نہیں۔
Ayah 18:2

قَیِّمًا لِّیُنْذِرَ بَاْسًا شَدِیْدًا مِّنْ لَّدُنْهُ وَ یُبَشِّرَ الْمُؤْمِنِیْنَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ اَجْرًا حَسَنًاۙ Open ayah 18:2 in the Quran reader

ٹھیک اتاری تاکہ ڈر سناوے ایک سخت آفت کا اللہ کی طرف سے2 اور خوشخبری دے ایمان لانے والوں کو جو کرتے ہیں نیکیاں کہ ان کے لیے اچھا بدلہ ہے

2 یعنی تکذیب کرنے والوں پر جو سخت آفت دنیا یا آخرت میں خداوند قہار کی طرف سے آنے والی ہے اس سے یہ کتاب آگاہ کرتی ہے۔ (تنبیہ) قَیِّمًا کو بعض نے بمعنی مستقیم لے کر محض مضمون سابق کی تاکید قرار دی ہے یعنی کتنا ہی غور کرو ایک بال برابر کجی نہیں پاؤ گے مگر فراء نے اس لفظ کے معنی کیے ہیں " قیماً علٰی سائر الکتب السماویہ " یعنی تمام کتب سماویہ کی صحت و تصدیق پر مہر کرنے والی اور ان کی اصولی تعلیمات کو دنیا میں قائم رکھنے والی۔ ابو مسلم نے کہا " قیمًا بمصالح العباد " بندوں کی تمام مصالح کی متکفل اور ان کی معاش و معاد کو درست کرنے والی۔ بہرحال جو معنی بھی لیے جائیں اس کی صداقت میں شبہ نہیں۔
Ayah 18:3

مَّاكِثِیْنَ فِیْهِ اَبَدًاۙ Open ayah 18:3 in the Quran reader

جس میں رہا کریں ہمیشہ3

3 بظاہر اس سے مراد آخرت کا بدلہ یعنی جنت ہے جہاں مومنین قانتین کو دائمی خوشی اور ابدی راحت ملے گی۔
Ayah 18:4

وَّ یُنْذِرَ الَّذِیْنَ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًاۗ Open ayah 18:4 in the Quran reader

اور ڈر سناوے ان کو جو کہتے ہیں اللہ رکھتا ہے اولاد4

4 خدا کے لیے اولاد تجویز کرنے میں سب سے زیادہ مشہور اور پیش پیش تو نصاریٰ ہیں اور جیسا کہ احادیث سے ظاہر ہوتا ہے۔ ان ہی سے حاملین قرآن کو قیامت تک زیادہ سابقہ پڑنا ہے۔ تاہم عموم الفاظ میں بعض فرق یہود جو عزیر (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا، یا بعض مشرکین جو ملائکۃ اللّٰہ کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے وہ بھی داخل ہوگئے۔ گویا اس جگہ اولاد تجویز کرنے والے کافروں کو بالخصوص اور نصاریٰ کو اخص خصوص کے طور پر متنبہ کیا گیا ہے۔
Ayah 18:5

مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ وَّ لَا لِاٰبَآئِهِمْ١ؕ كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ اَفْوَاهِهِمْ١ؕ اِنْ یَّقُوْلُوْنَ اِلَّا كَذِبًا Open ayah 18:5 in the Quran reader

کچھ خبر نہیں ان کو اس بات کی اور نہ ان کے باپ دادوں کو کیا بڑی بات نکلتی ہے ان کے منہ سے سب جھوٹ ہے جو کہتے ہیں5

5 یعنی کوئی تحقیق اور علمی اصول ان کے ہاتھ میں نہیں نہ ان کے باپ دادوں کے ہاتھ میں تھا۔ جن کی اندھی تقلید میں ایسی بھاری بات زبان سے نکال رہے ہیں۔ گویا خداوند تعالیٰ کی شان قدوسیت و سبوحیت کی ان لوگوں کو کچھ خبر نہیں جو اس کی جناب میں ایسی گستاخیاں کرتے ہوئے ذرا نہیں شرماتے۔ دلائل وبراہین کی جگہ ان کے ذخیرہ میں یہ ہی باقی رہ گیا ہے کہ زبان سے ایک جھوٹی اور بدیہ البطلان بات کہتے چلے جائیں اور جب ثبوت مانگو تو کہہ دیں کہ یہ مذہب کا ایک راز ہے جس کے ادراک تک عقل انسانی کی رسائی نہیں۔
Ayah 18:6

فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ اِنْ لَّمْ یُؤْمِنُوْا بِهٰذَا الْحَدِیْثِ اَسَفًا Open ayah 18:6 in the Quran reader

سو کہیں تو گھونٹ ڈالے گا اپنی جان کو ان کے پیچھے اگر وہ نہ مانیں گے اس بات کو پچھتا پچھتا کر6

6 یعنی اگر یہ کافر قرآن کی باتوں کو نہ مانیں تو آپ ان کے غم میں اپنے کو بالکل گھلائیے نہیں۔ آپ تبلیغ و دعوت کا فرض ادا کرچکے اور کر رہے ہیں، کوئی نہ مانے تو آپ کو اس قدر دل میں گھٹنے اور غمگین ہونے کی ضرورت نہیں۔ نہ پچھتانا مناسب ہے، کہ ہم نے ایسی کوشش کیوں کی جو کامیاب نہ ہوسکی۔ آپ تو بہرحال کامیاب ہیں۔ دعوت و تبلیغ اور شفقت و ہمدردی خلائق کے جو کام کرتے ہیں وہ آپ کے رفع مراتب اور ترقی مدارج کا ذریعہ ہیں۔ اشقیاء اگر قبول نہ کریں تو ان ہی کا نقصان ہے۔
Ayah 18:7

اِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَى الْاَرْضِ زِیْنَةً لَّهَا لِنَبْلُوَهُمْ اَیُّهُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا Open ayah 18:7 in the Quran reader

ہم نے بنایا ہے جو کچھ زمین پر ہے اس کی رونق تاکہ جانچیں لوگوں کو کون ان میں اچھا کرتا ہے کام7

7 یعنی اس کی رونق پر دوڑتا ہے یا اسے چھوڑ کر آخرت کو پکڑتا ہے۔ بعض روایات میں ہے کہ ابن عمر نے سوال کیا یا رسول اللہ " اَحْسَنُ عَمَلاً " کون لوگ ہیں ؟ فرمایا " اَحْسَنُکُمْ عَقْلاً وَّاَوْرَعُکُمْ عَنْ مَحَارِمِ اللّٰہِ وَاَسْرَعُکُمْ فِیْ طَاعَتِہٖ سُبْحَانَہ، " (جس کی سمجھ اچھی ہو، حرام سے زیادہ پرہیز کرے اور خدا تعالیٰ کی فرمانبرداری کی طرف زیادہ جھپٹے)
Ayah 18:8

وَ اِنَّا لَجٰعِلُوْنَ مَا عَلَیْهَا صَعِیْدًا جُرُزًاؕ Open ayah 18:8 in the Quran reader

اور ہم کو کرنا ہے جو کچھ اس پر ہے میدان چھانٹ کر8

8 یعنی ایک روز سب گھاس پھونس درخت وغیرہ چھانٹ کر زمین کو چٹیل میدان بنادیا جائے گا۔ جو لوگ اس کے بناؤ سنگار پر ریجھ رہے ہیں وہ خوب سمجھ لیں کہ یہ زرق برق کوئی باقی رہنے والی چیز نہیں۔ دنیا کے زمینی سامان خواہ کتنے ہی جمع کرلو اور مادی ترقیات سے ساری زمین کو لالہ و گلزار بنادو، جب تک آسمانی اور روحانی دولت سے تہی دست رہو گے، حقیقی سرور و طمانیت اور ابدی نجات و فلاح سے ہم آغوش نہیں ہوسکتے۔ آخری اور دائمی کامیابی انہی کے لیے ہے جو مولائے حقیقی کی خوشنودی پر دنیا کی ہر ایک زائل وفانی خوشی کو قربان کرسکتے ہیں اور راہ حق کی جادہ پیمائی میں کسی صعوبت سے نہیں گھبراتے نہ دنیا کے بڑے بڑے طاقتور جباروں کی تخویف و ترہیب سے ان کا قدم ڈگمگاتا ہے۔ اسی سلسلہ میں آگے اصحاب کہف کا قصہ بیان فرمایا۔ اور نبی کریم ﷺ کی تسلی بھی کردی کہ آپ ان بدبختوں کے غم میں اپنے کو نہ گھلائیے۔ جس دنیا کی زندگی اور عیش و بہار پر مغرور ہو کر یہ حق کو ٹھکراتے ہیں وہ سب کاٹ چھانٹ کر برابر کردی جائے گی اور آخرکار سب کو خدا ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہوگا۔ اس وقت سارے جھگڑے چکا دیئے جائیں گے۔
Ayah 18:9

اَمْ حَسِبْتَ اَنَّ اَصْحٰبَ الْكَهْفِ وَ الرَّقِیْمِ١ۙ كَانُوْا مِنْ اٰیٰتِنَا عَجَبًا Open ayah 18:9 in the Quran reader

کیا تو خیال کرتا ہے کہ غار اور کھوہ کے رہنے والے ہماری قدرتوں میں عجب اچنبھا تھے9

9 یعنی حق تعالیٰ کی قدرت عظیمہ کے لحاظ سے اصحاب کہف کا قصہ جو آگے مذکور ہے کوئی اچنبھا نہیں جسے حد سے زیادہ عجیب سمجھا جائے۔ زمین، آسمان، چاند، سورج وغیرہ کا پیدا کرنا، ان کا محکم نظام قائم رکھنا، انسان ضعیف البنیان کو سب پر فضیلت دینا، انسانوں میں انبیاء کا بھیجنا، ان کی قلیل و بےسروسامان جماعتوں کو بڑے بڑے متکبرین کے مقابلہ میں کامیاب بنانا، خاتم الانبیاء اور رفیق غار حضرت ابوبکر صدیق کو دشمنوں کے نرغہ سے نکال کر " غار ثور " میں تین روز ٹھہرانا، کفار کا غار کے منہ تک تعاقب کرنا پھر انکو بےنیل و مرام واپس لوٹانا آخر گھر بار چھوڑنے والے مٹھی بھر بےسروسامانوں کو تمام جزیرۃ العرب بلکہ مشرق و مغرب میں اس قدر قلیل مدت کے اندر غالب و منصور کرنا، کیا یہ اور اس قسم کی بیشمار چیزیں " اصحاب کہف کے قصہ سے کم عجیب ہیں ؟ اصل یہ ہے کہ یہود نے قریش کو مشورہ دیا تھا کہ محمد ﷺ سے آزمائش کے لیے تین سوال کریں۔ روح کیا ہے ؟ اصحاب کہف کا قصہ کیا تھا ؟ اور ذوالقرنین کی سرگزشت کیا تھی ؟ اصحاب کہف کے قصہ کو عجیب ہونے کی حیثیت سے انہوں نے خاص اہمیت دی تھی۔ اسی لیے اس آیت میں بتلایا گیا کہ وہ اتنا عجیب نہیں جیسے تم سمجھتے ہو، اس سے کہیں بڑھ کر عجیب و غریب نشانات قدرت موجود ہیں۔ آگے " اصحاب کہف " کا قصہ اول مجملاً پھر مفصلاً بیان فرمایا ہے۔ کہتے ہیں کہ یہ چند نوجوان روم کے کسی ظالم وجابر بادشاہ کے عہد میں تھے، جس کا نام بعض نے " دقیانوس " بتلایا ہے۔ بادشاہ سخت غالی بت پرست تھا اور جبر واکراہ سے بت پرستی کی اشاعت کرتا تھا۔ عام لوگ سختی اور تکلیف کے خوف اور چند روزہ دنیاوی منافع کی طمع سے اپنے مذاہب کو چھوڑ کر بت پرستی اختیار کرنے لگے اور اس وقت چند نوجوانوں کے دلوں میں جن کا تعلق عمائدین سلطنت سے تھا، خیال آیا کہ ایک مخلوق کی خاطر خالق کو ناراض کرنا ٹھیک نہیں۔ ان کے دل خشیت الٰہی اور نور تقویٰ سے بھرپور تھے۔ حق تعالیٰ نے انھیں صبرو استقلال اور توکل و تبتل کی دولت سے انھیں مالامال کیا تھا۔ بادشاہ کے روبرو جا کر بھی انہوں نے ( لَنْ نَّدْعُوَا۟ مِنْ دُوْنِهٖٓ اِلٰـهًا لَّقَدْ قُلْنَآ اِذًا شَطَطًا) 18 ۔ الکہف :14) کا نعرہ مستانہ لگایا اور ایمانی جرأت و استقلال کا مظاہرہ کر کے دیکھنے والوں کو مبہوت و حیرت زدہ کردیا۔ بادشاہ کو کچھ ان کی نوجوانی پر رحم آیا اور کچھ دوسرے مشاغل و مصالح مانع ہوئے کہ انھیں فوراً قتل کر دے۔ چند روز کی مہلت دی کہ وہ اپنے معاملہ میں غور و نظر ثانی کرلیں۔ انہوں نے مشورہ کر کے طے کیا کہ ایسے فتنہ کے وقت جب کہ جبرو تشدد سے عاجز ہو کر قدم ڈگمگا جانے کا بہرحال خطرہ ہے مناسب ہوگا کہ شہر کے قریب کسی پہاڑ میں رو پوش ہوجائیں (اور واپسی کے لیے مناسب موقع کا انتظار کریں) دعا کی کہ خداوندا تو اپنی خصوصی رحمت سے ہمارا کام بنا دے اور رشد و ہدایت کی جادہ پیمائی میں ہمارا سب انتظام درست کر دے۔ آخر شہر سے نکل کر کسی قریبی پہاڑ میں پناہ لی اور اپنے میں سے ایک کو مامور کیا کہ بھیس بدل کر کسی وقت شہر میں جایا کرے تاکہ ضروریات خرید کر لاسکے اور شہر کے احوال و اخبار سے سب کو مطلع کرتا رہے۔ جو شخص اس کام پر مامور تھا اس نے ایک روز اطلاع دی کہ آج شہر میں سرکاری طور پر ہماری تلاش ہے اور ہمارے اقارب و اعزہ کو مجبور کیا جا رہا ہے کہ ہمارا پتہ بتلائیں۔ یہ مذاکرہ ہو رہا تھا کہ حق تعالیٰ نے ان سب پر دفعۃً نیند طاری کردی۔ کہا جاتا ہے کہ سرکاری آدمیوں نے بہت تلاش کیا پتہ نہ لگا۔ تھک کر بیٹھ رہے اور بادشاہ کی رائے سے ایک سیسہ کی تختی پر ان نوجوانوں کے نام اور مناسب حالات لکھ کر خزانہ میں ڈال دیئے گئے تاکہ آنے والی نسلیں یاد رکھیں کہ ایک جماعت حیرت انگیز طریقہ سے لا پتہ ہوگئی ہے۔ ممکن ہے آگے چل کر اس کا کچھ سراغ نکلے۔ اور بعض عجیب واقعات کا انکشاف ہو۔ یہ نوجوان کس مذہب پر تھے ؟ اس میں اختلاف ہوا ہے بعض نے کہا کہ نصرانی یعنی اصل دین مسیحی کے پیرو تھے۔ لیکن ابن کثیر نے قرائن سے اس کو ترجیح دی ہے کہ اصحاب کہف کا قصہ حضرت مسیح (علیہ السلام) سے پہلے کا ہے واللہ اعلم (تنبیہ) " رقیم " پہاڑی کی کھوہ کو کہتے ہیں اور بمعنی " مرقوم " بھی آتا ہے یعنی لکھی ہوئی چیز۔ مسند عبد بن حُمَید کی ایک روایت میں جسے حافظ نے علیٰ شرط البخاری کہا ہے، ابن عباس سے " رقیم " کے دوسرے معنی منقول ہیں۔ یعنی " اصحاب کہف " اور " اصحاب رقیم " ایک ہی جماعت کے دو لقب ہیں۔ غار میں رہنے کی وجہ سے " اصحاب کہف " کہلاتے ہیں اور چونکہ ان کے نام و صفت وغیرہ کی تختی لکھ کر رکھ دی گئی تھی، اس لیے " اصحاب رقیم " کہلائے۔ مگر مترجم محقق (رح) نے پہلے معنی لیے ہیں اور بہر صورت " اصحاب کہف " و " اصحاب رقیم " کو ایک ہی قرار دیا ہے۔ بعض علماء کی رائے یہ ہے کہ " اصحاب رقیم " کا قصہ قرآن میں مذکور نہیں ہوا، محض عجیب ہونے کے لحاظ سے اصحاب کہف کے تذکرہ میں اس کا حوالہ دے دیا گیا۔ اور فی الحقیقت اصحاب رقیم (کھوہ والے) وہ تین شخص ہیں جو بارش سے بھاگ کر ایک غار میں پناہ گزیں ہوئے تھے، اوپر سے ایک بڑا پتھر آپڑا، جس نے غار کا منہ بند کردیا اس وقت ان میں سے ہر شخص نے اپنی عمر کے مقبول ترین عمل کا حوالہ دے کر حق تعالیٰ سے فریاد کی اور بتدریج غار کا منہ کھل گیا۔ امام بخاری نے اصحاب کہف کا ترجمہ منعقد کرنے کے بعد حدیث الغار کا مستقل عنوان قائم کیا ہے اور اس میں ان تین شخصوں کا قصہ مفصل درج کر کے شاید اسی طرف اشارہ کردیا ہے کہ " اصحاب رقیم " یہ لوگ ہیں۔ طبرانی اور بزار نے باسناد حسن نعمان بن بشیر سے مرفوعاً روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ " رقیم " کا ذکر فرماتے تھے اور یہ قصہ تین شخصوں کا بیان کیا۔ واللہ اعلم۔
Ayahs 18:10–11

اِذْ اَوَى الْفِتْیَةُ اِلَى الْكَهْفِ فَقَالُوْا رَبَّنَاۤ اٰتِنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً وَّ هَیِّئْ لَنَا مِنْ اَمْرِنَا رَشَدًا Open ayah 18:10 in the Quran reader

جب جا بیٹھے وہ جوان پہاڑ کی کھوہ میں پھر بولے اے رب دے ہم کو اپنے پاس سے بخشش اور پوری کر دے ہمارے کام کی درستی

فَضَرَبْنَا عَلٰۤى اٰذَانِهِمْ فِی الْكَهْفِ سِنِیْنَ عَدَدًاۙ Open ayah 18:11 in the Quran reader

پھر تھپک دیے ہم نے ان کے کان اس کھوہ میں چند برس گنتی کے1

1 یعنی ایسی تھپکی دی کہ برسوں غار میں پڑے سوتے رہے۔ ادھر ادھر کی کوئی خبر ان کے کانوں میں نہیں پڑتی تھی۔
Ayah 18:12

ثُمَّ بَعَثْنٰهُمْ لِنَعْلَمَ اَیُّ الْحِزْبَیْنِ اَحْصٰى لِمَا لَبِثُوْۤا اَمَدًا۠ Open ayah 18:12 in the Quran reader

پھر ہم نے ان کو اٹھایا کہ معلوم کریں دو فرقوں میں کس نے یاد رکھی ہے جتنی مدت وہ رہے2

2 سالہاسال کے بعد حق تعالیٰ نے ان کو جگا دیا۔ تاکہ ظاہر ہوجائے کہ اختلاف کرنے والوں میں سے کسی نے ان کی مدت نوم کا زیادہ صحیح اندازہ رکھا۔ ظاہر ہے کہ ایسی نوم طویل کے بعد جب بیدار ہوئے تو قدرتی طور پر خود سونے والوں میں اور دوسرے دیکھنے والوں میں بھی اختلافات اور چہ میگوئیاں ہوں گی کوئی کم مدت بتلائے گا کوئی زیادہ۔ کوئی اقرار کرے گا۔ کوئی مستبعد سمجھ کر انکار کر دے گا تو انھیں جگا کر یہ دیکھنا تھا کہ کون سی جماعت ٹھیک حقیقت پر پہنچتی ہے اور اس حقیقت پر پہنچ کر " بعث بعد الموت " کا عقدہ حل کرتی ہے جس میں اس وقت لوگ جھگڑ رہے تھے۔
Ayah 18:13

نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْكَ نَبَاَهُمْ بِالْحَقِّ١ؕ اِنَّهُمْ فِتْیَةٌ اٰمَنُوْا بِرَبِّهِمْ وَ زِدْنٰهُمْ هُدًىۗۖ Open ayah 18:13 in the Quran reader

ہم سنا دیں تجھ کو ان کا حال تحقیقی وہ کئی جوان ہیں کہ یقین لائے اپنے رب پر اور زیادہ دی ہم نے ان کو سوجھ3

3 یعنی ایمان سے زیادہ درجہ دیا اولیاء کا۔
Ayah 18:14

وَّ رَبَطْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اِذْ قَامُوْا فَقَالُوْا رَبُّنَا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَنْ نَّدْعُوَاۡ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلٰهًا لَّقَدْ قُلْنَاۤ اِذًا شَطَطًا Open ayah 18:14 in the Quran reader

اور گرہ دی ان کے دل پر4 جب کھڑے ہوئے پھر بولے ہمارا رب ہے رب آسمان اور زمین کا نہ پکاریں گے ہم اس کے سوا کسی کو معبود نہیں تو کہی ہم نے بات عقل سے دور5

4 یعنی مضبوط و ثابت قدم رکھا کہ اپنی بات صاف کہہ دی۔ 5 یعنی جب " رب " وہ ہی ہے تو معبود کسی اور کو ٹھہرانا حماقت ہے۔ " ربوبیت " و " الوہیت " دونوں اسی کے لیے مخصوص ہیں۔
Ayah 18:15

هٰۤؤُلَآءِ قَوْمُنَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً١ؕ لَوْ لَا یَاْتُوْنَ عَلَیْهِمْ بِسُلْطٰنٍۭ بَیِّنٍ١ؕ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًاؕ Open ayah 18:15 in the Quran reader

یہ ہماری قوم ہے ٹھہرا لیے انہوں نے اللہ کے اور معبود کیوں نہیں لاتے ان پر کوئی سند کھلی پھر اس سے بڑا گناہ گار کون جس نے باندھا اللہ پر جھوٹ6

6 جیسے موحدین توحید پر صاف صاف دلیلیں پیش کرتے ہیں، اگر مشرکین اپنے دعوے میں سچے ہیں تو کوئی واضح دلیل کیوں نہیں لاتے۔ لائیں کہاں سے ؟ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے۔ اس سے بڑا جھوٹ کیا ہوگا کہ خدا کے شریک ٹھہرائے جائیں۔
Ayah 18:16

وَ اِذِ اعْتَزَلْتُمُوْهُمْ وَ مَا یَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰهَ فَاْوٗۤا اِلَى الْكَهْفِ یَنْشُرْ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَ یُهَیِّئْ لَكُمْ مِّنْ اَمْرِكُمْ مِّرْفَقًا Open ayah 18:16 in the Quran reader

اور جب تم نے کنارہ کرلیا ان سے اور جن کو وہ پوجتے ہیں اللہ کے سوائے تو اب جا بیٹھو اس کھوہ میں پھیلا دے تم پر رب تمہارا کچھ اپنی رحمت سے اور بنا دیوے تمہارے واسطے تمہارے کام میں آرام7

7 یعنی جب مشرکین کے دین سے ہم علیحدہ ہیں تو ظاہری طور پر بھی ان سے علیحدہ رہنا چاہیے۔ اور جب ان کے باطل معبودوں سے کنارہ کیا تو ہر طرف سے ٹوٹ کر تنہا اپنے معبود کی طرف جھکنا اور اسی سے رحمت و تلطف کا امیدوار رہنا چاہیے۔ آپس میں یہ مشورہ کر کے پہاڑی کی کھوہ میں جا بیٹھے۔
Ayah 18:17

وَ تَرَى الشَّمْسَ اِذَا طَلَعَتْ تَّزٰوَرُ عَنْ كَهْفِهِمْ ذَاتَ الْیَمِیْنِ وَ اِذَا غَرَبَتْ تَّقْرِضُهُمْ ذَاتَ الشِّمَالِ وَ هُمْ فِیْ فَجْوَةٍ مِّنْهُ١ؕ ذٰلِكَ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ١ؕ مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ وَلِیًّا مُّرْشِدًا۠ Open ayah 18:17 in the Quran reader

اور تو دیکھے دھوپ جب نکلتی ہے بچ کر جاتی ہے ان کی کھوہ سے داہنے کو اور جب ڈوبتی ہے کترا جاتی ہے ان سے بائیں کو اور وہ میدان میں ہیں اس کے یہ ہے اللہ کی قدرتوں سے8 جس کو راہ دیوے اللہ وہی آئے راہ پر اور جس کو وہ بچلائے پھر تو نہ پائے اس کا کوئی رفیق راہ پر لانے والاف 1

8 یعنی خدا تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے انھیں ایسے ٹھکانے کی طرف راہنمائی کی جہاں مامون و مطمئن ہو کر آرام کرتے رہیں نہ جگہ کی تنگی سے جی گھٹے، نہ کسی وقت دھوپ ستائے۔ غار اندر سے کشادہ اور ہوا دار تھا اور جیسا کہ ابن کثیر نے لکھا شمال رویہ ہونے کی وجہ سے ایسی وضع و ہئیت پر واقع تھا جس میں دھوپ بقدر ضرورت پہنچتی اور بدون ایذاء دئیے نکل جاتی تھی۔ 1 یعنی ظاہری و باطنی راہنمائی سب اسی کے قبضہ میں ہے۔ دیکھ لو جب دنیا بچل رہی تھی کس طرح اصحاب کہف کو راہ ہدایت پر ثابت قدم رکھا اور ظاہری طور پر بھی کیسے عجیب غار کی راہ بتلائی۔
Ayah 18:18

وَ تَحْسَبُهُمْ اَیْقَاظًا وَّ هُمْ رُقُوْدٌ١ۖۗ وَّ نُقَلِّبُهُمْ ذَاتَ الْیَمِیْنِ وَ ذَاتَ الشِّمَالِ١ۖۗ وَ كَلْبُهُمْ بَاسِطٌ ذِرَاعَیْهِ بِالْوَصِیْدِ١ؕ لَوِ اطَّلَعْتَ عَلَیْهِمْ لَوَلَّیْتَ مِنْهُمْ فِرَارًا وَّ لَمُلِئْتَ مِنْهُمْ رُعْبًا Open ayah 18:18 in the Quran reader

اور تو سمجھے وہ جاگتے ہیں اور وہ سو رہے ہیں اور کروٹیں دلاتے ہیں ہم ان کو داہنے اور بائیں اور کتا ان کا پسار رہا ہے اپنی با ہیں چوکھٹ پر اگر تو جھانک کر دیکھے ان کو تو پیٹھ دے کر بھاگے ان سے اور بھر جائے تجھ میں ان کی دہشت2

2 کہتے ہیں سوتے میں ان کی آنکھیں کھلی رہتی تھیں اور اس قدر طویل نیند کا اثر ان کے ابدان پر ظاہر نہیں ہوا۔ اس سے کوئی دیکھے تو سمجھے جاگتے ہیں اور حق تعالیٰ نے ان لوگوں میں شان ہیبت و جلال اور اس مکان میں دہشت رکھی تاکہ لوگ تماشہ نہ بنائیں کہ وہ بےآرام ہوں۔ ان کے ساتھ ایک کتا بھی لگ گیا تھا۔ اس پر بھی صحبت کا کچھ اثر پہنچا اور صدیوں تک زندہ رہ گیا۔ اگرچہ کتا رکھنا برا ہے لیکن لاکھ بروں میں ایک بھلا بھی ہے۔ وللہ دَرُّ السعدی الشیرازی پسر نوح بابداں بنشست خاندان نبوتش گم شد سگ اصحاب کہف روزے چند پئے نیکاں گرفت مردم شد
Ayahs 18:19–20

وَ كَذٰلِكَ بَعَثْنٰهُمْ لِیَتَسَآءَلُوْا بَیْنَهُمْ١ؕ قَالَ قَآئِلٌ مِّنْهُمْ كَمْ لَبِثْتُمْ١ؕ قَالُوْا لَبِثْنَا یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ١ؕ قَالُوْا رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثْتُمْ١ؕ فَابْعَثُوْۤا اَحَدَكُمْ بِوَرِقِكُمْ هٰذِهٖۤ اِلَى الْمَدِیْنَةِ فَلْیَنْظُرْ اَیُّهَاۤ اَزْكٰى طَعَامًا فَلْیَاْتِكُمْ بِرِزْقٍ مِّنْهُ وَ لْیَتَؔلَطَّفْ وَ لَا یُشْعِرَنَّ بِكُمْ اَحَدًا Open ayah 18:19 in the Quran reader

اور اسی طرح ان کو جگا دیا ہم نے کہ آپس میں پوچھنے لگے ایک بولا ان میں کتنی دیر ٹھہرے تم بولے ہم ٹھہرے ایک دن یا ایک دن سے کم بولے تمہارا رب ہی خوب جانے جتنی دیر تم رہے ہو اب بھیجو اپنے میں سے ایک کو یہ روپیہ دے کر اپنا اس شہر میں پھر دیکھے کونسا کھانا ستھرا ہے سو لائے تمہارے پاس اس میں سے کھانا اور نرمی سے جائے اور جتا نہ دے تمہاری خبر کسی کو

اِنَّهُمْ اِنْ یَّظْهَرُوْا عَلَیْكُمْ یَرْجُمُوْكُمْ اَوْ یُعِیْدُوْكُمْ فِیْ مِلَّتِهِمْ وَ لَنْ تُفْلِحُوْۤا اِذًا اَبَدًا Open ayah 18:20 in the Quran reader

وہ لوگ اگر خبر پالیں تمہاری پتھروں سے مار ڈالیں تم کو یا لوٹا لیں تم کو اپنے دین میں اور تب تو بھلا نہ ہوگا تمہارا کبھی3

3 جس طرح اپنی قدرت سے اتنی لمبی نیند سلایا تھا، اسی طرح بروقت جگا دیا۔ اٹھے تو آپس میں مذاکرہ کرنے لگے کہ ہم کتنی دیر سوئے ہوں گے ؟ بعض نے کہا " ایک آدھ دن۔ " یعنی بہت کم۔ دوسرے بولے کہ (اس بےفائدہ بحث میں پڑنے سے کیا فائدہ ؟ ) یہ تو خدا ہی کے علم میں ہے کہ ہم کتنی مدت سوئے۔ اب تم اپنا کام کرو۔ ایک آدمی کو یہ روپیہ دے کر شہر بھیجو کہ وہ کسی دکان سے حلال اور ستھرا کھانا دیکھ کر خرید لائے۔ یہ ضروری ہے کہ اسے نہایت ہوشیاری سے جانا آنا اور نرمی و تدبیر سے معاملہ کرنا چاہیے کہ کسی شہر والے کو ہمارا پتہ نہ لگے، ورنہ بڑی سخت خرابی ہوگی۔ اگر ظالم بادشاہ کو پتہ چل گیا تو ہم کو یا سنگسار کیا جائے گا یا بجبر واکراہ دین حق سے ہٹایا جائے گا۔ العیاذ باللہ ایسا ہوا تو جو اعلیٰ کامیابی و فلاح ہم چاہتے ہیں، وہ کبھی حاصل نہ ہو سکے گی۔ کیونکہ دین حق سے پھرجانا گو بجبرو اکراہ ہو اولو العزم مومنین کا کام نہیں ہوسکتا (تنبیہ) میرے نزدیک " یَوْماً اَوْبَعْضَ یَوْمٍ " محض تقلیل مدت سے کنایہ ہے۔ نیند سے اٹھ کر اتنی طویل مدت بھی ان کو قلیل محسوس ہوئی۔ سچ ہے " مردہ اور سوتا برابر ہے " " یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ " کا حرف " اَوْ " کے ساتھ استعمال ایسا سمجھو جیسے سورة مؤمنون میں ہے (كَمْ لَبِثْتُمْ فِي الْاَرْضِ عَدَدَ سِنِيْنَ 112؁ قَالُوْا لَبِثْنَا يَوْمًا اَوْ بَعْضَ يَوْمٍ فَسْـَٔـــلِ الْعَاۗدِّيْنَ 113؁) 23 ۔ المؤمنون :113-112)
Ayah 18:21

وَ كَذٰلِكَ اَعْثَرْنَا عَلَیْهِمْ لِیَعْلَمُوْۤا اَنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ اَنَّ السَّاعَةَ لَا رَیْبَ فِیْهَا١ۗۚ اِذْ یَتَنَازَعُوْنَ بَیْنَهُمْ اَمْرَهُمْ فَقَالُوا ابْنُوْا عَلَیْهِمْ بُنْیَانًا١ؕ رَبُّهُمْ اَعْلَمُ بِهِمْ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ غَلَبُوْا عَلٰۤى اَمْرِهِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَیْهِمْ مَّسْجِدًا Open ayah 18:21 in the Quran reader

اور اسی طرح خبر ظاہر کردی ہم نے ان کی تاکہ لوگ جان لیں کہ اللہ کا وعدہ ٹھیک ہے اور قیامت کے آنے میں دھوکہ نہیں جب جھگڑ رہے تھے آپس میں اپنی بات پر4 پھر کہنے لگے بناؤ ان پر ایک عمارت ان کا رب خوب جانتا ہے ان کا حال بولے وہ لوگ جن کا کام غالب تھا ہم بنائیں گے ان کی جگہ پر عبادت خانہ1

4 ایک ان میں سے روپیہ لے کر شہر میں داخل ہوا۔ وہاں سب چیز اوپری دیکھی۔ اس مدت میں کئی قرن بدل چکے تھے۔ شہر کے لوگ اس روپیہ کا سکہ دیکھ کر حیران ہوئے کہ کس بادشاہ کا نام ہے اور کس عہد کا ہے۔ سمجھے کہ اس شخص نے کہیں سے پرانا گڑا ہوا مال پا لیا ہے۔ شدہ شدہ معاملہ بادشاہ تک پہنچا۔ اس نے وہ پرانی تختی طلب کی جس پر چند نام اور پتے لکھے تھے کہ یہ لوگ دفعۃً نامعلوم طریقے سے فلاں سنہ میں غائب ہوگئے ہیں۔ تحقیق سے ثابت ہوگیا کہ یہ وہی مفقود الخبر جماعت ہے۔ اس وقت شہر میں " بعث بعد الموت " کے متعلق بڑا جھگڑا ہو رہا تھا کوئی کہتا تھا کہ مرنے کے بعد جینا نہیں کوئی کہتا تھا کہ محض روحانی بعث ہے جسمانی نہیں۔ کوئی معاد روحانی و جسمانی دونوں کا قائل تھا۔ بادشاہ وقت حق پرست اور منصف تھا، چاہتا تھا کہ ایک طرف کی کوئی ایسی نظیر ہاتھ لگے جس سے سمجھانے میں آسانی رہے اور استبعاد عقلی کم ہو۔ اللہ تعالیٰ نے یہ نظیر بھیج دی۔ آخر منکرین آخرت بھی یہ حیرت انگیز ماجرا دیکھنے سننے کے بعد آخرت پر یقین لائے۔ یہ نظارہ خاص طور پر ان کی طبائع پر اثر انداز ہوا سمجھے کہ حق تعالیٰ نے ہم کو تنبیہ کی ہے کہ یہ قصہ بھی دوسری بار جینے سے کم نہیں۔ (تنبیہ) بعض نے ( اِذْ يَتَنَازَعُوْنَ بَيْنَهُمْ اَمْرَهُمْ فَقَالُوا ابْنُوْا عَلَيْهِمْ بُنْيَانًا) 18 ۔ الکہف :21) کا مطلب یہ لیا ہے کہ حق تعالیٰ نے اصحاب کہف کے حال سے لوگوں کو اس وقت آگاہ کیا جب کہ اصحاب کہف کے متعلق چرچے اور جھگڑے ہو رہے تھے کہ وہ چند نوجوان جنہیں مدت دراز سے سنتے آئے ہیں کہ یک بیک غائب ہوگئے تھے پھر کچھ پتہ نہ چلا کہاں گئے ہوں گے ؟ کہاں ان کی نسل پھیلی ہوگی ؟ اب تک زندہ تو کیا ہوتے۔ سب مر گل کر برابر ہوگئے ہوں گے ؟ اس مسئلہ میں کوئی کچھ کہتا تھا دوسرا کچھ خیال ظاہر کرتا تھا کہ دفعۃً حق تعالیٰ نے حقیقت سے پردہ اٹھا دیا۔ اور سب اختلافات ختم کردیے۔ 1 یہ پتہ نہیں کہ اس کے بعد اصحاب کہف زندہ رہے یا انتقال کر گئے ؟ انتقال ہوا تو کب ہوا، زندہ رہے تو کب تک رہے یا کب تک رہیں گے۔ بہرحال اہل شہر نے ان کے عجیب و غریب احوال پر مطلع ہو کر فرط عقیدت سے چاہا کہ اس غار کے پاس کوئی مکان بطور یادگار تعمیر کردیں جس سے زائرین کو سہولت ہو۔ اس میں اختلاف رائے ہوا ہوگا کہ کس قسم کا مکان بنایا جائے۔ اس اختلاف کی تفاصیل تو خدا ہی کو معلوم ہیں اور یہ بھی اس کے علم میں ہے کہ یہ تجویز ان کی موت کے بعد ہوئی یا اس سے قبل دوبارہ نیند طاری ہونے کی حالت میں اور لوگوں کو غار تک پہنچ کر ان کی ملاقات میسر ہوسکی یا نہیں۔ تاہم جو با رسوخ اور ذی اقتدار لوگ تھے ان کی رائے یہ قرار پائی کہ غار کے پاس عبادت گاہ تعمیر کردی جائے۔ اصحاب کہف کی نسبت بجز اس کے پکے موحد اور متقی تھے، یقینی طور پر نہیں کہا جاسکتا کہ کس نبی کی شریعت کے پیرو تھے۔ لیکن جن لوگوں نے معتقد ہو کر وہاں مکان بنایا وہ نصاریٰ تھے۔ ابو حیان نے " بحر محیط " میں اصحاب کہف کا مقام متعین کرنے کے لیے متعدد اقوال نقل کیے ہیں۔ من شاء فلیراجعہ۔
Ayah 18:22

سَیَقُوْلُوْنَ ثَلٰثَةٌ رَّابِعُهُمْ كَلْبُهُمْ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ خَمْسَةٌ سَادِسُهُمْ كَلْبُهُمْ رَجْمًۢا بِالْغَیْبِ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ سَبْعَةٌ وَّ ثَامِنُهُمْ كَلْبُهُمْ١ؕ قُلْ رَّبِّیْۤ اَعْلَمُ بِعِدَّتِهِمْ مَّا یَعْلَمُهُمْ اِلَّا قَلِیْلٌ١۫۬ فَلَا تُمَارِ فِیْهِمْ اِلَّا مِرَآءً ظَاهِرًا١۪ وَّ لَا تَسْتَفْتِ فِیْهِمْ مِّنْهُمْ اَحَدًا۠ Open ayah 18:22 in the Quran reader

اب یہی کہیں گے وہ تین ہیں چوتھا ان کا کتا اور یہ بھی کہیں گے وہ پانچ ہیں چھٹا ان کا کتا بدون نشانہ دیکھے پتھر چلانا2 اور یہ بھی کہیں گے وہ سات ہیں اور آٹھواں ان کا کتا تو کہہ میرا رب خوب جانتا ہے ان کی گنتی ان کی خبر نہیں رکھتے مگر تھوڑے لوگ سو مت جھگڑ ان کی بات میں مگر سرسری جھگڑا اور مت تحقیق کر ان کا حال ان میں کسی سے3

2 یعنی سامعین " اصحاب کہف " کا قصہ سن کر جیسا کہ لوگوں کی عادت ہے، اٹکل کے تیر چلائیں گے، کوئی کہے گا کہ وہ تین تھے چوتھا کتا تھا، کوئی پانچ بتلا کر چھٹا کتے کو شمار کرے گا۔ لیکن یہ سب اقوال ایسے ہیں جیسے کوئی بےنشانہ دیکھے پتھر چلاتا رہے۔ ممکن ہے مختلف باتیں کہنے سے جہل کے علاوہ رسول اللہ ﷺ کا امتحان کرنا بھی مقصود ہو کہ دیکھیں یہ اس معاملہ میں کیا کہتے ہیں۔ کیونکہ احتمال ہے کہ یہود نے ان کو صحیح تعداد سات کی بتلائی ہو جس کی طرف آگے قرآن نے اشارہ کیا ہے۔ 3 یعنی اس قسم کی غیر معتدبہ باتوں میں زیادہ جھگڑنا لاحاصل ہے۔ عدد کے معلوم ہونے سے کوئی اہم مقصد متعلق نہیں۔ جتنی بات خدا نے بتلا دی اس سے زیادہ تحقیق کے درپے ہونا یا جس قدر تردید خدا تعالیٰ کرچکا اس سے زیادہ جھگڑنا اور تردید کرنا فضول ہے۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا میں ان قلیل لوگوں میں سے ہوں (جنہوں نے سیاق قرآنی سے معلوم کرلیا کہ) اصحاب کہف سات ہی تھے۔ کیونکہ حق تعالیٰ نے پہلے دو قول کو " رجماً بالغیب " فرمایا، تیسرے قول کے ساتھ نہیں فرمایا۔ اس کے علاوہ وہ اسلوب بیان بھی بدلا ہوا ہے پہلے دونوں جملوں میں " واو عطف " نہ تھا، تیسرے میں وَثَامِنُہُمْ کَلْبُہُمْ عطف کے ساتھ لانے سے گویا اس پر زور دینا ہے کہ اس قول کا قائل پوری بصیرت و وثوق کے ساتھ واقعہ کی تفصیل سے واقف ہے۔ بعض نے اس کی تائید میں یہ بھی کہا ہے کہ پہلے قال قَآئِلٌ مِّنْہُمْ کَمْ لَبِثْتُمْ سے ایک قائل کا ہونا اور قالُوْا لَبِثْنَا یَوْمًا الخ سے اس کے سوا کم ازکم تین قائلین کا پھر دوسرے قالُوْا رَبُّکُمْ اَعْلَمُ الخ سے ان کی علاوہ تین اور قائلین کا ثبوت ملتا ہے۔ اس طرح کم ازکم سات آدمی ہونے چاہیں۔ کتا ان کے علاوہ رہا۔
Ayahs 18:23–24

وَ لَا تَقُوْلَنَّ لِشَایْءٍ اِنِّیْ فَاعِلٌ ذٰلِكَ غَدًاۙ Open ayah 18:23 in the Quran reader

اور نہ کہنا کسی کام کو کہ میں یہ کروں گا کل کو

اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١٘ وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ اِذَا نَسِیْتَ وَ قُلْ عَسٰۤى اَنْ یَّهْدِیَنِ رَبِّیْ لِاَقْرَبَ مِنْ هٰذَا رَشَدًا Open ayah 18:24 in the Quran reader

مگر یہ کہ اللہ چاہے اور یاد کرلے اپنے رب کو جب بھول جائے اور کہہ امید ہے کہ میرا رب مجھ کو دکھلائے اس سے زیادہ نزدیک راہ نیکی کی4

4 اصحاب کہف کا قصہ تاریخی کتابوں میں نادرات میں لکھا تھا، ہر کسی کو کہاں خبر ہوسکتی۔ مشرکین نے یہود کے سکھانے سے حضرت سے پوچھا۔ مقصود آپ ﷺ کی آزمائش تھی، حضور اکرم ﷺ نے وعدہ کیا کہ کل بتاؤں گا۔ اس بھروسہ پر کہ جبرائیل آئیں گے تو دریافت کردوں گا۔ جبرائیل پندرہ دن تک نہ آئے حضرت نہایت غمگین ہوئے۔ مشرکین نے ہنسنا شروع کیا۔ آخر یہ قصہ لے کر آئے اور پیچھے نصیحت کی کہ آئندہ کی بات کے متعلق بغیر " انشاء اللہ " کے وعدہ نہ کرنا چاہیے۔ اگر ایک وقت بھول جائے تو پھر یاد کر کے کہہ لے۔ اور فرمایا کہ امید رکھ کہ تیرا درجہ اللہ اس سے زیادہ کرے یعنی کبھی نہ بھولے (موضح القرآن) یا اصحاب کہف کے واقعہ سے زیادہ عجیب طور پر آپ کی حفاظت فرمائے اور کامیاب کرے جیسا کہ غار ثور کے قصہ میں ہوا۔ یا واقعہ کہف سے زیادہ عجیب واقعات و شواہد آپ کی زبان سے بیان کرائے۔
Ayah 18:25

وَ لَبِثُوْا فِیْ كَهْفِهِمْ ثَلٰثَ مِائَةٍ سِنِیْنَ وَ ازْدَادُوْا تِسْعًا Open ayah 18:25 in the Quran reader

اور مدت گزر چکی ان پر اپنی کھوہ میں تین سو برس اور ان کے اوپر نو5

5 یعنی شمسی حساب سے پورے تین سو سال کھوہ میں سوتے رہے اور قمری حساب سے نو سال زیادہ ہوئے (مہینوں اور دنوں کی کسور محسوب نہیں کی گئیں) یا تین سو سال کے بعد ممکن ہے قدرے نیند سے چونکے ہوں پھر سو گئے اور نو سال تک سوتے رہے۔ بعض علماء کی رائے یہ ہے کہ یہ تین سو نو سال جاگنے کے بعد سے عہد نبوی ﷺ تک کی مدت بیان فرمائی۔ یعنی لوگوں سے مل ملا کر پھر سو رہے جس کو آپ ﷺ کے زمانہ تک اتنا عرصہ گزرا واللہ اعلم۔ (لطیفہ) ہمارے زمانہ میں صوبہ زیشوان میں ایک شخص دو سو باون سال کی عمر رکھتا ہے۔ چوبیسویں شادی ابھی حال میں کی ہے۔
Ayah 18:26

قُلِ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثُوْا١ۚ لَهٗ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اَبْصِرْ بِهٖ وَ اَسْمِعْ١ؕ مَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّلِیٍّ١٘ وَّ لَا یُشْرِكُ فِیْ حُكْمِهٖۤ اَحَدًا Open ayah 18:26 in the Quran reader

تو کہہ اللہ خوب جانتا ہے جتنی مدت ان پر گزری اسی کے پاس ہیں چھپے بھید آسمانوں اور زمین کے کیا عجیب دیکھتا اور سنتا ہے6 کوئی نہیں بندوں پر اس کے سوائے مختار اور نہیں شریک کرتا اپنے حکم میں کسی کو7

6 جتنی مدت سو کر وہ جاگے تھے، تاریخ والے کئی طرح بتاتے تھے۔ سب سے ٹھیک وہ ہی ہے جو اللہ بتائے۔ آسمان و زمین کے تمام پوشیدہ راز اس کے علم میں ہیں۔ کوئی چیز اس کی آنکھ سے اوجھل نہیں۔ 7 یعنی جس طرح اس کا علم محیط ہے، اس کی قدرت و اختیار بھی سب پر حاوی ہے۔ جیسے غیوب سموات وارض کے علم میں اس کا کوئی شریک نہیں، اختیارات وقدرت میں بھی کوئی سہیم و شریک نہیں ہوسکتا۔
Ayah 18:27

وَ اتْلُ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنْ كِتَابِ رَبِّكَ١ؕۚ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ١۫ۚ وَ لَنْ تَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًا Open ayah 18:27 in the Quran reader

اور پڑھ جو وحی ہوئی تجھ کو تیرے رب کی کتاب سے کوئی بدلنے والا نہیں اس کی باتیں اور کہیں نہ پائے گا تو اس کے سوائے چھپنے کو جگہ1

1 پہلے اصحاب کہف کے قصہ پر فرمایا تھا (فَلَا تُمَارِ فِيْهِمْ اِلَّا مِرَاۗءً ظَاهِرًا ۠ وَّلَا تَسْتَفْتِ فِيْهِمْ مِّنْهُمْ اَحَدًا) 18 ۔ الکہف :12) مطلب یہ ہے کہ بیکار چیزوں میں زیادہ الجھنے اور کاوش کرنے کی ضرورت نہیں۔ آپ ﷺ اپنے فرض منصبی کی انجام دہی میں مشغول رہیے۔ یعنی جو جامع و مانع اور کافی وشافی کتاب تیرے رب نے مرحمت فرمائی اسے پڑھ کر سناتے رہیے۔ خدا نے جو باتیں اس میں سنائیں اور جو وعدے کیے کوئی طاقت نہیں جو انھیں بدل یا ٹال سکے یا غلط ثابت کرسکے۔ اگر کوئی ان باتوں کو بدلنے کے درپے ہوگا یا اس کتاب کے حقوق ادا کرنے میں کوتاہی کرے گا وہ خوب سمجھ لے کہ خدا کے مجرم کے لیے کہیں پناہ نہیں۔ ہاں وفاداروں کو پناہ دینے کے لیے اس کی رحمت وسیع ہے۔ دیکھ لو " اصحاب کہف " کو جو خدا کی باتوں پر جمے رہے کیسی اچھی جگہ اپنے فضل سے عنایت فرمائی۔
Ayah 18:28

وَ اصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗ وَ لَا تَعْدُ عَیْنٰكَ عَنْهُمْ١ۚ تُرِیْدُ زِیْنَةَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ لَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَهٗ عَنْ ذِكْرِنَا وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ وَ كَانَ اَمْرُهٗ فُرُطًا Open ayah 18:28 in the Quran reader

اور روکے رکھ اپنے آپ کو ان کے ساتھ جو پکارتے ہیں اپنے رب کو صبح اور شام طالب ہیں اس کے منہ کے2 اور نہ دوڑیں تیری آنکھیں ان کو چھوڑ کر تلاش میں رونق زندگانی دنیا کی3 اور نہ کہا مان اس کا جس کا دل غافل کیا ہم نے اپنی یاد سے اور پیچھے پڑا ہوا ہے اپنی خوشی کے اور اس کا کام ہے حد پر نہ رہنا4

2 یعنی اس کے دیدار اور خوشنودی حاصل کرنے کے شوق میں نہایت اخلاص کے ساتھ دائماً عبادت میں مشغول رہتے ہیں۔ مثلاً ذکر کرتے ہیں، قرآن پڑھتے ہیں، نمازوں پر مداومت رکھتے ہیں، حلال و حرام میں تمیز کرتے ہیں، خالق و مخلوق دونوں کے حقوق پہچانتے ہیں گو دنیاوی حیثیت سے معزز اور مالدار نہیں۔ جیسے صحابہ میں اس وقت عمار، صہیب، بلال، ابن مسعود وغیرہ ؓ تھے۔ ایسے مومنین مخلصین کو اپنی صحبت و مجالست سے مستفید کرتے رہیے۔ اور کسی کے کہنے سننے پر ان کو اپنی مجلس سے علیحدہ نہ کیجئے۔ 3 یعنی ان غریب شکستہ حال مخلصین کو چھوڑ کر موٹے موٹے متکبر دنیا داروں کی طرف اس غرض سے نظر نہ اٹھائیے کہ ان کے مسلمان ہوجانے سے دین اسلام کو بڑی رونق ہوگی۔ اسلام کی اصلی عزت و رونق مادی خوشحالی اور چاندی سونے کے سکوں سے نہیں مضبوط ایمان وتقویٰ اور اعلیٰ درجہ کی خوش اخلاقی سے ہے۔ دنیا کی ٹیپ ٹاپ محض فانی اور سایہ کی طرح دھلنے والی ہے، حقیقی دولت تقویٰ اور تعلق مع اللہ کی ہے جسے نہ شکست ہے، نہ زوال، چناچہ اصحاب کہف کے واقعہ میں خدا کو یاد کرنے والوں اور دنیا کے طالبوں کا انجام معلوم ہوچکا۔ 4 یعنی جن کے دل دنیا کے نشہ میں مست ہو کر خدا کی یاد سے غافل اور ہر وقت نفس کی خوشی اور خواہش کی پیروی میں مشغول رہتے ہیں، خدا کی اطاعت میں پیچھے اور ہوا پرستی میں آگے رہنا ان کا شیوہ ہے، ایسے بدمست غافلوں کی بات پر آپ ﷺ کان نہ دھریں خواہ وہ بظاہر کیسے ہی دولت مند اور جاہ و ثروت والے ہوں۔ روایات میں ہے کہ بعض صنادید قریش نے آپ ﷺ سے کہا کہ ان رذیلوں کو اپنے پاس سے اٹھا دیجئے تاکہ سردار آپ ﷺ کے پاس بیٹھ سکیں۔ رذیل کہا غریب مسلمانوں کو اور سردار دولت مند کافروں کو۔ ممکن ہے آپ ﷺ کے قلب مبارک میں یہ خیال گزرا ہو کہ ان غرباء کو تھوڑی دیر علیحدہ کردینے میں کیا مضائقہ ہے۔ وہ تو پکے مسلمان ہیں مصلحت پر نظر کر کے رنجیدہ نہ ہوں گے اور یہ دولت مند اس صورت میں اسلام قبول کرلیں گے۔ اس پر یہ آیت اتری کہ آپ ہرگز ان متکبرین کا کہنا نہ مانیے کیونکہ یہ بیہودہ فرمائش ہی ظاہر کرتی ہے کہ ان میں حقیقی ایمان کا رنگ قبول کرنے کی استعداد نہیں۔ پھر محض موہوم فائدہ کی خاطر مخلصین کا احترام کیوں نظر انداز کیا جائے۔ نیز امیروں اور غریبوں کے ساتھ اس طرح کا معاملہ کرنے سے احتمال ہے کہ عام لوگوں کے قلوب میں پیغمبر کی طرف سے معاذ اللہ نفرت اور بدگمانی پیدا ہوجائے جس کا ضرر اس ضرر سے کہیں زائد ہوگا جو ان چند متکبرین کے اسلام قبول نہ کرنے کی صورت میں تصور کیا جاسکتا ہے۔
Ayah 18:29

وَ قُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ١۫ فَمَنْ شَآءَ فَلْیُؤْمِنْ وَّ مَنْ شَآءَ فَلْیَكْفُرْ١ۙ اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلظّٰلِمِیْنَ نَارًا١ۙ اَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا١ؕ وَ اِنْ یَّسْتَغِیْثُوْا یُغَاثُوْا بِمَآءٍ كَالْمُهْلِ یَشْوِی الْوُجُوْهَ١ؕ بِئْسَ الشَّرَابُ١ؕ وَ سَآءَتْ مُرْتَفَقًا Open ayah 18:29 in the Quran reader

اور کہہ سچی بات ہے تمہارے رب کی طرف سے پھر جو کوئی چاہے مانے اور جو کوئی چاہے نہ مانے5 ہم نے تیار کر رکھی ہے گناہ گاروں کے واسطے آگ کہ گھیر رہی ہیں ان کو اس کی قناتیں6 اور اگر فریاد کریں گے تو ملے گا پانی جیسے پیپ بھون ڈالے منہ کو کیا برا پینا ہے اور کیا برا آرام7

5 یعنی خدا کی طرف سے سچی باتیں سنا دی گئیں، کسی کے ماننے نہ ماننے کی اسے کچھ پروا نہیں۔ جو کچھ نفع نقصان ہوگا تمہارا ہوگا۔ ماننے اور نہ ماننے والے دونوں اپنا اپنا انجام سوچ لیں جو آگے بیان کیا جاتا ہے۔ دنیا کی چہل پہل محض ہیچ اور فانی ہے۔ اس کا لطف جب ہی ہے کہ فلاح آخرت کا ذریعہ بنے۔ وہاں محض دنیا کا تمول کام نہ دے گا۔ بلکہ جو یہاں شکستہ حال تھے بہت سے وہاں عیش و آرام میں ہوں گے۔ 6 وہ قناتیں بھی آگ کی ہوں گی۔ 7 یعنی گرمی کی شدت سے پیاس لگے گی تو العطش پکاریں گے۔ تب تیل کی تلچھٹ یا پیپ کی طرح کا پانی دیا جائے گا۔ جو سخت حرارت اور تیزی کی وجہ سے منہ کو بھون ڈالے گا۔
Ayah 18:30

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اِنَّا لَا نُضِیْعُ اَجْرَ مَنْ اَحْسَنَ عَمَلًاۚ Open ayah 18:30 in the Quran reader

بیشک جو لوگ یقین لائے اور کیں نیکیاں ہم نہیں کھوتے بدلہ اس کا جس نے بھلا کیا کام8

8 یعنی ادنیٰ سے ادنیٰ نیکی بھی کم نہ ہوگی۔ پورا بدلہ دیا جائے گا۔
Ayah 18:31

اُولٰٓئِكَ لَهُمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ یَلْبَسُوْنَ ثِیَابًا خُضْرًا مِّنْ سُنْدُسٍ وَّ اِسْتَبْرَقٍ مُّتَّكِئِیْنَ فِیْهَا عَلَى الْاَرَآئِكِ١ؕ نِعْمَ الثَّوَابُ١ؕ وَ حَسُنَتْ مُرْتَفَقًا۠ Open ayah 18:31 in the Quran reader

ایسوں کے واسطے باغ ہیں بسنے کے بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں پہنائے جائیں گے ان کو وہاں کنگن سونے کے9 اور پہنیں گے کپڑے سبز باریک اور گاڑھے ریشم کے1 تکیہ لگائے ہوئے ان میں تختوں پر کیا خوب بدلہ ہے اور کیا خوب آرام2

9 تاکہ دکھلا دیا جائے کہ اصلی اور دائمی دولت مند کون لوگ ہیں۔ کنگن یا ریشمی کپڑوں اور اسی طرح جنت کی تمام نعمتوں کی خاص کیفیت کو ہم دنیا میں نہیں سمجھ سکتے۔ کیونکہ ہماری محسوسات میں اس موطن کی کوئی پوری مثال موجود نہیں۔ 1 شاید ابرا باریک ریشم کا اور استر دبیز ریشم کا ہو۔ کما یفہم من قولہ تعالیٰ (مُتَّكِــــِٕيْنَ عَلٰي فُرُشٍۢ بَطَاۗىِٕنُهَا مِنْ اِسْتَبْرَقٍ ) 55 ۔ الرحمن :54) یا دونوں قسمیں الگ الگ استعمال کی جائیں۔ واللہ اعلم۔ موضح القرآن میں ہے۔ " حضرت نے فرمایا سونا اور ریشمی کپڑا مردوں کو ملنا ہے بہشت میں۔ جو کوئی یہاں یہ چیزیں پہنے وہاں نہ پہنے گا۔ " 2 یعنی مسہریوں پر تکیہ لگائے نہایت عزت و آرام سے بیٹھے ہوں گے۔
Ayah 18:32

وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا رَّجُلَیْنِ جَعَلْنَا لِاَحَدِهِمَا جَنَّتَیْنِ مِنْ اَعْنَابٍ وَّ حَفَفْنٰهُمَا بِنَخْلٍ وَّ جَعَلْنَا بَیْنَهُمَا زَرْعًاؕ Open ayah 18:32 in the Quran reader

اور بتلا ان کو مثل دو مردوں کی3 کردیے ہم نے ان میں سے ایک کے لیے دو باغ انگور کے اور گرد ان کے کھجوریں اور رکھی دونوں کے بیچ میں کھیتی4

3 یہ کافر غنی اور مومن فقیر کی مثال بیان فرمائی، جس کے ضمن میں دنیا کی بےثباتی، کفر وتکبر کی بدانجامی اور ایمان وتقویٰ کی مقبولیت پر متنبہ کرنا ہے۔ یہ دو شخص جن کی مثال بیان ہوئی واقعی موجود تھے ؟ یا محض تفہیم کے لیے مثال فرض کرلی گئی ؟ علماء کے اس میں دونوں قول ہیں اور تمثیل کا فائدہ بہرحال حاصل ہے۔ 4 یعنی باغوں کے گرد باڑھ کھجور کی لگائی اور دونوں باغوں کے درمیان میں زمین چھوڑی جس میں زراعت ہوتی تھی تاکہ غلے اور پھل (قوت اور فواکہ) سب تیار ملیں۔
Ayah 18:33

كِلْتَا الْجَنَّتَیْنِ اٰتَتْ اُكُلَهَا وَ لَمْ تَظْلِمْ مِّنْهُ شَیْئًا١ۙ وَّ فَجَّرْنَا خِلٰلَهُمَا نَهَرًاۙ Open ayah 18:33 in the Quran reader

دونوں باغ لاتے ہیں اپنا میوہ اور نہیں گھٹاتے اس میں سے کچھ5 اور بہادی ہم نے ان دونوں کے بیچ نہر6

5 یعنی یہ نہیں کہ ایک باغ پھلا دوسرا نہ پھلا۔ یا ایک درخت زیادہ آیا دوسرا کم۔ 6 یعنی باغوں کے درمیان نہر کا پانی قرینہ سے پھر رہا تھا کہ منظر فرحت بخش رہے اور بارش نہ ہو تب بھی باغ وغیرہ خشکی سے خراب نہ ہونے پائے۔
Ayah 18:34

وَّ كَانَ لَهٗ ثَمَرٌ١ۚ فَقَالَ لِصَاحِبِهٖ وَ هُوَ یُحَاوِرُهٗۤ اَنَا اَكْثَرُ مِنْكَ مَالًا وَّ اَعَزُّ نَفَرًا Open ayah 18:34 in the Quran reader

اور ملا اس کو پھل7 پھر بولا اپنے ساتھی سے جب باتیں کرنے لگا اس سے میرے پاس زیادہ ہے تجھ سے مال اور آبرو کے لوگ8

7 یعنی جو خرچ کیا یا کمائی کی اس کا پھل خوب ملا۔ اور ہر قسم کے سامان عیش و رفاہیت جمع ہوگئے نکاح کیا تو اس کا پھل بھی اچھا پایا اولاد کثرت سے ہوئی۔ 8 یعنی مال و دولت اور جتھا میرے پاس تجھ سے کہیں زائد ہے۔ اگر میں مشرکانہ اطوار اختیار کرنے میں باطل پر ہوتا تو اس قدر آسائش اور فراخی کیوں ملتی۔ اس کے مشرک ہونے کا ثبوت اس سے ملتا ہے کہ آفت آنے کے بعد پچتا کر کہتا تھا (يٰلَيْتَنِيْ لَمْ اُشْرِكْ بِرَبِّيْٓ اَحَدًا) 18 ۔ الکہف :42) معلوم ہوتا ہے کہ اس کا غریب ساتھی جو پکا موحد تھا شرک کے باطل ہونے کا اظہار اور شرک سے تائب ہونے کی نصیحت کر رہا ہوگا۔ جس کے جواب میں یہ کہا کہ میں تجھ سے مال میں، جتھے میں، ہر چیز میں زیادہ ہوں کس طرح یقین کرلوں کہ میں باطل پر ہوں اور تجھ جیسا مفلس قلاش حق پر ہو۔
Ayah 18:35

وَ دَخَلَ جَنَّتَهٗ وَ هُوَ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ١ۚ قَالَ مَاۤ اَظُنُّ اَنْ تَبِیْدَ هٰذِهٖۤ اَبَدًاۙ Open ayah 18:35 in the Quran reader

اور گیا اپنے باغ میں اور وہ برا کر رہا تھا اپنی جان پر9 بولا نہیں آتا مجھ کو خیال کہ خراب ہو وے یہ باغ کبھی

9 یعنی شرک میں مبتلا تھا۔ کبر و غرور کا نشہ دماغ میں بھرا ہوا تھا، دوسروں کو حقیر جانتا تھا، اور خدا کی قدرت و جبروت پر نظر نہ تھی۔ نہ یہ سمجھتا تھا کہ آگے کیا انجام ہونے والا ہے۔ بس یہ ہی باغ اس کی جنت تھی جس کو آپ خیر سے ابدی سمجھتے ہیں۔
Ayah 18:36

وَّ مَاۤ اَظُنُّ السَّاعَةَ قَآئِمَةً١ۙ وَّ لَئِنْ رُّدِدْتُّ اِلٰى رَبِّیْ لَاَجِدَنَّ خَیْرًا مِّنْهَا مُنْقَلَبًا Open ayah 18:36 in the Quran reader

اور نہیں خیال کرتا ہوں میں کہ قیامت ہونے والی ہے اور اگر کبھی پہنچا دیا گیا میں اپنے رب کے پاس پاؤں گا بہتر اس سے وہاں پہنچ کر10

10 یعنی اب تو آرام سے گزرتی ہے۔ اور میں نے اب انتظامات ایسے مکمل کرلیے ہیں کہ میری زندگی تک ان باغوں کے تباہ ہونے کا بظاہر کوئی کھٹکا نہیں۔ رہا بعد الموت کا قصہ، سو اول تو مجھے یقین نہیں کہ مرنے کے بعد ہڈیوں کے ریزوں کو دوبارہ زندگی ملے گی ؟ اور ہم خدا کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔ لیکن اگر ایسا ہوا تو یقینا مجھے یہاں سے بہتر سامان وہاں ملنا چاہیے۔ اگر ہماری حرکات خدا کو ناپسند ہوتیں تو دنیا میں اتنی کشائش کیوں دیتا۔ گویا یہاں کی فراخی علامت ہے کہ وہاں بھی ہم عیش اڑائیں گے۔
Ayahs 18:37–38

قَالَ لَهٗ صَاحِبُهٗ وَ هُوَ یُحَاوِرُهٗۤ اَكَفَرْتَ بِالَّذِیْ خَلَقَكَ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ سَوّٰىكَ رَجُلًاؕ Open ayah 18:37 in the Quran reader

کہا اس کو دوسرے نے جب بات کرنے لگا کیا تو منکر ہوگیا اس سے جس نے پیدا کیا تجھ کو مٹی سے پھر قطرہ سے پھر پورا کردیا تجھ کو مرد

لٰكِنَّاۡ هُوَ اللّٰهُ رَبِّیْ وَ لَاۤ اُشْرِكُ بِرَبِّیْۤ اَحَدًا Open ayah 18:38 in the Quran reader

پھر میں تو یہی کہتا ہوں وہی اللہ ہے میرا رب اور نہیں مانتا شریک اپنے رب کا کسی کو1

1 یعنی جس خدا نے تیری اصل (آدم علیہ السلام) کو بےجان مٹی سے پھر تجھ کو زمینی پیداوار کے خلاصہ اور ایک قطرہ ناچیز سے پیدا کر کے زندگی بخشی اور جسمانی و روحانی قوتیں دے کر ہٹا کٹا مرد بنایا، کیا تجھے انکار ہے کہ وہ تیرے مرے پیچھے دوبارہ زندہ نہیں کرسکتا ؟ یا دی ہوئی نعمت چھین نہیں سکتا ؟ میرا تو یہ عقیدہ نہیں۔ بلکہ یقین رکھتا ہوں کہ وہ تنہا ہمارا رب ہے۔ اس کی خدائی میں کوئی حصہ دار نہیں۔ پھر بھلا اس کے حکم و اختیار کے سامنے کون دم مار سکتا ہے۔
Ayah 18:39

وَ لَوْ لَاۤ اِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَآءَ اللّٰهُ١ۙ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ١ۚ اِنْ تَرَنِ اَنَا اَقَلَّ مِنْكَ مَالًا وَّ وَلَدًاۚ Open ayah 18:39 in the Quran reader

اور جب تو آیا تھا اپنے باغ میں کیوں نہ کہا تو نے جو چاہے اللہ سو ہو طاقت نہیں مگر جو دے اللہ2 اگر تو دیکھتا ہے مجھ کو کہ میں کم ہوں تجھ سے مال اور اولاد میں

2 یعنی مال تو اللہ کی نعمت ہے۔ پر اترانے اور کفر بکنے سے آفت آتی ہے۔ چاہیے تھا کہ باغ میں داخل ہوتے وقت (مَآ اَظُنُّ اَنْ تَبِيْدَ هٰذِهٖٓ اَبَدًا) 18 ۔ الکہف :35) کی جگہ (مَا شَاۗءَ اللّٰهُ ۙ لَا قُوَّةَ اِلَّا باللّٰهِ ) 18 ۔ الکہف :39) کہتا۔ یعنی خدا جو چاہے عطا فرمائے، ہم میں جو کچھ زور و قوت ہے اسی کی امداد و اعانت سے ہے۔ وہ چاہے تو ایک دم میں سلب کرلے۔ روایات میں ہے کہ جب آدمی کو اپنے گھر بار میں آسودگی نظر آئے تو یہ ہی لفظ کہے۔ " مَاشَآء اللّٰہُ لَا قُوَّۃَ اِلَّا باللّٰہِ "
Ayah 18:40

فَعَسٰى رَبِّیْۤ اَنْ یُّؤْتِیَنِ خَیْرًا مِّنْ جَنَّتِكَ وَ یُرْسِلَ عَلَیْهَا حُسْبَانًا مِّنَ السَّمَآءِ فَتُصْبِحَ صَعِیْدًا زَلَقًاۙ Open ayah 18:40 in the Quran reader

تو امید ہے کہ میرا رب دیوے مجھ کو تیرے باغ سے بہتر3 اور بھیج دے اس پر لو کا ایک جھونکا آسمان سے پھر صبح کو رہ جائے میدان صاف

3 دنیا میں یا آخرت میں۔