Maryam 19:52

Maryam · from ayah 52

19:52

وَنَادَیْنٰهُ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ الْاَیْمَنِ وَقَرَّبْنٰهُ نَجِیًّا ۟وَنَادَيۡنٰهُ مِنۡ جَانِبِ الطُّوۡرِ الۡاَيۡمَنِ وَقَرَّبۡنٰهُ نَجِيًّا

اور ہم نے ان کو طور کی داہنی جانب پکارا اور باتیں کرنے کے لئے نزدیک بلایا

— Fateh Muhammad Jalandhari

And We called him from the side of the mount at [his] right and brought him near, confiding [to him].

— Saheeh International

Juz 16 · Ruku 4 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah Maryam

All translations of 19:52

ہم نے اُس کو طُور کے داہنی جانب سے پکارا اور راز کی گفتگو سے اس کو تقرب عطا کیا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ہم نے ان کو طور کی داہنی جانب پکارا اور باتیں کرنے کے لئے نزدیک بلایا

— مولانا فتح محمد جالندہری

ہم نے اسے طور کی دائیں جانب سے ندا کی اور راز گوئی کرتے ہوئے اسے قریب کر لیا

— مولانا محمد جوناگڑہی

ہم نے انہیں کوہ طور کی دائیں جانب سے پکارا اور انہیں اپنا راز دار بنا کر اپنا قرب عطا کیا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اسے ہم نے طور کی داہنی جانب سے ندا فرمائی اور اسے اپنا راز کہنے کو قریب کیا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ہم نے انہیں (کوہِ) طور کی داہنی جانب سے ندا دی اور راز و نیاز کی باتیں کرنے کے لئے ہم نے انہیں قربتِ (خاص) سے نوازا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ہم نے اسے پہاڑ کی دائیں جانب سے آواز دی اور سرگوشی کرتے ہوئے اسے قریب کرلیا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ہم نے انھیں کوہ طور کی داہنی جانب سے پکارا اور راز کی گفتگو کرنے کے لئے اسے قرب عطا کیا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ہم نے اس کو طور کے مبارک کے کنارے سے آواز دی اور راز و سرگوشی کے لیے اس کو قریب کیا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور ہم نے ان کو پکارا طور کی دائیں جانب سے اور ان کو اپنے قرب سے نوازا راز کی باتیں کرنے کے لیے،

— مولانا اسحاق مدنی

اور ہم نے انہیں طور کی داہنی جانب سے آواز دی اوہم نے ان کو مقرب بنایا راز کی گفتگو کے لئے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ہم نے انہیں پکارا طور کی دائیں جانب سے اور انہیں اپنے قریب کیا سرگوشی کے لیے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ہم نے ان کو طور کی داہنی طرف پکارا اور باتیں کرنے کے لیے نزدیک بلایا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

We called out to him from the right side of the Mount, and We drew him near to Us by communing to him in secret,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And We called him from the right side of the mount Tur (Sinai), and We brought him close to communicate in secret.

— Muhammad Taqi Usmani

And We called him from the right side of the mount Tur (Sinai), and We brought him close to communicate in secret.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And We called him from the right side of the Mount (Tur), and made him draw near to Us for a talk with him.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

We called him from the right slope of the Mount, and brought him nigh in communion.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And We called him from the side of the mount at [his] right and brought him near, confiding [to him].

— Saheeh International

We called him from the right side of Mount Sinai and drew him close for communication.

— Muhammad Sarwar

And We called to him from the blessed side of the mountain, and We made him draw nigh, holding communion (with Us).

— Muhammad Habib Shakir

And We cried unto him from the right side of the mount, and We drew him nigh for whispering.

— Abdul Majid Daryabadi

And we called him from the right side of Mount (Sinai), and made him draw near to Us, for mystic (converse).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 19:52

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 51–53

خلوص ابراہیم ؑ۔ اپنے خلیل ؑ کا بیان فرما کر اب اپنے کلیم ؑ کا بیان فرماتا ہے۔ مُخلَصاً کی دوسری قرأت مُخلِصاً بھی ہے۔ یعنی وہ بااخلاص عبات کرنے والے تھے۔ مروی ہے کہ حواریوں نے حضرت عیسیٰ ؑ سے دریافت کیا کہ اے روح اللہ ہمیں بتائیے مخلص شخص کون ہے ؟ آپ نے فرمایا جو محض اللہ کے لئے عمل کرے اسے اس بات کی چاہت نہ ہو کہ لوگ میری تعریفیں کریں۔ دوسری قرأت میں مخلصا ہے یعنی اللہ کے چیدہ اور برگزیدہ بندے حضرت موسیٰ ؑ جیسے فرمان باری ہے (اِنِّى اصْطَفَيْتُكَ عَلَي النَّاسِ بِرِسٰلٰتِيْ وَبِكَلَامِيْ ڮ فَخُذْ مَآ اٰتَيْتُكَ وَكُنْ مِّنَ الشّٰكِرِيْنَ01404) 7۔ الاعراف :144) آپ اللہ کے نبی اور رسول تھے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 52–55

سورة مَرْیَم 31 کوہ طور کے داہنی جانب سے مراد اس کا مشرقی دامن ہے۔ چونکہ حضرت موسیٰ مدین سے مصر جاتے ہوئے اس راستہ سے گزر رہے تھے جو کوہ طور کے جنوب سے جاتا ہے، اور جنوب کی طرف سے اگر کوئی شخص طور کو دیکھے تو اس کے دائیں جانب مشرق اور بائیں جانب مغرب ہوگا، اس لئے حضرت موسیٰ کی نسبت سے طور کے مشرقی دامن کو " داہنی جانب " فرمایا گیا۔ ورنہ ظاہر ہے کہ بجائے خود پہاڑ کا کوئی دایاں یا بایاں رخ نہیں ہوتا۔ سورة مَرْیَم 32 تشریح کے لیئے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اول، النساء حاشیہ 206۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ ، یہ مشہور پہاڑ ملک شام میں مصر اور مدین کے درمیان واقع ہے آج بھی اسی نام سے مشہور ہے حق تعالیٰ نے اس کو بھی بہت سی چیزوں میں ایک خصوصیت و امتیاز دیا ہے۔ الْاَيْمَنِ ، طور کی یہ داہنی جانب حضرت موسیٰ ؑ کے اعتبار سے بتلائی گئی ہے کیونکہ وہ مدین سے چلے تھے جب طور کے بالمقابل پہنچے تو طور ان کی داہنی جانب تھا۔ نَجِيًّا، سرگوشی اور خصوصی کلام کو مناجات اور جس شخص سے ایسا کلام کیا جائے اس کو نجی کہا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَنَادَيْنَاهُ مِنْ جَانِبِ الطُّورِ الأيْمَنِ وَقَرَّبْنَاهُ نَجِيًّا۔ " ایمن " کے معنی داہنے کے بھی ہیں۔ اور مقدس و مبارک کے بھی۔ ہمارے نزدیک یہ یہاں مقدس و مبارک کے معنی میں ہے۔ قرآن کے نظائر سے اسی معنی کی تائید ہوتی ہے۔ آگے سورة طہ میں یہی مضمون یوں بیان ہوا ہے۔ " فلما اتاھا نودی یموسی۔ انی انا ربک فاخلع نعلیک۔ انک بالواد المقدس طوی۔ وانااخترتک فاستمع لما یوح : پس جب وہ اس کے پاس آیات تو اس کو آواز آئی کہ اے موسیٰ یہ تو میں تمہارا رب ہوں تو تم اپنے جوت اتار دو ، تم وادی مقدس طویٰ میں ہو اور میں نے تمہیں منتخب کیا تو سنو جو تمہیں وحی کی جا رہی ہے " (طہ۔ 11۔ 13) اس آیت سے واضح ہے کہ حضرت…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 52–57

57۔ 1 حضرت ادریس علیہ السلام، کہتے ہیں کہ حضرت آدم ؑ کے بعد پہلے نبی تھے اور حضرت نوح ؑ کے یا ان کے والد کے دادا تھے، انہوں نے ہی سب سے پہلے کپڑے سیئے، بلندی مکان سے مراد ؟ بعض مفسرین نے اس کا مفہوم رُفِعَ اِلَی السَّمَآء سمجھا ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کی طرح انھیں بھی آسمان پر اٹھا لیا گیا لیکن قرآن کے الفاظ اس مفہوم کے لئے صاف نہیں ہیں اور کسی صحیح حدیث میں بھی یہ بیان نہیں ہوا۔ البتہ اسرائیلی روایات میں ان کے آسمان پر اٹھائے جانے کا ذکر ملتا ہے جو اس مفہوم کے اثبات کے لئے کافی نہیں۔ اس لئے زیادہ صحیح بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ اس سے مراد مرتبے کی وہ بلندی ہے جو نبوت سے سرفراز کر کے انھیں عطا کی…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 51–53

26: حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) کا مفصل واقعہ اگلی سورت میں آرہا ہے

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 51–53

حضرت موسیٰ ؐ کی صفت اخلاص کا ذکر ہے ‘ اللہ نے ان کو اپنے لئے خالص کرلیا تھا ‘ دعوت اسلامی کے لیے وہ وقف تھے ۔ وہ رسول اور نبی تھے ‘ رسول وہ ہوتا ہے کہ جن کے لئے یہ حکم ہوتا ہے کہ وہ اس دعوت کو دوسروں تک پہنچائیں۔ جبکہ نبی کی ذمہ داری یہ نہیں ہوتی کہ وہ لوگوں تک دعوت پہنچائیں ‘ ان کا منصب یہ ہوتا ہے کہ وہ براہ راست اللہ سے ہدایت اور نظریہ لیتے ہیں۔ بنی اسرائیل میں بہت سے نبی گزرے ہیں ‘ ان کی دعوت یہ تھی کہ وہ حضرت موسیٰ کی دعوت اور دین کو قائم کریں۔ تورات کے مطابق لوگوں کے درمیان فیصلے کریں ‘ جو اللہ کی جانب سے آیا ہوا قانون ہے۔ یحکم بھا النبیون الذین اسلموا للذین ھادوا والربانیون والا حبار…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی موسیٰ (علیہ السلام) جب آگ کی چمک محسوس کر کے " طور " پہاڑ کی اس مبارک و میمون جانب میں پہنچ گئے جو ان کے دائیں ہاتھ مغرب کی طرف واقع تھی۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کو پکارا اور ہم کلامی کا شرف بخشا۔ تفصیل سورة " طہٰ " میں آئے گی۔ کہتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) اس وقت ہر جہت اور ہر بن مو سے خدا کا کلام سن رہے تھے جو بدون توسط فرشتے کے ہو رہا تھا۔ اور روحانی طور پر اس قدر قرب و علو حاصل تھا کہ غیبی قلموں کی آواز سنتے تھے جس سے تورات نقل کی جا رہی تھی۔ وحی کو " بھید " اس لیے فرمایا کہ اس وقت کوئی بشر استماع میں شریک نہ تھا۔ گو بعد میں اوروں کو بھی خبر کردی گئی۔ واللہ اعلم۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 51–52

آیت 51 وَاذْکُرْ فِی الْْکِتٰبِ مُوْسٰٓیز اِنَّہٗ کَانَ مُخْلَصًا وَّکَانَ رَسُوْلًا نَّبِیًّا ” ہم نے انہیں خاص اپنا بنا لیا تھا۔ یہ مضمون سورة طٰہٰ آیت 41 میں بھی آئے گا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

48 سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا طور الایمن جا پہنچنا :۔ جب سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) سیدنا شعیب (علیہ السلام) کے ہاں سے فارغ ہو کر مدین سے مصر کی طرف جارہے تھے تو یہ آواز ان کی دائیں طرف سے ہوئی کیونکہ وہ طور جو بیت المقدس کے پاس ہے مدین سے مصر آنے والوں کی دائیں طرف پڑتا ہے اور وہی طور مراد ہے، سویس کا طور مراد نہیں کیونکہ وہ بائیں طرف پڑتا ہے۔ 49 سیدنا موسیٰ کی اللہ تعالیٰ سے ہم کلامی :۔ قربنٰہ نجیّا۔ کے کئی مفہوم ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ ہم نے اسے راز کی بات کہنے کے لئے اپنے پاس بلا لیا، دوسرا یہ کہ ہم نے راز کی بات کہہ کر اسے اپنا مقرب بنا لیا اور تیسرا یہ کہ ہم نے سیدنا موسیٰ کو آسمانوں پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

79۔ یہ گفتگو راز کی یا سرگوشی کی اس معنی میں تھی کہ اس مکالمت کے وقت اس کے سننے میں کوئی اور شریک نہ تھا۔ (آیت) ” الطور “۔ طور پر حاشیہ سورة بقرہ پارہ اول میں گزر چکا۔ (آیت) ” من جانب الطور الایمن “۔ داہنے جانب سے مراد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی داہنی جانب ہے۔ والمراد بہ یمین موسیٰ (علیہ السلام) (روح)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 51–59

آیت نمبر 51 تا 59 ترجمہ : کتاب میں مذکور موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر کیجئے وہ بلاشبہ بڑے مخلص منتخب بندے تھے کسرہ لام اور فتحہ لام کے ساتھ مخلص مَنْ اَخْلَصَ فِی عِبَادَتِہٖ کو کہتے ہیں اور مخلص مَن اَخْلَصَہٗ اللہ مِنَ الدنَس کو کہتے ہیں (یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو ہر قسم کی آلائشوں سے پاک کردیا) اور وہ نبی مرسل تھے اور ہم نے موسیٰ کو کوہ طور کی داہنی جانب سے یا موسیٰ اِنّی اَنَا اللہ کہہ کر پکارا طور ایک پہاڑ کا نام ہے یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کی اس جانب سے (پکارا) جو مدین سے آتے ہوئے داہنی جانب پڑتی ہے اور ہم نے اس کو رازدارانہ گفتگو کے لئے اپنا مقرب بنایا، اس طریقہ پر کہ اللہ تعالیٰ نے اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ونادینہ من جانب الطور الایمن اور ہم نے ان کو طور کے دائیں جانب سے پکارا۔ مصر اور مدین کے درمیان ایک پہاڑ تھا جس کو طور کہا جاتا تھا ‘ بعض علماء نے اس کا نام زبیر بتایا ہے حضرت موسیٰ مدین سے آ رہے تھے مصر کی طرف جانے کا ارادہ تھا ‘ آپ کے دائیں جانب کوہ طور واقع تھا ‘ دور سے آپ نے آگ روشن دیکھی اور ندا آئی یَمُوْسٰی اِنِّیْ اَنَا اللّٰہُ رَبُّ الْعٰلِمِیْنَپہاڑ کا تو کوئی دایاں بایاں رخ نہیں ہوتا اس لئے موسیٰ کا دایاں جانب مراد ہے یعنی وہ مقام جہاں کوہ طور موسیٰ ( علیہ السلام) کے دائیں جانب تھا۔ یَا اَیْمَنکا معنی ہے یُمْن (برکت) والا یعنی طور کے مبارک جانب سے ہم نے موسیٰ کو پکارا مبارک جانب سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(52) اور ہم نے حضرت موسیٰ ؑ کو کوہ طور کے دائیں جانب سے آواز دی اور ہم نے ان کو مصاحب خاص بنایا یہاں تک کہ قلم کی آواز انہوں نے سنی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَنَادَيْنٰهُ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ۔۔ : طور کا معنی پہاڑ ہے، بعض خاص پہاڑوں کا نام بھی طور ہے، جیسے ایلہ کے قریب صحرائے سینا کے ایک پہاڑ کو طور سینا یا طور سینین کہتے ہیں۔ صاحب قاموس نے چند اور مقامات پر واقع پہاڑوں کا بھی ذکر کیا ہے جنھیں طور کہا جاتا ہے۔ یہ واقعہ موسیٰ ؑ کے مدین سے واپس مصر جاتے ہوئے پیش آیا۔ اس کی تفصیل سورة طٰہٰ (9 تا 36) ، نمل (7 تا 14) اور قصص (29 تا 35) میں موجود ہے۔ ابن کثیر نے سورة قصص کی آیت (30) (نُوْدِيَ مِنْ شَا 8 الْوَادِ الْاَيْمَنِ) کی تفسیر میں فرمایا : ”یعنی وادی کی اس جانب سے جو موسیٰ ؑ کے دائیں طرف پہاڑ کے مغربی کنارے سے ملتی تھی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 51–53

(تفسیر 51-53) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واذکرفی الکتب موسیٰ یعنی قرآن میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ ان پر پڑھو۔ انہ کان مخلصاً اپنی عبادت میں خلوص رکھتا تھا، ریاکار نہ تھا۔ اہل کوفہ نے لام کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے، یعنی ہم نے اسے چن لیا اور چنا ہوا بنا دیا۔ ونادینہ ہم نے جمعہ کی رات اس سے کلام کی۔ من جانب الطور الایمن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مدین سے مصر کی طرف آرہے تھے ؛ یہ طبری وغیرہ نے کہا ہے۔ کیونکہ پہاڑوں کا دایاں، بایاں نہیں ہوتا (1) ۔ وقربنہ نجیا۔ نجیا پر نصب حال کی بناء پر ہے، یعنی ہم نے بغیر وحی کے اس سے کلام کی۔ بعض علماء نے فرمایا : اس کا مطلب ہے ہم نے اسے قدرو منزلت کے اعتبار…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 51–53

1:۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” انہ کان مخلصا “ میں مخلصا کو لام کے فتحہ کے ساتھ پڑھا۔ 2:۔ عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وکان رسولا نبیا “ سے مراد ہے صرف نبی وہی ہوتا ہے جس سے کلام کیا جاتا ہے اور اس پر کلام کا نزول ہوتا ہے اور اسے کسی قوم کی طرف بھیجا جاتا ہے۔ 3:۔ عبدالرزاق، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” جانب الطور الایمن “ یعنی پہاڑ کی دائیں جانب (آیت) ” وقربنہ نجیا “ یعنی ہم نے ان کو یہ قرب عطا کیا ان کے صدق اور سچائی کی وجہ سے۔ 4:۔ عبدبن حمید نے ابوالعالیہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وقربنہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَنَادَيْنٰهُ : اور ہم نے پکارا ان (علیہ السلام) کو ] [مِنْ جانب الطُّوْرِ الْاَيْمَنِ : طور کی داہنی جانب سے ] [وَقَرَّبْنٰهُ : اور ہم نے قربت دی ان (علیہ السلام) کو ] [نَجِيًّا : سرگوشی والا ہوتے ہوئے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

پھر فرمایا (وَقَرَّبْنَاہُ نَجْیًّا) (یعنی ہم نے موسیٰ کو سرگوشی کرنے والا اپنا مقرب بنایا) عربی زبان میں نجی اس کو کہتے ہیں جس کے ساتھ خفیہ طریقہ پر راز دارانہ باتیں کی جائیں چونکہ طور پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ہم کلامی اس طرح سے ہوئی کہ درمیان میں کوئی واسطہ نہ تھا اس لیے (وَقَرَّبْنَاہُ نَجْیًّا) فرمایا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی اس فضیلت کا ذکر سورة نساء میں یوں فرمایا (وَ کَلَّمَ اللّٰہُ مُوْسٰی تَکْلِیْمًا) (اور اللہ نے موسیٰ سے خاص طور سے کلام فرمایا)

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 51–53

قصۂ چہارم حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ و السلام قال اللہ تعالیٰ ۔ واذ کر فی الکتٰب موسٰٓی۔۔۔ الیٰ اخاہ ھٰرون نبیا۔ یہ چوتھا قصہ موسیٰ (علیہ السلام) کا ہے۔ خلیل اللہ کے قصے کے بعد کلیم اللہ کا قصہ ذکر فرماتے ہیں۔ اس قصہ میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی پانچ صفتیں ذکر فرمائیں۔ (1) مخلص یعنی خدا کے منتخب اور برگزیدہ بندے تھے۔ (2) رسول اور نبی تھے۔ (3) ان سے اللہ تعالیٰ نے کلام فرمایا۔ (4) ان کو اپنا مقرب بنایا۔ (5) ان کی فرمائش سے ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو نبی بنایا۔ چناچہ فرماتے ہیں : اور اے نبی ﷺ اس کتاب یعنی قرآن میں موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ پڑھ کر لوگوں کو سنائیے۔ بیشک وہ خدا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 51–52

37:۔ تین انبیاء (علیہم السلام) کا تفصیل سے ذکر کرنے کے بعد تین کا بالاختصار ذکر فرمایا۔ حضرت موسی، حضرت اسمعیل اور حضرت ادریس (علیہم السلام) یعنی یہ تمام ہمارے سامنے عاجزی کر رہے ہیں۔ لہذا جو خود عاجز اور محتاج ہوں وہ دوسروں کے کارساز اور متصرف کیونکر ہوسکتے ہیں۔ ہاں یہ ہمارے برگزیدہ اور مکرم بندے تھے لیکن متصرف نہیں تھے۔ یہودی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو، نصاری حضرت ادریس (علیہ السلام) کو اور مشرکین حضرت اسمعیل (علیہ السلام) کو پکارتے تھے ان آیتوں میں اس کی نفی کی گئی کہ یہ برگزیدہ پیغمبر کارساز نہ تھے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 51–57

ربط آیات : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعہ میں اللہ تعالیٰ نے انکے اور انکے والد کے درمیان مکالمے کا ذکر کیا ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے نہایت نرم طریقے سے اپنے باپ کو توحید کی دعوت دی مگر والد نے بڑی سختی سے ڈانٹ دیا ، اور کہا کہ یہاں سے چلا جا ورنہ تمہیں سنگسار کر دوں گا ، چناچہ آپ اپنے آبائی وطن سے ہجرت کر گئے ، اس دوران میں اللہ تعالیٰ کی مہربانی آپ کے شامل حال ہوئی اللہ آپ کو حضرت اسحاق جیسا بیٹا اور حضرت یعقوب جیسا عظیم المرتب پوتا عطا فرمایا ، یہ دونوں اللہ کے برگزیدہ نبی تھے اور لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا درس دیتے تھے ، کفر وشرک کی تردید کرتے تھے اور لوگوں کو ان سے باز…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَنَادَيْنٰہُ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ الْاَيْمَنِ وَقَرَّبْنٰہُ نَجِيًّا۝ 52 ندا النِّدَاءُ : رفْعُ الصَّوت وظُهُورُهُ ، وقد يقال ذلک للصَّوْت المجرَّد، وإيّاه قَصَدَ بقوله : وَمَثَلُ الَّذِينَ كَفَرُوا كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] أي : لا يعرف إلّا الصَّوْت المجرَّد دون المعنی الذي يقتضيه تركيبُ الکلام . ويقال للمرکَّب الذي يُفْهَم منه المعنی ذلك، قال تعالی: وَإِذْ نادی رَبُّكَ مُوسی[ الشعراء/ 10] وقوله : وَإِذا نادَيْتُمْ إِلَى الصَّلاةِ [ المائدة/ 58] ، أي : دَعَوْتُمْ ، وکذلك : إِذا نُودِيَ لِلصَّلاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ [ الجمعة/ 9]…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 51–63

تفسیر : یہ چوتھا قصہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ہے کہ خدا نے ان کو کوہ طور کی جانب سے پکارا یعنی اننی انا اللہ الخ کے ساتھ موسیٰ کو خطاب کر کے کلام کیا اور اس شرف کے بعد دوسرا شرف یہ بخشا کہ ان کے بھائی ہارون ( علیہ السلام) کو بھی ان کی مدد کے لیے نبی بنایا۔ واذکر فِی الکتاب اسماعیل یہ پانچواں تذکرہ حضرت اسماعیل ذبیح اللہ (علیہ السلام) کا ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بڑے بیٹے تھے چونکہ یہ ایک مستقل رتبہ کے شخص تھے اس لیے ان کو ان کے باپ کے ذیل میں ذکر نہ کیا بلکہ جداگانہ۔ ان کا پہلا وصف یہ ہے کہ کان صادق الوعد وعدے کے بڑے سچے تھے۔ مروی ہے کہ ایک شخص سے وعدہ کیا تھا کہ میں تمہارا فلاں…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 52–53

وَنَادَیْنٰـہٓ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ الْاَیْمَنِ وَقَرَّبْنٰـہُ نَجِیًّا۔ (مریم : 52) (اور ہم نے اس کو طور کے داہنی جانب سے پکارا، اور راز و سرگوشی کے لیے اس کو قریب کیا۔ ) اَ لْاَیْمَنِکا مفہوم اس آیت کریمہ میں الْاَیْمَنِ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اس کا معنی مقدس اور مبارک بھی ہوتا ہے اور داہنے کو بھی کہتے ہیں۔ بعض اہل علم نے پہلا معنی مراد لیا اور بعض نے دوسرا، جبکہ امکان دونوں معنوں کا ہے۔ اگر پہلا معنی مراد لیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مدین سے مصر کو جاتے ہوئے رات کی تاریکی میں راستہ بھول گئے۔ دور سے انھوں نے پہاڑ کے اوپر آگ جلتی دیکھی۔ آپ ( علیہ السلام) نے اپنے بچوں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 51–52

فہم القرآن ربط کلام : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ذکر کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا تذکرہ۔ جس طرح حضرت زکریا (علیہ السلام) ، حضرت مریم [ اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی سیرت طیبہ بیان کرنے کا حکم ہے اسی طرح موسیٰ (علیہ السلام) کی حیات طیبہ بیان کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) صاحب کتاب رسول تھے۔ جنھیں مخلص ہونے کے لقب سے نوازا گیا ہے۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعائیں اس وقت قبول ہوئیں۔ جب وہ بےبس اور ظاہری اسباب سے مایوس ہوچکے تھے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا بھی اس وقت قبول ہوئی جب وہ غریب الوطن اور سفر کی صعوبتوں میں مبتلا تھے۔…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

52: وَنَادَیْنٰـہُ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ (اور ہم نے اس کو طور کے ایک جانب سے آواز دی) یعنی اس کو دعوت دی اور جمعہ کی رات ہم نے اس سے کلام کی۔ الطورؔ یہ مدین اور مصر کے مابین پہاڑ ہے۔ الایمن : دائیں یہ یمین سے ہے یعنی اس کی دائیں جانب سے۔ جمہور کے نزدیک اس سے مراد موسیٰ (علیہ السلام) کی دائیں جانب ہے کیونکہ پہاڑ کا دایاں بایاں ہوتا نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جب وہ مدین سے مصر کی طرف آرہے تھے تو درخت سے آواز دی گئی اور وہ درخت سے پہاڑ کے ایک جانب میں جو موسیٰ (علیہ السلام) کی دائیں طرف تھی۔ وَقَرَّبْنٰہُ (اور ہم نے ان کو قریب کیا) مرتبہ کے اعتبار سے قریب مراد ہے جگہ و مکان کے اعتبار سے نہیں۔ نَجِیًّا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

52۔ ونادیناہ من جانب الطور الایمن۔ وہ حضرت موسیٰ کے دائیں جانب تھا، مصر اور مدین کے درمیان ایک جگہ پہاڑ تھا جس کو طور کہاجاتا ہے بعض علماء نے اس پہاڑ کا نام زبیر کہا ہے۔ حضڑت موسیٰ مدین سے واپس آرہے تھے مصر کی طرف جانے کا ارادہ تھا، دور سے آپ کو روشن آگ دکھائی دی ، اور ندا آئی، یاموسی انی انا اللہ رب العالمین، ،، ، وقربناہ نجیا، ان کے ساتھ مناجات کی ۔ ابن عباس کا قول ہے کہ معنی اس کا یہ ہے کہ اس کو قریب کیا ان کے ساتھ کلام کیا، تقرب کا معنی ہے کہ اس کا کلام انہوں نے سنا اور بعض نے کہا حضرت موسیٰ اتنے مقرب ہوئے کہ قلم سے لکھنے کی آوازیں آئیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 51–53

51۔ 53:۔ تفسیر سدی اور تفسیر ابن جریر وغیرہ میں حضرت موسیٰ کی پیدائش کا قصہ جو ذکر کیا گیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی پیدائش سے پہلے فرعون نے خواب میں دیکھا کہ بیت المقدس کی طرف سے ایک آگ نکلی اور سوا بنی اسرائیل کے محلہ کے تمام مصر کو اس آگ نے جلا دیا فرعون نے اپنا یہ خواب اس وقت کے نجومیوں سے بیان کیا انہوں نے کہا ایک لڑکا بنی اسرائیل میں کا جس کا اصل وطن ملک شام بیت المقدس کی سر زمین ہے پیدا ہونے والا ہے اس کے ہاتھ سے مصر خواب اور برباد ہوگا۔ فرعون نے بنی اسرائیل میں جو لڑکے پیدا ہوتے تھے ان کے مار ڈالنے کا حکم دیا۔ ہزارہا لڑکے بنی اسرائیل کے قتل کیے گئے جب حضرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 41–52

آیت 41 تمام کتابوں میں سب سے زیادہ جلیل القدر، سب سے افضل اور سب سے زیادہ بلند مرتبے والی کتاب، یہ کتاب مبین اور ذکر حکیم یعنی قرآن مجید ہے۔ اگر اس میں خبریں بیان کی گئی ہیں تو یہ خبریں سب سے زیادہ سچی، سب سے زیادہ حق اور سب سے زیادہ نفع مند ہیں۔ اگر اس میں اوامر ونواہی کا تذکرہ ہے تو یہ اوامرونواہی سب سے زیادہ قدر و قیمت کے حامل اور سب سے زیادہ عدل و انصاف پر مبنی ہیں۔ اگر اس میں سزا و جزا اور وعدے و عید کا ذکر کیا گیا ہے تو وہ سب سے زیادہ سچی خبر اور سب سے زیادہ حق ہے اور اللہ تعالیٰ کی حکمت اور اس کے عدل و فضل پر سب سے زیادہ دلالت کرتی ہے اور اگر اس میں انبیاء ومرسلین کا ذکر ہے تو اس میں…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 46–57

ملیاً کے معانی قول باری ہے (واھجرنی ملیاً ۔ بس تو ہمیشہ کے لئے مجھ سے الگ ہوجا) حسن، مجاہد ، سعید بن جبیہ اور سدی سے مروی ہے کہ (ملیا) کے معنی ایک طویل عرصے کے ہیں۔ حضرت ابن عباس، قتادہ اور ضحاک سے مروی ہے کہ ” تو میری سزا سے اپنے آپ کو بچا کر صحیح سالم چلا جا۔ “ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ یہ عربوں کے اس محاورے سے ماخوذ ہے۔” فلاں ملی بھذا الامر (فلاں شخص اس معاملے میں بڑا باکمال ہے اور اس کے ساتھ ہی چمٹا رہتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 50–52

61 حضرت موسیٰ کی نداء و پکار کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا " اور ہم نے موسیٰ کو پکارا دائیں جانب سے "۔ یعنی حضرت موسیٰ کے اعتبار سے کہ وہ آپ کی دائیں جانب واقع تھا۔ ورنہ بذات خود پہاڑ کی تو کوئی دائیں اور بائیں جانب نہیں ہوسکتی۔ اور بعض نے کہا کہ یہ لفظ یمین سے نہیں یمن سے ماخوذ و مشتق ہے جس کے معنیٰ خیر و برکت کے آتے ہیں۔ یعنی ہم نے ان کو اس برکت والے مقام سے پکارا اور اس وادی کو تقدس کا یہ مرتبہ و شرف اس لیے حاصل ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی جلوہ گاہ ہونے کا شرف بخشا۔ اور یہاں پر حضرت موسیٰ سے کلام فرمایا ۔ وَالْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی ۔ بہرکیف اس میں حضرت موسیٰ کو…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 51–53

سیدنا موسیٰ اور سیدنا ہارون (علیہما السلام) کا تذکرہ تشریح : سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد کچھ اور پیغمبروں کا ذکر ان آیات میں کیا گیا ہے۔ سب سے پہلے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر مختصر الفاظ میں یوں کیا جا رہا ہے۔ کیونکہ ان کے بارے میں تفصیلاً پہلے گزر چکا ہے۔ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی اللہ تبارک تعالیٰ نے اپنے بندوں میں سے خاص طور پر چن لیا تھا، یعنی رسول بنایا۔ نبی اور رسول کا مطلب ایک ہی ہے کیونکہ نبی کا مطلب ہے خبر دینے والا اور رسول کا مطلب ہے اللہ کا پیغام دینے والا، یعنی ایسا خاص، عالی مرتبہ، نیک خصلت اور پاکیزہ متقی انسان جس کو اللہ تعالیٰ لوگوں کو راہ راست پر لانے کے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 51–65

(رکوع نمبر 4) اسرارومعارف آپ کتاب اللہ میں سے موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں بھی بتائیں کہ لوگوں نے بہت سی باتیں گھڑ رکھی تھیں ، یہود جو آپ ﷺ پر اعتراضات سکھاتے تھے خود اس ہستی کے حالات سے بیخبر تھے جس کی امت ہونے کا دعوی کرتے تھے تو ارشاد ہوا وہ تو ” مخلص “ تھے یعنی اللہ جل جلالہ نے انہیں محض اپنی اطاعت اور عبادت کے لیے چن لیا تھا ۔ (حفاظت الہیہ) یہ کمال سب انبیاء کرام (علیہ السلام) میں ہوتا ہے کہ نبی معصوم ہوتا ہے اور بعض اللہ جل جلالہ کے بندوں کو اپنے نبی کے اتباع سے نصیب ہوتا ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ انہیں قدرتا گناہوں سے بچانے کا اہتمام ہوجاتا ہے اور وہ محفوظ ہوتے ہیں یعنی ہر آن انہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 4 دائیں طرف سے حضرت موسیٰ کی دائیں طرف مراد ہے کیونکہ وہ درخت جس سے آواز آرہی تھی اسی طرح واقع تھا اور نہ پہاڑ کی بجائے خود دائیں یا بائیں جانب نہیں ہوتی۔ (شوکانی) آنحضرت کی بعثت سے پہلے عیسائیوں نے اس درخت کی جگہ جو گرجاتعمیر کیا تھا اور جو اب تک قائم ہے وہ کوہ طور کی مشرقی سمت ہے۔ ” یہ آواز حضرت موسیٰ کو اس وقت دی گئی جب وہ ” مدین “ سے مصر واپس آرہے تھے۔ اگر اس گرجا کا جائے وقوع صحیح ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ حضرت موسیٰ اس وقت کوہ طور کی شرقی سمت سے گزر رہے تھے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(19:52) نادینہ۔ ماضی جمع متکلم۔ ندائمصدر۔ ہُ ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ ہم نے اسے پکارا۔ من جانب الطور الایمن۔ الطور الایمن۔ موصوف صفت دائیں پہاڑی موصوف صفت مل کر مضاف جانب مضاف الیہ۔ مضاف الیہ۔ مضاف مضاف الیہ مل کر مجرور من حرف جار۔ دائیں پہاڑی کی جانب سے ۔ یعنی جو پہاڑی حضرت موسیٰ کے دائیں طرف تھی۔ بالایمن۔ الایمن سے ہے جس کے معنی بابرکت ہونے کے ہیں۔ اور یہ جانب کی صفت ہے ترجمہ ہوگا : ہم نے اسے پہاڑی کی بابرکت جانب سے پکارا۔ الطورمصر اور مدین کے درمیان ایک پہاڑ ہے۔ قربناہ۔ ماضی جمع متکلم ہُ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب۔ ہم نے اس کو قریب بلایا۔ نجیا۔ صفت مشبہ۔ چپکے چپکے سرگوشیاں کرنے والے۔ چپکے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 51–58

لغات القرآن آیت نمبر 51 تا 58 مخلصاً منتخب کیا ہوا، چنا ہوا۔ نادینا ہم نے آواز دی۔ الایمن داہنی جانب۔ نجی خاموشی سے راز بتانا۔ صادق الوعد سچا وعدہ کرنے والا۔ مرضی پسندیدہ۔ رفعنا ہم نے بنلد کیا۔ انعم اس نے انعام کیا۔ کرم کیا۔ اسرائیل حضرت یعقوب کا لقب تھا۔ اجتبنا ہم نے منتخب کیا۔ خروا وہ گر پڑے۔ ب کیا (بکی) روتے ہوئے۔ تشریح : آیت نمبر 51 تا 58 سورة مریم کی ان آیات میں حضرت موسیٰ ، حضرت اسماعیل اور حضرت ادریس (علیہ السلام) کی کچھ اہم خصوصیات کا ذکر کر کے فرمایا گیا کہ جب اہل ایمان کے سامنے اللہ کہ یہ آیات تلاوت کی جاتی ہیں اور ان میں اللہ کے سامنے جھک جانے کا حکم آتا ہے تو وہ نہایت عاجزی و…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 51–53

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر اور نبی اور رسول میں فرق ارشاد ہوتا ہے کہ کتاب میں موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر کرو، موسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے برگزیدہ تھے۔ موسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے برگزیدہ تھے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نبی بھی تھے، اور رسول بھی۔ رسول اس کو کہتے ہیں جو صاحب کتاب اور صاحب شریعت ہو، اور نبی اس کو کہتے ہیں جو پیغمبر کی کتاب اور شریعت کا پابند ہو، اور موسیٰ (علیہ السلام) ایسے برگزیدہ ہیں کہ ہم نے ان کو طور کے دائیں طرف پکارا تھا، اور راز کہنے کے لئے ان کو قریب کیا تھا۔ اور شرف ان کو یہ عطا ہوا تھا کہ ہم نے اپنی رحمت سے ان کی مدد کے لئے ان کے بھائی ہارون کو نبوت دے کر متعین کیا۔ تمام…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 51–58

[20] رسول۔ صاحب شریعت ہوتا ہے لیکن نبی صاحب وحی ہوتا ہے۔ اپنے ساتھ شریعت نہیں لاتا بلکہ پچھلی شریعت کی تبلیغ کرتا ہے جیسے بنی اسرائیل کے انبیاء شریعت موسوی کی تبلیغ کرتے تھے۔ بالفاظ دیگر ہر رسول نبی بھی ہوتا ہے مگر ہر نبی رسول نہیں ہوتا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 49–52

ہجرت الی اللہ کے ثمرات : (ف 2) جب کوئی شخص اللہ کے لئے تمام لذات کو چھوڑ دے ، مال و دولت اور اعزہ اور اقرباء کی ہمدردیوں سے جدا ہوجائے ، اور وطن کی آسائیشوں اور اس کے تکلفات سے یک قلم محروم قرار پائے ، تو اس وقت اس کی تسکین قلب کے لئے اللہ کی مدد کا ہاتھ پڑھتا ہے ، اور دل و دماغ کو مسرتوں سے معمور کردیتا ہے ، غور فرمائیے دنیا کو چھوڑ دینا آسان ہے مگر خالق کائنات کو کیونکر چھوڑا جاسکتا ہے ، اس کارساز کے ساتھ اگر اچھے تعلقات قائم ہیں تو پھر ساری مخلوق تابع اور فرمانبردار ہے ، اگر وہی روٹھ گیا ، تو پھر یہاں کی مسرتوں میں کیا لطف ہے ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اس اہم نکتہ سے خوب واقف تھے ، جب…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-52 اور ہم نے موسیٰ کو طور کی داہنی جانب سے پکارا تھا اور سرگوشی کرنے اور بھید بتانے کو اسے اپنے سے قریب کیا۔ یعنی بھید بتانے کو اسے اپنا مقرب بنایا اور چونکہ موسیٰ (علیہ السلام) سے جہاں ہم کلامی ہوئی وہ مقام طور کا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی داہنی جانب تھا سرگوشی اور بھید اس لئے فرمایا کہ سو اے موسیٰ (علیہ السلام) کے اس وقت اور کوئی شخص نہ تھا حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں ان سے کلام ہوا بیچ میں فرشتہ نہ تھا خلاصہ ! یہ ہے کہ طور ان کی داہنی جانب تھا جب ان کو پکارا گیا ان سے سرگوشی کی گئی اسرار اور راز بتائے گئے اور ان کو اپنے سے قریب کیا یعنی مقرب بنایا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 52–53

ف 1۔ یعنی ان کی درخواست کے موافق ان کو نبی کیا کہ ان کی مدد کریں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کوہ طور کی داہنی جانب سے پکارا اور وہ لبیک کہنے لگے : 52۔ یہ اس وقت کا ذکر کیا جارہا ہے جب موسیٰ (علیہ السلام) نبوت سے قبل ایک اتفاقیہ قتل ہوجانے کے بعد نکلے تھے اور راستہ میں خضر سے ملاقات کرتے ہوئے مدین کی طرف بڑھ گئے تھے اور پھر مدین میں آٹھ یا دس برس گزارنے کے بعد اپنے اہل و عیال کے ساتھ مصر کو آرہے تھے کہ راستے میں ایک آگ کا اشارہ دیکھ کر آگ لینے کی غرض سے اپنے اہل و عیال کو ایک جگہ بٹھا کر رات کے اندھیرے میں آگ کی طرف بڑھے تھے کہ اچانک آپ کو آواز آئی کہ اے موسیٰ ! میں تیرا پروردگار ہوں اور یہ جو روشنی تجھے نظر آتی ہے یہ آگ نہیں بلکہ تیرے رب ہی کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

مِن جَانِبِ الطُّورِ‌ الْأَيْمَنِ (The right side of the mount Tur - 19:52). This famous mountain (Tur or Sinai) rises in Syria between Madyan and Egypt, and is still known by the same name. Allah Ta’ ala has given it a distinct and special position in many ways. الْأَيْمَنِ The position of Mr is given to .the right side in relation to Sayyidna Musa (علیہ السلام) who had commenced his journey from Madyan and when he approached Tur, it was on his right side. نَجِيًّا is for whisper, مُنَاجَات is for confidential talk and نَجِی means a confidant.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 52–55

31.“The right side of the Mount”means the eastern side of the mountain. As Prophet Moses (peace be upon him), on his way from Midian to Egypt, was passing from the southern side of Mountt Toor, the eastern side would lie on his right and the western on his left if he faced the mountain, otherwise a mountain by itself cannot have a right or a left side. 32. See(E.N. 206 of Surah An-Nisa).

Read the full tafseer →