Explained with ayahs 41–45
بتوں کی پوجا۔
مشرکین مکہ جو بت پرست ہیں اور اپنے آپ کو خلیل اللہ کا متبع خیال کرتے ہیں ان کے سامنے اے نبی ﷺ خود حضرت ابراہیم ؑ کا واقعہ بیان کیجئے۔ اس سچے نبی نے اپنے باپ کی بھی پرواہ نہ کی اور اس کے سامنے بھی حق کو واضح کردیا اور اسے بت پرستی سے روکا۔ صاف کہا کہ کیوں ان بتوں کی پوجا پاٹ کر رہے ہوں جو نہ نفع پہنچا سکیں نہ ضرر۔ فرمایا کہ میں بیشک آپ کا بچہ ہوں لیکن اللہ کا علم جو میرے پاس ہے آپ کے پاس نہیں آپ میری اتباع کیجئے میں آپ کو راہ راست دکھاؤں گا برائیوں سے بچادوں گا۔ ابا جی یہ بت پرستی تو شیطان کی تابعداری ہے وہی اس کی راہ سمجھاتا ہے اور وہی اس سے خوش ہوتا ہے۔ جیسے سورة یاسین میں ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–46
سورة مَرْیَم 27
اصل الفاظ ہیں لا تعبد الشیطن، یعنی " شیطان کی عبادت نہ کریں " اگرچہ حضرت ابراہیم کے والد اور قوم کے دوسرے لوگ عبادت بتوں کی کرتے تھے، لیکن چونکہ اطاعت وہ شیطان کی کر رہے تھے۔ اس لیئے حضرت ابراہیم نے ان کی اس اطاعت شیطان کو عبادت شیطان قرار دیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ عبادت محض پوجا اور پرستش ہی کا نام نہیں بلکہ اطاعت کا نام بھی ہے۔ نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص کسی پر لعنت کرتے ہوئے بھی اس کی بندگی بجا لائے تو وہ اس کی عبادت کا مجرم ہے، کیونکہ شیطان بہرحال کسی پر لعنت کرتے ہوئے بھی اس کی بندگی بجا لائے تو وہ اس کی عبادت کا مجرم ہے، کیونکہ شیطان بہرحال کسی زمانے میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–46
اپنے بڑوں کو نصیحت کرنے کا طریقہ اور اس کے آداب
يٰٓاَبَتِ عربی لغت کے اعتبار سے یہ لفظ باپ کی تعظیم و محبت کا خطاب ہے۔ حضرت خلیل اللہ علیہ الصلوٰة والسلام کو حق تعالیٰ نے جو مقام جامعیت اوصاف و کمالات کا عطا فرمایا تھا، ان کی یہ تقریر جو اپنے والد کے سامنے ہو رہی ہے اعتدال مزاج اور رعایت اضداد کی ایک بےنظیر تقریر ہے کہ ایک طرف باپ کو شرک و کفر اور کھلی گمراہی میں نہ صرف مبتلا بلکہ اس کا داعی دیکھ رہے ہیں جس کے مٹانے ہی کے لئے خلیل اللہ پیدا کئے گئے ہیں، دوسری طرف باپ کا ادب اور عظمت و محبت ہے ان دونوں ضدوں کو حضرت خلیل اللہ نے کس طرح جمع فرمایا اول تو يٰٓاَبَتِ کا لفظ جو باپ کی مہربانی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–45
تفسیر آیات 42 تا 45: حضرت ابراہیم کی تقریر اپنے باپ کے سامنے :۔ إِذْ قَالَ لأبِيهِ يَا أَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لا يَسْمَعُ وَلا يُبْصِرُ وَلا يُغْنِي عَنْكَ شَيْئًا (42) يَا أَبَتِ إِنِّي قَدْ جَاءَنِي مِنَ الْعِلْمِ مَا لَمْ يَأْتِكَ فَاتَّبِعْنِي أَهْدِكَ صِرَاطًا سَوِيًّا (43) يَا أَبَتِ لا تَعْبُدِ الشَّيْطَانَ إِنَّ الشَّيْطَانَ كَانَ لِلرَّحْمَنِ عَصِيًّا (44) يَا أَبَتِ إِنِّي أَخَافُ أَنْ يَمَسَّكَ عَذَابٌ مِنَ الرَّحْمَنِ فَتَكُونَ لِلشَّيْطَانِ وَلِيًّا (45)
یہ حضرت ابراہیم کی وہ تقریری ہے جو وحی الٰہی سے سرفراز ہونے کے بعد سب سے پہلے انہوں نے اپنے باپ۔ آزر۔ کے سامنے کی ہے۔ اس…
Read the full tafseer →44۔ 1 یعنی شیطان کے وسوسے اور اس کے بہکاوے سے آپ جو ایسے بتوں کی پرستش کرتے ہیں جو سننے اور دیکھنے کی طاقت رکھتے ہیں نہ نفع نقصان پہنچانے کی قدرت، تو یہ دراصل شیطان ہی کی پرستش ہے۔ جو اللہ کا نافرمان ہے اور دوسروں کو بھی اللہ کا نافرمان بنا کر ان کو اپنے جیسا بنانے پر تلا رہتا ہے۔
Read the full tafseer →21: بتوں کی عبادت کرنے کا خیال درحقیقت شیطان کا ڈالا ہوا خیال تھا، اس لیے بتوں کی عبادت کا مطلب یہی تھا کہ انسان شیطان کو قابل اطاعت سمجھ کر اس کی عبادت کرے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
یابت لا تعدالشیطن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عصیا (44) یابت انی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ولیا (54) (91 : 44۔ 54) ” ابا جان ‘ آپ شیطان کی بندگی نہ کریں ‘ شیطان تو رحمن کا نافرمان ہے۔ ابا جان ‘ مجھے ڈر ہے کہ کہیں آپ رحمن کے عذاب میں مبتلا نہ ہوجائیں اور شیطان کے ساتھی بن کر رہیں “۔
یہ شیطان ہی ہے جو اللہ کے سوابتوں کی بندگی پر لوگوں کو آمادہ کرتا ہے جو لوگ بتوں کی بندگی کرتے ہیں گویا وہ شیطان کی بندگی کرتے ہیں۔ اور شیطان رحمن کا نافرمان ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے والد کو ڈراتے ہیں کہ ان پر کہیں اللہ کا غضب نہ آجائے اور اس طرح اللہ کہیں انہیں شیطان کا دوست ہی نہ بنا دے اور وہ مستقلاً سیطان کے تابع نہ ہوجائیں۔ اللہ…
Read the full tafseer →6 بتوں کو پوجنا شیطان کے اغواء سے ہوتا ہے اور شیطان اس حرکت کو دیکھ کر بہت خوش ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے بتوں کی پرستش گویا شیطان کی پرستش ہوئی اور نافرمان کی پرستش رحمان کی انتہائی نافرمانی ہے۔ شاید لفظ " عصٰی " میں ادھر بھی توجہ دلائی ہو کہ شیطان کی پہلی نافرمانی کا اظہار اس وقت ہوا تھا جب تمہارے باپ آدم کے سامنے سربسجود ہونے کا حکم دے دیا گیا۔ لہذا اولاد آدم کے لیے ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ رحمٰن کو چھوڑ کر اپنے اس قدیم ازلی دشمن کو معبود بنالیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
آیت 44 یٰٓاَبَتِ لَا تَعْبُدِ الشَّیْطٰنَط اِنَّ الشَّیْطٰنَ کَان للرَّحْمٰنِ عَصِیًّا ”
اس شیطان کی فرمانبرداری مت کیجیے جو اللہ تعالیٰ کے سامنے بغاوت اور سرکشی کا ارتکاب کرچکا ہے۔
Read the full tafseer →41 یعنی شیطان کی اطاعت کرنا دراصل اس کی عبادت کرنا ہے، ورنہ معروف معنوں میں تو شیطان کی کوئی بھی عبادت نہیں کرتا۔ شیطان نے تو تمہارے باپ آدم کو سجدہ کرنے کے بارے میں اللہ کی نافرمانی کرلی تھی۔ مگر آدم کو سجدہ نہیں کیا تھا۔ پھر بھی تم اسی کی فرمانبرداری کرتے ہو ؟
Read the full tafseer →65۔ شیطان کے کہے میں آکر بت پرستی اور شرک میں مبتلا ہوجانا خود شیطان پرستی ہے۔ اے لاتطعہ فی عبادتک ھذہ الاصنام فانہ ھو الداعی الی ذلک والراضی بہ (ابن کثیر) المراد الطاعۃ لانھم ما کانو ! یعبدون الشیطان فوجب حملہ علی الطاعۃ (کبیر) (آیت) ” للرحمن عصیا “۔ صفت رحمانیت کو نمایاں کرنے سے مقصود مخاطب کو اور زیادہ غیرت دلانا ہے کہ شیطان کی یہ کفر اور ناسپاسی بھی کیسے مالک کے مقابلہ میں ہے ؟ ایسے کہ جو سرتاسر رحمت ہے۔ (آیت) ” یابت “۔ یا ابت کی تکرار بار بار کرنا اور اسی طرح آیت ماقبل میں ہدایت کا انتساب بجائے حق تعالیٰ کے اپنی جانب کرنا یہ سب اس لیے ہے کہ مخاطب کو بجائے وحشت کے انس پید اہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–50
آیت نمبر 41 تا 50
ترجمہ : آپ کفار مکہ کو کتاب میں مذکور ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ سنائیے یعنی اس کی خبر بیان کیجئے بیشک وہ بڑی راستی والے نبی تھے یعنی نہایت سچے نبی تھے اور اِذ قال لابیہ خبْرَہ سے بدل ہے (یعنی اس وقت کا قصہ بیان کیجئے) جب انہوں نے اپنے والد آزر سے عرض کیا تھا یَا اَبَتِ اے ابا جان، تایائے اضافت کے عوض میں ہے (عوض اور معوض) دونوں کو جمع کرنا جائز نہیں ہے اور آزر بت پرستی کرتا تھا آپ ان (بتوں) کی پوجا پاٹ کیوں کرتے ہیں ؟ جو نہ سنیں اور نہ دیکھیں اور نہ آپ کے کچھ کام آسکیں یعنی نہ کفایت کرسکیں، نہ نفع پہنچا سکیں اور نہ نقصان کو دفع کرسکیں اے میرے مہربان باپ میرے پاس وہ علم…
Read the full tafseer →یا ابت لا تعبد الشیطن ان الشیطن کان للرحمن عصیا۔ اے میرے باپ آپ شیطان
کی پوجا نہ کریں بیشک شیطان رحمن کا نافرمان ہے۔ یعنی شیطان کفر اور بت پرستی کو تمہاری نظر کے سامنے آراستہ اور دلکش بنا کر لاتا ہے تم اس کا کہا نہ مانو اس کے بتائے ہوئے راستہ پر نہ چلو کیونکہ شیطان اس خدا کا جو منعم ‘ محسن مہربان ہے سخت نافرمان ہے اور ظاہر ہے کہ رب کے نافرمان کا اتباع کرنے والا بھی رب کا نافرمان قرار پائے گا اور جو رب کا نافرمان ہوگا اس سے رب منعم اپنی نعمتیں چھین لے گا اور ایسے احسان فراموش سے انتقام لے گا۔
Read the full tafseer →(44) میرے باپ بتوں کی عبادت کرنے میں شیطان کی بات ہرگز مت مانو، شیطان اللہ کی نافرمانی کرنے والا ہے۔
Read the full tafseer →يٰٓاَبَتِ لَا تَعْبُدِ الشَّيْطٰنَ۔۔ : تیسری بات کی ابتدا بھی محبت اور ادب میں ڈوبے ہوئے الفاظ ”ابا جان“ سے کی اور اسے بت پرستی سے منع کرنے اور ہٹانے کے لیے اس کی حقیقی تصویر ایسی کھینچی کہ ہر عقلمند کو اس سے نفرت ہوجائے، یعنی یہی نہیں کہ بت پرستی کسی بھی نفع سے خالی ہے، بلکہ اس میں بیحد نقصان ہے، کیونکہ یہ درحقیقت شیطان کی عبادت ہے۔ دیکھیے سورة نساء (117) کیونکہ وہی اس پر آمادہ کرتا اور اسے خوش نما بنا کر دکھاتا ہے، خود شیطان کی عبادت تو کوئی نہیں کرتا۔ ”ۭ اِنَّ الشَّيْطٰنَ كَان للرَّحْمٰنِ عَصِيًّا“ میں ”اِنَّ“ کے ساتھ شیطان کی عبادت سے منع کرنے کی وجہ بیان فرمائی، جو یہ ہے کہ شیطان ہمیشہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–47
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اذ قال لابیہ، ابیہ سے مراد آزر ہے جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔ یابت، سورة یوسف میں اس پر گفتگو ہوچکی ہے۔ لم تعبد کس وجہ سے آپ عبادت کرتے ہیں۔ مالا یسمع ولا یبصر ولا یغنی عنک شیا۔ جو نہ سنتے ہیں اور نہ دیکھتے ہیں اور نہ تجھے کچھ فائدہ دیتے ہیں۔ اس سے مراد بتہیں۔ یابت انی قد جآءنی من العلم مالم یا تک یعنی اللہ کی معرفت اور یقین اور جو موت کے بعد ہونا ہے اور جسنے غیر اللہ اللہ کی عبادت کی اسے عذاب دیا جائے گا۔ فاتبعنی اس کی اتباع کرو جس کی طرف میں دعوت دیتا ہوں۔ اھدک صراطاً سویا۔ میں تمہاری دین مستقیم کی طرف راہنمائی کروں گا جس میں نجات ہے۔ یابت لا تعبد الشیطن وہ جو تمہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–50
1:۔ ابونعیم اور دیلمی نے ا نس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا والد کا حق اس کی اولاد پر یہ ہے کہ اس کا نام نہ لے مگر جس طرح ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد کو پکارا تھا اے میرے باپ اور اس کے نام کے ساتھ اس کو نہ پکارے۔
2:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لارجمنک “ سے مراد ہے کہ میں تجھ کو ضرور گالیاں دوں گا (آیت) ” واھجرنی ملیا “ یعنی ایک مدت تک۔
3:۔ ابن جریر، ابن منذر، اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” واھجرنی ملیا “ سے مراد ہے صحیح سالم مجھ سے دور ہوجا اس سے پہلے کہ میری طرف سے کوئی سزا تجھ کو پہنچ جائے۔
عبد بن حمید نے عکرمہ ؓ…
Read the full tafseer →[يٰٓاَبَتِ : اے میرے والد ] [لَا تَعْبُدِ : آپ بندگی مت کریں ] [الشَّيْطٰنَ : شیطان کی ] [ان : بیشک ] [الشَّيْطٰنَ : شیطان ] [كَان : ہے ] [لِلرَّحْمٰنِ : رحمان کا ] [عَصِيًّا : نافرمان ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–48
پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا (وَاَعْتَزِلُکُمْ وَمَا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللِّٰہ) اور میں تم لوگوں سے اور ان چیزوں سے کنارہ کرتا ہوں جن کی تم اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہو، وادعوا ربی اور میں اپنے رب کو پکارتا ہوں (عَسٰٓی اَنْ لَّآ اَکُوْنَ بْدُعَآءِ رَبِّیْ شَقِیًّا) (امید ہے کہ میں اپنے رب کی دعا سے محروم نہ رہوں گا) یعنی میری دعا اور کوشش ضائع نہ جائے گی اور تم لوگوں کو جو شقاوت گھیرے ہوئے ہے مجھے اللہ تعالیٰ اس سے دور رکھے گا قال صاحب الروح و فیہ تعریض بشقاوتھم فی عبادۃ الھتھم اور آیت میں ہجرت کا اعلان ہے اس کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے وطن سے ہجرت فرما کر ملک شام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–50
قصۂ سوم حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ و السلام
قال اللہ تعالیٰ ۔ واذکر فی الکتٰب ابرٰھیم۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ وجعلنا لھم لسان صدق علیا۔
ربط۔ اس سورة کا یہ تیسرا قصہ ہے جس میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی خدا پرستی کا ذکر ہے کہ وہ کیسے خدا پرست تھے اور کس طرح انہوں نے اپنے باپ کو توحید کی دعوت دی اور کس طرح شرک اور بت پرستی کا بطلان ظاہر کیا اور اس دعوت اور تبلیغ میں اپنے باپ کے ادب اور احترام کو ملحوظ رکھا اور پھر کس طرح انہوں نے اللہ تعالیٰ کے لیے اپنے باپ کو چھوڑا اور اپنے آبائی وطن سے ہجرت کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے درجے بلند کیے اور ان کو اولاد صالح عطا فرمائی اور تمام امتوں اور قوموں میں ان کا ذکر خیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–45
33:۔ یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دعویٰ کی صداقت کی دلیل ہے یعنی میرے پاس اللہ کی وحی کے ذریعے ایسا علم ہے، جو تمہارے پاس نہیں ہے۔ اس لیے تم میرا اتباع کرو اور توحید کو مان لو۔ درا صل یہی سیدھی راہ ہے۔ ” لَا تَعْبُدِ الشَّیْطٰن الخ “ معبودان باطلہ کی عبادت کو شیطان کی عبادت اس لیے فرمایا کہ شیطان ہی انسان کو گمراہ کر کے اس سے شرک کراتا ہے، یا اس لیے کہ شیطان بزرگوں کی صورت اختیار کر کے مشرکین کو اپنی پوجا کرنے کا حکم دیتا ہے۔ ” یَا اَبَتِ اِنِّیْ اَخَافُ الخ “ یہ تخویف اخروی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–45
ربط آیات :
دوسرے رکوع کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم (علیہ السلام) کا ذکر بھی اسی طرح کیا تھا (آیت) ” واذکر فی الکتب مریم “۔ وہاں پر اللہ تعالیٰ نے ان پر کی گئی اپنی خاص مہربانی کا تذکرہ فرمایا ، یہ واقعہ بطور تمہید تھا ، پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت کا ذکر کرکے مسئلہ توحید سمجھایا اور شرک کا رد کیا درمیان میں فرمایا (آیت) ” ماکان للہ ان یتخذ من والد سبحنہ “۔ (آیت 35) اللہ تعالیٰ کی ذات اپنے لیے بیٹا بنانے سے پاک ہے مسیح (علیہ السلام) نے بھی قوم کو یہی تعلیم دی (آیت) ” وان اللہ ربی وربکم فاعبدہ “۔ (آیت ۔ 36) میرا اور تمہارا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے اسی کی عبادت…
Read the full tafseer →يٰٓاَبَتِ لَا تَعْبُدِ الشَّيْطٰنَ 0ۭ اِنَّ الشَّيْطٰنَ كَانَ لِلرَّحْمٰنِ عَصِيًّا 44
شطن
الشَّيْطَانُ النون فيه أصليّة «3» ، وهو من : شَطَنَ أي : تباعد، ومنه : بئر شَطُونٌ ، وشَطَنَتِ الدّار، وغربة شَطُونٌ ، وقیل : بل النون فيه زائدة، من : شَاطَ يَشِيطُ : احترق غضبا، فَالشَّيْطَانُ مخلوق من النار کما دلّ عليه قوله تعالی: وَخَلَقَ الْجَانَّ مِنْ مارِجٍ مِنْ نارٍ [ الرحمن/ 15]: الشّيطان اسم لكلّ عارم من الجنّ والإنس والحیوانات . قال تعالی: شَياطِينَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ [ الأنعام/ 112]
( ش ط ن ) الشیطان
اس میں نون اصلی ہے اور یہ شطن سے مشتق ہے جس کے معنی دور ہونیکے ہیں اور بئر شطون ( بہت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
4 ؎ یعنی بت 12
4 ؎ یعنی اس کا کہنا نہ مان جو وہ بت پرستی کی ترغیب دل میں دلاتا ہے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–45
اِذْقَالَ لِاَبِیْہِ یٰٓـاَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَالاَ یَسْمَعُ وَلاَ یُبْصِرُ وَلاَ یُغْنِیْ عَنْکَ شَیْئًا۔ یٰٓـاَبَتِ اِنِّیْ قَدْجَآئَ نِیْ مِنَ الْعِلْمِ مَالَمْ بَاْ تِکَ فَا تَّبِعْنِیْٓ اَھْدِکَ صِرَاطًا سَوِیًّا۔ یٰٓـاَبَتِ لاَ تَعْبُدِالشَّیْطٰنَ ط اِنَّ الشَّیْطٰنَ کَانَ لِلرَّحْمٰنِ عَصِیًّا۔ یٰٓـاَبَتِ اِنِّیْٓ اَخَافُ اَنْ یَّمَسَّکَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ فَتَکُوْنَ لِلشَّیْطٰنِ وَلِیًّا۔ (مریم : 42، 43، 44، 45)
(یاد کرو جب حضرت ابراہیم نے اپنے باپ سے کہا کہ اے میرے باپ ! آپ کیوں پرستش کرتے ہیں ایسی چیزوں کی جو نہ سنتی ہیں نہ دیکھتی ہیں اور نہ وہ کچھ آپ کے کام آنے والی ہیں۔ اے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–45
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دعوت کا آغاز اپنے گھر سے فرمایا یہی بہترین اور فطری طریقہ ہے کہ داعی اپنی دعوت کا آغاز اپنے گھر سے کرے۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم اور ان کے والد آذر بتوں کی پرستش کرتے تھے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے پیغمبرانہ طریقہ کے مطابق تبلیغ کا آغاز اپنے گھر سے کیا۔ چناچہ باپ کے مرتبہ کا خیال رکھتے ہوئے نہایت ادب کے ساتھ فرماتے ہیں کہ اے والد گرامی ! آپ بتوں کی کیوں عبادت کرتے ہیں ؟ جو نہ سن سکتے ہیں، نہ دیکھتے ہیں اور نہ ہی آپ کو کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔ اے والد گرامی ! یقیناً میرے پاس ایساعلم آیا ہے جو آپ کے پاس موجود نہیں۔ میری بات…
Read the full tafseer →44: یٰٓاَبَتِ لَاتَعْبُدِ الشَّیْطٰنَ (اے میرے باپ تو شیطان کی عبادت نہ کر) یعنی اس بات میں اس کی اطاعت نہ کر جو اس نے تیرے لیے بتوں کی عبادت کو مزین کر رکھا ہے۔ اِنَّ الشَّیْطٰنَ کَانَ لِلرَّحْمٰنِ عصِیًّا (بیشک شیطان رحمان کا نافرمان ہے) ۔ عَصِیًّا : عاصی کے معنی میں ہے نافرمانی کرنے والا۔
Read the full tafseer →44۔ یا ابت لاتعبدالشیطان۔ آپ شیطان کی پیروی نہ کریں کیونکہ وہ آپ کے سامنے کفر وشرک کو مزین کرکے پیش کرتا ہے۔ ان الشیطان کان للرحمن عصیا، اس سے مراد نافرمان ہے۔ کان حال کے معنی میں ہے یعنی وہ اس طرح ہے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–50
41۔ 50:۔ تفسیر سدی اور سیرۃ ابن اسحاق میں حضرت ابرہیم (علیہ السلام) کی پیدائش کا قصہ جو لکھا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کی پیدائش سے پہلے نمرود نے خواب میں دیکھا تھا کہ ایک بڑا روشن ستارہ آسمان پر نکلا ہے اس وقت کے نجومیوں سے اس نے اپنا یہ خواب بیان کیا انہوں نے جواب دیا کہ اس سال ایک لڑکا ایسا پیدا ہوگا کہ اسکے سبب سے تیری سلطنت غارت ہوجائے گی اس خواب کی تعبیر کے خوف سے بستی کے سب مردوں کو اپنے ساتھ لے کر نمرود بستی کے باہر چلا گیا اور سب عورتوں کو بستی کے اند چھوڑ دیا تاکہ اس سال مرد و عورت میں مباشرت اور کوئی اولاد پیدا نہ ہو، مگر جب آزر بستی میں آئے تو ان سے نہ رہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–52
آیت 41
تمام کتابوں میں سب سے زیادہ جلیل القدر، سب سے افضل اور سب سے زیادہ بلند مرتبے والی کتاب، یہ کتاب مبین اور ذکر حکیم یعنی قرآن مجید ہے۔ اگر اس میں خبریں بیان کی گئی ہیں تو یہ خبریں سب سے زیادہ سچی، سب سے زیادہ حق اور سب سے زیادہ نفع مند ہیں۔ اگر اس میں اوامر ونواہی کا تذکرہ ہے تو یہ اوامرونواہی سب سے زیادہ قدر و قیمت کے حامل اور سب سے زیادہ عدل و انصاف پر مبنی ہیں۔ اگر اس میں سزا و جزا اور وعدے و عید کا ذکر کیا گیا ہے تو وہ سب سے زیادہ سچی خبر اور سب سے زیادہ حق ہے اور اللہ تعالیٰ کی حکمت اور اس کے عدل و فضل پر سب سے زیادہ دلالت کرتی ہے اور اگر اس میں انبیاء ومرسلین کا ذکر ہے تو اس میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–45
اپنی ذات کی تعریف بغیر فخر کے جائز ہے
قول باری ہے (وبرا بوالدتی ولم یجعلنی جبارًا شقیاً والسلام علی یوم ولدت ویوم اموت ویوم ابعث حیا۔ اور مجھے اپنی والدہ کا حق ادا کرنے والا بنایا، مجھ کو جبار اور شقی نہیں بنایا، سلام ہے مجھ پر جبکہ میں پیدا ہوا اور جبکہ میں مرون اور جب کہ زندہ کر کے اٹھایا جائوں) اس میں یہ دلالت موجود ہے کہ انسان اپنی ذات کو تعریف اور نیکی کی صفات سے متصف کرسکتا ہے بشرطیکہ اس کی نیت یہ ہو کہ دوسرے اشخاص بھی اس نیکی اور بھلائی سے روشناس ہو کر اس پر عمل پیرا ہو سکیں، اس کے ذریعے وہ ڈینگ مارنے اور اپنی خوبیوں کے فخر یہ اظہار کی نیت نہ رکھتا ہو۔ اس کی مثال حضرت یوسف (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–46
56 مشرک باپ کی موحد بیٹے کو قتل و سنگسار کی دھمکی : سو حضرت ابراہیم کے مشرک باپ نے اپنے موحد بیٹے کو قتل اور سنگسار کرنے کی دھمکی دی اور کہا کہ " الگ ہوجاؤ تم مجھ سے ہمیشہ کے لیے " تاکہ میں تمہاری شکل بھی دیکھنے نہ پاؤں۔ سو یہ حال اور مآل ہوتا ہے اس شخص کا جس کے رگ و پے میں کفر و شرک کی نحوست و نجاست سرایت کرجاتی ہے۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے۔ کل کی طرح آج بھی اس کے نمونے جگہ جگہ اور طرح طرح سے دیکھنے میں آتے ہیں اور آئندہ بھی آئیں گے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو آج بھی جگہ جگہ اہل شرک کی طرف سے اہل توحید کے ساتھ اسی طرح کی قسوت اور شدت کا برتاؤ کیا جاتا ہے۔ اور ان کو طرح طرح سے ستایا جاتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–50
سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی ہجرت اور اللہ کا ان پر فضل و کرم
تشریح : یہاں سے پھر اہل مکہ کو خطاب کیا جا رہا ہے۔ اور ان مسلمانوں کو جو کفار مکہ کی دشمنی کی وجہ سے مکہ کو چھوڑ کر حبشہ کی طرف ہجرت کر رہے تھے۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر اس لیے کیا جا رہا ہے کیونکہ وہ اپنے کردار اور صفات کی وجہ سے یہودی، عیسائی، کفار مکہ اور مسلمانوں میں یکساں طور پر مکرم و محترم سمجھے جاتے ہیں سب ہی مذاہب میں ان کی بےحد بلند جگہ سمجھی جاتی ہے۔
کفار مکہ کو یاد کروایا گیا کہ تم کو جب بتوں کی پوجا سے منع کیا جاتا ہے تو تم لوگ کہتے ہو ” ہمارے آباو اجداد یہی کرتے آئے ہیں اور ساتھ ہی تم لوگ ملت ابراہیمی کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–50
(رکوع نمبر 3)
اسرارومعارف
انہیں کتاب اللہ میں ابراہیم (علیہ السلام) کے حالات بھی سنائیے کہ مشرکین عرب ان کی پیروی کا دعوی رکھتے تھے مگر عقائد و اعمال مشرکانہ گھڑ رکھے تھے تو یہ بھی واضح ہوجائے کہ محض واقعات عجیبہ ہی سننے کا شوق رکھتے ہیں یا حق کی طلب بھی تاکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے حالات سے ان کا عقیدہ اور عمل بھی اپنی صحیح صورت میں سامنے آجائے کہ وہ تو صدیق تھے اور نبی تھے ۔
(صدیق)
یہاں صدیق سے مراد سچائی لیا جائے تو ہر نبی ہی صدیق اور سچا ہوتا ہے تو پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی خصوصیت کیا رہ جاتی ہے ۔
(معنے اور منصب نیز مناصب ولایت کی خصوصیات)
حق یہ ہے کہ صدیق ہونا یا ” صدیقیت “…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
ف 7 جب وہ خود خدا کا مخالف ہے تو ظاہر ہے کہ وہ اپنا کہنا ماننے والوں کو بھی خدا کی مخالفت کی راہ پر لگائے گا۔ اس سے کسی قسم کی صحیح ہدایت کی توقع سراسر حماقت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
(19:43) اھدک۔ مضارع واحد متکلم ھدایۃ مصدر کضمیر مفعول واحد مذکر حاضر اھد اصل میں اھدی تھا یکو حذف کیا گیا ہے ۔ صراطا سویا۔ ای صراطا مستقیما۔ سیدھا راستہ۔ (میں تجھے سیدھا راستہ بتائوں گا) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–50
لغات القرآن آیت نمبر 41 تا 50
یابت اے میرے ابا جان۔ سوی سیدھا، برابر۔ عصی نافرمان۔ ان یمسک یہ کہ تجھے پہنچے۔ یہ کہ تجھے پکڑے۔ اراغب کیا تو منہ پھیرتا ہے۔ (کیا تو رغبت رکھتا ہے۔ ) لم تنتہ تو باز نہ آیا۔ ارجمن میں ضرور پتھر ماروں گا۔ اھجرنی مجھے تنہا چھوڑ دے۔ ملی ایک وقت، مدت۔ استغفر میں دعائے مغفرت کروں گا۔ حفی مہربان۔ اعتزل میں الگ ہوتا ہوں۔ میں چھوڑتا ہوں۔ ادعوا میں پکاروں گا۔ شقی محروم۔ وھبنا ہم نے عطا کیا۔ لسان صدق سچی زبان، ذکر جمیل، علی نہایت بلند۔ اللہ تعالیٰ کی صفت
تشریح : آیت نمبر 41 تا 50
سورة مریم میں حضرت عیسیٰ حضرت زکریا اور حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–48
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا بیان
یہ تیسرا تذکرہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ کتاب میں ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر ہے بیشک وہ سچے نبی تھے۔ یہاں اس وقت کی ثابت قدمی اور خدا پرستی مذکور ہے۔ جب ابتدائے شباب میں انہوں نے بت پرستی کو حقیر جانا، اور اپنے باپ سے کہا تھا :" اے باپ ! تو ایسی چیزوں کی عبادت کیوں کرتا ہے جن کو نہ سننے کی طاقت اور نہ دیکھنے کی قدرت ہے، نہ یہ چیزیں تیرے کام آسکتی ہیں یعنی بتوں کی پرستش نہ کرو۔ ان سے کوئی کام نہیں بن سکتا ۔ اے باپ ! مجھے اللہ نے وہ علم دیا ہے کہ تجھے حاصل نہیں، تو میرے کہنے پر چل۔ میں تجھے سیدھا راستہ بتاؤں گا۔ اے میرے باپ ! شیطان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–50
[19] ظاہر ہے کہ شیطان کی تو کوئی بھی عبادت نہیں کرتا سب اس پر لعنت ہی کرتے ہیں۔ ابراہیم (علیہ السلام) کے والد اور ان کی قوم کے لوگ اگرچہ پرستش بتوں کی کرتے تھے لیکن کیونکہ وہ اطاعت شیطان کی کر رہے تھے اس لئے ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کی اطاعت شیطان کو بھی عبادت شیطان قرار دیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کے احکام اور اس کی ہدایات کو چھوڑ کر کسی دوسرے کے احکام اور رہنمائی کا اتباع کرنا دراصل اس کی اطاعت و بندگی ہے۔ لفظ '' عبادت '' کی تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة فاتحہ حاشیہ 11۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–46
(ف 1) یہ تیسرا قصہ ہے ، مکہ کے منکرین حق بظاہر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی عقیدتمندی کا دم بھرتے اور احترام کرتے تھے ، اللہ نے فرمایا کہ کمبختو ! اگر تم واقعی طور پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے ارادت رکھتے ہو تو پھر یہ بت پرستی کیسی ؟ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے دوستی ، محبت کا دعوئے اور یہ شرک کا ارتکاب ، یہ دو چیزیں کیونکر جمع ہو سکتی ہیں ؟ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تو صدیق تھے یعنی توحید اسلامی کے برجوش علمبردار ، انہوں نے توحید کے پھیلانے میں کبھی تعلق کا پاس نہیں کیا انہوں نے اپنے باپ کو جب دیکھا کہ بت پرستی کے مرض میں مبتلا ہے تو برملا کہہ دیا ، ابا ! ان بتوں کی پرستش کیوں کرتے…
Read the full tafseer →-44 اے میرے باپ ! تو شیطان کی عبادت اور پرستش نہ کر کیونکہ شیطان تو رحمٰن کا نافرمان ہے۔ بتوں کے پجاری شیطان کے پجاری ہیں جو شیطان کی بات اور اس کے کہنے کو مانتے ہیں اور خدا کے احکام کو پس پشت ڈال دیتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
ف 4۔ یعنی جب اطاعت میں اس کا ساتھ دو گے تو نفس عقوبت میں اس کا ساتھ ہوگا۔
Read the full tafseer →فرمایا : ابو ! شیطان کی پیروی مت کرو وہ سیدھا جہنم رسید کرا دے گا :
44۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے والد سے فرمایا کہ اے ابوجان ! شیطان کی بندگی نہ کرو کیونکہ اگر بتوں اور قبروں کو خدا بنانے والوں نے یہ کیا ہے تو وہ انسان آخر کب ہیں بلکہ وہ تو شیطان ہی ہیں اور اگر انہوں نے ایسا نہیں کیا بلکہ بعد میں لوگوں نے ایسا تصور کرلیا ہے تو ظاہر ہے کہ وہ شیطان ہی کی سکیم پر لگے ہیں اور شیطان تو انسان کا کھلا دشمن ہے وہ رہی کرائے گا جو ایک دشمن سے دشمن کرواتا ہے ، اے ابو جان ! آپ نے اس کی سکیم کو صحیح مان لیا ہے جو رب رحمن کا نافرمان اور اسم بامسمی شیطان ہے وہ آپ کو سیدھی راہ سے ہٹا کر ٹیڑھی راہ چلا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–46
How to give counsel to elders.
يَا أَبَتِ (My dear father - 19:42) In Arabic language this word conveys deep respect and intense love for one's father. Allah Ta` ala had combined in the person of Sayyidna Khalilullah (علیہ السلام) the noble qualities and attributes, and his address to his father is a perfect example of moderation and restraint on the one hand, and the balancing of the opposites on the other. He finds his father living a life of unbelief and polytheism, and also calling upon other people to follow him in a life of sin - the very things which he was sent to eradicate. At the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–49
27. It should be noted that the literal translation of the Arabic text is:“Do not worship Satan”, though Abraham’s father and the other people did not worship Satan in the same sense as they worshiped idols. But as they followed and obeyed Satan, he accused them of worshiping Satan. Thus it is clear that if somebody follows and obeys Satan, he virtually worships him. For Satan has never been a deity in the sense that people have made him an object of worship; nay, they have always been cursing him and following him at the same time. (For further details see (Surah Al-Kahf E.Ns 49-50).
27a.…
Read the full tafseer →