Explained with ayahs 16–21
ناممکن کو ممکن بنانے پہ قادر اللہ تعالیٰ۔
اوپر حضرت زکریا ؑ کا ذکر ہوا تھا اور یہ بیان فرمایا گیا تھا کہ وہ اپنے پورے بڑھاپے تک بےاولاد رہے ان کی بیوی کو کچھ ہوا ہی نہ تھا بلکہ اولاد کی صلاحیت ہی نہ تھی اس پر اللہ نے اس عمر میں ان کے ہاں اپنی قدرت سے اولاد عطا فرمائی حضرت یحییٰ ؑ پیدا ہوئے جو نیک کار اور وفا شعار تھے اس کے بعد اس سے بھی بڑھ کر اپنی قدرت کا نظارہ پیش کرتا ہے۔ حضرت مریم ؑ کا واقعہ بیان کرتا ہے کہ وہ کنواری تھیں۔ کسی مرد کا ہاتھ تک انہیں نہ لگا تھا اور بےمرد کے اللہ تعالیٰ نے محض اپنی قدرت کاملہ سے انہیں اولاد عطا فرمائی حضرت عیسیٰ ؑ جیسا فرزند انہیں دیا جو اللہ کے برگزیدہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
سورة مَرْیَم 14
سورة آل عمران میں یہ بتایا جا چکا ہے کہ حضرت مریم کی والدہ نے اپنی مانی ہوئی نذر کے مطابق ان کو بیت المقدس میں عبادت کے لیئے بٹھا دیا تھا اور حضرت زکریا نے ان کی حفاظت و کفالت اپنے ذمے لے لی تھی۔ وہاں یہ ذکر بھی گزر چکا ہے کہ حضرت مریم بیت المقدس کی ایک محراب میں معتکف ہوگئی تھیں۔ اب یہاں یہ بتایا جا رہا ہے کہ جس میں حضرت مریم معتکف تھیں بیت المقدس سے شرقی حصے میں واقع تھی اور انہوں نے معتکفین کے عام طریقے کے مطابق ایک پردہ لٹکا کر اپنے آپ کو دیکھنے والوں کی نگاہوں سے محفوظ کرلیا تھا۔ جن لوگوں نے محض بائیبل کی موافقت کی خاطر مکاناً شرقیاً سے مراد لیا ہے انہوں نے غلطی کی ہے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
لِاَهَبَ لَكِاب میں عطاء فرزند کو جبرئیل ؑ نے اپنی طرف اس لئے منسوب کیا کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے اس کام کے لئے بھیجا تھا کہ ان کے گریبان میں پھونک ماردیں۔ یہ پھونک عطاء فرزند کا ذریعہ بن جائے گی، اگرچہ یہ عطاء دراصل فعلِ الٰہی ہے۔
Read the full tafseer →قَالَتْ أَنَّى يَكُونُ لِي غُلامٌ وَلَمْ يَمْسَسْنِي بَشَرٌ وَلَمْ أَكُ بَغِيًّا۔
" بغی " بدکار اور چھنال عورت کو کہتے ہیں۔
حضرت مریم فرشتہ کی اس بات کو سن کر ہک دھک رہ گئیں۔ انہوں نے فرمایا کہ میرے لڑکا کس طرح پیدا ہوگا، مجھے تو کسی انسان نے ہاتھ تک نہیں لگایا اور میں کوئی بدکار اور چھنال بھی نہیں ہوں۔
لوقا کی بےسروپا روایتِ نکاح : حضرت مریم کے اس ارشاد سے یہ بات بالکل صاف واضح ہے کہ لوقا میں یہ روایت کہ یوسف نامی کسی شخص سے ان کا نکاح ہوا تھا، بالکل بےسروپا روایت ہے۔ اگر ان کا نکاح ہوا ہوتا تو یہ خبر ان کے لیے ایک نہایت مبارک خوش خبری ہوتی اور وہ مذکورہ الفاظ میں اس پر تشویش اور حیرت کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
21۔ 1 یعنی یہ بات تو صحیح ہے کہ تجھے مرد سے مقاربت کا کوئی موقع نہیں ملا ہے، جائز طریقے سے نہ ناجائز طریقے سے۔ جب کہ حمل کے لئے عادتًا یہ ضروری ہے۔
21۔ 2 یعنی میں اسباب کا محتاج نہیں ہوں، میرے لئے یہ بالکل آسان ہے اور ہم اسے اپنی قدرت تخلیق کے لئے نشانی بنانا چاہتے ہیں۔ اس سے قبل ہم نے تمہارے باپ آدم کو مرد اور عورت کے بغیر، اور تمہاری ماں حوا کو صرف مرد سے پیدا کیا اور اب عیسیٰ ؑ کو پیدا کر کے چوتھی شکل میں بھی پیدا کرنے پر اپنی قدرت کا اظہار کرنا چاہتے ہیں اور وہ ہے صرف عورت کے بطن سے، بغیر مرد کے پیدا کردینا۔ ہم تخلیق کی چاروں صورتوں پر قادر ہیں۔
21۔ 3 اس سے مراد نبوت ہے جو اللہ کی رحمت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
10: پاکیزہ ہونے سے مراد یہ ہے کہ وہ اپنے نسب اور اپنے اخلاق و عادات کے اعتبار سے پاکیزہ ہوگا۔
Read the full tafseer →قالت انی یکون لی غلم ولم یمسسی بشر ولم اک بغیا (91 : 02) مریم نے کہا میرے ہاں کیسے لڑکا ہوگا ، جبکہ مجھے کسی بشر نے چھوا تک نہیں اور میں کوئی بدکار عورت نہیں ہوں۔ “ یوں وہ صراحت کے ساتھ بات کرتی ہیں ، کھلے الفاظ میں ، وہ اور یہ شخص دونوں تنہائی میں ہیں۔ اچانک اس شخص کے در آنے کی غرض وغایت بھی ظاہر ہوگئی ہے۔ وہ جاننا چاہتی ہے کہ وہ اسے کس طرح بچہ دینا چاہتا ہے۔ ہاں جب اس نے کہا کہ میں تمہارے رب کافر ستادہ ہوں تو اس کے خوف میں اس سے بھی کمی نہیں اتٓی کہ وہ اسے ایک ایسا بچہ دینے والے ہیں جو اپک ہوگا ، جس کی ولادت ناجائز ذرائع سے نہ ہوگی ، اس کی سیرت بھی بری نہ ہوگی۔ اس لئے وہ اسی موقعہ پر کھل کر…
Read the full tafseer →12 مریم (علیہ السلام) کے دل میں خدا نے یقین ڈال دیا کہ بیشک یہ فرشتہ ہے، مگر تعجب ہوا کہ جس عورت کا شوہر نہیں جو اس کو حلال طریقہ سے چھو سکتا، اور بدکار بھی نہیں کہ حرام طریقہ سے بچہ حاصل کرلے، اس کو بحالت راہنہ پاکیزہ اولاد کیونکر مل جائے گی، جیسا کہ حضرت زکریا (علیہ السلام) نے اس سے کم عجیب بشارت پر سوال کیا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
آیت 18 قَالَتْ اِنِّیْٓ اَعُوْذُ بالرَّحْمٰنِ مِنْکَ اِنْ کُنْتَ تَقِیًّا
اچانک ایک مرد کو اپنی خلوت گاہ میں دیکھ کر حضرت مریم سلامٌ علیہا گھبرا گئیں کہ وہ کسی بری نیت سے نہ آیا ہو۔ چناچہ انہوں نے اسے مخاطب کر کے کہا کہ میں تم سے اللہ کی پناہ چاہتی ہوں ‘ اور اگر تم اللہ سے ڈرنے والے ہو ‘ تمہارے دل میں اللہ کا کچھ بھی خوف ہے تو کسی برے ارادے سے باز رہنا۔
Read the full tafseer →21 یعنی سیدہ مریم کا پہلا خوف تو دور ہوگیا کہ یہ کوئی بدکار آدمی نہیں بلکہ اللہ کا فرستادہ فرشتہ ہے اب حیرت اس بات پر ہوئی کہ لڑکا ہو کیسے سکتا ہے ؟ جب تک کسی مرد سے صحبت نہ ہو خواہ یہ بالجبر کی صورت میں ہو یا بالرضا کی صورت میں ؟ اور یہ دونوں باتیں یہاں مفقود تھیں۔
Read the full tafseer →26۔ غرض یہ کہ مرد کی مقاربت سے جو حمل کے لیے شرط عادی ہے، میں جائزوناجائز ہر طرح سے دور ہوں۔ (آیت) ” لم یمسسنی بشر “۔ یعنی بطریق نکاح حاشیہ پارہ 3 سورة آل عمران میں گزر چکا۔ حضرت مریم (علیہ السلام) کو جب یقین ہوگیا کہ ان کا مخاطب انسان نہیں، فرشتہ ہے تو اب ان کا یہ قول بہ طور انکار نہیں بلکہ محض اظہار تعجب کے لئے ہے۔ (آیت) ” لم اک بغیا “۔ اس فقرہ سے تردید بھی مقصود ہے یہود مردود کی۔ جو آپ (علیہ السلام) کو متہمم کررہے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–25
آیت نمبر 16 تا 25
ترجمہ : اور اے محمد ﷺ اس کتاب یعنی قرآن میں مریم کا یعنی ان کے واقعہ کا ذکر کیجئے جب کہ وہ اپنے اہل خانہ سے الگ ہو کر ایک ایسے مکان میں جو شرقی جانب تھا چلی گئیں یعنی دار (بیت المقدس) کے مشرقی جانب کسی جگہ تنہائی میں چلی گئیں اور اہل خانہ کی جانب سے پردہ ڈال لیا، یعنی پردہ لٹکا لیا تاکہ آڑ ہوسکے (اور) اپنے سریا کپڑوں میں جوں دیکھ سکے یا حیض سے طہارت کے لئے غسل کرسکے تو ہم نے اس کے پاس اپنی روح جبرئیل (علیہ السلام) کو بھیج دیا تو وہ ان کے سامنے کپڑے پہننے کے بعد مکمل مرد بن کر نمودار ہوا حضرت مریم کہنے لگیں کہ میں تجھ سے اپنے خدا کی پناہ طلب کرتی ہوں اگر تجھے کچھ بھی خوف خدا…
Read the full tafseer →قالت انی یکون لی غلم ولم یمسسنی بشر ولم اک بغیا۔ مریم ( علیہ السلام) نے (تعجب سے) کہا ‘ میرے لڑکا کیسے ہوگا مجھے تو کسی بشر نے نہیں چھوا۔ مس کرنے سے بطور کنایہ نکاح کے بعد جماع کرنا مراد ہے ‘ زنا کے موقع پر مساس کا لفظ نہیں بولا جاتا بلکہ یوں کہا جاتا ہے کہ میں نے برا کام نہیں کیا میں نے خباثت نہیں کی زنا کی نفی کا اظہار حضرت مریم ( علیہ السلام) نے لَمْ اَکُ بَغِیًّا کہہ کر کردیا خلاصہ مطلب یہ ہے کہ میں نے کسی انسان سے نہ قربت بالنکاح کی نہ زنا۔ پھر میرے لڑکا کہاں سے ہوگا۔
Read the full tafseer →(20) حضرت مریم ؑ نے جبریل امین ؑ سے فرمایا کہ میرے لڑکا کس طرح ہوگا حالانکہ ابھی میرا کوئی خاوند نہیں اور نہ ہی میں بدکار ہوں۔
Read the full tafseer →قَالَتْ اَنّٰى يَكُوْنُ لِيْ غُلٰمٌ۔۔ : ”بَغِيًّا“ کا معنی زانیہ ہے، اس کی جمع ”بَغَایَا“ اور مصدر ”بِغَاءٌ“ ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وَلَا تُكْرِهُوْا فَتَيٰتِكُمْ عَلَي الْبِغَاۗءِ) [ النور : 33 ] ”اور اپنی لونڈیوں کو زنا پر مجبور نہ کرو۔“ مریم [ نے کہا کہ اولاد کے لیے تو مرد اور عورت کا ملنا ضروری ہے، جبکہ مجھے نہ کسی بشر نے نکاح کے ساتھ چھوا ہے اور نہ میں بدکار ہوں۔ ”َلَمْ يَمْسَسْنِيْ بَشَرٌ“ میں اگرچہ نکاح یا زنا کسی بھی طریقے سے کسی مرد کے چھونے کی نفی ہے اور یہی معنی سورة آل عمران (47) میں مراد ہے، مگر یہاں زنا کے مقابلے میں آنے کی وجہ سے چھونے کا مطلب نکاح کے ساتھ چھونا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–22
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فارسلنا الیھا روحنا، بعض علماء نے فرمایا : وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی روح تھی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے روحوں کو اجساد سے پہلے پیدا فرمایا تھا اور حضرت عیسیٰ کا جسم جو حضرت مریم کے پیٹ میں اللہ تعالیٰ نے تخلیق کیا تھا اس میں روح پھونکی۔ بعض علماء نے فرمایا : وہ جبرئیل (علیہ السلام) ہیں۔ روح کو اللہ کی طرف تخصیص اور کرامت کے لیے مضاف کیا گیا ہے۔ ظاہر ہے یہ جبرئیل (علیہ السلام) تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فتمثل لھا، یعنی فرشتہ مریم کے لیے انسانی شکل میں آیا۔ بشراً ، تفسیر یا حال ہے۔ سویا، متوازا خلقت والا، چونکہ حضرت مریم، جبریل کو اصلی شکل میں دیکھنے کی طاقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–24
1:۔ عبدالرزاق، عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اذ انتبذت “ یعنی الگ ہوگئیں (آیت) ” من اھلھا مکانا شرقیا “ یعنی مشرق کی طرف دور علیحدہ جگہ۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اذانتبذت من اھلھا مکانا شرقیا “ یعنی ایسی جگہ آپ چلی گئی تھیں جہاں سورج کی دھوپ پڑرہی تھی ایسا نہ ہو کہ لوگوں میں سے کوئی اس کو دیکھ لے۔
3:۔ فریابی، ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نصاری نے مشرق کو قبلہ بنالیا کیونکہ مریم (علیہا السلام) نے اپنے گھروالوں سے دور مشرقی جانب ایک جگہ بنالی تھی انہوں نے ان…
Read the full tafseer →[قَالَتْ : انھوں نے کہا ] [انٰى: کہاں سے ] [يَكُوْنُ : ہوگا ] [لِيْ : میرے لئے ] [غُلٰمٌ: کوئی لڑکا ] [وَّ : حالانکہ ] [لَمْ يَمْسَسْنِيْ : چھوا ہی نہیں مجھ کو ] [بَشَرٌ: کسی آدمی نے ] [وَّلَمْ اَكُ : اور نہ میں ہوں ] [بَغِيًّا : کوئی زیادتی والی ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
فرشتہ کا بیٹے کی خوشخبری دینا اور حضرت مریم کا متعجب ہونا
اس پر حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے کہا کہ میں تو اللہ کا بھیجا ہوا ہوں تاکہ تجھے اللہ کی طرف سے ایک پاکیزہ لڑکا دے دوں۔ اس پر حضرت مریم [ نے کہا تم کیا کہہ رہے ہو میرے لڑکا کیسے ہوگا ؟ نہ تو مجھے کسی ایسے شخص نے چھوا ہے جس کا چھونا حلال ہو (یعنی شوہر) اور نہ میں فاجرہ عورت ہوں بچہ تو حلال مباشرت سے یا کسی زانی کے زنا سے پیدا ہوتا ہے، اور یہاں تو دونوں میں سے کوئی بات بھی نہیں لہٰذا میرے اولاد ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
فرشتہ کا جواب دینا کہ اللہ کے لیے سب کچھ آسان ہے
سورة آل عمران کے سیاق کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے پہلے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–33
قال اللٰہ تعالیٰ ۔ واذکر فی الکتٰب مریم۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ و یوم اموت ویوم ابعث حیا۔
(ربط) حق تعالیٰ نے گزشتہ رکوع میں حضرت زکریا (علیہ السلام) کا قصہ بیان فرمایا کہ بحالت پیری ایک پیر ناتواں اور ایک بانجھ اور بوڑھی بیوی سے بلا سبب ظاہری ایک مبارک فرزند یعنی یحییٰ (علیہ السلام) کا تولد ہوا۔ اب اس سے زیادہ عجیب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت کا قصہ بیان کرتے ہیں۔ اس لیے کہ بوڑھے مرد اور بانجھ عورت سے بچہ پیدا ہونا اگرچہ عجیب ہے۔ مگر والدین سے بچہ کا پیدا ہونا عادۃ قریب الی العقل ہے اور بغیر باپ کے محض ماں سے بچہ پیدا ہونا بہت ہی عجیب و غریب ہے جو اللہ کی کمال قدرت پر دلالت کرتا ہے کہ خدائے تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
16:۔ فرشتے کی باتیں سن کر حضرت مریم کو سخت حیرت ہوئی۔ اور اس سے پوچھنے لگیں کہ میرے بیٹا کس طرح پیدا ہوگا۔ حالانکہ مجھے کسی بشر نے نہ نکاح سے ہاتھ لگایا ہے نہ میں بدکار ہی ہوں۔ اس پر فرشتے نے کہا کہ تیرے رب نے یہ بھی فرمایا ہے کہ مس بشر کے بغیر بیٹا پیدا کرنا میرے لیے مشکل نہیں۔ بلکہ یہ ایک آسان کام ہے اور میں اس طرح بغیر باپ بیٹا پیدا کر کے اسے اپنی قدرت کا اعجاز بناؤں گا۔ اور وہ ایمان والوں کے لیے باعث رحمت ہوگا اور یہ بات لوح محفوط میں مقدر ہوچکی ہے یا ازل میں اس کا فیصلہ ہوچکا ہے (امرا مقضیا) محکما قد تعلق بہ قضاءنا الازلی او قد رو وسطر فی اللوح لبد من جریانہ علیک البتۃ (ابو السعود ج 9…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–21
ربط آیات :
پہلے رکوع میں حضرت زکریا (علیہ السلام) کا ذکر ہوا انہوں نے حضرت مریم (علیہا السلام) کے پاس بےموسم پھل دیکھے تو اللہ کی بارگاہ میں اولاد کے لیے درخواست کی حالانکہ وہ جس بڑھانے کو پہنچ چکے تھے وہاں عادۃ اولاد ہونے کا امکان نہیں ہوتا ، اللہ نے آپ کی دعا قبول فرمائی اور یحی (علیہ السلام) جیسا عظیم الشان فرزند عطا کیا جس کا نام بھی اللہ خود تجویز فرمایا اور اس نام کا پہلے کوئی بچہ نہیں تھا ۔ آپ کی پیدائش اللہ کی قدرت کا عظیم نمونہ تھی یہ اللہ تعالیٰ کی خاص مہربانی تھی جو اس نے اپنے برگزیدہ بندے زکریا (علیہ السلام) پر کی ، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یحی (علیہ السلام) کی حیثیت اور ان کی…
Read the full tafseer →قَالَتْ اَنّٰى يَكُوْنُ لِيْ غُلٰمٌ وَّلَمْ يَمْسَسْنِيْ بَشَرٌ وَّلَمْ اَكُ بَغِيًّا 20
مسس
المسّ کاللّمس لکن اللّمس قد يقال لطلب الشیء وإن لم يوجد
والمسّ يقال في كلّ ما ينال الإنسان من أذى. نحو قوله : وَقالُوا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ إِلَّا أَيَّاماً مَعْدُودَةً [ البقرة/ 80] ،
( م س س ) المس کے
معنی چھونا کے ہیں اور لمس کے ہم معنی ہیں لیکن گاہے لمس کیس چیز کی تلاش
کرنے کو بھی کہتے ہیں اور اس میں یہ ضروری نہیں کہ وہ چیز مل جل بھی جائے ۔
اور مس کا لفظ ہر اس تکلیف کے لئے بول دیا جاتا ہے جو انسان تو پہنچے ۔ جیسے فرمایا : ۔ وَقالُوا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ إِلَّا أَيَّاماً مَعْدُودَةً […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–20
2 ؎ یعنی اس کی ولادت اور موت اور باررگر زندگی ہر حالت مبارک۔ 12 منہ
Read the full tafseer →قَالَتْ اَنّٰی یَکُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّلَمْ یَمْسَسْنِیْ بَُشٍرٌوَّلَمْ اَ کُ بَغِیًّا۔ (مریم : 20)
(مریم نے کہا میرے لڑکا کیسے ہوگا ؟ حالانکہ نہ مجھے کسی مرد نے ہاتھ لگایا ہے اور نہ میں بدچلن ہوں۔ )
ان آیات کا مفاد اور لوقا کی بےاصل روایت
آنے والے شخص کی طرف سے اطمینان ہوا تو اس کی بات نے مزید پریشانی میں مبتلا کردیا۔ جب اس نے یہ کہا کہ میں تجھے فرزند دینے کے لیے آیا ہوں تو عفت مآب مریم نے اسے ایک اجنبی کی طرف سے ایک خطرناک اقدام کی دھمکی سمجھا۔ آپ نے نہایت پریشان ہو کر کہا کہ بھلے آدمی یہ کیا کہہ رہے ہو میں ایک کنواری لڑکی ہوں جس کی ابھی شادی نہیں ہوئی اور نہ میں بدکار ہوں کہ بغیر شادی کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔
حضرت مریم (علیہ السلام) نے حجرہ میں وارد ہونے والے انسان سے سختی کے ساتھ پوچھا تم کون ہو ؟ میں تجھے رب رحمن کا واسطہ دے کر کہتی ہوں اگر تم اللہ سے ڈرنے والے ہو تو یہاں سے نکل جاؤ۔ فرشتہ نے جواب دیا کہ میں آپ کے رب کا بھیجا ہوا ہوں تاکہ آپ کو پاکباز بیٹے کی خوشخبری دوں۔ حضرت مریم [ پہلے سے زیادہ حیران اور سراسیمگی کے عالم میں پوچھتی ہیں کہ میرے ہاں بیٹا کیسے ہوگا ؟ نہ کسی مرد نے مجھے چھوا اور نہ ہی میں بدکار ہوں۔ فرشتے نے کہا کہ اسی حالت میں تجھے بیٹا عطا کیا جائے گا کیونکہ تیرے رب کا فرمان ہے اس طرح بیٹا عطا کرنا اس کے لیے مشکل نہیں۔ یہ اس لیے ہوگا کہ…
Read the full tafseer →20: قَالَتْ اَنّٰی یَکُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ (کہا میرے لڑکا کیسے ہوگا) اَنّٰی یہاں کیف کے معنی میں اور غلام ابن کے معنی میں ہے۔ وَّلَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ (اور مجھے کسی انسان نے نہیں چھوا) یعنی نکاح سے کوئی میرا خاوند نہیں۔ وَّلَمْ اَ کُ بَغِیًّا (اور میں نے برا کام بھی نہیں کیا) یعنی فاجرہ عورت۔ جو مردوں کو تلاش کرتی پھرے یعنی کسی بھی آدمی سے اپنی شہوت کو پورا کرے اور عادت یہ ہے کہ لڑکا ان دو صورتوں سے ہی ہوتا ہے۔ مبرد کہتے ہیں کہ بغی فعول کے وزن پر ہے اصل بغوی ہے وائو کو یا کر کے اس میں ادغام کردیا اور اتباعا غین کو کسرہ دیا اسی وجہ سے اس میں تائے تانیث نہیں جس طرح کہ امرئۃ صبور و شکور میں دیگر…
Read the full tafseer →20۔ قالت، حضرت مریم (علیہما السلام) نے کہا، انی، وہ کہاں سے آئے گا، یکون لی غلام ولم یمسسنی بشر، مجھے کسی بشر نے نہیں چھوا، یعنی میرا کوئی شوہر نہیں ہے جس نے میری قربت کی ہو۔ ولم اک بغیا، اور نہ میں گناہ گار عورت ہوں ۔ حضرت مریم کی مراد یہ تھی کہ لڑکے کا ہونا یاتونکاح کی وجہ سے ہوتا ہے یابرے کام سے جبکہ یہاں دونوں نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–21
15۔ 21:۔ اوپر بنی اسرائیل کے اس دستور کا ذکر گزر چکا ہے وہ اپنے لڑکوں کو بیت المقدس کا خادم بنایا کرتے تھے حضرت مریم ( علیہ السلام) کی ماں حنہ نے اس دستور کے موافق نذر مانی کہ ان کے پیٹ میں جو بچہ ہے اس کے پیدا ہونے کے بعد اس کو وہ بیت المقدس کا خادم بنا دیویں گی جب حضرت مریم پیدا ہوئیں تو لڑکی کے پیدا ہونے سے ان کو بڑا رنج ہوا کس لیے کہ لڑکیوں کو بیت المقدس کا خادم بنانے کا حکم نہیں تھا مگر یہ قصہ سورة آل عمران میں گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر باوجود لڑکی ہونے کے ان کا خادم ہونا قبول فرما لیا حضرت مریم کے باپ عمران حضرت مریم کے پیدا ہونے سے پہلے وفات پاگئے تھے اس لیے اپنے خالو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–21
آیت 16
اللہ تبارک و تعالیٰ نے زکریا اور یحییٰ (علیہ السلام) کا واقعہ بیان کرنے کے بعد۔۔۔. کہ یہ واقعہ اللہ تعالیٰ کی عجیب نشانیوں میں سے ہے۔۔۔. ایک اور قصہ بیان فرمایا جو اس سے بھی زیادہ عجیب ہے۔ یہ ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف تدریج ہے۔ (واذکر فی الکتب) ” اور ذکر کر کتاب میں “ یعنی قرآن کریم میں (مریم) مریم (علیہ السلام) کا۔ یہ مریم علیھا السلام کی سب سے بڑی فضیلت ہے کہ کتاب عظیم میں ان کا نام مذکور ہے جس کی مشرق و مغرب کے تمام مسلمان تلاوت کرتے ہیں۔ اس کتاب عظیم میں بہترین پیرائے میں ان کا ذکر اور ان کی مدح و ثنا بیان کی گئی ہے یہ ان کے اچھے اعمال اور کوشش کامل کی جزا ہے، یعنی کتاب عظیم میں، حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–22
محراب کیا ہے ؟
قول باری ہے (فخرج علی قومہ من المحراب۔ چناچہ وہ محراب سے نکل کر اپنی قوم کے سامنے آئے) ابوعبیدہ کا قول ہے کہ محراب صدر مجلس یعنی بیٹھنے کی جگہ کے درمیان والے حصے کو کہتے ہیں۔ اسی سے مسجد کا محراب نکلا ہے۔ ایک قول کے مطابق محراب غرفہ یعنی بالا خانہ کو کہتے ہیں۔ اسی سے قول باری ہے (اذ تسوروا المحراب ۔ جب وہ دیوار پھاند کر حجرہ میں آ گئے ) ایک اور قول ہے کہ محراب مصلی یعنی نماز پڑھنے کی جگہ کو کہتے ہیں۔
گونگے کے اشارے سے عمل درآمد ہوسکتا ہے
قول باری ہے (فاوحی الیھم اس نے انہیں اشارے سے کہا) ایک قول کے مطابق حضرت زکریاعلیہ السلام نے اپنی قوم کو ہاتھ کے اشارے سے کہا اس طرح ہاتھ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–22
29 حضرت مریم کے حمل اور آپ کی کنارہ کشی کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " حضرت مریم کو حمل ہوگیا تو وہ اس کو لے کر ایک دور جگہ چلی گئیں "۔ جنگل یا پہاڑ میں۔ اور یہ غالباً " بیت اللحم " کا وہی مقام ہے جہاں حضرت عیسیٰ کی ولادت کا ذکر مشہور ہے۔ اور جو کہ بیت المقدس سے کوئی آٹھ میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ اور حمل اور وضع حمل کے اس قصے کے بارے میں آگے علمائے کرام کے دو قول ہیں۔ ایک یہ کہ یہ سب کچھ عام معمول کے مطابق چھ سات ماہ کے عرصے میں ہوا۔ اور دوسرا یہ کہ سب کچھ خرق عادت کے طور پر ایک ہی ساعت میں ہوگیا۔ (الفتوحات الالہیۃ، المعروف الجمل، صفوہ وغیرہ) ۔ " قصیّ " کے معنیٰ دور کے ہیں۔ آگے اس امر کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–34
سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش اور بچپن کی گفتگو
تشریح : سیدہ مریم کا پورا واقعہ سورة آل عمران میں بڑی وضاحت سے گزر چکا ہے کہ آپ کی والدہ نے آپ کو بیت المقدس میں عبادت کے لیے بٹھا دیا تھا۔ یہ محراب شرقی حصہ میں واقعہ تھی، جہاں آپ نے ایک پردہ ڈال کر اپنے آپ کو لوگوں کی نظروں سے چھپا رکھا تھا۔ سیدنا یحییٰ (علیہ السلام) کے ساتھ ہی سیدہ مریم (علیہا السلام) کا ذکر کیا گیا ہے۔ سیدنا یحییٰ (علیہ السلام) کی پیدائش بھی اللہ کی قدرت کی کامل نشانی ہے اور سیدنا مریم (علیہا السلام) کا انتہائی پاکدامن اور نیک ہونے کے باوجود بغیر کسی مرد کے ملے (نکاح وغیرہ) بیٹا پیدا کرنا بھی اللہ کی بہت بڑی نشانیوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–41
(رکوع نمبر 2)
اسرارومعارف
اور اے حبیب ﷺ اس سے عجیب تر اور فکر انگیز واقعہ ایسی کتاب اللہ میں سنا دیجئے جو حضرت مریم (علیہا السلام) کا ہے اور جس کے متعلق یہود اور نصاری نے اپنے اپنے نظریات گھڑ رکھے ہیں کہ اس کی حقیقی اور واقعی صورت کیا ہے یہ بات تب شروع ہوتی ہے جب حضرت مریم (علیہا السلام) اپنے گھر والوں سے الگ ہو کر غسل وغیرہ کرنے کے لیے پردہ میں چلی گئیں تو وہاں ان کے پاس حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو بھیجا جس نے انسانی شکل میں ظاہر ہو کر ان سے بات کرنا چاہی ، یاد رہے حضرت مریم (علیہا السلام) کا ذکر آل عمران میں گذر چکا ہے ۔
(اولیاء اللہ سے فرشتہ کا ہمکلام ہونا)
کہ ان کی والدہ نے منت مانی تھی…
Read the full tafseer →ف 7 یعنی تیرے ہاں بچہ کی پیدائش عام عادت کے مطابق نہیں بلکہ معجزہ کے طور پر ہوگی۔8 یعنی بن باپ کا لڑکا پیدا ہوگا۔ اللہ کی قدرت ہے۔ (موضح)
Read the full tafseer →(19:20) لم یمسسنی۔ مضارع نفی حجد بلم۔ لم یمسس۔ مضارع نفی حجد بلم واحد مذکر غائب۔ ن وقایہ۔ یضمیر واحد متکلم۔ مجھے چھوا نہیں۔ مجھے ہاتھ نہیں لگایا۔ مجھ سے قربت نہیں کی۔ مس مصدر باب فتح۔
لم اک۔ مضارع نفی حجد بلم۔ واحد متکلم ۔ اک اصل میں اکون تھا۔ لم کے عمل سے نون ساکن ہوگیا۔ اجتماع ساکنین سے وائو حرف علت گرگیا۔ اکن رہ گیا۔ نکو اختصارا ساقط کردیا گیا اکرہ گیا۔ بغیا۔ بدکار۔ بغی سے صفت مشبہ کا صیغہ۔ بغیمیانہ روی سے بڑھنے کی خواہش کرنے کو بغی کہتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–21
لغات القرآن آیت نمبر 16 تا 21
انتبذت الگ ہوگئی۔ حجاب پردہ۔ تمثل ڈھل گیا۔ سوی ٹھیک ٹھیک۔ تقی پرہیز گار۔ اھب میں دوں گا۔ زکی پاک باز، پاکیزہ۔ لم یمسسنی مجھے ہاتھ نہیں لگایا۔ بغنی بدکردار، بدکار، امر معاملہ، کام مقضی فیصلہ کیا گیا۔ طے شدہ۔
تشریح : آیت نمبر 16 تا 21
گزشتہ آیات میں حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کے متعلق ارشاد فرمایا گیا تھا کہ ان کی زندگی قدرت کی کھلی ہوئی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت زکریا (علیہ السلام) کو ایک سو بیس سال کی عمر میں حضرت یحییٰ (علیہ السلام) جیسا بیٹا عطا فرمایا جب کہ ان کی بیوی بانجھ تھیں اور اس بڑھاپے میں اولاد ہونے کا دور دور تک امکان نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–21
حضرت مریم (علیہا السلام) کا واقعہ
یہ دوسرا واقعہ مریم (علیہا السلام) کا ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک شخص تھے جن کا نام عمران تھا۔ یہ عمران موسیٰ (علیہ السلام) کے والد نہیں ہیں۔ ان کی ایک بیوی حنہ بڑی نیک تھیں، اور وہ حضرت زکریا (علیہ السلام) کی سالی تھیں۔ انہوں نے خدا تعالیٰ سے نذر مانی تھی کہ میرے ہاں جو لڑکا پیدا ہوگا تو میں تیری نذر کروں گی۔ ان لوگوں میں اس نذر کا دستور قدیمی تھا مگر حنہ کے ہاں لڑکا نہ ہوا بلکہ لڑکی ہوئی جن کا نام مریم رکھا گیا۔ سب کو افسوس ہوا کہ اگر لڑکا ہوتا تو بیت المقدس کی خدمت کرتا ۔ لڑکیوں کو بیت المقدس کا خادم بنانے کا حکم نہ تھا۔ یہ واقعہ سورة آل عمران میں گزر چکا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
[8] یعنی لوگوں سے جدا ہو کر عبادت کے لئے خلوت میں بیٹھی تھیں۔
[9] روح یعنی فرشتہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–22
مسیح (علیہ السلام) کا تولد :
(ف 1) ان آیات میں حسب ذیل نکات کا ذکر ہے ۔
1۔ حضرت مریم (علیہ السلام) کا کسی جنسی یا غیر جنسی ضرورت کے لئے خلوت اختیار کرنا ،
2۔ جبرئل (علیہ السلام) کا انسانی شکل میں نمودار ہونا ، اور حضرت مریم (علیہ السلام) کا از راہ پاکبازی ان سے اپنے خوف کا اظہار کرنا ۔
3۔ جبرئیل (علیہ السلام) کا فرمانا کہ میں ایک خاص ضرورت سے آیا ہوں یعنی تم کو ایک پاکباز لڑکے کی خوشخبری سناؤں ۔
4۔ حضرت مریم (علیہ السلام) کا اظہار تعجب کہ یہ کیونکر ہوسکتا ہے جبکہ میں شادی شدہ نہیں ہوں اور نہ کسی مرد سے میرا کبھی تعلق ہوا ۔
5۔ جبرائیل (علیہ السلام) کا فرمانا کہ یہ بات تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک…
Read the full tafseer →-20 حضرت مریم (علیہ السلام) نے جواب دیا میرے ہاں لڑکا کیونکر اور کس طرح ہوجائے گا حالانکہ مجھ کو کسی آدمی نے چھوا بھی نہیں اور میں کبھی بدکاری کی مرتکب بھی نہیں ہوئی اور نہ میں کبھی بدکار تھی۔ یعنی حضرت مریم نے تعجب سے فرمایا کہ لکڑا کس طرح ہوگا لڑکا پیدا ہونے کے دو ہی سبب ہوسکتے ہیں یا میرا نکاح ہوا ہوتا اور مجھ سے کسی مرد نے مباشرت کی ہوتی اور مجھ کو حمل قرار پاتا کس طرح ہوسکتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–23
ف 7۔ تاکہ اس کے سہارے بیٹھیں اٹھیں۔
Read the full tafseer →سیدہ مریم (علیہ السلام) نے کہا کہ یہ کیسا پیغام سنا رہے ہو اور وہ بھی اللہ کی طرف سے ؟
20۔ رب کریم تو چھپے رازوں سے بھی واقف ہے یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ میری حالت وکیفیت کو نہ جانتا ہو حالانکہ حقیقت حال یہ ہے کہ میرا خاوند میری طرف متوجہ ہی نہیں ہوا اور بدکار میں نہیں ۔ پھر بیٹا کیسے ؟ اس طرح سیدہ مریم (علیہ السلام) نے ساری حقیقت حال دو لفظوں میں بیان کردی ۔ ٹھیک ہے کہ نکاح ہوا لیکن کیا صرف نکاح کرنے سے کبھی اولاد ہو سکتی ہے جب کہ مقصد نکاح کی طرف کوئی متوجہ ہی نہ ہو ‘ مقصد نکاح کیا ہے ؟ وہ مساس ہے ازواج کا ازدواجی زندگی کی طرف متوجہ ہونا اور یہاں تو ابھی تک ایسی کوئی بات ہی نہیں ۔ پھر دوسری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–22
لِأَهَبَ لَكِ غُلَامًا (to give you a boy - 19:19) Here Sayyidna Jibra'n (علیہ السلام) had attributed to himself the gift of the child because Allah Ta’ ala had sent him in order that he should breathe into her collar, and this breath would be the means of her conceiving the child, whereas in reality this gift was by the act of Allah.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
14. The Sanctuary where she had retired for devotion was an eastern chamber in the Temple, and as was customary she had hung a curtain to conceal herself from the people. It cannot be Nazareth as some people have wrongly taken it to be, because Nazareth is to the north of Jerusalem.
Read the full tafseer →