Explained with ayahs 16–21
ناممکن کو ممکن بنانے پہ قادر اللہ تعالیٰ۔
اوپر حضرت زکریا ؑ کا ذکر ہوا تھا اور یہ بیان فرمایا گیا تھا کہ وہ اپنے پورے بڑھاپے تک بےاولاد رہے ان کی بیوی کو کچھ ہوا ہی نہ تھا بلکہ اولاد کی صلاحیت ہی نہ تھی اس پر اللہ نے اس عمر میں ان کے ہاں اپنی قدرت سے اولاد عطا فرمائی حضرت یحییٰ ؑ پیدا ہوئے جو نیک کار اور وفا شعار تھے اس کے بعد اس سے بھی بڑھ کر اپنی قدرت کا نظارہ پیش کرتا ہے۔ حضرت مریم ؑ کا واقعہ بیان کرتا ہے کہ وہ کنواری تھیں۔ کسی مرد کا ہاتھ تک انہیں نہ لگا تھا اور بےمرد کے اللہ تعالیٰ نے محض اپنی قدرت کاملہ سے انہیں اولاد عطا فرمائی حضرت عیسیٰ ؑ جیسا فرزند انہیں دیا جو اللہ کے برگزیدہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
سورة مَرْیَم 14
سورة آل عمران میں یہ بتایا جا چکا ہے کہ حضرت مریم کی والدہ نے اپنی مانی ہوئی نذر کے مطابق ان کو بیت المقدس میں عبادت کے لیئے بٹھا دیا تھا اور حضرت زکریا نے ان کی حفاظت و کفالت اپنے ذمے لے لی تھی۔ وہاں یہ ذکر بھی گزر چکا ہے کہ حضرت مریم بیت المقدس کی ایک محراب میں معتکف ہوگئی تھیں۔ اب یہاں یہ بتایا جا رہا ہے کہ جس میں حضرت مریم معتکف تھیں بیت المقدس سے شرقی حصے میں واقع تھی اور انہوں نے معتکفین کے عام طریقے کے مطابق ایک پردہ لٹکا کر اپنے آپ کو دیکھنے والوں کی نگاہوں سے محفوظ کرلیا تھا۔ جن لوگوں نے محض بائیبل کی موافقت کی خاطر مکاناً شرقیاً سے مراد لیا ہے انہوں نے غلطی کی ہے،…
Read the full tafseer →فَاَرْسَلْنَآ اِلَيْهَا رُوْحَنَاروح سے مراد جمہور کے نزدیک حضرت جبرئیل ؑ ہیں اور بعض نے کہا کہ خود حضرت عیسیٰ ؑ مراد ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان کے بطن سے بپیدا ہونے والے بشر کی شبیہ ان کے سامنے کردی۔ مگر پہلا قول راجح ہے بعد کے کلمات سے اسی کی تائید ہوتی ہے۔
فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيًّافرشتہ کو اس کی اپنی اصلی صورت وہیئت میں دیکھنا انسان کے لئے آسان نہیں، اس کی ہیبت غالب آجاتی ہے جیسے رسول اللہ ﷺ کو غار حراء میں اور بعد میں پیش آیا۔ اس مصلحت سے جبرئیل امین حضرت مریم علیہا اسلام کے سامنے بشکل انسانی ظاہر ہوئے۔ جب حضرت مریم نے ایک انسان کو اپنے قریب دیکھا جو پردہ کے اندر آگیا تو خطرہ ہوا کہ…
Read the full tafseer →فَاتَّخَذَتْ مِنْ دُونِهِمْ حِجَابًا فَأَرْسَلْنَا إِلَيْهَا رُوحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيًّا۔
حضرت مریم کا امتحان : لوگوں کے اور اپنے درمیان پردہ حائل کرلینا اس بات کا قرینہ ہے کہ وہ اعتکاف میں بیٹھ گئیں۔ اس دوران میں اللہ تعالیٰ نے ان کے پاس اپنا فرشتہ بھیجا جو ایک تندرست و توانا آدمی کی شکل میں ان کے سامنے نمودار ہوا۔ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو حضرت مریم کا متحان لینا منظور تھا کہ فرشتہ بشری روپ میں نمدار ہوا ورنہ حضرات انبیاء کے لیے بھی فرشتوں کے ظہور کی عام شکل یہ نہیں رہی ہے۔ اس حادثہ کا جو اثر حضرت مریم پر جو ابھی فرشتہ اور ہاتف وغیرہ سے نا آشنا تھیں۔ پڑا ہوگا اس کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
17۔ 1 یہ علیحدگی اور حجاب (پردہ) اللہ کی عبادت کی غرض سے تھا تاکہ انھیں کوئی نہ دیکھے اور یکسوئی حاصل رہے یا طہارت حیض کے لئے۔ اور مشرقی مکان سے مراد بیت المقدس کی مشرقی جانب ہے۔
17۔ 2 رُوْح سے مراد حضرت جبرائیل ؑ ہیں، جنہیں کامل انسانی شکل میں حضرت مریم کی طرف بھیجا گیا، حضرت مریم نے جب دیکھا کہ ایک شخص بےدھڑک اندر آگیا ہے تو ڈر گئیں کہ یہ بری نیت سے نہ آیا ہو۔ حضرت جبرائیل ؑ نے کہا میں وہ نہیں ہوں جو تو گمان کر رہی ہے بلکہ تیرے رب کا قاصد ہوں اور یہ خوشخبری دینے آیا ہوں کہ اللہ تعالیٰ تجھے لڑکا عطا فرمائے گا، بعض قرائتوں میں لِیَھَبَ صیغہ غائب ہے۔ متکلم کا صیغہ (جو موجودہ قراءت میں ہے) اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
9: علیحدہ جاکر پردہ ڈالنے کی وجہ بعض مفسرین نے یہ بیان کی ہے کہ غسل کرنا چاہتی تھیں، اور بعض نے کہا ہے کہ عبادت کے لئے تنہائی اختیار کرنا مقصود تھا، علامہ قرطبی نے اسی کو ترجیح دی ہے۔
Read the full tafseer →فارسلنا الیھا روحنا فتمثل لھا بشراً سویاً (91 : 81) ” اس حالت میں ہم نے اس کے پاس اپنی روح کو (یعنی فرشتے کو) بھیجا اور وہ اس کے سامنے ایک پور انسان کی شکل میں نمودار ہوا۔ یہ اب کسی بھی کنواری عورت کی طرح گھبرا اٹھتی ہے ، جس کے کمرے میں اچانک ایک پورا نوجوان مرد داخل ہوجائے۔ وہ اللہ کی پناہ میں آتی ہے۔ اللہ سے پناہ طلب کرتی ہے ، اس شخص کو اللہ اور تقویٰ و طہارت کا واسطہ دیتی ہے۔ اللہ کے خوف کا واسطہ دیتی ہے ، وہ کہتی ہے کہ اللہ دیکھ رہا ہے ، یہ جگہ خالی نہیں ہے۔ اللہ موجود ہے۔
Read the full tafseer →9 حضرت جبرائیل نوجوان خوبصورت مرد کی شکل میں پہنچے، جیسا کہ فرشتوں کی عادت ہے کہ عموماً خوش منظر صورتوں میں متمثل ہوتے ہیں۔ اور ممکن ہے یہاں حضرت مریم (علیہا السلام) کی انتہائی عفت و پاکبازی کا امتحان بھی مقصود ہو کہ ایسے زبردست دواعی و محرکات بھی اس کے جذبات عفاف وتقویٰ کو ادنیٰ ترین جنبش نہ دے سکے۔
Read the full tafseer →آیت 17 فَاتَّخَذَتْ مِنْ دُوْنِہِمْ حِجَابًا
انہوں نے گوشے میں پردہ تان کر خلوت کا ماحول بنا لیا تاکہ یکسوئی سے اللہ کی عبادت کرسکیں۔
فَاَرْسَلْنَآ اِلَیْہَا رُوْحَنَا
یہاں پر روح بمعنی فرشتہ ہے۔ قبل ازیں تفصیلاً بیان ہوچکا ہے کہ فرشتہ بھی روح ہے ‘ وحی بھی روح ہے ‘ قرآن بھی روح ہے اور روح انسانی بھی روح ہے۔
فَتَمَثَّلَ لَہَا بَشَرًاسَوِیًّا
یعنی فرشتہ ان کے سامنے ایک مکمل انسان کی صورت میں نمودار ہوا۔
Read the full tafseer →17 سیدہ مریم کی بیت المقدس کے حجرہ میں عبادت :۔ سیدنا یحییٰں کی خرق عادت پیدائش کے بعد اب سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی معجزانہ بغیر باپ پیدائش کا آغاز ہو رہا ہے۔ سیدہ مریم ( علیہ السلام) بیت المقدس کے مشرقی جانب کے ایک حجرہ میں گوشہ نشین ہو کر اللہ کی عبادت میں مشغول رہا کرتیں۔ پھر اس کمرہ میں بھی ایک پردہ ڈال لیا تاکہ دوسرے لوگوں سے بھی الگ تھلگ رہ کر پوری یکسوئی سے ذکر و فکر میں مشغول رہ سکیں اور اس کا دوسرا مطلب یہ لیا گیا ہے کہ جب جوان ہوئیں تو انھیں حیض آگیا اور بہت زیادہ شرم محسوس ہوئی تو اس وقت سب لوگوں سے پردہ کرلیا۔ پھر اسی علیحدگی میں غسل حیض بھی کیا۔
18 یہاں روح سے مراد فرشتہ ہے۔…
Read the full tafseer →21۔ (کہ ان کی نگاہوں سے آڑ میں ہوجائیں) (آیت) ” دونھم “۔ ھم ضمیر جمع ہے مراد آپ کے گھروالے ہیں جن کا ذکر اھلھا میں موجود ہے۔
22۔ یعنی ایک فرشتہ خاص کو اس خلوت میں ان کے پاس انسان کی شکل میں بھیجا۔ (آیت) ” روحنا “۔ قرآن مجید نے ملائکہ مقربین و خواص کو روح ہی سے تعبیر کیا ہے۔ وسمی اشراف الملئکۃ ارواحا (راغب) اور فراء لغوی نے کہا ہے کہ یہاں روح کی اضافت اللہ کی طرف ایسی ہی ہے جیسی اللہ کی زمین اور اللہ کا آسمان بولا جاتا ہے۔ اضاف الروح المرسل الی مریم الی نفسہ کما تقول ارض اللہ وسماۂ (لسان) بہرحال یہاں مراد جبرئیل (علیہ السلام) ہیں قال الاکثرون انہ جبرئیل (علیہ السلام) (کبیر) انجیل میں بھی انہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–25
آیت نمبر 16 تا 25
ترجمہ : اور اے محمد ﷺ اس کتاب یعنی قرآن میں مریم کا یعنی ان کے واقعہ کا ذکر کیجئے جب کہ وہ اپنے اہل خانہ سے الگ ہو کر ایک ایسے مکان میں جو شرقی جانب تھا چلی گئیں یعنی دار (بیت المقدس) کے مشرقی جانب کسی جگہ تنہائی میں چلی گئیں اور اہل خانہ کی جانب سے پردہ ڈال لیا، یعنی پردہ لٹکا لیا تاکہ آڑ ہوسکے (اور) اپنے سریا کپڑوں میں جوں دیکھ سکے یا حیض سے طہارت کے لئے غسل کرسکے تو ہم نے اس کے پاس اپنی روح جبرئیل (علیہ السلام) کو بھیج دیا تو وہ ان کے سامنے کپڑے پہننے کے بعد مکمل مرد بن کر نمودار ہوا حضرت مریم کہنے لگیں کہ میں تجھ سے اپنے خدا کی پناہ طلب کرتی ہوں اگر تجھے کچھ بھی خوف خدا…
Read the full tafseer →فاتخذت من دونہم حجابا جب کہ وہ اپنے گھر والوں
پھر ان گھر والوں سے اوٹ کرنے کے لئے انہوں نے پردہ ڈال لیا۔
انْتَبَذَتْالگ ہوگئی ‘ دور ہوگئی ‘ نَبْذٌپھینک دینا ‘ دینے سے کسی چیز کا دور ہوجانا لازم ہے۔ پس انتبذت کا مرادی ترجمہ ہوگیا دور ہوگئی۔
مَکَانًا شَرْقِیًّا مکان کے مشرقی حصہ میں ایک جگہ ‘ چونکہ سردی کا زمانہ اور سرد دن تھا اس لئے حضرت مریم مکان کے شرقی جانب سر میں کنگھا کرنے کے لئے بیٹھیں۔ بعض اہل علم نے لکھا ہے حیض سے طہارت کا غسل کرنے سب سے الگ کسی جانب چلی گئی تھیں ‘ بعض کا خیال ہے عبادت کیلئے یکسو ہو کر تنہائی میں چلی گئی تھیں۔ حسن نے کہا اسی وجہ سے عیسائی مشرق کی طرف منہ کر کے عبادت…
Read the full tafseer →(17) پھر انہوں نے گھر والوں کے سامنے پردہ ڈال لیا تاکہ اس کی آڑ میں غسل کرسکیں چناچہ غسل سے فراغت کے بعد ہم نے ان پاس اپنے فرشتے جبریل امین ؑ کو بھیجا وہ ان کے سامنے ایک پورے نوجوان کی صورت میں ظاہر ہوئے ،
Read the full tafseer →فَاتَّخَذَتْ مِنْ دُوْنِهِمْ حِجَابًا : ایام سے فارغ ہونے پر غسل کے لیے پردہ تان لیا، یا عبادت میں مکمل تنہائی کے لیے۔
فَاَرْسَلْنَآ اِلَيْهَا رُوْحَنَا : روح سے مراد یہاں جبریل ؑ ہیں، جیسا کہ سورة شعراء (193) اور سورة قدر (4) میں انھی کے متعلق روح کا لفظ آیا ہے۔ اگرچہ ہر روح کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے مگر جبریل ؑ کو خاص طور پر اپنا قرار دینے میں ان کی شان کی بلندی کا اظہار ہے، جیسا کہ ہر گھر اور ہر اونٹنی اللہ کی ملکیت ہے، مگر بیت اللہ اور ناقۃ اللہ کی شان انوکھی ہے۔ اس لیے ”رُوْحَنَا“ کا ترجمہ ”اپنا خاص فرشتہ“ کیا ہے۔
فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيًّا : ”سَوِيًّا“ پورے اعضا والا تندرست…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–22
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فارسلنا الیھا روحنا، بعض علماء نے فرمایا : وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی روح تھی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے روحوں کو اجساد سے پہلے پیدا فرمایا تھا اور حضرت عیسیٰ کا جسم جو حضرت مریم کے پیٹ میں اللہ تعالیٰ نے تخلیق کیا تھا اس میں روح پھونکی۔ بعض علماء نے فرمایا : وہ جبرئیل (علیہ السلام) ہیں۔ روح کو اللہ کی طرف تخصیص اور کرامت کے لیے مضاف کیا گیا ہے۔ ظاہر ہے یہ جبرئیل (علیہ السلام) تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فتمثل لھا، یعنی فرشتہ مریم کے لیے انسانی شکل میں آیا۔ بشراً ، تفسیر یا حال ہے۔ سویا، متوازا خلقت والا، چونکہ حضرت مریم، جبریل کو اصلی شکل میں دیکھنے کی طاقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–24
1:۔ عبدالرزاق، عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اذ انتبذت “ یعنی الگ ہوگئیں (آیت) ” من اھلھا مکانا شرقیا “ یعنی مشرق کی طرف دور علیحدہ جگہ۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اذانتبذت من اھلھا مکانا شرقیا “ یعنی ایسی جگہ آپ چلی گئی تھیں جہاں سورج کی دھوپ پڑرہی تھی ایسا نہ ہو کہ لوگوں میں سے کوئی اس کو دیکھ لے۔
3:۔ فریابی، ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نصاری نے مشرق کو قبلہ بنالیا کیونکہ مریم (علیہا السلام) نے اپنے گھروالوں سے دور مشرقی جانب ایک جگہ بنالی تھی انہوں نے ان…
Read the full tafseer →[فَاتَّخَذَتْ : پھر انھوں نے پکڑا ] [مِنْ دُوْنِهِمْ : ان لوگوں کے علاوہ سے (یعنی ہٹ کر)] [حِجَابًا : ایک اوٹ ] [فَاَرْسَلْنَآ : تو ہم نے بھیجا ] [اِلَيْهَا : ان کی طرف ] [رُوْحَنَا : اپنی روح (یعنی جبریل (علیہ السلام) کو)] [فَتمثَّلَ : تو وہ شکل میں آگئے ] [لَهَا : ان کے لئے ] [بَشَرًا سَوِيًّا : ایک مکمل آدمی کے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
فرشتہ کا بیٹے کی خوشخبری دینا اور حضرت مریم کا متعجب ہونا
اس پر حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے کہا کہ میں تو اللہ کا بھیجا ہوا ہوں تاکہ تجھے اللہ کی طرف سے ایک پاکیزہ لڑکا دے دوں۔ اس پر حضرت مریم [ نے کہا تم کیا کہہ رہے ہو میرے لڑکا کیسے ہوگا ؟ نہ تو مجھے کسی ایسے شخص نے چھوا ہے جس کا چھونا حلال ہو (یعنی شوہر) اور نہ میں فاجرہ عورت ہوں بچہ تو حلال مباشرت سے یا کسی زانی کے زنا سے پیدا ہوتا ہے، اور یہاں تو دونوں میں سے کوئی بات بھی نہیں لہٰذا میرے اولاد ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
فرشتہ کا جواب دینا کہ اللہ کے لیے سب کچھ آسان ہے
سورة آل عمران کے سیاق کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے پہلے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–33
قال اللٰہ تعالیٰ ۔ واذکر فی الکتٰب مریم۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ و یوم اموت ویوم ابعث حیا۔
(ربط) حق تعالیٰ نے گزشتہ رکوع میں حضرت زکریا (علیہ السلام) کا قصہ بیان فرمایا کہ بحالت پیری ایک پیر ناتواں اور ایک بانجھ اور بوڑھی بیوی سے بلا سبب ظاہری ایک مبارک فرزند یعنی یحییٰ (علیہ السلام) کا تولد ہوا۔ اب اس سے زیادہ عجیب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت کا قصہ بیان کرتے ہیں۔ اس لیے کہ بوڑھے مرد اور بانجھ عورت سے بچہ پیدا ہونا اگرچہ عجیب ہے۔ مگر والدین سے بچہ کا پیدا ہونا عادۃ قریب الی العقل ہے اور بغیر باپ کے محض ماں سے بچہ پیدا ہونا بہت ہی عجیب و غریب ہے جو اللہ کی کمال قدرت پر دلالت کرتا ہے کہ خدائے تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
13:۔ یہ حضرت مریم صدیقہ اور حضرت مسیح (علیہما السلام) کے بارے میں پیدا ہونے والے شبہ کا جواب ہے۔ حضرت مریم کے پاس بےموسم کے پھلوں کا موجود ہونا شبہہ میں ڈالتا تھا کہ شاید یہ خارج عادت امر ان کے قبضہ قدرت میں تھا۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے خارق عادت امور کا ظاہر ہونا، جن کا ذکر سورة آل عمران رکوع 5 میں کیا گیا ہے۔ شبہہ میں ڈالتا تھا کہ شاید وہ بھی متصرف و مختار ہوں۔ نیز انجیل میں ان کے لیے لفظ ابن اللہ کا وارد ہونا (انجیل کی زبان میں جس کے معنی اللہ کے پیارے اور برگزیدہ کے ہیں) ۔ اس سے بھی وہم پڑتا تھا کہ شاید اللہ تعالیٰ نے کچھ اختیارات ان کے حوالے کردئیے ہوں یہاں حضرت عیسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–21
ربط آیات :
پہلے رکوع میں حضرت زکریا (علیہ السلام) کا ذکر ہوا انہوں نے حضرت مریم (علیہا السلام) کے پاس بےموسم پھل دیکھے تو اللہ کی بارگاہ میں اولاد کے لیے درخواست کی حالانکہ وہ جس بڑھانے کو پہنچ چکے تھے وہاں عادۃ اولاد ہونے کا امکان نہیں ہوتا ، اللہ نے آپ کی دعا قبول فرمائی اور یحی (علیہ السلام) جیسا عظیم الشان فرزند عطا کیا جس کا نام بھی اللہ خود تجویز فرمایا اور اس نام کا پہلے کوئی بچہ نہیں تھا ۔ آپ کی پیدائش اللہ کی قدرت کا عظیم نمونہ تھی یہ اللہ تعالیٰ کی خاص مہربانی تھی جو اس نے اپنے برگزیدہ بندے زکریا (علیہ السلام) پر کی ، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یحی (علیہ السلام) کی حیثیت اور ان کی…
Read the full tafseer →فَاتَّخَذَتْ مِنْ دُوْنِہِمْ حِجَابًا 0ۣ۠ فَاَرْسَلْنَآ اِلَيْہَا رُوْحَنَا فَتَمَثَّلَ لَہَا بَشَرًا سَوِيًّا 17
أخذ ( افتعال، مفاعله)
والاتّخاذ افتعال منه، ويعدّى إلى مفعولین ويجري مجری الجعل نحو قوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصاری أَوْلِياءَ [ المائدة/ 51] ، أَمِ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِياءَ [ الشوری/ 9] ، فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا [ المؤمنون/ 110] ، أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ : اتَّخِذُونِي وَأُمِّي إِلهَيْنِ مِنْ دُونِ اللَّهِ [ المائدة/ 116] ، وقوله تعالی: وَلَوْ يُؤاخِذُ اللَّهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ [ النحل/ 61] فتخصیص لفظ المؤاخذة تنبيه علی معنی المجازاة…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–20
2 ؎ یعنی اس کی ولادت اور موت اور باررگر زندگی ہر حالت مبارک۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
وَاذْکُرْ فِی الْکِتٰبِ مَرْیَمَ م اِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ اَھْلِہَا مَکَانًا شَرْقِـیًّا۔ فَا تَّخَذَتْ مِنْ دُوْنِہِمْ حِجَابًا قف ص فَاَرْسَلْنَـآ اِلَیْھَا رُوْحَنَا فَتَمَثَّلَ لَھَا بَشَرًا سْوِیًّا۔ (مریم : 16، 17)
(اور اے پیغمبر کتاب میں مریم کی سرگزشت بیان کیجیے جب وہ الگ ہوگئیں اپنے گھر والوں سے ایک مکان میں جو مشرق کی جانب تھا۔ پس اس نے اپنے آپ کو لوگوں سے پردے میں کرلیا تو ہم نے اس کی طرف اپنے جبرائیل کو بھیجا جو اس کے سامنے ایک کامل بشر کی صورت میں نمودار ہوا۔ )
حضرت مریم کا ہیکل سے مشرقی جانب قیام
سورة آل عمران میں یہ ذکر کیا جا چکا ہے کہ حضرت مریم [ کی پیدائش سے پہلے ان کی والدہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کا انتہائی بڑھاپے کے عالم میں زکریا (علیہ السلام) کے ہاں پیدا ہونا غیر معمولی پیدائش اور مشکلات کے حوالہ سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ گہری مماثلت اور ان کے خالہ زاد بھائی ہونے کی وجہ سے حضرت مریم [ اور عیسیٰ (علیہ السلام) کا تذکرہ شروع ہوتا ہے۔
قرآن مجید میں انبیاء کرام (علیہ السلام) اور ان کے علاوہ دوسری شخصیات کے ذکر کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ سرور دو عالم ﷺ اور آپ کی امت کے لوگوں کی ڈھارس بندھائی جائے۔
(وَکُلًّا نَقُصُّ عَلَیْکَ مِنْ أَنْبَاء الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِہِ فُؤَادَکَ وَجَاءَ کَ فِیْ ہَذِہِ الْحَقُّ وَمَوْعِظَۃٌ وَذِکْرٰی…
Read the full tafseer →17: فَاتَّخَذَتْ مِنْ دُوْنِھِمْ حِجَابًا (انہوں نے گھر والوں سے پردہ ڈال لیا) یعنی انہوں نے اپنے اور گھر والوں کے درمیان اسلئے پردہ لٹکایا تاکہ اس پردے کے پیچھے غسل کرسکیں۔ فَاَرْسَلْنَا اِلَیْھَا رُوْحَنَا (پس ہم نے بھیجا ان کے پاس جبرئیل امین کو) روحَنَا کی اضافت تشریف کیلئے ہے اور ان کو روح اسلئے کہا جاتا ہے کیونکہ دین ان سے زندہ ہے وہ اس کی وحی لاتے رہے ہیں۔ فَتَمَثَّلَ لَھَا بَشَرًا سَوِیًّا (پس ان کے سامنے پورا آدمی بن کر نمودار ہوئے) یعنی جبرئیل ایک نوجوان آدمی کی صورت میں ان کے سامنے آئے جن کا چہرہ چمک رہا تھا۔ بال گھنگریالے اور منہ پر ڈاڑھی نہ تھی۔ سَوِیًّا کا معنی اعضاء بند ان کے…
Read the full tafseer →تفسیر۔
17۔ فاتخذت ، ، پس ڈال دیا۔ من دونھم حجابا، ابن عباس کا قول ہے کہ حجاب سے مراد پردہ ہے بعض نے کہا کہ وہ دیوار کی اوٹ میں بیٹھ گئیں ۔ مقاتل کا بیان ہیی کہ وہ پہاڑ کی اوٹ میں بیٹھ گئیں۔ عکرمہ کا قول ہے کہ حضرت مریم (علیہما السلام) مسجد میں رہتی تھیں لیکن ایما حیض میں مسجد سے ہٹ کر اپنی خالہ کے گھرچلی جاتی تھیں اور فراغت کے بعد پھر مسجد میں آجاتی تھیں۔ اتفاقا ایک روز کپڑے اتارے غسل کررہی تھیں کہ حضرت جبرائیل ایک خوش رویے بےریش وبرودت ، روشن چہرہ، گھنگھریالے بال متناسب القامت نوجوان کے بھیس میں آکھڑے ہوئے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، فارسلناالیھا روحنا، اس سے مراد حضرت جبرائیل (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–21
15۔ 21:۔ اوپر بنی اسرائیل کے اس دستور کا ذکر گزر چکا ہے وہ اپنے لڑکوں کو بیت المقدس کا خادم بنایا کرتے تھے حضرت مریم ( علیہ السلام) کی ماں حنہ نے اس دستور کے موافق نذر مانی کہ ان کے پیٹ میں جو بچہ ہے اس کے پیدا ہونے کے بعد اس کو وہ بیت المقدس کا خادم بنا دیویں گی جب حضرت مریم پیدا ہوئیں تو لڑکی کے پیدا ہونے سے ان کو بڑا رنج ہوا کس لیے کہ لڑکیوں کو بیت المقدس کا خادم بنانے کا حکم نہیں تھا مگر یہ قصہ سورة آل عمران میں گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر باوجود لڑکی ہونے کے ان کا خادم ہونا قبول فرما لیا حضرت مریم کے باپ عمران حضرت مریم کے پیدا ہونے سے پہلے وفات پاگئے تھے اس لیے اپنے خالو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–21
آیت 16
اللہ تبارک و تعالیٰ نے زکریا اور یحییٰ (علیہ السلام) کا واقعہ بیان کرنے کے بعد۔۔۔. کہ یہ واقعہ اللہ تعالیٰ کی عجیب نشانیوں میں سے ہے۔۔۔. ایک اور قصہ بیان فرمایا جو اس سے بھی زیادہ عجیب ہے۔ یہ ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف تدریج ہے۔ (واذکر فی الکتب) ” اور ذکر کر کتاب میں “ یعنی قرآن کریم میں (مریم) مریم (علیہ السلام) کا۔ یہ مریم علیھا السلام کی سب سے بڑی فضیلت ہے کہ کتاب عظیم میں ان کا نام مذکور ہے جس کی مشرق و مغرب کے تمام مسلمان تلاوت کرتے ہیں۔ اس کتاب عظیم میں بہترین پیرائے میں ان کا ذکر اور ان کی مدح و ثنا بیان کی گئی ہے یہ ان کے اچھے اعمال اور کوشش کامل کی جزا ہے، یعنی کتاب عظیم میں، حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–22
محراب کیا ہے ؟
قول باری ہے (فخرج علی قومہ من المحراب۔ چناچہ وہ محراب سے نکل کر اپنی قوم کے سامنے آئے) ابوعبیدہ کا قول ہے کہ محراب صدر مجلس یعنی بیٹھنے کی جگہ کے درمیان والے حصے کو کہتے ہیں۔ اسی سے مسجد کا محراب نکلا ہے۔ ایک قول کے مطابق محراب غرفہ یعنی بالا خانہ کو کہتے ہیں۔ اسی سے قول باری ہے (اذ تسوروا المحراب ۔ جب وہ دیوار پھاند کر حجرہ میں آ گئے ) ایک اور قول ہے کہ محراب مصلی یعنی نماز پڑھنے کی جگہ کو کہتے ہیں۔
گونگے کے اشارے سے عمل درآمد ہوسکتا ہے
قول باری ہے (فاوحی الیھم اس نے انہیں اشارے سے کہا) ایک قول کے مطابق حضرت زکریاعلیہ السلام نے اپنی قوم کو ہاتھ کے اشارے سے کہا اس طرح ہاتھ کے…
Read the full tafseer →23 حضرت مریم کی طرف روح القدس کے بھیجنے کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے اپنا فرشتہ ان کی طرف بھیجا "۔ یعنی روح القدس۔ جن کو اللہ پاک نے روح پھونکنے کے لئے بھیجا تھا۔ نیز جو کہ وحی لانے پر ما مور و مقرر تھے جو کہ اس عالم کے لئے بمنزلہ روح کے ہے۔ اسی لئے قرآن حکیم میں آپ کو روح القدس اور روح الامین فرمایا گیا ہے۔ بہرکیف ان کو حضرت مریم کے پاس بھیجا گیا تاکہ وہ ان کو بغیر باپ کے معجزانہ طور پر پیدا ہونے والے اس بچے کی خوشخبری سنا دیں۔ تاکہ کہیں یہ نہ ہو کہ وہ اس کی بناء پر غم اور صدمے میں گھٹ کر اپنی جان ہی نہ گنوا بیٹھیں کہ میرے یہاں بغیر باپ کے یہ بچہ کیسے پیدا ہوگیا اور میں دنیا کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–34
سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش اور بچپن کی گفتگو
تشریح : سیدہ مریم کا پورا واقعہ سورة آل عمران میں بڑی وضاحت سے گزر چکا ہے کہ آپ کی والدہ نے آپ کو بیت المقدس میں عبادت کے لیے بٹھا دیا تھا۔ یہ محراب شرقی حصہ میں واقعہ تھی، جہاں آپ نے ایک پردہ ڈال کر اپنے آپ کو لوگوں کی نظروں سے چھپا رکھا تھا۔ سیدنا یحییٰ (علیہ السلام) کے ساتھ ہی سیدہ مریم (علیہا السلام) کا ذکر کیا گیا ہے۔ سیدنا یحییٰ (علیہ السلام) کی پیدائش بھی اللہ کی قدرت کی کامل نشانی ہے اور سیدنا مریم (علیہا السلام) کا انتہائی پاکدامن اور نیک ہونے کے باوجود بغیر کسی مرد کے ملے (نکاح وغیرہ) بیٹا پیدا کرنا بھی اللہ کی بہت بڑی نشانیوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–41
(رکوع نمبر 2)
اسرارومعارف
اور اے حبیب ﷺ اس سے عجیب تر اور فکر انگیز واقعہ ایسی کتاب اللہ میں سنا دیجئے جو حضرت مریم (علیہا السلام) کا ہے اور جس کے متعلق یہود اور نصاری نے اپنے اپنے نظریات گھڑ رکھے ہیں کہ اس کی حقیقی اور واقعی صورت کیا ہے یہ بات تب شروع ہوتی ہے جب حضرت مریم (علیہا السلام) اپنے گھر والوں سے الگ ہو کر غسل وغیرہ کرنے کے لیے پردہ میں چلی گئیں تو وہاں ان کے پاس حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو بھیجا جس نے انسانی شکل میں ظاہر ہو کر ان سے بات کرنا چاہی ، یاد رہے حضرت مریم (علیہا السلام) کا ذکر آل عمران میں گذر چکا ہے ۔
(اولیاء اللہ سے فرشتہ کا ہمکلام ہونا)
کہ ان کی والدہ نے منت مانی تھی…
Read the full tafseer →ف 4 بعض مفسرین نے اگرچہ روحنا ہماری (روح) سے مراد حضرت عیسیٰ کی روح مراد لی ہے مگر زیادہ تر قرین قیاس یہی ہے کہ اس سے مراد حضرت جبرئیل ہی لئے جائیں جیسا کہ آگے فرمایا جا رہا ہے کہ وہ ایک اچھے خاصے پورے آدمی کی شکل میں ان کے سامنے آگیا۔ (فتح مقدر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
(19:17) فاتخذت حجاباپردہ کرلیا۔ من دونہم۔ ای من دون اھلھا اہل خانہ کی طرف سے پردہ کرلیا۔ روحناجبرئیل (علیہ السلام)
فتمثل۔ تمثل یتمثل تمثل (تفعل) سے ماضی واحد مذکر غائب کسی دوسری چیز کی صورت پکڑنے کو تمثیل کہتے ہیں۔ اس معنی میں جب تمثیل کا استعمال ہوتا ہے تو اس کا تعدیہ لام سے ہوتا ہے۔ تمثل لھا۔ وہ ظاہر ہوا اس کے سامنے بشرا سویا چنگا بھلا تندرست انسان بن کر۔ نیز ملاحظہ ہو (19:10) مذکورہ بالا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–21
لغات القرآن آیت نمبر 16 تا 21
انتبذت الگ ہوگئی۔ حجاب پردہ۔ تمثل ڈھل گیا۔ سوی ٹھیک ٹھیک۔ تقی پرہیز گار۔ اھب میں دوں گا۔ زکی پاک باز، پاکیزہ۔ لم یمسسنی مجھے ہاتھ نہیں لگایا۔ بغنی بدکردار، بدکار، امر معاملہ، کام مقضی فیصلہ کیا گیا۔ طے شدہ۔
تشریح : آیت نمبر 16 تا 21
گزشتہ آیات میں حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کے متعلق ارشاد فرمایا گیا تھا کہ ان کی زندگی قدرت کی کھلی ہوئی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت زکریا (علیہ السلام) کو ایک سو بیس سال کی عمر میں حضرت یحییٰ (علیہ السلام) جیسا بیٹا عطا فرمایا جب کہ ان کی بیوی بانجھ تھیں اور اس بڑھاپے میں اولاد ہونے کا دور دور تک امکان نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–21
حضرت مریم (علیہا السلام) کا واقعہ
یہ دوسرا واقعہ مریم (علیہا السلام) کا ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک شخص تھے جن کا نام عمران تھا۔ یہ عمران موسیٰ (علیہ السلام) کے والد نہیں ہیں۔ ان کی ایک بیوی حنہ بڑی نیک تھیں، اور وہ حضرت زکریا (علیہ السلام) کی سالی تھیں۔ انہوں نے خدا تعالیٰ سے نذر مانی تھی کہ میرے ہاں جو لڑکا پیدا ہوگا تو میں تیری نذر کروں گی۔ ان لوگوں میں اس نذر کا دستور قدیمی تھا مگر حنہ کے ہاں لڑکا نہ ہوا بلکہ لڑکی ہوئی جن کا نام مریم رکھا گیا۔ سب کو افسوس ہوا کہ اگر لڑکا ہوتا تو بیت المقدس کی خدمت کرتا ۔ لڑکیوں کو بیت المقدس کا خادم بنانے کا حکم نہ تھا۔ یہ واقعہ سورة آل عمران میں گزر چکا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
[8] یعنی لوگوں سے جدا ہو کر عبادت کے لئے خلوت میں بیٹھی تھیں۔
[9] روح یعنی فرشتہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–17
نیک اولاد :
(ف 2) حضرت یحیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے بوڑھے باپ کی آغوش روحانیت میں تربیت پائی سن رشد کو پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا اب کتاب و رسالت کو قوت کے ساتھ تھام اور صبر و استقلال کے ساتھ تبلیغ میں مصروف ہوجاؤ اس کے بعد ان کے اوصاف بیان کئے ہیں کہ وہ لڑکپن ہی سے سمجھدار تھے ، نرم دل اور پاکیزہ اعمال تھے پرہیزگار تھے والدین کے اطاعت گزار تھے ، اور طبیعت میں سرکشی وبغاوت کا عنصر قطعا موجود نہ تھا ۔
درحقیقت ان اوصاف کا پیغمبر کی ذات میں نبوت سے قبل جمع ہونا ضروری ہے تاکہ آگے چل کر وہ دنیا کے لئے خیروبرکت کا باعث ہو سکے ۔
حل لغات :
العراب : زاویہ عبادت یاحجرہ ۔
الحکم : سمجھ ، سلیقہ ،…
Read the full tafseer →- 17 پھر اس نے ان لوگوں کے درے اور ان کے بالمقابل ایک پردہ ڈال لیا پس ہم نے اس مریم کے پاس اپنے ایک فرشتے کو بھیجا وہ فرشتہ اس کے سامنے ایک صحیح الخلقت آدمی کو شکل و صورت اختیار کر کے ظاہر ہوا۔ حضرت مریم نے اپنے اہل سے دور نکل جانے کے باوجود پھر پردہ ڈال لیا جب نہانے کا ارادہ کیا تو دیکھا کہ ایک نوجوان خوب روکھڑا ہوا ہے۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی جو ان خوش صورت 12
خلاصہ :- کہ فرشتہ اپنی اصلی حالت میں نہیں آیا کہ حضرت مریم (علیہ السلام) کو وحشت نہ ہو اور وہ ڈر نہ جائیں اس لئے بشر بن کر آئے یہ فرشتہ بقول مفسرین حضرت جبرئیل (علیہ السلام) تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
ف 6۔ یعنی تمہارے منہ میں یا گریبان میں دم کردوں کہ اس کے اثر سے باذن اللہ حمل رہ جاوے گا اور لڑکا پیدا ہوگا۔
Read the full tafseer →آپ لوگوں سے الگ تھلگ تھیں کہ فرشتہ نے متمثل بہ انسان ہو کر حاضری دی ۔
17۔ قوم کے رواج کے خلاف آپ نے نکاح کیا لیکن خاوند کی توجہ آپ کی طرف نہ ہوئی آپ کی شان جلالت درمیان میں حائل ہوئی یا کوئی دوسری بات تھی کہ آپ کے کفیل آپ کے چچیرے یوسف نجار جو نہایت ہی پاکباز انسان تھے اپنی کفالت میں لینے کے بعد خاموش ہوگئے اس حالت میں کتنا وقت گزرا کم از کم اتنا کہ ایک تیسرے نفس کی امید ہو سکتی تھی جو نہ ہوئی آپ دوسرے گھر والوں سے الگ تھلگ تھیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرستادہ فرشتہ انسانی شکل میں متمثل ہو کر آپ کے پاس پہنچا اگرچہ اس کے ساتھ فرشتوں کی ایک جماعت بھی تھی تاہم بات اس نے کرنا چاہی کیونکہ اس کو…
Read the full tafseer →فَاَرسَلنَا اِلیھَا رُوحَنَا
"Then, We sent to her Our Spirit." - 19:17.
A majority of scholars hold the view that رُوح (Spirit) refers to Sayyidna Jibra'il (علیہ السلام) but some say that it refers to Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) himself. Allah Ta` ala had placed before Sayyidah Maryam (علیہا السلام) the likeness of the son to be born to her. But the former version is more appropriate and is confirmed by the statement that follows.
فَتَمَثَّلَ لَھَا بَشَراً سَوِیَّا
"He took before her the form of a perfect human." - 19:17.
It is not given to a human being to see an angel in its real form,…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
14. The Sanctuary where she had retired for devotion was an eastern chamber in the Temple, and as was customary she had hung a curtain to conceal herself from the people. It cannot be Nazareth as some people have wrongly taken it to be, because Nazareth is to the north of Jerusalem.
Read the full tafseer →