Explained with ayahs 41–45
بتوں کی پوجا۔
مشرکین مکہ جو بت پرست ہیں اور اپنے آپ کو خلیل اللہ کا متبع خیال کرتے ہیں ان کے سامنے اے نبی ﷺ خود حضرت ابراہیم ؑ کا واقعہ بیان کیجئے۔ اس سچے نبی نے اپنے باپ کی بھی پرواہ نہ کی اور اس کے سامنے بھی حق کو واضح کردیا اور اسے بت پرستی سے روکا۔ صاف کہا کہ کیوں ان بتوں کی پوجا پاٹ کر رہے ہوں جو نہ نفع پہنچا سکیں نہ ضرر۔ فرمایا کہ میں بیشک آپ کا بچہ ہوں لیکن اللہ کا علم جو میرے پاس ہے آپ کے پاس نہیں آپ میری اتباع کیجئے میں آپ کو راہ راست دکھاؤں گا برائیوں سے بچادوں گا۔ ابا جی یہ بت پرستی تو شیطان کی تابعداری ہے وہی اس کی راہ سمجھاتا ہے اور وہی اس سے خوش ہوتا ہے۔ جیسے سورة یاسین میں ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–43
سورة مَرْیَم 26
یہاں سے خطاب کا رخ اہل مکہ کی طرف پھر رہا ہے جنہوں نے اپنے نوجوان بیٹوں، بھائیوں، اور دوسرے رشتہ داروں کو اسی طرح خدا پرستی کے جرم میں گھر چھوڑنے پر مجبور کردیا تھا جس طرح حضرت ابراہیم کو ان کے باپ اور بھائی بندوں دیس سے نکال دیا تھا۔ اس غرض کے لیئے دوسرے انبیاء کو چھوڑ کر خاص طور پر ابراہیم کے قصے کا انتخاب اس لیئے کیا گیا کہ قریش کے لوگ ان کو اپنا پیشوا مانتے تھے اور انہی کی اولاد ہونے پر عرب میں اپنا فخر جتایا کرتے تھے۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور (اے محمد ﷺ آپ اس کتاب (یعنی قرآن) میں (لوگوں کے سامنے حضرت) ابراہیم ؑ کا (قصہ) ذکر کیجئے (تاکہ ان کو توحید و رسالت کا مسئلہ زیادہ منکشف ہوجاوے) وہ (ہر قول فعل میں) بڑے راستی والے (تھے اور) پیغمبر تھے (اور وہ قصہ جس کا ذکر کرنا اس جگہ مقصود ہے اس وقت ہوا تھا) جب کہ انہوں نے اپنے باپ سے (جو کہ مشرک تھا) کہا کہ اے میرے باپ تم ایسی چیز کی کیوں عبادت کرتے ہو جو نہ کچھ سنے اور نہ کچھ دیکھے اور نہ تمہارے کچھ کام آسکے (مراد بت ہیں حالانکہ اگر کوئی دیکھتا سنتا کچھ کام آتا بھی ہو مگر واجب الوجود نہ ہو تب بھی لائق عبادت نہیں چہ جائے کہ ان اوصاف سے بھی عادی ہو تو وہ بدرجہ اولیٰ لائق عبادت…
Read the full tafseer →آگے کا مضمون۔ آیات 41 تا 63: آگے حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ ، حضرت اسماعیل اور حضرت ادریس (علیہم السلام) کی سیرت اور ان کی تعلیم و دعوت کا اجمالی حوالہ ہے اور مقصود اس حوالہ سے ایک طرف تو نصاری پر یہ حقیقت واضح کرنا ہے کہ حضرت عیسیٰ سے پہلے جو انبیاء عظام، آدم و نوح اور ابراہیم و اسرائییل (علیہم السلام) کی نسل سے گزرے ہیں ان سب کی تعلیم و دعوت یہی رہی ہے جو آج اللہ کا رسول تمہارے سامنے پیش کررہا ہے لیکن تم ایسے ناخلف نکلے کہ تم نے ان نبیوں کی تعلیم ضائع کدی اور اس کی جگہ بدعتوں اور ضلالتوں میں مبتلا ہوگئے۔ دوسری طرف قریش کو متنبہ کرنا ہے کہ ابراہیم و اسماعیل (علیہما السلام) کو جن کے ساتھ نسبت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
41۔ 1 صدیق صدق (سچائی سے مبالغے کا صیغہ ہے۔ بہت راست باز، یعنی جس کے قول وعمل میں مطابقت اور راست بازی اس کا شعار ہو۔ صدیقیت کا یہ مقام، نبوت کے بعد سب سے اعلٰی ہے ہر نبی اور رسول بھی اپنے وقت کا سب سے بڑا راست باز اور صداقت شعار ہوتا ہے، اس لئے وہ صدیق بھی ہوتا ہے۔ تاہم ہر صدیق، نبی نہیں ہوتا۔ قرآن کریم میں حضرت مریم کو صدیقہ کہا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ تقویٰ و طہارت اور راست بازی میں بہت اونچے مقام پر فائز تھیں تاہم نبیہ نہیں تھیں۔ امت محمدیہ میں بھی صدیقین ہیں۔ اور ان میں سر فہرست حضرت ابوبکر صدیق ؓ ہیں جو انبیاء کے بعد امت میں خیر البشر تسلیم کئے گئے ہیں۔ رَ ضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–41
19: اس پورے واقعے کو ذکر فرما کر یہ نتیجہ نکالا گیا ہے کہ عیسائیوں اور یہودیوں نے حضرت عیسیٰ ؑ کے بارے میں جو افراط وتفریط اختیار کر رکھی ہے وہ حقیقت نہیں ہے۔ نہ وہ الزامات درست ہیں جو یہودیوں نے ان پر لگا رکھے ہیں، اور نہ انہیں اللہ تعالیٰ کا بیٹا ماننا صحیح ہے جیسا کہ عیسائیوں نے مان رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو کسی بیٹے کی ضرورت نہیں ہے۔
Read the full tafseer →درس نمبر 631 ایک نظر میں
پہلے سبق کے آخر میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت کی حقیقت بیان کی گئی ‘ اور بتایا گیا کہ جو لوگ ان کو خدا کا بیٹا کہتے ہیں ‘ وہ محض وہم و گمان اور قصے ‘ کہانیوں پر یقین رکھتے ہیں۔ بڑی گمراہی میں مبتلا ہیں اور ان کہانیوں سے بعض گمراہ اہل کتاب استدلال کرتے ہیں۔ اس کے بعد یہاں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قصے کا ایک حصہ دیا جاتا ہے جس میں عقائد شرکیہ کی گمراہی اور بطلان کو واضح کیا گیا ہے۔ عرب اور مشرکین مکہ اپنے آپ کو حضرت ابراہیم کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ مشرکین مکہ کا دعویٰ یہ تھا کہ وہ اس گھر کے متولی ہیں جس کی تعمیر حضرض ابراہیم و اسماعیل علیھا السلام نے فرمائی…
Read the full tafseer →2 گذشتہ رکوع میں حضرت مسیح و مریم کا قصہ بیان فرما کر نصاریٰ کا رد کیا گیا تھا جو ایک آدمی کو خدا بنا رہے ہیں۔ اس رکوع میں مشرکین مکہ کو شرمانے کے لیے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ سنایا گیا ہے کہ انہوں نے اپنے باپ تک کو کس طرح شرک و بت پرستی سے روکا۔ اور آخرکار وطن و اقارب کو چھوڑ کر خدا کے واسطے ہجرت اختیار کی۔ مشرکین مکہ کا دعویٰ تھا کہ وہ ابراہیم کی اولاد ہیں اور اسی کے دین پر ہیں۔ انھیں بتلایا گیا کہ بت پرستی کے متعلق تمہارے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کا رویہ کیا رہا ہے۔ اگر آباؤ اجداد کی تقلید کرنا چاہتے ہو تو ایسے باپ کی تقلید کرو۔ اور مشرک باپ دادوں سے اسی طرح بیزار ہوجاؤ۔ جیسے…
Read the full tafseer →آیت 41 وَاذْکُرْ فِی الْْکِتٰبِ اِبْرٰہِیْمَط اِنَّہٗ کَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّا۔ ”
صِدِّیقًا نَبِیًّا ایک نئی ترکیب ہے ‘ جو قرآن حکیم میں یہاں پہلی مرتبہ آئی ہے۔ یہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اور آیت 56 میں حضرت ادریس علیہ السلام کو صِدِّیقاً نَبِیًّا فرمایا گیا ہے ‘ جبکہ آیات 51 اور 54 میں بالترتیب حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو رَسُولاً نَّبِیًّا کے لقب سے نوازا گیا ہے۔ گویا یہ دو الگ الگ تراکیب ہیں اور ظاہر ہے کہ ہر ایک کا اپنا الگ مفہوم ہے۔ اگرچہ میرے علم کی حد تک ان الفاظ یا تراکیب کی طرف کسی نے توجہ نہیں کی ‘ بلکہ مجھے اس وقت سخت حیرت ہوئی جب میں نے ایک معروف…
Read the full tafseer →37 سیدنا ابراہیم کے قصہ کا روئے سخن بالخصوص قریش مکہ کی طرف ہے۔ جو اپنے آپ کو دین ابراہیم کا پیروکار بتاتے تھے۔ انھیں بتایا یہ جارہا ہے کہ وہ مشرک نہیں بلکہ توحید پرست تھے۔ انہوں نے اپنے مشرک آباء واجداد کی تقلید کو چھوڑ دیا تھا۔ تمہیں بھی چھوڑ دینا چاہئے۔ مشرک قوم اور مشرک باپ نے طرح طرح کی دھمکیاں دیں مگر انہوں نے شرک کی باتیں تسلیم کرنے پر گھر بار چھوڑنے اور ترک وطن کو ترجیح دی۔ ایک تم ہو جو اپنے شرک پر اتنے مصر ہو کہ توحید پرستوں کو اذیتیں دے دے کر انھیں ہجرت پر مجبور کردیا ہے۔ پھر تمہارے اس اتباع دین ابراہیمی میں کون سی صداقت ہے ؟
38 اور سیدنا ابراہیم تو قول کے سچے اور اپنی عملی زندگی…
Read the full tafseer →61۔ (اے ہمارے پیغمبر) یعنی آپ اس کتاب سے ابراہیم (علیہ السلام) کا تذکرہ پڑھ کر اپنی قوم سنائیے۔ ورنہ کتاب میں ذکر کرنے والا تو ظاہر ہے کہ خود حق تعالیٰ ہی ہے۔ والمراد اتل علیھم نبا ابراہیم وذاکرہ وموردہ فی التنزیل ھو اللہ تعالیٰ (بحر) اے اتل علی الناس قصتہ (روح) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) (2160 تا 1985 ق، م) پر حاشیہ سورة بقرہ (پ 1) رکوع 15 میں گزر چکا۔
62۔ صدیق، صدوق کا صیغہ مبالغہ ہے اور لفظی معنی بہت بڑے سچے کے ہیں۔ اصطلاح میں ولی کامل کے مرادف ہے، اور بعد نبی کے سب سے اونچا مرتبہ صدیق ہی کا ہوتا ہے۔ الصدیقون ھم قوم ودین الانبیاء فی الفضیلۃ (راغب) الصدیق من کثر منہ الصدق وقیل بل یقال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–50
آیت نمبر 41 تا 50
ترجمہ : آپ کفار مکہ کو کتاب میں مذکور ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ سنائیے یعنی اس کی خبر بیان کیجئے بیشک وہ بڑی راستی والے نبی تھے یعنی نہایت سچے نبی تھے اور اِذ قال لابیہ خبْرَہ سے بدل ہے (یعنی اس وقت کا قصہ بیان کیجئے) جب انہوں نے اپنے والد آزر سے عرض کیا تھا یَا اَبَتِ اے ابا جان، تایائے اضافت کے عوض میں ہے (عوض اور معوض) دونوں کو جمع کرنا جائز نہیں ہے اور آزر بت پرستی کرتا تھا آپ ان (بتوں) کی پوجا پاٹ کیوں کرتے ہیں ؟ جو نہ سنیں اور نہ دیکھیں اور نہ آپ کے کچھ کام آسکیں یعنی نہ کفایت کرسکیں، نہ نفع پہنچا سکیں اور نہ نقصان کو دفع کرسکیں اے میرے مہربان باپ میرے پاس وہ علم…
Read the full tafseer →واذکر فی الکتب ابراہیم انہ کان صدیقا نبیا۔ اور کتاب (قرآن) میں ابراہیم (کے واقعہ) کو یاد کرو بلاشبہ وہ صدیق اور نبی تھا۔ صدیق کس کو کہتے ہیں مختلف علما نے مختلف معانی بیان کئے ہیں (1) بہت سچ بولنے والا (2) جس نے کبھی جھوٹ نہ بولا ہو۔ (3) سچ بولنے کا عادی ہو۔ صدق کی عادت کی وجہ سے اس کا کذب کا صدور نہ ہوا ہو۔ (4) جس کا اعتقاد بھی صحیح ہو اور قول بھی سچا اور اس نے اپنے عمل سے اپنے قول کی تصدیق کی ہو اور قول کے مطابق عملی مظاہرہ کرتا ہو۔ (5) اللہ کی تمام غیبی صفات اللہ کے انبیاء (اور ملائکہ) اور قیامت جن کا بیان اللہ نے کیا ہے سب کی تصدیق کرتا ہو۔ اللہ نے جن کاموں کو کرنے یا نہ کرنے کا حکم دیا…
Read the full tafseer →(41) حضرت ابراہیم ؑ کا قصہ بیان کیجیے وہ اپنے ایمان کے ساتھ بڑے راست بازی اور اللہ تعالیٰ کے پیغمبر تھے۔
Read the full tafseer →ۧوَاذْكُرْ فِي الْكِتٰبِ اِبْرٰهِيْمَ : اس سورت کا اصل موضوع توحید و نبوت اور حشر کے واقعات بیان کرنا ہے۔ توحید کے منکر دو قسم کے لوگ تھے، ایک یہود و نصاریٰ جنھوں نے عیسیٰ اور عزیر ؑ کو اللہ کا بیٹا قرار دے لیا اور اس طرح شرک میں مبتلا ہوگئے، چناچہ پچھلی آیات میں مریم اور مسیح ؑ کا قصہ بیان کرکے ان کے غلط عقائد کی تردید فرمائی۔ دوسرے مشرکین عرب، جو بت پرستی میں مبتلا تھے اور اس غلط عقیدے کے باوجود ابراہیم ؑ کے دین پر قائم ہونے کے دعوے دار تھے۔ یہاں سے ابراہیم ؑ کا قصہ بیان کرکے ان کی تردید مقصود ہے، تاکہ معلوم ہو کہ کس طرح ابراہیم ؑ نے اپنے باپ اور قوم کو بت پرستی سے نکالنے کی کوشش کی اور…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واذکرفی الکتب ابرہیم انہ کان صدیقا نبیا۔ یعنی وہ کتاب جو آپ پر نازل کی گئی اس میں حضرت ابراہیم کے واقعہ کا ذکر کریں۔ الصدیق کا معنی سورة نساء میں گزر چکا ہے اور الصدق کا اشتقاق سورة بقرہ میں بیان ہوچکا ہے، اعادہ کی ضرورت نہیں۔ آیت کا معنی ہے کہ اے محمد ! ﷺ قرآن میں حضرت ابراہیم کے مکالمہ کا ذکر ان پر پڑھئے یہ جان چکے ہیں کہ وہ حضرت ابراہیم کی اولاد سے ہیں وہ حنیف مسلم تھے اور اللہ تعالیٰ کے مدمقابل نہیں بناتے تھے یہ کیوں اللہ کے مدلمقابل بناتے ہیں جیسا کہ ارشاد ہے : ومن یرغب عن ملۃ ابرہم الا من سفہ نفسہ (البقرہ :130)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–50
1:۔ ابونعیم اور دیلمی نے ا نس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا والد کا حق اس کی اولاد پر یہ ہے کہ اس کا نام نہ لے مگر جس طرح ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد کو پکارا تھا اے میرے باپ اور اس کے نام کے ساتھ اس کو نہ پکارے۔
2:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لارجمنک “ سے مراد ہے کہ میں تجھ کو ضرور گالیاں دوں گا (آیت) ” واھجرنی ملیا “ یعنی ایک مدت تک۔
3:۔ ابن جریر، ابن منذر، اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” واھجرنی ملیا “ سے مراد ہے صحیح سالم مجھ سے دور ہوجا اس سے پہلے کہ میری طرف سے کوئی سزا تجھ کو پہنچ جائے۔
عبد بن حمید نے عکرمہ ؓ…
Read the full tafseer →[وَاذْكُرْ : اور یاد کرو ] [فِي الْكِتٰبِ : اس کتاب میں ] [اِبْرٰهِيْمَ : ابراہیم (علیہ السلام) کو ] [انهٗ : بیشک وہ ] [كَان : تھے ] [صِدِّيْقًا : ایک انتہائی سچے ] [نَّبِيًّا : (اور) ایک نبی ]
Read the full tafseer →توحید کے بارے میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنے والد سے مکالمہ
ان آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تذکرہ ہے آپ کا وطن بابل کے علاقہ میں تھا جہاں نمرود کی حکومت تھی وہاں کے لوگ بت پرست تھے خود آپ کا گھرانہ بھی بت پرست تھا۔ ان کا باپ بھی بت پرست تھا جس کا نام آزر تھا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنی قوم کو توحید کی دعوت دیتے تھے بت پرستی چھوڑنے کی تلقین فرماتے تھے۔ اپنے والد کو بھی انہوں نے توحید کی دعوت دی اور بت پرستی چھوڑنے کے لیے کہا سورة اعراف میں ہے (وَاِذْ قَالَ اِبْرَاھِیْمُ لِاَبِیْہِ اٰزَرَ اَتَتَّخِذُ اَصْنَامًا اٰلِھَۃً اِنِّیْٓ اَرَاکَ وَ قَوْمَکَ فِیْ ضَلٰالٍ مُّبِیْنٍ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–50
قصۂ سوم حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ و السلام
قال اللہ تعالیٰ ۔ واذکر فی الکتٰب ابرٰھیم۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ وجعلنا لھم لسان صدق علیا۔
ربط۔ اس سورة کا یہ تیسرا قصہ ہے جس میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی خدا پرستی کا ذکر ہے کہ وہ کیسے خدا پرست تھے اور کس طرح انہوں نے اپنے باپ کو توحید کی دعوت دی اور کس طرح شرک اور بت پرستی کا بطلان ظاہر کیا اور اس دعوت اور تبلیغ میں اپنے باپ کے ادب اور احترام کو ملحوظ رکھا اور پھر کس طرح انہوں نے اللہ تعالیٰ کے لیے اپنے باپ کو چھوڑا اور اپنے آبائی وطن سے ہجرت کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے درجے بلند کیے اور ان کو اولاد صالح عطا فرمائی اور تمام امتوں اور قوموں میں ان کا ذکر خیر…
Read the full tafseer →31:۔ جواب شبہہ ثالثۃ :۔ یہ تیسرے شبہہ کا جواب ہے یہود و نصاریٰ اور مشرکین حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو کارساز سمجھ کر پکارتے تھے تو اس کا جواب دیا گیا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جو انبیاء (علیہم السلام) کے جد امجد ہیں وہ خود اپنے باپ سے کہہ رہے ہیں کہ غیر اللہ کو مت پکارو۔ وہ تمہیں نفع اور نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ اس لیے وہ کس طرح متصرف و مختار اور معبود بن سکتے ہیں ؟ حضرت زکریا (علیہ السلام) صرف یہود اور عیسیٰ اور مریم (علیہم السلام) کو تو صرف نصاریٰ پکارتے تھے۔ لیکن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو یہود و نصاریٰ اور مشرکین عرب سب متصرف سمجھ کر پکارتے تھے۔ اس لیے اب ان کی الوہیت کی نفی کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–45
ربط آیات :
دوسرے رکوع کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم (علیہ السلام) کا ذکر بھی اسی طرح کیا تھا (آیت) ” واذکر فی الکتب مریم “۔ وہاں پر اللہ تعالیٰ نے ان پر کی گئی اپنی خاص مہربانی کا تذکرہ فرمایا ، یہ واقعہ بطور تمہید تھا ، پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت کا ذکر کرکے مسئلہ توحید سمجھایا اور شرک کا رد کیا درمیان میں فرمایا (آیت) ” ماکان للہ ان یتخذ من والد سبحنہ “۔ (آیت 35) اللہ تعالیٰ کی ذات اپنے لیے بیٹا بنانے سے پاک ہے مسیح (علیہ السلام) نے بھی قوم کو یہی تعلیم دی (آیت) ” وان اللہ ربی وربکم فاعبدہ “۔ (آیت ۔ 36) میرا اور تمہارا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے اسی کی عبادت…
Read the full tafseer →وَاذْكُرْ فِي الْكِتٰبِ اِبْرٰہِيْمَ 0ۥۭ اِنَّہٗ كَانَ صِدِّيْقًا نَّبِيًّا 41
كتب
والْكِتَابُ في الأصل اسم للصّحيفة مع المکتوب فيه، وفي قوله : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153] فإنّه يعني صحیفة فيها كِتَابَةٌ ،
( ک ت ب ) الکتب ۔
الکتاب اصل میں مصدر ہے اور پھر مکتوب فیہ ( یعنی جس چیز میں لکھا گیا ہو ) کو کتاب کہاجانے لگا ہے دراصل الکتاب اس صحیفہ کو کہتے ہیں جس میں کچھ لکھا ہوا ہو ۔ چناچہ آیت : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153]( اے محمد) اہل کتاب تم سے درخواست کرتے ہیں ۔ کہ تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–43
تفسیر … ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ : یہ تیسرا تذکرہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ہے۔ یہ ان کی اس وقت کی ثابت قدمی اور خدا پرستی مذکور ہے کہ جب ابتدائِ شباب میں انہوں نے بت پرستی کو حقیر جان کر اپنے باپ کو اس سے منع کیا اور آخر کار محض اللہ کے لیے اپنے باپ کو چھوڑا کہ جس کی محبت نے ابراہیم کو اس لیے خدا سے معافی مانگنے پر آمادہ کیا اور اس کے لیے ابراہیم (علیہ السلام) نے وعدہ بھی کرلیا پھر مہاجرت کے بعد خدا تعالیٰ نے اس کو اسحاق اور اسحاق کو یعقوب برگزیدہ پیغمبر فرزند عطا کیا۔ یہ نتیجہ ہے خدا کی فرمانبرداری کا۔
یعقوب (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پوتے ہیں لیکن ایسا اولوالعزم…
Read the full tafseer →وَاذْکُرْ فِی الْکِتٰبِ اِبْرٰھِیْمَ 5 ط اِنَّـہٗ کَانَ صِدِّیْـقًا نَّبِیًّا۔ (مریم : 41)
(اور کتاب میں حضرت ابراہیم کی سرگزشت کو ذکر کیجیے، بیشک وہ راست باز اور نبی تھے۔ )
روئے سخن قریش مکہ کی طرف ہے
گزشتہ دو رکوعوں میں خطاب اگرچہ مشرکینِ مکہ سے تھا لیکن درحقیقت روئے سخن نصاریٰ کی طرف تھا کیونکہ جس طرح یہود نبی کریم ﷺ کی مخالفت میں قریش مکہ کی مدد کررہے ہیں اور مختلف سوالات کی صورت میں نبی کریم ﷺ کو زچ کرنے کی کوشش کررہے تھے اسی طرح نصاریٰ بھی ان کاوشوں میں شریک ہوچکے تھے۔ انھیں بھی جب موقع ملتا وہ قریش مکہ کی پیٹ ٹھونکتے اور آنحضرت ﷺ کی مخالفت کے مختلف طریقے انھیں سمجھاتے۔ حضرت عیسیٰ اور…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : تین شخصیات میں قدر مشترک یہ ہے کہ زکریا (علیہ السلام) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اولاد پیدا کرنے کی عمر سے گزر چکے تھے۔ حضرت مریم [ کا معاملہ سب کے سامنے ہے کہ وہ کنواری تھیں انہیں بیٹا پیدا ہونے کا تصور بھی نہیں آسکتا تھا۔ اس لیے حضرت زکریا (علیہ السلام) اور مریم [ کے تذکرہ کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر کیا جاتا ہے۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی شخصیت، ان کی بےمثال قربانیاں اور عظیم جدوجہد کا تذکرہ کرنے سے پہلے انھیں صدیق کے لقب سے نوازا گیا ہے۔ نبی تمام کے تمام صدیق ہوتے ہیں مگر ابراہیم (علیہ السلام) کی صداقت سب سے اونچے مقام پر ہے۔ کیونکہ ہر نبی کسی ایک…
Read the full tafseer →ابراہیم ( علیہ السلام) کی والد کے ساتھ گفتگو :
41: وَاذْکُرْ ( اور تم تذکرہ کرو اپنی قوم کو) فِی الْکِتٰبِ (قرآن مجید میں) اِبْرٰھِیْمَ (یعنی ابراہیم کا واقعہ جو ان کے والد کے ساتھ پیش آیا۔ اِنَّہٗ کَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّا (بےشک وہ صدیق نبی تھے) ۔
قراءت : نَبِیًّا بغیر ہمزہ کے البتہ نافع نے اس کو ہمزہ کے ساتھ پڑھا ہے۔
ایک قول یہ ہے کہ صادق اس کو کہتے ہیں جو افعال میں مستقیم ہو اور صدیق وہ ہے جو احوال میں مستقیم ہو۔ پس صدیق یہ مبالغہ کا وزن ہے اس کی مثال الضَّحِیْک ہے۔ مراد اس سے بہت زیادہ اس کا سچا ہونا اور کثرت سے اللہ تعالیٰ کی غیبی صفات اور آیات اور کتابیں اور رسول جن کا بیان اللہ نے کیا…
Read the full tafseer →41۔ واذکر فی الکتاب ابراہیم انہ کان صدیقیانبیا، صدیق کہاجاتا ہے جو بہت سچ بولنے والا ہوں اور اس پر قائم ہو۔ بعضنے کہا صدیق اس کو کہاجاتا ہے جو اللہ کی واحدانیت اور انبیاء اور رسولوں کی تصدیق کرتا ہو اور قیامت پر بھی ایمان رکھتا ہو اور جن امو رکو اللہ نے کرنے کا حکم دیا ہے اس کو بجالائے وہ صدیق ہے نبی وہ ہوتا ہے جس کو براہ راست اللہ کی طرف سے خبر دی جاتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–50
41۔ 50:۔ تفسیر سدی اور سیرۃ ابن اسحاق میں حضرت ابرہیم (علیہ السلام) کی پیدائش کا قصہ جو لکھا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کی پیدائش سے پہلے نمرود نے خواب میں دیکھا تھا کہ ایک بڑا روشن ستارہ آسمان پر نکلا ہے اس وقت کے نجومیوں سے اس نے اپنا یہ خواب بیان کیا انہوں نے جواب دیا کہ اس سال ایک لڑکا ایسا پیدا ہوگا کہ اسکے سبب سے تیری سلطنت غارت ہوجائے گی اس خواب کی تعبیر کے خوف سے بستی کے سب مردوں کو اپنے ساتھ لے کر نمرود بستی کے باہر چلا گیا اور سب عورتوں کو بستی کے اند چھوڑ دیا تاکہ اس سال مرد و عورت میں مباشرت اور کوئی اولاد پیدا نہ ہو، مگر جب آزر بستی میں آئے تو ان سے نہ رہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–52
آیت 41
تمام کتابوں میں سب سے زیادہ جلیل القدر، سب سے افضل اور سب سے زیادہ بلند مرتبے والی کتاب، یہ کتاب مبین اور ذکر حکیم یعنی قرآن مجید ہے۔ اگر اس میں خبریں بیان کی گئی ہیں تو یہ خبریں سب سے زیادہ سچی، سب سے زیادہ حق اور سب سے زیادہ نفع مند ہیں۔ اگر اس میں اوامر ونواہی کا تذکرہ ہے تو یہ اوامرونواہی سب سے زیادہ قدر و قیمت کے حامل اور سب سے زیادہ عدل و انصاف پر مبنی ہیں۔ اگر اس میں سزا و جزا اور وعدے و عید کا ذکر کیا گیا ہے تو وہ سب سے زیادہ سچی خبر اور سب سے زیادہ حق ہے اور اللہ تعالیٰ کی حکمت اور اس کے عدل و فضل پر سب سے زیادہ دلالت کرتی ہے اور اگر اس میں انبیاء ومرسلین کا ذکر ہے تو اس میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–45
اپنی ذات کی تعریف بغیر فخر کے جائز ہے
قول باری ہے (وبرا بوالدتی ولم یجعلنی جبارًا شقیاً والسلام علی یوم ولدت ویوم اموت ویوم ابعث حیا۔ اور مجھے اپنی والدہ کا حق ادا کرنے والا بنایا، مجھ کو جبار اور شقی نہیں بنایا، سلام ہے مجھ پر جبکہ میں پیدا ہوا اور جبکہ میں مرون اور جب کہ زندہ کر کے اٹھایا جائوں) اس میں یہ دلالت موجود ہے کہ انسان اپنی ذات کو تعریف اور نیکی کی صفات سے متصف کرسکتا ہے بشرطیکہ اس کی نیت یہ ہو کہ دوسرے اشخاص بھی اس نیکی اور بھلائی سے روشناس ہو کر اس پر عمل پیرا ہو سکیں، اس کے ذریعے وہ ڈینگ مارنے اور اپنی خوبیوں کے فخر یہ اظہار کی نیت نہ رکھتا ہو۔ اس کی مثال حضرت یوسف (علیہ…
Read the full tafseer →53 اسوہ ابراہیمی کی تذکیر و یاددہانی : " بیشک ابراہیم بڑے راست باز اور عظیم الشان پیغمبر تھے "۔ جنہوں نے راہ ِحق میں بےمثال قربانیاں دیں اور مصائب برداشت کئے۔ حق کی خاطر اپنے باپ، اپنی قوم اور اپنے ملک سب کو چھوڑا۔ حق کی خاطر وقت کے جابر حاکم سے ٹکر لی اور کسی کی کوئی پرواہ نہ کی۔ جن کے تعمیر کردہ بیت اللہ کا ہزاروں سال گزر جانے کے باوجود آج تک برابر اور مسلسل و لگاتار طواف کیا جا رہا ہے۔ جو اپنے بعد آنے والے تمام انبیائے کرام کے جدِّا مجد قرار پائے اور جن کی عظمت شان کا یہ عالم ہے کہ یہود و نصاریٰ اور مشرکین عرب سب ہی ان کو اپنا مقتداء و پیشوا مانتے ہیں۔ اور مسلمان تو ہیں ہی ملت ابراہیمی کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–50
سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی ہجرت اور اللہ کا ان پر فضل و کرم
تشریح : یہاں سے پھر اہل مکہ کو خطاب کیا جا رہا ہے۔ اور ان مسلمانوں کو جو کفار مکہ کی دشمنی کی وجہ سے مکہ کو چھوڑ کر حبشہ کی طرف ہجرت کر رہے تھے۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر اس لیے کیا جا رہا ہے کیونکہ وہ اپنے کردار اور صفات کی وجہ سے یہودی، عیسائی، کفار مکہ اور مسلمانوں میں یکساں طور پر مکرم و محترم سمجھے جاتے ہیں سب ہی مذاہب میں ان کی بےحد بلند جگہ سمجھی جاتی ہے۔
کفار مکہ کو یاد کروایا گیا کہ تم کو جب بتوں کی پوجا سے منع کیا جاتا ہے تو تم لوگ کہتے ہو ” ہمارے آباو اجداد یہی کرتے آئے ہیں اور ساتھ ہی تم لوگ ملت ابراہیمی کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–41
(رکوع نمبر 2)
اسرارومعارف
اور اے حبیب ﷺ اس سے عجیب تر اور فکر انگیز واقعہ ایسی کتاب اللہ میں سنا دیجئے جو حضرت مریم (علیہا السلام) کا ہے اور جس کے متعلق یہود اور نصاری نے اپنے اپنے نظریات گھڑ رکھے ہیں کہ اس کی حقیقی اور واقعی صورت کیا ہے یہ بات تب شروع ہوتی ہے جب حضرت مریم (علیہا السلام) اپنے گھر والوں سے الگ ہو کر غسل وغیرہ کرنے کے لیے پردہ میں چلی گئیں تو وہاں ان کے پاس حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو بھیجا جس نے انسانی شکل میں ظاہر ہو کر ان سے بات کرنا چاہی ، یاد رہے حضرت مریم (علیہا السلام) کا ذکر آل عمران میں گذر چکا ہے ۔
(اولیاء اللہ سے فرشتہ کا ہمکلام ہونا)
کہ ان کی والدہ نے منت مانی تھی…
Read the full tafseer →ف 5 اس سورة کا اصل موضوع توحید و نبوت اور حشر کے واقعات بیان کرنا ہے۔ تو حسد کے منکر دو قسم کے لوگ تھے ایک یہود و نصاری جنہوں نے حرت عیسیٰ اور عزیر کو اللہ کا بیٹا قرار دے لیا و راس طرح سڑک میں مبتلا ہوگئے۔ چناچہ پچھلے رکوع میں حضرت مریم اور مسیح کا قصہ بیان کر کے ان کے غلط عقائط کی تردید فرمائی۔ دوسرے مشرکین عرب جو بت پرستی میں مبتلا تھے اور بایں عقیدہ حضرت ابراہیم کے دین پر ہونے کے مدعی تھے۔ یہاں سے حضرت ابراہیم کا قصہ بیان کر کے ان کی تردید مقصود ہے تاکہ معلوم ہو کہ کس طرح حضرت ابراہیم نے اپنے باپ اور قوم کو بت پرستی سے نکالنے کی کوشش کی اور بالآخر وطن اور رشتہ داروں کو چھوڑ کر خدا کی راہ…
Read the full tafseer →(19:41) واذکر۔ فعل امر۔ واحد مذکر حاضر۔ اور تو ذکر کر (اپنی قوم سے) یعنی اہل مکہ سے ۔ فی الکتب۔ ای فی القران۔
ابراہیم ای قصۃ ابراہیم مع ابیہ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ ان کے باپ کے ساتھ۔ صدیقا۔ بہت سچا ۔ جو کبھی جھوٹ نہ بولے۔ صدق سے بروزن فعیل مبالغہ کا صیغہ ہے۔ منصوب بوجہ خبر کان۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–50
لغات القرآن آیت نمبر 41 تا 50
یابت اے میرے ابا جان۔ سوی سیدھا، برابر۔ عصی نافرمان۔ ان یمسک یہ کہ تجھے پہنچے۔ یہ کہ تجھے پکڑے۔ اراغب کیا تو منہ پھیرتا ہے۔ (کیا تو رغبت رکھتا ہے۔ ) لم تنتہ تو باز نہ آیا۔ ارجمن میں ضرور پتھر ماروں گا۔ اھجرنی مجھے تنہا چھوڑ دے۔ ملی ایک وقت، مدت۔ استغفر میں دعائے مغفرت کروں گا۔ حفی مہربان۔ اعتزل میں الگ ہوتا ہوں۔ میں چھوڑتا ہوں۔ ادعوا میں پکاروں گا۔ شقی محروم۔ وھبنا ہم نے عطا کیا۔ لسان صدق سچی زبان، ذکر جمیل، علی نہایت بلند۔ اللہ تعالیٰ کی صفت
تشریح : آیت نمبر 41 تا 50
سورة مریم میں حضرت عیسیٰ حضرت زکریا اور حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–48
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا بیان
یہ تیسرا تذکرہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ کتاب میں ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر ہے بیشک وہ سچے نبی تھے۔ یہاں اس وقت کی ثابت قدمی اور خدا پرستی مذکور ہے۔ جب ابتدائے شباب میں انہوں نے بت پرستی کو حقیر جانا، اور اپنے باپ سے کہا تھا :" اے باپ ! تو ایسی چیزوں کی عبادت کیوں کرتا ہے جن کو نہ سننے کی طاقت اور نہ دیکھنے کی قدرت ہے، نہ یہ چیزیں تیرے کام آسکتی ہیں یعنی بتوں کی پرستش نہ کرو۔ ان سے کوئی کام نہیں بن سکتا ۔ اے باپ ! مجھے اللہ نے وہ علم دیا ہے کہ تجھے حاصل نہیں، تو میرے کہنے پر چل۔ میں تجھے سیدھا راستہ بتاؤں گا۔ اے میرے باپ ! شیطان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–43
[17] عیسائیوں میں کئی فرقے ہوگئے جن کے جھگڑوں سے کلیسا کی تاریخ بھری پڑی ہے۔
[18] یعنی روز قیامت۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–46
(ف 1) یہ تیسرا قصہ ہے ، مکہ کے منکرین حق بظاہر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی عقیدتمندی کا دم بھرتے اور احترام کرتے تھے ، اللہ نے فرمایا کہ کمبختو ! اگر تم واقعی طور پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے ارادت رکھتے ہو تو پھر یہ بت پرستی کیسی ؟ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے دوستی ، محبت کا دعوئے اور یہ شرک کا ارتکاب ، یہ دو چیزیں کیونکر جمع ہو سکتی ہیں ؟ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تو صدیق تھے یعنی توحید اسلامی کے برجوش علمبردار ، انہوں نے توحید کے پھیلانے میں کبھی تعلق کا پاس نہیں کیا انہوں نے اپنے باپ کو جب دیکھا کہ بت پرستی کے مرض میں مبتلا ہے تو برملا کہہ دیا ، ابا ! ان بتوں کی پرستش کیوں کرتے…
Read the full tafseer →-4 1 اور اے پیغمبر اس قرآن کریم میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا بھی ذکر کیجیے بلاشبہ وہ بڑا سچا اور نبی تھا۔ یعنی توحید و رسالت کے سلسلہ میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا بھی واقعہ بیان کیجیے چونکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ذات گرامی تمام قوموں میں مسلم تھی۔ کفار مکہ تو آپ کی اولاد ہی میں تھے اہل کتاب بھی آپ کی عظمت اور بزرگی کے قائل تھے اس لئے توحید اور رسالت کے بارے میں ان کے واقعہ کو بڑا دخل ہے اور چونکہ صدیقیت کو نبوت مستلزم نہیں جیسے حضرت مریم کو فرمایا وامہ صدیقہ لیکن سب جانتے ہیں کہ حضرت مریم نبیہ نہیں تھیں اس لئے یہ ضروری نہیں کہ جو صدیق ہو وہ نبی بھی ہو۔ حضرت ابراہیم (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–42
ف 1۔ مراد بت ہیں حالانکہ اگر کوئی دیکھتا سنتا کچھ کام آتا بھی ہو مگر واجب الوجود نہ ہو تب بھی لائق عبادت نہیں۔ چہ جائیکہ ان اوصاف سے بھی عاری ہو وہ تو بدرجہ اولی لائق عبادت نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →(سابقہ آیت کی بقیہ تفسیر)
قصہ مختصر کہ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو جج وبرہان اور آیات اللہ کے ذریعے دین حق کی تعلیم دیتے رہتے ہیں اور ان کے بھولے ہوئے سبق کو یاد دلا کر ان کے مردہ قلوب میں حیات تازہ بخشتے رہتے تھے ، خدا اور خدا کی توحید پر ایمان وانبیاء ورسل (علیہم السلام) کی تصدیق آخر یعنی معاد پر ایمان ‘ ملائکہ ‘ اللہ پر ایمان ‘ قضاوقدر پر ایمان ‘ خدا کے رسولوں اور کتابوں پر ایمان اخلاق حسنہ کے اختیار ‘ اعمال سیئہ سے پرہیز واجتناب ‘ عبادات الہی سے رغبت ‘ دنیا میں انہماک سے نفرت اور خدا کے کنبہ یعنی مخلوق خدا سے محبت ومودت یہی وہ تعلیم وتلقین تھی جو انکی زندگی کا مشغلہ اور فرض…
Read the full tafseer →Commentary
Meaning of Siddiq
صِدِّيقًا نَّبِيًّا (Siddiq (a man of truth), a prophet - 19:41) The word صِدِّيقً (Siddiq) is a Qur'anic term which has been defined differently by different scholars. Some say it is applied to one who has never told a lie in his life. Others describe Siddiq (صِدِّيقً ) as one who is truthful in his beliefs, words and deeds. In other words his utterances truly reflect his beliefs, and his actions in turn match with his beliefs and words. Ruh ul-Ma` ani and Mazhari have adopted the latter meaning of the word. Then there are different degrees of صِدِّیقِیَت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–43
26. From here the address is directed towards the people of Makkah, who had forced their own near and dear relatives to emigrate from their homes, just as Prophet Abraham (peace be upon him) had been exiled by his own father and brethren. The story of Prophet Abraham (peace be upon him) has been selected for this purpose because the Quraish professed to accept him as their religious leader and were proud of being his descendants.
Read the full tafseer →