Explained with ayahs 12–15
پیدائش یحییٰ علیہ السلام۔
بمطابق بشارت الہٰی حضرت زکریا ؑ کے ہاں حضرت یحییٰ ؑ پیدا ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں تورات سکھا دی جو ان میں پڑھی جاتی تھی اور جس کا احکام نیک لوگ اور انبیاء دوسروں کو بتلاتے تھے اس وقت ان کی عمر بچپن کی ہی تھی اسی لئے اپنی اس انوکھی نعمت کا بھی ذکر کیا کہ بچہ بھی دیا اور اسے آسمانی کتاب کا عالم بھی بچپن سے ہی کردیا اور حکم دے دیا کہ حرص اجتہاد کوشش اور قوت کے ساتھ کتاب اللہ سیکھ لے۔ ساتھ ہی ہم نے اسے اسی کم عمری میں فہم وعلم، قوت وعزم، دانائی اور حلم عطا فرمایا نیکیوں کی طرف بچپن سے ہی جھک گئے اور کوشش وخلوص کے ساتھ اللہ کی عبادت اور مخلوق کی خدمت میں لگ گئے۔ بچے آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
سورة مَرْیَم 11
اصل میں لفظ حنان استعمال ہوا ہے جو قریب قریب مامتا کا ہم معنی ہے۔ یعنی ایک ماں کو جو غایت درجے کی شفقت اپنی اولاد پر ہوتی ہے، جس کی بنا پر وہ بچے کی تکلیف پر تڑپ اٹھتی ہے۔ وہ شفقت حضرت یحییٰ کے دل میں بندگان خدا کے لیئے پیدا کی گئی تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
حَنَانًالفظ کے لغوی معنے رقت قلب اور رحمت و شفقت کے ہیں جو حضرت یحییٰ ؑ کو امتیازی طور پر دی گئی تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
تفسیر آیت 13 تا 14: وَحَنَانًا مِنْ لَدُنَّا وَزَكَاةً وَكَانَ تَقِيًّا (13) وَبَرًّا بِوَالِدَيْهِ وَلَمْ يَكُنْ جَبَّارًا عَصِيًّا۔
حنان کے معنی محبت، ذوق و شوق، اور سوز و گداز کے ہیں۔ یہ لفظ نہایت معروف و متداول الفاط میں سے ہے اس وجہ تعجب ہوتا ہے کہ حضرت ابن عباس کی طرف بعض لوگوں نے یہ بات، کس طرح منسوب کردی کہ انہوں نے فرمایا کہ مجھے اس کے معنی معلوم نہیں۔
قلب و روح کی اصلی زندگی۔ یہ سوز و گداز اور یہ محبت ہی انسان کے قلب و روح کی زندگی کی اصلی علامت ہے۔ یہ نہ ہو تو انسان انسان نہیں بلکہ پتھر کی ایک مورت ہے۔ اس سوز و گداز میں سے حضرت یحییٰ کو، جیسا کہ من لدنا کے الفاظ سے واضح ہے، نہایت…
Read the full tafseer →14۔ 1 یعنی اپنے ماں باپ کی یا اپنے رب کی نافرمانی کرنے والا نہیں تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی کے دل میں والدین کے لئے شفقت و محبت کا اور ان کی اطاعت وخدمت اور حسن سلوک کا جذبہ اللہ تعالیٰ پیدا فرما دے تو یہ اس کا خاص فضل وکرم ہے اور اس کے برعکس جذبہ یا رویہ، یہ اللہ تعالیٰ کے فضل خاص سے محرومی کا نتیجہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–16
8: کتاب سے مراد تورات ہے، اور مضبوطی کے ساتھ تھامنے کا مطلب یہ ہے کہ اس پر خود بھی پورا پورا عمل کرو۔ اور دوسروں کو بھی اس کی تلقین کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
” ہم نے اسے بچپن ہی میں حکم سے نوازا اور اپنی طرف سے اسے نرم دلی اور پاکیزگی عطا کی اور وہ بڑا پرہیز گار تھا۔ “ یہ تھی وہ قابلیت جس سے اللہ نے ان کو نوازا تھا اور اس طرح منصب خلافت زکریا کی ذمہ داریاں نبھانے میں ان کی مدد کی گئی۔
اسے بچپن ہی میں حکم اور حکمت عطا کردی گئی تھی ، لہٰذا وہ اہلیت میں بھی یکتا کردیئے گئے جس طرح وہ اپنے نام اور اپنی ولادت میں ممتاز تھے۔ حکمت جو کسی بھی شخص میں بڑے تجربے کے بعد آتی ہے حضرت یحییٰ کو زمانہ طفولیت ہی میں عطا کردی گئی تھی۔
نیز آپ کو پیدائشی طور پر نرم دلی عطا کردی گئی تھی ، اس لئے ان کو اس کے اظہار کے لئے کوئی تکلیف نہ کرنا پڑی اور نہ اس کی ٹریننگ کر…
Read the full tafseer →6 یعنی متکبر، سرکش اور خود سر نہ تھا۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یعنی آرزو کے لڑکے اکثر ایسے ہوا کرتے ہیں۔ " وہ ویسا نہ تھا۔
Read the full tafseer →آیت 14 وَّبَرًّام بِوَالِدَیْہِ وَلَمْ یَکُنْ جَبَّارًا عَصِیًّا
یہ اوصاف اللہ تعالیٰ کی خصوصی عطا کے طور پر حضرت یحییٰ علیہ السلام کی گھٹیّ میں ڈال دیے گئے۔
Read the full tafseer →15 بڑھاپے کی اولاد، اور بالخصوص ایسی اولاد جو اللہ سے دعائیں مانگ مانگ کر حاصل ہو، کے عادات واطوار ماں باپ کے زیادہ لاڈ پیار کی وجہ سے اچھے نہیں ہوتے لیکن یحییٰ میں ایسی کوئی بات نہ تھی۔ وہ ماں باپ کے انتہائی فرمانبردار، ان سے بہتر سے بہتر سلوک کرنے والے تھے۔ نافرمانی یا سرکشی کی ان میں بو تک نہ تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
17۔ ملاحظہ ہوں حواشی سورة آل عمران۔ زیر آیت 38۔ حکم کے معنی نبوت بھی ہوسکتے ہیں اور حکمت، شریعت، عقل وفہم بھی۔ الحکم النبوۃ او حکم الکتاب اوالحکمۃ اواللت وھو العقل (بحر) اعلم ان فی الحکم اقوالا الاول انہ الحکمۃ والثانی انہ عقل والثالث انہ النبوۃ (کبیر) الحکم الفھم والعلم (ابن عباس ؓ الحکمۃ وھو فھم التورۃ والفقہ فی الدین (مدارک) بہرحال حکم کے تحت میں علمی وذہنی کمالات آگئے اور (آیت) ” حنانا وزکوۃ “ کے تحت میں عملی واخلاقی۔ گویا آپ کی ذات جامع تھی علمی وعملی، ذہنی واخلاقی کمالات واوصاف کی۔ (آیت) ” زکوٰۃ “۔ سے مراد اصطلاح فقہ والی زکوٰۃ مال نہیں بلکہ عام حسن عمل و پاکیزگی ہے۔ اے عملا صالحا زکیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–15
آیت نمبر 7 تا 15
ترجمہ : اے زکریا ہم تجھے ایک فرزند کی خوشخبری دیتے ہیں جو تیری درخواست کے مطابق وارث ہوگا اس کا نام یحییٰ ہوگا اس کا ہمنام پہلے ہم نے کسی کو نہیں کیا یعنی یحییٰ کا ہم نام تو زکریا (علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے پروردگار میرے لڑکا کس طرح ہوگا حالانکہ میری بیوی بانجھ ہے اور میں بڑھاپے کی انتہائی درجہ کو پہنچ گیا ہوں عِیِّیًّا عَتَا سے ماخوذ ہے بمعنی یَبِسَ یعنی عمر کے آخری مرحلہ میں پہنچ چکا ہوں جو ایک بیس سال ہے اور میری بیوی 98 سال کی ہوچکی ہے عِتِیٌ اصل عُتُوْوٌ بروزن قُعُوْدٌ تخفیف کے لئے تا کو کسرہ دے دیا اور اول واو کو کسرہ کی مناسبت سے ی سے بدل دیا اور پھر دوسرے واو کو…
Read the full tafseer →وبرا بوالدلیہ اور پاک تھا والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنے والا اور مہربان تھا۔
ولم یکن جباراً عصیا۔ اور متکبر ‘ رب کا نافرمان نہ تھا ‘ بعض علماء کا قول ہے کہ جبار وہ شخص ہے جو شدت غضب میں مارتا اور قتل کرتا ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
(12۔ 13۔ 14) پھر یحییٰ ؑ نے جس وقت بالغ ہوئے اور سن شعور کو پہنچ گئے تو الہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا کہ اے یحییٰ کتاب توریت میں جو احکامات ہیں ان کی پوری کوشش اور پابندی کے ساتھ پیروی کرو اور ہم نے یحییٰ ؑ کو لڑکپن ہی میں عقل وعلم عطا کیا تھا اور خاص اپنی طرف سے ان کے والدین کے لیے رحمت اور صلہ رحمی یا یہ کہ ان کو دین میں صلاحیت عطا کی تھی۔
اور وہ اپنے رب کے بڑے تابعدار اور اپنے والدین کے بڑے خدمت گزار تھے اور وہ دین میں نافرمانی کرنیوالے اور غصہ میں قتل کرنے والے اور اپنے پروردگار کی نافرمانی کرنے والے نہیں تھے۔
Read the full tafseer →وَبَرّاً ابِوَالِدَيْهِ۔۔ : آرزوؤں اور امنگوں سے پیدا ہونے والی اولاد عموماً مغرور، سرکش اور نافرمان ہوتی ہے، یحییٰ ؑ ایسے نہ تھے، بلکہ ماں باپ کے ساتھ بہت نیک سلوک کرنے والے تھے۔ وہ نہ سرکش تھے اور نہ اپنے والدین یا اپنے رب کی نافرمانی کرنے والے تھے۔ ظاہر یہ ہے کہ ”عَصِيًّا“ ”عَصَی یَعْصِيْ“ سے ”فَعُوْلٌ“ کے وزن پر ہے، تعلیل کے بعد ”عَصِيًّا“ بن گیا۔ ”فَعِیْلٌ“ کے وزن پر بھی ہوسکتا ہے، دونوں وزن مبالغہ کے لیے ہیں۔ (شنقیطی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وحنانا من لدنا، حنانا، کا عطف الحکم پر ہے، حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا : اللہ کی قسم ! میں نہیں جانتا کہ الحنان کیا ہے (4) ۔ جمہور مفسرین نے کہا : الحنان کا مطلب شفقت، الرحمۃ اور المحبۃ ہے اور یہ نفس کے افعال میں سے ایک فعل ہے۔ نحاس نے کہا : الحنان کے معنی میں حضرت ابن عباس ؓ سے دو قول مروی ہیں (1) فرمایا : اللہ تعالیٰ کا رحمت کے ساتھ ان پر مہربانی فرمانا (2) اور دوسراقول یہ ہے کہ جو اس نے لوگوں پر رحمت فرمائی حی کہ انہیں کفر و شرک سے نکالا (1) اس کی اصل حنین الناقۃ علی ولدھا یعنی اونٹنی کا اپنے بچے پر انتہائی مہربان ہونا، کہا جاتا ہے : حنانک و حننیک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
1:۔ ابن ابی شیبہ، عبدبن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” یحییٰ خذ الکتب بقوۃ “ یعنی سنجیدگی سے کتاب کو لیجئے (آیت) ” واتینہ الحکم صبیا “ یعنی ان کو ہم نے بچپن ہی میں فہم عطا فرمایا۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” خذالکتب بقوۃ “ کے بارے میں روایت کیا کہ عمل کرو جو اس میں فرائض میں سے ہیں۔
3:۔ ابن منذر نے مالک بن دینار (رح) سے روایت کیا کہ ہم نے عکرمہ ؓ سے (آیت) ” واتینہ الحکم صبیا “ کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا اس سے مراد ہے عقلمندی۔
4:۔ ابونعیم، ابن مردویہ اور دیلمی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے (آیت) ”…
Read the full tafseer →[وَّځ ا : اور فرمانبردار (تھے)] [بِوَالِدَيْهِ : اپنے والدین کے ] [وَلَمْ يَكُنْ : اور وہ نہیں تھے ] [جبارًا : جبر کرنے والے ] [عَصِيًّا : نافرمانی کرنے والے ]
ترکیب : زیر مطالعہ آیات کا صحیح ترجمہ کرنے کے لئے منصوبات کی وجوہات کا تعین ضروری ہے۔ اٰتَیْنٰہُ کا مفعول ہونے کی وجہ اَلْحُکْمَ ، صَنَانًا اور زَکٰوًۃ حالت نصب میں آئے ہیں جبکہ صَبِیًّا حال ہے۔ کَانَ کی خبر ہونے کی وجہ سے تَقِیًّا اور بَرًّا حالت نصب میں ہیں۔ جَبَّارًا اور عَصِیًّا خبریں ہیں لَمْ یَکُنْ کی جبکہ صَیًّا حال ہے۔
Read the full tafseer →(وَبَرًّا بْوَالِدَیْہِ ) (اور ہم نے یحییٰ کو والدین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنے والا بنایا) (وَلَمْ یَجْعَلْہُ جَبَّارًا عَصِیًّا) (اور اللہ نے ان کو جبار یعنی متکبر نہیں بنایا اور عصی یعنی نافرمان نہیں بنایا)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
قصہء اول حضرت زکریا و حضرت یحییٰ (علیہما السلام)
قال اللہ تعالیٰٰ ۔ کٓھٰیٰعٓصٓ، ذکر رحمت ربک عبدہ زکریا۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ ویوم یبعث حیا۔
(ربط) حضرت زکریا (علیہ السلام) انبیاء بنی اسرائیل میں سے ہیں۔ صحیح بخاری میں ہے کہ وہ نجار (یعنی بڑھئی) کا پیشہ کرتے تھے اور اپنے ہاتھ کی محنت سے کما کر کھاتے تھے۔ ان کے کوئی فرزند نہ تھا اور اعزاء اوراقرباء کی طرف سے یہ کھٹکا تھا کہ میرے بعد دین حق میں تغیر و تبدل کر ڈالیں گے۔ جیسا کہ بنی اسرائیل میں ہوتا رہا۔ اس لیے انہوں نے پچھلی رات میں نہایت عجز وزاری کے ساتھ ایک فرزند کی دعا مانگی کہ جو میرے بعد تیرے دین کی حفاظت کرسکے اور دعا کا آغاز اپنے ضعف اور ناتوانی سے…
Read the full tafseer →11:۔ گناہوں سے بالکلیہ اجتناب کرنے والے حدیث میں ہے کہ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) نے اپنی زندگی بھر میں کوئی گناہ نہیں کیا اور نہ گناہ کرنے کا ارادہ ہی کیا۔ ” و برا بوالدیہ “ ماں باپ دونوں پر احسان کرنے والا۔ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کے چونکہ ماں باپ دونوں تھے۔ اس لیے دونوں کا ذکر کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت زکریا (علیہ السلام) کی دعا کر ذکر فرمایا کہ انہوں نے بڑھاپے میں ایک ایسے بیٹے کی درخواست کی جو انکی علمی جانشینی کا حق ادا کرسکے ، اللہ تعالیٰ نے اس دعا کو قبول فرمایا اور زکریا (علیہ السلام) کی خوشی اور سرور کے لیے استقرار حمل کی نشانی بھی بتلائی کہ آپ تین دن رات تک سوائے اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا اور تسبیح وتحمید کے کوئی کلام نہیں کرسکیں گے ، یہ نشانی بھی ظاہر ہوئی اور پھر اللہ نے بانجھ بیوی سے زکریا (علیہ السلام) کو ایک عظیم الشان فرزند عطا فرمایا ، یہ بھی اللہ کا نبی تھا اور اس کا نام بھی اللہ تعالیٰ نے خود ہی بتلا دیا تھا اور یہ بھی کہ اس سے…
Read the full tafseer →وَّبَرًّۢا بِوَالِدَيْہِ وَلَمْ يَكُنْ جَبَّارًا عَصِيًّا 14
برَّ
البَرُّ خلاف البحر، وتصوّر منه التوسع فاشتق منه البِرُّ ، أي : التوسع في فعل الخیر، وينسب ذلک إلى اللہ تعالیٰ تارة نحو : إِنَّهُ هُوَ الْبَرُّ الرَّحِيمُ [ الطور/ 28] ، وإلى العبد تارة، فيقال : بَرَّ العبد ربه، أي : توسّع في طاعته، فمن اللہ تعالیٰ الثواب، ومن العبد الطاعة . وذلک ضربان :
ضرب في الاعتقاد . وضرب في الأعمال، وقد اشتمل عليه قوله تعالی: لَيْسَ الْبِرَّ أَنْ تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ [ البقرة/ 177] وعلی هذا ما روي «أنه سئل عليه الصلاة والسلام عن البرّ ، فتلا هذه الآية» «1» . فإنّ الآية متضمنة للاعتقاد والأعمال الفرائض…
Read the full tafseer →ترکیب : فاجاء یقال جاء واجاء لغتان بمعنی واحد ای الجاہا واضطرھا المخاض مصدر وھو وجع الولادۃ عندالجمھور بفتح المیم وقری بکسر ھامن تحتھا بفتح المیم وکسرھا والضمیر المونث اجعۃ ای مریم وقیل ای افتحلۃ ان لاتحزنی تفسیر للنداء سر یا السرے النھر الصغیر والجدول لان الماء یسری فیہ والجمیع سریان والسری الرئیس والجمع سراۃ وھزالھزالتحریک یقال ھزہ فانھنر تساقط اصلہ تتساقط مجزوم بانہ جواب امر۔ ترین اصلہ ترائین مثل تسمعین فریاعجیبا نادر۔ 12
تفسیر : یہ حضرت یحییٰ ( علیہ السلام) کے چند اوصاف حمیدہ بیان فرمائے تاکہ وعدہ الٰہی کہ اس سے پہلے کوئی اس کا ہم نام یا مثل نہیں پیدا ہوا ‘ صادق آئے اور وہ اوصاف یہ ہیں جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
وَسَلٰمٌ عَلَیْہِ یَوْمَ وُلِدَ وَیَوْمَ یَمُوْتُ وَیَوْمَ یُبْعَثُ حَیًّا۔ (مریم : 15)
(اور سلامتی ہے اس پر جس روز وہ پیدا ہوا اور جس روز وہ مرے گا اور جس روز وہ زندہ کرکے اٹھایا جائے گا۔ )
انسان کے لیے مشکل اوقات
انسان دنیا میں آنے کے بعد جب عملی زندگی میں داخل ہوتا ہے تو کامیابیوں سے بھی سرفراز ہوتا ہے اور ناکامیاں بھی دامن گیر ہوتی ہیں اور ان کے دیکھنے اور جاننے والے سینکڑوں لوگ ہوتے ہیں۔ اس میں زندگی گزارنے والے کی محنت کا بھی دخل ہوتا ہے اور تقدیر کے فیصلے بھی شامل ہوتے ہیں لیکن انسان سے متعلق تین وقت ایسے ہیں جن میں کامیابی یا ناکامی سراسر انسان کے اعمال کا نتیجہ ہوتی ہے اور ساتھ ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کا تذکرہ جاری ہے۔
حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کو کتاب، حکمت ودانشمندی اور قوت فیصلہ عطا کرنے کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ان اوصاف سے بھی متصف فرمایا تھا۔ ارشاد ہوا کہ ہم نے اسے اپنی طرف سے طبیعت کی نرمی، فکر و عمل کی پاکیزگی اور ہر قسم کے گناہ سے بچنے کی توفیق دی تھی۔ وہ اپنے ماں باپ کے ساتھ نیکی کرنے والے تھے سرکش اور نافرمان نہیں تھے۔ یہی باتیں انبیاء کرام (علیہ السلام) کی سیرت طیبہ اور حیات مبارکہ کا جوہر ہوتی ہیں اور انھیں باتوں کی اپنی امت کو تلقین فرمایا کرتے تھے۔
مسائل
1۔ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) اللہ کے نبی اور انتہائی پاکباز شخصیت تھے۔
2۔ حضرت…
Read the full tafseer →14: وَّبَرًّا مبِوَالِدَیْہِ (والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنے والے) یعنی ان کے ساتھ بھلائی کرنے والے تھے ان کی نافرمانی نہ کرتے تھے۔ وَلَمْ یَکُنْ جَبَّارًا عَصِیًّا (اور وہ متکبر اور نافرمان نہ تھے) عصیًا کا معنی اپنے رب کا نافرمان۔
Read the full tafseer →14۔ وبرا بوالدیہ، ، والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنے والا، ان پر بوجھ بننے والا نہیں تھا بلکہ ان پر احسان کرنے والا۔ ولم یکن جبارا عصیا، اس سے مراد جبار متکبر ہے۔ بعض علماء کا قول ہے کہ جبار وہ شخص ہے جو شت غضب سے مارتا اور قتل کرتا ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
12۔ 14۔ مطلب کو مختصر کرنے کے لیے یہاں اتنی عبادت کو حذف کردیا گیا ہے کہ زکریا ( علیہ السلام) کو یحییٰ (علیہ السلام) کے پیدا ہونے کی خوشخبری جو دی گئی تھی اس کے موافق یحییٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے اور حضرت عبداللہ بن ؓ عباس کے قول کے موافق جب سات برس کی عمر کو پہنچ گئے تو ان کو یہ حکم ہوا کہ اے یحییٰ توریت کے احکام کے موافق تم خود بھی مستعدی سے عمل کرو اور بنی اسرائیل کو بھی ان احکام کا پابند رکھو اگرچہ اس میں اختلاف ہے کہ کتنی عمر میں یحییٰ (علیہ السلام) کو احکام توریت کے موافق عمل کرنے کا حکم ہوا لیکن ترمذی میں سبرہ بن معبد جہینی کی صحیح حدیث ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا جب لڑکا سات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
آیت 12
گزشتہ کلام، حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کی ولادت، ان کے شباب اور ان کی تربیت پر دلالت کرتا ہے۔ جب حضرت یحییٰ (علیہ السلام) اس عمر کو پہنچ گئے جس عمر میں خطاب سمجھ میں آجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ قوت یعنی کوشش اور اجتہاد کے ساتھ کتاب اللہ کو پکڑے رکھیں یعنی اس کے الفاظ کی حفاظت، اس کے معانی کے فہم اور اس کے اوامرونواہی پر عمل میں پوری کوشش اور اجتہاد سے کام لیں۔۔۔. یہ ہے کتاب اللہ کو کامل طور پر پکڑنا۔ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی، انہوں نے کتاب اللہ کی طرف توجہ کی، اسے حفظ کیا اور اس کا فہم حاصل کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسی ذہانت و فطانت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–22
محراب کیا ہے ؟
قول باری ہے (فخرج علی قومہ من المحراب۔ چناچہ وہ محراب سے نکل کر اپنی قوم کے سامنے آئے) ابوعبیدہ کا قول ہے کہ محراب صدر مجلس یعنی بیٹھنے کی جگہ کے درمیان والے حصے کو کہتے ہیں۔ اسی سے مسجد کا محراب نکلا ہے۔ ایک قول کے مطابق محراب غرفہ یعنی بالا خانہ کو کہتے ہیں۔ اسی سے قول باری ہے (اذ تسوروا المحراب ۔ جب وہ دیوار پھاند کر حجرہ میں آ گئے ) ایک اور قول ہے کہ محراب مصلی یعنی نماز پڑھنے کی جگہ کو کہتے ہیں۔
گونگے کے اشارے سے عمل درآمد ہوسکتا ہے
قول باری ہے (فاوحی الیھم اس نے انہیں اشارے سے کہا) ایک قول کے مطابق حضرت زکریاعلیہ السلام نے اپنی قوم کو ہاتھ کے اشارے سے کہا اس طرح ہاتھ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
20 حضرت یحییٰ کے لیے اول تا آخر سلامتی ہی سلامتی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ سلام ہو اس پر جس دن کہ وہ پیدا ہوا اور جس دن وہ مرے گا اور جس دن اس کو زندہ کر کے اٹھایا جائے گا۔ سو پیدائش، موت اور بعث بعد الموت تینوں مواقع انسانی زندگی میں بڑے اہم مواقع ہوتے ہیں کہ پیدائش کے وقت وہ عالم ارواح سے نکل کر اس دنیا میں قدم رکھتا ہے۔ اور موت کے وقت وہ اس دنیا سے عالم برزخ میں منتقل ہوتا ہے اور وہاں سے دوبارہ اٹھنے کے بعد عالم آخرت کی حقیقی اور دائمی زندگی کے دارالقرار میں پہنچ جاتا ہے۔ سو ان تینوں مواقع پر انسان چونکہ اپنی عاجزی اور بےبسی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی رحمت و عنایت کا بطور خاص زیادہ محتاج ہوتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
سیدنا یحییٰ (علیہ السلام) کے اوصاف
تشریح : جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا دستور ہے کہ وہ کسی قوم میں سے بہترین انسان کو نبوت کے لیے چن لیتا ہے۔ اور وہ انسان بچپن سے ہی نیک خصلت انسان ہوتا ہے۔ اسی طرح سیدنا یحییٰ (علیہ السلام) انتہائی نیک دل، نرم مزاج، پاکیزہ، نیک نیت، فرماں بردار، مشفق اور مہربان تھے۔ انہوں نے کبھی بھی کسی پر ظلم نہیں کیا تھا والدین کے انتہائی فرماں بردار انسان تھے۔ نہ خود کبھی برائی کی تھی اور نہ کسی کو برائی کا راستہ دکھاتے تھے۔ کیونکہ ان کو اللہ نے کتاب ہدایت دی تھی جو کہ پوری طرح نیکی اور ہدایت کی کتاب تھی اللہ نے آپ کو عطا کی اور حکم دیا کہ اسے مضبوطی سے پکڑلو۔ یعنی اس میں دیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
سورة مریم :
(رکوع نمبر 1)
اسرارومعارف
سورة مریم بھی مکی سورتوں میں سے ہے اور سورة کہف کی طرح اس میں بھی بہت سے واقعات عجیبہ کا تذکرہ ہے ، پہلی گزرنے والی سورة یعنی سورة کہف کی طرح اس میں بھی بہت سے واقعات کا ذکر تھا جو علمائے یہود نے مشرکین مکہ کو پوچھنے کے لیے کہا تھا اور یہ بھی کہا تھا کہ ان واقعات کو صحیح طور پر صرف اللہ جل جلالہ کا نبی ہی بیان کرسکتا ہے اللہ کریم نے وہ واقعات ارشاد فرما کر اپنے رسول فداہ ابی وامی کو مزید واقعات غریبہ سے مطلع فرمایا جن کے بارے کفار ومشرکین سوال بھی نہ کر پائے تھے کہ وہ اتنا بھی علم نہ رکھتے تھے ۔
(حروف مقطعات)
کھیعص : حروف مقطعات کی بات پہلے گزر چکی کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
ف 1 یعنی پیدائش سے وافت تک اللہ تعالیٰ کی امان میں رہیں گے اور دوسرے بنی آدم کی طرح ان پر شیطان کا تسلط نہیں ہو سکے گا اور آئندہ بھی قیامت تک اللہ تعالیٰ انہیں اپنی حفاظت میں رکھے گا۔ اس سے ان کی عزت افزائی کی طرف اشارہ ہے۔ بعض نے لکھا ہے کہ یوم یموت کے معنی یہ ہیں کہ عذاب قبر سے مامون رہیں گے۔ یہ تین اقوات انسان پر انتہائی وحشت کے ہوں گے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان اقوات میں یحی (علیہ السلام) کے اکرام کو ظاہر کردیا۔ (کبیر) شاہ صاحب لکھتے ہیں اللہ کے کسی بندے پر سلام کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ اس پر کوئی گرفت نہ ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
(19:14) برا۔ البر۔ یہ بحر کی ضد ہے اور اس کے معنی خشکی کے ہیں۔ پھر معنی کی وسعت کے اعتبار سے اس سے البرکا لفظ مشتق کیا گیا۔ جس کے معنی وسیع پیمانے پر نیکی کرنے کے ہیں۔ اس کی نسبت کبھی اللہ تعالیٰ کی طرف ہوتی ہے۔ جیسے انہ ھو البر الرحیم۔ (52:28) بیشک وہ احسان کرنے والا مہربان ہے۔ اور کبھی بندہ کی طرف جیسے بر العبد ربہبندے نے اپنے رب کی خوب اطاعت کی۔
البر۔ (نیکی) دو قسم پر ہے۔ اعتقادی اور عملی۔ اور آیت کریمہ لیس البر ان تولوا وجوہکم قبل المشرق والمغرب ولکن البر من امن بااللہ والیوم الاخر۔ والملئکۃ والکتب والنبیین واتی المال علی حبہ۔۔ الخ (2:177) نیکی یہ نہیں کہ تم اپنا منہ مشرق کی طرف یا مغرب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–15
لغات القرآن آیت نمبر 11 تا 15
المحراب عبادت کرنے کی جگہ ۔ اوحی اس نے اشارہ کیا۔ سبحوا تسبیح کرو۔ عبادت کرو۔ بکرۃ صبح۔ عشی شام۔ خذ لے لو۔ پکڑو۔ الحکم حکمت و دانئای۔ صبی بچپن۔ حنان شفقت و محبت۔ برا نیکی کرنا۔ جبار سرکشی کرنے والا۔ عصی نافرمان۔ ولد پیدا کیا گیا۔ یبعث دوبارہ اٹھائے گا۔
تشریح : آیت نمبر 11 تا 15
جب حضرت زکریا (علیہ السلام) کی عمر مبارک ایک سو بیس سال کے قریب ہوئی اس وقت آپ نے عاجزی و انکساری سے اللہ کی بارگاہ میں یہ دعا فرمائی کہ اے اللہ مجھے ایک بیٹا عطا فرما دیجیے تاکہ وہ توریت کی تعلیمات کو عام کرسکے اور میرے اسلامی مقصد اور مشن کے لئے میرا صحیح جانشین اور وارث بن سکے۔ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
یحییٰ (علیہ السلام) لڑکپن ہی میں عبادت اور تلقین کیا کرتے تھے، اور کھیل کود میں مصروف نہیں ہوئے۔ اور ان کو حکم ہوا کہ اے یحییٰ کتاب کو مضبوط ہو کرلو یعنی توراۃ پر استقلال کے ساتھ عمل کرو۔ اور وہ لڑکپن ہی میں ہمارے فضل سے علم لاہوتی حاصل کرچکے تھے۔ ہم نے یحییٰ (علیہ السلام) کو رحم دل اور پاکیزہ بنایا تھا۔ وہ پرہیزگار تھا اور ماں باپ سے سلوک کرتا تھا، اور ان کی خدمت میں مستعد تھا، اور سرکش اور نافرمان نہ تھا۔ اور جس دن وہ پیدا ہوا سلامتی کے ساتھ پیدا ہوا۔ اور یہی کیفیت اس کی موت کے دن کی ہے، اور یہی نقشہ اس کا اس روز ہوگا جس روز کہ قبر سے اٹھایا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–16
[6] کتاب سے مراد تورات ہے۔ خود یحییٰ (علیہ السلام) صاحب شریعت نہ تھے ان کا عمل موسوی شریعت پر تھا۔
[7] یعنی دین کی سمجھ اور حق و باطل میں امتیاز کی قوت و صلاحیت۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–17
نیک اولاد :
(ف 2) حضرت یحیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے بوڑھے باپ کی آغوش روحانیت میں تربیت پائی سن رشد کو پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا اب کتاب و رسالت کو قوت کے ساتھ تھام اور صبر و استقلال کے ساتھ تبلیغ میں مصروف ہوجاؤ اس کے بعد ان کے اوصاف بیان کئے ہیں کہ وہ لڑکپن ہی سے سمجھدار تھے ، نرم دل اور پاکیزہ اعمال تھے پرہیزگار تھے والدین کے اطاعت گزار تھے ، اور طبیعت میں سرکشی وبغاوت کا عنصر قطعا موجود نہ تھا ۔
درحقیقت ان اوصاف کا پیغمبر کی ذات میں نبوت سے قبل جمع ہونا ضروری ہے تاکہ آگے چل کر وہ دنیا کے لئے خیروبرکت کا باعث ہو سکے ۔
حل لغات :
العراب : زاویہ عبادت یاحجرہ ۔
الحکم : سمجھ ، سلیقہ ،…
Read the full tafseer →- 14 اور اپنے ماں باپ کا بڑا خدمت گزار تھا اور وہ سرکشی کرنے والا اور نافرمانی کرنے والا نہ تھا۔ یعنی دین کا فہم اور رحم دلی اخلاق کی پاکیزگی ، پرہیز گاری والدین کا اطاعت گزارا اور خدمت گزار اور سرکش نہیں، نافرمان نہیں گویا تمام خوبیوں سے اس کو نوازا تھا خواہ وہ حقوق العباد ہوں یا حقوق اللہ ہوں سب باتیں ان اوصاف میں داخل ہوگئیں۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی علم کتاب لوگوں کو سکھانے لگے اپنے باپ کی جگہ زور سے یعنی باپ ضعیف تھے اور وہ جوان 12 ایک لڑکے نے ان کو بلایا کھیلنے کو کہا ہم کو اس واسطے نہیں بنایا 12 یعنی آرزو کے لڑکے ایسے ہوتے ہیں وہ ایسا نہ تھا۔ 12
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
ف 4۔ اس میں حقوق اللہ و حقوق العباد دونوں کی طرف اشارہ ہوگیا۔
Read the full tafseer →سیدنا یحییٰ (علیہ السلام) والدین کے فرمانبردار تھے سخت گیر نہ تھے ۔
14۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی نبی اپنے ماں باپ کا نافرمان اور ان پر سختی کرنے والا بھی ہو سکتا تھا لیکن یحییٰ (علیہ السلام) ایسے نہیں تھے بلکہ مطلب یہ ہے کہ انکے والدین بھی ایسے تھے کہ ان کی کسی معاملہ میں بھی نافرمانی ممکن نہ تھی یعنی دین و دنیا میں وہ والدین کے ساتھ تھے اور کسی معاملہ میں بھی وہ والدین سے الگ تھلگ نہیں ہوئے ممکن ہے کہ اس میں اس طرف بھی اشارہ ہو کہ جو اولاد اکلوتی ہو اور ایک مدت کے بعد میسرآئے وہ لاڈ پیار میں عموما خراب ہوجاتی ہے ایسے لوگوں کے لئے ایک نمونہ پیش کرنے کے لئے اس صفت کو خاص کر اجاگر کیا گیا ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
حَنَانًا Literal meaning of this word is soft heartedness, compassion and mercy, and these qualities were specially granted to Sayyidna Yahya (علیہ السلام) .
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
11. The Arabic word hanan is almost synonymous with mother’s love. In other words, Prophet John bore in his heart the same kind of intense love for Allah’s servants as a mother has for her child.
Read the full tafseer →