Explained with ayahs 41–45
بتوں کی پوجا۔
مشرکین مکہ جو بت پرست ہیں اور اپنے آپ کو خلیل اللہ کا متبع خیال کرتے ہیں ان کے سامنے اے نبی ﷺ خود حضرت ابراہیم ؑ کا واقعہ بیان کیجئے۔ اس سچے نبی نے اپنے باپ کی بھی پرواہ نہ کی اور اس کے سامنے بھی حق کو واضح کردیا اور اسے بت پرستی سے روکا۔ صاف کہا کہ کیوں ان بتوں کی پوجا پاٹ کر رہے ہوں جو نہ نفع پہنچا سکیں نہ ضرر۔ فرمایا کہ میں بیشک آپ کا بچہ ہوں لیکن اللہ کا علم جو میرے پاس ہے آپ کے پاس نہیں آپ میری اتباع کیجئے میں آپ کو راہ راست دکھاؤں گا برائیوں سے بچادوں گا۔ ابا جی یہ بت پرستی تو شیطان کی تابعداری ہے وہی اس کی راہ سمجھاتا ہے اور وہی اس سے خوش ہوتا ہے۔ جیسے سورة یاسین میں ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–43
سورة مَرْیَم 26
یہاں سے خطاب کا رخ اہل مکہ کی طرف پھر رہا ہے جنہوں نے اپنے نوجوان بیٹوں، بھائیوں، اور دوسرے رشتہ داروں کو اسی طرح خدا پرستی کے جرم میں گھر چھوڑنے پر مجبور کردیا تھا جس طرح حضرت ابراہیم کو ان کے باپ اور بھائی بندوں دیس سے نکال دیا تھا۔ اس غرض کے لیئے دوسرے انبیاء کو چھوڑ کر خاص طور پر ابراہیم کے قصے کا انتخاب اس لیئے کیا گیا کہ قریش کے لوگ ان کو اپنا پیشوا مانتے تھے اور انہی کی اولاد ہونے پر عرب میں اپنا فخر جتایا کرتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–46
اپنے بڑوں کو نصیحت کرنے کا طریقہ اور اس کے آداب
يٰٓاَبَتِ عربی لغت کے اعتبار سے یہ لفظ باپ کی تعظیم و محبت کا خطاب ہے۔ حضرت خلیل اللہ علیہ الصلوٰة والسلام کو حق تعالیٰ نے جو مقام جامعیت اوصاف و کمالات کا عطا فرمایا تھا، ان کی یہ تقریر جو اپنے والد کے سامنے ہو رہی ہے اعتدال مزاج اور رعایت اضداد کی ایک بےنظیر تقریر ہے کہ ایک طرف باپ کو شرک و کفر اور کھلی گمراہی میں نہ صرف مبتلا بلکہ اس کا داعی دیکھ رہے ہیں جس کے مٹانے ہی کے لئے خلیل اللہ پیدا کئے گئے ہیں، دوسری طرف باپ کا ادب اور عظمت و محبت ہے ان دونوں ضدوں کو حضرت خلیل اللہ نے کس طرح جمع فرمایا اول تو يٰٓاَبَتِ کا لفظ جو باپ کی مہربانی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–45
تفسیر آیات 42 تا 45: حضرت ابراہیم کی تقریر اپنے باپ کے سامنے :۔ إِذْ قَالَ لأبِيهِ يَا أَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لا يَسْمَعُ وَلا يُبْصِرُ وَلا يُغْنِي عَنْكَ شَيْئًا (42) يَا أَبَتِ إِنِّي قَدْ جَاءَنِي مِنَ الْعِلْمِ مَا لَمْ يَأْتِكَ فَاتَّبِعْنِي أَهْدِكَ صِرَاطًا سَوِيًّا (43) يَا أَبَتِ لا تَعْبُدِ الشَّيْطَانَ إِنَّ الشَّيْطَانَ كَانَ لِلرَّحْمَنِ عَصِيًّا (44) يَا أَبَتِ إِنِّي أَخَافُ أَنْ يَمَسَّكَ عَذَابٌ مِنَ الرَّحْمَنِ فَتَكُونَ لِلشَّيْطَانِ وَلِيًّا (45)
یہ حضرت ابراہیم کی وہ تقریری ہے جو وحی الٰہی سے سرفراز ہونے کے بعد سب سے پہلے انہوں نے اپنے باپ۔ آزر۔ کے سامنے کی ہے۔ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
43۔ 1 جس سے مجھے اللہ کی معرفت اور اس کا یقین حاصل ہوا، بعث بعد الموت اور غیر اللہ کے پجاریوں کے لئے دائمی عذاب کا علم ہوا۔
43۔ 2 جو آپ کی سعادت کو ابدی اور نجات سے ہمکنار کر دے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
20: حضرت ابراہیم ؑ کا باپ آزر نہ صرف بت پرست تھا، بلکہ خود بت تراشی کیا کرتا تھا۔
Read the full tafseer →وہ نہایت ہی ادب اور تہذیب کے ساتھ اپنے باپ سے ہمکلام ہیں۔ وہ یہ کوشش کررہے ہیں کہ اللہ نے جو ہدایت ان کو دی ہے ‘ اس سے ان کے والد بھی مستفید ہوجائیں۔ جو علم اللہ نے ان کو دیا ہے وہ اپنے باپ کو بھی سکھا دیں۔ وہ نہایت ہیمحبت کے انداز میں باپ سے مخاطب ہیں۔ ابا جان ‘ نہایت ہی نرم الفاظ ہیں۔
لم تعبدو مالا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شیئا (91 : 24) ” آپ کیوں ان چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو نہ سنتی ہیں ‘ نہ دیکھتی ہیں اور نہ آپ کا کوئی کام بنا سکتی ہیں ؟ “ عبادت کا اصول تو یہ ہے کہ انسان اس ذلت کے آگے سرنگوں ہو جو انسان سے اعلیٰ وارفع ہو۔ زیادہ علم والا اور زیادہ قوت والا ہو اور وہ ذات انسان کو مقام انسانیت سے بھی…
Read the full tafseer →4 یعنی جو چیزدیکھتی سنتی ہو اور مشکلات میں کچھ کام آسکے مگر واجب الوجود نہ ہو، اس کی عبادت بھی جائز نہیں۔ چہ جائیکہ ایک پتھر کی بےجان مورتی جو نہ سنے نہ دیکھے نہ ہمارے کسی کام آئے، خود ہمارے ہاتھ کی تراشی ہوئی، اس کو معبود ٹھہرا لینا کسی عاقل اور خود دار کا کام نہیں ہوسکتا۔
Read the full tafseer →آیت 42 اِذْ قَالَ لِاَبِیْہِ یٰٓاَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا یَسْمَعُ وَلَا یُبْصِرُ وَلَا یُغْنِیْ عَنْکَ شَیْءًا ”
اِن آیات کے حوالے سے یہ نکتہ لائق توجہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اپنے والد کو مخاطب کرنے کا انداز انتہائی مؤدبانہ ہے : یٰٓاَبَتِ ‘ یٰٓاَ بَتِ اے میرے ابا جان ! اے میرے ابا جان ! ۔ ایک داعی اور مبلغ کے لیے یہ گویا ایک مثال ہے کہ اگر اسے دعوت و تبلیغ کے سلسلے میں اپنے سے کسی بڑے یا کسی بزرگ کو مخاطب کرنا ہو تو اس کا طرز تخاطب کیسا ہونا چاہیے۔ اس لحاظ سے یہ قرآن مجید کا بہترین مقام ہے۔
Read the full tafseer →39 سیدنا ابراہیم کا اپنے باپ کو بت پرستی کی قباحتیں سمجھانا :۔ مروجہ شرک کی دو بڑی اقسام ہیں ایک بت پرستی دوسرے پیر پرستی۔ پیر خواہ زندہ ہو یا فوت شدہ۔ زندہ پیر کم از کم دیکھ تو سکتا ہے اور سن بھی سکتا ہے اور مادی وسائل کے ذریعہ مدد بھی کرسکتا ہے۔ مگر سیدنا ابراہیم کی قوم تو بت پرست تھی۔ جو نہ سنتے ہیں نہ دیکھتے ہیں۔ نہ حرکت کرسکتے ہیں بلکہ وہ اپنے وجود تک کے لئے انسانوں کے محتاج ہیں۔ پھر وہ دوسروں کی حاجت روائی اور مشکل کشائی کیا خاک کرسکتے ہیں ؟
Read the full tafseer →63۔ (عقل سے سوچئے تو بت پرستی کی لاحاصلی آپ پر بالکل روشن ہوجائے) (آیت) ” لم تعبد “۔ الخ۔ ظاہر ہے کہ مراد بتوں اور مورتیوں کی پرستش سے ہے۔ عراق قدیم یا کلدانیہ کا شرک، بدترین قسم کا شرک تھا۔ دیوی دیوتاؤں کے نام 5 ہزار کی تعداد میں اب تک کتبوں میں مل چکے ہیں۔ ملاحظہ ہو انگریزی تفسیر القرآن کا حاشیہ۔ (آیت) ” مالایسمع ...... شیئا “۔ مطلب یہ کہ جو ہستی واجب الوجود نہیں، وہ لائق عبادت تو کسی حال میں بھی نہیں، چہ جائیکہ ایسی ہستیاں جو سماعت، بصارت وغیرہ سے بھی عاری ہوں ! مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے طریق دعوت وتبلیغ میں حسن خلق وادب کو ملحوظ رکھا تاکہ مخاطب فساد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–50
آیت نمبر 41 تا 50
ترجمہ : آپ کفار مکہ کو کتاب میں مذکور ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ سنائیے یعنی اس کی خبر بیان کیجئے بیشک وہ بڑی راستی والے نبی تھے یعنی نہایت سچے نبی تھے اور اِذ قال لابیہ خبْرَہ سے بدل ہے (یعنی اس وقت کا قصہ بیان کیجئے) جب انہوں نے اپنے والد آزر سے عرض کیا تھا یَا اَبَتِ اے ابا جان، تایائے اضافت کے عوض میں ہے (عوض اور معوض) دونوں کو جمع کرنا جائز نہیں ہے اور آزر بت پرستی کرتا تھا آپ ان (بتوں) کی پوجا پاٹ کیوں کرتے ہیں ؟ جو نہ سنیں اور نہ دیکھیں اور نہ آپ کے کچھ کام آسکیں یعنی نہ کفایت کرسکیں، نہ نفع پہنچا سکیں اور نہ نقصان کو دفع کرسکیں اے میرے مہربان باپ میرے پاس وہ علم…
Read the full tafseer →اذ قال لابیہ یابت لم تعبد ما لا یسمع ولا یبصر ولا یغنی عنک شیئا۔
جب اس نے اپنے باپ سے کہا ‘ میرے باپ آپ کیوں ایسی چیزوں کی پوجا کرتے ہیں جو نہ کچھ سنتی ہیں (ان کے پاس سننے کی طاقت نہیں ہے) نہ کچھ دیکھتی ہیں (ان کے پاس نور نظر نہیں ہے) نہ آپ کے کام آتی ہیں (ان میں نفع پہنچانے اور ضرر کو دفع کرنے کی طاقت ہی نہیں ہے) یعنی ان کے پاس سننے والے کان نہیں کہ آپ کی دعا اور پکار کو سن سکیں نہ دیکھنے والی آنکھیں کہ تمہاری پوجا اور تمہاری حالت دیکھ سکیں نہ ان میں نفع پہنچانے یا دکھ کو دور کرنے کی طاقت ہے کہ تمہارے کام آسکیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے باپ کو نہایت ادب احترام اور شفقت و محبت کے لہجہ…
Read the full tafseer →(42) جب کہ انہوں نے اپنے باپ آزر سے کہا کہ اے میرے باپ تم اللہ تعالیٰ کے علاوہ ایسی چیزوں کی کیوں عبادت کرتے ہو جو نہ تمہاری پکار کو سنتے ہیں اور نہ تمہاری عبادت کو دیکھتے ہیں اور نہ عذاب الہی کے مقابلہ میں تمہاری کچھ مدد کرسکتے ہیں۔
Read the full tafseer →يٰٓاَبَتِ ’ کے معنی کے لیے دیکھیے سورة یوسف (4)۔
اِذْ قَالَ لِاَبِيْهِ يٰٓاَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ۔۔ : اس سے معلوم ہوا کہ ابراہیم ؑ کا والد بت پرست تھا۔ مزید دیکھیے سورة انعام (74) ابراہیم ؑ نے اسے نہایت ادب، نرمی، حسن اخلاق اور بہترین دلائل کے ساتھ بت پرستی ترک کرنے کی نصیحت کی کہ کہیں وہ بڑے پن اور ضد میں آکر حق سے انکار نہ کر دے۔ چناچہ سب سے پہلے انھوں نے اس سے ان بتوں کو پوجنے کی وجہ پوچھی کہ جن کی کسی عقل مند کے نزدیک کوئی وقعت ہی نہیں، خواہ وہ عالم ہو یا جاہل، کجا یہ کہ ان کی عبادت کی جائے، جو تعظیم، محبت اور عاجزی کا انتہائی مرتبہ ہے۔ کیونکہ عبادت تو اس کی ہونی چاہیے جو ہر طرح سے دوسروں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–47
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اذ قال لابیہ، ابیہ سے مراد آزر ہے جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔ یابت، سورة یوسف میں اس پر گفتگو ہوچکی ہے۔ لم تعبد کس وجہ سے آپ عبادت کرتے ہیں۔ مالا یسمع ولا یبصر ولا یغنی عنک شیا۔ جو نہ سنتے ہیں اور نہ دیکھتے ہیں اور نہ تجھے کچھ فائدہ دیتے ہیں۔ اس سے مراد بتہیں۔ یابت انی قد جآءنی من العلم مالم یا تک یعنی اللہ کی معرفت اور یقین اور جو موت کے بعد ہونا ہے اور جسنے غیر اللہ اللہ کی عبادت کی اسے عذاب دیا جائے گا۔ فاتبعنی اس کی اتباع کرو جس کی طرف میں دعوت دیتا ہوں۔ اھدک صراطاً سویا۔ میں تمہاری دین مستقیم کی طرف راہنمائی کروں گا جس میں نجات ہے۔ یابت لا تعبد الشیطن وہ جو تمہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–50
1:۔ ابونعیم اور دیلمی نے ا نس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا والد کا حق اس کی اولاد پر یہ ہے کہ اس کا نام نہ لے مگر جس طرح ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد کو پکارا تھا اے میرے باپ اور اس کے نام کے ساتھ اس کو نہ پکارے۔
2:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لارجمنک “ سے مراد ہے کہ میں تجھ کو ضرور گالیاں دوں گا (آیت) ” واھجرنی ملیا “ یعنی ایک مدت تک۔
3:۔ ابن جریر، ابن منذر، اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” واھجرنی ملیا “ سے مراد ہے صحیح سالم مجھ سے دور ہوجا اس سے پہلے کہ میری طرف سے کوئی سزا تجھ کو پہنچ جائے۔
عبد بن حمید نے عکرمہ ؓ…
Read the full tafseer →[اِذْ : جب ] [قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [لِاَبِيْهِ : اپنے والد سے ] [يٰٓاَبَتِ : اے میرے والد ] [لِمَ تَعْبُدُ : آپ کیوں بندگی کرتے ہیں ] [مَا : اس کی جو ] [لَا يَسْمَعُ : نہیں سنتا ] [وَلَا يُبْصِرُ : اور نہیں دیکھتا ] [وَلَا يُغْنِيْ : اور کام نہیں آتا ] [عَنْكَ : آپ کے ] [شَـيْــــــًٔــا : کچھ بھی ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–48
پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا (وَاَعْتَزِلُکُمْ وَمَا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللِّٰہ) اور میں تم لوگوں سے اور ان چیزوں سے کنارہ کرتا ہوں جن کی تم اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہو، وادعوا ربی اور میں اپنے رب کو پکارتا ہوں (عَسٰٓی اَنْ لَّآ اَکُوْنَ بْدُعَآءِ رَبِّیْ شَقِیًّا) (امید ہے کہ میں اپنے رب کی دعا سے محروم نہ رہوں گا) یعنی میری دعا اور کوشش ضائع نہ جائے گی اور تم لوگوں کو جو شقاوت گھیرے ہوئے ہے مجھے اللہ تعالیٰ اس سے دور رکھے گا قال صاحب الروح و فیہ تعریض بشقاوتھم فی عبادۃ الھتھم اور آیت میں ہجرت کا اعلان ہے اس کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے وطن سے ہجرت فرما کر ملک شام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–50
قصۂ سوم حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ و السلام
قال اللہ تعالیٰ ۔ واذکر فی الکتٰب ابرٰھیم۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ وجعلنا لھم لسان صدق علیا۔
ربط۔ اس سورة کا یہ تیسرا قصہ ہے جس میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی خدا پرستی کا ذکر ہے کہ وہ کیسے خدا پرست تھے اور کس طرح انہوں نے اپنے باپ کو توحید کی دعوت دی اور کس طرح شرک اور بت پرستی کا بطلان ظاہر کیا اور اس دعوت اور تبلیغ میں اپنے باپ کے ادب اور احترام کو ملحوظ رکھا اور پھر کس طرح انہوں نے اللہ تعالیٰ کے لیے اپنے باپ کو چھوڑا اور اپنے آبائی وطن سے ہجرت کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے درجے بلند کیے اور ان کو اولاد صالح عطا فرمائی اور تمام امتوں اور قوموں میں ان کا ذکر خیر…
Read the full tafseer →32:۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے باپ کا نام تارح اور لقب آزر تھا۔ جو نہ صرف بت پرست تھا۔ بلکہ بت تراش بھی تھا وہ بت بنا کر فروخت کیا کرتا تھا۔ اس کی زیادہ تحقیق سورة انعام رکوع 9 کی تفسیر میں گذر چکی ہے اور مزید تحقیق سورة شعراء کے آخری رکوع کی تفسیر میں آئے گی۔ انشاء اللہ تعالی۔ ” لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا یَسْمَعُ الخ “ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بغیر کسی تمہید کے مسئلہ توحید کا منفی پہلو (جو نسبتا زیادہ ناگوار گذرتا ہے) اپنے باپ کے سامنے پیش فرما دیا۔ یہ غالباً تبلیغ کا آخر موقع تھا۔ اس سے قبل توحید کا مثبت پہلو کئی بار بیان فرم اچکے تھے۔ اس میں انہوں نے معبودانِ باطلہ کے تین نقائص بیان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–45
ربط آیات :
دوسرے رکوع کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم (علیہ السلام) کا ذکر بھی اسی طرح کیا تھا (آیت) ” واذکر فی الکتب مریم “۔ وہاں پر اللہ تعالیٰ نے ان پر کی گئی اپنی خاص مہربانی کا تذکرہ فرمایا ، یہ واقعہ بطور تمہید تھا ، پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت کا ذکر کرکے مسئلہ توحید سمجھایا اور شرک کا رد کیا درمیان میں فرمایا (آیت) ” ماکان للہ ان یتخذ من والد سبحنہ “۔ (آیت 35) اللہ تعالیٰ کی ذات اپنے لیے بیٹا بنانے سے پاک ہے مسیح (علیہ السلام) نے بھی قوم کو یہی تعلیم دی (آیت) ” وان اللہ ربی وربکم فاعبدہ “۔ (آیت ۔ 36) میرا اور تمہارا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے اسی کی عبادت…
Read the full tafseer →اِذْ قَالَ لِاَبِيْہِ يٰٓاَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا يَسْمَعُ وَلَا يُبْصِرُ وَلَا يُغْنِيْ عَنْكَ شَـيْــــــًٔــا 42
قول
القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ،
( ق و ل ) القول
القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔
أب
الأب : الوالد، ويسمّى كلّ من کان سببا في إيجاد شيءٍ أو صلاحه أو ظهوره أبا، ولذلک يسمّى النبيّ صلّى اللہ عليه وسلم أبا المؤمنین، قال اللہ تعالی: النَّبِيُّ أَوْلى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَزْواجُهُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–43
تفسیر … ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ : یہ تیسرا تذکرہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ہے۔ یہ ان کی اس وقت کی ثابت قدمی اور خدا پرستی مذکور ہے کہ جب ابتدائِ شباب میں انہوں نے بت پرستی کو حقیر جان کر اپنے باپ کو اس سے منع کیا اور آخر کار محض اللہ کے لیے اپنے باپ کو چھوڑا کہ جس کی محبت نے ابراہیم کو اس لیے خدا سے معافی مانگنے پر آمادہ کیا اور اس کے لیے ابراہیم (علیہ السلام) نے وعدہ بھی کرلیا پھر مہاجرت کے بعد خدا تعالیٰ نے اس کو اسحاق اور اسحاق کو یعقوب برگزیدہ پیغمبر فرزند عطا کیا۔ یہ نتیجہ ہے خدا کی فرمانبرداری کا۔
یعقوب (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پوتے ہیں لیکن ایسا اولوالعزم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–45
اِذْقَالَ لِاَبِیْہِ یٰٓـاَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَالاَ یَسْمَعُ وَلاَ یُبْصِرُ وَلاَ یُغْنِیْ عَنْکَ شَیْئًا۔ یٰٓـاَبَتِ اِنِّیْ قَدْجَآئَ نِیْ مِنَ الْعِلْمِ مَالَمْ بَاْ تِکَ فَا تَّبِعْنِیْٓ اَھْدِکَ صِرَاطًا سَوِیًّا۔ یٰٓـاَبَتِ لاَ تَعْبُدِالشَّیْطٰنَ ط اِنَّ الشَّیْطٰنَ کَانَ لِلرَّحْمٰنِ عَصِیًّا۔ یٰٓـاَبَتِ اِنِّیْٓ اَخَافُ اَنْ یَّمَسَّکَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ فَتَکُوْنَ لِلشَّیْطٰنِ وَلِیًّا۔ (مریم : 42، 43، 44، 45)
(یاد کرو جب حضرت ابراہیم نے اپنے باپ سے کہا کہ اے میرے باپ ! آپ کیوں پرستش کرتے ہیں ایسی چیزوں کی جو نہ سنتی ہیں نہ دیکھتی ہیں اور نہ وہ کچھ آپ کے کام آنے والی ہیں۔ اے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–45
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دعوت کا آغاز اپنے گھر سے فرمایا یہی بہترین اور فطری طریقہ ہے کہ داعی اپنی دعوت کا آغاز اپنے گھر سے کرے۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم اور ان کے والد آذر بتوں کی پرستش کرتے تھے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے پیغمبرانہ طریقہ کے مطابق تبلیغ کا آغاز اپنے گھر سے کیا۔ چناچہ باپ کے مرتبہ کا خیال رکھتے ہوئے نہایت ادب کے ساتھ فرماتے ہیں کہ اے والد گرامی ! آپ بتوں کی کیوں عبادت کرتے ہیں ؟ جو نہ سن سکتے ہیں، نہ دیکھتے ہیں اور نہ ہی آپ کو کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔ اے والد گرامی ! یقیناً میرے پاس ایساعلم آیا ہے جو آپ کے پاس موجود نہیں۔ میری بات…
Read the full tafseer →42: اِذْ قَالَ (جب اس نے کہا) ۔
نحو : اذکو کان کے متعلق کریں جائز ہے یا صدیقًا نَبِیًّا کے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ خطابات ابراہیم (علیہ السلام) نے جب اپنے والد کو کہے تو اس وقت وہ صدیقین اور انبیاء کی خصوصیات کو اپنے اندر جمع کرنے والے تھے۔ آنحضرت ﷺ کو ان کے تذکرہ کا حکم دینے کا مطلب یہ ہے کہ ان کا جو واقعہ قرآن مجید میں آیا ہے وہ ذکر کریں اور لوگوں کو پڑھ کر سنائیں اور ان کو پہنچائیں جیسا کہ دوسرے قول میں موجود ہے۔ واتل علیھم نبأ ابراہیم ] شعرائ : 69[ ورنہ تو اللہ تعالیٰ اس کا خود تذکرہ فرمانے والے ہیں اور قرآن میں اتارنے والے ہیں۔
لِاَبِیْہِ یٰٓاَبَتِ (اپنے والد کو کہ اے میرے باپ) قراءت اَبَتِ…
Read the full tafseer →42۔ اذ قال، جب حضرت ابراہیم نے کہا، لابیہ، اپنے والد آذر سے جو بتوں کی پوجا کرتے تھے، یا ابت لم تعبد، مالایسمع، جو آواز نہیں سنتے ، ولایبصر اور کوئی چیز نہیں دیکھتے۔ ولایغنی عنک، نہ وہ ان کی کفایت کرے گا، ، شیئا ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–50
41۔ 50:۔ تفسیر سدی اور سیرۃ ابن اسحاق میں حضرت ابرہیم (علیہ السلام) کی پیدائش کا قصہ جو لکھا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کی پیدائش سے پہلے نمرود نے خواب میں دیکھا تھا کہ ایک بڑا روشن ستارہ آسمان پر نکلا ہے اس وقت کے نجومیوں سے اس نے اپنا یہ خواب بیان کیا انہوں نے جواب دیا کہ اس سال ایک لڑکا ایسا پیدا ہوگا کہ اسکے سبب سے تیری سلطنت غارت ہوجائے گی اس خواب کی تعبیر کے خوف سے بستی کے سب مردوں کو اپنے ساتھ لے کر نمرود بستی کے باہر چلا گیا اور سب عورتوں کو بستی کے اند چھوڑ دیا تاکہ اس سال مرد و عورت میں مباشرت اور کوئی اولاد پیدا نہ ہو، مگر جب آزر بستی میں آئے تو ان سے نہ رہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–52
آیت 41
تمام کتابوں میں سب سے زیادہ جلیل القدر، سب سے افضل اور سب سے زیادہ بلند مرتبے والی کتاب، یہ کتاب مبین اور ذکر حکیم یعنی قرآن مجید ہے۔ اگر اس میں خبریں بیان کی گئی ہیں تو یہ خبریں سب سے زیادہ سچی، سب سے زیادہ حق اور سب سے زیادہ نفع مند ہیں۔ اگر اس میں اوامر ونواہی کا تذکرہ ہے تو یہ اوامرونواہی سب سے زیادہ قدر و قیمت کے حامل اور سب سے زیادہ عدل و انصاف پر مبنی ہیں۔ اگر اس میں سزا و جزا اور وعدے و عید کا ذکر کیا گیا ہے تو وہ سب سے زیادہ سچی خبر اور سب سے زیادہ حق ہے اور اللہ تعالیٰ کی حکمت اور اس کے عدل و فضل پر سب سے زیادہ دلالت کرتی ہے اور اگر اس میں انبیاء ومرسلین کا ذکر ہے تو اس میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–45
اپنی ذات کی تعریف بغیر فخر کے جائز ہے
قول باری ہے (وبرا بوالدتی ولم یجعلنی جبارًا شقیاً والسلام علی یوم ولدت ویوم اموت ویوم ابعث حیا۔ اور مجھے اپنی والدہ کا حق ادا کرنے والا بنایا، مجھ کو جبار اور شقی نہیں بنایا، سلام ہے مجھ پر جبکہ میں پیدا ہوا اور جبکہ میں مرون اور جب کہ زندہ کر کے اٹھایا جائوں) اس میں یہ دلالت موجود ہے کہ انسان اپنی ذات کو تعریف اور نیکی کی صفات سے متصف کرسکتا ہے بشرطیکہ اس کی نیت یہ ہو کہ دوسرے اشخاص بھی اس نیکی اور بھلائی سے روشناس ہو کر اس پر عمل پیرا ہو سکیں، اس کے ذریعے وہ ڈینگ مارنے اور اپنی خوبیوں کے فخر یہ اظہار کی نیت نہ رکھتا ہو۔ اس کی مثال حضرت یوسف (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
54 سیدھی راہ پیغمبر کی اتباع ہی سے نصیب ہوسکتی ہے : سو حضرت ابراہیم نے اپنے مشرک باپ آزر سے کہا " اباجان آپ میری پیروی کرو میں آپ کو سیدھا راستہ بتاؤں گا "۔ ایسا سیدھا راستہ جو دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز و بہرہ ور کرنے والا راستہ ہے۔ اور یہ راستہ میں ہی آپ کو بتاؤں گا۔ کیونکہ میرے پاس علم کی روشنی ہے جو آپ کے پاس نہیں۔ سو معلوم ہوا کہ عظمت اور شرف و فضیلت کا دار و مدار علم و آگہی کی روشنی اور اتباع حق پر ہے نہ کہ عمر اور سالوں کی کمی بیشی پر۔ جیسا کہ کہا گیا ہے ۔ بزرگی بعقل است نہ بسال ۔ تونگری بدل است نہ بمال ۔ اور علم سے بھی وہ علم مراد ہے جو وحی خداوندی سے مستفاد ہو کہ وہی علم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–50
سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی ہجرت اور اللہ کا ان پر فضل و کرم
تشریح : یہاں سے پھر اہل مکہ کو خطاب کیا جا رہا ہے۔ اور ان مسلمانوں کو جو کفار مکہ کی دشمنی کی وجہ سے مکہ کو چھوڑ کر حبشہ کی طرف ہجرت کر رہے تھے۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر اس لیے کیا جا رہا ہے کیونکہ وہ اپنے کردار اور صفات کی وجہ سے یہودی، عیسائی، کفار مکہ اور مسلمانوں میں یکساں طور پر مکرم و محترم سمجھے جاتے ہیں سب ہی مذاہب میں ان کی بےحد بلند جگہ سمجھی جاتی ہے۔
کفار مکہ کو یاد کروایا گیا کہ تم کو جب بتوں کی پوجا سے منع کیا جاتا ہے تو تم لوگ کہتے ہو ” ہمارے آباو اجداد یہی کرتے آئے ہیں اور ساتھ ہی تم لوگ ملت ابراہیمی کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–50
(رکوع نمبر 3)
اسرارومعارف
انہیں کتاب اللہ میں ابراہیم (علیہ السلام) کے حالات بھی سنائیے کہ مشرکین عرب ان کی پیروی کا دعوی رکھتے تھے مگر عقائد و اعمال مشرکانہ گھڑ رکھے تھے تو یہ بھی واضح ہوجائے کہ محض واقعات عجیبہ ہی سننے کا شوق رکھتے ہیں یا حق کی طلب بھی تاکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے حالات سے ان کا عقیدہ اور عمل بھی اپنی صحیح صورت میں سامنے آجائے کہ وہ تو صدیق تھے اور نبی تھے ۔
(صدیق)
یہاں صدیق سے مراد سچائی لیا جائے تو ہر نبی ہی صدیق اور سچا ہوتا ہے تو پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی خصوصیت کیا رہ جاتی ہے ۔
(معنے اور منصب نیز مناصب ولایت کی خصوصیات)
حق یہ ہے کہ صدیق ہونا یا ” صدیقیت “…
Read the full tafseer →ف 6 مراد وہ بت ہیں جن کی آزر اور اس کی قوم کے لوگ پوجا کیا کرتے تھے۔
Read the full tafseer →(19:42) یابت۔ یا حرف ندا۔ ابت اصل میں ابی تھا۔ تا کو یاء کے عوض لایا گیا۔ اور اب بوجہ منادی مضاف منصوب ہوا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–50
لغات القرآن آیت نمبر 41 تا 50
یابت اے میرے ابا جان۔ سوی سیدھا، برابر۔ عصی نافرمان۔ ان یمسک یہ کہ تجھے پہنچے۔ یہ کہ تجھے پکڑے۔ اراغب کیا تو منہ پھیرتا ہے۔ (کیا تو رغبت رکھتا ہے۔ ) لم تنتہ تو باز نہ آیا۔ ارجمن میں ضرور پتھر ماروں گا۔ اھجرنی مجھے تنہا چھوڑ دے۔ ملی ایک وقت، مدت۔ استغفر میں دعائے مغفرت کروں گا۔ حفی مہربان۔ اعتزل میں الگ ہوتا ہوں۔ میں چھوڑتا ہوں۔ ادعوا میں پکاروں گا۔ شقی محروم۔ وھبنا ہم نے عطا کیا۔ لسان صدق سچی زبان، ذکر جمیل، علی نہایت بلند۔ اللہ تعالیٰ کی صفت
تشریح : آیت نمبر 41 تا 50
سورة مریم میں حضرت عیسیٰ حضرت زکریا اور حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–48
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا بیان
یہ تیسرا تذکرہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ کتاب میں ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر ہے بیشک وہ سچے نبی تھے۔ یہاں اس وقت کی ثابت قدمی اور خدا پرستی مذکور ہے۔ جب ابتدائے شباب میں انہوں نے بت پرستی کو حقیر جانا، اور اپنے باپ سے کہا تھا :" اے باپ ! تو ایسی چیزوں کی عبادت کیوں کرتا ہے جن کو نہ سننے کی طاقت اور نہ دیکھنے کی قدرت ہے، نہ یہ چیزیں تیرے کام آسکتی ہیں یعنی بتوں کی پرستش نہ کرو۔ ان سے کوئی کام نہیں بن سکتا ۔ اے باپ ! مجھے اللہ نے وہ علم دیا ہے کہ تجھے حاصل نہیں، تو میرے کہنے پر چل۔ میں تجھے سیدھا راستہ بتاؤں گا۔ اے میرے باپ ! شیطان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–43
[17] عیسائیوں میں کئی فرقے ہوگئے جن کے جھگڑوں سے کلیسا کی تاریخ بھری پڑی ہے۔
[18] یعنی روز قیامت۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–46
(ف 1) یہ تیسرا قصہ ہے ، مکہ کے منکرین حق بظاہر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی عقیدتمندی کا دم بھرتے اور احترام کرتے تھے ، اللہ نے فرمایا کہ کمبختو ! اگر تم واقعی طور پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے ارادت رکھتے ہو تو پھر یہ بت پرستی کیسی ؟ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے دوستی ، محبت کا دعوئے اور یہ شرک کا ارتکاب ، یہ دو چیزیں کیونکر جمع ہو سکتی ہیں ؟ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تو صدیق تھے یعنی توحید اسلامی کے برجوش علمبردار ، انہوں نے توحید کے پھیلانے میں کبھی تعلق کا پاس نہیں کیا انہوں نے اپنے باپ کو جب دیکھا کہ بت پرستی کے مرض میں مبتلا ہے تو برملا کہہ دیا ، ابا ! ان بتوں کی پرستش کیوں کرتے…
Read the full tafseer →-42 واقعہ ابراہیمی میں وہ وقت قابل ذکر ہے جبکہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ سے کہا اے میرے باپ تو ایسی چیز کی عبادت اور بندگی کیوں کرتا ہے جو سن سکتی ہے اور نہ دیکھ سکتی ہے اور نہ وہ تیرے کچھ کام آسکتی ہے۔ یعنی نہ سننے کی طاقت نہ دیکھنے کی طاقت اور نہ برے وقت کام آنے کی صلاحیت تو اللہ رب العزت کی موجودگی میں اگرچہ چیزیں کچھ نافع ہوتیں تب بھی قابل پرستش نہ تھیں چہ جائیکہ جب ان میں کسی کی صلاحیت اور اہلیت بھی نہ ہو تو ان مورتیوں کا پوجنا سوائے حماقت کے اور کیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–42
ف 1۔ مراد بت ہیں حالانکہ اگر کوئی دیکھتا سنتا کچھ کام آتا بھی ہو مگر واجب الوجود نہ ہو تب بھی لائق عبادت نہیں۔ چہ جائیکہ ان اوصاف سے بھی عاری ہو وہ تو بدرجہ اولی لائق عبادت نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ آزر سے کہا کہ آپ غیر اللہ کی کیوں پرستش کرتے ہیں :
42۔ سیدنا ابراہیم عیہل السلام دیکھ رہے تھے کہ شرک کا سب سے بڑا مرکز خود ان کے اپنے گھر میں قائم ہے اور میرے والد آزر کی بت سازی اور بت پرستی پوری قوم کے لئے مرجع و محور بنی ہوئی ہے اس لئے فطرت کا تقاضا ہے کہ دعوت حق اور پیغام صداقت کے ادائے فرض کی ابتداء گھر ہی سے ہونی چاہئے اسی لئے سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے سب سے پہلے اپنے والد آزر ہی کو مخاطب کیا اور فرمایا اے باپ ! خدا پرستی اور معرفت الہی کے لئے جو راستہ تو نے اختیار کیا ہے اور جس کو آباء و اجداد کا قدیم راستہ بتلاتا ہے یہ گمراہی اور باطل پرستی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–46
How to give counsel to elders.
يَا أَبَتِ (My dear father - 19:42) In Arabic language this word conveys deep respect and intense love for one's father. Allah Ta` ala had combined in the person of Sayyidna Khalilullah (علیہ السلام) the noble qualities and attributes, and his address to his father is a perfect example of moderation and restraint on the one hand, and the balancing of the opposites on the other. He finds his father living a life of unbelief and polytheism, and also calling upon other people to follow him in a life of sin - the very things which he was sent to eradicate. At the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–43
26. From here the address is directed towards the people of Makkah, who had forced their own near and dear relatives to emigrate from their homes, just as Prophet Abraham (peace be upon him) had been exiled by his own father and brethren. The story of Prophet Abraham (peace be upon him) has been selected for this purpose because the Quraish professed to accept him as their religious leader and were proud of being his descendants.
Read the full tafseer →