Maryam 19:36

Maryam · from ayah 36

19:36

وَاِنَّ اللّٰهَ رَبِّیْ وَرَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ ؕ— هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ ۟وَاِنَّ اللّٰهَ رَبِّىۡ وَرَبُّكُمۡ فَاعۡبُدُوۡهُ ‌ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسۡتَقِيۡمٌ

اور بےشک خدا ہی میرا اور تمہارا پروردگار ہے تو اسی کی عبادت کرو۔ یہی سیدھا رستہ ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

[Jesus said], "And indeed, Allah is my Lord and your Lord, so worship Him. That is a straight path."

— Saheeh International

Juz 16 · Ruku 2 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Maryam

All translations of 19:36

(اور عیسٰیؑ نے کہا تھا کہ) "اللہ میرا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی، پس تم اُسی کی بندگی کرو، یہی سیدھی راہ ہے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور بےشک خدا ہی میرا اور تمہارا پروردگار ہے تو اسی کی عبادت کرو۔ یہی سیدھا رستہ ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

میرا اور تم سب کا پروردگار صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ تم سب اسی کی عبادت کرو، یہی سیدھی راه ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور (اے پیغمبر ! لوگوں سے کہہ دو کہ :) یقینا اللہ میرا بھی پروردگار ہے اور تمہارا بھی پروردگار، اس لیے اس کی عبادت کرو، یہی سیدھا راستہ ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور عیسیٰ نے کہا بیشک اللہ رب ہے میرا اور تمہارا تو اس کی بندگی کرو، یہ راہ سیدھی ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور بیشک اللہ میرا (بھی) رب ہے اور تمہارا (بھی) رب ہے سو تم اسی کی عبادت کیا کرو، یہی سیدھا راستہ ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور بیشک اللہ ہی میرا رب اور تمہارا رب ہے، سو اس کی عبادت کرو، یہ سیدھا راستہ ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور (آپ انھیں بتائیں کہ) اللہ ہی میرا اور تمہارا پروردگار ہے لہذا اسی کی عبادت کرو، یہی سیدھی راہ ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور بیشک اللہ ہی میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی تو اسی کی بندگی کرو۔ یہی سیدھی راہ ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور عیسیٰ ؑ نے یہ بھی کہا کہ بلاشبہ اللہ ہے رب میرا بھی اور تمہارا بھی، پس تم لوگ اسی کی بندگی کرو کہ خالص توحید والا یہی ہے سیدھا راستہ۔

— مولانا اسحاق مدنی

اور بیشک اللہ میرا بھی پروردگار ہے اور تمہارا بھی پروردگار ہے سو اسی کی عبادت کرو یہی (دین کا) سیدھا راستہ ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور یقیناً اللہ ہی ہے میرا رب بھی اور تمہارا رب بھی تو تم اسی کی بندگی کرو۔ یہی سیدھا راستہ ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور بیشک اللہ ہی میرا اور تمہارا پروردگار ہے تو اسی کی عبادت کرو۔ یہی سیدھا راستہ ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

(Jesus had said): "Indeed Allah is my Lord and your Lord, so serve Him alone. This is the Straight Way."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And (O Prophet, say to the people,) :Allah is surely my Lord and your Lord. So, worship Him. This is the straight path.

— Muhammad Taqi Usmani

And (O Prophet, say to the people,) :Allah is surely my Lord and your Lord. So, worship Him. This is the straight path.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

[`Isa said]: "And verily, Allah is my Lord and your Lord. So worship Him. That is the straight path."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And lo! Allah is my Lord and your Lord. So serve Him. That is the right path.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[Jesus said], "And indeed, Allah is my Lord and your Lord, so worship Him. That is a straight path."

— Saheeh International

(Baby Jesus said), "Worship God who is my Lord as well as yours. This is the straight path".

— Muhammad Sarwar

And surely Allah is my Lord and your Lord, therefore serve Him; this is the right path.

— Muhammad Habib Shakir

And verily Allah is my Lord and your Lord; so worship Him; this is a way straight.

— Abdul Majid Daryabadi

Verily Allah is my Lord and your Lord: Him therefore serve ye: this is a Way that is straight.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 19:36

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 34–37

حضرت عیسیٰ کے بارے میں مختلف اقوال۔ اللہ تعالیٰ اپنے رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے فرماتا ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کے واقعہ میں جن جن لوگوں کا اختلاف تھا ان میں جو بات صحیح تھی وہ اتنی ہی تھی جتنی ہم نے بیان فرما دی۔ قول کی دوسری قرأت قول بھی ہے۔ ابن مسعود کی قرأت میں قال الحق ہے۔ قول کا رفع زیادہ ظاہر ہے جیسے (اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِيْنَ01407ۧ) 2۔ البقرة :147) ، میں۔ یہ بیان فرما کر کہ جناب عیسیٰ ؑ اللہ کے نبی تھے اور اس کے بندے پھر اپنے نفس کی پاکیزگی بیان فرماتا ہے کہ اللہ کی شان سے گری ہوئی بات ہے کہ اس کی اولاد ہو۔ یہ جاہل عالم جو افواہیں اڑا رہے ہیں ان سے اللہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة مَرْیَم 23 یہاں عیسائیوں کو بتایا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کی دعوت بھی وہی تھی جو تمام دوسرے انبیاء (علیہم السلام) لے کر آئے تھے۔ انہوں نے اس کے سوا کچھ نہیں سکھایا تھا کہ صرف خدا ے واحد کی بندگی کی جائے۔ اب یہ جو تم نے ان کو بندے کے بجائے خدا بنا لیا ہے اور انہیں عبادت میں اللہ کے ساتھ شریک کر رہے ہو، یہ تمہاری اپنی ایجاد ہے۔ تمہارے پیشوا کی یہ تعلیم ہرگز نہیں تھی۔ (مزید تفصیل کے لیئے ملاحظہ تفہیم القرآن جلد اور عمران، حاشیہ 68، مائدہ، حاشیہ 100۔ 101۔ 130۔ جلد چہارم الزخرف حواشی 57۔ 58۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 34–38

خلاصہ تفسیر یہ ہیں عیسیٰ بن مریم (جن کے اقوال و احوال مذکور ہوئے جس سے ان کا بندہ قبول ہونا معلوم ہوتا ہے نہ جیسے کہ عیسائیوں نے ان کو بندوں کی فہرست سے خارج کرکے خدا تک پہنچا دیا ہے اور نہ ویسے جیسا کہ یہودیوں نے ان کو مقبولیت سے خارج کر کے طرح طرح کی تہمتیں لگائی ہیں) میں (بالکل) سچی بات کہہ رہا ہوں جس میں یہ (افراط وتفریط کرنے والے) لوگ جھگڑ رہے ہیں (چنانچہ یہود و نصاریٰ کے اقوال اوپر معلوم ہوئے اور چونکہ یہود کا قول ظاہراً بھی موجب تنقیص نبی تھا جو کہ بداہتاً باطل ہے اس لیے اس کے رد کی طرف اس مقام پر توجہ نہیں فرمائی بخلاف قول نصارٰی کے کہ ظاہراً مثبت زیادت کمال تھا کہ نبوت کے ساتھ خدا کا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَإِنَّ اللَّهَ رَبِّي وَرَبُّكُمْ فَاعْبُدُوهُ هَذَا صِرَاطٌ مُسْتَقِيمٌ۔ عبرانی میں " اب " کا صحیح مفہوم : جملہ معترضہ ختم ہونے کے بعد یہ حضرت عیسیٰ کے ارشادات کا آخری ٹکڑا نقل ہوا ہے کہ انہوں نے مزید فرمایا کہ اللہ ہی میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی تو اسی کی بندگی کرو، خدا تک پہنچانے والی سیدھی راہ یہی ہے۔ انجیلوں میں حضرت عیسیٰ کی زبان سے یہ جو نقل ہوتا ہے کہ " میرا باپ اور تمہارا باپ " یہ قرآن نے اس کی صحیح تعبیر بتائی ہے۔ عبرانی زبان میں " اب " باپ اور رب دونوں معنوں میں آتا ہے۔ اس کے صحیح مفہوم کا تعین اس کے محل استعمال سے ہوتا ہے۔ ظاہر ہے کہ " میرا باپ اور تمہارا باپ " کے فقرے میں یہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 36–37

37۔ 1 یہاں الاحزاب سے مراد کتاب کے فرقے اور خود عیسائیوں کے فرقے ہیں۔ جنہوں نے حضرت عیسیٰ ؑ کے بارے میں باہم اختلاف کیا۔ یہود نے کہا کہ وہ جادوگر اور یوسف نجار کے بیٹے ہیں نصا ریٰ کے ایک فرقے نے کہا کہ وہ ابن اللہ ہیں۔ (کیتھولک) فرقے نے کہا وہ ثالث ثَلَاثلَۃِ (تین خداؤں میں سے تیسرے) ہیں اور تیسرے فرقے یعقوبیہ (آرتھوڈکس) نے کہا، وہ اللہ ہیں۔ پس یہودیوں نے تفریط اور تقصیر کی عیسائیوں نے افراط وغلو (الیسرا لتفاسیر، فتح القدیر) 37۔ 2 ان کافروں کے لئے جنہوں نے عیسیٰ ؑ کے بارے میں اس طرح اختلاف اور افراط کا ارتکاب کیا، قیامت والے دن جب وہاں حاضر ہوں گے، ہلاکت ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 34–41

19: اس پورے واقعے کو ذکر فرما کر یہ نتیجہ نکالا گیا ہے کہ عیسائیوں اور یہودیوں نے حضرت عیسیٰ ؑ کے بارے میں جو افراط وتفریط اختیار کر رکھی ہے وہ حقیقت نہیں ہے۔ نہ وہ الزامات درست ہیں جو یہودیوں نے ان پر لگا رکھے ہیں، اور نہ انہیں اللہ تعالیٰ کا بیٹا ماننا صحیح ہے جیسا کہ عیسائیوں نے مان رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو کسی بیٹے کی ضرورت نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

وان اللہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صراط مستقیم (91 : 63) ” اللہ میرا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی ‘ بس تم اسی کی بندگی کرو ‘ یہی سیدھی راہ ہے “۔ لہٰذا عیسیٰ کی شہادت اور ان کے قصے کی اس شہادت کے بعد اب اوہام اور اساطیر اور قصے ‘ کہانیوں کی اب کوئی گنجائش نہیں۔ یہ تبصرہ مشیت اور قرار داد کی صورت میں کیا گیا ہے۔ اس تقریر اور قرار داد کے بعد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں مختلف پارٹیوں کے اختلافات پر تبصرہ کیا جاتا ہے کہ اس حقیقت کے آنے کے بعد اب ان اختلافات کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ فاختلف الاحزاب من بینھم (91 : 73) ” مگر پھر مختلف گروہ باہم اختلاف کرنے لگے “۔ قیصر روم آفنطین نے پادریوں کیا یک مجلس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 36–37

8 یہ کس نے کہا ؟ بعض کے نزدیک یہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کا مقولہ ہے۔ گویا پیشتر حضرت مسیح کی جو گفتگو (قَالَ اِنِّىْ عَبْدُ اللّٰهِ ڜ اٰتٰىنِيَ الْكِتٰبَ وَجَعَلَنِيْ نَبِيًّا) 19 ۔ مریم :28) سے نقل کی گئی تھی، یہ اس کا تکملہ ہوا۔ درمیان میں مخاطبین کی تنبیہ کے لیے (ذٰلِكَ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ ) 19 ۔ مریم :34) سے حق تعالیٰ کا کلام تھا۔ میرے نزدیک بہتر یہ ہے کہ اس کو (وَاذْكُرْ فِى الْكِتٰبِ مَرْيَمَ ۘاِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ اَهْلِهَا مَكَانًا شَرْقِيًّا) 19 ۔ مریم :16) کے ساتھ لگایا جائے۔ یعنی (اے محمد ﷺ کتاب میں مریم و مسیح کا حال سنا کر جو مذکور ہوچکا، کہہ دو کہ میرا اور تمہارا سب کا رب…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 35–36

آیت 35 مَا کَانَ لِلّٰہِ اَنْ یَّتَّخِذَ مِنْ وَّلَدٍلا سُبْحٰنَہٗط اِذَا قَضآی اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَہٗ کُنْ فَیَکُوْنُ یعنی حضرت مسیح علیہ السلام کی ولادت کے سلسلے میں باپ کا حصہ اللہ تعالیٰ کے ایک حرف ”کُن“ کے ذریعے سے پورا ہوا ‘ جبکہ باقی سارا عمل عام فطری اور طبعی طریقے سے تکمیل پذیر ہوا۔ اسی لیے آپ علیہ السلام کو کلمۃٌ منہُ آل عمران : 45 یعنی اللہ کا خاص کلمہ قرار دیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 35–36

32 اللہ کو بیٹے یا کسی مددگار کی قطعاً ضرورت نہیں :۔ اللہ تعالیٰ کو کسی کو بیٹا بنانے کی قطعا ً ضرورت نہیں ہے، کیونکہ جب سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش سے پہلے ہی یہ کارخانہ کائنات ٹھیک طرح چل رہا تھا تو پھر بیٹا بنانے کی ضرورت کہاں سے آگئی ؟ علاوہ ازیں ایسی باتیں اللہ تعالیٰ کی شان کے شایان بھی نہیں ہیں وہ اس قسم کی کمزوریوں اور مجبوریوں سے بالاتر اور پاک ہے نیز جب اس کے سارے کام فقط کن کا حکم دینے سے ہوجاتے ہیں۔ فورا ً اسباب و وسائل مہیا ہونا شروع ہوجاتے ہیں اور وہ چیز ہو کے رہتی ہے تو پھر اسے کسی کو بیٹا یا شریک بنانے کی ضرورت بھی کیا ہے ؟

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

55۔ (آیت) ” ان اللہ “۔ الخ یہ رسول اللہ ﷺ کو حکم مل رہا ہے کہ آپ اپنی طرف سے کہہ دیجئے۔ التقدیر فقل یا محمد ان اللہ ربی وربکم الخ (کبیر) (آیت) ” ھذا “۔ مراد ان امور سے ہے جن کا ذکر ابھی اوپر آچکا ہے۔ یعنی حق تعالیٰ کی توحید اور شرک سے تبری کا مل۔ اے ما ذکر من التوحید (روح)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 26–40

آیت نمبر 26 تا 40 ترجمہ : پھر پکی اور تازہ کھجوریں کھاؤ اور چشمہ کا پانی پیو اور بیٹے سے آنکھیں ٹھنڈی کرو عینًا تمییز ہے فاعل سے منقول ہے یعنی تو اس بچہ کو دیکھ کر آنکھوں کو ٹھنڈا کر کے سکون حاصل کر دوسرے بچوں کی طرف التفات نہ کر فاِمَّا میں ان شرطیہ کے نون کو ما زائدہ میں مدغم کردیا گیا ہے تَرَیِنَّ اس کا لام کلمہ اور عین کلمہ حذف کردیا گیا ہے عین کلمہ کی حرکت نقل کر کے را کو دے دی گئی اور یائے ضمیر کو التقاء ساکنین کی وجہ سے کسرہ دے دیا گیا اگر تو کسی بشر کو دیکھے اور وہ تیرے بچہ کے متعلق سوال کرے تو کہہ دینا کہ میں نے اس بچہ وغیرہ کے بارے میں لوگوں سے کلام کرنے سے رحمٰن کے لئے سکوت کا روزہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وان اللہ ربی وربکم فاعبدوہ اور (عیسیٰ نے یہ بھی کہا کہ) اللہ میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی پس اس کی عبادت کرو۔ اِنَّ اللّٰہ رَبِّیْ وَرَبُّکُمْکہنے سے عقیدہ کو درست کرنے اور قوت نظریہ کا کمال حاصل کرنے کی طرف اشارہ ہے اور قوت عملیہ کا کمال حاصل کرنے کی طرف بھی کہ عملی ممنوعات سے پرہیز رکھو اور مامورات کو ادا کرو یعنی اللہ کے احکام کے پابند ہوجاؤ۔ ہذا صراط مستقیم۔ یہ سیدھا راستہ ہے یعنی عقیدہ اور عمل دونوں کو درست کرلینا سیدھا راستہ ہے جس کے صحیح ہونے کی اللہ کی طرف سے شہادت دی گئی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(36) غرض کہ جب حضرت عیسیٰ ؑ اپنی قوم کو رسالت کی دعوت دینے کے لیے آئے تو فرمایا کہ میں اللہ تعالیٰ کا بندہ ہوں اور اللہ تعالیٰ میرا بھی رب اور خالق و رازق ہے اور تمہارا بھی رب اور خالق و رازق ہے تو خاص اسی کی توحید کے قائل ہوجاؤ۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاِنَّ اللّٰهَ رَبِّيْ وَرَبُّكُمْ۔۔ : یہ گود میں عیسیٰ ؑ کے کلام کا آخری حصہ اور خلاصہ ہے۔ اس کا عطف ”قَالَ اِنِّىْ عَبْدُ اللّٰهِ“ پر ہے، یعنی انھوں نے کہا کہ بیشک میں اللہ کا بندہ ہوں، اس کے بعد اللہ کی عطا کردہ نعمتیں بیان کیں، درمیان میں ”ذٰلِكَ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ“ سے ”كُنْ فَيَكُوْن“ تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے جملہ معترضہ ہے، پھر عیسیٰ ؑ کی اس بات ”ۭوَاِنَّ اللّٰهَ رَبِّيْ وَرَبُّكُمْ۔۔“ پر ان کا کلام مکمل ہوتا ہے۔ یعنی عبادت اسی کا حق ہے جو ہمارا رب ہے، میری اور تمہاری پرورش کرنے والا ہے، سو اسی کی عبادت کرو، یہی سیدھا راستہ ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

فاعبدوہ ھذا صراط مستقیم۔ یعنی دین مستقیم جس میں کوئی کنجی نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 34–37

1:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ذلک عیسیٰ ابن مریم، قول الحق الذی فیہ یمترون “ میں الحق سے مراد اللہ تعالیٰ ہیں۔ 2:۔ عبد الرزاق اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے (آیت) ” الذی فیہ یمترون “ کے بارے میں سوال کیا کہ بنواسرائیل جمع ہوئے اور انہوں نے اپنے میں سے چار آدمی نکالے ہر گروہ میں سے ان کا علم نکالا گیا اور انہوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں مشورہ کیا جب ان کو اٹھایا گیا ان میں سے ایک نے کہا وہ اللہ ہے جو زمین پر اترے تھے اس نے زندہ کیا اور موت دی پھر آسمان کی طرف چڑھ گیا اور وہ یعقوبیہ تھے باقی تینوں افراد نے کہا انہوں نے جھوٹ کہا پھر ان میں سے دو…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَان : اور بیشک ] [اللّٰهَ : اللہ ] [رَبِيْ : میرا رب ہے ] [وَرَبُّكُمْ : اور تم لوگوں کا رب ہے ] [فَاعْبُدُوْهُ : پس تم لوگ بندگی کرو اس کی ] [ھٰذَا : یہ ] [صِرَاطٌ مُّسْتَقِيْمٌ: ایک سیدھا راستہ ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا اعلان کہ میرا اور تمہارا رب اللہ ہے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے واضح طور پر اعلان فرما دیا تھا (وَاِنَّ اللّٰہَ رَبِّیْ وَرَبُّکُمْ فَاعْبُدُوْہُ ھٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ) (اور بلاشبہ میرا رب اور تمہارا رب اللہ ہے سو تم اسی کی عبادت کرو یہ سیدھا راستہ ہے) یہ مضمون سورة آل عمران سورة مریم اور سورة زخرف میں بیان فرمایا ہے۔ ان تمام تصریحات کے باوجود لوگوں نے مختلف جماعتیں بنا لیں جس کے معتقد ہوئے (یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اس کی بات کو تو پس پشت ڈالا اور خود سے اپنا دین تجویز کرلیا پھر کسی نے کہہ دیا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کی ذات خود اللہ کی ذات ہے اور کسی نے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 34–40

قول مبرم و فیصلہء محکم دربارۂ حقیقت عیسیٰ بن مریم صلی اللہ تعالیٰ علیٰ نبینا وعلیہما وبارک و سلم قال اللہ تعالیٰ ۔ ذٰلک عیسیٰ ابن مریم۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ والینا یرجعون۔ یہاں تک حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت کا قصہ تفصیل سے بیان فرمایا تاکہ اصل حقیقت واضح اور منکشف ہوجائے۔ اب آگے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں یہود اور نصاریٰ کے اختلاف کا فیصلہ فرماتے ہیں۔ چناچہ فرماتے ہیں، یہ ہیں عیسیٰ پسر مریم جو فقط عورت سے بغیر باپ کے پیدا ہوئے ہیں۔ یہ فقط مریم (علیہ السلام) کے بیٹے ہیں ان کا کوئی باپ نہیں۔ ان کی صحیح شان اور صفت وہ ہے جو اوپر بیان ہوئی عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) وہ نہیں جن کو عیسائی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

27:۔ یہ بھی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا مقولہ ہے اور ” اِنِّیْ عَبْدُ اللّٰه “ پر معطوف ہے۔ یعنی میں تو اللہ کا بندہ ہوں اور اللہ ہی میرا اور تم سب کا رب اور کارساز ہے۔ اس لیے صرف اسی ہی کو پکارو اور صرف اسی کے نام کی نذریں اور منتیں دو ۔ ” ھٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ“ سے ما قبل کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی صرف اللہ کی عبادت اور پکار کا مسئلہ ہی صراط مستقیم اور سیدھی راہ ہے۔ ھذا ما ذکر من التوحید (روح ج 16 ص 92) ۔ (ھذا) الذی ذکرت (صراط مستقیم) فاعبدوہ ولا تشرکوا بہ شیئا (مدارک ج 3 ص 27) ۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) خود اعلان کر رہے ہیں کہ صرف اللہ ہی کو پکارو اس لیے وہ خود پکارے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 34–40

ربط آیات : گذشتہ آیات میں حضرت مریم (علیہ السلام) کا ذکر ہوا اور پھر عیسیٰ (علیہ السلام) کی غیر معمولی طریقے سے ولادت کا بیان آیا ، اس ضمن میں حضرت مریم (علیہ السلام) کی پریشانی کا حال بیان ہوچکا ہے پھر ہو اپنے بچے کو اٹھائے اپنی قوم کے پاس آئیں تو انہوں نے سخت طعن ملامت کی کہ تیرے والدین تو بڑے صالح لوگ تھے ، تم یہ بغیر نکاح کے بچہ کیسے لے آئی حضرت مریم (علیہ السلام) نے خود جواب دینے کی بجائے بچے کی طرف اشارہ کی کہ سارا معاملہ خود اسی سے پوچھ لو ، اللہ نے بچے کو قوت گویائی عطا فرمائی تو بچہ نے بول کر کہا کہ میں اللہ کا بندہ ہوں ، مجھے اللہ نے کتاب دی ہے اور نبی بنا کر بھیجا ہے ، مجھے نماز…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِنَّ اللہَ رَبِّيْ وَرَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْہ ُ۝ 0ۭ ھٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيْمٌ۝ 36 رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 29–36

3 ؎ حضرت مریم [ کا خود کلام نہ کرنا گود کے بچہ کی طرف اشارہ کرنا کہ یہ خود اپنا حال بیان کر دے گا اپنی برأت کا اظہار مقصود تھا کس لیے کہ حرامی بچہ میں یہ کمال و کرامت کہاں کہ وہ کلام کرے اور کلام بھی ایسا پر معنی اور بلند مرتبہ کہ میں خدا کا بندہ ہوں خدا نہیں کیونکہ آنے والا حال خدا نے ان پر منکشف کردیا تھا کہ میرے معتقدوں میں سے بہت لوگ مجھے ابن اللہ یا خدا کہیں گے اس میں ضمناً نصاریٰ پر تعریض بھی ہے کہ وہ تو اپنے کو خدا کا بندہ کہتے تھے تم ان کو ابن اللہ اور خدا کہتے ہو یہ کیا اتباع عیسیٰ ہے۔ دوم یہ کہ اس نے مجھے کتاب دی اور نبی بنایا گو اس وقت نہ کتاب انجیل ملی تھی نہ نبوت مگر یقینا ہونے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 36–37

فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْ م بَیْنِہِمْ ج فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ مَّشْھَدِ یَوْمٍ عَظِیْمٍ (مریم : 37) (پھر ان کے اندر سے مختلف فرقوں نے باہم اختلاف کیا، پس ہلاکت ہے ان لوگوں کے لیے جنھوں نے کفر کیا، اس دن کی حاضری سے جو بہت بڑا ہے۔ ) حقیقتِ مسیح سے عیسائیوں میں اختلافات گزشتہ آیات میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی زبان سے جو کچھ بیان ہوا وہی حضرت مسیح کی اصل حقیقت ہے اور اس بیان کو دیکھ لینے کے بعد کوئی الجھن باقی نہیں رہ جاتی۔ ہر بات اپنے تئیں بالکل واضح ہے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت کیسے ہوئی، آپ کی والدہ کی اصل حیثیت کیا ہے، آپ کو اللہ تعالیٰ نے بغیر باپ کے کیوں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کو کسی نے جنم نہیں دیا ہے اور نہ ہی کسی نے اس سے جنم لیا ہے۔ وہ تو پوری مخلوق کا خالق ومالک اور بادشاہ ہے۔ اس بنا پر اس کا فرمان ہے کہ صرف میری ہی عبادت کرو۔ حضرت مریم [ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی حیثیت اور حقیقت بتلانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات اور قدرت کے بارے میں بتلایا ہے کہ اسے کسی کو بیٹا یا شریک بنانے کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ قادر مطلق ہے اس کا صرف حکم چلتا ہے۔ اس کی ذات کسی حوالے سے بھی کسی کی محتاج نہیں ہے۔ لہٰذا نبی اکرم ﷺ کو حکم دیا کہ آپ لوگوں کو بتلائیں اور سمجھائیں کہ ” اللہ “ ہی میرا اور تمہارا رب ہے۔ صرف اسی ایک کی عبادت کرنی چاہیے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

36: وَاِنَّ اللّٰہَ رَبِّیْ وَرَبُّکُمْ فَاعْبُدُوْہُ اور بیشک اللہ تعالیٰ میرا اور تمہارا رب ہے پس تم اسی کی عبادت کرو۔ قراءت : شامی اور کوفی نے ابتداء کی وجہ سے مکسور پڑھا اس صورت میں یہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے کلام میں سے ہے۔ تقدیر عبارت اس طرح ہے کما انا عبدہٗ فانتم عبیدہ وعلیّ وعلیکم ان نعبدہ جس طرح میں اس کا بندہ ہوں تم بھی اس کے بندے ہو اور مجھ پر اور تم پر اس کی عبادت لازم ہے۔ نمبر 2۔ جنہوں نے فتحہ دیا انہوں نے الصَّلاۃ پر عطف کیا تقدیر عبارت یہ ہے اوصانی بالصلاۃ وبالزکاۃ و بان اللّٰہ ربی و ربکم فاعبدوہ۔ اس نے نماز و زکوۃ کی وصیت فرمائی اور اس بات کی کہ اللہ تعالیٰ میرا اور تمہارا رب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

36۔ وان اللہ ربی وربکم۔ اہل حجاز اور ابوعمرو نے ، ان اللہ، الف کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس صورت میں یہ ماقبل جملہ کی طرف لوٹے گا۔ واوصانی بالصلوۃ والزکوۃ ، اور اس وجہ سے کہ اللہ میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے ۔ اہل شام کوفہ ، یعقوب نے الف کے کسرہ کے ساتھ جملہ مستانفہ نقل کیا ہے۔ فاعبدوہ ھذاصراط مستقیم، ،۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

36:۔ شروع تقریر میں عیسیٰ (علیہ السلام) نے یہ کہا تھا کہ میں اللہ کا بندہ ہوں رسول ہوں اسی سلسلہ میں اب یہ فرمایا کہ اے لوگو ! جب میں اور تم سب للہ کے بندے ہیں اور وہ ہم سب کا معبود اور رب ہے تو خالص اسی کی عبادت کرنا اور اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرنا ایک یہی سیدھا راستہ ہے مطلب یہ ہے کہ سوائے اس ایک راستہ کے اور سب راستے ٹیڑھے ہیں اس لیے کہ خالص اللہ کی عبادت کو چھوڑ کر جو کوئی دوسرا راستہ چلا وہ دوزخ میں جانے کا شرکیہ راستہ ہے۔ مسند امام احمد نسائی مستدرک حاکم میں عبداللہ بن مسعود ؓ سے 1 ؎ اور ترمذی وغیرہ میں عبداللہ بن عمر وبن العاص ؓ سے معتبر روایتیں ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ اللہ کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 34–36

آیت 34 یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ان صفات سے متصف ہیں اس میں کوئی شک و شبہ نہیں بلکہ یہ قول حق اور اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، جس سے زیادہ سچی اور اچھی کسی اور کی بات نہیں۔ پس حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی بابت دی ہوئی خبر، علم یقینی ہے اور اس کے خلاف جو کچھ کہا گیا ہے وہ قطعی طور پر باطل ہے۔ اس کے بارے میں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ قائل کا محض شک ہے جو علم سے بےبہرہ ہے، اس لئے ارشاد فرمایا : (الذی فیہ یمترون) ” جس میں لوگ جھگڑتے ہیں “ یعنی شک کرتے ہیں اور شک کی بنیاد پر جھگڑتے اور اندازوں کی بنیاد پر بحث کرتے ہیں۔۔۔. ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 32–45

اپنی ذات کی تعریف بغیر فخر کے جائز ہے قول باری ہے (وبرا بوالدتی ولم یجعلنی جبارًا شقیاً والسلام علی یوم ولدت ویوم اموت ویوم ابعث حیا۔ اور مجھے اپنی والدہ کا حق ادا کرنے والا بنایا، مجھ کو جبار اور شقی نہیں بنایا، سلام ہے مجھ پر جبکہ میں پیدا ہوا اور جبکہ میں مرون اور جب کہ زندہ کر کے اٹھایا جائوں) اس میں یہ دلالت موجود ہے کہ انسان اپنی ذات کو تعریف اور نیکی کی صفات سے متصف کرسکتا ہے بشرطیکہ اس کی نیت یہ ہو کہ دوسرے اشخاص بھی اس نیکی اور بھلائی سے روشناس ہو کر اس پر عمل پیرا ہو سکیں، اس کے ذریعے وہ ڈینگ مارنے اور اپنی خوبیوں کے فخر یہ اظہار کی نیت نہ رکھتا ہو۔ اس کی مثال حضرت یوسف (علیہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

45 بلاشبہ اللہ ہی رب ہے سب کا : سو حضرت عیسیٰ نے کہا کہ " بلاشبہ اللہ ہی رب ہے میرا بھی اور تم سب کا بھی "۔ پس ہر قسم کی عبادت و بندگی اسی کا حق ہے کہ سب کا خالق ومالک اور معبود برحق وہی وحدہ لاشریک ہے ۔ سبحان اللہ ۔ حضرت عیسیٰ نے کس قدر صاف اور صریح طور پر توحید خداوندی کی دعوت دی اور تبلیغ فرمائی کہ معبود برحق اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ ہر قسم کی عبادت و بندگی اسی وحدہ لاشریک کا حق ہے۔ لیکن اس کے باوجود آپ کے ماننے کے دعویداروں نے شرک کا ارتکاب کیا۔ یہاں تک کہ دین توحید کو دین تثلیث بنادیا ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور انہوں نے تین ایک میں اور ایک تین میں کا وہ بیہودہ گورکھ دھندہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 35–40

اللہ کی شان ِبے نیازی اور قیامت کے برحق ہونے کی دلیل تشریح : یہ آیات ایک تو اللہ کی وحدانیت کو ثابت کرتی ہیں کہ وہ تو کسی کی بھی مدد سے بےنیاز ہے۔ اور جو لوگ پیغمبر کی تعلیمات سے ہٹ کر کفر و شرک کرتے ہیں تو ان کو ہوشیار ہوجانا چاہیے کہ ان کا انجام موت پر ہونے والا ہے جیسا کہ صبح سے شام تک یہ عمل ہو رہا ہے۔ کوئی مر رہا ہے کوئی پیدا ہو رہا ہے، یعنی کوئی آرہا ہے اور کوئی جا رہا ہے۔ جو جا رہا ہے اس کو سوچنا چاہیے کہ مرنے کا مطلب ہے دوبارہ زندہ ہو کر اس زندگی کے تنائج کے مطابق انعام حاصل کرنا یا پھر سزا پانا۔ ہر ایک کو اس امتحان اور نتیجہ پر نظر رکھ کر عمل کرنے چاہییں۔ یہ لفظ ” ہوجا “ اور فرمان…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 16–41

(رکوع نمبر 2) اسرارومعارف اور اے حبیب ﷺ اس سے عجیب تر اور فکر انگیز واقعہ ایسی کتاب اللہ میں سنا دیجئے جو حضرت مریم (علیہا السلام) کا ہے اور جس کے متعلق یہود اور نصاری نے اپنے اپنے نظریات گھڑ رکھے ہیں کہ اس کی حقیقی اور واقعی صورت کیا ہے یہ بات تب شروع ہوتی ہے جب حضرت مریم (علیہا السلام) اپنے گھر والوں سے الگ ہو کر غسل وغیرہ کرنے کے لیے پردہ میں چلی گئیں تو وہاں ان کے پاس حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو بھیجا جس نے انسانی شکل میں ظاہر ہو کر ان سے بات کرنا چاہی ، یاد رہے حضرت مریم (علیہا السلام) کا ذکر آل عمران میں گذر چکا ہے ۔ (اولیاء اللہ سے فرشتہ کا ہمکلام ہونا) کہ ان کی والدہ نے منت مانی تھی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 36–37

ف 13 یعنی قیامت کے دن نہایت ذلیل و خوار ہوں گے اور خدا کے عذاب میں گرفتار کئے جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 35–36

(19:35) ما کان للہ۔ اللہ کی یہ شان نہیں ہے۔ قضی۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ قضاء مصدر۔ صلات کے اختلاف اور سیاق کی مناسبت سے مختلف معانی مراد ہوتے ہیں۔ بنانا۔ پورا کرنا۔ عزم کرنا۔ فیصلہ کرنا۔ حکم دینا وغیرہ یہاں بمعنی وہ فیصلہ کرلیتا ہے (ماضی بمعنی حال)

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 22–36

لغات القرآن آیت نمبر 22 تا 36 انتبذت (انتباذ) الگ ہوگئی، جدا ہوگئی قصی دور کا فاصلہ۔ المخاض زچگی کا درد۔ دردزہ۔ جزع جڑ۔ نسیا منسیا بھولی بسری چیز۔ بےنام و نشان ہوجانا۔ سری پانی کا چشمہ۔ ھزی ہلالی۔ جھکادے۔ تساقط گرائی گی۔ رطب ترو تازہ۔ جنی پکا ہوا پھل۔ قری عین آنکھیں ٹھنڈی رکھ۔ ترین تو دیکھے۔ نذرت میں نے منت مان رکھی ہے۔ تحملہ وہ اس کو اٹھا لائے۔ فری (افترائ) عجیب اور نرالی بات۔ المھد گود۔ صبی بچہ۔ اوصنی مجھے حکم دیا۔ مادمت حیا جب تک میں زندہ ہوں۔ شقی بدنصیب، بدنصیب، بدقسمت۔ یمترون وہ شک کرتے ہیں۔ تشریح : آیت نمبر 22 تا 36 حضرت مریم نے جب سے ہوش سنبھالا تھا اس وقت سے وہ اللہ تعالیٰ کے ذکر میں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 34–36

اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اصل حقیقت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کی یہ ہے سچی بات میں لوگ جھگڑا لگاتے ہیں۔ یہود کہتے ہیں کہ معاذاللہ وہ زنا سے پیدا ہوئے تھے۔ عیسائی کہتے ہیں کہ وہ خدا کے بیٹے تھے، خدا ان کی شکل میں ظاہر ہوا تھا۔ یہود کا قول تو بلکل لچر تھا، اس لئے ان کی طرف توجہ نہیں کی گئی۔ عیسائیوں کو چونکہ دھوکا ہوگیا تھا اس لئے فرمایا کہ اللہ کی شان یہ نہیں کہ کسی کو بیٹا بناوے۔ وہ ان باتوں سے پاک ہے، جب اس کو کوئی کام کرنا منظور ہوتا ہے، وہ فرما دیتا ہے کہ ہوجا، پس وہ کام فوراً ہوجاتا ہے۔ خود حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا مقولہ ہے کہ بیشک اللہ تعالیٰ میرا پروردگار ہے۔ پس اس کی عبادت کرو،…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 35–36

[16] مطلب یہ ہے کہ معجزے سے کسی کا پیدا ہونا اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ وہ اللہ کا بیٹا قرار پائے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 34–40

(ف 2) حضرت مسیح (علیہ السلام) کی پیدائش ایک طرف یہودیوں کے لئے ٹھوکر کا باعث ہوئی اور دوسری جانب مسیحی حضرات اس کی وجہ سے گمراہی کے عمیق غار میں جا گرے ۔ عیسائی مذہب کے مبلغین نے یہ سمجھا کہ مسیح (علیہ السلام) کی یہ حیرت انگیز ولادت کی خدائی پر دال ہے ، ورنہ ایک انسان کیونکر قوانین قدرت کو توڑ سکتا ہے ، اللہ تعالیٰ نے بتایا ، یہ بات غلط ہے مسیح (علیہ السلام) کا تولد ہونا اس کی الوہیت پر دلالت نہیں کرتا ، بلکہ میری جلالت قدرت کا ایک ثبوت ہے میں جب چاہتا ہوں محض ارادہ سے بڑی سے بڑی کائنات کو پیدا کرلیتا ہوں میرے لئے کسی سہارے اور شریک کی مطلقا ضرورت نہیں ، قول الحق سے غرض یہ ہے کہ قرآن نے مسیح…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-36 اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی پروردگار ہے لہٰذا اسی کی بندگی اور عبادت کیا کرو یہی سیدھا راستہ ہے۔ یعنی توحید اور دین کا سیدھا راستہ ہے۔ یہ رسول کو فرمایا کہ منکرین حق سے یہ بات کہو عبادت کرنے کا مطلب یہ ہے کہ صرف اسی کی بندگی کرو اور کسی کو اس کی عبادت میں شریک نہ کرو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 35–36

ف 8۔ یعنی خالص خدا کی عبادت کرنا یا توحید اختیار کرنا دین کا سیدھا رستہ ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کے کلام کا اختتام اس آیت پر ہے : 36۔ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی زبان سے آپ کی قوم کو آخری پیغام اس طرح سنوایا جارہا ہے کہ قوم کے لوگوں سے وضاحت کر کے کہہ دو کہ بلاشبہ نہ میں اللہ ہوں ‘ نہ اللہ کا بیٹا اور تین میں کا ایک بلکہ اللہ ہی کی وہ ذات ہے جو میرا رب ہے اور تمہارا بھی ‘ میں بھی اسی کی عبادت کرتا ہوں اور تم کو بھی اسی کی عبادت کرنے کا حکم دیتا ہوں یہی راہ سیدھی اور صاف راہ ہے لوگ اس پر کتنے ہی حاشیے چڑھائیں کسی کے کہنے سے کبھی حقیقت تو نہیں بدلتی ، یہودیوں نے ولد الحرام کا الزام لگایا اور عیسائیوں نے اس کو اللہ ‘ اللہ کا بیٹا اور تین میں کا ایک قرار دے لیا اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 34–38

Commentary ذَٰلِكَ عِيسَى ابْنُ مَرْ‌يَمَ "This is ` Isa, the son of Maryam." - 19:34. The beliefs of the Jews and the Christians about Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) were on such opposite extremes that the Christians exalted him to such a level of reverence that they regarded him as the son of Allah. The Jews on the other hand, denigrated him maliciously and called him (God forbid) the illegitimate son of Yusuf (Joseph) the carpenter. Allah Ta` ala has pointed out the error of both the views in these verses and clarified the correct position. The phrase قَوْلَ الْحَقِّ (translated in the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

23. This declaration by Prophet Jesus (peace be upon him) has been cited to tell the Christians that Prophet Jesus (peace be upon him) also taught the same doctrine of Tauhid as was taught by all other Prophets. And it was they who had invented the doctrine of shirk by making him the son of God. (Please also refer to (Aal-Imran E.N. 68, and (Al- Maidah E.Ns 100, 101 and 130).

Read the full tafseer →