Al-Kahf 18:107

Al-Kahf · from ayah 107

18:107

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنّٰتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًا ۟ۙاِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَانَتۡ لَهُمۡ جَنّٰتُ الۡفِرۡدَوۡسِ نُزُلًا ۙ‏

جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کئے ان کے لئے بہشت کے باغ مہمانی ہوں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, those who have believed and done righteous deeds - they will have the Gardens of Paradise as a lodging,

— Saheeh International

Juz 16 · Ruku 12 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Kahf

All translations of 18:107

البتّہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے، ان کی میزبانی کے لیے فردوس کے باغ ہوں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کئے ان کے لئے بہشت کے باغ مہمانی ہوں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

جو لوگ ایمان ﻻئے اور انہوں نے کام بھی اچھے کیے یقیناً ان کے لئے الفردوس کے باغات کی مہمانی ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

(دوسری طرف) جو لوگ ایمان لائے ہیں، اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں، ان کی مہمانی کے لیے بیشک فردوس کے باغ ہوں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے فردوس کے باغ ان کی مہمانی ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے تو ان کے لئے فردوس کے باغات کی مہمانی ہوگی،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے ان کے لیے فردوس کے باغ مہمانی ہوں گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

البتہ جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کی مہمانی فردوس کے باغات سے ہوگی۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کیے ان کے لیے فردوس کے باغوں کی ضیافت ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اس کے برعکس بیشک جو لوگ ایمان لائے اور وہ کام بھی نیک کرتے رہے ان کی مہمانی کے لیے فردوس کے وہ باغ ہوں گے

— مولانا اسحاق مدنی

بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل بھی کئے ان کی مہمانی کے لیے فردوس کے باغ ہوں گے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اس کے برعکس) وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے ان کی مہمانی کے لیے فردوس کے باغات ہوں گے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جو لوگ ایمان لائے اور نیک کیے عمل ان کے لیے بہشت کے باغ مہمانی ہوں گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

As for those who believe and do good works, the Gardens of Paradise shall be there to welcome them;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Surely those who believed and did righteous deeds, theirs are the Gardens of Firdaus as entertainment

— Muhammad Taqi Usmani

Surely those who believed and did righteous deeds, theirs are the Gardens of Firdaus as entertainment

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"Verily, those who believe and do righteous deeds, shall have the Gardens of Al-Firdaws for their entertainment."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! those who believe and do good works, theirs are the Gardens of Paradise for welcome,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, those who have believed and done righteous deeds - they will have the Gardens of Paradise as a lodging,

— Saheeh International

The righteously striving believers will have the gardens of Paradise as their dwelling place and therein they will live forever,

— Muhammad Sarwar

Surely (as for) those who believe and do good deeds, their place of entertainment shall be the gardens of paradise,

— Muhammad Habib Shakir

Verily those who believe and do righteous works, unto them shall be gardens of Paradise for an entertainment.

— Abdul Majid Daryabadi

As to those who believe and work righteous deeds, they have, for their entertainment, the Gardens of Paradise,

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 18:107

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 107–108

جنت الفردوس کا تعارف۔ اللہ پر ایمان رکھنے والے، اس کے رسولوں کو سچا ماننے والے ان کی باتوں پر عمل کرنے ولاے، بہترین جنتوں میں ہوں گے۔ بخاری ومسلم میں ہے کہ جب تم اللہ سے جنت مانگو تو جنت فردوس کا سوال کرو یہ سب سے اعلی سب سے عمدہ جنت ہے اسی سے اور جنتوں کی نہریں بہتی ہیں۔ یہی ان کا مہمان خانہ ہوگی۔ یہ یہاں ہمیشہ کے لئے رہیں گے۔ نہ نکالے جائیں نہ نکلنے کا خیال آئے نہ اس سے بہتر کوئی اور جگہ وہ وہاں کے رہنے سے گھبرائیں کیونکہ ہر طرح کے اعلی عیش مہیا ہیں۔ ایک پر ایک رحمت مل رہی ہے روز بروز رغبت و محبت انس والفت بڑھتی جا رہی ہے اس لئے نہ طبیعت اکتاتی ہے نہ دل بھرتا ہے بلکہ روز شوق بڑھتا ہے اور…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْكَهْف 78 تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، المومنون، حاشیہ 10۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

جَنّٰتُ الْفِرْدَوْسِ فردوس کے معنی سرسبز باغ کے ہیں اس میں اختلاف ہے کہ یہ عربی لفظ ہے یا عجمی جن لوگوں نے عجمی کہا ہے اس میں بھی فارسی ہے یا رومی یا سریانی مختلف اقوال ہیں۔ صحیح بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ جب تم اللہ سے مانگو تو جنت الفردوس مانگو کیونکہ وہ جنت کا سب سے اعلیٰ و افضل درجہ ہے اس کے اوپر عرش رحمن ہے اور اسی سے جنت کی سب نہریں نکلتی ہیں (قرطبی)

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 107–108

تفسیر آیات 107 تا 108: إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنَّاتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلا (107) خَالِدِينَ فِيهَا لا يَبْغُونَ عَنْهَا حِوَلا (108) ، اہل ایمان کا صلہ : یہ ایمان و عمل صالح کی راہ اختیار کرنے کا صلہ بتایا ہے کہ ان کے لیے فردوس کی ضیافت تیار ہے۔ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور اس میں ہمیشہ رہنے کے باوجود کبھی اس سے اکتائیں گے نہیں۔ اس میں ان کے مدارج بھی ہمیشہ بلند ہوتے رہیں گے اور ان کے لیے نعمتیں بھی برابر ان کی خواہش کے مطابق بدلتی رہیں گی۔ اس وجہ سے وہ اس کو چھوڑ کر کہیں اور جانے کے خواہشمند کبھی نہیں ہوں گے

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

17۔ 1 جنت الفردوس، جنت کا سب سے اعلیٰ درجہ ہے، اسی لئے نبی ﷺ نے فرمایا ' جب بھی تم اللہ سے جنت کا سوال کرو تو الفردوس کا سوال کرو، اس لئے کہ وہ جنت کا اعلیٰ حصہ ہے اور وہیں سے جنت کی نہریں پھوٹتی ہیں ' (البخاری کتاب التوحید)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 104–108

52: اس آیت کریمہ نے یہ بڑی حقیقت واضح فرمائی ہے کہ کسی عمل کے مقبول ہونے کے لئے صرف خلوص نیت کافی نہیں ہے، بلکہ راستے کا سیدھا ہونا بھی ضروری ہے، بہت سے کافر خلوص کے ساتھ ایک کام کو اچھا سمجھ کر کرتے ہیں، لیکن چونکہ وہ کام انہوں نے خود اپنی طرف سے گھڑا ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ یا اس کے بھیجے ہوئے پیغمبروں کی طرف اس کام کی کوئی سند نہیں ہوتی، اس لئے وہ ساری محنت اکارت ہو کر رہ جاتی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ان لوگوں کی جنت الفردوس میں مہمانی مقابل ہے کفار کی مہمانی کے جو جہنم میں ہو رہی ہے۔ کتنا ہی بڑا فراق ہے دونوں میں ۔ یہاں نہایت ہی لطیف انداز میں انساین نفس اور اس کے احساسات اور مسرتوں کی طرف متوجہ کیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 107–108

7 یعنی ہمیشہ رہنے سے اکتائیں گے نہیں۔ ہر دم تازہ بتازہ نعمتیں ملی گی۔ کبھی خواہش نہ کریں گے کہ ہم کو یہاں سے منتقل کردیا جائے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 107 اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنّٰتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًا جن لوگوں نے ایمان کے تقاضے بھر پور طور پر پورے کیے اور وہ نیک اعمال کرتے رہے ان کے لیے ٹھنڈی چھاؤں والے باغات ہوں گے۔ آج ہم تصور بھی نہیں کرسکتے کہ وہ باغات کیسے ہوں گے اور کہاں ہوں گے۔ اس کائنات کی وسعت بیحد و حساب ہے اور جنت کی وسعت بھی ہمارے احاطہ خیال میں نہیں سما سکتی۔ اس کائنات میں اَن گنت کہکشائیں ہیں اور نہ معلوم اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے کہاں کہاں جنتیں بنا رکھی ہیں۔ حدیث میں آتا ہے کہ نچلے درجے والا جنتی اوپر والے جنتی کو ایسے دیکھے گا جیسے آج ہم زمین سے ستاروں کو دیکھتے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

87 جنت کے سب سے اعلیٰ اور بلند تر درجہ کا نام جنت الفردوس ہے جس کے باغات کے درخت گھنے، پربہار اور خوش منظر ہیں۔ آپ نے مسلمانوں سے فرمایا کہ جب کبھی اللہ تعالیٰ سے سوال کرو تو جنت الفردوس کا سوال کیا کرو۔ (بخاری، کتاب الجہاد، باب درجات المجاہدین فی سبیل اللہ)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 107–108

158۔ یعنی جنت کی ان لازوال اور نت نئی نعمتوں میں رہنے والوں کو نہ کوئی بےدخل کرسکے گا اور نہ وہ از خود کبھی وہاں سے نکلنے کی خواہش کریں گے۔ (آیت) ” نزلا۔ نزلا کے لفظ نے ادھر اشارہ کردیا کہ مومینن کا یہ اعزاز واکرام بہ طور ان کے استحقاق کے ہوگا۔ ٹھیک اسی طرح جیسے اہل کفر کا حق جہنم پر ہوگا (آیت) ” الفردوس “۔ فردوس جنت کے وسط میں واقع ہے۔ اور اس کی بہترین وبلند ترین منزل کا نام ہے، اور وہیں سے جنت کی نہریں جاری ہوتی ہیں۔ فانہ اعلی الجنۃ واوسط الجنۃ ومنہ تفجرانھار الجنۃ (صحیح بخاری، صحیح مسلم) لفظ کے اخذ واشتقاق میں اختلاف ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ عربی الاصل ہے اور بعض کا قول ہے کہ رومی زبان یاسریانی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 99–110

آیت نمبر 99 تا 110 ترجمہ : وقال تعالیٰ ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور ہم ان کے خروج کے دن ان کو آپس میں موجیں مارتے ہوئے یعنی گڈ مڈ ہوتے ہوئے چھوڑ دیں گے ان کی کثرت کی وجہ سے اور صور یعنی سینگ میں پھونک ماردی جائے گی بعث کے لئے اور ہم سب کو یعنی پوری مخلوق کو قیامت کے دن اکٹھا کر کے جمع کریں گے اور اس دن ہم جہنم کو ان کافروں کے روبرو پیش کریں گے جن کی آنکھوں پر یہ الکافرین سے بدل واقع ہے میری یاد سے پردہ پڑا ہوا تھا یعنی قرآن سے غافل تھے، یہ لوگ اندھے ہیں قرآن سے ہدایت حاصل نہیں کرسکتے اور وہ سن ہی نہیں سکتے تھے یعنی رسول اللہ ﷺ سے بغض و عداوت کی وجہ سے ان کی باتوں کو سننا بھی گوارہ نہیں کرتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ان الذین امنوا وعملوا الصلحت کانت لہم جنت الفردوس نزلا۔ بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کئے ان کی مہمانی کے لئے فردوس کے باغ ہوں گے۔ کانت لَہُمْیعنی اللہ کے سابق حکم اور وعدہ میں جنات فردوس نیکو کار مؤمنوں کا مسکن ہے ‘ حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم اللہ سے مانگا کرو تو فردوس ملنے کی دعا کیا کرو کیونکہ وہ جنت کے وسط میں ہے اور دوسری جنتوں سے اعلیٰ ہے اس کے اوپر رحمن کا عرش ہے اور اسی سے جنت کی نہریں نکلتی ہیں ‘ متفق علیہ۔ ترمذی اور حاکم نے حضرت عبادہ بن صامت کی روایت سے اور بیہقی نے حضرت معاذ بن جبل کے حوالہ سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جنت کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 107–108

(107۔ 108) بیشک جو حضرات رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے ان کی رہائش کے لیے فردوس کے باغات ہوں گے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور نہ وہ وہاں سے کہیں اور جانا چاہیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ۔۔ : کفار کے بعد ان کے مقابل اہل ایمان کی مہمانی کا ذکر فرمایا۔ فردوس کا معنی وہ باغ ہے جس میں تمام باغوں کے درخت، پھول اور پودے ہوں۔ ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (فَإِذَا سَأَلْتُمُ اللّٰہَ فَسَلُوْہُ الْفِرْدَوْسَ ، فَإِنَّہُ أَوْسَطُ الْجَنَّۃِ وَأَعَلَی الْجَنَّۃِ ، وَفَوْقَہُ عَرْشُ الرَّحْمٰنِ ، وَمِنْہُ تَفَجَّرُ أَنْھَارُ الْجَنَّۃِ) ”جب تم اللہ سے مانگو تو اس سے فردوس کا سوال کرو، کیونکہ وہ جنت کا سب سے افضل اور جنت کا سب سے اونچا مقام ہے اور اس کے اوپر رحمٰن کا عرش ہے اور اسی سے جنت کی نہریں نکلتی ہیں۔“ [ بخاري،…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 107–108

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ان الذین امنوا وعملوا الصلحت کا نت لھم جنت الفردوس نزلا۔ قتادہ نے کہا : فردوس جنت کا بلند، عمدہ، اعلیٰ ، افضل اور ارفع مقام ہے۔ حضرت ابو امامہ باہلی نے کہا : فردوس جنت کی ناف ہے۔ کعب نے کہا : جنتوں میں سے ایک جنت ہے جو جنۃ الفردوس سے بھی اعلیٰ ہے، اس میں وہ لوگ ہوں گے جو نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے منع کرتے ہیں۔ صحیح بخاری میں ہے حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے ( 1) فرمایا : ” نبی پاک ﷺ نے فرمایا : جو اللہ پر ایمان لایا، نماز قائم کی، رمضان کے روزے رکھے تو اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ اسے جنت میں داخل کرے خواہ اس نے اللہ کے راستہ میں جہاد کیا ہو یا اس زمین میں بیٹھا رہا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 103–108

خوارج یہود و نصاری کے اعمال : 1:۔ عبدالرزاق، بخاری، نسائی، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم نے، حاکم اور ابن مردویہ نے مصعب بن سعد (رح) کے طریق سے روایت کیا کہ میں نے اپنے والد سے (آیت) ” قل ھل ننبئکم بالاخسرین اعمالا “ کے بارے میں پوچھا کیا (اس آیت میں) حروریہ (خوارج) مراد ہیں انہوں نے فرمایا نہیں وہ یہود و نصاری مراد ہیں یہودیوں نے محمد ﷺ کو جھٹلادیا اور نصاری نے جنت کو جھٹلادیا اور کہا نہ اس میں کھانا ہے نہ اس میں پینا ہے اور حرور یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ پکا وعدہ کرنے کے بعد اس کو توڑ دیتے ہیں، اور حضرت سعدؓ ان کو فاسقین کا نام دیتے تھے۔ 2:۔ عبدالرزاق، فریابی سعید بن منصور،…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ان : بیشک ] [الَّذِينَ : وہ لوگ جو ] [اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [وَعَمِلُوا : اور انھوں نے عمل کئے ] [الصّٰلِحٰتِ : نیکیوں کے ] [كَانتْ : (تو) ہیں ] [لَهُمْ : ان کے لئے ] [جَنّٰتُ الْفِرْدَوْسِ : فردوس کے باغات ] [نُزُلًا : بطور مہمان نوازی کے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

ایمان اور اعمال صالحہ والے جنت الفردوس میں ہوں گے کافروں کی سزا بتانے کے بعد اہل ایمان کے انعامات کا تذکرہ فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا (اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ کَانَتْ لَھُمْ جَنّٰتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًا) (بلاشبہ جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کیے ان کی مہمانی فردوس کے باغات ہوں گے) لفظ جنات، جنت کی جمع ہے عربی زبان میں جنت باغ کو کہتے ہیں اور فردوس کے بارے میں علماء تفسیر کے متعدد اقوال ہیں۔ مشہور یہ ہے کہ وہ رومی یا عبرانی زبان میں باغ کے معنی میں ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ حبشی زبان میں فردوس گھنے باغ کو کہتے ہیں جس میں درخت خوب زیادہ ہوں اور آپس میں ایک دوسرے سے لپٹے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 99–110

تتمہ قصۂ ذوالقرنین و ذکر انہدام دیوار ذوالقرنین و خروج یاجوج و ماجوج و نفخ صور قال اللہ تعالیٰ ۔ و ترکنا بعضھم یومئذ یموج فی بعض۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ لا یستطیعون سمعا۔ (ربط) گزشتہ آیات میں ذوالقرنین کا یہ قول نقل فرمایا تھا۔ ھٰذا رحمۃ من ربی فاذا جآء وعد ربی جعلہ دکٓٓٓآء کہ یہ دیوار اللہ کی رحمت اور اس کی نعمت ہے عرصہ دراز تک باقی رہے گی مگر جب خروج یاجوج و ماجوج کے وعدے کا وقت آئے گا تو یہ دیوار ٹوٹ جائے گی اور یہ یاجوج و ماجوج کی قوم جو اب اس سد کے پیچھے بند ہے نکل پڑے گی۔ اب آئندہ آیات میں خروج یاجوج و ماجوج کے وعدہ کا وقت ذکر فرماتے ہیں کہ یہ وعدہ قیامت کے قریب پورا ہوگا اور اس کے چند روز بعد صور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 107–108

89:۔ یہ بشارت اخروی ہے۔ یعنی جو لوگ اللہ کی توحید پر ایمان لائے اور نیک اعمال کیے اور شرک سے بچے ان کے لیے جنت الفردوس ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 102–108

(خدا کی رحمت کا ذکر) اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء اور اولیاء کا ذکر فرما کر ان کے ایک مشترکہ نظریہ کو بیان کیا ہے کہ وہ سب اللہ تعالیٰ کی رحمت کے امیدوار تھے اور انہوں نے اپنی ہر کارگزاری کو رحمت خداوندی پر محمول کیا اس سورة میں پہلا واقعہ اصحاب کہف کا بیان ہوا ہے ، وہ اللہ کے برگزیدہ بندے اور اس کے دوست تھے جنہوں نے عقیدہ توحید پر قائم رہنے کے لیے اپنے گھر بار چھوڑ کر غار میں پناہ لی ، انہوں نے اپنی قوم سے علیحدہ ہوتے وقت یہی کہا تھا کہ ہمارا تعلق صرف اللہ وحدہ لاشریک کے ساتھ ہے (آیت) ” ینشرلکم ربکم من رحمتہ “۔ وہ تمہارے لیے اپنی رحمت پھیلا دے گا اور تمہارے معاملہ میں تمہارے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَانَتْ لَہُمْ جَنّٰتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًا۝ 107ۙ أمن والإِيمان يستعمل تارة اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی:…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 102–109

تفسیر : ذوالقرنین کے قصہ کے خاتمے پر فرمایا تھا کہ کافر قابل جہنم وہ ہیں کہ جن کی آنکھوں پر اور کانوں پر غفلت کے پردے پڑے ہیں نہ خدا تعالیٰ کو اس کے آیات قدرت دیکھ کر یاد کرتے ہیں نہ حق بات سنتے ہیں۔ اب یہاں سے ان پردوں کا اثر بیان فرماتا ہے فقال افحسب الذین الخ کہ کیا ان کافروں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ مجھے چھوڑ کر میری مخلوق کو کارساز ‘ حاجت روا بنانا ان کے لیے بس کرتا ہے حالانکہ یہ بڑی نادانی ہے اوّل تو یوں کہ مالک کے مقابلہ میں اس کے بندے اور مخلوق جنہیں حاجت روا سمجھ بیٹھے ہیں ان کے کام آئیں گے وہ کیا کام آسکتے ہیں جبکہ وہ خود ہی ہمارے محتاج اور دست نگر ہیں۔ دوم بڑا کام آنا اس جہاں کے لیے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 106–108

ذٰلِکَ جَزَآؤْھُمْ جَھَنَّمْ بِمَا کَفَرُوْا وَاتَّخَذُوْٓا اٰیٰـتِیْ وَرُسُلِیْ ھُزُوًا۔ (الکہف : 106) (یہی جہنم ان کا بدلہ ہے، بسبب اس کے کہ انھوں نے کفر کیا اور میری آیات اور میرے رسولوں کا مذاق اڑایا۔ ) یہ اشرافِ قریش اور دیگر اہل مکہ آج جس جہنم کا انکار کررہے ہیں قیامت کے دن یہی جہنم ان کے اعمال کا بدلہ ہوگی۔ آج یہ اللہ تعالیٰ کی آیات اور اللہ تعالیٰ کے رسولوں کا مذاق اڑاتے ہیں کل یہی تمسخر اور استہزاء ان کی تباہی کا باعث بنے گا۔ اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ کَانَتْ لَہُمْ جَنّٰتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلاً ۔ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا لاَ یَبْغُوْنَ عَنْھَا حِوَلاً ۔ (الکہف :…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 107–108

فہم القرآن ربط کلام : کفار اور مشرکین کے انجام کے ذکر کے بعد ایماندار اور صاحب کردار لوگوں کا تذکرہ۔ اللہ اس کے رسول ﷺ اور آخرت پر سچا ایمان والے اور جنہوں نے نیک اعمال کیے ان کی مہمان نوازی جنت الفردوس میں کی جائے گی۔ جس میں وہ ہمیشہ ہمیش رہیں گے اور ان کو کبھی اس سے نکالا نہیں جائے گا۔ نہ ہی وہ خود نکلیں گے۔ جنت کی ایک جھلک اور اس کی چھوٹی سے چھوٹی نعمت ” دنیا و ما فیھا “ سے کھرب ہا درجہ بہتر ہے۔ ” جنت الفردوس “ جنت کا وہ اعلیٰ حصہ اور مقام ہے جس کے مقابلہ میں باقی جنت کی نعمتیں معمولی تصور ہوں گی۔ اس میں انبیاء کرام (علیہ السلام) ، ان کے اصحاب، شہدآء، صدیقین، صلحآء اور وہ لوگ داخل ہوں گے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

Explained with ayahs 107–108

مومن اور فردوس کی ضیافت : 107، 108: اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ کَانَتْ لَھُمْ جَنّٰتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًا خٰلِدِیْنَ فِیْھَا لَایَبْغُوْنَ عَنْھَا حِوَلًا (بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کئے ان کی مہمانی کیلئے فردوس کے باغ ہونگے وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے اور ان سے ہٹنا نہ چاہیں گے) خلِدِیْنَ فِیْھَا یہ حال ہے اور حِوَلًا کا معنی کسی دوسرے کی طرف منتقل ہونا یعنی اس عطیے پر وہ خوش ہو کر ایسا نہ چاہیں گے۔ عرب کے ہاں محاورہ ہے : حَال مِنْ مَکَانِہٖ حِوَلًا یعنی اس پر کوئی اضافہ نہیں یہاں تک کہ ان کے نفسوں نے ان سے تنازع کیا کہ وہ اپنی اغراض اور تمنائوں کو جمع…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 107–110

جنت الفردوس کے بیان میں (107)” ان الذین آمنو ا وعملو الصالحات کانت لھم جنت الفردوس “ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب تم اللہ سے مانگا کرو تو فردوس ملنے کی دعا کیا کرو کیونکہ وہ جنت کے وسط میں ہے اور دوسری جنتوں سے اعلیٰ ہے، اس کے اوپر رحمن کا عرش ہے اور اسی سے جنت کی نہریں نکلتی ہیں۔ حضرت کعب کا قول ہے کہ جنت میں فردوس سے اونچی کوئی جنت نہیں ہے، بھلائی کا حکم دینے والے اور برائی سے روکنے والے اسی میں داخل ہوں گے۔ قتادہ کا قول ہے کہ فردوس ربوۃ الجنتۃ کو کہتے ہیں۔ کعب کا بیان ہے کہ فردوس اس باغ کا نام ہے جس میں انگور ہوں۔ مجاہد کا قول ہے کہ وہ باغ جو رومی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 103–107

103۔ 107 حضرت علی ؓ سے مستدرک حاکم اور تفسیر ابن مردویہ وغیرہ میں یہ جو روایت ہے کہ یہ آیت خارجی لوگوں کی شان میں ہے یا حضرت سعد بن ابی وقاص سے صحیح بخاری اور نسائی میں یہ جو روایت ہے کہ یہ آیت یہود و نصاری کی شان میں ہے ان روایتوں کے یہ معنی نہیں ہیں کہ خارجیوں یا یہودو نصاری کی شان میں یہ آیت نازل ہوئی ہے کیونکہ یہ آیت مکی ہے اور جب تک آنحضرت ﷺ مکہ میں تھے تو نہ یہود و نصاری سے آپ کو کچھ واسطہ تھا نہ قرآن شریف یہود و نصاری کی شان میں نازل ہوتا تھا یہودو نصاری سے جو کچھ واسطہ آپ کو پیدا ہوا ہے وہ آپ کے مدینہ تشریف لانے کے بعد پیدا ہوا ہے اور خارجی لوگ تو آنحضرت کے بعد حضرت علی ؓ کی خلافت کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 107–108

آیت 107 یعنی جو اپنے دل سے ایمان لائے اور اپنے جوارح سے نیک عمل کئے اور یہ وصف تمام دین، یعنی اس کے عقائد و اعمال اور اس کے ظاہری اور باطنی اصول و فروغ سب کو شامل ہے۔ تمام اہل ایمان کو، ان کے ایمان اور اعمال صالحہ کے مراتب کے مطابق، جنت فردوس کے مختلف طبقات عطا ہوں گے۔” جنات الفردوس “ میں اس معنی کا احتمال ہے کہ اس سے مراد جنت کا بلند ترین، بہترین اور افضل درجہ ہو اور یہ ثواب ان لوگوں کے لئے ہے جنہوں نے اپنے ایمان اور اعمال صالحہ کی تکمیل کی اور وہ ہیں انبیائے کرام اور مقربین۔ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے جنت کی تمام منازل اور اس کے تمام درجے مراد ہوں اور یہ ثواب جنت کے تمام طبقات، یعنی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 82–110

کنز کسے کہتے ہیں ؟ قول باری ہے (وکان تحتہ کنزلھما، اس دیوار کے نیچے ان بچوں کے لئے ایک خزانہ مدفون ہے) سعید بن جبیر اور عکرمہ کا قول ہے کہ ” مال مدفون تھا۔ “ حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ یہ خزانہ سونے اور چاندی کی شکل میں نہیں تھا بلکہ کتابی شکل میں علم کا خزانہ تھا۔ مجاہد کا قول ہے کہ علم کے صحیفے تھے۔ حضرت ابوالدرداء سے مروی ہے کہ حضو ر ﷺ سے اس آیت کی تفسیر میں منقول ہے کہ سونا چاندی مدفون تھا۔ جب ان حضرات نے کنز کو صحیفوں، علم ، نیز سونا اور چاندی کے معنوں پر محمول کیا تو اس سے یہ دلالت حاصل ہوئی کہ کنز کا اطلاق ان تمام چیزوں پر ہتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ حضرات اسے ان معنوں پر معمول نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 105–107

151 کافروں کے عمل بےوزن اور بےحقیقت : سو اس سے تصریح فرما دی گئی کہ کافروں کے کسی بھی عمل کا آخرت میں کوئی وزن نہیں ہوگا۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " قیامت کے روز ایسے لوگوں کیلئے کوئی وزن نہیں قائم کیا جائے گا "۔ کیونکہ ان کے نیک عمل جب سب اکارت چلے گئے تو پھر وزن ہو تو کس کا ؟ سو ان کے وہ اعمال جن کو یہ لوگ اپنے زعم اور گمان کے مطابق بہت کچھ سمجھتے تھے اور ان پر ان کو بڑا ناز ہوا کرتا تھا، ان کا وہاں پر سرے سے کوئی وزن ہوگا ہی نہیں۔ کیونکہ وزن ہوتا ہے ایمان و اخلاص سے اور اس سے یہ لوگ عاری اور خالی تھے۔ آخرت پر ان لوگوں کا سرے سے ایمان و یقین ہی نہیں تھا۔ یا اگر کچھ تھا بھی تو ان کے اپنے زعم و…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 107–110

نیک اعمال کرنیوالوں کی مہمانی تشریح : یعنی ” قیامت کے روز “ یہ ذوالقرنین کے فقرے ” قیامت کے وعدہ برحق “ کی سچائی کو ظاہر کرنے کے لیے فرمایا گیا ہے۔ اس پوری سورت میں یہی مضمون تینوں قصوں کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ جو آنحضرت ﷺ نے لوگوں کے سامنے رکھا، یعنی توحید کفر و شرک، نیکی بدی، دنیا و آخرت، امن و فساد، نفرت و محبت، بغض و خلوص اور پھر ان کے بدلے میں ملنے والی جنت و دوزخ کا ذکر بڑے ہی احسن انداز سے کیا گیا ہے۔ کاش کہ آج کا مسلمان سچا اور پکا مسلمان بن جائے۔

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 102–110

(رکوع نمبر 13) اسرارومعارف یہ سب حالات وواقعات تو عظمت الہی پر دلالت کرتے ہیں یہ سب بھی سن اور جان کر کفار اللہ جل جلالہ کے سوا دوسروں ہی کی عبادت پہ اصرار کرتے ہیں جو خود اللہ کی مخلوق اور اس کے بندے ہیں تو پھر یہ بھی جان لو کہ ایسے کفار کی مہمانی کے لیے جہنم دہک رہا ہے آپ انہیں فرما دیجئے کہ ان لوگوں کے حال سے مطلع نہ کر دوں جو سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والے ہیں تو وہ لوگ یقینا ایسے ہی لوگ ہیں جن کی دنیا کی سب محنت اکارت گئی اور وہ خود کو بہت کامیاب تصور کرتے رہے ۔ (خلاف شریعت عمل خسارہ ہے) یعنی زندگی بھر محنت دولت کمائی اقتدار حاصل کیا یا شان و شوکت سے رہے اور سمجھا کہ ہم کامیاب ہیں ، مگر…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 106–107

(ت ن)3 حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا : جب تم اللہ سے مانگو تو فردوس مانگو اس لئے کہ وہ جنت کے درمیان اور اس کا بلند ترین حصہ ہے اور اس کے اوپر رحمان کا عرش ہے اور اس سے جنت کی نہریں نکلتی ہیں۔ (بخاری مسلم)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(18:107) جنت الفردوس۔ مضاف مضاف الیہ۔ اگرچہ فردوس کے معنی بھی جنت کے ہی لئے جاتے ہیں۔ لیکن یہاں اس کے معنی ایسی وادی جو انگوروں ، پھولوں اور دیگر پھلوں سے بھر پور ہو۔ فردوس کے باغات۔ نزلا۔ ملاحظہ ہو 18:102 ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 102–108

لغات القرآن آیت نمبر 102 تا 108 اولیاء دوست، کام بنانے والے۔ نزل مہمان داری۔ سعی کوشش، جدوجہد۔ صنع کام۔ حبطت ضائع ہوگئی۔ لانقیم ہم قائم نہ کریں گے۔ ھزو مذاق۔ الفردوس جنت ، بہشت۔ لایبغون وہ نہ چاہیں گے۔ حول تبدیل کرنا۔ تشریح :- آیت نمبر 102 تا 108 اللہ تعالیٰ نے کہف میں اصحاب کہف، حضرت موسیٰ خضر اور ذوالقرنین کے واقعات سنانے کے بعد فرمایا ہے کہ اتنا کچھ بتانے اور سنانے کے باوجود کیا اس بات کی ذرا بھی گنجائش باقی رہ جاتی ہے کہ اللہ کو چھوڑ کر دوسری بےحقیقت چیزوں کو اپنا حمایتی، مددگار اور رب بنا لیا جائے۔ فرمایا کہ یہ بات بنیادی طور پر غلط سوچ کا نتیجہ ہے کہ قیامت کے ہولناک دن یہ جھوٹے معبود ان…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 107–108

اس آیت میں ارشاد ہوا کہ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے، ان کا ٹھکانا جنت فردوس ہے۔ اللہ کی وحدانیت اور اللہ کے رسول کے سچے ہونے کا یقین ان کے دل میں ہے، اور زبان سے اس کا اقرار اور یقین کرتے ہیں۔ اور اس اقرار یقین کے موافق ہاتھ پیروں سے نیک عمل بھی کرتے ہیں۔ وہ جنت فردوس میں ہمیشہ رہیں گے اور وہاں سے ٹلنا نہ چاہیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 105–108

[38] یعنی ایسے لوگ جن کی ساری جدوجہد، تگ و دو ، کاوش و کوشش دنیا کی زندگی میں گم ہو کر رہ گئی اور جنہوں نے دنیا کی کامیابیوں اور خوشحالیوں کو اپنا مقصود بنایا اور رضائے الٰہی اور فلاح آخرت کا خیال تک نہ کیا تو ان کا سب کیا کرایا دنیائے فانی کے ساتھ ہی فنا ہوگیا۔ آخرت میں تو وہی اعمال وزن پائیں گے جو انہوں نے رضائے الٰہی کے لئے کئے ہوں اور نتائج کو مقصود بنا کر کئے ہوں جو آخرت میں نکلنے والے ہیں۔ ایسے اعمال اگر ان کے حساب میں نہیں ہیں تو ان کی وہ ساری سعی و جہد بلاشبہ اکارت گئی جو انہوں نے دنیا میں کی تھی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 107–108

(ف 2) منکرین کا انجام واضح کرنے کے بعد اب مومنین کا مال بتایا ہے کہ ان کا مقام فردوس ہے جس میں یہ لوگ ابدی زندگی بسر کریں گے ۔ کفار کے لئے ” نزل “ کے لفظ کو بطور طنز کے استعمال فرمایا تھا ، یہاں مومنوں کے لئے بھی ضیافت ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ باوجود ابدی زندگی کے خاطر مدارات میں ہر لمحہ تنوع ہوگا ، اور یہ لوگ جنت میں اس طرح آرام و آسائش سے رہیں گے جس طرح کوئی عزیز مہمان رہتا ہے اس وضاحت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اسلام میں مہمان کا درجہ کتنا بلند ہوگا ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

- 107 یقینا جو لوگ ایمان لائے اور دعوت ایمانی کو قبول کیا اور نیک اعمال کے پابند رہے ان کی مہمانی کے لئے سایہ دار باغ ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ہاں ! کچھ ایسے بھی تھے جو ایمان کے باعث ان کانشانہ ٹھہرے : 113۔ فرمایا ہم کو معلوم ہے کہ کچھ ایسے بھی تھے تو جو محض اس لئے کہ انہوں نے ہماری آیات اور ہمارے رسولوں کا ساتھ دیا اگرچہ وہ چند معدودے آدمی ہی تھے تاہم تھے ضرور انہوں نے دنیا میں خوب مذاق اڑایا اور ان کو بیوقوف سمجھا اور ناسمجھ قرار دیا لیکن انہوں نے ہماری رضا کے لئے یہ سب کچھ برداشت کیا اور ایمان پر قائم رہے اور آخرت کے لئے عمل کرتے رہے آج ان کو ان کے اعمال صالحہ کا صلہ دیا جائے گا اور ہمارے ہاں انکے لئے فردوس میں ضیافت تیار ہے ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

The word: الْفِرْ‌دَوْسِ (al-Firdaus) in: جَنَّاتُ الْفِرْ‌دَوْسِ (Gardens of Firdaus) means a verdant valley full of fruits and flowers - with reference to Paradise. However, difference exists as to the origin of this word. Is it Arabic, or is it non-Arabic? Those who call it non-Arabic have to refine it further. Is it Persian or Greco-Roman or Syriac? There are different views about this. It appears in the Sahih of al-Bukhari and Muslim that the Holy Prophet ﷺ said: 'when you ask of Allah, ask for Jannatul-Firdaus because it is the highest and the superior most rank of Jannah. Above it,…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 105–107

77.“So worthless will be their deeds”in the sense that they will be of no avail to them in the life after death, even though they might have considered them as their great achievements but the fact is that they will lose all their value as soon as the world shall come to an end. When they will go before their Lord, and all their deeds shall be placed in the scales, they will have no weight at all whether they had built great palaces, established great universities and libraries, set up great factories and laboratories, constructed highways and railways, in short, all their inventions,…

Read the full tafseer →