Ayahs 18:1–81 ؎ قال الفراء الجزر الارفق التی لانبات فیہ یقال جرزت الارض شی مجروزۃ وجزرہا المجرادوا الشاۃ والابل اذا کلت ما علیھا وامراۃ جروزا اذا کانت کو لا وسیف جراز اذا کان ستا صلا۔ 12 منہ
ترکیب : قیما صاحب الکشاف کہتے ہیں کہ یہ الکتاب سے حال نہیں ہوسکتا بلکہ یہ منصوب ہے مضمر سے والتقدیر لم یجعل لہ عوجا و جعلہ قیما صاحب حل العقد کہتے ہیں کہ یہ بدل ہے لم یجعل لہ عوجا سے کیونکہ اس کے معنی ہیں جعلہ مستقیما۔ لینذر انزل سے متعلق ہے انذرمتعدی ہوتا ہے دو مفعولوں کی طرف کقولہ اناانذرنا کم عذابًا قریبًا مگر یہاں صرف باسا ایک مفعول پر کفایت کی گئی ویبشر معطوف ہے ینذر پر ان لہم ای بان لھم جملہ یبشر کے متعلق یا اس کا بیان ماکثین مکث بمعنی قیام سے مشتق ہے جس کے معنی ٹھہرا رہنا ‘ یہ حال ہے ضمیر لہم سے۔ ابدًا منصوب ہے ظرف ہو کر من علم من زائد اور علم مرفوع علی الابتداء والفا علیۃ الاعتماد الظرف والجملۃ حالیۃ اومستانفۃ لبیان حالھم فی مقالھم کلمۃ منصوب ہے تمیز ہو کر ضمیر مبہم سے جو کبرت کی فاعل کبس رجلا مخصوص بالذم مخدوف ہے۔ ایھی فلعلک الخ جملہ دال برجزاء شرط ان لم یؤمنوا سے اسفًا مفعول لہ ہے باخع کا۔ قال اللیت بخع الرجل نفسہ اذاقتل۔
تفسیر : اس سورة کو سورة کہف اس لیے کہتے ہیں کہ اس میں ان لوگوں کا حیرت انگیز حال بیان ہے جو کہف یعنی غار میں تین سو نو برس تک سو کر جاگے تھے۔ یہ سورة مکہ میں نازل ہوئی ہے اس کے فضائل میں بہت سی احادیث وارد ہیں ازانجملہ وہ ہے کہ جس کو بخاری و مسلم و غیرہما نے براء بن عازب ؓ سے روایت کیا ہے کہ ایک شخص رات کو گھر میں اس سورة کو پڑھ رہا تھا اور گھوڑا بھی وہیں بندھا ہوا تھا۔ گھوڑا بدکنے لگا، اس نے اوپر سر اٹھا کر جو دیکھا تو ایک نور دکھائی دیا، بادل کی طرح سایہ کئے ہوئے تھا۔ صبح کو اس نے یہ ذکر آنحضرت ﷺ سے کیا۔ آپ نے فرمایا کہ اس کو پڑھا کر یہ سکینہ (نور اطمینان) ہے جو اس کے پڑھنے سے نازل ہوتی تھی اور جمعہ کے روز اس کے پڑھنے کے فضائل بھی احادیث میں بکثرت ہیں۔ سورة اسراء کے اخیر میں یہ تھا قل الحمد للہ الذی لم یتخذ ولم یکن لہ شریک فی الملک ولم یکن لہ ولی من الذل اس جگہ اس کی حمد میں تین صفات سلبیہ مذکور ہوئے تھے کہ ستائش خدا کو ہے کہ جو اولاد اور شریک اور خانیٔ مددگار بنانے سے پاک ہے اور اس کے خاتمہ میں یہ صفات سلبیہ لانا کمال بلاغت تھا کس لیے کہ ابتدائِ سورة میں سبحان الذی الخ تھا اور تسبیح صفات سلبیہ سے ہی ہوا کرتی ہے تاکہ ابتدائِ کلام کو خاتمہ سے مناسبت تامہ رہے مگر حمد ضرور کسی خوبی اور نعمت محمود پر ہوتی ہے تو اس جگہ سورة کو پھر حمد کے ساتھ شروع کیا اور جس پر اس کی حمد و ستائش ہونی چاہیے ان میں سے اس کی بڑی خوبی اور بندوں پر نعمت اس کا ایک ایسی کتاب نازل کردینا ہے جس میں اس کے بھی بہت سے صفات کمال مذکور ہیں اور بندوں کے لیے نجات ابدی کا باعث ہے جس لیے ایک جگہ قرآن کو روح کے ساتھ تعبیر کیا ہے۔ اس سے بڑھ کر بندوں پر اور کیا نعمت ہوگی پھر کتاب بھی کیسی کہ جس میں کوئی بھی کجی نہیں نہ باعتبار الفاظ کے نہ باعتبار معانی کے بلکہ سراسر راست۔ فقال الحمدللہ کہ جملہ ستائش اور تمام خوبیاں اللہ کو ہیں الذی انزل علی عبدہ الکتاب کہ جس نے اپنے بندے محمد ﷺ پر کتاب یعنی قرآن نازل کیا اور کتاب کے دو وصف ذکر فرمائے اول لم یعجل لہ عوجا اس میں کتاب کے کمال ذاتی کی طرف اشارہ ہے۔ دوم قیما جس میں غیر کے لیے مکمل ہونے کی طرف اشارہ ہے یعنی سب خوبیاں اللہ کے لیے ہیں کہ جس نے اپنے بندے محمد ﷺ پر ایسی کتاب یعنی قرآن نازل فرمایا کہ جس میں کچھ کجی اور ٹیڑھ پن نہیں ہر ایک بات اس کی عقل سلیم تسلیم کرتی ہے اور نہ صرف اس میں یہی وصف ہے بلکہ وہ کتاب قیم بھی ہے یعنی بنی آدم کی سعادت دارین کی کسوٹی اور راہ راست اور ان کے تمام مصالح اخروی و دنیوی کی متکفل کیونکہ قیم اس شخص کو بھی کہتے ہیں جو کسی کی مصالح کا متکفل ہوتا ہو۔ قیم کے لیے دو باتیں ضرور ہیں اول یہ کہ جس کا یہ قیم ہو اس کو پیش آنے والی ہلاکتوں سے مطلع کرے اور خوف دلائے۔ دوم اس کے فوائد اور ثمرات اعمال حسنہ اور تدابیر برجستہ کا مژدہ بھی دے تاکہ بری باتوں سے نفرت اور ان تدابیر حسنہ اور اعمال صالحہ کی طرف کامل رغبت ہو اس لیے پہلی بات پوری کرنے کے لیے یہ فرمایا لینذرباساشدیدا من لدنہ کہ قرآن لوگوں کو خدا تعالیٰ کی طرف سے بندوں کو متنبہ کرتا ہے اور خوابگاہ دنیا کی گراں نیند میں سونے والوں کو جگاتا ہے۔ دوسری بات پوری کرنے کے لیے ویبشر المؤمنین فرمایا کہ ایمان والوں کو مژدہ دیتا ہے۔ پھر مومنین کا وصف ذکر کرتا ہے وہ کون ؟ کہ الذین یعلمون الصالحات جو نیک کام کرتے ہوں نہ صرف ایمان لانے پر بس کر بیٹھے ہوں کیونکہ ایمان بغیر اعمال صالحہ کے سعادتِ اُخرویہ تک نہیں پہنچاتا۔ اب ایک تو ان کا ایمان تھا دوم اعمال صالحہ۔ ان دونوں باتوں کے لیے دو انعام کا وعدہ فرمایا جاتا ہے اول ان لہم اجرًا حسنًا کہ ان کے لیے اچھا بدلہ ملے گا یعنی حیات ابدی ‘ بہشت۔ دوم ماکثین فیہ ابدًا کہ وہ اس اجر حسن یعنی بہشت میں ہمیشہ رہا بھی کریں گے یہ نہیں کہ وہ چند روزہ ہو۔ پھر خوف دلانا ایک تو عام لوگوں کو عام باتوں پر ہوتا ہے جیسا کہ لینذر، باسا شدیدا میں ذکر ہوا ایک خاص امر پر خوف دلانا ہوتا ہے جیسا کہ جس گناہ میں کوئی شخص مبتلا ہو اسی کا نتیجہ بیان کیا جائے۔ عرب کے مشرکین فرشتوں اور ارواح غیر مرئیہ کو خدا کی اولاد سمجھ کر ان کی پرستش کیا کرتے تھے، نذرونیاز کرتے تھے، عیسائی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا کہتے تھے بلکہ اب تک کہتے ہیں اور بعض یہود عزیر (علیہ السلام) کی نسبت بھی یہ اعتقاد رکھتے تھے اس لیے ان تینوں فرقوں کی طرف عنان کلام کو پھیرا اور سب ہی پر سرزنش کی۔ فقال وینذرالذین قالوا اتخذ اللہ ولدًا مالہم بہ من علم الخ اس میں یہ بھی بتلایا کہ اس اعتقاد باطل پر ان کے پاس تو کیا ان کے باپ دادا کے پاس بھی کوئی یقین دلانے والی سند نہیں محض تو ہم فاسد ہے۔ یہ ایک تہدید تھی دوم کبرت کلمۃ کہ یہ بری اور سخت بات منہ سے نکال رہے ہیں۔ سوم ان یقولون الخ وہ جھوٹ بکتے ہیں آنحضرت ﷺ دنیا بھر کی اصلاح کے لیے آئے تھے تمام مخلوق کے لیے مجسم رحمت تھے باوجود اس خوف دلانے کے پھر بھی لوگوں کو اس اعتقاد باطل پر اڑے رہتے دیکھ کر ان کے نتیجہ بد کے لحاظ سے مشفقانہ طور پر بہت ہی غم و رنج کھاتے تھے جیسا کوئی شفیق باپ اپنی اولاد کی خراب کن حرکات پر برے نتائج خیال کر کے کڑھا کرتا ہے اور رنج کیا کرتا ہے یہی حال آپ کا تھا اس پر وہ بےنیاز خدا جو رحیم اور رحمن ہونے کے ساتھ جباروقہار منتقم بھی ہے اپنے رسول پاک ﷺ کی تسلی کرتا ہے کہ لعلک باخع الخ کہ کیا آپ ان ناہنجاروں پر کڑھ کڑھ کر مرجائیں گے، اپنے آپ کو اس غم میں ہلاک کر ڈالیں گے یعنی ایسا نہ کرو تمہارا جو کام تھا تم کرچکے۔ اب ایک بات اور تھی جو ایمانداروں، نیکوکاروں کو بسا اوقات خلجان میں ڈالتی ہے بلکہ بعض سست اعتقاد حق پرستی سے پہلوتہی کرنے لگتے ہیں وہ یہ کہ جو قومیں نہ قیامت پر ایمان رکھتی ہیں نہ خدا پر اور اسی طرح وہ بھی جو خدا کے لیے اولاد تجویز کرتے ہیں اور ان کے بھروسے پر طرح طرح کی بدکاری کرتے ہیں کہ یہ ہمارے گناہوں کا کفارہ ہیں یا خواہ مخواہ ہم کو اپنے باپ سے کہہ کر بخشوا دیں گے باوجود اس کے دنیا میں وہ خوب سرسبز ہیں ‘ ان کے پاس دولت حشمت ہر طرح کی کامرانی موجود ہوتی ہے، بڑے مزے اڑاتے پھرتے ہیں اور ہم خدا پرستی کی بدولت اس حالت میں مبتلا ہیں اس لیے جس طرح اپنے رسول پاک ﷺ کی تسلی کی تھی اسی طرح ایمانداروں کی بھی تسلی فرماتا ہے، فقال انا جعلنا ماعلی الارض زینۃ لہا کہ یہ جو کچھ سامان ہم نے پیدا کیا ہے، یہ دنیا کی زینت کے لیے بنایا ہے جو چند روزہ ہے اور دنیا بغیر اس کے مزین نہیں ہوتی، دنیا اسی کا نام ہے۔ یہ آخرت اور نئی زندگانی کی زینت نہیں جو ہمیشہ کے لیے ہے اور یہ سب کچھ اسی لیے بنایا ہے کہ لنبلوہم ایہم احسن عملًا اچھے بروں کا اس میں امتحان ہوجائے اور یوں تو ایک روز یعنی اس دن کہ نئی زندگانی کا جن سے آغاز ہوگا آغاز ہی میں ہم اس سب سامان کو صعیدًا جرزًا کردیں گے سب نیست و نابود ہوجائے گا، نہ وہ عمارات عالیہ رہیں گی ‘ نہ وہ باغ جن کو خلد منزل کہتے تھے، نہ وہ گھوڑے نہ وہ آرائش کا باقی سامان۔ پھر نئی زندگی میں تو ان میں سے کوئی چیز بھی کارآمد نہ ہوگی۔
Ayahs 18:9–16ترکیب : ام منقطعہ مقدر ہے بل کے ساتھ جو ایک بات سے دوسری بات کی طرف انتقال کے لیے آتا ہے۔ جمہور کے نزدیک ہمزہ استفہام اوروں کے نزدیک صرف بل مقدر ہے ای بل احسبت عجبا خبر ہے کانوا کی ومن آیاتنا حال ہے اس سے۔ اذا متعلق ہے اذکر مخدوف سے فضربنا کا مفعول حجابا محذوف، عددا منصوب ہے سنین کی لغت ہو کر المعنی سنین ذات العدد ھذا قول الفرار اور ممکن ہے کہ مفعول مطلق ہو والمعنی تعد عددا ای مرفوع ہے مبتدا ہونے کے سبب اور احصٰی اس کی خبر ہے اور یہ سب جملہ متعلق ہے نعلم سے۔
تفسیر : زینت دنیا جس میں منہمک ہو کر انسان عقبیٰ کو کھو بیٹھتا ہے اور خدا پرستوں کو اپنا ہم خیال نہ سمجھ کر برا جانتا بلکہ ان کو ستاتا بھی ہے اس کی نظیر اصحاب کہف کا واقعہ ہے اس مناسبت سے اصحاب کہف کے واقعہ ـ حیرت خیز کا ذکر شروع ہوا جس کو قریش نے پوچھا تھا۔ جواب کس عمدہ موقعہ پر اور کس عمدہ پیرایہ میں دیا جاتا ہے کہ اس آرائش و سامان چندہ روزہ کی محبت جس میں اغنیاء کے شکر اور غرباء کے صبر کا امتحان ہوتا ہے اصحاب کہف کا واقعہ ہے۔
Ayahs 18:17–19ترکیب : وتری الشمس جملہ ان کے حال بیان کرنے کے لیے تزا اور اصل میں تتز اور ایک تے حذف ہوگئی من الزور بمعنی المیل ذات الیمین اے جھۃ الیمین ذات صفت ہے موصوف کے قائم مقام واقع ہوئی کیونکہ یہ ذوکا مؤنث ہے تقدیر تز اور عن کھفھم جھۃ ذات الیمین۔ فجوۃ مکان کا صحن یا گوشہ اس کی جمع فجوات آتی ہے ایقاظ جمع یقظ و یقظان رقود مصدر سمی المفعول بہ اور جس نے جمع راقد کہا غلطی کی کیونکہ فاعل کی جمع فعول نہیں آتی۔
اصحاب کہف و رقیم کا قصہ : کہف غار کو کہتے ہیں اور رقیم بمعنی المرقوم ای المکتوب پتھر یا سیسے کی وہ لوح کہ جس پر کچھ کتبہ لوگوں نے اصحاب کہف کا مختصر سا حال ایک لوح پر کندہ کر کے اس غار کے دروازہ پر لگا دیا 1 ؎ تھا بعض کہتے ہیں رقیم اس پہاڑ کا نام ہے جس میں وہ غار ہے۔
1 ؎ یہ کتبہ اس غار پر کب لگایا گیا قرینہ یہی جانتا ہے کہ جب بیدار ہو کر وہ شہر میں آئے اور چرچا ہوا پھر اس غار میں جا کر غائب ہوگئے تب لوگوں نے اس غار کے منہ پر یہ کتبہ لگایا ہوگا تاکہ آیندہ نسلوں کو ان کا حال معلوم رہے۔ 12 منہ۔
محمد بن اسحاق نے بیان کیا ہے کہ نضربن حارث قریش میں بڑا شیطان تھا اکثر آنحضرت ﷺ کو ایذائیں دیا کرتا تھا اور وہ حیرہ وغیرہ اطراف عرب میں بھی جایا کرتا تھا وہاں سے رستم و اسفندیار و دیگر ایشیائی بادشاہوں کے قصے سن کر آتا اور حضرت ﷺ کے مقابلہ میں لوگوں کو سنا کر حضرت ﷺ سے روکتا تھا ایک بار وہ اور عتبہ بن ابی معیط دونوں علمائِ اہل کتاب کے پاس گئے انہوں نے کہا کہ تم حضرت ﷺ سے یہ چند باتیں پوچھو جو بمنزلہ اسرار کے ہیں باوجود امی ہونے کے اگر انہوں نے ان واقعات کو تم سے بیان کردیا تو جانیو کہ وہ نبی ہے ورنہ جھوٹا مدعی۔ اول یہ کہ وہ چند آدمی جو غار میں چھپے تھے کون تھے ؟ دوم وہ بادشاہ کون تھا جو شرقاً غرباً مالک ہوگیا تھا ؟ سوم روح کیا ہے ؟ چناچہ وہ آئے اور آ کر قریش کے مشورہ سے حضرت ﷺ سے سوال کیا۔ روح کے سوال کا جواب تو ہوچکا۔ اب اصحاب کہف کا حال بیان ہوتا ہے۔
Ayahs 18:20–22ترکیب : ان یظہروا شرط یرجمو اور یعیدو جواب شرط ولن تفلحوا اذابدا ای ان رجعتم الی دینھم لن تسعدوا فی الدنیا ولافی الآخرۃ اعثرنا اے اطلعنا غیرھم علی احوالھم یقال عثرت علی کذا اے علمۃ یعلموا کا فاعل ضمیر راجع الناس کی طرف۔ اذا ظرف اعثرنا کا۔
تفسیر : اس لیے ان لوگوں کو اصحاب الکہف والرقیم کہتے ہیں۔ فرماتا ہے کہ اے پیغمبر ! کیا آپ ان کو ہماری آیات قدرت میں سے عجیب تر خیال کرتے ہیں ؟ یہ کچھ زیادہ عجیب نہیں اس سے بڑھ کر ہماری نشانیاں ہر روز تمہارے سامنے موجود ہیں وہ کیا ؟ آسمان و زمین کا پیدا کرنا ان میں، چاند و سورج کا حرکت کرنا، ہوائوں کا بدلنا، انسان و حیوان و نباتات و جمادات کی پیدائش وغیرہ وغیرہ۔ یہ قصہ کی تمہید تھی۔ اذاوی الفتیۃ سے ان کا قصہ شروع ہوتا ہے فیۃ فتی کی جمع ہے جس کے معنی جوان کے ہیں اور جمع کی صورت میں چند جوان جیسا کہ صبّیٍ کی جمع صبیۃ آتی ہے یعنی وہ چند جوان اس غار میں آ بیٹھے تو وہاں خدا سے یہ دعا کرنے لگے کہ ہم پر رحمت کر ‘ اس سختی اور تنگی کے وقت ہماری کارسازی کر، فضربنا علیٰ اذانہم خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے ان کے کانوں پر پردے ڈال دیے۔ یہ عرب میں سلانے کے لیے محاورہ ہے کیونکہ خواب میں کانوں پر پردہ پڑا ہوتا 1 ؎ ہے جس سے وہ کسی کی بات نہیں سنتا۔ ثم بعثناھم پھر ان کو ہم نے اٹھایا یعنی بیدار کیا۔ لنعلم ای الحزبین تاکہ ان دونوں جماعتوں میں سے کہ جو ان کی مدت خواب میں اختلاف کرتے تھے ہم کو معلوم ہو کہ کس کو ٹھیک مدت معلوم ہے۔ یا تو بیدار ہونے کے بعد خود انہیں میں اختلاف تھا کہ کوئی ان میں ایک روز اور کوئی آفتاب کو خیال کر کے ایک روز سے کم کہتا تھا یا اس عہد میں لوگوں میں اختلاف تھا کوئی دو سو برس کہتا تھا، کوئی تین سو چناچہ آج تک عیسائی اور اہل اسلام کے مؤرخوں میں اختلاف ہے جیسا کہ آپ کو آگے چل کر معلوم ہوگا اگرچہ خدا تعالیٰ کو ازل میں ہر چیز کا علم تھا اور ہے مگر امتحان کرنا اور اپنا علم حاصل ہونا بندوں کے لحاظ سے فرماتا ہے یا علم اجمالی کے بعد علم تفصیلی مراد
ہے جو بعد وقوع حوادث ہوتا ہے اس کو علم تفصیلی کہتے ہیں۔ نحن نقص الخ سے اجمالاً بیان کر کے پھر اس قصہ کی تفصیل فرماتا ہے جیسا کہ فصحاء وبلغا کا قاعدہ ہے انہم فتیۃ اٰمنوا بربہم کہ وہ چند لوگ تھے جو اپنے رب پر ایمان لائے تھے، بت پرستی سے جو اس عہد میں عام وبا کی طرح پھیلی ہوئی تھی بیزار ہوگئے تھے۔ زدنا ھم ھدی وہ ایمان پر نہایت ثابت قدم اور ایمانداروں میں مخصوص تھے۔ وربطنا علٰی قلوبہم ان کے دلوں کو صبرواستقلال بھی ہم نے دیا تھا جس کی تفصیل یہ ہے کہ جب اس بادشاہ نے ان کو اپنے بتوں کے لیے سجدہ کرنے اور ان کی قربانی کرنے پر مجبور کیا تو انہوں نے علی رئوس الاشہاد صاف کہہ دیا کہ ربنا السمٰوات والارض الخ کہ یہ بت ہمارے خدا نہیں ہمارا خدا تو وہ ہے کہ جو آسمان و زمین کا خدا ہے اگر ہم اس کے خلاف کہیں تو ہم نہایت غلط بات منہ سے نکالیں گے اور ہم کو کبھی فلاح نہ ہوگی اور تم جو ان بتوں کو خدا کہتے ہو ان کی خدائی پر کوئی روشن دلیل کیوں نہیں لاتے۔ یہ تو تمہارے ہاتھوں کے تراشے ہوئے بت ہیں اگر تم ان کو یا وہ جن کی یہ صورتیں ہیں خدائی کا حصہ دار یا اس کے رشتہ دار بناتے ہو (یا ہنود کی طرح اس کی تصویر قرار دے کر جہت عبادت کہتے ہو) تو یہ سب باتیں خدا تعالیٰ پر افتراء و بہتان ہیں کیونکہ نہ اس کا کوئی رشتہ دار ہے نہ شریک خدائی نہ اس بیچوں و بیچگوں کی کوئی صورت ہے۔ جب اس تقریر پر بادشاہ جابر ان پر خفا ہوا اور حکم دیا کہ یا تو سجدہ کرو ورنہ قتل کئے جاؤ گے۔ روئی میں لپیٹ کر جلائے جاؤ گے جیسا کہ اس عہد میں ایمانداروں کی نسبت روم کے قیصر کرتے تھے۔ تب انہوں نے کچھ مہلت طلب کی۔ بادشاہ نے مہلت دی تو اپنے مقام پر آ کر آپس میں یہ مشورہ کیا کہ اذا اعتزلتموھم وما یعبدون الا اللہ فاؤا الی الکہف الخ کہ جب تم نے اس قوم اور ان کے معبودوں کو جو اللہ کے سوا ہیں ترک ہی کردیا اور ان سے کنارہ کشی کرلی تو چلو اس غار میں جا چھپو۔ خدا تعالیٰ وہاں تم کو مصیبت میں نہ ڈالے گا بلکہ تم پر رحمت کرے گا اور تمہارے کام میں آسانی اور کارسازی کرے گا۔ (ان کو اپنے ایمان کامل کی وجہ سے اس بات پر یقین ہوگیا تھا چناچہ اس نے ان کے ساتھ ایسا ہی کیا، اس کی مدد غیبی ایمانداروں پر ہمیشہ اسی طرح ہوا کرتی ہے) ۔ اب آیندہ قصہ کو حذف کردیا (کہ وہ غار میں آ چھپے اور وہاں ان کو
1 ؎ اور نیز جب بچہ کو سلاتے ہیں تو اس کے کان تھپکتے ہیں اس لیے یہ محاورہ ہوگیا۔ 12 منہ
ایسی نیند آئی جو کئی سو برس تک سوتے رہے) ادھر بادشاہ اور ان کے ارکان دولت تلاش کرنے لگے اور جب یہ معلوم ہوا کہ اس کئی میل کے تنگ و تاریک غار میں گھس گئے ہیں جس میں جا کر تلاش کرنا مشکل ہے اور غرض ان کا قتل کرنا تھا سو غار کے منہ پر ایک مستحکم دیوار چن دی کہ بن آئے آپ مر رہیں گے اور دفتر میں یہ حال درج کرا دیا گیا۔ یہ بات اگلے بیان سے سمجھی جاتی ہے اور فصحاء و بلغاء ہمیشہ اس طرح حذف کردینا جزء بلاغت سمجھتے ہیں۔ اب ان کے غار میں رہنے کی کیفیت بیان فرماتا ہے۔ وتری الشمس الی قولہ الملئت منہم رعبا کہ غار میں وہ اس موقعہ پر سوئے کہ طلوع کے وقت آفتاب یعنی دھوپ ان کے دائیں طرف سے ہو کر گزر جاتی تھی اور غروب کے وقت یعنی پچھلے پہر بائیں طرف رہتی تھی۔ ان پر دھوپ نہیں آتی تھی اور وہ کھوہ میں کروٹیں بدلتے رہتے تھے۔ اس قسم کے مکان کی تصویر (کہ جہاں اول دن دھوپ دائیں طرف رہے اور اخیر دن بائیں طرف) علماء کرام نے کئی طور پر کی ہے۔ اول یہ کہ غار کا منہ شمال کی جانب تھا، طلوع کے وقت دھوپ ان کے دائیں سے اور غروب کے وقت بائیں سے ہو کر گزر جاتی تھی جیسا کہ شمال رویہ مکانوں میں ہوتا ہے۔ بیضاوی نے کہف کے درازہ کو بنات النعش ستاروں کے نیچے قرار دیا ہے اور قاعدہ ہیئت پر تقریر کی ہے جس کو سامعین کے قصور فہم کے لیے ترک کرنا پڑا۔ بعض کہتے ہیں کہ خواہ کسی رخ غار کا منہ ہو اور کسی برج کے مقابلہ میں ہو مگر خدائے تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ سے ان کو آفتاب کی شعاع سے بچاتا تھا اس لیے اس کے بعد ذالک من آیات اللہ فرمایا کہ یہ خدا کی عجائبات قدرت میں سے ہے پھر نکتہ چینوں اور کوتاہ بینوں کو تنبیہ کرتا ہے کہ من یہد اللہ فہوا المہتد و من یضلل فلن تجدلہ ولیًا مرشدًا۔ یہ زجاج کا قول ہے۔
دیگر مفسرین کہتے ہیں ان کے اس قدر باقی رہنے کو ذالک من آیات اللہ سے تعبیر کیا ہے اور ان کی ہدایت و ایمان کے لیے من یہد اللہ الخ آیا ہے۔ واللہ اعلم۔ پھر فرماتا ہے تحسبھم ایقاظًا کہ اے دیکھنے والے ! تو ان کو دیکھے تو بیدار جانے، ان کے کروٹیں بدلنے اور آنکھیں کھلی رہنے سے حالانکہ وہ خواب میں تھے اور اپنی قدرت سے ہم نقلبہم ذات الیمین وذات الشمال ان کے دائیں بائیں کروٹیں بدلتے رہتے تھے تاکہ ایک طور پر پڑے رہنے سے زمین ان کو نہ کھا جائے اور اسی حالت سے ان کا کتا بازو پھیلائے غار کی دہلیز پر پڑا ہوا تھا اور ان کے اس تنگ و تاریک مکان میں بالوں اور ناخنوں کے بڑھ جانے سے ایسی مہیب شکل ہو رہی تھی کہ جو کوئی دیکھے تو ڈر کر بھاگ جائے، انسان کی فطرت ہے کہ مہیب شکلوں اور تنگ و تاریک مکانوں سے وحشت ہوتی ہے کیونکہ اس کی روح منور گھبراتی ہے۔ ان الفاظ میں گو خطاب کے صیغے ہیں مگر مراد انسان ہیں عموماً جیسا کہ فصحا ایک طرف خطاب کرتے ہیں اور مراد عام لیا کرتے ہیں۔ پس یہ اعتراض کرنا کہ آنحضرت سرور کائنات ﷺ ڈرپوک تھے جس طرح بچے اور عورتیں ایسے مکانات اور اشکال سے ڈر کر بھاگتے ہیں آپ بھی ایسے ہیں، محض حماقت ہے۔ اس مقام پر بیضاوی وغیرہ مفسرین نے نقل کیا ہے کہ جب امیر معاویہ ؓ نے روم پر چڑھائی کی اور اس شہر اور غار کے پاس پہنچے تو عبداللہ ابن عباس ؓ نے منع کیا کہ آپ اندر آدمی بھیج کر ان کی شکل و صورت دیکھنے کے درپے نہ ہوں کیونکہ خدا تعالیٰ نے خاص آنحضرت ﷺ سے خطاب کر کے فرمایا ہے جو آپ سے بھی بہتر ہیں۔ لولیت منہم فرارًا مگر امیرمعاویہ ؓ نے نہ مانا اور کچھ لوگ بھیجے جو لو سے جل کر مرگئے۔
جب ان لوگوں کے خواب پر جو موت سے مشابہ ہے تین سو نو برس گزر گئے اور اس عہد کے لوگ مرکھپ کر اس کے بعد اور بھی قرن مرکھپ گئے اور اب ایک ایسا زمانہ آیا کہ جس کا بادشاہ بت پرستی چھوڑ کر عیسائی اور حواریین کے مذہب پر تھا مگر اس عہد میں مر کر زندہ ہونے پر باہم بحث تھی ایک فریق منکر تھا، ایک فریق قائل۔ خود بادشاہ کو تردد تھا، خدا تعالیٰ سے التجا کرتا تھا کہ اس امر میں اس کو کوئی شافی دلیل دکھا دے۔ خدا کی قدرت دیکھو کہ اس غار کی دیوار کو مکان بنانے کے لیے کسی نے ڈھانا شروع کیا یہاں تک کہ بالکل ڈھا کر غار کا منہ کھول دیا۔ ادھر دیوار کا گرنا دروازہ کھلنا تھا کہ ادھر خدا نے ان کو بیدار کیا۔ وکذلک بعثناھم کہ جس طرح اپنی قدرت کاملہ سے ہم نے ان کو اس قدر عرصہ تک محفوظ رکھا اسی طرح اپنی قدرت سے اٹھا بھی دیا۔ گویا کہ ازسرنو زندگی عطا کی، اب جو انگڑائیں لیتے آنکھیں ملتے ہوئے اٹھے تو باہم پوچھنے لگے کم لبثتم کہ کس قدر سوئے جواب دیا کہ یومًا او بعض یومٍ ، ایک روز یا کچھ کم کیونکہ سونے والے کو تخمینی مدت معلوم ہوا کرتی ہے۔ غار میں صبح کے وقت داخل ہوئے تھے جب بیدار ہوئے تو پچھلا پہر تھا اس لیے سمجھا کہ ایک دن یا کچھ کم مگر جب اپنے سر کے بال اور ناخن بڑھے دیکھے تو سمجھے کہ ہفتوں تک سوئے ہیں اس لیے کہہ دیا ربکم اعلم بما لبثتم کہ خدا ہی کو خوب معلوم ہے کہ کس قدر سوتے رہے مگر ابھی یہ معلوم نہیں ہے کہ تین سو نو برس گزر گئے ہیں بھوک پیاس معلوم ہوئی تو کہا اپنے میں سے کسی کو شہر کی طرف روپیہ دے کر بھیجو (غار سے تقریباً تین میل یہ شہر طرسوس کہ جس کو افسوس کہتے ہیں واقع تھا کہ جہاں سے یہ بھاگ کر آئے اور یہاں چھپے تھے) چاہیے کہ وہ پاک یا عمدہ کھانا لائے اور اس طرح چھپ کر جائے کہ کسی کو معلوم نہ ہو ورنہ خرابی آجائے گی کیونکہ ان یظہروا علیکم الخ اگر وہ قابو پا جائیں گے تو یا مار ڈالیں گے یا اپنے مذہب میں شریک کریں گے جس میں سراسر خرابی ہے۔ یہ سمجھ رہے ہیں کہ دقیانوس موجود ہے وہی زمانہ ہے ‘ وہی لوگ ہیں پس ایک شخص ان میں سے چلا اور لوگوں سے بچتے ہوئے شہر کے دروازہ پر آیا تو اس کی ہیئت بدلی ہوئی پائی، حیرت ہوئی کہ یہ کیا ہوگیا ! اسی طرح دوسرے درازہ پر گیا تو اس کا نقشہ بھی بدلا ہوا پایا۔ شہر میں آیا تو بازار کی صورت نئی، دکاندار نئے، لوگ نئے، مذہب بھی نیا یعنی انہیں کے خیالات کے مطابق حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قائل۔ حیران تھا کہ الٰہی اس غار کے پاس تو کوئی شہر نہ تھا مگر یہ وہ شہر نہیں نہ اس کے وہ آدمی ہیں آخر ایک دکاندار کو روپیہ دیا کہ بھئی ہمیں اس کی فلاں فلاں چیزیں دے دو ۔ وہ روپیہ ہاتھ میں لیتے ہی حیران رہ گیا کہ یہ کس عہد کا سکہ ہے ! پاس والے کو دکھایا اس نے اور کو، پھر کیا تھا کہ بازار میں بھیڑ لگ گئی۔ پوچھنے لگے کہ سچ بتاؤ تم کون ہو اور یہ روپیہ تم کو کہاں سے ملا ؟ ضرور پرانا دفینہ پایا ہے۔ سچ بتلاؤ نہیں تو پولیس کے حوالہ ہوتے ہو۔ یہ کہہ رہے تھے کہ پولیس آن پہنچی۔ آخر بادشاہ زماں کے روبرو پیش ہوئے۔ اس نے پوچھا سچ بتاؤ تم کون ہو، کہاں کے ہو، یہ روپیہ کہاں سے لائے ہو ؟ آخرالامر اس نے سب سرگزشت بیان کی کہ ہم دقیانوس کے ڈر کے مارے اس غار میں جا چھپے تھے۔ ہمارے یہ نام ہیں آج سوتے ہوئے آنکھ کھلی ہے میں کھانا خریدنے آیا تھا، لوگوں نے میری ہیئت اور سکہ دیکھ کر مجھے پکڑ کر آپ تک پہنچایا۔ اس بادشاہ نے تسلی دی کہ دقیانوس کے زمانہ کو کئی سو برس گزر گئے۔ اب میں بادشاہ عیسائی مذہب رکھتا ہوں۔ ارکان دولت اور بادشاہ نے ان کے نام دفتر کے مطابق پا کر اور دیگر قرائن سے بھی معلوم کرلیا کہ وہی لوگ ہیں سب کو مر کر دوبارہ زندہ ہونے پر یقین 1 ؎ آیا۔ پھر بادشاہ مع ارکان دولت اس کو لے کر غار میں لے گئے وہاں جا کر اس نے کہا پہلے مجھے جانے دو تاکہ وہ بھیڑ دیکھ کر نہ گھبرا جائیں۔ وہ غار میں گیا پھر باہر نہ آیا۔ بادشاہ نے بہت کوشش کی کہ اندر جا کر تلاش کرے مگر قضاء وقدر نے رستہ بھلا دیا اور کوئی اندر تک نہ جاسکا۔ بعض کہتے ہیں کہ بادشاہ مع چند مصاحبوں کے اندر ان کے پاس گیا اور ان سے مل کر آیا اور پھر ان کے کہنے سے غار کا منہ بند کرا دیا۔ (عرائس) اس قصہ کی طرف مجملاً ان جملوں میں اشارہ فرماتا ہے کذلک اعثرنا علیہم یعنی جس طرح اپنی قدرت کاملہ سے انہیں اٹھایا اسی طرح ان کو لوگوں پر ہم نے ظاہر کردیا۔ لیعلموا ان وعداللہ حق وان الساعۃ لاریب فیہا تاکہ ان کو معلوم ہوجائے کہ اللہ کا وعدہ حق اور قیامت کا آنا سچ ہے کیونکہ ان کا اس قدر عرصہ تک سو کر جاگنا ایسا ہی ہے جیسا کہ کوئی مر کر جی اٹھے۔ سو اس بات کا انہوں نے مشاہدہ کرلیا اور جو تین سو نو برس بعد ان کی روح ان کے جسم کے ساتھ متعلق کرسکتا ہے وہ تمام عالم کو ایک مدت کے بعد اسی طرح کھڑا کرسکتا ہے۔ اذیتنا زعون بینہم امرھم یعنی ان کو اس وقت اٹھایا جبکہ وہ باہم اپنے دین کے امر میں جھگڑتے تھے۔ بعض کہتے تھے حشر ابدان کے ساتھ ہوگا بعض صرف روح کا مبعوث ہونا مانتے تھے تاکہ ان کا خلاف دور ہوجائے، یا یہ مراد کہ جب وہ غار میں پھر جاگ کر غائب ہوئے اور وہاں جا کر مرگئے تو بعض کہتے تھے پہلے کی طرح پھر سو گئے یا یہ مراد کہ بعض اس غار پر ایک ایسی عمارت بنانا
1 ؎ اصحاب کہف بیدار ہوتے ہیں۔
چاہتے تھے جس میں ہر کوئی آ کر رہے اور بعض وہاں عبادت گاہ بنانا چاہتے تھے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ فقالوا بنوا علیہم بنیانًا ربہم اعلم الخ ربہم اعلم بہم۔ خدا کی طرف سے جملہ معترضہ ہے ان کے رد میں جو اس عہد میں یا آنحضرت ﷺ کے عہد میں ان کے حالات پر زیادہ بحث کرتے تھے کوئی ان کی کچھ تعداد بتلاتا تھا، کوئی کچھ جس کی تصریح خود کرتا تھا۔ سیقولون ثلثۃ رابعہم کلبہم کہ بعض ان کو تین شخص کہتے ہیں اور چوتھا کتا بتلاتے ہیں۔ یہ یہود کایا بخران کے نصاریٰ کا قول تھا۔ ویقولون خمسۃ سادسہم کلبہم۔ یہ بھی بعض نصاریٰ عرب کا قول تھا کہ وہ پانچ شخص تھے چھٹا کتا تھا۔ ان دونوں قولوں کو رد کرتا ہے۔ رجمًا بالغیب کہ یہ محض قیاسی اور بےتکی باتیں ہیں۔ ویقولون سبعۃ وثامنہم کلبہم کہ وہ سات شخص تھے اور آٹھواں کتا تھا۔ یہ اہل اسلام کا قول تھا حضرت نبی (علیہ السلام) کے بتلانے سے اس قول کی تائید فرماتا ہے۔ قل ربی اعلم بعدتہم مایعلمہم الاقلیل کہ ان کی تعداد تو خدا ہی جانتا ہے اور تھوڑے سے بندے اس کے بتلانے سے جانتے ہیں جن میں اہل اسلام ہیں۔ اسی لیے حضرت علی ؓ 1 ؎ ان کے یہ نام بتلاتے تھے۔ یملیخا، مکثلمینا، مثلینیا، بادشاہ کے دائیں طرف والوں میں سے تھے اور مرنوش، برنوش، شاذنوش بائیں طرف والوں میں سے اور ساتواں ایک چرواہا تھا جو راستہ میں ان کے ساتھ ہو لیا تھا اور ان کے کتے کا نام قطمیر تھا اور شہر کا افسوس۔ (بیضاوی) ۔
جبکہ خدا تعالیٰ نے حضرت کو ان کے حال سے بخوبی مطلع کردیا تو اب اوروں سے پوچھنے اور ان کے امر میں جھگڑا کرنے سے منع فرما دیا۔ فلا تمار فیہم الامرًا ظاھرًا کہ ان کے امر میں زیادہ جھگڑا نہ کرو صرف قرآن کے واقعہ سے خبر دے دو کسی کی تجہیل دور نہ کرو۔ ولاتستفت فیہم منہم احدا۔ اور نہ کسی سے ان کا زیادہ حال دریافت کرو جس میں ان کی لاعلمی اور جہالت ثابت ہونے لگے کیونکہ مکارم اخلاق نبوت سے یہ بھی بعید ہے۔ واضح ہو کہ شہر افسوس یا افسس 2 ؎ جس کو طرطوس بھی کہتے ہیں ایشیائِ کو چک کا ایک شہر ہے اس میں
ارتیمس دیوی کا ایک ایسا مندر تھا جو دنیا کے عجائبات میں شمار ہوتا تھا جس کو ایک شخص نے اپنی شہرت کے لیے اس رات میں جلا دیا کہ جس رات سکندر رومی پیدا ہوا تھا۔ پھر دوبارہ یہ مندر اسی طرح بنایا گیا۔ اس شہر سے تین کوس کے فاصلہ پر ایک پہاڑ ہے جس میں وہ غار ہے کہ جہاں اصحاب کہف غائب ہوئے تھے۔ یہ غار کئی میل تک کا ہے اور اس کی کئی شاخیں ہیں ہیبت ناک درے ہیں یہ شہرقیاصرہ روم کے عہد میں بڑی رونق پر تھا اب اس کے خرابات پڑے ہیں ایک قصبہ سا ہے یہاں حضرت سلطان خلد اللہ ملکہ کی عملداری ہے۔
اس غار پر ایک خانقاہ ہے جس کی عیسائی اور مسلمان دونوں تعظیم کرتے ہیں۔ غالباً یہ وہی خانقاہ ہے جو اصحاب کہف کے برآمد ہونے کے بعد بنائی گئی تھی یا وہی عمارت نہ ہو مگر اس کی جگہ پر عمارت قائم ہے۔
یہ واقعہ اصحاب کہف کا ڈیشیش (دقیانوس) قیصر کے عہد میں ہوا ہے۔ 249 ء کے بعد جب قیصر فیلپوس کی جگہ جو عیسائیوں پر بڑا مہربان تھا ڈیشیش بیٹھا تو یہ پہلے قیصروں سے بھی بڑھ کر عیسائیوں کے حق میں ظالم اور سفاک تھا۔ ان قیصران روم کے عہد میں قسطنطین تک نیرو و قیصر سے لے کر وہ ظلم و زیادتی ہوتی تھی کہ جس کا بیان نہیں۔ یہ روم کے بادشاہ جن کا پایہ تخت ملک اٹلی میں شہر روم تھا اور ان کا لقب قیصر، بت پرست تھے بتوں کی پرستش خصوصاً جو پٹر کی عبادت ان کے ہاں قانوناً فرض تھی۔ جو عدول حکمی کرتا تھا اس کو فہمائش ہوتی تھی پھر کوئی قتل کیا جاتا تھا اور کوئی درندوں کے آگے ڈالا جاتا تھا، کوئی آگ میں ڈال دیا جاتا تھا، کسی کو لوہے کے گرم ستون سے باندھتے تھے جیسا کہ عیسائیوں کی کتب تواریخ کلیسیا میں مصرحاً مذکور ہے۔
1 ؎ اصحاف کہف کے اسما مختلف کتابوں میں مختلف لکھے ہیں مگر صحیح وہی اسماء ہیں جو سیدنا علی ؓ کرم اللہ وجہہ سے منقول ہیں۔ 12 منہ۔
2 ؎ افسیس در مغربی آسیائے صغیرست و مسافت میان او وازمیر تخمیناً سی وہفت میل ست وافسیس قریب بجانب جنوب ازمیر واقع شدہ است دادرالآن ایاز لوک میگویند جغرافیہ فرہاد مرزا۔ صفحہ 432۔ 12 منہ۔
یہ واقعہ اس قیصر کے عہد میں گزرا ہے جیسا کہ لارڈولیم میور اپنی تاریخ کلیسیا کے چھٹے باب صفحہ 246 کے حاشیہ میں لکھتے ہیں قولہ کہتے ہیں افسس کے رہنے والے سات جوان ڈیشیش کے ظلم کی سختی سے شہر چھوڑ کر پاس ہی کسی غار میں جا چھپے تھے اور وہاں دو سو برس تک برابر سوتے رہے اور پھر جب جاگے اور ان میں سے ایک شہر میں گیا تو وہ وہاں تمام حاکم و محکوم کو پورا عیسائی دیکھ کر نہایت تعجب میں آیا۔ یہ نقل اصحاب کہف کی قرآن میں بھی بہت سی خیالی باتوں کے ساتھ مل کر مذکور ہوئی ہے۔ اس میں اس خواب کے ایام بجائے تین سو نو برس لکھے ہیں پس اس کو جس طرح سمجھے مبالغہ صاف ہے۔ گبن کی کتاب کے 33 باب کا آخر دیکھو انتہٰی۔ الغرض ولیم میور صاحب اور گبن صاحب کو جو نئی روشنی کے عہد کے مؤرخ ہیں اس قصہ کی بابت جو قرآن مجید میں مذکور ہے بجز تسلیم کے چارہ نہ ہوا تو ایک مبالغہ کا اتہام لگایا کہ خواب کی مدت میں قرآن نے مبالغہ کیا ہے۔ ولیم میور صاحب اگر ان کی بیداری کا زمانہ متعین بدلائل کرتے تو یہ اتہام پا دریا نہ زیبا تھا ورنہ اس بےتکی رائے کو کتاب الٰہی کے مقابلہ میں کون سنتا ہے۔ خصوصاً آنحضرت ﷺ کے عہد کے نصاریٰ جن سے تخمیناً بہتر 1 ؎ برس پیشتر یہ واقعہ گزرا ہے آنحضرت ﷺ پر غلط بیانی کی صورت میں کیسے کیسے الزام لگاتے اور پھر قریش مکہ کے ہاتھ تو آنحضرت ﷺ کی تغلیظ کے لیے ایک بڑی سند ہاتھ آجاتی حالانکہ وہ شب و روز ایسی ہی باتوں کی تلاش میں رہا کرتے تھے۔
فوائد : (1) سوال ان آیات سے اصحاب کہف کی ایمانداری اور مدح ثابت ہوتی ہے اور اس کا سبب بظاہر دین عیسوی قبول کرنا ہے جس سے معلوم ہوا کہ اس عہد تک دین عیسوی غیرمحرف تھا اور جہاں تک تاریخ کی کتابوں کو دیکھا گیا اس سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس عہد کے عیسائیوں کا بھی یہی عقیدہ تھا جو آج کے زمانہ کے عیسائیوں کا ہے جس سے یہ نتیجہ نکلا کہ آج کل جو مذہب پر الزام تحریف لگایا کرتے ہیں محض تعصب ہے۔
جواب : جس نے مذہب عیسوی کی تاریخیں دیکھی ہیں اس پر یہ بات ہرگز مخفی نہیں کہ حضرات حواریوں کے زمانہ ہی میں اختلاف کی بنیاد
قائم ہوگئی تھی۔ پولوس اور شمعون اور دیگر لوگوں میں جو کچھ اختلاف پڑا وہ خود حواریوں کی تاریخ یعنی کتاب اعمال حواریین ہی سے ثابت ہے جس کو عیسائی انجیل کہتے ہیں اور پولوس کے ناموں سے بھی جو انجیل مانے جاتے ہیں اور پھر بعد میں جو کلیسائوں میں اختلاف ہوا اور مختلف فرقے اول اور دوسری صدی عیسوی میں پیدا ہوئے ان کا بیان کرنا طوالت ہے۔ چوتھی صدی عیسوی میں جب روم کے قیصروں میں سب سے اول قسطنطین عیسائی ہوا اس نے انہیں اختلافات دور کرنے کے لیے اور نیز الوہیت مسیح و دیگر اصول مذہب قائم کرنے کے لیے شہر نائس میں بڑے زوروشور سے ایک انجمن منعقد کی اور پھر برسوں تک انجمنیں منعقد ہوتی رہیں مگر تاہم بہت سے فریق جدا ہی رہے۔ عیسائیوں میں الوہیت مسیح کے منکر بھی باقی رہے اور اب تک عیسائیوں میں ان مخالف فریقوں کے پیرو باقی ہیں۔ پس جب یہ ہے تو اب کون کہہ سکتا ہے کہ افسوس کے عیسائیوں کا مذہب آج کل فرقہ ٔ پر اٹسٹنٹ یا فرقہ ٔ رومن کیتھولک کا مذہب تھا جو آنحضرت ﷺ کی بعثت کے وقت ملکوں میں پھیلا ہوا تھا جس میں بیشمار تحریفات ہیں اور جن کی اصلاح کے لیے نبی آخرالزمان (علیہ السلام) بھیجے گئے ؟ حق یہ ہے کہ اصحاب کہف حواریوں کے اصلی مذہب پر تھے۔ تثلیث والوہیت مسیح سے ان کے کان بھی آشنا نہ تھے ان پر پولوس کی تعلیم کا اثر نہ پڑا تھا۔
(2) اس بات کا کہ اصحاب کہف اس غار میں اب تک سوتے ہیں اور قیامت تک وہیں سوتے رہیں گے یا یہ کہ وہ بیدار ہونے کے بعد غار میں جا کر مرگئے اور نیز یہ کہ آنحضرت ﷺ کے پاس ایک چادر آئی، اس کے چاروں کونے خلفاء اربعہ نے پکڑے اور بیچ میں
1 ؎ قرآن مجید میں تین سو نو برس قمری ہیں جن میں تقریباً نو برس بحساب شمسی گئے باقی تین سو رہے اور یہ واقعہ ہوا دو سو انچاس عیسوی میں اور تین سو برس سوتے رہے اب بیداری ان کی پانچ سو انچاس عیسوی میں ہوئی اور ولادت آنحضرت ﷺ کی تخمیناً پانچ سو ستر عیسوی میں ہے اس حساب سے اصحاب کہف کی بیداری تخمیناً اکیس برس پیشتر حضرت کی ولادت سے ہوئی اور آنحضرت ﷺ کی ہجرت کے وقت تخمیناً بہتر برس کا زمانہ گزرا تھا۔ 12 منہ۔
آنحضرت ﷺ بیٹھے اور اڑا کر فرشتے اصحاب کہف کے پاس لے گئے ان سے حضرت ﷺ نے ملاقات کر کے ان کو اسلام تلقین فرمایا۔ قرآن و احادیث سے پتا نہیں لگتا۔ مؤرخین کی رائیں اور ان کے اقوال ہیں واللہ اعلم۔
Ayah 18:23ترکیب : الا استثنا ہے نہی سے اے لاتقولن لاجل شیء تعزم علیہ انی فاعلہ فیما یستقبل الابان یشاء اللہ اے الا متلبسا بمشیۃ اللہ تعالیٰ قائلاان شاء اللہ۔ ابصربہ اسمع صیغہ ٔ تعجب ہیں۔ بہ کی ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف راجع ہے اور محل اس کا رفع ہے فاعلیت سے اور ب زائد ہے سیبویہ کے نزدیک۔
تفسیر : ولا تقولن الخ۔ مفسرین کہتے ہیں اس آیت کے نازل ہونے کی یہ وجہ ہے کہ جب قریش نے نبی (علیہ السلام) سے اصحاب کہف و ذوالقرنین و روح کا حال دریافت کیا تو آپ نے فرمایا کل بیان کروں گا اور اس کے ساتھ انشاء اللہ نہ کہا۔ اس پر پندرہ دن تک بقول بعض چالیس روز تک وحی بند رہی تب یہ آیت نازل ہوئی کہ کسی کام کرنے کا وعدہ بغیر انشاء اللہ کہے نہ کیا کرو کیونکہ بندے کا ایسا کہنا گویا کارخانہ قضاوقدر میں اپنا استقلال ظاہر کرنا ہے جو عبدیت کیخلاف ہے اور ہدایت فرمائی کہ جب انشاء اللہ کہنا بھول جاؤ تو جس وقت یاد آئے کہ لو۔ اس پر امام شافعی (رح) نے یہ بات نکالی کہ اگر کسی کام کی قسم کھائی اور عرصہ کے بعد انشاء اللہ کہہ لیا تو حانث نہ ہوگا مگر عام فقہا کہتے ہیں ملا کر کہے گا تو معتبر ہوگا کس لیے کہ اذکر ربک سے انشاء اللہ کہنا مراد نہیں بلکہ عموماً یادِ الٰہی مراد ہے یا انشاء اللہ کہنا مراد ہے تو متصلا اور جب قریش کو اصحاب کہف کا حال سن کر تعجب ہوا تو فرمایا کہہ دو عسیٰ ان یہدین کہ اس سے بھی زیادہ اور خبروں کی میں اللہ سے امید رکھتا ہوں کہ وہ مجھے بتائے گا چناچہ صدہا غیب کے اسرار بتائے۔ ولبثو افی کہفہم الخ۔ اس قصہ کا تتمہ ہے۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ اس جملہ میں قل اللہ اعلم بما لبثوا انی کہفہم لوگوں کے قول کو نقل کرتا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ وہ غار میں تین سو نو برس تک سوتے رہے اس لیے بعد میں فرماتا ہے قل اللہ اعلم بما لبثوا الخ کہ اللہ ہی کو خوب معلوم ہے کہ وہ کس قدر ٹھہرے (لوپادری صاحب اب تو کچھ بھی خلاف باقی نہیں رہا) مگر دیگر مفسرین کہتے ہیں کہ یہ خدا تعالیٰ اپنی طرف سے خبر دیتا ہے اور قل اللہ اعلم بما لبثوا اسے اس کی تائید کرتا ہے کہ وہی خوب جانتا ہے کہ وہ کس قدر سوئے کیونکہ وہ آسمانوں اور زمین کی سب چھپی ہوئی باتیں جانتا ہے وہ بڑا سمیع وبصیر ہے نہ کہ تم جو قیاس سے کہتے ہو مالہم من دون اللہ من ولی الخ وہی ان کا یعنی اصحاب کہف کا کارساز ہے جس نے ان کو اس قدر مدت تک سالم رکھا اور اپنے حکم میں کسی کو شریک نہ کیا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس آیت میں اپنا جلال و جبروت ظاہر کرتا ہے تاکہ مخالفین اس کے خلاف کرنے سے ڈریں کہ ان کا کوئی حمایتی نہ پیدا ہوگا اس لیے اس کے بعد حضرت کو بےدھڑک قرآن سنانے کا حکم دیتا ہے۔ واتل ما اوحی الخ کہ کسی کا کچھ خوف و خطر نہ کرو کوئی اس کی بات بدل نہیں سکتا۔ جو وہ کہتا ہے وہی حق ہے وہی ہوگا وہی ہوا ہے آپ اس کی دی ہوئی کتاب کو پڑھا کرو اور لوگوں کو سنایا کرو کسی کے اختلاف کی کچھ پروا نہ کرو۔
ف۔ جنوب ازمیر واقع شدہ است دادا آلان ایازلوک میگونید جعرافیہ فرہاد مرزا 432۔ 12 منہ۔
1 ؎ المہل الحدیہ المناب وقیل الرعی واہ المذاب او الصغیر وقیل و وفانریت ای بایقی فی اسفل الاناء قال ابوعبیدہ ولا خفش ہوا حکرو وہو کل ما اذیب من جواہر الارض من حدید درصاص وانحاس 12 منہ
2 ؎ مرتفقا مئکار واصل الارتفاق نصیب الرفیق تحت وقال النحہ القینی ہو منزل والمجلس 12۔
3 ؎ اساد وقال الرحاج جمع اسورۃ دہی زینۃ تلبس فی الیہ من زینۃ الملوک 12 ف۔
4 ؎ السندنس اسید الرفیق من الحریر واستبرق منہا وھہما جمعان واحد بما استد اواستبرد وقیل مفردان وقیل ابقرق الدیباج المنسوج بالذہب 12 منہ
Ayahs 18:24–271 ؎ یعنی انشاء اللہ کہنا بھول جاؤ تو جب یاد آئے کہہ لیا کرو۔ 12 منہ
Ayahs 18:28–31ترکیب : یریدون حال ہے ضمیر یدعون سے ترید کا فاعل ضمیر ہے جو عینین کی طرف راجع ہے جملہ حال ہے کہ سے یا فاعل لاتعد سے۔ انالا جملہ خبر ہے ان کی۔
تفسیر : پہلی آیتوں میں فرمایا تھا کہ جو کچھ اسباب تجمل دنیا پر ہیں وہ صرف دنیا کی زینت ہے نہ آخرت کی اور وہ فانی اور سریع الزوال ہیں غرور اور دلبستگی ان سے نہ چاہیے کیونکہ وہ اسباب دارآخرت کے لیے حجاب ہیں پھر اس کے متعلق اصحاب کہف کا دلچسپ واقعہ فرمایا تھا جو دنیا کی بےثباتی پر دلالت کرتا تھا۔ کفار قریش ایسے کہاں کے تھے جو اس سے عبرتناک نتیجہ حاصل کرتے بلکہ اس کو بھی ایک دلچسپ داستان سمجھ کر آنحضرت (علیہ السلام) کی طرف متوجہ ہوئے مگر اپنے اسباب دنیا کے غرور میں ان کو فقرائِ مسلمین کے ساتھ آنحضرت ﷺ کے پاس بیٹھنا ناگوار معلوم ہوا۔ جس پر انہوں نے حضرت ﷺ سے درخواست کی کہ یہ لوگ ہمارے وقت میں آپ پاس نہ آیا کریں اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں، واصبر نفسک الی حیوۃ الدنیا کہ آپ انہیں غربا مسلمین کے ساتھ رہا کریں جو صبح و شام اپنے اللہ کو خاص اسی کی رضا کے لیے پکارتے ہیں (صبح و شام سے یا تو ہمہ وقت مراد ہے جو صبح و شام ان کی اطراف سے تعبیر کئے گئے یا صبح و شام سے نماز فجر و مغرب مراد ہے یا بیدار ہونے اور سونے کا وقت کیونکہ سو کر بیدار ہونا گویا مر کر جینا اور رات کو سونا گویا مرنے کا سامان ہے سو ایسے وقتوں میں باخدا لوگ ضرور متنبہ ہوتے اور اس کی شکرگزاری اور یاد کرتے ہیں) اور ان سے آنکھیں نہ پھیرنا کہ امرائِ کفار کی آرائش و تجمل آپ کی آنکھوں میں کھبے اور ان کفار کا کہنا نہ ماننا کہ جن کے دل ہماری یاد سے غافل ہوگئے ہیں اور اپنی نفسانی خواہشوں کے پیرو ہیں اور حد سے گزر گئے ہیں اور کہہ دو امر حق اللہ کی طرف سے آچکا خواہ تم مانو یا نہ مانو۔ پھر آگے نہ ماننے والوں کی سزا جہنم اور آگ کی قنات اور پینے کو کھولتا پانی بیان فرمایا اور ماننے والوں کی جنات عدن اور وہاں کے تجملات اور حقیقی زینت بیان فرما دی۔ سونے کے کنگن اور لباس حریر اور تختوں پر تکیہ لگا بیٹھنا۔