Explained with ayahs 38–40
قیامت کا دن دوزخیوں کے لئے یوم حسرت۔
ارشاد ہے کہ آج دنیا میں یہ کفار آنکھیں بند کئے ہوئے اور کانوں میں جیسے ٹھونسے ہوئے ہیں، لیکن قیامت کے دن ان کی آنکھیں خوب روشن ہوجائیں گی اور کان بھی خوب کھل جائیں گے۔ جیسے فرمان الہٰی ہے (وَلَوْ تَرٰٓي اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۭ رَبَّنَآ اَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ 12 ) 32۔ السجدة :12) کاش کہ تو دیکھتا جب یہ گنہگار لوگ اپنے رب کے سامنے شرمسار سرنگوں کھڑے ہوئے کہہ رہے ہوں گے کہ اے اللہ ہم نے دیکھا سنا۔ الخ پس اس دن نہ دیکھنا کام آئے نہ سننا نہ حسرت و افسوس کرنا نہ واویلا…
Read the full tafseer →سورة مَرْیَم 25
یہاں وہ تقریر ختم ہوتی ہے جو عیسائیوں کو سنانے کے لیئے نازل فرمائی گئی تھی۔ اس تقریر کی عظمت کا صحیح اندازہ اسی وقت ہوسکتا ہے جبکہ آدمی اس کو پڑھتے وقت وہ تاریخی پس منظر نگاہ میں رکھے جو ہم نے اس سورے کے درمیان میں کیا ہے۔ یہ تقریر اس موقع پر نازل ہوئی تھی جبکہ مکہ کے مظلوم مسلمان ایک عیسائی سلطنت میں پناہ لینے کے لیئے جار ہے تھے، اور اس غرض کے لیئے نازل کی گئی تھی کہ جب وہاں مسیح کے متعلق اسلامی عقائد کا سوال چھڑے تو یہ " سرکاری بیان " عیسائیوں کو سنا دیا جائے۔ اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت اس امر کا ہوسکتا ہے کہ اسلام نے مسلمانوں کو کسی حال میں بھی حق و صداقت کے معاملے میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
يَوْمَ الْحَسْرَةِ اس روز کو یوم الحسرت اس لئے کہا گیا ہے کہ اہل جہنم کو تو یہ حسرت ہونا ظاہر ہے کہ اگر وہ مومن صالح ہوتے تو ان کو جنت ملتی اب جہنم کے عذاب میں گرفتار ہیں۔ ایک خاص قسم کی حسرت اہل جنت کو بھی ہوگی جیسا کہ طبرانی اور ابو یعلی نے بروایت حضرت معاذ یہ حدیث روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اہل جنت کو کسی چیز پر حسرت نہ ہوگی بجز ان لمحات وقت کے جو بغیر ذکر اللہ کے گزر گئے۔ اور بغوی بروایت ابوہریرہ نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہر مرنے والے کو حسرت و ندامت سے سابقہ پڑے گا۔ صحابہ کرام نے سوال کیا کہ یہ ندامت و حسرت کس بناء پر ہوگی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ نیک اعمال کرنے…
Read the full tafseer →إِنَّا نَحْنُ نَرِثُ الأرْضَ وَمَنْ عَلَيْهَا وَإِلَيْنَا يُرْجَعُونَ۔ یعنی اس دن زمین اور اہل زمین سب کا مالک اور وارث اللہ ہی ہوگا اور سب کی پیشی اسی کے سامنے ہوگی۔ اس دن نہ کوئی کسی کی مدد کرسکے گا اور نہ اللہ کے اذن کے بغیر کوئی کسی کی سفارش کرسکے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
41۔ 1 صدیق صدق (سچائی سے مبالغے کا صیغہ ہے۔ بہت راست باز، یعنی جس کے قول وعمل میں مطابقت اور راست بازی اس کا شعار ہو۔ صدیقیت کا یہ مقام، نبوت کے بعد سب سے اعلٰی ہے ہر نبی اور رسول بھی اپنے وقت کا سب سے بڑا راست باز اور صداقت شعار ہوتا ہے، اس لئے وہ صدیق بھی ہوتا ہے۔ تاہم ہر صدیق، نبی نہیں ہوتا۔ قرآن کریم میں حضرت مریم کو صدیقہ کہا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ تقویٰ و طہارت اور راست بازی میں بہت اونچے مقام پر فائز تھیں تاہم نبیہ نہیں تھیں۔ امت محمدیہ میں بھی صدیقین ہیں۔ اور ان میں سر فہرست حضرت ابوبکر صدیق ؓ ہیں جو انبیاء کے بعد امت میں خیر البشر تسلیم کئے گئے ہیں۔ رَ ضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–41
19: اس پورے واقعے کو ذکر فرما کر یہ نتیجہ نکالا گیا ہے کہ عیسائیوں اور یہودیوں نے حضرت عیسیٰ ؑ کے بارے میں جو افراط وتفریط اختیار کر رکھی ہے وہ حقیقت نہیں ہے۔ نہ وہ الزامات درست ہیں جو یہودیوں نے ان پر لگا رکھے ہیں، اور نہ انہیں اللہ تعالیٰ کا بیٹا ماننا صحیح ہے جیسا کہ عیسائیوں نے مان رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو کسی بیٹے کی ضرورت نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
وانذر ھم یوم الحسرۃ (91 : 93) ” اور ان کو پچھتاوے کے دن سے ڈرائو “۔ اس قدر حسرتیں ہوں گی کہ قیامت کا دن ہی حسرتوں کا دن ہوگا۔ حسرت کے سوا وہاں کچھ نہ وہ گا۔ میدان میں ہر طرف حسرت ہی حسرت ہوگی لیکن اس دن حسرت کرنا مفید مطلب نہ ہوگا۔
اذ قضی الامر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لایئو منون (91 : 93) ” جب فیصلہ کردیا جائے اور یہ لوگ غفلت میں ہیں اور ایمان نہیں لارہے “۔ یہ لوگ ایمان نہیں لارہے لیکن قیامت کا دن ان کے کفر کے ساتھ ڑا ہوا ہے۔ جس غفلت میں یہ ڈوبے ہوئے ہیں اس کے ساتھ قیامت جڑی ہوئی ہے۔
ان کو اس دن سے ڈرائو جس میں شک نہیں ہے۔ کیونکہ زمین کے اوپر جو چیز اور جو انسان بھی ہیں وہ سب کے سب اللہ کی طرف لوٹنے والے…
Read the full tafseer →1 یعنی کسی کا ملک یا ملک باقی نہ رہے گی۔ ہر چیز براہ راست مالک حقیقی کی طرف لوٹ جائے گی۔ وہی بلاواسطہ حاکم و متصرف علی الاطلاق ہوگا۔ جس چیز میں جس طرح چاہے گا اپنی حکمت کے موافق تصرف کرے گا۔ دنیا کے جن سامانوں نے تم کو غفلت میں ڈال رکھا ہے سب کا ایک ہی وارث باقی رہ جائے گا۔ ملک و ملک کے لمبے چوڑے دعوے رکھنے والے سب فنا کے گھاٹ اتار دیے جائیں گے۔
Read the full tafseer →آیت 40 اِنَّا نَحْنُ نَرِثُ الْاَرْضَ وَمَنْ عَلَیْہَا
اس دن روئے زمین کی حکمرانی اور دنیوی مال و متاع کی ملکیت کے عارضی دعویدار سب کے سب ختم ہوجائیں گے اور اس سب کچھ کی وراثت ظاہری طور پر بھی ہمیں منتقل ہوجائے گی۔
Read the full tafseer →36 یعنی اس دن نہ کسی کا ملک باقی رہے گا نہ ملک باقی رہے گی۔ ہر چیز براہ راست مالک حقیقی کی طرف لوٹ جائے گی۔ وہی علی الاطلاق ہر چیز کا مالک و مختار ہوگا۔ اور وہی ہر چیز کا وارث ہوگا۔ ملک وملک کے لمبے چوڑے دعویٰ رکھنے والے وہاں خالی ہاتھ اللہ کے سامنے پیش ہوں گے۔
Read the full tafseer →60۔ ذات حق جس طرح سب کا مبدء ہے، سب کا مرجع بھی ہے، یعنی جب زمین کی ساری جاندار مخلوق فنا ہوجائے گی تو بس ہم ہی اس کے وارث یا مالک رہ جائیں گے۔ صدیق صیغہ مبالغہ ہے صدق کا، اصطلاح میں بعد نبی کے سب سے اونچا مرتبہ اسی کا ہے۔ اور لفظی معنی ہیں ” بہت بڑے سچے “۔ اے ملازم الصدق لم یکذب قط (روح) توریت میں دو مرتبہ کذب کو حضرت ابراہیم خلیل سے منسوب کیا ہے۔ (پیدائش 12: 13 اور 20: 2) لفظ صدیق لانے سے ممکن ہے اس کی بھی تردید مدنظر ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–40
آیت نمبر 26 تا 40
ترجمہ : پھر پکی اور تازہ کھجوریں کھاؤ اور چشمہ کا پانی پیو اور بیٹے سے آنکھیں ٹھنڈی کرو عینًا تمییز ہے فاعل سے منقول ہے یعنی تو اس بچہ کو دیکھ کر آنکھوں کو ٹھنڈا کر کے سکون حاصل کر دوسرے بچوں کی طرف التفات نہ کر فاِمَّا میں ان شرطیہ کے نون کو ما زائدہ میں مدغم کردیا گیا ہے تَرَیِنَّ اس کا لام کلمہ اور عین کلمہ حذف کردیا گیا ہے عین کلمہ کی حرکت نقل کر کے را کو دے دی گئی اور یائے ضمیر کو التقاء ساکنین کی وجہ سے کسرہ دے دیا گیا اگر تو کسی بشر کو دیکھے اور وہ تیرے بچہ کے متعلق سوال کرے تو کہہ دینا کہ میں نے اس بچہ وغیرہ کے بارے میں لوگوں سے کلام کرنے سے رحمٰن کے لئے سکوت کا روزہ…
Read the full tafseer →انا نحن نرث الارض ومن علیہا (لیکن آخر ایک دن سب مرجائیں گے) اور تمام زمین اور زمین کے رہنے والوں کے ہم ہی وارث (آخر مالک) رہ جائیں گے یعنی زمین اور زمین کے رہنے والے سب فنا ہوجائیں گے ‘ صرف اللہ باقی رہ جائے گا ‘ جس طرح مورث کے مرنے کے بعد وارث رہ جاتا ہے ‘ مطلب یہ ہے کہ کسی کی مالکیت باقی نہیں رہے گی صرف اللہ کا اقتدار باقی رہ جائے گا۔ مَنْ (جو لوگ) سے مراد عام ہے جو لوگ ہوں یا جو چیز تغلیباً من (جو اہل عقل کے لئے استعمال ہوتا ہے) ذکر کیا گیا ہے ورنہ مراد عام ہے۔
والینا یرجعون۔ اور ہماری ہی طرف ان کو لوٹا کر لایا جائے گا۔ یعنی قبروں سے اٹھائے جانے کے بعد
ہماری طرف سب کو لوٹا کر لایا جائے گا…
Read the full tafseer →(40) اور ہم تمام زمین اور اہل زمین کے مالک ہیں یعنی آخر ایک دن سب مریں گے اور سب کے ہم ہی وارث ہیں، ہم مارتے اور زندہ کرتے ہیں اور قیامت کے دن یہ سب ہمارے ہی پاس لوٹائے جائیں گے، پھر م ان کو ان کے اعمال کی جزا دیں گے یعنی نیکی کے بدلے نیکی اور برائی کے بدلے برائی پائیں گے۔
Read the full tafseer →اِنَّا نَحْنُ نَرِثُ الْاَرْضَ۔۔ : اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عظمت کا اظہار کرتے ہوئے اپنا ذکر تین دفعہ جمع متکلم کی ضمیر سے کیا ہے۔ دنیا کے بادشاہ بھی حکم دیتے وقت یا اپنی شان و شوکت کے اظہار کے وقت کہا کرتے ہیں کہ ”ہم حکم دیتے ہیں“ ”ہم یہ کریں گے“ وغیرہ، حالانکہ وہ اکیلے حکم دے رہے ہوتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ جس کی عظمت کی کوئی حد نہیں، اکیلا ہونے کے باوجود اپنی عظمت کے اظہار کے لیے کیوں نہ فرمائے گا کہ بیشک ہم، ہم ہی زمین کے وارث ہوں گے۔ اردو ترجمے میں ”ہی“ کا لفظ تیسرے ”ہم“ کی جگہ لگایا گیا ہے، جو لفظ ”نَرِثُ“ میں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ سب فنا ہوجائیں گے اور ہمارے سوا ان کا وارث (پیچھے رہنے…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : انا نحن نرث الارض ومن علیھا یعنی ہم زمین کے رہنے والوں کو موت دیں گے اور ہم اس کے وارث ہوں گے۔ والینا یرجعون۔ قیامت کے روز ہم ہر ایک کو اس کے عمل کی جزا دیں گے۔ یہ مفہوم سورة الحجر وغیرہ ہا میں گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
1:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” اسمع بہم وابصر “ کے بارے میں روایت کیا کہ کفار اس دن کہیں گے ہم نے ایک چیز کو سن لیا اور ہم نے اس کو دیکھ لیا حالانکہ وہ آج تک نہ سنتے ہیں اور نہ دیکھتے ہیں۔
2:۔ عبدالرزاق اور ابن منذر نے قتادہ ؓ سے (آیت) ” اسمع بہم وابصر “ کے بارے میں روایت کیا کہ اپنی قوم کوسناؤ اور اپنی قوم کو دکھاؤ (آیت) ” یوم یاتوننا “ (یعنی جس دن وہ ہمارے پاس آئیں گے) اور یہ واقعہ اللہ کی قسم قیامت کے دن ہوگا۔
3:۔ ابن ابی حاتم نے (آیت) ” اسمع بہم وابصر “ کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ کی قسم اس سے مراد قیامت کا دن ہے وہ سنیں گے جب ان کا سننا نفع نہ دے گا اور وہ…
Read the full tafseer →[انا : بیشک ] [نَحْنُ : ہم ہی [نَرِثُ : وارث ہوں گے ] [الْاَرْضَ : اس زمین کے ] [وَمَنْ : اور ان کے جو ] [عَلَيْهَا : اس پر ہیں ] [وَاِلَيْنَا : اور ہماری طرف ہی ] [يُرْجَعُوْنَ : لوٹائے جائیں گے ]
Read the full tafseer →پھر فرمایا (اِنَّا نَحْنُ نَرْثُ الْاَرْضَ وَمَنْ عَلَیْھَا وَاِلَیْنَا یُرْجَعُوْنَ ) بلاشبہ زمین اور زمین پر جو کچھ ہے ہم اس کے وارث ہوں گے یعنی اہل دنیا سب ختم ہوجائیں گے جو مجازی مالک ہیں ان میں سے کسی کی کوئی ملکیت باقی نہیں رہے گی۔ اللہ تعالیٰ جو مالک حقیقی ہے صرف اسی کی ملکیت حقیقیہ باقی رہ جائے گی دنیا والے مر کر اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹ کر جائیں گے جو کچھ دنیا میں کمایا تھا یہیں چھوڑیں گے اعمال لے کر حاضر ہوں گے اور انھیں پر فیصلے ہوں گے قال صاحب الروح ای یردون الی الجزاء لا الی غیرنا استقلالا او اشتراکا۔ (ص 95 ج 16)
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی وفات کا عقیدہ رکھنے والوں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–40
قول مبرم و فیصلہء محکم
دربارۂ حقیقت عیسیٰ بن مریم صلی اللہ تعالیٰ علیٰ نبینا وعلیہما وبارک و سلم
قال اللہ تعالیٰ ۔ ذٰلک عیسیٰ ابن مریم۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ والینا یرجعون۔
یہاں تک حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت کا قصہ تفصیل سے بیان فرمایا تاکہ اصل حقیقت واضح اور منکشف ہوجائے۔ اب آگے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں یہود اور نصاریٰ کے اختلاف کا فیصلہ فرماتے ہیں۔
چناچہ فرماتے ہیں، یہ ہیں عیسیٰ پسر مریم جو فقط عورت سے بغیر باپ کے پیدا ہوئے ہیں۔ یہ فقط مریم (علیہ السلام) کے بیٹے ہیں ان کا کوئی باپ نہیں۔ ان کی صحیح شان اور صفت وہ ہے جو اوپر بیان ہوئی عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) وہ نہیں جن کو عیسائی…
Read the full tafseer →30:۔ اس سے مراد یہ ہے کہ نفخہ اولیٰ کے وقت سارا نظام عالم اور پوری دنیا تباہ و برباد ہوجائے گی اور اللہ کے سوا کوئی باقی نہیں رہے گا۔ پھر نفخہ ثانیہ کے بعد تمام انسانوں کی خداوند تعالیٰ کی عدالت میں پیش ہوگی۔ مشرکین اللہ کے سوا جن کو پکارتے ہیں ان کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوگا اس لیے وہ ہرگز پکارے جانے کے لائق نہیں ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–40
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں حضرت مریم (علیہ السلام) کا ذکر ہوا اور پھر عیسیٰ (علیہ السلام) کی غیر معمولی طریقے سے ولادت کا بیان آیا ، اس ضمن میں حضرت مریم (علیہ السلام) کی پریشانی کا حال بیان ہوچکا ہے پھر ہو اپنے بچے کو اٹھائے اپنی قوم کے پاس آئیں تو انہوں نے سخت طعن ملامت کی کہ تیرے والدین تو بڑے صالح لوگ تھے ، تم یہ بغیر نکاح کے بچہ کیسے لے آئی حضرت مریم (علیہ السلام) نے خود جواب دینے کی بجائے بچے کی طرف اشارہ کی کہ سارا معاملہ خود اسی سے پوچھ لو ، اللہ نے بچے کو قوت گویائی عطا فرمائی تو بچہ نے بول کر کہا کہ میں اللہ کا بندہ ہوں ، مجھے اللہ نے کتاب دی ہے اور نبی بنا کر بھیجا ہے ، مجھے نماز…
Read the full tafseer →اِنَّا نَحْنُ نَرِثُ الْاَرْضَ وَمَنْ عَلَيْہَا وَاِلَيْنَا يُرْجَعُوْنَ 40ۧ
ورث
الوِرَاثَةُ والإِرْثُ : انتقال قنية إليك عن غيرک من غير عقد، ولا ما يجري مجری العقد، وسمّي بذلک المنتقل عن الميّت فيقال للقنيةِ المَوْرُوثَةِ : مِيرَاثٌ وإِرْثٌ. وتُرَاثٌ أصله وُرَاثٌ ، فقلبت الواو ألفا وتاء، قال تعالی: وَتَأْكُلُونَ التُّراثَ [ الفجر/ 19] وقال عليه الصلاة والسلام : «اثبتوا علی مشاعرکم فإنّكم علی إِرْثِ أبيكم» «2» أي :
أصله وبقيّته، قال الشاعر :
461-
فينظر في صحف کالرّيا ... ط فيهنّ إِرْثٌ کتاب محيّ
«3» ويقال : وَرِثْتُ مالًا عن زيد، ووَرِثْتُ زيداً :
قال تعالی: وَوَرِثَ سُلَيْمانُ داوُدَ […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
ترکیب : اسمع بہم وابصر معناً دونوں تعجب کے صیغہ لفظاً امر کے صیغہ ہیں بمعنی ما اسمعھم و ما ابصرھم بہم موضع رفع میں ہے کقولک احسن بزید ای احسن زید لفظوں میں امر اور معنی ً خبر ہے ای حسن زید، ویمکن ان یقال انہ امرلکل احد بان یحسن بزید والباء زائدۃ۔ یوم ظرف
والعامل فیہ اسمع وابصر۔ اذا قضٰی یا یوم الحسرۃ سے بدل یا حسرت کا ظرف۔
تفسیر : پہلے فرمایا تھا فاختلف الاحزاب کہ عیسیٰ ( علیہ السلام) کے بارے میں قومیں مختلف ہیں جیسا کہ آپ کو معلوم ہوا کہ یہود کچھ کہتے ہیں، نصاریٰ کچھ اور پھر باہم نصاریٰ کے فرقوں میں بھی بہت کچھ اختلاف ہے اور تھا جن کی نسبت فرماتا ہے فویل للذین کفروامن مشہد یوم عظیم کہ منکروں…
Read the full tafseer →اِنَّا نَحْنُ نَرِثُ الْاَرْضَ وَمَنْ عَلَیْھَا وَاِلَیْنَا یُرْجَعُوْنَ ۔ (مریم : 40)
(بیشک زمین اور روئے زمین پر بسنے والوں کے وارث ہم ہوں گے اور سب لوگ ہماری ہی طرف لوٹائے جائیں گے۔ )
نصیحت کے انداز میں ایک تنبیہ
انسان کو جو چیزیں حق اور صواب کی طرف آنے نہیں دیتیں ان میں سے ایک چیز عہدہ و منصب اور مال و دولت کا وہ پندار ہے جو انسان کے اندر مخصوص قسم کا کردار پیدا کردیتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ میری اپنی ذات اور تمام وہ چیزیں جو میری ملکیت میں شامل ہیں ان میں سے کوئی بھی باقی رہنے والی نہیں، لیکن اس کے باوجود وہ اپنے پندار سے نکلنے پر قادر نہیں ہوتا۔ اسے ہمیشہ اپنی طاقت اپنے اختیار اور اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
فہم القرآن
ربط کلام : حقیقت واضح ہونے کے باوجود عیسائی اور یہودی اختلاف کرتے ہیں۔ عیسائیوں، یہودیوں اور حق کا انکار کرنے والوں کا انجام۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم [ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ذات، کردار اور عقیدہ کے بارے میں علمی، عقلی اور تاریخی حقائق کے حوالے سے کھول کر بیان کیا ہے کہ مریم [ کے ماں باپ کون اور کس قدر صالح کردار لوگ تھے۔ حضرت مریم [ کی پیدائش، ان کی تربیت، ان کا عیسیٰ (علیہ السلام) کو جنم دینا، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا اپنی والدہ کی صفائی پیش کرنا اور اپنی ذات کے بارے میں وضاحت کرنے کے ساتھ، اپنا عقیدہ بتلا تے ہوئے لوگوں کو ایک رب کی عبادت کی دعوت دینا،…
Read the full tafseer →40: اِنَّا نَحْنُ نَرِثُ الْاَرْضَ وَمَنْ عَلَیْھَا (بیشک ہم ہی زمین اور جو کچھ اس پر ہے اس کے وارث ہونگے) ملک وبقاء میں ہم منفرد ہونگے جبکہ ہر چیز پر ہلاکت و فناء عام ہوگی۔ مَنْؔ کو عقلاء کی تغلیب کیلئے ذکر کیا وَاِلَیْنَا یُرْجَعُوْنَ (اور ہماری طرف ان کو لوٹایا جائے گا)
قراءت : یُرجعون یاء کے ضمہ اور جیم کے فتحہ کے ساتھ البتہ یاء کے فتحہ سے یعقوب نے پڑھا ہے۔ یعنی وہ لوٹیں گے اور پورا پور ان کو بدلہ دیا جائے گا۔
Read the full tafseer →تفسیر۔
40۔ انانحن نرث الارض ومن علیھا، جب زمین میں رہنے والے سب کو موت دی جائے گی اور سب کو ہلاک کردیاجائے گا، اللہ رب العزت اکیلے رہ جائیں گے جس طرح مورث کے مرنے کے بعد وارث رہ جاتا ہے ۔ والینا یرجعون ، ان کو ان کے اعمال کا بدلہ دیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
39۔ 40:۔ اوپر عیسائیوں کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں مشرکین مکہ کا ذکر فرمایا جس سے یہ بات جتلائی گئی ہے کہ جس طرح عیسائی لوگ اپنے آپ کو عیسیٰ (علیہ السلام) کا پیرو کہتے ہیں اور حقیقت میں عیسیٰ (علیہ السلام) کے طریقہ کے بالکل برخلاف ہیں یہی حال ان مشرکین مکہ کا ہے کہ یہ لوگ اپنے آپ کو ملت ابراہیمی کا پابند کہتے ہیں اور حقیقت میں ابراہیم (علیہ السلام) کے طریقہ کے بالکل برخلاف ہیں کیونکہ ابراہیم (علیہ السلام) تو بت پرستی سے ایسے بیزار تھے کہ اسی پر ان کا اور ان کے باپ کا جھگڑا ہوا جس کا ذکر آگے آتا ہے اور ان لوگوں کا یہ حال ہے کہ رات دن بت پرستی میں لگے ہوئے ہیں قیامت کے دن اس بت پرستی کی جو سزا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
آیت 39
کسی خوفناک معاملے میں، ترہیب کے پہلو سے اس کی صفات بیان کر کے آگاہ کرنا ” انذار “ ہے۔ اور وہ معاملہ جس کے بارے میں بندوں کو سب سے زیادہ ڈرایا جانا چاہیے وہ ” حسرت کا دن “ ہے جب فیصلہ کیا جائے گا۔ پس اولین و آخرین ایک ہی جگہ اکٹھے کئے جائیں گے اور ان کے اعمال کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ پس جو کوئی اللہ پر ایمان لایا اور اس کے رسولوں کی اتباع کرتا رہا تو وہ ابدی سعادت سے بہرہ مند ہوگا اس کے بعد کبھی اسے بدبختی کا اسمنا نہیں کرنا پڑے گا اور جو کوئی اللہ تعالیٰ پر ایمان نہ لایا اور اس کے رسولوں کی پیروی نہ کی تو وہ بدبختی میں پڑے گا اور اس کے بعد نیک بختی اس کے حصے میں نہیں آئے گی اور اس نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–45
اپنی ذات کی تعریف بغیر فخر کے جائز ہے
قول باری ہے (وبرا بوالدتی ولم یجعلنی جبارًا شقیاً والسلام علی یوم ولدت ویوم اموت ویوم ابعث حیا۔ اور مجھے اپنی والدہ کا حق ادا کرنے والا بنایا، مجھ کو جبار اور شقی نہیں بنایا، سلام ہے مجھ پر جبکہ میں پیدا ہوا اور جبکہ میں مرون اور جب کہ زندہ کر کے اٹھایا جائوں) اس میں یہ دلالت موجود ہے کہ انسان اپنی ذات کو تعریف اور نیکی کی صفات سے متصف کرسکتا ہے بشرطیکہ اس کی نیت یہ ہو کہ دوسرے اشخاص بھی اس نیکی اور بھلائی سے روشناس ہو کر اس پر عمل پیرا ہو سکیں، اس کے ذریعے وہ ڈینگ مارنے اور اپنی خوبیوں کے فخر یہ اظہار کی نیت نہ رکھتا ہو۔ اس کی مثال حضرت یوسف (علیہ…
Read the full tafseer →51 مالک اور وارث سب کا اللہ تعالیٰ ہی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا " اور بلاشبہ ہم ہی وارث ہوں گے زمین کے اور ان سب کے جو اس کے اوپر ہیں "۔ کہ یہ سب لوگ مر مٹ کر ختم ہوجائیں گے۔ اور یہ زمین اور اس کی طرح طرح کی وہ نعمتیں جو اس کے اوپر پائی جاتی ہیں۔ اور جن کے آج یہ مالک بنے ہوئے ہیں وہ سب کچھ یونہی رہ جائے گا۔ اور ان سب نے اس سب ساز و سامان دنیا کو چھوڑ چھاڑ کر ہماری ہی طرف لوٹنا اور ہمارے ہی پاس واپس آنا ہے۔ تب ہم ہر کسی کو اس کے زندگی بھر کے کیے کرائے کا پورا پورا بدلہ دیں گے۔ نیکی کا بدلہ نیک اور برائی کا برا۔ اور کسی سے کوئی ظلم نہیں ہوگا۔ (المراغی وغیرہ) ۔ سو زمین اور اہل زمین سب کا مالک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–40
اللہ کی شان ِبے نیازی اور قیامت کے برحق ہونے کی دلیل
تشریح : یہ آیات ایک تو اللہ کی وحدانیت کو ثابت کرتی ہیں کہ وہ تو کسی کی بھی مدد سے بےنیاز ہے۔ اور جو لوگ پیغمبر کی تعلیمات سے ہٹ کر کفر و شرک کرتے ہیں تو ان کو ہوشیار ہوجانا چاہیے کہ ان کا انجام موت پر ہونے والا ہے جیسا کہ صبح سے شام تک یہ عمل ہو رہا ہے۔ کوئی مر رہا ہے کوئی پیدا ہو رہا ہے، یعنی کوئی آرہا ہے اور کوئی جا رہا ہے۔ جو جا رہا ہے اس کو سوچنا چاہیے کہ مرنے کا مطلب ہے دوبارہ زندہ ہو کر اس زندگی کے تنائج کے مطابق انعام حاصل کرنا یا پھر سزا پانا۔ ہر ایک کو اس امتحان اور نتیجہ پر نظر رکھ کر عمل کرنے چاہییں۔ یہ لفظ ” ہوجا “ اور فرمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–41
(رکوع نمبر 2)
اسرارومعارف
اور اے حبیب ﷺ اس سے عجیب تر اور فکر انگیز واقعہ ایسی کتاب اللہ میں سنا دیجئے جو حضرت مریم (علیہا السلام) کا ہے اور جس کے متعلق یہود اور نصاری نے اپنے اپنے نظریات گھڑ رکھے ہیں کہ اس کی حقیقی اور واقعی صورت کیا ہے یہ بات تب شروع ہوتی ہے جب حضرت مریم (علیہا السلام) اپنے گھر والوں سے الگ ہو کر غسل وغیرہ کرنے کے لیے پردہ میں چلی گئیں تو وہاں ان کے پاس حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو بھیجا جس نے انسانی شکل میں ظاہر ہو کر ان سے بات کرنا چاہی ، یاد رہے حضرت مریم (علیہا السلام) کا ذکر آل عمران میں گذر چکا ہے ۔
(اولیاء اللہ سے فرشتہ کا ہمکلام ہونا)
کہ ان کی والدہ نے منت مانی تھی…
Read the full tafseer →ف 4 یعنی سب مرجائیں گے اور ہمارے سو ان کا کوئی وارث پیچھے رہنے والا نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
(19:39) یوم الحسرۃ۔ ای یوم القیامۃ۔ الحسرۃ مصدر ہے جس کے معنی ہیں غم۔ یا جو چیز ہاتھ سے نکل جائے اس پر پشیمان اور نادم ہونا۔ الحسر۔ (نصر۔ ضرب) کے معنی کسی چیز کو ننگا کرنے اور اس سے پردہ اٹھانے کے ہیں۔ جیسے حسرت عن الذراع میں نے آستین چڑھائی۔ اسی سے حسیر بمعنی حاسرتھ کی ہوئی۔ درماندہ۔ اس تصور کے پیش نظر کہ اس نے اپنے قوی کو ننگا کردیا۔ جیسے قرآن مجید میں ہے ینقلب الیک البصر وھو حسیر۔ (67:4) نظر (ہر بار) تیری طرف نکام اور تھک کر لوٹ آئے گی۔
انذرہم۔ فعل امر واحد مذکر حاضر۔ ہم۔ ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ تو ان کو ڈرا ۔ اذ قضی الامر۔ جب ہر بات کا اخیر فیصلہ کردیا جائے گا۔ یعنی جب جنت اور دوزخ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
لغات القرآن آیت نمبر 37 تا 40
الاحزاب (حزب) جماعتیں، گروہ۔ ویل خرابی، بربادی۔ مشھد حاضر ہونے کی جگہ۔ اسمع بھم کیا کچھ سنیں گے۔ ابصربھم کیا کچھ دیکھیں گے۔ یوم الحسرۃ حسرت و افسوس کا دن۔ نرث ہم مالک ہوں گے۔ ہم وارث ہوں گے۔
تشریح : آیت نمبر 37 تا 40
نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے نبی اور رسول ہیں۔ ان کے متعلق نصاریٰ کا یہ گمان کہ وہ اللہ کے بیٹے ہیں عقیدہ کی زبردست غلطی ہے جس کا انجام قیامت کے دن نظر آئے گا جس پر وہ پچھتائیں گے۔ لیکن اس دن سوائے حسرت اور افسوس کے ان کے ہاتھ کچھ نہ آئے گا۔ فرمایا کہ عقیدے کی اس گندی میں مبتلا میں نصاریٰ اور یہود و جو حضرت…
Read the full tafseer →اس آیت میں فرمایا کہ دنیا میں جو مال اور زمین اور باغات بڑی محنت سے حاصل ہوتے ہیں، ان سب کا آخری مالک اللہ ہی ہے، اور سب کو ایک روز خدا کے سامنے حاضر ہونا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–43
[17] عیسائیوں میں کئی فرقے ہوگئے جن کے جھگڑوں سے کلیسا کی تاریخ بھری پڑی ہے۔
[18] یعنی روز قیامت۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–40
(ف 2) حضرت مسیح (علیہ السلام) کی پیدائش ایک طرف یہودیوں کے لئے ٹھوکر کا باعث ہوئی اور دوسری جانب مسیحی حضرات اس کی وجہ سے گمراہی کے عمیق غار میں جا گرے ۔
عیسائی مذہب کے مبلغین نے یہ سمجھا کہ مسیح (علیہ السلام) کی یہ حیرت انگیز ولادت کی خدائی پر دال ہے ، ورنہ ایک انسان کیونکر قوانین قدرت کو توڑ سکتا ہے ، اللہ تعالیٰ نے بتایا ، یہ بات غلط ہے مسیح (علیہ السلام) کا تولد ہونا اس کی الوہیت پر دلالت نہیں کرتا ، بلکہ میری جلالت قدرت کا ایک ثبوت ہے میں جب چاہتا ہوں محض ارادہ سے بڑی سے بڑی کائنات کو پیدا کرلیتا ہوں میرے لئے کسی سہارے اور شریک کی مطلقا ضرورت نہیں ، قول الحق سے غرض یہ ہے کہ قرآن نے مسیح…
Read the full tafseer →-40 اور بلاشبہ تمام زمین اور زمین کے اوپر رہنے والوں کے ہم ہی وارث اور مالک ہیں اور سب ہماری طرف لوٹائے جائیں گے۔ یعنی آج ایمان نہیں لاتے لیکن ایک دن یہ سب مریں گے اور وہی باقی رہ جائے گا اس لئے تمام زمین کا وارث اور مالک وہی ہے اور سب کا مرجع اور بازگشت اسی کی طرف ہے نہ کسی کا ملک رہے گا نہ کسی کی ملک باقی رہے گی۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں جب تک حشر کا دن ہے دوزخ سے مسلمان نکل نکل کر بہشت میں جاویں گے تب تک کافر بھی توقع میں ہوں گے پھر موت کو مینڈھے کی صورت لا کر دوزخ بہشت کے بیچ سب کو دکھا کر ذبح کریں گے اور پکاریں گے کہ بہشتی بہشت میں اور دوزخی دوزخ میں رہ پڑے ہمیشہ کو وہ دن ہے کہ کافر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–42
ف 1۔ مراد بت ہیں حالانکہ اگر کوئی دیکھتا سنتا کچھ کام آتا بھی ہو مگر واجب الوجود نہ ہو تب بھی لائق عبادت نہیں۔ چہ جائیکہ ان اوصاف سے بھی عاری ہو وہ تو بدرجہ اولی لائق عبادت نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →وہ دن ایسا ہے کہ اس دن اللہ کے سوا کوئی وارث نہیں ہوگا :
40۔ وارث تو آج بھی ہرچیز کا اللہ ہی ہے لیکن اس نے یہ جو عارضی طور پر ملکیت دی ہے جتنا حصہ جس کے حصہ میں ہے وہ اس بات کو سمجھنے کے لئے تیار ہے کہ یہ اصل ملکیت میری نہیں بلکہ میری حیثیت تو صرف ایک منتظم کی ہے اور جس کا مالک حقیقی نے اس کا نتظام میرے ہاتھ میں دیا ہے آنے والے کل کو میں نے اس کو امتحان بھی پیش کرنا ہے کہ میں نے اس کا کیا انتظام کیا اور کس طریقہ سے اس کا چلایا ؟ کیا مالک حقیقی کی مرضی کے مطابق یا اپنی خواہش کے مطابق اور اپنے اختیارات سے تجاوز کرکے ؟ غور کیجئے کہ آج ہم میں سے کون ہے جس کے ذہن و دماغ میں کبھی یہ بات بھی آئی ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
يَوْمَ الْحَسْرَةِ (the Day of Remorse) in verse 39 refers to the Day of Judgment and has been called the Day of Remorse because on that day persons consigned to Hell as punishment for their evil deeds will regret their disregard of the righteous way of life, and wish that if they had lived the life of true believers, they too would have been in Paradise instead of being punished in Hell. Even those who have been rewarded with Paradise will feel a different kind of remorse. Al-Tabarani and Abu Ya` la have quoted the following saying of the Prophet ﷺ on the authority of Sayyidna Mu'adh ؓ…
Read the full tafseer →25. Here the address which was meant to be delivered before King Negus and his courtiers comes to an end. In the introduction to this Surah, we have already stated the historical background of this address. In order to form an idea of its great significance, it should be kept in mind that:
(a) This address was sent down at the time when the persecuted Muslims of Makkah were going to migrate to a Christian kingdom so that they may present before the Christians the true Islamic creed about Prophet Jesus (peace be upon him). This shows that the Muslims under no circumstances should conceal the…
Read the full tafseer →