Explained with ayahs 27–33
تقدس مریم اور عوام
حضرت مریم ؑ نے اللہ کے اس حکم کو بھی تسلیم کرلیا اور اپنے بچے کو گود میں لئے ہوئے لوگوں کے پاس آئیں۔ دیکھتے ہی ہر ایک انگشت بدنداں رہ گیا اور ہر منہ سے نکل گیا کہ مریم تو نے تو بڑا ہی برا کام کیا۔ نوف بکالی کہتے ہیں کہ لوگ حضرت مریم کی جستجو میں نکلے تھے لیکن اللہ کی شان کہیں انہیں کھوج ہی نہ ملا۔ راستے میں ایک چرواہا ملا اس سے پوچھا کہ ایسی ایسی عورت کو تو نے کہیں اس جنگل میں دیکھا ہے ؟ اس نے کہا نہیں۔ لیکن میں نے رات کو عجیب بات دیکھی ہے کہ میری یہ تمام گائیں اس وادی کی طرف سجدے میں گرگئیں۔ میں نے تو اس سے پہلے کبھی ایسا واقعہ نہیں دیکھا۔ اور میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
سورة مَرْیَم 20
قرآن کی معنوی تحریف کرنے والوں نے اس آیت کا یہ مطلب لیا ہے کہ " ہم اس سے کیا بات کریں جو کل کا بچہ ہے " یعنی ان کے نزدیک یہ گفتگو حضرت عیسیٰ کی جوانی کے زمانے میں ہوئی اور بنی اسرائیل کے بڑے بوڑھوں نے کہا کہ بھلا اس لڑکے سے کیا بات کریں جو کل ہمارے سامنے گہوارے میں پڑا تھا۔ مگر جو شخص موقع و محل اور سیاق وسباق پر کچھ بھی غور کرے گا وہ محسوس کرے گا یہ محض ایک مہمل تاویل ہے جو معجزے سے بچنے کے لیے کی گئی ہے۔ اور کچھ نہیں تو ظالموں نے یہی سوچا ہوتا کہ جس بات پر اعتراض کرنے کے لیئے وہ لوگ آئے تھے وہ تو بچے کی پیدائش کے وقت پیش آئی تھی نہ کہ اس کے جوان ہونے کے وقت۔ علاوہ بریں سورة…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
(آیت) يٰٓاُخْتَ هٰرُوْنَ حضرت ہارون ؑ جو حضرت موسیٰ ؑ کے بھائی اور ساتھی تھے حضرت مریم کے زمانے سے سینکڑوں برس پہلے گزر چکے تھے یہاں حضرت مریم کو ہارون کی بہن قرار دینا ظاہر ہے کہ اپنے اس ظاہری مفہوم کے اعتبار سے نہیں ہوسکتا اسی لیے جب حضرت مغیرہ بن شعبہ کو رسول اللہ ﷺ نے اہل نجران کے پاس بھیجا تو انہوں نے سوال کیا کہ تمہارے قرآن میں حضرت مریم کو اخت ہارون کہا گیا ہے حالانکہ ہارون ؑ ان سے بہت قرنوں پہلے گزر چکے ہیں حضرت مغیرہ کو اس کا جواب معلوم نہ تھا جب واپس آئے تو رسول اللہ ﷺ سے اس کا ذکر کیا آپ نے فرمایا کہ تم نے ان سے یہ کیوں نہ کہہ دیا کہ اہل ایمان کی عادت یہ ہے کہ تبرکا انبیاء علیہہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–33
تفسیر آیت 30 تا 33:۔ قَالَ إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ آتَانِيَ الْكِتَابَ وَجَعَلَنِي نَبِيًّا (30) وَجَعَلَنِي مُبَارَكًا أَيْنَ مَا كُنْتُ وَأَوْصَانِي بِالصَّلاةِ وَالزَّكَاةِ مَا دُمْتُ حَيًّا (31) وَبَرًّا بِوَالِدَتِي وَلَمْ يَجْعَلْنِي جَبَّارًا شَقِيًّا (32) وَالسَّلامُ عَلَيَّ يَوْمَ وُلِدْتُ وَيَوْمَ أَمُوتُ وَيَوْمَ أُبْعَثُ حَيًّا (33)
گہوارے میں حضرت مسیح کے ارشادات : یہ حضرت مسیح کے وہ ارشادات ہیں جو اس موقع پر انہوں نے اپنی اور اپنی والدہ ماجدہ کی بریت میں گہوارے کے اندر سے فرمائے۔ حضرت مریم جس امتحان میں ڈال دی گئی تھیں اس سے پوری عزت اور سرخروئی کے ساتھ عہدہ برآ ہونے کے لیے ضروری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
30۔ 1 یعنی قضا وقدر ہی میں اللہ نے یہ فیصلہ کیا ہوا ہے کہ مجھے کتاب اور نبوت سے نوازے گا
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
16: یہ بھی ممکن ہے کہ حضرت مریم (علیہا السلام) حضرت ہارون ؑ کی اولاد میں سے ہوں، اور ان کے قبیلے کی طرف منسوب کر کے ان کو ہارون کی بہن کہہ دیا گیا ہو جیسے حضرت ہود ؑ کو ”عاد کا بھائی“ کہا گیا ہے۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ ان کے کسی بھائی کا نام ہارون ہو، اور چونکہ وہ نیک نام بزرگ تھے، اس لیے ان کی قوم نے ان کا حوالہ دیا ہو۔
Read the full tafseer →فاشارت الیہ (91 : 92) ” مریم نے بچے کی طرف اشارہ کردیا۔ “ اس عجیب صورتحال کے بارے میں ہم کیا کہہ سکتے ہیں کہ تعجب اور غیظ و غضب اور شرمندگی میں یہ لوگ مریم کے در پے ہوئے ہیں اور دیکھ رہے ہیں کہ ان کی بیٹی ان کے سامنے برملا ایک بچہ اٹھائے چلی آرہی ہے۔ وہ ان لوگوں کے غیض و غضب کو اہمیت نہیں دیتی ، خاموش ہوجاتی ہے اور بچے کی طرف اشارہ کردیتی ہے کہ پوچھو اس سے سارے واقعہ کا راز ، اور وہ جل بھن کر کہتے ہیں :
قالوا کیف نکلم من کان فی المھد صبیاً (91 : 92) ” ہم اس سے کیا بات کریں جو گہوارے میں پڑا ہوا ایک بچہ ہے۔ “
اب ایک دوسرا معجزہ رونما ہوتا ہے :
Read the full tafseer →11 یعنی مریم (علیہا السلام) نے ہاتھ سے بچہ کی طرف اشارہ کیا کہ خود اس سے دریافت کرو۔
12 یعنی اس شرمناک حرکت پر یہ ستم ظریفی ؟ کہ بچہ سے پوچھ لو۔ بھلا ایک گود کے بچہ سے ہم کیسے سوال و جواب کرسکتے ہیں۔ (تنبیہ) مَنْ کَانَ فِیْ الْمَہْدِ صَبِیًّا میں " کَانَ " کا لفظ اس پر دلالت نہیں کرتا کہ تکلم کے وقت وہ صبی نہیں رہا تھا۔ قرآن میں بہت جگہ مثلاً (وَكَان اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا) 4 ۔ النسآء :96) یا (وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنٰٓى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً ) 17 ۔ الاسراء :32) یا (اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰى لِمَنْ كَانَ لَهٗ قَلْبٌ اَوْ اَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيْدٌ) 50 ۔ ق :37) میں کان کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–34
آیت 28 یٰٓاُخْتَ ہٰرُوْنَ مَا کَانَ اَبُوْکِ امْرَاَ سَوْ ءٍ وَّمَا کَانَتْ اُمُّکِ بَغِیًّا
حضرت مریم کو ہارون کی بہن کہنے کی وجہ یا تو یہ ہوسکتی ہے کہ ان کا ہارون نامی کوئی بھائی ہو ‘ یا یہ بھی ممکن ہے کہ حضرت ہارون علیہ السلام کی نسل سے ہونے کی وجہ سے ایک برگزیدہِ جدّ امجد کے طور پر آپ علیہ السلام کا نام لیا گیا ہو کہ دیکھو کس عظیم شخصیت کی نسل سے تمہارا تعلق ہے اور حرکت تم نے کس قدر گری ہوئی کی ہے۔
Read the full tafseer →28 سیدہ مریم نے فرشتہ کی ہدایت کے مطابق ان کی کڑوی کسیلی باتوں میں سے کسی کا جواب نہ دیا بلکہ اس نومولود بچے کی طرف اشارہ کردیا کہ یہ خود جواب دے گا۔ اس بات پر لوگ اور زیادہ برہم ہوئے اور کہنے لگے ایک تو خود مجرم ہو دوسرے ہمارا مذاق اڑاتی ہو۔ یہ بچہ جو ابھی پیدا ہوا ہے بھلا ان باتوں کا کیا جواب دے سکتا ہے ؟
Read the full tafseer →43۔ (کہ جو کچھ کہنا سننا ہے اسی بچہ سے کہوسنو)
44۔ یہودا اسے حضرت مریم (علیہ السلام) کی زبان سے طنز وتمسخرسمجھ کر اور جھنجھلائے، اور بولے کہ کیا باتیں کرتی ہو ؟ ہم مخاطب اس ناسمجھ، بےزبان بچہ سے ہوں جو ابھی گہوارہ میں پڑا ہوا ہے ! لمااشارت الیہ غضبوا غضبا شدیدا (کبیر۔ عن السدی) (آیت) ” کان “۔ ابوعبیدہ لغوی کا قول ہے کہ یہاں زائدہ ہے (بحر) اور یہ تو بہرحال لازمی نہیں کہ اس کے معنی ماضی کے لئے جائیں، یعنی اس زمانہ کے جو مکالمہ کے وقت منقطع ہوچکا ہے۔ اور خود قرآن مجید میں متعددنظیریں (آیت) ” کان “۔ کے اس استعمال کی ہیں۔ مثلا (آیت) ” ولا تقربوا الزنی انہ کان فاحشۃ “۔ کے یہ معنی آج تک کوئی نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–40
آیت نمبر 26 تا 40
ترجمہ : پھر پکی اور تازہ کھجوریں کھاؤ اور چشمہ کا پانی پیو اور بیٹے سے آنکھیں ٹھنڈی کرو عینًا تمییز ہے فاعل سے منقول ہے یعنی تو اس بچہ کو دیکھ کر آنکھوں کو ٹھنڈا کر کے سکون حاصل کر دوسرے بچوں کی طرف التفات نہ کر فاِمَّا میں ان شرطیہ کے نون کو ما زائدہ میں مدغم کردیا گیا ہے تَرَیِنَّ اس کا لام کلمہ اور عین کلمہ حذف کردیا گیا ہے عین کلمہ کی حرکت نقل کر کے را کو دے دی گئی اور یائے ضمیر کو التقاء ساکنین کی وجہ سے کسرہ دے دیا گیا اگر تو کسی بشر کو دیکھے اور وہ تیرے بچہ کے متعلق سوال کرے تو کہہ دینا کہ میں نے اس بچہ وغیرہ کے بارے میں لوگوں سے کلام کرنے سے رحمٰن کے لئے سکوت کا روزہ…
Read the full tafseer →فاشارت الیہ قالوا کیف نکلم من کان فی المہد صبیا مریم نے عیسیٰ کی طرف اشارہ کیا (کہ اس سے بات کرو) لوگوں نے کہا پالنے کے بچہ سے ہم کیسے بات کریں۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا حضرت مریم ( علیہ السلام) کے پاس (بن باپ کے بچہ ہونے کی) کوئی دلیل نہیں تھی اس لئے حضرت عیسیٰ کی طرف اشارہ کیا تاکہ عیسیٰ ( علیہ السلام) کا کلام ان کی صداقت کی دلیل بن جائے۔
روایت میں آیا ہے کہ مریم نے جب عیسیٰ ( علیہ السلام) کی طرف اشارہ کیا کہ اس سے بات کرو تو لوگوں کو غصہ آیا اور کہنے لگے ایک تو تو نے جرم کیا پھر ہم سے مذاق بھی کر رہی ہے۔
مَنْ کَان میں کا نزائد ہے جیسے ہَلْ کُنْتُ الاَّ بَشَرًا رَّسُوْلاً میں یہ بھی…
Read the full tafseer →(29) اور کہا گیا کہ ہارون ؑ اور حضرت مریم ؑ ایک ہی باپ کی اولاد تھے اس لیے ان کی طرف منسوب کیا اور نہ تمہاری ماں بری عورت تھی چناچہ حضرت مریم ؑ نے حضرت عیسیٰ ؑ کی طرف اشارہ کردیا کہ جو کچھ کہنا ہو ان سے کہو، قوم کہنے لگی بھلا ایسے شخص سے کیوں کر بات کریں جو کہ ابھی گود میں ہے یہ پالنے میں بچہ ہی ہے۔
Read the full tafseer →فَاَشَارَتْ اِلَيْهِ قَالُوْا كَيْفَ۔۔ : مریم [ نے خاموشی کے روزے کی وجہ سے اپنی پاکدامنی کی شہادت کے لیے عیسیٰ ؑ کی طرف اشارہ کیا کہ اس سے پوچھ لو۔ وہ سب کہنے لگے کہ ہم اس سے کیسے بات کریں جو ابھی تک گود میں بچہ ہے ؟ یہاں ”کَانَ“ زمانۂ حال تک استمرار (ہمیشگی) کے معنی میں ہے۔ یہ آیت دلیل ہے کہ آئندہ آیات میں عیسیٰ ؑ کی گفتگو گود کے وقت کی گفتگو ہے۔ معجزات کے بعض منکروں نے اسے عیسیٰ ؑ کی جوانی کی گفتگو قرار دیا ہے، مگر یہ آیات اور سورة آل عمران کی آیت (46) عیسیٰ ؑ کی گود میں گفتگو کی صریح دلیل ہیں۔ علاوہ ازیں صحیح حدیث میں تین بچوں کی گود میں گفتگو کا ذکر ہے جن میں سے ایک عیسیٰ ؑ ہیں۔ [ بخاري،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–33
اس میں پانچ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فاشارت الیہ قالوا کیف نکلم من کان فی المھد صبیا۔ حضرت مریم کو ترک کلام کا جو حکم دیا گیا تھا۔ آپ نے اسے لازم پکڑا۔ اس آیت میں وارد نہیں ہے کہ آپ نے انی نذرت للرحمن صوما بول کر کہا تھا بلکہ یہ وارد ہے کہ آپ نے اشارہ فرمایا۔ پس یہ ان علماء کے قول کو تقویت دیتا ہے کہ (قولی) کا جو امر آپ کو دیا گیا تھا اس سے مراد اشارہ ہے۔ روایت ہے کہ جب آپ نے بچے کی طرف اشارہ کیا تو لوگوں نے کہا : اس کا ہمارے ساتھ استخفاف اس کے زنا سے بھی ہم پر زیادہ سخت ہے۔ پھر انہوں نے تقریر و ثبوت کی جہت سے کہا : کیف نکلم من کان فی المھد صبیا۔ (1) اس آیت میں کان…
Read the full tafseer →1:۔ ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فاشارت الیہ “ (یعنی بچہ کی طرف اشارہ کیا) کہ وہ لوگ اس سے بات کریں۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فاشارت الیہ “ یعنی حضرت مریم (علیہا السلام) نے لوگوں کو بچے سے بات کرنے کا حکم دیا۔
3:۔ عبد بن حمید نے عمرو بن میمون (رح) سے روایت کیا کہ مریم (علیہا السلام) کے ہاں جب بچہ پیدا ہوگیا تو اس کو اپنی قوم کے پاس لے آئیں انہوں نے آپ کو مارنے کے لئے پتھر اٹھالئے تو انہوں نے (اس بچہ) کی جگہ اشارہ کیا تو اس بچے نے جب بات کی تو لوگوں نے پھر اس کو چھوڑ دیا۔
4:۔ عبد بن حمید نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ ’ ’ المہد “ سے مراد ہے تربیت…
Read the full tafseer →[فَاَشَارَتْ : تو انھوں نے اشارہ کیا ] [اِلَيْهِ : اس (بچے) کی طرف ] [قَالُوْا : ان لوگوں نے کہا ] [كَيْفَ : کیے ] [نُكَلِمُ : ہم کلام کریں ] [مَنْ : اس سے جو ] [كَان : ہے ] [فِي الْمَهْدِ : پلنگڑے میں ] [صَبِيًّا : بچہ ہوتے ہوئے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–35
کسی کو اپنی اولاد بنانا اللہ تعالیٰ کے شایان شان نہیں ہے
ان آیات میں بھی حضرت عیسیٰ بن مریم ( علیہ السلام) کا تذکرہ ہے اور اللہ پاک کی توحید بیان فرمائی ہے اور یہ بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ شرک سے، کسی کو اولاد بنانے سے بری اور بیزار ہے پہلے تو یہ فرمایا کہ یہ عیسیٰ بن مریم جن کا ذکر گزشتہ آیات میں ہوا۔ ان کے بارے ہم نے سچی بات بیان کردی اس سچی بات میں لوگ جھگڑتے ہیں اور یہ جھگڑالو یہود و نصاریٰ ہیں اور اب تو جھوٹی نبوت کے دعویدار بھی ان کے ہم نوا ہوگئے ہیں جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے لیے باپ تجویز کرتے ہیں اس کے بعد فرمایا کہ یہ بات اللہ کے شایان شان نہیں ہے کہ وہ کسی کو اپنی اولاد بنائے وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–33
قال اللٰہ تعالیٰ ۔ واذکر فی الکتٰب مریم۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ و یوم اموت ویوم ابعث حیا۔
(ربط) حق تعالیٰ نے گزشتہ رکوع میں حضرت زکریا (علیہ السلام) کا قصہ بیان فرمایا کہ بحالت پیری ایک پیر ناتواں اور ایک بانجھ اور بوڑھی بیوی سے بلا سبب ظاہری ایک مبارک فرزند یعنی یحییٰ (علیہ السلام) کا تولد ہوا۔ اب اس سے زیادہ عجیب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت کا قصہ بیان کرتے ہیں۔ اس لیے کہ بوڑھے مرد اور بانجھ عورت سے بچہ پیدا ہونا اگرچہ عجیب ہے۔ مگر والدین سے بچہ کا پیدا ہونا عادۃ قریب الی العقل ہے اور بغیر باپ کے محض ماں سے بچہ پیدا ہونا بہت ہی عجیب و غریب ہے جو اللہ کی کمال قدرت پر دلالت کرتا ہے کہ خدائے تعالیٰ…
Read the full tafseer →21:۔ حضرت مریم (علیہا السلام) کو چونکہ جبریل امین نے بوقت بشارت بتا دیا تھا کہ ان کے جو بچہ پیدا ہوگا وہ عہد شیر خوارگی میں باتیں کرے گا۔ جیسا کہ سورة آل عمران رکوع 5 میں ہے ” وَ یُکَلِّمُ النَّاسَ فِیْ الْمَھْدِ وَ کَھْلًا “ اس لیے انہوں نے بچے کی طرف اشارہ کر کے انہیں بتایا کہ وہ اس معاملے کی حقیقت اس سے پوچھیں۔ ” قَالُوْا کَیْفَ نُکَلِّمُ الخ “ اس پر لوگوں نے کہا کہ ہم اس شیر خوار بچے سے کس طرح باتیں کریں کبھی اس عمر کے بچوں نے بھی باتیں کی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–33
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت کا ذکر ہوا ، اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم (علیہ السلام) کی پریشانی کا حال ذکر کیا اور پھر ان کو تسلی بھی دی جنگل یا پہاڑی غار میں ان کو کھانے پینے کی اشیاء اپنی قدرت تامہ سے مہیا کیں ، پھر یہ بھی فرمایا کہ اے مریم (علیہ السلام) اگر کسی شخص سے ملاقات ہوجائے تو کہنا کہ آج کے دن میں نے چپ کا روزہ رکھا ہوا ہے ، لہذا کسی سے کلام نہیں کروں گی اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم (علیہ السلام) کے مع بچے قوم کے پاس آنے اور مسیح (علیہ السلام) کی طرف سے اپنی ماں کی صفائی بیان کرنے کا ذکر فرمایا ہے ۔
(حضرت مریم (علیہ السلام) قوم کے پاس)
ارشاد…
Read the full tafseer →فَاَشَارَتْ اِلَيْہ ِ 0ۭ قَالُوْا كَيْفَ نُكَلِّمُ مَنْ كَانَ فِي الْمَہْدِ صَبِيًّا 29
كلم
الكلْمُ : التأثير المدرک بإحدی الحاسّتين، فَالْكَلَامُ : مدرک بحاسّة السّمع، والْكَلْمُ : بحاسّة البصر، وكَلَّمْتُهُ : جرحته جراحة بَانَ تأثيرُها،
( ک ل م ) الکلم ۔
یہ اصل میں اس تاثیر کو کہتے ہیں جس کا ادراک دو حاسوں میں سے کسی ایک کے ساتھ ہوسکے چناچہ کلام کا ادراک قوت سامعہ کیساتھ ہوتا ہے ۔ اور کلم ( زخم ) کا ادراک قوت بصر کے ساتھ ۔ محاورہ ہے ۔ کلمتہ ۔ میں نے اسے ایسا زخم لگایا ۔ جس کا نشان ظاہر ہوا اور چونکہ یہ دونوں ( یعنی کلام اور کلم ) معنی تاثیر میں مشترک ہیں ۔
مهد
المَهْدُ : ما يُهَيَّأُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–36
3 ؎ حضرت مریم [ کا خود کلام نہ کرنا گود کے بچہ کی طرف اشارہ کرنا کہ یہ خود اپنا حال بیان کر دے گا اپنی برأت کا اظہار مقصود تھا کس لیے کہ حرامی بچہ میں یہ کمال و کرامت کہاں کہ وہ کلام کرے اور کلام بھی ایسا پر معنی اور بلند مرتبہ کہ میں خدا کا بندہ ہوں خدا نہیں کیونکہ آنے والا حال خدا نے ان پر منکشف کردیا تھا کہ میرے معتقدوں میں سے بہت لوگ مجھے ابن اللہ یا خدا کہیں گے اس میں ضمناً نصاریٰ پر تعریض بھی ہے کہ وہ تو اپنے کو خدا کا بندہ کہتے تھے تم ان کو ابن اللہ اور خدا کہتے ہو یہ کیا اتباع عیسیٰ ہے۔ دوم یہ کہ اس نے مجھے کتاب دی اور نبی بنایا گو اس وقت نہ کتاب انجیل ملی تھی نہ نبوت مگر یقینا ہونے…
Read the full tafseer →فَاَشَارَتْ اِلَیْہِ ط قَالُوْا کَیْفَ نُکَلِّمُ مَنْ کَانَ فِی الْمَھْدِ صَبِیًّا۔ (مریم : 29)
(مریم نے اس (بچہ) کی طرف اشارہ کیا، لوگ کہنے لگے ہم اس سے کس طرح بات کریں جو ابھی گود میں (کمسن) بچہ ہے۔ )
نصرتِ خداوندی کا ظہور
لوگوں کے مسلسل نفرت سے بھرپور سوالات پر حضرت مریم نے کچھ کہنے کی بجائے اپنے بیٹے کی طرف اشارہ کیا مقصد یہ تھا کہ میں چونکہ خاموشی کا روزہ رکھ چکی ہوں، میں کوئی جواب نہیں دے سکتی، اس بچے سے پوچھو۔ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مریم کو اس بات کا اندازہ ہوگیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے جو مجھے فرزند بخشا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی نشانی بن کر آیا ہے۔ اس لیے اپنے اندر غیرمعمولی صفات رکھتا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت مریم [ کا عیسیٰ ( علیہ السلام) کو گود میں اٹھا کر اپنے خاندان کے لوگوں کے پاس آنا۔
قرآن مجید یہ بتلا رہا ہے کہ حضرت مریم [ عیسیٰ (علیہ السلام) کو گود میں لیے اپنی قوم کے پاس آئیں۔ قوم نے انھیں طعنے دیے۔ یہاں قوم سے مراد ان کے خاندان کے لوگ ہیں۔ خاندان کے لوگوں نے حضرت مریم [ کی گود میں معصوم بچہ دیکھا تو حیران رہ گئے۔ ظاہر بات ہے کہ حضرت مریم [ عام لوگوں کی بجائے پہلی مرتبہ قریبی رشتہ داروں میں آئی ہوں گی پھر خاندان کے ذریعے بات محلے اور معاشرے کے لوگوں تک پہنچی ہوگی۔ جنھوں نے حضرت مریم [ کو ایسی ویسی باتیں کیں اور طعنے دیے۔ یہاں تک کہا کہ اے ہارون کی بہن !” نہ تیری…
Read the full tafseer →اشارئہ مریم :
29: فَاَشَارَتْ اِلَیْہِ (پس مریم نے اس کی طرف اشارہ کیا) عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف کہ وہ ان کو جواب دیں اور اس کی وجہ یہ تھی کہ عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی والدہ کو کہا لَاتَحْزَنِیْ واحیلی بِالْجَوَابِ عَلی۔ غم نہ کرنا اور انکا جواب دینا میرے حوالہ کرنا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ جبرئیل (علیہ السلام) نے ان کو یہ حکم دیا۔ جب اشارہ کیا تو وہ سب ناراض ہوگئے اور متعجب ہوئے اور قَالُوْا کَیْفَ نُکَلِّمُ مَنْ کَانَ (کہنے لگے ہم اس سے کیسے بات کریں جو ہے) گود کا بچہ اور موجود ہے۔ فِی الْمَہْدِ پنگھوڑے میں صَبِیًّا اس حال میں کہ وہ بچہ ہے) صَبِیًّا یہ حال ہے۔
Read the full tafseer →تفسیر۔
29۔ فاشارت ، ، حضرت مریم نے اشارہ کیا، الیہ، حضرت عیسیٰ کی طرف تاکہ وہ کلام کریں، حضڑتابن عباس ؓ عنہماکاقول ہے کہ حضرت مریم کے پاس کوئی دلیل نہیں تھی، اس لیے حضرت عیسیٰ کی طرف اشارہ کیا تا کہ عیسیٰ علیہا لسلام کا کلام سن کر ان کی صداقت کی دلیل بن جائے ۔ روایت میں آتا ہے کہ جب حضرت مریم نے حضرت عیسیٰ کی طرف اشارہ کیا تو قوم والے غصہ ہونے لگے اور کہنے لگے کہ ایک تو تم نے جرم کیا اور دوسرا ہمارے ساتھ مذاق کررہی ہو۔ پھر فرمایا، قالو کیف نکلم من کان فی المھد صبیا، آپ کی گود میں کون ہے ؟ مہد سے مراد گود ہے ۔ کام بمعنی ھو کے ہے۔ ابوعبیدہ کا قول ہے کہ کان صلہ ہے مطلب یہ ہوگا کہ بچہ گود میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–33
27۔ 33:۔ تفسیر سدی میں ہے کہ حضرت عیسیٰ کے پیدا ہونے کے بعد شیطان نے مریم (علیہا السلام) کی قوم میں یہ خبر پھیلا دی کہ مریم کے ہاں بن باپ کا بچہ پیدا ہوا اس خبر کو سن کر قوم کے لوگ بڑے جوش میں آئے اور مریم (علیہا السلام) کو اس الگ مکان میں سے بستی میں بلایا اس پر مریم (علیہا السلام) چلہ نہانے کے بعد عیسیٰ (علیہ السلام) کو لے کر قوم کے لوگوں کے پاس گئیں یہ تفسیر حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے قول کے موافق ہے کہ گھبراہٹ کے وقت مریم (علیہ السلام) کو جو آواز آئی تھی وہ جبرئیل (علیہ السلام) کی آواز نہیں تھی۔ اوپر گذر چکا ہے کہ مجاہد کے قول کو ترجیح دی ہے اس واسطے تفسیر ابن جریر میں ہے کہ عیسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–33
آیت 27
یعنی جب حضرت مریم علیھا السلام اپنے نفاس سے پاک ہوئیں تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو لے کر اپنی قوم میں تشریف لائیں، چونکہ انہیں اپنی برٓت اور اپنی طہارت نفس کا علم تھا اس لئے انہوں نے کسی کی پروانہ کی۔ لوگوں نے باتیں بناتے ہوئے کہا : (لقد جئت شیا فریا) ” تو نے بڑا عجیب کام کیا “ یعنی بہت نازیبا کام، اس سے ان کی مراد زنا تھا۔۔۔. حالانکہ وہ اس سے پاک تھیں۔
(یاخت ھرون) ” اے ہارون کی بہن۔ “ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت مریم علیھا السلام کا کوئی حقیقی بھائی تھا جس کی طرف ان کو منسوب کیا گیا۔ وہ انبیاء کے نام پر نام رکھا کرتے تھے۔ یہ ہارون، موسیٰ (علیہ السلام) کے بھائی ہارون بن عمران (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–30
موت کی تمنا جائز نہیں
قول باری ہے (قالت یلیتنی مت قبل ھذا وکتت نسیاً منسیاً وہ کہنے لگی۔ کاش میں اس سے پہلے ہی مرجاتی اور میرا نام و نشان نہ رہتا۔ “) کچھ حضرات کا قول ہے کہ حضرت مریم نے موت کی اس لئے تمنا کی تھی کہ جنسی ملاپ کے بغیر بچے کو جنم دینے کی حالت پر پہنچ گئی تھیں۔ لیکن یہ بات غلط ہے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس حالت میں مبتلا کر کے ان کی آزمائش کی تھی اور وہ اس کے اس فیصلے پر راضی تھیں اور اللہ کی فرماں برداری پر کمربستہ تھیں۔ اللہ تعالیٰ کے فیصلوں پر اظہار ناپسندیدگی معصیت ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے صرف وہی فعل و قوع پذیر ہوتا ہے جو حکمت اور صواب پر مبنی ہوتا ہے۔ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
36 حضرت مریم کا اپنی قوم کو جواب اشارے سے : سو اس سب کے جواب میں حضرت مریم نے اس بچے کی طرف اشارہ کردیا اور بس۔ جس سے وہ لوگ اور بھڑک اٹھے کہ کیا اس طرح تم ہمارا مذاق اڑانا چاہتی ہو جو ہماری بات کا صاف اور سیدھا جواب دینے کی بجائے ہمیں اس بچے کے حوالے کرتی ہو ؟ جو گہوارے میں پڑا ہے اور بولنے کے قابل بھی نہیں۔ بھلا اس سے ہم کس طرح کوئی بات کرسکتے ہیں ؟ مگر حضرت مریم نے چونکہ خاموشی کا روزہ رکھا ہوا تھا اس لیے آپ نے ان لوگوں سے زبانی کلامی کوئی بات کرنے کی بجائے اس نومولود کی طرف اشارہ کردیا کہ ان تمام تہمتوں اور سب الزامات کا جواب یہ بچہ خود دے گا۔ اسی سے پوچھو۔ مجھے اس بارے کچھ کہنے کی ضرورت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–34
سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش اور بچپن کی گفتگو
تشریح : سیدہ مریم کا پورا واقعہ سورة آل عمران میں بڑی وضاحت سے گزر چکا ہے کہ آپ کی والدہ نے آپ کو بیت المقدس میں عبادت کے لیے بٹھا دیا تھا۔ یہ محراب شرقی حصہ میں واقعہ تھی، جہاں آپ نے ایک پردہ ڈال کر اپنے آپ کو لوگوں کی نظروں سے چھپا رکھا تھا۔ سیدنا یحییٰ (علیہ السلام) کے ساتھ ہی سیدہ مریم (علیہا السلام) کا ذکر کیا گیا ہے۔ سیدنا یحییٰ (علیہ السلام) کی پیدائش بھی اللہ کی قدرت کی کامل نشانی ہے اور سیدنا مریم (علیہا السلام) کا انتہائی پاکدامن اور نیک ہونے کے باوجود بغیر کسی مرد کے ملے (نکاح وغیرہ) بیٹا پیدا کرنا بھی اللہ کی بہت بڑی نشانیوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–41
(رکوع نمبر 2)
اسرارومعارف
اور اے حبیب ﷺ اس سے عجیب تر اور فکر انگیز واقعہ ایسی کتاب اللہ میں سنا دیجئے جو حضرت مریم (علیہا السلام) کا ہے اور جس کے متعلق یہود اور نصاری نے اپنے اپنے نظریات گھڑ رکھے ہیں کہ اس کی حقیقی اور واقعی صورت کیا ہے یہ بات تب شروع ہوتی ہے جب حضرت مریم (علیہا السلام) اپنے گھر والوں سے الگ ہو کر غسل وغیرہ کرنے کے لیے پردہ میں چلی گئیں تو وہاں ان کے پاس حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو بھیجا جس نے انسانی شکل میں ظاہر ہو کر ان سے بات کرنا چاہی ، یاد رہے حضرت مریم (علیہا السلام) کا ذکر آل عمران میں گذر چکا ہے ۔
(اولیاء اللہ سے فرشتہ کا ہمکلام ہونا)
کہ ان کی والدہ نے منت مانی تھی…
Read the full tafseer →ف 7 ان الفاظ سے صاف پتا چلتا ہے کہ آگے حضرت عیسیٰ کی جو گفتگلو بیان کی جا رہی ہے وہ ان کے بچنے کی گفتگو ہے جو انہوں نے گود یا گہوارے میں کی۔ بف اس آل عمران 26) اور صحیح بخاری میں ہے کہ تین بچوں نے گہوارے میں گفتگو جوانی کے وقت کی ہے اور انہوں نے ’ فی المہر حبیباً کا ترجمہ کل کا بچہ کیا ہے مگر یتاویل محہمل سی ہے جو واقعات اور محاورہ کے خلاف ہے۔
Read the full tafseer →(19:29) المھد۔ گہوارہ جو بچے کے لئے تیار کیا جاوے۔ فی المھد گہوارہ میں ہونا کا مطلب ہے۔ شیر خوارگی کا زمانہ ۔ جب بچہ ماں کی گود میں ہوتا ہے۔ المھد والمھاد۔ ہموار اور درست کی ہوئی زمین کو بھی کہتے ہیں۔ قرآن میں ہے۔ الذی جعل لکم الارض مھدا (20:53) وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو فرش بنایا۔ اور الم نجعل الارض مھادا (78:6) کیا ہم نے زمین کو بچھونا نہیں بنایا۔ من کان فی المھد صبیا۔ جو ابھی ماں کی گود میں دودھ پیتا بچہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–36
لغات القرآن آیت نمبر 22 تا 36
انتبذت (انتباذ) الگ ہوگئی، جدا ہوگئی
قصی دور کا فاصلہ۔ المخاض زچگی کا درد۔ دردزہ۔ جزع جڑ۔ نسیا منسیا بھولی بسری چیز۔ بےنام و نشان ہوجانا۔ سری پانی کا چشمہ۔ ھزی ہلالی۔ جھکادے۔ تساقط گرائی گی۔ رطب ترو تازہ۔ جنی پکا ہوا پھل۔ قری عین آنکھیں ٹھنڈی رکھ۔ ترین تو دیکھے۔ نذرت میں نے منت مان رکھی ہے۔ تحملہ وہ اس کو اٹھا لائے۔ فری (افترائ) عجیب اور نرالی بات۔ المھد گود۔ صبی بچہ۔ اوصنی مجھے حکم دیا۔ مادمت حیا جب تک میں زندہ ہوں۔ شقی بدنصیب، بدنصیب، بدقسمت۔ یمترون وہ شک کرتے ہیں۔
تشریح : آیت نمبر 22 تا 36
حضرت مریم نے جب سے ہوش سنبھالا تھا اس وقت سے وہ اللہ تعالیٰ کے ذکر میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–33
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کا ذکر اور حضرت مریم (علیہا السلام) پر تہمت اور چالیس روز کے بچہ کی شہادت
جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوچکے تو بعد چلہ کے مریم (علیہا السلام) ان کو گود میں لے کر اپنی قوم کے پاس آئیں۔ وہاں لوگوں کا ان پر ہنگامہ ہوا، اور طعن وتشنیع شروع ہوئی۔ کہنے لگے :" اے مریم ! یہ تو نے بری بات کی۔ اے ہارون کی بہن ! (حضرت ہارون برادر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہی کی طرف نسبت کی کیونکہ ان کی نسل سے تھیں، اس لئے ہارون کی بہن کہا یہ عرب کا محاورہ ہے) ۔ تیرا باپ تو بدکار نہ تھا اور نہ تیری ماں فاحشہ تھی، تو حرام کار کہاں سے پیدا ہوئی "۔ مریم نے اپنے بچہ کی طرف اشارہ کردیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
[14] ہارون (علیہ السلام) ، مریم (علیہ السلام) کے بھائی نہایت پارسا شخص تھے۔ اس لئے ملامت کرنے والوں نے ان کی طرف نسبت دے کر ملامت کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–32
(ف 1) حضرت مریم (علیہ السلام) درد زہ کی وجہ سے بےقرار ہوگئیں ، اور جنگل کی طرف نکل کھڑی ہوئیں ، وہیں حضرت مسیح (علیہ السلام) تولد ہوئے ، اس طرح سے بچہ کی پیدائش بجائے خود حضرت مریم (علیہ السلام) کے لئے خوش آیندہ نہ تھی ، اس پر مزید یہ کھٹکا کہ لوگ کیا کہیں گے ، اور پھر بےسروسامانی کا یہ عالم کہ اپنے پاس کوئی موجود نہیں جو دلداری کرسکے ، اس لئے انسانی فطرت کی کمزوری سے انہوں نے اضطرار یہ کہا کہ (آیت) ” یلیتنی مت قبل ھذا وکنت نسیا منسیا “۔ تو بالکل بجا فرمایا حالات کا تقاضا یہی تھا کہ ان کے منہ سے اس قسم کے کلمات نکلیں ۔
اللہ تعالیٰ نے تسلی دی ، حضرت مریم (علیہ السلام) کو فرشتہ نے پکار کر کہا…
Read the full tafseer →-29 اس پر حضرت مریم نے اس مولود مسعود کی جانب اشارہ کیا کہ اس سے بات کرو یہ جواب دیگا قوم کے لوگ کہنے لگے بھلا ہم اس بچے سے کس طرح کلام کرسکتے ہیں جو ابھی گود کا بچہ ہے اور ماں کی گود اس کا گہوارہ ہے۔ یعنی ایسے بچہ سے بات کرنے کو کہہ رہی ہے جو شیر خوار بچہ ہے اور ماں کی گود میں ہے۔ 12
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
ف 5۔ یعنی گو آئندہ دے گا مگر بوجہ یقینی ہونے کے ایسا ہی ہے کہ جیسے دے دی۔
Read the full tafseer →قوم کی سخت سست باتیں سننے کے بعدسیدہ مریم (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کی طرف اشارہ کیا :
29۔ سیدہ مریم (علیہ السلام) نے قوم کے بزرگوں اور سربرآوردہ لوگوں کی سخت سست باتوں کو بڑے ٹھنڈے دل سے سنا اور قرآن کریم کے ارشاد کے مطابق خود چپ رہیں اور اپنے بیٹے کی طرف اشارہ کیا جس کا صاف صاف مطلب یہ ہے کہ اس سے بات کرو ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ قوم کے لوگوں نے اس کی گستاخیوں کی شکایت کی تھی جو فی الواقعہ گستاخیاں نہیں تھیں بلکہ سچی اور کھری باتیں تھیں لیکن چونکہ قوم کے رسم و رواج کے خلاف تھیں اسی لئے انہوں نے ان باتوں کو گستاخی کی باتیں قرار دیا ۔ محاروہ ہے کہ ” عاقل را اشارہ کافی است “ سیدہ مریم (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
يَا أُخْتَ هَارُونَ (0 sister of Harun - 19:28). Sayyidna Harun (علیہ السلام) ، who was the brother and companion of Sayyidna Musa (علیہ السلام) had died centuries before Sayyidah Maryam (علیہا السلام) time. It is obvious, therefore, that in verse 28 where Sayyidah Maryam (علیہا السلام) is addressed as the sister of Sayyidna Harun (علیہ السلام) cannot be in its literal sense. This is also corroborated by the incident that when The Holy Prophet ﷺ sent Sayyidna Mughirah Ibn Shu'bah ؓ as his ambassador to the people of Najran they questioned him that in the Qur’ an Sayyidah Maryam (علیہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
20. People who misinterpret the Quran translate this verse as: How shall we talk with him, who is but a child of yesterday? They attribute these words to the elderly people of the Jews, who said years later, when Jesus was a grown up boy, that they could not have any useful dialogue with a mere kid. But the person who keeps the whole context in view, will realize that this interpretation is absurd and has been given merely to avoid the miracle. As a matter of fact, the dialogue took place when the people were condemning Mary who being unmarried, had brought forth a child, and not when the…
Read the full tafseer →