Maryam 19:27

Maryam · from ayah 27

19:27

فَاَتَتْ بِهٖ قَوْمَهَا تَحْمِلُهٗ ؕ— قَالُوْا یٰمَرْیَمُ لَقَدْ جِئْتِ شَیْـًٔا فَرِیًّا ۟فَاَتَتۡ بِهٖ قَوۡمَهَا تَحۡمِلُهٗ‌ؕ قَالُوۡا يٰمَرۡيَمُ لَقَدۡ جِئۡتِ شَيۡئًـا فَرِيًّا‏

پھر وہ اس (بچّے) کو اٹھا کر اپنی قوم کے لوگوں کے پاس لے آئیں۔ وہ کہنے لگے کہ مریم یہ تو تُونے برا کام کیا

— Fateh Muhammad Jalandhari

Then she brought him to her people, carrying him. They said, "O Mary, you have certainly done a thing unprecedented.

— Saheeh International

Juz 16 · Ruku 2 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Maryam

All translations of 19:27

پھر وہ اس بچے کو لیے ہوئے اپنی قوم میں آئی لوگ کہنے لگے " اے مریم، یہ تو تُو نے بڑا پاپ کر ڈالا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

پھر وہ اس (بچّے) کو اٹھا کر اپنی قوم کے لوگوں کے پاس لے آئیں۔ وہ کہنے لگے کہ مریم یہ تو تُونے برا کام کیا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اب حضرت عیسیٰ ؑ کو لئے ہوئے وه اپنی قوم کے پاس آئیں۔ سب کہنے لگے مریم تو نے بڑی بری حرکت کی

— مولانا محمد جوناگڑہی

پھر وہ اس بچے کو اٹھائے ہوئے اپنی قوم کے پاس آئیں وہ کہنے لگے کہ : مریم تم نے تو بڑا غضب ڈھا دیا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو اسے گود میں لے اپنی قوم کے پاس آئی بولے اے مریم! بیشک تو نے بہت بری بات کی،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر وہ اس (بچے) کو (گود میں) اٹھائے ہوئے اپنی قوم کے پاس آگئیں۔ وہ کہنے لگے: اے مریم! یقیناً تو بہت ہی عجیب چیز لائی ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر وہ اسے اٹھائے ہوئے اپنی قوم کے پاس لے آئی، انھوں نے کہا اے مریم ! یقینا تو نے تو بہت برا کام کیا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر وہ اس بچے کو اٹھائے اپنی قوم میں آئیں تو وہ کہنے لگے : مریم تو تو بہتان والی چیز لائی ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پس وہ اس کو گود میں اٹھائے ہوئے اپنی قوم کے پاس آئی۔ لوگوں نے کہا مریم ! تم نے تو یہ نہایت عجیب حرکت کر ڈالی

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر وہ اس بچے کو لیے اپنی قوم کے پاس آئیں تو وہ لوگ بچے کو دیکھتے ہی بول پڑے کہ اے مریم، تو نے تو بڑے غضب کا کام کر ڈالا،

— مولانا اسحاق مدنی

پھر وہ انہیں (گود میں) اٹھائے ہوئے اپنی قوم والوں کے پاس آئیں۔ وہ لوگ بولے اے مریم ؑ تو نے تو بڑے غضب کی حرکت کی۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پھر وہ لے آئی اس کو اٹھائے ہوئے اپنی قوم کے پاس لوگوں نے کہا : اے مریم ! یقیناً تم ایک طوفان گھڑ لائی ہو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

پھر وہ اپنے بچے کو اٹھا کر اپنی قوم کے لوگوں کے پاس لے آئیں۔ وہ کہنے لگے کہ ”مریم یہ تو تو نے برا کام کیا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Then she came to her people, carrying her baby. They said: "O Mary! You have committed a monstrous thing.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Then she came to her people carrying him (the baby). They said, :O Maryam you have committed something grave indeed.

— Muhammad Taqi Usmani

Then she came to her people carrying him (the baby). They said, :O Maryam you have committed something grave indeed.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Then she brought him to her people, carrying him. They said: "O Mary! Indeed you have brought a thing Fariy."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Then she brought him to her own folk, carrying him. They said: O Mary! Thou hast come with an amazing thing.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Then she brought him to her people, carrying him. They said, "O Mary, you have certainly done a thing unprecedented.

— Saheeh International

She took him to her people and they said, "Mary, this is indeed an strange thing.

— Muhammad Sarwar

And she came to her people with him, carrying him (with her). They said: O Marium! surely you have done a strange thing.

— Muhammad Habib Shakir

Then she brought him to her nation carrying him. They said: Maryam! assuredly thou hast brought a thing unheard Of.

— Abdul Majid Daryabadi

At length she brought the (babe) to her people, carrying him (in her arms). They said: "O Mary! truly an amazing thing hast thou brought!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 19:27

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 27–33

تقدس مریم اور عوام حضرت مریم ؑ نے اللہ کے اس حکم کو بھی تسلیم کرلیا اور اپنے بچے کو گود میں لئے ہوئے لوگوں کے پاس آئیں۔ دیکھتے ہی ہر ایک انگشت بدنداں رہ گیا اور ہر منہ سے نکل گیا کہ مریم تو نے تو بڑا ہی برا کام کیا۔ نوف بکالی کہتے ہیں کہ لوگ حضرت مریم کی جستجو میں نکلے تھے لیکن اللہ کی شان کہیں انہیں کھوج ہی نہ ملا۔ راستے میں ایک چرواہا ملا اس سے پوچھا کہ ایسی ایسی عورت کو تو نے کہیں اس جنگل میں دیکھا ہے ؟ اس نے کہا نہیں۔ لیکن میں نے رات کو عجیب بات دیکھی ہے کہ میری یہ تمام گائیں اس وادی کی طرف سجدے میں گرگئیں۔ میں نے تو اس سے پہلے کبھی ایسا واقعہ نہیں دیکھا۔ اور میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة مَرْیَم 19 ان لفاظ کے دو مفہوم ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ انہیں ظاہری معنی میں لیا جائے اور یہ سمجھا جائے کہ حضرت مریم کا کوئی بھائی ہارون نامی ہو۔ دوسرے یہ کہ عربی محاورے کے مطابق اخت ہارون کے معنی " ہارون کے خاندان کی لڑکی " لیے جائیں، کیونکہ عربی میں یہ ایک معروف طرز بیان ہے۔ مثلاً قبیلہ مضر کے آدمی کو یا اخامصہ (اے مضر کے بھائی) اور قبیلہ ہمدانی کے آدمی کو یا اخاھمدان (اے ہمدان کے بھائی) کہہ کر پکارتے ہیں۔ پہلے کے حق میں دلیل ترجیح یہ ہے کہ بعض روایات میں خود نبی ﷺ سے یہ معنی منقول ہوئے ہیں۔ اور دوسرے معنی کی تائید میں دلیل یہ ہے کہ موقع و محل اس معنی کا تقاضا کرتا ہے۔ کیونکہ اس واقعہ سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر (غرض مریم ؑ کی اس کلام سے تسلی ہوئی عیسیٰ ؑ پیدا ہوئے) پھر وہ ان کو گود میں لیے ہوئے (وہاں سے بستی کو چلیں اور) اپنی قوم کے پاس لائیں، لوگوں نے (جو دیکھا کہ ان کی شادی تو ہوئی نہ تھی یہ بچہ کیسا، بدگمان ہو کر) کہا اے مریم ! تم نے بڑے غضب کا کام کیا (یعنی نعوذ باللہ بدکاری کی، اور یوں تو بدکاری کوئی بھی کرے برا ہے لیکن تم سے ایسا فعل ہونا زیادہ غضب کی بات ہے کیونکہ) اے ہارون کی بہن ! (تمہارے خاندان میں کبھی کسی نے ایسا نہیں کیا چنانچہ) تمہارے باپ کوئی برے آدمی نہ تھے (کہ ان سے یہ اثر تم میں آیا ہو) اور نہ تمہاری ماں بدکار تھیں (کہ ان سے یہ اثر تم میں آیا ہو، پھر ہارون جو تمہارے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

تفسیر آیت 27 تا 28:۔ فَأَتَتْ بِهِ قَوْمَهَا تَحْمِلُهُ قَالُوا يَا مَرْيَمُ لَقَدْ جِئْتِ شَيْئًا فَرِيًّا (27) يَا أُخْتَ هَارُونَ مَا كَانَ أَبُوكِ امْرَأَ سَوْءٍ وَمَا كَانَتْ أُمُّكِ بَغِيًّا (28)۔ حضرت مریم کو خاندان والوں کی ملامت : فرشتے سے مذکورہ بالا رہنمائی حاصل کرنے کے بعد حضرت مریم نومولود کو گود میں اٹھائے ہوئے اپنے خاندان والوں میں واپس آئیں۔ ان کو دیکھتے ہی سب ان پر پل پڑے۔ ہر شخص نے ان کو ملامت کی اور غیرت دلائی کہ جس کا باپ شریف، جس کی ماں عفیفہ اور جو ہارون جیسے نیک آدمی کی بہن ہو، حیف ہے اگر وہ ایسی حرکت کی مرتکب ہو۔ " ہارون " سے مراد یہاں حضرت موسیٰ کے بھائی ہارون نہیں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 27–28

28۔ 1 ہارون سے مراد ممکن ہے ان کا کوئی عینی یا علاتی بھائی ہو، یہ بھی ممکن ہے ہارون سے مراد ہارون رسول (برادر موسیٰ علیہ السلام) ہی ہوں اور عربوں کی طرح ان کی نسبت اخوت ہارون کی طرف کردی، جیسے کہا جاتا ہے، تقویٰ و پاکیزگی اور عبادت میں حضرت ہارون ؑ کی طرح انھیں سمجھتے ہوئے، انھیں کی مثل اور مشابہت میں اخت ہارون کہا ہو، اس کی مثالیں قرآن کریم میں بھی موجود ہیں (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

15: بچے کی پیدائش کے بعد حضرت مریم (علیہا السلام) پوری طرح مطمئن ہوچکی تھیں کہ جس اللہ تعالیٰ نے یہ بچہ اپنی خاص قدرت سے پیدا فرمایا ہے، وہی ان کی براءت بھی ظاہر فرمائے گا، اس لیے اب اطمینان کے ساتھ خود ہی بچے کو لے کر لوگوں کے سامنے تشریف لے گئیں

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 26–27

فکلی و اشربی و قری عینا (91 : 62) ” تو کھا اور پی اور اپنی آنکھیں ٹھنڈی کر۔ “ یہ خوشگوار طعام و شراب اسعتمال کرو اور بچے کو دیکھ کر آنکھوں کو ٹھنڈا کرو اور اگر کوئی سوال کرے تو اشاروں سے یہ کہہ دو کہ میں روزے سے ہوں ، میں نے روزے کی نذر مانی ہے ، عبادت اور ذکر الٰہی کے لئے کٹ گئی ہوں ، آج میں کسی سے بات نہ کروں گی کسی کو اس کے سوال کا جواب نہ دوں گی۔ ہمارا خیال ہے کھجور کے اس درخت کو ہلانے سے قبل وہ بےحد خوفزدہ ہوگئی ہوگی ، نہایت ہی پریشانی کا وقت اس پر گزرا ہوگا ، لیکن جب درخت کے ہلاتے ہی اس پر تازہ کھجوریں ٹپک پڑیں تو وہ سمجھ گئی ہوگی کہ اللہ اس کے ساتھ ہے۔ اسے اللہ نے نہیں چھوڑا اور یہ کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

9 یعنی جب بچہ کو گود میں اٹھائے ہوئے اپنی قوم کے سامنے آئی تو لوگ ششدر رہ گئے، کہنے لگے " مریم (علیہ السلام) تو نے غضب کردیا، یہ بناوٹ کی چیز کہاں سے لے آئی۔ اس سے زیادہ جھوٹ طوفان کیا ہوگا کہ ایک لڑکی کنواری رہتے ہوئے دعویٰ کرے کہ میرے بچہ پیدا ہوا ہے۔ "

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 27 فَاَتَتْ بِہٖ قَوْمَہَا تَحْمِلُہٗ حضرت مریم بڑے حوصلے کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے نومولود بچے کو اٹھائے ہوئے اپنی قوم کی طرف آگئیں۔ بچے کی گفتگو والا معجزہ دیکھ لینے کے بعد آپ کو تسلی تھی کہ وہ خود ہی لوگوں کے سوالات کے جواب دے گا۔ آیت 24 کے حوالے سے بچے کے کلام کرنے کا تذکرہ عام طور پر تفاسیر میں نہیں ملتا اور ”مِنْ تَحْتِھَا“ سے یہی سمجھا گیا ہے کہ اس موقع پر فرشتے ہی نے آپ کو پکارا تھا۔ بہرحال میری رائے یہ ہے کہ حضرت مریم کو اس وقت نیچے سے پکارنے والا آپ کا نومولود بیٹا تھا ‘ جس کی گفتگو سے آپ کو حوصلہ ملا اور آپ بچے کے ساتھ لوگوں کا سامنا کرنے پر آمادہ ہوئیں۔ واللہ اعلم ! قَالُوْا…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 27–28

27 یہود کی بہتان تراشیاں :۔ جس وجہ سے سیدہ مریم اس دور کے مکان میں جاگزیں ہوئی تھیں وہ تو پورا ہوچکا۔ اب وہ اسے اٹھائے ہوئے اور فرشتہ کی ہدایت کو پلے باندھے ہوئے اپنی قوم کے لوگوں کے ہاں آگئیں۔ اس امید پر کہ جیسے اللہ تعالیٰ نے پہلے بروقت مدد فرمائی ہے اب بھی کوئی راہ نکال دے گا۔ جب وہ اپنے لوگوں کے پاس بچہ کو اٹھائے ہوئے پہنچیں تو انہوں نے بچہ کو دیکھ کر بغیر کچھ پوچھے ہی طعن و ملامت شروع کردی اور آسمان سر پر اٹھا لیا اور کہا کہ ہارون جیسے پاکیزہ خاندان کی اولاد ہوتے ہوئے یہ تو نے کیا گل کھلا دیا تم نے ہمارے پورے خاندان کی ناک کٹوا دی اور ہماری عزت خاک میں ملا دی۔ غرض بھانت بھانت کی بولیاں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

،40۔ اب وہ وقت ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت ہوچکی ہے اور آپ انہیں گود میں لئے ہوئے شہر کو آئی ہیں۔ 41۔ یعنی (نعوذباللہ) یہ بدکاری کا ثمر لے کر آئیں۔ یہ اس لئے کہا کہ حضرت مریم (علیہ السلام) کی ابھی شادی نہیں ہوئی تھی۔ یہود بجز معصیت شدید کی بدگمانی کے اور کوئی دوسرا قیاس قائم نہ کرسکے۔ ” حمل وتولد بلاتوسط مرد کے خارق عادت ہے۔ اور خوارق میں کتنا ہی استبعاد ہومضائقہ نہیں، لیکن اس میں اس وجہ سے زیادہ استبعاد بھی نہیں کہ حسب تصریح کتب طب، عورت کی منی میں قوت منعقدہ کے ساتھ قوت عاقدہ بھی ہے۔ اسی لئے مرض رجا میں کچھ ناتمام صورت بھی بن جاتی ہے۔ کما صرح فی القانون۔ بس اگر یہی قوت عاقدہ اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 26–40

آیت نمبر 26 تا 40 ترجمہ : پھر پکی اور تازہ کھجوریں کھاؤ اور چشمہ کا پانی پیو اور بیٹے سے آنکھیں ٹھنڈی کرو عینًا تمییز ہے فاعل سے منقول ہے یعنی تو اس بچہ کو دیکھ کر آنکھوں کو ٹھنڈا کر کے سکون حاصل کر دوسرے بچوں کی طرف التفات نہ کر فاِمَّا میں ان شرطیہ کے نون کو ما زائدہ میں مدغم کردیا گیا ہے تَرَیِنَّ اس کا لام کلمہ اور عین کلمہ حذف کردیا گیا ہے عین کلمہ کی حرکت نقل کر کے را کو دے دی گئی اور یائے ضمیر کو التقاء ساکنین کی وجہ سے کسرہ دے دیا گیا اگر تو کسی بشر کو دیکھے اور وہ تیرے بچہ کے متعلق سوال کرے تو کہہ دینا کہ میں نے اس بچہ وغیرہ کے بارے میں لوگوں سے کلام کرنے سے رحمٰن کے لئے سکوت کا روزہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فاتت بہ قومہا تحملہ پھر اس کو (یعنی عیسیٰ کو گود میں) اٹھائے مریم اپنی قوم والوں کے پاس آئی۔ روایت میں آیا ہے کہ ولادت کے بعد فوراً حضرت عیسیٰ کو اٹھائے قوم والوں کے پاس حضرت مریم آئی تھیں۔ کلبی کا بیان ہے کہ یوسف نجار نے حضرت مریم اور ان کے بیٹے عیسیٰ کو ایک غار میں لے جا کر رکھا تھا ‘ وہاں آپ چالیس دن تک رہیں جب ایام نفاس ختم ہوگئے تو عیسیٰ کو لے کر نکلیں راستہ میں حضرت عیسیٰ نے کہا اماں تم کو بشارت ہو میں اللہ کا بندہ اور مسیح ہوں ‘ غرض عیسیٰ کو اٹھائے قوم والوں کے پاس پہنچیں۔ وہ لوگ بڑے دیندار اور نیکوکار تھے ‘ مریم کے پاس بچہ کو دیکھ کر اتنے رنجیدہ ہوئے کہ رو پڑے اور قالوا یمریم لقد جئت…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(27) حضرت عیسیٰ ؑ چالیس دن کے ہوئے تو وہ ان کو گود میں لے کر اپنی قوم کے پاس آئیں قوم بولی بڑے غضب کا کام کیا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

ۚفَاَتَتْ بِهٖ قَوْمَهَا تَحْمِلُهٗ : اپنے بچے کی بات سن کر اور اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ کرامات دیکھ کر مریم [ کو اطمینان ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ اسے ذلیل نہیں ہونے دے گا۔ چناچہ وہ ایام نفاس گزرنے اور طبیعت بحال ہونے کے بعد کسی جھجک کے بغیر اپنے بچے کو اٹھائے ہوئے اپنے لوگوں کے پاس آگئیں۔ قَالُوْا يٰمَرْيَمُ لَقَدْ جِئْتِ شَـيْـــــًٔـا فَرِيًّا : ”فَرَی یَفْرِیْ“ (ض) کا معنی چمڑے کو قطع کرنا ہے۔ ”فَرِيًّا“ بروزن ”فَعِیْلٌ“ بمعنی فاعل یا مفعول ہے، قطع کرنے والی یا قطع کی ہوئی، یعنی عام عادت اور معمول کے خلاف چیز، اس لیے اس کا معنی بعض نے عظیم، بعض نے عجیب اور بعض نے منکر یعنی انوکھی کیا ہے۔ بہتان…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فاتت بہ قومھا تحملہ روایت کیا گیا ہے کہ حضرت مریم معجزات دیکھ کر مطمئن ہوگئیں اور انہیں یقین کامل ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ ان کا معذور ہونا ظاہر فرمائے گا تو اس مکان سے بچے کو اٹھا کرلے آئیں جس میں پہلے چلی گئی تھیں۔ حضرت ابن عباس نے کہا : جب سورج نکلا تھا تو آپ ان کے پاس سے چلی گئی تھیں اور ظہر کے وقت ان کے پاس واپس آئیں اور ساتھ بچہ بھی اٹھائے ہوئے تھیں۔ یہ حمل اور اس کی ولادت دن کی تین ساعتوں میں ہوئی تھی۔ کلبی نے کہا : آپ نے بچے کو وہاں جنم دیا جہاں کی قوم کو خبر نہ تھی، آپ نفاس کے چالیس دن ٹھہری رہیں پھر بچے کو اٹھا کر قوم کے پاس لے آئیں جب لوگوں نے آپ کو دیکھا اور…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 27–28

1:۔ سعید بن منصور اور ابن عساکر نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” فاتت بہ قومھا تحملہ “ کے بارے میں روایت کیا کہ وہ چالیس دنوں کے بعد (وہ اپنے بچے کو اٹھا کرلے آئیں) جب ان کا نفاس کا خون بند ہوگیا۔ 2:۔ ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” لقد جئت شیئا فریا “ میں ” فریا “ یا مشدد سے مراد ہے عظیما (یعنی تو ایک بڑا معاملہ لے کر آئی) 3:۔ عبداللہ بن احمد نے زوائد الزہد میں قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لقد جئت شیئا فریا “ یعنی بڑا معاملہ۔ 4:۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن عبدالعزیز (رح) سے روایت کیا کہ بنی اسرائیل کے زمانہ میں بیت المقدس میں عین سلوان کے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[فَاَتَتْ بِهٖ : پھر وہ لائیں اس (بچے) کو ] [قَوْمَهَا : اپنی قوم کے پاس ] [تَحْمِلُهٗ : اٹھاتے ہوئے اس کو ] [قَالُوْا : ان لوگوں نے کہا ] [يٰمَرْيَمُ : اے مریم ] [لَقَدْ جِئْتِ : بیشک آپ نے کیا ہے ] [شَـيْـــــًٔـا فَرِيًّا : ایک حیران کن چیز (یعنی کام)]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

ولادت کے بعد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو قوم کے پاس گود میں لے کر آنا، قوم کا معترض ہونا اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا جواب دینا اور اپنی نبوت کا اعلان فرمانا چونکہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ تھا کہ مریم کے بچہ تولد ہونا ہے اور وہ بھی بغیر باپ کے لہٰذا وہ بچہ پیدا ہوگیا جب اس کی ولادت ہوگئی تو اسے آبادی میں لے کر آنا تھا وہ اس بچہ کو گود میں اٹھا کر آبادی میں لے آئیں وہاں قوم کے لوگ موجود تھے انھوں نے بچہ کو گود میں دیکھ کر کہا کہ اے مریم یہ بچہ کہاں سے آیا ؟ ہمارے علم میں تو یہی بات ہے کہ تیری شادی نہیں ہوئی جب بچہ حلال کا نہیں ہے تو یہی سمجھ میں آتا ہے کہ یہ بچہ بدکاری سے پیدا ہوا ہے یہ تو تو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 16–33

قال اللٰہ تعالیٰ ۔ واذکر فی الکتٰب مریم۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ و یوم اموت ویوم ابعث حیا۔ (ربط) حق تعالیٰ نے گزشتہ رکوع میں حضرت زکریا (علیہ السلام) کا قصہ بیان فرمایا کہ بحالت پیری ایک پیر ناتواں اور ایک بانجھ اور بوڑھی بیوی سے بلا سبب ظاہری ایک مبارک فرزند یعنی یحییٰ (علیہ السلام) کا تولد ہوا۔ اب اس سے زیادہ عجیب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت کا قصہ بیان کرتے ہیں۔ اس لیے کہ بوڑھے مرد اور بانجھ عورت سے بچہ پیدا ہونا اگرچہ عجیب ہے۔ مگر والدین سے بچہ کا پیدا ہونا عادۃ قریب الی العقل ہے اور بغیر باپ کے محض ماں سے بچہ پیدا ہونا بہت ہی عجیب و غریب ہے جو اللہ کی کمال قدرت پر دلالت کرتا ہے کہ خدائے تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 27–28

20:۔ ” فَرِیًّا “ بہت بری بات۔ جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت ہوگئی تو حضرت مریم انہیں لے کر اپنے گھر آئیں تو ان کی قوم کے لوگ یہ ماجرا دیکھ کر بول اٹھے کہ اے مریم تو نے یہ کس قدر بری حرکت کی ہے۔ ” یَا اُخْتَ ھٰرُوْنَ الخ “ ہارون حضرت مریم کا باپ کی طرف سے بھائی تھا۔ اور بہت نیک، پارسا اور عابد و زاہد تھا۔ وکان اخا ھا من ابیھا ومن افضل بنی اسرائیل (مدارک ج 3 ص 62) ۔ یعنی اے مریم ! تو تو ہارون جیسے نیکو کار اور پارسا کی بہن ہے، تیرا باپ برا آدمی نہیں تھا نہ تیری ماں بدکار تھی تو نے یہ کیا کر ڈالا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 27–33

ربط آیات : گذشتہ آیات میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت کا ذکر ہوا ، اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم (علیہ السلام) کی پریشانی کا حال ذکر کیا اور پھر ان کو تسلی بھی دی جنگل یا پہاڑی غار میں ان کو کھانے پینے کی اشیاء اپنی قدرت تامہ سے مہیا کیں ، پھر یہ بھی فرمایا کہ اے مریم (علیہ السلام) اگر کسی شخص سے ملاقات ہوجائے تو کہنا کہ آج کے دن میں نے چپ کا روزہ رکھا ہوا ہے ، لہذا کسی سے کلام نہیں کروں گی اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم (علیہ السلام) کے مع بچے قوم کے پاس آنے اور مسیح (علیہ السلام) کی طرف سے اپنی ماں کی صفائی بیان کرنے کا ذکر فرمایا ہے ۔ (حضرت مریم (علیہ السلام) قوم کے پاس) ارشاد…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَاَتَتْ بِہٖ قَوْمَہَا تَحْمِلُہٗ۝ 0ۭ قَالُوْا يٰمَرْيَمُ لَقَدْ جِئْتِ شَـيْـــــًٔـا فَرِيًّا۝ 27 قوم والقَوْمُ : جماعة الرّجال في الأصل دون النّساء، ولذلک قال : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] ، ( ق و م ) قيام القوم۔ یہ اصل میں صرف مرودں کی جماعت پر بولا جاتا ہے جس میں عورتیں شامل نہ ہوں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] حمل الحَمْل معنی واحد اعتبر في أشياء کثيرة، فسوّي بين لفظه في فعل، وفرّق بين كثير منها في مصادرها، فقیل في الأثقال المحمولة في الظاهر کا لشیء المحمول علی الظّهر : حِمْل . وفي الأثقال المحمولة في الباطن : حَمْل،…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 27–28

فَاَتَتْ بِہٖ قَوْمَھَا تَحْمِلُہٗ ط قَالُوْا یٰمَرْیَمُ لَقَدْ جِئْتِ شَیْئًا فَرِیًّا۔ یٰٓـاُخْتَ ھٰرُوْنَ مَاکَانَ اَبُوْکِ امْرَاَ سَوْئٍ وَّمَا کَانَتْ اُمُّکِ بَغِیًّا۔ (مریم : 27، 28) (پس وہ اس کو گود میں اٹھائے ہوئے اپنی قوم کے پاس آئی، لوگوں نے کہا، اے مریم ! تم نے بہت ہی برا کام کیا ہے۔ اے ہارون کی بہن نہ تمہارا باپ ہی کوئی برا آدمی تھا اور نہ تیری ماں ہی بدچلن تھی۔ ) حضرت مریم کو خاندان والوں کی ملامت حضرت مریم جب چلنے پھرنے کے قابل ہوئیں تو اپنے بچے کو لے کر اپنے گھر لوٹیں۔ اہل خانہ دیکھتے ہی ہک دھک رہ گئے۔ ان کے لیے یہ تصور بھی ناقابلِ برداشت تھا کہ ان کے خاندان کی کوئی لڑکی اور…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 27–29

فہم القرآن ربط کلام : حضرت مریم [ کا عیسیٰ ( علیہ السلام) کو گود میں اٹھا کر اپنے خاندان کے لوگوں کے پاس آنا۔ قرآن مجید یہ بتلا رہا ہے کہ حضرت مریم [ عیسیٰ (علیہ السلام) کو گود میں لیے اپنی قوم کے پاس آئیں۔ قوم نے انھیں طعنے دیے۔ یہاں قوم سے مراد ان کے خاندان کے لوگ ہیں۔ خاندان کے لوگوں نے حضرت مریم [ کی گود میں معصوم بچہ دیکھا تو حیران رہ گئے۔ ظاہر بات ہے کہ حضرت مریم [ عام لوگوں کی بجائے پہلی مرتبہ قریبی رشتہ داروں میں آئی ہوں گی پھر خاندان کے ذریعے بات محلے اور معاشرے کے لوگوں تک پہنچی ہوگی۔ جنھوں نے حضرت مریم [ کو ایسی ویسی باتیں کیں اور طعنے دیے۔ یہاں تک کہا کہ اے ہارون کی بہن !” نہ تیری…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

27: فَاَتَتْ بِہٖ (پس پھر اس کو لے کر آئیں) عیسیٰ (علیہ السلام) کو قَوْمَھَا (اپنی قوم کے پاس) نفاس سے پاکیزگی کے بعد تَحْمِلُہٗ اٹھائے ہوئے) ھاؔ ضمیر سے حال ہے۔ مطلب یہ ہے وہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو اٹھائے ہوئے اپنی قوم کی طرف متوجہ ہوئی۔ جب انہوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو اس کے ساتھ دیکھا تو۔ قَالُوْا یٰـمَرْیَمُ لَقَدْ جِئْتِ شَیْئًافَرِیًّا (کہنے لگے اے مریم تو نے بہت برا کام کیا) فریًّا اوپری عجیب، اصل الفری کا معنی کاٹنا ہے گویا وہ عادت کو کاٹنا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

27۔ فاتت بہ قومھا تحملہ، ، بعض نے کہا ولادت کے بعد فورا حضرت عیسیٰ کو اٹھائے قوم والوں ک پاس آحضرت مریم آئی تھیں۔ حضرت کلبی کا بیان ہے کہ یوسف نجار نے حضڑت مریم اور ان ک بیٹے عیسیٰ کو ایک غار میں لے جاکررکھ تھا وہاں آپ چالیس دن تک رہیں جب ایام نفاس ختم ہوگئے توعیسی (علیہ السلام) کو لے کرنکلیں راستے میں حضرت حضرت عیسیٰ نے کہا ، اماں تم کو بشارت ہو میں اللہ کا بندہ اور مسیح ہوں، جبوہ حضڑت عیسیٰ کو اٹھائے ہوئے قوم والوں کے پاس پہنچیں ، وہ لوگ بڑے دیندار اور نیکو کار تھے۔ مریم (علیہما السلام) کے پاس بچے کو دیکھ کر اتنے رنجیدہ ہوئے کہ رو پڑے اور ان کے گھر والے صالحین میں سے تھے۔ قالو یا مریم لقد…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 27–33

27۔ 33:۔ تفسیر سدی میں ہے کہ حضرت عیسیٰ کے پیدا ہونے کے بعد شیطان نے مریم (علیہا السلام) کی قوم میں یہ خبر پھیلا دی کہ مریم کے ہاں بن باپ کا بچہ پیدا ہوا اس خبر کو سن کر قوم کے لوگ بڑے جوش میں آئے اور مریم (علیہا السلام) کو اس الگ مکان میں سے بستی میں بلایا اس پر مریم (علیہا السلام) چلہ نہانے کے بعد عیسیٰ (علیہ السلام) کو لے کر قوم کے لوگوں کے پاس گئیں یہ تفسیر حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے قول کے موافق ہے کہ گھبراہٹ کے وقت مریم (علیہ السلام) کو جو آواز آئی تھی وہ جبرئیل (علیہ السلام) کی آواز نہیں تھی۔ اوپر گذر چکا ہے کہ مجاہد کے قول کو ترجیح دی ہے اس واسطے تفسیر ابن جریر میں ہے کہ عیسیٰ (علیہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 27–33

آیت 27 یعنی جب حضرت مریم علیھا السلام اپنے نفاس سے پاک ہوئیں تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو لے کر اپنی قوم میں تشریف لائیں، چونکہ انہیں اپنی برٓت اور اپنی طہارت نفس کا علم تھا اس لئے انہوں نے کسی کی پروانہ کی۔ لوگوں نے باتیں بناتے ہوئے کہا : (لقد جئت شیا فریا) ” تو نے بڑا عجیب کام کیا “ یعنی بہت نازیبا کام، اس سے ان کی مراد زنا تھا۔۔۔. حالانکہ وہ اس سے پاک تھیں۔ (یاخت ھرون) ” اے ہارون کی بہن۔ “ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت مریم علیھا السلام کا کوئی حقیقی بھائی تھا جس کی طرف ان کو منسوب کیا گیا۔ وہ انبیاء کے نام پر نام رکھا کرتے تھے۔ یہ ہارون، موسیٰ (علیہ السلام) کے بھائی ہارون بن عمران (علیہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 23–30

موت کی تمنا جائز نہیں قول باری ہے (قالت یلیتنی مت قبل ھذا وکتت نسیاً منسیاً وہ کہنے لگی۔ کاش میں اس سے پہلے ہی مرجاتی اور میرا نام و نشان نہ رہتا۔ “) کچھ حضرات کا قول ہے کہ حضرت مریم نے موت کی اس لئے تمنا کی تھی کہ جنسی ملاپ کے بغیر بچے کو جنم دینے کی حالت پر پہنچ گئی تھیں۔ لیکن یہ بات غلط ہے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس حالت میں مبتلا کر کے ان کی آزمائش کی تھی اور وہ اس کے اس فیصلے پر راضی تھیں اور اللہ کی فرماں برداری پر کمربستہ تھیں۔ اللہ تعالیٰ کے فیصلوں پر اظہار ناپسندیدگی معصیت ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے صرف وہی فعل و قوع پذیر ہوتا ہے جو حکمت اور صواب پر مبنی ہوتا ہے۔ اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 27–28

35 ہارون کی بہن کا مطلب ؟ : اس سے مراد وہ ہارون (علیہ السلام) نہیں جو کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بھائی تھے کہ وہ تو اس سے صدیاں پہلے گزر چکے تھے۔ بلکہ اس سے مراد حضرت مریم (علیہا السلام) کے وہ بھائی تھے جن کا نام ہارون تھا اور جو بڑے عابد و زاہد اور نیک و صالح شخص تھے اور جن کا زہد وتقویٰ ضرب المثل تھا۔ اور بنی اسرائیل میں اپنے نبیوں کے ناموں پر نام رکھنے کا رواج موجود تھا۔ جیسا کہ ہمارے یہاں بھی موجود ہے کہ لوگ پیغمبروں کے نام پر اپنے بچوں کے نام رکھتے ہیں مثلاً محمد، احمد، مصطفی، یعقوب، یوسف، ابراہیم وغیرہ وغیرہ۔ اسی طرح وہاں بھی تھا۔ اور اگر یہاں ہارون (علیہ السلام) سے مراد وہی ہارون…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 16–34

سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش اور بچپن کی گفتگو تشریح : سیدہ مریم کا پورا واقعہ سورة آل عمران میں بڑی وضاحت سے گزر چکا ہے کہ آپ کی والدہ نے آپ کو بیت المقدس میں عبادت کے لیے بٹھا دیا تھا۔ یہ محراب شرقی حصہ میں واقعہ تھی، جہاں آپ نے ایک پردہ ڈال کر اپنے آپ کو لوگوں کی نظروں سے چھپا رکھا تھا۔ سیدنا یحییٰ (علیہ السلام) کے ساتھ ہی سیدہ مریم (علیہا السلام) کا ذکر کیا گیا ہے۔ سیدنا یحییٰ (علیہ السلام) کی پیدائش بھی اللہ کی قدرت کی کامل نشانی ہے اور سیدنا مریم (علیہا السلام) کا انتہائی پاکدامن اور نیک ہونے کے باوجود بغیر کسی مرد کے ملے (نکاح وغیرہ) بیٹا پیدا کرنا بھی اللہ کی بہت بڑی نشانیوں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 16–41

(رکوع نمبر 2) اسرارومعارف اور اے حبیب ﷺ اس سے عجیب تر اور فکر انگیز واقعہ ایسی کتاب اللہ میں سنا دیجئے جو حضرت مریم (علیہا السلام) کا ہے اور جس کے متعلق یہود اور نصاری نے اپنے اپنے نظریات گھڑ رکھے ہیں کہ اس کی حقیقی اور واقعی صورت کیا ہے یہ بات تب شروع ہوتی ہے جب حضرت مریم (علیہا السلام) اپنے گھر والوں سے الگ ہو کر غسل وغیرہ کرنے کے لیے پردہ میں چلی گئیں تو وہاں ان کے پاس حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو بھیجا جس نے انسانی شکل میں ظاہر ہو کر ان سے بات کرنا چاہی ، یاد رہے حضرت مریم (علیہا السلام) کا ذکر آل عمران میں گذر چکا ہے ۔ (اولیاء اللہ سے فرشتہ کا ہمکلام ہونا) کہ ان کی والدہ نے منت مانی تھی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

(کذافی الموضح)4 یعنی گود میں بچہ لئے آرہی ہے حالانکہ یرا اب تک نکاح بھی نہیں ہوا اور تو کنواری ہے۔ (زوعبدی بہ تفسیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(19:27) اتت بہ۔ ب مریم سے حال ہے (درآں حالیکہ وہ اسے گود میں اٹھائے ہوئے تھی) ۔ فریا۔ گھڑی ہوئی۔ بناوٹی۔ من گھڑت۔ عظیم (جوہری) عجیب۔ حیران کن۔ (راغب) بہت قبیح فعل (ابن حیان) ہر بڑا کام خواہ وہ برا ہو یا اچھا ۔ قول ہو یا فعل (روح المعانی)

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 22–36

لغات القرآن آیت نمبر 22 تا 36 انتبذت (انتباذ) الگ ہوگئی، جدا ہوگئی قصی دور کا فاصلہ۔ المخاض زچگی کا درد۔ دردزہ۔ جزع جڑ۔ نسیا منسیا بھولی بسری چیز۔ بےنام و نشان ہوجانا۔ سری پانی کا چشمہ۔ ھزی ہلالی۔ جھکادے۔ تساقط گرائی گی۔ رطب ترو تازہ۔ جنی پکا ہوا پھل۔ قری عین آنکھیں ٹھنڈی رکھ۔ ترین تو دیکھے۔ نذرت میں نے منت مان رکھی ہے۔ تحملہ وہ اس کو اٹھا لائے۔ فری (افترائ) عجیب اور نرالی بات۔ المھد گود۔ صبی بچہ۔ اوصنی مجھے حکم دیا۔ مادمت حیا جب تک میں زندہ ہوں۔ شقی بدنصیب، بدنصیب، بدقسمت۔ یمترون وہ شک کرتے ہیں۔ تشریح : آیت نمبر 22 تا 36 حضرت مریم نے جب سے ہوش سنبھالا تھا اس وقت سے وہ اللہ تعالیٰ کے ذکر میں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 27–33

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کا ذکر اور حضرت مریم (علیہا السلام) پر تہمت اور چالیس روز کے بچہ کی شہادت جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوچکے تو بعد چلہ کے مریم (علیہا السلام) ان کو گود میں لے کر اپنی قوم کے پاس آئیں۔ وہاں لوگوں کا ان پر ہنگامہ ہوا، اور طعن وتشنیع شروع ہوئی۔ کہنے لگے :" اے مریم ! یہ تو نے بری بات کی۔ اے ہارون کی بہن ! (حضرت ہارون برادر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہی کی طرف نسبت کی کیونکہ ان کی نسل سے تھیں، اس لئے ہارون کی بہن کہا یہ عرب کا محاورہ ہے) ۔ تیرا باپ تو بدکار نہ تھا اور نہ تیری ماں فاحشہ تھی، تو حرام کار کہاں سے پیدا ہوئی "۔ مریم نے اپنے بچہ کی طرف اشارہ کردیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 26–27

[13] اس وقت کی شریعت میں بولنے اور کلام نہ کرنے کا بھی روزہ ہوتا تھا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 26–32

(ف 1) حضرت مریم (علیہ السلام) درد زہ کی وجہ سے بےقرار ہوگئیں ، اور جنگل کی طرف نکل کھڑی ہوئیں ، وہیں حضرت مسیح (علیہ السلام) تولد ہوئے ، اس طرح سے بچہ کی پیدائش بجائے خود حضرت مریم (علیہ السلام) کے لئے خوش آیندہ نہ تھی ، اس پر مزید یہ کھٹکا کہ لوگ کیا کہیں گے ، اور پھر بےسروسامانی کا یہ عالم کہ اپنے پاس کوئی موجود نہیں جو دلداری کرسکے ، اس لئے انسانی فطرت کی کمزوری سے انہوں نے اضطرار یہ کہا کہ (آیت) ” یلیتنی مت قبل ھذا وکنت نسیا منسیا “۔ تو بالکل بجا فرمایا حالات کا تقاضا یہی تھا کہ ان کے منہ سے اس قسم کے کلمات نکلیں ۔ اللہ تعالیٰ نے تسلی دی ، حضرت مریم (علیہ السلام) کو فرشتہ نے پکار کر کہا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-27 پھر حضرت مریم (علیہ السلام) اس مولود مسعود کو گود میں اٹھا کر اپنی قوم کے پاس لائیں تو قوم کے لوگوں نے کہا اے مریم یہ تو تو نے بہت ہی برا کام کیا۔ یعنی شادی ہوئی نہیں اور بچہ ہوگیا یہ تو بڑے طوفان اور غضب کی بات ہوئی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اس وقت کا ذکر جب سیدہ مریم (علیہ السلام) بچے کو ساتھ لے کر قوم کے پاس آئیں : 27۔ جیسا کہ آپ پیچھے چکے ہیں اور مفسریں نے بھی تسلیم کیا ہے کہ جب ناصرہ سے یوسف ‘ مریم اور دوسرے افراد خانہ نکل کر بیت لحم کی طرف آئے اور بیت لحم ہی عیسیٰ (علیہ السلام) تولد ہوئے اور بیت لحم میں تولد ہونے والے ایک ایک بچے کی پیش گوئیاں بنی اسرائیل کے ہاں معروف تھیں اور اس کے ساتھ بقول انجیل یہ اتفاق بھی ہوگیا جیسا کہ تحریر ہے : ” جب یسوع ہیرودیس کے زمانہ میں یہودیہ کے بیت لحم میں پیدا ہوگیا تو دیکھو کئی مجوسی پورب سے یروشلم میں یہ کہتے ہوئے آئے کہ یہودیوں کا بادشاہ جو پیدا ہوا ہے وہ کہاں ہے ؟ کیونکہ یورب میں اس کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary فَأَتَتْ بِهِ قَوْمَهَا تَحْمِلُهُ "Then she came to her people carrying him." - 19:27 These words suggest that when Sayyidah Maryam (علیہا السلام) was comforted by the super-natural indications that Allah Ta` ala will protect her from disgrace, she took the newborn baby with her to her house. As to the time when she returned home after giving birth to the child, Ibn ` Asa' akir has narrated through Ibn ` Abbas ؓ that she returned home to her people forty days after the birth of the child i.e. after the completion of the period of Nifas (the bleeding period after the birth of a…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 26–27

18. That is, you need not say anything with regard to the child. It is now Our responsibility to answer the critics. This also indicates why Mary was so sad and grieved. Had she been married and given birth to her first baby like any other mother, there was no occasion to tell her to observe a fast of silence, though it was a common custom among the Jews.

Read the full tafseer →