Explained with ayahs 22–23
مریم (علیہا السلام) اور حضرت جبرائیل ؑ۔
مروی ہے کہ جب آپ فرمان الہٰی تسلیم کر چکیں اور اس کے آگے گردن جھکا دی تو حضرت جبرائیل ؑ نے ان کے کرتے کے گریبان میں پھونک ماری۔ جس سے انہیں بحکم رب حمل ٹھہر گیا اب تو سخت گبھرائیں اور یہ خیال کلیجہ مسوسنے لگا کہ میں لوگوں کو کیا منہ دکھاؤں گی ؟ لاکھ اپنی برات پیش کروں لیکن اس انوکھی بات کو کون مانے گا ؟ اسی گھبراہٹ میں آپ تھیں کسی سے یہ واقعہ بیان نہیں کیا تھا ہاں جب آپ اپنی خالہ حضرت زکریا (علیہا السلام) کی بیوی کے پاس گئیں تو وہ آپ سے معانقہ کرکے کہنے لگیں بچی اللہ کی قدرت سے اور تمہارے خالو کی دعا سے میں اس عمر میں حاملہ ہوگئی ہوں۔ آپ نے فرمایا خالہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
سورة مَرْیَم 17
ان الفاظ سے اس پریشان کا اندازہ کیا جاسکتا ہے جس میں حضرت مریم اس وقت مبتلا تھیں۔ موقع کی نزاکت ملحوظ رہے تو ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ ان کی زبان سے یہ الفاظ دردزہ کی تکلیف کی وجہ سے نہیں نکلے تھے، بلکہ یہ فکر ان کو کھائے جا رہی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے جس خطرناک آزمائش میں انہیں ڈالا ہے اس سے کس طرح بخیریت عہدہ برآ ہوں۔ حمل کو تو اب تک کسی نہ کسی طرح چھپا لیا۔ اب اس بچے کو کہاں لے جائیں۔ بعد کا یہ فقرہ فرشتے نے ان سے کہا " غم نہ کر " اس بات کو واضح کر رہا ہے کہ حضرت مریم نے یہ الفاظ کیوں کہے تھے۔ شادی شدہ لڑکی کے ہاں جب پہلا بچہ پیدا ہو رہا ہو تو چاہے تکلیف سے کتنی ہی تڑپے، اسے رنج…
Read the full tafseer →معارف مسائل
تمنائے موت کا حکم
یہ تمنّا موت اگر غم دنیا سے تھی تب تو غلبہ حال کو اس کا عذر کیا جاوے گا جس میں انسان من کُلّ الوجود مکلف نہیں رہتا اور اگر غم دین سے تھا کہ لوگ بدنام کریں گے اور شاید مجھے اس پر صبر نہ ہوسکے تو بےصبری کی معصیت میں ابتلا ہوگا، موت سے اس معصیت کی حفاظت رہے گی تو ایسی تمنّا ممنوع نہیں ہے اور اگر شبہ ہو کہ حضرت مریم کو جو کہا گیا کہ تم کہہ دینا کہ میں نے نذر کی ہے سو انہوں نے نذز تو نہ کی تھی، جواب یہ ہے کہ اسی سے یہ حکم بھی مفہوم ہوگیا کہ تم نذر بھی کرلینا اور اس کو ظاہر کردینا۔
سکوت کا روزہ شریعت قبل از اسلام یہ بھی عبادت میں داخل تھا کہ بولنے کا روزہ رکھے، صبح سے…
Read the full tafseer →فَأَجَاءَهَا الْمَخَاضُ إِلَى جِذْعِ النَّخْلَةِ قَالَتْ يَا لَيْتَنِي مِتُّ قَبْلَ هَذَا وَكُنْتُ نَسْيًا مَنْسِيًّا۔ " جذع " تنہ کو کہتے ہیں اور نخلہ پر الف لام اس بات کا قرینہ ہے کہ کھجور کا یہ درخت پہلے سے ان کے علم میں تھا۔ ممکن ہے اس ذہنی پریشانی کے عالم میں انہیں رویا کے ذریعے سے یہ غیبی اشارہ ہوا ہو کہ جب ولادت کا مرحلہ آئے تو وہ فلاں کھجور کے پاس چلی جائیں، وہاں ان کے لیے ضروری لوازم فراہم ہوں گے۔ چناچہ جب انہوں نے درد زہ کا احساس کیا تو اس بتائے ہوئے درخت کے نیچے چلی گئیں۔
حضرت مریم کے دلی احساسات کا ایک عکس : قَالَتْ يَا لَيْتَنِي مِتُّ قَبْلَ هَذَا وَكُنْتُ نَسْيًا مَنْسِيًّا۔ ذرا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
23۔ 1 موت کی آرزو اس ڈر سے کی کہ میں بچے کے مسئلے پر لوگوں کو کس طرح مطمئن کرسکوں گی، جب کہ میری بات کی کوئی تصدیق کرنے کے لئے تیار ہی نہیں ہوگا۔ اور یہ تصور بھی روح فرسا تھا کہ کہاں شہرت ایک عابدہ و زاہدہ کے طور پر ہے اور اس کے بعد لوگوں کی نظروں میں بدکار ٹھہروں گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
12: ایک پاکباز عورت کو کنوارے پن میں بچہ پیدا ہونے کے تصور سے جو بےچینی ہوسکتی ہے، وہ ظاہر ہے۔ اگرچہ عام حالات میں موت کی تمنا کرنا منع ہے، لیکن کسی دینی نقصان کے اندیشے سے ایسی تمنا منع نہیں۔ اور ایسا لگتا ہے کہ شدید بےچینی کے عالم میں حضرت مریم (علیہا السلام) کو فرشتے کی دی ہوئی بشارتوں کی طرف وقتی طور سے دھیان نہیں رہا۔ اس لیے بےساختہ یہ کلمات زبان سے نکلے۔
Read the full tafseer →یلیتنی مت قبل ھذا و کنت نسیا منسیاً (91 : 32) ” کاش میں اس سے پہلے ہی مر جاتی اور میرا نام و نشان ہی نہ رہتا۔ “ قرآن نے اس بات کو جن الفاظ میں بیان کیا ہے گویا ہم اس کے چہرے کے خدو خال دیکھ رہے ہیں ، اس کے دلی اضطراب کو گویا ہم محسوس کرسکتا ہے۔ رنج و الم جو ان کو ہے ہر شخص اسے حقیقی طور پر محسوس کرتا ہے۔ ایسے مواقع یہ تمنا جائز ہے کہ اس کا نام و نشان مٹ جائے۔ منسیاً وہ کپڑا جسے حیض کے خون کے لئے استعمال کیا جاتا ہے اور اس کے بعد پھینک دیا جاتا ہے اور بھلا دیا جاتا ہے (ایسی جگہ پھینک دیا جاتا ہے کہ کوئی دیکھ بھی نہ سکے۔ )
اس شدت رنج و الم میں اچانک ایک عظیم سرپرائز دیا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →5 یعنی دردزہ کی تکلیف سے ایک کھجور کی جڑ کا سہارا لینے کے لیے اس کے قریب جاپہنچی۔ اس وقت درد کی تکلیف، تنہائی و بیکسی، سامان ضرورت و راحت کا فقدان، اور سب سے بڑھ کر ایک مشہور پاکباز عفیفہ کو دینی حیثیت سے آئندہ بدنامی اور رسوائی کا تصور سخت بےچین کیے ہوئے تھا۔ حتی کہ اسی کرب و اضطراب کے غلبہ میں کہہ اٹھی (يٰلَيْتَنِيْ مِتُّ قَبْلَ ھٰذَا وَكُنْتُ نَسْيًا مَّنْسِيًّا) 19 ۔ مریم :23) (کاش میں اس وقت کے آنے سے پہلے ہی مرچکی ہوتی کہ دنیا میں میرا نام و نشان نہ رہتا اور کسی کو بھولے سے بھی یاد نہ آتی) شدت کرب و اضطراب میں گذشتہ بشارات بھی جو فرشتہ سے سنی تھیں یاد نہ آئیں۔
Read the full tafseer →آیت 23 فَاَجَآءَ ہَا الْمَخَاضُ اِلٰی جِذْعِ النَّخْلَۃِ
ولادت کے وقت جب درد زہ کی شدت بڑھی تو حضرت مریم نے سہارے کے لیے ایک کھجور کے تنے کو مضبوطی سے پکڑ لیا۔ یہ درد کی شدت کو برداشت کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ اگر عورت وضع حمل کے وقت کسی چیز کو مضبوطی سے تھام لے تو اس میں درد کو برداشت کرنے کی ہمت پیدا ہوجاتی ہے۔
قَالَتْ یٰلَیْتَنِیْ مِتُّ قَبْلَ ہٰذَا وَکُنْتُ نَسْیًا مَّنْسِیًّا
اللہ کی وہ بندی ممکنہ اندیشوں سے کانپ رہی تھی کہ اب میں اس بچے کا کیا کروں گی ؟ لوگوں کو کیا منہ دکھاؤں گی ؟ دنیا کیا کہے گی ؟ کاش یہ وقت آنے سے پہلے ہی مجھے موت آگئی ہوتی اور میری یاد تک لوگوں کے ذہنوں سے محو ہوچکی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
24 یعنی زچگی کے درد سے بےتاب ہو کر اٹھیں اور ایک کھجور کے تنے کا سہارا لیا۔ کیفیت یہ تھی ایک تو درد زہ کی شدت کی تکلیف، دوسرے تنہائی و بیکسی، تیسرے اشیائے خوردنی اور دیگر ضروریات کا فقدان۔ حتی ٰ کہ پانی تک موجود نہ تھا اور سب سے زیادہ پریشان کن بات آئندہ بدنامی اور رسوائی کا تصور تھا۔ اب سب باتوں سے آپ اس قدر پریشان ہوئیں کہ بےاختیار منہ سے یہ الفاظ نکل گئے۔ کاش میں آج سے پہلے ہی مرچکی ہوتی اور لوگوں کے حافظہ سے بھی اتر چکی ہوتی۔
جو حضرات معجزات کے منکر ہیں۔ وہ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کو قرآنی تصریحات کے علی الرغم فطری پیدائش قرار دیتے ہیں اور اس سلسلہ میں انھیں اناجیل کی روایات…
Read the full tafseer →33۔ (کہ اسی کے سہارے اٹھیں بیٹھیں) طلبا لسھولۃ الولادۃ للتثبت بھا (کبیر) کھجور شام و فلسطین میں اب بھی پیدا ہوتا ہے لیکن قدیم زمانہ میں تو بڑی کثرت سے ہوتا تھا۔ ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی، بعض نے کہا ہے کہ یہ درخت اسی وقت بطور خارق عادت اگا دیا گیا تھا، لیکن اس قول پر کوئی دلیل نہیں۔ اور غالب احتمال یہی ہے کہ پہلے سے موجود ہوگا۔ والظاھر ان النخلۃ کانت موجودۃ قبل مجیء مریم الیھا (بحر) دوسرے احتمالات بھی ممکن ہیں۔ یحتمل للتقویۃ والا ستناد الیھا (کبیر) ویحتمل للتستربھا (کبیر)
34۔ یعنی کسی کو میری یہ بدنامی یاد بھی نہ رہ گئی ہوتی کہ فلاں بےشوہری عورت کے اولاد ہوئی تھی۔ یہ کلمات آپ کی زبان پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–25
آیت نمبر 16 تا 25
ترجمہ : اور اے محمد ﷺ اس کتاب یعنی قرآن میں مریم کا یعنی ان کے واقعہ کا ذکر کیجئے جب کہ وہ اپنے اہل خانہ سے الگ ہو کر ایک ایسے مکان میں جو شرقی جانب تھا چلی گئیں یعنی دار (بیت المقدس) کے مشرقی جانب کسی جگہ تنہائی میں چلی گئیں اور اہل خانہ کی جانب سے پردہ ڈال لیا، یعنی پردہ لٹکا لیا تاکہ آڑ ہوسکے (اور) اپنے سریا کپڑوں میں جوں دیکھ سکے یا حیض سے طہارت کے لئے غسل کرسکے تو ہم نے اس کے پاس اپنی روح جبرئیل (علیہ السلام) کو بھیج دیا تو وہ ان کے سامنے کپڑے پہننے کے بعد مکمل مرد بن کر نمودار ہوا حضرت مریم کہنے لگیں کہ میں تجھ سے اپنے خدا کی پناہ طلب کرتی ہوں اگر تجھے کچھ بھی خوف خدا…
Read the full tafseer →فاجآء ہا المخاض الی جذع النخلۃ پھر درد زہ ان کو کھجور کے ایک درخت کی طرف لے آیا۔
اَجَاءَ (باب افعال کا ماضی) جَاءَ (ثلاثی مجرد) بہ زیادتی ہمزہ متعدی بنایا گیا ہے لیکن اس کا ترجمہ فقط لانا نہیں بلکہ مجبور کر کے زبردستی لانا ہے یعنی درد ولادت نے اس کو مجبور کیا اور مجبور کر کے اس کو ایک درخت کے تنا کی طرف لے آیا۔ مخاض مصدر ہے۔ مَخَضَتِ الْمَرْأْۃُعورت کے پیٹ کے اندر بچہ نے باہر نکلنے کے لئے حرکت کی ‘ مخاض کی طرف لانے کی نسبت بطور مجاز فی الاسناد ہے یعنی مخاض کے وقت اللہ اس کو لے آیا ‘ یہ مطلب ہے کہ مخاض کے سبب سے وہ آگئی درخت کے پاس۔ الی جذع النخلۃ درخت کے تنا کی طرف مریم آگئیں پردہ کرنے کی غرض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
(22۔ 23) چناچہ حضرت مریم ؑ حاملہ ہوگئیں اور ان کا حمل نو ماہ کا تھا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایک دن کا تھا چناچہ وہ اس کی پیدائش کے وقت دور دراز مقام پر لوگوں سے علیحدہ کسی جگہ پر چلی گئیں اور دردزہ کی شدت کی وجہ سے ایک خشک کھجور کے درخت کی آڑ لی اور گھبرا کر بولیں کہ کاش میں اس بچہ سے پہلے ہی یا اس دن سے پہلے ہی مرگئی ہوتی اور ایسی نیست ونابود ہوجاتی کہ کسی کو یاد بھی نہ رہتی۔
Read the full tafseer →فَاَجَاۗءَهَا الْمَخَاضُ۔۔ : ”جَاءَ یَجِيْءُ مَجِیْءًا“ کا معنی ہے آنا اور ”أَجَاءَ یُجِيْءُ“ (افعال) کا معنی ہے لانا، مگر اس کے مفہوم میں مجبور کرکے لانا پایا جاتا ہے۔ (زمحشری) ”الْمَخَاضُ“ عورت کو بچے کی پیدائش کے وقت ہونے والا درد، یعنی درد زِہ۔ ”مَخِضَتِ الْمَرْأَۃُ“ (ع) جب عورت کے ہاں پیدائش کا وقت قریب ہو۔ یہ ”مَخْضٌ“ سے ماخوذ ہے، جس کا معنی شدید حرکت ہے اور یہ نام رکھنے کی وجہ ولادت کے قریب ماں کے پیٹ میں بچے کا شدت سے حرکت کرنا ہے۔ یعنی درد زِہ کی شدت سے مجبور ہو کر وہ کھجور کے ایک تنے سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئیں اور آنے والے وقت کا تصور کرکے، جب ہر طرف سے برائی کی تہمت لگے گی، طعنے ملیں…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فاجآء ھا المخاض الی جذع النخلۃ، اجاء ھا کا معنی ہے اس نے اسے مجبور کرلیا (2) ۔ جاء کو ہمزہ کے ساتھ متعدی بنایا گیا ہے۔ کہا جاتا ہے : جاء بہ و أجاءہ الی موضع کذا، جیسے کہا جاتا ہے : ذھب بہ و انھبہ، شبیل، اور ویت نے عاصم سے فاجآاء ھا مفاجات سے مشتق کر کے پڑھا ہے۔ زہیر نے کہا :
و جار سار معتمداً الینا اجاء تہ المخافۃ و الرجاء
جمہور علماء نے المخاض میم کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ ابن کثیر سے مروی ہے کہ انہوں نے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ المخاض سے مراد دردزہ ہے۔ فخضت المرأت تمخض مخاضا و مخاضا۔ ناقۃ ماخض، ایسی اونٹنی جس کے بچے کی پیدائش قریب ہو۔ الی جذع النخلۃ، گویا اس نے ایسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–24
1:۔ عبدالرزاق، عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اذ انتبذت “ یعنی الگ ہوگئیں (آیت) ” من اھلھا مکانا شرقیا “ یعنی مشرق کی طرف دور علیحدہ جگہ۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اذانتبذت من اھلھا مکانا شرقیا “ یعنی ایسی جگہ آپ چلی گئی تھیں جہاں سورج کی دھوپ پڑرہی تھی ایسا نہ ہو کہ لوگوں میں سے کوئی اس کو دیکھ لے۔
3:۔ فریابی، ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نصاری نے مشرق کو قبلہ بنالیا کیونکہ مریم (علیہا السلام) نے اپنے گھروالوں سے دور مشرقی جانب ایک جگہ بنالی تھی انہوں نے ان…
Read the full tafseer →[فَاَجَاۗءَهَا : پھر لایا ان کو ] [الْمَخَاضُ : دردِ زِہ ] [اِلٰى جِذْعِ النَّخْلَةِ : کھجور کے تنے کی طرف ] [قَالَتْ : انھوں نے کہا ] [يٰلَيْتَنِيْ : اے کاش میں ] [مِتُّ : مرجاتی ] [قَبْلَ ھٰذَا : اس سے پہلے ] [وَكُنْتُ : اور میں ہوتی ] [نَسْيًا مَنْسِيًّا : ایک بھولی بسری چیز ]
م خ ض
[مَخَاضًا : (س) ] حاملہ کا درد زِہ میں مبتلا ہونا۔
مَخَاصٌ اسم ذات بھی ہے۔ درد زِہ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 23 ۔
ض ذ ع
[جَذْعًا : (ف) ] دو اونٹوں کو ایک رسی میں باندھنا۔
جِذْعٌ ج جُدُوْعٌ۔ درخت کا تنہ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 23 اور وَلَاْوصَلِّبَنَّکُمْ فِیْ جُدُوْعِ النَّخْلِ (اور میں لازماً پھانسی دوں گا تم لوگوں کو کھجور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
(فَنَادٰھَا مِنْ تَحْتِھَا) (سو جبریل نے حضرت مریم کو آواز دی جو اس جگہ سے نیچے کھڑے ہوئے تھے جہاں وہ اوپر کسی ٹیلے پر تھیں اور یوں کہاں (اَنْ لَّا تَحْزَنِیْ ) (کہ تو رنجیدہ نہ ہو) (کمافی الروح ص 82 ج 11)
(قَدْ جَعَلَ رَبُّکِ تَحْتَکِ سَرِیًّا) (تیرے رب نے تیرے نیچے ایک نہر بنا دی ہے) حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے وہاں اپنا پاؤں مار دیا جس کی وجہ سے میٹھے پانی کا چشمہ جاری ہوگیا اور ایک قول یہ ہے کہ وہاں پہلے سے خشک نہر تھی اللہ تعالیٰ نے اس میں پانی جاری فرما دیا اور وہیں ایک خشک کھجور کا درخت تھا اس میں پتے اور پھل آگئے اور اسی وقت پک گئے۔ (معالم التنزیل ص 193…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–33
قال اللٰہ تعالیٰ ۔ واذکر فی الکتٰب مریم۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ و یوم اموت ویوم ابعث حیا۔
(ربط) حق تعالیٰ نے گزشتہ رکوع میں حضرت زکریا (علیہ السلام) کا قصہ بیان فرمایا کہ بحالت پیری ایک پیر ناتواں اور ایک بانجھ اور بوڑھی بیوی سے بلا سبب ظاہری ایک مبارک فرزند یعنی یحییٰ (علیہ السلام) کا تولد ہوا۔ اب اس سے زیادہ عجیب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت کا قصہ بیان کرتے ہیں۔ اس لیے کہ بوڑھے مرد اور بانجھ عورت سے بچہ پیدا ہونا اگرچہ عجیب ہے۔ مگر والدین سے بچہ کا پیدا ہونا عادۃ قریب الی العقل ہے اور بغیر باپ کے محض ماں سے بچہ پیدا ہونا بہت ہی عجیب و غریب ہے جو اللہ کی کمال قدرت پر دلالت کرتا ہے کہ خدائے تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
17:۔ حضرت جبریل (علیہ السلام) نے حضرت مریم کے گریبان میں پھونک مارا جس سے وہ فوراً حاملہ ہوگئیں۔ ” فانتبذت بہ “ اور اس کے بعد ” فاجاءھا المخاض “ یعنی وہ اس کے فوراً بعد ایک دور جگہ چلی گئی اور پھر فورا درد زہ ایک کھجور کے سایہ میں لے آیا۔ ان پر فاء کا دخول جو تراخی بلا مہلت پر دلالت کرتی ہے اس سے بعض لوگوں نے استدلال کیا ہے کہ حمل کے فورا بعد بچے کی پیدائش ہوگئی تھی اور مدت حمل لمبی نہیں ہوئی (قرطبی ج 11 ص 92) ۔ لیکن حضرت عبداللہ بن عباس اور دیگر مفسرین کا قول ہے کہ مدت حمل ممتد تھی۔ جس طرح عام عورتوں کی ہوتی ہے۔ حضرت ابن عباس سے نوماہ، عطا، ابو العالیہ اور ضحاک سے سات ماہ اور بعض سے ماہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–26
ربط آیات :
پہلے حضرت مریم (علیہ السلام) کی ولادت کا ذکر ہوا ، پھر جب وہ جوان ہوگئیں ، تو اللہ کی طرف سے فرشتہ انسانی شکل میں متمثل ہو کر تنہائی میں ان کے سامنے آگیا ، حضرت مریم (علیہ السلام) کو بڑا استعجاب ہوا اور انہوں نے خدا تعالیٰ کی پناہ طلب کی ، فرشتے نے کہا کہ میں تیرے پروردگار کا فرستادہ ہوں اور تجھے ایک بچہ عطا کرنا چاہتا ہوں ، اس پر حضرت مریم (علیہ السلام) کو مزید تعجب ہوا کہ نہ تو ان کا نکاح ہوا ہے اور نہ ہی مقاربت ، وہ بدکار بھی نہیں ہیں ، تو پھر بچہ کیسے ہوگا ، اللہ تعالیٰ کے فرشتے نے کہا کہ بچہ پیدا کرنا تیرے پروردگار کے لیے نہایت آسان ہے ، وہ قادر مطلق ہے اور ہر چیز کام کرنے پر…
Read the full tafseer →فَاَجَاۗءَہَا الْمَخَاضُ اِلٰى جِذْعِ النَّخْلَۃِ 0ۚ قَالَتْ يٰلَيْتَنِيْ مِتُّ قَبْلَ ھٰذَا وَكُنْتُ نَسْـيًا مَّنْسِـيًّا 23
جاء
جاء يجيء ومَجِيئا، والمجیء کالإتيان، لکن المجیء أعمّ ، لأنّ الإتيان مجیء بسهولة، والإتيان قد يقال باعتبار القصد وإن لم يكن منه الحصول، والمجیء يقال اعتبارا بالحصول، ويقال «1» : جاء في الأعيان والمعاني، ولما يكون مجيئه بذاته وبأمره، ولمن قصد مکانا أو عملا أو زمانا، قال اللہ عزّ وجلّ : وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] ،
( ج ی ء ) جاء ( ض )
جاء يجيء و مجيئا والمجیء کالاتیانکے ہم معنی ہے جس کے معنی آنا کے ہیں لیکن مجی کا لفظ اتیان سے زیادہ عام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–23
1 ؎ یعنی مریم کو بغیر باپ کے بچہ دینے میں اظہار قدرت کاملہ اور لوگوں پر رحمت مقصود تھی رحمت اس لیے کہ ماں ہی کا اثر مولود میں ظاہر ہو اور عورت کی ذات میں قدرت نے نرمی اور شفقت رکھی ہے حضرت موسیٰ کے جلال کے بعد جن کے عہد میں بنی اسرائیل پر سخت سخت احکام فرض ہوئے ایک ایسا ہی رحم دل اور نرم نبی مبعوث کرنا عین حکمت تھا تاکہ بنی اسرائیل کو ان سخت احکام سے سبکدوش کرے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →فَاَجَآئَ ھَالْمَخَاضُ اِلٰی جِذْعِ النَّخْلَۃِ ج قَالَتْ یٰـلَیْتَنِیْ مِتُّ قَبْلَ ھٰذَا وَکُنْتُ نَسْیًا مَّنْسِیًّا۔ (مریم : 23)
(پس لے آیا اس کو درد زِہ کھجور کے تنے کے پاس، اس وقت اس نے کہا کاش میں اس سے پہلے مرچکی ہوتی اور میں بھولی بسری ہوچکی ہوتی۔ )
اَجَائَ ، جَاَئَ پر ہمزہ کا اضافہ کرکے متعدی بنادیا گیا ہے۔ اب اس کا معنی ” آیا “ کی بجائے ” لایا “ ہوگا۔
مَخَاضُ … مصدر ہے وَجْعُ الْوِلاَدَۃِ دردِزِہ کو کہتے ہیں۔ جب بچہ باہر نکلنے کے لیے شکم میں حرکت کرنے لگے تو عرب کہتے ہیں مَحَضَتِ الْمَرْئَ ۃُ (مظہری)
جب حمل کا وقت پورا ہوگیا اور وضع کا درد شروع ہوگیا تو آپ ایک کھجور کے تنے کی اوٹ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–26
فہم القرآن
ربط کلام : فرشتے نے حضرت مریم [ کے جسم پر پھونک ماری جس سے وہ حاملہ ہوگئیں۔
اٹھائیسویں پارہ سورة التحریم کی آخری آیت میں جبرائیل امین (علیہ السلام) کی پھونک کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف منسوب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے عمران کی بیٹی مریم [ جس نے اپنی شرم و حیاء کی حفاظت فرمائی۔ ہم نے اس میں اپنی روح پھونک دی۔
جبرئیل امین کی پھونک کے ساتھ وہ حاملہ ہوگئیں تو اس حالت میں مسجد اقصیٰ سے دور ایک مکان میں جا ٹھہریں۔ جب اسے زچگی کی تکلیف محسوس ہوئی تو وہ ایک کھجور کے تنے کے قریب آئیں۔ تکلیف اور ولادت کی وجہ سے بےساختہ کہنے لگی ہائے کاش ! میں اس سے پہلے مرچکی ہوتی اور لوگوں کے ذہن میں بھولی…
Read the full tafseer →23: فَاَجَآ ئَ ھَا الْمَخَاضُ (پس دردزہ ان کو لے آیا) لے آیا یا ان کو مجبور کیا۔ یہ جاء سے منقول ہو کر آیا البتہ اس کا استعمال اِلْجَاء کے معنی کی طرف منتقل ہونے سے بدل گیا۔ کیا تم دیکھتے نہیں کہ اس طرح نہیں کہتے۔ جئت المکان، اجاء فیہ زیدٌ المخاص دردزہ۔ اِلٰی جِذْعِ النَّخْلَۃِ (کھجور کے تنے کی طرف) کھجور کی جڑ کی طرف اور یہ درخت خشک تھا۔ اور یہ موسم سردی کا تھا۔ النخلۃ کو معرفہ لا کر ظاہر کیا۔ کہ یہ کھجور کا معروف درخت تھا۔ نمبر 2۔ اور یہ بھی درست ہے کہ تعریف جنس کو ظاہر کرنے کیلئے ہو۔ یعنی جذع ھذہ الشَّجَرَۃ اس درخت کے تنے کی طرف گویا کہ اللہ تعالیٰ نے کھجور کی طرف اس کی راہنمائی کی تاکہ وہ…
Read the full tafseer →تفسیر۔
23۔ فاجاء ھا، ، درد ولادت نے ان کو مجبور کیا اور ان کو لے آیا۔ المخاض، ولادت کا درد، الی جذع النخلہ، یہ کھجور کا درخت صحرا میں سخت گرمی کی وجہ سے خشک کھڑا تھا اور اس پر کوئی پتہ وغیرہ نہ تھا کہ جس سے سایہ حاصل کرسکیں اور بعض نے کہا کہ درد ا کو لے آیا۔ درخت کے ایک تنے کی طرف تاکہ وہ اس کے ساتھ سہارا بھی لگائیں اور اس سے پردہ بھی کریں۔ قالت یالیتنی مت قبل ھذا، وہ موت کی تمنا کرنے لگیں لوگوں سے حیا کرنے کی وجہ سے اور رسوائی کے خوف سے، وکنت نسیا، حمزہ اور حفص نے (نسیا) نون کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے ۔ دوسرے قراء نے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس میں دونوں لغتیں جیسے وتر، اور وتر، جسر، جسر، وہ چیز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–26
22۔ 26:۔ صحیح بخاری میں عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : مرد اور عورت کا نطفہ چالیس روز تک عورت کے رحم میں رہ کر جما ہوا خون ہوجاتا ہے پھر اس خون کا گوشت بن جاتا ہے اور اس گوشت سے ہڈیاں بن کر ان ہڈیوں پر گوشت کا غلاف چڑھ جاتا ہے اس طرح ساڑھے چار مہینے میں یہ سب کچھ ہو کر بچہ کا پتلا تیار ہوجاتا ہے اور پھر اس پتلہ میں روح پھونک دی جاتی ہے 1 ؎۔ یہ تو سب عورتوں کے حمل کی حالت ہوئی حضرت مریم کے حمل میں یہ بات نہیں ہوئی کہ بجائے مرد اور عورت کے نطفہ کے فقط عورت کے نطفہ سے کلمہ کن کے موافق پتلہ تیار ہوا اور پتلہ سے اس روح کا تعلق ہوگیا جو روح جبرئیل (علیہ السلام) نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–26
آیت 22
جب حضرت مریم علیھا السلام کو حمل ٹھہر گیا تو وہ فضیحت اور رسوائی کے خوف سے لوگوں سے دور چلی گئیں (مکانا قصیا) ” دور جگہ “ جب بچہ جننے کا وقت قریب آیا تو زچگی کی تکلیف نے ان کو کھجور کے نیچے پناہ لینے پر مجبور کردیا۔
جب حضرت مریم علیھا السلام کو زچگی کی تکلیف برداشت کرنا پڑی، کھانے پینے کی عدم موجودگی کی تکلیف کا اسمنا کرنا پڑا اور سب سے بڑی بات یہ کہ لوگوں کی تکلیف دہ باتوں اور طعنوں سے دلی صدمہ پہنچا اور انہیں خوف ہوا کہ کہیں صبر کا دامن ان کے ہاتھ سے نہ چھوٹ جائے۔۔۔. تو انہوں نے تمنا کی کہ کاش وہ اس حادثہ سے پہلے ہی مرگئی ہوتیں، ان کو بھلا دیا جاتا اور ان کا کہیں تذکرہ تک نہ ہوتا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–30
موت کی تمنا جائز نہیں
قول باری ہے (قالت یلیتنی مت قبل ھذا وکتت نسیاً منسیاً وہ کہنے لگی۔ کاش میں اس سے پہلے ہی مرجاتی اور میرا نام و نشان نہ رہتا۔ “) کچھ حضرات کا قول ہے کہ حضرت مریم نے موت کی اس لئے تمنا کی تھی کہ جنسی ملاپ کے بغیر بچے کو جنم دینے کی حالت پر پہنچ گئی تھیں۔ لیکن یہ بات غلط ہے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس حالت میں مبتلا کر کے ان کی آزمائش کی تھی اور وہ اس کے اس فیصلے پر راضی تھیں اور اللہ کی فرماں برداری پر کمربستہ تھیں۔ اللہ تعالیٰ کے فیصلوں پر اظہار ناپسندیدگی معصیت ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے صرف وہی فعل و قوع پذیر ہوتا ہے جو حکمت اور صواب پر مبنی ہوتا ہے۔ اس…
Read the full tafseer →30 حضرت مریم کی طرف سے اظہار افسوس : سو حضرت مریم صدیقہ کے ان کلمات سے انتہائی حسرت اور ندامت کا اظہار ہوتا ہے کہ " میں مرگئی ہوتی " اور مجھے یہ دن نہ دیکھنا پڑتا جو میرے لئے فضیحت و رسوائی کا باعث بنے گا۔ حضرت مریم صدیقہ ۔ سلام اللہ علہیا ۔ اپنے فطری شرم و حیا کے غلبے کی وجہ سے اس موقع پر فرشتہ کی بشارت و خوشخبری کو بھی بھول گئیں اور ان درد بھرے الفاظ سے اپنی اندرونی کیفیت کا اس طرح اظہار فرمایا جو کہ آپ کی عفت و پاک دامنی اور شرم و حیا کے کمال کی نشانی اور ثبوت ہے۔ سو یہاں سے دو اہم اور بنیادی باتوں پر بھی روشنی پڑتی ہے۔ ایک یہ کہ یہود کس قدر خبیث اور کتنی بدباطن قوم ہے جس کو حضرت مریم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–34
سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش اور بچپن کی گفتگو
تشریح : سیدہ مریم کا پورا واقعہ سورة آل عمران میں بڑی وضاحت سے گزر چکا ہے کہ آپ کی والدہ نے آپ کو بیت المقدس میں عبادت کے لیے بٹھا دیا تھا۔ یہ محراب شرقی حصہ میں واقعہ تھی، جہاں آپ نے ایک پردہ ڈال کر اپنے آپ کو لوگوں کی نظروں سے چھپا رکھا تھا۔ سیدنا یحییٰ (علیہ السلام) کے ساتھ ہی سیدہ مریم (علیہا السلام) کا ذکر کیا گیا ہے۔ سیدنا یحییٰ (علیہ السلام) کی پیدائش بھی اللہ کی قدرت کی کامل نشانی ہے اور سیدنا مریم (علیہا السلام) کا انتہائی پاکدامن اور نیک ہونے کے باوجود بغیر کسی مرد کے ملے (نکاح وغیرہ) بیٹا پیدا کرنا بھی اللہ کی بہت بڑی نشانیوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–41
(رکوع نمبر 2)
اسرارومعارف
اور اے حبیب ﷺ اس سے عجیب تر اور فکر انگیز واقعہ ایسی کتاب اللہ میں سنا دیجئے جو حضرت مریم (علیہا السلام) کا ہے اور جس کے متعلق یہود اور نصاری نے اپنے اپنے نظریات گھڑ رکھے ہیں کہ اس کی حقیقی اور واقعی صورت کیا ہے یہ بات تب شروع ہوتی ہے جب حضرت مریم (علیہا السلام) اپنے گھر والوں سے الگ ہو کر غسل وغیرہ کرنے کے لیے پردہ میں چلی گئیں تو وہاں ان کے پاس حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو بھیجا جس نے انسانی شکل میں ظاہر ہو کر ان سے بات کرنا چاہی ، یاد رہے حضرت مریم (علیہا السلام) کا ذکر آل عمران میں گذر چکا ہے ۔
(اولیاء اللہ سے فرشتہ کا ہمکلام ہونا)
کہ ان کی والدہ نے منت مانی تھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
ف 11 سریا کے معنی بعض مفسرین نے بیان کئے ہیں جمہور مفسرین نے اس کے معنی چھوٹی نہر “ یا ” چشمہ رواں “ کئے ہیں اور موقع و محل کی مناسبت سے یہی زیادہ موزوں ہیں۔ یوں لغت کے اعتبار سے دونوں کی گنجائش ہے۔ (ابن کثیر شوکانی)
Read the full tafseer →(19:23) فاجاء ھا۔ پس وہ لے آیا اس کو۔ اجاء ماضی واحد مذکر غائب ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب۔ اجاء ۃ سے جس کے معنی لانے اور آنے پر مجبور کرنے کے ہیں۔ ج۔ ی۔ ء مادہ ۔
المخاض۔ مخض یمخض مخاض ومخاض۔ حاملہ کا دروزاہ میں مبتلاہونا۔ المخاض۔ دروازہ۔ جذع۔ تنا۔ ٹہنا۔ شاخ۔ جذوع جمع شاخیں۔ مت۔ ماضی واحد متکلم موتمصدر۔ میں مرگئی ہوتی۔ یہ ابواب ضرب، سمع، نصر ہر سہ میں مستعمل ہے۔
مت۔ یا تو باب ضرب سے ہے ای مات یمیت جیسے جاء یجییء یا باب سمع سے ہے مات یماتجی سے خاف یخاف۔ موت ۔ اجوف واوی ہے۔ اجوف میں جو وائو اور ی متحرک ہو اور ماقبل اس کا مفتوح ہو تو وہ واو۔ ی۔ الف سے بدل جائے گی یعنی خوف خافہوجائے گا اور موت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–36
لغات القرآن آیت نمبر 22 تا 36
انتبذت (انتباذ) الگ ہوگئی، جدا ہوگئی
قصی دور کا فاصلہ۔ المخاض زچگی کا درد۔ دردزہ۔ جزع جڑ۔ نسیا منسیا بھولی بسری چیز۔ بےنام و نشان ہوجانا۔ سری پانی کا چشمہ۔ ھزی ہلالی۔ جھکادے۔ تساقط گرائی گی۔ رطب ترو تازہ۔ جنی پکا ہوا پھل۔ قری عین آنکھیں ٹھنڈی رکھ۔ ترین تو دیکھے۔ نذرت میں نے منت مان رکھی ہے۔ تحملہ وہ اس کو اٹھا لائے۔ فری (افترائ) عجیب اور نرالی بات۔ المھد گود۔ صبی بچہ۔ اوصنی مجھے حکم دیا۔ مادمت حیا جب تک میں زندہ ہوں۔ شقی بدنصیب، بدنصیب، بدقسمت۔ یمترون وہ شک کرتے ہیں۔
تشریح : آیت نمبر 22 تا 36
حضرت مریم نے جب سے ہوش سنبھالا تھا اس وقت سے وہ اللہ تعالیٰ کے ذکر میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–26
اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ سب عورتوں کی حمل کی جو حالت ہوتی ہے، وہ حضرت مریم کے حمل کی نہیں تھی۔ اور یہ بات نئی ہوئی کہ بجائے مرد اور عورت کے نطفہ کے فقط عورت کے نطفہ سے کلمہ کن کے موافق پتلا تیار ہوا، اور پتلے سے اس روح کا تعلق ہوگیا۔ جو روح جبرئیل (علیہ السلام) نے حضرت مریم کے جسم میں پھونک دی تھی۔ پس وہ اس حمل کو دیکھ کر ایک دور مکان میں جا بیٹھیں اور جس وقت ان کو درد زہ شروع ہوا وہ ایک کھجور کے درخت کے نیچے گئیں۔ اس مقام پر نہ تو پانی تھا، نہ کوئی دائی تھی، نہ کوئی کھانے کی شے، اور نہ کوئی پینے کی۔ الغرض ہر قسم کی بےسروسامانی تھی۔ ادھر بدنامی کا خیال سب سے زیادہ غالب تھا۔ ایسی حالت میں انسان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–23
[10] یعنی مرد کے چھوئے بغیر لڑکا ہوگا۔
[11] یعنی زندہ معجزہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
بغیر باپ تولید کے امکانات :
(ف 1) اللہ تعالیٰ کو جب یہ منظور ہوا کہ مسیح (علیہ السلام) کو بطور خرق عادت کے پیدا کرے تو پہلے حضرت مریم (علیہ السلام) کو اس کی اطلاع دی اس کو یقین دلایا ، کہ تو لوگوں کے اعتراضات کا ہدف بنے گی ، اور پھر قدرت کا اظہار فرمایا ،
فحملتہ : سے مراد طبعی مدت حمل سے جیسا کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے ، یہ ہو سکتا ہے کہ حضرت مریم (علیہ السلام) میں بیک وقت اللہ تعالیٰ نے افعل وانفعال کی قوتیں پہناں رکھی ہوں ، اس قسم کی مثالیں آج کل تو بکثرت مل رہی ہیں کہ بہت سے نوجوان مرد عورت بن گئے اور بتہ ہی شادی شدہ عورتیں مردوں کی صورت میں تبدیل ہوگئیں ، یہ نظریہ استحالہ شخصیت اس…
Read the full tafseer →-23 پھر حضرت مریم (علیہ السلام) کو دردزہ کی تکلیف کھجور کے ایک تنے کے پاس لے آئی درخت کے سہارے بیٹھ کر کہنے لگی اے کاش ! میں اس واقعہ سے پہلے ہی مرگئی ہوتی اور ایسی نیست و نابود ہوجاتی کہ کسی کو یاد بھی نہ رہی ہوتی۔ یعنی جنگل میں دردزہ کی تکلیف پھر کوئی ہمدم پاس نہیں۔ ضرورت اور راحت کا سامان مفقود بدنامی اور بری شہرت کا خیال ان باتوں سے گھبرا کر ایک کھجور کے سوکھے ہوئے درخت سے کمر لگا کر بیٹھ گئی اور کہنے لگی میں اس حالت سے پہلے مرجاتی اور بھولی بسری ہوجاتی۔ یعنی دنیا میں کوئی میرا نام لینے والا ہی نہ ہوتا اور میں بالکل نیست و نابود ہوچکی ہوتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–23
ف 7۔ تاکہ اس کے سہارے بیٹھیں اٹھیں۔
Read the full tafseer →سیدہ مریم (علیہ السلام) کو دردزہ کا آنا اور اس سے اضطراب واضطرار کا ہونا :
23۔ بیت لحم کو جانے والے ابھی راستہ ہی میں تھے یا وہاں سے فارغ ہو کر واپس آرہے تھے یا وہی کسی مقام پر تھے کہ سیدہ مریم (علیہ السلام) کو درد زہ نے آلیا جو عورتوں کو بچہ وضع ہونے سے تھوڑی دیر قبل شروع ہوجاتا ہے ، یہ حالت نہایت ہی اضطراب واضطرار کی ہوتی ہے پھر ایسے موقع پر کوئی عورت اپنے گھر پر بھی موجود نہ ہو بلکہ کسی راستہ کی ایک مسافر ہو اور ایسا وقت آجائے تو دل وجان میں کیا گزرتی ہے اس کا اندازہ ایک عورت ہی لگا سکتی ہے مراد اس سے آشنا ہی نہیں ۔
یہ نازک حالت جس مقام پر ہوئی اس کی قرآن کریم نے ” ایک کھجور کا درخت “ کہہ…
Read the full tafseer →Commentary
Injunction in respect of desire for death
If her desire for death was due to worldly problems then she may be excused on the ground that she was overpowered by the surrounding circumstances and had reached a state of mind usually called by the mystics as غلبۃ الحال "Ghalabah-tul-Hal." But if the desire for death was due to religious consideration, it was justifiable in its own right, because she feared that people would talk ill of her and she would not be able to endure it with patience. This could be tantamount to committing a sin of showing impatience and only death could save…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
17. The words“Would that...”show the extreme state of anxiety in which Mary found herself at the time. She did not utter these words on account of the labor pains but due to the pangs of sorrow as to how she would conceal the child from her people. The angel’s words, grieve not at all explain why she had spoken these desperate words. When a married girl is delivering her first baby, she might be dying with pains, but she is never so sorrowful and grieved.
Read the full tafseer →