Explained with ayahs 34–37
حضرت عیسیٰ کے بارے میں مختلف اقوال۔
اللہ تعالیٰ اپنے رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے فرماتا ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کے واقعہ میں جن جن لوگوں کا اختلاف تھا ان میں جو بات صحیح تھی وہ اتنی ہی تھی جتنی ہم نے بیان فرما دی۔ قول کی دوسری قرأت قول بھی ہے۔ ابن مسعود کی قرأت میں قال الحق ہے۔ قول کا رفع زیادہ ظاہر ہے جیسے (اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِيْنَ01407ۧ) 2۔ البقرة :147) ، میں۔ یہ بیان فرما کر کہ جناب عیسیٰ ؑ اللہ کے نبی تھے اور اس کے بندے پھر اپنے نفس کی پاکیزگی بیان فرماتا ہے کہ اللہ کی شان سے گری ہوئی بات ہے کہ اس کی اولاد ہو۔ یہ جاہل عالم جو افواہیں اڑا رہے ہیں ان سے اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
سورة مَرْیَم 21
یہ ہے وہ نشانی " جو حضرت عیسیٰ ؑ کی ذات میں بنی اسرائیل کے سامنے پیش کی گئی۔ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو ان کی مسلسل بد کرداریوں پر عبرتناک سزا دینے سے پہلے ان پر حجت تمام کرنا چاہتا تھا۔ اس کے لیئے اس نے یہ تدبیر فرمائی کہ بنی ہارون کی ایک ایسی زاہدہ و عابدہ لڑکی کو جو بیت المقدس میں معتکف اور حضرت زکریا کے زیر تربیت تھی، دوشیزگی کی حالت میں حاملہ کردیا جب وہ بچہ لیئے ہوئے آئی تو ساری قوم میں ہیجان برپا ہوجائے اور لوگوں کی توجہات یکلخت اس پر مرکوز ہوجائیں۔ پھر اس تدبیر کے نتیجے میں جب ایک ہجوم مریم پر ٹوٹ پڑا تو اللہ تعالیٰ نے اس نو زائیدہ بچے سے کلام کرایا تاکہ جب یہی بچہ بڑا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–38
خلاصہ تفسیر
یہ ہیں عیسیٰ بن مریم (جن کے اقوال و احوال مذکور ہوئے جس سے ان کا بندہ قبول ہونا معلوم ہوتا ہے نہ جیسے کہ عیسائیوں نے ان کو بندوں کی فہرست سے خارج کرکے خدا تک پہنچا دیا ہے اور نہ ویسے جیسا کہ یہودیوں نے ان کو مقبولیت سے خارج کر کے طرح طرح کی تہمتیں لگائی ہیں) میں (بالکل) سچی بات کہہ رہا ہوں جس میں یہ (افراط وتفریط کرنے والے) لوگ جھگڑ رہے ہیں (چنانچہ یہود و نصاریٰ کے اقوال اوپر معلوم ہوئے اور چونکہ یہود کا قول ظاہراً بھی موجب تنقیص نبی تھا جو کہ بداہتاً باطل ہے اس لیے اس کے رد کی طرف اس مقام پر توجہ نہیں فرمائی بخلاف قول نصارٰی کے کہ ظاہراً مثبت زیادت کمال تھا کہ نبوت کے ساتھ خدا کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
تفسیر آیات 34 تا 35: ذَلِكَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِي فِيهِ يَمْتَرُونَ (34) مَا كَانَ لِلَّهِ أَنْ يَتَّخِذَ مِنْ وَلَدٍ سُبْحَانَهُ إِذَا قَضَى أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ (35)
ایک برمحل جملہ معترضہ بطور تنبیہ : یہ دو ٓیتیں، حضرت مسیح کے ارشادات کے بیچ میں، اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور جملہ معترضہ ہیں۔ بالکل برمحل لوگوں کو عام طور پر اور نصاریٰ کو خاص طور پر توجہ دلائی گئی ہے کہ یہ ہے حضرت مسیح کی اصل حقیقت جو انہوں نے خود اپنی زبان سے واضح فرمائی ہے۔
نصاری کی معمہ سازی : قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِي فِيهِ يَمْتَرُونَ۔۔ امتراٗ کے اصل معنی بکری کے تھن کو اچھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
34۔ 1 یعنی یہ ہیں وہ صفات، جن سے حضرت عیسیٰ ؑ صفت کئے گئے تھے نہ کہ ان صفات کے حامل، جو نصاریٰ نے حد سے گزر کر ان کے بارے میں باور کرائیں اور نہ ایسے، جو یہودیوں نے کمی کی اور نقص نکالنے سے کام لیتے ہوئے ان کی بابت کہا۔ اور یہی حق بات ہے۔ جس میں لوگ خواہ مخواہ شک کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–41
19: اس پورے واقعے کو ذکر فرما کر یہ نتیجہ نکالا گیا ہے کہ عیسائیوں اور یہودیوں نے حضرت عیسیٰ ؑ کے بارے میں جو افراط وتفریط اختیار کر رکھی ہے وہ حقیقت نہیں ہے۔ نہ وہ الزامات درست ہیں جو یہودیوں نے ان پر لگا رکھے ہیں، اور نہ انہیں اللہ تعالیٰ کا بیٹا ماننا صحیح ہے جیسا کہ عیسائیوں نے مان رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو کسی بیٹے کی ضرورت نہیں ہے۔
Read the full tafseer →یہ ہے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی اصل حقیقت ‘ نہ ان لوگوں کی بات درست ہے جو ان کو الہٰ بناتے ہیں۔ نہ ان لوگوں کی بات درست ہے جو ان کی ولادت کے بارے میں ان کی والدہ محترمہ کو متہم کرتے ہیں۔ ان کی ولادت ‘ ان کی نشوونما اور مرتبہ و مقام کی یہی حقیقت ہے۔ یہی قول حق ہیجس میں لوگ شک کرتے ہیں اور شکایت کرتے ہیں۔ وہ زبانی طور پر اس کی تصدیق کرتے ہیں اور حالات قصہ بھی یہی بتاتے ہیں۔
Read the full tafseer →6 یعنی حضرت مسیح (علیہ السلام) کی شان و صفت یہ ہے جو اوپر بیان ہوئی۔ ایک سچی اور کھلی ہوئی بات میں لوگوں نے خواہ مخواہ جھگڑے ڈال لیے۔ اور طرح طرح کے اختلافات کھڑے کردیے۔ کسی نے ان کو خدا بنادیا کسی نے خدا کا بیٹا، کسی نے کذاب و مفتری کہا، کسی نے نسب وغیرہ پر طعن کیا۔ سچی بات وہ ہی ہے جو ظاہر کردی گئی کہ خدا نہیں، خدا کے مقرب بندے ہیں۔ جھوٹے مفتری نہیں، سچے پیغمبر ہیں۔ ان کا حسب نسب سب سے پاک و صاف ہے۔ خدا نے ان کو " کلمۃ اللہ " فرمایا ہے اور ممکن ہے " قول الحق " کے معنی بھی یہاں " کلمۃ اللہ " کے ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–34
آیت 28 یٰٓاُخْتَ ہٰرُوْنَ مَا کَانَ اَبُوْکِ امْرَاَ سَوْ ءٍ وَّمَا کَانَتْ اُمُّکِ بَغِیًّا
حضرت مریم کو ہارون کی بہن کہنے کی وجہ یا تو یہ ہوسکتی ہے کہ ان کا ہارون نامی کوئی بھائی ہو ‘ یا یہ بھی ممکن ہے کہ حضرت ہارون علیہ السلام کی نسل سے ہونے کی وجہ سے ایک برگزیدہِ جدّ امجد کے طور پر آپ علیہ السلام کا نام لیا گیا ہو کہ دیکھو کس عظیم شخصیت کی نسل سے تمہارا تعلق ہے اور حرکت تم نے کس قدر گری ہوئی کی ہے۔
Read the full tafseer →31 سیدنا عیسیٰ کے بارے میں افراط وتفریط میں مبتلا فرقے ان کے جھگڑے اور کلام فی المہد کے اہم نکات :۔ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کی حقیقت بالکل یہی ہے جو یہاں بیان کردی گئی۔ لیکن اہل کتاب نے اس میں کئی اختلاف اور جھگڑے کھڑے کردیئے۔ یہود نے سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کو اتنا گھٹایا کہ نعوذ باللہ انھیں ولدالزنا قرار دے کر اس پر دلائل پیش کرنے لگے اور نصاریٰ نے ان کا درجہ اس قدر چڑھایا کہ انھیں عین اللہ قرار دے لیا یا کچھ دوسرے انھیں ابن اللہ کہنے لگے اور اپنے ایسے عقائد کے دلائل پیش کرنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ دونوں گروہ افراط وتفریط اور غلو فی الدین میں مبتلا ہیں۔ جو کچھ اصل…
Read the full tafseer →52۔ یہ ہے ان کی صحیح کیفیت۔ یہ ہے ان کے نبی اور بندہ مقبول ومقرب ہونے کا صحیح اور سچا بیان۔ نہ وہ خدا، نہ فرزند خدا، نہ مظہر خدا، جیسا کہ عیسائیوں نے گڑھ رکھا ہے۔ نہ وہ بندہ نامقبول ومردود، جیسا کہ یہود نے طرح طرح انہیں متہم کر رکھا ہے۔ (آیت) ” الذی فیہ یمترون “۔ ان کے باب میں جھگڑا کرنے والے بھی افراط وتفریط میں مبتلا اور غلو کرنے والے فرقہ ہیں۔ (آیت) ” ذلک “۔ اشارہ اوپر کے قول (آیت) ” انی عبداللہ “۔ الخ، کی جانب ہے یعنی عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) وہی ہیں جو ان صفات سے موصوف ہیں۔ الاشارۃ الی ماتقدم وھو قولہ انی عبداللہ اتانی الکتاب اے ذلک الموصوف بھذہ الصفات ھو عیسیٰ بن مریم (کبیر) (آیت) ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–40
آیت نمبر 26 تا 40
ترجمہ : پھر پکی اور تازہ کھجوریں کھاؤ اور چشمہ کا پانی پیو اور بیٹے سے آنکھیں ٹھنڈی کرو عینًا تمییز ہے فاعل سے منقول ہے یعنی تو اس بچہ کو دیکھ کر آنکھوں کو ٹھنڈا کر کے سکون حاصل کر دوسرے بچوں کی طرف التفات نہ کر فاِمَّا میں ان شرطیہ کے نون کو ما زائدہ میں مدغم کردیا گیا ہے تَرَیِنَّ اس کا لام کلمہ اور عین کلمہ حذف کردیا گیا ہے عین کلمہ کی حرکت نقل کر کے را کو دے دی گئی اور یائے ضمیر کو التقاء ساکنین کی وجہ سے کسرہ دے دیا گیا اگر تو کسی بشر کو دیکھے اور وہ تیرے بچہ کے متعلق سوال کرے تو کہہ دینا کہ میں نے اس بچہ وغیرہ کے بارے میں لوگوں سے کلام کرنے سے رحمٰن کے لئے سکوت کا روزہ…
Read the full tafseer →ذلک عیسیٰ ابن مریم یہ ہیں عیسیٰ مریم کے بیٹے
ذٰلِکَیعنی یہ جس کا ذکر اوپر کے بیان میں کیا گیا اور جو پیدائشی ‘ طور پر اپنی بندگی اور عبدیت کا معترف تھا ‘ عیسیٰ تھا مریم کا بیٹا ‘ وہ ایسا نہیں تھا جیسا عیسائی اس کو کہتے ہیں وہ نہ خدا تھا اور نہ خدا کا بیٹا۔ اس مختصر جملہ میں نصاریٰ کے عقائد کی پُر زور تردید ہے اور برہانی طور پر عقیدۂ نصاریٰ کے غلط ہونے کا اظہار ہے۔
قول الحق الذی فیہ یمترون۔ ہم نے وہ صحیح بات کہہ دی جس کے متعلق لوگ شک میں پڑے ہوئے ہیں اور باہم جھگڑے کرتے ہیں۔ یہودی عیسیٰ : ( علیہ السلام) کو جھوٹا جادوگر کہتے ہیں اور عیسائی خدا یا خدا کا بیٹا۔
Read the full tafseer →(34) یہ ہے عیسیٰ بن مریم ؑ کا واقعہ اور عیسیٰ ؑ کی بالکل سچی بات جس میں نصاری شک کر رہے ہیں کہ بعض ان کو اللہ اور بعض اللہ کا بیٹا اور بعض کا شریک کہتے ہیں۔
Read the full tafseer →ذٰلِكَ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ۔۔ : ”قَوْلَ الْحَــقِّ“ اصل میں ”اَلْقَوْلَ الْحَقَّ“ تھا، یعنی وہ بات جو حق اور سچ ہے، تخفیف کے لیے موصوف کو صفت کی طرف مضاف کردیا، یعنی عیسیٰ ؑ کے بارے میں سچ بات صرف وہ ہے جو یہاں خود ان کی زبانی بیان کردی گئی کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے سچے رسول ہیں اور ان کا نسب ہر شک و شبہ اور ہر عیب سے پاک ہے۔ رہے ان کی والدہ اور ان پر تہمت تراشنے والے یہود اور انھیں رب قرار دینے والے نصاریٰ ، تو ان کی بات محض شکوک و شبہات پر مبنی ہے، اس میں حق کا کوئی شائبہ نہیں۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ذلک عیسیٰ ابن مریم یعنی یہ جس کا ہم نے ذکر کیا ہے وہ عیسیٰ ابن مریم ہے پس اسی طرح تم اس پر اعتقاد رکھو نہ اس طرح کہو جس طرح یہود کہتے ہیں کیونکہ وہ درست نہیں ہے وہ کہتے ہیں : یہ یوسف نجار کا بیٹا ہے اور اس طرح بھی تم نہ کہو جس طرح نصاریٰ نے کہا : وہ الٰہ ہے اور الٰہ کا بیٹا ہے۔ قول الحق کسائی نے کہا : یہ عیسیٰ کی لغت ہے یعنی ذلک عیسیٰ ابن مریم ج قول الحق حضرت عیسیٰ کا قول الحق کہا گیا جس طرح انہیں کلمۃ اللہ کہا گیا ( 1) ۔ الحق سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ ابو حاتم نے کہا : اس کا معنی ہے ھو قول الحق۔ تقدیر کلام اسطرح ہے ھذا الکلام قول الحق، حضرت ابن عباس نے فرمایا :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–37
1:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ذلک عیسیٰ ابن مریم، قول الحق الذی فیہ یمترون “ میں الحق سے مراد اللہ تعالیٰ ہیں۔
2:۔ عبد الرزاق اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے (آیت) ” الذی فیہ یمترون “ کے بارے میں سوال کیا کہ بنواسرائیل جمع ہوئے اور انہوں نے اپنے میں سے چار آدمی نکالے ہر گروہ میں سے ان کا علم نکالا گیا اور انہوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں مشورہ کیا جب ان کو اٹھایا گیا ان میں سے ایک نے کہا وہ اللہ ہے جو زمین پر اترے تھے اس نے زندہ کیا اور موت دی پھر آسمان کی طرف چڑھ گیا اور وہ یعقوبیہ تھے باقی تینوں افراد نے کہا انہوں نے جھوٹ کہا پھر ان میں سے دو…
Read the full tafseer →[ذٰلِكَ : یہ ] [عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ : عیسیٰ (علیہ السلام) ابن مریم ہیں ] [قَوْلَ الْحَــقِّ الَّذِي : (میں کہتا ہوں) ان (علیہ السلام) کی سچی بات ] [فِيْهِ : جن (کے بارے) میں ] [يَمْتَرُوْنَ : یہ لوگ جھگڑتے ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–35
کسی کو اپنی اولاد بنانا اللہ تعالیٰ کے شایان شان نہیں ہے
ان آیات میں بھی حضرت عیسیٰ بن مریم ( علیہ السلام) کا تذکرہ ہے اور اللہ پاک کی توحید بیان فرمائی ہے اور یہ بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ شرک سے، کسی کو اولاد بنانے سے بری اور بیزار ہے پہلے تو یہ فرمایا کہ یہ عیسیٰ بن مریم جن کا ذکر گزشتہ آیات میں ہوا۔ ان کے بارے ہم نے سچی بات بیان کردی اس سچی بات میں لوگ جھگڑتے ہیں اور یہ جھگڑالو یہود و نصاریٰ ہیں اور اب تو جھوٹی نبوت کے دعویدار بھی ان کے ہم نوا ہوگئے ہیں جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے لیے باپ تجویز کرتے ہیں اس کے بعد فرمایا کہ یہ بات اللہ کے شایان شان نہیں ہے کہ وہ کسی کو اپنی اولاد بنائے وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–40
قول مبرم و فیصلہء محکم
دربارۂ حقیقت عیسیٰ بن مریم صلی اللہ تعالیٰ علیٰ نبینا وعلیہما وبارک و سلم
قال اللہ تعالیٰ ۔ ذٰلک عیسیٰ ابن مریم۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ والینا یرجعون۔
یہاں تک حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت کا قصہ تفصیل سے بیان فرمایا تاکہ اصل حقیقت واضح اور منکشف ہوجائے۔ اب آگے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں یہود اور نصاریٰ کے اختلاف کا فیصلہ فرماتے ہیں۔
چناچہ فرماتے ہیں، یہ ہیں عیسیٰ پسر مریم جو فقط عورت سے بغیر باپ کے پیدا ہوئے ہیں۔ یہ فقط مریم (علیہ السلام) کے بیٹے ہیں ان کا کوئی باپ نہیں۔ ان کی صحیح شان اور صفت وہ ہے جو اوپر بیان ہوئی عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) وہ نہیں جن کو عیسائی…
Read the full tafseer →25:۔ ” ذلک “ سے مذکورہ حالات کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حالات یہ ہیں کہ وہ خود محتاج تھے اور ماں کے پیٹ سے پیدا ہوئے تھے تو وہ کس طرح متصرف و مختار ہوسکتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–40
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں حضرت مریم (علیہ السلام) کا ذکر ہوا اور پھر عیسیٰ (علیہ السلام) کی غیر معمولی طریقے سے ولادت کا بیان آیا ، اس ضمن میں حضرت مریم (علیہ السلام) کی پریشانی کا حال بیان ہوچکا ہے پھر ہو اپنے بچے کو اٹھائے اپنی قوم کے پاس آئیں تو انہوں نے سخت طعن ملامت کی کہ تیرے والدین تو بڑے صالح لوگ تھے ، تم یہ بغیر نکاح کے بچہ کیسے لے آئی حضرت مریم (علیہ السلام) نے خود جواب دینے کی بجائے بچے کی طرف اشارہ کی کہ سارا معاملہ خود اسی سے پوچھ لو ، اللہ نے بچے کو قوت گویائی عطا فرمائی تو بچہ نے بول کر کہا کہ میں اللہ کا بندہ ہوں ، مجھے اللہ نے کتاب دی ہے اور نبی بنا کر بھیجا ہے ، مجھے نماز…
Read the full tafseer →ذٰلِكَ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ 0ۚ قَوْلَ الْحَــقِّ الَّذِيْ فِيْہِ يَمْتَرُوْنَ 34
عيسی
عِيسَى اسم علم، وإذا جعل عربيّا أمكن أن يكون من قولهم : بعیر أَعْيَسُ ، وناقة عَيْسَاءُ ، وجمعها عِيسٌ ، وهي إبل بيض يعتري بياضها ظلمة، أو من الْعَيْسِ وهو ماء الفحل يقال :
عَاسَهَا يَعِيسُهَا «2» .
( ع ی س ) یہ ایک پیغمبر کا نام اور اسم علم ہے اگر یہ لفظ عربی الاصل مان لیا جائے تو ہوسکتا ہے کہ یہ اس عیس سے ماخوذ ہو جو کہ اعیس کی جمع ہے اور اس کی مؤنث عیساء ہے اور عیس کے معنی ہیں سفید اونٹ جن کی سفیدی میں قدرے سیاہی کی آمیزش ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے عیس سے مشتق ہو جس کے معنی سانڈ کے مادہ منو یہ کے ہیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–36
3 ؎ حضرت مریم [ کا خود کلام نہ کرنا گود کے بچہ کی طرف اشارہ کرنا کہ یہ خود اپنا حال بیان کر دے گا اپنی برأت کا اظہار مقصود تھا کس لیے کہ حرامی بچہ میں یہ کمال و کرامت کہاں کہ وہ کلام کرے اور کلام بھی ایسا پر معنی اور بلند مرتبہ کہ میں خدا کا بندہ ہوں خدا نہیں کیونکہ آنے والا حال خدا نے ان پر منکشف کردیا تھا کہ میرے معتقدوں میں سے بہت لوگ مجھے ابن اللہ یا خدا کہیں گے اس میں ضمناً نصاریٰ پر تعریض بھی ہے کہ وہ تو اپنے کو خدا کا بندہ کہتے تھے تم ان کو ابن اللہ اور خدا کہتے ہو یہ کیا اتباع عیسیٰ ہے۔ دوم یہ کہ اس نے مجھے کتاب دی اور نبی بنایا گو اس وقت نہ کتاب انجیل ملی تھی نہ نبوت مگر یقینا ہونے…
Read the full tafseer →ذٰلِکَ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ ج قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِیْ فِیْہِ یَمْتَرُوْنَ ۔ مَاکَانَ لِلّٰہِ اَنْ یَّتَّخِذَ مِنْ وَّلَدٍ لا سُبْحٰنَـہٗ ط اِذَا قَضٰٓی اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَـہٗ کُنْ فَیَکُوْنُ ۔ (مریم : 34، 35)
(یہ ہیں عیسیٰ ابن مریم، (اور یہ ہے وہ) سچی بات جس میں لوگ جھگڑ رہے ہیں۔ اللہ کے شایاں نہیں کہ وہ کوئی اولاد بنائے، وہ پاک ہے، جب وہ کسی کام کا فیصلہ کرلیتا ہے تو وہ کہتا ہے، ہوجا۔ پس وہ ہوجاتا ہے۔ )
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی اصل حقیقت
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی زبان سے ان کی اصل حقیقت واضح فرمائی ہے، جس سے ایک تو حضرت مریم کا پاک دامن ہونا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
فہم القرآن
ربط کلام : خلاصہ کلام یہ ہے کہ عیسیٰ ابن مریم [ ایک بندہ تھے۔ خدا نہیں تھے۔
یہاں سارے خطاب کا نچوڑ پیش کرتے ہوئے ذَالِکَ کا لفظ استعمال ہوا۔ جو دور اور نزدیک کے لیے اشارہ کے طور پر بولا جاتا ہے۔ اس کا مقصد اس حقیقت کو واضح کرنا ہے کہ حضرت مریم [ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور جن کو لوگ خدا یا خدا کا جزء ٹھہراتے ہیں اور جہاں تک کہ عیسائیوں کا کہنا ہے کہ عیسیٰ ( علیہ السلام) اللہ کا بیٹا ہے۔ انھیں قرآن مجید کی بتلائی ہوئی حقیقت کو پوری طرح سمجھ لینا چاہیے۔ کہ اللہ تعالیٰ بیوی، اولاد اور کسی قسم کی حاجت اور کمزوری سے بےنیاز۔ پاک ہے اور وہ ہر قسم کی شراکت اور لوگوں کی یاوا گوئی سے…
Read the full tafseer →34: ذٰلِکَ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ (یہ عیسیٰ ابن مریم ہے) ۔
نحو : ذلک مبتدا عیسیٰ خبر اور ابن مریم خبر کی صفت ہے۔ یا نمبر 2۔ دوسری خبر ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے ذلک الذی قال انی عبداللّٰہ وکذا و کذا عیسیٰ بن مریم لا کما قالت النصاری انہٗ الہٌ او ابن اللّٰہ۔ یہی جس نے انی عبداللہ الخ کہا عیسیٰ ابن مریم ہے۔ وہ نہیں جو نصاریٰ نے کہا وہ معبود یا ابن اللہ ہے۔
قَوْلَ الْحَقِّ (سچی بات) اللہ تعالیٰ کا کلمہ۔ القول کلمہ کو کہتے ہیں اور الحق اللہ تعالیٰ کی ذات نمبر 2۔ ان کو کلمہ اللہ اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے کلمہ کنؔ سے بلا واسطہ باپ کے پیدا ہوا۔
نحو : یہ مرفوع اس لئے ہے کہ دوسری خبر ہے۔ نمبر…
Read the full tafseer →34۔ ذالک عیسیٰ ابن مریم، ، زجاج کا قول ہے کہ حضرت عیسیٰ نے کہا، انی عبداللہ ، عیسیٰ بن مریم۔۔۔۔ قول الحق، ، ابن عامر عاصم، یعقوب نے لام کے نصب کے ساتھ پڑھا ہے۔ نصب مصدر کی وجہ سے ہے۔ بعض نے کہا کہ اس نے حق کہا، الذی فیہ یمترون، اس کا معنی ہے اس میں وہ اختلاف کرتے ہیں، کہنے والے نے کہا نعوذ بااللہ وہ اللہ کا بیٹا ہے اور بعض کہنے والوں نے کہا وہ نعوذ بااللہ اللہ ہے اور بعض نے نعوذ بااللہ کہا کہ وہ ایک جادوگر ہے اور دوسرے قراء نے لام کے رفع کے ساتھ پڑھا ہے۔ یعنی وہی حق ہے ۔ قول کی اضافت حق کی طرف کردی۔ جیسے کہاجاتا ہے ، حق الیقین، ووعد الصدق، ، اور بعض نے کہایہ حضرت عیسیٰ کی صفت ہے یعنی حضرت…
Read the full tafseer →34:۔ یہود اور نصارٰی دونوں حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ کے باب میں طرح طرح کے شک میں پڑے ہوئے ہیں شہود کا شک حضرت مریم کے باب میں یہ ہے کہ حضرت مریم کو وہ یوسف نجار کے ساتھ زنا کی تہمت لگاتے ہیں اور حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کے باب میں ان کا شک یہ ہے کہ نہ وہ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کو حلال کی اولاد جانتے ہیں نہ نبی جانتے ہیں جب کہ حضرت عیسیٰ نبی ہوئے اور طرح طرح کے معجزے ان سے ظاہر ہوئے اسی شک سے کہ وہ نبی نہیں ہیں یہود ان کے دشمن ہوگئے اور اس وقت کے یونان کے ستارہ پرست بادشاہ سے انہوں نے حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کی چغلیاں کھا کر سولی کا حکم حاصل کیا آخر اللہ تعالیٰ نے ایک شخص پر حضرت عیسیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
آیت 34
یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ان صفات سے متصف ہیں اس میں کوئی شک و شبہ نہیں بلکہ یہ قول حق اور اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، جس سے زیادہ سچی اور اچھی کسی اور کی بات نہیں۔ پس حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی بابت دی ہوئی خبر، علم یقینی ہے اور اس کے خلاف جو کچھ کہا گیا ہے وہ قطعی طور پر باطل ہے۔ اس کے بارے میں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ قائل کا محض شک ہے جو علم سے بےبہرہ ہے، اس لئے ارشاد فرمایا : (الذی فیہ یمترون) ” جس میں لوگ جھگڑتے ہیں “ یعنی شک کرتے ہیں اور شک کی بنیاد پر جھگڑتے اور اندازوں کی بنیاد پر بحث کرتے ہیں۔۔۔. ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–45
اپنی ذات کی تعریف بغیر فخر کے جائز ہے
قول باری ہے (وبرا بوالدتی ولم یجعلنی جبارًا شقیاً والسلام علی یوم ولدت ویوم اموت ویوم ابعث حیا۔ اور مجھے اپنی والدہ کا حق ادا کرنے والا بنایا، مجھ کو جبار اور شقی نہیں بنایا، سلام ہے مجھ پر جبکہ میں پیدا ہوا اور جبکہ میں مرون اور جب کہ زندہ کر کے اٹھایا جائوں) اس میں یہ دلالت موجود ہے کہ انسان اپنی ذات کو تعریف اور نیکی کی صفات سے متصف کرسکتا ہے بشرطیکہ اس کی نیت یہ ہو کہ دوسرے اشخاص بھی اس نیکی اور بھلائی سے روشناس ہو کر اس پر عمل پیرا ہو سکیں، اس کے ذریعے وہ ڈینگ مارنے اور اپنی خوبیوں کے فخر یہ اظہار کی نیت نہ رکھتا ہو۔ اس کی مثال حضرت یوسف (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
43 حضرت عیسیٰ کی اصل حقیقت اور حیثیت کا ذکر وبیان : سو حضرت عیسیٰ کی اصل حقیقت اور حیثیت کی تعیین اور اس کے ذکر وبیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا اور حصر و قصر کے انداز و اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ ہے عیسیٰ بیٹا مریم کا "۔ جس کی یہ صفت اور شان بیان ہوئی کہ وہ اللہ کے فرمان سے بغیر باپ کے پیدا ہونے والے ایک پاکیزہ انسان اور اللہ کے بندے اور اس کے رسول تھے نہ کہ خدا یا خدا کے بیٹے۔ جس طرح کہ نصاریٰ نے کہا۔ اور نہ ہی حضرت مریم صدیقہ (علیہ السلام) کی ناجائز اولاد۔ جس طرح کہ یہود بےبہبود نے اپنے خبث باطن کی بناء پر ان پر اتنا بڑا بہتان باندھا ۔ سبحان اللہ ۔ کس قدر جامع اور حق اور سچ ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–34
سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش اور بچپن کی گفتگو
تشریح : سیدہ مریم کا پورا واقعہ سورة آل عمران میں بڑی وضاحت سے گزر چکا ہے کہ آپ کی والدہ نے آپ کو بیت المقدس میں عبادت کے لیے بٹھا دیا تھا۔ یہ محراب شرقی حصہ میں واقعہ تھی، جہاں آپ نے ایک پردہ ڈال کر اپنے آپ کو لوگوں کی نظروں سے چھپا رکھا تھا۔ سیدنا یحییٰ (علیہ السلام) کے ساتھ ہی سیدہ مریم (علیہا السلام) کا ذکر کیا گیا ہے۔ سیدنا یحییٰ (علیہ السلام) کی پیدائش بھی اللہ کی قدرت کی کامل نشانی ہے اور سیدنا مریم (علیہا السلام) کا انتہائی پاکدامن اور نیک ہونے کے باوجود بغیر کسی مرد کے ملے (نکاح وغیرہ) بیٹا پیدا کرنا بھی اللہ کی بہت بڑی نشانیوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–41
(رکوع نمبر 2)
اسرارومعارف
اور اے حبیب ﷺ اس سے عجیب تر اور فکر انگیز واقعہ ایسی کتاب اللہ میں سنا دیجئے جو حضرت مریم (علیہا السلام) کا ہے اور جس کے متعلق یہود اور نصاری نے اپنے اپنے نظریات گھڑ رکھے ہیں کہ اس کی حقیقی اور واقعی صورت کیا ہے یہ بات تب شروع ہوتی ہے جب حضرت مریم (علیہا السلام) اپنے گھر والوں سے الگ ہو کر غسل وغیرہ کرنے کے لیے پردہ میں چلی گئیں تو وہاں ان کے پاس حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو بھیجا جس نے انسانی شکل میں ظاہر ہو کر ان سے بات کرنا چاہی ، یاد رہے حضرت مریم (علیہا السلام) کا ذکر آل عمران میں گذر چکا ہے ۔
(اولیاء اللہ سے فرشتہ کا ہمکلام ہونا)
کہ ان کی والدہ نے منت مانی تھی…
Read the full tafseer →ف 11 یعنی کسی نے انہیں خدا یا خدا کا بیٹا بنادیا اور کسی نے انہیں حرام زاندہ و مفتری کذاب قرار دیا۔ (العیاظ باللہ) سچی بات ہے جو یہاں بیان کی گئی ہے کہ وہ خدا کے سچے پیغمبر ہیں اور ان کا حسب و نسب ہر عیب اور شک و شبہ سے بالا ہے۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →(19:34) ذلک۔ اسم اشارہ ۔ جس کا مشار الیہ وہ ذات ہے جس کی اوصاف جلیلہ اوپر مذکور ہوئی ہیں (یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام) یہ مبتدا ہے اور عیسیٰ خبر اول۔ اور ابن مریم خبر ثانی۔ یا بدل ہے یا عطف بیان۔ یعنی یہ ہیں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) جو ان صفات سے متصف ہیں نہ کہ وہ ایسے ہیں جیسے کہ نصاریٰ انہیں بیان کرتے ہیں۔ کہ ان کو ابن اللہ کہتے ہیں۔
قول الحق۔ مضاف مضاف الیہ۔ قول سے مراد کلمۃ اور الحق سے مراد اللہ تعالیٰ ہیں۔ ای کلمۃ اللہ (کہ وہ اللہ تعالیٰ کے کلمہ کن سے بغیر باپ کے وجود میں آئے) قول بوجہ عیسیٰ سے حال کے منصوب ہے۔
یا قول مصدر ہے تاکید کے لئے لایا گیا ہے اور یہ بھی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–36
لغات القرآن آیت نمبر 22 تا 36
انتبذت (انتباذ) الگ ہوگئی، جدا ہوگئی
قصی دور کا فاصلہ۔ المخاض زچگی کا درد۔ دردزہ۔ جزع جڑ۔ نسیا منسیا بھولی بسری چیز۔ بےنام و نشان ہوجانا۔ سری پانی کا چشمہ۔ ھزی ہلالی۔ جھکادے۔ تساقط گرائی گی۔ رطب ترو تازہ۔ جنی پکا ہوا پھل۔ قری عین آنکھیں ٹھنڈی رکھ۔ ترین تو دیکھے۔ نذرت میں نے منت مان رکھی ہے۔ تحملہ وہ اس کو اٹھا لائے۔ فری (افترائ) عجیب اور نرالی بات۔ المھد گود۔ صبی بچہ۔ اوصنی مجھے حکم دیا۔ مادمت حیا جب تک میں زندہ ہوں۔ شقی بدنصیب، بدنصیب، بدقسمت۔ یمترون وہ شک کرتے ہیں۔
تشریح : آیت نمبر 22 تا 36
حضرت مریم نے جب سے ہوش سنبھالا تھا اس وقت سے وہ اللہ تعالیٰ کے ذکر میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اصل حقیقت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کی یہ ہے سچی بات میں لوگ جھگڑا لگاتے ہیں۔ یہود کہتے ہیں کہ معاذاللہ وہ زنا سے پیدا ہوئے تھے۔ عیسائی کہتے ہیں کہ وہ خدا کے بیٹے تھے، خدا ان کی شکل میں ظاہر ہوا تھا۔ یہود کا قول تو بلکل لچر تھا، اس لئے ان کی طرف توجہ نہیں کی گئی۔ عیسائیوں کو چونکہ دھوکا ہوگیا تھا اس لئے فرمایا کہ اللہ کی شان یہ نہیں کہ کسی کو بیٹا بناوے۔ وہ ان باتوں سے پاک ہے، جب اس کو کوئی کام کرنا منظور ہوتا ہے، وہ فرما دیتا ہے کہ ہوجا، پس وہ کام فوراً ہوجاتا ہے۔ خود حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا مقولہ ہے کہ بیشک اللہ تعالیٰ میرا پروردگار ہے۔ پس اس کی عبادت کرو،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–34
[15] یعنی انجیل۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–40
(ف 2) حضرت مسیح (علیہ السلام) کی پیدائش ایک طرف یہودیوں کے لئے ٹھوکر کا باعث ہوئی اور دوسری جانب مسیحی حضرات اس کی وجہ سے گمراہی کے عمیق غار میں جا گرے ۔
عیسائی مذہب کے مبلغین نے یہ سمجھا کہ مسیح (علیہ السلام) کی یہ حیرت انگیز ولادت کی خدائی پر دال ہے ، ورنہ ایک انسان کیونکر قوانین قدرت کو توڑ سکتا ہے ، اللہ تعالیٰ نے بتایا ، یہ بات غلط ہے مسیح (علیہ السلام) کا تولد ہونا اس کی الوہیت پر دلالت نہیں کرتا ، بلکہ میری جلالت قدرت کا ایک ثبوت ہے میں جب چاہتا ہوں محض ارادہ سے بڑی سے بڑی کائنات کو پیدا کرلیتا ہوں میرے لئے کسی سہارے اور شریک کی مطلقا ضرورت نہیں ، قول الحق سے غرض یہ ہے کہ قرآن نے مسیح…
Read the full tafseer →-34 جس کا ذکر ہوا یہی تو عیسیٰ بن مریم ہے میں سچی بات کہہ رہا ہوں اور میں اس کی صحیح حقیقت بیان کر رہا ہوں جس میں یہ لوگ جھگڑ رہے ہیں۔ یعنی افراط کرنے والے جیسے نصاریٰ اور تفریط کرنیوالے جیسے یہود، نصاریٰ ایک بندئہ خدا کو خدا کا شریک بناتے ہیں اور یہود اس کی تنقیص کرتے ہیں اور اس کو نبوت کے درجے سے گراتے ہیں۔ (العیاذ باللہ)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
ف 7۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کے مجموعہ اوصاف و احوال مذکورہ آیت سے نزاہت و طہارت حضرت مریم (علیہا السلام) کی ثابت ہوگئی۔ جو مقصود تھا اس تکلم خارق عادت سے، جس میں سب سے بڑھ کر دلالت علی المطلوب میں وصف نبوت ہے کیونکہ نبوت کے ساتھ فساد نسب جو کہ اعلی درجہ کا سبب عار ہے مجتمع نہیں ہوتا، اور عطاء نبوت کا تحقق اس تکلم خارق سے ہوتا ہے، کیونکہ بےگناہ سے خارق کا صدور دلیل مقبولیت ہے، اور مقبول ہونا کاذب ہونے کے منافی ہے۔
Read the full tafseer →عیسیٰ (علیہ السلام) سیدہ مریم (علیہ السلام) کے بیٹے کی یہ حیثیت ہے جس میں تم شک کر رہے ہو :
34۔ یہ ہیں عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) جو سیدہ مریم کے بطن سے اسی طرح پیدا ہوئے جس طرح سارے بچے پیدا ہوتے ہیں اسی طرح قرآن کریم نے ان کو ولد قرار دیا جس طرح سارے انسانوں کو جو اپنی اپنی ماؤں کے بطن سے پیدا ہوتے ہیں مولود کہلاتے ہیں پھر جو انسان ہو اور انسان کا ولد بھی ہو اس کے لئے لازم ہے ہر مولود کی طرح وہ اپنے باپ کے مشابہ ہو پھر تم بھی ذرا دھیان سے دیکھو کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کس کے مشابہ ہیں ‘ انسان کے یا اللہ کے یا جبریل (علیہ السلام) کے ؟ اگر انسان کے ہی کے بیٹے ہیں ۔ وہ اسی طرح ماں کے حمل میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–38
Commentary
ذَٰلِكَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ
"This is ` Isa, the son of Maryam." - 19:34.
The beliefs of the Jews and the Christians about Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) were on such opposite extremes that the Christians exalted him to such a level of reverence that they regarded him as the son of Allah. The Jews on the other hand, denigrated him maliciously and called him (God forbid) the illegitimate son of Yusuf (Joseph) the carpenter. Allah Ta` ala has pointed out the error of both the views in these verses and clarified the correct position.
The phrase قَوْلَ الْحَقِّ (translated in the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
21. This speech in the cradle by Jesus was the sign to which the angel referred in(Ayat 21). As Allah intended to punish the children of Israel for their continuous wicked ways and evil deeds, He made a pious virgin girl of the family of Prophet Aaron, who had devoted herself to worship in the Temple under the patronage of Zachariah, bear a child and bring it before her people in order to concentrate the whole attention of the thousands of people assembled there on this extraordinary event. Then He made this new born child speak out even in the cradle that he had been appointed a Prophet.…
Read the full tafseer →