Explained with ayahs 38–40
قیامت کا دن دوزخیوں کے لئے یوم حسرت۔
ارشاد ہے کہ آج دنیا میں یہ کفار آنکھیں بند کئے ہوئے اور کانوں میں جیسے ٹھونسے ہوئے ہیں، لیکن قیامت کے دن ان کی آنکھیں خوب روشن ہوجائیں گی اور کان بھی خوب کھل جائیں گے۔ جیسے فرمان الہٰی ہے (وَلَوْ تَرٰٓي اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۭ رَبَّنَآ اَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ 12 ) 32۔ السجدة :12) کاش کہ تو دیکھتا جب یہ گنہگار لوگ اپنے رب کے سامنے شرمسار سرنگوں کھڑے ہوئے کہہ رہے ہوں گے کہ اے اللہ ہم نے دیکھا سنا۔ الخ پس اس دن نہ دیکھنا کام آئے نہ سننا نہ حسرت و افسوس کرنا نہ واویلا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–39
سورة مَرْیَم 24
یعنی عیسائیوں کے گروہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–38
خلاصہ تفسیر
یہ ہیں عیسیٰ بن مریم (جن کے اقوال و احوال مذکور ہوئے جس سے ان کا بندہ قبول ہونا معلوم ہوتا ہے نہ جیسے کہ عیسائیوں نے ان کو بندوں کی فہرست سے خارج کرکے خدا تک پہنچا دیا ہے اور نہ ویسے جیسا کہ یہودیوں نے ان کو مقبولیت سے خارج کر کے طرح طرح کی تہمتیں لگائی ہیں) میں (بالکل) سچی بات کہہ رہا ہوں جس میں یہ (افراط وتفریط کرنے والے) لوگ جھگڑ رہے ہیں (چنانچہ یہود و نصاریٰ کے اقوال اوپر معلوم ہوئے اور چونکہ یہود کا قول ظاہراً بھی موجب تنقیص نبی تھا جو کہ بداہتاً باطل ہے اس لیے اس کے رد کی طرف اس مقام پر توجہ نہیں فرمائی بخلاف قول نصارٰی کے کہ ظاہراً مثبت زیادت کمال تھا کہ نبوت کے ساتھ خدا کا…
Read the full tafseer →أَسْمِعْ بِهِمْ وَأَبْصِرْ يَوْمَ يَأْتُونَنَا لَكِنِ الظَّالِمُونَ الْيَوْمَ فِي ضَلالٍ مُبِينٍ۔ أَسْمِعْ بہ وَأَبْصِرْ بہ عربی میں تعجب کے صیغے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ آج تو انہیں اصل حقیقت جب سنائی اور سمجھائی جاتی ہے تو نہ اس کو سنتے ہیں نہ اس کو دیکھتے اور سمجھتے ہیں لیکن جب اس مشہد عظیم سے ان کو سابقہ پیش آئے گا تو کانوں کے پردے بھی کھل جائیں گے اور آنکھوں کی پٹیاں بھی اتر جائیں گی۔ معلوم ہوگا کہ اس وقت ان سے زیادہ بینا اور شنوا کوئی نہیں ہے، لیکن وہ وقت سننے اور سمجھنے کا نہیں بلکہ سر پیٹنے کا ہوگا۔ " ظالمون " سے یہاں مراد اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے وہ بدقسمت لوگ ہیں جو آنکھ کان رکھتے…
Read the full tafseer →38۔ 1 یہ تعجب کے صیغے ہیں یعنی دنیا میں تو یہ حق کے دیکھنے اور سننے سے اندھے اور بہرے رہے لیکن آخرت میں یہ کیا خوب دیکھنے اور سننے والے ہونگے ؟ لیکن وہاں یہ دیکھنا سننا کس کام کا ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–41
19: اس پورے واقعے کو ذکر فرما کر یہ نتیجہ نکالا گیا ہے کہ عیسائیوں اور یہودیوں نے حضرت عیسیٰ ؑ کے بارے میں جو افراط وتفریط اختیار کر رکھی ہے وہ حقیقت نہیں ہے۔ نہ وہ الزامات درست ہیں جو یہودیوں نے ان پر لگا رکھے ہیں، اور نہ انہیں اللہ تعالیٰ کا بیٹا ماننا صحیح ہے جیسا کہ عیسائیوں نے مان رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو کسی بیٹے کی ضرورت نہیں ہے۔
Read the full tafseer →اسمع بھم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فی ضلل مبین (91 : 83) ” جب وہ ہمارے سامنے اضر ہوں گے اس روز تو ان کے کان بھی خوب سن رہے ہوں گے ‘ اور ان کی آنکھیں بھی خوب دیکھ رہی ہوں گی مگر آج یہ ظالم کھلی گمراہی میں مبتلا ہیں “۔ آج ان کی حالت یہ ہے کہ نہ سنتے ہیں اور نہ دیکھتے ہیں جبکہ آج سننا اور دیکھنا ہدایت کا سبب بن سکتا ہے۔ لیکن جس دن سننا اور دیکھنا شرمندگی کا باعث ہوگا اس دن یہ خوب سن اور دیکھ رہے ہوں گے۔ اس دن یہ ایسی چیزیں دیکھیں گے جو دیکھنے کے قابل نہ ہوں گی اور ایسی چیزی سنیں گے جسے سننا نہ چاہیں گے۔ یہ ہوگا مشد عظیم کا دن۔
Read the full tafseer →9 یعنی آج تو جبکہ سننا اور دیکھنا مفید تھا، بالکل اندھے، بہرے بنے ہوئے ہیں اور قیامت کے دن جب دیکھنا سننا کچھ فائدہ نہ دے گا، آنکھیں اور کان خوب کھل جائیں گے اس وقت وہ باتیں سنیں گے جن سے جگر پھٹ جائیں اور وہ منظر دیکھیں گے جس سے چہرے سیاہ ہوجائیں نعوذ باللہ منہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–39
آیت 37 فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْم بَیْنِہِمْج فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ مَّشْہَدِ یَوْمٍ عَظِیْمٍ
قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ کے حضور پیشی ہوگی اور تمام حقائق کھل کر سامنے آئیں گے تو حضرت مسیح علیہ السلام کے بارے میں بھی حقیقت واضح ہوجائے گی۔ چناچہ اس بارے میں جن لوگوں نے من گھڑت عقیدے بنائے اور پھر ان غلط عقائد پر ہی جمے رہے حتیٰ کہ اسی حالت میں انہیں موت آگئی ‘ ایسے لوگوں کے لیے اس دن ہلاکت و بربادی کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔
Read the full tafseer →34 یعنی آج اس دنیا میں انھیں دیکھنے اور سننے کا فائدہ ہے مگر نہ دیکھتے ہیں اور نہ سنتے ہیں۔ مگر قیامت کے دن خوب دیکھ اور سن رہے ہوں گے مگر اس دن دیکھنے اور سننے کا کچھ فائدہ نہ ہوگا۔ اس دن وہ ایسی ایسی باتیں سنیں گے جن سے ان کے جگر پھٹ جائیں گے اور ایسے منظر دیکھیں گے جن سے ان کے چہروں پر سیاہی اور مردنی چھا جائے گی۔
Read the full tafseer →58۔ یعنی حشر میں تو انکشاف حقائق ان کافروں کو بھی کامل ہو کر رہے گا، لیکن آج دنیا میں تو یہ سرتاسر ظلمت ظلالت میں غرق ہیں۔ (آیت) ” اسمع بھم وابصر “۔ محاورہ میں کمال تعجب کے موقع پر آتا ہے۔ یعنی آج تو یوں اندھے بہرے ہیں، کل قیامت میں سب کمال حیرت سے دیکھیں گے کہ آنکھیں خوب روشن اور کان خوب تیز ہوگئے ہیں ! الجمھور علی ان لفظہ امر ومعناہ التعجب (مدارک)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–40
آیت نمبر 26 تا 40
ترجمہ : پھر پکی اور تازہ کھجوریں کھاؤ اور چشمہ کا پانی پیو اور بیٹے سے آنکھیں ٹھنڈی کرو عینًا تمییز ہے فاعل سے منقول ہے یعنی تو اس بچہ کو دیکھ کر آنکھوں کو ٹھنڈا کر کے سکون حاصل کر دوسرے بچوں کی طرف التفات نہ کر فاِمَّا میں ان شرطیہ کے نون کو ما زائدہ میں مدغم کردیا گیا ہے تَرَیِنَّ اس کا لام کلمہ اور عین کلمہ حذف کردیا گیا ہے عین کلمہ کی حرکت نقل کر کے را کو دے دی گئی اور یائے ضمیر کو التقاء ساکنین کی وجہ سے کسرہ دے دیا گیا اگر تو کسی بشر کو دیکھے اور وہ تیرے بچہ کے متعلق سوال کرے تو کہہ دینا کہ میں نے اس بچہ وغیرہ کے بارے میں لوگوں سے کلام کرنے سے رحمٰن کے لئے سکوت کا روزہ…
Read the full tafseer →اسمع بہم وابصر یوم یاتوننا جس روز یہ لوگ ہمارے پاس (حساب و جزا کے لئے) آئیں گے ‘ کیسے کچھ شنوا اور بینا ہوں گے۔
اَسْمِعْ بِہِمْاور اَبْصَردونوں فعل تعجب ہیں اور اللہ ہر تعجب سے پاک ہے (وہ کسی بات پر تعجب نہیں کرتا اس لئے کوئی بات عجیب نہیں) اس لئے جمہور اہل تفسیر کے نزدیک آیت میں جس تعجب کا اظہار کیا گیا ہے اس کا معنی یہ ہے کہ ان کی حالت قابل تعجب ہوگی ‘ دنیا میں تو اندھے بہرے بنے رہے نہ حق کی بات سنی نہ صورت حق آنکھوں سے دیکھی اگر وہاں کلمۂ حق گوش قبول سے سنتے اور تصویر حق نظر قبول سے دیکھتے تو ان کو فائدہ ہوتا لیکن قیامت کے دن جب حق کی صورت سامنے آئی اور آواز حق سنی تو ایسے وقت کہ کوئی…
Read the full tafseer →(38) قیامت کے دن یہ لوگ کیسے کچھ سننے اور دیکھنے والے ہوجائیں گے کہ حضرت عیسیٰ ؑ نہ اللہ ہیں اور نہ اللہ کے بیٹے اور اس کے شریک ہیں لیکن مشرکین آج دنیا میں اپنے اس قول کی بنا پر کہ حضرت عیسیٰ ؑ اللہ ہیں اور اللہ کے بیٹے اور اس کے شریک ہیں کیسے کھلے کفر میں مبتلا ہو رہے ہیں۔
Read the full tafseer →اَسْمِعْ بِهِمْ وَاَبْصِرْ۔۔ : یہ دونوں فعل تعجب ہیں۔ اللہ تعالیٰ تعجب سے فرماتے ہیں کہ جس دن وہ ہمارے پاس آئیں گے تو وہ کس قدر سننے والے اور کس قدر دیکھنے والے ہوں گے۔ بعض لوگ اللہ تعالیٰ کے تعجب کرنے کو نہیں مانتے، کیونکہ تعجب تو انسان کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ انسان جیسا تو نہیں کہ تعجب کرے۔ اس لیے وہ اس کی تاویل کرتے ہیں کہ ان کی حالت ایسی ہوگی کہ اس پر تعجب کیا جائے، اگرچہ ان کی حالت واقعی ایسی ہوگی مگر جب انسان کے سننے، دیکھنے کے باوجود اللہ تعالیٰ کو بھی سننے دیکھنے والا مانتے ہیں تو اس کے تعجب کرنے میں کیا تعجب ہے۔ ہاں انسان کا سننا، دیکھنا اور تعجب اس کی ہستی کے مطابق ہے، جبکہ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اسمع بھم وابصر یوم یاتوننا، ابوالعباس نے کہا : عرب یہ صیغے تعجب کی جگہ استعمال کرتے ہیں تو کہتا ہے : أسمع بزید وابصر یزید زید کتنا سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔ فرمایا : اس کا معنی ہے اس نے اپنے نبی کو ان پر متعجب کیا۔ کلبی نے کہا : کوئی ان سے زیادہ قیامت کے دن سننے اور دیکھنے والا نہ ہوگا جب اللہ تعالیٰ عیسیٰ (علیہ السلام) سے فرمائے گا : ءانت قلت للناس اتخذونی وامی الھین من دون اللہ (المائدہ : 16) بعض علماء نے فرمایا : اسمع کا معنی ہے اس دن وہ اللہ تعالیٰ کی کتنی زیادہ اطاعت کرنے والے ہوں گے۔ لکن الظلمون الیوم فی ضلل مبین۔ یعنی دنیا میں ظالم کھلی گمراہی میں ہیں۔ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
1:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” اسمع بہم وابصر “ کے بارے میں روایت کیا کہ کفار اس دن کہیں گے ہم نے ایک چیز کو سن لیا اور ہم نے اس کو دیکھ لیا حالانکہ وہ آج تک نہ سنتے ہیں اور نہ دیکھتے ہیں۔
2:۔ عبدالرزاق اور ابن منذر نے قتادہ ؓ سے (آیت) ” اسمع بہم وابصر “ کے بارے میں روایت کیا کہ اپنی قوم کوسناؤ اور اپنی قوم کو دکھاؤ (آیت) ” یوم یاتوننا “ (یعنی جس دن وہ ہمارے پاس آئیں گے) اور یہ واقعہ اللہ کی قسم قیامت کے دن ہوگا۔
3:۔ ابن ابی حاتم نے (آیت) ” اسمع بہم وابصر “ کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ کی قسم اس سے مراد قیامت کا دن ہے وہ سنیں گے جب ان کا سننا نفع نہ دے گا اور وہ…
Read the full tafseer →[اَسْمِعْ بِهِمْ : کیا خوب سننے والے ہوں گے ] [وَاَبْصِرْ : اور دیکھنے والے ہوں گے ] [يَوْمَ : جس دن ] [يَاْتُوْنَنَا : یہ لوگ آئیں گے ہمارے پاس ] [لٰكِنِ : لیکن ] [الظّٰلِمُوْنَ : یہ ظالم لوگ ] [الْيَوْمَ : آج کے دن ] [فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ : ایک کھلی گمراہی میں ہیں ]
Read the full tafseer →پھر فرمایا (اَسْمِعْ بِھِِمْ وَاَبْصِرْ یَوْمَ یَاْتُوْنَنَا) (جس روز ہمارے پاس آئیں گے کیسے ہی سننے والے اور دیکھنے والے ہوں گے) یعنی قیامت کے دن حقائق پیش نظر ہوں گے جن چیزوں کی خبر دی گئی تھی وہ سامنے ہوں گے جن باتوں میں شک کرتے تھے وہ سامنے آجائیں گے جھٹلانے والا دانا بینا ہوجائیں گے اور تصدیق کرنے پر مجبور ہوں گے لیکن اس دن کی تصدیق معتبر نہ ہوگی لہٰذا اس تکذیب کی وجہ سے (جس پر دنیا میں اصرار کرتے رہے) دوزخ میں جائیں گے۔
(لٰکِنِ الظّٰلِمُوْنَ الْیَوْمَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ ) (لیکن ظالم آج کھلی ہوئی گمراہی میں ہیں اس دنیا میں قبول حق پر راضی نہیں اور ہوش گوش کے باوجود کفر چھوڑنے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–40
قول مبرم و فیصلہء محکم
دربارۂ حقیقت عیسیٰ بن مریم صلی اللہ تعالیٰ علیٰ نبینا وعلیہما وبارک و سلم
قال اللہ تعالیٰ ۔ ذٰلک عیسیٰ ابن مریم۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ والینا یرجعون۔
یہاں تک حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت کا قصہ تفصیل سے بیان فرمایا تاکہ اصل حقیقت واضح اور منکشف ہوجائے۔ اب آگے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں یہود اور نصاریٰ کے اختلاف کا فیصلہ فرماتے ہیں۔
چناچہ فرماتے ہیں، یہ ہیں عیسیٰ پسر مریم جو فقط عورت سے بغیر باپ کے پیدا ہوئے ہیں۔ یہ فقط مریم (علیہ السلام) کے بیٹے ہیں ان کا کوئی باپ نہیں۔ ان کی صحیح شان اور صفت وہ ہے جو اوپر بیان ہوئی عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) وہ نہیں جن کو عیسائی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
29:۔ یہ تخویف اخروی ہے۔ ” اَسْمِعْ بِھِمْ وَ اَبْصِرْ الخ “ یہ دونوں فعل تعجب کے صیغے ہیں۔ یعنی یہ مشرکین آج تو شرک و کفر کی گمراہی میں اندھے اور بہرے ہورہے ہیں۔ لیکن قیامت کے دن ان کی آنکھیں کھل جائیں گی۔ اور ان کی قوت سامعہ تیز ہوجائے گی۔ ” وَ اَنْذِرْھُمْ یَوْمَ الْحَسْرَةِ الخ “ قیامت کے دن کو یوم الحسرت (افسوس کا دن) فرمایا۔ کیونکہ اس دن منکرین کو سخت افسوس ہوگا کہ انہوں نے دنیا میں حق کو کیوں قبول نہ کیا۔ اور غفلت اور لاپرواہی میں رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–40
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں حضرت مریم (علیہ السلام) کا ذکر ہوا اور پھر عیسیٰ (علیہ السلام) کی غیر معمولی طریقے سے ولادت کا بیان آیا ، اس ضمن میں حضرت مریم (علیہ السلام) کی پریشانی کا حال بیان ہوچکا ہے پھر ہو اپنے بچے کو اٹھائے اپنی قوم کے پاس آئیں تو انہوں نے سخت طعن ملامت کی کہ تیرے والدین تو بڑے صالح لوگ تھے ، تم یہ بغیر نکاح کے بچہ کیسے لے آئی حضرت مریم (علیہ السلام) نے خود جواب دینے کی بجائے بچے کی طرف اشارہ کی کہ سارا معاملہ خود اسی سے پوچھ لو ، اللہ نے بچے کو قوت گویائی عطا فرمائی تو بچہ نے بول کر کہا کہ میں اللہ کا بندہ ہوں ، مجھے اللہ نے کتاب دی ہے اور نبی بنا کر بھیجا ہے ، مجھے نماز…
Read the full tafseer →اَسْمِعْ بِہِمْ وَاَبْصِرْ 0ۙ يَوْمَ يَاْتُوْنَنَا لٰكِنِ الظّٰلِمُوْنَ الْيَوْمَ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ 38
سمع
السَّمْعُ : قوّة في الأذن به يدرک الأصوات، وفعله يقال له السَّمْعُ أيضا، وقد سمع سمعا .
ويعبّر تارة بالسمّع عن الأذن نحو : خَتَمَ اللَّهُ عَلى قُلُوبِهِمْ وَعَلى سَمْعِهِمْ
[ البقرة/ 7] ، وتارة عن فعله كَالسَّمَاعِ نحو : إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ [ الشعراء/ 212] ، وقال تعالی: أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ [ ق/ 37] ، وتارة عن الفهم، وتارة عن الطاعة، تقول : اسْمَعْ ما أقول لك، ولم تسمع ما قلت، وتعني لم تفهم، قال تعالی: وَإِذا تُتْلى عَلَيْهِمْ آياتُنا قالُوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
ترکیب : اسمع بہم وابصر معناً دونوں تعجب کے صیغہ لفظاً امر کے صیغہ ہیں بمعنی ما اسمعھم و ما ابصرھم بہم موضع رفع میں ہے کقولک احسن بزید ای احسن زید لفظوں میں امر اور معنی ً خبر ہے ای حسن زید، ویمکن ان یقال انہ امرلکل احد بان یحسن بزید والباء زائدۃ۔ یوم ظرف
والعامل فیہ اسمع وابصر۔ اذا قضٰی یا یوم الحسرۃ سے بدل یا حسرت کا ظرف۔
تفسیر : پہلے فرمایا تھا فاختلف الاحزاب کہ عیسیٰ ( علیہ السلام) کے بارے میں قومیں مختلف ہیں جیسا کہ آپ کو معلوم ہوا کہ یہود کچھ کہتے ہیں، نصاریٰ کچھ اور پھر باہم نصاریٰ کے فرقوں میں بھی بہت کچھ اختلاف ہے اور تھا جن کی نسبت فرماتا ہے فویل للذین کفروامن مشہد یوم عظیم کہ منکروں…
Read the full tafseer →اَسْمِعْ بِہِمْ وَاَبْصِرْ لا یَوْمَ یَاْتُوْنَنَا لٰـکِنِ الظّٰلِمُوْنَ الْیَوْمَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ ۔ (مریم : 38)
(کیسے سنتے ہوں گے اور کیسے دیکھتے ہوں گے جس دن وہ ہمارے سامنے پیش ہوں گے، لیکن ظالم آج کے دن کھلی گمراہی میں ہیں۔ )
اَسْمِعْ بِہِمْ وَاَبْصِرْ …یہ دونوں فعلِ تعجب کے صیغے ہیں کہ قیامت کے دن جب یہ کفار اللہ تعالیٰ کے روبرو حاضر ہوں گے تو جو حقیقتیں ان کو آج دکھائی نہیں دیتیں اور جو باتیں ان کو سنائی نہیں دیتیں وہ کس قدر زیادہ سنتے ہوں گے اور کس قدر زیادہ دیکھتے ہوں گے یا کس تیزی سے سنتے اور دیکھتے ہوں گے کہ دیکھنے اور سننے والا تعجب کا اظہار کرنے لگے گا۔
اللہ تعالیٰ کے کلام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
فہم القرآن
ربط کلام : حقیقت واضح ہونے کے باوجود عیسائی اور یہودی اختلاف کرتے ہیں۔ عیسائیوں، یہودیوں اور حق کا انکار کرنے والوں کا انجام۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم [ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ذات، کردار اور عقیدہ کے بارے میں علمی، عقلی اور تاریخی حقائق کے حوالے سے کھول کر بیان کیا ہے کہ مریم [ کے ماں باپ کون اور کس قدر صالح کردار لوگ تھے۔ حضرت مریم [ کی پیدائش، ان کی تربیت، ان کا عیسیٰ (علیہ السلام) کو جنم دینا، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا اپنی والدہ کی صفائی پیش کرنا اور اپنی ذات کے بارے میں وضاحت کرنے کے ساتھ، اپنا عقیدہ بتلا تے ہوئے لوگوں کو ایک رب کی عبادت کی دعوت دینا،…
Read the full tafseer →38: اَسْمِعْ بِھِمْ وَاَبْصِرْ یَوْمَ یَاْ تُوْنَنَا (کس قدر زیادہ سننے اور دیکھنے والے ہونگے جبکہ یہ ہمارے پاس آئیں گے)
جمہور کی رائے :
کہ اَسْمِعْ وَ اَبْصِرْ صیغہ ہائے امر ہیں مگر معنی تعجب دے رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ تعجب سے پاک ہے۔ لیکن جمہور کے نزدیک مراد یہ ہے کہ انکا سننا اور دیکھنا اس لائق ہے کہ اس پر تعجب کیا جائے اس کے بعد کہ یہ دنیا میں اندھے بہرے تھے۔
قول قتادہ m :
جبکہ وہ دنیا میں حق سے اندھے اور بہرے رہے پس ایسے دن ان کے سننے اور ہدایت کے راستہ کو دیکھنے کا کیا فائدہ جبکہ اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوسکتا۔
بہم یہ فاعلیت کی وجہ سے محلاً مرفوع ہے جیسے اکرم بزیدٍ اس کا معنی کرم زیدٌ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
تفسیر۔
38۔ اسمع بھم وابصر، ، وہ قیامت کے دن اس طرح ہوں گے گویا کہ انہوں نے نہ کچھ سنا اور نہ دیکھا جب ان کو نہ کوئی سننا فائدہ دے گا اور نہ ہی دیکھنا کہ وہ آخرت میں سنتے اور دیکھتے ہیں جو انہوں نے نہ دنیا میں سنا ہوگا اور نہ ہی آخرت میں ۔ کلبی کا بیان ہے کہ قیامت کے دن کوئی شخص بھی ایسا نہیں ہوگا وہ یہ کہہ دے کہ نہ انہوں نے سنا اور نہ ہی دیکھا جب اللہ تعالیٰ عیسیٰ (علیہ السلام) سے کہیں گے ، ا انت قلت للناس ۔۔ یوم یاتوتنا لکن الظالمون الیوم فی ضلال مبین، یہ کھلی گمراہی میں پڑے رہے۔ وانذرھم یوم الحسرۃ اذ قضی الامر ، ، یہ حسرت اس وقت ہوگی جب اہل جنت جنت میں چلے جائیں گے اور دوزخی دوزخ میں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
37۔ 38:۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کی نصیحت کا نتیجہ ذکر فرمایا کہ جو لوگ اپنے آپ کو عیسیٰ (علیہ السلام) کا پیرو کہتے ہیں عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد ان لوگوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کی نصیحت کو بالکل رائیگاں کردیا اور بجائے خالص اللہ کی عبادت کے ان میں کے کچھ لوگ عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کہنے لگے کچھ خدا کا بیٹا اور کچھ خدا کا شریک اور ان میں کے جو لوگ عیسیٰ (علیہ السلام) کی نصیحت پر قائم تھے ان سے لڑے اور ان کو مارا اس لڑائی کا ذکر اس وقت کی تاریخ کی کتابوں میں تفصیل سے ہے پھر فرمایا ایسے منکر شریعت لوگوں کو قیامت کے دن بڑی خرابی پیش آنے والی ہے اب دنیا میں تو یہ لوگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
آیت 37
جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ بن مریم علیھا السلام کا حال بیان فرما دیا جس میں کوئی شک اور شبہ نہیں تو آگاہ فرمایا کہ یہود و نصاریٰ اور دیگر فرقے اور گروہ جو گمراہی کے راستے پر گامزن ہیں، اپنے اپنے طبقات کے اختلاف کے مطابق، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں اختلاف کرتے ہیں۔ اس بارے میں ایک گروہ افراط اور غلو میں مبتلا ہے تو دوسرا ان کی شان میں تنقیص اور تفریط کرنے والا ہے۔ پس ان میں سے کچھ لوگ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ مانتے ہیں۔ بعض ان کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا قرار دیتے ہیں، بعض کہتے ہیں وہ تین میں سے ایک ہیں، بعض ان کو رسول بھی تسلیم نہیں کرتے بلکہ وہ بہتان طرازی کرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–45
اپنی ذات کی تعریف بغیر فخر کے جائز ہے
قول باری ہے (وبرا بوالدتی ولم یجعلنی جبارًا شقیاً والسلام علی یوم ولدت ویوم اموت ویوم ابعث حیا۔ اور مجھے اپنی والدہ کا حق ادا کرنے والا بنایا، مجھ کو جبار اور شقی نہیں بنایا، سلام ہے مجھ پر جبکہ میں پیدا ہوا اور جبکہ میں مرون اور جب کہ زندہ کر کے اٹھایا جائوں) اس میں یہ دلالت موجود ہے کہ انسان اپنی ذات کو تعریف اور نیکی کی صفات سے متصف کرسکتا ہے بشرطیکہ اس کی نیت یہ ہو کہ دوسرے اشخاص بھی اس نیکی اور بھلائی سے روشناس ہو کر اس پر عمل پیرا ہو سکیں، اس کے ذریعے وہ ڈینگ مارنے اور اپنی خوبیوں کے فخر یہ اظہار کی نیت نہ رکھتا ہو۔ اس کی مثال حضرت یوسف (علیہ…
Read the full tafseer →49 کفار و منکرین کا بےوقت کا سننا ماننا بےسود و لاحاصل : سو ارشاد فرمایا گیا " کیا ہی خوب سنتے اور دیکھتے ہوں گے یہ منکر لوگ اس دن جس دن کہ یہ ہمارے پاس آئیں گے "۔ سو وہاں پر یہ لوگ خوب خوب سنتے اور دیکھتے ہوں گے۔ وہاں کے احوال و اَھوال کو۔ اور جس کے بعد یہ ایمان بھی لے آئیں گے مگر وہ ایمان قابل قبول نہیں ہوگا کہ وہ ایمان بالمشاہدہ ہوگا۔ جبکہ مطلوب و معتبر ایمان بالغیب ہے اور وہ ان کو وہاں میسر نہیں آسکے گا کہ اس کے کمانے اور حاصل کرنے کی جگہ یہ دنیا ہی تھی جو انکے ہاتھ سے نکل چکی ہوگی ۔ { وَاَنّٰی لَہُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مَّکَانٍ بَعِیْدٍ } ۔ تب وہ رہ رہ کر وہاں پر یہ تمنا و آرزو کریں گے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–40
اللہ کی شان ِبے نیازی اور قیامت کے برحق ہونے کی دلیل
تشریح : یہ آیات ایک تو اللہ کی وحدانیت کو ثابت کرتی ہیں کہ وہ تو کسی کی بھی مدد سے بےنیاز ہے۔ اور جو لوگ پیغمبر کی تعلیمات سے ہٹ کر کفر و شرک کرتے ہیں تو ان کو ہوشیار ہوجانا چاہیے کہ ان کا انجام موت پر ہونے والا ہے جیسا کہ صبح سے شام تک یہ عمل ہو رہا ہے۔ کوئی مر رہا ہے کوئی پیدا ہو رہا ہے، یعنی کوئی آرہا ہے اور کوئی جا رہا ہے۔ جو جا رہا ہے اس کو سوچنا چاہیے کہ مرنے کا مطلب ہے دوبارہ زندہ ہو کر اس زندگی کے تنائج کے مطابق انعام حاصل کرنا یا پھر سزا پانا۔ ہر ایک کو اس امتحان اور نتیجہ پر نظر رکھ کر عمل کرنے چاہییں۔ یہ لفظ ” ہوجا “ اور فرمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–41
(رکوع نمبر 2)
اسرارومعارف
اور اے حبیب ﷺ اس سے عجیب تر اور فکر انگیز واقعہ ایسی کتاب اللہ میں سنا دیجئے جو حضرت مریم (علیہا السلام) کا ہے اور جس کے متعلق یہود اور نصاری نے اپنے اپنے نظریات گھڑ رکھے ہیں کہ اس کی حقیقی اور واقعی صورت کیا ہے یہ بات تب شروع ہوتی ہے جب حضرت مریم (علیہا السلام) اپنے گھر والوں سے الگ ہو کر غسل وغیرہ کرنے کے لیے پردہ میں چلی گئیں تو وہاں ان کے پاس حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو بھیجا جس نے انسانی شکل میں ظاہر ہو کر ان سے بات کرنا چاہی ، یاد رہے حضرت مریم (علیہا السلام) کا ذکر آل عمران میں گذر چکا ہے ۔
(اولیاء اللہ سے فرشتہ کا ہمکلام ہونا)
کہ ان کی والدہ نے منت مانی تھی…
Read the full tafseer →ف 1 یعنی آج تو حق سے بہرے اور اندھے ہو رہے ہیں مگر آخرت میں ان کے کان اور آنکھیں خوب کھلی ہوں گی اور ربنا ابصرنا وسمعنا “ کہیں گے مگر اس وقت کا دیکھنا اور سننا کسی کام نہ آسکے گا۔ ) ابن کثیر)
Read the full tafseer →(19:38) اسمع بہم وابصر (بہم) افعال تعجب ہیں یعنی ما اسمعہم وما ابصرہم۔ کیا ہی خوب سننے والے ہوں گے وہ اور کیا ہی خوب دیکھنے والے۔ یعنی اس روز ان کی قوت شنوائی اور قوت بینائی بدرجہ اتم ہوگی۔ جیسا کہ سورة ق میں بھی یہی مضمون آیا ہے۔ فکشفنا عنک غطاءک فبصرک الیوم حدید۔ (50:22) سو ہم نے تجھ پر سے تیرا پردہ ہٹا دیا سو آج تیری نگاہ بڑی تیز ہے۔
یوم یا توننا۔ جس روز وہ ہمارے پاس آئیں گے۔ الیوم۔ آج کے دن۔ آج (یعنی یہاں اس دنیا میں آج یہ غفلت میں پڑے ہیں اور ایمان نہیں لا رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
لغات القرآن آیت نمبر 37 تا 40
الاحزاب (حزب) جماعتیں، گروہ۔ ویل خرابی، بربادی۔ مشھد حاضر ہونے کی جگہ۔ اسمع بھم کیا کچھ سنیں گے۔ ابصربھم کیا کچھ دیکھیں گے۔ یوم الحسرۃ حسرت و افسوس کا دن۔ نرث ہم مالک ہوں گے۔ ہم وارث ہوں گے۔
تشریح : آیت نمبر 37 تا 40
نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے نبی اور رسول ہیں۔ ان کے متعلق نصاریٰ کا یہ گمان کہ وہ اللہ کے بیٹے ہیں عقیدہ کی زبردست غلطی ہے جس کا انجام قیامت کے دن نظر آئے گا جس پر وہ پچھتائیں گے۔ لیکن اس دن سوائے حسرت اور افسوس کے ان کے ہاتھ کچھ نہ آئے گا۔ فرمایا کہ عقیدے کی اس گندی میں مبتلا میں نصاریٰ اور یہود و جو حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
ارشاد ہوتا ہے ایسے منکر شریعت لوگوں کو قیامت کے دن بڑی خرابی پیش آنے والی ہے۔ اب دنیا میں تو یہ لوگ اللہ کے رسول کی نصیحت کو رائیگاں کر رہے ہیں، لیکن قیامت کے دن اس نصیحت کو سننے کو ان کے کان، اور نصیحت کے رائیگاں کرنے کے عذاب کو دیکھنے کے لئے ان کی آنکھیں کھل جاویں گی۔ مگر وہ بےوقت کا سننا دیکھنا ان کے کچھ کام نہ آوے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–43
[17] عیسائیوں میں کئی فرقے ہوگئے جن کے جھگڑوں سے کلیسا کی تاریخ بھری پڑی ہے۔
[18] یعنی روز قیامت۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–40
(ف 2) حضرت مسیح (علیہ السلام) کی پیدائش ایک طرف یہودیوں کے لئے ٹھوکر کا باعث ہوئی اور دوسری جانب مسیحی حضرات اس کی وجہ سے گمراہی کے عمیق غار میں جا گرے ۔
عیسائی مذہب کے مبلغین نے یہ سمجھا کہ مسیح (علیہ السلام) کی یہ حیرت انگیز ولادت کی خدائی پر دال ہے ، ورنہ ایک انسان کیونکر قوانین قدرت کو توڑ سکتا ہے ، اللہ تعالیٰ نے بتایا ، یہ بات غلط ہے مسیح (علیہ السلام) کا تولد ہونا اس کی الوہیت پر دلالت نہیں کرتا ، بلکہ میری جلالت قدرت کا ایک ثبوت ہے میں جب چاہتا ہوں محض ارادہ سے بڑی سے بڑی کائنات کو پیدا کرلیتا ہوں میرے لئے کسی سہارے اور شریک کی مطلقا ضرورت نہیں ، قول الحق سے غرض یہ ہے کہ قرآن نے مسیح…
Read the full tafseer →-38 جس دن یہ لوگ ہمارے پاس آئیں گے یعنی سزا اور حساب و کتاب کی غرض سے اس دن کیسے دیکھنے والے اور کیسے کچھ سننے والے ہوں گے لیکن آج یہ ظالم لوگ کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں۔ یعنی قیامت کے دن خوب سنتے اور دیکھتے ہوں گے کیونکہ وہ سب باتیں جو پیغمبر فرماتے تھے سامنے آجائیں گی مگر آج بدبخت ظالم صریح گمراہی میں مبتلا ہیں نہ سنتے ہیں نہ دیکھتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–42
ف 1۔ مراد بت ہیں حالانکہ اگر کوئی دیکھتا سنتا کچھ کام آتا بھی ہو مگر واجب الوجود نہ ہو تب بھی لائق عبادت نہیں۔ چہ جائیکہ ان اوصاف سے بھی عاری ہو وہ تو بدرجہ اولی لائق عبادت نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →جب یہ لوگ ہمارے پاس آئیں گے تو ان کے کان اور آنکھیں کھلی ہوں گی :
38۔ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ آج تو یہ لوگ سماعت اور بصارت سے کام نہیں لیتے اور اندھے ‘ بہرے ہو کر اپنے آباء و اجداد کی پیروی کئے جا رہے ہیں اور کسی بات کو سننے اور سمجھنے کے لئے تیار نہیں لیکن کل جب ہمارے حضور یہ لوگ پہنچیں گے تو ان کے کام بھی کھلے ہوں گے اور آنکھیں بھی دیکھتی ہوں گی کیوں ؟ اس لئے جن چیزوں نے ان کے کان اور آنکھوں پر پردے ڈال رکھے ہیں وہ ان کے ساتھ نہیں ہوں گی اس وقت اس کی حالت دیدنی ہوں گی کیونکہ اس وقت یہ لوگ مبہوت ہو کر رہ جائیں گے ۔ (اسمع بھم وابصر) دونوں تعجب کے صیغے ہیں یعنی آج تو ان کو سنانے اور سمجھانے کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–38
Commentary
ذَٰلِكَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ
"This is ` Isa, the son of Maryam." - 19:34.
The beliefs of the Jews and the Christians about Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) were on such opposite extremes that the Christians exalted him to such a level of reverence that they regarded him as the son of Allah. The Jews on the other hand, denigrated him maliciously and called him (God forbid) the illegitimate son of Yusuf (Joseph) the carpenter. Allah Ta` ala has pointed out the error of both the views in these verses and clarified the correct position.
The phrase قَوْلَ الْحَقِّ (translated in the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–39
24. That is, the sects of the Christians.
Read the full tafseer →