Maryam 19:26

Maryam · from ayah 26

19:26

فَكُلِیْ وَاشْرَبِیْ وَقَرِّیْ عَیْنًا ۚ— فَاِمَّا تَرَیِنَّ مِنَ الْبَشَرِ اَحَدًا ۙ— فَقُوْلِیْۤ اِنِّیْ نَذَرْتُ لِلرَّحْمٰنِ صَوْمًا فَلَنْ اُكَلِّمَ الْیَوْمَ اِنْسِیًّا ۟ۚفَكُلِىۡ وَاشۡرَبِىۡ وَقَرِّىۡ عَيۡنًا‌ ۚ فَاِمَّا تَرَيِنَّ مِنَ الۡبَشَرِ اَحَدًا ۙ فَقُوۡلِىۡۤ اِنِّىۡ نَذَرۡتُ لِلرَّحۡمٰنِ صَوۡمًا فَلَنۡ اُكَلِّمَ الۡيَوۡمَ اِنۡسِيًّا

تو کھاؤ اور پیو اور آنکھیں ٹھنڈی کرو۔ اگر تم کسی آدمی کو دیکھو تو کہنا کہ میں نے خدا کے لئے روزے کی منت مانی تو آج میں کسی آدمی سے ہرگز کلام نہیں کروں گی

— Fateh Muhammad Jalandhari

So eat and drink and be contented. And if you see from among humanity anyone, say, 'Indeed, I have vowed to the Most Merciful abstention, so I will not speak today to [any] man.' "

— Saheeh International

Juz 16 · Ruku 2 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Maryam

All translations of 19:26

پس تو کھا اور پی اور اپنی آنکھیں ٹھنڈی کر پھر اگر کوئی آدمی تجھے نظر آئے تو اس سے کہہ دے کہ میں نے رحمان کے لیے روزے کی نذر مانی ہے، اس لیے آج میں کسی سے نہ بولوں گی"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو کھاؤ اور پیو اور آنکھیں ٹھنڈی کرو۔ اگر تم کسی آدمی کو دیکھو تو کہنا کہ میں نے خدا کے لئے روزے کی منت مانی تو آج میں کسی آدمی سے ہرگز کلام نہیں کروں گی

— مولانا فتح محمد جالندہری

اب چین سے کھا پی اور آنکھیں ٹھنڈی رکھ، اگر تجھے کوئی انسان نظر پڑ جائے تو کہہ دینا کہ میں نے اللہ رحمنٰ کے نام کا روزه مان رکھا ہے۔ میں آج کسی شخص سے بات نہ کروں گی

— مولانا محمد جوناگڑہی

اب کھاؤ، اور پیو، اور آنکھیں ٹھنڈی رکھو۔ اور اگر لوگوں میں سے کسی کو آتا دیکھو تو (اشارے سے) کہہ دینا کہ : آج میں نے خدائے رحمن کے لیے ایک روزے کی منت مانی ہے، اس لیے میں کسی بھی انسان سے بات نہیں کروں گی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو کھا اور پی اور آنکھ ٹھنڈی رکھ پھر اگر تو کسی آدمی کو دیکھے تو کہہ دینا میں نے آج رحمان کا روزہ مانا ہے تو آج ہرگز کسی آدمی سے بات نہ کرو ں گی

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

سو تم کھاؤ اور پیو اور (اپنے حسین و جمیل فرزند کو دیکھ کر) آنکھیں ٹھنڈی کرو، پھر اگر تم کسی بھی انسان کو دیکھو تو (اشارے سے) کہہ دینا کہ میں نے (خدائے) رحمان کے لئے (خاموشی کے) روزہ کی نذر مانی ہوئی ہے سو میں آج کسی انسان سے قطعاً گفتگو نہیں کروں گی،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پس کھا اور پی اور ٹھنڈی آنکھ سے رہ، پھر اگر تو آدمیوں میں سے کسی کو دیکھے تو کہہ میں نے تو رحمان کے لیے روزے کی نذرمانی ہے، سو آج میں ہرگز کسی انسان سے بات نہ کروں گی۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پس کھاؤ ، پیو اور اپنی آنکھ ٹھنڈی کرو۔ پھر اگر کوئی آدمی تمہیں دیکھ پائے تو کہہ دینا کہ : میں نے اللہ کے لئے روزہ کی نذر مانی ہے لہذا آج کسی انسان سے بات نہ کروں گی

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پس کھاؤ اور پیو اور آنکھیں ٹھنڈی کرو۔ اور اگر کوئی آدمی معترض ہو تو اس سے اشارے سے کہہ دیجیو کہ میں نے خدائے رحمان کے لیے روزے کی منت مان رکھی ہے تو آج میں کسی انسان سے کوئی بات نہیں کرسکتی

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پس تم کھاؤ پیو اور ٹھنڈا کرو اپنی آنکھوں کو، پھر اگر تمہیں کوئی آدمی نظر آئے اور اعتراض کرے تو تو اس کو اشارے سے کہہ دو کہ میں نے خدائے رحمان کے لیے نہ بولنے کے روزے کی نذر مان رکھی ہے لہذا میں آج کسی انسان سے بات نہیں کروں گی،

— مولانا اسحاق مدنی

اور کھاؤ اور پیو اور آنکھیں ٹھنڈی کرو۔ اور اگر کسی بشر کو دیکھنا تو کہہ دینا۔ کہ میں نے تو خدائے رحمن کے لئے روزہ کی نذر مان رکھی ہے سو میں تو آج کسی انسان سے بولوں گی نہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پس آپ کھایئے اور پیجئے اور (اپنی) آنکھیں ٹھنڈی کیجیے اور اگر آپ دیکھیں کسی آدمی کو (اور وہ آپ سے پوچھے) تو اس سے (اشارے سے) کہہ دیں کہ میں نے نذر مانی ہے رحمن کے لیے روزے کی لہٰذا میں بات نہیں کروں گی آج کسی انسان سے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تو کھائو اور پیوا ور آنکھیں ٹھنڈی رکھو، اگر تم کسی آدمی کو دیکھو تو کہنا میں نے اللہ کے لیے روزے کی منت مانی ہے کہ آج میں کسی سے کلام نہیں کروں گی۔

— محترمہ رفعت اعجاز

So eat and drink and cool your eyes; and if you see any person say to him: 'Verily I have vowed a fast to the Most Compassionate Lord, and so I shall not speak to anyone today.' "

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So eat, drink and cool your eyes. Then if you see any human being, say (to him), :I have vowed a fast (of silence) for the All-Merciful (Allah,) and therefore, I shall never speak to any human today.

— Muhammad Taqi Usmani

So eat, drink and cool your eyes. Then if you see any human being, say (to him), :I have vowed a fast (of silence) for the All-Merciful (Allah,) and therefore, I shall never speak to any human today.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"So eat and drink and rejoice. And if you see any human being, say: `Verily, I have vowed a fast for the Most Gracious so I shall not speak to any human being today.,"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

So eat and drink and be consoled. And if thou meetest any mortal, say: Lo! I have vowed a fast unto the Beneficent, and may not speak this day to any mortal.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

So eat and drink and be contented. And if you see from among humanity anyone, say, 'Indeed, I have vowed to the Most Merciful abstention, so I will not speak today to [any] man.' "

— Saheeh International

Eat, drink, and rejoice. Should you see a person going by, tell him that on this day you have promised the Beneficent God to fast and never talk to any human being."

— Muhammad Sarwar

So eat and drink and refresh the eye. Then if you see any mortal, say: Surely I have vowed a fast to the Beneficent Allah, so I shall not speak to any man today.

— Muhammad Habib Shakir

So eat and drink thou, and cool thine eyes; and if thou beholdest the human beings anyone, say: verily I have vowed to the Compassionate a fast, so I shall not speak today to any human being.

— Abdul Majid Daryabadi

"So eat and drink and cool (thine) eye. And if thou dost see any man, say, 'I have vowed a fast to (Allah) Most Gracious, and this day will I enter into not talk with any human being'"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 19:26

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 24–26

مریم (علیہا السلام) اور معجزات۔ (من تحتہا) کی دوسری قرأت من تحتھا بھی ہے یہ خطاب کرنے والے حضرت جبرائیل ؑ تھے۔ حضرت عیسیٰ ؑ کا تو پہلا کلام وہی تھا جو آپ نے اپنی والدہ کی برات و پاکدامنی میں لوگوں کے سامنے کیا تھا۔ اس وادی کے نیچے کے کنارے سے اس گھبراہٹ اور پریشانی کے عالم میں حضرت جبرائیل ؑ نے یہ تشفی دی تھی۔ یہ قول بھی کہا گیا ہے کہ یہ بات حضرت عیسیٰ ؑ نے ہی کہی تھی۔ آواز آئی کہ غمگین نہ ہو تیرے قدموں تلے تیرے رب نے صاف شفاف شیریں پانی کا چشمہ جاری کردیا ہے یہ پانی تم پی لو۔ ایک قول یہ ہے کہ اس چشمے سے مراد خود حضرت عیسیٰ ؑ ہیں۔ لیکن پہلا قول زیادہ ظاہر ہے۔ چناچہ اس پانی کے ذکر کے بعد ہی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة مَرْیَم 18 مطلب یہ ہے کہ بچے کے معاملے میں تجھے کچھ بولنے کی ضرورت نہیں۔ اس کی پیدائش پر جو کوئی معترض ہو اسکا جواب اب ہمارے ذمے ہے (واضح رہے کہ بنی اسرائیل میں چپ کر روزہ رکھنے کا طریقہ رائج تھا) یہ الفاظ بھی صاف بتا رہے ہیں کہ حضرت مریم کو اصل پریشانی کیا تھی۔ نیز یہ امر بھی قابل غور ہے کہ شادی شدہ لڑکی کے ہاں پہلو نٹی کا بچہ اگر دنیا کے معروف طریقہ پر پیدا ہو تو آخر اسے چپ کا روزہ رکھنے کی کیا ضرورت پیش آسکتی ہے ؟

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(آیت) فَكُلِيْ وَاشْرَبِيْوجہ غالباً یہ ہے کہ انسان کی فطری عادت ہے کہ پانی کا اہتمام کھانے سے پہلے کرتا ہے خصوصاً ایسی غذا جس کے بعد پیاس لگنا یقینی ہو اسکے کھانے سے پہلے پانی مہیا کرتا ہے مگر استعمال کی ترتیب یہ ہوتی ہے کہ پہلے غذا کھاتا ہے پھر پانی پیتا ہے۔ (رُوح المعانی)

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

فَكُلِي وَاشْرَبِي وَقَرِّي عَيْنًا فَإِمَّا تَرَيِنَّ مِنَ الْبَشَرِ أَحَدًا فَقُولِي إِنِّي نَذَرْتُ لِلرَّحْمَنِ صَوْمًا فَلَنْ أُكَلِّمَ الْيَوْمَ إِنْسِيًّا۔ یعنی کھاؤ پیو اور بچہ کے دیدار سے آنکھیں ٹھنڈی کرو اور روزے کی منت مان لو۔ اگر کوئی شخص آجائے اور کچھ پوچھنا ہے تو اس سے کہہ دینا کہ میں نے روزے کی منت مان رکھی ہے، میں آج کسی سے بات نہیں کرسکتی۔ خاموشی کا روزہ : یہود کی شریعت میں خاموشی بھی روزے کے شرائط میں تھی۔ اگرچہ آیت میں اس بات کی تصریح نہیں ہے کہ فرشتہ نے حضرت مریم کو روزہ رکھ لینے کی بھی ہدایت کی لیکن فحوائے کلام سے یہ بات واضح ہے۔ جب فرشتہ ان کو یہ ہدایت کرتا ہے کہ " اگر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

26۔ 1 یعنی کھجوریں کھا، چشمے کا پانی پی اور بچے کو دیکھ کر آنکھیں ٹھنڈی کر۔ 26۔ 2 یہ کہنا بھی اشارے سے تھا، زبان سے نہیں، علاوہ ازیں ان کے ہاں روزے کا مطلب ہی کھانے اور بولنے سے پرہیز ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

13: حضرت مریم (علیہا السلام) جس جگہ تشریف لے گئی تھیں، وہ کچھ بلندی پر واقع تھی، (اور شاید یہی جگہ بیت اللحم کہلاتی ہے جو بیت المقدس سے چند میل کے فاصلے پر ہے) اس کے نیچے نشیب میں سے فرشتہ ان سے دوبارہ ہم کلام ہوا، اور انہیں تسلی دی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے کھانے پینے کا یہ انتظام فرما دیا ہے کہ نیچے ایک چشمہ بہہ رہا ہے اور معمولی کوشش سے تازہ کھجوریں آپ پر خود بخود جھڑ جائیں گی جن میں پوری غذائیت بھی ہے، اور تقویت کا سامان بھی۔ 14: بعض پچھلی شریعتوں میں بات چیت نہ کرنے کا روزہ رکھنا بھی عبادت کی ایک شکل تھی جو آنحضرت ﷺ کی شریعت میں منسوخ ہوگئی۔ اب ایسا روزہ رکھنا جائز نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کی…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 26–27

فکلی و اشربی و قری عینا (91 : 62) ” تو کھا اور پی اور اپنی آنکھیں ٹھنڈی کر۔ “ یہ خوشگوار طعام و شراب اسعتمال کرو اور بچے کو دیکھ کر آنکھوں کو ٹھنڈا کرو اور اگر کوئی سوال کرے تو اشاروں سے یہ کہہ دو کہ میں روزے سے ہوں ، میں نے روزے کی نذر مانی ہے ، عبادت اور ذکر الٰہی کے لئے کٹ گئی ہوں ، آج میں کسی سے بات نہ کروں گی کسی کو اس کے سوال کا جواب نہ دوں گی۔ ہمارا خیال ہے کھجور کے اس درخت کو ہلانے سے قبل وہ بےحد خوفزدہ ہوگئی ہوگی ، نہایت ہی پریشانی کا وقت اس پر گزرا ہوگا ، لیکن جب درخت کے ہلاتے ہی اس پر تازہ کھجوریں ٹپک پڑیں تو وہ سمجھ گئی ہوگی کہ اللہ اس کے ساتھ ہے۔ اسے اللہ نے نہیں چھوڑا اور یہ کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یعنی تازہ کھجوریں کھا کر چشمہ کے پانی سے سیراب ہو، اور پاکیزہ بیٹے کو دیکھ کر آنکھیں ٹھنڈی کر، آگے کا غم نہ کھا، خدا تعالیٰ سب مشکلات کو دور کرنے والا ہے۔ 8 یعنی اگر کوئی آدمی سوال کرے تو اشارہ وغیرہ سے ظاہر کردینا کہ میں روزہ سے ہوں۔ مزید گفتگو نہیں کرسکتی۔ ان کے دین میں یہ نیت درست تھی کہ نہ بولنے کا بھی روزہ رکھتے تھے۔ ہماری شریعت میں ایسی نیت درست نہیں۔ اور " کہیو میں نے مانا ہے " کا مطلب یہ ہے کہ روزہ کی نذر کر کے ایسا کہہ دینا۔ " انسیا " کی قید شاید اس لیے لگائی کہ فرشتہ سے بات کرنا منع نہ تھا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 26 فَکُلِیْ وَاشْرَبِیْ وَقَرِّیْ عَیْنًا حضرت مریم سلامٌ علیہا نے یہ تمام معجزات اپنی آنکھوں سے دیکھے۔ بچہ بھی بول پڑا ‘ چشمہ بھی جاری ہوگیا ‘ اور کھجور کے سوکھے تنے کو ہلانے سے تازہ پکی ہوئی کھجوریں بھی ان کے سامنے آن گریں۔ یہ سب کچھ دیکھنے کے بعد ان میں حالات کا مقابلہ کرنے کی جرأت پیدا ہوئی اور انہوں نے بچے کو لے کر آبادی میں آنے کا فیصلہ کیا۔ فَاِمَّا تَرَیِنَّ مِنَ الْبَشَرِ اَحَدًالا فَقُوْلِیْٓ اِنِّیْ نَذَرْتُ للرَّحْمٰنِ صَوْمًا فَلَنْ اُکَلِّمَ الْیَوْمَ اِنْسِیًّا ان کی شریعت میں روزے کی حالت میں کھانے پینے کی پابندی کے علاوہ بات چیت کرنے پر بھی پابندی تھی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

25 زچگی کے دوران خوردونوش کے لئے اللہ کی معجزانہ مدد :۔ جس کھجور کے درخت کے تنے سے سیدہ مریم نے سہارا لیا تھا وہ قدرے بلندی پر واقع تھا اس کے نیچے سے پھر اسی فرشتہ کی آواز سنائی دی جس نے لڑکے کی بشارت دی تھی اور جس کی بشارت شاید اس وقت سیدہ مریم بھول گئی تھیں۔ اور وہ آواز یہ تھی کہ ذرا نیچے تو دیکھو اللہ نے ٹھنڈے اور میٹھے پانی کا چشمہ جاری کردیا ہے یہ تمہارے پینے کے لئے ہے اور اسی کھجور کے تنے کو زور سے ہلاؤ تو تازہ پکی کھجوریں جھڑنے لگیں گی۔ یہ سیدہ مریم کے کھانے کا سامان کیا گیا اور یہ دونوں چیزیں معجزانہ طور پر پیدا کی گئی تھیں۔ جو اس حالت زچگی کے لئے ایک سادہ غذا بھی تھی اور مناسب و…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

37۔ یعنی یہ مفید وپر تغذیہ طبی پھل جو ملا ہے، اسے کھاؤ اور اس چشمہ کا پانی پیو اور بچہ کو دیکھ کر قلب کی راحت حاصل کرو۔” اکل وشرب کا حکم بہ ظاہر اباحت کے لئے معلوم ہوتا ہے۔ “ (تھانوی (رح ) 38۔ (اشارہ سے) آنے والا جو آئے گا وہ اغلب احوال میں بچہ کی پیدائش کو حیرت واعتراض ہی کی نظر سے دیکھے گا۔ اس موقع کے لئے حضرت مریم (علیہ السلام) کو ہدایت ہوتی ہے کہ تم سوال و جواب میں نہ پڑنا، بلکہ یہ کہہ کر کہ میں تو آج صوم سکوت نذر مانے ہوئے ہوں چپ ہوجانا۔ (آیت) ” فقولی “۔ کے تحت میں بعض مفسرین نے بڑھایا کہ یہ بات بھی اشارہ سے کہنا ورنہ صوم سکوت سے تناقص لازم آتا ہے۔ لیکن اتنا تکلف غیر ضروری ہے۔ بہ آسانی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 26–40

آیت نمبر 26 تا 40 ترجمہ : پھر پکی اور تازہ کھجوریں کھاؤ اور چشمہ کا پانی پیو اور بیٹے سے آنکھیں ٹھنڈی کرو عینًا تمییز ہے فاعل سے منقول ہے یعنی تو اس بچہ کو دیکھ کر آنکھوں کو ٹھنڈا کر کے سکون حاصل کر دوسرے بچوں کی طرف التفات نہ کر فاِمَّا میں ان شرطیہ کے نون کو ما زائدہ میں مدغم کردیا گیا ہے تَرَیِنَّ اس کا لام کلمہ اور عین کلمہ حذف کردیا گیا ہے عین کلمہ کی حرکت نقل کر کے را کو دے دی گئی اور یائے ضمیر کو التقاء ساکنین کی وجہ سے کسرہ دے دیا گیا اگر تو کسی بشر کو دیکھے اور وہ تیرے بچہ کے متعلق سوال کرے تو کہہ دینا کہ میں نے اس بچہ وغیرہ کے بارے میں لوگوں سے کلام کرنے سے رحمٰن کے لئے سکوت کا روزہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فکلی واشربی وقری عینا پھر اس کو کھا اور پی اور آنکھیں ٹھنڈی کر۔ یعنی کھجوریں کھا اور نہر کا پانی اور کھجوروں کا عرق پی اور آنکھ ٹھنڈی کر یعنی دل خوش کر۔ قری قرار سے مشتق ہے آنکھ جب کوئی خوش کن منظر دیکھتی ہے تو اس پر ٹھہر جاتی ہے دوسری طرف نہیں ہٹتی۔ قَرَّ اللّٰہُ عَیْنَکَاللہ تیری آنکھ کو قرار دے۔ یعنی آنکھ کو صاف رکھے قرا اللّٰہ فوادک اللہ تیرے دل کو قرار دے ‘ یعنی خوش کرے خوش کن منظر دکھائے کہ دل اس سے دوسری طرف نہ ہٹے اقر اللّٰہ عینہ اللہ نے اس کی آنکھ ٹھہرا دی یعنی سلا دیا۔ یا قر بمعنی خنکی سے ماخوذ ہے خوشی کے آنسو ٹھنڈے ہوتے ہیں اور غم کے آنسو گرم اس لئے قرۃ العین (آنکھ کی ٹھنڈک) محبوب…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(26) پھر ان پھلوں کو کھاؤ اور نہر سے پانی پیو اور حضرت عیسیٰ ؑ کی پیدائش سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرو اور آج کے بعد اگر تم آدمیوں میں سے کسی کو بھی دیکھو تو کہہ دینا میں نے تو روزہ کی جس میں بولنے کی پابندی ہے، نذر مان رکھی اور پھر اتنا کہنے کے بعد خاموش ہوجانا یہاں تک کہ حضرت عیسیٰ ؑ خود تمہاری طرف سے جواب دے دیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 25–26

وَهُزِّيْٓ اِلَيْكِ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ۔۔ : ”قَرِّيْ عَيْنًا“ مشہور نحوی فراء نے فرمایا کہ قریش اور ان کے آس پاس کے لوگ ”قَرَّ یَقَرُّ“ (قاف کے فتحہ کے ساتھ) کہتے ہیں اور قیس، تمیم اور اہل نجد ”قَرَّ یَقِرُّ“ (قاف کے کسرہ کے ساتھ) کہتے ہیں۔ پہلی صورت میں ”قَرِّيْ“ قاف کے فتحہ کے ساتھ ہوگا جو مشہور قراءت ہے، دوسری صورت میں قاف کے کسرہ کے ساتھ ”قِرِّیْ“ ہوگا جو شاذ قراءت ہے۔ مصدر ”قُرَّۃٌ وَ قُرُوْرٌ“ ہے، ٹھنڈا ہونا۔ (بقاعی) تنہائی، بھوک، پیاس، ولادت کی تکلیف، ولادت کے بعد کی کمزوری اور بدنامی کے خوف میں سے ہر چیز کا اللہ تعالیٰ نے معجزانہ طور پر بہترین علاج فرما دیا۔ ایک کمزور خاتون جو ابھی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فاما ترین من البشر احدا، فقولی انی نذرت للرحمن صوما اس میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فاما تریناصل میں ترأیین تھا ہمزہ کو حذف کیا گیا جس طرح تری سے ہمزہ سے حذف کیا گیا ہے۔ پھر اس کا فتحہ راء کی طرف نقل کیا گیا ہے تو یہ ترکین بن گیا پھر پہلی یا کوائف سے بدلا کیونکہ وہ متحرک ہے اور اس کا ما قبل مفتوح ہے۔ پھر دو ساکن الف یا یاء تانیث جمع ہوتے تو التقاء ساکنین کی وجہ سے الف کو حذف کردیا گیا تو ترین ہوا پھر جزم کی علامت کے طور پر نون کو حذف کیا گیا کیونکہ ان حرف شرط اور ماصلۃ ہے۔ پس تری رہ گیا۔ پھر نون ثقیلہ داخل ہوا تو التقاء ساکنین کی وجہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1:۔ ابن مردویہ ابن منذر اور ابن عساکر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” انی نذرت للرحمن صوما “ یعنی خاموشی (کا روزہ ) ۔ عبد بن حمید نے شعبی (رح) سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ 2:۔ فریابی، عبد بن حمید، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابن انباری نے مصاحف میں اور ابن مردویہ نے انس بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ وہ یوں پڑھتے تھے (آیت) ” انی نذرت للرحمن صوما “ سے مراد ہے خاموشی (کا روزہ) 3:۔ عبد ابن حمید اور ابن انباری نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” انی نذرت للرحمن صوما “ پڑھا اور اس میں روزہ سے مراد ہے خاموشی۔ خاموشی کا روزہ بنی اسرائیل میں تھا : 4:۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے (آیت) ” انی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[فَكُلِيْ : پس آپ کھائیں ] [وَاشْرَبِيْ : اور پئیں ] [وَقَرِّيْ : اور ٹھنڈی رکھیں ] [عَيْنًا : آنکھ ] [فَاِمَا : پھر اگر ] [تَرَيِنَّ : آپ دیکھیں ] [مِنَ الْبَشَرِ : بشر میں سے ] [اَحَدًا : کسی ایک کو ] [فَقُوْلِيْٓ: تو آپ کہیں ] [انى: کہ میں نے ] [نَذَرْتُ : منت مانی ہے ] [لِلرَّحْمٰنِ : رحمن کے لئے ] [صَوْمًا : روزہ رکھنے کی ] [فَلَنْ اُكَلِمَ : تو میں ہرگز کلام نہیں کروں گی ] [الْيَوْمَ : آج کے دن ] [انسِـيًّا : کسی انسان سے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(فَکُلِیْ وَاشْرَبِیْ وَقَرِّیْ عَیْنًا) (سو تو ان تازہ کھجوروں میں سے کھا اور اس نہر میں سے پی اور اپنی آنکھوں کو ٹھنڈی کر) یہ تیرا بچہ تیرے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ فی معالم التنزیل یعنی طیبی نفسا و قیل قری عینک بولدک عیسی۔ طبّی اصول سے زچہ کے لیے کھجوروں کا مفید ہونا یہاں پہنچ کر جی چاہتا ہے کہ صاحب بیان القرآن کی ایک عبارت نقل کردی جائے موصوف فرماتے ہیں کہ تمہارے رب نے تمہارے پاس ایک نہر پیدا کردی ہے۔ جس کے دیکھنے سے اور پانی پینے سے فرحت طبعی ہوگی، ونیز حسب روایت روح المعانی ان کو اس وقت پیاس بھی لگی تھی اور حسب مسئلہ طبیہ گرم چیزوں کا استعمال قبل وضع یا بعد وضع سہل ولادت و دافع فضلات و…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 16–33

قال اللٰہ تعالیٰ ۔ واذکر فی الکتٰب مریم۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ و یوم اموت ویوم ابعث حیا۔ (ربط) حق تعالیٰ نے گزشتہ رکوع میں حضرت زکریا (علیہ السلام) کا قصہ بیان فرمایا کہ بحالت پیری ایک پیر ناتواں اور ایک بانجھ اور بوڑھی بیوی سے بلا سبب ظاہری ایک مبارک فرزند یعنی یحییٰ (علیہ السلام) کا تولد ہوا۔ اب اس سے زیادہ عجیب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت کا قصہ بیان کرتے ہیں۔ اس لیے کہ بوڑھے مرد اور بانجھ عورت سے بچہ پیدا ہونا اگرچہ عجیب ہے۔ مگر والدین سے بچہ کا پیدا ہونا عادۃ قریب الی العقل ہے اور بغیر باپ کے محض ماں سے بچہ پیدا ہونا بہت ہی عجیب و غریب ہے جو اللہ کی کمال قدرت پر دلالت کرتا ہے کہ خدائے تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 25–26

19:۔ ” تَسَّاقَطْ “ کا فا عل ” النخله “ ہے اور وہ ” ھُزِّيْ “ امر کا جواب ہونے کی وجہ سے مجزوم ہے۔ ” فَکُلِيْ وَ اشْرَبِیْ “ علامہ آلوسی نے یہاں ایل لطیف نکتہ زکر کیا ہے۔ یہاں بیان میں پانی کا ذکر کھجور کے ذکر سے مقدم کیا گیا ہے۔ کیونکہ کھانے کی نسبت پانی کی ضرورت اشد ہے۔ لیکن دونوں چیزوں کو استعمال کرنے کے موقع پر کھانے کو پینے پر مقدم کیا گیا ہے کیونکہ عادۃ کھانا پینے پر مقدم ہے (روح ج 16 ص 85) ۔ ” فَاِمَّا تَرَیِنَّ “ یہ بھی حضرت جبریل امین کا کلام ہے۔ اس میں انہوں نے حضرت مریم صدیقہ کو یہ ہدایت فرمائی کہ وہ اپنے نو زائیدہ بچے کو لے کر اپنے گھر کو روانہ ہوں، تو راستہ میں اگر کوئی شخص ملے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 22–26

ربط آیات : پہلے حضرت مریم (علیہ السلام) کی ولادت کا ذکر ہوا ، پھر جب وہ جوان ہوگئیں ، تو اللہ کی طرف سے فرشتہ انسانی شکل میں متمثل ہو کر تنہائی میں ان کے سامنے آگیا ، حضرت مریم (علیہ السلام) کو بڑا استعجاب ہوا اور انہوں نے خدا تعالیٰ کی پناہ طلب کی ، فرشتے نے کہا کہ میں تیرے پروردگار کا فرستادہ ہوں اور تجھے ایک بچہ عطا کرنا چاہتا ہوں ، اس پر حضرت مریم (علیہ السلام) کو مزید تعجب ہوا کہ نہ تو ان کا نکاح ہوا ہے اور نہ ہی مقاربت ، وہ بدکار بھی نہیں ہیں ، تو پھر بچہ کیسے ہوگا ، اللہ تعالیٰ کے فرشتے نے کہا کہ بچہ پیدا کرنا تیرے پروردگار کے لیے نہایت آسان ہے ، وہ قادر مطلق ہے اور ہر چیز کام کرنے پر…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَكُلِيْ وَاشْرَبِيْ وَقَرِّيْ عَيْنًا۝ 0ۚ فَاِمَّا تَرَيِنَّ مِنَ الْبَشَرِ اَحَدًا۝ 0ۙ فَقُوْلِيْٓ اِنِّىْ نَذَرْتُ لِلرَّحْمٰنِ صَوْمًا فَلَنْ اُكَلِّمَ الْيَوْمَ اِنْسِـيًّا۝ 26ۚ أكل الأَكْل : تناول المطعم، وعلی طریق التشبيه قيل : أكلت النار الحطب، والأُكْل لما يؤكل، بضم الکاف وسکونه، قال تعالی: أُكُلُها دائِمٌ [ الرعد/ 35] ( ا ک ل ) الاکل کے معنی کھانا تناول کرنے کے ہیں اور مجازا اکلت النار الحطب کا محاورہ بھی استعمال ہوتا ہے یعنی آگ نے ایندھن کو جلا ڈالا۔ اور جو چیز بھی کھائی جائے اسے اکل بضم کاف و سکونا ) کہا جاتا ہے ارشاد ہے { أُكُلُهَا دَائِمٌ } ( سورة الرعد 35) اسکے پھل ہمیشہ قائم…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 25–26

وَھُزِّیْٓ اِلَیْکِ بِجِذْعِ النَّخْلَۃِ تُسٰقِطْ عَلَیْکِ رُطَبًا جَنِیًّا۔ فَکُلِیْ وَاشْرَبِیْ وَقَرِّیْ عَیْنًا ج فَاِمَّا تَرَیِنَّ مِنْ الْبَشَرِ اَحَدًا لا فَقُوْلِیْٓ اِنِّیْ نَذَرْتُ لِلرَّحْمٰنِ صَوْمًا فَلَنْ اُکَلِّمَ الْیَوْمَ اِنْسِیًّا۔ (مریم : 25، 26) (اور اپنی طرف کھجور کے تنے کو ہلائو، تم پر تروتازہ خرمے گرنے لگیں گے۔ پس کھائو اور پیو اور آنکھیں ٹھنڈی کرو پھر اگر تم کسی آدمی کو دیکھو تو اسے اشارے سے کہو کہ میں نے خدائے رحمن کے روزے کی منت مان رکھی ہے تو آج میں کسی انسان سے بات نہیں کروں گی۔ ) اللہ تعالیٰ کی عنایات کھجور کے تنے کو اپنی طرف کھینچو یعنی اسے حرکت دو ۔ حضرت مریم…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 22–26

فہم القرآن ربط کلام : فرشتے نے حضرت مریم [ کے جسم پر پھونک ماری جس سے وہ حاملہ ہوگئیں۔ اٹھائیسویں پارہ سورة التحریم کی آخری آیت میں جبرائیل امین (علیہ السلام) کی پھونک کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف منسوب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے عمران کی بیٹی مریم [ جس نے اپنی شرم و حیاء کی حفاظت فرمائی۔ ہم نے اس میں اپنی روح پھونک دی۔ جبرئیل امین کی پھونک کے ساتھ وہ حاملہ ہوگئیں تو اس حالت میں مسجد اقصیٰ سے دور ایک مکان میں جا ٹھہریں۔ جب اسے زچگی کی تکلیف محسوس ہوئی تو وہ ایک کھجور کے تنے کے قریب آئیں۔ تکلیف اور ولادت کی وجہ سے بےساختہ کہنے لگی ہائے کاش ! میں اس سے پہلے مرچکی ہوتی اور لوگوں کے ذہن میں بھولی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

ہدایات : 26: فَکُلِیْ (پس تو کھا) اس چنی ہوئی کھجوروں میں سے۔ وَاشْرَبِیْ (اور نہر کا پانی پی) ۔ وَقَرِّیْ عَیْنًا ( اور تو اپنی آنکھیں دودھ پیتے بچے سے ٹھنڈی کر) عیناًؔ یہ تمیز ہے۔ تو عیسیٰ سے اپنے نفس کو خوش کر اور غم والی چیز اپنے سے دور رکھ۔ فَاِمَّا اس کی اصل اِنْؔ ما ہے اِنْ شرطیہ کو ماؔ سے ملا کر اس میں ادغام کردیا۔ تَرَیِنَّ مِنَ الْبَشَرِ اَحَدًا فَقُوْلِیْ اِنِّیْ نَذَرْتُ لِلرَّحْمٰنِ صَوْمًا (پس اگر تو کسی آدمی کو دیکھے تو اس سے کہ دینا کہ میں نے آج اللہ کیلئے خاموش رہنے کی نذرمانی ہے) یعنی اگر تو کسی آدمی کو دیکھ پائے اور وہ تم سے تمہارا حال دریافت کرے تو تو خاموش رہ اور کلام سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

26۔ فکلی واشربی، ، اے مریم ! ان تر کھجوروں سے کھاؤ اور اس پانی کی نہر سے پیو۔ قری عینا، اس سے اپنے آپ کو خوش کر بعض نے کہا عیسیٰ (علیہ السلام) کے ذریعے سے اپنی آنکھوں کو ٹھنڈا کر۔ جیسا کہ کہاجاتا ہے ، قر اللہ عینک، اللہ تیری آنکھ کو قرار دے۔ یعنی آنکھ کو صاف رکھے یا اللہ تیرے دل کو قرار دے خوش کرے اور خوش کن مناظردکھائے بعض نے کہا کہ تمہیں اللہ اس سے سلادے۔ کہاجاتا ہے کہ ، قر یقرا ذاسکن ، جب آنکھ سے خوشی کے آنسو نکلتے ہیں توٹھنڈے ہوتے ہیں اور اور غمی کے آنسو گرم ہوتے ہیں۔ بعض نے کہا اللہ نے ان کی آنکھ ٹھہرا دی یعنی سلادیا۔ فاماترین من البشر، احد، اس پر نون تاکید داخل ہوگیا تویاء کو کسرہ دے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 22–26

22۔ 26:۔ صحیح بخاری میں عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : مرد اور عورت کا نطفہ چالیس روز تک عورت کے رحم میں رہ کر جما ہوا خون ہوجاتا ہے پھر اس خون کا گوشت بن جاتا ہے اور اس گوشت سے ہڈیاں بن کر ان ہڈیوں پر گوشت کا غلاف چڑھ جاتا ہے اس طرح ساڑھے چار مہینے میں یہ سب کچھ ہو کر بچہ کا پتلا تیار ہوجاتا ہے اور پھر اس پتلہ میں روح پھونک دی جاتی ہے 1 ؎۔ یہ تو سب عورتوں کے حمل کی حالت ہوئی حضرت مریم کے حمل میں یہ بات نہیں ہوئی کہ بجائے مرد اور عورت کے نطفہ کے فقط عورت کے نطفہ سے کلمہ کن کے موافق پتلہ تیار ہوا اور پتلہ سے اس روح کا تعلق ہوگیا جو روح جبرئیل (علیہ السلام) نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 22–26

آیت 22 جب حضرت مریم علیھا السلام کو حمل ٹھہر گیا تو وہ فضیحت اور رسوائی کے خوف سے لوگوں سے دور چلی گئیں (مکانا قصیا) ” دور جگہ “ جب بچہ جننے کا وقت قریب آیا تو زچگی کی تکلیف نے ان کو کھجور کے نیچے پناہ لینے پر مجبور کردیا۔ جب حضرت مریم علیھا السلام کو زچگی کی تکلیف برداشت کرنا پڑی، کھانے پینے کی عدم موجودگی کی تکلیف کا اسمنا کرنا پڑا اور سب سے بڑی بات یہ کہ لوگوں کی تکلیف دہ باتوں اور طعنوں سے دلی صدمہ پہنچا اور انہیں خوف ہوا کہ کہیں صبر کا دامن ان کے ہاتھ سے نہ چھوٹ جائے۔۔۔. تو انہوں نے تمنا کی کہ کاش وہ اس حادثہ سے پہلے ہی مرگئی ہوتیں، ان کو بھلا دیا جاتا اور ان کا کہیں تذکرہ تک نہ ہوتا۔…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 23–30

موت کی تمنا جائز نہیں قول باری ہے (قالت یلیتنی مت قبل ھذا وکتت نسیاً منسیاً وہ کہنے لگی۔ کاش میں اس سے پہلے ہی مرجاتی اور میرا نام و نشان نہ رہتا۔ “) کچھ حضرات کا قول ہے کہ حضرت مریم نے موت کی اس لئے تمنا کی تھی کہ جنسی ملاپ کے بغیر بچے کو جنم دینے کی حالت پر پہنچ گئی تھیں۔ لیکن یہ بات غلط ہے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس حالت میں مبتلا کر کے ان کی آزمائش کی تھی اور وہ اس کے اس فیصلے پر راضی تھیں اور اللہ کی فرماں برداری پر کمربستہ تھیں۔ اللہ تعالیٰ کے فیصلوں پر اظہار ناپسندیدگی معصیت ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے صرف وہی فعل و قوع پذیر ہوتا ہے جو حکمت اور صواب پر مبنی ہوتا ہے۔ اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

32 حضرت مریم کے لیے سامان تسکین و راحت کی فراہمی : سو حضرت مریم کے لیے کھانے پینے اور سکون و راحت کے سامان کی فراہمی کے بعد آپ سے ارشاد فرمایا گیا " پس کھاؤ، پیو اور ٹھنڈا کرو اپنی آنکھوں کو "۔ اپنے اس نور نظر کو دیکھ کر جو کہ بڑی عظمت اور شان والا ہوگا۔ اور اللہ تعالیٰ کی ان خصوصی کرامتوں اور عنایتوں کو یاد کر کے جن سے اس نے محض اپنے فضل و کرم سے تم کو نوازا ہے۔ اور یہیں سے یہ بھی سوچو کہ جو خدا خشک زمین سے پانی کا چشمہ جاری کرسکتا ہے، خشک درخت سے تازہ پھلوں کی نعمت سے نواز سکتا ہے، وہ یقینا بغیر باپ کے توسط کے اولاد کی نعمت سے نوازنے پر بھی قادر ہے۔ پس تم اللہ کے بخشے ہوئے تازہ پھلوں سے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 16–34

سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش اور بچپن کی گفتگو تشریح : سیدہ مریم کا پورا واقعہ سورة آل عمران میں بڑی وضاحت سے گزر چکا ہے کہ آپ کی والدہ نے آپ کو بیت المقدس میں عبادت کے لیے بٹھا دیا تھا۔ یہ محراب شرقی حصہ میں واقعہ تھی، جہاں آپ نے ایک پردہ ڈال کر اپنے آپ کو لوگوں کی نظروں سے چھپا رکھا تھا۔ سیدنا یحییٰ (علیہ السلام) کے ساتھ ہی سیدہ مریم (علیہا السلام) کا ذکر کیا گیا ہے۔ سیدنا یحییٰ (علیہ السلام) کی پیدائش بھی اللہ کی قدرت کی کامل نشانی ہے اور سیدنا مریم (علیہا السلام) کا انتہائی پاکدامن اور نیک ہونے کے باوجود بغیر کسی مرد کے ملے (نکاح وغیرہ) بیٹا پیدا کرنا بھی اللہ کی بہت بڑی نشانیوں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 16–41

(رکوع نمبر 2) اسرارومعارف اور اے حبیب ﷺ اس سے عجیب تر اور فکر انگیز واقعہ ایسی کتاب اللہ میں سنا دیجئے جو حضرت مریم (علیہا السلام) کا ہے اور جس کے متعلق یہود اور نصاری نے اپنے اپنے نظریات گھڑ رکھے ہیں کہ اس کی حقیقی اور واقعی صورت کیا ہے یہ بات تب شروع ہوتی ہے جب حضرت مریم (علیہا السلام) اپنے گھر والوں سے الگ ہو کر غسل وغیرہ کرنے کے لیے پردہ میں چلی گئیں تو وہاں ان کے پاس حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو بھیجا جس نے انسانی شکل میں ظاہر ہو کر ان سے بات کرنا چاہی ، یاد رہے حضرت مریم (علیہا السلام) کا ذکر آل عمران میں گذر چکا ہے ۔ (اولیاء اللہ سے فرشتہ کا ہمکلام ہونا) کہ ان کی والدہ نے منت مانی تھی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 25–26

ف 1 اور وہ تجھ سے پوچھے کہ یہ لڑکا کہاں سے آگیا اور یہ کیا مراج ہیڈ 2 یہاں قول بمعنی اشارہ ہے یعنی اسے اشارے سے مجھا دے۔ لہٰذا یہ مابعد کے جملہ فلن اکلم الیوم انسیا کے منافی نہیں ہے۔ (ابن کثیر) 3 بنی اسرائیل کے ہاں روزہ میں چپ رہنے کی نیت جائز تھی۔ ہماری شریعت میں یہ جائز نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(19:26) کلی اشربی۔ قری۔ (کھا۔ پی اور ٹھنڈا کر) میں کھانے پینے کا حکم بظاہر اباحت کے لئے ہے۔ قری قر سے ہے۔ جس کے معنی خنکی کے ہیں۔ قر یقر (ضرب) قر بمعنی سردی۔ سردی چونکہ سکون کو چاہتی ہے جیسا کہ اس کے برکس حر (گرمی) حرکت کو چاہتی ہے۔ اس لئے قرفی مکانہ کے معنی کسی جگہ جم کر ٹھہر جانا کے ہیں۔ فاما۔ پس اگر۔ ترین۔ مضارع واحد مؤنث حاضر بانون ثقیلہ۔ رؤیۃ مصدر۔ (پس اگر) تو دیکھے۔ نذرت۔ ماضی واحد متکلم۔ نذرمصدر (ضرب ونصر) میں نے نذر مانی میں نے منت مانی۔ فقولی۔ یعنی تو اشارہ سے کہہ دینا۔ کیونکہ اگلا جملہ فلن اکلم الیوم انسیا (آج میں کسی انسان سے گفتگو نہیں کروں گی) اس امر کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ جو…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 22–36

لغات القرآن آیت نمبر 22 تا 36 انتبذت (انتباذ) الگ ہوگئی، جدا ہوگئی قصی دور کا فاصلہ۔ المخاض زچگی کا درد۔ دردزہ۔ جزع جڑ۔ نسیا منسیا بھولی بسری چیز۔ بےنام و نشان ہوجانا۔ سری پانی کا چشمہ۔ ھزی ہلالی۔ جھکادے۔ تساقط گرائی گی۔ رطب ترو تازہ۔ جنی پکا ہوا پھل۔ قری عین آنکھیں ٹھنڈی رکھ۔ ترین تو دیکھے۔ نذرت میں نے منت مان رکھی ہے۔ تحملہ وہ اس کو اٹھا لائے۔ فری (افترائ) عجیب اور نرالی بات۔ المھد گود۔ صبی بچہ۔ اوصنی مجھے حکم دیا۔ مادمت حیا جب تک میں زندہ ہوں۔ شقی بدنصیب، بدنصیب، بدقسمت۔ یمترون وہ شک کرتے ہیں۔ تشریح : آیت نمبر 22 تا 36 حضرت مریم نے جب سے ہوش سنبھالا تھا اس وقت سے وہ اللہ تعالیٰ کے ذکر میں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 22–26

اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ سب عورتوں کی حمل کی جو حالت ہوتی ہے، وہ حضرت مریم کے حمل کی نہیں تھی۔ اور یہ بات نئی ہوئی کہ بجائے مرد اور عورت کے نطفہ کے فقط عورت کے نطفہ سے کلمہ کن کے موافق پتلا تیار ہوا، اور پتلے سے اس روح کا تعلق ہوگیا۔ جو روح جبرئیل (علیہ السلام) نے حضرت مریم کے جسم میں پھونک دی تھی۔ پس وہ اس حمل کو دیکھ کر ایک دور مکان میں جا بیٹھیں اور جس وقت ان کو درد زہ شروع ہوا وہ ایک کھجور کے درخت کے نیچے گئیں۔ اس مقام پر نہ تو پانی تھا، نہ کوئی دائی تھی، نہ کوئی کھانے کی شے، اور نہ کوئی پینے کی۔ الغرض ہر قسم کی بےسروسامانی تھی۔ ادھر بدنامی کا خیال سب سے زیادہ غالب تھا۔ ایسی حالت میں انسان…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 26–27

[13] اس وقت کی شریعت میں بولنے اور کلام نہ کرنے کا بھی روزہ ہوتا تھا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 26–32

(ف 1) حضرت مریم (علیہ السلام) درد زہ کی وجہ سے بےقرار ہوگئیں ، اور جنگل کی طرف نکل کھڑی ہوئیں ، وہیں حضرت مسیح (علیہ السلام) تولد ہوئے ، اس طرح سے بچہ کی پیدائش بجائے خود حضرت مریم (علیہ السلام) کے لئے خوش آیندہ نہ تھی ، اس پر مزید یہ کھٹکا کہ لوگ کیا کہیں گے ، اور پھر بےسروسامانی کا یہ عالم کہ اپنے پاس کوئی موجود نہیں جو دلداری کرسکے ، اس لئے انسانی فطرت کی کمزوری سے انہوں نے اضطرار یہ کہا کہ (آیت) ” یلیتنی مت قبل ھذا وکنت نسیا منسیا “۔ تو بالکل بجا فرمایا حالات کا تقاضا یہی تھا کہ ان کے منہ سے اس قسم کے کلمات نکلیں ۔ اللہ تعالیٰ نے تسلی دی ، حضرت مریم (علیہ السلام) کو فرشتہ نے پکار کر کہا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-26 اے مریم (علیہ السلام) ! تو یہ کھجوریں کھا اور اس چشمہ کا پانی پیتی رہ اور اپنی آنکھیں ٹھنڈی رکھ پھر اگر تم آدمیوں سے کسی آدمی کو دیکھو تو اشارے سے کہہ دنیا کہ میں نے تو آج رحمٰن کے لئے خاموشی کے روزے کی منت مان لی ہے لہٰذا میں آج کسی انسان سے کلام نہیں کرں گی اور کوئی بات کسی سے نہیں کروں گی۔ یعنی کھانے پینے کا بھی انتظام کردیا گیا۔ آنکھیں ٹھنڈی کرنے کا مطلب یہ ہے کہ بچہ کو دیکھ کر آنکھیں ٹھنڈی کر بدنامی کا یہ علاج بتایا کہ کوئی آدمی آئے یا کوئی اعتراض کرے تو تم جواب نہ دینا تم تو صرف اتنا اشارہ کردینا کہ میں نے خاموشی کے روزے کی نذر کر رکھی ہے میں تو کسی آدمی سے بولوں گی نہیں اس قسم کا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 25–26

ف 2۔ یعنی بچہ کے دیکھنے سے اور کھانے پینے سے اور علامت قبول عنداللہ ہونے سے خوش رہو۔ 3۔ بس تم اتنا جواب دے کر بےفکر ہوجانا۔ اللہ تعالیٰ اس مولود مسعود کو خرق عادت کے طور پر بولتا کردے گا جس سے ظہور اعجاز دلیل نزہت و عصمت ہوجاوے گی، غرض ہر غم کا علاج ہوگیا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

سیدہ مریم (علیہ السلام) کے لئے تیسری ہدایت کے ایک دن کے لئے گفتگو بند کر دے : 26۔ فرستادہ الہی نے تیسری ہدایت سیدہ مریم (علیہ السلام) کو یہ دی کہ آپ کو سفر ہی میں اللہ تعالیٰ نے اس نعمت عظمی سے نواز دیا ۔ ظاہر ہے کہ یہاں آپ کی اتنی جان پہچان تو ہے نہیں ہر آنے والا خیال کرے گا کہ میں اصل حقیقت معلوم کروں کہ یہ لوگ کون ہیں ‘ کہاں سے آئے ہیں ‘ کیوں آئے ہیں ‘ ایسی کیا مجبوری تھی کہ ایسے نازک وقت میں گھر سے نکلے ؟ اس طرح کے بیسیوں سوالات ہیں اور بیسیوں آنے جانے والے عورتیں اور مرد بھی ہوسکتے ہیں اور وقت بھی نہایت خوشی کا ہے کہ اللہ نے ایسا خوبصورت بچہ عطا فرمایا کہ ہے کہ ہر ایک کا دیکھنے کو جی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

But in the matter of their actual use the order was reversed i.e. eating was enjoined first and then drinking. It is perhaps because normally a person first makes arrangement for drinking water and then for food, specially such food as is more likely to produce thirst. But when it comes to their use the sequence gets reversed i.e. one eats first and then drinks water. (Ruh ul-Ma ani).

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 26–27

18. That is, you need not say anything with regard to the child. It is now Our responsibility to answer the critics. This also indicates why Mary was so sad and grieved. Had she been married and given birth to her first baby like any other mother, there was no occasion to tell her to observe a fast of silence, though it was a common custom among the Jews.

Read the full tafseer →