Explained with ayahs 34–37
حضرت عیسیٰ کے بارے میں مختلف اقوال۔
اللہ تعالیٰ اپنے رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے فرماتا ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کے واقعہ میں جن جن لوگوں کا اختلاف تھا ان میں جو بات صحیح تھی وہ اتنی ہی تھی جتنی ہم نے بیان فرما دی۔ قول کی دوسری قرأت قول بھی ہے۔ ابن مسعود کی قرأت میں قال الحق ہے۔ قول کا رفع زیادہ ظاہر ہے جیسے (اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِيْنَ01407ۧ) 2۔ البقرة :147) ، میں۔ یہ بیان فرما کر کہ جناب عیسیٰ ؑ اللہ کے نبی تھے اور اس کے بندے پھر اپنے نفس کی پاکیزگی بیان فرماتا ہے کہ اللہ کی شان سے گری ہوئی بات ہے کہ اس کی اولاد ہو۔ یہ جاہل عالم جو افواہیں اڑا رہے ہیں ان سے اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–39
سورة مَرْیَم 24
یعنی عیسائیوں کے گروہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–38
خلاصہ تفسیر
یہ ہیں عیسیٰ بن مریم (جن کے اقوال و احوال مذکور ہوئے جس سے ان کا بندہ قبول ہونا معلوم ہوتا ہے نہ جیسے کہ عیسائیوں نے ان کو بندوں کی فہرست سے خارج کرکے خدا تک پہنچا دیا ہے اور نہ ویسے جیسا کہ یہودیوں نے ان کو مقبولیت سے خارج کر کے طرح طرح کی تہمتیں لگائی ہیں) میں (بالکل) سچی بات کہہ رہا ہوں جس میں یہ (افراط وتفریط کرنے والے) لوگ جھگڑ رہے ہیں (چنانچہ یہود و نصاریٰ کے اقوال اوپر معلوم ہوئے اور چونکہ یہود کا قول ظاہراً بھی موجب تنقیص نبی تھا جو کہ بداہتاً باطل ہے اس لیے اس کے رد کی طرف اس مقام پر توجہ نہیں فرمائی بخلاف قول نصارٰی کے کہ ظاہراً مثبت زیادت کمال تھا کہ نبوت کے ساتھ خدا کا…
Read the full tafseer →آگے کا مضمون۔ آیات 37 تا 40: آگے چند آیات میں نصاریٰ کے باہمی اختلافات پر ان کو ملامت اور ایک ایسے دن کی دھمکی ہے جس دن ایک علیم وخبیر خدا کی طرف سے ان کا سارا کچا چٹھا ان کے سامنے آجائے گا۔ آیات کی تلاوت کیجیے۔
فَاخْتَلَفَ الأحْزَابُ مِنْ بَيْنِهِمْ فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ مَشْهَدِ يَوْمٍ عَظِيمٍ۔
نصاری کی گروہ بندیاں : یعنی حضرت مسیح کی اصل حقیقت تو وہ ہے جو اوپر بیان ہوئی اور یہ اس قدر واضح بات ہے کہ اس میں کسی اختلاف و نزاع کی گنجائش نہیں تھی لیکن عیسائیوں نے اپنی بدبختی سے اس میں اختلاف پیدا کیا۔ اور ان کے اندر بہت سے چھوٹے بڑے فرقے پیدا ہوگئے۔ ان میں سے حق پر صرف وہ تھوڑے سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
37۔ 1 یہاں الاحزاب سے مراد کتاب کے فرقے اور خود عیسائیوں کے فرقے ہیں۔ جنہوں نے حضرت عیسیٰ ؑ کے بارے میں باہم اختلاف کیا۔ یہود نے کہا کہ وہ جادوگر اور یوسف نجار کے بیٹے ہیں نصا ریٰ کے ایک فرقے نے کہا کہ وہ ابن اللہ ہیں۔ (کیتھولک) فرقے نے کہا وہ ثالث ثَلَاثلَۃِ (تین خداؤں میں سے تیسرے) ہیں اور تیسرے فرقے یعقوبیہ (آرتھوڈکس) نے کہا، وہ اللہ ہیں۔ پس یہودیوں نے تفریط اور تقصیر کی عیسائیوں نے افراط وغلو (الیسرا لتفاسیر، فتح القدیر)
37۔ 2 ان کافروں کے لئے جنہوں نے عیسیٰ ؑ کے بارے میں اس طرح اختلاف اور افراط کا ارتکاب کیا، قیامت والے دن جب وہاں حاضر ہوں گے، ہلاکت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–41
19: اس پورے واقعے کو ذکر فرما کر یہ نتیجہ نکالا گیا ہے کہ عیسائیوں اور یہودیوں نے حضرت عیسیٰ ؑ کے بارے میں جو افراط وتفریط اختیار کر رکھی ہے وہ حقیقت نہیں ہے۔ نہ وہ الزامات درست ہیں جو یہودیوں نے ان پر لگا رکھے ہیں، اور نہ انہیں اللہ تعالیٰ کا بیٹا ماننا صحیح ہے جیسا کہ عیسائیوں نے مان رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو کسی بیٹے کی ضرورت نہیں ہے۔
Read the full tafseer →ان لوگوں کے لئے اس دن بہت بڑی ہلاکت ہوگی ‘ بہت بڑا خوفناک منظر ہوگا ‘ وہ عظیم اور خوفناک منظر جن وانس سب دیکھ رہ ہوں گے ‘ ملائکہ بھی حاضر ہوں گے۔ اس اللہ کے سامنے سب لوگ کھڑے ہوں جس کے ساتھ ان احزاب نے شرک کیا۔
یہاں اللہ تعالیٰ بتاتے ہیں کہ ان لوگوں کی حالت دیدنی ہوگی کہ یہ لوگ یہاں اس دنیا میں دلائل ہدایت سے منہ موڑ رہے تھے ‘ لیکن وہاں تو ان کے کان بھی اچھی طرح سن رہے ہوں گے اور آنکھیں بھی اچھی طرح دیکھ رہی ہوں گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
8 یہ کس نے کہا ؟ بعض کے نزدیک یہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کا مقولہ ہے۔ گویا پیشتر حضرت مسیح کی جو گفتگو (قَالَ اِنِّىْ عَبْدُ اللّٰهِ ڜ اٰتٰىنِيَ الْكِتٰبَ وَجَعَلَنِيْ نَبِيًّا) 19 ۔ مریم :28) سے نقل کی گئی تھی، یہ اس کا تکملہ ہوا۔ درمیان میں مخاطبین کی تنبیہ کے لیے (ذٰلِكَ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ ) 19 ۔ مریم :34) سے حق تعالیٰ کا کلام تھا۔ میرے نزدیک بہتر یہ ہے کہ اس کو (وَاذْكُرْ فِى الْكِتٰبِ مَرْيَمَ ۘاِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ اَهْلِهَا مَكَانًا شَرْقِيًّا) 19 ۔ مریم :16) کے ساتھ لگایا جائے۔ یعنی (اے محمد ﷺ کتاب میں مریم و مسیح کا حال سنا کر جو مذکور ہوچکا، کہہ دو کہ میرا اور تمہارا سب کا رب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–39
آیت 37 فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْم بَیْنِہِمْج فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ مَّشْہَدِ یَوْمٍ عَظِیْمٍ
قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ کے حضور پیشی ہوگی اور تمام حقائق کھل کر سامنے آئیں گے تو حضرت مسیح علیہ السلام کے بارے میں بھی حقیقت واضح ہوجائے گی۔ چناچہ اس بارے میں جن لوگوں نے من گھڑت عقیدے بنائے اور پھر ان غلط عقائد پر ہی جمے رہے حتیٰ کہ اسی حالت میں انہیں موت آگئی ‘ ایسے لوگوں کے لیے اس دن ہلاکت و بربادی کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔
Read the full tafseer →33 سیدھی راہ یہ ہے کہ میرا اور تمہارا یعنی سب لوگوں کا خالق اور پروردگار صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ اب جو لوگ اس سیدھی راہ میں رخنے ڈالتے، اللہ کے لئے بیٹے، پوتے، بیٹیاں یا دوسرے شریک تجویز کرتے، پھر ان پر بحثیں کرکے جدا جدا فرقے بنا رہے ہیں انھیں قیامت کے دن کی ہولناک تباہیوں سے خبردار کیجئے اور اس ہلاکت سے ڈرائیے جو اس دن انھیں یقینا پیش آنے والی ہے۔
Read the full tafseer →56۔ یہاں اختلاف سے مراد وہ اختلاف نہیں، جو حضرت مسیح (علیہ السلام) کے باب میں اہل حق اور اہل باطل کے درمیان ہے بلکہ وہ اختلاف مراد ہے جو خود اہل باطل یا غالی مسیحیوں ہی کے مختلف فرقوں کے درمیان ہے جن کے جھگڑوں سے تاریخ کلیسا بھری پڑی ہے۔ (آیت) ” الاحزاب “۔ مراد وہ فرقے ہیں جو حضرت مسیح (علیہ السلام) کے باب میں مسیحیوں کے درمیان بہت بڑی تعداد میں پیدا ہوچکے ہیں۔ اور یہود کے فرقے ان پر مستزاد۔
57۔ (آیت) ” یوم عظیم “۔ سے مراد ظاہر ہے کہ روز قیامت ہے، جو بااعتبار امتداد بھی بہت بڑا ہوگا اور بہ اعتبار اشتداد بھی۔ (آیت) ” مشھد “۔ سے مراد نفس شہود بھی ہوسکتا ہے اور مکان شہود بھی اور زمان شہود بھی۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–40
آیت نمبر 26 تا 40
ترجمہ : پھر پکی اور تازہ کھجوریں کھاؤ اور چشمہ کا پانی پیو اور بیٹے سے آنکھیں ٹھنڈی کرو عینًا تمییز ہے فاعل سے منقول ہے یعنی تو اس بچہ کو دیکھ کر آنکھوں کو ٹھنڈا کر کے سکون حاصل کر دوسرے بچوں کی طرف التفات نہ کر فاِمَّا میں ان شرطیہ کے نون کو ما زائدہ میں مدغم کردیا گیا ہے تَرَیِنَّ اس کا لام کلمہ اور عین کلمہ حذف کردیا گیا ہے عین کلمہ کی حرکت نقل کر کے را کو دے دی گئی اور یائے ضمیر کو التقاء ساکنین کی وجہ سے کسرہ دے دیا گیا اگر تو کسی بشر کو دیکھے اور وہ تیرے بچہ کے متعلق سوال کرے تو کہہ دینا کہ میں نے اس بچہ وغیرہ کے بارے میں لوگوں سے کلام کرنے سے رحمٰن کے لئے سکوت کا روزہ…
Read the full tafseer →فاختلف الاحزاب من بینہم سو پھر بھی مختلف گروہوں نے (اس کے بارے میں) باہم اختلاف ڈال دیا۔
اَلْاَحْزَابُسے مراد ہیں یہودی اور عیسائی یا نصاریٰ کے تینوں فرقے ‘ عیسائیوں کے تین (بڑے) فرقے ہوگئے (1) نسطوریہ فرقہ کہتا تھا کہ عیسیٰ ابن اللہ تھے۔ (2) یعقوبیہ فرقہ قائل تھا کہ عیسیٰ بعینہٖ خدا تھے خدا زمین پر اتر آیا تھا پھر آسمان پر چڑھ گیا۔ (3) ملکائیہ فرقہ کہتا تھا کہ عیسیٰ اللہ کے بندے اور رسول تھے۔
مِنْ بَیْنَہِمْمیں مِن زائد ہے یعنی عیسیٰ کے صحابیوں کے متعلق لوگوں کا اختلاف ہوگیا یا عیسیٰ کی قوت کے متعلق اختلاف ہوگیا۔
فویل للذین کفروا من مشہد یوم عظیم۔ سو ان کافروں کے لئے ایک بڑے دن کے آنے سے بڑی…
Read the full tafseer →(37) اور جس توحید کا میں تمہیں حکم دے رہا ہوں وہ سیدھا راستہ یعنی دین اسلام ہے تو کافروں نے باہم اختلاف ڈال دیا، بعض کہنے لگے کہ یہی اللہ ہیں بعض کہنے لگے کہ عیسیٰ ؑ اللہ کے بیٹے ہیں بعض بولے کہ اللہ کے شریک ہیں سو ان لوگوں کے لیے جنہوں نے حضرت عیسیٰ ؑ کے بارے میں باہم اختلاف کیا قیامت کے دن کے عذاب سے بہت بڑی خرابی ہے دوزخ میں پیپ اور خون کی ایک وادی ہے، اس کا نام ”ویل“ ہے یا یہ کہ اس سے مراد دوزخ کا گڑھا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد عذاب کی سختی ہے، اس دن یہ کافر کیسے شنوا اور بینا ہوجائیں۔
Read the full tafseer →فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَيْنِهِمْ : عیسیٰ ؑ کے متعلق حق بات تفصیل سے بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ پھر بنی اسرائیل سے باہر کے کسی گروہ نے نہیں بلکہ خود ان کے اپنے گروہوں نے آپس میں اختلاف کیا۔ ”مِنْۢ بَيْنِهِمْ“ میں اسی طرف اشارہ ہے۔ یہود نے انھیں ولد الزنا اور جادوگر قرار دیا اور نصاریٰ کئی گروہوں میں بٹ گئے، کسی نے کہا اللہ مسیح ہی تو ہے۔ (مائدہ : 72) کسی نے کہا مسیح اللہ کا بیٹا ہے۔ (توبہ : 30) کسی نے کہا مسیح تین (معبودوں) میں سے تیسرا ہے وغیرہ۔ مائدہ (73) یہود نے ان کی شان گھٹانے کی کوشش کی تو نصاریٰ نے انھیں ان کی حد سے بڑھا دیا۔ ہاں اہل حق نے یہی کہا کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فاختلف الاحزاب من بینہم، من زائدہ ہے یعنی اختلف الأحزاب بینہم، قتادہ نے کہا : یعنی جو ان کے درمیان اختلاف تھا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے اہل کتاب کے فرقوں میں اختلاف تھا۔ یہود قدح کرتے اور جادو کا الزام لگاتے۔ نصاریٰ میں سے نسطوریہ کہتے : وہ اللہ کا بیٹا ہے۔ ملکانیہ نے کہا : تین میں سے تیسرا ہے۔ یعقوبیہ نے کہا : وہ اللہ ہے۔ نصاریٰ نے افراط اور غلو کیا اور یہود نے تفریط اور کوتاہی کی۔ یہ بحث سورة النساء میں گزر چکی ہے۔ حضرت ابن عباس نے کہا : الاحزاب سے مراد وہ لوگ ہیں جو نبی کریم ﷺ کے خلاف گروہ درگروہ آئے تھے اور مشرکین میں سے جنہوں نے آپ کو جھٹلایا تھا۔
فویل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–37
1:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ذلک عیسیٰ ابن مریم، قول الحق الذی فیہ یمترون “ میں الحق سے مراد اللہ تعالیٰ ہیں۔
2:۔ عبد الرزاق اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے (آیت) ” الذی فیہ یمترون “ کے بارے میں سوال کیا کہ بنواسرائیل جمع ہوئے اور انہوں نے اپنے میں سے چار آدمی نکالے ہر گروہ میں سے ان کا علم نکالا گیا اور انہوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں مشورہ کیا جب ان کو اٹھایا گیا ان میں سے ایک نے کہا وہ اللہ ہے جو زمین پر اترے تھے اس نے زندہ کیا اور موت دی پھر آسمان کی طرف چڑھ گیا اور وہ یعقوبیہ تھے باقی تینوں افراد نے کہا انہوں نے جھوٹ کہا پھر ان میں سے دو…
Read the full tafseer →[فَاخْتَلَفَ : پھر اختلاف کیا ] [الْاَحْزَابُ : گروہوں نے ] [مِنْۢ بَيْنِهِمْ : ان لوگوں میں سے ] [فَوَيْلٌ: پس تباہی ہے ] [لِـلَّذِيْنَ : ان کے لئے جنھوں نے ] [كَفَرُوْا : انکار کیا ] [مِنْ مَّشْهَدِ يَوْمٍ عَظِيْمٍ : ایک عظیم دن کے دیکھنے کے وقت سے ]
Read the full tafseer →(فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ مَّشْھَدِ یَوْمٍ عَظِیْمٍ ) (سو کافروں کے لیے بڑی خرابی ہے جو ایک بڑے دن کی حاضری کے موقعہ پر ان کے سامنے آئے گی) اس سے قیامت کا دن مراد ہے جو اپنی سختی اور درازی کے اعتبار سے کافروں کے لیے یوم عظیم ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–40
قول مبرم و فیصلہء محکم
دربارۂ حقیقت عیسیٰ بن مریم صلی اللہ تعالیٰ علیٰ نبینا وعلیہما وبارک و سلم
قال اللہ تعالیٰ ۔ ذٰلک عیسیٰ ابن مریم۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ والینا یرجعون۔
یہاں تک حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت کا قصہ تفصیل سے بیان فرمایا تاکہ اصل حقیقت واضح اور منکشف ہوجائے۔ اب آگے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں یہود اور نصاریٰ کے اختلاف کا فیصلہ فرماتے ہیں۔
چناچہ فرماتے ہیں، یہ ہیں عیسیٰ پسر مریم جو فقط عورت سے بغیر باپ کے پیدا ہوئے ہیں۔ یہ فقط مریم (علیہ السلام) کے بیٹے ہیں ان کا کوئی باپ نہیں۔ ان کی صحیح شان اور صفت وہ ہے جو اوپر بیان ہوئی عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) وہ نہیں جن کو عیسائی…
Read the full tafseer →28:۔ یہ ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔ سوال یہ تھا کہ جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے بچپن ہی میں توحید کا اعلان کردیا اور مذکورہ بیان سے حضرت مریم (علیہا السلام) کی الوہیت کی بھی نفی ہوتی ہے تو پھر ان دونوں کو حاجات و مشکلات میں غائبانہ کیوں پکارا گیا تو اس کا جواب دیا گیا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے رفع کے بعد نصاریٰ میں اختلاف پیدا ہوگیا اور نصاریٰ کے علماء سوء نے توحید کے خلاف شرک کی تبلیغ شروع کردی اور خود حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو ابن اللہ اور نائب متصرف سمجھ کر پکارنے لگے۔ قالت النسطوریۃ منھم ھو ابن اللہ والملکانیۃ ثالث ثلٰثۃ وقالت الیعقوبیۃ ھو اللہ (قرطبی ج 11 ص 108) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–40
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں حضرت مریم (علیہ السلام) کا ذکر ہوا اور پھر عیسیٰ (علیہ السلام) کی غیر معمولی طریقے سے ولادت کا بیان آیا ، اس ضمن میں حضرت مریم (علیہ السلام) کی پریشانی کا حال بیان ہوچکا ہے پھر ہو اپنے بچے کو اٹھائے اپنی قوم کے پاس آئیں تو انہوں نے سخت طعن ملامت کی کہ تیرے والدین تو بڑے صالح لوگ تھے ، تم یہ بغیر نکاح کے بچہ کیسے لے آئی حضرت مریم (علیہ السلام) نے خود جواب دینے کی بجائے بچے کی طرف اشارہ کی کہ سارا معاملہ خود اسی سے پوچھ لو ، اللہ نے بچے کو قوت گویائی عطا فرمائی تو بچہ نے بول کر کہا کہ میں اللہ کا بندہ ہوں ، مجھے اللہ نے کتاب دی ہے اور نبی بنا کر بھیجا ہے ، مجھے نماز…
Read the full tafseer →فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَيْنِہِمْ 0ۚ فَوَيْلٌ لِّـلَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ مَّشْہَدِ يَوْمٍ عَظِيْمٍ 37
الاختلافُ والمخالفة
والاختلافُ والمخالفة : أن يأخذ کلّ واحد طریقا غير طریق الآخر في حاله أو قوله، والخِلَاف أعمّ من الضّدّ ، لأنّ كلّ ضدّين مختلفان، ولیس کلّ مختلفین ضدّين، ولمّا کان الاختلاف بين النّاس في القول قد يقتضي التّنازع استعیر ذلک للمنازعة والمجادلة، قال :
فَاخْتَلَفَ الْأَحْزابُ [ مریم/ 37]
( خ ل) الاختلاف والمخالفۃ
الاختلاف والمخالفۃ کے معنی کسی حالت یا قول میں ایک دوسرے کے خلاف کا لفظ ان دونوں سے اعم ہے کیونکہ ضدین کا مختلف ہونا تو ضروری ہوتا ہے مگر مختلفین کا ضدین…
Read the full tafseer →1 ؎ ایک گروہ ان کو خدا اور خدا کا بیٹا کہنے لگا دونوں کی بڑے دن میں یعنی قیامت میں خرابی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْ م بَیْنِہِمْ ج فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ مَّشْھَدِ یَوْمٍ عَظِیْمٍ (مریم : 37)
(پھر ان کے اندر سے مختلف فرقوں نے باہم اختلاف کیا، پس ہلاکت ہے ان لوگوں کے لیے جنھوں نے کفر کیا، اس دن کی حاضری سے جو بہت بڑا ہے۔ )
حقیقتِ مسیح سے عیسائیوں میں اختلافات
گزشتہ آیات میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی زبان سے جو کچھ بیان ہوا وہی حضرت مسیح کی اصل حقیقت ہے اور اس بیان کو دیکھ لینے کے بعد کوئی الجھن باقی نہیں رہ جاتی۔ ہر بات اپنے تئیں بالکل واضح ہے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت کیسے ہوئی، آپ کی والدہ کی اصل حیثیت کیا ہے، آپ کو اللہ تعالیٰ نے بغیر باپ کے کیوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
فہم القرآن
ربط کلام : حقیقت واضح ہونے کے باوجود عیسائی اور یہودی اختلاف کرتے ہیں۔ عیسائیوں، یہودیوں اور حق کا انکار کرنے والوں کا انجام۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم [ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ذات، کردار اور عقیدہ کے بارے میں علمی، عقلی اور تاریخی حقائق کے حوالے سے کھول کر بیان کیا ہے کہ مریم [ کے ماں باپ کون اور کس قدر صالح کردار لوگ تھے۔ حضرت مریم [ کی پیدائش، ان کی تربیت، ان کا عیسیٰ (علیہ السلام) کو جنم دینا، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا اپنی والدہ کی صفائی پیش کرنا اور اپنی ذات کے بارے میں وضاحت کرنے کے ساتھ، اپنا عقیدہ بتلا تے ہوئے لوگوں کو ایک رب کی عبادت کی دعوت دینا،…
Read the full tafseer →احزاب کا مراد :
37: فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ (پس پھر بھی مختلف گروہوں نے باہم اختلاف ڈالا) الحزب وہ فرقہ جو دوسروں سے راستے میں منفرد ہو یہ تین فرقے ہیں نمبر 1۔ نسطور یہ نمبر 2۔ یعقوبیہ نمبر 3۔ ملکانیہ۔
مِنْم بَیْنِہِمْ (اپنے مابین) عیسیٰ (علیہ السلام) کے اصحاب کے مابین نمبر 2۔ اپنی قوم کے درمیان نمبر 3۔ لوگوں کے درمیان۔ اور وہ اس طرح ہے کہ نصارٰی نے عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق رفع کے وقت اختلاف کیا پھر انہوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ وہ تین کے قول کی طرف رجوع کریں یہ ان کے زمانہ میں سب سے زیادہ علم والے تھے۔ ان کے نام یعقوب ٗنسطور، ملکاء تھے۔
نمبر 1۔ یعقوب کا قول وہ بعینہٖ اللہ تعالیٰ ہے جو…
Read the full tafseer →37۔ فاختلف الاحزاب من بینھم، اس سے مراد یہودی و عیسائی ی انصاری کے تینوں فرقے مراد ہیں، عیسائیوں کے تین بڑے فرقے ہیں ۔ نسطوریہ، ملکانیہ، یعقوبیہ، فویل للذین کفرو من مشھد یوم عظیم، یوم سے قیامت کا دن مراد ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
37۔ 38:۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کی نصیحت کا نتیجہ ذکر فرمایا کہ جو لوگ اپنے آپ کو عیسیٰ (علیہ السلام) کا پیرو کہتے ہیں عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد ان لوگوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کی نصیحت کو بالکل رائیگاں کردیا اور بجائے خالص اللہ کی عبادت کے ان میں کے کچھ لوگ عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کہنے لگے کچھ خدا کا بیٹا اور کچھ خدا کا شریک اور ان میں کے جو لوگ عیسیٰ (علیہ السلام) کی نصیحت پر قائم تھے ان سے لڑے اور ان کو مارا اس لڑائی کا ذکر اس وقت کی تاریخ کی کتابوں میں تفصیل سے ہے پھر فرمایا ایسے منکر شریعت لوگوں کو قیامت کے دن بڑی خرابی پیش آنے والی ہے اب دنیا میں تو یہ لوگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
آیت 37
جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ بن مریم علیھا السلام کا حال بیان فرما دیا جس میں کوئی شک اور شبہ نہیں تو آگاہ فرمایا کہ یہود و نصاریٰ اور دیگر فرقے اور گروہ جو گمراہی کے راستے پر گامزن ہیں، اپنے اپنے طبقات کے اختلاف کے مطابق، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں اختلاف کرتے ہیں۔ اس بارے میں ایک گروہ افراط اور غلو میں مبتلا ہے تو دوسرا ان کی شان میں تنقیص اور تفریط کرنے والا ہے۔ پس ان میں سے کچھ لوگ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ مانتے ہیں۔ بعض ان کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا قرار دیتے ہیں، بعض کہتے ہیں وہ تین میں سے ایک ہیں، بعض ان کو رسول بھی تسلیم نہیں کرتے بلکہ وہ بہتان طرازی کرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–45
اپنی ذات کی تعریف بغیر فخر کے جائز ہے
قول باری ہے (وبرا بوالدتی ولم یجعلنی جبارًا شقیاً والسلام علی یوم ولدت ویوم اموت ویوم ابعث حیا۔ اور مجھے اپنی والدہ کا حق ادا کرنے والا بنایا، مجھ کو جبار اور شقی نہیں بنایا، سلام ہے مجھ پر جبکہ میں پیدا ہوا اور جبکہ میں مرون اور جب کہ زندہ کر کے اٹھایا جائوں) اس میں یہ دلالت موجود ہے کہ انسان اپنی ذات کو تعریف اور نیکی کی صفات سے متصف کرسکتا ہے بشرطیکہ اس کی نیت یہ ہو کہ دوسرے اشخاص بھی اس نیکی اور بھلائی سے روشناس ہو کر اس پر عمل پیرا ہو سکیں، اس کے ذریعے وہ ڈینگ مارنے اور اپنی خوبیوں کے فخر یہ اظہار کی نیت نہ رکھتا ہو۔ اس کی مثال حضرت یوسف (علیہ…
Read the full tafseer →47 حق کے واضح ہوجانے کے باوجود لوگوں کا باہمی اختلاف : سو یہ امر پوری طرح واضح ہوگیا کہ حق و ہدایت اور سلامتی و نجات کا راستہ صرف توحید کا راستہ ہے۔ یہ مختلف جماعتیں پھر بھی آپس میں اختلاف میں پڑگئیں۔ چناچہ کچھ نے ان کو خدا اور خدا کا بیٹا قرار دیا اور پھر کفارہ کا خود ساختہ عقیدہ گھڑا۔ اور کچھ نے آپ (علیہ السلام) کے نسب طاہر میں طعن کیا اور آپ کو ولدالزنا قرار دیا ۔ والعیاذ باللہ ۔ حالانکہ آپ کے بارے میں اصل حقیقت بیان کردی گئی کہ وہ خدا کے برگزیدہ بندے اور اس کے سچے رسول تھے۔ جو باپ کے بغیر اللہ تعالیٰ کے کلمہ " کن " سے پیدا ہوئے تھے اور بس۔ اسی لیے آپ کو " کلمۃ اللہ " اور " روح اللہ " کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–40
اللہ کی شان ِبے نیازی اور قیامت کے برحق ہونے کی دلیل
تشریح : یہ آیات ایک تو اللہ کی وحدانیت کو ثابت کرتی ہیں کہ وہ تو کسی کی بھی مدد سے بےنیاز ہے۔ اور جو لوگ پیغمبر کی تعلیمات سے ہٹ کر کفر و شرک کرتے ہیں تو ان کو ہوشیار ہوجانا چاہیے کہ ان کا انجام موت پر ہونے والا ہے جیسا کہ صبح سے شام تک یہ عمل ہو رہا ہے۔ کوئی مر رہا ہے کوئی پیدا ہو رہا ہے، یعنی کوئی آرہا ہے اور کوئی جا رہا ہے۔ جو جا رہا ہے اس کو سوچنا چاہیے کہ مرنے کا مطلب ہے دوبارہ زندہ ہو کر اس زندگی کے تنائج کے مطابق انعام حاصل کرنا یا پھر سزا پانا۔ ہر ایک کو اس امتحان اور نتیجہ پر نظر رکھ کر عمل کرنے چاہییں۔ یہ لفظ ” ہوجا “ اور فرمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–41
(رکوع نمبر 2)
اسرارومعارف
اور اے حبیب ﷺ اس سے عجیب تر اور فکر انگیز واقعہ ایسی کتاب اللہ میں سنا دیجئے جو حضرت مریم (علیہا السلام) کا ہے اور جس کے متعلق یہود اور نصاری نے اپنے اپنے نظریات گھڑ رکھے ہیں کہ اس کی حقیقی اور واقعی صورت کیا ہے یہ بات تب شروع ہوتی ہے جب حضرت مریم (علیہا السلام) اپنے گھر والوں سے الگ ہو کر غسل وغیرہ کرنے کے لیے پردہ میں چلی گئیں تو وہاں ان کے پاس حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو بھیجا جس نے انسانی شکل میں ظاہر ہو کر ان سے بات کرنا چاہی ، یاد رہے حضرت مریم (علیہا السلام) کا ذکر آل عمران میں گذر چکا ہے ۔
(اولیاء اللہ سے فرشتہ کا ہمکلام ہونا)
کہ ان کی والدہ نے منت مانی تھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
ف 13 یعنی قیامت کے دن نہایت ذلیل و خوار ہوں گے اور خدا کے عذاب میں گرفتار کئے جائیں گے۔
Read the full tafseer →(19:37) الاحزاب۔ گروہ ، ٹولیاں ۔ جماعتیں۔ حزب کی جمع۔ من بینہم۔ آپس میں۔
ویل۔ ہلاکت۔ عذاب۔ دوزخ کی ایک وادی۔ عذاب کی شدت ۔ صمعی نے کہا ہے کہ ویل بےمعنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ حسرت کے موقعہ پر ویل۔ تحقیر کے موقعہ پر ویس اور ترحم کے موقعہ پر ویح کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً یویلنا من بعثنا من مرقدنا (36:52) واحسرتا ہمیں ہماری خواب گاہوں سے کس نے جگا اٹھایا۔ آیۂ ہذا میں ہلاکت و عذاب کے معنوں میں آیا ہے۔
مشھد۔ یہ مصدر میمی ہے بمعنی شھود۔ حاضر ہونا۔ موجود ہونا۔ (باب کرم، سمع) اسم ظرف مکان بھی ہوسکتا ہے۔ لوگوں کے حاضر ہونے کی جگہ۔ اور اسم ظرف زمان بھی ہوسکتا ہے۔ حاضری کا وقت۔
یوم عظیم۔ موصوف صفت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
لغات القرآن آیت نمبر 37 تا 40
الاحزاب (حزب) جماعتیں، گروہ۔ ویل خرابی، بربادی۔ مشھد حاضر ہونے کی جگہ۔ اسمع بھم کیا کچھ سنیں گے۔ ابصربھم کیا کچھ دیکھیں گے۔ یوم الحسرۃ حسرت و افسوس کا دن۔ نرث ہم مالک ہوں گے۔ ہم وارث ہوں گے۔
تشریح : آیت نمبر 37 تا 40
نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے نبی اور رسول ہیں۔ ان کے متعلق نصاریٰ کا یہ گمان کہ وہ اللہ کے بیٹے ہیں عقیدہ کی زبردست غلطی ہے جس کا انجام قیامت کے دن نظر آئے گا جس پر وہ پچھتائیں گے۔ لیکن اس دن سوائے حسرت اور افسوس کے ان کے ہاتھ کچھ نہ آئے گا۔ فرمایا کہ عقیدے کی اس گندی میں مبتلا میں نصاریٰ اور یہود و جو حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
ارشاد ہوتا ہے ایسے منکر شریعت لوگوں کو قیامت کے دن بڑی خرابی پیش آنے والی ہے۔ اب دنیا میں تو یہ لوگ اللہ کے رسول کی نصیحت کو رائیگاں کر رہے ہیں، لیکن قیامت کے دن اس نصیحت کو سننے کو ان کے کان، اور نصیحت کے رائیگاں کرنے کے عذاب کو دیکھنے کے لئے ان کی آنکھیں کھل جاویں گی۔ مگر وہ بےوقت کا سننا دیکھنا ان کے کچھ کام نہ آوے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–43
[17] عیسائیوں میں کئی فرقے ہوگئے جن کے جھگڑوں سے کلیسا کی تاریخ بھری پڑی ہے۔
[18] یعنی روز قیامت۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–40
(ف 2) حضرت مسیح (علیہ السلام) کی پیدائش ایک طرف یہودیوں کے لئے ٹھوکر کا باعث ہوئی اور دوسری جانب مسیحی حضرات اس کی وجہ سے گمراہی کے عمیق غار میں جا گرے ۔
عیسائی مذہب کے مبلغین نے یہ سمجھا کہ مسیح (علیہ السلام) کی یہ حیرت انگیز ولادت کی خدائی پر دال ہے ، ورنہ ایک انسان کیونکر قوانین قدرت کو توڑ سکتا ہے ، اللہ تعالیٰ نے بتایا ، یہ بات غلط ہے مسیح (علیہ السلام) کا تولد ہونا اس کی الوہیت پر دلالت نہیں کرتا ، بلکہ میری جلالت قدرت کا ایک ثبوت ہے میں جب چاہتا ہوں محض ارادہ سے بڑی سے بڑی کائنات کو پیدا کرلیتا ہوں میرے لئے کسی سہارے اور شریک کی مطلقا ضرورت نہیں ، قول الحق سے غرض یہ ہے کہ قرآن نے مسیح…
Read the full tafseer →-37 پھر اہل کتاب کے فرقوں نے آپ س میں اختلاف ڈال لیا پس جو لوگ کفر کے مرتکب ہو رہے ہیں ان کے لئے ایک بڑے دن کے آنے سے سخت تباہی اور خرابی ہے۔ یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں اہل کتاب کے فرقوں نے آپ س میں اختلاف کیا کوئی ان کو خدا کا بیٹا کہنے لگا کوئی اقانیم ثلاثہ کا قائل ہو۔ کسی نے ان کی نبوت کا انکار کیا اور ان کو ملعون و مردود قرار دیا۔
یوم عظیم قیامت کے دن کو فرمایا کیونکہ اس کی ہولناکی اور اس کی سختی کے باعث وہ دن بڑا ہوگا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آیت عام ہو اور یہ مطلب ہو کہ خدا کی عبادت میں لوگوں نے اختلاف ڈال لیا اور کفر و شرک کے مرتکب ہوگئے تو ایسے سب لوگوں کے لئے قیامت کے دن…
Read the full tafseer →ف 9۔ یعنی انکار توحید کا کر کے طرح طرح کے مذاہب ایجاد کرلیئے۔
10۔ مراد اس سے قیامت ہے کہ باعتبار امتداد و اشتداد کے عظیم ہوگا۔
Read the full tafseer →مختلف جماعتوں نے مختلف نوعیت کے اختلاف ڈال رکھے ہیں :
37۔ زیر نظر آیت ہم کو عیسائیت کے مختلف فرقوں اور گروہوں میں تقسیم طرح مختلف فرقوں اور گروہوں میں تقسیم نہ ہونا بلکہ ایک ملت ہو کر رہنا اور یہ بھی کہ عیسائیت کے بنیادی عقائد ایک ہی طرح کے تھے لیکن بعد میں فروعات میں اختلاف ہوا جو ایک فطری چیز تھی لیکن احبارو رہبان نے فروعی اختلاف کو اتنی ہوا دی کہ ان کو اصل عقائد پر بھی ترجیح دینے لگے اور دین کا سارا دارومدار اپنی فروعات پر رکھ دیا اور یہی بات ان کی گمراہی کا باعث ہوئی اور تم ایسا مت کرنا ورنہ تم بھی ہلاک ہوجاؤ گے لیکن ہوا وہی جس سے منع کیا گیا تھا ، بدقسمتی سے آج مسلمانوں نے بھی اصل عقائد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–38
Commentary
ذَٰلِكَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ
"This is ` Isa, the son of Maryam." - 19:34.
The beliefs of the Jews and the Christians about Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) were on such opposite extremes that the Christians exalted him to such a level of reverence that they regarded him as the son of Allah. The Jews on the other hand, denigrated him maliciously and called him (God forbid) the illegitimate son of Yusuf (Joseph) the carpenter. Allah Ta` ala has pointed out the error of both the views in these verses and clarified the correct position.
The phrase قَوْلَ الْحَقِّ (translated in the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–39
24. That is, the sects of the Christians.
Read the full tafseer →