Maryam 19:45

Maryam · from ayah 45

19:45

یٰۤاَبَتِ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یَّمَسَّكَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ فَتَكُوْنَ لِلشَّیْطٰنِ وَلِیًّا ۟يٰۤاَبَتِ اِنِّىۡۤ اَخَافُ اَنۡ يَّمَسَّكَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحۡمٰنِ فَتَكُوۡنَ لِلشَّيۡطٰنِ وَلِيًّا‏

ابّا مجھے ڈر لگتا ہے کہ آپ کو خدا کا عذاب آپکڑے تو آپ شیطان کے ساتھی ہوجائیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

O my father, indeed I fear that there will touch you a punishment from the Most Merciful so you would be to Satan a companion [in Hellfire]."

— Saheeh International

Juz 16 · Ruku 3 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah Maryam

All translations of 19:45

ابّا جان، مجھے ڈر ہے کہ کہیں آپ رحمان کے عذاب میں مُبتلا نہ ہو جائیں اور شیطان کے ساتھی بن کر رہیں"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ابّا مجھے ڈر لگتا ہے کہ آپ کو خدا کا عذاب آپکڑے تو آپ شیطان کے ساتھی ہوجائیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

ابّا جان! مجھے خوف لگا ہوا کہ کہیں آپ پر کوئی عذاب الٰہی نہ آپڑے کہ آپ شیطان کے ساتھی بن جائیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

ابا جان ! مجھے اندیشہ ہے کہ خدائے رحمن کی طرف سے آپ کو کوئی عذاب نہ آپکڑے، جس کے نتیجے میں آپ شیطان کے ساتھی بن کر رہ جائیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اے میرے باپ میں ڈرتا ہوں کہ تجھے رحمن کا کوئی عذاب پہنچے تو تُو شیطان کا رفیق ہوجائے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اے ابّا! بیشک میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ تمہیں (خدائے) رحمان کا عذاب پہنچے اور تم شیطان کے ساتھی بن جاؤ،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اے میرے باپ ! بیشک میں ڈرتا ہوں کہ تجھ پر رحمان کی طرف سے کوئی عذاب آپڑے، پھر تو شیطان کا ساتھی بن جائے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ابا جان ! مجھے خطرہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے آپ کو سزا ملے گی اور آپ شیطان کے ساتھی بن جائیں گے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اے میرے باپ مجھے ڈر ہے کہ آپ کو خدائے رحمان کا کوئی عذاب آپکڑے اور شیطان کے ساتھی بن کے رہ جائیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ابا جان مجھے تو اس بات کا سخت ڈر ہے کہ کہیں آپ پر خدائے رحمان کی طرف سے کوئی ایسا عذاب آپڑے کہ آپ ہمیشہ کے لیے شیطان کے ساتھی بن کر رہ جائیں

— مولانا اسحاق مدنی

اے میرے باپ میں اندیشہ کرتا ہوں کہ آپ پر خدائے رحمن کی طرف سے عذاب آپڑے تو آپ شیطان کے ساتھی بن جائیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اباجان ! مجھے اندیشہ ہے کہ رحمن کی طرف سے کوئی عذاب آپ کو آپکڑے اور پھر آپ شیطان ہی کے ساتھی بن کر رہ جائیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اے ابا جان ! مجھے ڈر لگتا ہے کہ آپ کو اللہ کا عذاب آپکڑے تو آپ شیطان کے ساتھی ہوجائیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Father, I fear that a punishment from the Most Compassionate Lord might strike you and you may end up as one of Satan's companions?"

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

My dear father, I fear lest a punishment from the All- Merciful (Allah) should afflict you, and you become a companion of Satan.

— Muhammad Taqi Usmani

My dear father, I fear lest a punishment from the All- Merciful (Allah) should afflict you, and you become a companion of Satan.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"O my father! Verily, I fear lest a torment from the Most Gracious should overtake you, so that you become a companion of Shaytan."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

O my father! Lo! I fear lest a punishment from the Beneficent overtake thee so that thou become a comrade of the devil.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

O my father, indeed I fear that there will touch you a punishment from the Most Merciful so you would be to Satan a companion [in Hellfire]."

— Saheeh International

Father, I am afraid that the Beneficent God's torment will strike you and you will become a friend of satan."

— Muhammad Sarwar

O my father! surely I fear that a punishment from the Beneficent Allah should afflict you so that you should be a friend of the Shaitan.

— Muhammad Habib Shakir

O My father! verily I fear that there may touch thee a torment from the Compassionate so that thou become to the Satan a companin.

— Abdul Majid Daryabadi

"O my father! I fear lest a Penalty afflict thee from (Allah) Most Gracious, so that thou become to Satan a friend."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 19:45

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 41–45

بتوں کی پوجا۔ مشرکین مکہ جو بت پرست ہیں اور اپنے آپ کو خلیل اللہ کا متبع خیال کرتے ہیں ان کے سامنے اے نبی ﷺ خود حضرت ابراہیم ؑ کا واقعہ بیان کیجئے۔ اس سچے نبی نے اپنے باپ کی بھی پرواہ نہ کی اور اس کے سامنے بھی حق کو واضح کردیا اور اسے بت پرستی سے روکا۔ صاف کہا کہ کیوں ان بتوں کی پوجا پاٹ کر رہے ہوں جو نہ نفع پہنچا سکیں نہ ضرر۔ فرمایا کہ میں بیشک آپ کا بچہ ہوں لیکن اللہ کا علم جو میرے پاس ہے آپ کے پاس نہیں آپ میری اتباع کیجئے میں آپ کو راہ راست دکھاؤں گا برائیوں سے بچادوں گا۔ ابا جی یہ بت پرستی تو شیطان کی تابعداری ہے وہی اس کی راہ سمجھاتا ہے اور وہی اس سے خوش ہوتا ہے۔ جیسے سورة یاسین میں ہے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 44–46

سورة مَرْیَم 27 اصل الفاظ ہیں لا تعبد الشیطن، یعنی " شیطان کی عبادت نہ کریں " اگرچہ حضرت ابراہیم کے والد اور قوم کے دوسرے لوگ عبادت بتوں کی کرتے تھے، لیکن چونکہ اطاعت وہ شیطان کی کر رہے تھے۔ اس لیئے حضرت ابراہیم نے ان کی اس اطاعت شیطان کو عبادت شیطان قرار دیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ عبادت محض پوجا اور پرستش ہی کا نام نہیں بلکہ اطاعت کا نام بھی ہے۔ نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص کسی پر لعنت کرتے ہوئے بھی اس کی بندگی بجا لائے تو وہ اس کی عبادت کا مجرم ہے، کیونکہ شیطان بہرحال کسی پر لعنت کرتے ہوئے بھی اس کی بندگی بجا لائے تو وہ اس کی عبادت کا مجرم ہے، کیونکہ شیطان بہرحال کسی زمانے میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 42–46

اپنے بڑوں کو نصیحت کرنے کا طریقہ اور اس کے آداب يٰٓاَبَتِ عربی لغت کے اعتبار سے یہ لفظ باپ کی تعظیم و محبت کا خطاب ہے۔ حضرت خلیل اللہ علیہ الصلوٰة والسلام کو حق تعالیٰ نے جو مقام جامعیت اوصاف و کمالات کا عطا فرمایا تھا، ان کی یہ تقریر جو اپنے والد کے سامنے ہو رہی ہے اعتدال مزاج اور رعایت اضداد کی ایک بےنظیر تقریر ہے کہ ایک طرف باپ کو شرک و کفر اور کھلی گمراہی میں نہ صرف مبتلا بلکہ اس کا داعی دیکھ رہے ہیں جس کے مٹانے ہی کے لئے خلیل اللہ پیدا کئے گئے ہیں، دوسری طرف باپ کا ادب اور عظمت و محبت ہے ان دونوں ضدوں کو حضرت خلیل اللہ نے کس طرح جمع فرمایا اول تو يٰٓاَبَتِ کا لفظ جو باپ کی مہربانی اور…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 42–45

تفسیر آیات 42 تا 45: حضرت ابراہیم کی تقریر اپنے باپ کے سامنے :۔ إِذْ قَالَ لأبِيهِ يَا أَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لا يَسْمَعُ وَلا يُبْصِرُ وَلا يُغْنِي عَنْكَ شَيْئًا (42) يَا أَبَتِ إِنِّي قَدْ جَاءَنِي مِنَ الْعِلْمِ مَا لَمْ يَأْتِكَ فَاتَّبِعْنِي أَهْدِكَ صِرَاطًا سَوِيًّا (43) يَا أَبَتِ لا تَعْبُدِ الشَّيْطَانَ إِنَّ الشَّيْطَانَ كَانَ لِلرَّحْمَنِ عَصِيًّا (44) يَا أَبَتِ إِنِّي أَخَافُ أَنْ يَمَسَّكَ عَذَابٌ مِنَ الرَّحْمَنِ فَتَكُونَ لِلشَّيْطَانِ وَلِيًّا (45) یہ حضرت ابراہیم کی وہ تقریری ہے جو وحی الٰہی سے سرفراز ہونے کے بعد سب سے پہلے انہوں نے اپنے باپ۔ آزر۔ کے سامنے کی ہے۔ اس…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

45۔ 1 اگر آپ اپنے شرک وکفر پر باقی رہے اور اسی حال میں آپ کو موت آگئی، تو عذاب الٰہی سے آپ کو کوئی نہیں بچا سکے گا۔ یا دنیا میں ہی آپ عذاب کا شکار نہ ہوجائیں اور شیطان کے ساتھی بن کر ہمیشہ کے لئے راندہ بارگاہ الٰہی ہوجائیں۔ حضرت ابراہیم ؑ نے اپنے باپ کے ادب و احترام کے تقاضوں کو پوری طرح ملحوظ رکھتے ہوئے، نہایت شفقت اور پیار کے لہجے میں باپ کو توحید کا وعظ سنایا، لیکن توحید کا سبق کتنے ہی شریں اور نرم لہجے میں بیان کیا جائے، مشرک کے لئے ناقابل برداشت ہی ہوتا ہے۔ چناچہ مشرک باپ نے اس نرمی اور پیار کے جواب میں نہایت درشتی اور تلخی کے ساتھ موحد بیٹے کو کہا اگر تو میرے معبودوں سے روگردانی کرنے سے…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 44–45

یابت لا تعدالشیطن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عصیا (44) یابت انی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ولیا (54) (91 : 44۔ 54) ” ابا جان ‘ آپ شیطان کی بندگی نہ کریں ‘ شیطان تو رحمن کا نافرمان ہے۔ ابا جان ‘ مجھے ڈر ہے کہ کہیں آپ رحمن کے عذاب میں مبتلا نہ ہوجائیں اور شیطان کے ساتھی بن کر رہیں “۔ یہ شیطان ہی ہے جو اللہ کے سوابتوں کی بندگی پر لوگوں کو آمادہ کرتا ہے جو لوگ بتوں کی بندگی کرتے ہیں گویا وہ شیطان کی بندگی کرتے ہیں۔ اور شیطان رحمن کا نافرمان ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے والد کو ڈراتے ہیں کہ ان پر کہیں اللہ کا غضب نہ آجائے اور اس طرح اللہ کہیں انہیں شیطان کا دوست ہی نہ بنا دے اور وہ مستقلاً سیطان کے تابع نہ ہوجائیں۔ اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یعنی رحمان کی رحمت عظیمہ تو چاہتی ہے کہ تمام بندوں پر شفقت و مہربانی ہو، لیکن تیری بداعمالیوں کی شامت سے ڈر ہے کہ ایسے حلیم و مہربان خدا کو غصہ نہ آجائے اور تجھ پر کوئی سخت آفت نازل نہ کر دے جس میں پھنس کر تو ہمیشہ کے لیے شیطان کا ساتھی بن جائے یعنی کفر و شرک کی مزاولت سے آئندہ ایمان و توبہ کی توفیق نصیب نہ ہو اور اولیاء الشیطان کے گروہ میں شامل کر کے دائمی عذاب میں دھکیل دیا جائے۔ عموماً مفسرین نے یہ ہی معنی لیے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " یعنی کفر کے وبال سے کچھ آفت آئے اور تو مدد مانگنے لگے شیطان سے یعنی بتوں سے، اکثر لوگ ایسے ہی وقت شرک کرتے ہیں۔ " واللّٰہ اعلم۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 44–45

آیت 44 یٰٓاَبَتِ لَا تَعْبُدِ الشَّیْطٰنَط اِنَّ الشَّیْطٰنَ کَان للرَّحْمٰنِ عَصِیًّا ” اس شیطان کی فرمانبرداری مت کیجیے جو اللہ تعالیٰ کے سامنے بغاوت اور سرکشی کا ارتکاب کرچکا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

42 اللہ کی طرف سے کوئی جسمانی سزا ملے یا نہ ملے یہ تو ضرور ملے گی کہ اگر تم شیطان ہی کی اطاعت کرتے رہے تو تمہیں کبھی ہدایت نصیب نہ ہوگی۔ پھر تم ہمیشہ کے لئے شیطان ہی کے ساتھی بن جاؤ گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

66۔ (دوزخ اور عذاب آخرت میں) (آیت) ” عذاب من الرحمن “۔ یہاں یہ جتلا دیا کہ گو وہ رحمن ہے مگر سزا دینے میں اس کو مانع نہ عدم قدرت ہوسکتی ہے نہ عدم ارادہ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 41–50

آیت نمبر 41 تا 50 ترجمہ : آپ کفار مکہ کو کتاب میں مذکور ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ سنائیے یعنی اس کی خبر بیان کیجئے بیشک وہ بڑی راستی والے نبی تھے یعنی نہایت سچے نبی تھے اور اِذ قال لابیہ خبْرَہ سے بدل ہے (یعنی اس وقت کا قصہ بیان کیجئے) جب انہوں نے اپنے والد آزر سے عرض کیا تھا یَا اَبَتِ اے ابا جان، تایائے اضافت کے عوض میں ہے (عوض اور معوض) دونوں کو جمع کرنا جائز نہیں ہے اور آزر بت پرستی کرتا تھا آپ ان (بتوں) کی پوجا پاٹ کیوں کرتے ہیں ؟ جو نہ سنیں اور نہ دیکھیں اور نہ آپ کے کچھ کام آسکیں یعنی نہ کفایت کرسکیں، نہ نفع پہنچا سکیں اور نہ نقصان کو دفع کرسکیں اے میرے مہربان باپ میرے پاس وہ علم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یا ابت انی اخاف ان یمسک عذاب من الرحمن اے میرے باپ مجھے ڈر ہے کہ رحمن کی طرف سے کوئی عذاب آپ پر (نہ) آجائے ‘ یعنی اگر آپ کفر اور شیطان کی اطاعت پر قائم رہیں گے تو رحمن کی طرف سے (باجودیکہ اس کی رحمت رحمت کاملہ ہے) کوئی سخت عذاب آجائے گا مجھے اس کا اندیشہ ہے اس کی رحمت اگرچہ فرماں برداروں پر بہت زیادہ ہے لیکن سرکش نافرمانوں پر اس کا عذاب بھی بہت سخت ہے۔ فتکون للشیطن ولیا۔ پھر آپ شیطان کے ساتھی ہوجائیں گے۔ شیطان پر دنیا میں جو لعنت ہے وہ آپ پر بھی ہو جائے گی اور آخرت میں جو عذاب شیطان پر ہوگا آپ پر بھی ہوگا وہ اس طرح آپ کے ساتھ شیطان کا اور شیطان کے ساتھ آپ کا جوڑ اور اتصال ہوجائے گا۔ بیضاوی نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(45) میرے باپ اگر آپ ایمان نہ لائے تو مجھے ڈر ہے کہ تم پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی عذاب نہ نازل ہو پھر تم دوزخ میں شیطان کے ساتھی ہوجاؤ۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

يٰٓاَبَتِ اِنِّىْٓ اَخَافُ۔۔ : چوتھی بات یہ کہ اسے بت پرستی کے برے انجام اور اس کے وبال اور عذاب سے ڈرایا اور اس میں بھی حسن ادب کو ملحوظ رکھا۔ صاف الفاظ میں یہ نہیں کہا کہ تم پر عذاب آپڑے گا، بلکہ فرمایا کہ میں ڈرتا ہوں کہ تجھے رحمٰن کی طرف سے کوئی عذاب آ لگے اور پھر تو شیطان کا ساتھی بن جائے۔ یہاں ”میں ڈرتا ہوں“ اور ”کوئی عذاب آ لگے“ کے الفاظ قابل غور ہیں کہ وہ کتنی سخت بات کو کس قدر نرمی کے ساتھ بیان کر رہے ہیں۔ پھر یہ بات کہ عذاب کا نتیجہ شیطان کا دوست اور ساتھی بننا ہوگا۔ معلوم ہوا کہ شیطان کا ساتھی بننا عذاب سے بھی بدتر ہے۔ یہ آخری نصیحت بھی ”يٰٓاَبَتِ“ کے پیارے الفاظ سے شروع ہوتی ہے۔…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 42–47

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اذ قال لابیہ، ابیہ سے مراد آزر ہے جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔ یابت، سورة یوسف میں اس پر گفتگو ہوچکی ہے۔ لم تعبد کس وجہ سے آپ عبادت کرتے ہیں۔ مالا یسمع ولا یبصر ولا یغنی عنک شیا۔ جو نہ سنتے ہیں اور نہ دیکھتے ہیں اور نہ تجھے کچھ فائدہ دیتے ہیں۔ اس سے مراد بتہیں۔ یابت انی قد جآءنی من العلم مالم یا تک یعنی اللہ کی معرفت اور یقین اور جو موت کے بعد ہونا ہے اور جسنے غیر اللہ اللہ کی عبادت کی اسے عذاب دیا جائے گا۔ فاتبعنی اس کی اتباع کرو جس کی طرف میں دعوت دیتا ہوں۔ اھدک صراطاً سویا۔ میں تمہاری دین مستقیم کی طرف راہنمائی کروں گا جس میں نجات ہے۔ یابت لا تعبد الشیطن وہ جو تمہیں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 41–50

1:۔ ابونعیم اور دیلمی نے ا نس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا والد کا حق اس کی اولاد پر یہ ہے کہ اس کا نام نہ لے مگر جس طرح ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد کو پکارا تھا اے میرے باپ اور اس کے نام کے ساتھ اس کو نہ پکارے۔ 2:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لارجمنک “ سے مراد ہے کہ میں تجھ کو ضرور گالیاں دوں گا (آیت) ” واھجرنی ملیا “ یعنی ایک مدت تک۔ 3:۔ ابن جریر، ابن منذر، اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” واھجرنی ملیا “ سے مراد ہے صحیح سالم مجھ سے دور ہوجا اس سے پہلے کہ میری طرف سے کوئی سزا تجھ کو پہنچ جائے۔ عبد بن حمید نے عکرمہ ؓ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[يٰٓاَبَتِ : اے میرے والد ] [انىٓ: بیشک ] [اَخَافُ : میں ڈرتا ہوں ] [ان : کہ ] [يَّمَسَّكَ : چھولے آپ کو ] [عَذَابٌ: کوئی عذاب ] [مِّنَ الرَّحْمٰنِ : رحمن (کی طرف) سے ] [فَتَكُوْنَ : نتیجۃً آپ ہوجائیں ] [لِلشَّيْطٰنِ : شیطان کے ] [وَلِيًّا : ایک کارندے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 42–48

پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا (وَاَعْتَزِلُکُمْ وَمَا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللِّٰہ) اور میں تم لوگوں سے اور ان چیزوں سے کنارہ کرتا ہوں جن کی تم اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہو، وادعوا ربی اور میں اپنے رب کو پکارتا ہوں (عَسٰٓی اَنْ لَّآ اَکُوْنَ بْدُعَآءِ رَبِّیْ شَقِیًّا) (امید ہے کہ میں اپنے رب کی دعا سے محروم نہ رہوں گا) یعنی میری دعا اور کوشش ضائع نہ جائے گی اور تم لوگوں کو جو شقاوت گھیرے ہوئے ہے مجھے اللہ تعالیٰ اس سے دور رکھے گا قال صاحب الروح و فیہ تعریض بشقاوتھم فی عبادۃ الھتھم اور آیت میں ہجرت کا اعلان ہے اس کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے وطن سے ہجرت فرما کر ملک شام…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 41–50

قصۂ سوم حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ و السلام قال اللہ تعالیٰ ۔ واذکر فی الکتٰب ابرٰھیم۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ وجعلنا لھم لسان صدق علیا۔ ربط۔ اس سورة کا یہ تیسرا قصہ ہے جس میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی خدا پرستی کا ذکر ہے کہ وہ کیسے خدا پرست تھے اور کس طرح انہوں نے اپنے باپ کو توحید کی دعوت دی اور کس طرح شرک اور بت پرستی کا بطلان ظاہر کیا اور اس دعوت اور تبلیغ میں اپنے باپ کے ادب اور احترام کو ملحوظ رکھا اور پھر کس طرح انہوں نے اللہ تعالیٰ کے لیے اپنے باپ کو چھوڑا اور اپنے آبائی وطن سے ہجرت کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے درجے بلند کیے اور ان کو اولاد صالح عطا فرمائی اور تمام امتوں اور قوموں میں ان کا ذکر خیر…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 43–45

33:۔ یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دعویٰ کی صداقت کی دلیل ہے یعنی میرے پاس اللہ کی وحی کے ذریعے ایسا علم ہے، جو تمہارے پاس نہیں ہے۔ اس لیے تم میرا اتباع کرو اور توحید کو مان لو۔ درا صل یہی سیدھی راہ ہے۔ ” لَا تَعْبُدِ الشَّیْطٰن الخ “ معبودان باطلہ کی عبادت کو شیطان کی عبادت اس لیے فرمایا کہ شیطان ہی انسان کو گمراہ کر کے اس سے شرک کراتا ہے، یا اس لیے کہ شیطان بزرگوں کی صورت اختیار کر کے مشرکین کو اپنی پوجا کرنے کا حکم دیتا ہے۔ ” یَا اَبَتِ اِنِّیْ اَخَافُ الخ “ یہ تخویف اخروی ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 41–45

ربط آیات : دوسرے رکوع کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم (علیہ السلام) کا ذکر بھی اسی طرح کیا تھا (آیت) ” واذکر فی الکتب مریم “۔ وہاں پر اللہ تعالیٰ نے ان پر کی گئی اپنی خاص مہربانی کا تذکرہ فرمایا ، یہ واقعہ بطور تمہید تھا ، پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت کا ذکر کرکے مسئلہ توحید سمجھایا اور شرک کا رد کیا درمیان میں فرمایا (آیت) ” ماکان للہ ان یتخذ من والد سبحنہ “۔ (آیت 35) اللہ تعالیٰ کی ذات اپنے لیے بیٹا بنانے سے پاک ہے مسیح (علیہ السلام) نے بھی قوم کو یہی تعلیم دی (آیت) ” وان اللہ ربی وربکم فاعبدہ “۔ (آیت ۔ 36) میرا اور تمہارا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے اسی کی عبادت…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يٰٓاَبَتِ اِنِّىْٓ اَخَافُ اَنْ يَّمَسَّكَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ فَتَكُوْنَ لِلشَّيْطٰنِ وَلِيًّا۝ 45 خوف الخَوْف : توقّع مکروه عن أمارة مظنونة، أو معلومة، كما أنّ الرّجاء والطمع توقّع محبوب عن أمارة مظنونة، أو معلومة، ويضادّ الخوف الأمن، ويستعمل ذلک في الأمور الدنیوية والأخروية . قال تعالی: وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخافُونَ عَذابَهُ [ الإسراء/ 57] ( خ و) الخوف ( س ) کے معنی ہیں قرآن دشواہد سے کسی آنے والے کا خطرہ کا اندیشہ کرنا ۔ جیسا کہ کا لفظ قرائن دشواہد کی بنا پر کسی فائدہ کی توقع پر بولا جاتا ہے ۔ خوف کی ضد امن آتی ہے ۔ اور یہ امور دنیوی اور آخروی دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے :…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 44–45

4 ؎ یعنی بت 12 4 ؎ یعنی اس کا کہنا نہ مان جو وہ بت پرستی کی ترغیب دل میں دلاتا ہے۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 42–45

اِذْقَالَ لِاَبِیْہِ یٰٓـاَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَالاَ یَسْمَعُ وَلاَ یُبْصِرُ وَلاَ یُغْنِیْ عَنْکَ شَیْئًا۔ یٰٓـاَبَتِ اِنِّیْ قَدْجَآئَ نِیْ مِنَ الْعِلْمِ مَالَمْ بَاْ تِکَ فَا تَّبِعْنِیْٓ اَھْدِکَ صِرَاطًا سَوِیًّا۔ یٰٓـاَبَتِ لاَ تَعْبُدِالشَّیْطٰنَ ط اِنَّ الشَّیْطٰنَ کَانَ لِلرَّحْمٰنِ عَصِیًّا۔ یٰٓـاَبَتِ اِنِّیْٓ اَخَافُ اَنْ یَّمَسَّکَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ فَتَکُوْنَ لِلشَّیْطٰنِ وَلِیًّا۔ (مریم : 42، 43، 44، 45) (یاد کرو جب حضرت ابراہیم نے اپنے باپ سے کہا کہ اے میرے باپ ! آپ کیوں پرستش کرتے ہیں ایسی چیزوں کی جو نہ سنتی ہیں نہ دیکھتی ہیں اور نہ وہ کچھ آپ کے کام آنے والی ہیں۔ اے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 42–45

فہم القرآن ربط کلام : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دعوت کا آغاز اپنے گھر سے فرمایا یہی بہترین اور فطری طریقہ ہے کہ داعی اپنی دعوت کا آغاز اپنے گھر سے کرے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم اور ان کے والد آذر بتوں کی پرستش کرتے تھے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے پیغمبرانہ طریقہ کے مطابق تبلیغ کا آغاز اپنے گھر سے کیا۔ چناچہ باپ کے مرتبہ کا خیال رکھتے ہوئے نہایت ادب کے ساتھ فرماتے ہیں کہ اے والد گرامی ! آپ بتوں کی کیوں عبادت کرتے ہیں ؟ جو نہ سن سکتے ہیں، نہ دیکھتے ہیں اور نہ ہی آپ کو کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔ اے والد گرامی ! یقیناً میرے پاس ایساعلم آیا ہے جو آپ کے پاس موجود نہیں۔ میری بات…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

45: یٰٓاَبـَتِ اِنِّیْ اَخَافُ اَنْ یَّمَسَّکَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ فَتَکُوْنَ لِلشَّیْطٰنِ وَلِیًّا (اے میرے باپ مجھے ڈر ہے رحمان کی طرف سے کوئی عذاب آپ پر نہ آجائے۔ پھر آپ شیطان کے ساتھی بن جائیں) ایک قول کے مطابق یہاں اَخَافُ اَعْلَمُ کے معنی میں ہے۔ وَلِیًّا کا معنی آگ میں ساتھی بنے گا۔ تو اس کے ساتھ ہوگا اور وہ تیرے ساتھ ہوگا۔ فائدہ : اس میں غور کرنے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ نصیحت کرنے میں انہوں نے اپنے والد کے ساتھ کس طرح نرمی حسن اخلاق اور ادب کا لحاظ رکھا۔ جیسا کہ حکم دیا گیا ہے۔ حدیث میں وارد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف وحی کی کہ تو میرا خلیل ہے پس تمہارے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

45۔ یا ابت انی اخاف، میں جانتا ہوں، ان یمسک آپ کو پہنچ جائے ۔ عذاب من الرحمن، اگر آپ کفر پر قائم رہیں ، فتکون للشیطان ولیا، وہ دوزخ میں ساتھی ہوگا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 41–50

41۔ 50:۔ تفسیر سدی اور سیرۃ ابن اسحاق میں حضرت ابرہیم (علیہ السلام) کی پیدائش کا قصہ جو لکھا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کی پیدائش سے پہلے نمرود نے خواب میں دیکھا تھا کہ ایک بڑا روشن ستارہ آسمان پر نکلا ہے اس وقت کے نجومیوں سے اس نے اپنا یہ خواب بیان کیا انہوں نے جواب دیا کہ اس سال ایک لڑکا ایسا پیدا ہوگا کہ اسکے سبب سے تیری سلطنت غارت ہوجائے گی اس خواب کی تعبیر کے خوف سے بستی کے سب مردوں کو اپنے ساتھ لے کر نمرود بستی کے باہر چلا گیا اور سب عورتوں کو بستی کے اند چھوڑ دیا تاکہ اس سال مرد و عورت میں مباشرت اور کوئی اولاد پیدا نہ ہو، مگر جب آزر بستی میں آئے تو ان سے نہ رہا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 41–52

آیت 41 تمام کتابوں میں سب سے زیادہ جلیل القدر، سب سے افضل اور سب سے زیادہ بلند مرتبے والی کتاب، یہ کتاب مبین اور ذکر حکیم یعنی قرآن مجید ہے۔ اگر اس میں خبریں بیان کی گئی ہیں تو یہ خبریں سب سے زیادہ سچی، سب سے زیادہ حق اور سب سے زیادہ نفع مند ہیں۔ اگر اس میں اوامر ونواہی کا تذکرہ ہے تو یہ اوامرونواہی سب سے زیادہ قدر و قیمت کے حامل اور سب سے زیادہ عدل و انصاف پر مبنی ہیں۔ اگر اس میں سزا و جزا اور وعدے و عید کا ذکر کیا گیا ہے تو وہ سب سے زیادہ سچی خبر اور سب سے زیادہ حق ہے اور اللہ تعالیٰ کی حکمت اور اس کے عدل و فضل پر سب سے زیادہ دلالت کرتی ہے اور اگر اس میں انبیاء ومرسلین کا ذکر ہے تو اس میں…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 32–45

اپنی ذات کی تعریف بغیر فخر کے جائز ہے قول باری ہے (وبرا بوالدتی ولم یجعلنی جبارًا شقیاً والسلام علی یوم ولدت ویوم اموت ویوم ابعث حیا۔ اور مجھے اپنی والدہ کا حق ادا کرنے والا بنایا، مجھ کو جبار اور شقی نہیں بنایا، سلام ہے مجھ پر جبکہ میں پیدا ہوا اور جبکہ میں مرون اور جب کہ زندہ کر کے اٹھایا جائوں) اس میں یہ دلالت موجود ہے کہ انسان اپنی ذات کو تعریف اور نیکی کی صفات سے متصف کرسکتا ہے بشرطیکہ اس کی نیت یہ ہو کہ دوسرے اشخاص بھی اس نیکی اور بھلائی سے روشناس ہو کر اس پر عمل پیرا ہو سکیں، اس کے ذریعے وہ ڈینگ مارنے اور اپنی خوبیوں کے فخر یہ اظہار کی نیت نہ رکھتا ہو۔ اس کی مثال حضرت یوسف (علیہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 44–46

56 مشرک باپ کی موحد بیٹے کو قتل و سنگسار کی دھمکی : سو حضرت ابراہیم کے مشرک باپ نے اپنے موحد بیٹے کو قتل اور سنگسار کرنے کی دھمکی دی اور کہا کہ " الگ ہوجاؤ تم مجھ سے ہمیشہ کے لیے " تاکہ میں تمہاری شکل بھی دیکھنے نہ پاؤں۔ سو یہ حال اور مآل ہوتا ہے اس شخص کا جس کے رگ و پے میں کفر و شرک کی نحوست و نجاست سرایت کرجاتی ہے۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے۔ کل کی طرح آج بھی اس کے نمونے جگہ جگہ اور طرح طرح سے دیکھنے میں آتے ہیں اور آئندہ بھی آئیں گے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو آج بھی جگہ جگہ اہل شرک کی طرف سے اہل توحید کے ساتھ اسی طرح کی قسوت اور شدت کا برتاؤ کیا جاتا ہے۔ اور ان کو طرح طرح سے ستایا جاتا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 41–50

سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی ہجرت اور اللہ کا ان پر فضل و کرم تشریح : یہاں سے پھر اہل مکہ کو خطاب کیا جا رہا ہے۔ اور ان مسلمانوں کو جو کفار مکہ کی دشمنی کی وجہ سے مکہ کو چھوڑ کر حبشہ کی طرف ہجرت کر رہے تھے۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر اس لیے کیا جا رہا ہے کیونکہ وہ اپنے کردار اور صفات کی وجہ سے یہودی، عیسائی، کفار مکہ اور مسلمانوں میں یکساں طور پر مکرم و محترم سمجھے جاتے ہیں سب ہی مذاہب میں ان کی بےحد بلند جگہ سمجھی جاتی ہے۔ کفار مکہ کو یاد کروایا گیا کہ تم کو جب بتوں کی پوجا سے منع کیا جاتا ہے تو تم لوگ کہتے ہو ” ہمارے آباو اجداد یہی کرتے آئے ہیں اور ساتھ ہی تم لوگ ملت ابراہیمی کے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 42–50

(رکوع نمبر 3) اسرارومعارف انہیں کتاب اللہ میں ابراہیم (علیہ السلام) کے حالات بھی سنائیے کہ مشرکین عرب ان کی پیروی کا دعوی رکھتے تھے مگر عقائد و اعمال مشرکانہ گھڑ رکھے تھے تو یہ بھی واضح ہوجائے کہ محض واقعات عجیبہ ہی سننے کا شوق رکھتے ہیں یا حق کی طلب بھی تاکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے حالات سے ان کا عقیدہ اور عمل بھی اپنی صحیح صورت میں سامنے آجائے کہ وہ تو صدیق تھے اور نبی تھے ۔ (صدیق) یہاں صدیق سے مراد سچائی لیا جائے تو ہر نبی ہی صدیق اور سچا ہوتا ہے تو پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی خصوصیت کیا رہ جاتی ہے ۔ (معنے اور منصب نیز مناصب ولایت کی خصوصیات) حق یہ ہے کہ صدیق ہونا یا ” صدیقیت “…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 45–46

ف 9 یہ کسی سے قطع تعلق کر کے اس سے رخصت ہوجانے کا سلام ہے۔ (دیکھیے قصص 5 ز)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(19:45) یمسک۔ مس یمس سے مضارع واحد مذکر غائب (منصوب بوجہ عمل ان) ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ کہ تجھے لگ جائے۔ یا تجھے پہنچے۔ فتکون للشیطن ولیا۔ تو تو بن جائے شیطان کا ساتھی۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 41–50

لغات القرآن آیت نمبر 41 تا 50 یابت اے میرے ابا جان۔ سوی سیدھا، برابر۔ عصی نافرمان۔ ان یمسک یہ کہ تجھے پہنچے۔ یہ کہ تجھے پکڑے۔ اراغب کیا تو منہ پھیرتا ہے۔ (کیا تو رغبت رکھتا ہے۔ ) لم تنتہ تو باز نہ آیا۔ ارجمن میں ضرور پتھر ماروں گا۔ اھجرنی مجھے تنہا چھوڑ دے۔ ملی ایک وقت، مدت۔ استغفر میں دعائے مغفرت کروں گا۔ حفی مہربان۔ اعتزل میں الگ ہوتا ہوں۔ میں چھوڑتا ہوں۔ ادعوا میں پکاروں گا۔ شقی محروم۔ وھبنا ہم نے عطا کیا۔ لسان صدق سچی زبان، ذکر جمیل، علی نہایت بلند۔ اللہ تعالیٰ کی صفت تشریح : آیت نمبر 41 تا 50 سورة مریم میں حضرت عیسیٰ حضرت زکریا اور حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 41–48

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا بیان یہ تیسرا تذکرہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ کتاب میں ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر ہے بیشک وہ سچے نبی تھے۔ یہاں اس وقت کی ثابت قدمی اور خدا پرستی مذکور ہے۔ جب ابتدائے شباب میں انہوں نے بت پرستی کو حقیر جانا، اور اپنے باپ سے کہا تھا :" اے باپ ! تو ایسی چیزوں کی عبادت کیوں کرتا ہے جن کو نہ سننے کی طاقت اور نہ دیکھنے کی قدرت ہے، نہ یہ چیزیں تیرے کام آسکتی ہیں یعنی بتوں کی پرستش نہ کرو۔ ان سے کوئی کام نہیں بن سکتا ۔ اے باپ ! مجھے اللہ نے وہ علم دیا ہے کہ تجھے حاصل نہیں، تو میرے کہنے پر چل۔ میں تجھے سیدھا راستہ بتاؤں گا۔ اے میرے باپ ! شیطان…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 44–50

[19] ظاہر ہے کہ شیطان کی تو کوئی بھی عبادت نہیں کرتا سب اس پر لعنت ہی کرتے ہیں۔ ابراہیم (علیہ السلام) کے والد اور ان کی قوم کے لوگ اگرچہ پرستش بتوں کی کرتے تھے لیکن کیونکہ وہ اطاعت شیطان کی کر رہے تھے اس لئے ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کی اطاعت شیطان کو بھی عبادت شیطان قرار دیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کے احکام اور اس کی ہدایات کو چھوڑ کر کسی دوسرے کے احکام اور رہنمائی کا اتباع کرنا دراصل اس کی اطاعت و بندگی ہے۔ لفظ '' عبادت '' کی تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة فاتحہ حاشیہ 11۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 41–46

(ف 1) یہ تیسرا قصہ ہے ، مکہ کے منکرین حق بظاہر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی عقیدتمندی کا دم بھرتے اور احترام کرتے تھے ، اللہ نے فرمایا کہ کمبختو ! اگر تم واقعی طور پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے ارادت رکھتے ہو تو پھر یہ بت پرستی کیسی ؟ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے دوستی ، محبت کا دعوئے اور یہ شرک کا ارتکاب ، یہ دو چیزیں کیونکر جمع ہو سکتی ہیں ؟ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تو صدیق تھے یعنی توحید اسلامی کے برجوش علمبردار ، انہوں نے توحید کے پھیلانے میں کبھی تعلق کا پاس نہیں کیا انہوں نے اپنے باپ کو جب دیکھا کہ بت پرستی کے مرض میں مبتلا ہے تو برملا کہہ دیا ، ابا ! ان بتوں کی پرستش کیوں کرتے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-45 اے میرے باپ ! مجھے اس بات کا اندیشہ ہے اور میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ کہیں تجھ کو رحمان کی طرف سے کوئی عذاب آپکڑے اور تو شیطان کا ہمیشہ کے لئے ساتھی ہوجائے۔ یعنی کفر پر قائم رہے اور عذاب نازل ہونے کے وقت خواہ وہ عذاب دنیوی ہو یا آخرت کا عذاب ہو تو شیطان کا ہمیشہ کے لئے ساتھی بن جائے اور جو حشر اس کا ہو وہی تیرا ہو ۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی کفر کے وبال سے کچھ آفت آوے اور تو مدد مانگنے لگے ۔ شیطان سے یعنی بتوں سے اکثر لوگ ایسے ہی وقت شرک کرتے ہیں۔ 12

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 44–45

ف 4۔ یعنی جب اطاعت میں اس کا ساتھ دو گے تو نفس عقوبت میں اس کا ساتھ ہوگا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اے ابو جان ! مجھے خوف ہے کہ کہیں آپ شیطان ہی کے ساتھی نہ ہوجائیں : 45۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنا بیان جاری رکھتے ہوئے فرمایا اے ابو جان ! آج تک تو آپ کو یہ عذر ہوگا کہ ہدایت الہی آپ تک نہیں پہنچی اور پچھلی دعوتیں مسخ ہو کر رہ گئی تھیں اور لوگوں نے ان کو مسخ کردیا تھا لیکن اب جب کہ اللہ تعالیٰ کی طرف ہدایت آپ تک پہنچ چکی اور وہ بھی آپ کے گھر کے ایک فرد اور پھر صرف فرد ہی نہیں بلکہ بیٹے کے ذریعے سے تو آپ کے پاس اب کیا دلیل رہ گئی اس وجہ سے مجھے پختہ اندیشہ بلکہ یقین ہے کہ آپ خدا کی پکڑ میں آجائیں گے اور شیطان کے ساتھی بن کر اس انجام سے دوچار ہوجائیں گے جس اناجم سے دو چار کرنے کے لئے شیطان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 42–46

How to give counsel to elders. يَا أَبَتِ (My dear father - 19:42) In Arabic language this word conveys deep respect and intense love for one's father. Allah Ta` ala had combined in the person of Sayyidna Khalilullah (علیہ السلام) the noble qualities and attributes, and his address to his father is a perfect example of moderation and restraint on the one hand, and the balancing of the opposites on the other. He finds his father living a life of unbelief and polytheism, and also calling upon other people to follow him in a life of sin - the very things which he was sent to eradicate. At the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 44–49

27. It should be noted that the literal translation of the Arabic text is:“Do not worship Satan”, though Abraham’s father and the other people did not worship Satan in the same sense as they worshiped idols. But as they followed and obeyed Satan, he accused them of worshiping Satan. Thus it is clear that if somebody follows and obeys Satan, he virtually worships him. For Satan has never been a deity in the sense that people have made him an object of worship; nay, they have always been cursing him and following him at the same time. (For further details see (Surah Al-Kahf E.Ns 49-50). 27a.…

Read the full tafseer →