Explained with ayahs 46–48
باپ کی ابراہیم ؑ کو دھمکی۔
حضرت ابراہیم ؑ کے اس طرح سمجھانے پر ان کے باپ نے جو جہالت کا جواب دیا وہ بیان ہو رہا ہے کہ اس نے کہا ابراہیم تو میرے معبودوں سے بیزار ہے، ان کی عبادت سے تجھے انکار ہے اچھا سن رکھ اگر تو اپنی اس حرکت سے باز نہ آیا، انہیں برا کہتا رہا، ان کی عیب جوئی اور انہیں گالیاں دینے سے نہ رکا تو میں تجھے سنگسار کر دونگا۔ مجھے تو تکلیف نہ دے نہ مجھ سے کچھ کہہ۔ یہی بہتر ہے کہ تو سلامتی کے ساتھ مجھ سے الگ ہوجائے ورنہ میں تجھے سزا دوں گا۔ مجھ سے تو تو اب ہمیشہ کے لئے گیا گزرا۔ حضرت ابراہیم ؑ نے فرمایا اچھا خوش رہو میری طرف سے آپ کو کوئی تکلیف نہ پہنچے گی کیونکہ آپ میرے والد ہیں بلکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–49
سورة مَرْیَم 27 (الف)
تشریح کے لئے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد دوم، التوبہ، حاشیہ 112
Read the full tafseer →وَاَعْتَزِلُكُمْ وَمَا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَاَدْعُوْا رَبِّيْ ، ایک طرف تو حضرت خلیل اللہ ؑ نے باپ کے ادب و محبت کی رعایت میں یہ اتنہا کردی جس کا ذکر اوپر آچکا ہے دوسری طرف یہ بھی نہیں ہونے دیا کہ حق کے اظہار اور اس پر مضبوطی کو کوئی ادنی سی ٹھیس لگے، باپ نے جو گھر سے نکل جانے کا حکم دیا تھا اس کو اس جملہ میں بخوشی منظور کرلیا اور ساتھ ہی یہ بھی بتلا دیا کہ میں تمہارے بتوں سے بیزار ہوں صرف اپنے رب کو پکارتا ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
تفسیر آیات 47 تا 48: قَالَ سَلامٌ عَلَيْكَ سَأَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّي إِنَّهُ كَانَ بِي حَفِيًّا (47) وَأَعْتَزِلُكُمْ وَمَا تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ وَأَدْعُو رَبِّي عَسَى أَلا أَكُونَ بِدُعَاءِ رَبِّي شَقِيًّا (48)
سَلامٌ یہاں وداعی سلام کے مفہوم میں ہے۔ جس طرح ملاقات کے لیے شائستہ اور بابرکت طریقہ یہ ہے کہ وہ سلام کے ساتھ ہو اسی طرح جدائی کے لیے بھی شائستہ طریقہ یہی ہے۔ إِنَّهُ كَانَ بِي حَفِيًّا، حفی اس کو کہتے ہیں جو کسی کی بڑی خبر رکھنے والا، اس کے لیے بڑا اہتمام کرنے والا اور اس پر بےنہایت کرم فرمانے والا ہو۔
حضرت ابراہیم نے جب باپ کو اتنا غضب ناک دیکھا تو فرمایا کہ بہتر ہے، اگر ٓپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
49۔ 1 حضرت یعقوب علیہ السلام، حضرت اسحاق ؑ کے بیٹے یعنی حضرت ابراہیم ؑ کے پوتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا ذکر بھی بیٹے کے ساتھ اور بیٹے ہی کی طرح کیا۔ مطلب یہ ہے کہ جب ابراہیم ؑ توحید الٰہی کی خاطر باپ کو، گھر کو اور اپنے پیارے وطن کو چھوڑ کر بیت المقدس کی طرف ہجرت کر گئے، تو ہم نے انھیں اسحاق و یعقوب (علیہما السلام) سے نوازا تاکہ ان کی انس و محبت، باپ کی جدائی کا صدمہ بھلا دے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–49
23: عام حالات میں کافروں کو سلام کی ابتدا کرنا جائز نہیں ہے، لیکن جہاں کوئی دینی مصلحت داعی ہو تو اس نیت سے سلام کرنے کی گنجائش ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے اسلام کی توفیق دے کر سلامتی سے ہم کنار فرمائیں۔
24: سورة توبہ (114:9) میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑ کے اس وعدے کا حوالہ دیا ہے اور اس سے واضح ہوتا ہے کہ آپ نے یہ وعدہ اس وقت کیا تھا جب آپ کو یہ معلوم نہیں تھا کہ اس کے مقدر میں ایمان نہیں ہے چنانچہ جب یہ بات معلوم ہوگئی تو پھر آپ اس کے لیے دعا کرنے سے دست بردار ہوگئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
تم پر خدا کی سلامتی ہو ‘ نہ جھگڑا ہے ‘ نہ تردید ہے ‘ نہ دھمکی اور نہ ارادہ قتل کے جواب میں رد عمل ہے۔ بلکہ جواب یہ ہے کہ میں تمہارے بارے میں اپنے رب سے دعا کرتا رہوں گا کہ وہ آپ کو اس گمراہی سے اور شیطان کی دوستی سے کسی طرح نکال لائے۔ آپ پر رحم فرمائے اور آپ کو ہدایت نصیب کرے۔ میرے ساتھ میرے رب کا معاملہ یہ ہے کہ میں نے جب بھی دعا کی ہے میرے رب نے مجھے نامراد نہیں لوٹایا اور اگر میرا آپ کے پاس رہنا اور آپ کی نظروں کے سامنے پھرنا آپ کو پسند نہیں تو اے ابا جان ‘ میں آپ کو اور آپ کی قوم کو چھوڑدوں گا۔ آپ جانیں اور آپ کے معبود جانیں۔ میں تو اپنے رب وحدہ ہی کی بندگی کروں گا اور مجھے یقین ہے کہ…
Read the full tafseer →11 یعنی میری نصیحت کا جب کوئی اثر تم پر نہیں، بلکہ الٹا مجھے دھمکیاں دیتے ہو، تو اب میں خود تمہاری بستی میں رہنا نہیں چاہتا۔ تم کو اور تمہارے جھوٹے معبودوں کو چھوڑ کر وطن سے ہجرت کرتا ہوں تاکہ یکسو ہو کر اطمینان سے خدائے واحد کی عبادت کرسکوں۔ حق تعالیٰ کے فضل و رحمت سے کامل امید ہے کہ اس کی بندگی کر کے میں محروم و ناکام نہیں رہوں گا۔ غربت و بیکسی میں جب اس کو پکاروں گا، ادھر سے ضرور اجابت ہوگی۔ میرا خدا پتھر کی مورتی نہیں کہ کتنا ہی چیخو چلاؤ سن ہی نہ سکے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
آیت 48 وَاَعْتَزِلُکُمْ وَمَا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَاَدْعُوْا رَبِّیْز ”
میں تو اپنے رب ہی کی بندگی کروں گا ‘ اسی سے دعا کروں گا۔
Read the full tafseer →44 سیدنا ابراہیم کا اپنے باپ کے لئے دعائے مغفرت کا وعدہ :۔ چناچہ سیدنا ابراہیم نے گھر سے نکل جانے میں ہی اپنی اور اپنے دین کی عافیت سمجھی۔ مگر اپنے باپ کے حق میں اتنے خیر خواہ اور نرم دل تھے کہ جاتی دفعہ کسی ناراضگی کا اظہار کرنے کے بجائے اس کے لئے امن و سلامتی کی دعا کی اور وعدہ کیا کہ میں تمہارے لئے اپنے پروردگار سے بخشش کی دعا کرتا رہوں گا اور کرتے بھی رہے پھر آپ کو بذریعہ وحی معلوم ہوگیا کہ مشرک کی کسی صورت بخشش نہیں ہوسکتی تو آپ ایسی دعا کرنے سے رک گئے جیسا کہ سورة توبہ میں گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →72۔ یعنی قلبا واعتقادا تو میں پہلے ہی سے علیحدہ تھا، اب سکونت بھی یہاں کی چھوڑے دیتا ہوں، چناچہ اس کے بعد آپ ملک شام کو ہجرت فرماگئے تو ان کے مخاطبین اول، مشرکین عرب کے لیے اس قصہ ابراہیمی میں خصوصیت کے ساتھ سبق ہدایت موجود ہے۔ وہ بھی نسل ابراہیمی سے تھے اور پنے کو پیرو بھی انہیں کے دین کو ظاہر کرتے تھے۔ (آیت) ” واعتزلکم “۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اس میں معاند سے یکسو ہوجانے کی تعلیم ہے۔
73۔ (بہ خلاف مشرکوں کے، جو اپنی معبودوں کو پکار کر محروم ہی رہتے ہیں) حضرت ابراھیم (علیہ السلام) پیغمبر ہیں، اور پیغمبر بھی کیسے جلیل القدر۔ اللہ کے خلیل۔ اس پر دعوی کے ساتھ یہ نہیں کہتے کہ میری دعا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–50
آیت نمبر 41 تا 50
ترجمہ : آپ کفار مکہ کو کتاب میں مذکور ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ سنائیے یعنی اس کی خبر بیان کیجئے بیشک وہ بڑی راستی والے نبی تھے یعنی نہایت سچے نبی تھے اور اِذ قال لابیہ خبْرَہ سے بدل ہے (یعنی اس وقت کا قصہ بیان کیجئے) جب انہوں نے اپنے والد آزر سے عرض کیا تھا یَا اَبَتِ اے ابا جان، تایائے اضافت کے عوض میں ہے (عوض اور معوض) دونوں کو جمع کرنا جائز نہیں ہے اور آزر بت پرستی کرتا تھا آپ ان (بتوں) کی پوجا پاٹ کیوں کرتے ہیں ؟ جو نہ سنیں اور نہ دیکھیں اور نہ آپ کے کچھ کام آسکیں یعنی نہ کفایت کرسکیں، نہ نفع پہنچا سکیں اور نہ نقصان کو دفع کرسکیں اے میرے مہربان باپ میرے پاس وہ علم…
Read the full tafseer →واعتزلکم وما تدعون من دون اللہ اور میں (اپنے دین کو لے کر) تم لوگوں سے اور ان چیزوں سے
جن کو اللہ کے سوا تم پوجتے ہو الگ ہوجاؤں گا۔ مقاتل نے کہا حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کوفی سے ہجرت کر کے ارض پاک کو چلے گئے الگ ہونے کی آپ نے یہی شکل اختیار کی۔
وادعونی ربی عسی الا اکون بدعآء ربی شقیا۔ اور اپنے رب کی عبادت کروں گا۔ امید
ہے کہ اپنے رب کی عبادت کر کے محروم نہیں رہوں گا یعنی جس طرح تم لوگ بتوں کی پوجا کر کے اور ان کو پکار کے ناکام رہتے ہو۔ اس طرح میں اپنے رب کو پکار کر اور اس کی عبادت کر کے نامراد نہیں رہوں گا۔ لفظ عسیٰ (امید ہے۔ قریب ہے) کا استعمال محض تواضع اور انکسار نفس و اظہار عجز کے طور…
Read the full tafseer →(48) اور میں تم لوگوں سے اور جن بتوں کی تم عبادت کرتے ہو سب سے علیحدگی اختیار کرتا ہوں اور بس میں اپنے رب کی عبادت کروں گا کیوں کہ مجھے امید اور یقین ہے کہ میں اپنے رب کی عبادت کرکے محروم نہیں رہوں گا۔
Read the full tafseer →وَاَعْتَزِلُكُمْ وَمَا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ۔۔ : یعنی تم سے اور تمہارے معبودوں سے تعلق توڑ کر جب میں اپنے اکیلے رب کو پکاروں گا تو مجھے امید ہے کہ میں اپنے رب کو پکارنے میں بےنصیب نہیں رہوں گا اور وہ کسی بھی مرحلے پر مجھے بےیارو مددگار نہیں چھوڑے گا۔ اشارے سے یہ بھی کہہ دیا کہ میرا رب تمہارے بتوں کی طرح نہیں ہے کہ انھیں کتنا ہی پکارتے رہو، وہ خاک نفع نہیں پہنچا سکتے۔ ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی عاجزی کا اظہار بھی کہ اس پر میرا یا کسی کا زور نہیں، محض اس کے فضل سے امید ہے، کیونکہ اس اکیلے کو پکارنے والا کبھی بےنصیب نہیں رہتا۔
ابراہیم ؑ کی کفار سے اور ان کے بتوں سے علیحدگی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–50
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واعتزلکم، العزلہ کا معنی جدائی ہے، سورة الکہف میں اس کا بیان ہوچکا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : عسی الا اکون ببدعا ربی شقیا۔ بعض علماء نے فرمایا : اس سے مراد دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے اہل اور اولاد عطا کرے جن سے وہ تقویت حاصل کرے تاکہ وہ اپنی قوم سے جدائی کی وجہ سے وحشت میں مبتلا نہ ہوں اسی وجہ سے فرمایا : فلما اعتزلھم وما یعبدون من دون اللہ وھبننالہ اسحاق ویعقوب ہم نے اسے بیٹے کی نعمت بخش کر اس کی وحشتکو دور کیا۔ حضرت ابن عباس وغیرہ سے یہ مروی ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : عسیٰ ، اس ببات پر دلالت کرتا ہے کہ بندہ قطعی طور پر یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ معرفت پر باقی رہے یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–50
1:۔ ابونعیم اور دیلمی نے ا نس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا والد کا حق اس کی اولاد پر یہ ہے کہ اس کا نام نہ لے مگر جس طرح ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد کو پکارا تھا اے میرے باپ اور اس کے نام کے ساتھ اس کو نہ پکارے۔
2:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لارجمنک “ سے مراد ہے کہ میں تجھ کو ضرور گالیاں دوں گا (آیت) ” واھجرنی ملیا “ یعنی ایک مدت تک۔
3:۔ ابن جریر، ابن منذر، اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” واھجرنی ملیا “ سے مراد ہے صحیح سالم مجھ سے دور ہوجا اس سے پہلے کہ میری طرف سے کوئی سزا تجھ کو پہنچ جائے۔
عبد بن حمید نے عکرمہ ؓ…
Read the full tafseer →[وَاَعْتَزِلُكُمْ : اور میں کنارہ کش ہوتا ہوں آپ سب سے ] [وَمَا : اور اس سے جس کو ] [تَدْعُوْنَ : آپ لوگ پکارتے ہیں ] [مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ : اللہ کے سوا ] [وَاَدْعُوْا : اور میں پکارتا ہوں ] [رَبِيْ : اپنے رب کو ] [عَسٰٓى: امید ہے ] [اَلَّآ اَكُوْنَ : کہ میں نہیں ہوں گا ] [بِدُعَاۗءِ رَبِيْ : اپنے رب کو پکارنے سے ] [شَقِيًّا : نامراد ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–48
پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا (وَاَعْتَزِلُکُمْ وَمَا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللِّٰہ) اور میں تم لوگوں سے اور ان چیزوں سے کنارہ کرتا ہوں جن کی تم اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہو، وادعوا ربی اور میں اپنے رب کو پکارتا ہوں (عَسٰٓی اَنْ لَّآ اَکُوْنَ بْدُعَآءِ رَبِّیْ شَقِیًّا) (امید ہے کہ میں اپنے رب کی دعا سے محروم نہ رہوں گا) یعنی میری دعا اور کوشش ضائع نہ جائے گی اور تم لوگوں کو جو شقاوت گھیرے ہوئے ہے مجھے اللہ تعالیٰ اس سے دور رکھے گا قال صاحب الروح و فیہ تعریض بشقاوتھم فی عبادۃ الھتھم اور آیت میں ہجرت کا اعلان ہے اس کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے وطن سے ہجرت فرما کر ملک شام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–50
قصۂ سوم حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ و السلام
قال اللہ تعالیٰ ۔ واذکر فی الکتٰب ابرٰھیم۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ وجعلنا لھم لسان صدق علیا۔
ربط۔ اس سورة کا یہ تیسرا قصہ ہے جس میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی خدا پرستی کا ذکر ہے کہ وہ کیسے خدا پرست تھے اور کس طرح انہوں نے اپنے باپ کو توحید کی دعوت دی اور کس طرح شرک اور بت پرستی کا بطلان ظاہر کیا اور اس دعوت اور تبلیغ میں اپنے باپ کے ادب اور احترام کو ملحوظ رکھا اور پھر کس طرح انہوں نے اللہ تعالیٰ کے لیے اپنے باپ کو چھوڑا اور اپنے آبائی وطن سے ہجرت کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے درجے بلند کیے اور ان کو اولاد صالح عطا فرمائی اور تمام امتوں اور قوموں میں ان کا ذکر خیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
35:۔ یہ سلام تحیہ نہیں۔ بلکہ سلام متارکت ہے۔ والجمھور علی ان المراد بسلامہ المسالمۃ التیھی المتارکۃ لا التحیۃ (قرطبی) ۔ ” حَفِیًّا “ مہربان۔ ” اَعْتَزِلُکُمْ الخ “” سَاَسْتَغْفِرُ “ پر معطوف ہے یعنی میں تمہارے پاس سے اور جن کو تم اللہ تعالیٰ کے سوا پکارتے ہو ان سے دور چلا جاؤں گا۔ اور اپنے پروردگار کو پکاروں گا اور مجھے امید ہے کہ وہ مجھے خائب و خاسر نہیں فرمائے گا اور تمہاری جدائی کا نعم البدل عطا فرمائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–50
ربط آیات :
پہلے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت اور انکے عقیدے کا ذکر ہوا پھر اللہ تعالیٰ نے شرک کی تردید فرمائی اور اس ضمن میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ بھی اختصار کے ساتھ بیان ہوا ، آپ نے اپنے باپ کو نہایت نرم اور محبت آمیز لہجے میں سمجھایا کہ تم جن بتوں کی پوجا کرتے ہو یہ نہ سن سکتے ہیں ، نہ دیکھ سکتے ہیں اور نہ کسی کام آسکتے ہیں آپ نے یہ بھی فرمایا کہ میرے پاس قطعی علم آچکا ہے جو تمہارے پاس نہیں ہے لہذا آپ میری بات مانیں میں آپ کو سیدھا راستہ دکھاؤں گا ، اس سے یہ بات بھی سمجھ میں آتی ہے کہ اگر بیٹا اہل علم ہے تو باپ کو اس سے سیکھنے میں عار نہیں محسوس کرنی چاہئے بلکہ یہ تو…
Read the full tafseer →وَاَعْتَزِلُكُمْ وَمَا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہِ وَاَدْعُوْا رَبِّيْ 0ۡۖ عَسٰٓى اَلَّآ اَكُوْنَ بِدُعَاۗءِ رَبِّيْ شَقِيًّا 48
عزل
الاعْتِزَالُ : تجنّب الشیء عمالة کانت أو براءة، أو غيرهما، بالبدن کان ذلک أو بالقلب، يقال : عَزَلْتُهُ ، واعْتَزَلْتُهُ ، وتَعَزَّلْتُهُ فَاعْتَزَلَ. قال تعالی: وَإِذِ اعْتَزَلْتُمُوهُمْ وَما يَعْبُدُونَ إِلَّا اللَّهَ
[ الكهف/ 16]
( ع ز ل ) الا عتزال
کے معنی ہیں کسی چیز سے کنارہ کش ہوجانا عام اس سے کہ وہ چیز کوئی پیشہ ہو یا کوئی بات وغیرہ ہو جس سے بری ہونے کا اعلان کیا جائے نیز وہ علیحدہ گی بذریعہ بدن کے ہو یا بذریعہ دل کے دنوں قسم کی علیحگی پر بولا جاتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–50
حفیا قال الکسائی یقال جفی بی حفادۃ وعقوۃ ای اعتنی ای وبالغ فی اکرامی وقدیحیٰ بمعنی المشتقصی فی السوال ومنجی قولہ تعالیٰ کا حصی عنہھا۔ 12 منہ
Read the full tafseer →وَاَعْتَزِلُـکُمْ وَمَا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَاَدْعُوْا رَبِّی عَسٰٓی اَلَّآ اَکُوْنَ بِدُعَآئِ رَبِّیْ شَقِیًّا۔ (مریم : 48)
(اور میں چھوڑ کے الگ ہورہا ہوں تمہیں اور ان کو جنھیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو، میں صرف اپنے رب ہی کی بندگی کروں گا، امید ہے کہ اپنے رب کی بندگی کرکے میں محروم نہیں رہوں گا۔ )
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی غیرت و حمیت
ایک طرف تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی رقت قلبی کا عالم یہ ہے کہ اپنے باپ کے ظالمانہ رویئے پر بھی وہ ان کے لیے استغفار کرتے ہیں اور ان کی دردمندی اس نامناسب سلوک پر بھی شکست نہیں کھاتی اور دوسری طرف غیرت و حمیت کا عالم یہ ہے کہ اپنے گھر کو…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنے والد کو مؤدبانہ جواب۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد کو سخت جواب دینے کی بجائے نہایت ادب کے ساتھ فرمایا آپ میری دعوت قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں تو میرا آپ کو سلام ہو۔ میں آپ کے لیے اپنے رب سے بخشش کی دعا کروں گا کیونکہ وہ بڑا ہی مہربان ہے۔ اب میں آپ اور جن کو بھی تم اللہ تعالیٰ کے سوا پکارتے ہو ان سے کنارہ کش ہوتا ہوں۔ میں تو اپنے رب کو ہی پکارتا رہوں گا۔ میرا ایمان ہے کہ میرا رب مجھے کبھی محروم نہیں کرے گا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے باپ سے رخصت ہوتے ہوئے انھیں سلام کیا۔ ظاہر ہے کہ ان کی شریعت میں مشرک کو سلام کرنے کی…
Read the full tafseer →48: وَاَعْتَزِلُکُمْ (اور میں تم لوگوں سے الگ ہوجائوں گا) علیحدگی کے ارادے سے مراد وہ ہجرت ہے۔ جو انہوں نے بابل سے شام کی طرف کی۔ وَمَاتَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ (اور جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو) یعنی جن بتوں کی تم عبادت کرتے ہو۔ وَاَدْعُوْا رَبِّیْ (اور میں اپنے رب کو پکاروں گا) یعنی اپنے رب کی عبادت کرونگا پھر آپ نے بطور تواضع اور کسر نفسی کے کہا اور ان کے بتوں کو پکارنے کی وجہ سے بدبختی سے اعراض کرتے ہوئے کہا۔
عَسٰٓی اَلَّآاَکُوْنَ بِدُعَآ ئِ رَبِّیْ شَقِیًّا (مجھے امید ہے کہ میں اپنے رب کی پکار سے بدنصیب نہ ہونگا) یعنی جس طرح تم بتوں کی عبادت کر کے بدنصیب ہوگئے۔
Read the full tafseer →48۔ واعتزلکم وماتدعون من دون اللہ، میں کنارہ کشی کرتا ہوں ان معبودوں کی جن کی تم پوجا کرتے ہو مقاتل کا بیان ہے کہ حضرت ابراہیم نے ان سے جدائی اختیار کرکے ارض مقدسہ کی طرف چلے گئے ، وادعواربی، کہ میں اپنے رب کی عبادت کروں۔ عسی ان لااکون بدعاء ربی شقیا، جس طرح تم اپنے بتوں کی پوجا کرکے اور ان کو پکارنے کے بعد بھی ناکام رہتے ہو اس طرح میں اپنے رب کو پکار کر اور اس کی عبادت کرکے نامراد نہیں رہوں گا، بعض نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ مجھے امید ہے کہ جب میں اس سے دعاء کروں تو وہ میری دعا قبول کرے گا اور تمہاری معبود تمہاری دعا قبول نہیں کرتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–50
41۔ 50:۔ تفسیر سدی اور سیرۃ ابن اسحاق میں حضرت ابرہیم (علیہ السلام) کی پیدائش کا قصہ جو لکھا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کی پیدائش سے پہلے نمرود نے خواب میں دیکھا تھا کہ ایک بڑا روشن ستارہ آسمان پر نکلا ہے اس وقت کے نجومیوں سے اس نے اپنا یہ خواب بیان کیا انہوں نے جواب دیا کہ اس سال ایک لڑکا ایسا پیدا ہوگا کہ اسکے سبب سے تیری سلطنت غارت ہوجائے گی اس خواب کی تعبیر کے خوف سے بستی کے سب مردوں کو اپنے ساتھ لے کر نمرود بستی کے باہر چلا گیا اور سب عورتوں کو بستی کے اند چھوڑ دیا تاکہ اس سال مرد و عورت میں مباشرت اور کوئی اولاد پیدا نہ ہو، مگر جب آزر بستی میں آئے تو ان سے نہ رہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–52
آیت 41
تمام کتابوں میں سب سے زیادہ جلیل القدر، سب سے افضل اور سب سے زیادہ بلند مرتبے والی کتاب، یہ کتاب مبین اور ذکر حکیم یعنی قرآن مجید ہے۔ اگر اس میں خبریں بیان کی گئی ہیں تو یہ خبریں سب سے زیادہ سچی، سب سے زیادہ حق اور سب سے زیادہ نفع مند ہیں۔ اگر اس میں اوامر ونواہی کا تذکرہ ہے تو یہ اوامرونواہی سب سے زیادہ قدر و قیمت کے حامل اور سب سے زیادہ عدل و انصاف پر مبنی ہیں۔ اگر اس میں سزا و جزا اور وعدے و عید کا ذکر کیا گیا ہے تو وہ سب سے زیادہ سچی خبر اور سب سے زیادہ حق ہے اور اللہ تعالیٰ کی حکمت اور اس کے عدل و فضل پر سب سے زیادہ دلالت کرتی ہے اور اگر اس میں انبیاء ومرسلین کا ذکر ہے تو اس میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–57
ملیاً کے معانی
قول باری ہے (واھجرنی ملیاً ۔ بس تو ہمیشہ کے لئے مجھ سے الگ ہوجا) حسن، مجاہد ، سعید بن جبیہ اور سدی سے مروی ہے کہ (ملیا) کے معنی ایک طویل عرصے کے ہیں۔ حضرت ابن عباس، قتادہ اور ضحاک سے مروی ہے کہ ” تو میری سزا سے اپنے آپ کو بچا کر صحیح سالم چلا جا۔ “ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ یہ عربوں کے اس محاورے سے ماخوذ ہے۔” فلاں ملی بھذا الامر (فلاں شخص اس معاملے میں بڑا باکمال ہے اور اس کے ساتھ ہی چمٹا رہتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
58 حضرت ابراہیم کی دردمندی اور دلسوزی کا ایک اور مظہر : سو یہاں سے حضرت ابراہیم کی دردمندی اور دلسوزی کا ایک اور مظہر سامنے آتا ہے کہ آپ نے علیحدگی کے اس موقعہ پر باپ سے کہا " اور میں آپ کیلئے اپنے رب سے بخشش کی دعا کرتا رہوں گا " کہ وہ آپ کو ہدایت و ایمان کی دولت سے سرفراز فرما دے تاکہ آپ کی بخشش کا سامان ہو سکے۔ لیکن جب آپ (علیہ السلام) کو یقین ہوگیا کہ اب اس شخص کو ایمان ملنے والا نہیں تو آپ نے اس وعدہ سے اظہار و اعلان براءت فرما دیا۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا ۔ { وَمَاکَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرَاہِیْمَ لِاَبِیْہِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَۃٍ وَّعَدَہَآ اِیَّاہُ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَہٗ اَنَّہُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–50
سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی ہجرت اور اللہ کا ان پر فضل و کرم
تشریح : یہاں سے پھر اہل مکہ کو خطاب کیا جا رہا ہے۔ اور ان مسلمانوں کو جو کفار مکہ کی دشمنی کی وجہ سے مکہ کو چھوڑ کر حبشہ کی طرف ہجرت کر رہے تھے۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر اس لیے کیا جا رہا ہے کیونکہ وہ اپنے کردار اور صفات کی وجہ سے یہودی، عیسائی، کفار مکہ اور مسلمانوں میں یکساں طور پر مکرم و محترم سمجھے جاتے ہیں سب ہی مذاہب میں ان کی بےحد بلند جگہ سمجھی جاتی ہے۔
کفار مکہ کو یاد کروایا گیا کہ تم کو جب بتوں کی پوجا سے منع کیا جاتا ہے تو تم لوگ کہتے ہو ” ہمارے آباو اجداد یہی کرتے آئے ہیں اور ساتھ ہی تم لوگ ملت ابراہیمی کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–50
(رکوع نمبر 3)
اسرارومعارف
انہیں کتاب اللہ میں ابراہیم (علیہ السلام) کے حالات بھی سنائیے کہ مشرکین عرب ان کی پیروی کا دعوی رکھتے تھے مگر عقائد و اعمال مشرکانہ گھڑ رکھے تھے تو یہ بھی واضح ہوجائے کہ محض واقعات عجیبہ ہی سننے کا شوق رکھتے ہیں یا حق کی طلب بھی تاکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے حالات سے ان کا عقیدہ اور عمل بھی اپنی صحیح صورت میں سامنے آجائے کہ وہ تو صدیق تھے اور نبی تھے ۔
(صدیق)
یہاں صدیق سے مراد سچائی لیا جائے تو ہر نبی ہی صدیق اور سچا ہوتا ہے تو پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی خصوصیت کیا رہ جاتی ہے ۔
(معنے اور منصب نیز مناصب ولایت کی خصوصیات)
حق یہ ہے کہ صدیق ہونا یا ” صدیقیت “…
Read the full tafseer →ف 11 یعنی وطن سے نکل کر پردیس کی حالت میں جب میں اسے پکاروں گا تو وہ میری دعا ضرور قبول فرمائے گا اور کسی مرحلے پر مجھے بےیارو مددگار نہ چھوڑے گا۔ مطلب یہ ہے کہ تمہارے بتوں کی طرح نہیں ہے کہ انہیں کتنا ہی پکارتے رہو وہ خاک نفع نہیں پہنچا سکتے۔
Read the full tafseer →(19:48) اعتزلکم۔ مضارع واحد متکلم کمضمیر مفعول جمع مذکر حاضر اعتزال مصدر افتعال۔ میں تم کو چھوڑتا ہوں۔ اعتزال۔ کنارہ کرنا۔ الگ ہوجانا۔ ایک طرف ہوجانا۔ وما تدعون من دون اللہ۔ مفعول ثانی۔ اور ان کو (بھی) جن کی تم عبادت کرتے ہو۔ اللہ کو چھوڑ کر۔ تدعون مضارع جمع مذکر حاضر۔ دعوۃ سے تم پکارتے ہو (حاجت روائی کے لئے) ۔
ارعوا۔ مضارع واحد متکلم دعوۃ سے میں پکارتا ہوں۔ عسی۔ امید ہے۔ توقع ہے۔ یقین ہے۔ الا اکون۔ ان لا اکون۔ کہ میں نہیں ہوں گا کہ میں نہیں رہوں گا۔ بدعاء ربی۔ میں اپنے رب سے دعا کر کے۔ میں اپنے رب کو پکار کر (حاجت روائی کے لئے)
شقیا۔ شقاوۃ سے فعیل کے وزن پر صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ شقی کی جمع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–50
لغات القرآن آیت نمبر 41 تا 50
یابت اے میرے ابا جان۔ سوی سیدھا، برابر۔ عصی نافرمان۔ ان یمسک یہ کہ تجھے پہنچے۔ یہ کہ تجھے پکڑے۔ اراغب کیا تو منہ پھیرتا ہے۔ (کیا تو رغبت رکھتا ہے۔ ) لم تنتہ تو باز نہ آیا۔ ارجمن میں ضرور پتھر ماروں گا۔ اھجرنی مجھے تنہا چھوڑ دے۔ ملی ایک وقت، مدت۔ استغفر میں دعائے مغفرت کروں گا۔ حفی مہربان۔ اعتزل میں الگ ہوتا ہوں۔ میں چھوڑتا ہوں۔ ادعوا میں پکاروں گا۔ شقی محروم۔ وھبنا ہم نے عطا کیا۔ لسان صدق سچی زبان، ذکر جمیل، علی نہایت بلند۔ اللہ تعالیٰ کی صفت
تشریح : آیت نمبر 41 تا 50
سورة مریم میں حضرت عیسیٰ حضرت زکریا اور حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–48
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا بیان
یہ تیسرا تذکرہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ کتاب میں ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر ہے بیشک وہ سچے نبی تھے۔ یہاں اس وقت کی ثابت قدمی اور خدا پرستی مذکور ہے۔ جب ابتدائے شباب میں انہوں نے بت پرستی کو حقیر جانا، اور اپنے باپ سے کہا تھا :" اے باپ ! تو ایسی چیزوں کی عبادت کیوں کرتا ہے جن کو نہ سننے کی طاقت اور نہ دیکھنے کی قدرت ہے، نہ یہ چیزیں تیرے کام آسکتی ہیں یعنی بتوں کی پرستش نہ کرو۔ ان سے کوئی کام نہیں بن سکتا ۔ اے باپ ! مجھے اللہ نے وہ علم دیا ہے کہ تجھے حاصل نہیں، تو میرے کہنے پر چل۔ میں تجھے سیدھا راستہ بتاؤں گا۔ اے میرے باپ ! شیطان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–50
[19] ظاہر ہے کہ شیطان کی تو کوئی بھی عبادت نہیں کرتا سب اس پر لعنت ہی کرتے ہیں۔ ابراہیم (علیہ السلام) کے والد اور ان کی قوم کے لوگ اگرچہ پرستش بتوں کی کرتے تھے لیکن کیونکہ وہ اطاعت شیطان کی کر رہے تھے اس لئے ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کی اطاعت شیطان کو بھی عبادت شیطان قرار دیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کے احکام اور اس کی ہدایات کو چھوڑ کر کسی دوسرے کے احکام اور رہنمائی کا اتباع کرنا دراصل اس کی اطاعت و بندگی ہے۔ لفظ '' عبادت '' کی تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة فاتحہ حاشیہ 11۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
(ف 1) باپ نے بتوں کی محبت میں پدری رعب وداب سے کام لیا اور ڈانٹ سے کہا کیا میں اپنے خداؤں کو چھوڑ دوں ؟ میں ہرگز اپنے عقائد سے بیقرار ہونے کے لئے تیار نہیں ، اور نہ میں یہ چاہتا ہوں کہ تم ان خیالات میں الجھے رہو ، فورا توحید کے عقیدے سے باز آجاؤ ، ورنہ میں تجھے سنگسار کر دوں گا ، اور تو دور ہوجا ، اب میرے اور تیرے درمیان اختلاف کی ناقابل عبور خلیج حائل ہے ۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) صدیق تھے ، حق گوئی اور بیباکی ان کا خاص وصف تھا انہوں نے یہ سب کچھ سنا ، اور نہایت استقلال اور عزیمت سے جواب دیا ، کہ جناب خدا کی راہ میں گھر کی آسائیشون کی قطعا پروا نہیں کرتا ، میں بتوں کے ساتھ ساتھ تم کو بھی…
Read the full tafseer →-48 اور میں تم سے اور ان معبود ان باطلہ سے جن کو تم اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر پکارتے ہو ان سب سے میں بالکل کنارہ کش ہوجاتا ہوں اور میں تم سے علیحدہ ہو کر اپنے رب کی عبادت کیا کروں گا اور اسی کو پکاروں گا اور مجھ کو پوری امید ہے کہ میں اپنے پروردگار کی عبادت کر کے محروم اور بدبخت نہیں رہوں گا۔ یعنی دل سے تو علیحدہ ہی ہوں اب اپنے جسم اور بدن کو بھی تم سے جدا کرلیتا ہوں اور ہجرت کر کے چلا جاتا ہوں کیونکہ اب تم خدا کی عبادت میں بھی مزاحمت کرو گے اور مجھ کو یقین ہے کہ میں اپنے پروردگار کی عبادت اور اس کو پکار کر کے محروم نہ رہوں گا اور میری عبادت بیکار نہ جائے گی۔ جیسا کہ معبود ان باطلہ کے پجاری اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–48
ف 5۔ اس گفتگو کے بعد ان سے اس طرح علیحدہ ہوئے کہ ملک شام کی طرف ہجرت کر کے چلے گئے۔
Read the full tafseer →چلتے چلتے سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے اتنی بات مزید کہہ ہی دی :
48۔ گزشتہ آیت میں آپ پڑھ آئے ہیں کہ الوداعی ملاقات میں سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے والد کو دعائے مغفرت مانگتے رہنے کا فرمایا تھا بلاشبہ باپ باپ ہی تھا لیکن کیا بیٹا بیٹا نہیں تھا ؟ جہالت اور علم کس طرح نکھر کر سامنے آگیا کہ جہالت ٹس سے مس نہ ہوئی لنکت علم نے آبدیدہ ہو کر دعائے مغفرت کرنے کا جملہ پھر بھی بول دیا لیکن ہمارے علمائے کرام ‘ اللہ ان پر رحم کرے آج بھی اسی جہالت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے مشرک باپ کے لئے دعائے مغفرت کا وعدہ کرکے غلطی کی ، افسوس صد افسوس اس علم پر جس نے ان کو یہ…
Read the full tafseer →وَأَعْتَزِلُكُمْ وَمَا تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ وَأَدْعُو رَبِّي
And go away from you and what you invoke besides Allah. And I shall invoke my Lord." - 19:48.
On the one hand Sayyidna Khalilullah (علیہ السلام) went to the extreme to show his respect and love for his father, which has been described above, and on the other hand he did not allow the slightest doubt to be cast on his expression of the universal truth (حق) or on his total belief in it. He accepted willingly his father's orders to leave the house and also made it known that he had totally dissociated himself from his…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–49
27. It should be noted that the literal translation of the Arabic text is:“Do not worship Satan”, though Abraham’s father and the other people did not worship Satan in the same sense as they worshiped idols. But as they followed and obeyed Satan, he accused them of worshiping Satan. Thus it is clear that if somebody follows and obeys Satan, he virtually worships him. For Satan has never been a deity in the sense that people have made him an object of worship; nay, they have always been cursing him and following him at the same time. (For further details see (Surah Al-Kahf E.Ns 49-50).
27a.…
Read the full tafseer →