Explained with ayahs 49–50
لا تعلق ہونے کا اعلان۔
خلیل اللہ ؑ ماں باپ کو رشتے کنبے کو قوم وملک کو اللہ کے دین پر قربان کرچکے سب سے یک طرف ہوگئے اپنی برات اور علیحدگی کا اعلان کردیا تو اللہ نے ان کی نسل جاری کردی آپ کے ہاں حضرت اسحاق ؑ پیدا ہوئے اور حضرت اسحاق کے ہاں یعقوب ؑ ہوئے۔ جیسے فرمان ہے (وَيَعْقُوْبَ نَافِلَةً ۭ وَكُلًّا جَعَلْنَا صٰلِحِيْنَ 72) 21۔ الأنبیاء :72) اور آیت میں ہے (وَمِنْ وَّرَاۗءِ اِسْحٰقَ يَعْقُوْبَ 71) 11۔ ھود :71) یعنی اسحاق کے پیچھے یعقوب پس حضرت اسحاق حضرت یعقوب ؑ کے والد تھے جیسے سورة بقرہ کی آیت (اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَاۗءَ اِذْ حَضَرَ يَعْقُوْبَ الْمَوْتُ01303) 2۔ البقرة :133) ، میں صاف لفظ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–49
سورة مَرْیَم 27 (الف)
تشریح کے لئے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد دوم، التوبہ، حاشیہ 112
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
فَلَمَّا اعْتَزَلَهُمْ وَمَا يَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ ۙ وَهَبْنَا لَهٗٓ اِسْحٰقَ وَيَعْقُوْبَ ، اس جملے سے پہلے جملے میں ابراہیم ؑ کا یہ قول آیا ہے کہ میں امید کرتا ہوں کہ میں اپنے پروردگار سے دعا کرنے میں ناکام و نامراد نہیں ہوں گا۔ ظاہر یہ ہے کہ گھر اور خاندان سے جدائی کے بعد تنہائی کی وحشت وغیرہ کے اثرات سے بچنے کی دعا مراد تھی مذکورہ جملہ میں اس دعا کی قبولیت اس طرح بیان فرمائی گئی ہے کہ جب ابراہیم ؑ نے اللہ کے لئے اپنے گھر، خاندان اور ان کے معبودوں کو چھوڑ دیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کی مکافات اس طرح فرمائی کہ ان کو صاحبزادہ اسحٰق ؑ عطا فرمایا اور ساتھ ہی اس کا عمر دراز پانا اور…
Read the full tafseer →فَلَمَّا اعْتَزَلَهُمْ وَمَا يَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ وَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَكُلا جَعَلْنَا نَبِيًّا۔
ہجرت اور اس کی برکات : حضرت ابراہیم کا مذکورہ بالا اعلانِ براءت ہجرت کے ہم معنی تھا چناچہ اس کے بعد انہوں نے ہجرت فرمائی۔ اس ہجرت کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کو حضرت اسحاق اور اس کے بعد حضرت یعقوب عطا فرمائے اور ان میں سے ہر ایک کو نبوت سے سرفراز فرمایا۔ حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب کا ذکر آیت میں جس انداز سے ہوا ہے اس سے یہ بات مترشح ہوتی ہے کہ یہ حضرت ابراہیم ؑ کی ہجرت کے ثمرات و برکات میں سے ہیں۔ جو بندہ اپنے گھر در، اپنے باپ چچا اور اپنے اعزاء و اقرباء سب کو اپنے رب کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
49۔ 1 حضرت یعقوب علیہ السلام، حضرت اسحاق ؑ کے بیٹے یعنی حضرت ابراہیم ؑ کے پوتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا ذکر بھی بیٹے کے ساتھ اور بیٹے ہی کی طرح کیا۔ مطلب یہ ہے کہ جب ابراہیم ؑ توحید الٰہی کی خاطر باپ کو، گھر کو اور اپنے پیارے وطن کو چھوڑ کر بیت المقدس کی طرف ہجرت کر گئے، تو ہم نے انھیں اسحاق و یعقوب (علیہما السلام) سے نوازا تاکہ ان کی انس و محبت، باپ کی جدائی کا صدمہ بھلا دے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–49
23: عام حالات میں کافروں کو سلام کی ابتدا کرنا جائز نہیں ہے، لیکن جہاں کوئی دینی مصلحت داعی ہو تو اس نیت سے سلام کرنے کی گنجائش ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے اسلام کی توفیق دے کر سلامتی سے ہم کنار فرمائیں۔
24: سورة توبہ (114:9) میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑ کے اس وعدے کا حوالہ دیا ہے اور اس سے واضح ہوتا ہے کہ آپ نے یہ وعدہ اس وقت کیا تھا جب آپ کو یہ معلوم نہیں تھا کہ اس کے مقدر میں ایمان نہیں ہے چنانچہ جب یہ بات معلوم ہوگئی تو پھر آپ اس کے لیے دعا کرنے سے دست بردار ہوگئے۔
Read the full tafseer →حضرت اسحاق ابراہیم (علیہ السلام) کے بیٹے ہیں۔ یہ سارہ سے پیدا ہوئے ‘ جو پہلے بانجھ تھیں اور یعقوب حضرت اسحاق کے بیٹے ہیں ‘ لیکن یعقوب (علیہ السلام) کو بھی ابراہیم (علیہ السلام) کا بیٹا سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ دادا کی زندگی میں پیدا ہوئے تھے اور دادا کے زیر تربیت رہے تھے ۔ گویا وہ براہ راست ان کے بیٹے تھے۔ انہوں نے براہ راست حضرت ابراہیم سے دین سیکھا اور پھر اپنی اولاد کو سکھایا۔ یہ بھی اپنے باپ کی طرح نبی تھے۔
Read the full tafseer →1 یعنی اللّٰہ کی راہ میں ہجرت کی اور اپنوں سے دور پڑے۔ اللّٰہ تعالیٰ نے ان سے بہتر اپنے دیے تاکہ غریب الوطنی کی وحشت دور ہو اور انس و سکون حاصل کریں۔ شاید یہاں حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کا ذکر اس لیے نہیں کیا کہ وہ ان کے پاس نہیں رہے۔ بچپن ہی میں جدا کردیے گئے تھے۔ نیز ان کا مستقل تذکرہ آگے آنے والا ہے۔ (تنبیہ) حضرت اسحاق حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بیٹے اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) حضرت اسحاق (علیہ السلام) کے بیٹے ہیں۔ ان ہی سے سلسلہ بنی اسرائیل کا چلا۔ جن میں سینکڑوں نبی ہوئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
آیت 48 وَاَعْتَزِلُکُمْ وَمَا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَاَدْعُوْا رَبِّیْز ”
میں تو اپنے رب ہی کی بندگی کروں گا ‘ اسی سے دعا کروں گا۔
Read the full tafseer →45 ہجرت کے بعد اللہ کا ابراہیم (علیہ السلام) کو اولاد عطا کرنا :۔ جب آپ نے اللہ کی راہ میں اپنے گھر کو اور گھر والوں کو خیر باد کہتے ہوئے ہجرت اختیار کی تو اللہ نے ان کا نعم البدل اولاد کی شکل میں انھیں عطا فرمایا۔ جو بہرحال چھوڑے ہوئے رشتہ داروں سے بہتر تھے تاکہ غریب الوطنی کی وحشت دور ہو اور انس و سکون حاصل کریں، اولاد بھی ایسی جو سب نبی تھے۔ سیدنا اسحاق بھی نبی پھر ان کے بیٹے یعقوب بھی نبی پھر انہی کی اولاد سے یعنی بنی اسرائیل میں سینکڑوں نبی پیدا ہوئے۔
Read the full tafseer →74۔ یعنی جب آپ اپنے شہر حران (ملک کلدانیہ) سے ہجرت کرکے ملک شام میں آب سے، تو اس ترک وطن واہل وطن سے آپ دنیوی ومادی اعتبار سے بھی گھاٹے میں نہ رہے، دوسرا وطن آپ کو مل گیا۔ صاحب اولاد آپ ہوئے، اولاد در اولاد تک پیغمبر ہوئی، ساری خوشیاں اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں آپ کی اس ہجرت اور ترک وطن کا ذکر تو ریت موجودہ میں ان الفاظ میں ہے :۔” اور خداوند نے ابرام کو کہا تھا کہ تو اپنے ملک اور اپنے قرابتیوں کے درمیان سے اور اپنے باپ کے گھر سے اس ملک میں جو میں تجھے دکھاؤں گا نکل چل، اور میں تجھے ایک بڑی قوم بناؤں گا۔ اور تجھ کو مبارک اور تیرے نام بڑا کروں گا۔ اور تو ایک برکت ہوگا “۔ (پیدائش 12: 1، 2) ” سو وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–50
آیت نمبر 41 تا 50
ترجمہ : آپ کفار مکہ کو کتاب میں مذکور ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ سنائیے یعنی اس کی خبر بیان کیجئے بیشک وہ بڑی راستی والے نبی تھے یعنی نہایت سچے نبی تھے اور اِذ قال لابیہ خبْرَہ سے بدل ہے (یعنی اس وقت کا قصہ بیان کیجئے) جب انہوں نے اپنے والد آزر سے عرض کیا تھا یَا اَبَتِ اے ابا جان، تایائے اضافت کے عوض میں ہے (عوض اور معوض) دونوں کو جمع کرنا جائز نہیں ہے اور آزر بت پرستی کرتا تھا آپ ان (بتوں) کی پوجا پاٹ کیوں کرتے ہیں ؟ جو نہ سنیں اور نہ دیکھیں اور نہ آپ کے کچھ کام آسکیں یعنی نہ کفایت کرسکیں، نہ نفع پہنچا سکیں اور نہ نقصان کو دفع کرسکیں اے میرے مہربان باپ میرے پاس وہ علم…
Read the full tafseer →فلما اعتزلہم وما یعبدون من دون اللہ وہبنا لہ اسحاق و یعقوب وکلا جعلنا نبیا۔
پھر جب ابراہیم ان لوگوں سے اور اللہ کے سوا جن کی وہ عبادت کرتے تھے ان سے علیحدہ ہوگئے تو ہم نے اس کو اسحاق (بیٹا) اور یعقوب (پوتا) عطا کیا اور (ان دونوں میں سے) ہر ایک کو نبی بنایا۔
یعنی جب سب کو چھوڑ کر ابراہیم ملک شام کو چلے گئے تو چھوٹے ہوئے کافر قرابت داروں کے عوض ہم نے ان کو اسحاق و یعقوب عطا فرمائے اور عزت مند اولاد دے کر ان کی آنکھیں ٹھنڈی کیں اور ان دونوں میں سے ہر ایک کو پیغمبر بنایا۔ بیضاوی نے لکھا ہے کہ صرف حضرت اسحاق و حضرت یعقوب کا ذکر شاید اس لئے خصوصیت کے ساتھ کیا کہ یہ دونوں بزرگ آئندہ پیغمبروں کی اصل…
Read the full tafseer →(49) چناچہ جب حضرت ابراہیم ؑ ان لوگوں اور ان بتوں سے علیحدہ ہوگئے تو ہم نے ان کو حضرت (اسحاق ؑ بیٹا اور (حضرت یعقوب ؑ پوتا عطا کیا۔
Read the full tafseer →فَلَمَّا اعْتَزَلَهُمْ وَمَا يَعْبُدُوْنَ۔۔ : وطن سے ہجرت اور مشرکین سے کنارہ کشی کے عوض اللہ تعالیٰ نے انھیں جو بیشمار نعمتیں عطا کیں ان میں سے ایک یہ تھی کہ انھیں بڑی شان والا بیٹا اور پوتا یعنی اسحاق اور یعقوب ؑ عطا کیے، تاکہ ان کا دل لگ جائے اور بےوطنی سے وحشت نہ ہو۔
وَكُلًّا جَعَلْنَا نَبِيًّا : یہ آیت دلیل ہے کہ اسحاق اور یعقوب ؑ ان کی زندگی ہی میں نبی بن چکے تھے، کیونکہ اگر بعد میں نبی بننا مراد ہوتا تو یوسف ؑ کا بھی ذکر ہوتا، کیونکہ وہ بھی نبی تھے۔ بیٹے اور پوتے کی خوشی ہی کچھ کم نہیں ہوتی، کجا یہ کہ ان کی پہلے ہی خوش خبری بھی مل جائے (ہود : 71) اور اپنی آنکھوں سے انھیں نبوت کے عالی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–50
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واعتزلکم، العزلہ کا معنی جدائی ہے، سورة الکہف میں اس کا بیان ہوچکا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : عسی الا اکون ببدعا ربی شقیا۔ بعض علماء نے فرمایا : اس سے مراد دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے اہل اور اولاد عطا کرے جن سے وہ تقویت حاصل کرے تاکہ وہ اپنی قوم سے جدائی کی وجہ سے وحشت میں مبتلا نہ ہوں اسی وجہ سے فرمایا : فلما اعتزلھم وما یعبدون من دون اللہ وھبننالہ اسحاق ویعقوب ہم نے اسے بیٹے کی نعمت بخش کر اس کی وحشتکو دور کیا۔ حضرت ابن عباس وغیرہ سے یہ مروی ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : عسیٰ ، اس ببات پر دلالت کرتا ہے کہ بندہ قطعی طور پر یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ معرفت پر باقی رہے یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–50
1:۔ ابونعیم اور دیلمی نے ا نس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا والد کا حق اس کی اولاد پر یہ ہے کہ اس کا نام نہ لے مگر جس طرح ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد کو پکارا تھا اے میرے باپ اور اس کے نام کے ساتھ اس کو نہ پکارے۔
2:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لارجمنک “ سے مراد ہے کہ میں تجھ کو ضرور گالیاں دوں گا (آیت) ” واھجرنی ملیا “ یعنی ایک مدت تک۔
3:۔ ابن جریر، ابن منذر، اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” واھجرنی ملیا “ سے مراد ہے صحیح سالم مجھ سے دور ہوجا اس سے پہلے کہ میری طرف سے کوئی سزا تجھ کو پہنچ جائے۔
عبد بن حمید نے عکرمہ ؓ…
Read the full tafseer →[فَلَمَا : پھر جب ] [اعْتَزَلَهُمْ : وہ (علیہ السلام) کنارہ کش ہوئے ان سے ] [وَمَا : اور اس سے جس کی ] [يَعْبُدُوْنَ : وہ لوگ بندگی کرتے تھے ] [مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ : اللہ کے علاوہ ] [وَهَبْنَا : تو ہم نے عطا کیا ] [لَهٗٓ: ان (علیہ السلام) کو ] [اِسْحٰقَ : اسحاق (علیہ السلام) ] [وَيَعْقُوْبَ : اور یعقوب (علیہ السلام) ] [وَكُلًّا : اور ہر ایک کو ] [جَعَلْنَا : ہم نے بنایا ] [نَبِيًّا : نبی ]
Read the full tafseer →(فَلَمَّا اعْتَزَلَھُمْ وَمَا یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَھَبْنَا لَہٗ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ ) پھر وہ جب ان لوگوں سے اور ان چیزوں سے کنارہ ہوگئے جن کی وہ عبادت کرتے تھے تو ہم نے انھیں اسحاق اور یعقوب عطا کردیے (اسحق ان کے بیٹے تھے اور یعقوب اسحاق کے بیٹے تھے) ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے مشہور بیٹوں میں سے ایک بیٹے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) بھی تھے جن کا ذکر سورة بقرہ میں کعبہ شریف بنانے کے سلسلہ میں گزر چکا ہے اور ابھی چار آیات کے بعد آ رہا ہے۔
(وَکُلًّا جَعَلْنَا نَبِیًّا) اور ہم نے ان دونوں (اسحق و یعقوب) کو نبی بنایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–50
قصۂ سوم حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ و السلام
قال اللہ تعالیٰ ۔ واذکر فی الکتٰب ابرٰھیم۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ وجعلنا لھم لسان صدق علیا۔
ربط۔ اس سورة کا یہ تیسرا قصہ ہے جس میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی خدا پرستی کا ذکر ہے کہ وہ کیسے خدا پرست تھے اور کس طرح انہوں نے اپنے باپ کو توحید کی دعوت دی اور کس طرح شرک اور بت پرستی کا بطلان ظاہر کیا اور اس دعوت اور تبلیغ میں اپنے باپ کے ادب اور احترام کو ملحوظ رکھا اور پھر کس طرح انہوں نے اللہ تعالیٰ کے لیے اپنے باپ کو چھوڑا اور اپنے آبائی وطن سے ہجرت کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے درجے بلند کیے اور ان کو اولاد صالح عطا فرمائی اور تمام امتوں اور قوموں میں ان کا ذکر خیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
36:۔ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ان سے اور ان کے معبودوں سے کنارہ کش ہوگئے۔ تو اللہ تعالیٰ سے فرزند کے لیے دعا کی چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک بیٹا اسحاق عطا فرمایا اور اسحاق کو یعقوب عطا کیا۔ علیہم الصلوۃ والسلام اور ان دونوں کو نبوت عطا فرمائی اور ان کی اولاد کو برکت دی۔ ” لِسَانَ صِدْقٍ الخ “ لسان سے مجازاً کلام مراد ہے اور مرکب اضافی سے لوگوں کی مدح و ثنا مراد ہے۔ یعنی ہم نے دنیا میں ان کا اچھا ذکر ان کی یادگار بنادیا۔ کہ دنیا کہ تمام لوگ ہر زمانے میں ان کو اچھائی سے یاد کرتے ہیں۔ لسان الصدق الثناء الحسن الباقی علیھم اخر الابد قالہ ابن عباس (بحر ج 6 ص 194) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–50
ربط آیات :
پہلے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت اور انکے عقیدے کا ذکر ہوا پھر اللہ تعالیٰ نے شرک کی تردید فرمائی اور اس ضمن میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ بھی اختصار کے ساتھ بیان ہوا ، آپ نے اپنے باپ کو نہایت نرم اور محبت آمیز لہجے میں سمجھایا کہ تم جن بتوں کی پوجا کرتے ہو یہ نہ سن سکتے ہیں ، نہ دیکھ سکتے ہیں اور نہ کسی کام آسکتے ہیں آپ نے یہ بھی فرمایا کہ میرے پاس قطعی علم آچکا ہے جو تمہارے پاس نہیں ہے لہذا آپ میری بات مانیں میں آپ کو سیدھا راستہ دکھاؤں گا ، اس سے یہ بات بھی سمجھ میں آتی ہے کہ اگر بیٹا اہل علم ہے تو باپ کو اس سے سیکھنے میں عار نہیں محسوس کرنی چاہئے بلکہ یہ تو…
Read the full tafseer →فَلَمَّا اعْتَزَلَہُمْ وَمَا يَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہِ 0ۙ وَہَبْنَا لَہٗٓ اِسْحٰقَ وَيَعْقُوْبَ 0ۭ وَكُلًّا جَعَلْنَا نَبِيًّا 49
وهب
الهِبَةُ : أن تجعل ملكك لغیرک بغیر عوض . يقال : وَهَبْتُهُ هِبَةً ومَوْهِبَةً ومَوْهِباً. قال تعالی:
وَوَهَبْنا لَهُ إِسْحاقَ [ الأنعام/ 84] ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَهَبَ لِي عَلَى الْكِبَرِ إِسْماعِيلَ وَإِسْحاقَ
[إبراهيم/ 39] ، إِنَّما أَنَا رَسُولُ رَبِّكِ لِأَهَبَ لَكِ غُلاماً زَكِيًّا[ مریم/ 19]
( و ہ ب ) وھبتہ
ھبۃ وموھبۃ ومو ھبا بلا عوض کوئی چیز دے دینا یا کچھ دینا قرآن میں ہے : ۔ وَوَهَبْنا لَهُ إِسْحاقَ [ الأنعام/ 84] اور ہم نے ان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–50
حفیا قال الکسائی یقال جفی بی حفادۃ وعقوۃ ای اعتنی ای وبالغ فی اکرامی وقدیحیٰ بمعنی المشتقصی فی السوال ومنجی قولہ تعالیٰ کا حصی عنہھا۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
فَلَمَّا اْعَتَزَلَہُمْ وَمَا یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ لا وَھَبْنَا لَـہٗٓ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ ط وَکُلاًّ جَعَلْنَا نَبِیًّا۔ وَوَھَبْنَا لَھُمْ مِّنْ رَّحْمَتِنَا وَجَعَلْنَا لَھُمْ لِسَانَ صِدْقٍ عَلِیًّا۔ (مریم : 49، 50)
(پس جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ان کو اور ان چیزوں کو جن کو وہ خدا کے ماسوا پوجتے تھے چھوڑ کر الگ ہوگئے تو ہم نے انھیں اسحاق ( علیہ السلام) اور یعقوب ( علیہ السلام) عطا کیے، اور ہم نے ہر ایک کو نبی بنایا۔ اور ان کو اپنی رحمت سے نوازا اور ہم نے ان کو نہایت پائیدار شہرت عطا فرمائی۔ )
ہجرت اور اس کی برکات
گزشتہ آیت کریمہ میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ہجرت اور ان پر اللہ تعالیٰ کا انعام۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) دعائیں کرتے ہوئے عراق کی سرزمین سے رخصت ہوئے۔ یہاں ان کی دو دعاؤں کا ذکر کیا جاتا ہے۔ پہلی دعا یہ تھی کہ میں اپنے رب کی خاطر سب کچھ چھوڑ رہا ہوں وہی ہجرت کے دوران میری رہنمائی فرمائے گا۔ ( الصّٰفٰت : 99)
دوسری دعا انھوں نے یہ کی کہ میرے رب ! مجھے نیک اولاد عطا فرما۔ اس دعا کے صلہ میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو خوشخبری دی گئی کہ اللہ تعالیٰ آپ کو بیٹا اور پوتا عنایت کرے گا اور دونوں کو نبی بنائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنی بےپناہ رحمت سے نوازا اور ان کے…
Read the full tafseer →انعاماتِ الٰہیہ :
49: فَلَمَّا اعْتَزَلَھُمْ وَمَا یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ (جب علیحدگی اختیار کرلی ان سے اور جن کی وہ اللہ کے سوا عبادت کرتے تھے) یعنی کفار اور ان کے معبودوں سے علیحدگی اختیار کرلی۔ وَھَبْنَالَہٗ اِسْحٰقَ وَیَعْقُوْبَ ( تو ہم نے ان کو اسحاق اور یعقوب عطا
کئے) اسحاق بیٹا اور یعقوب پوتا۔ اپنی طرف سے زائد تاکہ وہ ان دونوں سے مانوس ہوں۔ وَکُلًّا ( اور ہر ایک) یعنی ہر ایک ان دونوں میں سے جَعَلْنَا نَبِیًّا (اس کو ہم نے پیغمبر بنایا) یعنی جب انہوں نے کفار اور فجار کو چھوڑ دیا اور وہ چھوڑنا فقط اللہ کی رضا مندی کی خاطر تھا اس کے بدلے میں مومن اور انبیاء ان کی اولاد میں پیدا…
Read the full tafseer →49۔ فلمااعتزلھم ومایعبدون من دون اللہ، وہ یہاں سے ہجرت کرکے چلے گئے،۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–50
41۔ 50:۔ تفسیر سدی اور سیرۃ ابن اسحاق میں حضرت ابرہیم (علیہ السلام) کی پیدائش کا قصہ جو لکھا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کی پیدائش سے پہلے نمرود نے خواب میں دیکھا تھا کہ ایک بڑا روشن ستارہ آسمان پر نکلا ہے اس وقت کے نجومیوں سے اس نے اپنا یہ خواب بیان کیا انہوں نے جواب دیا کہ اس سال ایک لڑکا ایسا پیدا ہوگا کہ اسکے سبب سے تیری سلطنت غارت ہوجائے گی اس خواب کی تعبیر کے خوف سے بستی کے سب مردوں کو اپنے ساتھ لے کر نمرود بستی کے باہر چلا گیا اور سب عورتوں کو بستی کے اند چھوڑ دیا تاکہ اس سال مرد و عورت میں مباشرت اور کوئی اولاد پیدا نہ ہو، مگر جب آزر بستی میں آئے تو ان سے نہ رہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–52
آیت 41
تمام کتابوں میں سب سے زیادہ جلیل القدر، سب سے افضل اور سب سے زیادہ بلند مرتبے والی کتاب، یہ کتاب مبین اور ذکر حکیم یعنی قرآن مجید ہے۔ اگر اس میں خبریں بیان کی گئی ہیں تو یہ خبریں سب سے زیادہ سچی، سب سے زیادہ حق اور سب سے زیادہ نفع مند ہیں۔ اگر اس میں اوامر ونواہی کا تذکرہ ہے تو یہ اوامرونواہی سب سے زیادہ قدر و قیمت کے حامل اور سب سے زیادہ عدل و انصاف پر مبنی ہیں۔ اگر اس میں سزا و جزا اور وعدے و عید کا ذکر کیا گیا ہے تو وہ سب سے زیادہ سچی خبر اور سب سے زیادہ حق ہے اور اللہ تعالیٰ کی حکمت اور اس کے عدل و فضل پر سب سے زیادہ دلالت کرتی ہے اور اگر اس میں انبیاء ومرسلین کا ذکر ہے تو اس میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–57
ملیاً کے معانی
قول باری ہے (واھجرنی ملیاً ۔ بس تو ہمیشہ کے لئے مجھ سے الگ ہوجا) حسن، مجاہد ، سعید بن جبیہ اور سدی سے مروی ہے کہ (ملیا) کے معنی ایک طویل عرصے کے ہیں۔ حضرت ابن عباس، قتادہ اور ضحاک سے مروی ہے کہ ” تو میری سزا سے اپنے آپ کو بچا کر صحیح سالم چلا جا۔ “ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ یہ عربوں کے اس محاورے سے ماخوذ ہے۔” فلاں ملی بھذا الامر (فلاں شخص اس معاملے میں بڑا باکمال ہے اور اس کے ساتھ ہی چمٹا رہتا ہے۔
Read the full tafseer →60 مشرکوں اور ان کے شرک سے علیحدگی کی برکات کا ظہور : سو مشرک قوم اور اس کے شرک سے علیحدگی اور کنارہ کشی اختیار کرنے پر حضرت ابراہیم کو ملنے والے بعض اہم انعامات کا ذکر فرمایا گیا کہ جب حضرت ابراہیم نے اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے دین کی خاطر اپنے مشرک خاندان کو چھوڑ دیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کی جزاء اور قدر دانی میں آپ (علیہ السلام) کو ان عظیم الشان نعمتوں سے نوازا۔ پس اس سے واضح ہوگیا کہ جو کوئی اخلاص اور صدق نیت کے ساتھ حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کے لئے قربانی دے گا اس کو وہ واہب مطلق ۔ جل جلالہ ۔ ایسا نوازے گا کہ کوئی اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ یہاں دیکھئے کہ حضرت ابراہیم نے اپنے باپ کی بنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–50
سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی ہجرت اور اللہ کا ان پر فضل و کرم
تشریح : یہاں سے پھر اہل مکہ کو خطاب کیا جا رہا ہے۔ اور ان مسلمانوں کو جو کفار مکہ کی دشمنی کی وجہ سے مکہ کو چھوڑ کر حبشہ کی طرف ہجرت کر رہے تھے۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر اس لیے کیا جا رہا ہے کیونکہ وہ اپنے کردار اور صفات کی وجہ سے یہودی، عیسائی، کفار مکہ اور مسلمانوں میں یکساں طور پر مکرم و محترم سمجھے جاتے ہیں سب ہی مذاہب میں ان کی بےحد بلند جگہ سمجھی جاتی ہے۔
کفار مکہ کو یاد کروایا گیا کہ تم کو جب بتوں کی پوجا سے منع کیا جاتا ہے تو تم لوگ کہتے ہو ” ہمارے آباو اجداد یہی کرتے آئے ہیں اور ساتھ ہی تم لوگ ملت ابراہیمی کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–50
(رکوع نمبر 3)
اسرارومعارف
انہیں کتاب اللہ میں ابراہیم (علیہ السلام) کے حالات بھی سنائیے کہ مشرکین عرب ان کی پیروی کا دعوی رکھتے تھے مگر عقائد و اعمال مشرکانہ گھڑ رکھے تھے تو یہ بھی واضح ہوجائے کہ محض واقعات عجیبہ ہی سننے کا شوق رکھتے ہیں یا حق کی طلب بھی تاکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے حالات سے ان کا عقیدہ اور عمل بھی اپنی صحیح صورت میں سامنے آجائے کہ وہ تو صدیق تھے اور نبی تھے ۔
(صدیق)
یہاں صدیق سے مراد سچائی لیا جائے تو ہر نبی ہی صدیق اور سچا ہوتا ہے تو پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی خصوصیت کیا رہ جاتی ہے ۔
(معنے اور منصب نیز مناصب ولایت کی خصوصیات)
حق یہ ہے کہ صدیق ہونا یا ” صدیقیت “…
Read the full tafseer →ف 1 تاکہ اس کا دل ان میں لگ جائے اور غربت وطن کی وحشت نہ ہو۔
Read the full tafseer →(19:49) کلا۔ ای کل واحد من اسحاق و یعقوب و ابراہیم۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–50
لغات القرآن آیت نمبر 41 تا 50
یابت اے میرے ابا جان۔ سوی سیدھا، برابر۔ عصی نافرمان۔ ان یمسک یہ کہ تجھے پہنچے۔ یہ کہ تجھے پکڑے۔ اراغب کیا تو منہ پھیرتا ہے۔ (کیا تو رغبت رکھتا ہے۔ ) لم تنتہ تو باز نہ آیا۔ ارجمن میں ضرور پتھر ماروں گا۔ اھجرنی مجھے تنہا چھوڑ دے۔ ملی ایک وقت، مدت۔ استغفر میں دعائے مغفرت کروں گا۔ حفی مہربان۔ اعتزل میں الگ ہوتا ہوں۔ میں چھوڑتا ہوں۔ ادعوا میں پکاروں گا۔ شقی محروم۔ وھبنا ہم نے عطا کیا۔ لسان صدق سچی زبان، ذکر جمیل، علی نہایت بلند۔ اللہ تعالیٰ کی صفت
تشریح : آیت نمبر 41 تا 50
سورة مریم میں حضرت عیسیٰ حضرت زکریا اور حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
یہاں فرمایا کہ جب حضرت ابراہم (علیہ السلام) ان بت پرستوں اور بتوں سے الگ ہوئے، تو ہم نے ان کو ایک بیٹا اسحٰق اور ایک پوتا یعقوب (علیہ السلام) عطا کیا، اور ہم نے ہر ایک کو نبی بنایا، اور ہم نے ان کو اپنی رحمتوں سے بہت کچھ بخشا۔ اور ان کا ذکر خیر قیامت تک جاری کیا۔ جتنے باخدا لوگ ہیں وہ سب ان کو عزت کے ساتھ یاد کریں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–50
[19] ظاہر ہے کہ شیطان کی تو کوئی بھی عبادت نہیں کرتا سب اس پر لعنت ہی کرتے ہیں۔ ابراہیم (علیہ السلام) کے والد اور ان کی قوم کے لوگ اگرچہ پرستش بتوں کی کرتے تھے لیکن کیونکہ وہ اطاعت شیطان کی کر رہے تھے اس لئے ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کی اطاعت شیطان کو بھی عبادت شیطان قرار دیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کے احکام اور اس کی ہدایات کو چھوڑ کر کسی دوسرے کے احکام اور رہنمائی کا اتباع کرنا دراصل اس کی اطاعت و بندگی ہے۔ لفظ '' عبادت '' کی تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة فاتحہ حاشیہ 11۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–52
ہجرت الی اللہ کے ثمرات :
(ف 2) جب کوئی شخص اللہ کے لئے تمام لذات کو چھوڑ دے ، مال و دولت اور اعزہ اور اقرباء کی ہمدردیوں سے جدا ہوجائے ، اور وطن کی آسائیشوں اور اس کے تکلفات سے یک قلم محروم قرار پائے ، تو اس وقت اس کی تسکین قلب کے لئے اللہ کی مدد کا ہاتھ پڑھتا ہے ، اور دل و دماغ کو مسرتوں سے معمور کردیتا ہے ، غور فرمائیے دنیا کو چھوڑ دینا آسان ہے مگر خالق کائنات کو کیونکر چھوڑا جاسکتا ہے ، اس کارساز کے ساتھ اگر اچھے تعلقات قائم ہیں تو پھر ساری مخلوق تابع اور فرمانبردار ہے ، اگر وہی روٹھ گیا ، تو پھر یہاں کی مسرتوں میں کیا لطف ہے ،
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اس اہم نکتہ سے خوب واقف تھے ، جب…
Read the full tafseer →-49 پھر جب ابراہیم علیہال سلام ان کافروں سے اور ان کے معبودان باطلہ سے علیحدہ ہوگیا جن کو وہ اللہ تعالیٰ کے سوا پکارتے تھے تو ہم نے اس کو اسحق اور یعقوب عطا فرمائے یعنی بیٹا بھی دیا اور پوتا بھی اور ان دونوں میں سے ہر ایک کو ہم نے نبی کیا اور دونوں کو نبوت عطا فرمائی۔ یعنی جن لوگوں سے اللہ تعالیٰ کے لئے ہجرت کر کے گئے تھے اللہ تعالیٰ نے ان سے بہتر رفیق اور خدمت گار عطا فرمائے۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی اللہ کی راہ میں ہجرت کی اپنوں سے دور پڑے اللہ نے ان سے بہتر اپنے دیئے انسیت کو یہاں اسماعیل کا ذکر نہ فرمایا کہ وہ ان کے پاس نہ رہے۔ 12
خلاصہ ! یہ کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر اہل…
Read the full tafseer →ف 6۔ اسماعیل (علیہ السلام) کا اس جگہ ذکر نہ فرمانا اس وجہ سے ہے کہ اول تو وہ اوروں سے اول عطا ہوچکے تھے، بعد والوں کے ذکر سے قبل والے کا ذکر خود ہی مفہوم ہوجاتا ہے، دوسرے ان کا ذکر مستقل طور پر آئندہ قریب آنے والا ہے۔ تیسرے ابراہیم (علیہ السلام) کے ذکر سے جیسا عرب کا استجلاب قلب ہوا اسحاق و یعقوب (علیہما السلام) کے ذکر سے اہل کتاب کا استجلاب قلب مناسب ہے، اور اسی نکتہ کی وجہ سے اس کے متصل موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر آتا ہے، پھر اس کے بعد اسماعیل (علیہ السلام) کا آوے گا۔
Read the full tafseer →سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) جب ہجرت کرکے چلے گئے تو اللہ نے دن دگنی رات چوگنی عنایات کیں :
49۔ جاسر کہ ہم نے اوپر ذکر کیا ہے کہ یہ اعلان برات اس وقت کا تھا جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہجرت کا حکم دیا تھا اور اس اعلان کے بعد آپ نے اپنا علاقہ اور خاندان چھوڑ دیا ہاں ! وہ لوگ جو آپ کے ساتھ ایمان لائے تھے وہ یقینا آپ کے ساتھ تھے تاریخ و تفسیر سے یہ بات معلوم ہے کہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ لوط آپ کے بھتیجے اور آپ کی بیوی اور چچا زاد سارہ بنت حاران اور ایک ملازم تھے اور لوگ بھی ہوں گے لیکن کہیں ذکر نہیں دیکھا اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ ہمارا ابراہیم جب باپ ‘ خاندان اور ان سب لوگوں سے جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
فَلَمَّا اعْتَزَلَهُمْ وَمَا يَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ وَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ
"So, when he went away from them and what they worshipped besides Allah, We blessed him with Ishaq and Ya` qub." - 19:49.
In the sentence preceding this sentence Hadhrat Ibrahim (علیہ السلام) had expressed the hope that on account of his prayers and devotion Allah Ta` ala would not abandon him. This hope, in fact, was a prayer to Allah to protect him from the pain of loneliness after he left his house and family. The sentence reproduced above describes the manner in which his prayer was granted.…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–49
27. It should be noted that the literal translation of the Arabic text is:“Do not worship Satan”, though Abraham’s father and the other people did not worship Satan in the same sense as they worshiped idols. But as they followed and obeyed Satan, he accused them of worshiping Satan. Thus it is clear that if somebody follows and obeys Satan, he virtually worships him. For Satan has never been a deity in the sense that people have made him an object of worship; nay, they have always been cursing him and following him at the same time. (For further details see (Surah Al-Kahf E.Ns 49-50).
27a.…
Read the full tafseer →