Explained with ayahs 27–33
تقدس مریم اور عوام
حضرت مریم ؑ نے اللہ کے اس حکم کو بھی تسلیم کرلیا اور اپنے بچے کو گود میں لئے ہوئے لوگوں کے پاس آئیں۔ دیکھتے ہی ہر ایک انگشت بدنداں رہ گیا اور ہر منہ سے نکل گیا کہ مریم تو نے تو بڑا ہی برا کام کیا۔ نوف بکالی کہتے ہیں کہ لوگ حضرت مریم کی جستجو میں نکلے تھے لیکن اللہ کی شان کہیں انہیں کھوج ہی نہ ملا۔ راستے میں ایک چرواہا ملا اس سے پوچھا کہ ایسی ایسی عورت کو تو نے کہیں اس جنگل میں دیکھا ہے ؟ اس نے کہا نہیں۔ لیکن میں نے رات کو عجیب بات دیکھی ہے کہ میری یہ تمام گائیں اس وادی کی طرف سجدے میں گرگئیں۔ میں نے تو اس سے پہلے کبھی ایسا واقعہ نہیں دیکھا۔ اور میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
سورة مَرْیَم 21
یہ ہے وہ نشانی " جو حضرت عیسیٰ ؑ کی ذات میں بنی اسرائیل کے سامنے پیش کی گئی۔ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو ان کی مسلسل بد کرداریوں پر عبرتناک سزا دینے سے پہلے ان پر حجت تمام کرنا چاہتا تھا۔ اس کے لیئے اس نے یہ تدبیر فرمائی کہ بنی ہارون کی ایک ایسی زاہدہ و عابدہ لڑکی کو جو بیت المقدس میں معتکف اور حضرت زکریا کے زیر تربیت تھی، دوشیزگی کی حالت میں حاملہ کردیا جب وہ بچہ لیئے ہوئے آئی تو ساری قوم میں ہیجان برپا ہوجائے اور لوگوں کی توجہات یکلخت اس پر مرکوز ہوجائیں۔ پھر اس تدبیر کے نتیجے میں جب ایک ہجوم مریم پر ٹوٹ پڑا تو اللہ تعالیٰ نے اس نو زائیدہ بچے سے کلام کرایا تاکہ جب یہی بچہ بڑا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
ډوَځ ا بِوَالِدَتِيْ اس جگہ صرف والدہ کا ذکر کیا والدین کا نہیں، اس میں اشارہ کردیا کہ میرا وجود معجزانہ طور پر بغیر والد کے ہوا ہے اور بچپن کا یہ معجزانہ کلام اس کے لئے کافی شہادت اور دلیل ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–33
تفسیر آیت 30 تا 33:۔ قَالَ إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ آتَانِيَ الْكِتَابَ وَجَعَلَنِي نَبِيًّا (30) وَجَعَلَنِي مُبَارَكًا أَيْنَ مَا كُنْتُ وَأَوْصَانِي بِالصَّلاةِ وَالزَّكَاةِ مَا دُمْتُ حَيًّا (31) وَبَرًّا بِوَالِدَتِي وَلَمْ يَجْعَلْنِي جَبَّارًا شَقِيًّا (32) وَالسَّلامُ عَلَيَّ يَوْمَ وُلِدْتُ وَيَوْمَ أَمُوتُ وَيَوْمَ أُبْعَثُ حَيًّا (33)
گہوارے میں حضرت مسیح کے ارشادات : یہ حضرت مسیح کے وہ ارشادات ہیں جو اس موقع پر انہوں نے اپنی اور اپنی والدہ ماجدہ کی بریت میں گہوارے کے اندر سے فرمائے۔ حضرت مریم جس امتحان میں ڈال دی گئی تھیں اس سے پوری عزت اور سرخروئی کے ساتھ عہدہ برآ ہونے کے لیے ضروری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
34۔ 1 یعنی یہ ہیں وہ صفات، جن سے حضرت عیسیٰ ؑ صفت کئے گئے تھے نہ کہ ان صفات کے حامل، جو نصاریٰ نے حد سے گزر کر ان کے بارے میں باور کرائیں اور نہ ایسے، جو یہودیوں نے کمی کی اور نقص نکالنے سے کام لیتے ہوئے ان کی بابت کہا۔ اور یہی حق بات ہے۔ جس میں لوگ خواہ مخواہ شک کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–33
18: یعنی جب تک میں اس دنیا میں زندہ رہوں گا مجھ پر نماز اور زکوٰۃ فرض رہے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–33
یوں حضرت عیسیٰ یہ اعلان کرتے ہیں کہ وہ اللہ کے بندے ہیں ، وہ خدا کے بیٹے نہیں ہیں ، جس طرح بعض عیسانی فرقے دعویٰ کرتے ہیں۔ نہ وہ بذات خود الہ ہیں جس طرح بعض دور سے فرقے عقیدہ رکھتے ہیں ۔ نہ یہ بات ہے کہ وہ تینوں کا ایک ہیں اور تین الہ واحد ہیں جیسا کہ ایک دوسرا فرقہ یہ عقیدہ رکھتا ہے۔ وہ اعلان کرتے ہیں کہ اللہ نے مجھے نبی بنایا ہے۔ نہ بیٹا بنایا ہے اور نہ شریک۔ مجھ میں برکت ڈلای ہے اور یہ حکم دیا ہے کہ پوری زندگی میں نماز ادا کروں اور زکوۃ رپ عمل کروں۔ والدہ کے ساتھ حسن سلوک کروں اور فیملی کے ساتھ خوشگوار تعلقات رکھوں۔ خود میری زنگدی محدود ہے۔ موت کے لئے ایک دن مقرر ہے۔ مروں گا ، پھر اٹھایا…
Read the full tafseer →5 اس جملہ کے ہم معنی جملہ پہلے حضرت یحییٰ کے ذکر میں گزر چکا۔ فرق اتنا ہے کہ وہاں خود حق تعالیٰ کی طرف سے کلام تھا۔ یہاں حق تعالیٰ نے مسیح کی زبان سے وہ ہی بات فرمائی۔ نیز " سَلَامٌ" اور " اَلسَّلَامُ " کا فرق بھی قابل لحاظ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–34
آیت 28 یٰٓاُخْتَ ہٰرُوْنَ مَا کَانَ اَبُوْکِ امْرَاَ سَوْ ءٍ وَّمَا کَانَتْ اُمُّکِ بَغِیًّا
حضرت مریم کو ہارون کی بہن کہنے کی وجہ یا تو یہ ہوسکتی ہے کہ ان کا ہارون نامی کوئی بھائی ہو ‘ یا یہ بھی ممکن ہے کہ حضرت ہارون علیہ السلام کی نسل سے ہونے کی وجہ سے ایک برگزیدہِ جدّ امجد کے طور پر آپ علیہ السلام کا نام لیا گیا ہو کہ دیکھو کس عظیم شخصیت کی نسل سے تمہارا تعلق ہے اور حرکت تم نے کس قدر گری ہوئی کی ہے۔
Read the full tafseer →30 سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کے اس وقت کے کلام کے باقی نکات یہ تھے کہ میں جہاں کہیں بھی رہوں گا اللہ کی مہربانی سے اس کی برکات میرے شامل حال رہیں گی اور مجھے یہ بھی تاکیدی حکم دیا گیا ہے کہ جب تک زندہ رہوں باقاعدگی کے ساتھ نمازیں اور زکوٰۃ ادا کرتا رہوں۔ اور اپنی والدہ سے بہتر سلوک کرتا رہوں (صرف والدہ کا ذکر اس لئے کیا کہ آپ کا والد تھا ہی نہیں ورنہ اس کا بھی ضرور ذکر کرتے) اللہ نے میری سرشت میں نہ سرکشی رکھی ہے اور نہ بدبختی۔ جب میں پیدا ہوا تھا تو اس دن بھی اللہ نے مجھ پر سلامتی نازل فرمائی تھی اور مرتے وقت حتیٰ کہ مرنے کے بعد اٹھتے وقت یعنی اس دنیا میں بھی اور اگلے جہان میں بھی بہرحال…
Read the full tafseer →51۔ سلام یہاں وسیع معنی میں ہے، یعنی اللہ کے حفظ وامن کے مرادف۔ ملاحظہ ہو حاشیہ نمبر 19۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–40
آیت نمبر 26 تا 40
ترجمہ : پھر پکی اور تازہ کھجوریں کھاؤ اور چشمہ کا پانی پیو اور بیٹے سے آنکھیں ٹھنڈی کرو عینًا تمییز ہے فاعل سے منقول ہے یعنی تو اس بچہ کو دیکھ کر آنکھوں کو ٹھنڈا کر کے سکون حاصل کر دوسرے بچوں کی طرف التفات نہ کر فاِمَّا میں ان شرطیہ کے نون کو ما زائدہ میں مدغم کردیا گیا ہے تَرَیِنَّ اس کا لام کلمہ اور عین کلمہ حذف کردیا گیا ہے عین کلمہ کی حرکت نقل کر کے را کو دے دی گئی اور یائے ضمیر کو التقاء ساکنین کی وجہ سے کسرہ دے دیا گیا اگر تو کسی بشر کو دیکھے اور وہ تیرے بچہ کے متعلق سوال کرے تو کہہ دینا کہ میں نے اس بچہ وغیرہ کے بارے میں لوگوں سے کلام کرنے سے رحمٰن کے لئے سکوت کا روزہ…
Read the full tafseer →والسلم علی یوم ولدت ویوم اموت ویوم ابعث حیا اور مجھ پر (اللہ کی طرف سے) سلام ہے جس روز میں پیدا ہوا اور جس روز مروں گا اور جس روز زندہ کر کے اٹھایا جاؤں گا۔
السلام سلامتی ‘ حفاظت ‘ پیدائش کے وقت شیطان کے کچوکا دینے سے اور مرنے کے بعد عذاب قبر سے اور قیامت کے دن ہول قیامت اور عذاب دوزخ سے یا السلام سے مراد ہے اللہ کی طرف سے تحیت و رحمت ہر تغیر حالت کے وقت (یعنی پیدائش پھر موت پھر قیامت کے دن دوسری زندگی یہ تینوں انقلابی حالات ہیں ان میں سے ہر حالت کے وقت مجھ پر اللہ کی رحمت ہے) ۔
اَلسَّلاَمُ عَلَیَّکہنے میں درپردہ دشمنوں پر لعنت ہے جب حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) نے اپنے اور اپنے مؤمن ساتھیوں کے…
Read the full tafseer →(33) اور جس وقت کہ میں پیدا ہوا، شیطان کے کو نچے سے مجھ کو سلامتی ہو اور قبر کی گھبراہٹ سے جب کہ میں مروں گا اور جس وقت کہ قبر سے زندہ کرکے میں اٹھایا جاؤں گا۔
Read the full tafseer →وَالسَّلٰمُ عَلَيَّ يَوْمَ وُلِدْتُّ۔۔ : دیکھیے اسی سورت کی آیت (15) وہاں ”سَلٰمٌ“ اور یہاں ”اَلسَّلٰم“ ہے، اس لیے ترجمہ ”خاص سلامتی“ کیا ہے۔ اس خاص سلامتی میں وہ خصوصیت بھی شامل ہے جو صرف عیسیٰ ؑ اور ان کی والدہ کو حاصل ہوئی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (مَا مِنْ مَوْلُوْدٍ یُوْلَدُ إِلَّا وَالشَّیْطَانُ یَمَسُّہُ حِیْنَ یُوْلَدُ فَیَسْتَھِلُّ صَارِخًا مِنْ مَسِّ الشَّیْطَانِ إِیَّاہُ إِلَّا مَرْیَمَ وَابْنَھَا ثُمَّ یَقُوْلُ أَبُوْ ھُرَیْرَۃَ وَاقْرَؤُوْا إِنْ شِءْتُمْ : (وَاِنِّىْٓ اُعِيْذُھَابِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ) [ بخاري، التفسیر، باب قولہ : (و إنی أعیذھا بک۔۔) :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–33
اس میں پانچ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فاشارت الیہ قالوا کیف نکلم من کان فی المھد صبیا۔ حضرت مریم کو ترک کلام کا جو حکم دیا گیا تھا۔ آپ نے اسے لازم پکڑا۔ اس آیت میں وارد نہیں ہے کہ آپ نے انی نذرت للرحمن صوما بول کر کہا تھا بلکہ یہ وارد ہے کہ آپ نے اشارہ فرمایا۔ پس یہ ان علماء کے قول کو تقویت دیتا ہے کہ (قولی) کا جو امر آپ کو دیا گیا تھا اس سے مراد اشارہ ہے۔ روایت ہے کہ جب آپ نے بچے کی طرف اشارہ کیا تو لوگوں نے کہا : اس کا ہمارے ساتھ استخفاف اس کے زنا سے بھی ہم پر زیادہ سخت ہے۔ پھر انہوں نے تقریر و ثبوت کی جہت سے کہا : کیف نکلم من کان فی المھد صبیا۔ (1) اس آیت میں کان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–33
1:۔ عبدالرزاق، ابن ابی شیبہ، عبدبن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے عکرمہ ؓ سے (آیت) ” قال انی عبداللہ “ کے بارے میں فرمایا کہ اس بارے میں فیصلہ کیا گیا جو فیصلہ کیا گیا کہ میں اس طرح سے ہوں۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے انس ؓ سے روایت کیا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی ماں کے پیٹ میں انجیل پڑھ لی تھی اور اس کو یاد بھی کرلیا تھا اس وجہ سے فرمایا (آیت) ” قال انی عبداللہ اتانی الکتاب “۔
3:۔ اسماعیل نے معجم میں ابونعیم نے حلیہ میں ابن لال نے مکارم الاخلاق میں ابن مردویہ اور نجار نے تاریخ میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا قول ہے (آیت) ’ ’ وجعلنی مبرکا این…
Read the full tafseer →[وَالسَّلٰمُ : اور سلام ہے ] [عَلَيَّ : مجھ پر ] [يَوْمَ : جس دن ] [وُلِدْتُّ : میں پیدا کیا گیا ] [وَيَوْمَ : اور جس دن ] [اَمُوْتُ : میں مروں گا ] [وَيَوْمَ : اور جس دن ] [اُبْعَثُ : میں اٹھایا جائوں گا ] [حَيًّا : زندہ ہوتے ہوئے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–35
کسی کو اپنی اولاد بنانا اللہ تعالیٰ کے شایان شان نہیں ہے
ان آیات میں بھی حضرت عیسیٰ بن مریم ( علیہ السلام) کا تذکرہ ہے اور اللہ پاک کی توحید بیان فرمائی ہے اور یہ بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ شرک سے، کسی کو اولاد بنانے سے بری اور بیزار ہے پہلے تو یہ فرمایا کہ یہ عیسیٰ بن مریم جن کا ذکر گزشتہ آیات میں ہوا۔ ان کے بارے ہم نے سچی بات بیان کردی اس سچی بات میں لوگ جھگڑتے ہیں اور یہ جھگڑالو یہود و نصاریٰ ہیں اور اب تو جھوٹی نبوت کے دعویدار بھی ان کے ہم نوا ہوگئے ہیں جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے لیے باپ تجویز کرتے ہیں اس کے بعد فرمایا کہ یہ بات اللہ کے شایان شان نہیں ہے کہ وہ کسی کو اپنی اولاد بنائے وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–33
قال اللٰہ تعالیٰ ۔ واذکر فی الکتٰب مریم۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ و یوم اموت ویوم ابعث حیا۔
(ربط) حق تعالیٰ نے گزشتہ رکوع میں حضرت زکریا (علیہ السلام) کا قصہ بیان فرمایا کہ بحالت پیری ایک پیر ناتواں اور ایک بانجھ اور بوڑھی بیوی سے بلا سبب ظاہری ایک مبارک فرزند یعنی یحییٰ (علیہ السلام) کا تولد ہوا۔ اب اس سے زیادہ عجیب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت کا قصہ بیان کرتے ہیں۔ اس لیے کہ بوڑھے مرد اور بانجھ عورت سے بچہ پیدا ہونا اگرچہ عجیب ہے۔ مگر والدین سے بچہ کا پیدا ہونا عادۃ قریب الی العقل ہے اور بغیر باپ کے محض ماں سے بچہ پیدا ہونا بہت ہی عجیب و غریب ہے جو اللہ کی کمال قدرت پر دلالت کرتا ہے کہ خدائے تعالیٰ…
Read the full tafseer →24:۔ یہاں بھی بدستور تین مختلف زمانوں کا ذکر کیا گیا ہے جو ایک دوسرے سے قطعاً مختلف ہیں۔ یعنی (1) ولادت کے بعد (2) موت کے بعد اور (3) بعث بعد الموت کے بعد۔ ولادت سے دنیوی زندگی شروع ہوتی ہے جو موت پر ختم ہوجاتی ہے اور موت سے برزخی زندگی شروع ہوجاتی ہے جو دوبارہ جی اٹھنے تک ہے اس کے بعد اخروی زندگی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–33
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت کا ذکر ہوا ، اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم (علیہ السلام) کی پریشانی کا حال ذکر کیا اور پھر ان کو تسلی بھی دی جنگل یا پہاڑی غار میں ان کو کھانے پینے کی اشیاء اپنی قدرت تامہ سے مہیا کیں ، پھر یہ بھی فرمایا کہ اے مریم (علیہ السلام) اگر کسی شخص سے ملاقات ہوجائے تو کہنا کہ آج کے دن میں نے چپ کا روزہ رکھا ہوا ہے ، لہذا کسی سے کلام نہیں کروں گی اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم (علیہ السلام) کے مع بچے قوم کے پاس آنے اور مسیح (علیہ السلام) کی طرف سے اپنی ماں کی صفائی بیان کرنے کا ذکر فرمایا ہے ۔
(حضرت مریم (علیہ السلام) قوم کے پاس)
ارشاد…
Read the full tafseer →وَالسَّلٰمُ عَلَيَّ يَوْمَ وُلِدْتُّ وَيَوْمَ اَمُوْتُ وَيَوْمَ اُبْعَثُ حَيًّا 33
سلام
السِّلْمُ والسَّلَامَةُ : التّعرّي من الآفات الظاهرة والباطنة، قال : بِقَلْبٍ سَلِيمٍ
[ الشعراء/ 89] ، أي : متعرّ من الدّغل، فهذا في الباطن، وقال تعالی: مُسَلَّمَةٌ لا شِيَةَ فِيها
[ البقرة/ 71] ، فهذا في الظاهر، وقد سَلِمَ يَسْلَمُ سَلَامَةً ، وسَلَاماً ، وسَلَّمَهُ الله، قال تعالی: وَلكِنَّ اللَّهَ سَلَّمَ [ الأنفال/ 43] ، وقال : ادْخُلُوها بِسَلامٍ آمِنِينَ [ الحجر/ 46] ، أي : سلامة، وکذا قوله : اهْبِطْ بِسَلامٍ مِنَّا[هود/ 48] . والسّلامة الحقیقيّة ليست إلّا في الجنّة، إذ فيها بقاء بلا فناء، وغنی بلا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–36
3 ؎ حضرت مریم [ کا خود کلام نہ کرنا گود کے بچہ کی طرف اشارہ کرنا کہ یہ خود اپنا حال بیان کر دے گا اپنی برأت کا اظہار مقصود تھا کس لیے کہ حرامی بچہ میں یہ کمال و کرامت کہاں کہ وہ کلام کرے اور کلام بھی ایسا پر معنی اور بلند مرتبہ کہ میں خدا کا بندہ ہوں خدا نہیں کیونکہ آنے والا حال خدا نے ان پر منکشف کردیا تھا کہ میرے معتقدوں میں سے بہت لوگ مجھے ابن اللہ یا خدا کہیں گے اس میں ضمناً نصاریٰ پر تعریض بھی ہے کہ وہ تو اپنے کو خدا کا بندہ کہتے تھے تم ان کو ابن اللہ اور خدا کہتے ہو یہ کیا اتباع عیسیٰ ہے۔ دوم یہ کہ اس نے مجھے کتاب دی اور نبی بنایا گو اس وقت نہ کتاب انجیل ملی تھی نہ نبوت مگر یقینا ہونے…
Read the full tafseer →وَالسَّلٰمُ عَلَیَّ یَوْمَ وُلِدْتُّ وَ یَوْمَ اَمُوْتُ وَیَوْمَ اُبْعَثُ حَیًّا۔ (مریم : 33)
(اور سلامتی ہے مجھ پر جس دن میں پیدا ہوا، جس دن مروں گا اور جس دن زندہ کرکے اٹھایا جاؤں گا۔ )
ولادت، موت اور بعث بعدالموت میں حضرت مسیح کا اعزاز
گزشتہ رکوع کے آخر میں آیت نمبر 15 میں حضرت یحییٰ (علیہ السلام) سے متعلق بھی اسی قسم کی بات ارشاد فرمائی گئی ہے کہ وہ بھی ہرحال میں سلام و تحیت کے مستحق تھے اور اسی طرح حضرت مسیح بھی اپنی ولادت، موت اور بعث بعدالموت کے ہر مرحلے میں سلام اور تحیت کے مستحق ہیں۔ جب وہ پیدا ہوئے تو فرشتوں نے ایک دوسرے کو سلام تحیت کہا یعنی مبارکباد دی۔ اور جب ان کا انتقال ہوگا تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–33
فہم القرآن
ربط کلام : ابھی لوگوں کا شور و غل ختم نہیں ہوا تھا کہ والدہ کا اشارہ پاکر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) جواب دیتے ہیں۔
حضرت مریم [ کا اشارہ ہوا ہی تھا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بول اٹھے کہ میں اللہ کا بندہ ہوں اس نے مجھے کتاب دی اور نبی بنایا ہے۔ میں جہاں کہیں ہوں اس نے اپنی برکات سے نوازا ہے۔ میرے رب نے مجھے وصیت کی ہے کہ جب تک زندہ رہوں نماز پڑھوں اور زکوٰۃ ادا کروں۔ مجھے یہ بھی وصیت کی گئی ہے کہ میں اپنی والدہ ماجدہ کے ساتھ بہتر سے بہتر سلوک کرتا رہوں اور میرے رب نے مجھے باغی اور منحوس نہیں بنایا۔ میرے رب نے میری پیدائش، موت اور موت کے بعد اٹھنے کے دن مجھے اپنی رحمت کے دامن میں لے…
Read the full tafseer →وَلَمْ یَجْعَلْنِیْ جَبَّارًا (اور اس نے مجھے سرکش اور بدبخت نہیں بنایا) جبار کا معنی متکبر شَقِیًّا (بدبخت) یعنی عاق و نافرمان۔
33: وَالسَّلٰمُ عَلَیَّ یَوْمَ وُلِدْتُّ (اور مجھ پر سلام جس روز میں پیدا ہو)
نحو : یوم ظرف ہے اور عامل اس میں عَلَیّ خبر ہے۔
وَیَوْمَ اَمُوْتُ وَیَوْمَ اُبْعَثُ حَیًّا (اور جس روز میں مر جائوں گا اور جس روز زندہ کر کے اٹھایا جائونگا) یہ سلامتی کے مواقع جو یحییٰ کی طرف متوجہ ہونے والے ہیں۔ وہ مجھے بھی میسر آنے والے ہیں۔ : یہ مطلب اس صورت میں ہے جبکہ الف، لام عہد کے ہوں۔ نمبر 2: اور اگر الف لام جنس کا ہو تو اس وقت مطلب یہ ہے کہ جنس سلام مجھ پر ہو۔
فائدہ : اس میں مریم…
Read the full tafseer →33۔ والسلام علی یوم ولدت۔ پیدائش کے وقت شیطان کی چونک سے محفوظ رہے۔ ویوم اموت، اور موت کے وقت شرک سے حفاظت کروں گا، ویوم ابعث، حیا، اور اٹھائے جانے والے ھول سے حفاظت کروں گا۔ جب حضرت عیسیٰ نے کلام کیا تو اس کلام کے بعد سب لوگ سمجھ گئے کہ مریم گناہ سے پاک ہیں۔ اس کے بعد عیسیٰ خاموش ہوگئے اور عمر تک کوئی بات نہیں جس عمر تک معمولا بچے بات نہیں کرتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–33
27۔ 33:۔ تفسیر سدی میں ہے کہ حضرت عیسیٰ کے پیدا ہونے کے بعد شیطان نے مریم (علیہا السلام) کی قوم میں یہ خبر پھیلا دی کہ مریم کے ہاں بن باپ کا بچہ پیدا ہوا اس خبر کو سن کر قوم کے لوگ بڑے جوش میں آئے اور مریم (علیہا السلام) کو اس الگ مکان میں سے بستی میں بلایا اس پر مریم (علیہا السلام) چلہ نہانے کے بعد عیسیٰ (علیہ السلام) کو لے کر قوم کے لوگوں کے پاس گئیں یہ تفسیر حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے قول کے موافق ہے کہ گھبراہٹ کے وقت مریم (علیہ السلام) کو جو آواز آئی تھی وہ جبرئیل (علیہ السلام) کی آواز نہیں تھی۔ اوپر گذر چکا ہے کہ مجاہد کے قول کو ترجیح دی ہے اس واسطے تفسیر ابن جریر میں ہے کہ عیسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–33
آیت 27
یعنی جب حضرت مریم علیھا السلام اپنے نفاس سے پاک ہوئیں تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو لے کر اپنی قوم میں تشریف لائیں، چونکہ انہیں اپنی برٓت اور اپنی طہارت نفس کا علم تھا اس لئے انہوں نے کسی کی پروانہ کی۔ لوگوں نے باتیں بناتے ہوئے کہا : (لقد جئت شیا فریا) ” تو نے بڑا عجیب کام کیا “ یعنی بہت نازیبا کام، اس سے ان کی مراد زنا تھا۔۔۔. حالانکہ وہ اس سے پاک تھیں۔
(یاخت ھرون) ” اے ہارون کی بہن۔ “ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت مریم علیھا السلام کا کوئی حقیقی بھائی تھا جس کی طرف ان کو منسوب کیا گیا۔ وہ انبیاء کے نام پر نام رکھا کرتے تھے۔ یہ ہارون، موسیٰ (علیہ السلام) کے بھائی ہارون بن عمران (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–45
اپنی ذات کی تعریف بغیر فخر کے جائز ہے
قول باری ہے (وبرا بوالدتی ولم یجعلنی جبارًا شقیاً والسلام علی یوم ولدت ویوم اموت ویوم ابعث حیا۔ اور مجھے اپنی والدہ کا حق ادا کرنے والا بنایا، مجھ کو جبار اور شقی نہیں بنایا، سلام ہے مجھ پر جبکہ میں پیدا ہوا اور جبکہ میں مرون اور جب کہ زندہ کر کے اٹھایا جائوں) اس میں یہ دلالت موجود ہے کہ انسان اپنی ذات کو تعریف اور نیکی کی صفات سے متصف کرسکتا ہے بشرطیکہ اس کی نیت یہ ہو کہ دوسرے اشخاص بھی اس نیکی اور بھلائی سے روشناس ہو کر اس پر عمل پیرا ہو سکیں، اس کے ذریعے وہ ڈینگ مارنے اور اپنی خوبیوں کے فخر یہ اظہار کی نیت نہ رکھتا ہو۔ اس کی مثال حضرت یوسف (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
43 حضرت عیسیٰ کی اصل حقیقت اور حیثیت کا ذکر وبیان : سو حضرت عیسیٰ کی اصل حقیقت اور حیثیت کی تعیین اور اس کے ذکر وبیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا اور حصر و قصر کے انداز و اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ ہے عیسیٰ بیٹا مریم کا "۔ جس کی یہ صفت اور شان بیان ہوئی کہ وہ اللہ کے فرمان سے بغیر باپ کے پیدا ہونے والے ایک پاکیزہ انسان اور اللہ کے بندے اور اس کے رسول تھے نہ کہ خدا یا خدا کے بیٹے۔ جس طرح کہ نصاریٰ نے کہا۔ اور نہ ہی حضرت مریم صدیقہ (علیہ السلام) کی ناجائز اولاد۔ جس طرح کہ یہود بےبہبود نے اپنے خبث باطن کی بناء پر ان پر اتنا بڑا بہتان باندھا ۔ سبحان اللہ ۔ کس قدر جامع اور حق اور سچ ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–34
سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش اور بچپن کی گفتگو
تشریح : سیدہ مریم کا پورا واقعہ سورة آل عمران میں بڑی وضاحت سے گزر چکا ہے کہ آپ کی والدہ نے آپ کو بیت المقدس میں عبادت کے لیے بٹھا دیا تھا۔ یہ محراب شرقی حصہ میں واقعہ تھی، جہاں آپ نے ایک پردہ ڈال کر اپنے آپ کو لوگوں کی نظروں سے چھپا رکھا تھا۔ سیدنا یحییٰ (علیہ السلام) کے ساتھ ہی سیدہ مریم (علیہا السلام) کا ذکر کیا گیا ہے۔ سیدنا یحییٰ (علیہ السلام) کی پیدائش بھی اللہ کی قدرت کی کامل نشانی ہے اور سیدنا مریم (علیہا السلام) کا انتہائی پاکدامن اور نیک ہونے کے باوجود بغیر کسی مرد کے ملے (نکاح وغیرہ) بیٹا پیدا کرنا بھی اللہ کی بہت بڑی نشانیوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–41
(رکوع نمبر 2)
اسرارومعارف
اور اے حبیب ﷺ اس سے عجیب تر اور فکر انگیز واقعہ ایسی کتاب اللہ میں سنا دیجئے جو حضرت مریم (علیہا السلام) کا ہے اور جس کے متعلق یہود اور نصاری نے اپنے اپنے نظریات گھڑ رکھے ہیں کہ اس کی حقیقی اور واقعی صورت کیا ہے یہ بات تب شروع ہوتی ہے جب حضرت مریم (علیہا السلام) اپنے گھر والوں سے الگ ہو کر غسل وغیرہ کرنے کے لیے پردہ میں چلی گئیں تو وہاں ان کے پاس حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو بھیجا جس نے انسانی شکل میں ظاہر ہو کر ان سے بات کرنا چاہی ، یاد رہے حضرت مریم (علیہا السلام) کا ذکر آل عمران میں گذر چکا ہے ۔
(اولیاء اللہ سے فرشتہ کا ہمکلام ہونا)
کہ ان کی والدہ نے منت مانی تھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–33
ف 10 یعنی پیدائش سے موت تک اور موت سے قیامت تک میں اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں رہوں گا۔
Read the full tafseer →(19:33) ابعث۔ مضارع مجہول واحد متکلم۔ بعث مصدر۔ مجھے اٹھایا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–36
لغات القرآن آیت نمبر 22 تا 36
انتبذت (انتباذ) الگ ہوگئی، جدا ہوگئی
قصی دور کا فاصلہ۔ المخاض زچگی کا درد۔ دردزہ۔ جزع جڑ۔ نسیا منسیا بھولی بسری چیز۔ بےنام و نشان ہوجانا۔ سری پانی کا چشمہ۔ ھزی ہلالی۔ جھکادے۔ تساقط گرائی گی۔ رطب ترو تازہ۔ جنی پکا ہوا پھل۔ قری عین آنکھیں ٹھنڈی رکھ۔ ترین تو دیکھے۔ نذرت میں نے منت مان رکھی ہے۔ تحملہ وہ اس کو اٹھا لائے۔ فری (افترائ) عجیب اور نرالی بات۔ المھد گود۔ صبی بچہ۔ اوصنی مجھے حکم دیا۔ مادمت حیا جب تک میں زندہ ہوں۔ شقی بدنصیب، بدنصیب، بدقسمت۔ یمترون وہ شک کرتے ہیں۔
تشریح : آیت نمبر 22 تا 36
حضرت مریم نے جب سے ہوش سنبھالا تھا اس وقت سے وہ اللہ تعالیٰ کے ذکر میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–33
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کا ذکر اور حضرت مریم (علیہا السلام) پر تہمت اور چالیس روز کے بچہ کی شہادت
جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوچکے تو بعد چلہ کے مریم (علیہا السلام) ان کو گود میں لے کر اپنی قوم کے پاس آئیں۔ وہاں لوگوں کا ان پر ہنگامہ ہوا، اور طعن وتشنیع شروع ہوئی۔ کہنے لگے :" اے مریم ! یہ تو نے بری بات کی۔ اے ہارون کی بہن ! (حضرت ہارون برادر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہی کی طرف نسبت کی کیونکہ ان کی نسل سے تھیں، اس لئے ہارون کی بہن کہا یہ عرب کا محاورہ ہے) ۔ تیرا باپ تو بدکار نہ تھا اور نہ تیری ماں فاحشہ تھی، تو حرام کار کہاں سے پیدا ہوئی "۔ مریم نے اپنے بچہ کی طرف اشارہ کردیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–34
[15] یعنی انجیل۔
Read the full tafseer →حضرت کا مسیح (علیہ السلام) کا بولنا :
(ف 1) بدبخت اور بدشعار یہودیوں نے جب پاکباز مریم پر اعتراض کیا کہ یہ کیا قصہ ہے ؟ تمہاری گود میں یہ کیسا بچہ ہے ؟ تمہارا باپ تو ایسا نہ تھا اور تمہاری ماں بھی یقینا نیک اور صالح تھی ، پھر یہ بچہ کہاں سے آگیا ؟
حضرت مریم (علیہ السلام) چپ ہوگئیں ، اور بچہ کی جانب اشارہ کیا کہ اس سے پوچھو ، غالبا یہ بالکل وجدانی حرکت تھی ، حضرت مریم (علیہ السلام) نے یہ سوچا ہوگا کہ جب خرق عادت کے طور پر بچہ پیدا ہوسکتا ہے ، اور اللہ تعالیٰ نے اس بچہ کو خاص طور پر پیدا فرمایا ہے تو پھر کیا اس صورت حالات میں اللہ میری برات نہ فرمائے گا ، اور ایسا نہ ہو سکے گا کہ بچہ خود بول کر…
Read the full tafseer →-33 اور مجھ پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے سلام ہے جس دن میں پیدا ہوا اور جس روز میں مروں گا اور جس دن دوبارہ زندہ کر کے اٹھایا جائوں گا۔ یعنی مجھ کو سلامتی کا پیغام دیا گیا ہے خواہ وہ پیدا ہونے کا دن ہو یا قیامت کے قریب مرنے کا دن ہو یا قیامت کو منے کے بعد جی اٹھنے کا دن ہو ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
ف 7۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کے مجموعہ اوصاف و احوال مذکورہ آیت سے نزاہت و طہارت حضرت مریم (علیہا السلام) کی ثابت ہوگئی۔ جو مقصود تھا اس تکلم خارق عادت سے، جس میں سب سے بڑھ کر دلالت علی المطلوب میں وصف نبوت ہے کیونکہ نبوت کے ساتھ فساد نسب جو کہ اعلی درجہ کا سبب عار ہے مجتمع نہیں ہوتا، اور عطاء نبوت کا تحقق اس تکلم خارق سے ہوتا ہے، کیونکہ بےگناہ سے خارق کا صدور دلیل مقبولیت ہے، اور مقبول ہونا کاذب ہونے کے منافی ہے۔
Read the full tafseer →عیسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا لوگو ! میں تو سلامتی ہی سلامتی ہوں اگر تم سمجھو :
33۔ فرمایا اے میرے رسول عیسیٰ (علیہ السلام) ان لوگوں سے فرما دیجئے کہ لوگو ! تم مجھے فتنہ جو اور گستاخ قرار دے رہے ہو حالانکہ اللہ نے تو مجھے سلامتی ہی سلامتی بنایا ہے ، میری والدہ ماجدہ نے اسلام کے قاعدہ و قانون کے مطابق نکاح کیا اور اسی طرح اپنی عفت وپاکبازی اور پاکدامنی و طہارت اور حفاظت الہی میں مجھے جنم دیا اور قوم کے سامنے میں قبل از وقت اعلان کرتا ہوں کہ قوم چاہے جو کرلے اور مخالفین مجھے مارنے کی چاہے جتنی بھی سازشیں کریں ‘ کرتے رہیں وہ کبھی بھی کامیاب نہیں ہوں گی اور مجھے جب تک اللہ نے باقی رکھنا ہے میرا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
وَبَرًّا بِوَالِدَتِي
"and (He has made me) good to my mother." - 19:32.
Here only the mother is mentioned and not both the parents. Hence it is implied that his birth was a miracle, being without a father. Such a
discourse coming from an infant was a miracle by itself to prove his miraculous birth.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
21. This speech in the cradle by Jesus was the sign to which the angel referred in(Ayat 21). As Allah intended to punish the children of Israel for their continuous wicked ways and evil deeds, He made a pious virgin girl of the family of Prophet Aaron, who had devoted herself to worship in the Temple under the patronage of Zachariah, bear a child and bring it before her people in order to concentrate the whole attention of the thousands of people assembled there on this extraordinary event. Then He made this new born child speak out even in the cradle that he had been appointed a Prophet.…
Read the full tafseer →