18. Surah Al-Kahf

الكهفThe Cave · 110 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayah 18:1

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ عَلٰى عَبْدِهِ الْكِتٰبَ وَ لَمْ یَجْعَلْ لَّهٗ عِوَجًاؕٚ Open ayah 18:1 in the Quran reader

ساری خوبی اللہ کے لئے ہے جس نے اپنے بندۂ (خاص) پر کتاب نازل کی اور اس (ذرا) کجی نہیں رکھی،1۔

1۔ (نہ لفظی نہ معنوی) (آیت) ” لم یجعل لہ عوجا “۔ اس میں ہر قسم اور ہر درجہ کے عیب سے نفی آگئی، یعنی ایسی کتاب جو ہر پہلو اور ہر جہت سے کامل وجامع، پاکیزہ واجمل ہے۔ نہ کہیں مبالغہ شاعرانہ، نہ عبارت میں کہیں سے تناقص، نہ عقائد میں کوئی پہلو رمزیت اور پراسرار ہونے کا۔ ہر بیان مدلل، ہر حکم واضح۔ اس حقیقت پر اپنوں ہی کی نہیں غیروں کی شہادتیں موجود ہیں کہ دین اسلام کے اندر کسی قسم کا انیچ پینچ، کوئی کجی اور انحراف اور افراط وتفریط نہیں۔ ملاحظہ ہو انگریزی تفسیر القرآن۔ (آیت) ” عبدہ “۔ بندۂ خاص سے مراد رسول اللہ ﷺ کا ہونا اور (آیت) ” الکتب “۔ سے قرآن کا ہونا بالکل ظاہر ہے (آیت) ” انزل علی عبدہ “۔ سے محققین صوفیہ نے یہ نکالا ہے کہ مقام عبدیت کے مثل کوئی مقام نہیں اور رسول اللہ ﷺ اس پر فائز ہیں۔
Ayah 18:2

قَیِّمًا لِّیُنْذِرَ بَاْسًا شَدِیْدًا مِّنْ لَّدُنْهُ وَ یُبَشِّرَ الْمُؤْمِنِیْنَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ اَجْرًا حَسَنًاۙ Open ayah 18:2 in the Quran reader

قائم ومستقیم تاکہ عذاب سخت سے ڈرائے (جو) اللہ کے پاس سے ہوگا اور ایمان والوں کو جو نیک کام کرتے رہتے ہیں خوش خبری سنا دے کہ ان کے لئے (بڑا) اچھا اجر ہے،2۔

2۔ یعنی دوسروں کی زندگیوں کو قائم ومستقیم رکھنے والی) (آیت) ” قیم “۔ دین قیم یا کتاب قیم کے سیاق میں اس کے معنی ہیں، وہ چیز جو نہ صرف خود قائم ہو بلکہ مسائل معاش ومعاد کا بھی پورا حل اپنے اندر رکھتی ہو اور بجائے خود ہی کامل ومکمل نہ ہو بلکہ دوسروں کو بھی تکمیل کرادینے والی ہو۔ قیما اے ثابتا مقویا لامور معاشھم ومعادھم (راغب) قیما بمصالح العباد فیکون وصفا لہ بالتکمیل بعد وصفہ بالکمال (بیضاوی) (آیت) ” لینذرباساشدیدا “۔ یعنی اس غرض سے کہ یہ کتاب کافروں منکروں کو عذاب شدید سے ڈرائے۔” ڈرائے “ کا فاعل کتاب ہے اور مفعول ” کفار ومنکرین “۔ (آیت) ’ ’ یعملون الصلحت “۔ یہاں ایک بحث یہ چھڑ گئی ہے کہ کون کون سے نیک کام مقصود ہیں ؟ اور مختلف حضرات دی ہیں۔ لیکن سب سے بہتر یہ ہے کہ ہر وہ عمل مراد لی جائے جس سے مقصود حق تعالیٰ کی رضا اور جو قواعد شرعی کے مطابق وماتحت ہو۔
Ayah 18:3

مَّاكِثِیْنَ فِیْهِ اَبَدًاۙ Open ayah 18:3 in the Quran reader

جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے،3۔

3۔ انعام بڑا اور بہت بڑا، وہم و گمان سے بھی بڑا تو بہرحال ہو ہی گا ساتھ ہی اس کے دائمی، ابدی، غیرمنقطع بھی ہوگا۔ (آیت) ” فیہ “ یعنی اس مقام اجر یا جنت میں۔
Ayah 18:4

وَّ یُنْذِرَ الَّذِیْنَ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًاۗ Open ayah 18:4 in the Quran reader

اور ان لوگوں کو ڈرائیے جو کہتے ہیں کہ خدا نے ایک بیٹابنایا ہے،4۔

4۔ یعنی مسیحیوں کو، جو رسول کو خدا کو بیٹا مانے ہوئے ہیں۔ اتخذ اللہ ولدا “۔ اتخاذولد پر حاشیہ سورة البقرۃ (پ 1) میں گزرچکا (آیت) ” وینذرالذین “۔ قرآن مجید کی عام انذاری حیثیت کا ذکر تو ابھی ابھی (آیت) ” لینذر باساشدیدا “۔ میں آچکا ہے، اب اس پر اس (آیت) ” ینذر الذین “ الخ۔ کے عطف کے معنی یہ ہوئے کہ پہلی تہذیدوتنبیہ تو عام تھی سارے منکروں اور ہر قسم کے کافروں کیلئے اور یہ جدید تہدید وتنبیہ خصوصیت کے ساتھ ہے اسی عقیدۂ ولدیت والے کافروں یعنی مسیحیوں کے لئے۔
Ayah 18:5

مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ وَّ لَا لِاٰبَآئِهِمْ١ؕ كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ اَفْوَاهِهِمْ١ؕ اِنْ یَّقُوْلُوْنَ اِلَّا كَذِبًا Open ayah 18:5 in the Quran reader

اس (دعوی) پر کوئی دلیل نہ ان کے پاس ہے اور نہ ان کے باپ دادوں کے پاس تھی بڑی بھاری بات ہے جو ان کے منہ سے نکلتی ہے یہ لوگ بالکل ہی جھوٹ بکتے ہیں،5۔

5۔ (اور ایسا مہمل اور خرافی عقیدہ رکھے ہوئے ہیں جو واقعہ کے خلاف تو ہے ہی، خود عقل کے بھی خلاف ہے اور جس کے صدق کا امکان ہی نہیں، بلکہ وہ عقلا ممتنع ہے) عقائد شرکیہ مہمل تو سب کے سب ہی ہیں۔ لیکن حق تعالیٰ کے لئے بیٹا فرض کرنا اور بھی گستاخانہ اور سب سے بڑھ کر کر یہ ومکروہ ہے جیسا کہ قرآن مجید کے اس زجر تاکیدی سے ظاہرہورہا ہے۔ ملاحظہ ہو انگریزی تفسیر القرآن۔ (آیت) ” مالھم بہ من علم یعنی کسی قسم کی بھی دلیل عقلی اور کوئی بھی سند نقلی تو ان لوگوں کے پاس نہیں ہے۔ علم یہاں سند اور دلیل کے معنی میں ہے۔ (آیت) ” من علم “۔ من زائد، تاکید نفی کے لئے ہے (آیت) ” الابآءھم “۔ یعنی ان کے احمق اسلاف جو اس قدر لغو، مہمل اور گستاخانہ عقیدہ کے موجد ہوئے ہیں۔ لفظ باء سے عجب نہیں جو ایک لطیف اشارہ پادریوں کے لقب کی جانب ہو۔ (آیت) ” کبرت۔۔۔ افواھم “۔ ان کی زبانیں کیسے شدید گستاخانہ عقیدہ کا تلفظ کررہی ہیں !
Ayah 18:6

فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ اِنْ لَّمْ یُؤْمِنُوْا بِهٰذَا الْحَدِیْثِ اَسَفًا Open ayah 18:6 in the Quran reader

سو شاید آپ ان کے (اعراض کئے) پیچھے غم سے اپنی جان دے دیں گے اگر یہ لوگ اس مضمون (قرآنی) پر ایمان نہ لائے،6۔

6۔ (جیسا کہ آپ ﷺ کے شدت حزن اور افراط فکر اصلاح سے ظاہر ہورہا ہے) اس میں آنحضور ﷺ کو ممانعت ہورہی ہے کہ افراط شفقت سے اتنا غم ان نالائقوں کی خاطر نہ اٹھائیے کہ خود قریب بہ ہلاکت پہنچ جائیے (آیت) ” علی اثارھم “۔ یعنی ان کے اعراض و انکار کے بعد۔ اذا ولوا عن الایمان (بیضاوی)
Ayah 18:7

اِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَى الْاَرْضِ زِیْنَةً لَّهَا لِنَبْلُوَهُمْ اَیُّهُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا Open ayah 18:7 in the Quran reader

ہم نے (اس) زمین پر جو کچھ ہے اسے اس کے لئے باعث رونق بنایا تاکہ ہم لوگوں کی آزمائش کریں کہ ان میں کون بہتر ہے عمل کے لحاظ سے،7۔

7۔ (اور کون ناقص و قاصر ٹھہرتا ہے) یہ گویا آیت سابق ہی کے مضمون کا تکملہ ہے۔ اور رسول اللہ ﷺ سے ارشاد ہورہا ہے کہ یہ تو عالم ابتلاء ہے اس میں تکوینا لازمی ہے کہ کوئی مبتلائے کفر ہو اور کوئی مشرف بہ ایمان اس لیے آپ کا غم مفرط بیکار ہے۔ (آیت) ” ما علی الارض زینۃ لھا “۔ اس روئے زمین پر زینت و آرائش کی جتنی بھی چیزیں ہیں، بجائے خود ان میں سے کوئی بھی حرام نہیں۔ صرف ان کا غلط طریقہ استعمال انہیں ناجائز بنا دیتا ہے، صحیح طریقہ استعمال وہی ہے جو شریعت کے ماتحت ومطابق ہو۔
Ayah 18:8

وَ اِنَّا لَجٰعِلُوْنَ مَا عَلَیْهَا صَعِیْدًا جُرُزًاؕ Open ayah 18:8 in the Quran reader

اور ہم اس پر کی تمام چیزوں کو ایک صاف میدان کردیں گے،8۔

8۔ (اور اپنی صنعت ایجاد کے بعد حکمت اعدام کا بھی نمونہ دکھادیں گے) یعنی یہی آباد وسرسبز، شاداب و گلزار بارونق وپربہار زمین ایک روز چٹیل میدان ہوجائے گی، اور اس کائنات کی ساری رعنائیوں اور دلفریبیوں پر فنا طاری ہو کر اور قیامت آکر رہے گی، اور اس حشر کے بعد سب کی جزاوسزا ہر ایک کے مناسب حال واقع ہوگی۔
Ayah 18:9

اَمْ حَسِبْتَ اَنَّ اَصْحٰبَ الْكَهْفِ وَ الرَّقِیْمِ١ۙ كَانُوْا مِنْ اٰیٰتِنَا عَجَبًا Open ayah 18:9 in the Quran reader

کیا آپ خیال کرتے ہیں کہ غار والے اور کتبہ والے ہماری نشانیوں میں کچھ تعجب کی چیز تھے ؟ ،9۔

9۔ قریش نے یہود کے اشارہ سے آنحضور ﷺ سے جو چند سوالات کیے تھے، ان میں سے ایک یہ تھا کہ اصحاب کہف کون اور کیا تھے ؟ قرآن مجید اس کے جواب میں ان کا صحیح قصہ بیان کرتا ہے۔ ، (آیت) ” الکھف “۔ کھف کے لفظی معنی وسیع پہاڑی غار کے ہیں۔ الکھف الغار الواسع فی الجبل (کبیر) (آیت) ” اصحب الکھف “۔ کے کھلے ہوئے معنی ہیں غار والے۔ عام اس سے کہ وہ غار کہیں کا ہو۔ (آیت) ” الرقیم “۔ رقیم سے مراد کتبہ یا لوح مزار ہے۔ اصحاب کہف کے مزار پر ایک برنجی تختی لگا دی گئی تھی، جس پر ان کے نام، نسب اور مختصر حکایت درج تھی، اور اسی مناسبت سے یہ اصحاب الرقیم بھی کہلائے۔ لوح وصاص نقش فیہ تسبھم واسماءھم وقصصھم ودینھم لامم ھربوا ونقل ذلک عن الفراء ونقلہ السھیلی ایضا والجوھری (تاج) دوسرے معنی اس مقام یا پہاڑ یا وادی کے کیے گئے ہیں جہاں وہ غار واقع تھا، یا اس شہر کے جہاں سے اصحاب کہف ہجرت کرکے گئے تھے، ھی قریۃ اصحب الکھف التی خرجوا منھا وفی تفسیر الزجاج کانوا فیھا اوجبلھم الذی فیہ الکھف اوالوادی الذی فیہ الکھف (تاج) لیکن ابن عباس ؓ صحابی اور تابعین سے وہی پہلے معنی منقول ہیں۔ الرقیم ھو اللوح من رصاص فیہ اسماء الفتیۃ وقصتھم (ابن عباس ؓ عن سعید بن جبیر قال لوح من حجارۃ کتبوا فیہ قصص اصحاب الکھف ثم وضعوہ علی باب الکھف (ابن جریر) لوح او حجر او شیء کتب فیہ کتاب وقد قال اھل الاخبار ان ذلک لوح کتب فیہ اسماء اصحاب الکھف (ابن جریر) شہر افسوس (بہ کسرۂ اول) جس کے کھنڈر پر موجودہ شہر ایاسلوک قائم ہے۔ سمرنا سے 36 میل اور سمندر سے کل 6 میل کے فاصلہ پر ایشیائے کو چک میں واقع تھا اور اسی کی نواح غالبا یہاں مراد ہے۔ مسیحی ادبیات میں اس کا ذکر کثرت سے آتا ہے۔ ہمارے قدیم جغرفیہ نویسوں نے بھی اس کا ذکر اسی حیثیت سے کیا ہے۔” شہر ہے ثغور طرسوس میں، اس کو شہر اصحاب کہف کہتے ہیں “ (مراصد الاطلاع یا قوت حموی ترجمہ اردو)
Ayah 18:10

اِذْ اَوَى الْفِتْیَةُ اِلَى الْكَهْفِ فَقَالُوْا رَبَّنَاۤ اٰتِنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً وَّ هَیِّئْ لَنَا مِنْ اَمْرِنَا رَشَدًا Open ayah 18:10 in the Quran reader

(وہ وقت قابل ذکر ہے) جب ان نوجوانوں نے غار میں جا کر پناہ لی،10۔ پھر بولے اے ہمارے پروردگار ہمیں اپنے پاس سے رحمت (وفضل) عطا کر اور ہمارے لئے (اس) کام میں درستی کا سامان کردے،11۔

10۔ یہ لوگ کون اور کس زمانہ کے تھے ؟ قرآن مجید کو بحث وسروکار چونکہ صرف بصیرتوں وعبرتوں اور اخلاقی اسباق ونتائج سے رہتی ہے اس لیے وہ تاریخی وجغرافی تفصیلات کو اکثر نظر انداز کردیتا ہے اور اس باب میں احادیث صحیح بھی تفصیل سے خاموش ہیں۔ مفسرین قدیم وجدید کی اکثریت نے اسے مسیحی دور کی حکایت قرار دیا ہے۔ رومی شہنشاہ ڈی سیس یا دقیانوس (متوفی۔ 251 ء) اپنے مذہب بت پرستی میں غلورکھتا تھا۔ مسیحی مذہب نیانیا اسی کے زمانہ میں سلطنت روم میں پھیل رہا تھا۔ اس نے عیسائی موحدین پر سختی شروع کی، اس سے تنگ آکر چند شریف نوجوان شہر سے نکل کھڑے ہوئے اور قریب کے ایک پہاڑی غار میں جا کر پناہ لی، وہاں ان پر ایک غیر طبعی، بلکہ خارق عادت نیند مسلط ہوگئی اور وہ کچھ اوپر تین سو سال تک سوتے رہے اور جب ایک اعجازی انداز سے جاگے تو خود رومی حکومت کا مذہب اسی درمیان میں شرک سے مسیحیت میں تبدیل ہوچکا تھا۔ لیکن حافظ ابن کثیر نے اپنا خیال غالب یہ ظاہر کیا ہے کہ یہ قصہ ظہور مسیح (علیہ السلام) سے قبل دور یہودیت کا ہے۔ ورنہ یہود اتنا اس کے کھوج میں نہ رہتے اور اس قدر اعتناد والتفات اس کی جانب نہ کرتے، وقد ذکرانھم کانوا علی دین المسیح عیسیٰ ابن مریم فاللہ اعلم۔ والظاھر انھم کانوا قبل ملۃ النصرانیۃ بالکلیۃ فانھم لوکانوا علی دین النصرانیۃ لما اعتنی احبار الیھود بحفظ خبرھم (ابن کثیر) ہمارے زمانہ کے بھی بعض مصنفین نے حکایات اسرائیل سے یہ اخذ کیا ہے کہ یہ قصہ 161 ق ؁ م کا ہے۔ جب ملک شام کے ظالم بادشاہ (انطیوکیس) چہارم نے بیت المقدس کو مسمار کرکے اس کی جگہ زلمیس دیوتا کے مندر کی بنا ڈالی تھی اور مکابی خاندان کے پانچ یا سات بہادر نوجوان پہاڑ کے غار میں پناہ گزین ہو کر راہ حق میں شیہد ہوگئے تھے حق یہ ہے کہ جس قصہ کو حق تعالیٰ نے خود ہی مجمل رکھا ہو اور رسول ﷺ نے بھی اس کی تفصیل پر اعتنا کرنا ضروری نہ سمجھا ہو۔ اس کی تعیین جزم ووثوق کے ساتھ کرنا ہے بھی مشکل۔ اور پھر احکام دین میں سے کسی کا دارومدار اس تفصیل وتعیین پر ہے بھی نہیں۔ فقہاء نے آیت یہ نکالا ہے کہ خوف فتنہ کے وقت انسان پر لازم ہے کہ اپنا دین سلامت لے کر اس مقام سے چلا جائے اور کلمہ کفر کے تلفظ سے تقیۃ بھی احتراز رکھے۔ فیھا الدلالۃ علی ان علی الانسان ان یھرب بدینہ اذا خاف الفتنۃ فیہ وان علیہ ان لا یتعرض لاظہار کلمۃ الکفر وان کان علی وجہہ التقیۃ (جصاص) 11۔ یعنی ہمیں مقصد میں بھی کامیاب کر، اور ہمارے لیے ذرائع اور سامان بھی اپنی مرضیات کے مطابق مہیا کردے، فقہا کردے فقہاء نے یہاں سے یہ استنباط کیا ہے کہ جب انسان اپنے دین کے لیے خوف فتنہ سے ترک وطن کرے تو اسی طرح کی دعا حق تعالیٰ سے کرے کہ حق تعالیٰ نے اس دعا کو موقع مدح واستحسان میں پیش کیا ہے۔ یدل علی انہ اذا اراد الھرب بدینہ خوف الفتنۃ ان یدعوا بالدعاء الذی حکاہ اللہ عنھم لان اللہ قد رضی ذلک من فعلھم واجاب دعاء ھم وحکاہ لنا علی جھۃ الاستحسان (جصاص)
Ayah 18:11

فَضَرَبْنَا عَلٰۤى اٰذَانِهِمْ فِی الْكَهْفِ سِنِیْنَ عَدَدًاۙ Open ayah 18:11 in the Quran reader

سو ہم نے غار میں ان کے کانوں پر سالہا سال تک (نیند کا) پردہ ڈالے رکھا،12۔

12۔ یعنی ایسے غافل ہوکرسوئے کہ کوئی آواز بھی ان کے کان میں نہ پہنچتی تھی۔ اے انمناھم انامۃ لاتنبھھم فیھا الاصوات (بیضاوی) (آیت) ” ضربنا علی اذانھم “۔ ضرب اذان سے عربی محاورہ میں کنایہ ہوتا ہے۔ (آیت) ” سنین عددا “۔ عدد کا اضافہ یا تو تاکید کے لیے ہے اور یا کثرت عدد کے اظہار کے لیے ہے۔ ذکر اللہ علی سبیل التاکید وقیل ذکرہ یدل علی اکثرۃ (معالم)
Ayah 18:12

ثُمَّ بَعَثْنٰهُمْ لِنَعْلَمَ اَیُّ الْحِزْبَیْنِ اَحْصٰى لِمَا لَبِثُوْۤا اَمَدًا۠ Open ayah 18:12 in the Quran reader

پھر ہم نے انہیں اٹھایا تاکہ ہم معلوم کریں کہ (ان) دونوں گروہوں میں کون گروہ (اس حالت میں) رہنے کی مدت سے زیادہ واقف ہے،13۔

13۔ جب وہ لوگ اس خارق عادت نیند سے جاگے تو ان میں آپس میں یہ بحث شروع ہوگئی کہ ہمیں سوتے ہوئے کتنی مدت گزری (آیت) ” بعثنھم “۔ اس گہری طویل نیند سے انہیں بیدار کیا۔ (آیت) ” لنعلم “ ‘۔ یعنی تاکہ ہم اپنے اس علم کو خلق کے روبروہی مشاہدۃ وعیانا لے آئیں۔ اے لنظھرلھم ماعلمناہ من امرھم (بحر) (آیت) ” الحزبین “۔ دو گروہوں سے مراد یا تو وہی اصحاب کہف کے اندر کے دو گروہ ہیں۔ یا ایک طرف وہ جاگنے والے اصحاب کہف اور دوسری طرف ان کے معاصر اہل شہر، اور جمہور اسی طرف گئے ہیں۔ وقال ابن عطیۃ والظاھر ان الحزب الواحد ھم الفتیۃ اے ظنوا بعثھم قلیلا والحزب الثانی ھم اھل المدینۃ الذین بعث الفتیۃ علی عھدھم وھذا قول الجمھور من المفسرین (بحر)
Ayah 18:13

نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْكَ نَبَاَهُمْ بِالْحَقِّ١ؕ اِنَّهُمْ فِتْیَةٌ اٰمَنُوْا بِرَبِّهِمْ وَ زِدْنٰهُمْ هُدًىۗۖ Open ayah 18:13 in the Quran reader

ہم ہی ان کا قصہ آپ سے ٹھیک ٹھیک بیان کرتے ہیں،14۔ یہ لوگ چندنوجوان تھے جو اپنے پروردگار پر ایمان لائے تھے اور ہم نے انہیں ہدایت میں ترقی دی تھی،15۔

14۔ (اس افراط وتفریط، مبالغہ بیانی، وحاشیہ آرائی سب سے الگ کرکے جو عام طور سے اس قصہ سے متعلق شائع ہوچکی تھی) 15۔ (کہ وہ تثلیث کے بجائے حسب تعلیم مسیح (علیہ السلام) توحید ہی پر قائم رہے) (آیت) ” امنوا بربھم “۔ یعنی اپنے وقت کی باطل پرستیوں کو چھوڑ انہوں نے دین توحید اختیار کیا۔
Ayah 18:14

وَّ رَبَطْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اِذْ قَامُوْا فَقَالُوْا رَبُّنَا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَنْ نَّدْعُوَاۡ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلٰهًا لَّقَدْ قُلْنَاۤ اِذًا شَطَطًا Open ayah 18:14 in the Quran reader

اور ہم نے ان کے دل مضبوط کردیئے تھے جب وہ لوگ (پختہ اور) مستعد ہوگئے،16۔ تو بولے ہمارا پروردگار وہی تو ہے جو آسمانوں اور زمین کا پروردگار ہے ہم تو اس کے علاوہ کسی معبود کو نہ پکاریں گے ورنہ پھر تو ہم بڑی ہی بیجا بات کے مرتکب ہوں گے،17۔

16۔ (اور دین حق سے انہیں نہ کوئی ترغیب اور طمع پھیر سکی اور نہ کوئی دھمکی اور تخویف بھی) ڈی سیس (دقیانوس) رومل کے زمانہ میں موحد مسیحیوں پر (جو پولوس کی مشرکانہ تعلیم سے متاثر نہیں ہوئے تھے) جو جو مظالم اور جبر وستم ہوئے تھے وہ تاریخ کے صفحات میں محفوظ ہیں۔ ملاحظہ ہو انگریزی تفسیر القرآن۔ (آیت) ” وربطنا علی قلوبھم “۔ یعنی ہم نے ہمت، صبر، ثبات و استقلال دیکر ان کے دل مضبوط کردیئے تھے۔ 17۔ ان سب اقوال سے جو بار بار اصحاب کہف کی زبان سے نقل ہوئے ہیں، یہ صاف ظاہر ہورہا ہے کہ وہ ہر طرح کے شرک سے بیزار اور توحید میں کامل وراسخ تھے، وہ مسیحی اگر تھے بھی تو صحیح معنی میں۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نبی کے لائے ہوئے دین کے متبع تھے، نہ کہ پولوسی وتثلیثی نام نہاد ” مسیحیت “ کے ! (آیت) ” لن ندعوامن دونہ الھا “۔ اس انکار وتردید سے ظاہر ہورہا ہے کہ ان سے فرمائش شرک وبت پرستی کی کی جارہی تھی۔ (آیت) ” ربنا رب السموت والارض “۔ قدیم رومی مذہب میں زمین و آسمان کے مستقل دیوتا الگ الگ تھے۔ یہاں اسی کی تردید میں توحید کا اثبات ہورہا ہے۔
Ayah 18:15

هٰۤؤُلَآءِ قَوْمُنَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً١ؕ لَوْ لَا یَاْتُوْنَ عَلَیْهِمْ بِسُلْطٰنٍۭ بَیِّنٍ١ؕ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًاؕ Open ayah 18:15 in the Quran reader

ان لوگوں (یعنی) ہماری قوم والوں نے اللہ کے علاوہ اور معبود قرار دے رکھے ہیں یہ لوگ ان معبودوں کے وجود پر کوئی کھلی دلیل کیوں نہیں لائے ؟ سو اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہے جو اللہ پر جھوٹ تہمت لگائے ؟ ،18۔

18۔ یعنی اس کی ذات وصفات میں کسی شرکت کا گزر سمجھے۔ (آیت) ” لولایاتون علیھم بسلطن بین “۔ یہاں دلیل کا مطالبہ مشرکوں سے کیا ہے کہ تم اپنے دھرم کی حقانیت کے اگر قائل ہو تو لاؤ کوئی دلیل پیش کرکے تو دکھاؤ۔
Ayah 18:16

وَ اِذِ اعْتَزَلْتُمُوْهُمْ وَ مَا یَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰهَ فَاْوٗۤا اِلَى الْكَهْفِ یَنْشُرْ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَ یُهَیِّئْ لَكُمْ مِّنْ اَمْرِكُمْ مِّرْفَقًا Open ayah 18:16 in the Quran reader

پھر جب تم انہیں بھی چھوڑ چکے اور ان معبودان غیر اللہ کو بھی، تو اب (فلاں) غار میں چل کر پناہ لوتم پر تمہارا پروردگار اپنی رحمت پھیلا دے گا اور تمہارے کام میں کامیابی کا سامان درست کردے گا،19۔

19۔ یہ سب گفتگو اہل توحید کے آپس میں بہ طور مشورہ ہورہی ہے۔ (آیت) ” اعتزلتموھم “۔ میں ضمیر ” ھم “۔ انہیں مشرک قوموں کی جانب ہے۔ (آیت) ” فاؤا الی الکھف “۔ فلاں غار میں چل کر پناہ لو، کہ وہاں حکومت کے جو ور ستم سے بھی امن ملے گا اور اپنے طور پر ذکر و عبادت بھی بہ اطمینان و فراغت ہوسکے گی (آیت) ” ینشر۔۔۔ مرفقا “۔ مخلص اہل توحید کا تکیہ واعتماد اپنے پروردگار کی رحمت و ربوبیت پر اسی طرح ہوتا ہے۔
Ayah 18:17

وَ تَرَى الشَّمْسَ اِذَا طَلَعَتْ تَّزٰوَرُ عَنْ كَهْفِهِمْ ذَاتَ الْیَمِیْنِ وَ اِذَا غَرَبَتْ تَّقْرِضُهُمْ ذَاتَ الشِّمَالِ وَ هُمْ فِیْ فَجْوَةٍ مِّنْهُ١ؕ ذٰلِكَ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ١ؕ مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ وَلِیًّا مُّرْشِدًا۠ Open ayah 18:17 in the Quran reader

اور جب دھوپ نکلتی ہے تو تو اسے دیکھے گا کہ وہ ان کے غار سے داہنی جانب کو بچی رہتی ہے اور جب وہ چھپتی ہے تو وہ ان سے کترا جاتی ہے بائیں جانب اور وہ اس (غار) کے ایک کشادہ موقع میں تھے،20۔ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے،21۔ جسے اللہ ہدایت دیتا ہے وہی ہدایت پاتا ہے اور جسے وہ بےراہ کردیتا ہے تو آپ اس کے لئے نہ پائیں گے کوئی مددگار راہ بتانے والا،22۔

20۔ (اس لئے نہ ہوا سے محروم تھے نہ روشنی سے) کوہستانی غار اکثر ایسے ہوتے ہیں کہ اندر ہی اندر بہت دور تک چلے جاتے ہیں۔ کہیں تنگ اور کہیں کشادہ۔ یہ جگہ جہاں یہا اصحاب کہف اہل توحید مقیم تھے تنگ نہ تھی۔ خوب کشادہ تھی (آیت) ” وتری الشمس اذا طلعت “۔ یعنی اے مخاطب تو آفتاب کو اس کے طلوع کے وقت وہاں یوں دیکھتا۔ شہر افسوس کا عرض البلد درجہ 30 شمال ہے۔ ایسے مقام پر جو غار شمال رویہ ہوگا۔ اس کے اندر سورج کی شعاعیں قدرۃ داخل نہ ہوسکیں گی، اور اس کے اندر کے رہنے والے اگر شمال ہی کی طرف رخ رکھیں گے تو دھوپ کی تیزی سے برابر امن میں رہیں گے۔ ملاحظہ ہو انگریزی تفسیر القرآن (آیت) ” تزور۔۔ الشمال “۔ یعنی دھوب نہ ان پر چڑھتے وقت پڑتی تھی، اور نہ ڈھلتے وقت، غار کی وضع وہیئت ہی ایسی تھی کہ غارنشین دھوپ کی اذیت سے امن میں رہتے۔ (آیت) ” ذات الیمین۔ ذات الشمال “۔ مفسر تھانوی (رح) نے کہا کہ یہ غار کی داہنی اور بائیں جانب یا تو اس میں داخل ہونے کے اعتبار سے ہے یا اس سے خارج ہونے کے، تقدیر اول پر وہ غار شمال رویہ ہوگا۔ اور تقدیر ثانی پر جنوب رویہ، ورنہ شرق رویہ یا غرب رویہ ہونے کی صورت میں یا تو ان پر طلوع کے وقت دھوپ پڑتی اور یا غروب کے وقت۔ 21۔ یعنی یہ قصہ جو اوپر مع اپنے جزئیات وتفصیلات کے بیان ہوا، یہ حق تعالیٰ کی قدرت، حکمت و ربوبیت کی نشانیوں میں سے ہے۔ 22۔ یعنی چاہئے تو یہ تھا کہ اس طرح کے نشانوں کو دیکھ کر سب ہی توحید کے قائل ہوجاتے لیکن ہدایت وہی پاتا ہے جس کے شامل حال توفیق الہی ہوتی ہے اور جسے وہ ان کے پاداش عمل میں اپنے قانون تکوینی کے ماتحت گمراہ ہی رکھنا چاہتا ہے۔ ان کی ہدایت یابی کی بھی کوئی صورت نہیں۔
Ayah 18:18

وَ تَحْسَبُهُمْ اَیْقَاظًا وَّ هُمْ رُقُوْدٌ١ۖۗ وَّ نُقَلِّبُهُمْ ذَاتَ الْیَمِیْنِ وَ ذَاتَ الشِّمَالِ١ۖۗ وَ كَلْبُهُمْ بَاسِطٌ ذِرَاعَیْهِ بِالْوَصِیْدِ١ؕ لَوِ اطَّلَعْتَ عَلَیْهِمْ لَوَلَّیْتَ مِنْهُمْ فِرَارًا وَّ لَمُلِئْتَ مِنْهُمْ رُعْبًا Open ayah 18:18 in the Quran reader

اور (تو ان کو دیکھتا تو) تو ان کو جاگتا ہوا خیال کرتا درآنحالیکہ وہ سوئے ہوئے تھے،23۔ ہم ہی انہیں کروٹ دلاتے رہتے ہیں داہنی طرف بھی اور بائیں طرف بھی۔ اور ان کا کتا دہلیز پر اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے (بیٹھا) تھا،24۔ اگر تو انہیں جھانک کر دیکھتا تو تو ان سے پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑا ہوتا اور تیرے اندر ان کا رعب سما جاتا،25۔

23۔ یعنی اے مخاطب جس وقت وہ غار میں تھے، اور ہم نے اعجازی رنگ میں ان پر نیند مسلط کر رکھی تھی تو اگر انہیں کہیں دیکھ پاتا تو ان کے نورانی چہروں کی رونق وتازگی دیکھ کر انہیں جاگتا ہوا ہی سمجھتا۔ نوم ثقیل وغریق کی کوئی ظاہری علامت ان میں نمایاں نہ تھی محققین عارفین نے کہا ہے کہ اسی طرح ذاکر بیدار دل حالت خواب میں بھی ایسا بیخبر نہیں ہوجاتا گوسوتے ہوئے کی طرح بےحس نظر آئے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ یہ مثال ہے ان لوگوں کی جن کے جسم خلق کیساتھ مشغول ہیں اور قلب حق تعالیٰ کے ساتھ۔ 24۔ (جیسا کہ اس جانور کی عام عادت ہے) کتا وہ جانور ہے جو فقہی حیثیت سے نجس ہونے کے باوجود اپنی وفاداری، آقاپرستی، حفاظت کرنے اور پہرہ دینے کے لئے مشہور ہے۔ ان بزرگوں کے پاس کسی ضرورت سے ہوگا، اور انہیں کے ساتھ خود بھی غارنشین ہوگیا، بعض روایتوں میں آتا ہے کہ جنت میں دو جانور بھی ہوں گے۔ ایک بلعم باعور کا گدھا، دوسرا اصحاب کہف کا کتا۔ اس روایت کے صحیح وغیر صحیح ہونے سے قطع نظر صوفیہ محققین نے کہا ہے کہ صحبت عجب اثر رکھتی ہے اور شیران خدا کی برکتیں سگ دنیا کو بھی بشرط صحبت ورفاقت شامل ہوجاتی ہیں اور بعض سالکین نے یہ نکتہ لکھا ہے کہ صالحیں کی مجالست وقرب بھی بہت غنیمت ہے، گومجانست نہ بھی ہو۔ 25۔ ہیبت حق تو ہر اہل حق کا حصہ ہوتی ہے ان سوتے ہوئے حضرات کہف پر عجب نہیں جو اس مصلحت سے اور زیادہ طاری کردی گئی ہو کہ ہر شخص کی ہمت ان کے قریب جانے کی نہ پڑے اور اس طرح ان کے جسم ہر طرح محفوظ رہیں۔
Ayah 18:19

وَ كَذٰلِكَ بَعَثْنٰهُمْ لِیَتَسَآءَلُوْا بَیْنَهُمْ١ؕ قَالَ قَآئِلٌ مِّنْهُمْ كَمْ لَبِثْتُمْ١ؕ قَالُوْا لَبِثْنَا یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ١ؕ قَالُوْا رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثْتُمْ١ؕ فَابْعَثُوْۤا اَحَدَكُمْ بِوَرِقِكُمْ هٰذِهٖۤ اِلَى الْمَدِیْنَةِ فَلْیَنْظُرْ اَیُّهَاۤ اَزْكٰى طَعَامًا فَلْیَاْتِكُمْ بِرِزْقٍ مِّنْهُ وَ لْیَتَؔلَطَّفْ وَ لَا یُشْعِرَنَّ بِكُمْ اَحَدًا Open ayah 18:19 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے انہیں جگا دیا جس سے کہ وہ آپس میں پوچھ پاچھ کریں،26۔ (چنانچہ) ایک کہنے والے نے ان میں سے کہا کہ تم کتنی دیر ٹھہرے ہوگئے ؟ (بعض ان میں سے) بولے کہ ہم دن بھر ٹھہرے ہوں گے یا دن بھر سے کم (بعض اور) بولے کہ جتنی دیر تم ٹھہرے یہ تو تمہارا پروردگار ہی خوب جانتا ہے۔ تو اب اپنے میں سے کسی کو یہ روپیہ دے کر شہر کی طرف بھیجو،27۔ سو وہ تحقیق کرے کہ کون ساکھانا پاکیزہ ہے،28۔ پھر اس میں سے کچھ کھانا تمہارے پاس لے آئے اور خوش تدبیری (سے کام) کرے اور کسی کو تمہارے خبر نہ ہونے دے،29۔

26۔ (اور اس میں ان پر حق تعالیٰ کی قدرت و حکمت اور زیادہ منکشف ہو) (آیت) ” وکذلک بعثنھم “۔ یعنی جس عجیب اعجازی رنگ میں ہم نے ان پر نیند مسلط کردی تھی، اسی اعجازی انداز میں انہیں اس سے جگا بھی دیا۔ (آیت) ” بعثنھم “۔ یعنی انہیں اس نوم طویل و ثقیل سے بیدار کردیا۔ (آیت) ” لیتسآء لوا “۔ میں ل عاقبت کا ہے۔ یعنی اس بیداری کا نتیجہ یہ ہوا، یہ مراد نہیں کہ وہ بیدار ہی اس غرض سے کئے گئے تھے، واللام فیہ لام العاقبۃ لانھم لم یبعثوا للسؤل (معالم) 27۔ (کہ خوراک وغیرہ ضرورت کی چیزیں لائے) (آیت) ’ ’ قال۔۔۔ بما لبثتم “۔ نیند اتنی غفلت کی اور ایسی بیہوشی کی تھی کہ ان لوگوں کو اس کی مدت کا بھی مطلق ادراک نہ ہوا، اور جب چیتے تو آپس میں پوچھ پاچھ کرنے لگے کہ ہم لوگ کتنی دیر سوئے ہوں گے۔ کسی نے کچھ اندازہ کیا کسی نے کچھ۔ آخر کسی نے کہا کہ اس تعیین وقت کی بحث کو تو اللہ کے حوالہ کرو اور اب کام کی بات کرو۔ (آیت) ” یوما او بعض یوم “۔ ہوسکتا ہے کہ یہ کنایہ محض وقت قلیل سے ہو، فقہاء نے ان کے اس قول سے جس سے جس پر قرآن نے کوئی گرفت نہیں کی، یہ نکالا ہے کہ ظن غالب کی بنا پر اگر اپنے اجتہاد سے کوئی بات کہہ دی جائے تو اگرچہ واقعہ کے خلاف ہو لیکن اس پر کذب کا اطلاق نہ ہوگا۔ (آیت) ” بورقکم ھذہ “۔ روپیہ سے یقیناً وہی سکہ مراد ہے جو دقیانوس رومی کے زمانہ میں چل رہا تھا اور اس سکہ پر رومی شہنشاہ کی تصویر کندہ رہتی تھی اس وقت کے کچھ سکہ ان کی جیبوں میں پڑے ہوئے تھے۔ قال المفسرون کانت معھم دراھم علیھا صورۃ الملک الذی کان فی زمانھم (کبیر) محققین نے یہیں سے یہ استدلال کیا ہے کہ سفر ہجرت میں زادراہ ہمراہ لے کر چلنا تو کل کے منافی نہیں۔ وحملھم الورق عند فرارھم دلیل علی ان حمل النفقۃ وما یصلح للمسافر ھو رأی المتوکلین علی اللہ دون المتکلین علی الاتفاقات (مدارک) وحملھم لہ دلیل علی ان التزود رای المتوکلین (بیضاوی) وھذہ الایۃ تدل علی ان السعی فی امساک الزاد امر مھم مشروع وانہ یبطل التوکل (کبیر) فقہاء نے آیت سے اس صورت کا جواز نکالا ہے کہ کئی انسان (مثلا سفر میں) اپنے مشترک سرمایہ سے خریدیں اور سب اس میں سے کھائیں خواہ ایک کے کھانے کی مقدار دوسرے سے زیادہ ہو۔ یدل علی جواز خلط دارھم الجماعۃ والشری بھا والاکل من الطعام الذی بینھم بالشرکۃ وان کان بعضھم قدیاکل اکثر مما یا کل غیرہ وھذا الذی یسمیہ الناس المنابذۃ ویفعلونہ فی الاسفار (جصاص) 28۔ اہل توحید کو ہمیشہ غذاؤں میں حلت و حرمت کا خیال رہا ہے اور بتوں کے چڑھاوے وغیرہ سے محترز رہے ہیں مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ جس طرح اصحاب کہف نے بجائے کسی سے سوال کرنے کے کھانا قیمۃ خریدنا پسند کیا، طالبوں اور سالکوں کو بھی چاہیے کہ ہمت بلند رکھیں اور خلق سے سوال ترک کردیں۔ (آیت) ” ازکی طعاما “۔ بعض نے اس کی تفسیر لذیذ ونفیس کھانے سے بھی کی ہے۔ قیل انھا اطیب والذ (کبیر) اور یہیں سے ہے کہ بعض صوفیہ نے بعض دینی مصلحتوں سے لذیذ ونفیس کھانوں ہی کو پسند کیا ہے۔ 29۔ (ورنہ حکومت کی طرف سے گرفتاری، تلاشی اور سزا یابی یقینی ہے) (آیت) ” ولیتلطف “۔ یعنی ایسی خوش تدبیری سے کام لے کر کسی کو اس پر حکومت کے مجرم یا باغی ہونے کا شبہ نہ ہونے پائے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ سالکین کو معاملت میں ہر ایک کے ساتھ لطف ورفق برتنا چاہیے۔
Ayah 18:20

اِنَّهُمْ اِنْ یَّظْهَرُوْا عَلَیْكُمْ یَرْجُمُوْكُمْ اَوْ یُعِیْدُوْكُمْ فِیْ مِلَّتِهِمْ وَ لَنْ تُفْلِحُوْۤا اِذًا اَبَدًا Open ayah 18:20 in the Quran reader

کہ اگر وہ تمہاری خبر پالیں گے تو تمہیں سنگسار کرڈالیں گے یا تمہیں اپنے طریقہ میں پھر کرلیں گے اور اگر ایسا ہوا تو پھر کبھی تمہیں فلاح نہ ہوگا،30۔

30۔ (اور تم شرک و ارتداد کی ملعونیت ونحوست کے چکر میں پڑے رہو گے) (آیت) ” انھم “۔ یعنی شرک اہل شہر یا مشرک اہل حکومت۔ (آیت) ” یرجموکم “۔ سزائے سنگساری دنیا کی قدیم ترین سزاؤں میں سے ہے اور اس پر تاریخ کی شہادت موجود ہے کہ شہنشاہ ڈس سیس (دقیانوس) کے زمانہ میں جو مشرک مسیحیت اختیار کرلیتے تھے وہ مرتد سمجھے جاتے اور شدید ترین عقوبت کے مستحق قرار پاتے۔ (آیت) ” اویعیدوکم فی ملتھم “۔ یعنی یہ بت پرست حکومت ترغیب سے یا ترہیب سے، طمع یا خوف کے پھندے لگا کر تمہیں پھر دین توحید سے بچلا کر دین شرک میں واپس لے لیں گے۔ (آیت) ” ولن تفلحوا اذا ابدا “۔ یعنی جب ملت کفر میں شریک و شامل ہوگئے تو پھر تو فلاح دنیا وآخرت سے محرومی ہی رہے گی، اے ان رجعتم الی دینھم لن تسعدوا فی الدنیا ولا فی الاخرۃ (کبیر)
Ayah 18:21

وَ كَذٰلِكَ اَعْثَرْنَا عَلَیْهِمْ لِیَعْلَمُوْۤا اَنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ اَنَّ السَّاعَةَ لَا رَیْبَ فِیْهَا١ۗۚ اِذْ یَتَنَازَعُوْنَ بَیْنَهُمْ اَمْرَهُمْ فَقَالُوا ابْنُوْا عَلَیْهِمْ بُنْیَانًا١ؕ رَبُّهُمْ اَعْلَمُ بِهِمْ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ غَلَبُوْا عَلٰۤى اَمْرِهِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَیْهِمْ مَّسْجِدًا Open ayah 18:21 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے لوگوں کو ان مطلع کردیا تاکہ وہ جان لیں کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور یہ کہ قیامت میں کوئی شک نہیں،31۔ (اور وہ وقت بھی قابل ذکر ہے) جب (اس زمانہ کے لوگ) ان کے معاملہ میں باہم جھگڑ رہے تھے سو ان لوگوں نے کہا کہ ان کے پاس کوئی عمارت بنوا دو ،32۔ ان کا پروردگار ہی (ان کے احوال کو) خوب جانتا تھا، جو لوگ اپنے کام پر غالب (و قادر) تھے انہوں نے کہا کہ ہم تو ان کے پاس ایک معبد بنادیں گے،33۔

31۔ اصحاب کہف کی غازنشینی کو کوئی تین سو سال کی مدت ہوئی تھی کہ دنیائے مسیحیت میں یہ سوال زور شور سے چھڑ گیا کہ عقیدہ نشر وجزائے جسمانی آیا صحیح ہے بھی ؟ وقت کا ایک مشہور پادری تھیوڈر حشر اجساد کا صاف منکر تھا، بحث و مباحثہ کے عین شباب کے زمانہ میں اصحاب کہف اپنی نوم طویل سے جاگے۔ اور ان کے عجیب معاملہ کا علم عوام و خواص سب کو ہوا۔ ملاحظہ ہو انگریزی تفسیر القرآن۔ (آیت) ” وکذلک اعثرنا علیھم “۔ یعنی جس طرح ہم نے اپنی خاص قدرت و حکمت سے ان اصحاب کہف کو سلایا اور جگایا تھا۔ اسی طرح اپنی خصوصی حکمت وقدرت سے عام خلقت کو ان کے حال پر مطلع بھی کردیا۔ (آیت) ” لیعلموا ان وعداللہ حق “۔ یعنی تاکہ ان کے معاصرین کو بھی یقین آجائے کہ حق تعالیٰ کا وعدہ حشر ونشر کے باب میں سچا ہے۔ ایک بڑا مانع عقیدہ حشر ونشر کے قبول میں عام ذہنوں میں اس کا استبعاد رہتا ہے۔ واقعہ اصحاب کہف یعنی ان کی طویل نیند اور بیداری سے اہل مادیت کو واقعہ بعث وحشر کی ایک سند ونظیر ہاتھ آجاتی ہے۔ اور ذہن سے استبعاد دور ہوجاتا ہے۔ وہ صاحب جو روپیہ لیکر کھانا خریدنے چلے تھے۔ جب بازار پہنچے تو چونکہ قرنہا قرن کی مدت گذر چکی تھی۔ شہریوں کے وضع لباس زبان، مکانات، سب ہی کی ہیئت بالکل بدل چکی تھی، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ حکومت کا تختہ الٹ چکا تھا۔ اور بادشاہت اب بجائے دشمنان مسیحیت کے خود مسیحیوں کی قائم تھی، وہ صاحب اپنے صدیوں قبل کے لباس ووضع کے باعث یوں ہی تماشہ بنے ہوئے تھے اور جب انہوں نے جیب سے نسلوں قبل کا سکہ نکالا۔ ، جب تو لوگوں کی حیرت اور بدگمانی بدرجہا بڑھ گئی۔ سب نے انہیں گھیر لیا اور انہیں حیران وپریشان ہو کر مجبورا اپنا پتہ بتانا اور اپنی سرگذشت دہرانی پڑی اور کچھ لوگ ان کے بیان کی تصدیق کے لئے آخر ان کے ساتھ غار کے دہانہ تک آئے۔ 32۔ (کہ اس حیرت انگیزوعظیم الشان واقعہ کی یاد گار قائم ہوجائے) (آیت) ” اذ یتنازعون بینھم امرھم “۔ یعنی جب لوگوں میں اس امر پر گفتگو ہورہی تھی کہ ان بزرگوں کی نعشوں کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے، ہوا یہ کہ جب لوگ ان کی زیارت کو جوق درجوق آنے لگے، اور غار کے دروازہ پر میلہ سا لگنے لگا تو ان حضرات کو وفات دے دی گئی۔ اور اب گفتگو یہ ہونے لگی کہ ان مقدس جسموں کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے۔ (آیت) ” ابنوا علیھم بنیانا “۔ علیھم سے ان کے غار کے اوپر ان کے غار کے دروازہ پر۔ اے علی باب کھفھم (مدارک) 33۔ (تاکہ اس امر کی علامت قائم رہے کہ یہ لوگ عابد واہل توحید تھے، کوئی انہیں معبود نہ بنا لے) جو غار اصحاب کہف کی جانب منسوب ہے اس کے دہانہ پر ایک مسیحی خانقاہ اب بھی موجود ہے۔ ملاحظہ ہو انگریزی تفسیر القرآن۔ (آیت) ” الذین غلبوا علی امرھم “۔ یعنی حکام وقت۔ قال قتادۃ ھم الولاۃ (بحر) قیل المراد بہ الملک المسلم وقیل رؤساء البلد (کبیر) (آیت) ” علیھم “۔ یعنی اس غار کے اوپر غار کے دہانہ پر۔ اے علی باب الکھف (مدارک) (آیت) ” مسجد ا “۔ مسجد یہاں معبد یا پرستش گاہ کے عام معنی میں ہے۔ اسلامی مسجد کے اصطلاحی معنی میں نہیں۔ (آیت) ” لنتخذن علیھم مسجدا “۔ مفسر تھانوی (رح) اور دوسرے فقہاء مفسرین نے لکھا ہے کہ اگر کسی زمانہ میں مسجد کے بنانے سے بجائے مصالح کے مفاسد کا ظہور ہونے لگے تو مسجد بنانا جائز نہ رہے گا۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اس مسجد سے وہ قصد نہ تھا۔ جو جاہلوں کا قبور کے پاس مسجد بنانے سے ہوتا ہے۔ اس لئے قبر پرستوں کو کوئی حجت ونظیر اس سے نہیں مل سکتی۔
Ayah 18:22

سَیَقُوْلُوْنَ ثَلٰثَةٌ رَّابِعُهُمْ كَلْبُهُمْ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ خَمْسَةٌ سَادِسُهُمْ كَلْبُهُمْ رَجْمًۢا بِالْغَیْبِ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ سَبْعَةٌ وَّ ثَامِنُهُمْ كَلْبُهُمْ١ؕ قُلْ رَّبِّیْۤ اَعْلَمُ بِعِدَّتِهِمْ مَّا یَعْلَمُهُمْ اِلَّا قَلِیْلٌ١۫۬ فَلَا تُمَارِ فِیْهِمْ اِلَّا مِرَآءً ظَاهِرًا١۪ وَّ لَا تَسْتَفْتِ فِیْهِمْ مِّنْهُمْ اَحَدًا۠ Open ayah 18:22 in the Quran reader

عنقریب بعض لوگ کہیں گے کہ وہ تین تھے اور چوتھا ان کا کتا تھا اور (بعض) کہیں گے کہ وہ پانچ تھے چھٹا ان کا کتا تھا اٹکل کے تکے،34۔ اور (بعض) کہیں گے کہ وہ سات تھے اور آٹھواں ان کا کتا تھا آپ کہہ دیجیے کہ میرا پروردگار ہی ان کا شمار خوب جانتا ہے،35۔ ان (کے شمار) کو کوئی نہیں جانتا بجز قلیل کے، پس آپ ان کے باب میں (زیادہ) بحث نہ کیجیے بجز سرسری بحث کے اور آپ ان کے باب میں ان لوگوں سے کسی سے بھی نہ پوچھئے،36۔

34۔ یعنی بغیر کسی علم صحیح کے، محض ظن وتخمین سے۔ (آیت) ” رجما بالغیب “۔ کے لفظی معنی بغیر دیکھے بھالے تیر پھینکنے کے ہیں، محاورۂ عرب میں اس سے مراد وہی ہوتی ہے جو اردو میں ” اٹکل کے تکے چلانے “ سے۔ اور یہ شرعا ممنوع بھی ہے۔ محض اٹکل اور ظن و گمان سے بغیر کسی سند عقلی یا شرعی کے کام لینا اور چیز ہے اور دلیل شرعی سے حسب قواعد استخراج نتائج کرنا بالکل اور چیز۔ اول الذکر لغو وممنوع، ثانی الذکر جائز ہی نہیں محمودومستحسن، بلکہ بعض اوقات ضروری اور واجب۔ (آیت) ” سیقولون “۔ یعنی آپ جس وقت یہ صحیح قصہ بیان کریں گے۔ ان کے معاصرین یہ رائے زنی شروع کردیں گے۔ (آیت) ” سیقولون “۔ میں س مستقبل کا ہے۔ الضمیر فیہ کما اختیارہ ابن عطیہ بعض المحقیقن للیھود المعاصرین لہ ﷺ الخائضین فی قصۃ اصحب الکھف (روح) 35۔ (اور اس نے قرآن سے اس کا کوئی فیصلہ کیا نہیں) لیکن حضرت ابن عباس ؓ وغیرہ اسی آخری عدد کے قائل ہوئے ہیں اور مفسرتھانوی (رح) نے کہا ہے کہ آیت سے بھی اشارۃ اس کی صحت مفہوم ہوتی ہے کیونکہ اس اخیر قول کو نقل کرنے اسے رد نہیں فرمایا گیا۔ واللہ اعلم۔ قال اکثر المفسرین ھذا الاخیر ھو الحق ویدل علیہ وجوہ (کبیر) 36۔ (کیونکہ ضروری کی تعلیم تو وحی سے ہوگئی۔ اس کے علاوہ جو کچھ ہے غیر ضروری ہے) (آیت) ” فلاتمار۔۔۔ ظاھرا “۔ یعنی آپ وحی کے مطابق نفس قصہ تو بیان کردیجئے۔ باقی اس کے آگے بحث و مباحثہ میں نہ پڑیے۔ (آیت) ” ما یعلمھم الا قلیل “۔ اور انہیں قیل اشخاص میں ایک عبداللہ بن عباس ؓ صحابی وترجمان القرآن ہیں۔ وکان ابن عباس ؓ یقول انا من اولئک العدد والقلیل (کبیر)
Ayahs 18:23–24

وَ لَا تَقُوْلَنَّ لِشَایْءٍ اِنِّیْ فَاعِلٌ ذٰلِكَ غَدًاۙ Open ayah 18:23 in the Quran reader

اور آپ کسی چیز کی نسبت یہ نہ کہا کیجیے کہ میں اسے کل کردوں گا

اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١٘ وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ اِذَا نَسِیْتَ وَ قُلْ عَسٰۤى اَنْ یَّهْدِیَنِ رَبِّیْ لِاَقْرَبَ مِنْ هٰذَا رَشَدًا Open ayah 18:24 in the Quran reader

سوا اس (صورت) کے کہ اللہ بھی چاہے،37۔ اور اپنے پروردگار کو یاد کرلیا کیجیے جب آپ بھول جائیے اور آپ کہہ دیجیے کہ عجب نہیں جو میرا پروردگار مجھے باعتبار راہنمائی کے اس سے بھی قریب تر (بات) بتائے،38۔

37۔ یعنی آپ ﷺ سے جب کوئی شخص کوئی بات جواب طلب دریافت کرلے۔ ؛ اور آپ اس سے آئندہ جواب کا وعدہ کریں تو لفظ انشاء اللہ تعالیٰ یا کوئی اور لفظ اس کے مرادف ضرور کہہ دیاکریں اور ایک وعدہ ہی کی تخصیص نہیں، اس کا لحاظ ہر امر میں رکھیں۔ آیت کی شان نزول یا آج کل کی اصطلاح میں پس منظر یہ ہے کہ ایک بار منکرین نے آکر رسول اللہ ﷺ سے تین سوالات بطور امتحان دریافت کیے۔ ایک یہ کہ ماہیت روح کیا ہے ؟ دوسرے یہ کہ اصحاب کہف کون تھے ؟ تیسرے یہ کہ ذوالقرنین کا کیا قصہ ہے ؟ آپ نے وحی الہی کے بھروسہ پر وعدہ کرلیا کہ کل جواب دوں گا۔ اتفاق سے وحی پندرہ دن تک نہ آئی۔ آپ کو قدرۃ غم و صدمہ رہا۔ اس کے بعد وحی سے سوالات کے جوابات بھی ملے اور یہ حکم بھی۔ (آیت) ” لشایء “ شیء تنوین کے ساتھ نکرہ ہے۔ مفہوم عموم واستغراق کے لئے۔ گویا یہ بتا دیا کہ اپنے چھوٹے بڑے ہر ارادہ کو ارادۂ الہی پر معلق اور اس سے وابستہ رکھیے۔ اس چھوٹی سی تعلیم سے ایک طرف تو رد نکل آیا معتزلہ کا جو بندہ کو بعض افعال کا خالق وموجد قرار دیتے ہیں اور دوسری طرف جبریہ کا جو بندہ کو جمادومجبور محض مانتے ہیں۔ صحیح مسلک اہل سنت کا یہ ہے کہ بندہ اپنے افعال پر قادر تو ہے لیکن مشیت الہی کے بعد اور اس کے ماتحت۔ (آیت) ” غدا “۔ غد سے مراد مطلق زمانہ مستقبل ہے، نہ کہ متعین ومخصوص (کل) ہی کا دن۔ اے فی مایستقبل من الزمان ولم یرد الغد خاصۃ (کشاف) اے فی مایستقبل من الزمان مطلقا (روح) (آیت) ” الاان یشآء اللہ “۔ الال۔ حرف استثناء ہے۔ تقدیر کلام یوں ہے الا ان تقول انشاء اللہ فقہاء نے تصریح کردی ہے کہ یہاں قول کے لیے زبانی تلفظ شرط نہیں۔ اس لیے کہ مسئلہ اعتقادیات سے متعلق ہے اور اعتقادیات میں محض تصدیق قلبی کافی ہے۔ 38۔ یعنی میری نبوت پر دلیل بننے کے اعتبار سے کوئی بات اس سے بھی بڑھ کر بتلائیے، منکروں نے یہ قصہ اصحاب کہف سے متعلق سوال کرکے اپنے نزدیک کوئی بہت بڑا امتحان رسول اللہ ﷺ کا لے ڈالا تھا۔ آپ ﷺ کو یہ کہنے کی ہدایت ہورہی ہے کہ میں تو اپنی نبوت پر دلائل خدا کے فضل سے اس سے کہیں بڑھ چڑھ کر رکھتا ہوں۔ معناہ العل اللہ یؤتینی من البینات والدلائل علی صحۃ انی نبی ما ھو اعظم فی الدللالۃ واقرب رشدا من نبا اصحاب الکھف (کبیر) اے اظہر دلالۃ علی انی نبی من نبا اصحاب الکھف (بیضاوی) (آیت) ” واذکر ربک “۔ یعنی جیسے ہی خیال آجائے اور تنبیہ ہوجائے، مشیت الہی کا استحضار کرلیا کیجئے۔ واذکر ربک اے مشیۃ ربک (مدارک)
Ayah 18:25

وَ لَبِثُوْا فِیْ كَهْفِهِمْ ثَلٰثَ مِائَةٍ سِنِیْنَ وَ ازْدَادُوْا تِسْعًا Open ayah 18:25 in the Quran reader

اور وہ (لوگ) اپنے غار میں تین سو برس تک رہے اور نو برس اور رہے،39۔

39۔ یعنی حساب شمسی مسیحی رکھو تو پورے تین سو سال اور حساب قمری اسلامی رکھو تو 309 سال تین سال کا فرق ہر صدی میں سنہ قمری اور سنہ شمسی کے در میان ہوجایا کرتا ہے۔ اکابر سلف سے بھی یہی سہل تفسیر مروی ہے۔ بلکہ ایک روایت میں تو خود حضرت علی ؓ سے ہے۔ حکی التقاش انھا ثلث ماءۃ شمسیۃ ولما کان الخطاب للعرب زیدت التسع اذ حساب العربیۃ ھو بالقمر لاتفاق الحسابین (بحر) روی عن علی ؓ انہ قال عند اھل الکتاب انھم لبثوا ثلثماۃ شمسیۃ واللہ تعالیٰ ذکر ثلثماءۃ قمریۃ (معالم) کان مقدارہ ثلثماءۃ سنۃ تزید تسع سنین بالھلالیۃ وھی ثلثماءۃ سنۃ بالشمسیۃ فان تفاوت مابین کل ماءۃ سنۃ بالقمریۃ الی الشمسیۃ ثلاث سنین (ابن کثیر) فالثلاثماءۃ الشمسیۃ ثلاثماءۃ وتسع قمریۃ (جلالین) قیل ھو الاشارۃ الی انھا ثلاثماءۃ بحساب اھل الکتاب و اعتبار السنۃ الشمسیۃ وثلثماءۃ وتسع بحساب العرب و اعتبار السنۃ القمریۃ وقد نقلہ بعضھم عن علی ؓ (روح) قدیم مسیحی روایتوں اور نوشتوں میں یہ مدت 307 سال درج ہے اور بعض نسخوں میں 353 سال۔ ملاحظہ ہو انگریزی تفسیر القرآن۔ غازنشینی کا زمانہ اگر (قول اکثر کے مطابق) 249 ء ؁ فرض کیا جائے تو اس پر 300 سال شمسی اضافہ کرنے سے 549 ء ؁ برآمد ہوتے ہیں یعنی میلاد رسول ﷺ (570 ء۔ ) سے 21 سال اور ہجرت نبوی (642 ء) سے تقریبا 72 سال قبل (آیت) ” لبثوا فی کھفھم “۔ فقہاء نے استدلال کیا ہے کہ ظالموں سے فرار کرجانا جائز ہے۔ بلکہ اولیاء انبیاء کے معمولات میں سے ہے۔ فیہ جواز الفرار من الظالم وھی سنۃ الانبیاء والاولیاء (ابن العربی)
Ayah 18:26

قُلِ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثُوْا١ۚ لَهٗ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اَبْصِرْ بِهٖ وَ اَسْمِعْ١ؕ مَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّلِیٍّ١٘ وَّ لَا یُشْرِكُ فِیْ حُكْمِهٖۤ اَحَدًا Open ayah 18:26 in the Quran reader

آپ کہہ دیجیے کہ اللہ ہی اس کو خوب جانتا ہے کہ وہ کتنا رہے تھے۔ اسی کے لئے (علم) غیب آسمانوں اور زمین کا ہے،40۔ وہ کیا کچھ دیکھنے والا ہے اور کیا کچھ سننے والا ! ان کا اللہ کے سوا کوئی بھی کار ساز نہیں اور نہ وہ اپنے حکم میں کسی کو شریک کرتا ہے،41۔

40۔ یعنی مخلوق کے اعتبار سے جو کچھ بھی غیب ہے، سب کا علم حق تعالیٰ ہی کو ہے۔ ایک اسی واقعہ مدت خواب اصحاب کہف پر کیا موقوف ہے اس پر تو چھوٹا بڑا ہر واقعہ روشن ہے۔ (آیت) ” اللہ اعلم “۔ صحیح علم اللہ ہی کو ہے اور جب اس نے یہ مدت قطعی طور پر بتا دی، تو اب کسی چون وچرا کی گنجائش ہی نہیں۔ 41۔ (کہ وہ شریک مشورہ ہی ہو کر کسی کی نفع رسانی یا ضرر رسانی کی رائے دے سکے) خلاصہ یہ کہ حق تعالیٰ کا نہ کوئی مزاحم ہوسکتا ہے نہ کوئی شریک کار۔۔۔ شرک کی جڑ ہر طرح کٹ کررہی ہے۔ (آیت) ” ابصر بہ۔ واسمع “۔ کلمہ حیرت ہے۔ یعنی وہ کیسا کچھ ان لوگوں اور ان کے حالات کا دیکھنے والا، جاننے والا ہے ؟ ماابصرہ واعلمہ بھم وشانھم (ابن عباس ؓ ھذہ کلمۃ تذکرفی التعجب والمعنی ماابصرہ وما اسمعہ (کبیر) مالھم میں ضمیر ھم، اھل السموت والارض کی جانب ہے۔ اے لاھل السموت والارض المدلول علیہ بذکرھما (روح)
Ayah 18:27

وَ اتْلُ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنْ كِتَابِ رَبِّكَ١ؕۚ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ١۫ۚ وَ لَنْ تَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًا Open ayah 18:27 in the Quran reader

اور آپ پڑھ دیا کیجیے جو کچھ وحی آپ پر آپ کے پروردگار کی کتاب کے ذریعہ سے آئی ہے۔ کوئی بدل اس کی باتوں کا نہیں ہوسکتا اور نہ آپ اس کے سوا کوئی پناہ ہی پائیں گے،42۔

42۔ (اگر بفرض محال مخالفین کی آپ نے ایسی دلجوئی کرنا چاہی کہ احکام الہی ہی ترک ہوگئے) حاصل یہ کہ رؤسا کفار کی طرف سے آپ پورا استغناء برتئے۔ (آیت) ” واتل۔۔ ربک “۔ یعنی وحی الہی کی تبلیغ تو آپ پر فرض ہے لیکن اس سے آگے بڑھ کر اسی فکر اور وہم میں نہ پڑیے کہ مخالفین کی دلجوئی اگر نہ کی گئی تو دین کی اشاعت و ترقی کیونکر ہوگی، امام رازی (رح) نے یہ معنی قرار دیئے ہیں کہ آپ وحی کی تعلیم اور اس پر عمل میں لگے رہئے اور منکروں معاندوں کے طنز وتشنیع کی طرف التفات ہی نہ کیجئے جعل الاصل فی ھذا الباب شیئا واحدا وھو ان یواظب علی تلاوۃ الکتاب الذی اوحاہ اللہ الیہ والعمل بہ وان لا یلتف الی اقتراح المتقرحین وتعنت المتعنتین (کبیر) (آیت) ” لا مبدل لکلمتہ “۔ اور اسی لیے کسی مخالف معاند کو یہ قدرت حاصل نہیں کہ اللہ نے جو وعدے کر رکھے ہیں انہیں وہ پورے ہونے سے روک دے، کلمات کے تحت میں اللہ کے وعدے شامل ہیں۔ (آیت) ” ملتحدا “۔ کے معنی جائے پناہ کے ہیں، اتفقوا علی ان الملتحد ھو الملجا (کبیر)
Ayah 18:28

وَ اصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗ وَ لَا تَعْدُ عَیْنٰكَ عَنْهُمْ١ۚ تُرِیْدُ زِیْنَةَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ لَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَهٗ عَنْ ذِكْرِنَا وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ وَ كَانَ اَمْرُهٗ فُرُطًا Open ayah 18:28 in the Quran reader

اور آپ اپنے کو مقید رکھا کیجیے ان لوگوں کے ساتھ جو اپنے پروردگار کو پکارتے رہتے ہیں صبح وشام محض اس کی رضاجوئی کیلئے،43۔ اور اپنی آنکھوں کو ان سے نہ ہٹایئے دنیوی زندگی کی رونق کے خیال سے اور اس شخص کا کہنا نہ مانئے جس کے قلب کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر رکھا ہے اور وہ اپنی خواہش کی پیروی کرتا ہے اور اس کا معاملہ حد سے گزرا ہوا ہے،44۔

43۔ (نہ کہ کسی دنیوی غرض باطل سے) وصف ان مومنین کے اخلاص کامل کا بیان ہورہا ہے۔ (آیت) ” بالغدوۃ والعشی “۔ یعنی علی الدوام۔ دو وقتوں میں حصر مقصود نہیں۔ المراد کو نھم مواظبین علی ھذا العمل فی کل الاوقات (کبیر) شاع استعمال مثل ھذہ العبارۃ للدوام (روح) 44۔ (خواہش نفس کی پیروی میں) (آیت) ” ولا تعد عینک عنھم “۔ محاورہ میں اس سے مراد بےتوجہی، بےاعتنائی کرنے سے ہے۔ (آیت) ” ترید زینۃ الحیوۃ الدنیا “۔ رسول اللہ ﷺ کو جوش وانہماک تبلیغ میں قدرۃ اس کی فکر زیادہ رہا کرتی تھی کہ رؤسا قریش میں سے کوئی ایمان لے آئے تو امت کے جمال و کمال میں نمایاں اضافہ ہوجائے۔ آیت میں اشارہ اس جانب ہے کہ امت کا جمال و کمال اس ظاہری سزاوسامان دنیوی اور مال وجاہ مادی سے نہیں، بلکہ وہ اخلاص و اطاعت کاملہ سے ہے،۔ خواہ ان کے وجود کا تحقق فقراء وغرباوعوام الناس ہی میں ہو۔ (آیت) ” من اغفلنا قلبہ عن ذکرنا “۔ عنا دار ادی کا وبال یہ پڑتا ہے کہ حق کے لئے قلب میں کوئی طلب باقی نہیں رہ جاتی۔ اور اسی سزا کو تکوینی طور پر اپنی جانب بحیثیت مسبب الاسباب کے منسوب کردیا گیا ہے (آیت) ” ولا تطع “۔ فقہاء نے کہا ہے کہ یہ نہی تحریمی ہے۔ اس لیے اتباع فساق حرام ہے۔ (آیت) ” ترید زینۃ الحیوۃ الدنیا “۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اغنیاء کی طرف ایسا میل و تواضع جس کی بنیاد ان کا غنا ہو آیت اس کی مذمت میں ہے۔ آیت آج کل کے بہت سے ” مصلحین “۔ کے لئے قابل غور ہے۔ آج ہر ” اصلاح “ پرزور (خواہ وہ عقاید سے متعلق ہو یا اعمال سے) سب سے زیادہ اسی پہلو سے دیا جاتا ہے کہ اس سے مسلمانوں کی مالی ومعاشی حیثیت چمک جائے گی یا اس سے مسلمان سیاسی اقتدار حاصل کرلیں گے وقس علی ھذا۔ غرض مقصود ومطلوب ہر ” اصلاح “ سے کسی نہ کسی پہلو اور اعتبار سے یہی دنیا اور اس کی سربلندیاں ہی رکھی جاتی ہیں۔ تعلیم قرآنی اس ذوق فاسد سے کس درجہ ابا کرتی ہے !
Ayah 18:29

وَ قُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ١۫ فَمَنْ شَآءَ فَلْیُؤْمِنْ وَّ مَنْ شَآءَ فَلْیَكْفُرْ١ۙ اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلظّٰلِمِیْنَ نَارًا١ۙ اَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا١ؕ وَ اِنْ یَّسْتَغِیْثُوْا یُغَاثُوْا بِمَآءٍ كَالْمُهْلِ یَشْوِی الْوُجُوْهَ١ؕ بِئْسَ الشَّرَابُ١ؕ وَ سَآءَتْ مُرْتَفَقًا Open ayah 18:29 in the Quran reader

اور آپ کہہ دیجیے کہ حق تمہارے پروردگار کی طرف سے آچکا ہے سو جس کا جی چاہے ایمان لائے اور جس کا جی چاہے کافر رہے،45۔ ہم نے ظالموں کیلئے آگ تیار کر رکھی ہے اس کی قناتیں ان کے گھیرے ہوں گی اور اگر وہ فریاد کریں گے تو ان کی فریاد رسی ایسے پانی سے کی جائے گی جو تیل کی تلچھٹ کی طرح ہوگا۔ چہروں کو بھون ڈالے گا، کیسا برا ہوگا وہ پانی اور کیسی بری ہوگی وہ جگہ،46۔

45۔ بندہ ہی کے اختیار میں ہدایت بھی ہے اور کفر کی ذمہ داری بھی بندہ ہی پر ہے۔ حق تعالیٰ مجبور کسی کو بھی نہیں کررہا ہے۔ (آیت) ” الحق من ربکم “۔ یعنی حق تو اپنی ساری تابانی ووضاحت کے ساتھ حق تعالیٰ کی طرف سے آہی چکا ہے اور راہ ہدایت خوب اچھی طرح روشن ہوچکی ہے۔ (آیت) ” فمن شآء۔ ومن شآء “۔ ان صیغوں سے تخییر مراد نہیں۔ تہدیدو وعید مراد ہے۔ نقل عن علی بن ابی طالب انہ قال ھذہ الصیغۃ تھدید ووعید ولیس بتخییر (کبیر) 46۔ حق کی تمام و کمال وضاحتوں کے بعد بھی جو ایمان نہ لائے گا وہ خود ہی اپنا خرابہ بلائے گا۔ (آیت) ” احاط بھم سرادقھا “۔ یعنی خود وہ قناتیں بھی آگ ہی کی ہوں گی۔ (آیت) ” وان یستغیثوا “۔ یہ فریاد شدت تشنگی سے ہوگی۔ (آیت) ” بمآء کالمھل یشوی الوجوہ “۔ (آیت) ” کالمھل “۔ میں اس پانی کی صورت کی کراہت کا اور (آیت) ” یشوی الوجوہ “ میں اس کے مزہ کی تیزی اور گرمی کا بیان آگیا۔
Ayah 18:30

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اِنَّا لَا نُضِیْعُ اَجْرَ مَنْ اَحْسَنَ عَمَلًاۚ Open ayah 18:30 in the Quran reader

بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل بھی کئے سو ہم اس کے اجر کو ضائع نہیں کرتے جو عمل اچھے طور پر کرے،47۔

47۔ ہر انذاری اور تخویفی ذکر کے بعد ہی تبشیر اور تسلی کا بیان معمولات قرآنی میں سے ہے۔ (آیت) ” امنوا۔ اور عملوا الصلحت “۔ کے درمیان واو عطف آنے سے استدلال یہ کیا گیا ہے کہ ایمان اور عمل صالح دو چیزیں الگ الگ ہیں۔ یدل علی ان العمل الصالح مغایر للایمان لان العطف یوجب المغایرۃ (کبیر) (آیت) ” انا۔۔ عملا “۔ مسلک اہل سنت میں یہ اللہ کی طرف سے وعدہ جزائے حسن عمل کا ہے۔ عند اصحابنا ذلک الاستیجاب حصل بحکم الوعد (کبیر)
Ayah 18:31

اُولٰٓئِكَ لَهُمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ یَلْبَسُوْنَ ثِیَابًا خُضْرًا مِّنْ سُنْدُسٍ وَّ اِسْتَبْرَقٍ مُّتَّكِئِیْنَ فِیْهَا عَلَى الْاَرَآئِكِ١ؕ نِعْمَ الثَّوَابُ١ؕ وَ حَسُنَتْ مُرْتَفَقًا۠ Open ayah 18:31 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں کہ ان کے لئے ہمیشگی کے باغ ہیں ان کے نیچے ندیاں بہ رہی ہوں گی ان کو اس میں سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اور وہ سبز رنگ کے کپڑے باریک اور دبیز پہنیں گے اس میں مسہریوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے کیسا اچھا صلہ ہے اور کیسی بہتر جگہ ہے،48۔

48۔ اہل دوزخ کی سختیوں اور ہولناکیوں کے مقابلہ میں یہ اہل جنت کی عیش سامانیوں کا بیان ہورہا ہے۔ (آیت) ” اس اور من ذھب “۔ جنت میں جو دارالعمل نہیں تمامتر دار الجزاء ہے نہی شرعی اٹھ جانے کے بعد بہت سے دوسرے ممنوعات کی طرح زیور پوشی بھی رجال جنت کے لئے جائز ہوجائے گی، بالکل اس کا شمار اسباب زینت میں سے ہونے لگے گا اور یہ زیور دیکھنے میں بہت بھلے معلوم ہوں گے۔ جیسا کہ آج بھی ان کا شمار اسباب زینت میں ہے جہاں جہاں یہ عرفا رائج ہیں۔ (آیت) ” ثیابا خضرا “۔ یہ رنگ لباس کی سبزی یہاں بہ طور مثال بیان فرمائی گئی ہے، حصر مقصود نہیں، چناچہ قرآن ہی میں مطلق صورت میں بھی تو وعدہ موجود ہے کہ اہل جنت جو کچھ چاہیں گے، پالیں گے، والظاہر ان لباسھم غیر منحصر فی ما ذکراذلھم فیھا ماتشتھی الانفس وتلذ الاعین (روح) (آیت) ” یحلون۔ یلبسون امام رازی (رح) نے یہاں یہ سوال پیدا کیا ہے کہ ایک ہی آیت کے اندر یحلون صیغہ مجہول میں اور یلبسون صیغہ معروف میں کیوں ہے اور جواب یہ دیا ہے کہ یلبسون میں اشارہ اہل جنت کے اجر واجب کی طرف ہے اور یحلون اس اجر واجب سے زاید یعنی اللہ کے فضل محض کو بتا رہا ہے۔ یحتمل ان یکون اللبس اشارۃ الی ما استوجبوہ بعملھم وان یکون الحلی اشارۃ الی ماتفضل اللہ علیھم ابتداء من زواید الکرم (کبیر)
Ayah 18:32

وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا رَّجُلَیْنِ جَعَلْنَا لِاَحَدِهِمَا جَنَّتَیْنِ مِنْ اَعْنَابٍ وَّ حَفَفْنٰهُمَا بِنَخْلٍ وَّ جَعَلْنَا بَیْنَهُمَا زَرْعًاؕ Open ayah 18:32 in the Quran reader

اور ان سے دو شخصوں کا حال بیان کیجیے،49۔ جن میں سے ایک کو ہم نے دو باغ انگور کے دے رکھے تھے اور انہیں کھجور (کے درختوں) سے گھیررکھا تھا اور ہم نے ان دونوں کے درمیان کھیتی بھی لگارکھی تھی،50۔

49۔ (دنیا کی بےثباتی اور بےحقیقتی اور آخرت کی مقصودیت ظاہر کرنے کو) (آیت) ” رجلین “۔ ان دو شخصوں میں سے ایک ملحد وبے دین تھا، اور دوسرا موحد ودیندار، جیسا کہ آگے آرہا ہے۔ 50۔ (لیکن یہ شخص تھا بد عقیدہ وبد دین) انگور کا باغ ایک تو بجائے خود قیمتی، پھر ایک ہی نہیں، دو دو۔ اور پھر ان کے گردا گرد خرموں کی باڑ لگی ہوئی۔ اس سب پر مستزاد یہ کہ باغوں کے درمیان کی جگہ بےکار اور خالی پڑی ہوئی نہیں۔ بلکہ سرسبز و شاداب کھیتی سے لدی ہوئی۔ عرب کے نقطہ نظر سے آسودگی مرفہ حالی کا کامل ومکمل مرقع !
Ayahs 18:33–34

كِلْتَا الْجَنَّتَیْنِ اٰتَتْ اُكُلَهَا وَ لَمْ تَظْلِمْ مِّنْهُ شَیْئًا١ۙ وَّ فَجَّرْنَا خِلٰلَهُمَا نَهَرًاۙ Open ayah 18:33 in the Quran reader

دونوں باغ اپنا پورا پھل دیتے تھے اور کسی کی پیداوار میں ذرا کمی نہ رہتی اور ہم نے ان دونوں کے درمیان ایک ندی جاری کر رکھی تھی

وَّ كَانَ لَهٗ ثَمَرٌ١ۚ فَقَالَ لِصَاحِبِهٖ وَ هُوَ یُحَاوِرُهٗۤ اَنَا اَكْثَرُ مِنْكَ مَالًا وَّ اَعَزُّ نَفَرًا Open ayah 18:34 in the Quran reader

اور اس (شخص) کے پاس (اور بھی) تمول تھا،51۔ سو اس نے اپنے (اس) ساتھی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں تجھ سے مال میں بھی زیادہ ہوں اور مجمع میں بھی غالب،52۔

51۔ باغ بھی ایسے کہ پوری پوری فصل دینے والے، کسی میں کوئی نقصان اور کمی نہیں اور پڑوس میں دریا۔ کھیتی کی سرسبزی اور باغ کی شادابی کے سامان ہر طرح کے بہ افراط اور عام دولتمندی اس پر مستزاد۔ مادی فراغت وخوش نصیبی اس سے بڑھ کر اور کیا ہوگی۔ (آیت) ” ثمر “۔ ثمر کے معنی علاوہ اپنے مشہور معنی کے، دولت کے بھی ہیں۔ ویکنی بہ عن المال المستفاد (راغب) ومن المخار الثمر انواع المال (تاج) اور یونہی معنی یہاں مراد ہیں۔ اے انواع من المال من ثمر اذا کثر (کشاف) عن مجاھد الذھب والفضۃ اے کان لہ مع الجنتین اشیاء من لمنقود (کبیر۔ عن مجاہد) یراد بھما الذھب والفضۃ خاصۃ (بحر۔ عن مجاہد) 52۔ (درآنحالیکہ تو توحید کا قائل ہے اور اپنے کو اہل حق سے قرار دیتا ہے) کہنے والے کا مطلب یہ ہے کہ میرا طریقہ اگر خلاف حق اور اللہ تعالیٰ کے ہاں ناپسندیدہ ہوتا تو آج میں اس مرفہ خالی میں کیوں ہوتا ؟ بلکہ اس سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ میرا مسلک صحیح اور تیرا مذہب غلط ہے۔ (آیت) ” نفرا “۔ یعنی جتھے اور مجمع کے لحاظ سے بھی، یعنی انصار وحشما وقیل اولادا ذکورا (کشاف) (آیت) ” لصاحبہ “۔ اس ملحد کا یہ رفیق موھد و دیندار تھا۔
Ayah 18:35

وَ دَخَلَ جَنَّتَهٗ وَ هُوَ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ١ۚ قَالَ مَاۤ اَظُنُّ اَنْ تَبِیْدَ هٰذِهٖۤ اَبَدًاۙ Open ayah 18:35 in the Quran reader

اور وہ اپنے حق میں ظلم کرتا ہوا اپنے باغ میں داخل ہوا،53۔ اور بولا کہ میرا تو یہ خیال نہیں کہ یہ (باغ) کبھی بھی برباد ہو،54۔

53۔ (مع اپنے اسی دیندار ساتھی کے) (آیت) ” وھو ظالم لنفسہ “۔ یعنی اپنے اوپر جرم کفر قائم کرتا ہوا۔ 54۔ غیر خدا پرست مادہ پرست کی نظر بس قریب کے اسباب طبعی ومادی ہی تک محدود رہتی ہے۔ بقاء نشوونما، ترقی کے انہیں مادی وقریبی اسباب پر نظر کرکے بولا کہ اس جائداد کے اجڑنے اور ویران ہونے کے تو قطعا کوئی آثار نہیں۔ بہ قول ایک فاضل محقق کے ” اس شخص نے توحید کے مسئلہ میں کلام کیا کہ تو جو صانع عالم کا اور اس کی قدرت وغیرہ کا قائل ہے سو میں تو نہیں سمجھتا کہ اسباب طبعیہ کو کوئی معطل کرسکے اور اس باغ وغیرہ کا کارخانہ جس کی آباید کے سارے اسباب جمع ہیں کہ نہر بھی ہے، کارکن بھی ہیں، خرچ کرنے کو مال بھی، اس مال کی حفاظت کا سامان بھی ہے، کس طرح محتمل ویرانی کا ہو “ (آیت) ” تبید “۔ بید کے معنی ہلاک ہونے کے ہیں۔ البید۔۔ الھلاک (بحر)
Ayah 18:36

وَّ مَاۤ اَظُنُّ السَّاعَةَ قَآئِمَةً١ۙ وَّ لَئِنْ رُّدِدْتُّ اِلٰى رَبِّیْ لَاَجِدَنَّ خَیْرًا مِّنْهَا مُنْقَلَبًا Open ayah 18:36 in the Quran reader

اور میں نہیں خیال کرتا کہ قیامت (کبھی) آئے گی اور اگر میں اپنے پروردگار کے پاس پہنچایا گیا (بھی) تو یقیناً اس (باغ) سے (بھی) بہتر جگہ پاؤں گا،55۔

55۔ یعنی اول تو میں قائل ہی قیامت کا نہیں، یہ سب ڈھکوسلے ہیں۔ لیکن بالفرض اگر تیرے عقیدہ کے مطابق حشر ونشر برحق نکلا تو میں جس عیش و عشرت کی زندگی یہاں بسر کررہا ہوں، اس سے زیادہ چین و آرام میں وہاں رہوں گا۔
Ayah 18:37

قَالَ لَهٗ صَاحِبُهٗ وَ هُوَ یُحَاوِرُهٗۤ اَكَفَرْتَ بِالَّذِیْ خَلَقَكَ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ سَوّٰىكَ رَجُلًاؕ Open ayah 18:37 in the Quran reader

(اس پر) اس کا وہ ساتھی بولا اس سے گفتگو کرتے ہوئے کہ ارے ! کیا تو کفر اس (ذات) کے ساتھ کرتا ہے،56۔ جس نے تجھے (پہلے) مٹی سے پیدا کیا پھر نطفہ سے (تجھ کو بنایا) پھر تجھے صحیح وسالم آدمی بنایا،57۔

56۔ (جیسا کہ تیری تقریر عقیدۂ توحید و قیامت کا انکار ظاہر کررہی ہے) (آیت) ” صاحبہ “۔ یعنی اس کا وہی دیندار موحد رفیق۔ 57۔ یعنی تیرے سب اعضاء اور قوی درست کئے اور تجھے ترکیب صحیح کے ساتھ انسان بنا کر نمودار کیا۔ (آیت) ” خلقک من تراب “۔ ہر انسان کا مادۂ بعید مٹی ہی ہے۔ بہ واسطہ آدم (علیہ السلام) ۔ (آیت) ” ثم من نطفۃ “۔ ہر انسان کا مادہ قریب نطفہ پدری ہے، بواسطہ رحم مادر۔
Ayahs 18:38–39

لٰكِنَّاۡ هُوَ اللّٰهُ رَبِّیْ وَ لَاۤ اُشْرِكُ بِرَبِّیْۤ اَحَدًا Open ayah 18:38 in the Quran reader

لیکن (میرا تو یہ عقیدہ ہے کہ) وہی اللہ میرا پروردگار ہے اور میں اپنے پروردگار کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا

وَ لَوْ لَاۤ اِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَآءَ اللّٰهُ١ۙ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ١ۚ اِنْ تَرَنِ اَنَا اَقَلَّ مِنْكَ مَالًا وَّ وَلَدًاۚ Open ayah 18:39 in the Quran reader

اور تو جو اپنے باغ میں داخل ہوا تو تو نے یہ کیوں نہ کہا کہ اللہ جو چاہتا ہے (وہی ہوتا ہے) اور (کسی میں) کوئی قوت نہیں بجز اللہ (کی مدد) کے،58۔ (اور) اگر تو مجھے مال واولاد میں کمتر دیکھتا ہے

58۔ (کہ جس کسی مخلوق میں کچھ بھی قوت ہے، اسی کے سہارے ہے) (آیت) ” باللہ “۔ ب باء الاستعانۃ ہے۔ اے لاقوۃ لاحد علی امر من الامور الا باعانۃ اللہ (کبیر) موحد کی تقریر کا پہلا حصہ نفس توحید پر تھا اور اب اس کلیہ کی ایک فرع پر گفتگو ہے۔ (آیت) ” ولو۔۔۔ شآء اللہ “۔ یعنی تیرے یا میرے یا کسی کے چاہنے سے کیا ہوتا ہے۔ اللہ ہی جب تک چاہے گا یہ باغ بھی قائم رہے گا اور جب وہی چاہے گا تو یہ ویران ہوجائے گا۔ اسباب طبعی سب اس کی مشیت کے ماتحت ہیں، نہ کہ اس سے آزاد ومستغنی۔ (آیت) ” لاقوۃ الا باللہ “۔ چناچہ یہ باغ بھی اسی کی قوت سے تیار ہوا ہے نہ کہ کسی اور کی قوت سے۔ اے ھذا بقوۃ اللہ لا بقوتی (ابن عباس ؓ متکلمین نے اس سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ اللہ نے کو کچھ چاہا، وہ واقع ہوگیا اور جو کچھ اس نے نہ چاہا وہ واقع نہ ہوا۔ واحتج اصحابنا بھذا علی ان کل ما ارادہ اللہ وقع وکل مالم یردہ لم یقع (کبیر)
Ayah 18:40

فَعَسٰى رَبِّیْۤ اَنْ یُّؤْتِیَنِ خَیْرًا مِّنْ جَنَّتِكَ وَ یُرْسِلَ عَلَیْهَا حُسْبَانًا مِّنَ السَّمَآءِ فَتُصْبِحَ صَعِیْدًا زَلَقًاۙ Open ayah 18:40 in the Quran reader

تو عجب نہیں کہ میرا پروردگار مجھے تیرے باغ سے بہتر دے دے،59۔ اور اس پر آسمان سے کوئی تقدیری مصیبت اتارے جس سے (باغ) ایک چٹیل میدان ہو کر رہ جائے،60۔

59۔ (خواہ اسی دنیا میں خواہ آخرت میں) (آیت) ” خیرا “۔ خیر کے اندر ہر قسم کا سامان عیش و راحت آگیا۔ (آیت) ” ان۔۔۔ ولدا “۔ یہ ملحد کی جس تقریر کے جواب میں ہے، وہ دو آیتیں قبل ابھی اوپر گزر چکی۔ (آیت) ” انا اکثر منک مالا واعز نفرا “۔ 60۔ یعنی بالکل اجڑ جائے۔ (آیت) ” علیھا “۔ یعنی تیرے اسی باغ پر۔ (آیت) ” حسبانا “۔ حسبان یعنی ایسی مصیبت جو حکم غیبی سے بلاتوسط اسباب طبعی ہو۔ مصیبت تقدیری، بمعنی الحساب اے مقدرا قدرہ اللہ (کشاف) (کبیر) اور مقصود اس سے جزائے افعال وپاداش اعمال ہو۔ وانما ھو فی الحقیقۃ مایحاسب علیہ فیجازی بحسبہ (راغب) وذلک الحسبان حساب ماکسبت یداک (جمل۔ عن الزجاج)