Explained with ayahs 24–26
مریم (علیہا السلام) اور معجزات۔
(من تحتہا) کی دوسری قرأت من تحتھا بھی ہے یہ خطاب کرنے والے حضرت جبرائیل ؑ تھے۔ حضرت عیسیٰ ؑ کا تو پہلا کلام وہی تھا جو آپ نے اپنی والدہ کی برات و پاکدامنی میں لوگوں کے سامنے کیا تھا۔ اس وادی کے نیچے کے کنارے سے اس گھبراہٹ اور پریشانی کے عالم میں حضرت جبرائیل ؑ نے یہ تشفی دی تھی۔ یہ قول بھی کہا گیا ہے کہ یہ بات حضرت عیسیٰ ؑ نے ہی کہی تھی۔ آواز آئی کہ غمگین نہ ہو تیرے قدموں تلے تیرے رب نے صاف شفاف شیریں پانی کا چشمہ جاری کردیا ہے یہ پانی تم پی لو۔ ایک قول یہ ہے کہ اس چشمے سے مراد خود حضرت عیسیٰ ؑ ہیں۔ لیکن پہلا قول زیادہ ظاہر ہے۔ چناچہ اس پانی کے ذکر کے بعد ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
سورة مَرْیَم 17
ان الفاظ سے اس پریشان کا اندازہ کیا جاسکتا ہے جس میں حضرت مریم اس وقت مبتلا تھیں۔ موقع کی نزاکت ملحوظ رہے تو ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ ان کی زبان سے یہ الفاظ دردزہ کی تکلیف کی وجہ سے نہیں نکلے تھے، بلکہ یہ فکر ان کو کھائے جا رہی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے جس خطرناک آزمائش میں انہیں ڈالا ہے اس سے کس طرح بخیریت عہدہ برآ ہوں۔ حمل کو تو اب تک کسی نہ کسی طرح چھپا لیا۔ اب اس بچے کو کہاں لے جائیں۔ بعد کا یہ فقرہ فرشتے نے ان سے کہا " غم نہ کر " اس بات کو واضح کر رہا ہے کہ حضرت مریم نے یہ الفاظ کیوں کہے تھے۔ شادی شدہ لڑکی کے ہاں جب پہلا بچہ پیدا ہو رہا ہو تو چاہے تکلیف سے کتنی ہی تڑپے، اسے رنج…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
سَرِيًّالفظ سری کے لغوی معنی چھوٹی نہر کے ہیں۔ اس موقع پر حق تعالیٰ نے ایک چھوٹی نہر اپنی قدرت سے بلا واسطہ جاری فرمادی یا جبرئیل کے ذریعہ چشمہ جاری کرادیا، دونوں طرح کی روایتیں ہیں۔ یہاں یہ امر قابل لحاظ ہے کہ حضرت مریم کی تسلی کے اسباب ذکر کرنے کے وقت تو پہلے پانی کا ذکر فرمایا پھر کھانے کی چیز کھجور کا، اور جب استعمال کا ذکر آیا تو ترتیب بدل کر پہلے کھانے کا حکم فرمایا پھر پانی پینے کا۔
Read the full tafseer →فَنَادَاهَا مِنْ تَحْتِهَا أَلا تَحْزَنِي قَدْ جَعَلَ رَبُّكِ تَحْتَكِ سَرِيًّا۔ قرینہ دلیل ہے کہ نادی کا فاعل فرشتہ ہے اور من تحتہا میں ضمیر کا مرجع نخلۃ ہے۔ سری چھوٹے چشمہ کو کہتے ہیں۔
امتحان میں کامیاب ہوجانے کے بعد حضرت مریم کو بشارت : حضرت مریم کا غم اس حد کو پہنچ گیا جس کا اظہار اوپر والی آیت سے ہورہا ہے لیکن اس کے باوجود نہ تو اپنے رب کے سوا کسی اور سے انہوں نے شکوہ کیا اور نہ مایوس ہو کر کوئی غلط قدم اٹھایا۔ اللہ تعالیٰ کو بس یہی امتحان کرنا منظور تھا۔ اس امتحان میں کامیاب ہوجانے کے بعد دفعۃ خدائے رحمان و رحیم کی رحمت مسکراتی ہوئی اس گوشہ سے نمودار ہوئی جس گوشہ سے اس کا وہم و گمان بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
25۔ 1 سَرِبّاَ چھوٹی نہر یا پانی کا چشمہ۔ یعنی بطور کرامت اور خلاف قانون قدرت، اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم کے پاؤں تلے پینے کے لئے پانی کا اور کھانے کے لئے ایک سوکھے ہوئے درخت میں پکی ہوئے تازہ کھجوروں کا انتطام کردیا۔ آواز دینے والے حضرت جبرائیل ؑ تھے، جنہوں نے وادی کے نیچے سے آواز دی اور کہا جاتا ہے کہ سَرِیّ بمعنی سردار ہے اور اس سے مراد عیسیٰ ؑ ہیں اور انہی نے حضرت مریم کو نیچے سے آواز دی تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
12: ایک پاکباز عورت کو کنوارے پن میں بچہ پیدا ہونے کے تصور سے جو بےچینی ہوسکتی ہے، وہ ظاہر ہے۔ اگرچہ عام حالات میں موت کی تمنا کرنا منع ہے، لیکن کسی دینی نقصان کے اندیشے سے ایسی تمنا منع نہیں۔ اور ایسا لگتا ہے کہ شدید بےچینی کے عالم میں حضرت مریم (علیہا السلام) کو فرشتے کی دی ہوئی بشارتوں کی طرف وقتی طور سے دھیان نہیں رہا۔ اس لیے بےساختہ یہ کلمات زبان سے نکلے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
یا اللہ ، یہ کیسا بچہ ہے ، ابھی تو پیدا ہوا ہے ، زمین پر پڑا ہے اور وہ باتیں کر رہا ہے۔ اب مریم کو خوشی کے ساتھ سکون حاصل ہوگیا۔ اب وہ اپنے رب سے واصل ہیں۔ ان کے کھانے اور پینے کا بندوبست بھی کردیا گیا ہے ، عجیب انداز میں اور ان کو اس معجزانہ ولات کی دلیل اور جواز بھی سمجھا دیا گیا ہے۔
اے ماں تو پریشان نہ ہو۔ قد جعل ربک تحتک سریاً (91 : 32) ” تیرے رب نے تیرے نیچے ایک چشمہ رواں کردیا ہے۔ “ وہ تمہیں بھولا نہیں اور نہ تمہیں بےسہارا چھوڑ دیا ہے ، بلکہ اس نے تمہارے لئے تمہارے قدموں کے نیچے ایک چشمہ جاری نکال دیا ہے۔ رجح بات یہ ہے کہ ایک لحظہ میں یہ چشمہ معجزانہ طور پر پھوٹ پڑا۔ زمین سے یا پانی کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
6 وہ مقام جہاں حضرت مریم (علیہا السلام) کھجور کے نیچے تشریف رکھتی تھیں قدرے بلند تھا، اس کے نیچے سے پھر اسی فرشتہ کی آواز سنائی دی کہ غمگین و پریشان مت ہو، خدا کی قدرت سے ہر قسم کا ظاہری و باطنی اطمینان حاصل کر۔ نیچے کی طرف دیکھ، اللّٰہ تعالیٰ نے کیسا چشمہ یا نہر جاری کردی ہے۔ یہ تو پینے کے لیے ہوا، کھانے کے لیے اسی کھجور کو ہلاؤ، پکی اور تازہ کھجوریں ٹوٹ کر گریں گی۔ (تنبیہ) بعض سلف نے " سری " کے معنی " عظیم الشان سردار " کے لیے ہیں۔ یعنی خدا تعالیٰ تجھ سے ایک بڑا سردار پیدا کرنے والا ہے۔ جنہوں نے " سری " کے معنی چشمہ یا نہر کے لیے ظاہر یہ ہے کہ وہ چشمہ بطور خرق عادت نکالا گیا اور کھجوریں بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
آیت 24 فَنَادٰٹہَا مِنْ تَحْتِہَآ
یہاں عام مفسرین کا خیال یہ ہے کہ جس فرشتے نے پہلے بشارت دی تھی اسی نے اب بھی انہیں آواز دی۔ مِنْ تَحْتِہَآ کا مفہوم یہی لیا گیا ہے کہ اس وقت حضرت مریم نسبتاً بلند جگہ پر ہوں گی اور وہ فرشتہ ذرا نشیب میں ہوگا۔ ویسے بھی وضع حمل کے موقع پر فرشتے کا آپ کے بالکل قریب رہنامناسب نہیں تھا۔ لیکن مِنْ تَحْتِہَا کی ایک قراءت مَنْ تَحْتَہَآ بھی ہے ‘ یعنی اسے پکارا اس نے جو اس کے نیچے تھا۔ اس ترجمے کے مطابق مفہوم یہ ہوگا کہ ولادت کے فوراً بعد بچہ بول پڑا اور میں یہاں اسی مفہوم کو ترجیح دیتا ہوں۔ اس لیے کہ اگر اس وقت بچے نے کلام نہ کیا ہوتا تو حضرت مریم کو کیسے یقین آتا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
24 یعنی زچگی کے درد سے بےتاب ہو کر اٹھیں اور ایک کھجور کے تنے کا سہارا لیا۔ کیفیت یہ تھی ایک تو درد زہ کی شدت کی تکلیف، دوسرے تنہائی و بیکسی، تیسرے اشیائے خوردنی اور دیگر ضروریات کا فقدان۔ حتی ٰ کہ پانی تک موجود نہ تھا اور سب سے زیادہ پریشان کن بات آئندہ بدنامی اور رسوائی کا تصور تھا۔ اب سب باتوں سے آپ اس قدر پریشان ہوئیں کہ بےاختیار منہ سے یہ الفاظ نکل گئے۔ کاش میں آج سے پہلے ہی مرچکی ہوتی اور لوگوں کے حافظہ سے بھی اتر چکی ہوتی۔
جو حضرات معجزات کے منکر ہیں۔ وہ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کو قرآنی تصریحات کے علی الرغم فطری پیدائش قرار دیتے ہیں اور اس سلسلہ میں انھیں اناجیل کی روایات…
Read the full tafseer →35۔ (اپنی بدنامی یا اپنی بےسروسامانی کے خیال سے) یہ پکار کر کہنے والے جبرئیل (علیہ السلام) ہی تھے۔ قال ابن عباس وقتادۃ والضحاک والسدی جبریل (علیہ السلام) (جصاص) (آیت) ” من تحتھا “۔ یعنی جہاں وہ تھیں اسی مقام کے پائیں سے۔ من اسفل الوادی (ابن کثیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–25
آیت نمبر 16 تا 25
ترجمہ : اور اے محمد ﷺ اس کتاب یعنی قرآن میں مریم کا یعنی ان کے واقعہ کا ذکر کیجئے جب کہ وہ اپنے اہل خانہ سے الگ ہو کر ایک ایسے مکان میں جو شرقی جانب تھا چلی گئیں یعنی دار (بیت المقدس) کے مشرقی جانب کسی جگہ تنہائی میں چلی گئیں اور اہل خانہ کی جانب سے پردہ ڈال لیا، یعنی پردہ لٹکا لیا تاکہ آڑ ہوسکے (اور) اپنے سریا کپڑوں میں جوں دیکھ سکے یا حیض سے طہارت کے لئے غسل کرسکے تو ہم نے اس کے پاس اپنی روح جبرئیل (علیہ السلام) کو بھیج دیا تو وہ ان کے سامنے کپڑے پہننے کے بعد مکمل مرد بن کر نمودار ہوا حضرت مریم کہنے لگیں کہ میں تجھ سے اپنے خدا کی پناہ طلب کرتی ہوں اگر تجھے کچھ بھی خوف خدا…
Read the full tafseer →فنادہا من تحتہا الا تحزنی پس جبرئیل ( علیہ السلام) نے ان کے پائین (مکان) سے ان کو پکارا کہ تو مغموم مت ہو۔
حضرت ابن عباس ‘ ضحاک ‘ سدی اور قتادہ کا بیان ہے کہ حضرت مریم ایک ٹیلہ پر تھیں اور حضرت جبرئیل ( علیہ السلام) ٹیلے سے پیچھے نشیبی جانب کہ مریم کی بےصبری و بےقراری سن کر جبرئیل نے پکار کر کہا غمگین نہ ہو ‘ مجاہد اور حسن نے کہا جب حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) پیٹ سے باہر آگئے تو انہوں نے پکار کر کہا غمگین نہ ہو۔ دونوں صورتوں میں تحتہا کی ضمیر مریم کی طرف لوٹ رہی ہے۔ بعض نے کہا نخلہ کی طرف راجع ہے۔
اَلاَّ تَحْزَنِیْیعنی تنہائی اور کھانے پینے کی چیز نہ ہونے اور لوگوں کے ملامت کے خوف سے تو رنجیدہ…
Read the full tafseer →(24) فورا حضرت جبریل ؑ نے پائیں مکان سے ان کو پکارا کہ اے مریم ؑ حضرت عیسیٰ ؑ کی پیدائش سے تم دکھی مت ہو اللہ تعالیٰ نے ان کو نبوت عطا کی ہے اور یہ کہ تمہارے رب نے تمہارے پائیں مکان میں ایک نہر جاری کردی ہے۔
Read the full tafseer →فَنَادٰىهَا مِنْ تَحْتِهَآ۔۔ : ”سَرِيًّا“ ”سَرَی یَسْرِيْ“ (ض) (چلنا) سے ہو تو معنی ہے ندی، کیونکہ اس میں پانی چلتا ہے اور ”سَرُوَ یَسْرُوْ“ (شَرُفَ یَشْرُفُ) سے ہو تو معنی ہے سردار۔ مریم [ کو ان کے نیچے سے کس نے آواز دی ؟ اس کے متعلق مفسرین کے دو قول ہیں، ایک یہ کہ وہ جبریل ؑ تھے، کیونکہ عیسیٰ ؑ نے قوم کے طعن و ملامت کے وقت ہی بات کی تھی۔ طبری نے ابن عباس ؓ سے یہ بات نقل فرمائی ہے کہ یہ جبریل تھے اور عیسیٰ ؑ نے قوم کے پاس لے جانے سے پہلے کلام نہیں کیا۔ مگر یہ روایت عوفی کے طریق سے ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے۔ سعید بن جبیر، ضحاک، عمرو بن میمون اور قتادہ کا کہنا بھی یہی ہے کہ انھیں نیچے سے جبریل ؑ…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فنادھا من تحتھا، یہ میم کے فتحہ اور کسرہ کے ساتھ پڑھا گیا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : من سے مراد جبرئیل ہے (1) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے کلام نہ کی حتی کہ حضرت مریم اسے قوم کے پاس لے آئیں یہ علقمہ، ضحاک اور قتادہ کا قول ہے۔ اس میں حضرت مریم کے لیے نشانی اور علامت تھی کہ اللہ تعالیٰ کے خارق للعادت امور میں کوئی مقصد عظیم ہوتا ہے۔ الا تحزنی، یہ ندا کی تفسیر ہے اور ان مفسرہ بمعنی ای ہے معنی ہے کہ بچے کے جنم سے پریشان نہ ہو۔ قد جعل ربک تحتک سریاً ۔ یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ۔ السری مردوں میں سے اسے کہتے ہیں جو عظیم خصال کا حامل ہو اور سردار ہو۔ حسن نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–24
1:۔ عبدالرزاق، عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اذ انتبذت “ یعنی الگ ہوگئیں (آیت) ” من اھلھا مکانا شرقیا “ یعنی مشرق کی طرف دور علیحدہ جگہ۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اذانتبذت من اھلھا مکانا شرقیا “ یعنی ایسی جگہ آپ چلی گئی تھیں جہاں سورج کی دھوپ پڑرہی تھی ایسا نہ ہو کہ لوگوں میں سے کوئی اس کو دیکھ لے۔
3:۔ فریابی، ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نصاری نے مشرق کو قبلہ بنالیا کیونکہ مریم (علیہا السلام) نے اپنے گھروالوں سے دور مشرقی جانب ایک جگہ بنالی تھی انہوں نے ان…
Read the full tafseer →[فَنَادٰىهَا : تو آواز دی ان کو ] [مِنْ تَحْتِهَآ : ان کے نیچے سے ] [اَلَّا تَحْزَنِيْ : کہ آپ غمگین مت ہوں ] [قَدْ جَعَلَ : بنادی ہے ] [رَبُّكِ : آپ کے رب نے ] [تَحْتَكِ : آپ کے نیچے ] [سَرِيًّا : ایک نہر ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
(فَنَادٰھَا مِنْ تَحْتِھَا) (سو جبریل نے حضرت مریم کو آواز دی جو اس جگہ سے نیچے کھڑے ہوئے تھے جہاں وہ اوپر کسی ٹیلے پر تھیں اور یوں کہاں (اَنْ لَّا تَحْزَنِیْ ) (کہ تو رنجیدہ نہ ہو) (کمافی الروح ص 82 ج 11)
(قَدْ جَعَلَ رَبُّکِ تَحْتَکِ سَرِیًّا) (تیرے رب نے تیرے نیچے ایک نہر بنا دی ہے) حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے وہاں اپنا پاؤں مار دیا جس کی وجہ سے میٹھے پانی کا چشمہ جاری ہوگیا اور ایک قول یہ ہے کہ وہاں پہلے سے خشک نہر تھی اللہ تعالیٰ نے اس میں پانی جاری فرما دیا اور وہیں ایک خشک کھجور کا درخت تھا اس میں پتے اور پھل آگئے اور اسی وقت پک گئے۔ (معالم التنزیل ص 193…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–33
قال اللٰہ تعالیٰ ۔ واذکر فی الکتٰب مریم۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ و یوم اموت ویوم ابعث حیا۔
(ربط) حق تعالیٰ نے گزشتہ رکوع میں حضرت زکریا (علیہ السلام) کا قصہ بیان فرمایا کہ بحالت پیری ایک پیر ناتواں اور ایک بانجھ اور بوڑھی بیوی سے بلا سبب ظاہری ایک مبارک فرزند یعنی یحییٰ (علیہ السلام) کا تولد ہوا۔ اب اس سے زیادہ عجیب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت کا قصہ بیان کرتے ہیں۔ اس لیے کہ بوڑھے مرد اور بانجھ عورت سے بچہ پیدا ہونا اگرچہ عجیب ہے۔ مگر والدین سے بچہ کا پیدا ہونا عادۃ قریب الی العقل ہے اور بغیر باپ کے محض ماں سے بچہ پیدا ہونا بہت ہی عجیب و غریب ہے جو اللہ کی کمال قدرت پر دلالت کرتا ہے کہ خدائے تعالیٰ…
Read the full tafseer →18:۔ ” نَادٰي “ کا فاعل حضرت جبریل (علیہ السلام) ہیں۔ جیسا کہ ابن عباس سے منقول ہے۔ ” مِنْ تحْتِھَا “ یعنی حضرت مریم سے نیچے ” سَرِیَّا “ چھوٹی سی نالی جس میں وہاں سے پھوٹنے والے چشمہ کا پانی بہہ رہا تھا۔ ” وَ ھُزِّيْ اِلَیْکِ الخ “ جب حضرت مریم کو درد زہ کی تکلیف شروع ہوئی تو وہ ایک ایسی جگہ چلی گئیں جو آس پاس کی زمین سے کچھ بلند تھی۔ وہاں کھجور کا دخت تھا اور نیچے پانی کی نہر تھی۔ جب وہ اپنی اس حالت پر اور تکلیف پر وہاں مغموم بیٹھی تھیں۔ اس وقت حضرت جبریل (علیہ السلام) نے نیچے کھرے ہو کر ان سے یہ گفتگو کی۔ کہ غم مت کرو۔ دیکھو تمہارے پاؤں تلے چشمہ ابل رہا ہے اوپر کھجور کا درخت ہے۔ درخت کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–26
ربط آیات :
پہلے حضرت مریم (علیہ السلام) کی ولادت کا ذکر ہوا ، پھر جب وہ جوان ہوگئیں ، تو اللہ کی طرف سے فرشتہ انسانی شکل میں متمثل ہو کر تنہائی میں ان کے سامنے آگیا ، حضرت مریم (علیہ السلام) کو بڑا استعجاب ہوا اور انہوں نے خدا تعالیٰ کی پناہ طلب کی ، فرشتے نے کہا کہ میں تیرے پروردگار کا فرستادہ ہوں اور تجھے ایک بچہ عطا کرنا چاہتا ہوں ، اس پر حضرت مریم (علیہ السلام) کو مزید تعجب ہوا کہ نہ تو ان کا نکاح ہوا ہے اور نہ ہی مقاربت ، وہ بدکار بھی نہیں ہیں ، تو پھر بچہ کیسے ہوگا ، اللہ تعالیٰ کے فرشتے نے کہا کہ بچہ پیدا کرنا تیرے پروردگار کے لیے نہایت آسان ہے ، وہ قادر مطلق ہے اور ہر چیز کام کرنے پر…
Read the full tafseer →فَنَادٰىہَا مِنْ تَحْتِہَآ اَلَّا تَحْزَنِيْ قَدْ جَعَلَ رَبُّكِ تَحْتَكِ سَرِيًّا 24
ندا
النِّدَاءُ : رفْعُ الصَّوت وظُهُورُهُ ، وقد يقال ذلک للصَّوْت المجرَّد، وإيّاه قَصَدَ بقوله : وَمَثَلُ الَّذِينَ كَفَرُوا كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] أي : لا يعرف إلّا الصَّوْت المجرَّد دون المعنی الذي يقتضيه تركيبُ الکلام . ويقال للمرکَّب الذي يُفْهَم منه المعنی ذلك، قال تعالی: وَإِذْ نادی رَبُّكَ مُوسی[ الشعراء/ 10] وقوله : وَإِذا نادَيْتُمْ إِلَى الصَّلاةِ [ المائدة/ 58] ، أي : دَعَوْتُمْ ، وکذلك : إِذا نُودِيَ لِلصَّلاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ
[…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
2 ؎ یعنی پانی اور کھانے کا سامان خدا نے غیب سے پیدا کردیا۔ 12
1 ؎ من تحتہا کے معنی بعض نے یہ بیان کئے ہیں کہ مسیح نے ان کے نیچے سے آواز دی تھی مگر صحیح مطلب آیت کا یہ ہے کہ مریم جو بوقت ولادت لیٹی ہوئی تھیں ان کے پائوں کی طرف سے کہ جس کو تخت یا نیچے کی جانب کہتے ہیں جس طرح سرہانے کو بالیں یا اوپر کی جانب کو کہتے ہیں فرشتہ نے آواز دی۔ 12 منہ۔
Read the full tafseer →فَنَادٰھَا مِنْ تَحْتِھَآ اَلاَّ تَحْزَنِیْ قَدْجَعَلَ رَبُّکِ تَحْتَکِ سَرِیًّا۔ (مریم : 24)
(پس کھجور کے نیچے سے فرشتے نے اس کو آواز دی کہ غمزدہ نہ ہو تمہارے پائیں سے تمہارے پروردگار نے ایک چشمہ جاری کردیا ہے۔ )
حضرت مریم کو بشارت
حضرت مریم کی پریشانی اور بیچارگی نے اللہ تعالیٰ کی رحمت کو حرکت دی۔ فرشتے نے اس کھجور کے درخت کے نیچے سے آواز دی کہ اے مریم تو بہت بڑے امتحان میں ڈال دی گئی ہے لیکن غم زدہ ہونے کی ضرورت نہیں، یہ دیکھ کہ تیرے رب کی عنایات کس طرح تیری طرف متوجہ ہیں۔ اس نے تیرے پائیں اور تیرے قریب ایک چشمہ جاری کردیا ہے تاکہ اس کے ٹھنڈے پانی سے تو اپنی پیاس بجھائے۔
سَرِیٌّ … چھوٹی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–26
فہم القرآن
ربط کلام : فرشتے نے حضرت مریم [ کے جسم پر پھونک ماری جس سے وہ حاملہ ہوگئیں۔
اٹھائیسویں پارہ سورة التحریم کی آخری آیت میں جبرائیل امین (علیہ السلام) کی پھونک کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف منسوب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے عمران کی بیٹی مریم [ جس نے اپنی شرم و حیاء کی حفاظت فرمائی۔ ہم نے اس میں اپنی روح پھونک دی۔
جبرئیل امین کی پھونک کے ساتھ وہ حاملہ ہوگئیں تو اس حالت میں مسجد اقصیٰ سے دور ایک مکان میں جا ٹھہریں۔ جب اسے زچگی کی تکلیف محسوس ہوئی تو وہ ایک کھجور کے تنے کے قریب آئیں۔ تکلیف اور ولادت کی وجہ سے بےساختہ کہنے لگی ہائے کاش ! میں اس سے پہلے مرچکی ہوتی اور لوگوں کے ذہن میں بھولی…
Read the full tafseer →تسلی جبرئیل۔ :
24: فَنَادٰھَا مِنْ تَحْتِہَا (اس کو آواز دی اس کے پائیں مکان سے) یعنی اس شخص نے جو اس کے بائیں جانب تھا۔ نادٰی کا فاعل جبرئیل (علیہ السلام) ہیں۔ کیونکہ وہ اس سے گہرے مقام میں تھے۔ نمبر 2۔ عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو خطاب کیا ان کے اپنے دامن کے نیچے سے۔
قراءت : مدنی، کوفی نے سوائے ابوبکر کے من تَحْتھا اس کا فاعل مضمر ہے اور وہ عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں۔
نمبر 3۔ جبرئیل (علیہ السلام) اور تحتھا کی ضمیر نخلہ کی طرف راجع ہے۔ کیونکہ ان کو شدید تکلیف کا سامنا تھا اس لئے ان الفاظ سے تسلی دی۔ اَلَّا تَحْزَنِیْ (تو مغموم مت ہو) اکیلے پن کا غم نہ کر اور طعام و شراب کی فکر تجھے دامن گیرنہ…
Read the full tafseer →24۔ فناداھا من تحتھا، ، ابوجعفر، نافع، حمزہ اور کسائی نے ، من تحتھا، کے میم وتاء کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس سے مراد حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ہیں۔ حضرت مریم علیہماالسلام ایک ٹیلہ پر تھیں اور حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ٹیلے سے پیچھے نشیبی جانب سے حضرت مریم کی بےصبری اور بے قراری سن کر حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے آواز لگائی غمگین نہ ہو۔
بعض حضرات نے کہا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) جب حضرت مریم کے بطن سے پیدا ہوئے اس وقت حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے آواز لگائی ، الاتحزنی، یہ قول مجاہد اور حسن کا ہے۔ اول قولابن عباس ؓ عنہماکا ہے یہی قول امام سدی ، قتادہ، ضحاک کا بھی ہے اور ایک جماعت کا قول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–26
22۔ 26:۔ صحیح بخاری میں عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : مرد اور عورت کا نطفہ چالیس روز تک عورت کے رحم میں رہ کر جما ہوا خون ہوجاتا ہے پھر اس خون کا گوشت بن جاتا ہے اور اس گوشت سے ہڈیاں بن کر ان ہڈیوں پر گوشت کا غلاف چڑھ جاتا ہے اس طرح ساڑھے چار مہینے میں یہ سب کچھ ہو کر بچہ کا پتلا تیار ہوجاتا ہے اور پھر اس پتلہ میں روح پھونک دی جاتی ہے 1 ؎۔ یہ تو سب عورتوں کے حمل کی حالت ہوئی حضرت مریم کے حمل میں یہ بات نہیں ہوئی کہ بجائے مرد اور عورت کے نطفہ کے فقط عورت کے نطفہ سے کلمہ کن کے موافق پتلہ تیار ہوا اور پتلہ سے اس روح کا تعلق ہوگیا جو روح جبرئیل (علیہ السلام) نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–26
آیت 22
جب حضرت مریم علیھا السلام کو حمل ٹھہر گیا تو وہ فضیحت اور رسوائی کے خوف سے لوگوں سے دور چلی گئیں (مکانا قصیا) ” دور جگہ “ جب بچہ جننے کا وقت قریب آیا تو زچگی کی تکلیف نے ان کو کھجور کے نیچے پناہ لینے پر مجبور کردیا۔
جب حضرت مریم علیھا السلام کو زچگی کی تکلیف برداشت کرنا پڑی، کھانے پینے کی عدم موجودگی کی تکلیف کا اسمنا کرنا پڑا اور سب سے بڑی بات یہ کہ لوگوں کی تکلیف دہ باتوں اور طعنوں سے دلی صدمہ پہنچا اور انہیں خوف ہوا کہ کہیں صبر کا دامن ان کے ہاتھ سے نہ چھوٹ جائے۔۔۔. تو انہوں نے تمنا کی کہ کاش وہ اس حادثہ سے پہلے ہی مرگئی ہوتیں، ان کو بھلا دیا جاتا اور ان کا کہیں تذکرہ تک نہ ہوتا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–30
موت کی تمنا جائز نہیں
قول باری ہے (قالت یلیتنی مت قبل ھذا وکتت نسیاً منسیاً وہ کہنے لگی۔ کاش میں اس سے پہلے ہی مرجاتی اور میرا نام و نشان نہ رہتا۔ “) کچھ حضرات کا قول ہے کہ حضرت مریم نے موت کی اس لئے تمنا کی تھی کہ جنسی ملاپ کے بغیر بچے کو جنم دینے کی حالت پر پہنچ گئی تھیں۔ لیکن یہ بات غلط ہے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس حالت میں مبتلا کر کے ان کی آزمائش کی تھی اور وہ اس کے اس فیصلے پر راضی تھیں اور اللہ کی فرماں برداری پر کمربستہ تھیں۔ اللہ تعالیٰ کے فیصلوں پر اظہار ناپسندیدگی معصیت ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے صرف وہی فعل و قوع پذیر ہوتا ہے جو حکمت اور صواب پر مبنی ہوتا ہے۔ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
31 رحمت خداوندی سے سرفرازی کے لیے بہانے کی ضرورت : سو رحمت خداوندی سے سرفرازی کے لیے حیلے اور بہانے کی تعلیم کے طور پر ارشاد فرمایا گیا " اور ہلاؤ اپنی طرف کھجور کے اس تنے کو "۔ تاکہ اس طرح آپ کی اپنی محنت کا بھی اس نعمت کے حصول میں کچھ دخل ہو سکے اور کسب ید کی فضیلت بھی واضح ہوجائے۔ سو اس سے یہ درس ملا کہ اسباب کی اس دنیا میں انسان کو اپنے مقدور کی حد تک اسباب اختیار کرنے چاہئیں۔ اسی لئے حضرت مریم کو درخت کا تنا ہلانے کا حکم و ارشاد فرمایا گیا۔ ورنہ جو ذات خشک تنے سے تازہ کھجوریں عطا فرما سکتی ہے۔ وہ اس کو ہلائے بغیر کیوں نہیں دے سکتی۔ مگر اس میں کسب و محنت اور اسباب کو اپنانے کا درس دیا گیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–34
سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش اور بچپن کی گفتگو
تشریح : سیدہ مریم کا پورا واقعہ سورة آل عمران میں بڑی وضاحت سے گزر چکا ہے کہ آپ کی والدہ نے آپ کو بیت المقدس میں عبادت کے لیے بٹھا دیا تھا۔ یہ محراب شرقی حصہ میں واقعہ تھی، جہاں آپ نے ایک پردہ ڈال کر اپنے آپ کو لوگوں کی نظروں سے چھپا رکھا تھا۔ سیدنا یحییٰ (علیہ السلام) کے ساتھ ہی سیدہ مریم (علیہا السلام) کا ذکر کیا گیا ہے۔ سیدنا یحییٰ (علیہ السلام) کی پیدائش بھی اللہ کی قدرت کی کامل نشانی ہے اور سیدنا مریم (علیہا السلام) کا انتہائی پاکدامن اور نیک ہونے کے باوجود بغیر کسی مرد کے ملے (نکاح وغیرہ) بیٹا پیدا کرنا بھی اللہ کی بہت بڑی نشانیوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–41
(رکوع نمبر 2)
اسرارومعارف
اور اے حبیب ﷺ اس سے عجیب تر اور فکر انگیز واقعہ ایسی کتاب اللہ میں سنا دیجئے جو حضرت مریم (علیہا السلام) کا ہے اور جس کے متعلق یہود اور نصاری نے اپنے اپنے نظریات گھڑ رکھے ہیں کہ اس کی حقیقی اور واقعی صورت کیا ہے یہ بات تب شروع ہوتی ہے جب حضرت مریم (علیہا السلام) اپنے گھر والوں سے الگ ہو کر غسل وغیرہ کرنے کے لیے پردہ میں چلی گئیں تو وہاں ان کے پاس حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو بھیجا جس نے انسانی شکل میں ظاہر ہو کر ان سے بات کرنا چاہی ، یاد رہے حضرت مریم (علیہا السلام) کا ذکر آل عمران میں گذر چکا ہے ۔
(اولیاء اللہ سے فرشتہ کا ہمکلام ہونا)
کہ ان کی والدہ نے منت مانی تھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
ف 11 سریا کے معنی بعض مفسرین نے بیان کئے ہیں جمہور مفسرین نے اس کے معنی چھوٹی نہر “ یا ” چشمہ رواں “ کئے ہیں اور موقع و محل کی مناسبت سے یہی زیادہ موزوں ہیں۔ یوں لغت کے اعتبار سے دونوں کی گنجائش ہے۔ (ابن کثیر شوکانی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
(19:24) نادھا۔ اس (فرشتہ جبریل علیہ السلام) نے اس (حضرت مریم علیہما السلام) کو پکارا ۔ من تحتھا۔ ای من مکان اسفل منھا۔ یعنی جہاں وہ تھیں اس مقام کی پائیں سے۔ ان لا تحزنی۔ فعل نہیں واحد مؤنث حاضر۔ کہ تو غم مت کھا۔ حزن۔ غم۔ رنج۔
سریا۔ ایک چشمہ۔ اس کی جمع اسریۃ اور سریان ہے بعض نے اس کے معنی جدول (چھوٹی نہر) کے لئے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ اور دیگر اہل لغت کا یہی قول ہے۔ چناچہ انہوں نے اس کی تفسیر چھوٹی نہر سے کی ہے جو نخلستان کی طرف رواں ہو۔ اس صورت میں یہ سری (لام کلمہ ی) سے ہے۔ بعض کے نزدیک یہ سرو (لام کلمہ واو) سے ہے۔ اور سروبمعنی رفعت کے ہے۔ جس سے مراد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں۔ یعنی تیرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–36
لغات القرآن آیت نمبر 22 تا 36
انتبذت (انتباذ) الگ ہوگئی، جدا ہوگئی
قصی دور کا فاصلہ۔ المخاض زچگی کا درد۔ دردزہ۔ جزع جڑ۔ نسیا منسیا بھولی بسری چیز۔ بےنام و نشان ہوجانا۔ سری پانی کا چشمہ۔ ھزی ہلالی۔ جھکادے۔ تساقط گرائی گی۔ رطب ترو تازہ۔ جنی پکا ہوا پھل۔ قری عین آنکھیں ٹھنڈی رکھ۔ ترین تو دیکھے۔ نذرت میں نے منت مان رکھی ہے۔ تحملہ وہ اس کو اٹھا لائے۔ فری (افترائ) عجیب اور نرالی بات۔ المھد گود۔ صبی بچہ۔ اوصنی مجھے حکم دیا۔ مادمت حیا جب تک میں زندہ ہوں۔ شقی بدنصیب، بدنصیب، بدقسمت۔ یمترون وہ شک کرتے ہیں۔
تشریح : آیت نمبر 22 تا 36
حضرت مریم نے جب سے ہوش سنبھالا تھا اس وقت سے وہ اللہ تعالیٰ کے ذکر میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–26
اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ سب عورتوں کی حمل کی جو حالت ہوتی ہے، وہ حضرت مریم کے حمل کی نہیں تھی۔ اور یہ بات نئی ہوئی کہ بجائے مرد اور عورت کے نطفہ کے فقط عورت کے نطفہ سے کلمہ کن کے موافق پتلا تیار ہوا، اور پتلے سے اس روح کا تعلق ہوگیا۔ جو روح جبرئیل (علیہ السلام) نے حضرت مریم کے جسم میں پھونک دی تھی۔ پس وہ اس حمل کو دیکھ کر ایک دور مکان میں جا بیٹھیں اور جس وقت ان کو درد زہ شروع ہوا وہ ایک کھجور کے درخت کے نیچے گئیں۔ اس مقام پر نہ تو پانی تھا، نہ کوئی دائی تھی، نہ کوئی کھانے کی شے، اور نہ کوئی پینے کی۔ الغرض ہر قسم کی بےسروسامانی تھی۔ ادھر بدنامی کا خیال سب سے زیادہ غالب تھا۔ ایسی حالت میں انسان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
[12] اصل میں لفظ '' سرّیا '' استعمال ہوا ہے جو عربی میں عظیم الشان انسانوں کے لئے بولا جاتا ہے۔ لیکن '' سرّیا '' کے ایک معنی چھوٹی نہر کے بھی ہیں اس لئے اکثر مفسرین نے '' سرّیا '' کا ترجمہ نہر یا چشمہ کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ مریم (علیہ السلام) کا غم پانی نہ ملنے کی وجہ سے نہ تھا بلکہ اس حالت کی وجہ سے تھا جس میں وہ مبتلا ہوگئی تھیں۔ پس فرشتے کا یہ کہنا کہ غمگین نہ ہو تیرے پروردگار نے تیرے لئے ایک نہر جاری کردی ہے بالکل بےمعنی ہوجاتا ہے۔ جب پانی کا فقدان غم کا سبب ہی نہ تھا تو اس کی موجودگی کیوں وجہ تسکین ہو ؟ لہذا فرشتہ کا یہ کہنا کہ تیرے پروردگار نے تیرے لئے ایک بڑی ہستی پیدا کردی ہے وجہ تسکین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
بغیر باپ تولید کے امکانات :
(ف 1) اللہ تعالیٰ کو جب یہ منظور ہوا کہ مسیح (علیہ السلام) کو بطور خرق عادت کے پیدا کرے تو پہلے حضرت مریم (علیہ السلام) کو اس کی اطلاع دی اس کو یقین دلایا ، کہ تو لوگوں کے اعتراضات کا ہدف بنے گی ، اور پھر قدرت کا اظہار فرمایا ،
فحملتہ : سے مراد طبعی مدت حمل سے جیسا کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے ، یہ ہو سکتا ہے کہ حضرت مریم (علیہ السلام) میں بیک وقت اللہ تعالیٰ نے افعل وانفعال کی قوتیں پہناں رکھی ہوں ، اس قسم کی مثالیں آج کل تو بکثرت مل رہی ہیں کہ بہت سے نوجوان مرد عورت بن گئے اور بتہ ہی شادی شدہ عورتیں مردوں کی صورت میں تبدیل ہوگئیں ، یہ نظریہ استحالہ شخصیت اس…
Read the full tafseer →-24 اس وقت حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے بحکم خداوندی حضرت مریم (علیہ السلام) جس ٹیلے پر بیٹھی تھیں اس کے نیچے سے پکار کر کہا اے مریم غمگین نہ ہو تیرے پائیں اور اس ٹیلے کے نشیبی حصہ میں تیرے پروردگار نے ایک چشمہ اور نہر کو جاری کردیا۔ یعنی حضرت مریم زمین کے ایک بالائی حصہ میں بٹھی تھیں فرشتہ سامنے نہیں آیا۔ بلکہ نشیب اور زیرین حصہ سے پکار کر کہا کہ غمگین نہ ہو غمگین اور پریشان ہونے کی کوئی وجہ نہیں آپ کے نشیبی اور پائیں حصہ میں آپ کے پروردگار نے نہر جاری کردی ہے۔ یعنی ایک چشمہ پھوٹ نکلا ہے یہ پانی پینے اور نہانے کے کام آئے گا۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یہ آواز دی فرشتہ نے اور زمین میں ایک چشمہ…
Read the full tafseer →ف 1۔ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) ان کے احترام کی وجہ سے سامنے نہیں گئے بلکہ جس مقام پر حضرت مریم (علیہا السلام) تھیں اس سے اسفل مقام میں آڑ میں آئے۔
Read the full tafseer →سیدہ مریم (علیہ السلام) کو تسلی دی گئی کہ تو ایک بہت بڑی شخصیت کو جنم دے رہی ہے صبر سے کام لے :
24۔ (فنادھا) پس مریم کو کسی نے پکارا (من تحتھا) اس کے نیچے سے ، یہ پکارنے والا کون تھا ؟ مفسرین نے اس کا فاعل تلاش کرنے میں بہت زور لگایا لیکن اتفاق نہ ہوسکا کسی نے اس کو ” صاحب نخلہ “ کہا کسی نے اس سے ” عیسیٰ (علیہ السلام) “ مراد لئے اور کسی نے اس پکارنے والے سے ” فرشتہ “ مراد لیا اور علاوہ ازیں بھی بہت کچھ کہا گیا ۔ اس سے پہلی آیت میں سیدہ مریم (علیہ السلام) کی جو حالت بیان کی گئی وہ ایک فطری چیز تھی اور واضع کے وقت اس طرح کی بات منہ سے نکلنا باعث مذمت نہیں ہے بلکہ عین فطرت کے مطابق ہے لیکن مخاض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
سَرِیّاً The literal meaning of the word سَرِی appearing in verse 24 is a small canal. Allah Ta’ ala caused a small stream to flow at the moment either by his direct command or through Sayyidna Jibra'il (علیہ السلام) . There are reports supporting both these probabilities. It is worth noting here that while describing the means to bring consolation to Sayyidah Maryam (علیہا السلام) water was mentioned first and then date as something to eat
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
17. The words“Would that...”show the extreme state of anxiety in which Mary found herself at the time. She did not utter these words on account of the labor pains but due to the pangs of sorrow as to how she would conceal the child from her people. The angel’s words, grieve not at all explain why she had spoken these desperate words. When a married girl is delivering her first baby, she might be dying with pains, but she is never so sorrowful and grieved.
Read the full tafseer →