Explained with ayahs 12–15
پیدائش یحییٰ علیہ السلام۔
بمطابق بشارت الہٰی حضرت زکریا ؑ کے ہاں حضرت یحییٰ ؑ پیدا ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں تورات سکھا دی جو ان میں پڑھی جاتی تھی اور جس کا احکام نیک لوگ اور انبیاء دوسروں کو بتلاتے تھے اس وقت ان کی عمر بچپن کی ہی تھی اسی لئے اپنی اس انوکھی نعمت کا بھی ذکر کیا کہ بچہ بھی دیا اور اسے آسمانی کتاب کا عالم بھی بچپن سے ہی کردیا اور حکم دے دیا کہ حرص اجتہاد کوشش اور قوت کے ساتھ کتاب اللہ سیکھ لے۔ ساتھ ہی ہم نے اسے اسی کم عمری میں فہم وعلم، قوت وعزم، دانائی اور حلم عطا فرمایا نیکیوں کی طرف بچپن سے ہی جھک گئے اور کوشش وخلوص کے ساتھ اللہ کی عبادت اور مخلوق کی خدمت میں لگ گئے۔ بچے آپ…
Read the full tafseer →سورة مَرْیَم 12
حضرت یحییٰ کے جو حالات مختلف انجیلوں میں بکھرے ہوئے ہیں انہیں جمع کر کے ہم یہاں ان کی سیرت پاک کا ایک نقشہ پش کرتے ہیں جس سے سورة آل عمران اور اس سورے کے مختصر اشارات کی توضیح ہوگی۔
لوقا کے بیان کے مطابق حضرت یحیی، حضرت عیسیٰ سے 6۔ مہینے بڑے تھے۔ ان کی والدہ اور حضرت عیسیٰ کی والدہ آپس میں قریبی رشتہ دار تھیں۔ تقریباً 30 سال کی عمر میں وہ نبوت کے منصب پر عملاً مامور ہوئے اور یوحنا کی روایت کے مطابق انہوں نے شرق اردن کے علاقے میں دعوت الی اللہ کا کام شروع کیا۔ وہ کہتے تھے
" میں بیابان ایک پکارنے والے کی آواز ہوں کہ تم خداوند کی راہ کو سیدھا کرو " (یوحنا 231)
مرقس کا بیان ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
حَنَانًالفظ کے لغوی معنے رقت قلب اور رحمت و شفقت کے ہیں جو حضرت یحییٰ ؑ کو امتیازی طور پر دی گئی تھی۔
Read the full tafseer →وَسَلامٌ عَلَيْهِ يَوْمَ وُلِدَ وَيَوْمَ يَمُوتُ وَيَوْمَ يُبْعَثُ حَيًّا۔
ہر مرحلہ میں مبارک سلامت : یہ فرشتوں کی مبارک سلامت کا حوالہ ہے کہ یہ مرد حق دنیا میں جس دن آیا قدوسیوں نے اس دن مبارک و سلامت کے ساتھ اس کا خیر مقدم کیا، جس دن مرا اس دن بھی انہوں نے " اھلا و سھلا " کے ساتھ اس کا استقبال کیا اور جس دن اٹھایا جائے گا اس دن بھی اسی نعرہ تحیت کے ساتھ وہ اس کو خوش آمدید کہیں گے۔ یہ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ اس دنیا نے اس کے ساتھ جو کچھ کیا کیا، خدا کے ہاں ہر مرحلہ میں اس کے ساتھ جو معاملہ ہوا یا ہوگا وہ مبارک سلامت کا ہے۔
Read the full tafseer →15۔ 1 تین مواقع انسان کے لئے سخت ودہشت ناک ہوتے ہیں، 1۔ جب انسان رحم مادر سے باہر آتا ہے، 2۔ جب موت کا شکنجہ اسے اپنی گرفت میں لیتا ہے، 3۔ اور جب اسے قبر سے زندہ کر کے اٹھایا جائے گا تو وہ اپنے کو میدان محشر کی ہولناکیوں میں گھرا ہوا پائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان تینوں جگہوں میں اس کیلئے ہماری طرف سے سلامتی اور امان ہے۔ بعض اہل بدعت اس آیت سے یوم ولادت پر عید میلاد " کا جواز ثابت کرتے ہیں لیکن کوئی ان سے پوچھے تو پھر یوم وفات پر عید وفات یا عید ممات " بھی منانی ضروری ہوئی کیونکہ جس طرح یوم ولادت کے لیے سلام ہے یوم وفات کے لیے بھی سلام ہے اگر محض لفظ " سلام " سے عید میلاد " کا اثبات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–16
8: کتاب سے مراد تورات ہے، اور مضبوطی کے ساتھ تھامنے کا مطلب یہ ہے کہ اس پر خود بھی پورا پورا عمل کرو۔ اور دوسروں کو بھی اس کی تلقین کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
” ہم نے اسے بچپن ہی میں حکم سے نوازا اور اپنی طرف سے اسے نرم دلی اور پاکیزگی عطا کی اور وہ بڑا پرہیز گار تھا۔ “ یہ تھی وہ قابلیت جس سے اللہ نے ان کو نوازا تھا اور اس طرح منصب خلافت زکریا کی ذمہ داریاں نبھانے میں ان کی مدد کی گئی۔
اسے بچپن ہی میں حکم اور حکمت عطا کردی گئی تھی ، لہٰذا وہ اہلیت میں بھی یکتا کردیئے گئے جس طرح وہ اپنے نام اور اپنی ولادت میں ممتاز تھے۔ حکمت جو کسی بھی شخص میں بڑے تجربے کے بعد آتی ہے حضرت یحییٰ کو زمانہ طفولیت ہی میں عطا کردی گئی تھی۔
نیز آپ کو پیدائشی طور پر نرم دلی عطا کردی گئی تھی ، اس لئے ان کو اس کے اظہار کے لئے کوئی تکلیف نہ کرنا پڑی اور نہ اس کی ٹریننگ کر…
Read the full tafseer →7 اللّٰہ جو بندہ پر سلام بھیجے محض تشریف و عزت افزائی کے لیے ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ اس پر کچھ گرفت نہیں۔ یہاں (يَوْمَ وُلِدَ وَيَوْمَ يَمُوْتُ وَيَوْمَ يُـبْعَثُ حَيًّا) 19 ۔ مریم :15) سے غرض تعمیم اوقات و احوال ہے۔ یعنی ولادت سے لے کر موت تک اور موت سے قیامت تک کسی وقت اس پر خوردہ گیری نہیں۔ خدا کی پکڑ سے ہمیشہ مامون و مصؤن ہے۔
Read the full tafseer →آیت 15 وَسَلٰمٌ عَلَیْہِ یَوْمَ وُلِدَ وَیَوْمَ یَمُوْتُ وَیَوْمَ یُبْعَثُ حَیًّا
یہاں پر حضرت زکریا اور حضرت یحییٰ علیہ السلام کا قصہ اختتام کو پہنچا اور اب آگے حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قصہ بیان کیا جا رہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
16 انسان پر تین ہی مشکل گھڑیاں پیش آتی ہیں۔ جو بہرحال مشکل ہوتی ہیں۔ ایک پیدائش کا وقت اس کے اپنے آپ پر اور اس کی ماں پر۔ دوسرے موت کا وقت اور تیسرے بعث الموت کا وقت گویا اللہ تعالیٰ کی نظروں میں بھی وہ اس قدر پسندیدہ تھے کہ اس دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی کوئی وقت ایسا نہیں آیا یا نہیں آئے گا جبکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر سلامتی نازل نہ ہوتی ہو۔
Read the full tafseer →19۔ (آیت) ” سلم “۔ یہاں اپنے وسیع معنی میں امن وحفظ کے مرادف ہے۔ یعنی اللہ کی طرف سے ان پر سلامتی ان کی پیدائش کے وقت بھی رہی، اور ان کی موت اور بعث کے وقت بھی رہے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–15
آیت نمبر 7 تا 15
ترجمہ : اے زکریا ہم تجھے ایک فرزند کی خوشخبری دیتے ہیں جو تیری درخواست کے مطابق وارث ہوگا اس کا نام یحییٰ ہوگا اس کا ہمنام پہلے ہم نے کسی کو نہیں کیا یعنی یحییٰ کا ہم نام تو زکریا (علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے پروردگار میرے لڑکا کس طرح ہوگا حالانکہ میری بیوی بانجھ ہے اور میں بڑھاپے کی انتہائی درجہ کو پہنچ گیا ہوں عِیِّیًّا عَتَا سے ماخوذ ہے بمعنی یَبِسَ یعنی عمر کے آخری مرحلہ میں پہنچ چکا ہوں جو ایک بیس سال ہے اور میری بیوی 98 سال کی ہوچکی ہے عِتِیٌ اصل عُتُوْوٌ بروزن قُعُوْدٌ تخفیف کے لئے تا کو کسرہ دے دیا اور اول واو کو کسرہ کی مناسبت سے ی سے بدل دیا اور پھر دوسرے واو کو…
Read the full tafseer →وسلم علیہ یوم ولد ویوم یموت ویوم یبعث حیا۔
سَلٰمٌ عَلَیْہِہر دکھ اور اذیت سے اللہ کی طرف سے اس کے لئے سلامتی ہے ‘ یہ جملۂ معترضہ ہے۔ یَوْمَ وُلِدَیعنی پیدائش کے وقت یحییٰ کو شیطان کی دسترس سے محفوظ رکھا گیا ‘ شیطان پیدائش کے وقت جو اثر بچے پر ڈالتا ہے (کچوکا دیتا ہے) یحییٰ کو اس سے بچا لیا گیا یَوْمَ یَمُوْتُاور مرنے کے دن ‘ یعنی عذاب قبر سے بھی اسے محفوظ رکھا گیا ‘ وَیَوْمَ یبعث حیًّا اور قیامت کے دن دوزخ کے عذاب سے اس کو محفوظ کردیا گیا۔
سفیان بن عیینہ نے کہا انسان کے یہ ہی تین عجیب احوال ہوتے ہیں (1) ماں کے پیٹ کو چھوڑ کر باہر اس دنیا میں آتا ہے۔ (2) دنیا سے نکل کر دوسرے عالم میں پہنچتا ہے…
Read the full tafseer →(15) اور یحییٰ ؑ کو ہماری جانب سے سلام مغفرت اور سعادت عطا ہو، جس دن کہ وہ پیدا ہوئے اور جس دن کہ انہوں نے انتقال فرمایا اور جس وقت کہ وہ قبر سے اٹھائے جائیں گے۔
Read the full tafseer →وَسَلٰمٌ عَلَيْهِ۔۔ : یعنی ان تینوں وقتوں میں وہ ہر پریشانی سے سلامت رہیں گے۔ شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”اللہ جو بندے پر سلام کہے اس کا معنی یہ ہے کہ اس پر کچھ پکڑ نہیں۔“ (موضح) سفیان بن عیینہ ؓ نے فرمایا : ”أَوْحَشُ مَا یَکُوْنُ الْخَلْقُ فِيْ ثَلَاثَۃِ مَوَاطِنَ یَوْمَ یُوْلَدُ فَیَرَی نَفْسَہٗ خَارِجًا مِمَّا کَانَ فِیْہِ وَیَوْمَ یَمُوْتُ فَیَرَی قَوْمًا لَمْ یَکُنْ عَایَنَھُمْ وَیَوْمَ یُبْعَثُ فَیَرَی نَفْسَہٗ فِيْ مَحْشَرٍ عَظِیْمٍ قَالَ فَأَکْرَمَ اللّٰہُ فِیْہَا یَحْیَی بْنَ زَکَرِیًّا فَخَصَّہُ بالسَّلاَمِ عَلَیْہِ“ [ طبري : 23751، بسند صحیح ]”آدمی سب سے زیادہ خوف زدہ تین مواقع…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وسلٰم علیہ یوم ولد طبری وغیرہ نے کہا (1) : اس کا معنی ہے امان۔ ابن عطیہ نے کہا : میرے نزدیک اظریہ ہے کہ یہ متعارف سلام ہے (2) ۔ یہ امان سے زیادہ اشرف و معزز مقال ہے کیونکہ امان کو ان کے لیے ان سے عصیان کی نفی سے بھی حاصل ہوتی ہے اور یہ کم درجہ ہے اور شرف اس میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر سلام بھیجا اور اسے ایسے موقع پر زندہ رکھا جہاں انسان حد درجہ ضعیف و کمزور اور حاجت میں ہوتا ہے اور حیلہ کم ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی عظیم قوت کی طرف محتاج ہوتا ہے۔
میں کہتا ہوں : یہ عمدہ قول ہے ہم نے معنی سورة سبحان میں حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کے قتل کے بیان میں سفیان بن عینیہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
1:۔ ابن ابی شیبہ، عبدبن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” یحییٰ خذ الکتب بقوۃ “ یعنی سنجیدگی سے کتاب کو لیجئے (آیت) ” واتینہ الحکم صبیا “ یعنی ان کو ہم نے بچپن ہی میں فہم عطا فرمایا۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” خذالکتب بقوۃ “ کے بارے میں روایت کیا کہ عمل کرو جو اس میں فرائض میں سے ہیں۔
3:۔ ابن منذر نے مالک بن دینار (رح) سے روایت کیا کہ ہم نے عکرمہ ؓ سے (آیت) ” واتینہ الحکم صبیا “ کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا اس سے مراد ہے عقلمندی۔
4:۔ ابونعیم، ابن مردویہ اور دیلمی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے (آیت) ”…
Read the full tafseer →[وَسَلٰمٌ: اور سلامتی ہے ] [عَلَيْهِ : ان (علیہ السلام) پر ] [يَوْمَ : جس دن ] [وُلِدَ : وہ پید اکئے گئے ] [وَيَوْمَ : اور جس دن ] [يَمُوْتُ : وہ مریں گے ] [وَيَوْمَ : اور جس دن ] [يُـبْعَثُ : وہ اٹھائے جائیں گے ] [حَيًّا : زندہ ہوتے ہوئے ]
Read the full tafseer →(وَسَلاَمٌ عَلَیْہِ یَوْمَ وُلِدَ وَ یَوْمَ یَمُوْتُ وَ یَوْمَ یُبْعَثُ حَیًّا) (اور یحییٰ پر اللہ کا سلام ہے جس دن وہ پیدا ہوئے اور جس دن وفات پائیں گے اور جس دن وہ زندہ ہو کر اٹھائے جائیں گے) ۔
لفظ یَمُوْتُ صیغہ مضارع اس وقت کے اعتبار سے ہے جب وہ پیدا ہوئے تھے مستقبل کا ترجمہ دیکھ کر یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ وہ اب بھی زندہ ہیں۔
حضرت سفیان بن عیینہ (رح) نے فرمایا کہ یہ تین مواقع (یعنی ولادت کا دن اور موت کا وقت اور قبروں سے نکلنے کا وقت) انسان کے لیے توحش کے موقع ہوتے ہیں ان تینوں مواقع کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کے لیے بطور خوشخبری کے فرما دیا کہ ان میں باسلامت رہنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
قصہء اول حضرت زکریا و حضرت یحییٰ (علیہما السلام)
قال اللہ تعالیٰٰ ۔ کٓھٰیٰعٓصٓ، ذکر رحمت ربک عبدہ زکریا۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ ویوم یبعث حیا۔
(ربط) حضرت زکریا (علیہ السلام) انبیاء بنی اسرائیل میں سے ہیں۔ صحیح بخاری میں ہے کہ وہ نجار (یعنی بڑھئی) کا پیشہ کرتے تھے اور اپنے ہاتھ کی محنت سے کما کر کھاتے تھے۔ ان کے کوئی فرزند نہ تھا اور اعزاء اوراقرباء کی طرف سے یہ کھٹکا تھا کہ میرے بعد دین حق میں تغیر و تبدل کر ڈالیں گے۔ جیسا کہ بنی اسرائیل میں ہوتا رہا۔ اس لیے انہوں نے پچھلی رات میں نہایت عجز وزاری کے ساتھ ایک فرزند کی دعا مانگی کہ جو میرے بعد تیرے دین کی حفاظت کرسکے اور دعا کا آغاز اپنے ضعف اور ناتوانی سے…
Read the full tafseer →12:۔ سلام سلامتی اور امان یحییٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے ولادت کے وقت مس شیطان سے، موت کے وقت وحشت موت سے اور آخرت میں ہول قیامت سے محفوظ رکھا۔ ابن عطیہ کہتے ہیں کہ سلام سے مراد تحیہ متعارفہ ہے۔ یعنی ان تینوں حالتوں میں تشریف و تکریم کے طور پر اللہ تعالیٰ ان پر تحیہ نازل فرمائے گا۔ یہاں تین مختلف حالتیں بیان کی گئی ہیں۔ 1 ۔ ولادت۔ اس وقت سے جو زندگی شروع ہوتی ہے۔ اسے دنیوی زندگی کہتے ہیں۔ 2 ۔ موت اس پر دنیوی زندگی ختم ہوجاتی ہے اور برزخی زندگی کا دور شروع ہوجاتا ہے۔ 3 ۔ بعث بعد الموت اس پر برزخی زندگی ختم ہوجاتی ہے اور اخروی زندگی کا آغاز ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت زکریا (علیہ السلام) کی دعا کر ذکر فرمایا کہ انہوں نے بڑھاپے میں ایک ایسے بیٹے کی درخواست کی جو انکی علمی جانشینی کا حق ادا کرسکے ، اللہ تعالیٰ نے اس دعا کو قبول فرمایا اور زکریا (علیہ السلام) کی خوشی اور سرور کے لیے استقرار حمل کی نشانی بھی بتلائی کہ آپ تین دن رات تک سوائے اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا اور تسبیح وتحمید کے کوئی کلام نہیں کرسکیں گے ، یہ نشانی بھی ظاہر ہوئی اور پھر اللہ نے بانجھ بیوی سے زکریا (علیہ السلام) کو ایک عظیم الشان فرزند عطا فرمایا ، یہ بھی اللہ کا نبی تھا اور اس کا نام بھی اللہ تعالیٰ نے خود ہی بتلا دیا تھا اور یہ بھی کہ اس سے…
Read the full tafseer →وَسَلٰمٌ عَلَيْہِ يَوْمَ وُلِدَ وَيَوْمَ يَمُوْتُ وَيَوْمَ يُـبْعَثُ حَيًّا 15ۧ
سلام
السِّلْمُ والسَّلَامَةُ : التّعرّي من الآفات الظاهرة والباطنة، قال : بِقَلْبٍ سَلِيمٍ
[ الشعراء/ 89] ، أي : متعرّ من الدّغل، فهذا في الباطن، وقال تعالی: مُسَلَّمَةٌ لا شِيَةَ فِيها
[ البقرة/ 71] ، فهذا في الظاهر، وقد سَلِمَ يَسْلَمُ سَلَامَةً ، وسَلَاماً ، وسَلَّمَهُ الله، قال تعالی: وَلكِنَّ اللَّهَ سَلَّمَ [ الأنفال/ 43] ، وقال : ادْخُلُوها بِسَلامٍ آمِنِينَ [ الحجر/ 46] ، أي : سلامة، وکذا قوله : اهْبِطْ بِسَلامٍ مِنَّا[هود/ 48] . والسّلامة الحقیقيّة ليست إلّا في الجنّة، إذ فيها بقاء بلا فناء، وغنی بلا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–20
2 ؎ یعنی اس کی ولادت اور موت اور باررگر زندگی ہر حالت مبارک۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
وَسَلٰمٌ عَلَیْہِ یَوْمَ وُلِدَ وَیَوْمَ یَمُوْتُ وَیَوْمَ یُبْعَثُ حَیًّا۔ (مریم : 15)
(اور سلامتی ہے اس پر جس روز وہ پیدا ہوا اور جس روز وہ مرے گا اور جس روز وہ زندہ کرکے اٹھایا جائے گا۔ )
انسان کے لیے مشکل اوقات
انسان دنیا میں آنے کے بعد جب عملی زندگی میں داخل ہوتا ہے تو کامیابیوں سے بھی سرفراز ہوتا ہے اور ناکامیاں بھی دامن گیر ہوتی ہیں اور ان کے دیکھنے اور جاننے والے سینکڑوں لوگ ہوتے ہیں۔ اس میں زندگی گزارنے والے کی محنت کا بھی دخل ہوتا ہے اور تقدیر کے فیصلے بھی شامل ہوتے ہیں لیکن انسان سے متعلق تین وقت ایسے ہیں جن میں کامیابی یا ناکامی سراسر انسان کے اعمال کا نتیجہ ہوتی ہے اور ساتھ ہی…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : حضرت یحییٰ (علیہ السلام) پر پیدائش سے لے کر تادم واپیس اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور برکتیں۔
یہ مسلمّہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جتنے پیغمبر دنیا میں جلوہ گر فرمائے ان کی پیدائش سے لے کر وفات تک اور قبر سے لے کر حشر تک، حشر سے لے کر جنت الفردوس میں پہنچنے تک ہر لمحہ ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا نزول رہتا ہے۔ لیکن بعض انبیاء کرام (علیہ السلام) کے خصوصی حالات کے پیش نظر ان کے بارے میں خاص طور پر ذکر فرمایا ہے کہ ان پر ان کی پیدائش سے لے کر ان کی موت اور دوبارہ زندہ ہونے تک اللہ کی رحمت ان کے شامل حال رہی اور رہے گی۔ ان میں بالخصوص حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت یحییٰ…
Read the full tafseer →پروانہ سلامتی :
15: وَ سَلٰـمٌ عَلَیْہِ (اور ان کے لئے سلامتی ہے) یعنی اللہ کی طرف سے ہر دکھ اور اذیت سے امان ہے۔ یَوْمَ وُلِدَ وَیَوْمَ یَمُوْتُ (جس دن وہ پیدا ہوئے اور جس دن وہ مریں گے) یعنی ولادت کے وقت شیطان کے اثرات سے اور موت کے وقت فتنہ قبر سے۔ وَیَوْمَ یُبْعَثُ حَیًّا (اور جب وہ زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے) یعنی بڑی گھبراہٹ سے محفوظ کردیئے جائیں گے۔ سفیان بن عیینہ کہتے ہیں یہی تین موقعے سب سے زیادہ و حشت ناک ہیں۔
Read the full tafseer →15، وسلام علیہ ، ، ہر دکھ اور اذیت سے اللہ کی طرف سے اس کے لیے سلامتی ہے۔ یوم ولد ویوم یموت ویوم یبعث حیا، سفیان بن عیینہ کا قول ہے کہ انسان کے یہ ہی تین عجیب احوال ہوتے ہیں ۔ ماں کے پیٹ کو چھوڑ کر باہر اس دنیا میں آتا ہے دنیا سے نکل کر دوسرے عالم میں پہنچتا ہے جہاں اس کو وہ اشخاص ملتے ہیں جو اس دنیا میں اس کو کبھی نظر نہیں آئے، زندہ ہوکر میدان حشر میں پہنچے گا اور ایسا میدان اور اجتماع اس نے کبھی نہ دیکھا ہوگا ان تینوں حالات و مقامات میں محفوظ رہنے کی خصوصیت اللہ تعالیٰ نے یحییٰ (علیہ السلام) کو عطا فرمائی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–21
15۔ 21:۔ اوپر بنی اسرائیل کے اس دستور کا ذکر گزر چکا ہے وہ اپنے لڑکوں کو بیت المقدس کا خادم بنایا کرتے تھے حضرت مریم ( علیہ السلام) کی ماں حنہ نے اس دستور کے موافق نذر مانی کہ ان کے پیٹ میں جو بچہ ہے اس کے پیدا ہونے کے بعد اس کو وہ بیت المقدس کا خادم بنا دیویں گی جب حضرت مریم پیدا ہوئیں تو لڑکی کے پیدا ہونے سے ان کو بڑا رنج ہوا کس لیے کہ لڑکیوں کو بیت المقدس کا خادم بنانے کا حکم نہیں تھا مگر یہ قصہ سورة آل عمران میں گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر باوجود لڑکی ہونے کے ان کا خادم ہونا قبول فرما لیا حضرت مریم کے باپ عمران حضرت مریم کے پیدا ہونے سے پہلے وفات پاگئے تھے اس لیے اپنے خالو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
آیت 12
گزشتہ کلام، حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کی ولادت، ان کے شباب اور ان کی تربیت پر دلالت کرتا ہے۔ جب حضرت یحییٰ (علیہ السلام) اس عمر کو پہنچ گئے جس عمر میں خطاب سمجھ میں آجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ قوت یعنی کوشش اور اجتہاد کے ساتھ کتاب اللہ کو پکڑے رکھیں یعنی اس کے الفاظ کی حفاظت، اس کے معانی کے فہم اور اس کے اوامرونواہی پر عمل میں پوری کوشش اور اجتہاد سے کام لیں۔۔۔. یہ ہے کتاب اللہ کو کامل طور پر پکڑنا۔ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی، انہوں نے کتاب اللہ کی طرف توجہ کی، اسے حفظ کیا اور اس کا فہم حاصل کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسی ذہانت و فطانت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–22
محراب کیا ہے ؟
قول باری ہے (فخرج علی قومہ من المحراب۔ چناچہ وہ محراب سے نکل کر اپنی قوم کے سامنے آئے) ابوعبیدہ کا قول ہے کہ محراب صدر مجلس یعنی بیٹھنے کی جگہ کے درمیان والے حصے کو کہتے ہیں۔ اسی سے مسجد کا محراب نکلا ہے۔ ایک قول کے مطابق محراب غرفہ یعنی بالا خانہ کو کہتے ہیں۔ اسی سے قول باری ہے (اذ تسوروا المحراب ۔ جب وہ دیوار پھاند کر حجرہ میں آ گئے ) ایک اور قول ہے کہ محراب مصلی یعنی نماز پڑھنے کی جگہ کو کہتے ہیں۔
گونگے کے اشارے سے عمل درآمد ہوسکتا ہے
قول باری ہے (فاوحی الیھم اس نے انہیں اشارے سے کہا) ایک قول کے مطابق حضرت زکریاعلیہ السلام نے اپنی قوم کو ہاتھ کے اشارے سے کہا اس طرح ہاتھ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
20 حضرت یحییٰ کے لیے اول تا آخر سلامتی ہی سلامتی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ سلام ہو اس پر جس دن کہ وہ پیدا ہوا اور جس دن وہ مرے گا اور جس دن اس کو زندہ کر کے اٹھایا جائے گا۔ سو پیدائش، موت اور بعث بعد الموت تینوں مواقع انسانی زندگی میں بڑے اہم مواقع ہوتے ہیں کہ پیدائش کے وقت وہ عالم ارواح سے نکل کر اس دنیا میں قدم رکھتا ہے۔ اور موت کے وقت وہ اس دنیا سے عالم برزخ میں منتقل ہوتا ہے اور وہاں سے دوبارہ اٹھنے کے بعد عالم آخرت کی حقیقی اور دائمی زندگی کے دارالقرار میں پہنچ جاتا ہے۔ سو ان تینوں مواقع پر انسان چونکہ اپنی عاجزی اور بےبسی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی رحمت و عنایت کا بطور خاص زیادہ محتاج ہوتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
سیدنا یحییٰ (علیہ السلام) کے اوصاف
تشریح : جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا دستور ہے کہ وہ کسی قوم میں سے بہترین انسان کو نبوت کے لیے چن لیتا ہے۔ اور وہ انسان بچپن سے ہی نیک خصلت انسان ہوتا ہے۔ اسی طرح سیدنا یحییٰ (علیہ السلام) انتہائی نیک دل، نرم مزاج، پاکیزہ، نیک نیت، فرماں بردار، مشفق اور مہربان تھے۔ انہوں نے کبھی بھی کسی پر ظلم نہیں کیا تھا والدین کے انتہائی فرماں بردار انسان تھے۔ نہ خود کبھی برائی کی تھی اور نہ کسی کو برائی کا راستہ دکھاتے تھے۔ کیونکہ ان کو اللہ نے کتاب ہدایت دی تھی جو کہ پوری طرح نیکی اور ہدایت کی کتاب تھی اللہ نے آپ کو عطا کی اور حکم دیا کہ اسے مضبوطی سے پکڑلو۔ یعنی اس میں دیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
سورة مریم :
(رکوع نمبر 1)
اسرارومعارف
سورة مریم بھی مکی سورتوں میں سے ہے اور سورة کہف کی طرح اس میں بھی بہت سے واقعات عجیبہ کا تذکرہ ہے ، پہلی گزرنے والی سورة یعنی سورة کہف کی طرح اس میں بھی بہت سے واقعات کا ذکر تھا جو علمائے یہود نے مشرکین مکہ کو پوچھنے کے لیے کہا تھا اور یہ بھی کہا تھا کہ ان واقعات کو صحیح طور پر صرف اللہ جل جلالہ کا نبی ہی بیان کرسکتا ہے اللہ کریم نے وہ واقعات ارشاد فرما کر اپنے رسول فداہ ابی وامی کو مزید واقعات غریبہ سے مطلع فرمایا جن کے بارے کفار ومشرکین سوال بھی نہ کر پائے تھے کہ وہ اتنا بھی علم نہ رکھتے تھے ۔
(حروف مقطعات)
کھیعص : حروف مقطعات کی بات پہلے گزر چکی کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
ف 1 یعنی پیدائش سے وافت تک اللہ تعالیٰ کی امان میں رہیں گے اور دوسرے بنی آدم کی طرح ان پر شیطان کا تسلط نہیں ہو سکے گا اور آئندہ بھی قیامت تک اللہ تعالیٰ انہیں اپنی حفاظت میں رکھے گا۔ اس سے ان کی عزت افزائی کی طرف اشارہ ہے۔ بعض نے لکھا ہے کہ یوم یموت کے معنی یہ ہیں کہ عذاب قبر سے مامون رہیں گے۔ یہ تین اقوات انسان پر انتہائی وحشت کے ہوں گے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان اقوات میں یحی (علیہ السلام) کے اکرام کو ظاہر کردیا۔ (کبیر) شاہ صاحب لکھتے ہیں اللہ کے کسی بندے پر سلام کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ اس پر کوئی گرفت نہ ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
(19:14) برا۔ البر۔ یہ بحر کی ضد ہے اور اس کے معنی خشکی کے ہیں۔ پھر معنی کی وسعت کے اعتبار سے اس سے البرکا لفظ مشتق کیا گیا۔ جس کے معنی وسیع پیمانے پر نیکی کرنے کے ہیں۔ اس کی نسبت کبھی اللہ تعالیٰ کی طرف ہوتی ہے۔ جیسے انہ ھو البر الرحیم۔ (52:28) بیشک وہ احسان کرنے والا مہربان ہے۔ اور کبھی بندہ کی طرف جیسے بر العبد ربہبندے نے اپنے رب کی خوب اطاعت کی۔
البر۔ (نیکی) دو قسم پر ہے۔ اعتقادی اور عملی۔ اور آیت کریمہ لیس البر ان تولوا وجوہکم قبل المشرق والمغرب ولکن البر من امن بااللہ والیوم الاخر۔ والملئکۃ والکتب والنبیین واتی المال علی حبہ۔۔ الخ (2:177) نیکی یہ نہیں کہ تم اپنا منہ مشرق کی طرف یا مغرب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–15
لغات القرآن آیت نمبر 11 تا 15
المحراب عبادت کرنے کی جگہ ۔ اوحی اس نے اشارہ کیا۔ سبحوا تسبیح کرو۔ عبادت کرو۔ بکرۃ صبح۔ عشی شام۔ خذ لے لو۔ پکڑو۔ الحکم حکمت و دانئای۔ صبی بچپن۔ حنان شفقت و محبت۔ برا نیکی کرنا۔ جبار سرکشی کرنے والا۔ عصی نافرمان۔ ولد پیدا کیا گیا۔ یبعث دوبارہ اٹھائے گا۔
تشریح : آیت نمبر 11 تا 15
جب حضرت زکریا (علیہ السلام) کی عمر مبارک ایک سو بیس سال کے قریب ہوئی اس وقت آپ نے عاجزی و انکساری سے اللہ کی بارگاہ میں یہ دعا فرمائی کہ اے اللہ مجھے ایک بیٹا عطا فرما دیجیے تاکہ وہ توریت کی تعلیمات کو عام کرسکے اور میرے اسلامی مقصد اور مشن کے لئے میرا صحیح جانشین اور وارث بن سکے۔ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
یحییٰ (علیہ السلام) لڑکپن ہی میں عبادت اور تلقین کیا کرتے تھے، اور کھیل کود میں مصروف نہیں ہوئے۔ اور ان کو حکم ہوا کہ اے یحییٰ کتاب کو مضبوط ہو کرلو یعنی توراۃ پر استقلال کے ساتھ عمل کرو۔ اور وہ لڑکپن ہی میں ہمارے فضل سے علم لاہوتی حاصل کرچکے تھے۔ ہم نے یحییٰ (علیہ السلام) کو رحم دل اور پاکیزہ بنایا تھا۔ وہ پرہیزگار تھا اور ماں باپ سے سلوک کرتا تھا، اور ان کی خدمت میں مستعد تھا، اور سرکش اور نافرمان نہ تھا۔ اور جس دن وہ پیدا ہوا سلامتی کے ساتھ پیدا ہوا۔ اور یہی کیفیت اس کی موت کے دن کی ہے، اور یہی نقشہ اس کا اس روز ہوگا جس روز کہ قبر سے اٹھایا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–16
[6] کتاب سے مراد تورات ہے۔ خود یحییٰ (علیہ السلام) صاحب شریعت نہ تھے ان کا عمل موسوی شریعت پر تھا۔
[7] یعنی دین کی سمجھ اور حق و باطل میں امتیاز کی قوت و صلاحیت۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–17
نیک اولاد :
(ف 2) حضرت یحیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے بوڑھے باپ کی آغوش روحانیت میں تربیت پائی سن رشد کو پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا اب کتاب و رسالت کو قوت کے ساتھ تھام اور صبر و استقلال کے ساتھ تبلیغ میں مصروف ہوجاؤ اس کے بعد ان کے اوصاف بیان کئے ہیں کہ وہ لڑکپن ہی سے سمجھدار تھے ، نرم دل اور پاکیزہ اعمال تھے پرہیزگار تھے والدین کے اطاعت گزار تھے ، اور طبیعت میں سرکشی وبغاوت کا عنصر قطعا موجود نہ تھا ۔
درحقیقت ان اوصاف کا پیغمبر کی ذات میں نبوت سے قبل جمع ہونا ضروری ہے تاکہ آگے چل کر وہ دنیا کے لئے خیروبرکت کا باعث ہو سکے ۔
حل لغات :
العراب : زاویہ عبادت یاحجرہ ۔
الحکم : سمجھ ، سلیقہ ،…
Read the full tafseer →- 15 اور اس یحییٰ (علیہ السلام) پر سلامتی ہو جس دن وہ پیدا ہوا اور جس دن وہ مرے اور جس دن وہ زندہ کر کے اٹھایا جائے۔ یعنی ہر حال میں اس پر سلامتی نازل ہو۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں اللہ جو بندے پر سلام کہے اور اس کے معنی یہ کہ اس پر کچھ پکڑ نہیں۔ 12
خلاصہ :- یہ کہ دنیا میں آفات سے محفوظ برزخ میں ہر قسم کی سختی سے محفوظ قیامت کے دن کے عذاب سے محفوظ۔
Read the full tafseer →ف 5۔ وہ عنداللہ ایسے وجیہ و مکرم تھے کہ ان کے حق میں من جانب اللہ یہ ارشاد ہوتا ہے کہ ان کو اللہ تعالیٰ کا سلام پہنچے جس دن کہ وہ پیدا ہوئے اور جس دن وہ انتقال کریں گے اور جس دن قیامت میں زندہ ہو کر اٹھائے جاویں گے۔
Read the full tafseer →سیدنا یحییٰ (علیہ السلام) کی پیدائش ‘ زندگی اور موت سب میں سلامتی تھی۔
15۔ زیر نظر آیت میں سیدنا یحییٰ (علیہ السلام) کی پوری زندگی کا خلاصہ پیش کردیا فرمایا لوگ جو کچھ کہتے رہیں ہمارے نزدیک تو سیدنا یحییٰ (علیہ السلام) مجسمہ سلامتی تھے ، ان کی پیدائش ‘ ان کی زندگی اور انکی موت سب سلامتی ہی سلامتی تھے ۔ سلامتی میں آئے ‘ سلامتی میں رہے اور سلامتی سے رخصت ہوئے اور جب وہ اخروی زندگی میں اٹھائے جائیں گے تو ان کے لئے سلامتی ہی سلامتی ہوگی اور کیوں نہ ہو جب کہ ان کا پیدا ہونا ‘ زندگی بسر کرنا اور دوبارہ اٹھایا جانا سب کام اللہ کی رضا کے لئے ہیں انہوں نے اس دنیا میں قدم رکھا تو رضائے الہی کی خاطر ‘…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
حَنَانًا Literal meaning of this word is soft heartedness, compassion and mercy, and these qualities were specially granted to Sayyidna Yahya (علیہ السلام) .
Read the full tafseer →12. In order to have a full understanding of the mission and the pure character of Prophet John, about which brief references have been made in this Surah and Surah Aal- Imran, it will be useful to study this story as given in different Books of the New Testament in the following order:
According to Luke, Prophet John was older than Prophet Jesus (peace be upon them) by six months and their mothers were cousins. He was appointed a Prophet at the age of 30 years, and according to the Gospel of John, he started his mission of inviting the people toward God in Jordan. He would say: I am the…
Read the full tafseer →