Ayah 18:1سورة کہف کو اللہ تعالیٰ نے حمد سے شروع فرمایا ہے جیسا کہ سورة فاتحہ اور سورة انعام اور سورة سبا اور سورة فاطر بھی اسی سے شروع فرمائی ہیں۔ چونکہ یہود نے رسول اللہ ﷺ کی نبوت کی تکذیب کرنے کے لیے مشرکین کو یہ سوال سمجھایا تھا کہ اصحاب کہف اور ذوالقرنین کا قصہ معلوم کرو اور رسالت کی تکذیب قرآن مجید کی تکذیب کو مستلزم ہے اس لیے سورة کی ابتداء میں یوں فرمایا (اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْٓ اَنْزَلَ عَلٰی عَبْدِہِ الْکِتٰبَ وَ لَمْ یَجْعَلْ لَّہٗ عِوَجًا) کہ سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جس نے اپنے بندہ پر کتاب نازل فرمائی اور اس میں ذرا بھی کجی نہیں رکھی نہ اس کے لفظوں میں کوئی خلل ہے اور نہ فصاحت و بلاغت میں کمی اور نہ معنی میں تناقض ہے۔ کجی کی نفی فرما کر قَیّْمًا فرمایا چونکہ یہ لَمْ یَجْعَلْ لَّہٗ کا مفعول نہیں ہے اس لیے عِوَجًا پر سکتہ یا وقف ہونا چاہیے تاکہ قَیِّمًا نفی کے تحت داخل نہ ہوجائے۔ صاحب روایت حضرت حفص (رح) سے جن چار مواقع میں سکتہ مروی ہے ان میں سے ایک جگہ یہ بھی ہے حضرات قراء کرام نے نقل کیا ہے کہ حضرت حفص (رح) تشریف لے جا رہے تھے کسی اعرابی سے سنا کہ اس نے عِوَجًا کے بجائے قَیّْمًا پر وقف کردیا۔ حضرت موصوف نے فرمایا کیف یکون العوج قیما کہ ٹیڑھی چیز کیسے سیدھی ہوگی ؟ اس کے بعد انہوں نے عِوَجًا پر سکتہ کرنے کی تلقین فرمائی۔ قال الامام الجزری فی النشر باب السکت علی الساکن قبل الھمز وغیرہ ووجہ السکت فی عوجا قصد بیان ان قیما بعدہ لیس متصلا بما قبلہ فی الاعراب فیکون منصوبا بفعل مضمر تقدیرہ انزلہ قیما فیکون حالا من الھاء فی انزلہ۔
قَیّْمًا، مُسْتَقِیْمًا کے معنی میں ہے جس کا معنی بالکل ٹھیک صحیح ہے، بعض حضرات نے تو اس کا وہی ترجمہ کردیا جو پہلے جملہ کا تھا یعنی لا خلل فی لفظہ ولا فی معناہ اور بعض حضرات نے فرمایا کہ اس کا معنی یہ ہے کہ اس کے احکام میں افراط اور تفریط نہیں ہے صاحب روح المعانی نے دو قول اور لکھے ہیں فراء کا قول ہے کہ قَیّْمًا سے یہ مراد ہے کہ اس نے اپنے سے پہلے نازل ہونے والی کتب سماویہ کی تصدیق کی ہے اور ان کی صحت کی گواہی دی ہے اور ابو مسلم سے نقل کیا ہے کہ قیم کا معنی یہ ہے کہ وہ بندوں کے مصالح کا کفیل ہے اور وہ سب باتیں بتاتا ہے جن سے بندوں کی معاش و معاد دونوں درست ہوجائیں۔
Ayahs 18:2–5پھر فرمایا (قَیِّمًا لِّیُنْذِرَ بَاْسًا شَدِیْدًا مِّنْ لَّدُنْہُ ) تاکہ وہ قرآن کافروں کو ایک سخت عذب سے ڈرائے جو اللہ کی طرف سے ہوگا۔
(وَ یُبَشِّرَ الْمُؤْمِنِیْنَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَھُمْ اَجْرًا حَسَنًا) (اور تاکہ ایمان والوں کو بشارت دے جو نیک عمل کرتے ہیں کہ انہیں اچھا اجر ملے گا۔ ) (مَّاکِثِیْنَ فِیْہِ اَبَدًا) (یہ لوگ اس میں ہمیشہ رہیں گے)
اجرا حسنا سے جنت مراد ہے جس میں ہمیشہ رہنا ہوگا۔ (وَّ یُنْذِرَ الَّذِیْنَ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰہُ وَلَدًا) (اور تاکہ ان لوگوں کو ڈرائے جنہوں نے کہا کہ اللہ نے اپنے لیے اولاد بنالی ہے) پہلے تمام کافروں کو ڈرانے کا تذکرہ فرمایا پھر مستقل طور پر ان لوگوں کے ڈرانے کا ذکر فرمایا جو اللہ کے لیے اولاد تجویز کرتے تھے، اہل عرب کہتے تھے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں اور یہود حضرت عزیر (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا بتاتے تھے اور نصاریٰ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا بتاتے ہیں، یہ بہت بڑا شرک ہے ان لوگوں کی تردید کرتے ہوئے فرمایا (مَا لَھُمْ بِہٖ مِنْ عِلْمٍ وَّ لَا لِاٰبَآءِھِمْ ) (ان لوگوں کو اس کے بارے میں کچھ علم نہیں اور نہ ان کے آباء و اجداد کو کوئی علم ہے) جو کچھ کہتے ہیں علم کی بنیاد پر نہیں اٹکل پچو باتیں کرتے ہیں باپ دادوں سے سنتے چلے آ رہے ہیں۔ انہیں اصل حقیقت کا پتہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد ہونا محال ہے۔ (کَبُرَتْ کَلِمَۃً تَخْرُجُ مِنْ اَفْوَاھِھِمْ ) (یہ بڑا بول ہے جو ان کے منہ سے نکل رہا ہے) یعنی انہوں نے اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد تجویز کرکے بےجا جسارت کی ہے ان کا یہ بات کہنا افتراء کے اعتبار سے اور کلمہ کفر ہونے کے اعتبار سے بڑا کلمہ ہے اور بہت ہی بڑا جرم ہے کسی بھی درجہ میں زبان سے نکالنے کے لائق ہی نہیں ہے۔ (اِنْ یَّقُوْلُوْنَ اِلَّا کَذِبًا) (یہ لوگ بس جھوٹ ہی بولتے ہیں) سورة مریم میں فرمایا (وَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا لَقَدْ جِءْتُمْ شَیْءًا اِدًّا تَکَاد السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْہُ وَ تَنْشَقُّ الْاَرْضُ وَ تَخِرُّ الْجِبَالُ ھَدًّا اَنْ دَعَوْا للرَّحْمٰنِ وَلَدًا وَ مَا یَنْبَغِیْ للرَّحْمٰنِ اَنْ یَّتَّخِذَ وَلَدًا) (اور انہوں نے کہا کہ رحمن نے اولاد اختیار کرلی ہے بلاشبہ تم نے بہت سخت حرکت کی ہے کچھ بعید نہیں کہ اس کی وجہ سے آسمان پھٹ پڑیں اور زمین کے ٹکڑے اڑ جائیں اور پہاڑ ٹوٹ کر گرپڑیں اس وجہ سے کہ ان لوگوں نے رحمن کے لیے اولاد تجویز کی، اور رحمن کی شان کے لیے لائق نہیں ہے کہ وہ اولاد اختیار کرے۔ )
Ayahs 18:6–8رسول اللہ ﷺ کو تسلی دینا
ان آیات کے بعد اصحاب کہف کا قصہ شروع ہونے والا ہے مشرکین اور یہود رسول اللہ ﷺ سے طرح طرح کے سوال کیا کرتے تھے صحیح جواب پاتے تھے معجزات بھی دیکھتے تھے لیکن ایمان پھر بھی نہیں لاتے تھے۔ اصحاب کہف کا قصہ معلوم تو کرلیا لیکن اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا کہ یہ ایمان پھر بھی نہ لائیں گے۔
رسول اللہ ﷺ کو اس سے رنج ہونا ظاہر تھا اس لیے قصہ سنانے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے آپ کو تسلی دے دی کہ آپ ان کے گمراہی پر جمع رہنے کی وجہ سے اپنی جان کو غمگین کرکے ہلاک نہ کریں آپ کے ذمہ پہنچانا ہے، منوانا آپ کے ذمہ نہیں ہے اس لیے پہلے ہی فرما دیا کہ شاید آپ ان کے پیچھے اپنی جان ہی کو ہلاک کردیں گے یعنی آپ ایسا نہ کریں یہ استفہام انکاری کے طور پر ہے مطلب یہ ہے کہ آپ ان کے پیچھے اپنی جان کو ہلاک نہ کریں، اس میں لفظ شاید شک کے لیے نہیں ہے بلکہ محاورات میں جس طرح مخاطب کو قریب کرنے کے لیے بات کی جاتی ہے یہ اسی انداز کی بات ہے اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے سب کچھ جانتا ہے اسے کسی بات میں شک نہیں ہے۔
آپ کو تسلی دینے کے بعد یہ بتایا کہ ہم نے دنیا میں جو کچھ پیدا فرمایا ہے یہ ظاہری زیب وزینت ہے اور ہم نے اسے اس لیے پیدا کیا کہ لوگوں کو آزمائیں کہ اس زندگی میں کون اچھے سے اچھے عمل کرتا ہے، اگر دنیا میں کشش نہ ہوتی تو امتحان ہی کیا ہوتا ؟ لوگ دنیا میں لگ کر اپنے خالق کا بھول گئے اور خالق کو جو پیغام اس کے رسولوں نے پہنچایا اس کی طرف بڑھنے میں چونکہ دنیا کا نقصان محسوس کرتے ہیں اس لیے حق جانتے ہوئے حق کو قبول نہیں کرتے حالانکہ یہ دنیا تھوڑی سی ہے تھوڑے دن کی ہے اور حق کی جو دعوت دی جا رہی ہے اس کے قبول کرنے پر ہمیشہ کی نعمتوں والی جاودانی زندگی ملے گی، اس عارضی دنیا پر جان نہ دیں یہ لہلہاتی ہوئی کھیتی کی طرح سے ہے آج ہری بھری ہے اور کل کو کچھ بھی نہیں، کھیتوں کا انجام تو ہمیشہ دیکھتے ہیں ایک دن وہ آنے والا ہے کہ زمین پر جو کچھ ہے کچھ بھی نہ رہے گا اور صاف میدان ہوجائے گا۔
سورة طٰہٰ میں فرمایا ہے (وَیَسْءَلُوْنَکَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ یَنْسِفُھَا رَبِّیْ نَسْفًا فَیَذَرُھَا قَاعًا صَفْصَفًا لَّا تَرٰی فِیْھَاعِوَجًا وَّ لَآ اَمْتًا) (اور لوگ آپ سے پہاڑوں کے بارے میں پوچھتے ہیں سو آپ فرما دیجیے کہ میرا رب ان کو بالکل اڑا دے گا پھر زمین کو ایک ہموار میدان کردے گا کہ جس میں تو نہ ناہمواری دیکھے گا اور نہ تو کوئی بلندی دیکھے گا۔ )
Ayahs 18:9–12اصحاب کہف اور اصحاب رقیم کون تھے
یہاں سے اصحاب کہف کا قصہ شروع ہو رہا ہے کہف غار کو کہتے ہیں جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا، چند نوجوان اپنے زمانہ کے بادشاہ اور دیگر کافرین سے اپنی جان اور دین و ایمان بچانے کے لیے ایک غار میں پناہ گزین ہوگئے تھے اس لیے انہیں اصحاب کہف کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ان کا واقعہ انشاء اللہ آئندہ آنے والے دو رکوع میں بیان کیا جائے گا لیکن چونکہ مذکورہ آیت میں (اَصْحَابُ الْکَھْفِ وَالرَّقِیْمِ ) فرمایا ہے اس لیے رقیم کا معنی بھی جاننا چاہیے اس کے بارے میں بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ یہ اصحاب کہف کے کتے کا نام ہے یہ حضرت انس صحابی ؓ اور حضرت شعبی تابعی ؓ سے منقول ہے اور حضرت سعید بن جبیر ؓ نے فرمایا کہ یہ ایک تختی تھی جو پتھروں سے تراشی ہوئی تھی اس میں اصحاب کہف کا قصہ لکھا ہوا تھا جو غار کے دروازہ پر رکھی ہوئی تھی اور حضرت ابن عباس ؓ کا دوسرا قول یہ ہے کہ یہ ایلہ اور فلسطین کے درمیان وادی کا نام ہے اور اسی وادی میں وہ غار تھا جس میں اصحاب کہف نے پناہ لی تھی، حضرت ابن عباس سے یہ مروی ہے کہ جب ان سے رقیم کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا کہ مجھے معلوم نہیں پھر فرمایا کہ میں نے کعب سے پوچھا (جو یہودیوں کے عالم تھے انہوں نے حضرات صحابہ کرام ؓ کے زمانہ میں اسلام قبول کیا) کیا رقیم اس بستی کا نام ہے جس میں سے یہ حضرات نکلے تھے۔ صاحب روح المعانی (ص 409 ج 15) فرماتے ہیں کہ ان سب اقوال کو سامنے رکھنے سے معلوم ہوا کہ اصحاب الکہف والرقیم کا مصداق ایک ہی جماعت ہے پھر ایک قول نقل کیا ہے کہ اصحاب کہف اور اصحاب رقیم الگ الگ دو جماعتیں تھیں لیکن اس قول کی انہوں نے تائید نہیں کی اور اصحاب رقیم کے بارے میں احادیث صحیحہ ملتی بھی نہیں ہیں واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
اصحاب کہف کا زمانہ
اصحاب کہف کے بارے میں حافظ ابن کثیر نے البدایہ والنہایہ (صفحہ 114 ج 2) میں لکھا ہے کہ یہ لوگ دقیانوس بادشاہ کے زمانہ میں تھے اور بادشاہوں کی اولاد سے تھے ایک دن ایسا ہوا کہ عید کے موقع پر اپنی قوم کے ساتھ جمع ہونے کا اتفاق پڑگیا انہوں نے دیکھا کہ ان کی قوم بتوں کو سجدہ کر رہی ہے اور بتوں کی تعظیم میں مشغول ہے ان کا یہ حال دیکھ کر ان سے نفرت ہوگئی اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کے پردے اٹھا دئیے اور ان کے دلوں میں ہدایت ڈال دی۔ انہوں نے سمجھ لیا کہ یہ لوگ صحیح دین پر نہیں ہیں لہٰذا انہیں چھوڑ کر چلے گئے اور اللہ تعالیٰ کی توحید کو اپنا دین بنالیا چونکہ وہ یہ سمجھتے تھے کہ اگر ہم ان لوگوں میں رہیں گے تو یہ ہمیں دین توحید پر نہیں رہنے دیں گے اس لیے انہوں نے غار میں پناہ لے لی، ان کے ساتھ ایک کتا بھی تھا وہ ان کے دروازہ پر بیٹھا رہتا تھا۔
اللہ جل شانہ نے پہلے تو رسول اللہ ﷺ کا تعجب دور فرمایا اور فرمایا کیا آپ نے یہ خیال کیا ہے کہ کہف اور رقیم والے ہماری نشانیوں میں سے عجیب چیز تھے یہ کوئی عجیب چیز نہیں ہے کیونکہ اس سے بڑھ کر دوسری عجائبات اور آیات موجود ہیں مثلاً آسمان و زمین کو پیدا فرمانا وغیرہ ذلک یہ چیزیں بالکل معدوم تھیں ان کو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرما دیا اصحاب کہف کے قصہ میں اتنی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں مدت دراز تک سلا دیا ان کے جسم نہیں گلے۔ مخالفین ان کے واقعہ کو تو تعجب کی چیز سمجھتے ہیں اور اسی لیے آپ سے سوال کر رہے ہیں اور اس سے بڑھ کر جو تعجب کی چیزیں ہیں ان میں غور نہیں کرتے اللہ تعالیٰ شانہ نے (اَمْ حَسِبْتَ ) فرما کر آپ کو مخاطب فرمایا اور اسی کے ذیل میں دوسروں سے بھی خطاب ہوگیا اور ان کو بھی بتادیا کہ یہ قصہ گو عجیب ہے لیکن اس سے بڑھ کر جو عجیب چیزیں ہیں ان کے مقابلہ میں یہ کچھ بھی عجیب نہیں ہے۔
اصحاب کہف کا غار میں داخل ہونا
اس کے بعد اصحاب کہف کے واقعہ کا بیان شروع فرمایا ارشاد فرمایا کہ اس وقت کو یاد کرو جبکہ نوجوانوں کی جماعت نے کہف میں ٹھکانہ پکڑا اور ٹھکانہ پکڑتے ہوئے انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور میں یوں دعا کی (رَبَّنَآ اٰتِنَا مِنْ لَّدُنْکَ رَحْمَۃً ) (اے رب ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما) (وَھَیِّءْ لَنَا مِنْ اَمْرِنَا رَشَدًا) (اور ہمارے لیے ہمارے کام میں اچھی صورت حال مہیا کردیجیے) سب کچھ اللہ تعالیٰ کی مشیت اور ارادہ سے ہوتا ہے اور وہ جس پر فضل فرمانا چاہے ہر جگہ فضل فرما سکتا ہے کوئی شخص جہاں بھی ہو، جس حال میں ہو، تنہا ہو، باجماعت ہو، آبادی میں ہو یا جنگل میں، پہاڑ میں ہو یا غار میں، اللہ تعالیٰ اسے دشمنوں سے بھی محفوظ رکھ سکتا ہے اس کے دین و ایمان کو بھی سالم رکھ سکتا ہے اور اس کے تمام حالات کو بھی درست فرما سکتا ہے، چونکہ اصحاب کہف اپنی قوم کو کفر و شرک میں مبتلا دیکھ کر فرار ہوئے تھے اور اس علاقہ میں غلبہ کافروں ہی کا تھا اس لیے انہوں نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں رحمت کی اور خیر و خوبی کی اور اچھی صورت حال کی دعا کی، اللہ تعالیٰ شانہ نے ان کی دعا قبول فرمائی کافروں سے محفوظ فرما دیا اور اسی غار میں انہیں سلا دیا جس میں انہوں نے پناہ لی تھی اور وہ اس میں اتنی مدت دراز تک سوئے اور سو کر اٹھنے کے بعد آپس میں یوں سوال کرنے لگے کہ بھئی اس غار میں آپ لوگ کتنے دن ٹھہرے ہیں ؟ اسی کو فرمایا (ثُمَّ بَعَثْنٰھُمْ لِنَعْلَمَ اَیُّ الْحِزْبَیْنِ اَحْصٰی لِمَا لَبِثُوْٓا اَمَدًا) (پھر ہم نے انہیں اٹھایا تاکہ ہم جان لیں کہ دونوں گروہ میں سے کونسا گروہ ان کے ٹھہرنے کی مدت کو ٹھیک طرح شمار کرنے والا ہے۔ )
بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ پہلے گروہ سے انہیں میں سے وہ جماعت مراد ہے جنہوں نے سوال کیا کہ کتنے دن رہے اور دوسرے گروہ سے ان کی وہ جماعت مراد ہے جنہوں نے جواب میں یوں کہا (رَبُّکُمْ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثْتُمْ ) (تمہارا رب ہی زیادہ جانتا ہے کہ تم کتنے دن ٹھہرے۔ )
حضرت ابن عباس ؓ سے منقول ہے کہ ایک گروہ سے اصحاب کہف اور دوسرے گروہ سے بادشاہ مراد ہیں جو اس طویل مدت میں (جس میں یہ حضرات سوتے رہے) یکے بعد دیگرے بادشاہ بنے (ذکرہ صاحب الروح صفحہ 212 ج 15)
اللہ جل شانہ نے اصحاب کہف پر جو نیند مسلط فرما دی تھی اسے (فَضَرَبْنَا عَلیٰٓ اٰذَانِھِمْ ) سے تعبیر فرمایا انسان سوتا تو ہے آنکھوں سے لیکن گہری نیند وہ ہوتی ہے جبکہ سونے والا آواز سن کر بھی بیدار نہ ہوسکے۔
صاحب روح المعانی لکھتے ہیں : والمراد انمناھم انامۃ ثقیلۃ لا تنبھھم فیھا الاصوات بان یجعل الضراب علی الاذان کنایۃ عن الانامۃ الثقیلۃ۔
Ayahs 18:13–16اصحاب کہف کا تفصیلی واقعہ
جیسا کہ دو تین صفحہ قبل ہم نے ذکر کیا کہ یہ چند نوجوان اپنی بت پرست قوم سے بھاگ نکلے تھے ان کا مقصود اپنا ایمان بچانا تھا اور جان بچانا بھی پیش نظر تھا کیونکہ وہاں جو بادشاہ تھا وہ اہل ایمان کو بت پرستی پر مجبور کرتا تھا اور جو شخص انکار کردے اسے قتل کردیتا تھا۔ مفسر ابن کثیر لکھتے ہیں کہ یہ نوجوان روم کے بادشاہ اور سرداروں کی اولاد میں سے تھے اس زمانہ کا بادشاہ جس کا نام دقیانوس تھا ظالم آدمی تھا اور وہ لوگوں کو بت پرستی کی دعوت دیتا تھا جب یہ نوجوان تہوار کے موقع پر اپنے اپنے خاندان کے ساتھ نکلے تو بت پرستی کا ماحول اور ماجرا دیکھ کر ان کے قلوب میں بہت زیادہ ناگواری کی شان پیدا ہوگئی اور وہاں سے بھاگ نکلے ہر شخص علیحدہ علیحدہ فرار ہوا تھا لیکن اللہ تعالیٰ کا کرنا ایسا ہوا کہ سب ایک جگہ اکٹھے ہوگئے پہلے ایک شخص ایک درخت کے سایہ میں آکر بیٹھا اور پھر دوسرا اور تیسرا آیا اور آتے چلے گئے قلوب کی وحدت ایمانیہ نے بہ مصداق الجنس یمیل الی الجنس سب کو ایک جگہ جمع کردیا۔
اصحاب کہف کا ایک جگہ جمع ہونا اور آپس میں متعارف ہو کر باہم گفتگو کرنا
جمع تو ہوگئے لیکن ایک دوسرے سے ڈر بھی رہے تھے کیونکہ ہر ایک کو ایک دوسرے کے عقیدہ کا پتہ نہ تھا ایسے ہی بیٹھے بٹھائے ان میں سے ایک نے کہا کہ ہر شخص یہ بتائے کہ وہ اپنی قوم سے کیوں جدا ہوا، اور تنہا اکیلا ہوجانا اس نے کیوں گوارا کیا، اس پر ایک شخص بولا کہ میں تو اس لیے قوم سے جدا ہوا ہوں کہ میرے نزدیک میری قوم باطل پر ہے جو غیر اللہ کو سجدہ کر رہی ہے۔ عبادت کا مستحق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے آسمانوں کو زمین کو اور جو کچھ ان کے اندر ہے سب کچھ پیدا کیا، یکے بعد دیگرے دوسرے افراد نے بھی یہی جواب دیا اس پر وہ آپس میں سچے ایمانی بھائی اور ایک دوسرے کے ہمدرد بن گئے اور انہوں نے مل کر ایک عبادت خانہ تجویز کرلیا جس میں صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے تھے جب ان کی قوم کو صورت حال کا علم ہوا تو بادشاہ کو بات پہنچا دی بادشاہ نے ان کو بلوایا اور ان سے دریافت کیا کہ تمہارا کیا حال ہے اور کیا دین ہے اللہ جل شانہ نے ان کے دل مضبوط کردئیے اور انہوں نے بغیر کسی خوف و خطر کے نڈر ہو کر اپنا عقیدہ توحید بیان کردیا، اور بادشاہ کو بھی توحید کی دعوت دی، بادشاہ نے ان کی دعوت توحید قبول کرنے سے انکار کردیا اور انہیں ڈرایا دھمکایا اور ان کا لباس اتروا دیا۔ جو وہ عمدہ لباس پہنے ہوئے تھے اور انہیں مہلت دیدی کہ تم غور کرلو اور اپنی قوم کے دین میں واپس آجاؤ۔
بادشاہ کو اور پوری قوم کو چھوڑ کر راہ فرار اختیار کرنا
یہ مہلت ملنا ان کے لیے مبارک ہوا، اس سے انہوں نے فائدہ اٹھایا اور موقع پاکر فرار ہوگئے اللہ تعالیٰ نے ان کا دل بھی مضبوط کردیا تھا انہوں نے بادشاہ کو توحید کی دعوت دی اور توحید کی دلیل بھی بتادی کہ ہمارا رب وہی ہے جو آسمان اور زمین کا رب ہے، اس میں یہ بتادیا کہ خالق کائنات جل مجدہ کے علاوہ کسی کی عبادت کرنا عقلمندی کے خلاف ہے اور ساتھ ہی (لَنْ نَّدْعُوَاْ مِنْ دُوْنِہٖٓ اِلٰھًا) بھی کہہ دیا یعنی ہم ہرگز کبھی اپنے رب کے علاوہ کسی کی عبادت نہیں کریں گے۔ اور مزید یوں کہا : (لَّقَدْ قُلْنَآ اِذًا شَطَطًا) (اگر بالفرض ہم اپنے رب کے سوا کسی کو معبود بنائیں تو یہ تو بڑے ظلم اور زیادتی کی بات ہوگی) آپس میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ جو ہماری قوم کے لوگ ہیں انہوں نے خالق اور مالک جل مجدہ کے علاوہ دوسرے معبود بنالیے ہیں ان کے پاس اس کی صحت پر کوئی دلیل نہیں ہے اگر ہے تو کوئی واضح دلیل بیان کردیں۔ جب کوئی دلیل نہیں ہے تو ان کا عقیدہ اور عمل اور قول ظلم ہی ظلم ہے چونکہ مشرکین یوں بھی کہا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے عمل سے راضی ہے اس لیے ان نوجوانوں نے یہ بھی کہا (فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا) (کہ اس سے بڑا ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھے۔ )
باہمی مشورہ کرکے غار میں داخل ہوجانا
اصحاب کہف جب اپنی قوم سے جدا ہوئے اور ان لوگوں کو چھوڑ کر بالکل علیحدہ ہوگئے تو آپس میں کہنے لگے کہ تم نے اپنی قوم کو چھوڑا ان کے باطل معبودوں سے گریز کیا اور یہ معلوم ہے کہ دوبارہ انہیں میں واپس ہونے اور اپنے گھروں کو لوٹنے میں خیر نہیں ہے کیونکہ وہ لوگ پھر اپنا دین اختیار کرنے پر مجبور کریں گے لہٰذا اب ہمیں کسی غار میں ٹھکانہ پکڑلینا چاہیے، آپس میں مشورہ سے یہ بات طے تو ہوئی لیکن انسانی ضروریات کا سوال بھی پیش نظر تھا کہ غار میں رہیں گے تو کھانے پینے اور دیگر ضروریات کا کیا بنے گا ؟ اس سوال کو حل کرنے کے لیے آپس میں یوں کہنے لگے کہ ہم کو اللہ تعالیٰ سے خیر کی امید رکھنی چاہیے انشاء اللہ تعالیٰ ہم پر اللہ تعالیٰ کا فضل ہوگا اور وہ ہم پر اپنی رحمت پھیلا دے گا اور جس مقصد خیر یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف پوری طرح متوجہ ہونے کے لیے نکلے ہیں اس کے لیے آسانیاں پیدا فرما دے گا، باہمی مشورہ سے غار میں جانا طے ہوا اور اللہ تعالیٰ سے خیر کی امید باندھ لی اور غار میں داخل ہوگئے۔
Ayah 18:17غار کی کیفیت، سورج کا کترا کر جانا کتے کا ہاتھ بچھا کر بیٹھا رہنا
ان آیات میں اصحاب کہف کی حالت کا بیان فرمایا ہے جو غار میں داخل ہونے کے بعد پیش آئی، یہ لوگ غار کے اندر ایک کشادہ جگہ میں پہنچ کر لیٹ گئے، اس غار کی جائے وقوع اس طرح سے تھی کہ روزانہ سورج مشرق سے نکلتا اور مغرب میں چھپ جاتا تھا لیکن اس کی دھوپ ان پر نہیں پڑتی تھی جب سورج نکل کر چڑھتا تھا اور دھوپ پھیلتی تھی تو غار کی داہنی جانب سے اس طرح ہٹی ہوئی رہ جاتی تھی کہ اس کے دروازہ تک نہ پہنچتی تھی اور جب سورج چھپنے لگتا تھا تو اس وقت جو تھوڑی بہت دھوپ ہوتی ہے وہ غار کی بائیں جانب رہ جاتی تھی یعنی اس وقت بھی دروازہ پر دھوپ نہ پڑتی تھی۔ اصحاب کہف کے اندر رہنے کی کیفیت بتا کر ارشاد فرمایا کہ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے اللہ تعالیٰ شانہ نے ان کے دلوں کو مضبوط کیا اپنی قوم سے جدا ہونے میں انہوں نے ہمت اور جرأت سے کام لیا پھر اللہ کے توکل پر غار میں داخل ہوگئے اور اللہ سے رحمت کی امید باندھ لی اور اللہ کی طرف سے آسانی حاصل ہونے کی آرزو کرتے ہوئے غار میں چلے گئے یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اس کی قدرت کی نشانیوں میں سے ہے، اس نے دل بھی پکا کیا ہمت بھی دی مخلوق سے کٹنے کا حوصلہ بھی دیا انہوں نے اسباب ظاہرہ پر نظر نہ کی، اپنے مولائے حقیقی پر توکل کرکے غار میں داخل ہوگئے اللہ تعالیٰ نے انہیں غار بھی وہ نصیب فرمایا جس میں دھوپ کا گزر ہی نہ تھا اگر دھوپ پڑتی تو اس سے تکلیف پہنچنے اور گرمی سے پریشان ہونے کا اندیشہ تھا۔
(مَنْ یَّھْدِ اللّٰہُ فَھُوَ الْمُھْتَدِ ) (اللہ جسے ہدایت دے وہی ہدایت پانے والا ہے) (وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَلَہٗ وَ لِیًّا مُّرْشِدًا) (اور اللہ جسے گمراہ کردے، تو اے مخاطب تو اس کے لیے کوئی مددگار ہدایت دینے والا نہ پائے گا) اس میں ایک طرف تو اصحاب کہف کی ہدایت کی طرف اشارہ ہے کہ وہ مشرک قوم میں سے تھے، اللہ تعالیٰ نے انہیں ہدایت دی اور دوسری طرف یہود مدینہ اور مشرکین مکہ کی بےراہی کی طرف اشارہ ہے کہ انہوں نے آنحضرت ﷺ سے اصحاب کہف کے بارے میں معلوم کیا اور جب آپ نے انہیں بتادیا پھر بھی ایمان نہ لائے، اس کے بعد اصحاب کہف کے بقیہ احوال بیان فرمائے اول تو یہ فرمایا (وَ تَحْسَبُھُمْ اَیْقَاظًا وَّ ھُمْ رُقُوْدٌ) اے مخاطب اگر تو ان جوانوں کے کہف میں ہونے کے زمانہ میں ان پر نظر ڈالتا تو ان کے بارے میں یہ خیال کرتا کہ وہ جاگ رہے ہیں حالانکہ وہ سوئے ہوئے تھے، اس کے بارے میں بعض حضرات نے تو یہ فرمایا کہ گو وہ سو رہے تھے لیکن آنکھیں کھلی ہوئی تھیں، اور بعض حضرات نے فرمایا کہ آنکھیں تو بند تھیں لیکن جسموں پر کوئی نیند کا اثر نہیں تھا۔ یعنی سونے کی وجہ سے جو اعضاء میں فتور اور ڈھیلا پن آجاتا ہے ان میں سے کوئی چیز ظاہر نہ تھی۔
Ayah 18:18اصحاب کہف کی دوسری حالت اور کیفیت بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا (وَّ نُقَلِّبُھُمْ ذَاتَ الْیَمِیْنِ وَ ذَات الشِّمَالِ ) (اور ہم انہیں پلٹ رہے تھے داہنی جانب اور بائیں جانب) چونکہ وہ لوگ ایک بہت بڑی مدت تک سوتے رہے اور ان کے جسم زمین ہی سے لگے ہوئے تھے لہٰذا زمین کے اثر سے محفوظ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ ان کی کروٹیں بدل دیتا تھا جس کی وجہ یہ ہے کہ اگر زمین سے کوئی چیز عرصہ دراز تک لگی رہے (خاص کر گوشت پوست والا جسم) تو وہ اسے کھا جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کو یوں بھی قدرت ہے کہ الٹ پلٹ کیے بغیر ان کے اجسام کو محفوظ فرماتا لیکن حکمت کا تقاضا یہ تھا کہ ان کی کروٹیں بدلی جاتیں۔ صاحب معالم التنزیل (صفحہ 154 ج 2) حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کرتے ہیں کہ ان کو سال میں ایک مرتبہ ایک جانب سے دوسری جانب پلٹ دیا جاتا تھا اور حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا کہ سال میں دو بار ان کو داہنی جانب سے بائیں جانب اور بائیں جانب سے داہنی جانب پلٹ دیا جاتا تھا رسول اللہ ﷺ سے اس کے بارے میں کوئی چیز مروی نہیں حضرات صحابہ ؓ سے جو کروٹیں بدلنے کی مدت کے بارے میں جو کچھ مروی ہے بظاہر اسرائیلی روایات ہیں۔
(وَ کَلْبُھُمْ بَاسِطٌ ذِرَاعَیْہِ بالْوَصِیْدِ ) (اور ان کا کتا دہلیز پر اپنے ہاتھ بچھائے ہوئے تھا) جب اصحاب کہف غار کی طرف روانہ ہوئے تھے تو ان کے ساتھ ایک کتا بھی لگ لیا تھا اس کے بارے میں ایک قول یہ ہے کہ اصحاب کہف ہی میں سے ایک شخص کا شکاری کتا تھا اور ایک قول یہ ہے کہ وہ بادشاہ کے طباخ (یعنی باورچی) کا کتا تھا، یہ طباخ بھی اصحاب کہف کا ایک فرد تھا اور اس کا کتا بھی اس کے ساتھ آگیا تھا اس کتے کے رنگ کے بارے میں مختلف اقوال ہیں، لیکن کسی بات کے بارے میں کوئی دلیل نہیں ہے اور نہ اس کے ذکر سے کوئی فائدہ ہے لفظ وصید کا ترجمہ کسی نے دروازہ، اور کسی نے مٹی، اور کسی نے فناء یعنی دروازہ سے باہر کی جگہ اور کسی نے دہلیز یعنی چوکھٹ کیا ہے، چوکھٹ وہاں نہیں تھی لہٰذا اس سے چوکھٹ کی جگہ مراد لی جائے گی۔ (ابن کثیر صفحہ 76 ج 3، معالم التنزیل صفحہ 154 ج 3)
اس کے بعد فرمایا (لَوِاطَّلَعْتَ عَلَیْھِمْ لَوَلَّیْتَ مِنْھُمْ فِرَارًا وَّ لَمُلِءْتَ مِنْھُمْ رُعْبًا) (اے مخاطب تو انہیں جھانک کر دیکھ لیتا تو ان کی طرف سے پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتا اور ان کی وجہ سے تیرے اندر رعب بھر جاتا) ان لوگوں کو دیکھنے سے دل میں رعب سما جانے اور بھاگ کھڑے ہونے کا سبب بیان کرتے ہوئے صاحب معالم التنزیل لکھتے ہیں کہ وہ جس غار میں تھے وہ متوحش غار تھا، اور بعض لوگوں نے کہا ہے کہ ان کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں حالانکہ وہ سو رہے تھے یہ سبب تھا خوف کا اور بعض نے کہا کہ ان کے بال بہت زیادہ تھے اور ناخن بڑھے ہوئے تھے۔
یہ اصحاب کہف کی حفاظت کے انتظامات تھے، ان کی کروٹوں کو بدلنا مٹی سے حفاظت کرنے کے لیے تھا اور ان کے پیچھے کتا بھی لگ لیا تھا جو وہیں دروازہ پر بیٹھا ہوا تھا کتے کی عادت ہے کہ ہر آنے والے اجنبی پر بھونکتا ہے، ظاہری اسباب کے طور پر یہ کتا بھی حفاظت کا ذریعہ بنا اور مزید یہ بات تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ایسی کیفیت اور صورتحال پیدا فرما دی کہ اگر کوئی شخص ان کو دیکھتا تو ان کے قریب تک جانے کی ہمت نہ کرتا تھا بلکہ واپس جانے میں ہی اپنی خیر سمجھتا۔
Ayahs 18:19–20اصحاب کہف کا بیدار ہو کر آپس میں اپنی مدت قیام کے بارے میں سوال و جواب کرنا اور اپنے ایک آدمی کو کھانا لانے کے لیے شہر بھیجنا
اصحاب کہف مدت دراز تک غار میں سوتے رہے پھر جب اللہ تعالیٰ کی مشیت ہوئی تو انہیں جگا دیا ان کا اتنی لمبی مدت تک سلا دینا بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ پر دلالت کرتا ہے پھر ان کا جگا دینا۔ قال صاحب الروح ووجہ الشبہ کون کل منھا آیۃ دالۃ علی کمال قدرتہ الباھرۃ عزوجل۔ جب یہ لوگ جاگ گئے تو ان میں سے ایک شخص نے یہ سوال اٹھایا کہ تم یہاں کتنے دن ٹھہرے ہو ؟ پھر آپس میں جواب دیا کہ ہاں ایک دن یا ایک دن کا کچھ حصہ ٹھہرے ہیں، مطلب یہ تھا کہ ہم یقینی طور پر تو کچھ نہیں کہہ سکتے لیکن اندازہ ہے کہ بہت سے بہت ایک دن سوئے ہیں اور احتمال یہ ہے کہ ایک دن سے بھی کم سوئے ہوں، بعض حضرات نے فرمایا کہ وہ صبح کو سوئے تھے اور جب بیدار ہوئے تو شام کا وقت تھا جیسے دن جا رہا ہو اس لیے ایک یا ایک دن سے کچھ کم سمجھ کر سوال کرنے والے کو جواب دیدیا پھر کہنے لگے کہ بھئی ہم یقین کے ساتھ کچھ بھی نہیں کہہ سکتے تمہارے رب کو ہمارے سونے کی صحیح مدت معلوم ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بہت زیادہ سونے کی وجہ سے جو دماغ میں ایک قسم کا بھاری پن ہوتا ہے وہ اسے محسوس کر رہے تھے اس لیے ان میں سے بعض نے یہ سمجھا کہ ایک دن کی مدت والی بات ٹھیک نہیں معلوم ہوتی لہٰذا ہمیں اپنے پاس سے کچھ تجویز نہیں کرنا چاہیے کیونکہ صحیح علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے، بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ چونکہ ان کے بال و ناخن زیادہ بڑھے ہوئے تھے اس لیے یہ محسوس ہوا کہ ہمارا یہ سونا ایک دن کی مدت سے زیادہ تھا۔
اس گفتگو کے بعد کہ کتنے دن سوتے رہے کھانے پینے کا سوال پیدا ہوا، جب انسان سو کر اٹھتا ہے تو عام طور پر بھوک لگی ہوتی ہے پھر ان کا کیا حال ہوگا جو عرصہ دراز تک سوتے رہے ہوں، کہنے لگے کہ اپنے میں سے ایک شخص کو بھیجو جو شہر میں جائے اور ہمارے پاس جو یہ چاندی کے سکے ہیں ان کو لے جائے اور کھانا لے کر واپس آجائے ذرا اچھی طرح دھیان سے خریدے پاکیزہ اور حلال کھانا لے کر آئے شہر میں جو بتوں کے نام پر ذبح کیا ہوا گوشت ملتا ہے اس میں سے نہ لائے اور شہر میں جانے اور کھانا خریدنے میں سمجھداری اور خوش تدبیری سے کام لے اور کسی کو یہ نہ بتائے کہ ہم کون ہیں اور کہاں ہیں۔ جس وقت یہ غار میں داخل ہو کر سوئے تھے اس وقت مشرکوں اور بت پرستوں کی حکومت تھی اور بادشاہ جبراً مشرک بنالیتا تھا اور اہل توحید کو جان سے مارتا اور سزائیں دیتا تھا، ان حضرات نے یہ سمجھ کر کہ شہر میں ابھی اسی دین شرک کا چرچا ہوگا اور بادشاہ بھی وہی بت پرست ہوگا کھانا خریدنے کے لیے جانے والے سے کہا کہ حلال کھانا لانا اور اس کا دھیان رکھنا کہ لوگوں کو ہمارا پتہ نہ چل جائے ورنہ شہر والے ہمیں بری طرح قتل کردیں گے اور سنگسار کردیں گے یا اپنے دین میں واپس کرلیں گے ایمان چھوڑ کر کفر میں چلا جانا سب سے بڑے خسارہ کی بات اور سب سے بڑی ناکامی ہے یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے اگر کوئی شخص کسی مومن کو کفر پر مجبور کرے اور ظاہری طور پر کفر کا کلمہ کہہ دے تو کافر نہیں ہوجاتا اگر وہ لوگ کفر پر مجبور کرتے اور اصحاب کہف کفر کا کلمہ کہہ دیتے تو حقیقت میں کافر نہ ہوجاتے اور اس سے ناکامی اور تباہی لازم نہیں آتی، جب دل میں ایمان باقی ہے تو اخروی ناکامی کی کوئی وجہ نہیں لہٰذا انہوں نے (وَ لَنْ تُفْلِحُوْٓا اِذًا اَبَدًا) کیوں کہا ؟ احقر کے خیال میں اس کا جواب یہ ہے کہ وہ لوگ محقق نہیں تھے کسی نبی یا کسی فقیہ کی صحبت نہیں اٹھائی تھی لہٰذا انہوں نے حالت اکراہ میں کلمہ کفر کہہ دینے کو بھی تباہی سے تعبیر کیا، یہ سب ان کے اپنے خیال کے مطابق تھا اس کی نظیر یہ ہے کہ حضرت حنظلہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں یہی عرض کیا کہ حنظلہ منافق ہوگیا آپ نے فرمایا کیوں ؟ کہنے لگے کہ ہم آپ کی خدمت میں ہوتے ہیں آپ ہمیں جنت دوزخ کی باتیں سناتے ہیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سب کچھ ہمارے سامنے ہے پھر جب ہم اپنے گھروں کو جاتے ہیں تو بیوی بچوں میں گھل مل جاتے ہیں اور آپ کے بہت سے ارشادات بھول جاتے ہیں آپ نے فرمایا کہ قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر تم ہر وقت اسی حالت میں رہو جو میرے پاس تمہاری حالت ہوتی ہے تو تم سے فرشتے بچھونوں میں اور راستوں میں مصافحہ کرتے، لیکن اے حنظلہ ایسا کبھی کبھی ہوتا ہے (یعنی جو تمہاری حالت میرے پاس ہوتی ہے وہ ہمیشہ باقی نہیں رہتی) جس طرح حضرت حنظلہ ؓ نے اپنے خیال میں اپنے کو منافق خیال کرلیا اسی طرح اصحاب کہف نے زبان سے کلمہ کفر کہنے کو بھی کفر سمجھ لیا۔
اور بعض حضرات نے فرمایا کہ اس سے فلاح کامل مراد ہے اکراہ کے وقت کلمہ کفر زبان سے جاری کرنا جائز ہے اور یہ رخصت ہے، اور عزیمت یہ ہے کہ قتل ہوجائے اور کلمہ کفر زبان پر نہ لائے، اس اعتبار سے ان کا مطلب یہ تھا کہ اگر ہم نے حالت اکراہ میں کلمہ کفر کہہ کر جان بچا بھی لی تو عزیمت سے محروم ہوجائیں گے، ادھر تو آپس میں یہ مشورہ ہوا کہ ہمیں چھپ کر رہنا ہے اور اہل مدینہ کو اپنا حال اور اپنی جگہ نہیں بتانی اور ادھر ان میں سے جو ایک شخص کھانا خریدنے کے لیے رقم لے کر گیا اس نے بازار میں جاکر کچھ خریدا پرانا سکہ دیکھ کر دکاندار حیران پڑگیا اور لوگوں میں بھی اس کا چرچا شروع ہوگیا، اس عرصہ دراز میں حکومت بدل چکی تھی اور جو شخص بادشاہ تھا وہ مسلمان تھا جب اسے پتہ چلا کہ ایسا ایسا واقعہ ہے تو وہ شہر والوں کے ساتھ سوار ہو کر غار کی طرف چلا وہ ایک شخص جو کھانا لینے کے لیے آیا تھا جس کا نام یملیخا بتایا جاتا ہے وہ جلدی سے غار کے اندر گیا اور اس نے اپنے ساتھیوں کو بتادیا کہ بات کھل چکی ہے اور بادشاہ تک پہنچ گئی ہے اور اس وقت جو لوگ شہر میں ہیں وہ مسلمان ہیں یہ تحریر فرما کر علامہ قرطبی (صفحہ 389 ج 10) نے دو روایتیں لکھی ہیں اول یہ کہ اصحاب کہف کو اس کی بہت خوشی ہوئی باہر نکلے بادشاہ سے ملاقات کی بادشاہ نے ان کا اور انہوں نے بادشاہ کا اکرام کیا اور دوسری روایت یہ نقل کی ہے کہ جب یملیخا نے انہیں واقعہ بتایا تو وہ اسی وقت وہیں غار میں مرگئے قرآن کریم میں ان باتوں کا ذکر نہیں ہے جس کسی نے جو کچھ بتایا وہ اسرائیلی روایات پر مبنی ہے۔
Ayah 18:21علامہ قرطبی نے لکھا ہے کہ دقیانوس بادشاہ مرگیا تھا (جس کے زمانہ میں یہ حضرات کہف میں داخل ہوئے تھے) سینکڑوں سال گزر گئے بادشاہ آتے جاتے رہے آخر میں ایک نیک شخص اس علاقہ کا بادشاہ ہوا اور وہ اور اس کی رعایا اس بات کو تو مانتے تھے کہ موت کے بعد حشر نشر ہے لیکن کچھ لوگوں نے کہا کہ روحیں محشور ہوں گی۔ کیونکہ جسم کو زمین کھا جاتی ہے، ان لوگوں نے جسم کے ساتھ حشر ہونے کو بعید سمجھا اور کچھ لوگوں نے یہ کہا کہ جسم اور روح دونوں کو اٹھایا جائے گا بادشاہ کو اس اختلاف سے حیرانی ہوئی اور اصل حقیقت جاننے کے لیے اس نے اتنا اہتمام کیا کہ ٹاٹ کے کپڑے پہن لیے اور راکھ پر بیٹھ گیا اور اللہ تعالیٰ کے حضور میں دعا کرتا رہا کہ ہمیں کوئی ایسی دلیل مل جائے جس سے یہ واضح ہوجائے کہ روح اور جسم دونوں کا حشر کوئی مستبعد نہیں، اسی اثناء میں اللہ تعالیٰ شانہ نے اصحاب کہف کو ظاہر فرما دیا بادشاہ نے ان کو دیکھ کر کہا کہ یہ تو وہی لوگ معلوم ہوتے ہیں جو دقیانوس کے زمانہ میں شہر سے چلے گئے تھے میں دعا کرتا تھا کہ اللہ تعالیٰ مجھے ان کو دکھا دے جب ان لوگوں کے کئی سو سال سونے کے بعد اٹھ جانے کا واقعہ معلوم ہوا تو لوگوں کو یقین ہوگیا کہ واقعی اللہ کا وعدہ حق ہے قیامت حق ہے۔
(وَکَذٰلِکَ اَعْثَرْنَا عَلَیْھِمْ لِیَعْلَمُوْٓا اَنَّ وَعْدَ اللّٰہِ حَقٌّ) میں اس بات کو بتایا ہے کہ جب وہ لوگ اصحاب کہف پر مطلع ہوئے تو انہیں قیامت کا یقین آگیا اصحاب کہف باہر نکل کر واپس غار میں چلے گئے ہوں اور بعد میں انہیں موت آئی ہو۔ یا یملیخا کی خبر سننے کی وجہ سے وہیں غار میں انہیں موت آگئی ہو روایات میں اس کا ذکر نہیں ملتا۔
قرآن مجید کے سیاق سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ غار ہی میں اندر وفات پاگئے، یہ جو آپس میں جھگڑا ہوا کہ ان کے بارے میں کیا کیا جائے پھر کچھ لوگوں نے کہا کہ ان کے اوپر عمارت بناؤ اور جو غالب تھے انہوں نے کہا کہ ہم ان کے اوپر مسجد بنا دیں گے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے غار میں ہوتے ہوئے ہی اس طرح کا اختلاف ہوا۔ روح المعانی ص 234 ج 1 میں لکھا ہے کہ جب بادشاہ کو ان لوگوں کا پتہ چلا تو اس نے وہاں جاکر ان لوگوں سے ملاقات کی اور دیکھا کہ ان کے چہرے روشن ہیں اور کپڑے بھی خراب نہیں ہیں انہوں نے بادشاہ کو وہ حالات سنائے جو دقیانوس کے زمانہ میں پیش آئے تھے ابھی باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ اصحاب کہف نے کہا نستودعک اللّٰہ تعالیٰ والسلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ تعالیٰ حفظک اللّٰہ تعالیٰ وحفظ ملکک نعیذک باللّٰہ تعالیٰ من شر الانس والجن (ہم تجھے اللہ کے سپرد کرتے ہیں تجھ پر اللہ کا سلام ہو اور اس کی رحمت۔ اللہ تیری حفاظت کرے اور تیرے ملک کی بھی حفاظت کرے اور ہم تجھے انسانوں اور جنات کے شر سے اللہ کی پناہ میں دیتے ہیں) یہ کہا اور وہ واپس اندر اپنی اپنی جگہوں پر چلے گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان پر موت طاری فرما دی پھر بادشاہ نے انہیں لکڑی کے تابوتوں میں دفن کردیا اور غار کے منہ پر مسجد بنادی، صاحب روح المعانی نے اس کے بعد ایک قول یہ لکھا ہے کہ جب بادشاہ کے پاس اس شخص کو لایا گیا جو غار میں سے کھانا لینے کے لیے آیا تھا تو بادشاہ نے اس سے پوچھا تم کون ہو ؟ اس نے کہا کہ میں اس شہر کا رہنے والا ہوں اور یہ بتایا کہ میں کل ہی شہر سے نکلا تھا اس نے اپنا گھر بھی بتایا اور کچھ لوگوں کے نام بھی بتائے جنہیں کوئی بھی نہ پہچان سکا، بادشاہ نے سن رکھا تھا کہ کچھ لوگ پرانے زمانہ میں روپوش ہوگئے تھے اور یہ بھی سنا ہوا تھا کہ ان کے نام سرکاری خزانے میں ایک تختی پر لکھے ہوئے رکھے ہیں وہ تختی منگائی اور ان کے نام پڑھے تو وہی نام نکلے جو اصحاب کہف کے نام تھے وہ جو ایک شخص کھانا لینے کے لیے آیا تھا اس کے ساتھ بادشاہ اور چند لوگ چلے جب غار کے دروازہ پر آئے تو وہ نوجوان اندر گیا اور انہیں پوری صورت حال بتادی اللہ تعالیٰ نے ان کی روحوں کو قبض فرمالیا اور بادشاہ اور اس کے ساتھیوں کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا جس کی وجہ سے وہ اندر داخل نہ ہوسکے لوگوں میں یہ اختلاف ہوا کہ ان کے بارے میں کیا کیا جائے تو کچھ لوگوں نے کہا کہ ان کے اوپر یعنی غار کے دروازہ پر عمارت بنا دی جائے اور وہ جماعت جو ان کے معاملہ میں غالب ہوگئی یعنی بادشاہ اور اس کے ساتھی انہوں نے کہا کہ ہم مسجد بنائیں گے چناچہ انہوں نے مسجد بنادی یہ مسجد غار کے دروازے پر بنادی گئی تھی چونکہ یہ مسجد دروازہ پر تھی مرنے والوں کی قبروں پر نہیں تھی اور قبروں کی طرف قبلہ بھی نہیں تھا اس لیے یہ اشکال نہیں ہوتا کہ قبروں پر مسجد بنانے کی ممانعت ہے لہٰذا تعمیر مسجد کو کیوں اختیار کیا گیا۔
ایک فریق نے کہا کہ ان پر عمارت بنا دو دوسرے فریق نے کہا کہ ہم مسجد بنا دیں گے ان دونوں کے درمیان جو لفظ (رَبُّھُمْ اَعْلَمُ بِھِمْ ) آیا ہے اس کے بارے میں صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ یہ جملہ معترضہ ہے اور مطلب یہ ہے کہ اصحاب کہف کے ساتھ کیا کیا جائے اس بارے میں دو رائیں آرہی تھیں یہ کون لوگ تھے کن خاندانوں سے تھے یہ کن احوال سے گزرے اور کتنے دن غار میں رہے پھر جب ان چیزوں کا صحیح علم نہ ہوسکا اور ان کے حاصل ہونے کا کوئی راستہ بھی نہ ملا تو کہنے لگے کہ اسے اللہ کے سپرد کرو وہ علام الغیوب ہے سب کو جانتا ہے ان کا حال بھی اسی کو صحیح معلوم ہے۔
Ayahs 18:22–23اصحاب کہف کی تعداد میں اختلاف اور اس کا جواب
جس طرح اصحاب کہف کی مدت قیام فی الکہف میں اختلاف ہوا کہ وہ کتنے دن رہے اور خود وہ بھی اختلاف کر بیٹھے اور صحیح بات تک نہ پہنچ سکے اسی طرح اس میں بھی اختلاف ہوا کہ ان کی تعداد کتنی تھی، آیت مذکورہ بالا میں تین قول نقل فرمائے ہیں ایک قول یہ ہے کہ اصحاب کہف تین تھے اور چوتھا ان کا کتا تھا، اور دوسرا قول یہ ہے کہ وہ پانچ تھے چھٹا ان کا کتا تھا، اور تیسرا قول یہ ہے کہ وہ سات تھے اور آٹھواں ان کا کتا تھا۔ صاحب روح المعانی صفحہ 480 ج 15 نے بعض علماء سے نقل کیا ہے کہ یہ اقوال ان لوگوں کے ہیں جو نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ان میں سے ایک شخص عاقب تھا اور نصاریٰ کے فرقہ نسطوریہ کا سردار تھا اس نے اور اس کے ساتھیوں نے پہلی دو باتیں کہی تھیں تیسرا قول بعض مسلمانوں کا ہے پہلے دو قولوں کے ذکر فرمانے کے بعد (رَجْمًام بالْغَیْبِ ) فرمایا (کہ اٹکل پچو بات کہہ رہے ہیں) اور تیسرے قول کو علیحدہ ذکر کیا اور ساتھ ہی یوں فرمایا (قُلْ رَّبِّیْٓ اَعْلَمُ بِعِدَّتِھِمْ مَّا یَعْلَمُھُمْ اِلَّا قَلِیْلٌ) (آپ فرما دیجیے کہ میرا رب ان کی تعداد خوب جانتا ہے ان کو صرف تھوڑے سے لوگ جانتے ہیں) اس سے بعض حضرات نے استدلال کیا کہ اصحاب کہف کی تعداد سات تھی اللہ شانہ نے فرمایا کہ ان کی تعداد کو اللہ ہی خوب جانتا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا کہ انہیں صرف تھوڑے لوگ جانتے ہیں حضرت ابن عباس ؓ فرماتے تھے کہ میں بھی ان ہی میں سے ہوں جن کو ان کی تعداد کا علم ہے، وہ فرماتے تھے کہ ان کی تعداد سات تھی اور آٹھواں ان کا کتا تھا۔ عام طور پر سے امت مسلمہ میں یہ ہی قول مشہور ہے اور ان کے نام بھی تفسیر کی کتابوں میں لکھے ہیں حضرت ابن عباس ؓ سے ان کے یہ نام منقول ہیں مکسلمینا، یملیخا، مرطولس، ثبینس، دردونس، کفا شیطیطوس، منطنوا سیس اور کتے کا نام قطمیر نقل کیا گیا ہے بظاہر حضرت ابن عباس ؓ نے اہل کتاب سے ان کے نام سنے ہونگے جن کو انہوں نے آگے روایت کردیے یہ نام چونکہ عجمی ہیں اور بہت پرانی کسی زبان کے الفاظ ہیں اس لیے ان کا صحیح اعراب کے ساتھ یقینی طور پر تلفظ کرنا اہل علم سے بھی مخفی ہے صاحب روح المعانی لکھتے ہیں وذکر الحافظ ابن حجر فی شرح البخاری ان فی النطق باسماءھم اختلافا کثیرا ولا یقع الوثوق من ضبطھا وفی البحر ان اسماء اصحاب الکھف العجمیۃ لا تنضبط بشکل ولا نقط والسند فی معرفتھا ضعیف۔ آیت کے آخر میں دو باتوں کی ممانعت فرمائی ہے اولاً یوں فرمایا (فَلَا تُمَارِفِیْھِمْ اِلَّا مِرَآءً ظَاھِرًا) جس کا مطلب یہ ہے کہ اصحاب کہف کے عدد وغیرہ کے بارے میں سرسری بحث سے زیادہ بات نہ کیجیے وحی کے موافق انہیں قصہ سنا دیں زیادہ سوال جواب نہ کریں اور دوسری ممانعت یہ فرمائی (وَّ لَا تَسْتَفْتِ فِیْھِمْ مِّنْھُمْ اَحَدًا) (کہ ان کے بارے میں کسی سے سوال نہ کیجیے) اللہ تعالیٰ شانہ نے جو بتادیا اس سے آگے بڑھنے کی ضرورت نہیں ان میں جو لوگ کچھ باتیں کرتے ہیں وہ اٹکل اور گمان اور قیاس سے کہتے ہیں لہٰذا ان سے پوچھنے کی نہ کوئی ضرورت ہے اور نہ اس سے کوئی فائدہ۔
Ayah 18:24وعدہ کرتے وقت انشاء اللہ نہ کہنے پر عتاب
تفسیر ابن کثیر میں لکھا ہے کہ قریش مکہ نے نضر بن حارث اور عقبہ بن ابی معیط کو مدینہ منورہ بھیجا (یہ ہجرت سے پہلے کا واقعہ ہے) کہ یہود کے علماء سے محمد ﷺ کے بارے میں دریافت کرو اور ان سے کہو کہ نبی آخر الزماں کی صفات بتادو، یہودی پہلی کتابوں سے واقف ہیں اور ہمارے پاس انبیاء کرام (علیہ السلام) کے علوم میں سے کچھ نہیں ہے لہٰذا تم جاؤ ان لوگوں سے دریافت کرو، قریش کے نمائندے مدینہ پہنچے اور رسول اللہ ﷺ کے بارے میں دریافت کیا اور ان سے کہا کہ تم تورات والے ہو ہم تم سے اس شخص کے بارے میں دریافت کرتے ہیں، اس پر یہودیوں نے کہا کہ ان سے تین باتیں دریافت کرلو اگر وہ ان باتوں کو بتادیں تو وہ واقعی نبی مرسل ہیں، ان سے ایک بات تو یہ دریافت کرو کہ زمانہ قدیم میں کچھ نوجوان اپنے گھر بار کو چھوڑ کر چلے گئے تھے وہ کون لوگ تھے ان کا قصہ عجیب ہے اور ان سے یہ بھی پوچھو کہ وہ کون شخص تھا جس نے مشرق مغرب کے بڑے بڑے سفر کیے اور ان سے روح کے بارے میں دریافت کرو کہ وہ کیا ہے یہ باتیں سن کر قریش کے دونوں نمائندے مکہ معظمہ واپس ہوئے اور انہوں نے کہا کہ اے قریش کی جماعت ہم تمہارے پاس ایک فیصلہ کن بات لے کر آئے ہیں۔ یہودیوں نے تین باتیں بتائی ہیں اس کے بعد وہ لوگ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور وہ تینوں باتیں معلوم کیں جن کی یہودیوں نے پٹی پڑھائی تھی، آپ نے فرمایا میں کل کو بتادوں گا لیکن انشاء اللہ نہیں کہا وہ لوگ چلے گئے اور ادھر یہ ہوا کہ پندرہ دن تک آپ پر کوئی وحی نہیں آئی اور اس وجہ سے اہل مکہ نے یہ بات اڑانی شروع کردی کہ محمد ﷺ نے یہ کہا تھا کہ کل کو بتادوں گا لیکن پندرہ دن گزرے ہیں ابھی تک کچھ بھی نہیں بتایا رسول اللہ ﷺ کو وحی کے رک جانے سے اور اہل مکہ کے باتیں بنانے سے سخت دکھ ہوا پھر جبرائیل (علیہ السلام) حاضر خدمت ہوئے اور سورة کہف لے کر آئے جس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب بھی ہے (کہ انشاء اللہ کیوں نہیں کہا) اور اصحاب کہف کی خبر بھی ہے اور مشرق اور مغرب کے سفر کرنے والے کی خبر بھی ہے (یعنی ذوالقرنین کا تذکرہ) اور سورة اسراء کی آیت (وَیَسْءَلُوْنَکَ عَنِ الرُّوْحِ ) میں روح کا ذکر بھی آگیا ہے۔
مذکورہ بالا تفصیل سے معلوم ہوا کہ یہودیوں کے سکھانے پر جو قریش مکہ نے آنحضرت ﷺ سے تین باتوں کا سوال کیا ان کا جواب دینے کے لیے ارشاد فرمایا کہ کل کو بتادوں گا لیکن پندرہ دن تک وحی نہیں آئی آپ اس سے بہت زیادہ غمگین ہوئے اور مشرکین کو ہنسنے کا موقع مل گیا پھر جب وحی آئی تو مشرکین کے سوالات کے جوابات کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تنبیہ بھی نازل ہوئی اور وعدہ کرتے وقت انشاء اللہ چھوڑنے پر عتاب ہوا مقربین بارگاہ الٰہی کا بعض ایسی باتوں پر بھی عتاب ہوجاتا ہے جو فرض واجب کے درجہ میں نہیں ہوتیں اور رسول اللہ ﷺ تو سب سے زیادہ اللہ کے مقرب ہیں سب کچھ اللہ کی مشیت اور ارادہ ہی سے ہوتا ہے اللہ کے بندوں کو چاہیے کہ جب کسی سے وعدہ کریں یا کسی عمل کو کرنے کا اظہار کریں تو انشاء اللہ بھی ساتھ میں کہہ دیں کیونکہ بندوں کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ہماری زندگی کب تک ہے جس دن کا وعدہ یا ارادہ کررہا ہوں اس دن تک زندہ رہوں گا یا نہیں اور زندہ بھی رہا تو ارادہ اور وعدہ کے مطابق عمل ہوسکے گا یا نہیں لہٰذا اسی میں بہتری اور خوبی ہے کہ جب کسی کام کا وعدہ یا ارادہ کرے تو صرف اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھروسہ کرے اور زبان سے بھی انشاء اللہ کہنا چاہیے، جو بھی کوئی وعدہ کرے سچا اور پکا وعدہ کرے اور لفظ انشاء اللہ اس لیے نہ لگائے کہ میں قصداً خلاف ورزی کروں گا اور کہہ دوں گا کہ میں نے تو انشاء اللہ کہہ دیا تھا ایسی غلط نیت کرنے سے وعدہ کی خلاف ورزی کا گناہ ہوگا۔ وعدہ کے ساتھ انشاء اللہ کہنے کا حکم دینے کے بعد فرمایا (وَ اذْکُرْ رَّبَّکَ اِذَا نَسِیْتَ ) (اور آپ اپنے رب کو یاد کرلیجیے جب آپ بھول جائیں) اس کا مطلب بعض اکابر علماء سے یہ نقل کیا گیا ہے کہ جب وعدہ کرتے وقت انشاء اللہ کہنا بھول جائے تو جب بھی یاد آجائے انشاء اللہ کہہ لے یہ ایسا ہی ہوگا جیسا وعدہ کے ساتھ متصلاً کہہ دیا۔ صاحب روح المعانی نے حضرت ابن عباس ؓ اور بعض تابعین سے یہ مطلب نقل کیا ہے آیت کے ظاہری سیاق سے اس مفہوم کی کچھ تائید بھی ہوتی ہے۔ لیکن چونکہ آیت اس معنی میں صریح نہیں ہے جو حضرت ابن عباس ؓ کی طرف منسوب کیا جاتا ہے اس لیے امام ابوحنیفہ (رح) تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ بعد میں انشاء اللہ کہہ لینا تبرک اور تلافی مافات کے طور پر ہوگا اگر انشاء اللہ تعلیق بالشرط اور عتاق اور یمین کے ساتھ متصلاً نہ کہا تو بعد میں منفصلاً کہہ دینے سے سابقہ اثر اور نتیجہ کا ابطال نہ ہوگا کیونکہ آیت میں صرف اتنی بات ہے کہ جب یاد آجائے اپنے رب کا ذکر کر لیجیے آیت کریمہ سابقہ اثر کے ابطال سے ساکت ہے دوسرے دلائل سے امام صاحب کے مسلک کی تائید ہوتی ہے اور دیگر ائمہ بھی ان کے موافق ہیں۔
قال صاحب الروح و عامۃ الفقھاء علی اشتراط اتصال الاستثناء فی عدم الحنث ولو صح جواز الفصل وعدم تاثیرہ فی الاحکام لاسیما الی الغایۃ المرویۃ عن ابن عباس ؓ لما تقرر اقرار ولا طلاق ولا عتاق ولم یعلم صدق ولا کذب (صفحہ 205 ج 15) وفی روح المعانی ایضا یحکی انہ بلغ المنصور ان ابا حنیفۃ (رح) خالف ابن عباس ؓ فی ھذہ المسئلۃ فاستحضرہ لینکر علیہ فقال لہ ابو حنیفۃ ھذا یرجع الیک انک تاخذ البیعۃ بالایمان افترضی ان یخرجوا من عند فیستثنونہ علیک فیخرجوا عنک فاستحسن کلامہجو حضرات استثناء میں اشتراط اتصال کے قائل ہیں ان کے نزدیک آیت کا مطلب یہ ہے کہ جب بھی اللہ تعالیٰ کے ذکر کو بھول جاؤ پھر جیسے ہی یاد آجائے اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے لگو اور یہ ایسا ہی ہے جیسا لیلۃ التعریس میں جب رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ ؓ سوتے رہ گئے اور پھر جب سورج طلوع ہونے پر بیدار ہوئے تو آپ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص کسی نماز کو بھول جائے اور سوتا رہ جائے تو جب یاد آجائے اسے پڑھ لے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ (وَاَقِمِ الصَّلوٰۃَ لِذِکْرِیْ ) (رواہ مسلم)
(وَ قُلْ عَسٰٓی اَنْ یَّھْدِیَنِ رَبِّیْ لِاَقْرَبَ مِنْ ھٰذَا رَشَدًا) (اور آپ یوں کہہ دیجیے کہ امید ہے میرا رب مجھے وہ بات بتادے گا جو ہدایت کے اعتبار سے اس سے قریب تر ہے۔ )
صاحب روح المعانی لکھتے ہیں ای لشئ اقرب واظھر من نباء اصحاب الکھف من الآیات والدلائل الدالۃ علی نبوتی یعنی مجھے رب سے امید ہے کہ مجھے اصحاب کہف کے واقعہ سے بڑھ کر ایسی واضح ترین چیزیں بتائے گا جو میری نبوت پر دلالت کرنے والی ہوں گی چناچہ اللہ تعالیٰ کا یہ انعام ہوا کہ اصحاب کہف سے بھی زیادہ قدیم واقعات کا علم آنحضرت ﷺ کو دیا گیا اور آپ نے ان چیزوں کی مخاطبین کو خبریں دیں۔ جن کا وحی کے بغیر علم نہیں ہوسکتا تھا اور جو اخبار بالغیب کے اعتبار سے اصحاب کہف کے قصہ سے بھی زیادہ واضح تھیں۔
Ayah 18:25اصحاب کہف کتنا عرصہ غار میں رہے
پہلی آیات میں غار مذکورہ میں اصحاب کہف کے رہنے کی مدت بیان فرمائی اور فرمایا کہ وہ اپنے غار میں تین سو نو سال رہے پھر دوسری آیت میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان کی مدت اقامت کو خوب زیادہ جاننے والا ہے وہ آسمانوں اور زمین کے غیب کو جانتا ہے اس کا علم ہر چیز کو محیط ہے، اصحاب کہف کا غار بھی زمین ہی میں ہے اور وہ لوگ بھی زمین ہی میں تھے پھر ان کا اور ان کے غار کا اسے کیوں علم نہیں ہوگا ؟ مزید توضیح اور تاکید کے لیے فرمایا (اَبْصِرْبِہٖ وَ اَسْمِعْ ) عربی زبان میں یہ دونوں تعجب کے صیغہ ہیں اور مطلب یہ ہے کہ اللہ سے بڑھ کر کوئی دیکھنے والا یا سننے والا نہیں ہے اس کی صفت سمع و بصر کا بندوں سے بیان نہیں ہوسکتا وہ سب سے بڑا سمیع اور بصیر ہے۔ (ان دونوں لفظوں کا جو اوپر ترجمہ کیا گیا ہے تقریبی ترجمہ ہے حقیقت میں ان کا ترجمہ اردو زبان میں ادا نہیں ہوسکتا۔ )