Explained with ayahs 34–37
حضرت عیسیٰ کے بارے میں مختلف اقوال۔
اللہ تعالیٰ اپنے رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے فرماتا ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کے واقعہ میں جن جن لوگوں کا اختلاف تھا ان میں جو بات صحیح تھی وہ اتنی ہی تھی جتنی ہم نے بیان فرما دی۔ قول کی دوسری قرأت قول بھی ہے۔ ابن مسعود کی قرأت میں قال الحق ہے۔ قول کا رفع زیادہ ظاہر ہے جیسے (اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِيْنَ01407ۧ) 2۔ البقرة :147) ، میں۔ یہ بیان فرما کر کہ جناب عیسیٰ ؑ اللہ کے نبی تھے اور اس کے بندے پھر اپنے نفس کی پاکیزگی بیان فرماتا ہے کہ اللہ کی شان سے گری ہوئی بات ہے کہ اس کی اولاد ہو۔ یہ جاہل عالم جو افواہیں اڑا رہے ہیں ان سے اللہ…
Read the full tafseer →سورة مَرْیَم 22
یہاں تک جو بات عیسائیوں کے سامنے واضح کی گئی ہے وہ یہ کہ حضرت عیسیٰ ؑ کے متعلق ابن اللہ ہونے کا جو عقیدہ انہوں نے اختیار کر رکھا ہے وہ باطل ہے۔ جس طرح معجزہ سے حضرت یحییٰ کی پیدائش نے ان کو خدا کا بیٹا نہیں بنادیا اسی طرح ایک دوسرے معجزہ حضرت عیسیٰ کی پیدائش بھی کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کی بنا پر انہیں خدا کا بیٹا قرار دے دیا جائے۔ عیسائیوں کی اپنی روایات میں بھی یہ بات موجود ہے کہ حضرت یحییٰ اور حضرت عیسی، دونوں ایک ایک طرح کے معجزہ سے پیدا ہوئے تھے۔ چناچہ لوقا کی انجیل میں کہا گیا ہے۔ لیکن یہ عیسائیوں کا غلو معجزے سے پیدا ہونے والے کو اللہ کا بندہ کہتے ہیں اور دوسرے معجزہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–38
خلاصہ تفسیر
یہ ہیں عیسیٰ بن مریم (جن کے اقوال و احوال مذکور ہوئے جس سے ان کا بندہ قبول ہونا معلوم ہوتا ہے نہ جیسے کہ عیسائیوں نے ان کو بندوں کی فہرست سے خارج کرکے خدا تک پہنچا دیا ہے اور نہ ویسے جیسا کہ یہودیوں نے ان کو مقبولیت سے خارج کر کے طرح طرح کی تہمتیں لگائی ہیں) میں (بالکل) سچی بات کہہ رہا ہوں جس میں یہ (افراط وتفریط کرنے والے) لوگ جھگڑ رہے ہیں (چنانچہ یہود و نصاریٰ کے اقوال اوپر معلوم ہوئے اور چونکہ یہود کا قول ظاہراً بھی موجب تنقیص نبی تھا جو کہ بداہتاً باطل ہے اس لیے اس کے رد کی طرف اس مقام پر توجہ نہیں فرمائی بخلاف قول نصارٰی کے کہ ظاہراً مثبت زیادت کمال تھا کہ نبوت کے ساتھ خدا کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
تفسیر آیات 34 تا 35: ذَلِكَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِي فِيهِ يَمْتَرُونَ (34) مَا كَانَ لِلَّهِ أَنْ يَتَّخِذَ مِنْ وَلَدٍ سُبْحَانَهُ إِذَا قَضَى أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ (35)
ایک برمحل جملہ معترضہ بطور تنبیہ : یہ دو ٓیتیں، حضرت مسیح کے ارشادات کے بیچ میں، اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور جملہ معترضہ ہیں۔ بالکل برمحل لوگوں کو عام طور پر اور نصاریٰ کو خاص طور پر توجہ دلائی گئی ہے کہ یہ ہے حضرت مسیح کی اصل حقیقت جو انہوں نے خود اپنی زبان سے واضح فرمائی ہے۔
نصاری کی معمہ سازی : قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِي فِيهِ يَمْتَرُونَ۔۔ امتراٗ کے اصل معنی بکری کے تھن کو اچھی…
Read the full tafseer →35۔ 1 جس اللہ کی یہ شان اور قدرت ہو اسے بھلا اولاد کی کیا ضرورت ہے ؟ اور اسی طرح اس کے لئے بغیر باپ کے پیدا کردینا کون سا مشکل امر ہے۔ گویا جو اللہ کے لئے اولاد ثابت کرتے ہیں یا حضرت عیسیٰ ؑ کی اعجازی ولادت سے انکار کرتے ہیں، وہ دراصل اللہ کی قدرت وطاقت کے منکر ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–41
19: اس پورے واقعے کو ذکر فرما کر یہ نتیجہ نکالا گیا ہے کہ عیسائیوں اور یہودیوں نے حضرت عیسیٰ ؑ کے بارے میں جو افراط وتفریط اختیار کر رکھی ہے وہ حقیقت نہیں ہے۔ نہ وہ الزامات درست ہیں جو یہودیوں نے ان پر لگا رکھے ہیں، اور نہ انہیں اللہ تعالیٰ کا بیٹا ماننا صحیح ہے جیسا کہ عیسائیوں نے مان رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو کسی بیٹے کی ضرورت نہیں ہے۔
Read the full tafseer →ماکان ۔۔ من ولد (91 : 53) ” اللہ کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ کسی کو بیٹا بنائے “۔ وہ اس سے بہت بلند ہے۔ اس کا یہ کام نہیں ہے اور نہ اس کو اس کی ضرورت ہے کہ وہ کسی کو اپنا بیٹا بنائے۔ بیٹا تو ان لوگوں کی ضرورت ہے جو فنا ہونے والے ہیں۔ وہ اپنے وجود کو برقرار رکھنے کے لیے کسی کو اپنا بیٹا بناتے ہیں ‘ پھر ایک ضعیف والد کو آخری عمر میں مدد کے لئے بیٹے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اللہ باقی اور لازوال ہے ‘ وہ قادر مطلق ہے ‘ کسی کا محتاج نہیں ہے اور تمام کائنات اس کے کلمہ کن سے بنتی ہے۔ وہ جو چاہتا ہے ہوجاتا ‘ محض اس کا ارادہ اس طرف متوجہ ہونے کی ضرورت ہے ‘ لہٰذا اسے نہ اولاد اور نہ شریک کی ضرورت ہے۔ عیسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →7 جس کے ایک " کُنْ " (ہو جا) کہنے میں ہر چیز موجود ہو، اسے بیٹے پوتوں کی کیا ضرورت لاحق ہوگی۔ کیا (العیاذ باللّٰہ) اولاد ضعیفی میں سہارا دے گی ؟ یا مشکلات میں ہاتھ بٹائے گی ؟ یا اس کے بعد نام چلائے گی ؟ اور اگر شبہ ہو کہ عموماً آدمی ماں باپ سے پیدا ہوتا ہے۔ پھر حضرت مسیح (علیہ السلام) کا باپ کسے کہیں ؟ اس کا جواب بھی اسی جملہ " کُنْ فَیَکُوْنُ " میں آگیا۔ یعنی ایسے قادر مطلق کے لیے کیا مشکل ہے کہ ایک بچہ کو بن باپ پیدا کر دے۔ اگر عیسائی خدا کو باپ اور مریم کو ماں کہتے ہیں تو کیا (معاذ اللّٰہ) دوسرے تعلقات زنا شوئی کا بھی اقرار کریں گے ؟ باپ مان کر بھی بہرحال تخلیق کا طریقہ وہ تو نہ ہوگا جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
آیت 35 مَا کَانَ لِلّٰہِ اَنْ یَّتَّخِذَ مِنْ وَّلَدٍلا سُبْحٰنَہٗط اِذَا قَضآی اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَہٗ کُنْ فَیَکُوْنُ
یعنی حضرت مسیح علیہ السلام کی ولادت کے سلسلے میں باپ کا حصہ اللہ تعالیٰ کے ایک حرف ”کُن“ کے ذریعے سے پورا ہوا ‘ جبکہ باقی سارا عمل عام فطری اور طبعی طریقے سے تکمیل پذیر ہوا۔ اسی لیے آپ علیہ السلام کو کلمۃٌ منہُ آل عمران : 45 یعنی اللہ کا خاص کلمہ قرار دیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
32 اللہ کو بیٹے یا کسی مددگار کی قطعاً ضرورت نہیں :۔ اللہ تعالیٰ کو کسی کو بیٹا بنانے کی قطعا ً ضرورت نہیں ہے، کیونکہ جب سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش سے پہلے ہی یہ کارخانہ کائنات ٹھیک طرح چل رہا تھا تو پھر بیٹا بنانے کی ضرورت کہاں سے آگئی ؟ علاوہ ازیں ایسی باتیں اللہ تعالیٰ کی شان کے شایان بھی نہیں ہیں وہ اس قسم کی کمزوریوں اور مجبوریوں سے بالاتر اور پاک ہے نیز جب اس کے سارے کام فقط کن کا حکم دینے سے ہوجاتے ہیں۔ فورا ً اسباب و وسائل مہیا ہونا شروع ہوجاتے ہیں اور وہ چیز ہو کے رہتی ہے تو پھر اسے کسی کو بیٹا یا شریک بنانے کی ضرورت بھی کیا ہے ؟
Read the full tafseer →53۔ اس کی جانب اولاد کا انتساب معمولی اور فرعی غلطی نہیں۔ بنیادی، مرکزی اور اہم ترین ضلالت ہے۔ اتخاذ ولد پر حاشیہ سورة بقرہ۔ (آیت) ” وقالوا اتخذ اللہ ولدا “۔ سبحنہ “۔ کے تحت میں گزر چکا۔ (آیت) ” من ولد “۔ من تاکید نفی کے لئے ہے۔ جیء من لتاکید النفی (مدارک) (آیت) ” ماکان للہ “۔ یہ اسی طرح کا فقرہ ہے۔ جیسے دوسری جگہ قرآن میں ہے۔ ماکان للہ ان یظلم۔ اے لایلیق ذلک بحکمتہ و کمال الھیہہ (کبیر)
54۔ (ایسے قوت واقتدار مطلق رکھنے والے کو اولاد کی حاجت کیا، اور ایسے کمال والے کے لئے اولاد کا ثابت کرنا عقلا کمال کا نہیں نقص کا اثبات کرنا ہے) (آیت) ” کن فیکون “۔ پر حاشیہ پہلے گزر چکا۔ (آیت) ” لہ “۔ یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–40
آیت نمبر 26 تا 40
ترجمہ : پھر پکی اور تازہ کھجوریں کھاؤ اور چشمہ کا پانی پیو اور بیٹے سے آنکھیں ٹھنڈی کرو عینًا تمییز ہے فاعل سے منقول ہے یعنی تو اس بچہ کو دیکھ کر آنکھوں کو ٹھنڈا کر کے سکون حاصل کر دوسرے بچوں کی طرف التفات نہ کر فاِمَّا میں ان شرطیہ کے نون کو ما زائدہ میں مدغم کردیا گیا ہے تَرَیِنَّ اس کا لام کلمہ اور عین کلمہ حذف کردیا گیا ہے عین کلمہ کی حرکت نقل کر کے را کو دے دی گئی اور یائے ضمیر کو التقاء ساکنین کی وجہ سے کسرہ دے دیا گیا اگر تو کسی بشر کو دیکھے اور وہ تیرے بچہ کے متعلق سوال کرے تو کہہ دینا کہ میں نے اس بچہ وغیرہ کے بارے میں لوگوں سے کلام کرنے سے رحمٰن کے لئے سکوت کا روزہ…
Read the full tafseer →ما کان للہ ان یتخذ من ولد سبحنہ اللہ کے لئے کسی طرح زیبا نہیں کہ وہ اپنے لئے کوئی اولاد اختیار کرے ‘ اس کی ذات پاک ہے۔
اذا قضی امرا فانما یقول لہ کن فیکون۔ وہ جب کوئی کام کرنا چاہتا ہے تو بس اس کو فرما دیتا ہے ہوجا وہ فوراً ہوجاتا ہے یعنی جب اللہ کسی چیز کو پیدا کرنے کا ارادہ کرتا ہے (قضا سے مراد ارادہ ہے) تو کُن (ہو جا) کہتا ہے وہ چیز فوراً ہوجاتی ہے۔ عیسیٰ کو بغیر باپ کے پیدا کرنا بھی اسی طرح ہوا ‘ پس جو خدا ایسا (قادر مطلق) ہے وہ یقیناً مشابہت خلق سے پاک ہے اس کو حاجت نہیں کہ عورتوں کو حاملہ کر کے اپنی اولاد پیدا کرے۔
Read the full tafseer →(35) اللہ تعالیٰ کی یہ شان نہیں ہے کہ وہ کسی کو اولاد کے طور پر اپنائے اس کی ذات اولاد اور شریک سے بالکل ماوراء وپاک ہے کیوں کہ اس کی شان تو یہ ہے کہ کہ جب وہ کسی کام کو کرنا چاہتا ہے مثلا وہ بغیر باپ کے لڑکا پیدا کرنا چاہتا ہے جیسا کہ حضرت عیسیٰ ؑ کو پیدا فرمایا تو وہ صرف اتنا فرما دیتے ہیں کہ ”کن“ ہوجا سو وہ کام ہوجاتا ہے۔
Read the full tafseer →مَا كَانَ لِلّٰهِ اَنْ يَّــتَّخِذَ مِنْ وَّلَدٍ۔۔ : ”کَانَ“ استمرار کے لیے ہے، یعنی اللہ کے لائق نہ پہلے کبھی تھا اور نہ ہے کہ وہ کوئی بھی اولاد بنائے۔ ”وَلَدٍ“ نکرہ ہونے کی وجہ سے ترجمہ تھا ”کوئی اولاد“ لیکن اس سے پہلے ”مِنْ“ آنے کی وجہ سے عموم اور زیادہ ہوگیا، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ”کہ وہ کوئی بھی اولاد بنائے“ لڑکا یا لڑکی، کسی فرشتے کو یا جن کو، یا انسان کو یا کسی اور مخلوق کو۔
يَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ : یعنی جسے یہ قدرت حاصل ہو کہ کلمہ ”کن“ سے ہر چیز وجود میں لاسکتا ہو، اسے بیٹا بنانے کی کیا ضرورت ہے ؟ بیٹے کی ضرورت تو اسے ہے جو بڑھاپے اور کمزوری کی وجہ سے محتاج ہو، یا فنا ہونے…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ما کان للہ یعنی اللہ کے لیے زیبا نہیں۔ ان یتخذ من ولد کہ وہ کسی کو اپنا بیٹا بنائے۔ من کلام کے لیے صلہ ہے یعنی ان یتخذولدا۔ ان، کان کا اسم ہونے کی وجہ سے محل رفع میں ہے یعنی کسی کو بیٹا بنانا اس کی صفت سے نہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی بات سے اپنی ذات کو منزہ و مبرا فرمایا (سبحانہ) وہ کسی کو بیٹا بنانے سے پاک ہے۔ اذا قضیٰ امراً فانما یقول لہ کن فیکون۔ اس پر تفصیلی گفتگو سورة بقرہ میں گزر چکی ہے۔ وان اللہ ربی وربکم، اہل مدینہ، ابن کثیر اور ابو عمرو نے اَن کو ہمزہ کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے اور اہل کوفہ نے ہمزہ کے کسرہ کے ساتھ ٹڑھا ہے کہ یہ نئی کلام ہے۔ اس پر دلیل ابی کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–37
1:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ذلک عیسیٰ ابن مریم، قول الحق الذی فیہ یمترون “ میں الحق سے مراد اللہ تعالیٰ ہیں۔
2:۔ عبد الرزاق اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے (آیت) ” الذی فیہ یمترون “ کے بارے میں سوال کیا کہ بنواسرائیل جمع ہوئے اور انہوں نے اپنے میں سے چار آدمی نکالے ہر گروہ میں سے ان کا علم نکالا گیا اور انہوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں مشورہ کیا جب ان کو اٹھایا گیا ان میں سے ایک نے کہا وہ اللہ ہے جو زمین پر اترے تھے اس نے زندہ کیا اور موت دی پھر آسمان کی طرف چڑھ گیا اور وہ یعقوبیہ تھے باقی تینوں افراد نے کہا انہوں نے جھوٹ کہا پھر ان میں سے دو…
Read the full tafseer →[مَا كَان : نہیں ہے ] [للّٰهِ : اللہ کے لئے ] [ان : کہ ] [يَّــتَّخِذَ : وہ بنائے ] [مِنْ وَّلَدٍ : کوئی بھی اولاد ] [سُبْحٰــنَهٗ : پاکیزگی اس کو ہے ] [اِذَا : جب بھی ] [قَضٰٓى: وہ فیصلہ کرتا ہے ] [اَمْرًا : کسی کام کا ] [فَانمَا : تو کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] [يَقُوْلُ : وہ کہتا ہے ] [لَهٗ : اس کو (کہ)] [كُنْ : تو ہوجا ] [فَيَكُوْنُ : تو وہ ہوجاتا ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–35
کسی کو اپنی اولاد بنانا اللہ تعالیٰ کے شایان شان نہیں ہے
ان آیات میں بھی حضرت عیسیٰ بن مریم ( علیہ السلام) کا تذکرہ ہے اور اللہ پاک کی توحید بیان فرمائی ہے اور یہ بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ شرک سے، کسی کو اولاد بنانے سے بری اور بیزار ہے پہلے تو یہ فرمایا کہ یہ عیسیٰ بن مریم جن کا ذکر گزشتہ آیات میں ہوا۔ ان کے بارے ہم نے سچی بات بیان کردی اس سچی بات میں لوگ جھگڑتے ہیں اور یہ جھگڑالو یہود و نصاریٰ ہیں اور اب تو جھوٹی نبوت کے دعویدار بھی ان کے ہم نوا ہوگئے ہیں جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے لیے باپ تجویز کرتے ہیں اس کے بعد فرمایا کہ یہ بات اللہ کے شایان شان نہیں ہے کہ وہ کسی کو اپنی اولاد بنائے وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–40
قول مبرم و فیصلہء محکم
دربارۂ حقیقت عیسیٰ بن مریم صلی اللہ تعالیٰ علیٰ نبینا وعلیہما وبارک و سلم
قال اللہ تعالیٰ ۔ ذٰلک عیسیٰ ابن مریم۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ والینا یرجعون۔
یہاں تک حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت کا قصہ تفصیل سے بیان فرمایا تاکہ اصل حقیقت واضح اور منکشف ہوجائے۔ اب آگے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں یہود اور نصاریٰ کے اختلاف کا فیصلہ فرماتے ہیں۔
چناچہ فرماتے ہیں، یہ ہیں عیسیٰ پسر مریم جو فقط عورت سے بغیر باپ کے پیدا ہوئے ہیں۔ یہ فقط مریم (علیہ السلام) کے بیٹے ہیں ان کا کوئی باپ نہیں۔ ان کی صحیح شان اور صفت وہ ہے جو اوپر بیان ہوئی عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) وہ نہیں جن کو عیسائی…
Read the full tafseer →26:۔ یہ زجر ہے نصاریٰ کے لیے جو اللہ تعالیٰ کی طرف ولد کی نسبت کرتے تھے اور کہتے تھے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے ولد اور نائب ہیں فرمایا یہ غلط ہے۔ اس کا کوئی ولد اور نائب نہیں اور نہ اسے نائب کی ضرورت ہے وہ تو ایسا قادر ہے کہ جو چاہے لفظ کن سے پیدا کرلے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–40
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں حضرت مریم (علیہ السلام) کا ذکر ہوا اور پھر عیسیٰ (علیہ السلام) کی غیر معمولی طریقے سے ولادت کا بیان آیا ، اس ضمن میں حضرت مریم (علیہ السلام) کی پریشانی کا حال بیان ہوچکا ہے پھر ہو اپنے بچے کو اٹھائے اپنی قوم کے پاس آئیں تو انہوں نے سخت طعن ملامت کی کہ تیرے والدین تو بڑے صالح لوگ تھے ، تم یہ بغیر نکاح کے بچہ کیسے لے آئی حضرت مریم (علیہ السلام) نے خود جواب دینے کی بجائے بچے کی طرف اشارہ کی کہ سارا معاملہ خود اسی سے پوچھ لو ، اللہ نے بچے کو قوت گویائی عطا فرمائی تو بچہ نے بول کر کہا کہ میں اللہ کا بندہ ہوں ، مجھے اللہ نے کتاب دی ہے اور نبی بنا کر بھیجا ہے ، مجھے نماز…
Read the full tafseer →مَا كَانَ لِلہِ اَنْ يَّــتَّخِذَ مِنْ وَّلَدٍ 0ۙ سُبْحٰــنَہٗ 0ۭ اِذَا قَضٰٓى اَمْرًا فَاِنَّمَا يَقُوْلُ لَہٗ كُنْ فَيَكُوْنُ 35ۭ
الله
الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم،
( ا ل ہ ) اللہ
(1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–36
3 ؎ حضرت مریم [ کا خود کلام نہ کرنا گود کے بچہ کی طرف اشارہ کرنا کہ یہ خود اپنا حال بیان کر دے گا اپنی برأت کا اظہار مقصود تھا کس لیے کہ حرامی بچہ میں یہ کمال و کرامت کہاں کہ وہ کلام کرے اور کلام بھی ایسا پر معنی اور بلند مرتبہ کہ میں خدا کا بندہ ہوں خدا نہیں کیونکہ آنے والا حال خدا نے ان پر منکشف کردیا تھا کہ میرے معتقدوں میں سے بہت لوگ مجھے ابن اللہ یا خدا کہیں گے اس میں ضمناً نصاریٰ پر تعریض بھی ہے کہ وہ تو اپنے کو خدا کا بندہ کہتے تھے تم ان کو ابن اللہ اور خدا کہتے ہو یہ کیا اتباع عیسیٰ ہے۔ دوم یہ کہ اس نے مجھے کتاب دی اور نبی بنایا گو اس وقت نہ کتاب انجیل ملی تھی نہ نبوت مگر یقینا ہونے…
Read the full tafseer →وَاِنَّ اللّٰہَ رَبِّیْ وَرَبُّکُمْ فَاعْبُدُوْہُ ط ھٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ۔ (مریم : 36)
(اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ میرا بھی پروردگار ہے اور تمہارا بھی، سو اسی کی عبادت کرو یہی سیدھا راستہ ہے۔ )
جملہ معترضہ کے بعد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ارشادات کا آخری حصہ
اس آیت کریمہ میں جو کچھ فرمایا گیا ہے اس میں بعض اہل علم کو یہ اشکال پیش آیا ہے کہ یہ کلام کس کا ہے، پروردگار کا یا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا، حالانکہ یہاں اس اشکال کا کوئی محل نہیں، کیونکہ گزشتہ دو آیتیں دراصل جملہ معترضہ کی حیثیت رکھتی ہیں، ان آیتوں سے پہلے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ارشادات جاری تھے۔ ان کے درمیان میں پروردگار نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
فہم القرآن
ربط کلام : خلاصہ کلام یہ ہے کہ عیسیٰ ابن مریم [ ایک بندہ تھے۔ خدا نہیں تھے۔
یہاں سارے خطاب کا نچوڑ پیش کرتے ہوئے ذَالِکَ کا لفظ استعمال ہوا۔ جو دور اور نزدیک کے لیے اشارہ کے طور پر بولا جاتا ہے۔ اس کا مقصد اس حقیقت کو واضح کرنا ہے کہ حضرت مریم [ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور جن کو لوگ خدا یا خدا کا جزء ٹھہراتے ہیں اور جہاں تک کہ عیسائیوں کا کہنا ہے کہ عیسیٰ ( علیہ السلام) اللہ کا بیٹا ہے۔ انھیں قرآن مجید کی بتلائی ہوئی حقیقت کو پوری طرح سمجھ لینا چاہیے۔ کہ اللہ تعالیٰ بیوی، اولاد اور کسی قسم کی حاجت اور کمزوری سے بےنیاز۔ پاک ہے اور وہ ہر قسم کی شراکت اور لوگوں کی یاوا گوئی سے…
Read the full tafseer →35: مَاکَانَ لِلّٰہِ اللہ تعالیٰ کیلئے یہ زیبا نہیں) مناسب نہیں اَنْ یَّتَّخِذَ مِنْ وَّلَدٍ کہ وہ بیٹا بنائے۔
نحو : یہاں مِنْ تاکید نفی کیلئے لایا گیا ہے۔
سُبْحٰنَہٗ وہ پاک ہے) بیٹا بنا لینے سے اس کی ذات کو منزہ قرار دیا گیا۔ اِذَا قَضٰی اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَہٗ کُنْ فَیَکُوْنُجب وہ کسی کام کا ارادہ کرلیتا ہے تو اس کو کہتا ہے ہوجا۔ پس وہ ہوجاتا ہے)
قراءت : شامی نے نصب سے پڑھا۔ یعنی کما قال لِِعیسٰی کن فکان من غیرابٍ جو نہی عیسیٰ کو کن کہا وہ بلا باپ بن گیا اور جو اس صفت سے متصف ہو وہ اس بات سے منزہ ہے کہ وہ حیوان والد کے مشابہ ہو۔
Read the full tafseer →35۔ ماکان للہ ان یتخذ من ولد، ، اللہ کے لیے کسی طرح زیبا نہیں کہ وہ اپنے لیے کوئی اولاد اختیار کرے بعض حضرات نے کہایہ لام منقول ہے ، ای ماکان للہ ان یتخذ ولدا،۔۔ سبحانہ اذاقضی، جب وہ کسی کام کے کرنے کا ارادہ کرتا ہے ، فانما یقول لہ کن فیکون۔
Read the full tafseer →35:۔ اوپر گزرا کہ نصاری میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے باب میں طرح طرح کا جھگڑا ہے اسی واسطے اس آیت میں فرمایا یہ جھگڑا ڈالنے والے لوگ اللہ کی قدرت کو بھول گئے ہیں اس واسطے ایسی باتیں کرتے ہیں اس کی قدرت تو وہ ہے کہ جس کام کے کرنے کا اس کا ارادہ ٹھہرتا ہے کلمہ کن کے فرما دینے سے وہ کام فورا ہوجاتا ہے اسی کلمہ کن کے فرما دینے سے اس نے بغیر ماں باپ کے آدم (علیہ السلام) اور بغیر باپ کے عیسیٰ (علیہ السلام) کو پیدا کیا غرض عیسیٰ (علیہ السلام) آدم (علیہ السلام) کی طرح اللہ کی مخلوق میں سے ہیں نہ خدا ہیں نہ خدا کے بیٹے نہ خدا کے شریک اللہ کی شان ان لوگوں کی تراشی ہوئی باتوں سے بہت دور ہے اسی واسطے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
آیت 34
یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ان صفات سے متصف ہیں اس میں کوئی شک و شبہ نہیں بلکہ یہ قول حق اور اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، جس سے زیادہ سچی اور اچھی کسی اور کی بات نہیں۔ پس حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی بابت دی ہوئی خبر، علم یقینی ہے اور اس کے خلاف جو کچھ کہا گیا ہے وہ قطعی طور پر باطل ہے۔ اس کے بارے میں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ قائل کا محض شک ہے جو علم سے بےبہرہ ہے، اس لئے ارشاد فرمایا : (الذی فیہ یمترون) ” جس میں لوگ جھگڑتے ہیں “ یعنی شک کرتے ہیں اور شک کی بنیاد پر جھگڑتے اور اندازوں کی بنیاد پر بحث کرتے ہیں۔۔۔. ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–45
اپنی ذات کی تعریف بغیر فخر کے جائز ہے
قول باری ہے (وبرا بوالدتی ولم یجعلنی جبارًا شقیاً والسلام علی یوم ولدت ویوم اموت ویوم ابعث حیا۔ اور مجھے اپنی والدہ کا حق ادا کرنے والا بنایا، مجھ کو جبار اور شقی نہیں بنایا، سلام ہے مجھ پر جبکہ میں پیدا ہوا اور جبکہ میں مرون اور جب کہ زندہ کر کے اٹھایا جائوں) اس میں یہ دلالت موجود ہے کہ انسان اپنی ذات کو تعریف اور نیکی کی صفات سے متصف کرسکتا ہے بشرطیکہ اس کی نیت یہ ہو کہ دوسرے اشخاص بھی اس نیکی اور بھلائی سے روشناس ہو کر اس پر عمل پیرا ہو سکیں، اس کے ذریعے وہ ڈینگ مارنے اور اپنی خوبیوں کے فخر یہ اظہار کی نیت نہ رکھتا ہو۔ اس کی مثال حضرت یوسف (علیہ…
Read the full tafseer →44 اللہ تعالیٰ کی تسبیح وتنزیہ کا ذکر وبیان : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ پاک ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ ہر طرح کے نقص و عیب اور ہر ضرورت و محتاجی سے۔ اور وہ پاک ہے ہر قسم کے شرک اور شوائبِ شرک سے۔ تو پھر اس کی کوئی اولاد کیسے ہوسکتی ہے ؟ اور اس کا کوئی شریک کیونکر ممکن ہوسکتا ہے ؟ نہ اس کا کوئی شریک وسہیم ہے اور نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ خود کسی کی اولاد۔ اس کی شان ۔ { لم یلد ولم یولد } ۔ کی شان ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ پس حضرت عیسیٰ میں خدائی کا کوئی شائبہ تک نہ تھا۔ وہ خداوند قدوس کی قدرت کے نمونے اس کی طرف سے بخشی ہوئی پاکیزہ روح اور اس کے کلمہ و فرمان تھے اور بس ۔ علی نبینا وعلیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–40
اللہ کی شان ِبے نیازی اور قیامت کے برحق ہونے کی دلیل
تشریح : یہ آیات ایک تو اللہ کی وحدانیت کو ثابت کرتی ہیں کہ وہ تو کسی کی بھی مدد سے بےنیاز ہے۔ اور جو لوگ پیغمبر کی تعلیمات سے ہٹ کر کفر و شرک کرتے ہیں تو ان کو ہوشیار ہوجانا چاہیے کہ ان کا انجام موت پر ہونے والا ہے جیسا کہ صبح سے شام تک یہ عمل ہو رہا ہے۔ کوئی مر رہا ہے کوئی پیدا ہو رہا ہے، یعنی کوئی آرہا ہے اور کوئی جا رہا ہے۔ جو جا رہا ہے اس کو سوچنا چاہیے کہ مرنے کا مطلب ہے دوبارہ زندہ ہو کر اس زندگی کے تنائج کے مطابق انعام حاصل کرنا یا پھر سزا پانا۔ ہر ایک کو اس امتحان اور نتیجہ پر نظر رکھ کر عمل کرنے چاہییں۔ یہ لفظ ” ہوجا “ اور فرمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–41
(رکوع نمبر 2)
اسرارومعارف
اور اے حبیب ﷺ اس سے عجیب تر اور فکر انگیز واقعہ ایسی کتاب اللہ میں سنا دیجئے جو حضرت مریم (علیہا السلام) کا ہے اور جس کے متعلق یہود اور نصاری نے اپنے اپنے نظریات گھڑ رکھے ہیں کہ اس کی حقیقی اور واقعی صورت کیا ہے یہ بات تب شروع ہوتی ہے جب حضرت مریم (علیہا السلام) اپنے گھر والوں سے الگ ہو کر غسل وغیرہ کرنے کے لیے پردہ میں چلی گئیں تو وہاں ان کے پاس حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو بھیجا جس نے انسانی شکل میں ظاہر ہو کر ان سے بات کرنا چاہی ، یاد رہے حضرت مریم (علیہا السلام) کا ذکر آل عمران میں گذر چکا ہے ۔
(اولیاء اللہ سے فرشتہ کا ہمکلام ہونا)
کہ ان کی والدہ نے منت مانی تھی…
Read the full tafseer →ف 12 جسے یہ قدرت حال ہو کہ کلمہ کن سے ہر چیز وجود میں لاسکتا ہو اسے ییٹا بنانے کی کیا ضرورت اور پھر جب اللہ جلہ کی شان یہ ہے تو حضرت عیسیٰ کو بغیر باپ کے جنم دے سکتا ہے۔ (کبیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
(19:35) ما کان للہ۔ اللہ کی یہ شان نہیں ہے۔ قضی۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ قضاء مصدر۔ صلات کے اختلاف اور سیاق کی مناسبت سے مختلف معانی مراد ہوتے ہیں۔ بنانا۔ پورا کرنا۔ عزم کرنا۔ فیصلہ کرنا۔ حکم دینا وغیرہ یہاں بمعنی وہ فیصلہ کرلیتا ہے (ماضی بمعنی حال)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–36
لغات القرآن آیت نمبر 22 تا 36
انتبذت (انتباذ) الگ ہوگئی، جدا ہوگئی
قصی دور کا فاصلہ۔ المخاض زچگی کا درد۔ دردزہ۔ جزع جڑ۔ نسیا منسیا بھولی بسری چیز۔ بےنام و نشان ہوجانا۔ سری پانی کا چشمہ۔ ھزی ہلالی۔ جھکادے۔ تساقط گرائی گی۔ رطب ترو تازہ۔ جنی پکا ہوا پھل۔ قری عین آنکھیں ٹھنڈی رکھ۔ ترین تو دیکھے۔ نذرت میں نے منت مان رکھی ہے۔ تحملہ وہ اس کو اٹھا لائے۔ فری (افترائ) عجیب اور نرالی بات۔ المھد گود۔ صبی بچہ۔ اوصنی مجھے حکم دیا۔ مادمت حیا جب تک میں زندہ ہوں۔ شقی بدنصیب، بدنصیب، بدقسمت۔ یمترون وہ شک کرتے ہیں۔
تشریح : آیت نمبر 22 تا 36
حضرت مریم نے جب سے ہوش سنبھالا تھا اس وقت سے وہ اللہ تعالیٰ کے ذکر میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اصل حقیقت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کی یہ ہے سچی بات میں لوگ جھگڑا لگاتے ہیں۔ یہود کہتے ہیں کہ معاذاللہ وہ زنا سے پیدا ہوئے تھے۔ عیسائی کہتے ہیں کہ وہ خدا کے بیٹے تھے، خدا ان کی شکل میں ظاہر ہوا تھا۔ یہود کا قول تو بلکل لچر تھا، اس لئے ان کی طرف توجہ نہیں کی گئی۔ عیسائیوں کو چونکہ دھوکا ہوگیا تھا اس لئے فرمایا کہ اللہ کی شان یہ نہیں کہ کسی کو بیٹا بناوے۔ وہ ان باتوں سے پاک ہے، جب اس کو کوئی کام کرنا منظور ہوتا ہے، وہ فرما دیتا ہے کہ ہوجا، پس وہ کام فوراً ہوجاتا ہے۔ خود حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا مقولہ ہے کہ بیشک اللہ تعالیٰ میرا پروردگار ہے۔ پس اس کی عبادت کرو،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
[16] مطلب یہ ہے کہ معجزے سے کسی کا پیدا ہونا اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ وہ اللہ کا بیٹا قرار پائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–40
(ف 2) حضرت مسیح (علیہ السلام) کی پیدائش ایک طرف یہودیوں کے لئے ٹھوکر کا باعث ہوئی اور دوسری جانب مسیحی حضرات اس کی وجہ سے گمراہی کے عمیق غار میں جا گرے ۔
عیسائی مذہب کے مبلغین نے یہ سمجھا کہ مسیح (علیہ السلام) کی یہ حیرت انگیز ولادت کی خدائی پر دال ہے ، ورنہ ایک انسان کیونکر قوانین قدرت کو توڑ سکتا ہے ، اللہ تعالیٰ نے بتایا ، یہ بات غلط ہے مسیح (علیہ السلام) کا تولد ہونا اس کی الوہیت پر دلالت نہیں کرتا ، بلکہ میری جلالت قدرت کا ایک ثبوت ہے میں جب چاہتا ہوں محض ارادہ سے بڑی سے بڑی کائنات کو پیدا کرلیتا ہوں میرے لئے کسی سہارے اور شریک کی مطلقا ضرورت نہیں ، قول الحق سے غرض یہ ہے کہ قرآن نے مسیح…
Read the full tafseer →-35 اللہ تعالیٰ کی یہ شان نہیں کہ وہ کسی کو اولاد بنائے اور کسی کو بیٹا بنائے وہ جملہ عیوب سے پاک اور بالکل منزہ ہے جب وہ کسی کام کے سر انجام کا ارادہ کرتا ہے اور جب وہ کسی کام کا کرنا ٹھہرا لیتا ہے تو بس اس کو اتنا کہہ دیتا ہے کہ ہوجا پس وہ ہوجاتا ہے۔ یعنی صرف ارادہ کا تعلق شئی کے وجود کو مستلزم ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
ف 8۔ یعنی خالص خدا کی عبادت کرنا یا توحید اختیار کرنا دین کا سیدھا رستہ ہے۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کی شان ہی کے خلاف ہے کہ وہ کبھی کسی کو اپنی اولاد قرار دے :
35۔ غور وفکر کرنا تمہارا کام ہے ہمارا کام بات پہنچانا ہے کسی انسان کو مجبور محض بنا کر کسی کام پر لگا دینا ہمارے قانون کے خلاف ہے اور قانون کے خلاف ہم نہیں کرتے تم نے اپنی ادہام پرستی کی بنا پر عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ ‘ اللہ کا بیٹا یا ثالث ثلثۃ تسلیم کا و ہے جو اللہ تعالیٰ کی شان الوہیت کے بالکل منافی ہے کہ وہ کسی کو اپنا بیٹا قرار دے وہ ان عیوب ونقائص سے بالکل پاک ہے جن عیوب ونقائص کی بناء پر کسی کو اولاد جیسی چیز کی ضرورت پڑتی ہے اور اگر اس کے اولاد نہ ہو تو وہ کسی دوسرے کی اولاد کو لے کر اپنی اولاد قرار دے لیتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–38
Commentary
ذَٰلِكَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ
"This is ` Isa, the son of Maryam." - 19:34.
The beliefs of the Jews and the Christians about Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) were on such opposite extremes that the Christians exalted him to such a level of reverence that they regarded him as the son of Allah. The Jews on the other hand, denigrated him maliciously and called him (God forbid) the illegitimate son of Yusuf (Joseph) the carpenter. Allah Ta` ala has pointed out the error of both the views in these verses and clarified the correct position.
The phrase قَوْلَ الْحَقِّ (translated in the…
Read the full tafseer →22. In (Ayats 1-35), it has been shown that the“Doctrine of the son of God”in regard to Prophet Jesus is absolutely wrong. For just as the miraculous birth of Prophet John did not make him the son of God, so the miraculous birth of Prophet Jesus could not make him the son of God. For the births of both were the result of the same sort of miracle as they have been mentioned together in the same context in the Gospel of Luke. Therefore, it is mere distortion that the Christians should regard one as the servant of God and the other as the son of God.
Read the full tafseer →