Explained with ayahs 51–53
خلوص ابراہیم ؑ۔
اپنے خلیل ؑ کا بیان فرما کر اب اپنے کلیم ؑ کا بیان فرماتا ہے۔ مُخلَصاً کی دوسری قرأت مُخلِصاً بھی ہے۔ یعنی وہ بااخلاص عبات کرنے والے تھے۔ مروی ہے کہ حواریوں نے حضرت عیسیٰ ؑ سے دریافت کیا کہ اے روح اللہ ہمیں بتائیے مخلص شخص کون ہے ؟ آپ نے فرمایا جو محض اللہ کے لئے عمل کرے اسے اس بات کی چاہت نہ ہو کہ لوگ میری تعریفیں کریں۔ دوسری قرأت میں مخلصا ہے یعنی اللہ کے چیدہ اور برگزیدہ بندے حضرت موسیٰ ؑ جیسے فرمان باری ہے (اِنِّى اصْطَفَيْتُكَ عَلَي النَّاسِ بِرِسٰلٰتِيْ وَبِكَلَامِيْ ڮ فَخُذْ مَآ اٰتَيْتُكَ وَكُنْ مِّنَ الشّٰكِرِيْنَ01404) 7۔ الاعراف :144) آپ اللہ کے نبی اور رسول تھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–55
سورة مَرْیَم 31
کوہ طور کے داہنی جانب سے مراد اس کا مشرقی دامن ہے۔ چونکہ حضرت موسیٰ مدین سے مصر جاتے ہوئے اس راستہ سے گزر رہے تھے جو کوہ طور کے جنوب سے جاتا ہے، اور جنوب کی طرف سے اگر کوئی شخص طور کو دیکھے تو اس کے دائیں جانب مشرق اور بائیں جانب مغرب ہوگا، اس لئے حضرت موسیٰ کی نسبت سے طور کے مشرقی دامن کو " داہنی جانب " فرمایا گیا۔ ورنہ ظاہر ہے کہ بجائے خود پہاڑ کا کوئی دایاں یا بایاں رخ نہیں ہوتا۔
سورة مَرْیَم 32
تشریح کے لیئے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اول، النساء حاشیہ 206۔
Read the full tafseer →وَوَهَبْنَا لَهٗ مِنْ رَّحْمَتِنَآ اَخَاهُ هٰرُوْنَ ، ھبہ کے لفظی معنے عطیہ کے ہیں، حضرت موسیٰ ؑ نے دعا کی تھی کہ ان کی امداد کے لئے حضرت ہارون کو بھی نبی بنادیا جائے دعا قبول کی گئی اسی کو لفظ وھبنا سے تعبیر کیا گیا ہے یعنی ہم نے عطیہ دے دیاموسیٰ ؑ کو ہارون کا۔ اسی لئے حضرت ہارون کو ھبة اللہ بھی کہا جاتا ہے۔ (مظہری)
Read the full tafseer →وَوَهَبْنَا لَهُ مِنْ رَحْمَتِنَا أَخَاهُ هَارُونَ نَبِيًّا۔
حضرت موسیٰ پر ایک اور فضل خاص ایک مددگار نبی کی بعثت : حضرت موسیٰ پر یہ فضل خاص بھی ہوا کہ کار نبوت کی انجام دہی میں ان کی مدد کے لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے بھائی حضرت ہارون کو ان کا وزیر اور مددگار بنایا اور ان کی یہ مدد محض رضاکارانہ نہیں بلکہ خدا کے ایک مامور و مسئول نبی کی حیثیت سے تھی۔ کسی رسول کی مدد کے لیے کسی نبی کا وزیر اور شریک کار کی حیثیت سے مقرر کیا جانا ایک امتیاز خاص ہے جو حضرات انبیائے کرام کی تاریخ میں حضرت موسیٰ کے سوا اور کسی کے لیے معلوم نہیں۔ حضرت موسیٰ پر فرعون جیسے جبار کے سامنے فرض رسالت ادائیگی اور بنی اسرائیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–57
57۔ 1 حضرت ادریس علیہ السلام، کہتے ہیں کہ حضرت آدم ؑ کے بعد پہلے نبی تھے اور حضرت نوح ؑ کے یا ان کے والد کے دادا تھے، انہوں نے ہی سب سے پہلے کپڑے سیئے، بلندی مکان سے مراد ؟ بعض مفسرین نے اس کا مفہوم رُفِعَ اِلَی السَّمَآء سمجھا ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کی طرح انھیں بھی آسمان پر اٹھا لیا گیا لیکن قرآن کے الفاظ اس مفہوم کے لئے صاف نہیں ہیں اور کسی صحیح حدیث میں بھی یہ بیان نہیں ہوا۔ البتہ اسرائیلی روایات میں ان کے آسمان پر اٹھائے جانے کا ذکر ملتا ہے جو اس مفہوم کے اثبات کے لئے کافی نہیں۔ اس لئے زیادہ صحیح بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ اس سے مراد مرتبے کی وہ بلندی ہے جو نبوت سے سرفراز کر کے انھیں عطا کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–53
26: حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) کا مفصل واقعہ اگلی سورت میں آرہا ہے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–53
حضرت موسیٰ ؐ کی صفت اخلاص کا ذکر ہے ‘ اللہ نے ان کو اپنے لئے خالص کرلیا تھا ‘ دعوت اسلامی کے لیے وہ وقف تھے ۔ وہ رسول اور نبی تھے ‘ رسول وہ ہوتا ہے کہ جن کے لئے یہ حکم ہوتا ہے کہ وہ اس دعوت کو دوسروں تک پہنچائیں۔ جبکہ نبی کی ذمہ داری یہ نہیں ہوتی کہ وہ لوگوں تک دعوت پہنچائیں ‘ ان کا منصب یہ ہوتا ہے کہ وہ براہ راست اللہ سے ہدایت اور نظریہ لیتے ہیں۔ بنی اسرائیل میں بہت سے نبی گزرے ہیں ‘ ان کی دعوت یہ تھی کہ وہ حضرت موسیٰ کی دعوت اور دین کو قائم کریں۔ تورات کے مطابق لوگوں کے درمیان فیصلے کریں ‘ جو اللہ کی جانب سے آیا ہوا قانون ہے۔
یحکم بھا النبیون الذین اسلموا للذین ھادوا والربانیون والا حبار…
Read the full tafseer →6 یعنی ہارون (علیہ السلام) حضرت موسیٰ کے کام میں مددگار ہوئے جیسے کہ انہوں نے خود درخواست کی تھی۔ (وَاَخِيْ هٰرُوْنُ هُوَ اَفْصَحُ مِنِّيْ لِسَانًا فَاَرْسِلْهُ مَعِيَ رِدْاً يُّصَدِّقُنِيْٓ) 28 ۔ القصص :34) اور (وَاجْعَلْ لِّيْ وَزِيْرًا مِّنْ اَهْلِيْ 29ۙ هٰرُوْنَ اَخِي 30ۙ ) 20 ۔ طہ :30-29) حق تعالیٰ نے درخواست قبول فرمائی اور ہارون (علیہ السلام) کو نبی بنا کر ان کی اعانت وتقویت کے لیے دے دیا۔ ویسے عمر میں حضرت ہارون (علیہ السلام) بڑے تھے کہتے ہیں کہ دنیا میں کسی نے اپنے بھائی کے لیے اس سے بڑی شفاعت نہیں کی جو موسیٰ (علیہ السلام) نے حضرت ہارون (علیہ السلام) کے لیے کی تھی۔
Read the full tafseer →آیت 53 وَوَہَبْنَا لَہٗٓ مِنْ رَّحْمَتِنَآ اَخَاہُ ہٰرُوْنَ نَبِیًّا ”
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام کے لیے درخواست کی تھی کہ انہیں بھی میرے ساتھ بھیجا جائے۔ اللہ نے اپنی رحمت سے آپ علیہ السلام کی یہ درخواست قبول فرماتے ہوئے حضرت ہارون علیہ السلام کو بھی مقام نبوت سے سرفراز فرمایا۔ اس کی تفصیل بھی سورة طٰہٰ میں آئے گی۔
Read the full tafseer →50 سیدنا ہارون کب نبی بنے ؟ سیدنا ہارون، سیدنا موسیٰ کے بھائی تھے، عمر میں تین سال بڑے تھے۔ بڑے پرہیزگار انسان تھے اور سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی نسبت فصیح اللسان بھی تھے۔ جب اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ کو فرعون جیسے جابر بادشاہ کے پاس جانے، اسے راہ راست کی طرف دعوت دینے اور بنی اسرائیل کی رہائی کے مطالبہ کے لئے بھیجا تو آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی کہ میرے بھائی ہارون کو بھی نبوت عطا فرما اور اس عظیم ذمہ داری کے کام میں اسے میرا مددگار بنا۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ کی دعا قبول فرما کر اور نبوت عطا کرکے انھیں سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے ہمراہ کردیا۔
Read the full tafseer →80۔ یعنی حضرت ہارون (علیہ السلام) کو، جو عمر میں بڑے تھے، حضرت ہارون (علیہ السلام) کو جو عمر میں بڑے تھے، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی اعانت وتقویت کے لیے ان کے منصب نبوت میں شریک کردینا سرتاسر ہمارا فضل وکرم ہی تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–59
آیت نمبر 51 تا 59
ترجمہ : کتاب میں مذکور موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر کیجئے وہ بلاشبہ بڑے مخلص منتخب بندے تھے کسرہ لام اور فتحہ لام کے ساتھ مخلص مَنْ اَخْلَصَ فِی عِبَادَتِہٖ کو کہتے ہیں اور مخلص مَن اَخْلَصَہٗ اللہ مِنَ الدنَس کو کہتے ہیں (یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو ہر قسم کی آلائشوں سے پاک کردیا) اور وہ نبی مرسل تھے اور ہم نے موسیٰ کو کوہ طور کی داہنی جانب سے یا موسیٰ اِنّی اَنَا اللہ کہہ کر پکارا طور ایک پہاڑ کا نام ہے یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کی اس جانب سے (پکارا) جو مدین سے آتے ہوئے داہنی جانب پڑتی ہے اور ہم نے اس کو رازدارانہ گفتگو کے لئے اپنا مقرب بنایا، اس طریقہ پر کہ اللہ تعالیٰ نے اس…
Read the full tafseer →ووہبنا لہ من رحمتنا اخاہ ہرون نبیا۔ اور ہم نے اپنی رحمت سے ان کے بھائی ہارون کو نبی بنا کر ان کو
عطا فرمایا۔ حضرت ہارون عمر میں حضرت موسیٰ سے بڑے تھے اس لئے یہ مطلب تو نہیں ہوسکتا کہ موسیٰ کے لئے ہم نے ہارون کو پیدا کیا (بلکہ مراد یہ ہے کہ موسیٰ ( علیہ السلام) کی وجہ سے ہارون کو نبوت عطا کی اور یہ عطاء نبوت موسیٰ : ( علیہ السلام) کی درخواست پر ہوا) بغوی نے لکھا ہے اسی لئے حضرت ہارون کا نام ہبۃ اللہ (عطیۂ خداوندی) ہوگیا۔
Read the full tafseer →(53) اور ہم نے ان کو راز کی باتیں کرنے کے لیے مصاحب خاص بنایا اور ہم نے اپنی نعمت سے ان کو اور ان کے بھائی ہارون کو نبی بنا کر ان کا وزیر اور مددگار بنایا۔
Read the full tafseer →هٰرُوْنَ نَبِيًّا : موسیٰ ؑ کو نبوت عطا ہوئی تو انھوں نے اپنی مدد کے لیے اپنے بھائی ہارون ؑ کو بھی نبوت عطا کرنے کی درخواست کی۔ اللہ تعالیٰ نے اسے قبول فرمایا اور اپنی خاص رحمت سے ان کے بھائی کو نبی بنا کر انھیں ہبہ فرما دیا۔ آج تک موسیٰ ؑ کے سوا کسی بھائی نے اپنے بھائی کے لیے اتنے اونچے مرتبے کی دعا نہیں کی اور نہ ہارون ؑ کے سوا کسی کو سفارش سے یہ مقام حاصل ہوا ہے۔ موسیٰ ؑ کی اس درخواست کا ذکر سورة طہ (29 تا 35) ، شعراء (12، 13) اور قصص (34، 35) میں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–53
(تفسیر 51-53) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واذکرفی الکتب موسیٰ یعنی قرآن میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ ان پر پڑھو۔ انہ کان مخلصاً اپنی عبادت میں خلوص رکھتا تھا، ریاکار نہ تھا۔ اہل کوفہ نے لام کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے، یعنی ہم نے اسے چن لیا اور چنا ہوا بنا دیا۔ ونادینہ ہم نے جمعہ کی رات اس سے کلام کی۔ من جانب الطور الایمن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مدین سے مصر کی طرف آرہے تھے ؛ یہ طبری وغیرہ نے کہا ہے۔ کیونکہ پہاڑوں کا دایاں، بایاں نہیں ہوتا (1) ۔ وقربنہ نجیا۔ نجیا پر نصب حال کی بناء پر ہے، یعنی ہم نے بغیر وحی کے اس سے کلام کی۔ بعض علماء نے فرمایا : اس کا مطلب ہے ہم نے اسے قدرو منزلت کے اعتبار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–53
1:۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” انہ کان مخلصا “ میں مخلصا کو لام کے فتحہ کے ساتھ پڑھا۔
2:۔ عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وکان رسولا نبیا “ سے مراد ہے صرف نبی وہی ہوتا ہے جس سے کلام کیا جاتا ہے اور اس پر کلام کا نزول ہوتا ہے اور اسے کسی قوم کی طرف بھیجا جاتا ہے۔
3:۔ عبدالرزاق، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” جانب الطور الایمن “ یعنی پہاڑ کی دائیں جانب (آیت) ” وقربنہ نجیا “ یعنی ہم نے ان کو یہ قرب عطا کیا ان کے صدق اور سچائی کی وجہ سے۔
4:۔ عبدبن حمید نے ابوالعالیہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وقربنہ…
Read the full tafseer →[وَوَهَبْنَا : اور ہم نے عطا کیا ] [لَهٗ : ان (علیہ السلام) کے لئے ] [مِنْ رَّحْمَتِنَآ : اپنی رحمت سے ] [اَخَاهُ : ان (علیہ السلام) کے بھائی ] [هٰرُوْنَ : ہارون کو ] [نَبِيًّا : نبی ہوتے ہوئے ]
Read the full tafseer →پھر فرمایا (وَوَھَبْنَا لَہٗ مِنْ رَّحْمَتِنَآ اَخَاہُ ھَارُوْنَ نَبِیًّا) (اور ہم نے اپنی رحمت سے ان کے بھائی ہارون کو نبی بنا کر ان کو عطا کیا) جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کا فرمان ہوا کہ جاؤ فرعون کو تبلیغ کرو تو اس وقت جو انھوں نے دعائیں کی تھیں ان میں سے ایک یہ دعا بھی تھی کہ (وَاجْعَلْ لِّیْ وَزِیْرًا مِّنْ اَھْلِیْ ھَارُوْنَ اَخِی اشْدُدْ بْہٖٓ اَزْدِیْ ) (اور میرے کنبہ میں سے ایک معاون مقرر کردیجیے یعنی میرے بھائی ہارون کو ان کے ذریعہ میری قوت کو مضبوط فرما دیجیے) یہ سورة طہ میں ہے اور سورة قصص میں یوں ہے (وَاَخِیْ ھَارُوْنَ ھُوَ اَفْصَحُ مِنِّیْ لِسَانًا فَاَرْسَلْہُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–53
قصۂ چہارم حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ و السلام
قال اللہ تعالیٰ ۔ واذ کر فی الکتٰب موسٰٓی۔۔۔ الیٰ اخاہ ھٰرون نبیا۔
یہ چوتھا قصہ موسیٰ (علیہ السلام) کا ہے۔ خلیل اللہ کے قصے کے بعد کلیم اللہ کا قصہ ذکر فرماتے ہیں۔ اس قصہ میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی پانچ صفتیں ذکر فرمائیں۔
(1) مخلص یعنی خدا کے منتخب اور برگزیدہ بندے تھے۔ (2) رسول اور نبی تھے۔ (3) ان سے اللہ تعالیٰ نے کلام فرمایا۔ (4) ان کو اپنا مقرب بنایا۔ (5) ان کی فرمائش سے ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو نبی بنایا۔ چناچہ فرماتے ہیں :
اور اے نبی ﷺ اس کتاب یعنی قرآن میں موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ پڑھ کر لوگوں کو سنائیے۔ بیشک وہ خدا…
Read the full tafseer →38:۔ یہ تمام انعامات ہم نے ان کو عطا کیے تھے وہ خود مختار و متصرف نہیں تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–57
ربط آیات :
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعہ میں اللہ تعالیٰ نے انکے اور انکے والد کے درمیان مکالمے کا ذکر کیا ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے نہایت نرم طریقے سے اپنے باپ کو توحید کی دعوت دی مگر والد نے بڑی سختی سے ڈانٹ دیا ، اور کہا کہ یہاں سے چلا جا ورنہ تمہیں سنگسار کر دوں گا ، چناچہ آپ اپنے آبائی وطن سے ہجرت کر گئے ، اس دوران میں اللہ تعالیٰ کی مہربانی آپ کے شامل حال ہوئی اللہ آپ کو حضرت اسحاق جیسا بیٹا اور حضرت یعقوب جیسا عظیم المرتب پوتا عطا فرمایا ، یہ دونوں اللہ کے برگزیدہ نبی تھے اور لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا درس دیتے تھے ، کفر وشرک کی تردید کرتے تھے اور لوگوں کو ان سے باز…
Read the full tafseer →وَوَہَبْنَا لَہٗ مِنْ رَّحْمَتِنَآ اَخَاہُ ہٰرُوْنَ نَبِيًّا 53
أخ
أخ الأصل أخو، وهو : المشارک آخر في الولادة من الطرفین، أو من أحدهما أو من الرضاع . ويستعار في كل مشارک لغیره في القبیلة، أو في الدّين، أو في صنعة، أو في معاملة أو في مودّة، وفي غير ذلک من المناسبات . قوله تعالی: لا تَكُونُوا كَالَّذِينَ كَفَرُوا وَقالُوا لِإِخْوانِهِمْ [ آل عمران/ 156] ، أي : لمشارکيهم في الکفروقوله تعالی: أَخا عادٍ [ الأحقاف/ 21] ، سمّاه أخاً تنبيهاً علی إشفاقه عليهم شفقة الأخ علی أخيه، وعلی هذا قوله تعالی: وَإِلى ثَمُودَ أَخاهُمْ [ الأعراف/ 73] وَإِلى عادٍ أَخاهُمْ [ الأعراف/ 65] ، وَإِلى مَدْيَنَ أَخاهُمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–63
تفسیر : یہ چوتھا قصہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ہے کہ خدا نے ان کو کوہ طور کی جانب سے پکارا یعنی اننی انا اللہ الخ کے ساتھ موسیٰ کو خطاب کر کے کلام کیا اور اس شرف کے بعد دوسرا شرف یہ بخشا کہ ان کے بھائی ہارون ( علیہ السلام) کو بھی ان کی مدد کے لیے نبی بنایا۔
واذکر فِی الکتاب اسماعیل یہ پانچواں تذکرہ حضرت اسماعیل ذبیح اللہ (علیہ السلام) کا ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بڑے بیٹے تھے چونکہ یہ ایک مستقل رتبہ کے شخص تھے اس لیے ان کو ان کے باپ کے ذیل میں ذکر نہ کیا بلکہ جداگانہ۔ ان کا پہلا وصف یہ ہے کہ کان صادق الوعد وعدے کے بڑے سچے تھے۔ مروی ہے کہ ایک شخص سے وعدہ کیا تھا کہ میں تمہارا فلاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
وَنَادَیْنٰـہٓ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ الْاَیْمَنِ وَقَرَّبْنٰـہُ نَجِیًّا۔ (مریم : 52)
(اور ہم نے اس کو طور کے داہنی جانب سے پکارا، اور راز و سرگوشی کے لیے اس کو قریب کیا۔ )
اَ لْاَیْمَنِکا مفہوم
اس آیت کریمہ میں الْاَیْمَنِ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اس کا معنی مقدس اور مبارک بھی ہوتا ہے اور داہنے کو بھی کہتے ہیں۔ بعض اہل علم نے پہلا معنی مراد لیا اور بعض نے دوسرا، جبکہ امکان دونوں معنوں کا ہے۔ اگر پہلا معنی مراد لیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مدین سے مصر کو جاتے ہوئے رات کی تاریکی میں راستہ بھول گئے۔ دور سے انھوں نے پہاڑ کے اوپر آگ جلتی دیکھی۔ آپ ( علیہ السلام) نے اپنے بچوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
فہم القرآن
ربط کلام : انبیاء کرام (علیہ السلام) کے اوصاف حمیدہ کا بیان جاری ہے۔
حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بڑے بیٹے ہیں۔ جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ہاں تقریباً چھیاسی سال کے بعد پیدا ہوئے۔ یہ واحد پیغمبر ہیں جنھیں ذبیح اللہ ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔ اسی بنیاد پر انھیں وعدے کا سچا اور بیک وقت نبی اور رسول کے لقب سے نوازا گیا ہے۔ ان کے بارے میں یہ روایت بھی ملتی ہے کہ انھوں نے کسی آدمی سے ملاقات کا وعدہ فرمایا۔ اس کے نہ پہنچنے کی وجہ سے تین دن تک اس کا انتظار کرتے رہے۔ ایسی ہی روایت نبی آخر الزمان ﷺ کے بارے میں بھی موجود ہے۔ تین دن انتظار کرنے کا یہ معنٰی…
Read the full tafseer →53: وَوَھَبْنَا لَہٗ مِں ْ رَّحْمَتِنَآ (اور ہم نے ان کو اپنی رحمت سے عطاء کیا) منؔ اجلیہ ہے اپنی رحمت کے سبب سے اور اس پر اپنی مہربانیوں کی وجہ سے اَخَاہُ ھٰرُوْنَ نَبِیًّا (اس کے بھائی ہارون کو نبوت )
نحو : اخاہؔ مفعول اور ھارونؔ اس کا بدل اور نبیًاؔ حال ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے ووھبنالہ نبوۃ اخیہ ہم نے اس کو ان کے بھائی ہارون کی نبوت ھبہ کردی ورنہ ہارون تو ان سے عمر میں بڑے تھے۔ ان کے ھبہ کا کوئی معنی نہیں۔
Read the full tafseer →تفسیر۔
53۔ ووھبنالہ من رحمتنا اخاہ ہارون نبیا، جب حضرت موسیٰ نے دعا کی اور کہا ، واجعل لی وزیرا من اھلی ہارون اخی، اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کی دعا سن لی اور ان کو حضرت ہارون عطا کیے اور اسی وجہ سے ان کو ہبہ کیے گئے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–53
51۔ 53:۔ تفسیر سدی اور تفسیر ابن جریر وغیرہ میں حضرت موسیٰ کی پیدائش کا قصہ جو ذکر کیا گیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی پیدائش سے پہلے فرعون نے خواب میں دیکھا کہ بیت المقدس کی طرف سے ایک آگ نکلی اور سوا بنی اسرائیل کے محلہ کے تمام مصر کو اس آگ نے جلا دیا فرعون نے اپنا یہ خواب اس وقت کے نجومیوں سے بیان کیا انہوں نے کہا ایک لڑکا بنی اسرائیل میں کا جس کا اصل وطن ملک شام بیت المقدس کی سر زمین ہے پیدا ہونے والا ہے اس کے ہاتھ سے مصر خواب اور برباد ہوگا۔ فرعون نے بنی اسرائیل میں جو لڑکے پیدا ہوتے تھے ان کے مار ڈالنے کا حکم دیا۔ ہزارہا لڑکے بنی اسرائیل کے قتل کیے گئے جب حضرت…
Read the full tafseer →آیت 53
یعنی اس قرآن عظیم میں، حضرت موسیٰ بن عمران کی تعظیم و توقیر، ان کے مقام عالی قدر اور اخلاق کاملہ کی تعریف کے طور پر، ان کا ذکر کیجیے۔ (انہ کان مخلصاً ) (مخلصاً ) کو لام کی زبر کے ساتھ پڑھا گیا ہے۔ اس کا معنی یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو تمام جہانوں پر فضیلت دی، اسے پسند کرلیا اور اسے چن لیا۔ ایک دوسری قرأت میں (مخلصا) کو لام کی زیر کے ساتھ پڑھا گیا ہے تب اس کے معنی یہ ہوگا کہ حضرت موسیٰ اپنے تمام اعمال، اقوال اور نیت میں اللہ تعالیٰ کے لئے مخلص تھے۔ ان کے تمام احوال میں اخلاص ان کا وصف تھا۔۔۔ دونوں معنی ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–57
ملیاً کے معانی
قول باری ہے (واھجرنی ملیاً ۔ بس تو ہمیشہ کے لئے مجھ سے الگ ہوجا) حسن، مجاہد ، سعید بن جبیہ اور سدی سے مروی ہے کہ (ملیا) کے معنی ایک طویل عرصے کے ہیں۔ حضرت ابن عباس، قتادہ اور ضحاک سے مروی ہے کہ ” تو میری سزا سے اپنے آپ کو بچا کر صحیح سالم چلا جا۔ “ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ یہ عربوں کے اس محاورے سے ماخوذ ہے۔” فلاں ملی بھذا الامر (فلاں شخص اس معاملے میں بڑا باکمال ہے اور اس کے ساتھ ہی چمٹا رہتا ہے۔
Read the full tafseer →62 حضرت ہارون کی نبوت سے سرفرازی کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا " اور ہم نے اپنی رحمت سے آپ کے بھائی ہارون کو نبی بنادیا "۔ آپ کی اس دعاء کو قبول کرتے ہوئے جو کہ آپ نے اپنے بھائی ہارون کی نبوت کے لئے کی تھی۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَاجْعَلْ لِّیْ وَزِیْرًا مِّنْ اَہْلِیْ ، ہٰرُوْنَ اَخِیْ } (طٓہ : 29-30) ۔ اور اس کے جواب میں آپ کو فرمایا گیا تھا ۔ { قَدْ اُوْتِیْتَ سُوْلَکَ یَا مُوْسٰی } ۔ (طٓہ : 36) " موسیٰ آپ کی دعا و درخواست قبول کرلی گئی "۔ سو اس سے بھی حضرت موسیٰ کی عظمت شان کے چند اہم پہلو اجاگر ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ آپ کی دعاء کو اس طرح شرف قبولیت سے نواز دیا گیا۔ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–53
سیدنا موسیٰ اور سیدنا ہارون (علیہما السلام) کا تذکرہ
تشریح : سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد کچھ اور پیغمبروں کا ذکر ان آیات میں کیا گیا ہے۔ سب سے پہلے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر مختصر الفاظ میں یوں کیا جا رہا ہے۔ کیونکہ ان کے بارے میں تفصیلاً پہلے گزر چکا ہے۔ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی اللہ تبارک تعالیٰ نے اپنے بندوں میں سے خاص طور پر چن لیا تھا، یعنی رسول بنایا۔ نبی اور رسول کا مطلب ایک ہی ہے کیونکہ نبی کا مطلب ہے خبر دینے والا اور رسول کا مطلب ہے اللہ کا پیغام دینے والا، یعنی ایسا خاص، عالی مرتبہ، نیک خصلت اور پاکیزہ متقی انسان جس کو اللہ تعالیٰ لوگوں کو راہ راست پر لانے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–65
(رکوع نمبر 4)
اسرارومعارف
آپ کتاب اللہ میں سے موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں بھی بتائیں کہ لوگوں نے بہت سی باتیں گھڑ رکھی تھیں ، یہود جو آپ ﷺ پر اعتراضات سکھاتے تھے خود اس ہستی کے حالات سے بیخبر تھے جس کی امت ہونے کا دعوی کرتے تھے تو ارشاد ہوا وہ تو ” مخلص “ تھے یعنی اللہ جل جلالہ نے انہیں محض اپنی اطاعت اور عبادت کے لیے چن لیا تھا ۔
(حفاظت الہیہ)
یہ کمال سب انبیاء کرام (علیہ السلام) میں ہوتا ہے کہ نبی معصوم ہوتا ہے اور بعض اللہ جل جلالہ کے بندوں کو اپنے نبی کے اتباع سے نصیب ہوتا ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ انہیں قدرتا گناہوں سے بچانے کا اہتمام ہوجاتا ہے اور وہ محفوظ ہوتے ہیں یعنی ہر آن انہیں…
Read the full tafseer →ف 5 بھید کہنے سے مراد بازداری کی باتیں کرتا ہے اور دوسرے معنی یعنی ” بلند کر کے نزدیک بلایا ۔ اس لحاظ سے ہیں کہ تابعین کی ایک جماعت سے منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو اتنا قریب کیا کہ انہوں نے لوح محفوظ پر قلم چلنے کی آواز سنی کذا قال السدی (شوکانی ابن کثیر) حضرت ہارون اگرچہ عمر میں حضرت موسیٰ سے بڑے تھے مگر انہیں پیغمبر اس وقت ملی جب حضرت موسیٰ نے درخواست کی۔ (دیکھیے آیت 30-29)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
(19:53) اخاہ ھرون نبیا۔ اخاہ۔ اس کا بھائی۔ مضاف مضاف الیہ مل کر وھبنا کا مفعول ہے۔ ھرونبدل اخاہکا۔ اور نبیا حال ہے۔ ووھبنالہ من رحمتنا اخاہ ھرون نبیا۔ اور ہم نے اپنی رحمت سے ان کے بھائی ہارون کو نبی کی حیثیت سے ان کو بخشا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–58
لغات القرآن آیت نمبر 51 تا 58
مخلصاً منتخب کیا ہوا، چنا ہوا۔ نادینا ہم نے آواز دی۔ الایمن داہنی جانب۔ نجی خاموشی سے راز بتانا۔ صادق الوعد سچا وعدہ کرنے والا۔ مرضی پسندیدہ۔ رفعنا ہم نے بنلد کیا۔ انعم اس نے انعام کیا۔ کرم کیا۔ اسرائیل حضرت یعقوب کا لقب تھا۔ اجتبنا ہم نے منتخب کیا۔ خروا وہ گر پڑے۔ ب کیا (بکی) روتے ہوئے۔
تشریح : آیت نمبر 51 تا 58
سورة مریم کی ان آیات میں حضرت موسیٰ ، حضرت اسماعیل اور حضرت ادریس (علیہ السلام) کی کچھ اہم خصوصیات کا ذکر کر کے فرمایا گیا کہ جب اہل ایمان کے سامنے اللہ کہ یہ آیات تلاوت کی جاتی ہیں اور ان میں اللہ کے سامنے جھک جانے کا حکم آتا ہے تو وہ نہایت عاجزی و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–53
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر اور نبی اور رسول میں فرق
ارشاد ہوتا ہے کہ کتاب میں موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر کرو، موسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے برگزیدہ تھے۔ موسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے برگزیدہ تھے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نبی بھی تھے، اور رسول بھی۔ رسول اس کو کہتے ہیں جو صاحب کتاب اور صاحب شریعت ہو، اور نبی اس کو کہتے ہیں جو پیغمبر کی کتاب اور شریعت کا پابند ہو، اور موسیٰ (علیہ السلام) ایسے برگزیدہ ہیں کہ ہم نے ان کو طور کے دائیں طرف پکارا تھا، اور راز کہنے کے لئے ان کو قریب کیا تھا۔ اور شرف ان کو یہ عطا ہوا تھا کہ ہم نے اپنی رحمت سے ان کی مدد کے لئے ان کے بھائی ہارون کو نبوت دے کر متعین کیا۔ تمام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–58
[20] رسول۔ صاحب شریعت ہوتا ہے لیکن نبی صاحب وحی ہوتا ہے۔ اپنے ساتھ شریعت نہیں لاتا بلکہ پچھلی شریعت کی تبلیغ کرتا ہے جیسے بنی اسرائیل کے انبیاء شریعت موسوی کی تبلیغ کرتے تھے۔ بالفاظ دیگر ہر رسول نبی بھی ہوتا ہے مگر ہر نبی رسول نہیں ہوتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
(ف 1) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بھی ان پیغمبروں میں ہیں جنہیں عرب جانتے تھے ، فرمایا وہ ہمارے خاص مقر میں میں سے تھے ہم نے انہیں نبوت و رسالت کا خلعت بخشا ، اور طور پر شرف مکالمہ عطا ہوا ، اور ہارون (علیہ السلام) کو نبی بنایا ، تاکہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) کے شریک حال رہیں ، اور مل کر دعوت وتبلیغ میں سرگرمی دکھائیں ۔
Read the full tafseer →-53 اور ہم نے اپنی رحمت سے ان کے بھائی ہارون کو نبی بنا کر ان کو دیا اور عطا کیا یعنی انہوں نے درخواست کی کہ میری زبان میں لکنت ہے اس لئے ہارون کو میری امداد کے لئے بھیج دیجیے حضرت حق جل مجدہ نے حضرت موسیٰ کی دعا قبول کی اور ان کے بھائی ہارون کو نبوت عطا فرما کر ان کے ہمراہ کردیا۔ حضرت شاہ صاحب فرمایت ہیں یعنی ان کے ساتھ مدد گار ہوئے۔ 12
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
ف 1۔ یعنی ان کی درخواست کے موافق ان کو نبی کیا کہ ان کی مدد کریں۔
Read the full tafseer →سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو ہارون (علیہ السلام) عطا فرمانے سے مراد کیا ہے ؟ :
53۔ اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو مصر سے گئے ہوئے ایک لمبا عرصہ گزر چکا تھا لیکن اس کے باوجود وہ مصر کے حالات سے پوری طرح باخبر تھے کیونکہ دوسری جگہ قرآن کریم میں ارشاد فرمایا گیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنا راز نبوت بتایا اور مصر میں فرعون کے پاس جانے کی ہدایت فرمائی تو سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے اس وقت دعا فرمائی کہ اے میرے پروردگار مصر میں میرا ایک بھائی ہارون بھی ہے آپ اس کو بھی میرے ساتھ کام میں شریک کر دیجئے کہ وہ میرے سے زیادہ فصیح اللسان ہے اور میرے سے…
Read the full tafseer →وَوَهَبْنَا لَهُ مِن رَّحْمَتِنَا أَخَاهُ هَارُونَ
"And We, out of our mercy, granted him his brother Harun." - 19:53.
Literal meaning of ھبہ is a gift. Sayyidna Musa (علیہ السلام) had prayed to Allah to grant prophethood to Sayyidna Harun (علیہ السلام) also in order to provide him support. This prayer was granted and the word وَهَبْنَا has been used to describe this episode i.e. the grant of the gift of Harun (علیہ السلام) to Sayyidna Musa (علیہ السلام) . That is why Sayyidna Harun (علیہ السلام) is also known as the Gift of Allah (ھبۃ اللہ). (Mazhari)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–55
31.“The right side of the Mount”means the eastern side of the mountain. As Prophet Moses (peace be upon him), on his way from Midian to Egypt, was passing from the southern side of Mountt Toor, the eastern side would lie on his right and the western on his left if he faced the mountain, otherwise a mountain by itself cannot have a right or a left side.
32. See(E.N. 206 of Surah An-Nisa).
Read the full tafseer →