Explained with ayahs 38–40
قیامت کا دن دوزخیوں کے لئے یوم حسرت۔
ارشاد ہے کہ آج دنیا میں یہ کفار آنکھیں بند کئے ہوئے اور کانوں میں جیسے ٹھونسے ہوئے ہیں، لیکن قیامت کے دن ان کی آنکھیں خوب روشن ہوجائیں گی اور کان بھی خوب کھل جائیں گے۔ جیسے فرمان الہٰی ہے (وَلَوْ تَرٰٓي اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۭ رَبَّنَآ اَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ 12 ) 32۔ السجدة :12) کاش کہ تو دیکھتا جب یہ گنہگار لوگ اپنے رب کے سامنے شرمسار سرنگوں کھڑے ہوئے کہہ رہے ہوں گے کہ اے اللہ ہم نے دیکھا سنا۔ الخ پس اس دن نہ دیکھنا کام آئے نہ سننا نہ حسرت و افسوس کرنا نہ واویلا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–39
سورة مَرْیَم 24
یعنی عیسائیوں کے گروہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
يَوْمَ الْحَسْرَةِ اس روز کو یوم الحسرت اس لئے کہا گیا ہے کہ اہل جہنم کو تو یہ حسرت ہونا ظاہر ہے کہ اگر وہ مومن صالح ہوتے تو ان کو جنت ملتی اب جہنم کے عذاب میں گرفتار ہیں۔ ایک خاص قسم کی حسرت اہل جنت کو بھی ہوگی جیسا کہ طبرانی اور ابو یعلی نے بروایت حضرت معاذ یہ حدیث روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اہل جنت کو کسی چیز پر حسرت نہ ہوگی بجز ان لمحات وقت کے جو بغیر ذکر اللہ کے گزر گئے۔ اور بغوی بروایت ابوہریرہ نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہر مرنے والے کو حسرت و ندامت سے سابقہ پڑے گا۔ صحابہ کرام نے سوال کیا کہ یہ ندامت و حسرت کس بناء پر ہوگی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ نیک اعمال کرنے…
Read the full tafseer →وَأَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الْحَسْرَةِ إِذْ قُضِيَ الأمْرُ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ وَهُمْ لا يُؤْمِنُونَ۔
یوم الحسرۃ سے مراد : یوم الحسرۃ سے مراد وہی شہادت عظیم کا دن ہے۔ اس دن آنکھیں تو سب کی کھل جائیں گی لیکن توبہ وہ اصلاح اور سعی و عمل کے تمام دروازے بند ہوجائیں گے۔ جو لوگ آج غفلت میں پڑے ہوئے ایمان نہیں لا رہے ہیں وہ حسرت سے کہیں گے کہ کاش ان کو دنیا میں پھرجانا نصیب ہوتا کہ وہ ایمان و عمل صالح کی زندگی گزارتے لیکن ان کی یہ حسرت بس حسرت ہی رہے گی۔ اس دن سارے معاملات کا فیصلہ ہوجائے گا اور ہر ایک اپنے اعمال کے نتائج سے دوچار ہوگا۔
Read the full tafseer →39۔ 1 روز قیامت کو یوم حسرت کہا، اس لئے کہ اس روز سب ہی حسرت کریں گے۔ بدکار حسرت کریں گے کہ کاش انہوں نے برائیاں نہ کی ہوتیں اور نیکوکار اس بات پر حسرت کریں گے کہ انہوں نے اور زیادہ نیکیاں کیوں نہیں کمائیں ؟
39۔ 2 یعنی حساب کتاب کر کے صحیفے لپیٹ دیئے جائیں گے اور جنتی جنت میں اور جہنمی جہنم میں چلے جائیں گے۔ حدیث میں آتا ہے کہ اس کے بعد موت کو ایک مینڈھے کی شکل میں لایا جائے گا اور جنت اور دوزخ کے درمیان کھڑا کردیا جائے گا، جنتیوں اور دوزخیوں دونوں سے پوچھا جائے گا، اسے پہچانتے ہو، یہ کیا ہے ؟ وہ کہیں گے، ہاں یہ موت ہے پھر ان کے سامنے اسے ذبح کردیا جائے گا اور اعلان کردیا جائے گا کہ اہل جنت !…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–41
19: اس پورے واقعے کو ذکر فرما کر یہ نتیجہ نکالا گیا ہے کہ عیسائیوں اور یہودیوں نے حضرت عیسیٰ ؑ کے بارے میں جو افراط وتفریط اختیار کر رکھی ہے وہ حقیقت نہیں ہے۔ نہ وہ الزامات درست ہیں جو یہودیوں نے ان پر لگا رکھے ہیں، اور نہ انہیں اللہ تعالیٰ کا بیٹا ماننا صحیح ہے جیسا کہ عیسائیوں نے مان رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو کسی بیٹے کی ضرورت نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
وانذر ھم یوم الحسرۃ (91 : 93) ” اور ان کو پچھتاوے کے دن سے ڈرائو “۔ اس قدر حسرتیں ہوں گی کہ قیامت کا دن ہی حسرتوں کا دن ہوگا۔ حسرت کے سوا وہاں کچھ نہ وہ گا۔ میدان میں ہر طرف حسرت ہی حسرت ہوگی لیکن اس دن حسرت کرنا مفید مطلب نہ ہوگا۔
اذ قضی الامر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لایئو منون (91 : 93) ” جب فیصلہ کردیا جائے اور یہ لوگ غفلت میں ہیں اور ایمان نہیں لارہے “۔ یہ لوگ ایمان نہیں لارہے لیکن قیامت کا دن ان کے کفر کے ساتھ ڑا ہوا ہے۔ جس غفلت میں یہ ڈوبے ہوئے ہیں اس کے ساتھ قیامت جڑی ہوئی ہے۔
ان کو اس دن سے ڈرائو جس میں شک نہیں ہے۔ کیونکہ زمین کے اوپر جو چیز اور جو انسان بھی ہیں وہ سب کے سب اللہ کی طرف لوٹنے والے…
Read the full tafseer →10 کافروں کو پچھتانے کے بہت مواقع پیش آئیں گے۔ آخری موقع وہ ہوگا جب موت کو مینڈھے کی صورت میں لا کر بہشت و دوزخ کے درمیان سب کو دکھا کر ذبح کیا جائے گا اور ندا آئے گی کہ بہشتی بہشت میں اور دوزخی دوزخ میں ہمیشہ کے لیے رہ پڑے، اس کے بعد کسی کو موت آنے والی نہیں۔ اس وقت کافر بالکل ناامید ہو کر حسرت سے ہاتھ کاٹیں گے۔ لیکن اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چک گئیں کھیت۔
11 یعنی اس وقت انھیں یقین نہیں کہ واقعی ایسا دن آنے والا ہے وہ غفلت کے نشہ میں مخمور ہیں اور بڑی بھاری بھول میں پڑے ہیں۔ کاش اس وقت آنکھیں کھولتے اور اپنے نفع نقصان کو سمجھتے اس دن پچھتانے سے حسرت و افسوس کے سوا کچھ حاصل نہ ہوگا۔ "…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–39
آیت 37 فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْم بَیْنِہِمْج فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ مَّشْہَدِ یَوْمٍ عَظِیْمٍ
قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ کے حضور پیشی ہوگی اور تمام حقائق کھل کر سامنے آئیں گے تو حضرت مسیح علیہ السلام کے بارے میں بھی حقیقت واضح ہوجائے گی۔ چناچہ اس بارے میں جن لوگوں نے من گھڑت عقیدے بنائے اور پھر ان غلط عقائد پر ہی جمے رہے حتیٰ کہ اسی حالت میں انہیں موت آگئی ‘ ایسے لوگوں کے لیے اس دن ہلاکت و بربادی کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔
Read the full tafseer →35 یوم حسرت۔ موت کو مینڈھے کی شکل میں ذبح کرنا ہے :۔ کافروں کے پچھتانے کے مواقع تو بہت ہوں گے۔ مگر آخری موقع غالبا ً وہ ہوگا جب اہل جنت کو جنت جانے کا اور اہل دوزخ کو دوزخ میں جانے کا فیصلہ سنا دیا جائے گا جیسا کہ درج ذیل حدیث میں آیا ہے :
سیدنا ابو سعید خدری کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : (قیامت کے دن) موت کو ایک چتکبرے مینڈھے کی شکل میں لے کر آئیں گے۔ پھر ایک پکارنے والا پکارے گا : اے اہل جنت ! وہ ادھر دیکھیں گے تو فرشتہ کہے گا : تم اس مینڈھے کو پہچانتے ہو ؟ وہ کہیں گے ہاں ۔ یہ موت ہے اور ہم سب اس کا مزہ چکھ چکے ہیں پھر وہ پکارے گا، دوزخ والو ! وہ لوگ بھی گردن اٹھا کر ادھر دیکھنے لگیں گے تو…
Read the full tafseer →59۔ (اور چونکہ حقائق ایمانی پر پوری توجہ بھی کبھی صرف نہیں کرتے، اس لیے ان کی یہ غفلت یا بےپروائی بھی اختیاری ہی ہے، اور یہ اس میں معذور ذرا بھی نہیں) (آیت) ’ یوم الحسرۃ “۔ حسرتیں تو کافروں کے نصیب ہی میں ہیں یوم حشر میں ان حسرتوں کا شمار وعدد، اور کیفیت وکمیت کے ہر اعتبار سے شدید ترین وقوی ترین ہونا ظاہر ہی ہے۔ (آیت) ” اذ قضی الامر “۔ یعنی جنت و دوزخ دونوں ہی کا فیصلہ کردیا جائے گا۔ اور اہل جنت واہل جہنم دونوں کو خلود کو حکم سنا کر موت کو ان کے سامنے ذبح کردیا جائے گا۔ حدیث میں یہی تفسیر آئی ہے۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–40
آیت نمبر 26 تا 40
ترجمہ : پھر پکی اور تازہ کھجوریں کھاؤ اور چشمہ کا پانی پیو اور بیٹے سے آنکھیں ٹھنڈی کرو عینًا تمییز ہے فاعل سے منقول ہے یعنی تو اس بچہ کو دیکھ کر آنکھوں کو ٹھنڈا کر کے سکون حاصل کر دوسرے بچوں کی طرف التفات نہ کر فاِمَّا میں ان شرطیہ کے نون کو ما زائدہ میں مدغم کردیا گیا ہے تَرَیِنَّ اس کا لام کلمہ اور عین کلمہ حذف کردیا گیا ہے عین کلمہ کی حرکت نقل کر کے را کو دے دی گئی اور یائے ضمیر کو التقاء ساکنین کی وجہ سے کسرہ دے دیا گیا اگر تو کسی بشر کو دیکھے اور وہ تیرے بچہ کے متعلق سوال کرے تو کہہ دینا کہ میں نے اس بچہ وغیرہ کے بارے میں لوگوں سے کلام کرنے سے رحمٰن کے لئے سکوت کا روزہ…
Read the full tafseer →وانذرہم یوم الحسرۃ اذ قضی الامر اور آپ ان لوگوں کو حسرت کے دن سے ڈرائیے جب کہ (آخری) فیصلہ کردیا جائے گا۔
یہ حسرت اس وقت ہوگی جب حساب ہوچکے گا ‘ اہل جنت جنت میں چلے جائیں گے اور دوزخی دوزخ میں اور موت کو ذبح کردیا جائے گا (پھر جنت کے اندر اہل جنت اور دوزخ کے اندر دوزخی کبھی نہیں مریں گے) ۔
حضرت ابو سعید خدری راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ‘ موت کو چت کبرے مینڈھے کی شکل میں (قیامت کے دن سب کے سامنے) لایا جائے گا پھر ایک منادی پکارے گا ‘ اے اہل جنت ‘ جنت والے سر اٹھا کر جھانک کر دیکھیں گے منادی کہے گا کیا اس کو پہچانتے ہو ‘ اہل جنت کہیں گے ہاں یہ موت ہے ‘ پھر سب کی نظروں کے سامنے اس کو ذبح…
Read the full tafseer →(39) اور محمد ﷺ آپ ان لوگوں کو پچھتاوے کے دن سے ڈرائیے جب کہ حساب و کتاب سے فراغت ہوجائے گی۔ اور جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں داخل کر دے جائیں گے اور جنت دوزخ کے درمیان موت کو ذبح کردیا جائے گا اور وہ لوگ اس چیز سے نادانی اور غفلت میں پڑے ہوئے ہیں، اور رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم اور موت کے بعد پھر جی اٹھنے پر ایمان نہیں لاتے۔
Read the full tafseer →وَاَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الْحَسْرَةِ۔۔ : مراد قیامت کا دن ہے جس میں حسرت اور پچھتاوے کے سوا کوئی چارۂ کار نہ ہوگا۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورة زمر (56) ، انعام (31) اور بقرہ (167)۔
اِذْ قُضِيَ الْاَمْرُ ۘ وَهُمْ فِيْ غَفْلَةٍ۔۔ : ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (یُؤْتٰی بالْمَوْتِ کَھَیْءَۃِ کَبْشٍ أَمْلَحَ فَیُنَادِيْ مُنَادٍ یَا أَھْلَ الْجَنَّۃِ ! فَیَشْرَءِبُّوْنََ وَ یَنْظُرُوْنَ فَیَقُوْلُ ھَلْ تَعْرِفُوْنَ ھٰذَا ؟ فَیَقُوْلُوْنَ نَعَمْ ھٰذَا الْمَوْتُ وَکُلُّھُمْ قَدْ رَاٰہُ ثُمَّ یُنَادِیْ یَا أَہْلَ النَّارِ ! فَیَشْرَءِبُّوْنَ وَ یَنْظُرُوْنَ فَیَقُوْلُ ہَلْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اسمع بھم وابصر یوم یاتوننا، ابوالعباس نے کہا : عرب یہ صیغے تعجب کی جگہ استعمال کرتے ہیں تو کہتا ہے : أسمع بزید وابصر یزید زید کتنا سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔ فرمایا : اس کا معنی ہے اس نے اپنے نبی کو ان پر متعجب کیا۔ کلبی نے کہا : کوئی ان سے زیادہ قیامت کے دن سننے اور دیکھنے والا نہ ہوگا جب اللہ تعالیٰ عیسیٰ (علیہ السلام) سے فرمائے گا : ءانت قلت للناس اتخذونی وامی الھین من دون اللہ (المائدہ : 16) بعض علماء نے فرمایا : اسمع کا معنی ہے اس دن وہ اللہ تعالیٰ کی کتنی زیادہ اطاعت کرنے والے ہوں گے۔ لکن الظلمون الیوم فی ضلل مبین۔ یعنی دنیا میں ظالم کھلی گمراہی میں ہیں۔ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
1:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” اسمع بہم وابصر “ کے بارے میں روایت کیا کہ کفار اس دن کہیں گے ہم نے ایک چیز کو سن لیا اور ہم نے اس کو دیکھ لیا حالانکہ وہ آج تک نہ سنتے ہیں اور نہ دیکھتے ہیں۔
2:۔ عبدالرزاق اور ابن منذر نے قتادہ ؓ سے (آیت) ” اسمع بہم وابصر “ کے بارے میں روایت کیا کہ اپنی قوم کوسناؤ اور اپنی قوم کو دکھاؤ (آیت) ” یوم یاتوننا “ (یعنی جس دن وہ ہمارے پاس آئیں گے) اور یہ واقعہ اللہ کی قسم قیامت کے دن ہوگا۔
3:۔ ابن ابی حاتم نے (آیت) ” اسمع بہم وابصر “ کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ کی قسم اس سے مراد قیامت کا دن ہے وہ سنیں گے جب ان کا سننا نفع نہ دے گا اور وہ…
Read the full tafseer →[وَانذِرْهُمْ : اور آپ ﷺ خبردار کردیں ان کو ] [يَوْمَ الْحَسْرَةِ : حسرتوں کے دن سے ] [اِذْ : جب ] [قُضِيَ : فیصلہ کردیا جائے گا ] [الْاَمْرُ : تمام معاملات کا ] [وَهُمْ : اور (ابھی) یہ لوگ ] [فِيْ غَفْلَةٍ : غفلت میں ہیں ] [وَّهُمْ : اور یہ لوگ ] [لَا يُؤْمِنُوْنَ : ایمان نہیں لائیں گے ]
نوٹ۔ 1: تمام معاملات کا فیصلہ ہوجانے کے بعد والے دن کو حسرتوں کا دن اس لئے کہا گیا کہ اہل جہنم کو حسرت ہوگی کہ اگر وہ مومن صالح ہوتے تو ان کو جنت ملتی۔ جبکہ اہل جنت کو بھی ایک خاص قسم کی حسرت ہوگی۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ اہل جنت کو کسی چیز پر حسرت نہ ہوگی۔ بجز ان لمحاتِ وقت کے جو بغیر ذکر اللہ کے گزر…
Read the full tafseer →یوم الحسرۃ کی پریشانی
(وَاَنْذِرْھُمْ یَوْمَ الْحَسْرَۃِ اِذْ قُضِیَ الْاَمْرُ ) (اور آپ انھیں حسرت کے دن سے ڈرایئے جبکہ فیصلہ کردیا جائے گا) (وَھُمْ فِیْ غَفْلَۃٍ وَّھُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ ) (اور وہ غفلت میں ہیں اور وہ ایمان نہیں لائیں گے) ۔ اس آیت میں قیامت کے دن کو حسرت کا دن بتایا ہے اور فرمایا ہے کہ انھیں اس دن سے ڈراؤ۔ قیامت کا دن بڑی حسرت کا دن ہوگا، وہاں حاضر ہونے والے طرح طرح سے حسرت کریں گے ان میں سے ایک کی یہ حسرت ہوگی کہ کاش ہم واپس کردیئے جاتے اور تکذیب نہ کرتے (یٰلَیْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُکَذِّبَ بِاٰیَاتِ رَبِّنَا) اور اپنے بڑوں کے بارے میں کہیں گے کہ اگر ہم واپس ہوجاتے تو ان سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–40
قول مبرم و فیصلہء محکم
دربارۂ حقیقت عیسیٰ بن مریم صلی اللہ تعالیٰ علیٰ نبینا وعلیہما وبارک و سلم
قال اللہ تعالیٰ ۔ ذٰلک عیسیٰ ابن مریم۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ والینا یرجعون۔
یہاں تک حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت کا قصہ تفصیل سے بیان فرمایا تاکہ اصل حقیقت واضح اور منکشف ہوجائے۔ اب آگے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں یہود اور نصاریٰ کے اختلاف کا فیصلہ فرماتے ہیں۔
چناچہ فرماتے ہیں، یہ ہیں عیسیٰ پسر مریم جو فقط عورت سے بغیر باپ کے پیدا ہوئے ہیں۔ یہ فقط مریم (علیہ السلام) کے بیٹے ہیں ان کا کوئی باپ نہیں۔ ان کی صحیح شان اور صفت وہ ہے جو اوپر بیان ہوئی عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) وہ نہیں جن کو عیسائی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
29:۔ یہ تخویف اخروی ہے۔ ” اَسْمِعْ بِھِمْ وَ اَبْصِرْ الخ “ یہ دونوں فعل تعجب کے صیغے ہیں۔ یعنی یہ مشرکین آج تو شرک و کفر کی گمراہی میں اندھے اور بہرے ہورہے ہیں۔ لیکن قیامت کے دن ان کی آنکھیں کھل جائیں گی۔ اور ان کی قوت سامعہ تیز ہوجائے گی۔ ” وَ اَنْذِرْھُمْ یَوْمَ الْحَسْرَةِ الخ “ قیامت کے دن کو یوم الحسرت (افسوس کا دن) فرمایا۔ کیونکہ اس دن منکرین کو سخت افسوس ہوگا کہ انہوں نے دنیا میں حق کو کیوں قبول نہ کیا۔ اور غفلت اور لاپرواہی میں رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–40
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں حضرت مریم (علیہ السلام) کا ذکر ہوا اور پھر عیسیٰ (علیہ السلام) کی غیر معمولی طریقے سے ولادت کا بیان آیا ، اس ضمن میں حضرت مریم (علیہ السلام) کی پریشانی کا حال بیان ہوچکا ہے پھر ہو اپنے بچے کو اٹھائے اپنی قوم کے پاس آئیں تو انہوں نے سخت طعن ملامت کی کہ تیرے والدین تو بڑے صالح لوگ تھے ، تم یہ بغیر نکاح کے بچہ کیسے لے آئی حضرت مریم (علیہ السلام) نے خود جواب دینے کی بجائے بچے کی طرف اشارہ کی کہ سارا معاملہ خود اسی سے پوچھ لو ، اللہ نے بچے کو قوت گویائی عطا فرمائی تو بچہ نے بول کر کہا کہ میں اللہ کا بندہ ہوں ، مجھے اللہ نے کتاب دی ہے اور نبی بنا کر بھیجا ہے ، مجھے نماز…
Read the full tafseer →وَاَنْذِرْہُمْ يَوْمَ الْحَسْرَۃِ اِذْ قُضِيَ الْاَمْرُ 0ۘ وَہُمْ فِيْ غَفْلَۃٍ وَّہُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ 39
نذر
وَالإِنْذارُ : إخبارٌ فيه تخویف، كما أنّ التّبشیر إخبار فيه سرور . قال تعالی: فَأَنْذَرْتُكُمْ ناراً تَلَظَّى[ اللیل/ 14]
والنَّذِيرُ :
المنذر، ويقع علی كلّ شيء فيه إنذار، إنسانا کان أو غيره . إِنِّي لَكُمْ نَذِيرٌ مُبِينٌ [ نوح/ 2]
( ن ذ ر ) النذر
الا نذار کے معنی کسی خوفناک چیز سے آگاہ کرنے کے ہیں ۔ اور اس کے بالمقابل تبشیر کے معنی کسی اچھی بات کی خوشخبری سنا نیکے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَأَنْذَرْتُكُمْ ناراً تَلَظَّى[ اللیل/ 14] سو میں نے تم کو بھڑکتی آگ سے متنبہ کردیا ۔
النذ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
ترکیب : اسمع بہم وابصر معناً دونوں تعجب کے صیغہ لفظاً امر کے صیغہ ہیں بمعنی ما اسمعھم و ما ابصرھم بہم موضع رفع میں ہے کقولک احسن بزید ای احسن زید لفظوں میں امر اور معنی ً خبر ہے ای حسن زید، ویمکن ان یقال انہ امرلکل احد بان یحسن بزید والباء زائدۃ۔ یوم ظرف
والعامل فیہ اسمع وابصر۔ اذا قضٰی یا یوم الحسرۃ سے بدل یا حسرت کا ظرف۔
تفسیر : پہلے فرمایا تھا فاختلف الاحزاب کہ عیسیٰ ( علیہ السلام) کے بارے میں قومیں مختلف ہیں جیسا کہ آپ کو معلوم ہوا کہ یہود کچھ کہتے ہیں، نصاریٰ کچھ اور پھر باہم نصاریٰ کے فرقوں میں بھی بہت کچھ اختلاف ہے اور تھا جن کی نسبت فرماتا ہے فویل للذین کفروامن مشہد یوم عظیم کہ منکروں…
Read the full tafseer →وَاَنْذِرْھُمْ یَوْمَ الْحَسْرَۃِ اِذْقُضِیَ الْاَمْرُ م وَھُمْ فِیْ غَفْلَۃٍ وَّ ھُمْ لاَ یُؤْمِنُوْنَ (مریم : 39)
(اور ان کو ڈرایئے حسرت کے دن سے جبکہ معاملہ کا فیصلہ کردیا جائے گا اور یہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اور ایمان نہیں لا رہے۔ )
اے پیغمبر ! ان کفار کو آگاہ کیجیے کہ قیامت کے دن جب ہر چیز کی حقیقت کھل کر سامنے آجائے گی تو اس روز یہ تمنا کریں گے کہ کاش ! ہمیں دوبارہ دنیا میں جانے کا موقع ملے تو ہم ایمان اور تقویٰ کی زندگی اختیار کرکے جنت کے مستحق ہوجائیں، لیکن یہ خیال ان کے لیے اس وقت حسرت کا سبب بن جائے گا جب ان کے زندگی بھرکے معاملات کا فیصلہ کردیا جائے گا اور وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
فہم القرآن
ربط کلام : حقیقت واضح ہونے کے باوجود عیسائی اور یہودی اختلاف کرتے ہیں۔ عیسائیوں، یہودیوں اور حق کا انکار کرنے والوں کا انجام۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم [ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ذات، کردار اور عقیدہ کے بارے میں علمی، عقلی اور تاریخی حقائق کے حوالے سے کھول کر بیان کیا ہے کہ مریم [ کے ماں باپ کون اور کس قدر صالح کردار لوگ تھے۔ حضرت مریم [ کی پیدائش، ان کی تربیت، ان کا عیسیٰ (علیہ السلام) کو جنم دینا، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا اپنی والدہ کی صفائی پیش کرنا اور اپنی ذات کے بارے میں وضاحت کرنے کے ساتھ، اپنا عقیدہ بتلا تے ہوئے لوگوں کو ایک رب کی عبادت کی دعوت دینا،…
Read the full tafseer →یوم حسرت :
39: وَاَنْذِرْھُمْ (اور ان کو ڈرائیں) یَوْمَ اْلحَسْرَۃِ (حسرت کے دن سے) اس سے قیامت کا دن مراد ہے کیونکہ اس سے گزشتہ پر شرمندگی ہوگی۔ حدیث میں وارد ہے یہ حسرت اس وقت ہوگی جب وہ اپنے مقامات جنت میں دیکھیں گے اگر وہ ایمان لے آتے۔ اِذْ یہ یَوْمَ الْحَسْرَۃِ سے بدل ہے۔ نمبر 2۔ حسرت کا ظرف ہے اور وہ مصدر ہے) ۔ قُضِیَ الْاَمْرُ جبکہ معاملے کا فیصلہ کردیا جائے گا) ۔ جب حساب سے فارغ ہوجائیں گے اور اہل جنت جنت اور اہل جہنم جہنم کی طرف لوٹ جائیں گے۔
وَھُمْ فِیْ غَفْلَۃٍ (اور وہ لوگ غفلت میں پڑے ہیں) یہاں دنیا میں غافل ہیں اسی لئے وہ اس مقام کیلئے اہتمام نہیں کرتے۔ وَّ ھُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
تفسیر۔
38۔ اسمع بھم وابصر، ، وہ قیامت کے دن اس طرح ہوں گے گویا کہ انہوں نے نہ کچھ سنا اور نہ دیکھا جب ان کو نہ کوئی سننا فائدہ دے گا اور نہ ہی دیکھنا کہ وہ آخرت میں سنتے اور دیکھتے ہیں جو انہوں نے نہ دنیا میں سنا ہوگا اور نہ ہی آخرت میں ۔ کلبی کا بیان ہے کہ قیامت کے دن کوئی شخص بھی ایسا نہیں ہوگا وہ یہ کہہ دے کہ نہ انہوں نے سنا اور نہ ہی دیکھا جب اللہ تعالیٰ عیسیٰ (علیہ السلام) سے کہیں گے ، ا انت قلت للناس ۔۔ یوم یاتوتنا لکن الظالمون الیوم فی ضلال مبین، یہ کھلی گمراہی میں پڑے رہے۔ وانذرھم یوم الحسرۃ اذ قضی الامر ، ، یہ حسرت اس وقت ہوگی جب اہل جنت جنت میں چلے جائیں گے اور دوزخی دوزخ میں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
39۔ 40:۔ اوپر عیسائیوں کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں مشرکین مکہ کا ذکر فرمایا جس سے یہ بات جتلائی گئی ہے کہ جس طرح عیسائی لوگ اپنے آپ کو عیسیٰ (علیہ السلام) کا پیرو کہتے ہیں اور حقیقت میں عیسیٰ (علیہ السلام) کے طریقہ کے بالکل برخلاف ہیں یہی حال ان مشرکین مکہ کا ہے کہ یہ لوگ اپنے آپ کو ملت ابراہیمی کا پابند کہتے ہیں اور حقیقت میں ابراہیم (علیہ السلام) کے طریقہ کے بالکل برخلاف ہیں کیونکہ ابراہیم (علیہ السلام) تو بت پرستی سے ایسے بیزار تھے کہ اسی پر ان کا اور ان کے باپ کا جھگڑا ہوا جس کا ذکر آگے آتا ہے اور ان لوگوں کا یہ حال ہے کہ رات دن بت پرستی میں لگے ہوئے ہیں قیامت کے دن اس بت پرستی کی جو سزا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
آیت 39
کسی خوفناک معاملے میں، ترہیب کے پہلو سے اس کی صفات بیان کر کے آگاہ کرنا ” انذار “ ہے۔ اور وہ معاملہ جس کے بارے میں بندوں کو سب سے زیادہ ڈرایا جانا چاہیے وہ ” حسرت کا دن “ ہے جب فیصلہ کیا جائے گا۔ پس اولین و آخرین ایک ہی جگہ اکٹھے کئے جائیں گے اور ان کے اعمال کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ پس جو کوئی اللہ پر ایمان لایا اور اس کے رسولوں کی اتباع کرتا رہا تو وہ ابدی سعادت سے بہرہ مند ہوگا اس کے بعد کبھی اسے بدبختی کا اسمنا نہیں کرنا پڑے گا اور جو کوئی اللہ تعالیٰ پر ایمان نہ لایا اور اس کے رسولوں کی پیروی نہ کی تو وہ بدبختی میں پڑے گا اور اس کے بعد نیک بختی اس کے حصے میں نہیں آئے گی اور اس نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–45
اپنی ذات کی تعریف بغیر فخر کے جائز ہے
قول باری ہے (وبرا بوالدتی ولم یجعلنی جبارًا شقیاً والسلام علی یوم ولدت ویوم اموت ویوم ابعث حیا۔ اور مجھے اپنی والدہ کا حق ادا کرنے والا بنایا، مجھ کو جبار اور شقی نہیں بنایا، سلام ہے مجھ پر جبکہ میں پیدا ہوا اور جبکہ میں مرون اور جب کہ زندہ کر کے اٹھایا جائوں) اس میں یہ دلالت موجود ہے کہ انسان اپنی ذات کو تعریف اور نیکی کی صفات سے متصف کرسکتا ہے بشرطیکہ اس کی نیت یہ ہو کہ دوسرے اشخاص بھی اس نیکی اور بھلائی سے روشناس ہو کر اس پر عمل پیرا ہو سکیں، اس کے ذریعے وہ ڈینگ مارنے اور اپنی خوبیوں کے فخر یہ اظہار کی نیت نہ رکھتا ہو۔ اس کی مثال حضرت یوسف (علیہ…
Read the full tafseer →50 یوم حسرت کے بارے میں خبردار کرتے رہنے کا حکم وارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا اور خبردار کرتے رہو ان کو حسرت کے اس دن سے "۔ جس دن کہ ہر کوئی افسوس کر رہا ہوگا۔ نیک بھی اور بد بھی۔ نیک اس لئے کہ اس نے نیکیاں اور زیادہ کیوں نہ کمائیں اور بد اس لئے کہ وہ بدی سے باز کیوں نہ آیا۔ جیسا کہ صحیح حدیث میں حضرت نبی معصوم (علیہ الصلوۃ والسلام) سے مروی ہے۔ اور اس حسرت و یاس کی آخری شکل اور کامل صورت وہ ہوگی جبکہ کافروں اور منکروں کیلئے دوزخ میں ہمیشہ رہنے کا اعلان کردیا جائے گا۔ جیسا کہ صحیح بخاری و مسلم وغیرہ میں حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا موت کو ایک دنبے کی شکل میں لاکر اہل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–40
اللہ کی شان ِبے نیازی اور قیامت کے برحق ہونے کی دلیل
تشریح : یہ آیات ایک تو اللہ کی وحدانیت کو ثابت کرتی ہیں کہ وہ تو کسی کی بھی مدد سے بےنیاز ہے۔ اور جو لوگ پیغمبر کی تعلیمات سے ہٹ کر کفر و شرک کرتے ہیں تو ان کو ہوشیار ہوجانا چاہیے کہ ان کا انجام موت پر ہونے والا ہے جیسا کہ صبح سے شام تک یہ عمل ہو رہا ہے۔ کوئی مر رہا ہے کوئی پیدا ہو رہا ہے، یعنی کوئی آرہا ہے اور کوئی جا رہا ہے۔ جو جا رہا ہے اس کو سوچنا چاہیے کہ مرنے کا مطلب ہے دوبارہ زندہ ہو کر اس زندگی کے تنائج کے مطابق انعام حاصل کرنا یا پھر سزا پانا۔ ہر ایک کو اس امتحان اور نتیجہ پر نظر رکھ کر عمل کرنے چاہییں۔ یہ لفظ ” ہوجا “ اور فرمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–41
(رکوع نمبر 2)
اسرارومعارف
اور اے حبیب ﷺ اس سے عجیب تر اور فکر انگیز واقعہ ایسی کتاب اللہ میں سنا دیجئے جو حضرت مریم (علیہا السلام) کا ہے اور جس کے متعلق یہود اور نصاری نے اپنے اپنے نظریات گھڑ رکھے ہیں کہ اس کی حقیقی اور واقعی صورت کیا ہے یہ بات تب شروع ہوتی ہے جب حضرت مریم (علیہا السلام) اپنے گھر والوں سے الگ ہو کر غسل وغیرہ کرنے کے لیے پردہ میں چلی گئیں تو وہاں ان کے پاس حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو بھیجا جس نے انسانی شکل میں ظاہر ہو کر ان سے بات کرنا چاہی ، یاد رہے حضرت مریم (علیہا السلام) کا ذکر آل عمران میں گذر چکا ہے ۔
(اولیاء اللہ سے فرشتہ کا ہمکلام ہونا)
کہ ان کی والدہ نے منت مانی تھی…
Read the full tafseer →ف 2 یعنی قیامت کے دن سے جس میں سوائے پچھتاوے اور حسرت کے کوئی چارہ کار نہ ہوگا۔ (ان یقول نفس یا حسرتا علی مافرطت فی جنب اللہ۔
3 یعنی حساب و کتاب اور ثواب و عقاب کے متعلق فیصلہ کردیا جائے گا۔ مروی ہے کہ جب حشر کے روز دوزخ سے گنہگار مسلمانوں کو نکالا جائے گا تب کافر بھی اس توقع میں ہونگے لیکن جب موت کو مینڈھے کی شکل میں لا کر ذبح کردیا جائے گا تو اس وقت کافر تم واندوہ میں کھوکر رہ جائیں گے اور بالکل مایوس ہوجائیں گے۔ چناچہ آنحضرت نے یہ واقعہ ذکر فرماکر پھر یہ آیت تلاوت فرمائی یعنی ’ دقضی الامر “ سے مراد یہی فیصلہ ہے۔ (کبیر ابن کثیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
(19:39) یوم الحسرۃ۔ ای یوم القیامۃ۔ الحسرۃ مصدر ہے جس کے معنی ہیں غم۔ یا جو چیز ہاتھ سے نکل جائے اس پر پشیمان اور نادم ہونا۔ الحسر۔ (نصر۔ ضرب) کے معنی کسی چیز کو ننگا کرنے اور اس سے پردہ اٹھانے کے ہیں۔ جیسے حسرت عن الذراع میں نے آستین چڑھائی۔ اسی سے حسیر بمعنی حاسرتھ کی ہوئی۔ درماندہ۔ اس تصور کے پیش نظر کہ اس نے اپنے قوی کو ننگا کردیا۔ جیسے قرآن مجید میں ہے ینقلب الیک البصر وھو حسیر۔ (67:4) نظر (ہر بار) تیری طرف نکام اور تھک کر لوٹ آئے گی۔
انذرہم۔ فعل امر واحد مذکر حاضر۔ ہم۔ ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ تو ان کو ڈرا ۔ اذ قضی الامر۔ جب ہر بات کا اخیر فیصلہ کردیا جائے گا۔ یعنی جب جنت اور دوزخ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
لغات القرآن آیت نمبر 37 تا 40
الاحزاب (حزب) جماعتیں، گروہ۔ ویل خرابی، بربادی۔ مشھد حاضر ہونے کی جگہ۔ اسمع بھم کیا کچھ سنیں گے۔ ابصربھم کیا کچھ دیکھیں گے۔ یوم الحسرۃ حسرت و افسوس کا دن۔ نرث ہم مالک ہوں گے۔ ہم وارث ہوں گے۔
تشریح : آیت نمبر 37 تا 40
نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے نبی اور رسول ہیں۔ ان کے متعلق نصاریٰ کا یہ گمان کہ وہ اللہ کے بیٹے ہیں عقیدہ کی زبردست غلطی ہے جس کا انجام قیامت کے دن نظر آئے گا جس پر وہ پچھتائیں گے۔ لیکن اس دن سوائے حسرت اور افسوس کے ان کے ہاتھ کچھ نہ آئے گا۔ فرمایا کہ عقیدے کی اس گندی میں مبتلا میں نصاریٰ اور یہود و جو حضرت…
Read the full tafseer →اس کے بعد آنحضرت ﷺ کو خطاب کر کے فرمایا کہ ان غافلوں کو حسرت کے دن سے مطلع کرو تاکہ خوف کریں، اور وہ حست کا دن ہو ہوگا جس دن ان کے لئے عذاب کا حکم دیا جائے گا۔ اور وہ دنیا میں غفلت میں پڑے ہیں، اور ایمان نہیں لاتے بظاہر یوم الحسرت قیامت کا دن ہے "۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–43
[17] عیسائیوں میں کئی فرقے ہوگئے جن کے جھگڑوں سے کلیسا کی تاریخ بھری پڑی ہے۔
[18] یعنی روز قیامت۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–40
(ف 2) حضرت مسیح (علیہ السلام) کی پیدائش ایک طرف یہودیوں کے لئے ٹھوکر کا باعث ہوئی اور دوسری جانب مسیحی حضرات اس کی وجہ سے گمراہی کے عمیق غار میں جا گرے ۔
عیسائی مذہب کے مبلغین نے یہ سمجھا کہ مسیح (علیہ السلام) کی یہ حیرت انگیز ولادت کی خدائی پر دال ہے ، ورنہ ایک انسان کیونکر قوانین قدرت کو توڑ سکتا ہے ، اللہ تعالیٰ نے بتایا ، یہ بات غلط ہے مسیح (علیہ السلام) کا تولد ہونا اس کی الوہیت پر دلالت نہیں کرتا ، بلکہ میری جلالت قدرت کا ایک ثبوت ہے میں جب چاہتا ہوں محض ارادہ سے بڑی سے بڑی کائنات کو پیدا کرلیتا ہوں میرے لئے کسی سہارے اور شریک کی مطلقا ضرورت نہیں ، قول الحق سے غرض یہ ہے کہ قرآن نے مسیح…
Read the full tafseer →-39 اور اے پیغمبر آپ ان کو حسرت و پشیمانی کے دن سے ڈرا دیجیے جب کام کا آخری فیصلہ ہوجائے گا اور ان کا حال یہ ہے کہ یہ غفلت میں مبتلا ہیں اور یہ لوگ ایمان نہیں لاتے۔ یعنی جس دن ہر ایک کا آخری فیصلہ ہوجائے گا اس دن دوزخیوں کو انتہائی حسرت و ندامت ہوگی اور جبکہ موت کے آنے کی بھی توقع نہ رہے اسی لئے اس دن کو یوم حسرت فرمایا۔
غرض ! اس حسرت و یاس کے دن یعنی قیامت سے ڈرائیے جبکہ اہل جہنم کا آخری فیصلہ کردیا جائے۔ یہ اس وقت غفلت میں اور بیخبر ی میں مبتلا ہیں اور ایمان نہیں لاتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–42
ف 1۔ مراد بت ہیں حالانکہ اگر کوئی دیکھتا سنتا کچھ کام آتا بھی ہو مگر واجب الوجود نہ ہو تب بھی لائق عبادت نہیں۔ چہ جائیکہ ان اوصاف سے بھی عاری ہو وہ تو بدرجہ اولی لائق عبادت نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →جن کا کام انذار وتبشیر ہے وہ اپنا کام کرتے جائیں کوئی ایمان لائے یا نہ لائے :
39۔ زیرنظر آیت سے رخ کفار مکہ یعنی قریش کی طرف پھرتا نظر آتا ہے کیونکہ ان لوگوں کو بھی اس بات پر تو بڑا نازل تھا کہ ہم ابراہیمی نسل پر ہیں حالانکہ نسل تو اعمال میں کام نہیں دیتی اور کام وہ بالکل اس کے الٹ کر رہے تھے جو ابراہیم (علیہ السلام) نے کئے تھے زبانی جمع خرچ سے کیا ہوتا ہے اگر بات ہی حقیقت کے خلاف ہو ۔ وہ تو قریش مکہ تھے آج جو لوگ نبی اعظم وآخر ﷺ کی محبت کے دعویدار ہیں وہ زبانی دعوی تو کرتے ہیں لیکن ان کی ہر حرکت پیغمبر اسلام کے بتائے ہوئے طریقہ کے بالکل خلاف ہے اور ان کی محبت کا اظہار فقط انگوٹھے چوم کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
يَوْمَ الْحَسْرَةِ (the Day of Remorse) in verse 39 refers to the Day of Judgment and has been called the Day of Remorse because on that day persons consigned to Hell as punishment for their evil deeds will regret their disregard of the righteous way of life, and wish that if they had lived the life of true believers, they too would have been in Paradise instead of being punished in Hell. Even those who have been rewarded with Paradise will feel a different kind of remorse. Al-Tabarani and Abu Ya` la have quoted the following saying of the Prophet ﷺ on the authority of Sayyidna Mu'adh ؓ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–39
24. That is, the sects of the Christians.
Read the full tafseer →