دعا قبول ہوئی۔
حضرت زکریا ؑ کی دعا مقبول ہوتی ہے اور فرمایا جاتا ہے کہ آپ ایک بچے کی خوشخبری سن لیں جس کا نام یحییٰ ہے جیسے اور آیت میں ہے (ھُنَالِكَ دَعَا زَكَرِيَّا رَبَّهٗ 38) 3۔ آل عمران :38) ، میں حضرت زکریا ؑ نے اپنے رب سے دعا کی کہ اے اللہ مجھے اپنے پاس سے بہتری اولاد عطا فرما تو دعاؤں کا سننے والا ہے۔ فرشتوں نے انہیں آواز دی اور وہ اس وقت کی نماز کی جگہ میں کھڑے تھے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اپنے ایک کلمے کی بشارت دیتا ہے جو سردار ہوگا اور پاکباز ہوگا اور نبی ہوگا اور پورے نیک کار اعلیٰ درجے کے بھلے لوگوں میں سے ہوگا۔ یہاں فرمایا کہ ان سے پہلے اس نام کا کوئی اور انسان نہیں ہوا۔ یہ بھی کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
سورة مَرْیَم 5
لوقا کی انجیل میں الفاظ یہ ہیں تیرے کنبے میں کسی کا یہ نام نہیں (611)
Read the full tafseer →لَمْ نَجْعَلْ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ سَمِيًّا، لفظ سمی کے معنے ہمنام کے بھی آتے ہیں، اور مثل ومشابہ کے بھی، اس جگہ اگر پہلے معنے مراد لئے جاویں تو مطلب واضح ہے کہ ان سے پہلے یحییٰ نام کسی شخص کا نہیں ہوا تھا۔ یہ نام کی یکتائی اور امتیاز بھی بعض خاص صفات میں انکی یکتائی کیطرف مشیر تھی اسلئے اس کو ان صفات اور حالات ان کے ایسے ہیں جو پچھلے انبیاء میں سے کسی میں نہ تھے ان صفات خاصہ میں وہ بےمثل تھے۔ مثلا ان کا حصور ہونا وغیرہ اسلئے اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ یحییٰ ؑ پچھلے سارے انبیاء سے مطلقا افضل ہوں کیونکہ ان میں حضرت خلیل اللہ اور حضرت کلیم اللہ کا ان سے افضل ہونا مسلم و معروف ہے۔ (مظہری)
Read the full tafseer →يَا زَكَرِيَّا إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلامٍ اسْمُهُ يَحْيَى لَمْ نَجْعَلْ لَهُ مِنْ قَبْلُ سَمِيًّا۔
سچی دعا اور اس کی قبولیت : جب دعا صحیح وقت پر، صحیح مقصد کے لیے، سچے جذبے کے ساتھ اور صحیح الفاظ میں کی جائے تو اس میں اور اس کی قبولیت میں کوئی فاصلہ نہیں رہ جاتا۔ اس کے لیے اسباب کے تمام پردے اٹھا دیے جاتے ہیں۔ ہر طرف تاریکی اور مایوسی ہوتی ہے، اسباب و حالات بالکل نامساعد نظر آتے ہیں، کسی طرف سے بھی امید کی کوئی کرن نظر نہیں آتی لیکن بندہ جب اس امید کے ساتھ اپنے آپ کو اپنے رب کے دروازے پر ڈال دیتا ہے کہ بہرحال میرے لیے یہی دروازہ ہے، میں نے جو کچھ پایا ہے یہیں سے پایا ہے اور جو کچھ پاؤں گا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
7۔ 1 اللہ تعالیٰ نے نہ صرف دعا قبول فرمائی بلکہ اس کا نام بھی تجویز فرما دیا
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
3: ان الفاظ سے ظاہر ہے کہ میراث پانے سے حضرت زکریا ؑ کا مطلب مال و دولت کی میراث نہیں تھا ؛ بلکہ علوم نبوت کی میراث پانا مراد تھا ؛ کیونکہ حضرت یعقوب ؑ کی اولاد سے مالی وراثت پانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، لہذا انکی دعا اس اصول کے خلاف نہیں جو معروف حدیث میں آنحضرت ﷺ نے بیان فرمایا ہے کہ انبیاء ؑ کا ترکہ ان کے وارثوں میں تقسیم نہیں ہوتا۔
Read the full tafseer →قبولیت دعا کے اس لمحے کی تصویر کشی نہایت ہی مہربانی ، محبت اور رضا کی فضا میں ہے۔ عالم بالا سے رب ذوالجلال خود اپنے بندے کو پکارتے ہیں یزکریا (اے زکریا) اور پکارتے ہی اسے خوشخبری دے دی جاتی ہے۔ انا نبشرک بغلم (91 : 8) ” ہم تجھے ایک لڑکے کی خوشخبری دیتے ہیں۔ “ اب اللہ ان پر مہربانی کی انتہا کردیتے ہیں کہ لڑکے کا نام بھی عالم بالا سے تجویز ہوتا ہے۔ اسمہ یحی (91 : 8) ” جس کا نام یحییٰ ہوگا۔ ‘ اور پھر یہ کہ اس سے قبل یہ نام کسی فرد بشر کا نہیں رکھا گیا۔ لم نجعل لہ من قبل سمیاً (91 : 8) ” اس نام کا کوئی آدمی اس سے پہلے پیدا نہیں کیا۔
یہ اللہ کے کرم کا فیض اور بارش ہے ، اسے اللہ اپنے اس بندے پر…
Read the full tafseer →8 یعنی دعاء قبول ہوئی اور لڑکے کی بشارت پہنچی۔ جس کا نام (یحییٰ ) قبل از ولادت حق تعالیٰ نے تجویز فرما دیا۔ نام بھی ایسا انوکھا جو ان سے پہلے کسی کا نہ رکھا گیا تھا۔ بعض سلف نے یہاں " سمی " کے معنی " شبیہ " کے لیے ہیں۔ یعنی اس شان و صفت کا کوئی شخص ان سے پہلے نہیں ہوا تھا۔ شاید یہ مطلب ہو کہ بوڑھے مرد اور بانجھ عورت سے کوئی ایسا لڑکا اس وقت تک پیدا نہیں کیا گیا تھا۔ یا بعض خاص احوال وصفات (مثلاً رقت قلب اور غلبہ بکا وغیرہ) میں ان کی مثال پہلے نہ گزری ہوگی۔ واللہ اعلم۔
Read the full tafseer →آیت 7 یٰزَکَرِیَّآ اِنَّا نُبَشِّرُکَ بِغُلٰمِ نِ اسْمُہٗ یَحْیٰیلا لَمْ نَجْعَلْ لَّہٗ مِنْ قَبْلُ سَمِیًّا
اس کا دوسرا مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہم نے اس سے پہلے اس کا کوئی نظیر نہیں بنایا ‘ یعنی اس جیسی صفات کسی میں پیدا نہیں کیں۔
Read the full tafseer →9 یحییٰ اللہ کا اپنا تجویز کردہ نام :۔ اللہ تعالیٰ نے دعا قبول کرکے بیٹے کی بشارت دی تو ساتھ ہی نام بھی خود ہی تجویز فرما دیا اور نام بھی ایسا انوکھا کہ پہلے کسی آدمی کا یہ نام نہیں رکھا گیا تھا۔ یحییٰ : دعائیہ نام ہے یعنی اللہ کرے تادیر زندہ رہے۔ جیسے ہمارے ہاں جیونا یا جیونی نام رکھتے ہیں اور عرب میں عائش اور عائشہ، نیز اسم بمعنی صفت بھی ہوسکتا ہے جیسے وللّٰہ الاسماء الحسنیٰ کے معنی اللہ کے بہترین نام بھی ہوسکتے ہیں اور بہترین صفات بھی، اس لحاظ سے اس کا معنی یہ ہوگا کہ ایسی اچھی سیرت والاآدمی پہلے کوئی نہیں ہوا۔
Read the full tafseer →7۔ (اپنی نظر میں) یعنی وہ لڑکا علوم کا حامل بھی ہو اور ان پر عامل بھی۔ اے مرضیاعندک قولا وفعلا (روح) بعض عارفوں نے یہاں سے یہ نکتے پیدا کیے ہیں کہ طلب اولاد مستحب ہے اور اولاد کے حق میں دعائے خیروصلاح سنت انبیاء ہے۔
8۔ (تمہاری ذات برادری میں) یہ جواب ہے جو حق تعالیٰ کی طرف سے حضرت زکریا کو فرشتوں کے واسطہ سے ملا، انجیل میں حضرت یحی (علیہ السلام) کی ولادت اور نام رکھے جانے کا ذکر ذرا تفصیل سے ہے :۔” اور ایشیع کے جننے کا وقت آپہنچا اور وہ بیٹا جنی اور اس کے پڑوسیوں اور رشتہ داروں نے یہ سن کر خدواند نے اس پر بڑی رحمت کی، اس کے ساتھ خوشی منائی اور آٹھویں دن ایسا ہوا کہ وہ لڑکے کا ختنہ کرنے آئے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–15
آیت نمبر 7 تا 15
ترجمہ : اے زکریا ہم تجھے ایک فرزند کی خوشخبری دیتے ہیں جو تیری درخواست کے مطابق وارث ہوگا اس کا نام یحییٰ ہوگا اس کا ہمنام پہلے ہم نے کسی کو نہیں کیا یعنی یحییٰ کا ہم نام تو زکریا (علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے پروردگار میرے لڑکا کس طرح ہوگا حالانکہ میری بیوی بانجھ ہے اور میں بڑھاپے کی انتہائی درجہ کو پہنچ گیا ہوں عِیِّیًّا عَتَا سے ماخوذ ہے بمعنی یَبِسَ یعنی عمر کے آخری مرحلہ میں پہنچ چکا ہوں جو ایک بیس سال ہے اور میری بیوی 98 سال کی ہوچکی ہے عِتِیٌ اصل عُتُوْوٌ بروزن قُعُوْدٌ تخفیف کے لئے تا کو کسرہ دے دیا اور اول واو کو کسرہ کی مناسبت سے ی سے بدل دیا اور پھر دوسرے واو کو…
Read the full tafseer →یزکریا ان نبشرک بغلم اسمہ یحییٰ لم نجعل لہ من قبل سمیا۔ (اللہ نے فرمایا)
اے زکریا ہم تجھے ایک لڑکا (ہونے کی) بشارت دیتے ہیں جس کا نام (ہماری طرف سے) یحییٰ ہوگا ہم نے اس سے پہلے کوئی اس کا ہم نام (یا نظیر اور مثل نہیں بنایا ‘ یعنی تیری دعا کے موافق تیرا وارث ایک لڑکا ہوگا جس کا نام (بطور عزت افزائی) ہم نے یحییٰ رکھا ہے ‘ قتادہ اور کلبی نے سمیاً کا ترجمہ ہم نام کیا ہے اور صراحت کی ہے کہ حضرت یحییٰ سے پہلے کسی کا نام یحییٰ نہیں رکھا گیا ‘ آیت میں اس امر پر دلالت ہے کہ نادر نام رکھنے میں مسمیٰ کی عظمت کا اظہار ہوتا ہے ‘ سعید بن جبیر اور عطا نے سمیاً کا ترجمہ شبیہ اور مثل کیا ہے جس طرح آیت ہَلْ…
Read the full tafseer →(7) چناچہ اللہ کی طرف سے جبریل ؑ نے ان سے فرمایا اے زکریا ؑ ہم تمہیں ایک فرزند کی بشارت دیتے ہیں جن کا نام یحییٰ ہے کہ ان کی وجہ سے ان کی والدہ کا رحم زندہ ہوا اور ہم نے زکریا ؑ کو یحییٰ ؑ سے پہلے کوئی اولاد نہیں دی تھی یا کہ یحییٰ ؑ سے پہلے یحییٰ ؑ نام کا اور کوئی نہیں تھا۔
Read the full tafseer →يٰزَكَرِيَّآ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمِۨ اسْمُهٗ يَحْــيٰى۔۔ : یہ بشارت دوران نماز ہی فرشتوں کے ذریعے سے مل گئی تھی۔ دیکھیے سورة آل عمران (39) اس میں یحییٰ ؑ کی فضیلت دو پہلوؤں سے بیان کی گئی ہے، ایک یہ کہ ان کا نام اللہ تعالیٰ نے خود رکھا، دوسرے یہ کہ ان کا نام ایسا رکھا جو اس سے پہلے کسی کا نہیں تھا۔ عربی زبان میں ”يَحْــيٰى“ کا معنی ”زندہ رہے“ ہے۔
3 اس سے معلوم ہوا کہ پیدائش سے پہلے بھی بچے کا نام رکھا جاسکتا ہے، ساتویں دن نام رکھنے کا حکم آخری حد ہے۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یزکریآ اس کلام میں حذف ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور پھر فرمایا : یزکریا انانبشرک بغلم اسمہ یحییٰ یہ بشارت (1) تین چیزوں کو اپنے ضمن میں لیے ہوئے ہے۔ (1) ایک دعا کی قبولیت اور یہ ایک کرامت و عزت ہے۔ (2) اسے بچا عطا کرنا اور وہ قوۃ ہے۔ (3) اس نام کے ساتھ ان کا منفرد ہونا۔ سورة آل عمران میں یحییٰ نام رکھنے کا معنی گزر چکا ہے۔ مقاتل نے کہا : ان کا نام یحییٰ رکھا کیونکہ وہ بوڑھے باپ اور بوڑھی ماں کے درمیان زندہ ہوئے۔ اس میں نظر ہے کیونکہ پہلے گزر چکا ہے کہ ان کی بیوی بانجھ تھی بچے جنم نہیں دیتی تھی۔ واللہ اعلم۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لم نجعل لہ من…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
1:۔ فریابی، سعید بن منصور، ابن ابی شیبہ، عبدابن حمید ابن، جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ حاکم اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں (حاکم نے صحیح بھی کہا) نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” کھیعص “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد ہے کبیہ ھاد، امین، عزیز اور صادق اور دوسرے لفظ میں یوں ہے کہ کاف کبیر کے بدلہ میں ہے۔
2:۔ عبدالرزاق آدم ابن ابی ایاس عثمان بن سعید دارمی نے توحید میں ابن جریر ابن منذر ابن ابی حاتم ابن مردویہ حاکم اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں (حاکم نے صحیح بھی کہا) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” کھیعص “ میں کاف کریم میں سے ہے ھاھاد میں سے ہے یاء حکیم میں سے ہے عین علیم میں سے…
Read the full tafseer →[يٰزَكَرِيَّآ : اے زکریا (علیہ السلام) ] [انا : بیشک ] [نُبَشِّرُكَ : ہم بشارت دیتے ہیں آپ (علیہ السلام) کو ] [بِغُلٰمِۨ: ایک ایسے لڑکے کی ] [اسْمُهٗ : جس کا نام ] [يَحْــيٰى: یحییٰ ہے ] [لَمْ نَجْعَلْ : ہم نے نہیں بنایا ] [لَهٗ : اس کے لئے ] [مِنْ قَبْلُ : اس سے پہلے ] [سَمِيًّا : کوئی ہم نام ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
بیٹے کے لیے زکریا (علیہ السلام) کی دعا اور یحییٰ (علیہ السلام) کی ولادت
حضرت زکریا (علیہ السلام) انبیاء بنی اسرائیل میں سے تھے جب ان کی عمر خوب زیادہ ہوگئی بال اچھی طرح سفید ہوگئے تو یہ خیال ہوا کہ میرے دنیا سے چلے جانے کے بعد اللہ تعالیٰ کی کتاب توریت شریف اور دینی علوم و اعمال کو کون سنبھالے گا اور ان کی تبلیغ و ترویج میں کون لگے گا خاندان میں جو لوگ تھے ان سے اندیشہ تھا کہ دین کو ضائع کردیں، چونکہ اب تک ان کے ہاں کوئی ایسا لڑکا نہ تھا جو آپ کے علوم اور حکمت اور اعمال دینیہ کا وارث ہوتا لہٰذا انھوں نے اللہ جل شانہ کی بارگاہ میں خفیہ طور سے دعا کی (جیسا کہ دعا کا ادب ہے) کہ اے میرے رب میری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
قصہء اول حضرت زکریا و حضرت یحییٰ (علیہما السلام)
قال اللہ تعالیٰٰ ۔ کٓھٰیٰعٓصٓ، ذکر رحمت ربک عبدہ زکریا۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ ویوم یبعث حیا۔
(ربط) حضرت زکریا (علیہ السلام) انبیاء بنی اسرائیل میں سے ہیں۔ صحیح بخاری میں ہے کہ وہ نجار (یعنی بڑھئی) کا پیشہ کرتے تھے اور اپنے ہاتھ کی محنت سے کما کر کھاتے تھے۔ ان کے کوئی فرزند نہ تھا اور اعزاء اوراقرباء کی طرف سے یہ کھٹکا تھا کہ میرے بعد دین حق میں تغیر و تبدل کر ڈالیں گے۔ جیسا کہ بنی اسرائیل میں ہوتا رہا۔ اس لیے انہوں نے پچھلی رات میں نہایت عجز وزاری کے ساتھ ایک فرزند کی دعا مانگی کہ جو میرے بعد تیرے دین کی حفاظت کرسکے اور دعا کا آغاز اپنے ضعف اور ناتوانی سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
6:۔ موالی سے ان کی عصبات اور بنو العم مراد ہیں۔ یہ لوگ بےدین تھے اس لیے حضرت زکریا (علیہ السلام) نے نیک فرزند کے لیے دعا کی تاکہ وہ ان کے بعد دعوت دین کے کام کو جاری رکھے۔ انما کان موالیہ مھملین للدین فخاف بموتہ ان یضیع الدین فطلب ولیا یقوم بالدین بعدہ (قرطبی ج 11 ص 78) ۔ ” یرثنی و یرث من ال یعقوب الخ “ یہاں وراثت سے وراثت علم نبوت مراد ہے نہ کہ وراثت مال کیونکہ حضرات انبیاء (علیہم السلام) کے ترکہ میں وراثت جاری نہیں ہوتی۔ ان کا ترکہ قومی ملکیت ہوتا ہے۔ ای یرثنی من حیث العلم والدین والنبوۃ فان الانبیاء علیہم الصلوۃ والسلام لا یورثون المال قال ﷺ نحن معاشر الانبیاء لا نورث ماتکرناہ صدقۃ (ابو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں حضرت زکریا (علیہ السلام) کی دعا کا ذکر ہوچکا ہے ، ان کی قوم اور خاندان کے لوگ ناپسندیدہ اخلاق کے حامل تھے ، ان کی حالت کو دیکھتے ہوئے حضرت زکریا (علیہ السلام) کو سخت تشویش تھی کہ ان کے بعد دین کی خدمت اور احکام الہی کی تبلیغ کا کام کون انجام دے گا ، چناچہ انہوں نے بڑھاپے کی عمر میں اللہ رب العزت کے سامنے اولاد کے لیے درخواست پیش کی عرض کی پروردگار ! مجھے ایسا پسندیدہ بیٹا عطا فرما جو میرے بعد میرا جانشین ہو اور پورے خاندان یعقوب کا بھی وارث ہو ، آپ کا مطلب یہ تھا کہ ایسا بیٹا عطا فرما جو میری علمی نیابت کا فریضہ انجام دے سکے ۔
سورة آل عمران میں اللہ تعالیٰ نے حضرت…
Read the full tafseer →يٰزَكَرِيَّآ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمِۨ اسْمُہٗ يَحْــيٰى 0ۙ لَمْ نَجْعَلْ لَّہٗ مِنْ قَبْلُ سَمِيًّا 7
بشر
واستبشر :
إذا وجد ما يبشّره من الفرح، قال تعالی: وَيَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا بِهِمْ مِنْ خَلْفِهِمْ [ آل عمران/ 170] ، يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ [ آل عمران/ 171] ، وقال تعالی: وَجاءَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ يَسْتَبْشِرُونَ [ الحجر/ 67] . ويقال للخبر السارّ : البِشارة والبُشْرَى، قال تعالی: هُمُ الْبُشْرى فِي الْحَياةِ الدُّنْيا وَفِي الْآخِرَةِ [يونس/ 64] ، وقال تعالی: لا بُشْرى يَوْمَئِذٍ لِلْمُجْرِمِينَ [ الفرقان/ 22] ، وَلَمَّا جاءَتْ رُسُلُنا…
Read the full tafseer →3 ؎ بنی اسرائیل میں اس نام کا ان سے پہلے کوئی نہیں گزرا بعض مفسرین کہتے ہیں سمی بمعنی مثل ہے یعنی اس صفت کا کوئی نہیں گزرا گو ان سے پہلے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) وغیرہ بنی اسرائیل میں بڑے بلند مرتبہ رسول ہو گزرے ہیں مگر ان میں ایک وصف خاص تھا اور ہر گلے رارانگ و بوے دیگر است۔ یعنی بڑا لائق فرزند عطا کریں گے۔ 12 منہ
بڑھاپے میں انسان کی وہ حالت نہیں رہتی جو جوانی میں ہوتی ہے قد بھی کبڑا ہوجاتا ہے، ہاتھ پائوں بھی سکڑ جاتے ہیں۔ 12 منہ
Read the full tafseer →یٰرَکَرِیَّـآ اِنَّا نُبَشِّرُکَ بِغُلٰمِ نِ اسْمُہٗ یَحْیٰی لا لَمْ نَجْعَلْ لَّـہٗ مِنْ قَبْلُ سَمِیًّا۔ (مریم : 7)
(اے زکریا ! ہم تمہیں ایک فرزند کی بشارت دیتے ہیں جس کا نام یحییٰ ہوگا، ہم نے اس سے پہلے کوئی اس کا ہم نام نہیں بنایا۔ )
سَمِیٌ کا معنی
سَمِیٌ کا معنی ہے، ہم نام۔ یہ اس کا متداول معنی ہے، لیکن کبھی نظیر اور مثال کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ پہلی صورت میں مفہوم یہ ہوگا کہ ہم آپ ( علیہ السلام) کو جو بیٹا دے رہے ہیں اور اس کا نام بھی تجویز کررہے ہیں۔ اس نام کا لڑکا اس سے پہلے ہم نے کسی کو عطا نہیں کیا یعنی یہ ایک ایسا نادر نام ہے یا پہلا نام ہے جو کسی بچے کا رکھا جارہا ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت زکریا (علیہ السلام) کی دعا قبول ہوئی اور انھیں فی الفور یحییٰ (علیہ السلام) کی خوشخبری دی گئی، حضرت زکریا کا نشانی طلب کرنا۔
سورۃ آل عمران میں ذکر ہے کہ حضرت زکریا (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کے ذریعہ یحییٰ (علیہ السلام) کی خوشخبری سنائی گئی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اولاد دینے والا نہیں اور زکریا (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی ملائکہ نے یحییٰ (علیہ السلام) کی خوشخبری دی تھی۔ اس لیے یہاں اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ ہم نے زکریا (علیہ السلام) کو بیٹے کی خوشخبری دی اور اس کا نام یحییٰ رکھا۔ اس سے پہلے اس نام کا کوئی شخص نہیں ہوا۔
جب…
Read the full tafseer →ایک بےمثال لڑکا :
7: یٰذَکَرِیَّـآ اِنَّا نُبَشِّرُکَ بِغُلٰمِ اڑسْمُہٗ یَحْیٰی (اے زکریّا ہم آپ کو ایک لڑکے کی بشارت دیتے ہیں جس کا نام یحییٰ ہوگا) اللہ تعالیٰ نے بطور تشریف کے نام خود تجویز فرمایا۔
قراءت ـ: نَبشُرک کو حمزہ نے تخفیف سے پڑھا ہے۔
لَمْ نَجْعَلْ لَّہٗ مِنْ قَبْلُ سَمِیًّا (ہم نے اس سے پہلے اس کا کوئی ہم نام نہیں بنایا) اس سے پہلے یحییٰ کسی کا نام نہ تھا۔ اور یہ دلیل ہے کہ یہ موضع حال میں ترجیح کے قابل ہے۔ نمبر 2۔ مثال اور تشبیہ مراد ہے اور ان کی مثال اس لئے نہ تھی کیونکہ انہوں نے کبھی نہ کوئی نافرمانی کی اور نہ ہی اس کا ارادہ کیا اور وہ بوڑھے باپ اور بوڑھی ماں کے اکلوتے تھے۔ اور…
Read the full tafseer →تفسیر۔
7۔ ی زکریا انانبشرک ، ، اس میں اختصار ہے ۔ اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ نے ان کی دعا کو سن لیا اور فرمایا اے زکریا (علیہ السلام ) ہم آپ کو اس غلام کی خوش خبری دیتے ہیں۔ ، بغلم، اس سے مراد لڑکا ہے۔ ،، اسمہ یحیٰ لم نجعل لہ من قبل سمیا، قتادہ اور کلبی کا بیان ہے کہ اس کا معنی ہم نام ہے اور صراحت کی ہے کہ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) سے پہلے کسی کا نام یحییٰ نہیں رکھا۔ سعید بن جبیر (رح) تعالیٰ اور عطاء کا قول ہے کہ اس سے شبیہ اور مثل مراد ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ ھل تعلم لہ سمیا، اس کی مثال اور اس کی شبیہ کو جانتے ہو۔ معنی اس کا یہ ہے کہ اس کا کوئی مثل نہیں اس کا کوئی مثل نہیں کیونکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
7۔ 11۔ اتنی عبارت یہاں گویا اور ہے کہ حضرت زکریا (علیہ السلام) کی دعا قبول ہوئی اور حکم ہوا کہ ہم تم کو لڑکے ہونے کی خوشی سناتے ہیں جس کا نام یحییٰ ہے اب آگے حضرت زکریا (علیہ السلام) کے تعجب کا بیان ہے کہ جب ان کی دعا قبول ہوئی اور لڑکے ہونے کی ان کو خبر سنائی گئی تو اس سے وہ بہت خوش ہوئے اور لڑکے کے ہونے کی کیفیت کا سوال کیا یہ تعجب زکریا ( علیہ السلام) کو اس سبب سے ہوا کہ بیوی بانجھ اور بوڑھی تھی اور آپ بھی اس قدر بوڑھے ہوگئے کہ ہاتھ پیر اکڑ گئے تھے کیونکہ اب تو بوڑھے باپ اور بانجھ ماں موجود ہیں اس صاحب قدرت نے تو انسان کو ایسی حالت میں پیدا کیا کہ جب انسان کچھ بھی نہیں تھا ترمذی ابوداؤد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
آیت 7
یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو فرشتوں کے توسط سے ” یحییٰ “ (علیہ السلام) کی خوشخبری سنائی اور اللہ تعالیٰ نے اس (بیٹے) کو ” یحییٰ “ کے نام سے موسوم کیا۔ اسم اپنے مسمی کے عین موافق تھا، چناچہ یحییٰ (علیہ السلام) نے حسی زندگی بسر کی جس سے اللہ تعالیٰ کی عنایت کی تکمیل ہوئی اور آپ نے معنوی زندگی بھی بسر کی، وہ ہے وحی، علم اور دین کے ذریعے سے قلب و روح کی زندگی۔ (لم نجعل لہ من قبل سمیا) ” نہیں کیا ہم نے پہلے اس نام کا کوئی “ یعنی اس سے پہلے کسی کا یہ نام نہیں رکھا گیا اور یہ احتمال بھی ہے کہ اس کے معنی یہ ہوں حضرت یحییٰ (علیہ السلام) سے پہلے آپ جی اس کوئی نہیں بنایا، تب یہ ان کی کاملیت اور اوصاف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–10
قول باری ہے وانی خفت الموالی من ورائی مجھے اپنے پیھچے اپنے بھائی بندوں کی برائیوں کا خوف ہے ) مجاہد، قتادہ، ابو صالح اور سدی سے مروی ہے کہ الموالی عصبہ کو کہتے ہیں جو حضرت زکریا (علیہ السلام) کے بنو اعمام تھے۔ آپ کو دین کے بارے میں ان کی برائیوں کا خوف تھا اس لئے کہ وہ بنی اسرائیل کے بدترین لوگ تھے۔
نبوت کی میراث
قول باری ہے (فھب لی من لدنک ولیا یرثنی ویرث من آل یعقوب ۔ تو مجھے اپنے فضل خاص سے ایک ورث عطا کر دے جو میرا وارث بھی ہو اور آل یعقوب کی میراث بھی پائے) آپ نے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی کہ ایک بیٹا عطا ہوجائے جو میری موت کے بعد دین کے امور کی نگہداشت کرے اور اس پر عمل پیرا رہے۔ کیونکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
8 حضرت زکریا کو عظیم الشان بیٹے کی خوشخبری : سو حضرت زکریا کو بیٹے کی خوشخبری سنا دی گئی تو آپ نے عرض کیا کہ " مالک میرے یہاں کوئی بچہ کس طرح ہوگا جبکہ میری بیوی بانجھ ہے اور میں بڑھاپے کی انتہاء کو پہنچ چکا ہوں "۔ جو بچہ ہونے کی حد سے بہت آگے ہے۔ سو اس طرح بظاہر بچہ ہونے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ تو ایسے میں بچہ اگر ہوگا تو کس طرح ہوگا ؟ اور اس کی کیا شکل ہوگی ؟ مجھے واپس جوانی کی عمر میں لوٹا دیا جائے گا اور میری بیوی کو " عقیم " کی جگہ " ولود " بنادیا جائے گا یا ایساکس طرح ہوگا ؟ سو اس سے ایک طرف تو اس بشارت کیلئے مزید وثوق حاصل کرنا تھا کہ یہ بشارت عام حالات کے بالکل خلاف تھی۔ اور دوسرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
بیٹے کی خوشخبری
تشریح : یہ سب کچھ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک ہے۔ جیسا کہ اوپر آیات میں اللہ تعالیٰ اور سیدنا زکریا (علیہ السلام) کی گفتگو سے ظاہر ہے۔ سیدنا زکریا (علیہ السلام) اللہ کے مقبول ترین بندوں میں سے تھے جیسا کہ آیات میں کہا جا رہا ہے۔ کہ آپ تین رات زبان سے کلام نہ کرسکیں گے۔ کیونکہ آپ ہر روز لوگوں کو وعظ و نصیحت کرتے تھے۔ جب باہر آئے تو وعظ کے لیے زبان نے کام نہ کیا تو سمجھ گئے کہ اللہ نے ان کی دعا پوری کردی ہے۔ لہٰذا تین دن تک اشاروں سے وعظ کرتے رہے کہ اللہ کا شکر اور ذکر ہر وقت کرتے رہنا چاہیے ہر وقت سبحان اللہ کا ورد زبان پر ہونا چاہیے۔ بہرحال سیدنا زکریا (علیہ السلام) کی مراد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
سورة مریم :
(رکوع نمبر 1)
اسرارومعارف
سورة مریم بھی مکی سورتوں میں سے ہے اور سورة کہف کی طرح اس میں بھی بہت سے واقعات عجیبہ کا تذکرہ ہے ، پہلی گزرنے والی سورة یعنی سورة کہف کی طرح اس میں بھی بہت سے واقعات کا ذکر تھا جو علمائے یہود نے مشرکین مکہ کو پوچھنے کے لیے کہا تھا اور یہ بھی کہا تھا کہ ان واقعات کو صحیح طور پر صرف اللہ جل جلالہ کا نبی ہی بیان کرسکتا ہے اللہ کریم نے وہ واقعات ارشاد فرما کر اپنے رسول فداہ ابی وامی کو مزید واقعات غریبہ سے مطلع فرمایا جن کے بارے کفار ومشرکین سوال بھی نہ کر پائے تھے کہ وہ اتنا بھی علم نہ رکھتے تھے ۔
(حروف مقطعات)
کھیعص : حروف مقطعات کی بات پہلے گزر چکی کہ…
Read the full tafseer →ف 5 اس میں حضرت یحییٰ کی فضیلت دو پہلوئوں سے بیان کی گی ہے۔ ایک یہ کہ ان کا نام اللہ تعالیٰ نے خود رکھا اور دوسرے یہ کہ ان کا نام ایسا رکھا جو ان سے پہلے کسی نبی کا نہیں تھا۔
Read the full tafseer →(19:7) سمیا۔ ہم نام شریکا لہ فی الاسم جو نام میں اس کا شریک ہو آیت کے شروع میں فاجاب اللہ دعاء ہ وقالمقدر ہے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 10
ذکر یاد، تذکرہ۔ وھن کمزوری، بیماری، خرابی۔ العضم ہڈی، ہڈیاں، اشتعل پھیل گیا، یا بھڑک اٹھا۔ شیب سفید بال، بڑھاپا۔ شقی محروم، نامراد۔ الموالی رشتہ دار۔ عاقر بانجھ (اولاد سے مایوس) ۔ سمی نام ، رکھنا۔ عتی انتہائی بڑھاپا۔ ھین آسان، سہل۔ سوی ٹھیک ہونا۔ برابر ہونا۔
تشریح : آیت نمبر 1 تا 10
اللہ تعالیٰ نے سورة مریم کا آغاز حروف مقطعات سے کیا ہے جن کے معنی کا علم اللہ کو ہے۔ پھر حضرت زکریا اور حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کے تذکرہ سے کیا ہے۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) تمام قوم بنی اسرائیل کے پیشوا، رہنما اور بیت المقدس کے متولی اور نگران تھے۔ حضرت زکریا حضرت مریم کے سگے خالو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جب حضرت زکریا (علیہ السلام) نے بیٹے کی درخواست کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی درخواست منظور کی اور ان سے کہا کہ اے زکریا (علیہ السلام) ! ہم تجھے بیٹا ہونے کی خوشی سناتے ہیں، اور اس کا نام یحییٰ ہوگا۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) نے عرض کی کہ اے پروردگار ! میرے لڑکا کہاں سے ہوگا، میری بیوی بانجھ ہے، اور میں بھی بہت بڈھا ہوگیا ہوں پھر مزید اطمینان کے لئے فرشتہ نے کہا :" بیشک حالت تو ایسی ہی ہے، مگر تمہارا پروردگار یوں فرماتا ہے کہ یہ ہمارے نزدیک آسان بات ہے، یعنی ہم نے اسباب بھی پیدا کرسکتے ہیں۔ اور جب وہ چاہتا ہے سبب اور مسبب دونوں کو دم بھر میں پیدا کردیتا ہے "۔ پھر زکریا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
[3] یعنی اولاد یعقوب کی بھلائیاں بھی میراث میں پائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
(ف 2) اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں ، دعا قبول ہے ، تیرے لڑکا ہوگا اس کا نام یحیٰ رکھنا ، بڑا سعادت مند اور نام اور بچہ ہوگا ، زکریا ان کو حیران ہوجاتے ہیں ، فرط حیرت سے پوچھتے ہیں ، کیا ان قدرتی موانع کے باوجود بھی مجھے اولاد عطا کی جائے گی ؟ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ، ہاں میرے لئے یہ کوئی مشکل بات نہیں ، ایسا ہی ہوگا ، ۔
غور فرمائیے کیا واقعی اس کی صفات لا محدود نہیں ، اب تک یہ سمجھا جاتا تھا ، کہ اولاد کے لئے ایک وقت مقرر ہے ، جب انسان اس وقت معین سے تجاوز کر جائے ، تو اولاد سے مایوس ہوجاتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کی گوناگون حکمتوں نے ثابت کردیا ، کہ اس کے اندازہ ہائے بخشش تمہارے احاطہ علم میں…
Read the full tafseer →-7 جواب دیا گیا اے زکریا ہم تجھ کو ایک ایسے لڑکے کی خوشخبری اور بشارت دیتے ہیں جس کا نام یحییٰ ہوگا اس سے پہلے ہم نے کسی کو اس ہمنام نہیں بنایا اور ہمنام نہیں پیدا کیا۔ یعنی دعا قبول ہونے کی بشارت دی گئی اور اس کے پیدا ہونے سے پہلے کوئی اس کا ہمنام یا ہم صفت نہیں کیا یا خاص اوصاف میں وہ یگانہ ہوگا اس سے پہلے کوئی اور ان اوصاف خاصہ سے متصف نہ ہوا ہوگا۔ حضرت یحییٰ کی ولادت سے قبل ان کا نام بھی تجویز کردیا گیا۔
Read the full tafseer →ف 5۔ یعنی جس علم و عمل کی تم دعا کرتے ہو وہ تو اس فرزند کو ضرور ہی عطا کریں گے، اور مزید برآں کچھ اوصاف خاصہ بھی عنایت کئے جاویں گے۔
Read the full tafseer →زکریا (علیہ السلام) کو قبولیت دعا کا مژدہ جاں فزا سنایا گیا :
7۔ جیسا کہ پیچھے گزر چکا کہ زکریا (علیہ السلام) اپنے خاندان میں ہیکل کی رسوم ادا کرنے کے لئے کاہن مقرر تھے اور ہر خاندان کے آدمی کی باری مقرر تھی ، ایک مرتبہ جب سیدنا زکریا (علیہ السلام) کی باری آئی اور وہ قربان گاہ میں خوشبو جلانے کے لئے داخل ہوئے تو رب ذوالجلال والاکرام کا فرشتہ ان کو نظرآیا اس نے کہا اے زکریا ! تیری دعا بارگاہ رب العزت میں قبول ہوگئی ” تیری بیوی بیٹا جنے گی تو اس کا نام یوحنا رکھنا “ (الوقا 1 : 8) زکریا (علیہ السلام) نے جب یہ مژدہ سنا تو خوشی کی انتہا نہ رہی رب کریم کی طرف سے اس بشارت کے ساتھ ہی مبشر بیٹے کا نام…
Read the full tafseer →لم نجعَل لَّہ مِن قَبلُ سَمِیاً
"We did not create any one before him of the same name." - 19:7.
The word سَمِی means "person having the same name." It also means "similar." If the first meaning is adopted here then it would suggest that no one else had the name Yahya before him. This fact also suggests that he possessed certain special attributes which were not granted to anyone else before him. And if we take the second meaning of the word سَمِی then it will mean that some of his attributes and situations were such that they were peculiar to him and were not shared by any other prophet,…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
5. In Luke the words are: There is none of thy kindred that is called by this name. (1: 61).
Read the full tafseer →