Explained with ayahs 51–53
خلوص ابراہیم ؑ۔
اپنے خلیل ؑ کا بیان فرما کر اب اپنے کلیم ؑ کا بیان فرماتا ہے۔ مُخلَصاً کی دوسری قرأت مُخلِصاً بھی ہے۔ یعنی وہ بااخلاص عبات کرنے والے تھے۔ مروی ہے کہ حواریوں نے حضرت عیسیٰ ؑ سے دریافت کیا کہ اے روح اللہ ہمیں بتائیے مخلص شخص کون ہے ؟ آپ نے فرمایا جو محض اللہ کے لئے عمل کرے اسے اس بات کی چاہت نہ ہو کہ لوگ میری تعریفیں کریں۔ دوسری قرأت میں مخلصا ہے یعنی اللہ کے چیدہ اور برگزیدہ بندے حضرت موسیٰ ؑ جیسے فرمان باری ہے (اِنِّى اصْطَفَيْتُكَ عَلَي النَّاسِ بِرِسٰلٰتِيْ وَبِكَلَامِيْ ڮ فَخُذْ مَآ اٰتَيْتُكَ وَكُنْ مِّنَ الشّٰكِرِيْنَ01404) 7۔ الاعراف :144) آپ اللہ کے نبی اور رسول تھے…
Read the full tafseer →سورة مَرْیَم 29
اصل میں لفظ مخلص استعمال ہوا ہے جس کے معنی ہیں " خالص کیا ہوا " مطلب یہ ہے کہ حضرت موسیٰ ایک ایسے شخص جن کو اللہ تعالیٰ نے خالص اپنا کرلیا تھا۔
سورة مَرْیَم 30
" رسول " کے معنی ہیں " فرستادہ " بھیجا ہوا " اس معنی کے لحاظ سے عربی زبان میں قاصد " پیغام بر، ایلچی اور سفیر کے لئے یہ لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ اور قرآن میں یہ لفظ یا تو ان ملائک کے لئے استعمال ہوا ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی کار خاص پر بھیجے جاتے ہیں " یا پھر ان انسانوں کو اس نام سے موسوم کیا گیا ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے خلق کی طرف اپنا پیغام پہنچانے کے لیے مامور فرمایا۔
" نبی " کے معنی میں اہل لغت کے درمیان اختلاف…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور اس کتاب (یعنی قرآن) میں موسیٰ ؑ کا بھی ذکر کیجئے (یعنی لوگوں کو سنائیے ورنہ کتاب میں ذکر کرنے والا تو فی الحقیقت اللہ تعالیٰ ہے) وہ بلا شبہ اللہ تعالیٰ کے خاص کئے ہوئے (بندے) تھے اور وہ رسول بھی تھے، نبی بھی تھے اور ہم نے ان کو کوہ طور کی داہنی جانب سے آواز دی اور ہم نے ان کو راز کی باتیں کرنے کے لئے مقرب بنایا اور ہم نے ان کو اپنی رحمت (اور عنایت) سے ان کے بھائی ہارون کو نبی بنا کر عطا کیا (یعنی ان کی درخواست کے موافق ان کو نبی کیا کہ ان کی مدد کریں) اور اس کتاب میں اسماعیل ؑ کا بھی ذکر کیجئے بلا شبہ وہ وعدے کے (بڑے) سچے تھے اور وہ رسول بھی تھے نبی بھی تھے اور پروردگار کے…
Read the full tafseer →وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ مُوسَى إِنَّهُ كَانَ مُخْلَصًا وَكَانَ رَسُولا نَبِيًّا۔
حضرت موسیٰ کے لیے " مخلص " کا لقب : حضرت ابراہیم کے بعد ان کی ذریت کے اسرائیلی سلسلہ میں، جلیل القدر نبی حضرت موسیٰ ہیں۔ ان کے متعلق فرمایا کہ وہ " مخلص " اور رسول و نبی تھے۔ ان کا رسول ونبی ہونا تو بالکل واضح ہے اس لیے کہ وہ فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھی رسول بنا کر بھیجے گئے تھے اور بنی اسرائیل کی طرف بھی۔ البتہ لفظ " مخلص " یہاں ان کے ایک خاص وصف امتیازی کی طرف اشارہ کررہا ہے۔ " مخلص " اس کو کہتے ہیں جو کسی کار خاص کے لیے منتخب و مخصوص کیا گیا ہو۔ لفظ کے اس عام مفہوم کے اعتبار سے تمام انبیاء " مخلص " ہیں اس…
Read the full tafseer →51۔ 1 مخلص، مصطفیٰ ، مجتبیٰ اور مختار، چاروں الفاظ کا مفہوم ایک ہے یعنی رسالت وپیامبری کے لیے چنا ہوا پسندیدہ شخص رسول بمعنی مرسل ہے (بھیجا ہوا) اور نبی کے معنی اللہ کا پیغام لوگوں کو سنانے والا یا وحی الہٰی کی خبر دینے والا تاہم مفہوم دونوں کا ایک ہے کہ اللہ جس بندے کو لوگوں کی ہدایت و رہنمائی کے لئے چن لیتا ہے اور اسے اپنی وحی سے نوازتا ہے، اسے رسول اور نبی کہا جاتا ہے۔ زمانہ قدیم سے اہل علم میں ایک بحث یہ چلی آرہی ہے کہ آیا کہ ان دونوں میں فرق ہے یا نہیں ؟ اگر ہے تو وہ کیا ہے ؟ فرق کرنے والے بالعموم کہتے ہیں کہ صاحب شریعت یا صاحب کتاب کو رسول اور نبی کہا جاتا ہے اور جو پیغمبر اپنی سابقہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–53
26: حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) کا مفصل واقعہ اگلی سورت میں آرہا ہے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–53
حضرت موسیٰ ؐ کی صفت اخلاص کا ذکر ہے ‘ اللہ نے ان کو اپنے لئے خالص کرلیا تھا ‘ دعوت اسلامی کے لیے وہ وقف تھے ۔ وہ رسول اور نبی تھے ‘ رسول وہ ہوتا ہے کہ جن کے لئے یہ حکم ہوتا ہے کہ وہ اس دعوت کو دوسروں تک پہنچائیں۔ جبکہ نبی کی ذمہ داری یہ نہیں ہوتی کہ وہ لوگوں تک دعوت پہنچائیں ‘ ان کا منصب یہ ہوتا ہے کہ وہ براہ راست اللہ سے ہدایت اور نظریہ لیتے ہیں۔ بنی اسرائیل میں بہت سے نبی گزرے ہیں ‘ ان کی دعوت یہ تھی کہ وہ حضرت موسیٰ کی دعوت اور دین کو قائم کریں۔ تورات کے مطابق لوگوں کے درمیان فیصلے کریں ‘ جو اللہ کی جانب سے آیا ہوا قانون ہے۔
یحکم بھا النبیون الذین اسلموا للذین ھادوا والربانیون والا حبار…
Read the full tafseer →3 یعنی قرآن کریم میں جو حال موسیٰ (علیہ السلام) کا بیان کیا جا رہا ہے لوگوں کے سامنے ذکر کیجئے کیونکہ اسحاق و یعقوب (علیہما السلام) کی نسل سے اسرائیلی سلسلہ کے اولوالعزم پیغمبر اور مشرّع اعظم ہوئے ہیں۔ اور جس طرح حضرت یحییٰ و عیسیٰ (علیہما السلام) کے تذکرہ میں خصوصیت کے ساتھ عیسائیوں کی اصلاح اور ابراہیم (علیہ السلام) کے ذکر میں مشرکین مکہ کو متنبہ کرنا مقصود تھا، حضرت موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) کے تذکرہ سے شاید " یہود " کو بتانا ہو کہ قرآن کس قدر کشادہ دلی سے ان کے مقتدائے اعظم کے واقعی کمالات و محاسن کا اعلان کرتا ہے۔ یہود کو چاہیے کہ وہ بھی اپنے اس جلیل القدر پیغمبر کی صریح پیشین گوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
آیت 51 وَاذْکُرْ فِی الْْکِتٰبِ مُوْسٰٓیز اِنَّہٗ کَانَ مُخْلَصًا وَّکَانَ رَسُوْلًا نَّبِیًّا ”
ہم نے انہیں خاص اپنا بنا لیا تھا۔ یہ مضمون سورة طٰہٰ آیت 41 میں بھی آئے گا۔
Read the full tafseer →47 نبی اور رسول کا فرق :۔ سیدنا اسحاق اور یعقوب کی اولاد میں سے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر غالبا ً اس وجہ سے کیا جارہا ہے کہ آپ اولوالعزم پیغمبر، مشرع اعظم اور قدآور شخصیت ہیں اور آپ کو فرمایا جارہا ہے کہ آپ ﷺ لوگوں سے ان کا ذکر کیجئے۔ آپ اللہ کی اطاعت و فرمانبرداری میں انتہائی مخلص تھے۔ آپ نبی بھی تھے اور صاحب شریعت رسول بھی۔ نبی اور رسول میں فرق یہ ہے کہ نبی عام ہے، اور رسول خاص۔ یعنی ہر رسول نبی تو ہوتا ہے مگر ہر نبی رسول نہیں ہوتا۔ روایات کے مطابق رسولوں کی تعداد صرف 313 یا 315 تھی جبکہ انبیاء کی تعداد ایک لاکھ چوبیس ہزار ہے۔ ( نبی اور رسول کے فرق کے لئے دیکھئے سورة مائدہ کی آیت…
Read the full tafseer →77۔ یعنی آپ لوگوں کو اس کتاب میں سے پڑھ کر سنائیے ورنہ ذکر کرنے والا تو حقیقۃ اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ ملاحظہ ہو حاشیہ نمبر 61۔ (آیت) ” موسیٰ “۔ پر حاشیے سورة بقرہ پارہ اول میں گزر چکے ،
78۔ رسول اور نبی کی تفسیر میں اقوال متعدد ہیں، تتبع آیات مختلفہ سے جو بات احقر کے نزدیک محقق ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ ان دونوں کے مفہوم میں عموم وخصوص من وجہ ہے، رسول شریعت جدیدہ، خواہ شریعت اس رسول کے اعتبار سے بھی جدید ہو جیسے توریت وغیرہ یا صرف مرسل الیہم کے اعتبار سے جدید ہو جیسے اسمعیل (علیہ السلام) کی شریعت، وہی شریعت ابراہیمہ تھی، لیکن قوم جرہم کو اس کا علم حضرت اسمعیل (علیہ السلام) ہی سے حاصل ہوا۔ اور خواہ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–59
آیت نمبر 51 تا 59
ترجمہ : کتاب میں مذکور موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر کیجئے وہ بلاشبہ بڑے مخلص منتخب بندے تھے کسرہ لام اور فتحہ لام کے ساتھ مخلص مَنْ اَخْلَصَ فِی عِبَادَتِہٖ کو کہتے ہیں اور مخلص مَن اَخْلَصَہٗ اللہ مِنَ الدنَس کو کہتے ہیں (یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو ہر قسم کی آلائشوں سے پاک کردیا) اور وہ نبی مرسل تھے اور ہم نے موسیٰ کو کوہ طور کی داہنی جانب سے یا موسیٰ اِنّی اَنَا اللہ کہہ کر پکارا طور ایک پہاڑ کا نام ہے یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کی اس جانب سے (پکارا) جو مدین سے آتے ہوئے داہنی جانب پڑتی ہے اور ہم نے اس کو رازدارانہ گفتگو کے لئے اپنا مقرب بنایا، اس طریقہ پر کہ اللہ تعالیٰ نے اس…
Read the full tafseer →واذکر فی الکتب موسیٰ انہ کان مخلصا وکان رسولا نبیا اور کتاب میں موسیٰ کا ذکر پڑھو ‘
بلاشبہ وہ (اللہ کا) منتخب اور عالی قدر پیغمبر تھا۔ مُخْلَصًا یعنی اللہ نے ان کو چن لیا تھا اور اپنے لئے منتخب کرلیا تھا اور غیر کی طرف توجہ کرنے سے پاک کردیا تھا۔
رَسُوْلاً نَّبِیًّارسالت کا مرتبہ نبوت سے اونچا اور افضل ہے اس لئے رسولاً کے بعد نبیاً کہنے کی بظاہر ضرورت نہیں تھی (ہم صدیقاً نبیاً کی تشریح میں لکھ چکے ہیں کہ لفظ نبی جس طرح نبأ سے مشتق ہے اسی طرح نبوۃٌ بمعنی رفعت و علو سے بھی ماخوذ ہے ‘ پس نبی کا ترجمہ ہوا عالی قدر اونچے مرتبہ والا) لیکن اللہ جس کو رسول بناتا ہے اس کو اپنی پیغمبری کا مرتبہ دے کر…
Read the full tafseer →(51) حضرت موسیٰ ؑ کا بھی ذکر کیجیے، وہ کفر وشرک اور تمام بری باتوں سے پاک اور عبادت و توحید کے لیے اللہ تعالیٰ کے خاص کیے ہوئے بندے تھے، اور ان کو اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی طرف نبی اور رسول بنا کر بھیجا تھا۔
Read the full tafseer →ۧوَاذْكُرْ فِي الْكِتٰبِ مُوْسٰٓى ۡ اِنَّهٗ كَانَ مُخْلَصًا : ”مُخْلَصًا“ کا معنی ہے ”خالص کیا ہوا، چنا ہوا۔“ اس کی تائید اللہ تعالیٰ کے فرمان : (وَاصْطَنَعْتُكَ لِنَفْسِيْ) [ طٰہٰ : 41 ] (اور میں نے تجھے خاص طور پر اپنے لیے بنایا ہے) ، طٰہٰ کی آیت (13) اور اعراف کی آیت (144) سے ہوتی ہے۔
وَّكَانَ رَسُوْلًا نَّبِيًّا : ”رَسُوْلًا“ کا لفظی معنی بھیجا ہوا ہے اور ”نَّبِيًّا“ ، ”نَبَأٌ“ سے ”فَعِیْلٌ“ کے وزن پر ہے جو فاعل اور مفعول دونوں معنوں میں آتا ہے۔ مفعول ہو تو وہ جسے اللہ کی طرف سے خبر دی جائے اور اگر فاعل ہو تو وہ جو اللہ کی طرف سے خبر دینے والا ہو۔ ”نَبَأٌ“ عام خبر کو نہیں بلکہ اس خبر کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–53
(تفسیر 51-53) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واذکرفی الکتب موسیٰ یعنی قرآن میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ ان پر پڑھو۔ انہ کان مخلصاً اپنی عبادت میں خلوص رکھتا تھا، ریاکار نہ تھا۔ اہل کوفہ نے لام کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے، یعنی ہم نے اسے چن لیا اور چنا ہوا بنا دیا۔ ونادینہ ہم نے جمعہ کی رات اس سے کلام کی۔ من جانب الطور الایمن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مدین سے مصر کی طرف آرہے تھے ؛ یہ طبری وغیرہ نے کہا ہے۔ کیونکہ پہاڑوں کا دایاں، بایاں نہیں ہوتا (1) ۔ وقربنہ نجیا۔ نجیا پر نصب حال کی بناء پر ہے، یعنی ہم نے بغیر وحی کے اس سے کلام کی۔ بعض علماء نے فرمایا : اس کا مطلب ہے ہم نے اسے قدرو منزلت کے اعتبار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–53
1:۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” انہ کان مخلصا “ میں مخلصا کو لام کے فتحہ کے ساتھ پڑھا۔
2:۔ عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وکان رسولا نبیا “ سے مراد ہے صرف نبی وہی ہوتا ہے جس سے کلام کیا جاتا ہے اور اس پر کلام کا نزول ہوتا ہے اور اسے کسی قوم کی طرف بھیجا جاتا ہے۔
3:۔ عبدالرزاق، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” جانب الطور الایمن “ یعنی پہاڑ کی دائیں جانب (آیت) ” وقربنہ نجیا “ یعنی ہم نے ان کو یہ قرب عطا کیا ان کے صدق اور سچائی کی وجہ سے۔
4:۔ عبدبن حمید نے ابوالعالیہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وقربنہ…
Read the full tafseer →وَاذْكُرْ : اور یاد کرو ] [فِي الْكِتٰبِ : اس کتاب میں ] [مُوْسٰٓى: موسٰی (علیہ السلام) کو ] [انهٗ : بیشک وہ ] [كَان : تھے ] [مُخْلَصًا : چنے ہوئے ] [وَّكَان : اور وہ تھے ] [رَسُوْلًا : رسول ] [نَّبِيًّا : نبی ]
نوٹ۔ 1: قرآن مجید میں رسول اور نبی، دونوں الفاظ ہم معنی استعمال ہوتے ہیں۔ چناچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک ہی شخصیت کو کہیں صرف رسول کہا گیا ہے اور کہیں صرف نبی اور کہیں رسول اور نبی ایک ساتھ۔ لیکن بعض مقامات پر رسول اور نبی کے الفاظ اس طرح بھی استعمال ہوئے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان دونوں میں مرتبے یا کام کی نوعیت کے لحاظ سے کوئی اصطلاحی فرق ہے۔ مثلاً سورة حج کی آیت۔ 52 ۔ میں فرمایا ”…
Read the full tafseer →حضرت موسیٰ ، حضرت ہارون، حضرت اسماعیل اور حضرت ادریس کا تذکرہ
حضرت ابراہیم اور حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب ( علیہ السلام) کا تذکرہ فرمانے کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کا تذکرہ فرمایا موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں فرمایا کہ وہ مخلص تھے یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو چن لیا اور اپنا خاص اور خالص بندہ بنایا۔ (ھذا علی قراء ۃ الکوفیین بفتح اللام وقراء آخرون بکسرھا والمعنی انہ اخلص عبادتہ عن الشرک والریاء واسلم وجھہ للہ عزوجل واخلص عن سواہ کما قال صاحب الروح ص 103 ج 16)
نبی اور رسول میں فرق
اور یہ بھی فرمایا کہ موسیٰ (علیہ السلام) رسول تھے اور نبی تھے۔ رسول پہنچانے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–53
قصۂ چہارم حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ و السلام
قال اللہ تعالیٰ ۔ واذ کر فی الکتٰب موسٰٓی۔۔۔ الیٰ اخاہ ھٰرون نبیا۔
یہ چوتھا قصہ موسیٰ (علیہ السلام) کا ہے۔ خلیل اللہ کے قصے کے بعد کلیم اللہ کا قصہ ذکر فرماتے ہیں۔ اس قصہ میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی پانچ صفتیں ذکر فرمائیں۔
(1) مخلص یعنی خدا کے منتخب اور برگزیدہ بندے تھے۔ (2) رسول اور نبی تھے۔ (3) ان سے اللہ تعالیٰ نے کلام فرمایا۔ (4) ان کو اپنا مقرب بنایا۔ (5) ان کی فرمائش سے ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو نبی بنایا۔ چناچہ فرماتے ہیں :
اور اے نبی ﷺ اس کتاب یعنی قرآن میں موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ پڑھ کر لوگوں کو سنائیے۔ بیشک وہ خدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
37:۔ تین انبیاء (علیہم السلام) کا تفصیل سے ذکر کرنے کے بعد تین کا بالاختصار ذکر فرمایا۔ حضرت موسی، حضرت اسمعیل اور حضرت ادریس (علیہم السلام) یعنی یہ تمام ہمارے سامنے عاجزی کر رہے ہیں۔ لہذا جو خود عاجز اور محتاج ہوں وہ دوسروں کے کارساز اور متصرف کیونکر ہوسکتے ہیں۔ ہاں یہ ہمارے برگزیدہ اور مکرم بندے تھے لیکن متصرف نہیں تھے۔ یہودی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو، نصاری حضرت ادریس (علیہ السلام) کو اور مشرکین حضرت اسمعیل (علیہ السلام) کو پکارتے تھے ان آیتوں میں اس کی نفی کی گئی کہ یہ برگزیدہ پیغمبر کارساز نہ تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–57
ربط آیات :
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعہ میں اللہ تعالیٰ نے انکے اور انکے والد کے درمیان مکالمے کا ذکر کیا ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے نہایت نرم طریقے سے اپنے باپ کو توحید کی دعوت دی مگر والد نے بڑی سختی سے ڈانٹ دیا ، اور کہا کہ یہاں سے چلا جا ورنہ تمہیں سنگسار کر دوں گا ، چناچہ آپ اپنے آبائی وطن سے ہجرت کر گئے ، اس دوران میں اللہ تعالیٰ کی مہربانی آپ کے شامل حال ہوئی اللہ آپ کو حضرت اسحاق جیسا بیٹا اور حضرت یعقوب جیسا عظیم المرتب پوتا عطا فرمایا ، یہ دونوں اللہ کے برگزیدہ نبی تھے اور لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا درس دیتے تھے ، کفر وشرک کی تردید کرتے تھے اور لوگوں کو ان سے باز…
Read the full tafseer →وَاذْكُرْ فِي الْكِتٰبِ مُوْسٰٓى 0ۡاِنَّہٗ كَانَ مُخْلَصًا وَّكَانَ رَسُوْلًا نَّبِيًّا 51
كتب
والْكِتَابُ في الأصل اسم للصّحيفة مع المکتوب فيه، وفي قوله : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153] فإنّه يعني صحیفة فيها كِتَابَةٌ ،
( ک ت ب ) الکتب ۔
الکتاب اصل میں مصدر ہے اور پھر مکتوب فیہ ( یعنی جس چیز میں لکھا گیا ہو ) کو کتاب کہاجانے لگا ہے دراصل الکتاب اس صحیفہ کو کہتے ہیں جس میں کچھ لکھا ہوا ہو ۔ چناچہ آیت : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153]( اے محمد) اہل کتاب تم سے درخواست کرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–63
تفسیر : یہ چوتھا قصہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ہے کہ خدا نے ان کو کوہ طور کی جانب سے پکارا یعنی اننی انا اللہ الخ کے ساتھ موسیٰ کو خطاب کر کے کلام کیا اور اس شرف کے بعد دوسرا شرف یہ بخشا کہ ان کے بھائی ہارون ( علیہ السلام) کو بھی ان کی مدد کے لیے نبی بنایا۔
واذکر فِی الکتاب اسماعیل یہ پانچواں تذکرہ حضرت اسماعیل ذبیح اللہ (علیہ السلام) کا ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بڑے بیٹے تھے چونکہ یہ ایک مستقل رتبہ کے شخص تھے اس لیے ان کو ان کے باپ کے ذیل میں ذکر نہ کیا بلکہ جداگانہ۔ ان کا پہلا وصف یہ ہے کہ کان صادق الوعد وعدے کے بڑے سچے تھے۔ مروی ہے کہ ایک شخص سے وعدہ کیا تھا کہ میں تمہارا فلاں…
Read the full tafseer →وَاذْکُرْ فِی الْکِتٰبِ مُوْسٰٓی ز اِنَّـہٗ کَانَ مُخَْلَصًا وَّ کَانَ رَسُوْلاً نَّبِیًّا۔ (مریم : 51)
(اور اس کتاب میں موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر کیجیے، بیشک وہ ایک چیدہ اور رسول نبی تھا۔ )
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ذُرِّیت میں اللہ تعالیٰ نے جو برکت عطا فرمائی اور ان میں سلسلہ نبوت جاری فرمایا تو اس سلسلہ کے جلیل القدر نبی اور رسول حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تھے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی شخصیت کی وضاحت کے لیے اس آیت کریمہ میں تین لفظ استعمال ہوئے ہیں۔ مخلص، رسول اور نبی۔
مخلص کا معنی و مفہوم
مخلص کا معنی ہوتا ہے، چیدہ، چنا ہوا، کسی کارخاص کے لیے انتخاب کیا ہوا۔ اس معنی کے لحاظ سے حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ذکر کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا تذکرہ۔
جس طرح حضرت زکریا (علیہ السلام) ، حضرت مریم [ اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی سیرت طیبہ بیان کرنے کا حکم ہے اسی طرح موسیٰ (علیہ السلام) کی حیات طیبہ بیان کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) صاحب کتاب رسول تھے۔ جنھیں مخلص ہونے کے لقب سے نوازا گیا ہے۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعائیں اس وقت قبول ہوئیں۔ جب وہ بےبس اور ظاہری اسباب سے مایوس ہوچکے تھے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا بھی اس وقت قبول ہوئی جب وہ غریب الوطن اور سفر کی صعوبتوں میں مبتلا تھے۔…
Read the full tafseer →تذکرہ موسیٰ d:
51: وَاذْکُرْ فِی الْکِتٰبِ مُوْسٰٓی اِنَّہٗ کَانَ مُخْلَصًا (اور کتاب میں موسیٰ کا تذکرہ کرو۔ بیشک وہ خالص کئے ہوئے تھے)
قراءت : کوفی قراء نے مفضل کے علاوہ مخلصًا پڑھا ہے یعنی اللہ نے ان کو خالص کیا اور چن لیا اور دیگرقراء نے مُخْلِصًا پڑھا ہے یعنی انہوں نے خود اپنے آپ کو اللہ کی عبادت کیلئے خالص کردیا اور اصل فطرت میں جو سعادت ہوتی ہے وہ اس میں خالص تھے اور جو ان کے ذمے عبادت تھی پوری ہمت کے ساتھ اس میں بھی خالص تھے۔
وَّکَانَ رَسُوْلًا نَّبِیًّا (اور یہ رسول نبی تھے) رسول وہ ہے جس کو کوئی کتاب دی جائے اور نبی وہ ہے جو اللہ کی طرف سے خبر دے اگرچہ اس کے ساتھ کتاب نہ ہو جیسے…
Read the full tafseer →51۔ واذکر فی الکتاب موسیٰ انہ کان مخلصا ، ، اللہ عزوجل کی خالص عبادت جس میں کسی قسم کا کوئی دکھاوا نہیں ، اہل کوفہ نے مخلصا، لام کے فتحہ کے ساتھ ذکر کیا ہے اور بعض نے کہا کہ اللہ تعالیٰ ان کو کسی داغ وغیرہ سے خالص کردیں گے۔ وکان رسولانبیا،۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–53
51۔ 53:۔ تفسیر سدی اور تفسیر ابن جریر وغیرہ میں حضرت موسیٰ کی پیدائش کا قصہ جو ذکر کیا گیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی پیدائش سے پہلے فرعون نے خواب میں دیکھا کہ بیت المقدس کی طرف سے ایک آگ نکلی اور سوا بنی اسرائیل کے محلہ کے تمام مصر کو اس آگ نے جلا دیا فرعون نے اپنا یہ خواب اس وقت کے نجومیوں سے بیان کیا انہوں نے کہا ایک لڑکا بنی اسرائیل میں کا جس کا اصل وطن ملک شام بیت المقدس کی سر زمین ہے پیدا ہونے والا ہے اس کے ہاتھ سے مصر خواب اور برباد ہوگا۔ فرعون نے بنی اسرائیل میں جو لڑکے پیدا ہوتے تھے ان کے مار ڈالنے کا حکم دیا۔ ہزارہا لڑکے بنی اسرائیل کے قتل کیے گئے جب حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–52
آیت 41
تمام کتابوں میں سب سے زیادہ جلیل القدر، سب سے افضل اور سب سے زیادہ بلند مرتبے والی کتاب، یہ کتاب مبین اور ذکر حکیم یعنی قرآن مجید ہے۔ اگر اس میں خبریں بیان کی گئی ہیں تو یہ خبریں سب سے زیادہ سچی، سب سے زیادہ حق اور سب سے زیادہ نفع مند ہیں۔ اگر اس میں اوامر ونواہی کا تذکرہ ہے تو یہ اوامرونواہی سب سے زیادہ قدر و قیمت کے حامل اور سب سے زیادہ عدل و انصاف پر مبنی ہیں۔ اگر اس میں سزا و جزا اور وعدے و عید کا ذکر کیا گیا ہے تو وہ سب سے زیادہ سچی خبر اور سب سے زیادہ حق ہے اور اللہ تعالیٰ کی حکمت اور اس کے عدل و فضل پر سب سے زیادہ دلالت کرتی ہے اور اگر اس میں انبیاء ومرسلین کا ذکر ہے تو اس میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–57
ملیاً کے معانی
قول باری ہے (واھجرنی ملیاً ۔ بس تو ہمیشہ کے لئے مجھ سے الگ ہوجا) حسن، مجاہد ، سعید بن جبیہ اور سدی سے مروی ہے کہ (ملیا) کے معنی ایک طویل عرصے کے ہیں۔ حضرت ابن عباس، قتادہ اور ضحاک سے مروی ہے کہ ” تو میری سزا سے اپنے آپ کو بچا کر صحیح سالم چلا جا۔ “ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ یہ عربوں کے اس محاورے سے ماخوذ ہے۔” فلاں ملی بھذا الامر (فلاں شخص اس معاملے میں بڑا باکمال ہے اور اس کے ساتھ ہی چمٹا رہتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–52
61 حضرت موسیٰ کی نداء و پکار کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا " اور ہم نے موسیٰ کو پکارا دائیں جانب سے "۔ یعنی حضرت موسیٰ کے اعتبار سے کہ وہ آپ کی دائیں جانب واقع تھا۔ ورنہ بذات خود پہاڑ کی تو کوئی دائیں اور بائیں جانب نہیں ہوسکتی۔ اور بعض نے کہا کہ یہ لفظ یمین سے نہیں یمن سے ماخوذ و مشتق ہے جس کے معنیٰ خیر و برکت کے آتے ہیں۔ یعنی ہم نے ان کو اس برکت والے مقام سے پکارا اور اس وادی کو تقدس کا یہ مرتبہ و شرف اس لیے حاصل ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی جلوہ گاہ ہونے کا شرف بخشا۔ اور یہاں پر حضرت موسیٰ سے کلام فرمایا ۔ وَالْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی ۔ بہرکیف اس میں حضرت موسیٰ کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–53
سیدنا موسیٰ اور سیدنا ہارون (علیہما السلام) کا تذکرہ
تشریح : سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد کچھ اور پیغمبروں کا ذکر ان آیات میں کیا گیا ہے۔ سب سے پہلے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر مختصر الفاظ میں یوں کیا جا رہا ہے۔ کیونکہ ان کے بارے میں تفصیلاً پہلے گزر چکا ہے۔ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی اللہ تبارک تعالیٰ نے اپنے بندوں میں سے خاص طور پر چن لیا تھا، یعنی رسول بنایا۔ نبی اور رسول کا مطلب ایک ہی ہے کیونکہ نبی کا مطلب ہے خبر دینے والا اور رسول کا مطلب ہے اللہ کا پیغام دینے والا، یعنی ایسا خاص، عالی مرتبہ، نیک خصلت اور پاکیزہ متقی انسان جس کو اللہ تعالیٰ لوگوں کو راہ راست پر لانے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–65
(رکوع نمبر 4)
اسرارومعارف
آپ کتاب اللہ میں سے موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں بھی بتائیں کہ لوگوں نے بہت سی باتیں گھڑ رکھی تھیں ، یہود جو آپ ﷺ پر اعتراضات سکھاتے تھے خود اس ہستی کے حالات سے بیخبر تھے جس کی امت ہونے کا دعوی کرتے تھے تو ارشاد ہوا وہ تو ” مخلص “ تھے یعنی اللہ جل جلالہ نے انہیں محض اپنی اطاعت اور عبادت کے لیے چن لیا تھا ۔
(حفاظت الہیہ)
یہ کمال سب انبیاء کرام (علیہ السلام) میں ہوتا ہے کہ نبی معصوم ہوتا ہے اور بعض اللہ جل جلالہ کے بندوں کو اپنے نبی کے اتباع سے نصیب ہوتا ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ انہیں قدرتا گناہوں سے بچانے کا اہتمام ہوجاتا ہے اور وہ محفوظ ہوتے ہیں یعنی ہر آن انہیں…
Read the full tafseer →ف 3” بھیجا ہوا “ رسول کے اور ” اللہ کا پیغام سنانے والا “ نبی کے لفظ معنی ہیں اور قرآن میں یہ دونوں لفظ عموماً ایک دوسرے کی جگہ استعمال ہوئے ہیں۔ تاہم بعض مقامات ایسے ہیں جن سے دونوں کے مرتبہ یا کام کی نوعیت کے اعتبار سے فرق معلوم ہوتا ہے اور دونوں میں تفایر پایا جاتا ہے (دیکھیے سورة حج 56) شاہ صاحب لکھتے ہیں : ” جس کو اللہ کی وحی آئی وہ نبی، ان میں جو خاص ہیں امت رکھتے ہیں یا کناب وہ رسول ہیں “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
(19:50) لسان صدق علیا۔ لسان صدق مضاف مضاف الیہ۔ لسان منصوب بوجہ جعلناکے مفعول ہونے ہے۔
لسان سے مراد ذکر ہے صدق کے معنی سچائی۔ قوت۔ خیر۔ خلوص۔ شرف۔ سچی بات فضیلت کے ہیں۔ یہ صدق یصدق کا مصدر ہے۔ علیا لسان کی صفت ہے۔ لسان صدق علیاکا مطلب ہوا سچائی و صداقت کا وہ ذکر جو ارفع واعلیٰ ہو۔
اور جگہ قرآن مجید میں ہے واجعل لی لسان صدق فی الاخرین (26:84) اور میرا ذکر نیک پچھلے (آنے والے) لوگوں میں جاری رکھ۔ نیز ملاحظہ ہو (10:2) ۔ چناچہ آج تک ان ہر سہ پیغمبر ان کا نام یہود و نصاریٰ اور مسلمانوں میں جس تقدیس و تحریم کے ساتھ لیا جاتا ہے کسی بیان کا محتاج نہیں۔ اس سے زیادہ اس کی تفسیر اور کیا ہوگی۔ کہ خطہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–58
لغات القرآن آیت نمبر 51 تا 58
مخلصاً منتخب کیا ہوا، چنا ہوا۔ نادینا ہم نے آواز دی۔ الایمن داہنی جانب۔ نجی خاموشی سے راز بتانا۔ صادق الوعد سچا وعدہ کرنے والا۔ مرضی پسندیدہ۔ رفعنا ہم نے بنلد کیا۔ انعم اس نے انعام کیا۔ کرم کیا۔ اسرائیل حضرت یعقوب کا لقب تھا۔ اجتبنا ہم نے منتخب کیا۔ خروا وہ گر پڑے۔ ب کیا (بکی) روتے ہوئے۔
تشریح : آیت نمبر 51 تا 58
سورة مریم کی ان آیات میں حضرت موسیٰ ، حضرت اسماعیل اور حضرت ادریس (علیہ السلام) کی کچھ اہم خصوصیات کا ذکر کر کے فرمایا گیا کہ جب اہل ایمان کے سامنے اللہ کہ یہ آیات تلاوت کی جاتی ہیں اور ان میں اللہ کے سامنے جھک جانے کا حکم آتا ہے تو وہ نہایت عاجزی و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–53
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر اور نبی اور رسول میں فرق
ارشاد ہوتا ہے کہ کتاب میں موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر کرو، موسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے برگزیدہ تھے۔ موسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے برگزیدہ تھے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نبی بھی تھے، اور رسول بھی۔ رسول اس کو کہتے ہیں جو صاحب کتاب اور صاحب شریعت ہو، اور نبی اس کو کہتے ہیں جو پیغمبر کی کتاب اور شریعت کا پابند ہو، اور موسیٰ (علیہ السلام) ایسے برگزیدہ ہیں کہ ہم نے ان کو طور کے دائیں طرف پکارا تھا، اور راز کہنے کے لئے ان کو قریب کیا تھا۔ اور شرف ان کو یہ عطا ہوا تھا کہ ہم نے اپنی رحمت سے ان کی مدد کے لئے ان کے بھائی ہارون کو نبوت دے کر متعین کیا۔ تمام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–58
[20] رسول۔ صاحب شریعت ہوتا ہے لیکن نبی صاحب وحی ہوتا ہے۔ اپنے ساتھ شریعت نہیں لاتا بلکہ پچھلی شریعت کی تبلیغ کرتا ہے جیسے بنی اسرائیل کے انبیاء شریعت موسوی کی تبلیغ کرتے تھے۔ بالفاظ دیگر ہر رسول نبی بھی ہوتا ہے مگر ہر نبی رسول نہیں ہوتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–52
ہجرت الی اللہ کے ثمرات :
(ف 2) جب کوئی شخص اللہ کے لئے تمام لذات کو چھوڑ دے ، مال و دولت اور اعزہ اور اقرباء کی ہمدردیوں سے جدا ہوجائے ، اور وطن کی آسائیشوں اور اس کے تکلفات سے یک قلم محروم قرار پائے ، تو اس وقت اس کی تسکین قلب کے لئے اللہ کی مدد کا ہاتھ پڑھتا ہے ، اور دل و دماغ کو مسرتوں سے معمور کردیتا ہے ، غور فرمائیے دنیا کو چھوڑ دینا آسان ہے مگر خالق کائنات کو کیونکر چھوڑا جاسکتا ہے ، اس کارساز کے ساتھ اگر اچھے تعلقات قائم ہیں تو پھر ساری مخلوق تابع اور فرمانبردار ہے ، اگر وہی روٹھ گیا ، تو پھر یہاں کی مسرتوں میں کیا لطف ہے ،
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اس اہم نکتہ سے خوب واقف تھے ، جب…
Read the full tafseer →-5 1 اور اے پیغمبر اس قرآن کریم میں موسیٰ (علیہ السلام) کا بھی ذکر کیجیے بلاشبہ وہ اللہ تعالیٰ کا چیدہ اور خاص بندہ تھا اور وہ رسول تھا نبی تھا رسول اور نبی کے سلسلہ میں اہل علم کے مختلف اقوال ہیں۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں جس کو اللہ تعالیٰ سے وحی آوے وہ نبی ہے اور ان میں جو خاص ہیں امت رکھتے ہیں یا کتاب و رسول ہیں۔ 12 بعض مقامات پر رسول کے فرستادوں کو بھی رسول فرمایا ہے جیسے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے خاص شاگرد جو انطاکیہ بھیجے گئے تھے اور بعض مقامات پر فرشتوں کو بھی رسول فرمایا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
ف 7۔ یعنی لوگوں کو سنایئے۔ ورنہ کتاب میں ذکر کرنے والا تو فی الحقیقة اللہ تعالیٰ ہے۔
Read the full tafseer →سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا ال کتاب میں ذکر کرو جو نبی بھی تھے اور رسول بھی :
51۔ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل میں ایک نہایت جلیل القدر نبی تھے جو یعقوب (علیہ السلام) کے پڑوتے یا سکڑپوتے ہوئے اور اس جگہ ان کا ذکر سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) ہی کی وجہ سے کیا گیا ہے کیونکہ آپ کا تعلق جیسا کہ اوپر بیان ہوا ابراہیم (علیہ السلام) ہی کی ذریت ہے بلکہ آپ کی ذریت میں سے ایک بلند پایہ رسول تھے قرآن کریم میں کسی نبی کا اس قدر تذکرہ نہیں جتنا سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا ہے اور موسیٰ عیہ السلام کا نام بھی قرآن کریم میں 514 بار آیا ہے اور اس قدر بار بار کسی دوسرے نبی کا نام نہیں لیا گیا ، آپ کا…
Read the full tafseer →Commentary
كَانَ مُخْلَصًا (Indeed he was a chosen one - 19:51) مُخْلَصً : means a person whom Allah Ta` ala has chosen for himself i.e. someone who will not devote himself to anyone but Allah, and whose only desire is to win Allah's benevolence. This special position is enjoyed by the prophets only as mentioned in the Qur’ an at another place.
إِنَّا أَخْلَصْنَاهُم بِخَالِصَةٍ ذِكْرَى الدَّارِ
"We purified them with a quality most pure, the remembrance of the Abode." - 38:46.
Those among the followers of prophets who attain perfection are also granted a place of distinction, which makes…
Read the full tafseer →29. The word used is mukhlasan, which means purified. In other words, Allah had specially chosen Prophet Moses (peace be upon him) for the mission of Prophethood.
30. Rasul literally means the one who is sent; therefore it is used for an ambassador, envoy, messenger and representative. The Quran has used this title for angels, who are sent by Allah on a special mission, or for the human beings who brought His Message to mankind.
As regards the word Nabi, it literally means the one who brings news, or the one who is high in rank, or the one who shows the way. This title is used for the…
Read the full tafseer →