Maryam 19:47

Maryam · from ayah 47

19:47

قَالَ سَلٰمٌ عَلَیْكَ ۚ— سَاَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّیْ ؕ— اِنَّهٗ كَانَ بِیْ حَفِیًّا ۟قَالَ سَلٰمٌ عَلَيۡكَ‌ۚ سَاَسۡتَغۡفِرُ لَـكَ رَبِّىۡؕ اِنَّهٗ كَانَ بِىۡ حَفِيًّا

ابراہیم نے سلام علیک کہا (اور کہا کہ) میں آپ کے لئے اپنے پروردگار سے بخشش مانگوں گا۔ بےشک وہ مجھ پر نہایت مہربان ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

[Abraham] said, "Peace will be upon you. I will ask forgiveness for you of my Lord. Indeed, He is ever gracious to me.

— Saheeh International

Juz 16 · Ruku 3 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah Maryam

All translations of 19:47

ابراہیمؑ نے کہا "سلام ہے آپ کو میں اپنے رب سے دُعا کروں گا کہ آپ کو معاف کر دے، میرا رب مجھ پر بڑا ہی مہربان ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ابراہیم نے سلام علیک کہا (اور کہا کہ) میں آپ کے لئے اپنے پروردگار سے بخشش مانگوں گا۔ بےشک وہ مجھ پر نہایت مہربان ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

کہا اچھا تم پر سلام ہو، میں تو اپنے پروردگار سے تمہاری بخشش کی دعا کرتا رہوں گا، وه مجھ پر حد درجہ مہربان ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

ابراہیم نے کہا : میں آپ کو (رخصت کا) سلام کرتا ہوں۔ میں اپنے پروردگار سے آپ کی بخشش کی دعا کروں گا۔ بیشک وہ مجھ پر بہت مہربان ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کہا بس تجھے سلام ہے قریب ہے کہ میں تیرے لیے اپنے رب سے معافی مانگوں گا بیشک وہ مجھ مہربان ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(ابراہیم علیہ السلام نے) کہا: (اچھا) تمہیں سلام، میں اب (بھی) اپنے رب سے تمہارے لئے بخشش مانگوں گا، بیشک وہ مجھ پر بہت مہربان ہے (شاید تمہیں ہدایت عطا فرما دے)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہا تجھ پر سلام ہو، میں اپنے رب سے تیرے لیے ضرور بخشش کی دعا کروں گا، بیشک وہ ہمیشہ سے مجھ پر بہت مہربان ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ابراہیم نے جواب دیا : ابا جان ! آپ پر سلام ہو۔ میں اپنے پروردگار سے آپ کے لئے بخشش کی دعا کروں گا۔ بلاشبہ میرا پروردگار مجھ پر مہربان ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ابراہیم نے کہا، اچھا میرا سلام ! میں آپ کے لیے اپنے رب سے مغفرت مانگوں گا وہ میرے حال پر بڑا ہی مہربان ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ابراہیم نے کہا اچھا تو سلام ہو آپ پر البتہ میں آپ کے لیے اپنے رب سے بخشش کی دعا کرتا رہوں گا کہ میرا رب بلاشبہ وہ مجھ پر بڑا ہی مہربان ہے

— مولانا اسحاق مدنی

(ابراہیم علیہ السلام) بولے آپ میرا سلام لیں۔ اب میں آپ کے لئے اپنے پروردگار سے مغفرت کی درخواست کروں گا۔ بیشک وہ مجھ پر بہت مہربان ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

ابراہیم ؑ نے کہا : آپ پر سلام ! میں اپنے رب سے آپ کے لیے استغفار کرتا رہوں گا وہ مجھ پر بڑا مہربان ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ابراہیم نے سلام علیکم کہا اور کہا کہ میں تو آپ کے لیے اپنے رب سے بخشش مانگوں گا وہ مجھ پر بہت مہربان ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Abraham answered: "Peace be upon you. I shall seek pardon for you from my Lord. My Lord has always been kind to Me.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He said, :Peace on you. I shall seek forgiveness for you from my Lord. He has always been gracious to me.

— Muhammad Taqi Usmani

He said, :Peace on you. I shall seek forgiveness for you from my Lord. He has always been gracious to me.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Ibrahim said: "Peace be on you! I will ask forgiveness of my Lord for you. Verily, He is unto me Hafiyyan.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He said: Peace be unto thee! I shall ask forgiveness of my Lord for thee. Lo! He was ever gracious unto me.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[Abraham] said, "Peace will be upon you. I will ask forgiveness for you of my Lord. Indeed, He is ever gracious to me.

— Saheeh International

Abraham said, "Peace be with you. I shall ask my Lord to forgive you; He has been gracious to me.

— Muhammad Sarwar

He said: Peace be on you, I will pray to my Lord to forgive you; surely He is ever Affectionate to me:

— Muhammad Habib Shakir

Ibrahim said: peace be on thee! anon shall ask forgiveness of my Lord for thee; verily He is unto me ever so soicitous.

— Abdul Majid Daryabadi

Abraham said: "Peace be on thee: I will pray to my Lord for thy forgiveness: for He is to me Most Gracious.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 19:47

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 46–48

باپ کی ابراہیم ؑ کو دھمکی۔ حضرت ابراہیم ؑ کے اس طرح سمجھانے پر ان کے باپ نے جو جہالت کا جواب دیا وہ بیان ہو رہا ہے کہ اس نے کہا ابراہیم تو میرے معبودوں سے بیزار ہے، ان کی عبادت سے تجھے انکار ہے اچھا سن رکھ اگر تو اپنی اس حرکت سے باز نہ آیا، انہیں برا کہتا رہا، ان کی عیب جوئی اور انہیں گالیاں دینے سے نہ رکا تو میں تجھے سنگسار کر دونگا۔ مجھے تو تکلیف نہ دے نہ مجھ سے کچھ کہہ۔ یہی بہتر ہے کہ تو سلامتی کے ساتھ مجھ سے الگ ہوجائے ورنہ میں تجھے سزا دوں گا۔ مجھ سے تو تو اب ہمیشہ کے لئے گیا گزرا۔ حضرت ابراہیم ؑ نے فرمایا اچھا خوش رہو میری طرف سے آپ کو کوئی تکلیف نہ پہنچے گی کیونکہ آپ میرے والد ہیں بلکہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 47–49

سورة مَرْیَم 27 (الف) تشریح کے لئے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد دوم، التوبہ، حاشیہ 112

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

سَلٰمٌ عَلَيْكَ ، یہاں لفظ سلام دو معنے کے لئے ہوسکتا ہے اول یہ کہ یہ سلام مقاطعہ ہو یعنی کسی سے قطع تعلق کرنے کا شریفانہ اور مہذب طریقہ یہ ہے کہ بات کا جواب دینے کے بجائے لفظ سلام کہہ کر علیحدہ ہوجائے جیسا کہ قرآن کریم نے اپنے مقبول و صالح بندوں کی صفت میں بیان فرمایا ہےوَّاِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا، یعنی جب جاہل لوگ ان سے جاہلانہ خطاب کرتے ہیں تو یہ ان سے دو بدو ہونے کے بجائے لفظ سلام کہتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ باوجود مخالفت کے میں تمہیں کوئی گزند اور تکلیف نہ پہنچاؤں گا۔ اور دوسرا مفہوم یہ ہے کہ یہاں سلام عرفی سلام ہی کے معنے میں ہو، اس میں فقہی اشکال یہ ہے کہ کسی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 47–48

تفسیر آیات 47 تا 48: قَالَ سَلامٌ عَلَيْكَ سَأَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّي إِنَّهُ كَانَ بِي حَفِيًّا (47) وَأَعْتَزِلُكُمْ وَمَا تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ وَأَدْعُو رَبِّي عَسَى أَلا أَكُونَ بِدُعَاءِ رَبِّي شَقِيًّا (48) سَلامٌ یہاں وداعی سلام کے مفہوم میں ہے۔ جس طرح ملاقات کے لیے شائستہ اور بابرکت طریقہ یہ ہے کہ وہ سلام کے ساتھ ہو اسی طرح جدائی کے لیے بھی شائستہ طریقہ یہی ہے۔ إِنَّهُ كَانَ بِي حَفِيًّا، حفی اس کو کہتے ہیں جو کسی کی بڑی خبر رکھنے والا، اس کے لیے بڑا اہتمام کرنے والا اور اس پر بےنہایت کرم فرمانے والا ہو۔ حضرت ابراہیم نے جب باپ کو اتنا غضب ناک دیکھا تو فرمایا کہ بہتر ہے، اگر ٓپ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

47۔ 1 یہ سلام دعایہ نہیں ہے جو ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو کرتا ہے بلکہ ترک مخاطب کا اظہار ہے جیسے (وَّاِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا) 25۔ الفرقان :63) ' جب بےعلم لوگ ان سے باتیں کرتے ہیں تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ سلام ہے ' اس میں اہل ایمان اور بندگان الٰہی کا طریقہ بتلایا گیا ہے۔ 47۔ 2 یہ اس وقت کہا جب حضرت ابراہیم ؑ کو مشرک کے لئے مغفرت کی دعا کرنے کی ممانعت کا علم نہیں تھا، جب یہ علم ہوا تو آپ نے دعا کا سلسلہ موقوف کردیا (وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰهِيْمَ لِاَبِيْهِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَةٍ وَّعَدَھَآ اِيَّاهُ ۚ فَلَمَّا تَـبَيَّنَ لَهٗٓ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 47–49

23: عام حالات میں کافروں کو سلام کی ابتدا کرنا جائز نہیں ہے، لیکن جہاں کوئی دینی مصلحت داعی ہو تو اس نیت سے سلام کرنے کی گنجائش ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے اسلام کی توفیق دے کر سلامتی سے ہم کنار فرمائیں۔ 24: سورة توبہ (114:9) میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑ کے اس وعدے کا حوالہ دیا ہے اور اس سے واضح ہوتا ہے کہ آپ نے یہ وعدہ اس وقت کیا تھا جب آپ کو یہ معلوم نہیں تھا کہ اس کے مقدر میں ایمان نہیں ہے چنانچہ جب یہ بات معلوم ہوگئی تو پھر آپ اس کے لیے دعا کرنے سے دست بردار ہوگئے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 47–48

تم پر خدا کی سلامتی ہو ‘ نہ جھگڑا ہے ‘ نہ تردید ہے ‘ نہ دھمکی اور نہ ارادہ قتل کے جواب میں رد عمل ہے۔ بلکہ جواب یہ ہے کہ میں تمہارے بارے میں اپنے رب سے دعا کرتا رہوں گا کہ وہ آپ کو اس گمراہی سے اور شیطان کی دوستی سے کسی طرح نکال لائے۔ آپ پر رحم فرمائے اور آپ کو ہدایت نصیب کرے۔ میرے ساتھ میرے رب کا معاملہ یہ ہے کہ میں نے جب بھی دعا کی ہے میرے رب نے مجھے نامراد نہیں لوٹایا اور اگر میرا آپ کے پاس رہنا اور آپ کی نظروں کے سامنے پھرنا آپ کو پسند نہیں تو اے ابا جان ‘ میں آپ کو اور آپ کی قوم کو چھوڑدوں گا۔ آپ جانیں اور آپ کے معبود جانیں۔ میں تو اپنے رب وحدہ ہی کی بندگی کروں گا اور مجھے یقین ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

9 یہ رخصت یا متارکت کا سلام ہے۔ جیسے ہمارے محاورات میں ایسے موقع پر کہہ دیتے ہیں کہ " فلاں بات یوں ہے تو ہمارا سلام لو۔ " دوسری جگہ فرمایا (وَقَالُوْا لَنَآ اَعْمَالُنَا وَلَكُمْ اَعْمَالُكُمْ ۡ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ ۡ لَا نَبْتَغِي الْجٰهِلِيْنَ ) 28 ۔ القصص :55) حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " معلوم ہوا اگر دین کی بات سے ماں باپ ناخوش ہوں اور گھر سے نکالنے لگیں اور بیٹا ماں باپ کو میٹھی بات کہہ کر نکل جائے، وہ بیٹا عاق نہیں۔ " 10 امید ہے اپنی مہربانی سے میرے باپ کے گناہ معاف فرما دے گا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے استغفار کا وعدہ ابتداء کیا تھا۔ چناچہ استغفار کرتے رہے جب اللّٰہ کی مرضی نہ دیکھی تب…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 47 قَالَ سَلٰمٌ عَلَیْکَج سَاَسْتَغْفِرُ لَکَ رَبِّیْط اِنَّہٗ کَانَ بِیْ حَفِیًّا ” ابراہیم علیہ السلام نے باپ کی طرف سے اتنے سخت جواب کے بعد بھی اپنا انداز تخاطب انتہائی مؤدبانہ رکھا ‘ اس سے بھی بڑھ کر آپ علیہ السلام نے ان کے لیے اپنے مہربان رب سے دعا کرنے کا بھی ارادہ کیا۔ اسی طرح ایک مبلغ اور داعی کو بھی چاہیے کہ وہ مدِّمقابل کی طرف سے انتہائی سخت جملوں کے بعد بھی ترش انداز اختیار کرنے کے بجائے نرمی کو ہی اپنائے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 46–47

43 باپ کا سیدنا ابراہیم کو گھر سے نکال دینا :۔ باپ آذر جو درباری مہنت، بت تراش اور بت فروش تھا، بھلا بیٹے کے کہنے پر اپنی معاش اور اپنے منصب سے کیسے دستبردار ہوسکتا تھا۔ آپ کی اس پندونصیحت کے جواب میں کہنے لگا۔ معلوم ہوتا ہے تم اپنے آبائی دین سے برگشتہ اور بدعقیدہ ہوچکے ہو۔ ایسی بےدین اولاد کی مجھے کوئی ضرورت نہیں۔ اگر تم نے اپنا رویہ نہ بدلا تو میں تمہیں سنگسار کردوں گا اور بہتر یہ ہے کہ تم فورا ً میری آنکھوں سے دور ہوجاؤ اور میرے گھر سے نکل جاؤ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

69۔ (اور میری اور آپ کی راہیں آج سے جدا ہیں) حضرت نے جب دیکھا کہ تبلیغ ونصیحت کا اثر الٹا ہورہا ہے تو کہا، بہتر ہے میرا آخری سلام قبول ہو۔ میں اب رخصت ہوتا ہوں۔ یہ سلام وداع اور رخصتی کا ہے کہ میری راہ الگ ہے، آپ کی راہ الگ۔ اس سے اس فقہی مسئلہ کو کہ کافر کو سلام جائز ہے یا نہیں، نفیا یا اثباتا کوئی تعلق ہی نہیں۔ توادع ومتارکۃ (کبیر) قال المجھور ھذا بمعنی المسالمۃ لابمعنی التحیۃ (بحر) ھذالسلام للمتارکۃ بقرینۃ المقام فلامس بمسئلۃ السلام علی الکافر جواز ومنعا بھذا المقام (تھانوی (رح) لیکن بعض نے یہ بھی کہا کہ یہ سلام رفق وآشتی ومسالمت کا ہے اور اس میں اس کی تعلیم ہے کہ سفیہ کو حلیم کی زبان سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 41–50

آیت نمبر 41 تا 50 ترجمہ : آپ کفار مکہ کو کتاب میں مذکور ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ سنائیے یعنی اس کی خبر بیان کیجئے بیشک وہ بڑی راستی والے نبی تھے یعنی نہایت سچے نبی تھے اور اِذ قال لابیہ خبْرَہ سے بدل ہے (یعنی اس وقت کا قصہ بیان کیجئے) جب انہوں نے اپنے والد آزر سے عرض کیا تھا یَا اَبَتِ اے ابا جان، تایائے اضافت کے عوض میں ہے (عوض اور معوض) دونوں کو جمع کرنا جائز نہیں ہے اور آزر بت پرستی کرتا تھا آپ ان (بتوں) کی پوجا پاٹ کیوں کرتے ہیں ؟ جو نہ سنیں اور نہ دیکھیں اور نہ آپ کے کچھ کام آسکیں یعنی نہ کفایت کرسکیں، نہ نفع پہنچا سکیں اور نہ نقصان کو دفع کرسکیں اے میرے مہربان باپ میرے پاس وہ علم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قال سلم علیک ساستفرلک ربی انہ کان بی حفیا۔ ابراہیم ( علیہ السلام) نے کہا سلام علیک میں اپنے رب سے آپ کے لئے معافی طلب کروں گا ‘ بلاشبہ وہ مجھ پر مہربان ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف سے یہ سلام رخصت تھا اہل حلم ‘ کم ظرف جاہلوں کی بدسلوکی کے بدلہ میں بھلائی کا برتاؤ کرتے ہیں۔ اللہ نے فرمایا ہے وَاِذَا اخَاطَبَہُمُ الْجٰہِلُوْنَ قَالُوْا سَلاَماً سلام علیک کہنے کا یہ مطلب ہے کہ میری طرف سے آپ کو دکھ نہیں پہنچے گا ‘ آپ کچھ بھی میرے ساتھ کریں میں تو آپ کے لئے اپنے رب سے معافی کی درخواست کروں گا۔ اکثر اہل تفسیر نے ساستغفرلک کی تشریح میں لکھا ہے کہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ میں اللہ سے مشرک…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(47) حضرت ابراہیم ؑ نے فرمایا سلامتی ہو آپ اب میں تمہارے لیے اپنے رب سے دعا کروں گا وہ میری باتوں سے کو خوب جانتا ہے، اگر اس کی مرضی ہوگی تو میری دعا قبول فرما لے گا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قَالَ سَلٰمٌ عَلَيْكَ : ابراہیم ؑ نے اپنے جاہل باپ کے اس سنگ دلانہ جواب کے مقابلے میں پھر انتہائی نرمی کا مظاہرہ کیا اور اسے ”سَلٰمٌ عَلَيْكَ“ کہا کہ آپ سلامت رہیں۔ جاہلوں کے جواب میں ہمیں بھی یہی کہنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ دیکھیے سورة فرقان (63) اور قصص (55) جب کوئی ضد اور عناد پر تل جائے تو یہ رخصت ہونے اور ترک تعلق کا سلام ہے اور یہ جائز ہے، البتہ عام حالات میں کفار کو سلام میں پہل جائز نہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (لَا تَبْدَءُ وا الْیَھُوْدَ وَلا النَّصَارٰی بالسَّلَامِ) [ مسلم، السلام، باب النھي عن ابتداء أھل الکتاب۔۔ : 2167، عن أبي ہریرہ ؓ ] ”یہود و نصاریٰ کو سلام میں پہل مت…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 42–47

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اذ قال لابیہ، ابیہ سے مراد آزر ہے جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔ یابت، سورة یوسف میں اس پر گفتگو ہوچکی ہے۔ لم تعبد کس وجہ سے آپ عبادت کرتے ہیں۔ مالا یسمع ولا یبصر ولا یغنی عنک شیا۔ جو نہ سنتے ہیں اور نہ دیکھتے ہیں اور نہ تجھے کچھ فائدہ دیتے ہیں۔ اس سے مراد بتہیں۔ یابت انی قد جآءنی من العلم مالم یا تک یعنی اللہ کی معرفت اور یقین اور جو موت کے بعد ہونا ہے اور جسنے غیر اللہ اللہ کی عبادت کی اسے عذاب دیا جائے گا۔ فاتبعنی اس کی اتباع کرو جس کی طرف میں دعوت دیتا ہوں۔ اھدک صراطاً سویا۔ میں تمہاری دین مستقیم کی طرف راہنمائی کروں گا جس میں نجات ہے۔ یابت لا تعبد الشیطن وہ جو تمہیں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 41–50

1:۔ ابونعیم اور دیلمی نے ا نس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا والد کا حق اس کی اولاد پر یہ ہے کہ اس کا نام نہ لے مگر جس طرح ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد کو پکارا تھا اے میرے باپ اور اس کے نام کے ساتھ اس کو نہ پکارے۔ 2:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لارجمنک “ سے مراد ہے کہ میں تجھ کو ضرور گالیاں دوں گا (آیت) ” واھجرنی ملیا “ یعنی ایک مدت تک۔ 3:۔ ابن جریر، ابن منذر، اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” واھجرنی ملیا “ سے مراد ہے صحیح سالم مجھ سے دور ہوجا اس سے پہلے کہ میری طرف سے کوئی سزا تجھ کو پہنچ جائے۔ عبد بن حمید نے عکرمہ ؓ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [سَلٰمٌ: سلامتی ہو ] [عَلَيْكَ : آپ پر ] [سَاَسْتَغْفِرُ : میں مغفرت مانگوں گا ] [لَكَ : آپ کے لئے ] [رَبِيْ : اپنے رب سے ] [انهٗ : بیشک وہ ] [كَان : ہے ] [بِيْ : مجھ پر ] [حَفِيًّا : شفقت کرنے والا ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 42–48

پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا (وَاَعْتَزِلُکُمْ وَمَا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللِّٰہ) اور میں تم لوگوں سے اور ان چیزوں سے کنارہ کرتا ہوں جن کی تم اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہو، وادعوا ربی اور میں اپنے رب کو پکارتا ہوں (عَسٰٓی اَنْ لَّآ اَکُوْنَ بْدُعَآءِ رَبِّیْ شَقِیًّا) (امید ہے کہ میں اپنے رب کی دعا سے محروم نہ رہوں گا) یعنی میری دعا اور کوشش ضائع نہ جائے گی اور تم لوگوں کو جو شقاوت گھیرے ہوئے ہے مجھے اللہ تعالیٰ اس سے دور رکھے گا قال صاحب الروح و فیہ تعریض بشقاوتھم فی عبادۃ الھتھم اور آیت میں ہجرت کا اعلان ہے اس کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے وطن سے ہجرت فرما کر ملک شام…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 41–50

قصۂ سوم حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ و السلام قال اللہ تعالیٰ ۔ واذکر فی الکتٰب ابرٰھیم۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ وجعلنا لھم لسان صدق علیا۔ ربط۔ اس سورة کا یہ تیسرا قصہ ہے جس میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی خدا پرستی کا ذکر ہے کہ وہ کیسے خدا پرست تھے اور کس طرح انہوں نے اپنے باپ کو توحید کی دعوت دی اور کس طرح شرک اور بت پرستی کا بطلان ظاہر کیا اور اس دعوت اور تبلیغ میں اپنے باپ کے ادب اور احترام کو ملحوظ رکھا اور پھر کس طرح انہوں نے اللہ تعالیٰ کے لیے اپنے باپ کو چھوڑا اور اپنے آبائی وطن سے ہجرت کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے درجے بلند کیے اور ان کو اولاد صالح عطا فرمائی اور تمام امتوں اور قوموں میں ان کا ذکر خیر…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 47–48

35:۔ یہ سلام تحیہ نہیں۔ بلکہ سلام متارکت ہے۔ والجمھور علی ان المراد بسلامہ المسالمۃ التیھی المتارکۃ لا التحیۃ (قرطبی) ۔ ” حَفِیًّا “ مہربان۔ ” اَعْتَزِلُکُمْ الخ “” سَاَسْتَغْفِرُ “ پر معطوف ہے یعنی میں تمہارے پاس سے اور جن کو تم اللہ تعالیٰ کے سوا پکارتے ہو ان سے دور چلا جاؤں گا۔ اور اپنے پروردگار کو پکاروں گا اور مجھے امید ہے کہ وہ مجھے خائب و خاسر نہیں فرمائے گا اور تمہاری جدائی کا نعم البدل عطا فرمائے گا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 46–50

ربط آیات : پہلے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت اور انکے عقیدے کا ذکر ہوا پھر اللہ تعالیٰ نے شرک کی تردید فرمائی اور اس ضمن میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ بھی اختصار کے ساتھ بیان ہوا ، آپ نے اپنے باپ کو نہایت نرم اور محبت آمیز لہجے میں سمجھایا کہ تم جن بتوں کی پوجا کرتے ہو یہ نہ سن سکتے ہیں ، نہ دیکھ سکتے ہیں اور نہ کسی کام آسکتے ہیں آپ نے یہ بھی فرمایا کہ میرے پاس قطعی علم آچکا ہے جو تمہارے پاس نہیں ہے لہذا آپ میری بات مانیں میں آپ کو سیدھا راستہ دکھاؤں گا ، اس سے یہ بات بھی سمجھ میں آتی ہے کہ اگر بیٹا اہل علم ہے تو باپ کو اس سے سیکھنے میں عار نہیں محسوس کرنی چاہئے بلکہ یہ تو…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالَ سَلٰمٌ عَلَيْكَ۝ 0ۚ سَاَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّيْ۝ 0ۭ اِنَّہٗ كَانَ بِيْ حَفِيًّا۝ 47 سلام السِّلْمُ والسَّلَامَةُ : التّعرّي من الآفات الظاهرة والباطنة، قال : بِقَلْبٍ سَلِيمٍ [ الشعراء/ 89] ، أي : متعرّ من الدّغل، فهذا في الباطن، وقال تعالی: مُسَلَّمَةٌ لا شِيَةَ فِيها [ البقرة/ 71] ، فهذا في الظاهر، وقد سَلِمَ يَسْلَمُ سَلَامَةً ، وسَلَاماً ، وسَلَّمَهُ الله، قال تعالی: وَلكِنَّ اللَّهَ سَلَّمَ [ الأنفال/ 43] ، وقال : ادْخُلُوها بِسَلامٍ آمِنِينَ [ الحجر/ 46] ، أي : سلامة، وکذا قوله : اهْبِطْ بِسَلامٍ مِنَّا[هود/ 48] . والسّلامة الحقیقيّة ليست إلّا في الجنّة، إذ فيها بقاء بلا فناء،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 47–50

حفیا قال الکسائی یقال جفی بی حفادۃ وعقوۃ ای اعتنی ای وبالغ فی اکرامی وقدیحیٰ بمعنی المشتقصی فی السوال ومنجی قولہ تعالیٰ کا حصی عنہھا۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 46–47

قَالَ اَرَاغِبٌ اَنْتَ عَنْ اٰلِھَتِیْ یٰٓـاِبْرٰھِیْمُ ج لَئِنْ لَّمْ تَنْتَہِ لَاَرْجُمَنَّکَ وَاھْجُرْنِیْ مَلِیًّا۔ (مریم : 46) (آذر نے کہا اے ابراہیم، کیا تو میرے خدائوں سے اعراض کرنے والا ہے، اگر تو باز نہ آیا تو میں تجھے سنگسار کردوں گا، تو مجھ سے ہمیشہ کے لیے دور ہوجا۔ ) مَلِیٌّ کا مفہوم مَلِیٌّ …زمانہ طویل کے معنی میں آتا ہے۔ تقدیرِ کلام یوں ہوسکتی ہے وَاھْجُرْنِیْ ہِجْرًا مَلِیًّااس کا ایک معنی تو یہ ہوسکتا ہے کہ تم مجھے لمبی مدت تک کے لیے چھوڑ دو ۔ یعنی زندگی بھر کے لیے چھوڑ دو اور دوسرا معنی ہے، میرے سامنے سے دفعہ ہوجاؤ، کبھی اپنی شکل مجھے نہ دکھائیو۔ تقریر کا ردِّعمل حضرت ابراہیم…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 46–47

فہم القرآن ربط کلام : باپ کا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو جواب۔ غور فرمائیں کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کس قدر ادب و احترام اور سوز مندی کے ساتھ اپنے والد کو توحید سمجھائی اور بحیثیت نبی اپنی اتباع کی دعوت دی مگر باپ نے کہا کہ میری آنکھوں سے ہمیشہ کے لیے دور ہوجا۔ ورنہ میں تمہیں پتھر مار مار کر سنگسار کر دوں گا۔ ” مَلِیَّا “ کا معنی ہے کسی کو ہمیشہ کے لیے دور کردینا ہے۔ ہر معاشرے میں یہ مقولہ ہے کہ اولاد ماں باپ کو چھوڑ سکتی ہے لیکن ماں باپ اولاد کو نہیں چھوڑ سکتے۔ لیکن مشرک اس قدر سخت مزاج، بداخلاق اور کم ظرف ہوتا ہے کہ توحید قبول کرنا تو درکنا توحید کی دعوت سننے کا حوصلہ بھی نہیں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

ابراہیم ( علیہ السلام) کا ملاطفت سے ُ پر جواب 47: قَالَ سَلٰـمٌ عَلَیْکَ (کہا تم پر سلام ہو) یہ الوداعی سلام ہے اور سلام متارکت یا تقریب اور ملاطفت کیلئے کہا اور اسی لئے استغفار کا اس قول کے ساتھ وعدہ کیا۔ (سَاَسْتَغْفِرُ لَکَ رَبِّیْ ) کہ عنقریب اللہ تعالیٰ سے میں تمہارے لئے معافی طلب کروں گا یعنی اپنے رب سے یہ سوال کروں گا کہ وہ تمہیں اہل مغفرت میں سے بنا دے اور اسلام کیلئے تمہاری راہنمائی فرما دے۔ اِنَّہٗ کَانَ بِیْ حَفِیًّا (بیشک وہ مجھ پر بہت مہربان ہے) عمومی نعمتیں دیکر نرمی کرنے والا ہے یا رحم کرنے والا ہے۔ یا عزت دینے والا ہے۔ الحفاوۃؔ نرمی اور عظمت کو کہا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر۔ 47۔ قال سلام علیک، ، حضرت ابراہیم نے فرمایا کہ آپ کو مجھ سے سلامتی ہو میں آپ کو کوئی ناپسندیدہ امر جس سے آپ کو تکلیف ہو نہیں پہنچاؤ گا، یہ اس لیے فرمایا کہ ان کو اس وقت ان کے کفر کی وجہ سے قتال کا حکم نہیں دیا گیا تھا، بعض حضرات نے کہا یہ جدائی اور مفارقت کا سلام تھا، بعض حضرات نے کہا یہ سلام نیکی اور لطف کا تھا، یہ جواب حلم ہے جو بیوقوف کو دیاجاتا ہے ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ، واذاخاطبھم الجاھلون قالواسلاما،۔۔ ساستغفرلک ربی، اس کا مطلب یہ نہیں کہ می اللہ سے مشرک باپ کی مغفرت کی دعا کروں گا بل کہ مطلب یہ ہے کہ میں اپنے رب سے دعا کروں گا کہ وہ آپ کو شرک وکفر سے توبہ کرنے اور…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 41–50

41۔ 50:۔ تفسیر سدی اور سیرۃ ابن اسحاق میں حضرت ابرہیم (علیہ السلام) کی پیدائش کا قصہ جو لکھا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کی پیدائش سے پہلے نمرود نے خواب میں دیکھا تھا کہ ایک بڑا روشن ستارہ آسمان پر نکلا ہے اس وقت کے نجومیوں سے اس نے اپنا یہ خواب بیان کیا انہوں نے جواب دیا کہ اس سال ایک لڑکا ایسا پیدا ہوگا کہ اسکے سبب سے تیری سلطنت غارت ہوجائے گی اس خواب کی تعبیر کے خوف سے بستی کے سب مردوں کو اپنے ساتھ لے کر نمرود بستی کے باہر چلا گیا اور سب عورتوں کو بستی کے اند چھوڑ دیا تاکہ اس سال مرد و عورت میں مباشرت اور کوئی اولاد پیدا نہ ہو، مگر جب آزر بستی میں آئے تو ان سے نہ رہا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 41–52

آیت 41 تمام کتابوں میں سب سے زیادہ جلیل القدر، سب سے افضل اور سب سے زیادہ بلند مرتبے والی کتاب، یہ کتاب مبین اور ذکر حکیم یعنی قرآن مجید ہے۔ اگر اس میں خبریں بیان کی گئی ہیں تو یہ خبریں سب سے زیادہ سچی، سب سے زیادہ حق اور سب سے زیادہ نفع مند ہیں۔ اگر اس میں اوامر ونواہی کا تذکرہ ہے تو یہ اوامرونواہی سب سے زیادہ قدر و قیمت کے حامل اور سب سے زیادہ عدل و انصاف پر مبنی ہیں۔ اگر اس میں سزا و جزا اور وعدے و عید کا ذکر کیا گیا ہے تو وہ سب سے زیادہ سچی خبر اور سب سے زیادہ حق ہے اور اللہ تعالیٰ کی حکمت اور اس کے عدل و فضل پر سب سے زیادہ دلالت کرتی ہے اور اگر اس میں انبیاء ومرسلین کا ذکر ہے تو اس میں…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 46–57

ملیاً کے معانی قول باری ہے (واھجرنی ملیاً ۔ بس تو ہمیشہ کے لئے مجھ سے الگ ہوجا) حسن، مجاہد ، سعید بن جبیہ اور سدی سے مروی ہے کہ (ملیا) کے معنی ایک طویل عرصے کے ہیں۔ حضرت ابن عباس، قتادہ اور ضحاک سے مروی ہے کہ ” تو میری سزا سے اپنے آپ کو بچا کر صحیح سالم چلا جا۔ “ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ یہ عربوں کے اس محاورے سے ماخوذ ہے۔” فلاں ملی بھذا الامر (فلاں شخص اس معاملے میں بڑا باکمال ہے اور اس کے ساتھ ہی چمٹا رہتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 47–48

58 حضرت ابراہیم کی دردمندی اور دلسوزی کا ایک اور مظہر : سو یہاں سے حضرت ابراہیم کی دردمندی اور دلسوزی کا ایک اور مظہر سامنے آتا ہے کہ آپ نے علیحدگی کے اس موقعہ پر باپ سے کہا " اور میں آپ کیلئے اپنے رب سے بخشش کی دعا کرتا رہوں گا " کہ وہ آپ کو ہدایت و ایمان کی دولت سے سرفراز فرما دے تاکہ آپ کی بخشش کا سامان ہو سکے۔ لیکن جب آپ (علیہ السلام) کو یقین ہوگیا کہ اب اس شخص کو ایمان ملنے والا نہیں تو آپ نے اس وعدہ سے اظہار و اعلان براءت فرما دیا۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا ۔ { وَمَاکَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرَاہِیْمَ لِاَبِیْہِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَۃٍ وَّعَدَہَآ اِیَّاہُ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَہٗ اَنَّہُ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 41–50

سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی ہجرت اور اللہ کا ان پر فضل و کرم تشریح : یہاں سے پھر اہل مکہ کو خطاب کیا جا رہا ہے۔ اور ان مسلمانوں کو جو کفار مکہ کی دشمنی کی وجہ سے مکہ کو چھوڑ کر حبشہ کی طرف ہجرت کر رہے تھے۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر اس لیے کیا جا رہا ہے کیونکہ وہ اپنے کردار اور صفات کی وجہ سے یہودی، عیسائی، کفار مکہ اور مسلمانوں میں یکساں طور پر مکرم و محترم سمجھے جاتے ہیں سب ہی مذاہب میں ان کی بےحد بلند جگہ سمجھی جاتی ہے۔ کفار مکہ کو یاد کروایا گیا کہ تم کو جب بتوں کی پوجا سے منع کیا جاتا ہے تو تم لوگ کہتے ہو ” ہمارے آباو اجداد یہی کرتے آئے ہیں اور ساتھ ہی تم لوگ ملت ابراہیمی کے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 42–50

(رکوع نمبر 3) اسرارومعارف انہیں کتاب اللہ میں ابراہیم (علیہ السلام) کے حالات بھی سنائیے کہ مشرکین عرب ان کی پیروی کا دعوی رکھتے تھے مگر عقائد و اعمال مشرکانہ گھڑ رکھے تھے تو یہ بھی واضح ہوجائے کہ محض واقعات عجیبہ ہی سننے کا شوق رکھتے ہیں یا حق کی طلب بھی تاکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے حالات سے ان کا عقیدہ اور عمل بھی اپنی صحیح صورت میں سامنے آجائے کہ وہ تو صدیق تھے اور نبی تھے ۔ (صدیق) یہاں صدیق سے مراد سچائی لیا جائے تو ہر نبی ہی صدیق اور سچا ہوتا ہے تو پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی خصوصیت کیا رہ جاتی ہے ۔ (معنے اور منصب نیز مناصب ولایت کی خصوصیات) حق یہ ہے کہ صدیق ہونا یا ” صدیقیت “…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 10 ہوسکتا ہے کہ جس مشرک سے ایمان کی توقع ہو اس کے لئے استغفار کرنا اس وقت جائز ہو پھر ہماری شریعت میں یہ منسوخ ہوگیا ہو۔ (دیکھیے برأت آیت :54)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 46–47

(19:46) اراغب انت۔ الف استفہامیہ۔ راغب اسم فاعل رغب فیہ ورغب الیہ کے معنی کسی چیز پر رغبت اور حرص کرنے کے ہیں۔ جیسے انا الی اللہ راغبون (9:59) ہم تو اللہ ہی کی طرف راغب ہیں۔ ہم تو اللہ سے لو لگائے بیٹھے ہیں۔ اور اگر عن کے ساتھ آئے تو بےرغبتی کے معنی دیتا ہے مثلاً ومن یرغب عن ملۃ ابراہیم (2:130) اور کن ہے جو حضرت ابراہیم کے طریقے انحراف کرے۔ اراغب انت عن الھتی یا براہیم۔ اے ابراہیم کیا تو میرے معبودوں سے پھرا ہوا ہے۔ یا پھرنے والا ہے۔ برگشتہ ہے۔ لم تنتہ۔ مضارع نفی حجد بلم۔ تنتہ اصل میں تنتھی تھا۔ لم کے آنے سے یحرف علت گرگیا۔ تو باز نہ آیا۔ لئن لم تنتہ اگر تو باز نہ آیا۔ لا رجنمنکلام تاکید…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 41–50

لغات القرآن آیت نمبر 41 تا 50 یابت اے میرے ابا جان۔ سوی سیدھا، برابر۔ عصی نافرمان۔ ان یمسک یہ کہ تجھے پہنچے۔ یہ کہ تجھے پکڑے۔ اراغب کیا تو منہ پھیرتا ہے۔ (کیا تو رغبت رکھتا ہے۔ ) لم تنتہ تو باز نہ آیا۔ ارجمن میں ضرور پتھر ماروں گا۔ اھجرنی مجھے تنہا چھوڑ دے۔ ملی ایک وقت، مدت۔ استغفر میں دعائے مغفرت کروں گا۔ حفی مہربان۔ اعتزل میں الگ ہوتا ہوں۔ میں چھوڑتا ہوں۔ ادعوا میں پکاروں گا۔ شقی محروم۔ وھبنا ہم نے عطا کیا۔ لسان صدق سچی زبان، ذکر جمیل، علی نہایت بلند۔ اللہ تعالیٰ کی صفت تشریح : آیت نمبر 41 تا 50 سورة مریم میں حضرت عیسیٰ حضرت زکریا اور حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 41–48

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا بیان یہ تیسرا تذکرہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ کتاب میں ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر ہے بیشک وہ سچے نبی تھے۔ یہاں اس وقت کی ثابت قدمی اور خدا پرستی مذکور ہے۔ جب ابتدائے شباب میں انہوں نے بت پرستی کو حقیر جانا، اور اپنے باپ سے کہا تھا :" اے باپ ! تو ایسی چیزوں کی عبادت کیوں کرتا ہے جن کو نہ سننے کی طاقت اور نہ دیکھنے کی قدرت ہے، نہ یہ چیزیں تیرے کام آسکتی ہیں یعنی بتوں کی پرستش نہ کرو۔ ان سے کوئی کام نہیں بن سکتا ۔ اے باپ ! مجھے اللہ نے وہ علم دیا ہے کہ تجھے حاصل نہیں، تو میرے کہنے پر چل۔ میں تجھے سیدھا راستہ بتاؤں گا۔ اے میرے باپ ! شیطان…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 44–50

[19] ظاہر ہے کہ شیطان کی تو کوئی بھی عبادت نہیں کرتا سب اس پر لعنت ہی کرتے ہیں۔ ابراہیم (علیہ السلام) کے والد اور ان کی قوم کے لوگ اگرچہ پرستش بتوں کی کرتے تھے لیکن کیونکہ وہ اطاعت شیطان کی کر رہے تھے اس لئے ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کی اطاعت شیطان کو بھی عبادت شیطان قرار دیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کے احکام اور اس کی ہدایات کو چھوڑ کر کسی دوسرے کے احکام اور رہنمائی کا اتباع کرنا دراصل اس کی اطاعت و بندگی ہے۔ لفظ '' عبادت '' کی تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة فاتحہ حاشیہ 11۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 47–48

(ف 1) باپ نے بتوں کی محبت میں پدری رعب وداب سے کام لیا اور ڈانٹ سے کہا کیا میں اپنے خداؤں کو چھوڑ دوں ؟ میں ہرگز اپنے عقائد سے بیقرار ہونے کے لئے تیار نہیں ، اور نہ میں یہ چاہتا ہوں کہ تم ان خیالات میں الجھے رہو ، فورا توحید کے عقیدے سے باز آجاؤ ، ورنہ میں تجھے سنگسار کر دوں گا ، اور تو دور ہوجا ، اب میرے اور تیرے درمیان اختلاف کی ناقابل عبور خلیج حائل ہے ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) صدیق تھے ، حق گوئی اور بیباکی ان کا خاص وصف تھا انہوں نے یہ سب کچھ سنا ، اور نہایت استقلال اور عزیمت سے جواب دیا ، کہ جناب خدا کی راہ میں گھر کی آسائیشون کی قطعا پروا نہیں کرتا ، میں بتوں کے ساتھ ساتھ تم کو بھی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-47 حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا اچھا تجھ پر میرا سلام ہو اور میرا سلام لو میں جاتا ہوں لیکن میں تیرے لئے بخشش کی دعا کرتا رہوں گا اور تیرے لئے اپنے پروردگار ہے بخشش طلب کرتا رہوں گا بلاشبہ وہ مجھ پر بڑا مہربان ہے۔ یعنی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ متارکت کا سلام کیا جیسے عام محاورہ ہے کہ تم نہیں مانتے تو اچھا میرا سلام سورة قصص میں آئے گا۔ سلام علیکم ل انبتغی الجاھلین پس یہ سلام بھی اعتزال اور مفارقت کا سلام ہے۔ استغفار کا مطلب یہ ہے کہ جب تک مجھ کو حضرت حق کی جانب سے کوئی ممانعت نہ ہوگی میں تیرے لئے استغفار کرتا رہوں گا اور اگر ہدایت کی دعا مراد ہے جو بخشش کا سبب ہے تو پھر بات…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 46–48

ف 5۔ اس گفتگو کے بعد ان سے اس طرح علیحدہ ہوئے کہ ملک شام کی طرف ہجرت کر کے چلے گئے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے باپ کی باتیں سنیں تو علیحدہ ہونے کا تہیہ کرلیا : 47۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے یہ واقعات ایک دو دن میں نہیں ہوئے اور نہ ہی ایسے واقعات ایک دو دن میں رونما ہوسکتے ہیں ، ان حالات میں برسوں لگے سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) ابھی نبی مبعوث نہیں ہوئے تھے کہ آپ نے مواعظ کا سلسلہ شروع کیا اور پھر نبوت ملی اور باقاعدہ پیغام الہی پہنچانا شروع کیا پھر اس میں برسوں لگے اور آہستہ آہستہ نوبت اس تک پہنچ گئی کہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) بحکم الہی اس علاقہ سے ہجرت کرکے کسی دوسرے علاقہ کی طرف نکل جائیں جہاں آپ کی دعوت کو پھیلنے کا موقعہ ملے اور یہ اس لئے ضروری ہوا کہ اب…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

سَلَامٌ عَلَيْكَ (Peace on you) Here the word (Peace) may carry two meanings. One, that the word سَلَام is used to signify severance of relations in a polite manner so as not to cause hurt to his father. This practice has been described in the Holy Qur'an as an attribute of good and pious people. An example in point are the words. وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَاهِلُونَ قَالُوا سَلَامًا "When ignorant people speak to them, they reply peacefully." (25:63) It means that when the ignorant people say foolish things to them they simply say 'Salami (peace) instead of getting involved into an argument…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 44–49

27. It should be noted that the literal translation of the Arabic text is:“Do not worship Satan”, though Abraham’s father and the other people did not worship Satan in the same sense as they worshiped idols. But as they followed and obeyed Satan, he accused them of worshiping Satan. Thus it is clear that if somebody follows and obeys Satan, he virtually worships him. For Satan has never been a deity in the sense that people have made him an object of worship; nay, they have always been cursing him and following him at the same time. (For further details see (Surah Al-Kahf E.Ns 49-50). 27a.…

Read the full tafseer →