Maryam 19:22

Maryam · from ayah 22

19:22

فَحَمَلَتْهُ فَانْتَبَذَتْ بِهٖ مَكَانًا قَصِیًّا ۟فَحَمَلَـتۡهُ فَانْتَبَذَتۡ بِهٖ مَكَانًا قَصِيًّا

تو وہ اس (بچّے) کے ساتھ حاملہ ہوگئیں اور اسے لے کر ایک دور جگہ چلی گئیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

So she conceived him, and she withdrew with him to a remote place.

— Saheeh International

Juz 16 · Ruku 2 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Maryam

All translations of 19:22

مریم کو اس بچے کا حمل رہ گیا اور وہ اس حمل کو لیے ہوئے ایک دُور کے مقام پر چلی گئی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو وہ اس (بچّے) کے ساتھ حاملہ ہوگئیں اور اسے لے کر ایک دور جگہ چلی گئیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

پس وه حمل سے ہو گئیں اوراسی وجہ سے وه یکسو ہو کر ایک دور کی جگہ چلی گئیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

پھر ہوا یہ کہ مریم کو اس بچے کا حمل ٹھہر گیا (اور جب ولادت کا وقت قریب آیا) تو وہ اس کو لے کر لوگوں سے الگ ایک دور مقام پر چلی گئیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اب مریم نے اسے پیٹ میں لیا پھر اسے لیے ہوئے ایک دور جگہ چلی گئی

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پس مریم نے اسے پیٹ میں لے لیا اور (آبادی سے) الگ ہوکر دور ایک مقام پر جا بیٹھیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پس وہ اس (لڑکے) کے ساتھ حاملہ ہوگئی تو اسے لے کر ایک دور جگہ میں الگ چلی گئی۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

چناچہ مریم کو اس بچے کا حمل ٹھہر گیا اور وہ اس حالت میں ایک دور کے مکان میں علیحدہ جا بیٹھیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پس اس نے اس کا حمل اٹھا لیا اور وہ اس کو لے کر ایک دور کے مقام کو چلی گئی

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

سو مریم (علیہا السلام) کو اس بچے کا حمل ہوگیا، تو وہ اسے لے کر ایک دور جگہ چلی گئیں،

— مولانا اسحاق مدنی

پھر ان کے حمل قرار پا گیا پھر وہ اسے لئے ہوئے کہیں ایک دور جگہ چلی گئیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو اسے اس (بچے) کا حمل ٹھہر گیا چناچہ وہ اسے لے کر ایک دور جگہ پر چلی گئی

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تو وہ اس بچہ کے ساتھ حاملہ ہوگئیں اور اسے لے کر ایک دور جگہ چلی گئیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Then she conceived him and withdrew with him to a far-off place.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So she conceived him, and went in seclusion with him to a remote place.

— Muhammad Taqi Usmani

So she conceived him, and went in seclusion with him to a remote place.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

So she conceived him, and she withdrew with him to a remote place.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And she conceived him, and she withdrew with him to a far place.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

So she conceived him, and she withdrew with him to a remote place.

— Saheeh International

She conceived the child and retreated with him to a distant and solitary place.

— Muhammad Sarwar

So she conceived him; then withdrew herself with him to a remote place.

— Muhammad Habib Shakir

hen she conceived him, and she retired with him to a place far-off.

— Abdul Majid Daryabadi

So she conceived him, and she retired with him to a remote place.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 19:22

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 22–23

مریم (علیہا السلام) اور حضرت جبرائیل ؑ۔ مروی ہے کہ جب آپ فرمان الہٰی تسلیم کر چکیں اور اس کے آگے گردن جھکا دی تو حضرت جبرائیل ؑ نے ان کے کرتے کے گریبان میں پھونک ماری۔ جس سے انہیں بحکم رب حمل ٹھہر گیا اب تو سخت گبھرائیں اور یہ خیال کلیجہ مسوسنے لگا کہ میں لوگوں کو کیا منہ دکھاؤں گی ؟ لاکھ اپنی برات پیش کروں لیکن اس انوکھی بات کو کون مانے گا ؟ اسی گھبراہٹ میں آپ تھیں کسی سے یہ واقعہ بیان نہیں کیا تھا ہاں جب آپ اپنی خالہ حضرت زکریا (علیہا السلام) کی بیوی کے پاس گئیں تو وہ آپ سے معانقہ کرکے کہنے لگیں بچی اللہ کی قدرت سے اور تمہارے خالو کی دعا سے میں اس عمر میں حاملہ ہوگئی ہوں۔ آپ نے فرمایا خالہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة مَرْیَم 16 دور کے مقام سے مراد لحم ہے۔ حضرت مریم کا اپنے اعتکاف سے نکل کر وہاں جانا ایک فطری امر تھا۔ بنی اسرائیل کے مقدس ترین گھرانے بنی ہارون کی لڑکی، اور پھر وہ جو بیت المقدس میں خدا کی عبادت کے لیئے وقف ہو کر بیٹھی تھی، یکایک حاملہ ہوگئی۔ اس حالت میں اگر وہ اپنی جائے اعتکاف پر بیٹھی رہتیں اور ان کا حمل لوگوں پر ظاہر ہوجاتا تو خاندان والے ہی نہیں " قوم کے دوسرے لوگ بھی ان کا جینا مشکل کردیتے۔ اس لیئے بےچاری اس شدید آزمائش میں مبتلا ہونے کے بعد خاموشی کے ساتھ اپنے اعتکاف کا حجرہ چھوڑ کر نکل کھڑی ہوئیں تاکہ جب تک اللہ کی مرضی پوری ہو، قوم کی لعنت ملامت اور عام بدنامی سے تو بچی رہیں۔ یہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر پھر (اس گفتگو کے بعد جبرئبل ؑ نے ان کے گریبان میں پھونک مار دی جس سے) ان کے پیٹ میں لڑکا رہ گیا، پھر (جب اپنے وقت پر حضرت مریم کو بچہ کی پیدائش کے آثار محسوس ہوئے تو) اس حمل کو لئے ہوئے (اپنے گھر سے) کسی دور جگہ (چنگل پہاڑ میں) الگ چلی گئیں پھر (جب درد شروع ہوا تو) درد زِہ کی وجہ سے کھجور کے درخت کی طرف آئیں (کہ اس کے سہارے بیٹھیں اٹھیں، اب حالت یہ تھی کہ نہ کوئی انیس نہ جلیس، دور سے بےچین، ایسے وقت جو سامان راحت و ضرورت کا ہونا چاہئیے وہ ندارد ادھر بچہ ہونے پر بدنامی کا خیال، آخر گھبرا کر) کہنے لگیں کاش میں اس (حالت) سے پہلے مرگئی ہوتی اور ایسی نیست و نابود ہوجاتی کہ کسی کو یاد…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

فَحَمَلَتْهُ فَانْتَبَذَتْ بِهِ مَكَانًا قَصِيًّا۔ " دور کی جگہ " سے مراد : " قَصی " کے معنی دور کے ہیں۔ یہاں کوئی تصریح نہیں ہے اس دور کی جگہ سے کون سی جگہ مراد ہے۔ لیکن انجیلوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے بعد وہ بیت اللحم چلی گئیں۔ ظاہر ہے کہ حمل کا احساس کرنے کے بعد وہ ایک شدید ذہنی پریشانی اور کرب میں مبتلا ہوگئی ہوں گی۔ اس طرح کے حالات میں آدمی کے لیے اپنا ماحول وحشت انگیز بن جاتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ اس سے الگ ہو کر کوئی اور مامن تلاش کرے، شاید وہاں سکون حاصل کرنے کی کوئی صورت نکل آئے۔ حضرت مریم کی یہ تدبیر اسی طرح طرح کی ایک تدبیر تھی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 22–23

23۔ 1 موت کی آرزو اس ڈر سے کی کہ میں بچے کے مسئلے پر لوگوں کو کس طرح مطمئن کرسکوں گی، جب کہ میری بات کی کوئی تصدیق کرنے کے لئے تیار ہی نہیں ہوگا۔ اور یہ تصور بھی روح فرسا تھا کہ کہاں شہرت ایک عابدہ و زاہدہ کے طور پر ہے اور اس کے بعد لوگوں کی نظروں میں بدکار ٹھہروں گی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 21–22

11: انسان کی پیدائش کا عام طریقہ تو یہ ہے کہ وہ مرد اور عورت دونوں کے ملاپ سے پیدا ہوتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ کو اس طرح پیدا فرمایا کہ ان کی پیدائش میں نہ کسی مرد کا کوئی دخل تھا، نہ کسی عورت کا، اور حضرت حواء کو چونکہ انہی کی پسلی سے پیدا کیا گیا، اس لیے ان کی پیدائش میں مرد کا تو فی الجملہ دخل تھا، عورت کا کوئی دخل نہیں تھا۔ اب اللہ تعالیٰ نے پیدائش کی چوتھی صورت اپنی قدرت سے ظاہر فرمائی کہ حضرت عیسیٰ ؑ کو باپ کے بغیر صرف ماں سے پیدا فرمایا۔ اس سے ایک تو اللہ تعالیٰ کی قدرت کا مظاہرہ مقصود تھا اور دوسرے وہ ایک پیغمبر کی حیثیت میں لوگوں کے لیے رحمت بن کر تشریف لا رہے تھے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یہ اس پاک دامن دوشیزہ کے لئے تیسرا دھچکا ہے۔ سیاق کلام میں اس کا ذکر نہیں ہے کہ یہ حمل کیسے ٹھہرا ، کتنا عرصہ رہا یا کوئی عادی حمل تھا جس طرح عورتوں کو ہوتا ہے۔ یہ اللہ کی جانب سے ایک پھونک تھی اور عورت کے رحم میں بیضے کے اندر حرکت پیدا ہوگئی۔ یہ خون کالوتھڑا بن گیا ، اس کے اندر ہڈیاں بن گئیں ، ہڈیوں پر گوشت بننا شروع ہوگیا اور جنین نے حمل کا مقررہ وقت پورا کیا۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے کیونکہ عورت کے بیضے میں حرکت پیدا کی اور اس نے اپنا طبیعی عمل شروع کردیا۔ یہ بیھ ممکن ہے کہ اس غیر معمولی واقعہ میں بیضے نے اپنا عادی کورس پورا نہ کیا ہو ، یہ تمام مراحل اعجوبے کی طرح جلدی جلدی طے ہوگئے ہوں اور رحم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 کہتے ہیں فرشتہ نے پھونک ماری حمل ٹھہر گیا۔ وفی البحر۔ " وَذَکَرُوْا اَنَّ جِبْرَءِ یْلَ عَلَیْہِ السَّلَامُ نَفَخَ فِیْ جَیْبِ دَرْعِہَا اَوْفِیْہِ وَفِیْ کُمِّہَا۔ والظاہران المسندالیہ لنفخ ہو اللّٰہ تعالیٰ لقولہ فنفخنا (ص 181/6) کما قال فی ادم ونفخت فیہ من روحی واللّٰہ اعلم۔ 4 یعنی جب وضع حمل کا وقت قریب آیا شرم کے مارے سب سے علیحدہ ہو کر کسی بعید مکان میں چلی گئی۔ شاید وہ ہی جگہ ہو جسے " بیت اللحم " کہتے ہیں۔ یہ مقام " بیت المقدس " سے آٹھ میل ہے ذکرہ ابن کثیرعن وہب۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 22 فَحَمَلَتْہُ فَانْتَبَذَتْ بِہٖ مَکَانًا قَصِیًّا اس پریشانی میں کہ حمل بڑھے گا تو لوگ کیا کہیں گے ‘ حضرت مریم تنہائی کی غرض سے بیت اللحم چلی گئیں ‘ جو ہیکل سلیمانی سے آٹھ میل کے فاصلے پر تھا۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

23 سیدہ مریم میں روح جبرئیل نے پھونکی تھی یا اللہ تعالیٰ نے ؟ روایات میں ہے کہ یہ کہہ کر سیدنا جبریل نے سیدہ مریم کی قمیص کے گریبان میں روح پھونکی جسے سورة تحریم میں اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف منسوب کرتے ہوئے فرمایا : (فَنَفَخْنَا فِيْهِ مِنْ رُّوْحِنَا 12۝ۧ) 66 ۔ التحریم :12) ۔ یعنی یہ روح ہم نے پھونکی تھی۔ اسی سے یہ بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ جبریل نے یہ کیوں کہا تھا تاکہ میں تجھے ایک پاکیزہ لڑکا عطا کروں اس نفخہ جبریل یا نفخہ الٰہی سے سیدہ مریم کو حمل قرار پا گیا۔ اسی وجہ سے آپ کو روح اللہ کہتے ہیں۔ حمل کی وجہ سے سیدہ مریم کا بیت المقدس سے چلے جانا :۔ جب آپ حاملہ ہوگئیں تو اب شرم کے مارے وہاں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

32۔ حضرت مریم (علیہا السلام) قصبہ ناصرہ (علاقہ گلیل ملک شام) میں رہا کرتی تھیں، مگر زمانہ حمل میں آپ اپنے منگیتر سمیت اب مقام بیت لحم کو آگئیں، جو ناصرہ سے 71 میل کے فاصلہ پر ہے۔ انجیل میں ہے :۔” ان دنوں میں ایسا ہوا کہ قیصر اوکستس کی طرف سے یہ حکم جاری ہوا کہ ساری دنیا کے لوگوں کے نام لکھے جائیں، یہ پہلی اسم نویسی سوریا کے حاکم کو رتیس کے عہد میں ہوئی اور سب لوگ نام لکھوانے کے لئے اپنے اپنے شہر کو گئے۔ پس یوسف بھی گلیل کے شہر ناصرہ سے داؤد کے شہر بیت لحم کو گیا جو یہودیہ میں ہے۔ اس لئے کہ وہ داؤد کے گھرانے اور اولاد سے تھا، تاکہ اپنی منگیتر مریم کے ساتھ جو حاملہ تھی نام لکھوائے، جب وہ وہاں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 16–25

آیت نمبر 16 تا 25 ترجمہ : اور اے محمد ﷺ اس کتاب یعنی قرآن میں مریم کا یعنی ان کے واقعہ کا ذکر کیجئے جب کہ وہ اپنے اہل خانہ سے الگ ہو کر ایک ایسے مکان میں جو شرقی جانب تھا چلی گئیں یعنی دار (بیت المقدس) کے مشرقی جانب کسی جگہ تنہائی میں چلی گئیں اور اہل خانہ کی جانب سے پردہ ڈال لیا، یعنی پردہ لٹکا لیا تاکہ آڑ ہوسکے (اور) اپنے سریا کپڑوں میں جوں دیکھ سکے یا حیض سے طہارت کے لئے غسل کرسکے تو ہم نے اس کے پاس اپنی روح جبرئیل (علیہ السلام) کو بھیج دیا تو وہ ان کے سامنے کپڑے پہننے کے بعد مکمل مرد بن کر نمودار ہوا حضرت مریم کہنے لگیں کہ میں تجھ سے اپنے خدا کی پناہ طلب کرتی ہوں اگر تجھے کچھ بھی خوف خدا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فحملتہ فانتبذت بہ مکانا قصیا پھر ان کے پیٹ میں لڑکا رہ گیا پھر اس (حمل) کو لئے ہوئے کسی دور جگہ میں الگ چلی گئیں۔ اس کا عطف فعل محذوف پر ہے یعنی فرشتہ کے قول پر مریم ( علیہ السلام) کو اطمینان ہوگیا اور فرشتے نے ان کے کرتے کے گریبان میں پھونک مار دی پھر مریم نے وہ مرتہ پہنا تو وہ حاملہ ہوگئیں بعض کا قول ہے کہ جبرئیل نے کرتے کے گریبان کو چٹکی سے پکڑ کر کھینچا اور پھر گریبان پر پھونک ماری۔ بعض نے کہا کرتے کی آستین پر پھونک مار دی ‘ بعض نے کہا مریم ( علیہ السلام) کے منہ میں پھونک دیا ‘ بعض نے کہا جبرئیل نے دور سے پھونک دیا۔ غرض پھونک سے مریم ( علیہ السلام) حاملہ ہوگئیں اور حمل کو لئے لئے گھر…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 22–23

(22۔ 23) چناچہ حضرت مریم ؑ حاملہ ہوگئیں اور ان کا حمل نو ماہ کا تھا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایک دن کا تھا چناچہ وہ اس کی پیدائش کے وقت دور دراز مقام پر لوگوں سے علیحدہ کسی جگہ پر چلی گئیں اور دردزہ کی شدت کی وجہ سے ایک خشک کھجور کے درخت کی آڑ لی اور گھبرا کر بولیں کہ کاش میں اس بچہ سے پہلے ہی یا اس دن سے پہلے ہی مرگئی ہوتی اور ایسی نیست ونابود ہوجاتی کہ کسی کو یاد بھی نہ رہتی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فَـحَمَلَتْهُ فَانْتَبَذَتْ بِهٖ مَكَانًا قَصِيًّا : ”قَصِيًّا“ ”قَصِیَ یَقْصَی قُصُوًّا“ ”رَضِیَ یَرْضَی“ کی طرح ناقص واوی ”عَلِمَ یَعْلَمُ“ سے ہے۔ ”قَصِيًّا أَيْ بَعِیْدًا“ یعنی دور۔ ”فَـحَمَلَتْهُ“ جبریل ؑ کے یہ کہنے اور ان میں روح پھونکنے کے بعد وہ حاملہ ہوگئیں۔ روح پھونکنے کی کیفیت کے لیے دیکھیے سورة انبیاء (91) اور سورة تحریم (12) حاملہ ہونے کے بعد فطری تقاضے کے مطابق حمل کی مدت پوری کرنے کے دوران لوگوں کے طعن و ملامت سے بچنے کے لیے وہ بیت المقدس سے دور ایک مقام پر منتقل ہوگئیں۔ ابن کثیر ؓ نے وہب کا قول ذکر کیا ہے کہ وہ بیت اللحم میں منتقل ہوئیں، جو بیت المقدس سے آٹھ میل دور تھا اور…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 17–22

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فارسلنا الیھا روحنا، بعض علماء نے فرمایا : وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی روح تھی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے روحوں کو اجساد سے پہلے پیدا فرمایا تھا اور حضرت عیسیٰ کا جسم جو حضرت مریم کے پیٹ میں اللہ تعالیٰ نے تخلیق کیا تھا اس میں روح پھونکی۔ بعض علماء نے فرمایا : وہ جبرئیل (علیہ السلام) ہیں۔ روح کو اللہ کی طرف تخصیص اور کرامت کے لیے مضاف کیا گیا ہے۔ ظاہر ہے یہ جبرئیل (علیہ السلام) تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فتمثل لھا، یعنی فرشتہ مریم کے لیے انسانی شکل میں آیا۔ بشراً ، تفسیر یا حال ہے۔ سویا، متوازا خلقت والا، چونکہ حضرت مریم، جبریل کو اصلی شکل میں دیکھنے کی طاقت…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 16–24

1:۔ عبدالرزاق، عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اذ انتبذت “ یعنی الگ ہوگئیں (آیت) ” من اھلھا مکانا شرقیا “ یعنی مشرق کی طرف دور علیحدہ جگہ۔ 2:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اذانتبذت من اھلھا مکانا شرقیا “ یعنی ایسی جگہ آپ چلی گئی تھیں جہاں سورج کی دھوپ پڑرہی تھی ایسا نہ ہو کہ لوگوں میں سے کوئی اس کو دیکھ لے۔ 3:۔ فریابی، ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نصاری نے مشرق کو قبلہ بنالیا کیونکہ مریم (علیہا السلام) نے اپنے گھروالوں سے دور مشرقی جانب ایک جگہ بنالی تھی انہوں نے ان…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[فَـحَمَلَتْهُ : پس انھوں نے اٹھایا اس (بچے) کو (پیٹ میں)] [فَانتَبَذَتْ : پھر وہ علیحدہ ہوئیں ] [بِهٖ : اس کے ساتھ ] [مَكَانا قَصِيًّا : ایک دور والی جگہ میں ] نوٹ۔ 1: آیت۔ 22 ۔ میں دور والی جگہ سے مراد بیت لحم ہے۔ بی بی مریم کا اپنے اعتکاف سے نکل کر وہاں جانا اس بات کی بہت بڑی دلیل ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) باپ کے بغیر پیدا ہوئے تھے۔ اگر وہ شادی شدہ ہوتیں اور شوہر سے ہی ان کے ہاں بچہ پیدا ہو رہا ہوتا تو کوئی وجہ نہ تھی کہ میکے اور سسرال، سب کو چھوڑ چھاڑ کر وہ زچگی کے لئے تن تنہا ایک دور دراز مقام پر چلی جاتیں۔ (تفہیم القرآن) نوٹ۔ 2: قبل از اسلام یہ بھی عبادت میں داخل تھا کہ بولنے کا…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

حمل اور وضع حمل کا واقعہ، دردزہ کی وجہ سے کھجور کے درخت کے نیچے پہنچنا فرشتہ کا آواز دینا کہ غم نہ کرو درخت کا تنا ہلاؤ تر کھجوریں کھاؤ (فَحَمَلَتْہُ فاَنْتَبَذَتْ بْہٖ مَکَانًا قَصِیًّا) (سو اس لڑکے سے وہ حاملہ ہوگئی۔ لہٰذا وہ اس حمل کو لیے ہوئے علیحدہ ہو کر دور چلی گئی) سورة تحریم میں فرمایا (وَمَرْیَمَ ابْنَتَ عِمْرَانَ الَّتِیْ اَحْصَنَتْ فَرْجَہَا فَنَفَخْنَا فِیْہِ مِنْ رُّوْحِنَا وَصَدَّقَتْ بِکَلِمَاتِ رَبِّہَا وَکُتُبِہٖ وَکَانَتْ مِنَ الْقَانِتِیْنَ ) (اور اللہ عمران کی بیٹی مریم کا حال بیان فرماتا ہے جس نے اپنی عصمت کو محفوظ رکھا سو ہم نے اس کے گریبان میں اپنی روح پھونک دی اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 16–33

قال اللٰہ تعالیٰ ۔ واذکر فی الکتٰب مریم۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ و یوم اموت ویوم ابعث حیا۔ (ربط) حق تعالیٰ نے گزشتہ رکوع میں حضرت زکریا (علیہ السلام) کا قصہ بیان فرمایا کہ بحالت پیری ایک پیر ناتواں اور ایک بانجھ اور بوڑھی بیوی سے بلا سبب ظاہری ایک مبارک فرزند یعنی یحییٰ (علیہ السلام) کا تولد ہوا۔ اب اس سے زیادہ عجیب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت کا قصہ بیان کرتے ہیں۔ اس لیے کہ بوڑھے مرد اور بانجھ عورت سے بچہ پیدا ہونا اگرچہ عجیب ہے۔ مگر والدین سے بچہ کا پیدا ہونا عادۃ قریب الی العقل ہے اور بغیر باپ کے محض ماں سے بچہ پیدا ہونا بہت ہی عجیب و غریب ہے جو اللہ کی کمال قدرت پر دلالت کرتا ہے کہ خدائے تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 22–23

17:۔ حضرت جبریل (علیہ السلام) نے حضرت مریم کے گریبان میں پھونک مارا جس سے وہ فوراً حاملہ ہوگئیں۔ ” فانتبذت بہ “ اور اس کے بعد ” فاجاءھا المخاض “ یعنی وہ اس کے فوراً بعد ایک دور جگہ چلی گئی اور پھر فورا درد زہ ایک کھجور کے سایہ میں لے آیا۔ ان پر فاء کا دخول جو تراخی بلا مہلت پر دلالت کرتی ہے اس سے بعض لوگوں نے استدلال کیا ہے کہ حمل کے فورا بعد بچے کی پیدائش ہوگئی تھی اور مدت حمل لمبی نہیں ہوئی (قرطبی ج 11 ص 92) ۔ لیکن حضرت عبداللہ بن عباس اور دیگر مفسرین کا قول ہے کہ مدت حمل ممتد تھی۔ جس طرح عام عورتوں کی ہوتی ہے۔ حضرت ابن عباس سے نوماہ، عطا، ابو العالیہ اور ضحاک سے سات ماہ اور بعض سے ماہ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 22–26

ربط آیات : پہلے حضرت مریم (علیہ السلام) کی ولادت کا ذکر ہوا ، پھر جب وہ جوان ہوگئیں ، تو اللہ کی طرف سے فرشتہ انسانی شکل میں متمثل ہو کر تنہائی میں ان کے سامنے آگیا ، حضرت مریم (علیہ السلام) کو بڑا استعجاب ہوا اور انہوں نے خدا تعالیٰ کی پناہ طلب کی ، فرشتے نے کہا کہ میں تیرے پروردگار کا فرستادہ ہوں اور تجھے ایک بچہ عطا کرنا چاہتا ہوں ، اس پر حضرت مریم (علیہ السلام) کو مزید تعجب ہوا کہ نہ تو ان کا نکاح ہوا ہے اور نہ ہی مقاربت ، وہ بدکار بھی نہیں ہیں ، تو پھر بچہ کیسے ہوگا ، اللہ تعالیٰ کے فرشتے نے کہا کہ بچہ پیدا کرنا تیرے پروردگار کے لیے نہایت آسان ہے ، وہ قادر مطلق ہے اور ہر چیز کام کرنے پر…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَـحَمَلَتْہُ فَانْتَبَذَتْ بِہٖ مَكَانًا قَصِيًّا۝ 22 حمل الحَمْل معنی واحد اعتبر في أشياء کثيرة، فسوّي بين لفظه في فعل، وفرّق بين كثير منها في مصادرها، فقیل في الأثقال المحمولة في الظاهر کا لشیء المحمول علی الظّهر : حِمْل . وفي الأثقال المحمولة في الباطن : حَمْل، کالولد في البطن، والماء في السحاب، والثّمرة في الشجرة تشبيها بحمل المرأة، قال تعالی: وَإِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ إِلى حِمْلِها لا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ [ فاطر/ 18] ، ( ح م ل ) الحمل ( ض ) کے معنی بوجھ اٹھانے یا لادنے کے ہیں اس کا استعمال بہت سی چیزوں کے متعلق ہوتا ہے اس لئے گو صیغہ فعل یکساں رہتا ہے مگر بہت سے استعمالات میں بلحاظ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 21–23

1 ؎ یعنی مریم کو بغیر باپ کے بچہ دینے میں اظہار قدرت کاملہ اور لوگوں پر رحمت مقصود تھی رحمت اس لیے کہ ماں ہی کا اثر مولود میں ظاہر ہو اور عورت کی ذات میں قدرت نے نرمی اور شفقت رکھی ہے حضرت موسیٰ کے جلال کے بعد جن کے عہد میں بنی اسرائیل پر سخت سخت احکام فرض ہوئے ایک ایسا ہی رحم دل اور نرم نبی مبعوث کرنا عین حکمت تھا تاکہ بنی اسرائیل کو ان سخت احکام سے سبکدوش کرے۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

فَحَمَلَتْہُ فَانْتَبَذَتْ بِہٖ مَکَانًا قَصِیًّا۔ (مریم : 22) (پس حضرت مریم نے اس بچہ کا حمل اٹھا لیا اور وہ اس کو لے کر ایک دور کے مقام کو چلی گئیں۔ ) دُور کی جگہ سے مراد بیت اللحم ہے حضرت جبرائیل امین (علیہ السلام) نے حضرت مریم کے گریبان میں پھونک ماری اور وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے حاملہ ہوگئیں، جب وہ پیٹ میں حمل کو محسوس کرنے لگیں تو اس خیال نے انھیں پریشان کردیا کہ آہستہ آہستہ یہ راز دوسروں پر بھی آشکارا ہونے لگے گا تو میں اس حجرے میں اعتکاف کی حالت میں محصور ہونے کے باوجود لوگوں کو کیسے مطمئن کرسکوں گی کہ یہ ایک راز الٰہی ہے اور اگر انھیں بتا بھی دوں تو اسے تسلیم کون کرے گا۔ نتیجہ یہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 22–26

فہم القرآن ربط کلام : فرشتے نے حضرت مریم [ کے جسم پر پھونک ماری جس سے وہ حاملہ ہوگئیں۔ اٹھائیسویں پارہ سورة التحریم کی آخری آیت میں جبرائیل امین (علیہ السلام) کی پھونک کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف منسوب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے عمران کی بیٹی مریم [ جس نے اپنی شرم و حیاء کی حفاظت فرمائی۔ ہم نے اس میں اپنی روح پھونک دی۔ جبرئیل امین کی پھونک کے ساتھ وہ حاملہ ہوگئیں تو اس حالت میں مسجد اقصیٰ سے دور ایک مکان میں جا ٹھہریں۔ جب اسے زچگی کی تکلیف محسوس ہوئی تو وہ ایک کھجور کے تنے کے قریب آئیں۔ تکلیف اور ولادت کی وجہ سے بےساختہ کہنے لگی ہائے کاش ! میں اس سے پہلے مرچکی ہوتی اور لوگوں کے ذہن میں بھولی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

حمل مریم کے متعلق ابن عباس ؓ کا قول : 22: جب وہ ان کی بات سے مطمئن ہوگئیں تو ان کے قریب ہوئیں جبرئیل نے ان کے گریبان میں پھونک ماری وہ پھونک ان کے پیٹ تک پہنچی۔ فَحَمَلَتْہُ (پس وہ اس بچے سے حاملہ ہوگئیں) یعنی جو بچہ ان کو عطا کرنا تھا۔ مریم کی اس وقت عمر تیرہ سال یا دس یا بیس سال تھی۔ فَانْتَبَذَتْ بِہٖ (پس اس حمل کو لیکر ایک جگہ میں چلی گئیں) یعنی وہ دور چلی گئیں اس حال میں کہ حمل ان کے پیٹ میں تھا۔ نحو : یہ جار اور مجرور موضع حال میں ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ان کی مدت حمل ایک لمحہ تھی جو نہی وہ حاملہ ہوئیں اسی وقت وہ الگ ہوگئیں ایک کمزور قول یہ ہے کہ چھ مہینے مدت تھی دوسرا قول سات…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

22۔ فحملتہ، ، بعض حضرات کا قول ہے کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے کرتے کے گریبان کو چٹکی سے پکڑ کر کھینچا اور پھر گریبان پر پھونک مار دی ، جب انہوں نے وہ کرتا پہنچا تو وہ حاملہ ہوگئیں، اور بعض نے کہا کہ حضرت مریم کے دوپٹہ کو انگلی سے پکڑ کر کھینچا اور اس پر پھونک ماردی بعض نے کہا کہ قمیص کی آستین میں پھونک ماری بعض نے کہا کہ حضرت مریم علیہماالسلام کے منہ میں پھونک ماری اور بعض حضرات نے کہا کہ حضرت جبرائیل نے دور سے ان کے گربیان میں پھونک ماردی۔ فانتبذت بہ، جب وہ حاملہ ہوگئیں توحمل کو لیے ہوئے گھر سے دور چلی گئیں، مکانا قضیا، اپنے گھروالوں سے دور ہوگئیں۔ ابن عباس کا قول ہے کہ وادی بیت المقدس…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 22–26

22۔ 26:۔ صحیح بخاری میں عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : مرد اور عورت کا نطفہ چالیس روز تک عورت کے رحم میں رہ کر جما ہوا خون ہوجاتا ہے پھر اس خون کا گوشت بن جاتا ہے اور اس گوشت سے ہڈیاں بن کر ان ہڈیوں پر گوشت کا غلاف چڑھ جاتا ہے اس طرح ساڑھے چار مہینے میں یہ سب کچھ ہو کر بچہ کا پتلا تیار ہوجاتا ہے اور پھر اس پتلہ میں روح پھونک دی جاتی ہے 1 ؎۔ یہ تو سب عورتوں کے حمل کی حالت ہوئی حضرت مریم کے حمل میں یہ بات نہیں ہوئی کہ بجائے مرد اور عورت کے نطفہ کے فقط عورت کے نطفہ سے کلمہ کن کے موافق پتلہ تیار ہوا اور پتلہ سے اس روح کا تعلق ہوگیا جو روح جبرئیل (علیہ السلام) نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 22–26

آیت 22 جب حضرت مریم علیھا السلام کو حمل ٹھہر گیا تو وہ فضیحت اور رسوائی کے خوف سے لوگوں سے دور چلی گئیں (مکانا قصیا) ” دور جگہ “ جب بچہ جننے کا وقت قریب آیا تو زچگی کی تکلیف نے ان کو کھجور کے نیچے پناہ لینے پر مجبور کردیا۔ جب حضرت مریم علیھا السلام کو زچگی کی تکلیف برداشت کرنا پڑی، کھانے پینے کی عدم موجودگی کی تکلیف کا اسمنا کرنا پڑا اور سب سے بڑی بات یہ کہ لوگوں کی تکلیف دہ باتوں اور طعنوں سے دلی صدمہ پہنچا اور انہیں خوف ہوا کہ کہیں صبر کا دامن ان کے ہاتھ سے نہ چھوٹ جائے۔۔۔. تو انہوں نے تمنا کی کہ کاش وہ اس حادثہ سے پہلے ہی مرگئی ہوتیں، ان کو بھلا دیا جاتا اور ان کا کہیں تذکرہ تک نہ ہوتا۔…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 11–22

محراب کیا ہے ؟ قول باری ہے (فخرج علی قومہ من المحراب۔ چناچہ وہ محراب سے نکل کر اپنی قوم کے سامنے آئے) ابوعبیدہ کا قول ہے کہ محراب صدر مجلس یعنی بیٹھنے کی جگہ کے درمیان والے حصے کو کہتے ہیں۔ اسی سے مسجد کا محراب نکلا ہے۔ ایک قول کے مطابق محراب غرفہ یعنی بالا خانہ کو کہتے ہیں۔ اسی سے قول باری ہے (اذ تسوروا المحراب ۔ جب وہ دیوار پھاند کر حجرہ میں آ گئے ) ایک اور قول ہے کہ محراب مصلی یعنی نماز پڑھنے کی جگہ کو کہتے ہیں۔ گونگے کے اشارے سے عمل درآمد ہوسکتا ہے قول باری ہے (فاوحی الیھم اس نے انہیں اشارے سے کہا) ایک قول کے مطابق حضرت زکریاعلیہ السلام نے اپنی قوم کو ہاتھ کے اشارے سے کہا اس طرح ہاتھ کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 18–22

29 حضرت مریم کے حمل اور آپ کی کنارہ کشی کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " حضرت مریم کو حمل ہوگیا تو وہ اس کو لے کر ایک دور جگہ چلی گئیں "۔ جنگل یا پہاڑ میں۔ اور یہ غالباً " بیت اللحم " کا وہی مقام ہے جہاں حضرت عیسیٰ کی ولادت کا ذکر مشہور ہے۔ اور جو کہ بیت المقدس سے کوئی آٹھ میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ اور حمل اور وضع حمل کے اس قصے کے بارے میں آگے علمائے کرام کے دو قول ہیں۔ ایک یہ کہ یہ سب کچھ عام معمول کے مطابق چھ سات ماہ کے عرصے میں ہوا۔ اور دوسرا یہ کہ سب کچھ خرق عادت کے طور پر ایک ہی ساعت میں ہوگیا۔ (الفتوحات الالہیۃ، المعروف الجمل، صفوہ وغیرہ) ۔ " قصیّ " کے معنیٰ دور کے ہیں۔ آگے اس امر کی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 16–34

سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش اور بچپن کی گفتگو تشریح : سیدہ مریم کا پورا واقعہ سورة آل عمران میں بڑی وضاحت سے گزر چکا ہے کہ آپ کی والدہ نے آپ کو بیت المقدس میں عبادت کے لیے بٹھا دیا تھا۔ یہ محراب شرقی حصہ میں واقعہ تھی، جہاں آپ نے ایک پردہ ڈال کر اپنے آپ کو لوگوں کی نظروں سے چھپا رکھا تھا۔ سیدنا یحییٰ (علیہ السلام) کے ساتھ ہی سیدہ مریم (علیہا السلام) کا ذکر کیا گیا ہے۔ سیدنا یحییٰ (علیہ السلام) کی پیدائش بھی اللہ کی قدرت کی کامل نشانی ہے اور سیدنا مریم (علیہا السلام) کا انتہائی پاکدامن اور نیک ہونے کے باوجود بغیر کسی مرد کے ملے (نکاح وغیرہ) بیٹا پیدا کرنا بھی اللہ کی بہت بڑی نشانیوں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 16–41

(رکوع نمبر 2) اسرارومعارف اور اے حبیب ﷺ اس سے عجیب تر اور فکر انگیز واقعہ ایسی کتاب اللہ میں سنا دیجئے جو حضرت مریم (علیہا السلام) کا ہے اور جس کے متعلق یہود اور نصاری نے اپنے اپنے نظریات گھڑ رکھے ہیں کہ اس کی حقیقی اور واقعی صورت کیا ہے یہ بات تب شروع ہوتی ہے جب حضرت مریم (علیہا السلام) اپنے گھر والوں سے الگ ہو کر غسل وغیرہ کرنے کے لیے پردہ میں چلی گئیں تو وہاں ان کے پاس حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو بھیجا جس نے انسانی شکل میں ظاہر ہو کر ان سے بات کرنا چاہی ، یاد رہے حضرت مریم (علیہا السلام) کا ذکر آل عمران میں گذر چکا ہے ۔ (اولیاء اللہ سے فرشتہ کا ہمکلام ہونا) کہ ان کی والدہ نے منت مانی تھی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 10 تاکہ حمل کے دن لوگوں کے طعن وتشنیع اور چہ میگوئیوں سے محفوظ رہ کر گزار سکیں۔ ” دور کان “ سے مراد بیت اللحم ہے جو بیت المقدس سے آٹھ میل دور واقع ہے اسی کا نسائی میں حضرت انس کی ایک روایت میں ذکر ہے اور یہی وہ مشہور بات ہے جسے مفسرین یکے بعد دیگرے نقل کرتے رہے ہیں اور اس باب میں نصاریٰ کو بھی کوئی شک نہیں ہے۔ (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(19:22) فحملتہ۔ پس اس نے اس کو اٹھایا۔ اس کو پیٹ میں رکھا۔ حملت حمل سے ہے۔ جس کا معنی پیٹ کا بچہ۔ حمل (احمال) جمع ہے۔ ماضی واحد مؤنث غائب ہُ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب۔ جس کا مرجع پیٹ کا بچہ ہے۔ انتبذت۔ ملاحظہ ہو 19:16 ۔ انتبذت بہ۔ اس کو لے کر ایک طرف الگ ہوگئی۔ قصیا۔ القصی کے معنی بعید۔ دور کے ہیں۔ اس کی جمع اقصاء ہے۔ مؤنث قصیۃ ہے اس کی جمع قصایا ہے قصومادہ۔ قصا یقصوا (نصر) قصو وقصو وقصائمصدر مکانا قصیا۔ دور جگہ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 22–36

لغات القرآن آیت نمبر 22 تا 36 انتبذت (انتباذ) الگ ہوگئی، جدا ہوگئی قصی دور کا فاصلہ۔ المخاض زچگی کا درد۔ دردزہ۔ جزع جڑ۔ نسیا منسیا بھولی بسری چیز۔ بےنام و نشان ہوجانا۔ سری پانی کا چشمہ۔ ھزی ہلالی۔ جھکادے۔ تساقط گرائی گی۔ رطب ترو تازہ۔ جنی پکا ہوا پھل۔ قری عین آنکھیں ٹھنڈی رکھ۔ ترین تو دیکھے۔ نذرت میں نے منت مان رکھی ہے۔ تحملہ وہ اس کو اٹھا لائے۔ فری (افترائ) عجیب اور نرالی بات۔ المھد گود۔ صبی بچہ۔ اوصنی مجھے حکم دیا۔ مادمت حیا جب تک میں زندہ ہوں۔ شقی بدنصیب، بدنصیب، بدقسمت۔ یمترون وہ شک کرتے ہیں۔ تشریح : آیت نمبر 22 تا 36 حضرت مریم نے جب سے ہوش سنبھالا تھا اس وقت سے وہ اللہ تعالیٰ کے ذکر میں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 22–26

اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ سب عورتوں کی حمل کی جو حالت ہوتی ہے، وہ حضرت مریم کے حمل کی نہیں تھی۔ اور یہ بات نئی ہوئی کہ بجائے مرد اور عورت کے نطفہ کے فقط عورت کے نطفہ سے کلمہ کن کے موافق پتلا تیار ہوا، اور پتلے سے اس روح کا تعلق ہوگیا۔ جو روح جبرئیل (علیہ السلام) نے حضرت مریم کے جسم میں پھونک دی تھی۔ پس وہ اس حمل کو دیکھ کر ایک دور مکان میں جا بیٹھیں اور جس وقت ان کو درد زہ شروع ہوا وہ ایک کھجور کے درخت کے نیچے گئیں۔ اس مقام پر نہ تو پانی تھا، نہ کوئی دائی تھی، نہ کوئی کھانے کی شے، اور نہ کوئی پینے کی۔ الغرض ہر قسم کی بےسروسامانی تھی۔ ادھر بدنامی کا خیال سب سے زیادہ غالب تھا۔ ایسی حالت میں انسان…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 18–22

مسیح (علیہ السلام) کا تولد : (ف 1) ان آیات میں حسب ذیل نکات کا ذکر ہے ۔ 1۔ حضرت مریم (علیہ السلام) کا کسی جنسی یا غیر جنسی ضرورت کے لئے خلوت اختیار کرنا ، 2۔ جبرئل (علیہ السلام) کا انسانی شکل میں نمودار ہونا ، اور حضرت مریم (علیہ السلام) کا از راہ پاکبازی ان سے اپنے خوف کا اظہار کرنا ۔ 3۔ جبرئیل (علیہ السلام) کا فرمانا کہ میں ایک خاص ضرورت سے آیا ہوں یعنی تم کو ایک پاکباز لڑکے کی خوشخبری سناؤں ۔ 4۔ حضرت مریم (علیہ السلام) کا اظہار تعجب کہ یہ کیونکر ہوسکتا ہے جبکہ میں شادی شدہ نہیں ہوں اور نہ کسی مرد سے میرا کبھی تعلق ہوا ۔ 5۔ جبرائیل (علیہ السلام) کا فرمانا کہ یہ بات تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-22 پھر مریم (علیہ السلام) کو لڑکے کا حمل ہوگیا اور بیٹے کا پیٹ رہ گیا اور وہ اس حمل کو لئے ہوئے لوگوں سے علیحدہ اور یکسو ہو کر ایک دور جگہ چلی گئی ۔ یعنی حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کی پھونک سے حمل رہ گیا۔ پھر جب آثار وضع حمل ظاہر ہوئے تو وہ شرم کی وجہ سے کسی دور مقام پر چلی گئی۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی جننے کے وقت 12۔ پھر مریم (علیہا السلام) کو حمل رہنے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت بقول عبداللہ بن عباس ؓ ایک گھڑی میں ہوئی، یعنی قیام حمل کے تھوڑیدیر کے بعد وضع حمل ہوگیا۔ بعض حضرات نے فرمایا ایک گھڑی حمل ٹھہرا اور دوسری گھڑی میں صورت بنی اور تیسرے گھنٹے میں حضرت عیسیٰ (علیہ…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

سیدہ مریم (علیہ السلام) کے حاملہ ہونے اور وطن سے ہجرت کرکے بیت لحم جانے کا ذکر : 22۔ فرشتہ سے یہ خوشخبری سننا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ناموافق حالات کو موافق کردیا اور اللہ تعالیٰ نے ساری روک دور کردی جس کا نتیجہ وہی نکلا جس کا اللہ تعالیٰ کے ہاں فیصلہ ہوچکا تھا اور بحمد اللہ سیدہ مریم (علیہ السلام) حاملہ ہوگئیں ، اس بشارت میں اور سیدہ مریم (علیہ السلام) کے حاملہ ہونے کے درمیان کتنا وقت گزرا ؟ اللہ تعالیٰ ہی حقیقت حال کو جانتا ہے لیکن یہ بات یقینی ہے کہ جب آپ حاملہ ہوئیں تو آپ کو اور آپ کے سارے خاندان کو جس نے آپ کے نکاح کا بندوبست کیا تھا اور قوم کے رواج کے خلاف آپ کا ساتھ دیا تھا ان سب کو یہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 19–22

لِأَهَبَ لَكِ غُلَامًا (to give you a boy - 19:19) Here Sayyidna Jibra'n (علیہ السلام) had attributed to himself the gift of the child because Allah Ta’ ala had sent him in order that he should breathe into her collar, and this breath would be the means of her conceiving the child, whereas in reality this gift was by the act of Allah.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

16. When she conceived the child, she left the sanctuary and went to a distant place (Bethlehem) in order to escape the bitter criticism of the people. They would have said: Look at the virgin daughter of the pious house of Aaron! She has conceived a child and that, too, in the sanctuary where she had retired for devotion! Thus she temporarily succeeded in concealing the shame of the conception, but this event itself is a proof that prophet Jesus was born without a father. Had Mary been married and had a husband, she would not have left his or her parents house by herself and chosen a distant…

Read the full tafseer →