Al-Kahf 18:108

Al-Kahf · from ayah 108

18:108

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا لَا یَبْغُوْنَ عَنْهَا حِوَلًا ۟خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَا لَا يَـبۡغُوۡنَ عَنۡهَا حِوَلًا‏

ہمیشہ ان میں رہیں گے اور وہاں سے مکان بدلنا نہ چاہیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Wherein they abide eternally. They will not desire from it any transfer.

— Saheeh International

Juz 16 · Ruku 12 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Kahf

All translations of 18:108

جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور کبھی اُس جگہ سے نکل کر کہیں جانے کو اُن کا جی نہ چاہے گا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ہمیشہ ان میں رہیں گے اور وہاں سے مکان بدلنا نہ چاہیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

جہاں وه ہمیشہ رہا کریں گے جس جگہ کو بدلنے کا کبھی بھی ان کا اراده ہی نہ ہوگا

— مولانا محمد جوناگڑہی

جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے (اور) وہ وہاں سے کہیں اور جانا نہیں چاہیں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

وہ ہمیشہ ان ہی میں رہیں گے ان سے جگہ بدلنا نہ چاہیں گے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے وہاں سے (اپنا ٹھکانا) کبھی بدلنا نہ چاہیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

ان میں ہمیشہ رہنے والے ہوں گے، وہ اس سے جگہ بدلنا نہ چاہیں گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور کسی اور جگہ منتقل ہونا پسند نہ کریں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جس میں ہمیشہ رہیں گے۔ وہاں سے ہٹنا نہیں چاہیں گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور ان سے نکل کر کہیں جانے کو ان کا جی بھی نہیں چاہے گا

— مولانا اسحاق مدنی

ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے (اور) نہ وہ ان سے کہیں اور نکلنا چاہیں گے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

وہ اس میں ہمیشہ ہمیش رہیں گے وہاں سے وہ جگہ بدلنا نہیں چاہیں گے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ہمیشہ ان میں رہیں گے اور وہاں سے مکان بدلنا نہ چاہیں گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

there they will abide for ever, with no desire to be removed from there."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

where they will live forever, and will not wish to move from there.

— Muhammad Taqi Usmani

where they will live forever, and will not wish to move from there.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"Wherein they shall dwell (forever). No desire will they have for removal therefrom."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Wherein they will abide, with no desire to be removed from thence.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Wherein they abide eternally. They will not desire from it any transfer.

— Saheeh International

without any desire to change their abode.

— Muhammad Sarwar

Abiding therein; they shall not desire removal from them.

— Muhammad Habib Shakir

As abiders therein, they shall not seek therefrom any change.

— Abdul Majid Daryabadi

Wherein they shall dwell (for aye): no change will they wish for from them.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 18:108

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 107–108

جنت الفردوس کا تعارف۔ اللہ پر ایمان رکھنے والے، اس کے رسولوں کو سچا ماننے والے ان کی باتوں پر عمل کرنے ولاے، بہترین جنتوں میں ہوں گے۔ بخاری ومسلم میں ہے کہ جب تم اللہ سے جنت مانگو تو جنت فردوس کا سوال کرو یہ سب سے اعلی سب سے عمدہ جنت ہے اسی سے اور جنتوں کی نہریں بہتی ہیں۔ یہی ان کا مہمان خانہ ہوگی۔ یہ یہاں ہمیشہ کے لئے رہیں گے۔ نہ نکالے جائیں نہ نکلنے کا خیال آئے نہ اس سے بہتر کوئی اور جگہ وہ وہاں کے رہنے سے گھبرائیں کیونکہ ہر طرح کے اعلی عیش مہیا ہیں۔ ایک پر ایک رحمت مل رہی ہے روز بروز رغبت و محبت انس والفت بڑھتی جا رہی ہے اس لئے نہ طبیعت اکتاتی ہے نہ دل بھرتا ہے بلکہ روز شوق بڑھتا ہے اور…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْكَهْف 79 یعنی اس حالت سے بہتر اور کوئی حالت ہوگی ہی نہیں کہ جنت کی زندگی کو اس سے بدل لینے کے لیے ان کے دلوں میں کوئی خواہش پیدا ہو۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(آیت) لَا يَبْغُوْنَ عَنْهَا حِوَلًا مقصد یہ بتلانا ہے کہ جنت کا یہ مقام ان کے لئے لازوال دائمی نعمت ہے کیونکہ حق تعالیٰ نے یہ حکم جاری فرما دیا ہے کہ جو شخص جنت میں داخل ہوگیا وہ وہاں سے کبھی نکالا نہ جائے گا مگر یہاں ایک خطرہ کسی کے دل میں یہ گذر سکتا تھا کہ انسان کی فطری عادت یہ ہے کہ ایک جگہ رہتے رہتے اکتا جاتا ہے وہاں سے باہر دوسرے مقامات پر جانے کی خواہش ہوتی ہے اگر جنت سے باہر کہیں جانے کی اجازت نہ ہوتی تو ایک قید محسوس ہونے لگے گی اس کا جواب اس آیت میں دیا گیا کہ جنت کو دوسرے مقامات پر قیاس کرنا جہالت ہے جو شخص جنت میں چلا گیا پھر جو کچھ دنیا میں دیکھا اور برتا تھا جنت کی نعمتوں اور…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 107–108

تفسیر آیات 107 تا 108: إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنَّاتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلا (107) خَالِدِينَ فِيهَا لا يَبْغُونَ عَنْهَا حِوَلا (108) ، اہل ایمان کا صلہ : یہ ایمان و عمل صالح کی راہ اختیار کرنے کا صلہ بتایا ہے کہ ان کے لیے فردوس کی ضیافت تیار ہے۔ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور اس میں ہمیشہ رہنے کے باوجود کبھی اس سے اکتائیں گے نہیں۔ اس میں ان کے مدارج بھی ہمیشہ بلند ہوتے رہیں گے اور ان کے لیے نعمتیں بھی برابر ان کی خواہش کے مطابق بدلتی رہیں گی۔ اس وجہ سے وہ اس کو چھوڑ کر کہیں اور جانے کے خواہشمند کبھی نہیں ہوں گے

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

18۔ 1 یعنی اہل جنت، جنت اور اس کی نعمتوں سے کبھی نہ اکتائیں گے کہ وہ اس کے علاوہ کسی اور جگہ منتقل ہونے کی خواہش ظاہر کریں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 104–108

52: اس آیت کریمہ نے یہ بڑی حقیقت واضح فرمائی ہے کہ کسی عمل کے مقبول ہونے کے لئے صرف خلوص نیت کافی نہیں ہے، بلکہ راستے کا سیدھا ہونا بھی ضروری ہے، بہت سے کافر خلوص کے ساتھ ایک کام کو اچھا سمجھ کر کرتے ہیں، لیکن چونکہ وہ کام انہوں نے خود اپنی طرف سے گھڑا ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ یا اس کے بھیجے ہوئے پیغمبروں کی طرف اس کام کی کوئی سند نہیں ہوتی، اس لئے وہ ساری محنت اکارت ہو کر رہ جاتی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

لایبغون عنھا حولاً (81 : 801) ” کہ کبھی اس جگہ سے نکل جانے کو ان کا جی نہ چاہے گا۔ “ اس انسانی نفسیاتی اشارے میں جو گہرائی ہے ، اس پر ہمیں چاہئے کہ قدرے غور کریں۔ یہ لوگ جنت الفردوس میں ہمیشہ رہیں گے لیکن نفس انسانی ہمیشہ تغیر طلب ہے۔ کسی کام کا تسلسل اسے ملول کردیتا ہے۔ کسی ایک جگہ ہمیشہ رہتے رہتے اور کسی ایک ہی حالت میں ہوتے ہوئے وہ تنگ آجاتا ہے اور جب انسانی نعمتوں میں ڈوبا ہوتا ہے اور اسے یہ خطرہ نہیں رہتا کہ اس نعمت کا زوال بھی ہوگا تو اس کے دل میں کوئی حرص اور لالچ نہیں رہتی اور جب انسان ایک ہی ڈگر پر چلتا رہتا ہے تو وہ اکتا جاتا ہے بلکہ یہ اکتاہٹ دل کی تنگی میں بدل جاتی ہے اور انسان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 107–108

7 یعنی ہمیشہ رہنے سے اکتائیں گے نہیں۔ ہر دم تازہ بتازہ نعمتیں ملی گی۔ کبھی خواہش نہ کریں گے کہ ہم کو یہاں سے منتقل کردیا جائے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 108 خٰلِدِيْنَ فِيْهَا لَا يَبْغُوْنَ عَنْهَا حِوَلًا یعنی جنت ایسی جگہ نہیں ہے کہ جہاں رہتے رہتے کسی کا جی اکتا جائے۔ دنیا میں انسان ہر وقت تغیر و تبدیلی کا خواہاں ہے۔ تبدیلی کی اسی خواہش کے تحت بری سے بری جگہ پر بھی کچھ دیر کے لیے انسان کا دل بہل جاتا ہے جبکہ اچھی سے اچھی جگہ پر بھی مستقل طور پر رہنا پڑے تو بہت جلد اسے اکتاہٹ محسوس ہونے لگتی ہے۔ ہم کشمیر اور سوئزر لینڈ کو ”فردوس بر روئے زمین“ گمان کرتے ہیں لیکن وہاں کے رہنے والے وہاں کی زمینی و آسمانی آفات سے تنگ ہیں۔ اہل جنت مستقل طور پر ایک ہی جگہ رہنے کے باعث اکتائیں گے نہیں اور وہاں سے جگہ بدلنے کی ضرورت محسوس نہیں کریں گے۔ اب اس…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

88 یعنی رہائش کے لحاظ سے جنت الفردوس اتنی پسند آئے گی کہ وہ اس کے علاوہ کسی اور جگہ منتقل ہونا قطعاً گوارا نہ کریں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 107–108

158۔ یعنی جنت کی ان لازوال اور نت نئی نعمتوں میں رہنے والوں کو نہ کوئی بےدخل کرسکے گا اور نہ وہ از خود کبھی وہاں سے نکلنے کی خواہش کریں گے۔ (آیت) ” نزلا۔ نزلا کے لفظ نے ادھر اشارہ کردیا کہ مومینن کا یہ اعزاز واکرام بہ طور ان کے استحقاق کے ہوگا۔ ٹھیک اسی طرح جیسے اہل کفر کا حق جہنم پر ہوگا (آیت) ” الفردوس “۔ فردوس جنت کے وسط میں واقع ہے۔ اور اس کی بہترین وبلند ترین منزل کا نام ہے، اور وہیں سے جنت کی نہریں جاری ہوتی ہیں۔ فانہ اعلی الجنۃ واوسط الجنۃ ومنہ تفجرانھار الجنۃ (صحیح بخاری، صحیح مسلم) لفظ کے اخذ واشتقاق میں اختلاف ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ عربی الاصل ہے اور بعض کا قول ہے کہ رومی زبان یاسریانی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 99–110

آیت نمبر 99 تا 110 ترجمہ : وقال تعالیٰ ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور ہم ان کے خروج کے دن ان کو آپس میں موجیں مارتے ہوئے یعنی گڈ مڈ ہوتے ہوئے چھوڑ دیں گے ان کی کثرت کی وجہ سے اور صور یعنی سینگ میں پھونک ماردی جائے گی بعث کے لئے اور ہم سب کو یعنی پوری مخلوق کو قیامت کے دن اکٹھا کر کے جمع کریں گے اور اس دن ہم جہنم کو ان کافروں کے روبرو پیش کریں گے جن کی آنکھوں پر یہ الکافرین سے بدل واقع ہے میری یاد سے پردہ پڑا ہوا تھا یعنی قرآن سے غافل تھے، یہ لوگ اندھے ہیں قرآن سے ہدایت حاصل نہیں کرسکتے اور وہ سن ہی نہیں سکتے تھے یعنی رسول اللہ ﷺ سے بغض و عداوت کی وجہ سے ان کی باتوں کو سننا بھی گوارہ نہیں کرتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

خلدین فیہا لا یبغون عنہا حولا۔ وہ جنات الفردوس میں ہمیشہ رہیں گے اس سے ہٹنا نہ چاہیں گے۔ کیونکہ جنت سے زیادہ نفیس اعلیٰ عمدہ کوئی چیز ہی نہیں ہوگی کہ وہ جنت کو چھوڑ کر اس کی طرف راغب ہوں۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ لایبغون سے خالدین کی صرف تائید مقصود ہو۔ حاکم وغیرہ نے حضرت ابن عباس کا بیان نقل کیا ہے کہ قریش نے یہودیوں سے (مدینہ میں جا کر) کہا ہم کو کچھ ایسے سوال بتاؤ کہ ہم جا کر اس شخص سے یعنی رسول اللہ ﷺ سے بطور امتحان دریافت کریں ‘ یہودیوں نے کہا آپ لوگ اس شخص سے روح کے متعلق دریافت کریں۔ قریش نے آکر رسول اللہ ﷺ سے روح کے متعلق سوال کیا اس پر آیت یَسْءَلُوْنَکَ عَنِ الرُّوْحِ قُلِ الرُّوْح مِنْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 107–108

(107۔ 108) بیشک جو حضرات رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے ان کی رہائش کے لیے فردوس کے باغات ہوں گے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور نہ وہ وہاں سے کہیں اور جانا چاہیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

لَا يَبْغُوْنَ عَنْهَا حِوَلًا : ایک جگہ زیادہ دیر رہنے سے آدمی اکتا جاتا ہے، مگر جنتی جنت سے کبھی دوسری جگہ منتقل ہونا نہیں چاہیں گے، کیونکہ اس سے بہتر عیش کی کوئی جگہ نہیں ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وَلَكُمْ فِيْهَا مَا تَشْتَهِيْٓ اَنْفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيْهَا مَا تَدَّعُوْنَۭ نُزُلًا مِّنْ غَفُوْرٍ رَّحِيْمٍ) [ حٰآ السجدۃ : 31، 32 ] ”اور تمہارے لیے اس میں وہ کچھ ہے جو تمہارے دل چاہیں گے اور تمہارے لیے اس میں وہ کچھ ہے جو تم مانگو گے۔ یہ بیحد بخشنے والے، نہایت مہربان کی طرف سے مہمانی ہے۔“ اور حدیث قدسی میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (أَعْدَدْتُ لِعِبَادِيْ الصَّالِحِیْنَ مَا لَا عَیْنٌ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 107–108

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ان الذین امنوا وعملوا الصلحت کا نت لھم جنت الفردوس نزلا۔ قتادہ نے کہا : فردوس جنت کا بلند، عمدہ، اعلیٰ ، افضل اور ارفع مقام ہے۔ حضرت ابو امامہ باہلی نے کہا : فردوس جنت کی ناف ہے۔ کعب نے کہا : جنتوں میں سے ایک جنت ہے جو جنۃ الفردوس سے بھی اعلیٰ ہے، اس میں وہ لوگ ہوں گے جو نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے منع کرتے ہیں۔ صحیح بخاری میں ہے حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے ( 1) فرمایا : ” نبی پاک ﷺ نے فرمایا : جو اللہ پر ایمان لایا، نماز قائم کی، رمضان کے روزے رکھے تو اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ اسے جنت میں داخل کرے خواہ اس نے اللہ کے راستہ میں جہاد کیا ہو یا اس زمین میں بیٹھا رہا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 103–108

خوارج یہود و نصاری کے اعمال : 1:۔ عبدالرزاق، بخاری، نسائی، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم نے، حاکم اور ابن مردویہ نے مصعب بن سعد (رح) کے طریق سے روایت کیا کہ میں نے اپنے والد سے (آیت) ” قل ھل ننبئکم بالاخسرین اعمالا “ کے بارے میں پوچھا کیا (اس آیت میں) حروریہ (خوارج) مراد ہیں انہوں نے فرمایا نہیں وہ یہود و نصاری مراد ہیں یہودیوں نے محمد ﷺ کو جھٹلادیا اور نصاری نے جنت کو جھٹلادیا اور کہا نہ اس میں کھانا ہے نہ اس میں پینا ہے اور حرور یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ پکا وعدہ کرنے کے بعد اس کو توڑ دیتے ہیں، اور حضرت سعدؓ ان کو فاسقین کا نام دیتے تھے۔ 2:۔ عبدالرزاق، فریابی سعید بن منصور،…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[خٰلِدِيْنَ : ہمیشہ رہنے والے ہوتے ہوئے ] [فِيْهَا : ان میں ] [لَا يَبْغُوْنَ : وہ نہیں چاہیں گے ] [عَنْهَا : ان سے ] [حِوَلًا : کوئی تبدیلی ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(خٰلِدِیْنَ فِیْھَا لَا یَبْغُوْنَ عَنْھَا حِوَلًا) اہل ایمان و اعمال صالحہ والے مذکورہ جنتوں میں ہمیشہ ہمیش رہیں گے وہاں سے کہیں جانا نہ چاہیں گے کیونکہ اس سے بہتر کہیں بھی کوئی جگہ کبھی بھی نہ ہوگی۔ اور وہاں سے نکالے بھی نہ جائیں گے۔ سورة حجر میں فرمایا ہے۔ (لَا یَمَسُّھُمْ فِیْھَا نَصَبٌ وَّ مَا ھُمْ مِّنْھَا بِمُخْرَجِیْنَ ) (نہ انہیں وہاں کوئی تکلیف پہنچے گی اور نہ وہاں سے نکالے جائیں گے۔ )

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 99–110

تتمہ قصۂ ذوالقرنین و ذکر انہدام دیوار ذوالقرنین و خروج یاجوج و ماجوج و نفخ صور قال اللہ تعالیٰ ۔ و ترکنا بعضھم یومئذ یموج فی بعض۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ لا یستطیعون سمعا۔ (ربط) گزشتہ آیات میں ذوالقرنین کا یہ قول نقل فرمایا تھا۔ ھٰذا رحمۃ من ربی فاذا جآء وعد ربی جعلہ دکٓٓٓآء کہ یہ دیوار اللہ کی رحمت اور اس کی نعمت ہے عرصہ دراز تک باقی رہے گی مگر جب خروج یاجوج و ماجوج کے وعدے کا وقت آئے گا تو یہ دیوار ٹوٹ جائے گی اور یہ یاجوج و ماجوج کی قوم جو اب اس سد کے پیچھے بند ہے نکل پڑے گی۔ اب آئندہ آیات میں خروج یاجوج و ماجوج کے وعدہ کا وقت ذکر فرماتے ہیں کہ یہ وعدہ قیامت کے قریب پورا ہوگا اور اس کے چند روز بعد صور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 107–108

89:۔ یہ بشارت اخروی ہے۔ یعنی جو لوگ اللہ کی توحید پر ایمان لائے اور نیک اعمال کیے اور شرک سے بچے ان کے لیے جنت الفردوس ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 102–108

(خدا کی رحمت کا ذکر) اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء اور اولیاء کا ذکر فرما کر ان کے ایک مشترکہ نظریہ کو بیان کیا ہے کہ وہ سب اللہ تعالیٰ کی رحمت کے امیدوار تھے اور انہوں نے اپنی ہر کارگزاری کو رحمت خداوندی پر محمول کیا اس سورة میں پہلا واقعہ اصحاب کہف کا بیان ہوا ہے ، وہ اللہ کے برگزیدہ بندے اور اس کے دوست تھے جنہوں نے عقیدہ توحید پر قائم رہنے کے لیے اپنے گھر بار چھوڑ کر غار میں پناہ لی ، انہوں نے اپنی قوم سے علیحدہ ہوتے وقت یہی کہا تھا کہ ہمارا تعلق صرف اللہ وحدہ لاشریک کے ساتھ ہے (آیت) ” ینشرلکم ربکم من رحمتہ “۔ وہ تمہارے لیے اپنی رحمت پھیلا دے گا اور تمہارے معاملہ میں تمہارے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

خٰلِدِيْنَ فِيْہَا لَا يَبْغُوْنَ عَنْہَا حِوَلًا۝ 108 خلد الخُلُود : هو تبرّي الشیء من اعتراض الفساد، وبقاؤه علی الحالة التي هو عليها، والخُلُودُ في الجنّة : بقاء الأشياء علی الحالة التي عليها من غير اعتراض الفساد عليها، قال تعالی: أُولئِكَ أَصْحابُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيها خالِدُونَ [ البقرة/ 82] ، ( خ ل د ) الخلودُ ( ن ) کے معنی کسی چیز کے فساد کے عارضہ سے پاک ہونے اور اپنی اصلی حالت پر قائم رہنے کے ہیں ۔ اور جب کسی چیز میں دراز تک تغیر و فساد پیدا نہ ہو۔ قرآن میں ہے : ۔ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ [ الشعراء/ 129] شاید تم ہمیشہ رہو گے ۔ جنت میں خلود کے معنی یہ ہیں کہ اس میں تمام چیزیں اپنی اپنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 102–109

تفسیر : ذوالقرنین کے قصہ کے خاتمے پر فرمایا تھا کہ کافر قابل جہنم وہ ہیں کہ جن کی آنکھوں پر اور کانوں پر غفلت کے پردے پڑے ہیں نہ خدا تعالیٰ کو اس کے آیات قدرت دیکھ کر یاد کرتے ہیں نہ حق بات سنتے ہیں۔ اب یہاں سے ان پردوں کا اثر بیان فرماتا ہے فقال افحسب الذین الخ کہ کیا ان کافروں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ مجھے چھوڑ کر میری مخلوق کو کارساز ‘ حاجت روا بنانا ان کے لیے بس کرتا ہے حالانکہ یہ بڑی نادانی ہے اوّل تو یوں کہ مالک کے مقابلہ میں اس کے بندے اور مخلوق جنہیں حاجت روا سمجھ بیٹھے ہیں ان کے کام آئیں گے وہ کیا کام آسکتے ہیں جبکہ وہ خود ہی ہمارے محتاج اور دست نگر ہیں۔ دوم بڑا کام آنا اس جہاں کے لیے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 106–108

ذٰلِکَ جَزَآؤْھُمْ جَھَنَّمْ بِمَا کَفَرُوْا وَاتَّخَذُوْٓا اٰیٰـتِیْ وَرُسُلِیْ ھُزُوًا۔ (الکہف : 106) (یہی جہنم ان کا بدلہ ہے، بسبب اس کے کہ انھوں نے کفر کیا اور میری آیات اور میرے رسولوں کا مذاق اڑایا۔ ) یہ اشرافِ قریش اور دیگر اہل مکہ آج جس جہنم کا انکار کررہے ہیں قیامت کے دن یہی جہنم ان کے اعمال کا بدلہ ہوگی۔ آج یہ اللہ تعالیٰ کی آیات اور اللہ تعالیٰ کے رسولوں کا مذاق اڑاتے ہیں کل یہی تمسخر اور استہزاء ان کی تباہی کا باعث بنے گا۔ اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ کَانَتْ لَہُمْ جَنّٰتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلاً ۔ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا لاَ یَبْغُوْنَ عَنْھَا حِوَلاً ۔ (الکہف :…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 107–108

فہم القرآن ربط کلام : کفار اور مشرکین کے انجام کے ذکر کے بعد ایماندار اور صاحب کردار لوگوں کا تذکرہ۔ اللہ اس کے رسول ﷺ اور آخرت پر سچا ایمان والے اور جنہوں نے نیک اعمال کیے ان کی مہمان نوازی جنت الفردوس میں کی جائے گی۔ جس میں وہ ہمیشہ ہمیش رہیں گے اور ان کو کبھی اس سے نکالا نہیں جائے گا۔ نہ ہی وہ خود نکلیں گے۔ جنت کی ایک جھلک اور اس کی چھوٹی سے چھوٹی نعمت ” دنیا و ما فیھا “ سے کھرب ہا درجہ بہتر ہے۔ ” جنت الفردوس “ جنت کا وہ اعلیٰ حصہ اور مقام ہے جس کے مقابلہ میں باقی جنت کی نعمتیں معمولی تصور ہوں گی۔ اس میں انبیاء کرام (علیہ السلام) ، ان کے اصحاب، شہدآء، صدیقین، صلحآء اور وہ لوگ داخل ہوں گے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

Explained with ayahs 107–108

مومن اور فردوس کی ضیافت : 107، 108: اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ کَانَتْ لَھُمْ جَنّٰتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًا خٰلِدِیْنَ فِیْھَا لَایَبْغُوْنَ عَنْھَا حِوَلًا (بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کئے ان کی مہمانی کیلئے فردوس کے باغ ہونگے وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے اور ان سے ہٹنا نہ چاہیں گے) خلِدِیْنَ فِیْھَا یہ حال ہے اور حِوَلًا کا معنی کسی دوسرے کی طرف منتقل ہونا یعنی اس عطیے پر وہ خوش ہو کر ایسا نہ چاہیں گے۔ عرب کے ہاں محاورہ ہے : حَال مِنْ مَکَانِہٖ حِوَلًا یعنی اس پر کوئی اضافہ نہیں یہاں تک کہ ان کے نفسوں نے ان سے تنازع کیا کہ وہ اپنی اغراض اور تمنائوں کو جمع…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 107–110

جنت الفردوس کے بیان میں (107)” ان الذین آمنو ا وعملو الصالحات کانت لھم جنت الفردوس “ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب تم اللہ سے مانگا کرو تو فردوس ملنے کی دعا کیا کرو کیونکہ وہ جنت کے وسط میں ہے اور دوسری جنتوں سے اعلیٰ ہے، اس کے اوپر رحمن کا عرش ہے اور اسی سے جنت کی نہریں نکلتی ہیں۔ حضرت کعب کا قول ہے کہ جنت میں فردوس سے اونچی کوئی جنت نہیں ہے، بھلائی کا حکم دینے والے اور برائی سے روکنے والے اسی میں داخل ہوں گے۔ قتادہ کا قول ہے کہ فردوس ربوۃ الجنتۃ کو کہتے ہیں۔ کعب کا بیان ہے کہ فردوس اس باغ کا نام ہے جس میں انگور ہوں۔ مجاہد کا قول ہے کہ وہ باغ جو رومی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

108۔ اوپر ذکر تھا کہ عقبیٰ کے اجر کے حساب سے منکرین حشر کے سارے نیک عمل اس واسطے اکارت ہیں کہ یہ لوگ حشر اور اس دن کی سزا و جزا کے قائل نہیں ریا کاروں اور بددعا کے اس قدر نیک عمل اکارت ہیں جن میں ریا کاری اور بدعت کا دخل ہے کیونکہ ریا کاری کے نیک عمل دنیا کے دکھاوے کے لیے کیے ہیں اور بدعت کے دخل کے عمل شریعت کے حکم کے موافق نہیں ہیں ان آیتوں میں فرمایا جن لوگوں کے نیک عملوں کے بدلہ میں جنت الفردوس دی جائے گی وہ ایسے لوگ ہیں جو اللہ کی وحدانیت کا اور اللہ کے رسول کے سچے ہونے کے یقین دل میں رکھتے ہیں اور زبان سے اس کا اقرار اور اس یقین اور اقرار کے موافق ہاتھ پیروں سے نیک عمل بھی کرتے ہیں۔ صحیح…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 107–108

آیت 107 یعنی جو اپنے دل سے ایمان لائے اور اپنے جوارح سے نیک عمل کئے اور یہ وصف تمام دین، یعنی اس کے عقائد و اعمال اور اس کے ظاہری اور باطنی اصول و فروغ سب کو شامل ہے۔ تمام اہل ایمان کو، ان کے ایمان اور اعمال صالحہ کے مراتب کے مطابق، جنت فردوس کے مختلف طبقات عطا ہوں گے۔” جنات الفردوس “ میں اس معنی کا احتمال ہے کہ اس سے مراد جنت کا بلند ترین، بہترین اور افضل درجہ ہو اور یہ ثواب ان لوگوں کے لئے ہے جنہوں نے اپنے ایمان اور اعمال صالحہ کی تکمیل کی اور وہ ہیں انبیائے کرام اور مقربین۔ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے جنت کی تمام منازل اور اس کے تمام درجے مراد ہوں اور یہ ثواب جنت کے تمام طبقات، یعنی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 82–110

کنز کسے کہتے ہیں ؟ قول باری ہے (وکان تحتہ کنزلھما، اس دیوار کے نیچے ان بچوں کے لئے ایک خزانہ مدفون ہے) سعید بن جبیر اور عکرمہ کا قول ہے کہ ” مال مدفون تھا۔ “ حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ یہ خزانہ سونے اور چاندی کی شکل میں نہیں تھا بلکہ کتابی شکل میں علم کا خزانہ تھا۔ مجاہد کا قول ہے کہ علم کے صحیفے تھے۔ حضرت ابوالدرداء سے مروی ہے کہ حضو ر ﷺ سے اس آیت کی تفسیر میں منقول ہے کہ سونا چاندی مدفون تھا۔ جب ان حضرات نے کنز کو صحیفوں، علم ، نیز سونا اور چاندی کے معنوں پر محمول کیا تو اس سے یہ دلالت حاصل ہوئی کہ کنز کا اطلاق ان تمام چیزوں پر ہتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ حضرات اسے ان معنوں پر معمول نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

152 اہل جنت کبھی وہاں اکتائیں گے نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان کا کبھی وہاں سے کہیں جانے کو جی نہیں چاہے گا "۔ کیونکہ نہ تو اس سے بہتر دوسرا کوئی مقام ان کے تصور میں ہوگا اور نہ ہی ہوسکتا ہے۔ اور نہ ہی وہاں کی نعمتوں سے بڑھ کر کسی اور نعمت کا وہ سوچ بھی سکیں گے۔ سو خلود و دوام اور دائمی آرام و راحت جنت کی ایک ایسی ممتاز اور منفرد نعمت ہوگی جس کا اور کہیں پایا جانا ممکن نہیں۔ کیونکہ دنیا کی ہر نعمت اور خود دنیا ساری عارضی اور فانی ہے۔ نہ اس کی کوئی نعمت دائمی ہوسکتی ہے اور نہ ہی ان نعمتوں سے فائدہ اٹھانے والا کوئی شخص۔ بلکہ یہاں کی ہر نعمت بھی فانی اور ان نعمتوں سے فائدہ اٹھانے والا ہر…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 107–110

نیک اعمال کرنیوالوں کی مہمانی تشریح : یعنی ” قیامت کے روز “ یہ ذوالقرنین کے فقرے ” قیامت کے وعدہ برحق “ کی سچائی کو ظاہر کرنے کے لیے فرمایا گیا ہے۔ اس پوری سورت میں یہی مضمون تینوں قصوں کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ جو آنحضرت ﷺ نے لوگوں کے سامنے رکھا، یعنی توحید کفر و شرک، نیکی بدی، دنیا و آخرت، امن و فساد، نفرت و محبت، بغض و خلوص اور پھر ان کے بدلے میں ملنے والی جنت و دوزخ کا ذکر بڑے ہی احسن انداز سے کیا گیا ہے۔ کاش کہ آج کا مسلمان سچا اور پکا مسلمان بن جائے۔

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 102–110

(رکوع نمبر 13) اسرارومعارف یہ سب حالات وواقعات تو عظمت الہی پر دلالت کرتے ہیں یہ سب بھی سن اور جان کر کفار اللہ جل جلالہ کے سوا دوسروں ہی کی عبادت پہ اصرار کرتے ہیں جو خود اللہ کی مخلوق اور اس کے بندے ہیں تو پھر یہ بھی جان لو کہ ایسے کفار کی مہمانی کے لیے جہنم دہک رہا ہے آپ انہیں فرما دیجئے کہ ان لوگوں کے حال سے مطلع نہ کر دوں جو سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والے ہیں تو وہ لوگ یقینا ایسے ہی لوگ ہیں جن کی دنیا کی سب محنت اکارت گئی اور وہ خود کو بہت کامیاب تصور کرتے رہے ۔ (خلاف شریعت عمل خسارہ ہے) یعنی زندگی بھر محنت دولت کمائی اقتدار حاصل کیا یا شان و شوکت سے رہے اور سمجھا کہ ہم کامیاب ہیں ، مگر…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(18:108) لا یبغون۔ مضارع منفی جمع مذکر غائب۔ وہ نہیں چاہیں گے۔ بغیمصدر۔ بغی یبغی (ضرب) بغی۔ حولا۔ اس کا مادہ حول ہے۔ حال یحول حول حوول (نصر) بمعنی کسی چیز کا متغیر ہونا حول یحول تحویل (تفعیل) ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا۔ تحول یتحول تحول (تفعیل) پھرنا۔ یہاں حول بمعنی تحولآیا ہے۔ یعنی پھرنا۔ لا یبغون عنھا حولا۔ وہاں سے وہ مکان بدلنا نہ چاہیں گے۔ حولامصدر۔ جگہ بدلنی۔ تبدیلی۔ پلٹنا۔ حولبمعنی سال۔ حال (انسان وغیرہ کی وہ حالت جو نفس۔ جسم اور مال کے اعتبار سے بدلتی رہے) اسی مادہ سے مشتق ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 102–108

لغات القرآن آیت نمبر 102 تا 108 اولیاء دوست، کام بنانے والے۔ نزل مہمان داری۔ سعی کوشش، جدوجہد۔ صنع کام۔ حبطت ضائع ہوگئی۔ لانقیم ہم قائم نہ کریں گے۔ ھزو مذاق۔ الفردوس جنت ، بہشت۔ لایبغون وہ نہ چاہیں گے۔ حول تبدیل کرنا۔ تشریح :- آیت نمبر 102 تا 108 اللہ تعالیٰ نے کہف میں اصحاب کہف، حضرت موسیٰ خضر اور ذوالقرنین کے واقعات سنانے کے بعد فرمایا ہے کہ اتنا کچھ بتانے اور سنانے کے باوجود کیا اس بات کی ذرا بھی گنجائش باقی رہ جاتی ہے کہ اللہ کو چھوڑ کر دوسری بےحقیقت چیزوں کو اپنا حمایتی، مددگار اور رب بنا لیا جائے۔ فرمایا کہ یہ بات بنیادی طور پر غلط سوچ کا نتیجہ ہے کہ قیامت کے ہولناک دن یہ جھوٹے معبود ان…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 107–108

اس آیت میں ارشاد ہوا کہ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے، ان کا ٹھکانا جنت فردوس ہے۔ اللہ کی وحدانیت اور اللہ کے رسول کے سچے ہونے کا یقین ان کے دل میں ہے، اور زبان سے اس کا اقرار اور یقین کرتے ہیں۔ اور اس اقرار یقین کے موافق ہاتھ پیروں سے نیک عمل بھی کرتے ہیں۔ وہ جنت فردوس میں ہمیشہ رہیں گے اور وہاں سے ٹلنا نہ چاہیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 105–108

[38] یعنی ایسے لوگ جن کی ساری جدوجہد، تگ و دو ، کاوش و کوشش دنیا کی زندگی میں گم ہو کر رہ گئی اور جنہوں نے دنیا کی کامیابیوں اور خوشحالیوں کو اپنا مقصود بنایا اور رضائے الٰہی اور فلاح آخرت کا خیال تک نہ کیا تو ان کا سب کیا کرایا دنیائے فانی کے ساتھ ہی فنا ہوگیا۔ آخرت میں تو وہی اعمال وزن پائیں گے جو انہوں نے رضائے الٰہی کے لئے کئے ہوں اور نتائج کو مقصود بنا کر کئے ہوں جو آخرت میں نکلنے والے ہیں۔ ایسے اعمال اگر ان کے حساب میں نہیں ہیں تو ان کی وہ ساری سعی و جہد بلاشبہ اکارت گئی جو انہوں نے دنیا میں کی تھی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 107–108

(ف 2) منکرین کا انجام واضح کرنے کے بعد اب مومنین کا مال بتایا ہے کہ ان کا مقام فردوس ہے جس میں یہ لوگ ابدی زندگی بسر کریں گے ۔ کفار کے لئے ” نزل “ کے لفظ کو بطور طنز کے استعمال فرمایا تھا ، یہاں مومنوں کے لئے بھی ضیافت ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ باوجود ابدی زندگی کے خاطر مدارات میں ہر لمحہ تنوع ہوگا ، اور یہ لوگ جنت میں اس طرح آرام و آسائش سے رہیں گے جس طرح کوئی عزیز مہمان رہتا ہے اس وضاحت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اسلام میں مہمان کا درجہ کتنا بلند ہوگا ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

- 108 وہ حضرات ان باغوں میں ہمیشہ رہیں گے اور وہاں سے کسی دوسری جگہ منتقل ہونے کی خواہش نہ کریں گے۔ مطلب یہ ہے کہ بہشت کے باغوں میں ہمیشہ رہیں گے اور وہاں سے اکتا کر کسی دوسری جگہ جانے اور منتقل ہونے کی خواہش اور آرزو نہ کریں گے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

فردوس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے ‘ نہ نکلیں گے نہ نکالے جائیں گے : 114۔ وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور پھر ہمیشہ رہنے کے باعث وہ کبھی نہیں اکتائیں گے اور ان کو سیر و تفریح کی کھلی اجازت ہوگی اور ان کے درجات مزید بڑھا دیئے جائیں گے اور ان کے لئے ہر طرح کی نعمتیں تیار ہیں جن کو اگر کوئی گننا چاہے تو نہیں گن سکتا اور جس چیز کی ان کو اس وقت خواہش ہوگی وہ اسی وقت پوری کردی جائے گی اور وہ اس سے نکلنا کبھی بھی برداشت نہیں کریں گے اور ہم آخر ان کو نکالیں گے بھی کیوں ؟

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 108–109

The purpose of the last sentence: لَا يَبْغُونَ عَنْهَا حِوَلًا (and will not wish to move from there - 108) is to tell that this station of Jannah is a never-ending, ever-lasting blessing for them. The reason is that Allah Ta’ ala has promulgated His command to the effect that whoever has entered Jannah will never be expelled from there. But, there was the possibility of some doubt crossing someone's heart, for human beings naturally get fed up by living at one place. They wish to move out and go to other places. Now, if they were not allowed to go elsewhere out of Jannah, they might start…

Read the full tafseer →