Maryam 19:43

Maryam · from ayah 43

19:43

یٰۤاَبَتِ اِنِّیْ قَدْ جَآءَنِیْ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَمْ یَاْتِكَ فَاتَّبِعْنِیْۤ اَهْدِكَ صِرَاطًا سَوِیًّا ۟يٰۤـاَبَتِ اِنِّىۡ قَدۡ جَآءَنِىۡ مِنَ الۡعِلۡمِ مَا لَمۡ يَاۡتِكَ فَاتَّبِعۡنِىۡۤ اَهۡدِكَ صِرَاطًا سَوِيًّا

ابّا مجھے ایسا علم ملا ہے جو آپ کو نہیں ملا ہے تو میرے ساتھ ہوجیئے میں آپ کو سیدھی راہ پر چلا دوں گا

— Fateh Muhammad Jalandhari

O my father, indeed there has come to me of knowledge that which has not come to you, so follow me; I will guide you to an even path.

— Saheeh International

Juz 16 · Ruku 3 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah Maryam

All translations of 19:43

ابّا جان، میرے پاس ایک ایسا عِلم آیا ہے جو آپ کے پاس نہیں آیا، آپ میرے پیچھے چلیں، میں آپ کو سیدھا راستہ بتاؤں گا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ابّا مجھے ایسا علم ملا ہے جو آپ کو نہیں ملا ہے تو میرے ساتھ ہوجیئے میں آپ کو سیدھی راہ پر چلا دوں گا

— مولانا فتح محمد جالندہری

میرے مہربان باپ! آپ دیکھیئے میرے پاس وه علم آیا ہے جو آپ کے پاس آیا ہی نہیں، تو آپ میری ہی مانیں میں بالکل سیدھی راه کی طرف آپ کی رہبری کروں گا

— مولانا محمد جوناگڑہی

ابا جان ! میرے پاس ایک ایسا علم آیا ہے جو آپ کے پاس نہیں آیا، اس لیے میری بات مان لیجیے، میں آپ کو سیدھا راستہ بتلا دوں گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اے میرے باپ بیشک میرے پاس وہ علم آیا جو تجھے نہ آیا تو تُو میرے پیچھے چلا آ میں تجھے سیدھی راہ دکھاؤں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اے ابّا! بیشک میرے پاس (بارگاہِ الٰہی سے) وہ علم آچکا ہے جو تمہارے پاس نہیں آیا تم میری پیروی کرو میں تمہیں سیدھی راہ دکھاؤں گا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اے میرے باپ ! بیشک میں، یقینا میرے پاس وہ علم آیا ہے جو تیرے پاس نہیں آیا، اس لیے میرے پیچھے چل، میں تجھے سیدھے راستے پر لے جاؤں گا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ابا جان ! میرے پاس ایسا علم ہے جو آپ کے پاس نہیں آیا۔ لہذا میرے پیچھے چلئے میں آپ کو سیدھی راہ بتاؤں گا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اے میرے باپ ! میرے پاس وہ علم آیا ہے جو آپ کے پاس نہیں آیا ہے تو آپ میری پیروی کریں، میں آپ کو سیدھی راہ دکھاؤں گا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ابا جان، میرے پاس ایسا علم آگیا ہے جو آپ کے پاس نہیں آیا، لہذا آپ میرے کہنے پر چلیں، میں آپ کو سیدھا راستہ بتاؤں گا،

— مولانا اسحاق مدنی

اے میرے باپ میرے پاس وہ علم آچکا ہے جو آپ کے پاس نہیں آیا سو میری پیروی کیجئے میں آپ کو سیدھا راستہ بتادوں گا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

ابا جان ! یقیناً میرے پاس وہ علم آیا ہے جو آپ کے پاس نہیں آیا پس آپ میری پیروی کیجیے میں آپ کو دکھاؤں گا سیدھاراستہ

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اے ابا جان ! مجھے ایسا علم ملا ہے جو آپ کو نہیں ملا تو آپ میرے ساتھ مل جائیں میں آپ کو سیدھی راہ پر چلا دوں گا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Father, a knowledge that has not reached you has come to me. So follow me that I may guide you to a Straight Way.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

My dear father, indeed there has come to me a knowledge that has not come to you; so, follow me, and I shall lead you to a straight path.

— Muhammad Taqi Usmani

My dear father, indeed there has come to me a knowledge that has not come to you; so, follow me, and I shall lead you to a straight path.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"O my father! Verily, there has come to me the knowledge of that which came not unto you. So follow me, I will guide you to the straight path."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

O my father! Lo! there hath come unto me of knowledge that which came not unto thee. So follow me, and I will lead thee on a right path.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

O my father, indeed there has come to me of knowledge that which has not come to you, so follow me; I will guide you to an even path.

— Saheeh International

Father, I have received the knowledge which has not been given to you. Follow me; I shall guide you to the right path.

— Muhammad Sarwar

O my father! truly the knowledge has come to me which has not come to you, therefore follow me, I will guide you on a right path:

— Muhammad Habib Shakir

O My father! verily there hath come to me of the knowledge which hath not come unto thee; so follow me, and I shall guide thee to a path even.

— Abdul Majid Daryabadi

"O my father! to me hath come knowledge which hath not reached thee: so follow me: I will guide thee to a way that is even and straight.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 19:43

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 41–45

بتوں کی پوجا۔ مشرکین مکہ جو بت پرست ہیں اور اپنے آپ کو خلیل اللہ کا متبع خیال کرتے ہیں ان کے سامنے اے نبی ﷺ خود حضرت ابراہیم ؑ کا واقعہ بیان کیجئے۔ اس سچے نبی نے اپنے باپ کی بھی پرواہ نہ کی اور اس کے سامنے بھی حق کو واضح کردیا اور اسے بت پرستی سے روکا۔ صاف کہا کہ کیوں ان بتوں کی پوجا پاٹ کر رہے ہوں جو نہ نفع پہنچا سکیں نہ ضرر۔ فرمایا کہ میں بیشک آپ کا بچہ ہوں لیکن اللہ کا علم جو میرے پاس ہے آپ کے پاس نہیں آپ میری اتباع کیجئے میں آپ کو راہ راست دکھاؤں گا برائیوں سے بچادوں گا۔ ابا جی یہ بت پرستی تو شیطان کی تابعداری ہے وہی اس کی راہ سمجھاتا ہے اور وہی اس سے خوش ہوتا ہے۔ جیسے سورة یاسین میں ہے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 41–43

سورة مَرْیَم 26 یہاں سے خطاب کا رخ اہل مکہ کی طرف پھر رہا ہے جنہوں نے اپنے نوجوان بیٹوں، بھائیوں، اور دوسرے رشتہ داروں کو اسی طرح خدا پرستی کے جرم میں گھر چھوڑنے پر مجبور کردیا تھا جس طرح حضرت ابراہیم کو ان کے باپ اور بھائی بندوں دیس سے نکال دیا تھا۔ اس غرض کے لیئے دوسرے انبیاء کو چھوڑ کر خاص طور پر ابراہیم کے قصے کا انتخاب اس لیئے کیا گیا کہ قریش کے لوگ ان کو اپنا پیشوا مانتے تھے اور انہی کی اولاد ہونے پر عرب میں اپنا فخر جتایا کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 42–46

اپنے بڑوں کو نصیحت کرنے کا طریقہ اور اس کے آداب يٰٓاَبَتِ عربی لغت کے اعتبار سے یہ لفظ باپ کی تعظیم و محبت کا خطاب ہے۔ حضرت خلیل اللہ علیہ الصلوٰة والسلام کو حق تعالیٰ نے جو مقام جامعیت اوصاف و کمالات کا عطا فرمایا تھا، ان کی یہ تقریر جو اپنے والد کے سامنے ہو رہی ہے اعتدال مزاج اور رعایت اضداد کی ایک بےنظیر تقریر ہے کہ ایک طرف باپ کو شرک و کفر اور کھلی گمراہی میں نہ صرف مبتلا بلکہ اس کا داعی دیکھ رہے ہیں جس کے مٹانے ہی کے لئے خلیل اللہ پیدا کئے گئے ہیں، دوسری طرف باپ کا ادب اور عظمت و محبت ہے ان دونوں ضدوں کو حضرت خلیل اللہ نے کس طرح جمع فرمایا اول تو يٰٓاَبَتِ کا لفظ جو باپ کی مہربانی اور…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 42–45

تفسیر آیات 42 تا 45: حضرت ابراہیم کی تقریر اپنے باپ کے سامنے :۔ إِذْ قَالَ لأبِيهِ يَا أَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لا يَسْمَعُ وَلا يُبْصِرُ وَلا يُغْنِي عَنْكَ شَيْئًا (42) يَا أَبَتِ إِنِّي قَدْ جَاءَنِي مِنَ الْعِلْمِ مَا لَمْ يَأْتِكَ فَاتَّبِعْنِي أَهْدِكَ صِرَاطًا سَوِيًّا (43) يَا أَبَتِ لا تَعْبُدِ الشَّيْطَانَ إِنَّ الشَّيْطَانَ كَانَ لِلرَّحْمَنِ عَصِيًّا (44) يَا أَبَتِ إِنِّي أَخَافُ أَنْ يَمَسَّكَ عَذَابٌ مِنَ الرَّحْمَنِ فَتَكُونَ لِلشَّيْطَانِ وَلِيًّا (45) یہ حضرت ابراہیم کی وہ تقریری ہے جو وحی الٰہی سے سرفراز ہونے کے بعد سب سے پہلے انہوں نے اپنے باپ۔ آزر۔ کے سامنے کی ہے۔ اس…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 42–43

43۔ 1 جس سے مجھے اللہ کی معرفت اور اس کا یقین حاصل ہوا، بعث بعد الموت اور غیر اللہ کے پجاریوں کے لئے دائمی عذاب کا علم ہوا۔ 43۔ 2 جو آپ کی سعادت کو ابدی اور نجات سے ہمکنار کر دے گی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 42–43

20: حضرت ابراہیم ؑ کا باپ آزر نہ صرف بت پرست تھا، بلکہ خود بت تراشی کیا کرتا تھا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یآبت انی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صراطا سویا (91 : 34) ” ابا جان ‘ میرے پاس ایک ایسا علم ہے جو آپ کے پاس نہیں آیا ‘ آپ میرے پیچھے چلیں ‘ میں آپ کو سیدھا راستہ دکھائوں گا “۔ اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ ایک والد اپنے ہدایت یافتہ بیٹے کے پیچھے چلے ‘ اگر ایک بیٹا نبی ہو اور اس کا اعلیٰ ذریعہ علم سے رابطہ ہو۔ اس صورت میں والد بیٹے کی نہیں بلکہ اس اعلیٰ شرچشمے کی اطاعت کر رہا ہوتا ہے اور ہدایت یافتہ ہوجاتا ہے۔ اس وضاحت کے بعد کہ بتوں کی بندگی کرنا ایک منکر فعل ہے اور یہ کہ میری دعوت کا سرچشمہ ذات باری ہے جبکہ والد جس موقف کو اپنائے ہوئے ہیں اس کا سرچشمہ کچھ اور ہے اب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) صراحت کے ساتھ بتاتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی اللّٰہ تعالیٰ نے مجھ کو توحید و معاد وغیرہ کا صحیح علم دیا اور حقائق شریعت سے آگاہ کیا ہے۔ اگر تم میری پیروی کرو گے تو سیدھی راہ پر لے چلوں گا جو رضائے حق تک پہنچانے والی ہے۔ اس کے سوا سب راستے ٹیڑھے ترچھے ہیں جن پر چل کر کوئی شخص نجات حاصل نہیں کرسکتا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 43 یٰٓاَبَتِ اِنِّیْ قَدْجَآءَ نِیْ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَمْ یَاْتِکَ ” مجھے اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی حقائق سے آگاہ کیا ہے۔ میرے پاس وہ ہدایت آئی ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان سے ان الفاظ میں وعدہ فرمایا تھا : فَاِمَّا یَاْتِیَنَّکُمْ مِّنِّیْ ہُدًی۔۔ البقرہ : 38۔ فَاتَّبِعْنِیْٓ اَہْدِکَ صِرَاطًا سَوِیًّا ” آپ میرا کہنامانیے ‘ میرے پیچھے چلئے ‘ میں یقیناً سیدھے راستے کی طرف آپ کی راہنمائی کروں گا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

40 یعنی علم وحی الٰہی، جس میں انسان کی دنیوی زندگی کے لئے مکمل ہدایات موجود ہوتی ہیں اور آخرت میں محاسبے کا تفصیلی ذکر ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

64۔ (جو توحید، ایمان اور نجات کا راستہ ہے) (آیت) ” العلم “۔ یعنی علم بالوحی جس میں غلطی کا احتمال ہی نہیں۔ فقہاء نے یہاں سے مسائل ذیل کا استنباط کیا ہے :۔ (1) بےعلموں پر علماء کی اتباع واقتداء لازم ہے۔ (2) باپ کو بیٹے سے استفادہ وتلمذ جائز ہے۔ (3) فضل نسب علم و کمال کا ہم سطح نہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 41–50

آیت نمبر 41 تا 50 ترجمہ : آپ کفار مکہ کو کتاب میں مذکور ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ سنائیے یعنی اس کی خبر بیان کیجئے بیشک وہ بڑی راستی والے نبی تھے یعنی نہایت سچے نبی تھے اور اِذ قال لابیہ خبْرَہ سے بدل ہے (یعنی اس وقت کا قصہ بیان کیجئے) جب انہوں نے اپنے والد آزر سے عرض کیا تھا یَا اَبَتِ اے ابا جان، تایائے اضافت کے عوض میں ہے (عوض اور معوض) دونوں کو جمع کرنا جائز نہیں ہے اور آزر بت پرستی کرتا تھا آپ ان (بتوں) کی پوجا پاٹ کیوں کرتے ہیں ؟ جو نہ سنیں اور نہ دیکھیں اور نہ آپ کے کچھ کام آسکیں یعنی نہ کفایت کرسکیں، نہ نفع پہنچا سکیں اور نہ نقصان کو دفع کرسکیں اے میرے مہربان باپ میرے پاس وہ علم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یا ابت انی قد جآءنی من العلم ما لم یا تک فاتبعنی اہدک صراطا سویا۔ اے میرے باپ میرے پاس ایسا علم پہنچا ہے جو آپ کے پاس نہیں پہنچا آپ میرے کہنے پر چلئے میں آپ کو سیدھا راستہ بتاؤں گا۔ یعنی اللہ کی ذات صفات اور اس کے احکام کو جو علم مجھے ملا ہے وہ آپ کو نہیں ملا۔ لہٰذا دین و مذہب کے معاملہ میں آپ میری بات مانیں اور اس کے موافق چلیں میں آپ کو مذہبی راستہ سیدھا بتاؤں گا جو آپ کو فلاح دارین تک لے جائے گا۔ حضرت ابراہیم نے اپنے آپ کو ہر طرح سے اونچا عالم اور باپ کو صراحت کے ساتھ جاہل نہیں فرمایا ‘ بلکہ ایک ہم سفر رفیق کی طرح راستہ بتانے کا اظہار کیا اور اپنے کو زیادہ راہ شناس بتایا۔ اس سے آگے ذیل کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(43) میرے باپ میرے پاس اللہ کی طرف سے ایسا علم آیا ہے جو تمہارے پاس نہیں آیا وہ یہ کہ جو شخص غیر اللہ کے سوا کسی کی عبادت کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے دوزخ کا عذاب دے گا۔ سو اللہ کے دین میں میری پیروی کرو میں تمہیں ایک سیدھا دین اسلام کا راستہ بتاؤں گا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

يٰٓاَبَتِ اِنِّىْ قَدْ جَاۗءَنِيْ مِنَ الْعِلْمِ۔۔ : ”مِنَ الْعِلْمِ“ میں ”مِنْ“ تبعیض کے لیے ہے، یعنی کچھ علم۔ دوسری بات میں بھی ان کی نرمی، دانائی اور حسن ادب دیکھیے۔ ”ابا جی“ کے لقب کے ساتھ مخاطب کیا، یہ نہیں کہا کہ آپ حد درجہ کے جاہل ہیں اور مجھے اللہ تعالیٰ نے صدیقیت اور نبوت کا عظیم مرتبہ عطا کیا ہے، بلکہ یہ کہا کہ میرے پاس کچھ علم آیا ہے جو آپ کے پاس نہیں آیا اور وہ ہے سیدھے راستے کا علم، اس لیے اس میں میرے پیچھے چلنے میں عار محسوس نہ کریں۔ بیشک آپ باپ ہیں مگر یوں سمجھیں کہ میں اور آپ ایک سفر پر ہیں، مجھے راستے کا علم ہے اور آپ کو نہیں، تو آپ کو باپ ہونے کے باوجود میرے پیچھے چلنا ہوگا،…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 42–47

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اذ قال لابیہ، ابیہ سے مراد آزر ہے جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔ یابت، سورة یوسف میں اس پر گفتگو ہوچکی ہے۔ لم تعبد کس وجہ سے آپ عبادت کرتے ہیں۔ مالا یسمع ولا یبصر ولا یغنی عنک شیا۔ جو نہ سنتے ہیں اور نہ دیکھتے ہیں اور نہ تجھے کچھ فائدہ دیتے ہیں۔ اس سے مراد بتہیں۔ یابت انی قد جآءنی من العلم مالم یا تک یعنی اللہ کی معرفت اور یقین اور جو موت کے بعد ہونا ہے اور جسنے غیر اللہ اللہ کی عبادت کی اسے عذاب دیا جائے گا۔ فاتبعنی اس کی اتباع کرو جس کی طرف میں دعوت دیتا ہوں۔ اھدک صراطاً سویا۔ میں تمہاری دین مستقیم کی طرف راہنمائی کروں گا جس میں نجات ہے۔ یابت لا تعبد الشیطن وہ جو تمہیں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 41–50

1:۔ ابونعیم اور دیلمی نے ا نس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا والد کا حق اس کی اولاد پر یہ ہے کہ اس کا نام نہ لے مگر جس طرح ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد کو پکارا تھا اے میرے باپ اور اس کے نام کے ساتھ اس کو نہ پکارے۔ 2:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لارجمنک “ سے مراد ہے کہ میں تجھ کو ضرور گالیاں دوں گا (آیت) ” واھجرنی ملیا “ یعنی ایک مدت تک۔ 3:۔ ابن جریر، ابن منذر، اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” واھجرنی ملیا “ سے مراد ہے صحیح سالم مجھ سے دور ہوجا اس سے پہلے کہ میری طرف سے کوئی سزا تجھ کو پہنچ جائے۔ عبد بن حمید نے عکرمہ ؓ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[يٰٓاَبَتِ : اے میرے والد ] [انى: بیشک ] [قَدْ جَاۗءَنِيْ : آچکا ہے میرے پاس ] [مِنَ الْعِلْمِ : علم میں سے ] [مَا : وہ جو ] [لَمْ يَاْتِكَ : نہیں پہنچا آپ تک ] [فَاتَّبِعْنِيْٓ: پس آپ پیروی کریں میری ] [اَهْدِكَ : تو میں ہدایت دوں گا ] [صِرَاطًا سَوِيًّا : آپ کو ایک ہموار راستے کی ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 42–48

پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا (وَاَعْتَزِلُکُمْ وَمَا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللِّٰہ) اور میں تم لوگوں سے اور ان چیزوں سے کنارہ کرتا ہوں جن کی تم اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہو، وادعوا ربی اور میں اپنے رب کو پکارتا ہوں (عَسٰٓی اَنْ لَّآ اَکُوْنَ بْدُعَآءِ رَبِّیْ شَقِیًّا) (امید ہے کہ میں اپنے رب کی دعا سے محروم نہ رہوں گا) یعنی میری دعا اور کوشش ضائع نہ جائے گی اور تم لوگوں کو جو شقاوت گھیرے ہوئے ہے مجھے اللہ تعالیٰ اس سے دور رکھے گا قال صاحب الروح و فیہ تعریض بشقاوتھم فی عبادۃ الھتھم اور آیت میں ہجرت کا اعلان ہے اس کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے وطن سے ہجرت فرما کر ملک شام…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 41–50

قصۂ سوم حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ و السلام قال اللہ تعالیٰ ۔ واذکر فی الکتٰب ابرٰھیم۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ وجعلنا لھم لسان صدق علیا۔ ربط۔ اس سورة کا یہ تیسرا قصہ ہے جس میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی خدا پرستی کا ذکر ہے کہ وہ کیسے خدا پرست تھے اور کس طرح انہوں نے اپنے باپ کو توحید کی دعوت دی اور کس طرح شرک اور بت پرستی کا بطلان ظاہر کیا اور اس دعوت اور تبلیغ میں اپنے باپ کے ادب اور احترام کو ملحوظ رکھا اور پھر کس طرح انہوں نے اللہ تعالیٰ کے لیے اپنے باپ کو چھوڑا اور اپنے آبائی وطن سے ہجرت کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے درجے بلند کیے اور ان کو اولاد صالح عطا فرمائی اور تمام امتوں اور قوموں میں ان کا ذکر خیر…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 43–45

33:۔ یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دعویٰ کی صداقت کی دلیل ہے یعنی میرے پاس اللہ کی وحی کے ذریعے ایسا علم ہے، جو تمہارے پاس نہیں ہے۔ اس لیے تم میرا اتباع کرو اور توحید کو مان لو۔ درا صل یہی سیدھی راہ ہے۔ ” لَا تَعْبُدِ الشَّیْطٰن الخ “ معبودان باطلہ کی عبادت کو شیطان کی عبادت اس لیے فرمایا کہ شیطان ہی انسان کو گمراہ کر کے اس سے شرک کراتا ہے، یا اس لیے کہ شیطان بزرگوں کی صورت اختیار کر کے مشرکین کو اپنی پوجا کرنے کا حکم دیتا ہے۔ ” یَا اَبَتِ اِنِّیْ اَخَافُ الخ “ یہ تخویف اخروی ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 41–45

ربط آیات : دوسرے رکوع کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم (علیہ السلام) کا ذکر بھی اسی طرح کیا تھا (آیت) ” واذکر فی الکتب مریم “۔ وہاں پر اللہ تعالیٰ نے ان پر کی گئی اپنی خاص مہربانی کا تذکرہ فرمایا ، یہ واقعہ بطور تمہید تھا ، پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت کا ذکر کرکے مسئلہ توحید سمجھایا اور شرک کا رد کیا درمیان میں فرمایا (آیت) ” ماکان للہ ان یتخذ من والد سبحنہ “۔ (آیت 35) اللہ تعالیٰ کی ذات اپنے لیے بیٹا بنانے سے پاک ہے مسیح (علیہ السلام) نے بھی قوم کو یہی تعلیم دی (آیت) ” وان اللہ ربی وربکم فاعبدہ “۔ (آیت ۔ 36) میرا اور تمہارا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے اسی کی عبادت…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يٰٓاَبَتِ اِنِّىْ قَدْ جَاۗءَنِيْ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَمْ يَاْتِكَ فَاتَّبِعْنِيْٓ اَہْدِكَ صِرَاطًا سَوِيًّا۝ 43 جاء جاء يجيء ومَجِيئا، والمجیء کالإتيان، لکن المجیء أعمّ ، لأنّ الإتيان مجیء بسهولة، والإتيان قد يقال باعتبار القصد وإن لم يكن منه الحصول، والمجیء يقال اعتبارا بالحصول، ويقال «1» : جاء في الأعيان والمعاني، ولما يكون مجيئه بذاته وبأمره، ولمن قصد مکانا أو عملا أو زمانا، قال اللہ عزّ وجلّ : وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] ، ( ج ی ء ) جاء ( ض ) جاء يجيء و مجيئا والمجیء کالاتیانکے ہم معنی ہے جس کے معنی آنا کے ہیں لیکن مجی کا لفظ اتیان سے زیادہ عام ہے کیونکہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 41–43

تفسیر … ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ : یہ تیسرا تذکرہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ہے۔ یہ ان کی اس وقت کی ثابت قدمی اور خدا پرستی مذکور ہے کہ جب ابتدائِ شباب میں انہوں نے بت پرستی کو حقیر جان کر اپنے باپ کو اس سے منع کیا اور آخر کار محض اللہ کے لیے اپنے باپ کو چھوڑا کہ جس کی محبت نے ابراہیم کو اس لیے خدا سے معافی مانگنے پر آمادہ کیا اور اس کے لیے ابراہیم (علیہ السلام) نے وعدہ بھی کرلیا پھر مہاجرت کے بعد خدا تعالیٰ نے اس کو اسحاق اور اسحاق کو یعقوب برگزیدہ پیغمبر فرزند عطا کیا۔ یہ نتیجہ ہے خدا کی فرمانبرداری کا۔ یعقوب (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پوتے ہیں لیکن ایسا اولوالعزم…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 42–45

اِذْقَالَ لِاَبِیْہِ یٰٓـاَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَالاَ یَسْمَعُ وَلاَ یُبْصِرُ وَلاَ یُغْنِیْ عَنْکَ شَیْئًا۔ یٰٓـاَبَتِ اِنِّیْ قَدْجَآئَ نِیْ مِنَ الْعِلْمِ مَالَمْ بَاْ تِکَ فَا تَّبِعْنِیْٓ اَھْدِکَ صِرَاطًا سَوِیًّا۔ یٰٓـاَبَتِ لاَ تَعْبُدِالشَّیْطٰنَ ط اِنَّ الشَّیْطٰنَ کَانَ لِلرَّحْمٰنِ عَصِیًّا۔ یٰٓـاَبَتِ اِنِّیْٓ اَخَافُ اَنْ یَّمَسَّکَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ فَتَکُوْنَ لِلشَّیْطٰنِ وَلِیًّا۔ (مریم : 42، 43، 44، 45) (یاد کرو جب حضرت ابراہیم نے اپنے باپ سے کہا کہ اے میرے باپ ! آپ کیوں پرستش کرتے ہیں ایسی چیزوں کی جو نہ سنتی ہیں نہ دیکھتی ہیں اور نہ وہ کچھ آپ کے کام آنے والی ہیں۔ اے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 42–45

فہم القرآن ربط کلام : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دعوت کا آغاز اپنے گھر سے فرمایا یہی بہترین اور فطری طریقہ ہے کہ داعی اپنی دعوت کا آغاز اپنے گھر سے کرے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم اور ان کے والد آذر بتوں کی پرستش کرتے تھے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے پیغمبرانہ طریقہ کے مطابق تبلیغ کا آغاز اپنے گھر سے کیا۔ چناچہ باپ کے مرتبہ کا خیال رکھتے ہوئے نہایت ادب کے ساتھ فرماتے ہیں کہ اے والد گرامی ! آپ بتوں کی کیوں عبادت کرتے ہیں ؟ جو نہ سن سکتے ہیں، نہ دیکھتے ہیں اور نہ ہی آپ کو کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔ اے والد گرامی ! یقیناً میرے پاس ایساعلم آیا ہے جو آپ کے پاس موجود نہیں۔ میری بات…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

43: یٰٓاَبَتِ اِنِّیْ قَدْ جَآئَ نِیْ مِنَ الْعِلْمِ (اے میرے باپ میرے پاس ایسا علم آچکا) علم سے یہاں وحی یا معرفت رب مراد ہے۔ مَالَمْ یَاْتِکَ (جو آپ کے پاس نہیں آیا۔ ) اس میں ” ما “ ما لایسمع کی طرح موصولہ یا موصوفہ ہوسکتا ہے۔ فَاتَّبِعْنِیْ اَہْدِکَ (آپ میرا کہنا مانیے میں آپ کو راہ دکھائوں گا) یعنی ہدایت کی طرف تمہاری راہنمائی کرونگا۔ صِرَاطًا سَوِیًّا (سیدھے راستے کی طرف) یہاں سَوِیًّا مُسْتَقِیْم کے معنی میں ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

43۔ یا ابت انی قد جاءنی من العلم، اللہ کی ذات وصفات کا جو علم مجھے ملا ہے ، مالم یا تک فاتبعنی، میرے دین پر ، اھدک صراطا سویا، ا سے مراد صراط مستقیم ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 41–50

41۔ 50:۔ تفسیر سدی اور سیرۃ ابن اسحاق میں حضرت ابرہیم (علیہ السلام) کی پیدائش کا قصہ جو لکھا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کی پیدائش سے پہلے نمرود نے خواب میں دیکھا تھا کہ ایک بڑا روشن ستارہ آسمان پر نکلا ہے اس وقت کے نجومیوں سے اس نے اپنا یہ خواب بیان کیا انہوں نے جواب دیا کہ اس سال ایک لڑکا ایسا پیدا ہوگا کہ اسکے سبب سے تیری سلطنت غارت ہوجائے گی اس خواب کی تعبیر کے خوف سے بستی کے سب مردوں کو اپنے ساتھ لے کر نمرود بستی کے باہر چلا گیا اور سب عورتوں کو بستی کے اند چھوڑ دیا تاکہ اس سال مرد و عورت میں مباشرت اور کوئی اولاد پیدا نہ ہو، مگر جب آزر بستی میں آئے تو ان سے نہ رہا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 41–52

آیت 41 تمام کتابوں میں سب سے زیادہ جلیل القدر، سب سے افضل اور سب سے زیادہ بلند مرتبے والی کتاب، یہ کتاب مبین اور ذکر حکیم یعنی قرآن مجید ہے۔ اگر اس میں خبریں بیان کی گئی ہیں تو یہ خبریں سب سے زیادہ سچی، سب سے زیادہ حق اور سب سے زیادہ نفع مند ہیں۔ اگر اس میں اوامر ونواہی کا تذکرہ ہے تو یہ اوامرونواہی سب سے زیادہ قدر و قیمت کے حامل اور سب سے زیادہ عدل و انصاف پر مبنی ہیں۔ اگر اس میں سزا و جزا اور وعدے و عید کا ذکر کیا گیا ہے تو وہ سب سے زیادہ سچی خبر اور سب سے زیادہ حق ہے اور اللہ تعالیٰ کی حکمت اور اس کے عدل و فضل پر سب سے زیادہ دلالت کرتی ہے اور اگر اس میں انبیاء ومرسلین کا ذکر ہے تو اس میں…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 32–45

اپنی ذات کی تعریف بغیر فخر کے جائز ہے قول باری ہے (وبرا بوالدتی ولم یجعلنی جبارًا شقیاً والسلام علی یوم ولدت ویوم اموت ویوم ابعث حیا۔ اور مجھے اپنی والدہ کا حق ادا کرنے والا بنایا، مجھ کو جبار اور شقی نہیں بنایا، سلام ہے مجھ پر جبکہ میں پیدا ہوا اور جبکہ میں مرون اور جب کہ زندہ کر کے اٹھایا جائوں) اس میں یہ دلالت موجود ہے کہ انسان اپنی ذات کو تعریف اور نیکی کی صفات سے متصف کرسکتا ہے بشرطیکہ اس کی نیت یہ ہو کہ دوسرے اشخاص بھی اس نیکی اور بھلائی سے روشناس ہو کر اس پر عمل پیرا ہو سکیں، اس کے ذریعے وہ ڈینگ مارنے اور اپنی خوبیوں کے فخر یہ اظہار کی نیت نہ رکھتا ہو۔ اس کی مثال حضرت یوسف (علیہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 42–43

54 سیدھی راہ پیغمبر کی اتباع ہی سے نصیب ہوسکتی ہے : سو حضرت ابراہیم نے اپنے مشرک باپ آزر سے کہا " اباجان آپ میری پیروی کرو میں آپ کو سیدھا راستہ بتاؤں گا "۔ ایسا سیدھا راستہ جو دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز و بہرہ ور کرنے والا راستہ ہے۔ اور یہ راستہ میں ہی آپ کو بتاؤں گا۔ کیونکہ میرے پاس علم کی روشنی ہے جو آپ کے پاس نہیں۔ سو معلوم ہوا کہ عظمت اور شرف و فضیلت کا دار و مدار علم و آگہی کی روشنی اور اتباع حق پر ہے نہ کہ عمر اور سالوں کی کمی بیشی پر۔ جیسا کہ کہا گیا ہے ۔ بزرگی بعقل است نہ بسال ۔ تونگری بدل است نہ بمال ۔ اور علم سے بھی وہ علم مراد ہے جو وحی خداوندی سے مستفاد ہو کہ وہی علم…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 41–50

سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی ہجرت اور اللہ کا ان پر فضل و کرم تشریح : یہاں سے پھر اہل مکہ کو خطاب کیا جا رہا ہے۔ اور ان مسلمانوں کو جو کفار مکہ کی دشمنی کی وجہ سے مکہ کو چھوڑ کر حبشہ کی طرف ہجرت کر رہے تھے۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر اس لیے کیا جا رہا ہے کیونکہ وہ اپنے کردار اور صفات کی وجہ سے یہودی، عیسائی، کفار مکہ اور مسلمانوں میں یکساں طور پر مکرم و محترم سمجھے جاتے ہیں سب ہی مذاہب میں ان کی بےحد بلند جگہ سمجھی جاتی ہے۔ کفار مکہ کو یاد کروایا گیا کہ تم کو جب بتوں کی پوجا سے منع کیا جاتا ہے تو تم لوگ کہتے ہو ” ہمارے آباو اجداد یہی کرتے آئے ہیں اور ساتھ ہی تم لوگ ملت ابراہیمی کے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 42–50

(رکوع نمبر 3) اسرارومعارف انہیں کتاب اللہ میں ابراہیم (علیہ السلام) کے حالات بھی سنائیے کہ مشرکین عرب ان کی پیروی کا دعوی رکھتے تھے مگر عقائد و اعمال مشرکانہ گھڑ رکھے تھے تو یہ بھی واضح ہوجائے کہ محض واقعات عجیبہ ہی سننے کا شوق رکھتے ہیں یا حق کی طلب بھی تاکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے حالات سے ان کا عقیدہ اور عمل بھی اپنی صحیح صورت میں سامنے آجائے کہ وہ تو صدیق تھے اور نبی تھے ۔ (صدیق) یہاں صدیق سے مراد سچائی لیا جائے تو ہر نبی ہی صدیق اور سچا ہوتا ہے تو پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی خصوصیت کیا رہ جاتی ہے ۔ (معنے اور منصب نیز مناصب ولایت کی خصوصیات) حق یہ ہے کہ صدیق ہونا یا ” صدیقیت “…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 43–44

ف 7 جب وہ خود خدا کا مخالف ہے تو ظاہر ہے کہ وہ اپنا کہنا ماننے والوں کو بھی خدا کی مخالفت کی راہ پر لگائے گا۔ اس سے کسی قسم کی صحیح ہدایت کی توقع سراسر حماقت ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 43–44

(19:43) اھدک۔ مضارع واحد متکلم ھدایۃ مصدر کضمیر مفعول واحد مذکر حاضر اھد اصل میں اھدی تھا یکو حذف کیا گیا ہے ۔ صراطا سویا۔ ای صراطا مستقیما۔ سیدھا راستہ۔ (میں تجھے سیدھا راستہ بتائوں گا) ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 41–50

لغات القرآن آیت نمبر 41 تا 50 یابت اے میرے ابا جان۔ سوی سیدھا، برابر۔ عصی نافرمان۔ ان یمسک یہ کہ تجھے پہنچے۔ یہ کہ تجھے پکڑے۔ اراغب کیا تو منہ پھیرتا ہے۔ (کیا تو رغبت رکھتا ہے۔ ) لم تنتہ تو باز نہ آیا۔ ارجمن میں ضرور پتھر ماروں گا۔ اھجرنی مجھے تنہا چھوڑ دے۔ ملی ایک وقت، مدت۔ استغفر میں دعائے مغفرت کروں گا۔ حفی مہربان۔ اعتزل میں الگ ہوتا ہوں۔ میں چھوڑتا ہوں۔ ادعوا میں پکاروں گا۔ شقی محروم۔ وھبنا ہم نے عطا کیا۔ لسان صدق سچی زبان، ذکر جمیل، علی نہایت بلند۔ اللہ تعالیٰ کی صفت تشریح : آیت نمبر 41 تا 50 سورة مریم میں حضرت عیسیٰ حضرت زکریا اور حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 41–48

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا بیان یہ تیسرا تذکرہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ کتاب میں ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر ہے بیشک وہ سچے نبی تھے۔ یہاں اس وقت کی ثابت قدمی اور خدا پرستی مذکور ہے۔ جب ابتدائے شباب میں انہوں نے بت پرستی کو حقیر جانا، اور اپنے باپ سے کہا تھا :" اے باپ ! تو ایسی چیزوں کی عبادت کیوں کرتا ہے جن کو نہ سننے کی طاقت اور نہ دیکھنے کی قدرت ہے، نہ یہ چیزیں تیرے کام آسکتی ہیں یعنی بتوں کی پرستش نہ کرو۔ ان سے کوئی کام نہیں بن سکتا ۔ اے باپ ! مجھے اللہ نے وہ علم دیا ہے کہ تجھے حاصل نہیں، تو میرے کہنے پر چل۔ میں تجھے سیدھا راستہ بتاؤں گا۔ اے میرے باپ ! شیطان…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 37–43

[17] عیسائیوں میں کئی فرقے ہوگئے جن کے جھگڑوں سے کلیسا کی تاریخ بھری پڑی ہے۔ [18] یعنی روز قیامت۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 41–46

(ف 1) یہ تیسرا قصہ ہے ، مکہ کے منکرین حق بظاہر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی عقیدتمندی کا دم بھرتے اور احترام کرتے تھے ، اللہ نے فرمایا کہ کمبختو ! اگر تم واقعی طور پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے ارادت رکھتے ہو تو پھر یہ بت پرستی کیسی ؟ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے دوستی ، محبت کا دعوئے اور یہ شرک کا ارتکاب ، یہ دو چیزیں کیونکر جمع ہو سکتی ہیں ؟ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تو صدیق تھے یعنی توحید اسلامی کے برجوش علمبردار ، انہوں نے توحید کے پھیلانے میں کبھی تعلق کا پاس نہیں کیا انہوں نے اپنے باپ کو جب دیکھا کہ بت پرستی کے مرض میں مبتلا ہے تو برملا کہہ دیا ، ابا ! ان بتوں کی پرستش کیوں کرتے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-43 اے میرے باپ ! بلاشبہ میرے پاس وہ علم پہونچا ہے جو تیرے پاس نہیں آیا اور تجھ کو نہیں دیا گیا لہٰذا تو میری اتباع اور پیروی کر اور میرے کہنے پر چل میں سیدھی راہ کی طرف تیری رہنمائی کروں گا اور میں تجھ کو سیدھی راہ دکھائوں گا۔ یعنی میری معلومات کا ذریعہ وحی الٰہی ہے جس میں غلطی کا امکان نہیں اور تو اللہ تعالیٰ کی وحی سے محروم ہے لہٰذا تو میرا کہا مان تاکہ تو صحیح راہ پا سکے اور غلط اور گمراہی کی راہ سے بچ جائے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 2۔ مرا اس سے وحی ہے جس میں احتمال غلطی کا ہو ہی نہیں سکتا۔ 3۔ اور وہ توحید ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اپنی تقری کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا علم کی روشنی تو میرے پاس ہے : 43۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے اپنے والد سے فرمایا کہ اے ابو ! میں سچ کہتا ہوں کہ جو روشنی مجھے عطا ہوئی ہے وہ تجھے نصیب نہ ہوئی تھی اس لئے اس معاملہ میں آپ میرے پیچھے لگ جائیے میں آپ کو سیدھی راہ بتاؤں گا ، ظاہر ہے کہ یہ کلمات ان لوگوں کی نگاہ میں بہت سخت تھے کہ کوئی بیٹا اٹھ کر اپنے باپ کو اس طرح مخاطب کرے جس طرح سدانا ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد کو مخاطب کرنا شروع کیا لیکن یہ کوئی دنیوی باتیں نہ تھیں بلکہ رموز الہی کا معاملہ تھا جو کچھ ابراہیم (علیہ السلام) پیش کر رہے تھے ان کی اپنی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 42–46

How to give counsel to elders. يَا أَبَتِ (My dear father - 19:42) In Arabic language this word conveys deep respect and intense love for one's father. Allah Ta` ala had combined in the person of Sayyidna Khalilullah (علیہ السلام) the noble qualities and attributes, and his address to his father is a perfect example of moderation and restraint on the one hand, and the balancing of the opposites on the other. He finds his father living a life of unbelief and polytheism, and also calling upon other people to follow him in a life of sin - the very things which he was sent to eradicate. At the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 41–43

26. From here the address is directed towards the people of Makkah, who had forced their own near and dear relatives to emigrate from their homes, just as Prophet Abraham (peace be upon him) had been exiled by his own father and brethren. The story of Prophet Abraham (peace be upon him) has been selected for this purpose because the Quraish professed to accept him as their religious leader and were proud of being his descendants.

Read the full tafseer →