Maryam 19:28

Maryam · from ayah 28

19:28

یٰۤاُخْتَ هٰرُوْنَ مَا كَانَ اَبُوْكِ امْرَاَ سَوْءٍ وَّمَا كَانَتْ اُمُّكِ بَغِیًّا ۟ۖۚيٰۤـاُخۡتَ هٰرُوۡنَ مَا كَانَ اَ بُوۡكِ امۡرَاَ سَوۡءٍ وَّمَا كَانَتۡ اُمُّكِ بَغِيًّا‌

اے ہارون کی بہن نہ تو تیرا باپ ہی بداطوار آدمی تھا اور نہ تیری ماں ہی بدکار تھی

— Fateh Muhammad Jalandhari

O sister of Aaron, your father was not a man of evil, nor was your mother unchaste."

— Saheeh International

Juz 16 · Ruku 2 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Maryam

All translations of 19:28

اے ہارون کی بہن، نہ تیرا باپ کوئی برا آدمی تھا اور نہ تیری ماں ہی کوئی بدکار عورت تھی"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اے ہارون کی بہن نہ تو تیرا باپ ہی بداطوار آدمی تھا اور نہ تیری ماں ہی بدکار تھی

— مولانا فتح محمد جالندہری

اے ہارون کی بہن! نہ تو تیرا باپ برا آدمی تھا اور نہ تیری ماں بدکار تھی

— مولانا محمد جوناگڑہی

اے ہارون کی بہن نہ تو تمہارا باپ کوئی برا آدمی تھا، نہ تمہاری ماں کوئی بدکار عورت تھی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اے ہارون کی بہن تیرا باپ برا آدمی نہ تھا اور نہ تیری ماں بدکار،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اے ہارون کی بہن! نہ تیرا باپ برا آدمی تھا اور نہ ہی تیری ماں بدچلن تھی،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اے ہارون کی بہن ! نہ تیرا باپ کوئی برا آدمی تھا اور نہ تیری ماں کوئی بدکار تھی۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اے ہارون کی بہن ! نہ تو تیرا باپ کوئی برا آدمی تھا اور نہ ہی تیری ماں بدکار تھی

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اے ہارون کی بہن ! نہ تمہارا باپ ہی کوئی برا آدمی تھا اور نہ تمہاری ماں ہی کوئی چھنال تھی

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اے ہارون کی بہن، نہ تو تیرا باپ کوئی برا آدمی تھا اور نہ ہی تیری ماں کوئی بدکار عورت تھی

— مولانا اسحاق مدنی

اے ہارون کی بہن ! نہ تمہارے والد ہی برے آدمی تھے اور نہ تمہاری ماں ہی بدکار تھیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اے ہارون کی بہن ! نہ تو تمہارا والد برا آدمی تھا اور نہ ہی تمہاری والدہ بدکار تھی

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اے ہارون کی بہن ! نہ تو تیرا باپ ہی بدکردار تھا اور نہ تیری ماں ہی بدکار تھی۔

— محترمہ رفعت اعجاز

O sister of Aaron! Your father was not an evil man, nor was your mother an unchaste woman."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

O sister of Harun, neither your father was a man of evil nor was your mother unchaste.

— Muhammad Taqi Usmani

O sister of Harun, neither your father was a man of evil nor was your mother unchaste.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"O sister of Harun! Your father was not a man who used to commit adultery, nor your mother was an unchaste woman."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

O sister of Aaron! Thy father was not a wicked man nor was thy mother a harlot.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

O sister of Aaron, your father was not a man of evil, nor was your mother unchaste."

— Saheeh International

Aaron's sister, your father was not a bad man nor was your mother unchaste".

— Muhammad Sarwar

O sister of Haroun! your father was not a bad man, nor, was your mother an unchaste woman.

— Muhammad Habib Shakir

O sister of Harun: thy father was not a man of evil, nor was thy mother a harlot.

— Abdul Majid Daryabadi

"O sister of Aaron! Thy father was not a man of evil, nor thy mother a woman unchaste!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 19:28

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 27–33

تقدس مریم اور عوام حضرت مریم ؑ نے اللہ کے اس حکم کو بھی تسلیم کرلیا اور اپنے بچے کو گود میں لئے ہوئے لوگوں کے پاس آئیں۔ دیکھتے ہی ہر ایک انگشت بدنداں رہ گیا اور ہر منہ سے نکل گیا کہ مریم تو نے تو بڑا ہی برا کام کیا۔ نوف بکالی کہتے ہیں کہ لوگ حضرت مریم کی جستجو میں نکلے تھے لیکن اللہ کی شان کہیں انہیں کھوج ہی نہ ملا۔ راستے میں ایک چرواہا ملا اس سے پوچھا کہ ایسی ایسی عورت کو تو نے کہیں اس جنگل میں دیکھا ہے ؟ اس نے کہا نہیں۔ لیکن میں نے رات کو عجیب بات دیکھی ہے کہ میری یہ تمام گائیں اس وادی کی طرف سجدے میں گرگئیں۔ میں نے تو اس سے پہلے کبھی ایسا واقعہ نہیں دیکھا۔ اور میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة مَرْیَم 19 (الف) جو لوگ حضرت عیسیٰ کی معجزانہ پیدائش کے منکر ہیں وہ آخر اس بات کی کیا معقول توجیہہ کرسکتے ہیں کہ حضرت مریم کے بچہ لئے ہوئے آنے پر قوم کیوں چڑھ کر آئی اور ان پر یہ طعن اور ملامت کی بوچھاڑ اس نے کیوں کی ؟

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 28–29

(آیت) يٰٓاُخْتَ هٰرُوْنَ حضرت ہارون ؑ جو حضرت موسیٰ ؑ کے بھائی اور ساتھی تھے حضرت مریم کے زمانے سے سینکڑوں برس پہلے گزر چکے تھے یہاں حضرت مریم کو ہارون کی بہن قرار دینا ظاہر ہے کہ اپنے اس ظاہری مفہوم کے اعتبار سے نہیں ہوسکتا اسی لیے جب حضرت مغیرہ بن شعبہ کو رسول اللہ ﷺ نے اہل نجران کے پاس بھیجا تو انہوں نے سوال کیا کہ تمہارے قرآن میں حضرت مریم کو اخت ہارون کہا گیا ہے حالانکہ ہارون ؑ ان سے بہت قرنوں پہلے گزر چکے ہیں حضرت مغیرہ کو اس کا جواب معلوم نہ تھا جب واپس آئے تو رسول اللہ ﷺ سے اس کا ذکر کیا آپ نے فرمایا کہ تم نے ان سے یہ کیوں نہ کہہ دیا کہ اہل ایمان کی عادت یہ ہے کہ تبرکا انبیاء علیہہم…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

فَأَشَارَتْ إِلَيْهِ قَالُوا كَيْفَ نُكَلِّمُ مَنْ كَانَ فِي الْمَهْدِ صَبِيًّا۔ حضرت مریم چونکہ خاموشی کا روزہ رکھے ہوئے تھیں، زبان سے کچھ نہیں کہہ سکتی تھیں اسی وجہ سے انہوں نے نومود کی طرف اشارہ کیا کہ ان تہمتوں کا جواب انہی سے لو، میرے کچھ عرض کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ظاہر ہے کہ اس عرصہ میں حضرت مریم پر یہ بات واضح ہوچکی ہوگی کہ نومولود اپنا اور ان کا مقدمہ لڑنے کے لیے خدا ہی کے ہاں سے پوری طرح مسلح ہو کر آیا ہے۔ وہ لوگ حضرت مریم کی اس بات سے بہت جزبز ہوئے۔ بولے کہ ہم تو تم سے پوچھتے ہیں، اس بچے سے کس طرح بات کریں جو ابھی گہوارے میں ہے ! ! حضرت مریم کی برکت کے لیے شان خداوندی کا ظہور : جب…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 27–28

28۔ 1 ہارون سے مراد ممکن ہے ان کا کوئی عینی یا علاتی بھائی ہو، یہ بھی ممکن ہے ہارون سے مراد ہارون رسول (برادر موسیٰ علیہ السلام) ہی ہوں اور عربوں کی طرح ان کی نسبت اخوت ہارون کی طرف کردی، جیسے کہا جاتا ہے، تقویٰ و پاکیزگی اور عبادت میں حضرت ہارون ؑ کی طرح انھیں سمجھتے ہوئے، انھیں کی مثل اور مشابہت میں اخت ہارون کہا ہو، اس کی مثالیں قرآن کریم میں بھی موجود ہیں (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 28–29

16: یہ بھی ممکن ہے کہ حضرت مریم (علیہا السلام) حضرت ہارون ؑ کی اولاد میں سے ہوں، اور ان کے قبیلے کی طرف منسوب کر کے ان کو ہارون کی بہن کہہ دیا گیا ہو جیسے حضرت ہود ؑ کو ”عاد کا بھائی“ کہا گیا ہے۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ ان کے کسی بھائی کا نام ہارون ہو، اور چونکہ وہ نیک نام بزرگ تھے، اس لیے ان کی قوم نے ان کا حوالہ دیا ہو۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

جب یہ آتی ہے تو پوری قوم کے چہرے سیاہ نظر آتے ہیں ، یہ لوگ اس کے قریبی رشتہ دار ہیں۔ وہ دیکھتے ہیں کہ ان کی شریف ، پاکدامن اور ہیکل کو بخشی ہوئی متبرک بیٹی ، عبادت گزار اور اچھی شہرت والی راہبہ ، ایک بچے کو اٹھائے چلی آرہی ہے۔ وہ اس کے سوا اور کیا کہہ سکتے تھے۔ قالوایمریم لقد جئت شیئاً فریا (82) ” یاخت ھرون مکان ابوک امرا سوء وما کانت املک بغیاً (82) (91 : 82-82) لوگ کہنے لگے ” اے مریم ، یہ تو تو نے بڑا باپ کر ڈالا۔ اے ہارون کی بہن ، نہ تیرا باپ کوئی برا آدمی تھا اور نہ تیرا ماں ہی کوئی بدکار عورت تھی۔ “ ان کی زبانوں کی کاٹ تیز ہے کہ تو نے تو بہت ہی مگر وہ کام کر ڈالا۔ طعنے دینے لگے اور تو تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

10 یعنی بدگمان ہو کر کہنے لگے کہ تیرے ماں باپ اور خاندان والے ہمیشہ سے نیک رہے ہیں، تجھ میں یہ بری خصلت کدھر سے آئی ؟ بھلوں کی اولاد کا برا ہونا محل تعجب ہے (تنبیہ) مریم (علیہا السلام) کو " اخت ہارون " اس لیے کہا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بھائی حضرت ہارون (علیہ السلام) کی نسل سے تھی۔ گویا " اُخت ہارون " سے مراد " اُخت قوم ہارون " ہوئی۔ جیسے (وَاذْكُرْ اَخَا عَادٍ ) 46 ۔ الاحقاف :21) میں ہود (علیہ السلام) کو " عاد " کا بھائی کہا ہے۔ حالانکہ " عاد " ان کی قوم کے مورث اعلیٰ کا نام تھا۔ اور ممکن ہے " اُخت ہارون " کے ظاہری معنی لیے جائیں جیسا کہ بعض احادیث صحیحہ سے ظاہر ہوتا ہے یعنی مریم کے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 28–34

آیت 28 یٰٓاُخْتَ ہٰرُوْنَ مَا کَانَ اَبُوْکِ امْرَاَ سَوْ ءٍ وَّمَا کَانَتْ اُمُّکِ بَغِیًّا حضرت مریم کو ہارون کی بہن کہنے کی وجہ یا تو یہ ہوسکتی ہے کہ ان کا ہارون نامی کوئی بھائی ہو ‘ یا یہ بھی ممکن ہے کہ حضرت ہارون علیہ السلام کی نسل سے ہونے کی وجہ سے ایک برگزیدہِ جدّ امجد کے طور پر آپ علیہ السلام کا نام لیا گیا ہو کہ دیکھو کس عظیم شخصیت کی نسل سے تمہارا تعلق ہے اور حرکت تم نے کس قدر گری ہوئی کی ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 27–28

27 یہود کی بہتان تراشیاں :۔ جس وجہ سے سیدہ مریم اس دور کے مکان میں جاگزیں ہوئی تھیں وہ تو پورا ہوچکا۔ اب وہ اسے اٹھائے ہوئے اور فرشتہ کی ہدایت کو پلے باندھے ہوئے اپنی قوم کے لوگوں کے ہاں آگئیں۔ اس امید پر کہ جیسے اللہ تعالیٰ نے پہلے بروقت مدد فرمائی ہے اب بھی کوئی راہ نکال دے گا۔ جب وہ اپنے لوگوں کے پاس بچہ کو اٹھائے ہوئے پہنچیں تو انہوں نے بچہ کو دیکھ کر بغیر کچھ پوچھے ہی طعن و ملامت شروع کردی اور آسمان سر پر اٹھا لیا اور کہا کہ ہارون جیسے پاکیزہ خاندان کی اولاد ہوتے ہوئے یہ تو نے کیا گل کھلا دیا تم نے ہمارے پورے خاندان کی ناک کٹوا دی اور ہماری عزت خاک میں ملا دی۔ غرض بھانت بھانت کی بولیاں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

42۔ (تو یہ بھی تو نہیں کہا جاسکتا کہ والدین کی برائی کا اثر تم میں آگیا۔ ایسے نیک اور خوش چلن، شریف خاندان میں ہو کر اور یہ حرکت ! کتنی شرم کی بات ہے) غیرت دلانے کا اس سے زیادہ مؤثر زور دار طریق اور ہو کیا سکتا تھا۔ (آیت) ” یاخت ھرون “۔ اخت صیغہ مؤنث اخ کا ہے۔ اور جس طرح اخ کا مفہوم نہایت وسیع ہے اور وطنی، دینی، صناعتی ہر قسم کے اشتراک وتشابہ پر حاوی، اسی طرح اخت کا اطلاق بھی نسب پر محدود نہیں، بلکہ ہر قسم کے اشتراک کے لئے عام ہے۔ یہاں بھی مفہوم اسی مثلیت کا ہے۔ گویا وہ لوگ کہہ یہ رہے ہیں کہ اے ہارون جیسی خاتون، اے تقوی و پاکیزگی میں ہارون کی ہم سطح خاتون، نسبت الیہ بمعنی التشبیہ لابمعنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 26–40

آیت نمبر 26 تا 40 ترجمہ : پھر پکی اور تازہ کھجوریں کھاؤ اور چشمہ کا پانی پیو اور بیٹے سے آنکھیں ٹھنڈی کرو عینًا تمییز ہے فاعل سے منقول ہے یعنی تو اس بچہ کو دیکھ کر آنکھوں کو ٹھنڈا کر کے سکون حاصل کر دوسرے بچوں کی طرف التفات نہ کر فاِمَّا میں ان شرطیہ کے نون کو ما زائدہ میں مدغم کردیا گیا ہے تَرَیِنَّ اس کا لام کلمہ اور عین کلمہ حذف کردیا گیا ہے عین کلمہ کی حرکت نقل کر کے را کو دے دی گئی اور یائے ضمیر کو التقاء ساکنین کی وجہ سے کسرہ دے دیا گیا اگر تو کسی بشر کو دیکھے اور وہ تیرے بچہ کے متعلق سوال کرے تو کہہ دینا کہ میں نے اس بچہ وغیرہ کے بارے میں لوگوں سے کلام کرنے سے رحمٰن کے لئے سکوت کا روزہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یاخت ہرون ما کان ابوک امرا سوء وما کانت امک بغیا۔ اے ہارون کی بہن نہ تیرا باپ برا آدمی تھا اور نہ تیری ماں زانیہ تھی۔ سدی نے کہا اخت ہارون کہنے سے ان کی مراد تھی ‘ حضرت موسیٰ کے بھائی حضرت ہارون ﷺ کی نسل میں سے ہونا۔ تمیم کے قبیلہ کے فرد کو اخو تمیم کہا جاتا ہے۔ حضرت مویم ( علیہ السلام) حضرت ہارون ( علیہ السلام) کی نسل سے تھیں اس لئے ان کو اخت ہارون کہا۔ ابن ابی حاتم نے اس قول کی نسبت علی بن ابی طلحہ کی طرف کی ہے ‘ کلبی نے کہا حضرت مریم کے علاتی بھائی کا نام ہارون تھا بنی اسرائیل میں وہ بہت ہی بزرگ اور نیک آدمی تھا۔ بغوی نے حضرت مغیرہ بن شعبہ کی روایت سے لکھا ہے مغیرہ کا بیان ہے جب میں نجران…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(28) اے ہارون کی بہن تمہارے باپ کوئی برے آدمی نہ تھے ہارون کی عبادت و پرہیزگاری میں تشبیہ دے کر ان کی بہن کہا کیوں کہ ہارون ؑ بہت نیک انسان تھے یا یہ کہ ہارون ؑ بڑے آدمی تھے، لہذا ان کے ساتھ تشیبہ دے دی،

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

يٰٓاُخْتَ هٰرُوْنَ مَا كَانَ اَبُوْكِ۔۔ : مریم [ کے بھائی کا نام ہارون تھا جو اپنی نیکی اور شرافت میں مشہور تھا، یعنی ایسے صالح بھائی کی بہن، ایسے باپ کی بیٹی جو کسی طرح برا نہ تھا اور ایسی ماں کی بیٹی جس میں بدکاری کی کوئی خصلت نہ تھی، تو نے یہ کیا گل کھلا دیا ؟ ان الفاظ میں وہ مریم [ کو اشارتاً برائی سے متہم کر رہے تھے۔ ”کسی طرح برا“ اور ”بدکاری کی کسی خصلت والی“ کا مفہوم ”امْرَاَ سَوْءٍ“ اور ”بَغِيًّا“ کے نکرہ ہونے سے واضح ہو رہا ہے، جو عموم پر دلالت کرتا ہے۔ عظیم پیغمبر موسیٰ ؑ کے بھائی کا نام بھی ہارون تھا اور وہ بھی نبی تھے۔ اس آیت میں مذکور ہارون کو بعض اہل کتاب نے موسیٰ ؑ کا بھائی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یاخت ھرون اس اخوت کے معنی میں اختلاف ہے اور یہ ہارون کون ہے ؟ بعض علماء نے فرمایا : یہ حضرت ہارون حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا بھائی ہے، مراد یہ ہے کہ جس کو ہم عبادت میں ہارون کی مثل گمان کرتے تھے وہ ایسا فعل کرتی ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : اس بنا پر حضرت مریم حضرت موسیٰ کے بھائی حضرت ہارون کی اولاد سے تھی۔ پس اخوت کے ذریعے ان کی طرف منسوب کی گئی کیونکہ ان کی اولاد سے تھی جیسے تیمی کو کہا جاتا ہے : یا اخاتیم اور عربی کو کہا جاتا ہے : یا اخا العرب۔ بعض علماء نے فرمایا : حضرت مریم کا ایک باپ کی طرف سے بھائی تھا جس کا نام ہارون تھا کیونکہ یہ نام بنی اسرائیل میں کثرت سے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 27–28

1:۔ سعید بن منصور اور ابن عساکر نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” فاتت بہ قومھا تحملہ “ کے بارے میں روایت کیا کہ وہ چالیس دنوں کے بعد (وہ اپنے بچے کو اٹھا کرلے آئیں) جب ان کا نفاس کا خون بند ہوگیا۔ 2:۔ ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” لقد جئت شیئا فریا “ میں ” فریا “ یا مشدد سے مراد ہے عظیما (یعنی تو ایک بڑا معاملہ لے کر آئی) 3:۔ عبداللہ بن احمد نے زوائد الزہد میں قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لقد جئت شیئا فریا “ یعنی بڑا معاملہ۔ 4:۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن عبدالعزیز (رح) سے روایت کیا کہ بنی اسرائیل کے زمانہ میں بیت المقدس میں عین سلوان کے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[يٰٓاُخْتَ هٰرُوْنَ : اے ہارون (علیہ السلام) کی بہن ] [مَا كَان : نہیں تھے ] [اَبُوْكِ : آپ کے والد ] [امْرَاَ سَوْءٍ : کسی برائی کے آدمی ] [وَّمَا كَانتْ : اور نہیں تھیں ] [اُمُّكِ : آپ کی والدہ ] [بَغِيًّا : کوئی زیادتی والی ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 28–35

کسی کو اپنی اولاد بنانا اللہ تعالیٰ کے شایان شان نہیں ہے ان آیات میں بھی حضرت عیسیٰ بن مریم ( علیہ السلام) کا تذکرہ ہے اور اللہ پاک کی توحید بیان فرمائی ہے اور یہ بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ شرک سے، کسی کو اولاد بنانے سے بری اور بیزار ہے پہلے تو یہ فرمایا کہ یہ عیسیٰ بن مریم جن کا ذکر گزشتہ آیات میں ہوا۔ ان کے بارے ہم نے سچی بات بیان کردی اس سچی بات میں لوگ جھگڑتے ہیں اور یہ جھگڑالو یہود و نصاریٰ ہیں اور اب تو جھوٹی نبوت کے دعویدار بھی ان کے ہم نوا ہوگئے ہیں جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے لیے باپ تجویز کرتے ہیں اس کے بعد فرمایا کہ یہ بات اللہ کے شایان شان نہیں ہے کہ وہ کسی کو اپنی اولاد بنائے وہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 16–33

قال اللٰہ تعالیٰ ۔ واذکر فی الکتٰب مریم۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ و یوم اموت ویوم ابعث حیا۔ (ربط) حق تعالیٰ نے گزشتہ رکوع میں حضرت زکریا (علیہ السلام) کا قصہ بیان فرمایا کہ بحالت پیری ایک پیر ناتواں اور ایک بانجھ اور بوڑھی بیوی سے بلا سبب ظاہری ایک مبارک فرزند یعنی یحییٰ (علیہ السلام) کا تولد ہوا۔ اب اس سے زیادہ عجیب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت کا قصہ بیان کرتے ہیں۔ اس لیے کہ بوڑھے مرد اور بانجھ عورت سے بچہ پیدا ہونا اگرچہ عجیب ہے۔ مگر والدین سے بچہ کا پیدا ہونا عادۃ قریب الی العقل ہے اور بغیر باپ کے محض ماں سے بچہ پیدا ہونا بہت ہی عجیب و غریب ہے جو اللہ کی کمال قدرت پر دلالت کرتا ہے کہ خدائے تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 27–28

20:۔ ” فَرِیًّا “ بہت بری بات۔ جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت ہوگئی تو حضرت مریم انہیں لے کر اپنے گھر آئیں تو ان کی قوم کے لوگ یہ ماجرا دیکھ کر بول اٹھے کہ اے مریم تو نے یہ کس قدر بری حرکت کی ہے۔ ” یَا اُخْتَ ھٰرُوْنَ الخ “ ہارون حضرت مریم کا باپ کی طرف سے بھائی تھا۔ اور بہت نیک، پارسا اور عابد و زاہد تھا۔ وکان اخا ھا من ابیھا ومن افضل بنی اسرائیل (مدارک ج 3 ص 62) ۔ یعنی اے مریم ! تو تو ہارون جیسے نیکو کار اور پارسا کی بہن ہے، تیرا باپ برا آدمی نہیں تھا نہ تیری ماں بدکار تھی تو نے یہ کیا کر ڈالا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 27–33

ربط آیات : گذشتہ آیات میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت کا ذکر ہوا ، اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم (علیہ السلام) کی پریشانی کا حال ذکر کیا اور پھر ان کو تسلی بھی دی جنگل یا پہاڑی غار میں ان کو کھانے پینے کی اشیاء اپنی قدرت تامہ سے مہیا کیں ، پھر یہ بھی فرمایا کہ اے مریم (علیہ السلام) اگر کسی شخص سے ملاقات ہوجائے تو کہنا کہ آج کے دن میں نے چپ کا روزہ رکھا ہوا ہے ، لہذا کسی سے کلام نہیں کروں گی اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم (علیہ السلام) کے مع بچے قوم کے پاس آنے اور مسیح (علیہ السلام) کی طرف سے اپنی ماں کی صفائی بیان کرنے کا ذکر فرمایا ہے ۔ (حضرت مریم (علیہ السلام) قوم کے پاس) ارشاد…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يٰٓاُخْتَ ہٰرُوْنَ مَا كَانَ اَبُوْكِ امْرَاَ سَوْءٍ وَّمَا كَانَتْ اُمُّكِ بَغِيًّا۝ 28ۖۚ أخ أخ الأصل أخو، وهو : المشارک آخر في الولادة من الطرفین، أو من أحدهما أو من الرضاع . ويستعار في كل مشارک لغیره في القبیلة، أو في الدّين، أو في صنعة، أو في معاملة أو في مودّة، وفي غير ذلک من المناسبات . قوله تعالی: لا تَكُونُوا كَالَّذِينَ كَفَرُوا وَقالُوا لِإِخْوانِهِمْ [ آل عمران/ 156] ، أي : لمشارکيهم في الکفروقوله تعالی: أَخا عادٍ [ الأحقاف/ 21] ، سمّاه أخاً تنبيهاً علی إشفاقه عليهم شفقة الأخ علی أخيه، وعلی هذا قوله تعالی: وَإِلى ثَمُودَ أَخاهُمْ [ الأعراف/ 73] وَإِلى عادٍ أَخاهُمْ [ الأعراف/ 65] ،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

1 ؎ ہارون سے حضرت ہارون موسیٰ (علیہ السلام) کے بھائی مراد نہیں کیونکہ مریم میں اور ان میں سینکڑوں برسوں کا فاصلہ ہے۔ یہ ان کی بہن نہیں ہوسکتی بلکہ ان کے نام پر کوئی دوسرا ہارون تھا جو مریم کا رشتہ کا بھائی تھا جس کی نیک بختی بنی اسرائیل میں مشہور تھی یعنی تم ایسے شریف اور نیک خاندان کی ہو کر یہ کیا کر بیٹھیں اور اگر ہارون مراد ہوں تو اخت کے معنی بہن کے ہیں بلکہ ابن اخت اخ عرب میں نسبت کے لیے بھی مستعمل ہوتے ہیں ابن اللیل چاند کو ابن السبیل مسافر کو اخ العرب عربی کو کہتے ہیں یعنی تاروں والی چونکہ عہدہ امانت حضرت ہارون (علیہ السلام) کی اولاد میں چلا آتا تھا اور حضرت مریم [ بھی اس مقدس و معزز…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 27–28

فَاَتَتْ بِہٖ قَوْمَھَا تَحْمِلُہٗ ط قَالُوْا یٰمَرْیَمُ لَقَدْ جِئْتِ شَیْئًا فَرِیًّا۔ یٰٓـاُخْتَ ھٰرُوْنَ مَاکَانَ اَبُوْکِ امْرَاَ سَوْئٍ وَّمَا کَانَتْ اُمُّکِ بَغِیًّا۔ (مریم : 27، 28) (پس وہ اس کو گود میں اٹھائے ہوئے اپنی قوم کے پاس آئی، لوگوں نے کہا، اے مریم ! تم نے بہت ہی برا کام کیا ہے۔ اے ہارون کی بہن نہ تمہارا باپ ہی کوئی برا آدمی تھا اور نہ تیری ماں ہی بدچلن تھی۔ ) حضرت مریم کو خاندان والوں کی ملامت حضرت مریم جب چلنے پھرنے کے قابل ہوئیں تو اپنے بچے کو لے کر اپنے گھر لوٹیں۔ اہل خانہ دیکھتے ہی ہک دھک رہ گئے۔ ان کے لیے یہ تصور بھی ناقابلِ برداشت تھا کہ ان کے خاندان کی کوئی لڑکی اور…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 27–29

فہم القرآن ربط کلام : حضرت مریم [ کا عیسیٰ ( علیہ السلام) کو گود میں اٹھا کر اپنے خاندان کے لوگوں کے پاس آنا۔ قرآن مجید یہ بتلا رہا ہے کہ حضرت مریم [ عیسیٰ (علیہ السلام) کو گود میں لیے اپنی قوم کے پاس آئیں۔ قوم نے انھیں طعنے دیے۔ یہاں قوم سے مراد ان کے خاندان کے لوگ ہیں۔ خاندان کے لوگوں نے حضرت مریم [ کی گود میں معصوم بچہ دیکھا تو حیران رہ گئے۔ ظاہر بات ہے کہ حضرت مریم [ عام لوگوں کی بجائے پہلی مرتبہ قریبی رشتہ داروں میں آئی ہوں گی پھر خاندان کے ذریعے بات محلے اور معاشرے کے لوگوں تک پہنچی ہوگی۔ جنھوں نے حضرت مریم [ کو ایسی ویسی باتیں کیں اور طعنے دیے۔ یہاں تک کہا کہ اے ہارون کی بہن !” نہ تیری…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

28: یٰٓـاُخْتَ ھٰرُوْنَ (اے ہارون کی بہن) یہ مریم کا باپ کی طرف سے حقیقی بھائی تھا۔ اس زمانہ کے بنی اسرائیل کے افضل ترین لوگوں میں سے شمار ہوتا تھا۔ نمبر 2۔ یہ موسیٰ (علیہ السلام) کے بھائی کا نام ہے اور یہ ان کے اجداد میں سے تھے اور ان کے مابین ایک ہزار برس کا فاصلہ ہے اور یہ اسی طرح ہے جیسے کہتے ہیں یا اخا عمران یعنی ان میں سے ایک یاؔ نمبر 3۔ کوئی نیک آدمی یاؔ نمبر 4۔ ان کے زمانے میں بدترین آدمی اس کے ساتھ مریم کو تشبیہ بھلائی میں دی۔ نمبر 5۔ یہ کہہ کر وہ مریم کو گالی بک رہے تھے۔ مَاکَانَ اَبُوْکِ امْرَاَسَوْئٍ (اور تمہارا باپ برا آدمی نہ تھا) ابوک سے عمران مراد ہیں۔ امراء سواء کا مطلب زنا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

28۔ یا اخت ہارون، مراد اس سے حضرت ہارون (علیہ السلام) کے ساتھ تشبیہ دینا ہے۔ یا اخت ہارون سے کون مراد ہیں ؟ قتادہ کا قول ہے کہ بنی اسرائیل میں ہارون بہت نیک صالح شخص تھا۔ روایت میں آتا ہے کہ جب یہ نیک صالح شخص مراتو اس کے جنازے میں چالیس ہزار ہارون نام کے شامل ہوئے دوسرے لوگوں کے علاوہ، حضرت مریم علیہماالسلام بھی بڑی عبادت گزار تھیں، نیکی اور عبادت کی وجہ سے ا ن لوگوں نے مریم کو ہارون کو بہن کہہ دیا۔ نسبی بہن مراد نہیں جس طرح اللہ نے ، ان المبذرین کانو اخوان الشیاطین، فرمایا ہے اور فضول مال برباد کرنے والوں کو شیطان کا بھائی کہا گیا ہے یعنی شیطانوں کی طرح نہ کہ شیطان کانسبی بھائی۔ حضرت مغیرہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 27–33

27۔ 33:۔ تفسیر سدی میں ہے کہ حضرت عیسیٰ کے پیدا ہونے کے بعد شیطان نے مریم (علیہا السلام) کی قوم میں یہ خبر پھیلا دی کہ مریم کے ہاں بن باپ کا بچہ پیدا ہوا اس خبر کو سن کر قوم کے لوگ بڑے جوش میں آئے اور مریم (علیہا السلام) کو اس الگ مکان میں سے بستی میں بلایا اس پر مریم (علیہا السلام) چلہ نہانے کے بعد عیسیٰ (علیہ السلام) کو لے کر قوم کے لوگوں کے پاس گئیں یہ تفسیر حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے قول کے موافق ہے کہ گھبراہٹ کے وقت مریم (علیہ السلام) کو جو آواز آئی تھی وہ جبرئیل (علیہ السلام) کی آواز نہیں تھی۔ اوپر گذر چکا ہے کہ مجاہد کے قول کو ترجیح دی ہے اس واسطے تفسیر ابن جریر میں ہے کہ عیسیٰ (علیہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 27–33

آیت 27 یعنی جب حضرت مریم علیھا السلام اپنے نفاس سے پاک ہوئیں تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو لے کر اپنی قوم میں تشریف لائیں، چونکہ انہیں اپنی برٓت اور اپنی طہارت نفس کا علم تھا اس لئے انہوں نے کسی کی پروانہ کی۔ لوگوں نے باتیں بناتے ہوئے کہا : (لقد جئت شیا فریا) ” تو نے بڑا عجیب کام کیا “ یعنی بہت نازیبا کام، اس سے ان کی مراد زنا تھا۔۔۔. حالانکہ وہ اس سے پاک تھیں۔ (یاخت ھرون) ” اے ہارون کی بہن۔ “ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت مریم علیھا السلام کا کوئی حقیقی بھائی تھا جس کی طرف ان کو منسوب کیا گیا۔ وہ انبیاء کے نام پر نام رکھا کرتے تھے۔ یہ ہارون، موسیٰ (علیہ السلام) کے بھائی ہارون بن عمران (علیہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 23–30

موت کی تمنا جائز نہیں قول باری ہے (قالت یلیتنی مت قبل ھذا وکتت نسیاً منسیاً وہ کہنے لگی۔ کاش میں اس سے پہلے ہی مرجاتی اور میرا نام و نشان نہ رہتا۔ “) کچھ حضرات کا قول ہے کہ حضرت مریم نے موت کی اس لئے تمنا کی تھی کہ جنسی ملاپ کے بغیر بچے کو جنم دینے کی حالت پر پہنچ گئی تھیں۔ لیکن یہ بات غلط ہے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس حالت میں مبتلا کر کے ان کی آزمائش کی تھی اور وہ اس کے اس فیصلے پر راضی تھیں اور اللہ کی فرماں برداری پر کمربستہ تھیں۔ اللہ تعالیٰ کے فیصلوں پر اظہار ناپسندیدگی معصیت ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے صرف وہی فعل و قوع پذیر ہوتا ہے جو حکمت اور صواب پر مبنی ہوتا ہے۔ اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 27–28

35 ہارون کی بہن کا مطلب ؟ : اس سے مراد وہ ہارون (علیہ السلام) نہیں جو کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بھائی تھے کہ وہ تو اس سے صدیاں پہلے گزر چکے تھے۔ بلکہ اس سے مراد حضرت مریم (علیہا السلام) کے وہ بھائی تھے جن کا نام ہارون تھا اور جو بڑے عابد و زاہد اور نیک و صالح شخص تھے اور جن کا زہد وتقویٰ ضرب المثل تھا۔ اور بنی اسرائیل میں اپنے نبیوں کے ناموں پر نام رکھنے کا رواج موجود تھا۔ جیسا کہ ہمارے یہاں بھی موجود ہے کہ لوگ پیغمبروں کے نام پر اپنے بچوں کے نام رکھتے ہیں مثلاً محمد، احمد، مصطفی، یعقوب، یوسف، ابراہیم وغیرہ وغیرہ۔ اسی طرح وہاں بھی تھا۔ اور اگر یہاں ہارون (علیہ السلام) سے مراد وہی ہارون…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 16–34

سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش اور بچپن کی گفتگو تشریح : سیدہ مریم کا پورا واقعہ سورة آل عمران میں بڑی وضاحت سے گزر چکا ہے کہ آپ کی والدہ نے آپ کو بیت المقدس میں عبادت کے لیے بٹھا دیا تھا۔ یہ محراب شرقی حصہ میں واقعہ تھی، جہاں آپ نے ایک پردہ ڈال کر اپنے آپ کو لوگوں کی نظروں سے چھپا رکھا تھا۔ سیدنا یحییٰ (علیہ السلام) کے ساتھ ہی سیدہ مریم (علیہا السلام) کا ذکر کیا گیا ہے۔ سیدنا یحییٰ (علیہ السلام) کی پیدائش بھی اللہ کی قدرت کی کامل نشانی ہے اور سیدنا مریم (علیہا السلام) کا انتہائی پاکدامن اور نیک ہونے کے باوجود بغیر کسی مرد کے ملے (نکاح وغیرہ) بیٹا پیدا کرنا بھی اللہ کی بہت بڑی نشانیوں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 16–41

(رکوع نمبر 2) اسرارومعارف اور اے حبیب ﷺ اس سے عجیب تر اور فکر انگیز واقعہ ایسی کتاب اللہ میں سنا دیجئے جو حضرت مریم (علیہا السلام) کا ہے اور جس کے متعلق یہود اور نصاری نے اپنے اپنے نظریات گھڑ رکھے ہیں کہ اس کی حقیقی اور واقعی صورت کیا ہے یہ بات تب شروع ہوتی ہے جب حضرت مریم (علیہا السلام) اپنے گھر والوں سے الگ ہو کر غسل وغیرہ کرنے کے لیے پردہ میں چلی گئیں تو وہاں ان کے پاس حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو بھیجا جس نے انسانی شکل میں ظاہر ہو کر ان سے بات کرنا چاہی ، یاد رہے حضرت مریم (علیہا السلام) کا ذکر آل عمران میں گذر چکا ہے ۔ (اولیاء اللہ سے فرشتہ کا ہمکلام ہونا) کہ ان کی والدہ نے منت مانی تھی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 5 حضرت موسیٰ کے بھائی ہارون کی بہن تو ہو نہیں سکتی کیونکہ ان کا زمانہ حضرت مریم سے سینکڑوں برس پہلے کا ہے اس لئے مفسرین نے ان الفاظ کی مختلف وجوہات بیان کی ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ حضرت مریم کے کسی بھائی کا نام ہارون ہو جیسا کہ ایک حدیث میں بھی ہے کہ بنی اسرائیل اپنے نام اپنے انبیاء و صلحا کے نام پر رکھ لیتے تھے۔ مسلم ترمذی) یا ہوسکتا ہے کہ زہد و عبادت میں تشبیہ کے طور پر اسے اخت ہارون “ کہہ دیا ہو۔ یا ممکن ہے حضرت ہارون کے خاندان سے ہوں اس لئے انہیں عربی محاورہ کے مطابق اخت ہارون کہہ دیا۔ جیسا کہ جب کوئی آدمی مضر قبیلہ سے تعلق رکھتا ہو تو اسے اخا مضر کہہ کر پکار لیتے ہیں۔ گویہ صحیح ہے کہ حضرت…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(19:28) یاخت ہارون۔ اے ہارون کی بہن۔ اخت بوجہ منادی مضاف ہونے کے منصوب ہے۔ اور ہارون کا نصب بوجہ اس کے غیر منصرف ہونے کے ہے۔ یہاں ہارون سے مراد حضرت ہارون برادر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نہیں ہے کیونکہ ان کا زمانہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے بہت پہلے کا ہے۔ علماء کے نزدیک یا تو یہ نام حضرت مریم کے بھائی کا تھا۔ یا اسے حضرت ہارون (علیہ السلام) کی طرف نسبت دینے کے لئے استعمال ہوا ہے کیونکہ اہل عرب جب قبیلہ کے کسی فرد کو قبیلہ کی طرف منسوب کرتے ہیں تو اخ کا لفظ استعمال کرتے ہیں مثلاً یا اخا مضمر (اے قبیلہ مضر کے آدمی) یا اخت ہارون اے حضرت ہارون کے خاندان کی لڑکی۔ امرأ سوئ۔ بدکار آدمی۔ سوء برا…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 22–36

لغات القرآن آیت نمبر 22 تا 36 انتبذت (انتباذ) الگ ہوگئی، جدا ہوگئی قصی دور کا فاصلہ۔ المخاض زچگی کا درد۔ دردزہ۔ جزع جڑ۔ نسیا منسیا بھولی بسری چیز۔ بےنام و نشان ہوجانا۔ سری پانی کا چشمہ۔ ھزی ہلالی۔ جھکادے۔ تساقط گرائی گی۔ رطب ترو تازہ۔ جنی پکا ہوا پھل۔ قری عین آنکھیں ٹھنڈی رکھ۔ ترین تو دیکھے۔ نذرت میں نے منت مان رکھی ہے۔ تحملہ وہ اس کو اٹھا لائے۔ فری (افترائ) عجیب اور نرالی بات۔ المھد گود۔ صبی بچہ۔ اوصنی مجھے حکم دیا۔ مادمت حیا جب تک میں زندہ ہوں۔ شقی بدنصیب، بدنصیب، بدقسمت۔ یمترون وہ شک کرتے ہیں۔ تشریح : آیت نمبر 22 تا 36 حضرت مریم نے جب سے ہوش سنبھالا تھا اس وقت سے وہ اللہ تعالیٰ کے ذکر میں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 27–33

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کا ذکر اور حضرت مریم (علیہا السلام) پر تہمت اور چالیس روز کے بچہ کی شہادت جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوچکے تو بعد چلہ کے مریم (علیہا السلام) ان کو گود میں لے کر اپنی قوم کے پاس آئیں۔ وہاں لوگوں کا ان پر ہنگامہ ہوا، اور طعن وتشنیع شروع ہوئی۔ کہنے لگے :" اے مریم ! یہ تو نے بری بات کی۔ اے ہارون کی بہن ! (حضرت ہارون برادر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہی کی طرف نسبت کی کیونکہ ان کی نسل سے تھیں، اس لئے ہارون کی بہن کہا یہ عرب کا محاورہ ہے) ۔ تیرا باپ تو بدکار نہ تھا اور نہ تیری ماں فاحشہ تھی، تو حرام کار کہاں سے پیدا ہوئی "۔ مریم نے اپنے بچہ کی طرف اشارہ کردیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 28–29

[14] ہارون (علیہ السلام) ، مریم (علیہ السلام) کے بھائی نہایت پارسا شخص تھے۔ اس لئے ملامت کرنے والوں نے ان کی طرف نسبت دے کر ملامت کی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 26–32

(ف 1) حضرت مریم (علیہ السلام) درد زہ کی وجہ سے بےقرار ہوگئیں ، اور جنگل کی طرف نکل کھڑی ہوئیں ، وہیں حضرت مسیح (علیہ السلام) تولد ہوئے ، اس طرح سے بچہ کی پیدائش بجائے خود حضرت مریم (علیہ السلام) کے لئے خوش آیندہ نہ تھی ، اس پر مزید یہ کھٹکا کہ لوگ کیا کہیں گے ، اور پھر بےسروسامانی کا یہ عالم کہ اپنے پاس کوئی موجود نہیں جو دلداری کرسکے ، اس لئے انسانی فطرت کی کمزوری سے انہوں نے اضطرار یہ کہا کہ (آیت) ” یلیتنی مت قبل ھذا وکنت نسیا منسیا “۔ تو بالکل بجا فرمایا حالات کا تقاضا یہی تھا کہ ان کے منہ سے اس قسم کے کلمات نکلیں ۔ اللہ تعالیٰ نے تسلی دی ، حضرت مریم (علیہ السلام) کو فرشتہ نے پکار کر کہا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-28 اے ہارون (علیہ السلام) کی بہن نہ تو تیرا باپ کوئی برا آدمی تھا اور نہ تیری ماں ہی بدکار تھی۔ یعنی ہارون (علیہ السلام) جو تیرے رشتہ کے بھائی ہیں اور ان کا نام حضرت ہارون (علیہ السلام) نبی کے نام پر رکھا گیا تھا تو ایسے بھلے آدمی کی بہن ہے پھر تیرا باپ بھی برا آدمی نہ تھا اور تیری ماں بھی بدکار نہ تھی ایسے نیک اور بھلے آدمیوں کی اولاد ہو کر تیری یہ حرکت بہت ہی قابل افسوس ہے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں بہن ہارون کی یعنی نبی ہارون کی بہن دادے کا نام بولتے ہیں قوم کو جیسے عاد اور ثمود یہ تھیں حضرت ہارون کی اولاد میں۔ 12 غرض ! یا تو ہارون (علیہ السلام) ان کے کسی بھائی کا نام تھا یا حضرت ہارون…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 28–30

ف 5۔ یعنی گو آئندہ دے گا مگر بوجہ یقینی ہونے کے ایسا ہی ہے کہ جیسے دے دی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اے ہارون کی بہن ! تیرے ماں باپ تو بہت اچھے تھے تجھے کیا ہوا ؟ : 28۔ زیر نظر آیت سیدہ مریم کے معاملہ میں ہمارے نظریات اور علمائے کرام کے نظریات کے درمیان ایک فیصلہ کن آیت ہے بشرطیکہ ذرا عقل وفکر سے کام لیا جائے ۔ وہ کیسے ؟ وہ اس طرح کہ علمائے کرام ومفسرین عظام کا خیال ونظریہ ہے کہ کہ مریم کے ہاں بغیر مس بشر کے بچہ پدحا ہوا یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) کا باپ نہیں تھا ، ہمارا خیال ونظریہ ہے کہ سیدہ مریم نے منذورہ ہونے باوجود شادی کرلی جو قوم کے رواج کے خلاف ہونے کے باعث قوم کو پسند نہ آئی تو انہوں نے مریم کو شادی کرنے کے باعث برا جانا ، سوء اتفاق یہ کہ مریم نے نکاح تو کیا لیکن سیدہ مریم (علیہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 28–29

يَا أُخْتَ هَارُ‌ونَ (0 sister of Harun - 19:28). Sayyidna Harun (علیہ السلام) ، who was the brother and companion of Sayyidna Musa (علیہ السلام) had died centuries before Sayyidah Maryam (علیہا السلام) time. It is obvious, therefore, that in verse 28 where Sayyidah Maryam (علیہا السلام) is addressed as the sister of Sayyidna Harun (علیہ السلام) cannot be in its literal sense. This is also corroborated by the incident that when The Holy Prophet ﷺ sent Sayyidna Mughirah Ibn Shu'bah ؓ as his ambassador to the people of Najran they questioned him that in the Qur’ an Sayyidah Maryam (علیہا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

19.“Sister of Aaron”may either mean that Mary had a brother of the name of Aaron, or it may mean that she belonged to the family of Prophet Aaron. The first meaning is supported by a tradition of the Prophet (peace be upon him) and the second is plausible because that is supported by the Arabic idiom. But we are inclined to the second meaning, for the wording of the said tradition does not necessarily mean that she actually had a brother named Aaron. The tradition as related in Muslim, Nasai, Tirmizi, etc. says that when the Christians of Najran criticized the Quranic version of stating Mary…

Read the full tafseer →