Explained with ayahs 12–15
پیدائش یحییٰ علیہ السلام۔
بمطابق بشارت الہٰی حضرت زکریا ؑ کے ہاں حضرت یحییٰ ؑ پیدا ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں تورات سکھا دی جو ان میں پڑھی جاتی تھی اور جس کا احکام نیک لوگ اور انبیاء دوسروں کو بتلاتے تھے اس وقت ان کی عمر بچپن کی ہی تھی اسی لئے اپنی اس انوکھی نعمت کا بھی ذکر کیا کہ بچہ بھی دیا اور اسے آسمانی کتاب کا عالم بھی بچپن سے ہی کردیا اور حکم دے دیا کہ حرص اجتہاد کوشش اور قوت کے ساتھ کتاب اللہ سیکھ لے۔ ساتھ ہی ہم نے اسے اسی کم عمری میں فہم وعلم، قوت وعزم، دانائی اور حلم عطا فرمایا نیکیوں کی طرف بچپن سے ہی جھک گئے اور کوشش وخلوص کے ساتھ اللہ کی عبادت اور مخلوق کی خدمت میں لگ گئے۔ بچے آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
سورة مَرْیَم 11
اصل میں لفظ حنان استعمال ہوا ہے جو قریب قریب مامتا کا ہم معنی ہے۔ یعنی ایک ماں کو جو غایت درجے کی شفقت اپنی اولاد پر ہوتی ہے، جس کی بنا پر وہ بچے کی تکلیف پر تڑپ اٹھتی ہے۔ وہ شفقت حضرت یحییٰ کے دل میں بندگان خدا کے لیئے پیدا کی گئی تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
حَنَانًالفظ کے لغوی معنے رقت قلب اور رحمت و شفقت کے ہیں جو حضرت یحییٰ ؑ کو امتیازی طور پر دی گئی تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
تفسیر آیت 13 تا 14: وَحَنَانًا مِنْ لَدُنَّا وَزَكَاةً وَكَانَ تَقِيًّا (13) وَبَرًّا بِوَالِدَيْهِ وَلَمْ يَكُنْ جَبَّارًا عَصِيًّا۔
حنان کے معنی محبت، ذوق و شوق، اور سوز و گداز کے ہیں۔ یہ لفظ نہایت معروف و متداول الفاط میں سے ہے اس وجہ تعجب ہوتا ہے کہ حضرت ابن عباس کی طرف بعض لوگوں نے یہ بات، کس طرح منسوب کردی کہ انہوں نے فرمایا کہ مجھے اس کے معنی معلوم نہیں۔
قلب و روح کی اصلی زندگی۔ یہ سوز و گداز اور یہ محبت ہی انسان کے قلب و روح کی زندگی کی اصلی علامت ہے۔ یہ نہ ہو تو انسان انسان نہیں بلکہ پتھر کی ایک مورت ہے۔ اس سوز و گداز میں سے حضرت یحییٰ کو، جیسا کہ من لدنا کے الفاظ سے واضح ہے، نہایت…
Read the full tafseer →13۔ 1 حَنَانًا، شفقت، مہربانی، یعنی ہم نے اس کو والدین اوراقربا پر شفقت و مہربانی کرنے کا جذبہ اور اسے نفس کی آلائشوں اور گناہوں سے پاکیزگی و طہارت بھی عطا کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–16
8: کتاب سے مراد تورات ہے، اور مضبوطی کے ساتھ تھامنے کا مطلب یہ ہے کہ اس پر خود بھی پورا پورا عمل کرو۔ اور دوسروں کو بھی اس کی تلقین کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
” ہم نے اسے بچپن ہی میں حکم سے نوازا اور اپنی طرف سے اسے نرم دلی اور پاکیزگی عطا کی اور وہ بڑا پرہیز گار تھا۔ “ یہ تھی وہ قابلیت جس سے اللہ نے ان کو نوازا تھا اور اس طرح منصب خلافت زکریا کی ذمہ داریاں نبھانے میں ان کی مدد کی گئی۔
اسے بچپن ہی میں حکم اور حکمت عطا کردی گئی تھی ، لہٰذا وہ اہلیت میں بھی یکتا کردیئے گئے جس طرح وہ اپنے نام اور اپنی ولادت میں ممتاز تھے۔ حکمت جو کسی بھی شخص میں بڑے تجربے کے بعد آتی ہے حضرت یحییٰ کو زمانہ طفولیت ہی میں عطا کردی گئی تھی۔
نیز آپ کو پیدائشی طور پر نرم دلی عطا کردی گئی تھی ، اس لئے ان کو اس کے اظہار کے لئے کوئی تکلیف نہ کرنا پڑی اور نہ اس کی ٹریننگ کر…
Read the full tafseer →5 یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو شوق و ذوق، رحمت و شفقت، رقت و نرم دلی، محبت اور مجبوبیت عنایت فرمائی تھی، اور صاف ستھرا، پاکیزہ رُو، پاکیزہ خو، مبارک و سعید متقی و پرہیزگار بنایا، حدیث میں ہے کہ یحییٰ نے نہ کبھی گناہ کیا نہ گناہ کا ارادہ کیا۔ خدا کے خوف سے روتے روتے رخساروں پر آنسوؤں کی نالیاں سی بن گئی تھیں۔ علیہ وعلٰی نبینا الصلوٰۃ والسلام۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
آیت 12 یٰیَحْیٰی خُذِ الْکِتٰبَ بِقُوَّۃٍ
کتاب سے مراد یہاں زبور ‘ تورات اور دیگر صحائف ہیں جو اس وقت بنی اسرائیل کے درمیان موجود تھے۔
وَاٰتَیْنٰہُ الْحُکْمَ صَبِیًّا
اب حضرت یحییٰ علیہ السلام کے خصوصی اوصاف بیان کیے جا رہے ہیں۔ یوں سمجھئے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت یحییٰ علیہ السلام John The Baptist and Jesus of Nazarat دونوں ایسی غیر معمولی شخصیات ہیں کہ ان جیسے اوصاف دوسرے انبیاء و رسل علیہ السلام میں بھی نہیں پائے گئے۔ چناچہ حضرت یحییٰ علیہ السلام کو بچپن ہی میں حکمت عطا کردی گئی۔
Read the full tafseer →14 حنانا سے مراد مہربانی، شفقت اور محبت کی وہ قسم ہے جو ماں کو اپنے بچہ سے ہوتی ہے۔ یعنی سیدنا یحییٰں لوگوں کے حق میں اس قدر ہمدرد، غمگسار اور نرم دل تھے جیسے ماں اپنی اولاد کے حق میں ہوتی ہے۔ پاکیزہ اخلاق کے مالک اور ہر وقت اللہ سے ڈرتے رہتے تھے۔ حدیث میں ہے کہ سیدنا یحییٰں نے نہ کبھی کوئی گناہ کا کام کیا اور نہ گناہ کا ارادہ کیا اور اللہ کے ڈر سے روتے رہنے کی وجہ سے ان کے رخساروں پر نشان پڑگئے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
17۔ ملاحظہ ہوں حواشی سورة آل عمران۔ زیر آیت 38۔ حکم کے معنی نبوت بھی ہوسکتے ہیں اور حکمت، شریعت، عقل وفہم بھی۔ الحکم النبوۃ او حکم الکتاب اوالحکمۃ اواللت وھو العقل (بحر) اعلم ان فی الحکم اقوالا الاول انہ الحکمۃ والثانی انہ عقل والثالث انہ النبوۃ (کبیر) الحکم الفھم والعلم (ابن عباس ؓ الحکمۃ وھو فھم التورۃ والفقہ فی الدین (مدارک) بہرحال حکم کے تحت میں علمی وذہنی کمالات آگئے اور (آیت) ” حنانا وزکوۃ “ کے تحت میں عملی واخلاقی۔ گویا آپ کی ذات جامع تھی علمی وعملی، ذہنی واخلاقی کمالات واوصاف کی۔ (آیت) ” زکوٰۃ “۔ سے مراد اصطلاح فقہ والی زکوٰۃ مال نہیں بلکہ عام حسن عمل و پاکیزگی ہے۔ اے عملا صالحا زکیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–15
آیت نمبر 7 تا 15
ترجمہ : اے زکریا ہم تجھے ایک فرزند کی خوشخبری دیتے ہیں جو تیری درخواست کے مطابق وارث ہوگا اس کا نام یحییٰ ہوگا اس کا ہمنام پہلے ہم نے کسی کو نہیں کیا یعنی یحییٰ کا ہم نام تو زکریا (علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے پروردگار میرے لڑکا کس طرح ہوگا حالانکہ میری بیوی بانجھ ہے اور میں بڑھاپے کی انتہائی درجہ کو پہنچ گیا ہوں عِیِّیًّا عَتَا سے ماخوذ ہے بمعنی یَبِسَ یعنی عمر کے آخری مرحلہ میں پہنچ چکا ہوں جو ایک بیس سال ہے اور میری بیوی 98 سال کی ہوچکی ہے عِتِیٌ اصل عُتُوْوٌ بروزن قُعُوْدٌ تخفیف کے لئے تا کو کسرہ دے دیا اور اول واو کو کسرہ کی مناسبت سے ی سے بدل دیا اور پھر دوسرے واو کو…
Read the full tafseer →وحنانا من لدنا وزکوۃ اور (ہم نے دی یحییٰ کو) اپنے پاس سے رحمت اور گناہوں سے طہارت۔ رحمت دینے
کا مطلب دو طرح سے ہوسکتا ہے۔
(1) یحییٰ ( علیہ السلام) پر اللہ نے رحم کیا ان پر اپنی رحمت نازل کی۔
(2) ان کے دل میں ماں باپ پر رحم کرنے کا جذبہ پیدا کردیا ‘ بعض علماء نے حنان کا ترجمہ ہیبت و وقار یا رزق یا برکت کیا ہے ‘ صاحب قاموس نے لکھا ہے حنان بروزن سحاب ‘ رحمت ‘ رزق ‘ ہیبت ‘ وقار اور دل کی نرمی۔ حنان بمعنی رحیم صفت کا صیغہ حنان سے ہی بنایا گیا ہے اور اللہ کا وصفی نام ہے۔
زکوٰۃ یعنی گناہوں سے پاکدامن رہنا ‘ بعض کے نزدیک طاعت و اخلاص۔ قتادہ و ضحاک کے نزدیک عمل صالح مراد ہے ‘ کلبی نے کہا زکوٰۃ سے مراد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
(12۔ 13۔ 14) پھر یحییٰ ؑ نے جس وقت بالغ ہوئے اور سن شعور کو پہنچ گئے تو الہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا کہ اے یحییٰ کتاب توریت میں جو احکامات ہیں ان کی پوری کوشش اور پابندی کے ساتھ پیروی کرو اور ہم نے یحییٰ ؑ کو لڑکپن ہی میں عقل وعلم عطا کیا تھا اور خاص اپنی طرف سے ان کے والدین کے لیے رحمت اور صلہ رحمی یا یہ کہ ان کو دین میں صلاحیت عطا کی تھی۔
اور وہ اپنے رب کے بڑے تابعدار اور اپنے والدین کے بڑے خدمت گزار تھے اور وہ دین میں نافرمانی کرنیوالے اور غصہ میں قتل کرنے والے اور اپنے پروردگار کی نافرمانی کرنے والے نہیں تھے۔
Read the full tafseer →وَّحَنَانًا مِّنْ لَّدُنَّا۔۔ : ”ّحَنَانًا“ کا عطف ”اَلْحُکْمَ“ پر ہے، یعنی ہم نے اسے حکم (قوت فیصلہ) اور بڑی شفقت اور پاکیزگی عطا کی۔ ”حَنَانًا“ اور ”زَکٰوةً“ پر تنوین تفخیم کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ ”بڑی شفقت اور پاکیزگی“ کیا ہے۔ پاکیزگی سے مراد اخلاق و کردار کی پاکیزگی ہے جو گناہوں سے بچنے سے حاصل ہوتی ہے۔ ”تَقِيًّا“ ”وَقٰی یَقِيْ“ سے ”فَعِیْلٌ“ کے وزن پر ہے، پہلی واؤ کو تاء سے بدل دیا گیا ہے، یعنی اللہ کی نافرمانی سے بہت بچنے والا تھا۔“ ’ من لدنا“ اپنے پاس سے، یعنی یہ حکم حنان اور زکوٰۃ کسی اور کے پاس ہیں ہی نہیں، صرف ہمارے پاس ہیں اور ہم ہی نے اپنے پاس سے انھیں عطا کیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وحنانا من لدنا، حنانا، کا عطف الحکم پر ہے، حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا : اللہ کی قسم ! میں نہیں جانتا کہ الحنان کیا ہے (4) ۔ جمہور مفسرین نے کہا : الحنان کا مطلب شفقت، الرحمۃ اور المحبۃ ہے اور یہ نفس کے افعال میں سے ایک فعل ہے۔ نحاس نے کہا : الحنان کے معنی میں حضرت ابن عباس ؓ سے دو قول مروی ہیں (1) فرمایا : اللہ تعالیٰ کا رحمت کے ساتھ ان پر مہربانی فرمانا (2) اور دوسراقول یہ ہے کہ جو اس نے لوگوں پر رحمت فرمائی حی کہ انہیں کفر و شرک سے نکالا (1) اس کی اصل حنین الناقۃ علی ولدھا یعنی اونٹنی کا اپنے بچے پر انتہائی مہربان ہونا، کہا جاتا ہے : حنانک و حننیک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
1:۔ ابن ابی شیبہ، عبدبن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” یحییٰ خذ الکتب بقوۃ “ یعنی سنجیدگی سے کتاب کو لیجئے (آیت) ” واتینہ الحکم صبیا “ یعنی ان کو ہم نے بچپن ہی میں فہم عطا فرمایا۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” خذالکتب بقوۃ “ کے بارے میں روایت کیا کہ عمل کرو جو اس میں فرائض میں سے ہیں۔
3:۔ ابن منذر نے مالک بن دینار (رح) سے روایت کیا کہ ہم نے عکرمہ ؓ سے (آیت) ” واتینہ الحکم صبیا “ کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا اس سے مراد ہے عقلمندی۔
4:۔ ابونعیم، ابن مردویہ اور دیلمی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے (آیت) ”…
Read the full tafseer →[وَّحَنَانا : اور شفقت (دی)] [مِّنْ لَّدُنَا : اپنے پاس سے ] [وَزَكٰوةً : اور پاکیزگی (دی)] [وَكَان : اور وہ (علیہ السلام) تھے ] [تَقِيًّا : پرہیزگار ]
ح ن ن
[صَنَانًا : (ص) ] کسی پر مہربان و شفیق ہونا۔
صَنَانٌ اسم ذات بھی ہے۔ شفقت۔ مہربانی۔ زیر مطالعہ آیت۔ 13 ۔
صَنَیْنٌ فعیل کے وزن پر اسم علم ہے۔ مکہ اور طائف کے درمیان ایک جگہ کا نام جہاں جنگ حنین ہوئی تھی۔ آیت نمبر 9:25 ۔
Read the full tafseer →(وَحَنَانًا مِّنْ لَّدُنَّا) (اور یحییٰ کو ہم نے اپنے پاس سے رقت قلبی عطا فرما دی) یہ رقت قلبی مخلوق کے ساتھ شفقت سے پیش آنے اور انھیں صراط مستقیم پر لانے اور اعمال صالحہ پر ڈالنے میں مفید ہوتی ہے اس بارے میں جو مخلوق سے تکلیف پہنچے اس پر صبر کرنا آسان ہوجاتا ہے۔
وَزَکوٰۃً (اور اس بچہ کو ہم نے پاکیزگی عطا کی) یہ لفظ زکوٰۃ کا ترجمہ ہے لفظ زکوٰۃ کا اصل معنی پاکیزہ ہونے کا ہے حضرت ابن عباس ؓ نے اس موقع پر اس کی تفسیر میں فرمایا الطاعۃ والاخلاص کہ اللہ تعالیٰ نے اس بچہ کو اپنی فرمانبرداری اور اخلاص فی الاعمال کی نعمت فرمائی اور حضرت قتادہ (رح) سے مروی ہے کہ اس سے عمل صالح مراد ہے اور مفسر کلبی نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
قصہء اول حضرت زکریا و حضرت یحییٰ (علیہما السلام)
قال اللہ تعالیٰٰ ۔ کٓھٰیٰعٓصٓ، ذکر رحمت ربک عبدہ زکریا۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ ویوم یبعث حیا۔
(ربط) حضرت زکریا (علیہ السلام) انبیاء بنی اسرائیل میں سے ہیں۔ صحیح بخاری میں ہے کہ وہ نجار (یعنی بڑھئی) کا پیشہ کرتے تھے اور اپنے ہاتھ کی محنت سے کما کر کھاتے تھے۔ ان کے کوئی فرزند نہ تھا اور اعزاء اوراقرباء کی طرف سے یہ کھٹکا تھا کہ میرے بعد دین حق میں تغیر و تبدل کر ڈالیں گے۔ جیسا کہ بنی اسرائیل میں ہوتا رہا۔ اس لیے انہوں نے پچھلی رات میں نہایت عجز وزاری کے ساتھ ایک فرزند کی دعا مانگی کہ جو میرے بعد تیرے دین کی حفاظت کرسکے اور دعا کا آغاز اپنے ضعف اور ناتوانی سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
10:۔ اس سے پہلے اندماج ہے کیونکہ یہ حکم تو ان کے پیدا ہونے کے بعد ہی دیا جاسکتا تھا۔ ای فلما ولد و بلغ سنا یومر مثلہ فیہ قلنا ییحی (روح) الکتاب میں الف لام عہد کے لیے ہے اور اس سے مراد تورات ہے۔ کتاب کو قوت سے پکڑنے سے اس پر پورا پورا عمل کرنے کی طرف اشارہ ہے۔ ” و اتینہ الحکم صبیا “۔ الحکم سے حکمت یعنی دین کی سمجھ یا عقل یا نبوت مراد ہے انہ الحکمۃ وھو الفہم فی التوراۃ والفقہ فی الدین والثانی قول معمر انہ العقل والثالث انہ النبوۃ و ذلک لان اللہ تعالیٰ بعث یحییٰ و عیسیٰ علیھما السلام و ھما صبیان لا کما بعث موسیٰ و محمدا علیھما السلام۔ وقد بلغا الاشد (کبیر باختصار ج 5 ص 774) ۔ ” حنانا “ یہ ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت زکریا (علیہ السلام) کی دعا کر ذکر فرمایا کہ انہوں نے بڑھاپے میں ایک ایسے بیٹے کی درخواست کی جو انکی علمی جانشینی کا حق ادا کرسکے ، اللہ تعالیٰ نے اس دعا کو قبول فرمایا اور زکریا (علیہ السلام) کی خوشی اور سرور کے لیے استقرار حمل کی نشانی بھی بتلائی کہ آپ تین دن رات تک سوائے اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا اور تسبیح وتحمید کے کوئی کلام نہیں کرسکیں گے ، یہ نشانی بھی ظاہر ہوئی اور پھر اللہ نے بانجھ بیوی سے زکریا (علیہ السلام) کو ایک عظیم الشان فرزند عطا فرمایا ، یہ بھی اللہ کا نبی تھا اور اس کا نام بھی اللہ تعالیٰ نے خود ہی بتلا دیا تھا اور یہ بھی کہ اس سے…
Read the full tafseer →وَّحَنَانًا مِّنْ لَّدُنَّا وَزَكٰوۃً 0ۭ وَكَانَ تَقِيًّا 13ۙ
حنَ
الحنین : النّزاع المتضمّن للإشفاق يقال :
حَنَّتِ المرأة، والنّاقة لولدها، وقد يكون مع ذلک صوت، ولذلک يعبّر بالحنین عن الصّوت الدّالّ علی النزاع والشّفقة، أو متصوّر بصورته . وعلی ذلک حنین الجذع، وریح حَنُون، وقوس حَنَّانَة : إذا رنّت عند الإنباض «8» . وقیل : ما له حانَّة ولا آنّة، أي : لا ناقة ولا شاة سمینة، ووصفتا بذلک اعتبارا بصوتيهما، ولمّا کان الحنین متضمّنا للإشفاق، والإشفاق لا ينفكّ من الرّحمة عبّر عن الرّحمة به في نحو قوله تعالی: وَحَناناً مِنْ لَدُنَّا[ مریم/ 13] ، ومنه قيل : الحَنَّان المنّان «9» ، وحَنَانَيْكَ :…
Read the full tafseer →ترکیب : وحنانا معطوف علی الحکم مشتق من الحنان محففا الرحمۃ والرقۃ ومشددامن صفات اللہ عزوجل۔ وزکوۃ معطوف علی ماقبلہ والزکوۃ التطھیر والتزکیۃ والتمنیۃ ای جلعناہ مطھرۃ وقیل زکنیاہ بحسن الثناء علیہ کتزکیۃ الشہود وقیل صدقۃ تصدقنا بھا علی ابویہ سلام علیہ قال ابن جریر معناہ امان علیہ من اللہ وقال ابن عطیۃ التحیۃ المتعارفۃ۔ مکاناشرقیا ای من جانب الشرق والنصب علی الظرفیۃ او مفعول بہ علیٰ ان معنی انتبذت اتت مکاناومن اجل ذالک اتخذت النصاری المشرق قبلۃ والبغی ہی الزانیۃ التی تبغی الرجال قال المبرد اصلہ بغوی علی فعول وقال ابن جنی فعیل ولماکان الغبارغالباً فی النساء دون الرجال اجری مجری حائض وحائل لنجعلہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
یٰـیَحْیٰی خُذِالْکِتٰبَ بِقُـوَّۃٍ ط وَاٰ تَیْنٰـہُ الْحُکْمَ صَبِیًّا۔ وَّحَنَانًا مِّنْ لَّدُنَّا وَزَکٰوۃً ط وَکَانَ تَقِیًّا۔ وَّبَرًّا م بِوَالِدَیْہِ وَلَمْ یَکُنْ جَبَّارًا عَصِیًّا۔ (مریم : 12، 13، 14)
(اے یحییٰ ! کتاب کو مضبوطی سے پکڑو، ہم نے اس کو بچپن ہی میں قوت فیصلہ عطا فرمائی تھی۔ اور سوز و گداز اور پاکیزگی بخشی تھی اپنی جناب سے اور وہ نہایت پرہیزگار تھا۔ اور وہ والدین کا فرمانبردار تھا اور وہ سرکش اور نافرمان نہ تھا۔ )
کتاب تھامنے کا حکم
حضرت یحییٰ (علیہ السلام) جب سنِ رُشد کو پہنچے تو آپ ( علیہ السلام) کو حکم دیا گیا کہ آپ ( علیہ السلام) مضبوطی سے کتاب کو تھا میں۔ کتاب سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کا تذکرہ جاری ہے۔
حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کو کتاب، حکمت ودانشمندی اور قوت فیصلہ عطا کرنے کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ان اوصاف سے بھی متصف فرمایا تھا۔ ارشاد ہوا کہ ہم نے اسے اپنی طرف سے طبیعت کی نرمی، فکر و عمل کی پاکیزگی اور ہر قسم کے گناہ سے بچنے کی توفیق دی تھی۔ وہ اپنے ماں باپ کے ساتھ نیکی کرنے والے تھے سرکش اور نافرمان نہیں تھے۔ یہی باتیں انبیاء کرام (علیہ السلام) کی سیرت طیبہ اور حیات مبارکہ کا جوہر ہوتی ہیں اور انھیں باتوں کی اپنی امت کو تلقین فرمایا کرتے تھے۔
مسائل
1۔ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) اللہ کے نبی اور انتہائی پاکباز شخصیت تھے۔
2۔ حضرت…
Read the full tafseer →13: وَّ حَنَا نًا (اور شفقت) شفقت اور حمت اپنے والدین اور دوسروں کے حق میں )
نحو : کو اس کا عطف الحکم پر ہے : مِّنْ لَّدُنَّا (اپنی طرف سے) وَزَکٰوۃً ( اور پاکیزگی) یعنی طہارت و بھلائی کہ انہوں نے کوئی گناہ نہ کیا : وَّکَانَ تَقِیًّا ( اور وہ متقی تھے) یعنی فرما نبردار اور اطاعت شعار۔
Read the full tafseer →13۔ وحنانا من لدنا، ، ہماری طرف سے رحمت۔ وزکاۃ ابن عباس ؓ عنہماکاقول ہے کہ زکوۃ سے مراد اخلاص اور فرمانبرداری ہے ۔ حضرت قتادہ ؓ کا قول ہے کہ اس سے عمل صالح مراد ہے ۔ یہی امام ضحاک کا قول ہے ۔ آیت کا معنی ہوگا کہ ہم نے اس کو اپنی طرف سے رحمت عطا فرمائی ، وہ اپنے بندوں پر دل کی نرمی سے پیش آتے ہیں تاکہ وہ لوگوں کو اس کی طاعت کی طرف بلائیں اور ان کے ذریعے لوگوں سے عمل صالح کروائیں۔
کلبی کا بیان ہیے کہ زکوۃ سے مراد محض عطیہ الٰہی جو حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کے والدین کو بصورت یحییٰ عطا ہوا تھا، وکان تقیا، وہ اطاعت شعار، طاعت گزار جس نے نہ کبھی گناہ کیا نہ گناہ کا ارادہ کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
12۔ 14۔ مطلب کو مختصر کرنے کے لیے یہاں اتنی عبادت کو حذف کردیا گیا ہے کہ زکریا ( علیہ السلام) کو یحییٰ (علیہ السلام) کے پیدا ہونے کی خوشخبری جو دی گئی تھی اس کے موافق یحییٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے اور حضرت عبداللہ بن ؓ عباس کے قول کے موافق جب سات برس کی عمر کو پہنچ گئے تو ان کو یہ حکم ہوا کہ اے یحییٰ توریت کے احکام کے موافق تم خود بھی مستعدی سے عمل کرو اور بنی اسرائیل کو بھی ان احکام کا پابند رکھو اگرچہ اس میں اختلاف ہے کہ کتنی عمر میں یحییٰ (علیہ السلام) کو احکام توریت کے موافق عمل کرنے کا حکم ہوا لیکن ترمذی میں سبرہ بن معبد جہینی کی صحیح حدیث ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا جب لڑکا سات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
آیت 12
گزشتہ کلام، حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کی ولادت، ان کے شباب اور ان کی تربیت پر دلالت کرتا ہے۔ جب حضرت یحییٰ (علیہ السلام) اس عمر کو پہنچ گئے جس عمر میں خطاب سمجھ میں آجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ قوت یعنی کوشش اور اجتہاد کے ساتھ کتاب اللہ کو پکڑے رکھیں یعنی اس کے الفاظ کی حفاظت، اس کے معانی کے فہم اور اس کے اوامرونواہی پر عمل میں پوری کوشش اور اجتہاد سے کام لیں۔۔۔. یہ ہے کتاب اللہ کو کامل طور پر پکڑنا۔ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی، انہوں نے کتاب اللہ کی طرف توجہ کی، اسے حفظ کیا اور اس کا فہم حاصل کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسی ذہانت و فطانت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–22
محراب کیا ہے ؟
قول باری ہے (فخرج علی قومہ من المحراب۔ چناچہ وہ محراب سے نکل کر اپنی قوم کے سامنے آئے) ابوعبیدہ کا قول ہے کہ محراب صدر مجلس یعنی بیٹھنے کی جگہ کے درمیان والے حصے کو کہتے ہیں۔ اسی سے مسجد کا محراب نکلا ہے۔ ایک قول کے مطابق محراب غرفہ یعنی بالا خانہ کو کہتے ہیں۔ اسی سے قول باری ہے (اذ تسوروا المحراب ۔ جب وہ دیوار پھاند کر حجرہ میں آ گئے ) ایک اور قول ہے کہ محراب مصلی یعنی نماز پڑھنے کی جگہ کو کہتے ہیں۔
گونگے کے اشارے سے عمل درآمد ہوسکتا ہے
قول باری ہے (فاوحی الیھم اس نے انہیں اشارے سے کہا) ایک قول کے مطابق حضرت زکریاعلیہ السلام نے اپنی قوم کو ہاتھ کے اشارے سے کہا اس طرح ہاتھ کے…
Read the full tafseer →16 حضرت یحیٰی کے لیے رحمدلی کی خاص عنایت و نوازش : سو یہ حضرت یحییٰ کیلئے ایک اور خاص نوازش تھی جس سے آپ جناب کو نواز گیا تھا۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے ان کو اپنی طرف سے اس عنایت سے بطور خاص نوازا تھا "۔ اور یہی شان ہوتی ہے حضرات انبیائے کرام کی کہ ان کو اللہ تعالیٰ اپنی خاص عنایات سے نوازتا اور سرفراز فرماتا ہے جس کی بناء پر وہ بچپن ہی سے باقی سب دنیا سے الگ اور ان کیلئے ایک نمونہ اور قدوہ بن جاتے ہیں۔ { من لدنا } کے الفاظ سے یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ اس صفت سے آنجناب کو بطور خاص اور وافر مقدار میں نوازا گیا تھا اور یہ رحمت وشفقت محبت و الفت اور سوز و گداز ہی انسان کے قلب و روح کی حرارت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
سیدنا یحییٰ (علیہ السلام) کے اوصاف
تشریح : جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا دستور ہے کہ وہ کسی قوم میں سے بہترین انسان کو نبوت کے لیے چن لیتا ہے۔ اور وہ انسان بچپن سے ہی نیک خصلت انسان ہوتا ہے۔ اسی طرح سیدنا یحییٰ (علیہ السلام) انتہائی نیک دل، نرم مزاج، پاکیزہ، نیک نیت، فرماں بردار، مشفق اور مہربان تھے۔ انہوں نے کبھی بھی کسی پر ظلم نہیں کیا تھا والدین کے انتہائی فرماں بردار انسان تھے۔ نہ خود کبھی برائی کی تھی اور نہ کسی کو برائی کا راستہ دکھاتے تھے۔ کیونکہ ان کو اللہ نے کتاب ہدایت دی تھی جو کہ پوری طرح نیکی اور ہدایت کی کتاب تھی اللہ نے آپ کو عطا کی اور حکم دیا کہ اسے مضبوطی سے پکڑلو۔ یعنی اس میں دیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
سورة مریم :
(رکوع نمبر 1)
اسرارومعارف
سورة مریم بھی مکی سورتوں میں سے ہے اور سورة کہف کی طرح اس میں بھی بہت سے واقعات عجیبہ کا تذکرہ ہے ، پہلی گزرنے والی سورة یعنی سورة کہف کی طرح اس میں بھی بہت سے واقعات کا ذکر تھا جو علمائے یہود نے مشرکین مکہ کو پوچھنے کے لیے کہا تھا اور یہ بھی کہا تھا کہ ان واقعات کو صحیح طور پر صرف اللہ جل جلالہ کا نبی ہی بیان کرسکتا ہے اللہ کریم نے وہ واقعات ارشاد فرما کر اپنے رسول فداہ ابی وامی کو مزید واقعات غریبہ سے مطلع فرمایا جن کے بارے کفار ومشرکین سوال بھی نہ کر پائے تھے کہ وہ اتنا بھی علم نہ رکھتے تھے ۔
(حروف مقطعات)
کھیعص : حروف مقطعات کی بات پہلے گزر چکی کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
ف 1 یعنی پیدائش سے وافت تک اللہ تعالیٰ کی امان میں رہیں گے اور دوسرے بنی آدم کی طرح ان پر شیطان کا تسلط نہیں ہو سکے گا اور آئندہ بھی قیامت تک اللہ تعالیٰ انہیں اپنی حفاظت میں رکھے گا۔ اس سے ان کی عزت افزائی کی طرف اشارہ ہے۔ بعض نے لکھا ہے کہ یوم یموت کے معنی یہ ہیں کہ عذاب قبر سے مامون رہیں گے۔ یہ تین اقوات انسان پر انتہائی وحشت کے ہوں گے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان اقوات میں یحی (علیہ السلام) کے اکرام کو ظاہر کردیا۔ (کبیر) شاہ صاحب لکھتے ہیں اللہ کے کسی بندے پر سلام کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ اس پر کوئی گرفت نہ ہوگی۔
Read the full tafseer →(19:13) حنانا۔ حن یحن (ضرب) کا مصدر ہے۔ رحمت ۔ شفقت ۔ مہربانی۔ اس کا عطف الحکم پر ہے اور تنوین تفخیم (تعظیم و تکریم) کے لئے ہے۔ زکوۃ۔ ستھرائی ۔ پاکیزگی۔ اس کا عطف بھی الحکم پر ہے۔ یعنی ہم نے اس کو دانائی نرم دلی۔ اور پاکیزگی بچپن میں ہی عطا فرمادی۔ تقیا۔ پرہیزگار۔ متقی۔ وقایۃ مصدر وقی مادہ۔ وقایۃ کے معنی ہر اس چیز سے حفاظت کرنا۔ جو ایذا دے یا ضرر پہنچائے۔ صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–15
لغات القرآن آیت نمبر 11 تا 15
المحراب عبادت کرنے کی جگہ ۔ اوحی اس نے اشارہ کیا۔ سبحوا تسبیح کرو۔ عبادت کرو۔ بکرۃ صبح۔ عشی شام۔ خذ لے لو۔ پکڑو۔ الحکم حکمت و دانئای۔ صبی بچپن۔ حنان شفقت و محبت۔ برا نیکی کرنا۔ جبار سرکشی کرنے والا۔ عصی نافرمان۔ ولد پیدا کیا گیا۔ یبعث دوبارہ اٹھائے گا۔
تشریح : آیت نمبر 11 تا 15
جب حضرت زکریا (علیہ السلام) کی عمر مبارک ایک سو بیس سال کے قریب ہوئی اس وقت آپ نے عاجزی و انکساری سے اللہ کی بارگاہ میں یہ دعا فرمائی کہ اے اللہ مجھے ایک بیٹا عطا فرما دیجیے تاکہ وہ توریت کی تعلیمات کو عام کرسکے اور میرے اسلامی مقصد اور مشن کے لئے میرا صحیح جانشین اور وارث بن سکے۔ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
یحییٰ (علیہ السلام) لڑکپن ہی میں عبادت اور تلقین کیا کرتے تھے، اور کھیل کود میں مصروف نہیں ہوئے۔ اور ان کو حکم ہوا کہ اے یحییٰ کتاب کو مضبوط ہو کرلو یعنی توراۃ پر استقلال کے ساتھ عمل کرو۔ اور وہ لڑکپن ہی میں ہمارے فضل سے علم لاہوتی حاصل کرچکے تھے۔ ہم نے یحییٰ (علیہ السلام) کو رحم دل اور پاکیزہ بنایا تھا۔ وہ پرہیزگار تھا اور ماں باپ سے سلوک کرتا تھا، اور ان کی خدمت میں مستعد تھا، اور سرکش اور نافرمان نہ تھا۔ اور جس دن وہ پیدا ہوا سلامتی کے ساتھ پیدا ہوا۔ اور یہی کیفیت اس کی موت کے دن کی ہے، اور یہی نقشہ اس کا اس روز ہوگا جس روز کہ قبر سے اٹھایا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–16
[6] کتاب سے مراد تورات ہے۔ خود یحییٰ (علیہ السلام) صاحب شریعت نہ تھے ان کا عمل موسوی شریعت پر تھا۔
[7] یعنی دین کی سمجھ اور حق و باطل میں امتیاز کی قوت و صلاحیت۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–17
نیک اولاد :
(ف 2) حضرت یحیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے بوڑھے باپ کی آغوش روحانیت میں تربیت پائی سن رشد کو پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا اب کتاب و رسالت کو قوت کے ساتھ تھام اور صبر و استقلال کے ساتھ تبلیغ میں مصروف ہوجاؤ اس کے بعد ان کے اوصاف بیان کئے ہیں کہ وہ لڑکپن ہی سے سمجھدار تھے ، نرم دل اور پاکیزہ اعمال تھے پرہیزگار تھے والدین کے اطاعت گزار تھے ، اور طبیعت میں سرکشی وبغاوت کا عنصر قطعا موجود نہ تھا ۔
درحقیقت ان اوصاف کا پیغمبر کی ذات میں نبوت سے قبل جمع ہونا ضروری ہے تاکہ آگے چل کر وہ دنیا کے لئے خیروبرکت کا باعث ہو سکے ۔
حل لغات :
العراب : زاویہ عبادت یاحجرہ ۔
الحکم : سمجھ ، سلیقہ ،…
Read the full tafseer →- 13 اور اپنے پاس سے رحم دلی اور پاکیزگی عطا کی تھی اور وہ بہت پرہیز گار۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
ف 4۔ اس میں حقوق اللہ و حقوق العباد دونوں کی طرف اشارہ ہوگیا۔
Read the full tafseer →یحییٰ (علیہ السلام) کی دوسری امتیازی صفات کا مختصر بیان :
13۔ (حنان) کی اصل ح ن ن ہے جس کے معنی رحمت و شفقت کے ہیں جس میں ذوق وشوق اور سوز و گداز کی آمیزش بھی ہوتی ہے اور یہی ہے جو انسان کے قلب وروح کی زندگی کی اصل علامت ہے یہ نہ ہو تو سچی بات ہے کہ انسان انسان ہونے کا اہل نہیں اگرچہ جسم وڈھانچہ اور شکل و صورت وہ انسان کی سی رکھتا ہو سیدنا یحییٰ (علیہ السلام) کو یقینا اس میں وافر حصہ ملا تھا اور یہی بات (من لدنا) کے الفاظ سے ظاہر ہوتی ہے اور یہ بات آپ کو معلوم ہی ہے کہ قرآن کریم نے اس کی وضاحت فرما دی ہوئی ہے کہ انبیاء کرام اور رسل عظام میں سے بھی بعض بعض پر فضیلت رکھتے تھے کسی کو کسی معاملہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
حَنَانًا Literal meaning of this word is soft heartedness, compassion and mercy, and these qualities were specially granted to Sayyidna Yahya (علیہ السلام) .
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
11. The Arabic word hanan is almost synonymous with mother’s love. In other words, Prophet John bore in his heart the same kind of intense love for Allah’s servants as a mother has for her child.
Read the full tafseer →