Maryam 19:16

Maryam · from ayah 16

19:16

وَاذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ مَرْیَمَ ۘ— اِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ اَهْلِهَا مَكَانًا شَرْقِیًّا ۟ۙوَاذۡكُرۡ فِى الۡـكِتٰبِ مَرۡيَمَ‌ۘ اِذِ انْتَبَذَتۡ مِنۡ اَهۡلِهَا مَكَانًا شَرۡقِيًّا

اور کتاب (قرآن) میں مریم کا بھی مذکور کرو، جب وہ اپنے لوگوں سے الگ ہو کر مشرق کی طرف چلی گئیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And mention, [O Muhammad], in the Book [the story of] Mary, when she withdrew from her family to a place toward the east.

— Saheeh International

Juz 16 · Ruku 2 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Maryam

All translations of 19:16

اور اے محمدؐ، اس کتاب میں مریم کا حال بیان کرو، جبکہ وہ اپنے لوگوں سے الگ ہو کر شرقی جانب گوشہ نشین ہو گئی تھی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور کتاب (قرآن) میں مریم کا بھی مذکور کرو، جب وہ اپنے لوگوں سے الگ ہو کر مشرق کی طرف چلی گئیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اس کتاب میں مریم کا بھی واقعہ بیان کر۔ جبکہ وه اپنے گھر کے لوگوں سے علیحده ہو کر مشرقی جانب آئیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور اس کتاب میں مریم کا بھی تذکرہ کرو۔ اس وقت کا تذکرہ جب وہ اپنے گھر والوں سے علیحدہ ہو کر اس جگہ چلی گئیں جو مشرق کی طرف واقع تھا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور کتاب میں مریم کو یاد کرو جب اپنے گھر والوں سے پورب کی طرف ایک جگہ الگ گئی

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور (اے حبیبِ مکرّم!) آپ کتاب (قرآن مجید) میں مریم (علیہا السلام) کا ذکر کیجئے، جب وہ اپنے گھر والوں سے الگ ہو کر (عبادت کے لئے خلوت اختیار کرتے ہوئے) مشرقی مکان میں آگئیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور کتاب میں مریم کا ذکر کر، جب وہ اپنے گھروالوں سے ایک جگہ میں الگ ہوئی جو مشرق کی جانب تھی۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور (اے پیغمبر !) اس کتاب میں مریم کا حال بھی ذکر کیجئے۔ جب وہ اپنے گھر والوں سے الگ ہو کر مشرقی جانب گوشہ نشین ہوگئی تھی۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور کتاب میں مریم کی سرگزشت کو یاد کرو جب کہ وہ اپنے لوگوں سے الگ ہو کر پورب کی جگہ میں جا بیٹھی

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اس کتاب میں ان کو مریم (علیہا السلام) کا قصہ بھی پڑھ کر سنا دو ، جب کہ وہ اپنے گھر والوں سے علیحدہ ہو کر مشرقی جانب کی ایک جگہ میں جا بیٹھیں –ف

— مولانا اسحاق مدنی

اور (اس) کتاب میں مریم کا ذکر کیجئے جب وہ اپنے گھر والوں سے الگ ہو کر ایک شرقی مکان میں گئیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور (اب) ذکر کیجیے اس کتاب (قرآن) میں مریم کا جبکہ وہ اپنے لوگوں سے الگ ہو کر ایک شرقی گوشے میں جا بیٹھی

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور کتاب (قرآن) میں مریم کا ذکر کرو جب وہ اپنے لوگوں سے الگ ہو کر مشرقی جانب چلی گئیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

(O Muhammad), recite in the Book the account of Mary, when she withdrew from her people to a place towards the east;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And mention in the Book (the story of) Maryam, when she secluded herself from her people to a place towards East,

— Muhammad Taqi Usmani

And mention in the Book (the story of) Maryam, when she secluded herself from her people to a place towards East,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And mention in the Book, Maryam, when she withdrew in seclusion from her family to place facing east.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And make mention of Mary in the Scripture, when she had withdrawn from her people to a chamber looking East,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And mention, [O Muhammad], in the Book [the story of] Mary, when she withdrew from her family to a place toward the east.

— Saheeh International

(Muhammad), mention in the Book (the Quran) the story of Mary how she left her family and started living in a solitary place to the East

— Muhammad Sarwar

And mention Marium in the Book when she drew aside from her family to an eastern place;

— Muhammad Habib Shakir

And mention thou in the Book Maryam, what time the retired from her people to a place eastward.

— Abdul Majid Daryabadi

Relate in the Book (the story of) Mary, when she withdrew from her family to a place in the East.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 19:16

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 16–21

ناممکن کو ممکن بنانے پہ قادر اللہ تعالیٰ۔ اوپر حضرت زکریا ؑ کا ذکر ہوا تھا اور یہ بیان فرمایا گیا تھا کہ وہ اپنے پورے بڑھاپے تک بےاولاد رہے ان کی بیوی کو کچھ ہوا ہی نہ تھا بلکہ اولاد کی صلاحیت ہی نہ تھی اس پر اللہ نے اس عمر میں ان کے ہاں اپنی قدرت سے اولاد عطا فرمائی حضرت یحییٰ ؑ پیدا ہوئے جو نیک کار اور وفا شعار تھے اس کے بعد اس سے بھی بڑھ کر اپنی قدرت کا نظارہ پیش کرتا ہے۔ حضرت مریم ؑ کا واقعہ بیان کرتا ہے کہ وہ کنواری تھیں۔ کسی مرد کا ہاتھ تک انہیں نہ لگا تھا اور بےمرد کے اللہ تعالیٰ نے محض اپنی قدرت کاملہ سے انہیں اولاد عطا فرمائی حضرت عیسیٰ ؑ جیسا فرزند انہیں دیا جو اللہ کے برگزیدہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة مَرْیَم 13 تقابل کے لیئے تفہیم القرآن، جلد اول، آل عمران، حاشیہ 42، 55 النساء حاشیہ 192۔ 191۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر اور (اے محمد ﷺ اس کتاب (یعنی قرآن کے اس خاص حصہ یعنی سورت) میں (حضرت) مریم (علیہٰا السلام) کا قصہ بھی ذکر کیجئے (کہ وہ زکریا ؑ کے قصہ مذکورہ سے خاص مناسبت رکھتا ہے اور وہ اسوقت واقع ہوا) جب کہ وہ اپنے گھر والوں سے علیحدہ (ہوکر) ایک ایسے مکان میں جو مشرق کی جانب میں تھا (غسل کے لئے) گئیں پھر ان (گھروالے) لوگوں کے سامنے سے انھوں نے (درمیان میں پردہ ڈال) لیا (تاکہ اس کی آڑ میں غسل کرسکیں) پس (اس حالت میں) ہم نے اپنے فرشتہ (جبرئیل علیہٰ السلام) بھیجا اور وہ (فرشتہ) ان کے سامنے (ہاتھ پاؤں اور صورت و شکل میں) ایک پورا آدمی بن کر ظاہر ہوا (چونکہ حضرت مریم نے اس کو انسان سمجھا اس لئے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آگے کا مضمون۔ آیات 16 تا 36: حضرت یحییٰ اور حضرت مسیح کی باہمدگر مشابہت : آگے حضرت مریم، ان کے بطن سے حضرت عیسیٰ کی ولادت اور حضرت عیسیٰ کی اصل تعلیم کا تذکرہ ہے۔ اوپر حضرت یحییٰ کا کا ذکر یوں سمجھیے کہ اسی بیان کی تمہید کے طور پر تھا۔ حضرت یحییٰ خاندان کے اعتبار سے بھی حضرت عیسیٰ کے پیشرو اور شریک ہیں، اور اپنی ولادت کی نوعیت کے پہلو سے بھی بہت بڑی حد تک ان سے مشابہت رکھتے ہیں۔ ان دونوں کا ذکر ایک ساتھ کرکے اللہ تعالیٰ نے نصاریٰ کو اپنی آنکھوں کی پٹی کھولنے کی دعوت دی ہے کہ ایک ہی نسب و حسب کے یکے بعد دیگرے آنے والے دو نبیوں میں آخر یہ عظیم فرق انہوں نے کہاں سے پیدا کردیا کہ ان میں سے ایک کو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 16–17

17۔ 1 یہ علیحدگی اور حجاب (پردہ) اللہ کی عبادت کی غرض سے تھا تاکہ انھیں کوئی نہ دیکھے اور یکسوئی حاصل رہے یا طہارت حیض کے لئے۔ اور مشرقی مکان سے مراد بیت المقدس کی مشرقی جانب ہے۔ 17۔ 2 رُوْح سے مراد حضرت جبرائیل ؑ ہیں، جنہیں کامل انسانی شکل میں حضرت مریم کی طرف بھیجا گیا، حضرت مریم نے جب دیکھا کہ ایک شخص بےدھڑک اندر آگیا ہے تو ڈر گئیں کہ یہ بری نیت سے نہ آیا ہو۔ حضرت جبرائیل ؑ نے کہا میں وہ نہیں ہوں جو تو گمان کر رہی ہے بلکہ تیرے رب کا قاصد ہوں اور یہ خوشخبری دینے آیا ہوں کہ اللہ تعالیٰ تجھے لڑکا عطا فرمائے گا، بعض قرائتوں میں لِیَھَبَ صیغہ غائب ہے۔ متکلم کا صیغہ (جو موجودہ قراءت میں ہے) اس…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 12–16

8: کتاب سے مراد تورات ہے، اور مضبوطی کے ساتھ تھامنے کا مطلب یہ ہے کہ اس پر خود بھی پورا پورا عمل کرو۔ اور دوسروں کو بھی اس کی تلقین کرو۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یہ پہلا منظر ہے۔ ایک کنواری نوجوان عورت ہے ، نہایت ہی پاکباز ہے ، اس کی ماں نے اسے اس وقت عبادت خانے کی خدمت کے لئے نذر کردیا تھا جب وہ ابھی ماں کے پیٹ میں تھی۔ اس کے بارے میں سب کے سب یہی جانتے تھے کہ وہ نہایت ہی پاکباز عورت ہے ، عفت ماب ہے ۔ وہ ہارون کی طرف نسبت رکھتی ہے جو اسرائیلی معبد کے متولی اور پاکباز شخص تھے۔ ان کے خاندان کی شہرت بھی یہ تھی کہ وہ نہایت ہی پاکباز لوگوں کا خاندان ہے اور زمانہ قدیم سے یہ لوگ پاک سیرت چلے آ رہے ہیں۔ یہ عورت اپنے اہل و عیال اور اپنے اس پاکیزہ خاندان سے چھپتی پھرتی ہے ، اس کے حالات ایسے ہیں کہ وہ نظروں سے اوجھل ہو رہی ہے۔ سیاق کلام میں اس حقیقت کی صراحت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 یعنی غسل حیض کرنے کو یہ ہی پہلا حیض تھا 13 برس کی عمر تھی یا 15 برس کی شرم کے مارے مجمع سے الگ ہو کر ایک مکان میں چلی گئیں جو بیت المقدس سے مشرق کی طرف تھا اس لیے نصاری نے مشرق کو اپنا قبلہ بنا لیا

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 16 وَاذْکُرْ فِی الْْکِتٰبِ مَرْیَمَ 7 اِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ اَہْلِہَا مَکَانًا شَرْقِیًّا حضرت مریم سلامٌ علیہا نے اپنے لوگوں سے الگ تھلگ ہو کر ہیکل سلیمانی کے مشرقی گوشے میں خود کو مقیدّ کرلیا۔ یہ گویا اللہ تعالیٰ کے لیے اعتکاف کی کیفیت تھی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 15–16

16 انسان پر تین ہی مشکل گھڑیاں پیش آتی ہیں۔ جو بہرحال مشکل ہوتی ہیں۔ ایک پیدائش کا وقت اس کے اپنے آپ پر اور اس کی ماں پر۔ دوسرے موت کا وقت اور تیسرے بعث الموت کا وقت گویا اللہ تعالیٰ کی نظروں میں بھی وہ اس قدر پسندیدہ تھے کہ اس دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی کوئی وقت ایسا نہیں آیا یا نہیں آئے گا جبکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر سلامتی نازل نہ ہوتی ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

20۔ (غسل کے لیے یا بعض روایات کے بموجب نماز کے لیے) حضرت مریم (علیہا السلام) پر حاشیہ پارۂ سوم سورة آل عمران میں گزر چکا ہے۔ (آیت) ” ذکر رحمت ربک عبدہ زکریا۔ واذکر فی الکتب مریم “۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ دونوں قصوں کے مجموعہ پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سوال وطلب سے بھی دیتا ہے جیسے زکریا (علیہ السلام) کو دیا۔ اور بلاسوال وطلب بھی دیتا ہے جیسے مریم (علیہا السلام) کو دیا اور اس سے یہ بات نکلی کہ اللہ کا ہر معاملہ ہر شخص کے ساتھ جداجدا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 16–25

آیت نمبر 16 تا 25 ترجمہ : اور اے محمد ﷺ اس کتاب یعنی قرآن میں مریم کا یعنی ان کے واقعہ کا ذکر کیجئے جب کہ وہ اپنے اہل خانہ سے الگ ہو کر ایک ایسے مکان میں جو شرقی جانب تھا چلی گئیں یعنی دار (بیت المقدس) کے مشرقی جانب کسی جگہ تنہائی میں چلی گئیں اور اہل خانہ کی جانب سے پردہ ڈال لیا، یعنی پردہ لٹکا لیا تاکہ آڑ ہوسکے (اور) اپنے سریا کپڑوں میں جوں دیکھ سکے یا حیض سے طہارت کے لئے غسل کرسکے تو ہم نے اس کے پاس اپنی روح جبرئیل (علیہ السلام) کو بھیج دیا تو وہ ان کے سامنے کپڑے پہننے کے بعد مکمل مرد بن کر نمودار ہوا حضرت مریم کہنے لگیں کہ میں تجھ سے اپنے خدا کی پناہ طلب کرتی ہوں اگر تجھے کچھ بھی خوف خدا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واذکر فی الکتب مریم اور اس کتاب میں مریم کا بھی ذکر کرو۔ الکتاب سے مراد قرآن ہے اور مریم سے مراد قصۂ مریم۔ اذ انتبذت من اہلہا مکانا شرقیا۔ سے علیحدہ ہو کر ایک ایسے مکان میں جو مشرقی جانب میں تھا (غسل کرنے کے لئے) گئیں

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(16) اور اے محمد ﷺ قرآن کریم میں سے حضرت مریم ؑ کا قصہ بھی بیان کیجیے جو وہ اپنے گھر والوں سے علیحدہ ایک ایسے مکان میں گئیں جو مشرق کی طرف تھا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاذْكُرْ فِى الْكِتٰبِ مَرْيَمَ : زکریا اور مریم ؑ کے واقعات میں مناسبت کی وجہ سے ان کا ذکر سورة آل عمران (35 تا 40) ، سورة انبیاء (39 تا 41) اور یہاں اکٹھا آیا ہے، کیونکہ ان میں کئی طرح سے مناسبت ہے۔ مریم [ کی کرامت بےموسم پھل دیکھ کر زکریا ؑ کے دل میں بےوقت اولاد کی خواہش اور امید پیدا ہوئی۔ پھر زکریا ؑ کو خلاف عادت بیٹا عطا ہوا اور مریم [ کے ہاں ان سے بھی بڑھ کر خلاف عادت بیٹا پیدا ہوا۔ دونوں قصے اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کی دلیل ہیں۔ اِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ اَهْلِهَا مَكَانًا شَرْقِيًّا : ”نَبَذَ“ کا معنی پھینکنا ہے۔ ”انْتَبَذَتْ“ الگ ہوئی، یعنی بالکل الگ ہوگئی، گویا اس نے اپنے آپ کو گھر…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واذکرفی الکتب مریمیہ قصہ کی ابتدا ہے اس کا پہلے واقعہ سے تعلق نہیں اور خطاب حضرت محمد ﷺ کو ہے، یعنی دور ہوگئی۔ انبذ کا معنی پھکنکنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : فنبذوہ ورآء ظھورھم (آل عمران :187) من اھلھا، یعنی ان سے جو آپ کے ساتھ تھے۔ اذ، مریم سے بدل اشمال ہے کیونکہ اوقات اس پر مشتمل ہوتے ہیں جوان میں ہوتا ہے۔ الانتباذ کا معنی جدا ہونا اور علیحد ہونا ہے۔ علماء کا اختلاف ہے کہ حضرت مریم کیوں جدا ہوئیں اور مشرقی جانب محراب میں داخل ہوئیں تاکہ خلوت میں عبادت کریں تو ان کے پاس جبرئیل آئے۔ مکانا شرقیاً ، مشرقی جانب کی جگہ۔ الشرق راء کے سکون کے ساتھ اس مکان کو کہتے ہیں جس…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 16–24

1:۔ عبدالرزاق، عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اذ انتبذت “ یعنی الگ ہوگئیں (آیت) ” من اھلھا مکانا شرقیا “ یعنی مشرق کی طرف دور علیحدہ جگہ۔ 2:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اذانتبذت من اھلھا مکانا شرقیا “ یعنی ایسی جگہ آپ چلی گئی تھیں جہاں سورج کی دھوپ پڑرہی تھی ایسا نہ ہو کہ لوگوں میں سے کوئی اس کو دیکھ لے۔ 3:۔ فریابی، ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نصاری نے مشرق کو قبلہ بنالیا کیونکہ مریم (علیہا السلام) نے اپنے گھروالوں سے دور مشرقی جانب ایک جگہ بنالی تھی انہوں نے ان…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَاذْكُرْ : اور یاد کرو ] [فِى الْكِتٰبِ : اس کتاب میں ] [مَرْيَمَ : مریم کو ] [اِذِ : جب ] [انتَبَذَتْ : وہ علیحدہ ہوئیں ] [مِنْ اَهْلِهَا : اپنے لوگوں سے ] [مَكَانا شَرْقِيًّا : ایک مشرقی جگہ میں ] نوٹ۔ 1: بی بی مریم کا ایک مشرقی جگہ میں الگ ہونیکا مطلب یہ ہے کہ وہ ہیکل کے مشرقی جانب میں معتکف ہوگئیں۔ مشرقی جانب میں اس وجہ سے کہ ہیکل کا جو حصہ عورتوں کے اعتکاف اور عبادت کے لئے خاص تھا وہ مشرقی سمت میں ہی تھا۔ حضرت جبریل (علیہ السلام) نے انھیں اولاد ہونے کی جو خبر دی، اس پر بی بی مریم نے جن الفاظ میں تعجب کا اظہار کیا، اس سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ لوقا کی یہ روایت بالکل بےسروپا ہے کہ یوسف…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

حضرت مریم [ کا تذکرہ اور ان کے بیٹے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت کا واقعہ سورۃ آل عمران میں گزر چکا ہے کہ جناب عمران کی بیوی نے نذر مانی تھی کہ میرے اولاد ہوگی تو اسے بیت المقدس کی خدمت میں لگا دوں گی اور خواہش یہ تھی کہ لڑکا پیدا ہو اور اسی لیے منت مانی تھی جب ولادت ہوئی تو لڑکی پیدا ہوئی اس لڑکی کا نام مریم رکھا چونکہ یہ لڑکی ایک نیک عورت کی نیک منت پر پیدا ہوئی تھی اس لیے اس کا نام مریم رکھا جس کا معنی ہے عابدہ اور ان کا مطلب یہ تھا کہ لڑکی ہونے کی وجہ سے مسجد کی خدمت کے لیے نہیں تو عبادت ہی کے لیے سہی اپنی اس نذر کی وجہ سے وہ بچی کو بیت المقدس کے مقیمین کے پاس لے گئیں وہاں کے رہنے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 16–33

قال اللٰہ تعالیٰ ۔ واذکر فی الکتٰب مریم۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ و یوم اموت ویوم ابعث حیا۔ (ربط) حق تعالیٰ نے گزشتہ رکوع میں حضرت زکریا (علیہ السلام) کا قصہ بیان فرمایا کہ بحالت پیری ایک پیر ناتواں اور ایک بانجھ اور بوڑھی بیوی سے بلا سبب ظاہری ایک مبارک فرزند یعنی یحییٰ (علیہ السلام) کا تولد ہوا۔ اب اس سے زیادہ عجیب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت کا قصہ بیان کرتے ہیں۔ اس لیے کہ بوڑھے مرد اور بانجھ عورت سے بچہ پیدا ہونا اگرچہ عجیب ہے۔ مگر والدین سے بچہ کا پیدا ہونا عادۃ قریب الی العقل ہے اور بغیر باپ کے محض ماں سے بچہ پیدا ہونا بہت ہی عجیب و غریب ہے جو اللہ کی کمال قدرت پر دلالت کرتا ہے کہ خدائے تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 16–18

13:۔ یہ حضرت مریم صدیقہ اور حضرت مسیح (علیہما السلام) کے بارے میں پیدا ہونے والے شبہ کا جواب ہے۔ حضرت مریم کے پاس بےموسم کے پھلوں کا موجود ہونا شبہہ میں ڈالتا تھا کہ شاید یہ خارج عادت امر ان کے قبضہ قدرت میں تھا۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے خارق عادت امور کا ظاہر ہونا، جن کا ذکر سورة آل عمران رکوع 5 میں کیا گیا ہے۔ شبہہ میں ڈالتا تھا کہ شاید وہ بھی متصرف و مختار ہوں۔ نیز انجیل میں ان کے لیے لفظ ابن اللہ کا وارد ہونا (انجیل کی زبان میں جس کے معنی اللہ کے پیارے اور برگزیدہ کے ہیں) ۔ اس سے بھی وہم پڑتا تھا کہ شاید اللہ تعالیٰ نے کچھ اختیارات ان کے حوالے کردئیے ہوں یہاں حضرت عیسیٰ (علیہ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 16–21

ربط آیات : پہلے رکوع میں حضرت زکریا (علیہ السلام) کا ذکر ہوا انہوں نے حضرت مریم (علیہا السلام) کے پاس بےموسم پھل دیکھے تو اللہ کی بارگاہ میں اولاد کے لیے درخواست کی حالانکہ وہ جس بڑھانے کو پہنچ چکے تھے وہاں عادۃ اولاد ہونے کا امکان نہیں ہوتا ، اللہ نے آپ کی دعا قبول فرمائی اور یحی (علیہ السلام) جیسا عظیم الشان فرزند عطا کیا جس کا نام بھی اللہ خود تجویز فرمایا اور اس نام کا پہلے کوئی بچہ نہیں تھا ۔ آپ کی پیدائش اللہ کی قدرت کا عظیم نمونہ تھی یہ اللہ تعالیٰ کی خاص مہربانی تھی جو اس نے اپنے برگزیدہ بندے زکریا (علیہ السلام) پر کی ، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یحی (علیہ السلام) کی حیثیت اور ان کی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاذْكُرْ فِى الْكِتٰبِ مَرْيَمَ ۝ 0ۘ اِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ اَہْلِہَا مَكَانًا شَرْقِيًّا ۝ 16ۙ كتب والْكِتَابُ في الأصل اسم للصّحيفة مع المکتوب فيه، وفي قوله : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153] فإنّه يعني صحیفة فيها كِتَابَةٌ ، ( ک ت ب ) الکتب ۔ الکتاب اصل میں مصدر ہے اور پھر مکتوب فیہ ( یعنی جس چیز میں لکھا گیا ہو ) کو کتاب کہاجانے لگا ہے دراصل الکتاب اس صحیفہ کو کہتے ہیں جس میں کچھ لکھا ہوا ہو ۔ چناچہ آیت : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153]( اے محمد) اہل کتاب تم سے درخواست…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 16–17

وَاذْکُرْ فِی الْکِتٰبِ مَرْیَمَ م اِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ اَھْلِہَا مَکَانًا شَرْقِـیًّا۔ فَا تَّخَذَتْ مِنْ دُوْنِہِمْ حِجَابًا قف ص فَاَرْسَلْنَـآ اِلَیْھَا رُوْحَنَا فَتَمَثَّلَ لَھَا بَشَرًا سْوِیًّا۔ (مریم : 16، 17) (اور اے پیغمبر کتاب میں مریم کی سرگزشت بیان کیجیے جب وہ الگ ہوگئیں اپنے گھر والوں سے ایک مکان میں جو مشرق کی جانب تھا۔ پس اس نے اپنے آپ کو لوگوں سے پردے میں کرلیا تو ہم نے اس کی طرف اپنے جبرائیل کو بھیجا جو اس کے سامنے ایک کامل بشر کی صورت میں نمودار ہوا۔ ) حضرت مریم کا ہیکل سے مشرقی جانب قیام سورة آل عمران میں یہ ذکر کیا جا چکا ہے کہ حضرت مریم [ کی پیدائش سے پہلے ان کی والدہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 16–17

فہم القرآن ربط کلام : حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کا انتہائی بڑھاپے کے عالم میں زکریا (علیہ السلام) کے ہاں پیدا ہونا غیر معمولی پیدائش اور مشکلات کے حوالہ سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ گہری مماثلت اور ان کے خالہ زاد بھائی ہونے کی وجہ سے حضرت مریم [ اور عیسیٰ (علیہ السلام) کا تذکرہ شروع ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں انبیاء کرام (علیہ السلام) اور ان کے علاوہ دوسری شخصیات کے ذکر کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ سرور دو عالم ﷺ اور آپ کی امت کے لوگوں کی ڈھارس بندھائی جائے۔ (وَکُلًّا نَقُصُّ عَلَیْکَ مِنْ أَنْبَاء الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِہِ فُؤَادَکَ وَجَاءَ کَ فِیْ ہَذِہِ الْحَقُّ وَمَوْعِظَۃٌ وَذِکْرٰی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

حضرت مریم ( علیہ السلام) کا تذکرہ : 16: وَاذْکُرْ فِی الْکِتٰبِ مَرْیَمَ (اور یاد کیجئے یا تذکرہ کیجئے کتاب میں مریم کا) کتاب سے قرآن مراد ہے مطلب یہ ہے کہ ان کو مریم کا واقعہ پڑھ کر سنائیں تاکہ اس کی ان کو اطلاع ہو اور جو کچھ ان پر گزرا اس کا ان کو علم ہوجائے۔ نحو : اِذْ یہ مریم کا بدل الا شتمال ہے کیونکہ اوقات اس سب پر مشتمل ہوتے ہیں۔ جو ان سب میں پایا جاتا ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ مریم کے تذکرے میں مقصود اس وقت کا ذکر کرنا ہے۔ جس میں یہ عجیب واقعہ پیش آیا۔ اِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ اَھْلِھَا (الگ ہوگئی اپنے اہل سے) یعنی دور ہوگئی : مَکَانًا شَرْقِیًّا (مشرقی جانب والے مکان میں) یعنی ایسے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

16۔ واذکر فی الکتاب، ، کتاب سے مراد قرآن مجید ہے ، مریم اذانبذت ، الگ ہوگئیں اور دور ہوگئیں۔ من اھلھا، اپنی قوم سے ، مکاناشرقیا، مکان کے مشرقی حصہ میں ایک جگہ چونکہ سردی کا زمانہ اور سرد دن تھا، اس لیے حضرت مریم (علیہما السلام) مکان کی شرقی جانب سر میں کنگھا کرنے کے لیے بیٹھیں اور بعض نے کہا کہ حیض سے طہارت کا غسل کرنے کے لیے سب سے الگ اور دور چلی گئیں۔ حسن بصری (رح) کا قول ہے کہ اس وجہ سے عیسائی مشرق کی طرف منہ کرکے عبادت کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 15–21

15۔ 21:۔ اوپر بنی اسرائیل کے اس دستور کا ذکر گزر چکا ہے وہ اپنے لڑکوں کو بیت المقدس کا خادم بنایا کرتے تھے حضرت مریم ( علیہ السلام) کی ماں حنہ نے اس دستور کے موافق نذر مانی کہ ان کے پیٹ میں جو بچہ ہے اس کے پیدا ہونے کے بعد اس کو وہ بیت المقدس کا خادم بنا دیویں گی جب حضرت مریم پیدا ہوئیں تو لڑکی کے پیدا ہونے سے ان کو بڑا رنج ہوا کس لیے کہ لڑکیوں کو بیت المقدس کا خادم بنانے کا حکم نہیں تھا مگر یہ قصہ سورة آل عمران میں گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر باوجود لڑکی ہونے کے ان کا خادم ہونا قبول فرما لیا حضرت مریم کے باپ عمران حضرت مریم کے پیدا ہونے سے پہلے وفات پاگئے تھے اس لیے اپنے خالو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 16–21

آیت 16 اللہ تبارک و تعالیٰ نے زکریا اور یحییٰ (علیہ السلام) کا واقعہ بیان کرنے کے بعد۔۔۔. کہ یہ واقعہ اللہ تعالیٰ کی عجیب نشانیوں میں سے ہے۔۔۔. ایک اور قصہ بیان فرمایا جو اس سے بھی زیادہ عجیب ہے۔ یہ ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف تدریج ہے۔ (واذکر فی الکتب) ” اور ذکر کر کتاب میں “ یعنی قرآن کریم میں (مریم) مریم (علیہ السلام) کا۔ یہ مریم علیھا السلام کی سب سے بڑی فضیلت ہے کہ کتاب عظیم میں ان کا نام مذکور ہے جس کی مشرق و مغرب کے تمام مسلمان تلاوت کرتے ہیں۔ اس کتاب عظیم میں بہترین پیرائے میں ان کا ذکر اور ان کی مدح و ثنا بیان کی گئی ہے یہ ان کے اچھے اعمال اور کوشش کامل کی جزا ہے، یعنی کتاب عظیم میں، حضرت…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 11–22

محراب کیا ہے ؟ قول باری ہے (فخرج علی قومہ من المحراب۔ چناچہ وہ محراب سے نکل کر اپنی قوم کے سامنے آئے) ابوعبیدہ کا قول ہے کہ محراب صدر مجلس یعنی بیٹھنے کی جگہ کے درمیان والے حصے کو کہتے ہیں۔ اسی سے مسجد کا محراب نکلا ہے۔ ایک قول کے مطابق محراب غرفہ یعنی بالا خانہ کو کہتے ہیں۔ اسی سے قول باری ہے (اذ تسوروا المحراب ۔ جب وہ دیوار پھاند کر حجرہ میں آ گئے ) ایک اور قول ہے کہ محراب مصلی یعنی نماز پڑھنے کی جگہ کو کہتے ہیں۔ گونگے کے اشارے سے عمل درآمد ہوسکتا ہے قول باری ہے (فاوحی الیھم اس نے انہیں اشارے سے کہا) ایک قول کے مطابق حضرت زکریاعلیہ السلام نے اپنی قوم کو ہاتھ کے اشارے سے کہا اس طرح ہاتھ کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

21 قصہ مریم و عیسیٰ کے ذکر کا حکم وارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا " اور اس کتاب میں مریم کا قصہ بھی سناؤ "۔ کہ اس میں بھی بڑے درس ہائے عبرت و بصیرت پنہاں ہیں۔ وہ عمران کی بیٹی اور داؤد کی نسل میں سے تھیں۔ بنی اسرائیل کے ایک پاکیزہ گھرانے میں انہوں نے جنم لیا۔ عام روایت کے خلاف لڑکی ہونے کے باوجود ان کو بیت المقدس کی خدمت اور عبادت کے لئے قبول کرلیا گیا اور عیسیٰ جیسے عظیم الشان بیٹے نے بغیر باپ کے ان کے یہاں جنم لیا۔ پھر یہود بےبہود کی بہتان طرازی سے معجزانہ طور پر آپ کی براءت کا قدرت کی طرف سے انتظام فرمایا گیا اور گود کے بچے نے معجزانہ طور پر آپ کی طہارت و پاکیزگی کیلئے بےمثال کلام کیا وغیرہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 16–34

سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش اور بچپن کی گفتگو تشریح : سیدہ مریم کا پورا واقعہ سورة آل عمران میں بڑی وضاحت سے گزر چکا ہے کہ آپ کی والدہ نے آپ کو بیت المقدس میں عبادت کے لیے بٹھا دیا تھا۔ یہ محراب شرقی حصہ میں واقعہ تھی، جہاں آپ نے ایک پردہ ڈال کر اپنے آپ کو لوگوں کی نظروں سے چھپا رکھا تھا۔ سیدنا یحییٰ (علیہ السلام) کے ساتھ ہی سیدہ مریم (علیہا السلام) کا ذکر کیا گیا ہے۔ سیدنا یحییٰ (علیہ السلام) کی پیدائش بھی اللہ کی قدرت کی کامل نشانی ہے اور سیدنا مریم (علیہا السلام) کا انتہائی پاکدامن اور نیک ہونے کے باوجود بغیر کسی مرد کے ملے (نکاح وغیرہ) بیٹا پیدا کرنا بھی اللہ کی بہت بڑی نشانیوں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 16–41

(رکوع نمبر 2) اسرارومعارف اور اے حبیب ﷺ اس سے عجیب تر اور فکر انگیز واقعہ ایسی کتاب اللہ میں سنا دیجئے جو حضرت مریم (علیہا السلام) کا ہے اور جس کے متعلق یہود اور نصاری نے اپنے اپنے نظریات گھڑ رکھے ہیں کہ اس کی حقیقی اور واقعی صورت کیا ہے یہ بات تب شروع ہوتی ہے جب حضرت مریم (علیہا السلام) اپنے گھر والوں سے الگ ہو کر غسل وغیرہ کرنے کے لیے پردہ میں چلی گئیں تو وہاں ان کے پاس حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو بھیجا جس نے انسانی شکل میں ظاہر ہو کر ان سے بات کرنا چاہی ، یاد رہے حضرت مریم (علیہا السلام) کا ذکر آل عمران میں گذر چکا ہے ۔ (اولیاء اللہ سے فرشتہ کا ہمکلام ہونا) کہ ان کی والدہ نے منت مانی تھی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 2 حضرت زکریا کے قصہ کی مناسبت سے حضرت مریم کا قصہ ذکر فرما دیا دیکھیے سورة آل عمران رکوع 5) 3 عبادت کے لئے یا حیض سے مہارت حاصل کرنے کیلئے حضرت ابن عباس فرماتے ہیں ” مجھے خوب معلوم ہے کہ نصاریٰ نے مشرق کو اس آیت کی وجہ سے قبلہ بنایا ہے۔ ابن جریر جیسا کہ شاہ صاحب نے بھی کلھا ہے : وہ مکان مشرق میں تھا اب نصاریٰ مشرق کو قبلہ ٹھہرائے ہیں۔ (موضح)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(19:16) واذکر فی الکتاب مریم۔ یہاں سے خطاب سے رسول مقبول ﷺ سے ہے ای اقرأ علیہم یا محمد فی القران قصۃ مریم۔ ان کو پڑھ کر سنائیے قصہ حضرت مریم کا۔ جو اس کتاب میں مذکور ہے۔ الکتاب سے مراد یا قرآن ہے یا سورة ہذا۔ انتبذت۔ انتباذ (افتعال) مصدر سے۔ ماضی کا صیغہ واحد مؤنث غائب۔ اعتزلت۔ یک سو ہوئی۔ ایک طرف ہوگئی تخلت تخلیہ میں ہوگئی۔ جدا ہوگئی۔ نبذ مادہ۔ النبذ کے معنی اصل میں کسی چیز کو درخور اعتناء نہ سمجھتے ہوئے پھینک دینے کے ہیں۔ جیسے فنبذوہ وراء ظہورہم۔ (3:178) توا نہوں نے (ناقابل التفات سمجھ کر) اسے پس پشت پھینک دیا۔ مکانا شرقیا۔ منصوب بوجہ اسم ظرف

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 16–21

لغات القرآن آیت نمبر 16 تا 21 انتبذت الگ ہوگئی۔ حجاب پردہ۔ تمثل ڈھل گیا۔ سوی ٹھیک ٹھیک۔ تقی پرہیز گار۔ اھب میں دوں گا۔ زکی پاک باز، پاکیزہ۔ لم یمسسنی مجھے ہاتھ نہیں لگایا۔ بغنی بدکردار، بدکار، امر معاملہ، کام مقضی فیصلہ کیا گیا۔ طے شدہ۔ تشریح : آیت نمبر 16 تا 21 گزشتہ آیات میں حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کے متعلق ارشاد فرمایا گیا تھا کہ ان کی زندگی قدرت کی کھلی ہوئی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت زکریا (علیہ السلام) کو ایک سو بیس سال کی عمر میں حضرت یحییٰ (علیہ السلام) جیسا بیٹا عطا فرمایا جب کہ ان کی بیوی بانجھ تھیں اور اس بڑھاپے میں اولاد ہونے کا دور دور تک امکان نہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 16–21

حضرت مریم (علیہا السلام) کا واقعہ یہ دوسرا واقعہ مریم (علیہا السلام) کا ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک شخص تھے جن کا نام عمران تھا۔ یہ عمران موسیٰ (علیہ السلام) کے والد نہیں ہیں۔ ان کی ایک بیوی حنہ بڑی نیک تھیں، اور وہ حضرت زکریا (علیہ السلام) کی سالی تھیں۔ انہوں نے خدا تعالیٰ سے نذر مانی تھی کہ میرے ہاں جو لڑکا پیدا ہوگا تو میں تیری نذر کروں گی۔ ان لوگوں میں اس نذر کا دستور قدیمی تھا مگر حنہ کے ہاں لڑکا نہ ہوا بلکہ لڑکی ہوئی جن کا نام مریم رکھا گیا۔ سب کو افسوس ہوا کہ اگر لڑکا ہوتا تو بیت المقدس کی خدمت کرتا ۔ لڑکیوں کو بیت المقدس کا خادم بنانے کا حکم نہ تھا۔ یہ واقعہ سورة آل عمران میں گزر چکا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 12–16

[6] کتاب سے مراد تورات ہے۔ خود یحییٰ (علیہ السلام) صاحب شریعت نہ تھے ان کا عمل موسوی شریعت پر تھا۔ [7] یعنی دین کی سمجھ اور حق و باطل میں امتیاز کی قوت و صلاحیت۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 13–17

نیک اولاد : (ف 2) حضرت یحیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے بوڑھے باپ کی آغوش روحانیت میں تربیت پائی سن رشد کو پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا اب کتاب و رسالت کو قوت کے ساتھ تھام اور صبر و استقلال کے ساتھ تبلیغ میں مصروف ہوجاؤ اس کے بعد ان کے اوصاف بیان کئے ہیں کہ وہ لڑکپن ہی سے سمجھدار تھے ، نرم دل اور پاکیزہ اعمال تھے پرہیزگار تھے والدین کے اطاعت گزار تھے ، اور طبیعت میں سرکشی وبغاوت کا عنصر قطعا موجود نہ تھا ۔ درحقیقت ان اوصاف کا پیغمبر کی ذات میں نبوت سے قبل جمع ہونا ضروری ہے تاکہ آگے چل کر وہ دنیا کے لئے خیروبرکت کا باعث ہو سکے ۔ حل لغات : العراب : زاویہ عبادت یاحجرہ ۔ الحکم : سمجھ ، سلیقہ ،…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

- 16 اور اے پیغمبر ! اس کتاب یعنی قرآن کریم میں حضرت مریم (علیہ السلام) کے قصے کا بھی ذکر کیجیے وہ قصہ اس وقت کا ہے جب کہ حضرت مریم (علیہ السلام) اپنے گھر والوں اور اپنی قوم کے لوگوں سے علیحدہ اور یک سو ہو کر ایک ایسے مکان میں گئیں جو مشرق کی جانب تھا۔ یعنی وہ مکان بیت المقدس کی مشرقی جانب تھا۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی غسل حیض کرنے کو یہی پلہا حیض تھا تیرہ برس کی عمر تھی یا پندرہ برس کی کنارے ہوئیں شرم سے وہ مکان مشرق کو تھا اب نصاریٰ قبلہ کرتے ہیں مشرق کو۔ 12

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 16–19

ف 6۔ یعنی تمہارے منہ میں یا گریبان میں دم کردوں کہ اس کے اثر سے باذن اللہ حمل رہ جاوے گا اور لڑکا پیدا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کتاب میں مریم کا ذکر مشرقی جانب چلے جانے کے وقت سے شروع کرو : 16۔ سیدہ مریم کا ذکر اس سے پہلے سورة آل عمران کی آیت 33 تا 46 تک کیا گیا ہے جو آپ کے والد ماجد جناب عمران بن ناشی سے شروع کیا گیا اور آپ کے مبشر بیٹے سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) پر لا کر ختم کیا گیا ہے ، تقابل کے لئے ” عروۃ الوثقی “ جلد دوم سورة آل عمران کی مذکورہ آیات کو دیکھ لیں ، اس جگہ ان کا ذکر سیدنا زکریا (علیہ السلام) کی کفالت سے نقل کرکے دوسری کفالت میں جانے کے بعد سے لے کر آپ کے بیٹے سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کے ذکر تک بیان ہوا ہے ۔ سیدہ مریم (علیہ السلام) کی دوسری کفالت وہی ہے جو بنات آدم کے لئے رب ذوالجلال والاکرام نے لازم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary The word انتَبَذَتْ is derived from نَبَذ which means to throw away or to cast away. Hence, the meaning of انتَباَذَ is to withdraw from the crowd. مَكَانًا شَرْ‌قِيًّا denotes that she retired to a secluded corner of the house facing east. The purpose of her shifting to a secluded corner of the house has been differently explained. Some say she had moved there to take a bath, while others say that she had moved as usual to a secluded corner on the eastern side of her place of worship for offering her prayers. Qurtubi has given preference to the second explanation. According to…

Read the full tafseer →