Explained with ayahs 16–21
ناممکن کو ممکن بنانے پہ قادر اللہ تعالیٰ۔
اوپر حضرت زکریا ؑ کا ذکر ہوا تھا اور یہ بیان فرمایا گیا تھا کہ وہ اپنے پورے بڑھاپے تک بےاولاد رہے ان کی بیوی کو کچھ ہوا ہی نہ تھا بلکہ اولاد کی صلاحیت ہی نہ تھی اس پر اللہ نے اس عمر میں ان کے ہاں اپنی قدرت سے اولاد عطا فرمائی حضرت یحییٰ ؑ پیدا ہوئے جو نیک کار اور وفا شعار تھے اس کے بعد اس سے بھی بڑھ کر اپنی قدرت کا نظارہ پیش کرتا ہے۔ حضرت مریم ؑ کا واقعہ بیان کرتا ہے کہ وہ کنواری تھیں۔ کسی مرد کا ہاتھ تک انہیں نہ لگا تھا اور بےمرد کے اللہ تعالیٰ نے محض اپنی قدرت کاملہ سے انہیں اولاد عطا فرمائی حضرت عیسیٰ ؑ جیسا فرزند انہیں دیا جو اللہ کے برگزیدہ…
Read the full tafseer →سورة مَرْیَم 15
جیسا کہ ہم 6 میں اشارہ کر آئے ہیں حضرت مریم کے استعجاب پر فرشتے کا یہ کہنا کہ " ایسا ہی ہوگا " ہرگز اس معنی میں نہیں ہوسکتا کہ بشر تجھ کو چھوئے گا اور اس سے تیرے ہاں لڑکا پیدا ہوگا، بلکہ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ تیرے ہاں لڑکا ہوگا باوجود اس کے کہ تجھے کسی بشر نے نہیں چھوا ہے۔ اوپر انہی الفاظ میں حضرت زکریا کا استعجاب نقل ہوچکا ہے۔ اور وہاں بھی فرشتے نے یہی جواب دیا ظاہر ہے کہ جو مطلب اس جواب کا وہاں ہے وہی یہاں بھی ہے۔ اس طرح سورة ، آیات (28۔ 30) میں جب فرشتہ حضرت ابراہیم کو بیٹے کی بشارت دیتا ہے اور حضرت سارہ کہتی ہیں کہ مجھ بوڑھی بانجھ کے ہاں بیٹا کیسے ہوگا تو فرشتہ ان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
لِاَهَبَ لَكِاب میں عطاء فرزند کو جبرئیل ؑ نے اپنی طرف اس لئے منسوب کیا کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے اس کام کے لئے بھیجا تھا کہ ان کے گریبان میں پھونک ماردیں۔ یہ پھونک عطاء فرزند کا ذریعہ بن جائے گی، اگرچہ یہ عطاء دراصل فعلِ الٰہی ہے۔
Read the full tafseer →قَالَ كَذَلِكِ قَالَ رَبُّكِ هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٌ وَلِنَجْعَلَهُ آيَةً لِلنَّاسِ وَرَحْمَةً مِنَّا وَكَانَ أَمْرًا مَقْضِيًّا
ولنجعلہ کا معطوف علیہ یہاں بربنائے قرینہ محذوفہ۔ اگر اس کو کھول دیجیے تو پوری بات گویا یوں ہوگی کہ تمہارے رب کا ارشاد یہ ہے کہ ہم ایسا اس لیے کریں گے کہ اس کو بنی اسرائیل کے لیے رسول بنائیں اور وہ لوگوں کے لیے ہماری طرف سے ایک نشانی اور رحمت ہو۔
حضرت عیسیٰ ؑ ایک نشانی ہیں : حضرت عیسیٰ کا ایک نشانی ہونا قرآن میں جگہ جگہ مذکور ہے۔ ملاحظہ ہو سورة انبیاء 91 اور مومنون آیت 50۔ ہمارے حضرت عیسیٰ ؑ کی خارق عادت ولادت قیامت کی بہت بڑی نشانی ہے۔ نادانوں کو قیامت پر سب سے بڑا شبہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
21۔ 1 یعنی یہ بات تو صحیح ہے کہ تجھے مرد سے مقاربت کا کوئی موقع نہیں ملا ہے، جائز طریقے سے نہ ناجائز طریقے سے۔ جب کہ حمل کے لئے عادتًا یہ ضروری ہے۔
21۔ 2 یعنی میں اسباب کا محتاج نہیں ہوں، میرے لئے یہ بالکل آسان ہے اور ہم اسے اپنی قدرت تخلیق کے لئے نشانی بنانا چاہتے ہیں۔ اس سے قبل ہم نے تمہارے باپ آدم کو مرد اور عورت کے بغیر، اور تمہاری ماں حوا کو صرف مرد سے پیدا کیا اور اب عیسیٰ ؑ کو پیدا کر کے چوتھی شکل میں بھی پیدا کرنے پر اپنی قدرت کا اظہار کرنا چاہتے ہیں اور وہ ہے صرف عورت کے بطن سے، بغیر مرد کے پیدا کردینا۔ ہم تخلیق کی چاروں صورتوں پر قادر ہیں۔
21۔ 3 اس سے مراد نبوت ہے جو اللہ کی رحمت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
11: انسان کی پیدائش کا عام طریقہ تو یہ ہے کہ وہ مرد اور عورت دونوں کے ملاپ سے پیدا ہوتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ کو اس طرح پیدا فرمایا کہ ان کی پیدائش میں نہ کسی مرد کا کوئی دخل تھا، نہ کسی عورت کا، اور حضرت حواء کو چونکہ انہی کی پسلی سے پیدا کیا گیا، اس لیے ان کی پیدائش میں مرد کا تو فی الجملہ دخل تھا، عورت کا کوئی دخل نہیں تھا۔ اب اللہ تعالیٰ نے پیدائش کی چوتھی صورت اپنی قدرت سے ظاہر فرمائی کہ حضرت عیسیٰ ؑ کو باپ کے بغیر صرف ماں سے پیدا فرمایا۔ اس سے ایک تو اللہ تعالیٰ کی قدرت کا مظاہرہ مقصود تھا اور دوسرے وہ ایک پیغمبر کی حیثیت میں لوگوں کے لیے رحمت بن کر تشریف لا رہے تھے۔
Read the full tafseer →قال کذلک قال ربک ھو علی ھین ولنجعلہ ایۃ للناس و رحمۃ منا (91 : 12) ” فرشتے نے کہا ایسا ہی ہوگا تیرا رب فرماتا ہے کہ ایسا کرنا میرے لئے بہت آسان ہے اور ہم یہ اس لئے کریں گے کہ اس لڑکے کو لوگوں کے لئے نشانی بنائیں اور اپنی طرف سے رحمت۔ “
یہ خارق عادت طریقہ ولادت جس کے بارے میں مریم بھی نہیں سوچ سکتی اللہ کے لئے بہت آسان ہے۔ کیونکہ اللہ جب کسی چیز کو وجود میں لانا چاہتے ہیں تو وہ صرف کن کہتے ہیں اور وہ ہوجاتی ہے۔ اللہ کے لئے سب کچھ آسان ہے چاہے مروجہ سنت الہیہ کے مطابق قدرتی طریقوں سے ہو یا غیر معمولی طریقوں سے ہو۔ فرشتہ اب صاف صاف بتا دیتا ہے کہ خدا کا یہی فرمان ہے کہ ایسا ہی ہوگا اور میرے لئے…
Read the full tafseer →1 یہ وہی جواب ہے جو حضرت زکریا (علیہ السلام) کو دیا گیا تھا۔ گذشتہ رکوع میں دیکھ لیا جائے۔
2 یعنی یہ کام ضرور ہو کر رہے گا، پہلے سے طے شدہ ہے، تخلف نہیں ہوسکتا۔ ہماری حکمت اسی کو مقتضی ہے کہ بدون مس بشر کے محض عورت کے وجود سے بچہ پیدا کیا جائے۔ اور وہ دیکھنے اور سننے والوں کے لیے ہماری قدرت عظیمہ کی ایک نشانی ہو کیونکہ تمام انسان مرد و عورت کے ملنے سے پیدا ہوتے ہیں۔ آدم (علیہ السلام) دونوں کے بدون پیدا ہوئے اور حوا کو صرف مرد کے وجود سے پیدا کیا گیا۔ چوتھی صورت یہ ہے کہ جو حضرت مسیح میں ظاہر ہوئی کہ مرد کے بدون صرف عورت کے وجود سے ان کا وجود ہوا۔ اس طرح پیدائش کی چاروں صورتیں واقع ہوگئیں۔ پس…
Read the full tafseer →آیت 21 قَالَ کَذٰلِکِ
یعنی کسی مرد کے تعلق کے بغیر ہی اللہ تعالیٰ آپ کو بیٹا عطا فرمائے گا۔
قَالَ رَبُّکِ ہُوَ عَلَیَّ ہَیِّنٌج وَلِنَجْعَلَہٗٓ اٰیَۃً لِّلنَّاسِ وَرَحْمَۃً مِّنَّاج وَکَانَ اَمْرًا مَّقْضِیًّا
یعنی اس بچے کو ہم لوگوں کے لیے معجزہ اور اپنی رحمت کا ذریعہ بنانے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ چناچہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش بھی معجزہ تھی ‘ آپ علیہ السلام کا رفع سماوی بھی معجزہ تھا اور اس کے علاوہ بھی آپ علیہ السلام کو بہت سے معجزات عطا ہوئے تھے۔ غرض آپ علیہ السلام کی شخصیت ہر لحاظ سے غیر معمولی ‘ ممیز اور ممتاز تھی۔
Read the full tafseer →22 سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش خود ایک معجزہ تھی :۔ یعنی ناممکن ہونے کے باوجود ممکن ہے اور ایسا ہو کے رہے گا کیونکہ اللہ کے لئے یہ کوئی مشکل کام نہیں۔ اور یہ اس لئے ہوگا کہ ہم اس لڑکے کو تمام لوگوں کے لئے ایک زندہ جاوید معجزہ بنادیں۔ پھر یہ لڑکا ہماری طرف سے تمہارے لئے از راہ رحم و کرم عطیہ بھی ہے اور تمام لوگوں کے لئے بھی رحمت ثابت ہوگا۔
واضح رہے کہ تخلیق کے لئے چار ہی صورتیں ہوسکتی ہیں۔
ایک یہ کہ ماں اور باپ دونوں سے پیدا ہو، یہ صورت عام ہے اور سب انسان یا جاندار ایسے ہی پیدا ہوئے ہیں۔ دوسری یہ کہ ماں اور باپ دونوں کے بغیر پیدا ہو۔ اس طرح سیدنا آدم کو پیدا کیا گیا۔ تیسری یہ کہ صرف…
Read the full tafseer →27۔ (بلامس بشر) انجیل میں یہ قصہ یوں درج ہے :۔ ” اب یسوع مسیح کی پیدائش اس طرح ہوئی کہ جب اس کی ماں مریم کی منگنی یوسف کے ساتھ ہوگئی تو ان کے اکٹھے ہونے سے پہلے وہ روح القدس کی قدرت سے حاملہ پائی گئی۔ پس اس کے شوہر یوسف نے جو راستباز تھا اور اسے بدنام کرنا نہیں چاہتا تھا، چپکے سے اس کے چھوڑدینے کا ارادہ کیا۔ وہ ان باتوں کو سوچ ہی رہا تھا کہ خداوند کے فرشتہ نے اسے خواب میں دکھائی دے کر کہا اے یوسف ابن داؤد، اپنی بیوی مریم کو اپنے ہاں لے آنے سے نہ ڈر، کیونکہ جو اس کے پیٹ میں ہے وہ روح القدس کی قدرت سے ہے، وہ بیٹا جنے گی اور تو اس کا نام یسوع رکھنا “ (متی۔ 1: 18۔ 21) قرآن مجید کی توحید خالص اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–25
آیت نمبر 16 تا 25
ترجمہ : اور اے محمد ﷺ اس کتاب یعنی قرآن میں مریم کا یعنی ان کے واقعہ کا ذکر کیجئے جب کہ وہ اپنے اہل خانہ سے الگ ہو کر ایک ایسے مکان میں جو شرقی جانب تھا چلی گئیں یعنی دار (بیت المقدس) کے مشرقی جانب کسی جگہ تنہائی میں چلی گئیں اور اہل خانہ کی جانب سے پردہ ڈال لیا، یعنی پردہ لٹکا لیا تاکہ آڑ ہوسکے (اور) اپنے سریا کپڑوں میں جوں دیکھ سکے یا حیض سے طہارت کے لئے غسل کرسکے تو ہم نے اس کے پاس اپنی روح جبرئیل (علیہ السلام) کو بھیج دیا تو وہ ان کے سامنے کپڑے پہننے کے بعد مکمل مرد بن کر نمودار ہوا حضرت مریم کہنے لگیں کہ میں تجھ سے اپنے خدا کی پناہ طلب کرتی ہوں اگر تجھے کچھ بھی خوف خدا…
Read the full tafseer →قال کذلک جبرئیل ( علیہ السلام) نے کہا یوں ہی ہوجائے گا ‘ یعنی اللہ بغیر باپ کے لڑکا پیدا کر دے گا۔
قال ربک ہو علی ہیں تیرے رب نے فرمایا ہے کہ وہ (یعنی بغیر باپ کے بچے کا پیدا کرنا) میرے لئے آسان ہے۔
ولنجعلہ ایۃ للناس ورحمۃ منا وکان امقرا مقضیا۔ ہم ایسا کردیں گے اس لئے کہ یہ ہمارے لئے کچھ دشوار نہیں) اور اس لئے کہ ہم اس کو لوگوں کے لئے (اپنی قدرت کاملہ کی) نشانی اور رحمت بنا دیں اور یہ کام طے شدہ ہے۔
اٰیَۃً لِّلنَّاس یعنی ہماری قدرت کاملہ پر ایمان رکھنے کی نشانی۔
وَرَحْمَۃً یعنی ہم اس کو بندوں کے لئے رحمت بنا دیں گے۔
وَکَانَ اَمْرًا مَّقْضِیًّا یعنی ازل میں فیصلۂ خداوندی اس کام کا ہوچکا ہے یا…
Read the full tafseer →(21) جبریل امین ؑ نے فرمایا بس جس طرح تم سے کہا ہے اسی طرح ہوجائے گا تمہارے پروردگار کا ارشاد ہے کہ بغیر باپ کے لڑکا پیدا کرنا میرے لیے آسان ہے اور تاکہ ہم اس بغیر باپ کے بیٹے کو بنی اسرائیل کے لیے ایک نشانی بنائیں اور جو ان پر ایمان لائے اس کے لیے باعث رحمت بنائیں اور یہ ایک طے شدہ بات ہے کہ بغیر باپ کے لڑکا پیدا ہوگا۔
Read the full tafseer →قَالَ كَذٰلِكِ : جبریل ؑ نے کہا، ایسے ہی ہوگا کہ نکاح یا زنا کے بغیر ہی تمہیں بیٹا عطا ہوگا۔
قَالَ رَبُّكِ هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٌ : مزید کہا کہ تیرے رب نے فرمایا ہے کہ کسی مرد کے بغیر تجھے بیٹا دینا میرے لیے بالکل آسان ہے۔
وَلِنَجْعَلَهٗٓ۔۔ : واؤ کے بعد یہاں الفاظ محذوف ہیں، یعنی اور (ہم نے اس طرح کیا) تاکہ ہم اسے اپنی قدرت کی بہت بڑی نشانی اور معجزہ بنائیں کہ ہم صرف عورت سے بھی انسان پیدا کرسکتے ہیں، جیسا کہ اس سے پہلے تین نشانیاں موجود ہیں کہ ماں باپ کے بغیر انسان (آدم ؑ ، ماں کے بغیر انسان (حوا [) اور ماں باپ دونوں کے ساتھ انسان۔ تینوں ہماری قدرت کاملہ کا اظہار ہیں، اب اس سے ہماری قدرت کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–22
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فارسلنا الیھا روحنا، بعض علماء نے فرمایا : وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی روح تھی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے روحوں کو اجساد سے پہلے پیدا فرمایا تھا اور حضرت عیسیٰ کا جسم جو حضرت مریم کے پیٹ میں اللہ تعالیٰ نے تخلیق کیا تھا اس میں روح پھونکی۔ بعض علماء نے فرمایا : وہ جبرئیل (علیہ السلام) ہیں۔ روح کو اللہ کی طرف تخصیص اور کرامت کے لیے مضاف کیا گیا ہے۔ ظاہر ہے یہ جبرئیل (علیہ السلام) تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فتمثل لھا، یعنی فرشتہ مریم کے لیے انسانی شکل میں آیا۔ بشراً ، تفسیر یا حال ہے۔ سویا، متوازا خلقت والا، چونکہ حضرت مریم، جبریل کو اصلی شکل میں دیکھنے کی طاقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–24
1:۔ عبدالرزاق، عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اذ انتبذت “ یعنی الگ ہوگئیں (آیت) ” من اھلھا مکانا شرقیا “ یعنی مشرق کی طرف دور علیحدہ جگہ۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اذانتبذت من اھلھا مکانا شرقیا “ یعنی ایسی جگہ آپ چلی گئی تھیں جہاں سورج کی دھوپ پڑرہی تھی ایسا نہ ہو کہ لوگوں میں سے کوئی اس کو دیکھ لے۔
3:۔ فریابی، ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نصاری نے مشرق کو قبلہ بنالیا کیونکہ مریم (علیہا السلام) نے اپنے گھروالوں سے دور مشرقی جانب ایک جگہ بنالی تھی انہوں نے ان…
Read the full tafseer →[قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [كَذٰلِكِ : اس طرح سے ] [قَالَ : کہا ] [رَبُّكِ : آپ کے رب نے ] [هُوَ : وہ ] [عَلَيَّ : مجھ پر ] [هَيِّنٌ: آسان ہے ] [وَلِنَجْعَلَهٗٓ: اور تاکہ ہم بنائیں اس (لڑکے) کو ] [اٰيَةً : ایک نشانی ] [لِلنَاسِ : لوگوں کے لئے ] [وَرَحْمَةً : اور رحمت ہوتے ہوئے ] [مِّنَا : ہماری طرف سے ] [وَكَان : اور وہ ہے ] [اَمْرًا : ایک کام ] [مَّقْضِيًّا : فیصلہ کیا ہوا ]
Read the full tafseer →اور یہاں فرشتہ کا جواب یوں ذکر فرمایا ہے (قَالَ کَذٰلِکَ ) (فرشتے نے کہا یوں ہی ہوگا) (قَالَ رَبُّکَ ھُوَ عَلَیَّ ھَیّْنٌ) (تیرے رب نے فرمایا ہے وہ مجھ پر آسان ہے) جس نے بغیر ماں باپ کے آدم (علیہ السلام) کو اور بغیر ماں کے حضرت حوا کو پیدا فرما دیا اس کے لیے بغیر باپ کے پیدا فرمانا کیا مشکل ہے ؟ اس کے لیے سب کچھ آسان ہے۔ کما قال تعالیٰ فی سورة آل عمران (اِنَّ مَثَلَ عِیْسٰی عِنْدَ اللّٰہِ کَمَثَلِ آدَمَ ) (الایہ)
(وَلِنَجْعَلَہٗٓ اٰیَۃً لِّلنَّاسْ وَرَحْمَۃً مِّنَّا وَکَانَ اَمْرًا مَّقْضِیًّا) یہ بھی فرشتہ کے کلام کا تتمہ ہے فرشتے نے مزید کہا کہ (تیرے رب نے یوں بھی فرمایا ہے کہ ہم اس بچہ کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–33
قال اللٰہ تعالیٰ ۔ واذکر فی الکتٰب مریم۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ و یوم اموت ویوم ابعث حیا۔
(ربط) حق تعالیٰ نے گزشتہ رکوع میں حضرت زکریا (علیہ السلام) کا قصہ بیان فرمایا کہ بحالت پیری ایک پیر ناتواں اور ایک بانجھ اور بوڑھی بیوی سے بلا سبب ظاہری ایک مبارک فرزند یعنی یحییٰ (علیہ السلام) کا تولد ہوا۔ اب اس سے زیادہ عجیب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت کا قصہ بیان کرتے ہیں۔ اس لیے کہ بوڑھے مرد اور بانجھ عورت سے بچہ پیدا ہونا اگرچہ عجیب ہے۔ مگر والدین سے بچہ کا پیدا ہونا عادۃ قریب الی العقل ہے اور بغیر باپ کے محض ماں سے بچہ پیدا ہونا بہت ہی عجیب و غریب ہے جو اللہ کی کمال قدرت پر دلالت کرتا ہے کہ خدائے تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
16:۔ فرشتے کی باتیں سن کر حضرت مریم کو سخت حیرت ہوئی۔ اور اس سے پوچھنے لگیں کہ میرے بیٹا کس طرح پیدا ہوگا۔ حالانکہ مجھے کسی بشر نے نہ نکاح سے ہاتھ لگایا ہے نہ میں بدکار ہی ہوں۔ اس پر فرشتے نے کہا کہ تیرے رب نے یہ بھی فرمایا ہے کہ مس بشر کے بغیر بیٹا پیدا کرنا میرے لیے مشکل نہیں۔ بلکہ یہ ایک آسان کام ہے اور میں اس طرح بغیر باپ بیٹا پیدا کر کے اسے اپنی قدرت کا اعجاز بناؤں گا۔ اور وہ ایمان والوں کے لیے باعث رحمت ہوگا اور یہ بات لوح محفوط میں مقدر ہوچکی ہے یا ازل میں اس کا فیصلہ ہوچکا ہے (امرا مقضیا) محکما قد تعلق بہ قضاءنا الازلی او قد رو وسطر فی اللوح لبد من جریانہ علیک البتۃ (ابو السعود ج 9…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–21
ربط آیات :
پہلے رکوع میں حضرت زکریا (علیہ السلام) کا ذکر ہوا انہوں نے حضرت مریم (علیہا السلام) کے پاس بےموسم پھل دیکھے تو اللہ کی بارگاہ میں اولاد کے لیے درخواست کی حالانکہ وہ جس بڑھانے کو پہنچ چکے تھے وہاں عادۃ اولاد ہونے کا امکان نہیں ہوتا ، اللہ نے آپ کی دعا قبول فرمائی اور یحی (علیہ السلام) جیسا عظیم الشان فرزند عطا کیا جس کا نام بھی اللہ خود تجویز فرمایا اور اس نام کا پہلے کوئی بچہ نہیں تھا ۔ آپ کی پیدائش اللہ کی قدرت کا عظیم نمونہ تھی یہ اللہ تعالیٰ کی خاص مہربانی تھی جو اس نے اپنے برگزیدہ بندے زکریا (علیہ السلام) پر کی ، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یحی (علیہ السلام) کی حیثیت اور ان کی…
Read the full tafseer →قَالَ كَذٰلِكِ 0ۚ قَالَ رَبُّكِ ہُوَعَلَيَّ ہَيِّنٌ 0ۚ وَلِنَجْعَلَہٗٓ اٰيَۃً لِّلنَّاسِ وَرَحْمَۃً مِّنَّا 0ۚ وَكَانَ اَمْرًا مَّقْضِيًّا 21
هين
الْهَوَانُ علی وجهين :
أحدهما : تذلّل الإنسان في نفسه لما لا يلحق به غضاضة، فيمدح به نحو قوله : وَعِبادُ الرَّحْمنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْناً [ الفرقان/ 63] ونحو ما روي عن النبيّ صلّى اللہ عليه وسلم :«المؤمن هَيِّنٌ ليّن»
الثاني : أن يكون من جهة متسلّط مستخفّ بهفيذمّ به . وعلی الثاني قوله تعالی: الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذابَ الْهُونِ [ الأنعام/ 93] ، فَأَخَذَتْهُمْ صاعِقَةُ الْعَذابِ الْهُونِ [ فصلت/ 17] ، وَلِلْكافِرِينَ عَذابٌ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–23
1 ؎ یعنی مریم کو بغیر باپ کے بچہ دینے میں اظہار قدرت کاملہ اور لوگوں پر رحمت مقصود تھی رحمت اس لیے کہ ماں ہی کا اثر مولود میں ظاہر ہو اور عورت کی ذات میں قدرت نے نرمی اور شفقت رکھی ہے حضرت موسیٰ کے جلال کے بعد جن کے عہد میں بنی اسرائیل پر سخت سخت احکام فرض ہوئے ایک ایسا ہی رحم دل اور نرم نبی مبعوث کرنا عین حکمت تھا تاکہ بنی اسرائیل کو ان سخت احکام سے سبکدوش کرے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →قَالَ کَذٰلِکَ ج قَالَ رَبُّکَ ھُوَ عَلَیَّ ھَیِّنٌ ج وَلِنَجْعَلَـہٓٗ اٰیَـۃً لِّلنَّاسِ وَرَحْمَۃً مِّنَّا ج وَکَانَ اَمْرًا مَّقْضِیًّا۔ (مریم : 21)
(فرشتے نے کہا یونہی ہوگا، تیرے رب کا ارشاد ہے کہ یہ میرے لیے آسان ہے اور ہم یہ اس لیے کریں گے تاکہ لوگوں کے لیے اپنے قدرت کی نشانی اور اپنی جانب سے ایک رحمت بنائیں اور یہ ایسی بات ہے جس کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ )
حضرت مریم کے استبعاد کا ازالہ
سیاق وسباق اور فحوائے کلام کو دیکھتے ہوئے ” کَذٰلِکَ “ کا مطلب اور مفہوم اس کے سوا کچھ اور ہو ہی نہیں سکتا کہ مقصود یہ کہنا ہے کہ بیٹے کی ولادت میں ایک کنواری لڑکی کو کتنا بھی استبعاد معلوم ہو لیکن ویسا ہی ہوگا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔
حضرت مریم (علیہ السلام) نے حجرہ میں وارد ہونے والے انسان سے سختی کے ساتھ پوچھا تم کون ہو ؟ میں تجھے رب رحمن کا واسطہ دے کر کہتی ہوں اگر تم اللہ سے ڈرنے والے ہو تو یہاں سے نکل جاؤ۔ فرشتہ نے جواب دیا کہ میں آپ کے رب کا بھیجا ہوا ہوں تاکہ آپ کو پاکباز بیٹے کی خوشخبری دوں۔ حضرت مریم [ پہلے سے زیادہ حیران اور سراسیمگی کے عالم میں پوچھتی ہیں کہ میرے ہاں بیٹا کیسے ہوگا ؟ نہ کسی مرد نے مجھے چھوا اور نہ ہی میں بدکار ہوں۔ فرشتے نے کہا کہ اسی حالت میں تجھے بیٹا عطا کیا جائے گا کیونکہ تیرے رب کا فرمان ہے اس طرح بیٹا عطا کرنا اس کے لیے مشکل نہیں۔ یہ اس لیے ہوگا کہ…
Read the full tafseer →21: قَالَ کَذٰلِکِ (جبرئیل نے کہا اسی طرح) یعنی معاملہ اسی طرح ہے جس طرح تم نے کہا کہ تمہیں کسی مرد نے نکاح سے یا زنا سے نہیں چھوا۔ قَالَ رَبُّکِ ھُوَ عَلَیَّ ھَیِّنٌ (تمہارے رب نے کہا ہے کہ وہ مجھ پر آسان ہے) یعنی بغیر باپ کے لڑکا دینا میرے لئے آسان ہے۔ وَّلِنَجْعَلَہٗ اٰیَۃً لِّلنَّاسِ (اور تاکہ ہم اس کو لوگوں کیلئے نشانی بنادیں) یہ جملہ تعلیلیہ ہے اس کا معلل محذوف ہے تقدیر کلام اس طرح ہے ولنجعلہ آیۃ للناس فعلنا ذالک یا تعلیل مضمر پر اس کا عطف ہے تقدیر کلام اس طرح ہوگی لنبین بہٖ قدرتنا ولنجعلہ آیۃ للناس یعنی ہماری قدرت پر دلیل اور عبرت ہوگا۔ وَرَحْمَۃً مِّنَّا اور رحمت ہماری طرف سے) اس کے…
Read the full tafseer →21۔ قال، ، حضرت جبرائیل نے جواب دیا، کذالک، بعض نے کہا کہ اس کا معنی یہ ہے کہ اے مریم ! جس طرح آپ کہتی ہو اسی طرح ہوگا لیکن ، قال ربک، تمہارے رب نے کہا، ھو علی ھین، کہ وہ بغیر باپ کے پیدا کرنا میرے لیے آسان ہے۔ ولنجعلہ ایۃ۔ علامت بنادیں گے ، للناس، جو ہماری قدرت پر دلالت کرنے والی ہوگی۔ ورحمۃ منا، اور نعمت بنادیں گے جو اس کے دین کی تابعداری کرے گا، وکان، اور یہ کام ، امرامقضیا، یہ فیصلہ ہوچکا اور لوح محفوظ میں لکھ دیاجاچکا نہ اس کام کو رد کیا جائے گ اورنہ ہی تبدیل کیا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–21
15۔ 21:۔ اوپر بنی اسرائیل کے اس دستور کا ذکر گزر چکا ہے وہ اپنے لڑکوں کو بیت المقدس کا خادم بنایا کرتے تھے حضرت مریم ( علیہ السلام) کی ماں حنہ نے اس دستور کے موافق نذر مانی کہ ان کے پیٹ میں جو بچہ ہے اس کے پیدا ہونے کے بعد اس کو وہ بیت المقدس کا خادم بنا دیویں گی جب حضرت مریم پیدا ہوئیں تو لڑکی کے پیدا ہونے سے ان کو بڑا رنج ہوا کس لیے کہ لڑکیوں کو بیت المقدس کا خادم بنانے کا حکم نہیں تھا مگر یہ قصہ سورة آل عمران میں گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر باوجود لڑکی ہونے کے ان کا خادم ہونا قبول فرما لیا حضرت مریم کے باپ عمران حضرت مریم کے پیدا ہونے سے پہلے وفات پاگئے تھے اس لیے اپنے خالو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–21
آیت 16
اللہ تبارک و تعالیٰ نے زکریا اور یحییٰ (علیہ السلام) کا واقعہ بیان کرنے کے بعد۔۔۔. کہ یہ واقعہ اللہ تعالیٰ کی عجیب نشانیوں میں سے ہے۔۔۔. ایک اور قصہ بیان فرمایا جو اس سے بھی زیادہ عجیب ہے۔ یہ ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف تدریج ہے۔ (واذکر فی الکتب) ” اور ذکر کر کتاب میں “ یعنی قرآن کریم میں (مریم) مریم (علیہ السلام) کا۔ یہ مریم علیھا السلام کی سب سے بڑی فضیلت ہے کہ کتاب عظیم میں ان کا نام مذکور ہے جس کی مشرق و مغرب کے تمام مسلمان تلاوت کرتے ہیں۔ اس کتاب عظیم میں بہترین پیرائے میں ان کا ذکر اور ان کی مدح و ثنا بیان کی گئی ہے یہ ان کے اچھے اعمال اور کوشش کامل کی جزا ہے، یعنی کتاب عظیم میں، حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–22
محراب کیا ہے ؟
قول باری ہے (فخرج علی قومہ من المحراب۔ چناچہ وہ محراب سے نکل کر اپنی قوم کے سامنے آئے) ابوعبیدہ کا قول ہے کہ محراب صدر مجلس یعنی بیٹھنے کی جگہ کے درمیان والے حصے کو کہتے ہیں۔ اسی سے مسجد کا محراب نکلا ہے۔ ایک قول کے مطابق محراب غرفہ یعنی بالا خانہ کو کہتے ہیں۔ اسی سے قول باری ہے (اذ تسوروا المحراب ۔ جب وہ دیوار پھاند کر حجرہ میں آ گئے ) ایک اور قول ہے کہ محراب مصلی یعنی نماز پڑھنے کی جگہ کو کہتے ہیں۔
گونگے کے اشارے سے عمل درآمد ہوسکتا ہے
قول باری ہے (فاوحی الیھم اس نے انہیں اشارے سے کہا) ایک قول کے مطابق حضرت زکریاعلیہ السلام نے اپنی قوم کو ہاتھ کے اشارے سے کہا اس طرح ہاتھ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–22
29 حضرت مریم کے حمل اور آپ کی کنارہ کشی کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " حضرت مریم کو حمل ہوگیا تو وہ اس کو لے کر ایک دور جگہ چلی گئیں "۔ جنگل یا پہاڑ میں۔ اور یہ غالباً " بیت اللحم " کا وہی مقام ہے جہاں حضرت عیسیٰ کی ولادت کا ذکر مشہور ہے۔ اور جو کہ بیت المقدس سے کوئی آٹھ میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ اور حمل اور وضع حمل کے اس قصے کے بارے میں آگے علمائے کرام کے دو قول ہیں۔ ایک یہ کہ یہ سب کچھ عام معمول کے مطابق چھ سات ماہ کے عرصے میں ہوا۔ اور دوسرا یہ کہ سب کچھ خرق عادت کے طور پر ایک ہی ساعت میں ہوگیا۔ (الفتوحات الالہیۃ، المعروف الجمل، صفوہ وغیرہ) ۔ " قصیّ " کے معنیٰ دور کے ہیں۔ آگے اس امر کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–34
سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش اور بچپن کی گفتگو
تشریح : سیدہ مریم کا پورا واقعہ سورة آل عمران میں بڑی وضاحت سے گزر چکا ہے کہ آپ کی والدہ نے آپ کو بیت المقدس میں عبادت کے لیے بٹھا دیا تھا۔ یہ محراب شرقی حصہ میں واقعہ تھی، جہاں آپ نے ایک پردہ ڈال کر اپنے آپ کو لوگوں کی نظروں سے چھپا رکھا تھا۔ سیدنا یحییٰ (علیہ السلام) کے ساتھ ہی سیدہ مریم (علیہا السلام) کا ذکر کیا گیا ہے۔ سیدنا یحییٰ (علیہ السلام) کی پیدائش بھی اللہ کی قدرت کی کامل نشانی ہے اور سیدنا مریم (علیہا السلام) کا انتہائی پاکدامن اور نیک ہونے کے باوجود بغیر کسی مرد کے ملے (نکاح وغیرہ) بیٹا پیدا کرنا بھی اللہ کی بہت بڑی نشانیوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–41
(رکوع نمبر 2)
اسرارومعارف
اور اے حبیب ﷺ اس سے عجیب تر اور فکر انگیز واقعہ ایسی کتاب اللہ میں سنا دیجئے جو حضرت مریم (علیہا السلام) کا ہے اور جس کے متعلق یہود اور نصاری نے اپنے اپنے نظریات گھڑ رکھے ہیں کہ اس کی حقیقی اور واقعی صورت کیا ہے یہ بات تب شروع ہوتی ہے جب حضرت مریم (علیہا السلام) اپنے گھر والوں سے الگ ہو کر غسل وغیرہ کرنے کے لیے پردہ میں چلی گئیں تو وہاں ان کے پاس حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو بھیجا جس نے انسانی شکل میں ظاہر ہو کر ان سے بات کرنا چاہی ، یاد رہے حضرت مریم (علیہا السلام) کا ذکر آل عمران میں گذر چکا ہے ۔
(اولیاء اللہ سے فرشتہ کا ہمکلام ہونا)
کہ ان کی والدہ نے منت مانی تھی…
Read the full tafseer →ف 9 اس لئے اس کا ہونا ناگزیر ہے۔ لوح محفوظ میں اسی طرح لکھا ہے جہاں کا لکھا بدل نہیں سکتا۔ (زو عبدی)
Read the full tafseer →(19:21) قال۔ ای قال الجبریل۔ کذلک۔ یہ یوں ہی ہوگا۔ یعنی باوجود اس امر کے کہ تجھے کسی بشر نے نہیں چھوا تیرے بچہ ہوگا۔ نیز ملاحظہ ہو (19:9) ۔ لنجعلہ۔ لام تعلیل کا ہے۔ نجعلمضارع منصوب جمع متکلم۔ نصب بوجہ عمل ان مقدرہ ہُ ضمیر منفعول واحد غائب۔ تاکہ ہم بنادیں اس کو (1) لوگوں کے لئے ایک نشانی بوجہ خارق عادت پیدائش کے اور (2) ہماری طرف سے سراپا رحمت اسرائیل کی بھٹکی ہوئی قوم کے لئے۔ وکان امرا مقضیا۔ اور یہ ایک طے شدہ بات ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے ایسا بچہ پیدا کرنے کا فیصلہ کردیا ہے اور اب یہ ہو کر رہے گا۔ اس میں تردد کرنے کی ضرورت نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–21
لغات القرآن آیت نمبر 16 تا 21
انتبذت الگ ہوگئی۔ حجاب پردہ۔ تمثل ڈھل گیا۔ سوی ٹھیک ٹھیک۔ تقی پرہیز گار۔ اھب میں دوں گا۔ زکی پاک باز، پاکیزہ۔ لم یمسسنی مجھے ہاتھ نہیں لگایا۔ بغنی بدکردار، بدکار، امر معاملہ، کام مقضی فیصلہ کیا گیا۔ طے شدہ۔
تشریح : آیت نمبر 16 تا 21
گزشتہ آیات میں حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کے متعلق ارشاد فرمایا گیا تھا کہ ان کی زندگی قدرت کی کھلی ہوئی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت زکریا (علیہ السلام) کو ایک سو بیس سال کی عمر میں حضرت یحییٰ (علیہ السلام) جیسا بیٹا عطا فرمایا جب کہ ان کی بیوی بانجھ تھیں اور اس بڑھاپے میں اولاد ہونے کا دور دور تک امکان نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–21
حضرت مریم (علیہا السلام) کا واقعہ
یہ دوسرا واقعہ مریم (علیہا السلام) کا ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک شخص تھے جن کا نام عمران تھا۔ یہ عمران موسیٰ (علیہ السلام) کے والد نہیں ہیں۔ ان کی ایک بیوی حنہ بڑی نیک تھیں، اور وہ حضرت زکریا (علیہ السلام) کی سالی تھیں۔ انہوں نے خدا تعالیٰ سے نذر مانی تھی کہ میرے ہاں جو لڑکا پیدا ہوگا تو میں تیری نذر کروں گی۔ ان لوگوں میں اس نذر کا دستور قدیمی تھا مگر حنہ کے ہاں لڑکا نہ ہوا بلکہ لڑکی ہوئی جن کا نام مریم رکھا گیا۔ سب کو افسوس ہوا کہ اگر لڑکا ہوتا تو بیت المقدس کی خدمت کرتا ۔ لڑکیوں کو بیت المقدس کا خادم بنانے کا حکم نہ تھا۔ یہ واقعہ سورة آل عمران میں گزر چکا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–23
[10] یعنی مرد کے چھوئے بغیر لڑکا ہوگا۔
[11] یعنی زندہ معجزہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–22
مسیح (علیہ السلام) کا تولد :
(ف 1) ان آیات میں حسب ذیل نکات کا ذکر ہے ۔
1۔ حضرت مریم (علیہ السلام) کا کسی جنسی یا غیر جنسی ضرورت کے لئے خلوت اختیار کرنا ،
2۔ جبرئل (علیہ السلام) کا انسانی شکل میں نمودار ہونا ، اور حضرت مریم (علیہ السلام) کا از راہ پاکبازی ان سے اپنے خوف کا اظہار کرنا ۔
3۔ جبرئیل (علیہ السلام) کا فرمانا کہ میں ایک خاص ضرورت سے آیا ہوں یعنی تم کو ایک پاکباز لڑکے کی خوشخبری سناؤں ۔
4۔ حضرت مریم (علیہ السلام) کا اظہار تعجب کہ یہ کیونکر ہوسکتا ہے جبکہ میں شادی شدہ نہیں ہوں اور نہ کسی مرد سے میرا کبھی تعلق ہوا ۔
5۔ جبرائیل (علیہ السلام) کا فرمانا کہ یہ بات تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک…
Read the full tafseer →-2 1 فرشتہ نے جواب دیا یہ بچہ یوں ہی بلا مس بشر ہوجائے گا تیرا پروردگار فرمایا ہے یہ بغیر باپ کے لڑکا دے دینا مجھ پر آسان ہے اور بلا اسباب عادیہ وہ لڑکا ہم اس لئے دیں گے تاکہ ہم لوگوں کے لئے اس کو اپنی قدرت کا ایک نشان بنائیں اور اس کو لوگوں کے لئے اپنی طرف سے باعث رحمت بنائیں اور یہ بات یعنی بن باپ کے بچہ کا ہونا ایک طے شدہ بات ہے۔ قدرت خداوندی کا نشان یعنی وہ بچہ اللہ تعالیٰ کی ایک نشانی ہوگا اور رحمتیہ کہ اس کو پیغمبر بنا کر ہدایت کا ذریعہ بنائیں گے امر مقضی فرمایا کہ یہ کام ہو کر ہی رہے گا۔
- 1 اولاد کے ہونے کی چار صورتیں ہوسکتی ہیں۔
-2 بدون ماں کے پیدا ہو جیسے حضرت حوا
-3 ماں باپ دونوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–23
ف 7۔ تاکہ اس کے سہارے بیٹھیں اٹھیں۔
Read the full tafseer →فرستادہ فرشتہ بھی صحیح صورت حال سے آگاہ تھا اس نے فورا جواب دیا :
21۔ فرشتہ نے جواب دیا کہ ہاں ! بلاشبہ اللہ تعالیٰ آپ کی حالت کو اچھی طرح جانتا ہے اور اس نے یہ سب کچھ جانتے ہوئے ہی یہ پیغام بشارت آپ کو بھجوایا ہے (قال کذلک) بات اس طرح ہے کہ جس طرح آپ کہہ رہی ہیں کہ ابھی تک مساس نہیں اور بلاشبہ آپ بدکار بھی نہیں اور آپ سے کسی بدکاری کا گمان بھی نہیں (قال ربک وھ علی ھین) فرشتہ نے کہا کہ یہ بھی تو غور کر کہ تیرے رب پر بالکل یہ بات آسان ہے کہ وہ تیری روک کو دور کر دے جس رب ذوالجلال والاکرام نے یہ فیصلہ کیا ہے کیا وہ تیرے ان حالات کو درست نہیں کرسکتا ؟ قوم کے رواج کے خلاف یہ قدم اٹھانے کی ہمت آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–22
لِأَهَبَ لَكِ غُلَامًا (to give you a boy - 19:19) Here Sayyidna Jibra'n (علیہ السلام) had attributed to himself the gift of the child because Allah Ta’ ala had sent him in order that he should breathe into her collar, and this breath would be the means of her conceiving the child, whereas in reality this gift was by the act of Allah.
Read the full tafseer →15. The word“Thus shall it be”are very significant as has been stated in (E.N. 6). The plain meaning is this: A pure son shall be born to you just as your Lord has decreed, even though no man has touched you. The same was the response to prophet Zachariah as stated in(Ayat 9) above. And it is a sheer perversion to interpret it as: So shall it be that a man will touch you and a son will be born to you. For, if it were to mean: You will bear a son like all other women of the world, the subsequent two sentences, Your Lord says: This is an easy thing for Me to do, and We will make that boy a sign…
Read the full tafseer →