Maryam 19:12

Maryam · from ayah 12

19:12

یٰیَحْیٰی خُذِ الْكِتٰبَ بِقُوَّةٍ ؕ— وَاٰتَیْنٰهُ الْحُكْمَ صَبِیًّا ۟ۙيٰيَحۡيٰى خُذِ الۡكِتٰبَ بِقُوَّةٍ‌ ؕ وَاٰتَيۡنٰهُ الۡحُكۡمَ صَبِيًّا

اے یحییٰ (ہماری) کتاب کو زور سے پکڑے رہو۔ اور ہم نے ان کو لڑکپن میں دانائی عطا فرمائی تھی

— Fateh Muhammad Jalandhari

[Allah] said, "O John, take the Scripture with determination." And We gave him judgement [while yet] a boy

— Saheeh International

Juz 16 · Ruku 1 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Maryam

All translations of 19:12

"اے یحییٰؑ! کتاب الٰہی کو مضبوط تھام لے" ہم نے اُسے بچپن ہی میں "حکم" سے نوازا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اے یحییٰ (ہماری) کتاب کو زور سے پکڑے رہو۔ اور ہم نے ان کو لڑکپن میں دانائی عطا فرمائی تھی

— مولانا فتح محمد جالندہری

اے یحيٰ! میری کتاب کو مضبوطی سے تھام لے اور ہم نے اسے لڑکپن ہی سے دانائی عطا فرما دی

— مولانا محمد جوناگڑہی

(پھر جب یحی پیدا ہو کر بڑے ہوگئے تو ہم نے ان سے فرمایا) اے یحی ! کتاب کو مضبوطی سے تھام لو۔ اور ہم نے بچپن ہی میں ان کو دانائی بھی عطا کردی تھی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اے یحییٰ کتاب مضبوط تھام، اور ہم نے اسے بچپن ہی میں نبوت دی

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اے یحیٰی! (ہماری) کتاب (تورات) کو مضبوطی سے تھامے رکھو، اور ہم نے انہیں بچپن ہی سے حکمت و بصیرت (نبوت) عطا فرما دی تھی،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اے یحییٰ ! کتاب کو قوت سے پکڑ اور ہم نے اسے بچپن ہی میں فیصلہ کرنا عطا فرمایا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(اللہ تعالیٰ نے یحییٰ کو بچپن میں ہی حکم دیا ہے کہ) اے یحییٰ ! کتاب (تورات) پر مضبوطی سے عمل پیرا ہوجاؤ اور ہم نے اسے بچپن میں ہی قوت فیصلہ عطا کردی تھی۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اے یحییٰ کتاب کو مضبوطی سے پکڑو اور ہم نے اس کو بچپن ہی میں قوت فیصلہ عطا فرمائی

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر جب یحییٰ پیدا ہو کر سن شعور کو پہنچ گئے تو ان کو حکم ہوا اے یحییٰ مضبوطی سے تھام لو تم ہماری کتاب کو اور ہم نے انھیں بچپن ہی میں نواز دیا تھا حکم سے

— مولانا اسحاق مدنی

اے یحییٰ کتاب کو مظبوط پکڑو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اے یحییٰ کتاب کو مضبوطی سے تھام لو اور ہم نے اس کو عطا کردی حکمت و دانائی بچپن ہی میں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اے یحییٰ (ہماری) کتاب کو زور سے پکڑے رہو اور ہم نے ان کو لڑکپن میں ہی دانائی عطا فرمائی تھی۔

— محترمہ رفعت اعجاز

"O John! Hold the Book with all your strength." We had bestowed wisdom upon him while he was still a child;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

(When the child was born, Allah said to him,) :O YaHya, hold on to the Book firmly. And We gave him wisdom, while he was still a child,

— Muhammad Taqi Usmani

(When the child was born, Allah said to him,) :O YaHya, hold on to the Book firmly. And We gave him wisdom, while he was still a child,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

(It was said to his son): "O Yahya! Hold fast to the Scripture." And We gave him wisdom while yet a child.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

(And it was said unto his son): O John! Hold fast the Scripture. And we gave him wisdom when a child,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[Allah] said, "O John, take the Scripture with determination." And We gave him judgement [while yet] a boy

— Saheeh International

We commanded John, Zachariah's son, to follow the guidance of the Lord with due steadfastness. To John We gave knowledge and wisdom to John during his childhood.

— Muhammad Sarwar

O Yahya! take hold of the Book with strength, and We granted him wisdom while yet a child

— Muhammad Habib Shakir

O Yahya! se hold fast the book. And We vouchsafed unto him wisdom, while yet a child.

— Abdul Majid Daryabadi

(To his son came the command): "O Yahya! take hold of the Book with might": and We gave him Wisdom even as a youth,

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 19:12

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 12–15

پیدائش یحییٰ علیہ السلام۔ بمطابق بشارت الہٰی حضرت زکریا ؑ کے ہاں حضرت یحییٰ ؑ پیدا ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں تورات سکھا دی جو ان میں پڑھی جاتی تھی اور جس کا احکام نیک لوگ اور انبیاء دوسروں کو بتلاتے تھے اس وقت ان کی عمر بچپن کی ہی تھی اسی لئے اپنی اس انوکھی نعمت کا بھی ذکر کیا کہ بچہ بھی دیا اور اسے آسمانی کتاب کا عالم بھی بچپن سے ہی کردیا اور حکم دے دیا کہ حرص اجتہاد کوشش اور قوت کے ساتھ کتاب اللہ سیکھ لے۔ ساتھ ہی ہم نے اسے اسی کم عمری میں فہم وعلم، قوت وعزم، دانائی اور حلم عطا فرمایا نیکیوں کی طرف بچپن سے ہی جھک گئے اور کوشش وخلوص کے ساتھ اللہ کی عبادت اور مخلوق کی خدمت میں لگ گئے۔ بچے آپ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة مَرْیَم 9 بیچ میں یہ تفصیل چھوڑ دی گئی ہے کہ اس فرمان الہی کے مطابق حضرت یحییٰ پیدا ہوئے اور جوانی کی عمر کو پہنچے۔ اب یہ بتایا جا رہا ہے کہ جب وہ سن رشد کو پہنچے تو کیا کام ان سے لیا گیا۔ یہاں صرف ایک فقرے میں اس مشن کو بیان کردیا گیا ہے جو منصب نبوت پر مامور کرتے وقت ان کے سپرد کیا گیا تھا۔ یعنی وہ توراۃ پر مضبوطی کے ساتھ قائم ہوں اور بنی اسرائیل کو اس پر قائم کرنے کی کوشش کریں۔ سورة مَرْیَم 10 " حکم " یعنی قوت فیصلہ، قوت اجتہاد، تفقہ فی الدین معاملات میں صحیح رائے قائم کرنی کی صلاحیت اور اللہ کی طرف سے معاملات میں فیصلہ دینے کا اختیار۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 10–12

سَوِيًّاکے معنے تندرست کے ہیں یہ لفظ اس لئے بڑھایا گیا کہ زکریا ؑ پر اس حالت کا طاری ہونا کہ کسی انسان سے بات نہ کرسکیں کسی بیماری کی وجہ سے نہیں تھا اور اسی وجہ سے ذکر اللہ اور عبادت میں انکی زبان ان تینوں دنوں میں برابر کھلی ہوئی تھی بلکہ یہ حالت بطور معجزہ اور علامت حمل کے ان پر طاری کی گئی تھی۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

يَا يَحْيَى خُذِ الْكِتَابَ بِقُوَّةٍ وَآتَيْنَاهُ الْحُكْمَ صَبِيًّا۔ " کتا " اور " حکم " سے مراد : " کتاب " سے مراد ظاہر ہے کہ تورات ہے۔ حضرت یحییٰ پر کوئی الگ کتاب نازل نہیں ہوئی۔ لفظ " حکم " پر ہم آل عمران 79 کے تحت مفصل بحث کرچکے ہیں۔ اس سے مراد حق و باطل میں امتیاز کی قوت صلاحیت ہے۔ یہی قوت و صلاحیت تمام علم و حکمت کی بنیاد ہے۔ یہ صلاحیت عام حالات میں تو سنِ رشد کے بعد ابھرتی ہے اور چالیس سال کی عمر میں پختہ ہوتی ہے لیکن حضرت یحییٰ پر اللہ تعالیٰ کا یہ خاص فضل ہوا کہ ان کو یہ دولت گرانمایہ بچپن ہی میں مل گئی۔ کتاب کو مضبوطی سے پکڑنے کا مفہوم : یہاں غور کیجے تو معلوم ہوگا کہ اس آیت سے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

12۔ 1 یعنی اللہ نے حضرت زکریا ؑ کو یٰحیٰی ؑ عطا فرمایا اور جب وہ کچھ بڑا ہوا، گو ابھی بچہ ہی تھا، اس اللہ نے کتاب کو مضبوطی سے پکڑنے یعنی اس پر عمل کرنے کا حکم دیا۔ کتاب سے مراد تورات ہے یا ان پر مخصوص نازل کردہ کوئی کتاب ہے جس کا ہمیں علم نہیں۔ 12۔ 2 حُکْم سے مراد دانائی، عقل، شعور، کتاب میں درج احکام دین کی سمجھ، علم وعمل کی جامعیت یا نبوت سے مراد ہے۔ امام شوکانی فرماتے ہیں کہ اس امر میں کوئی مانع نہیں ہے کہ حکم میں یہ ساری ہی چیزیں داخل ہوں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 12–16

8: کتاب سے مراد تورات ہے، اور مضبوطی کے ساتھ تھامنے کا مطلب یہ ہے کہ اس پر خود بھی پورا پورا عمل کرو۔ اور دوسروں کو بھی اس کی تلقین کرو۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یبحی خذ الکتب بقوۃ (91 : 21) ” اے یحییٰ کتاب الٰہی کو مضبوط سے تھام لے۔ “ حضرت یحییٰ پیدا بھی ہوئے ، بچپنا گزرا ، جوان ہوئے اور یہ سب کچھ ان دو مناظر کے درمیان گیپ میں ہوگیا۔ یہ قرآن کریم کا مخصوص فنی انداز بیان ہے۔ وہ صے کے اہم حلقوں کو پیش کردیتا ہے جن میں بھرپور زندگی اور ہماہمی ہوتی ہے۔ غیر اہم حلقے ذہن انسانی کے لئے چھوڑ دیئے جاتے ہیں۔ حضرت یحییٰ کو کلمہ ندا کے ساتھ پکارا جاتا ہے اور بعد میں ان سے بات ہوتی ہے کیونکہ آواز دے کر کسی کو پکارنے کا منظر نہایت ہی دلکش منظر ہوتا ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عالم بالا میں حضرت یحییٰ کا مقام کیا ہے ، پھر یہ کہ حضرت زکریا کی دعا کی قبولیت کس قدر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی تورات اور دوسرے آسمانی صحیفوں کو جو تم پر یا دوسرے انبیاء پر نازل کیے گئے ہوں، خوب مضبوطی اور کوشش سے تھامے رکھو۔ ان کی تعلیمات پر خود عمل کرو اور دوسروں سے کراؤ۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یعنی علم کتاب لوگوں کو سکھلانے لگا زور سے۔ یعنی باپ ضعیف تھے اور یہ جوان۔ " 4 لڑکپن ہی میں ان کو حق تعالیٰ نے فہم ودانش علم وحکمت فراست صادقہ احکام کتاب اور آداب عبودیت وخدمت کی معرفت عطا فرمادی تھی لڑکوں نے ایک مرتبہ انھیں کھیلنے کو بلایا کہا ہم اس واسطے نہیں بنائے گئے۔ بہت سے علماء کے نزدیک اللہ تعالیٰ نے عام عادت کے خلاف ان کو لڑکپن ہی میں نبوت بھی عطا فرمادی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 12–13

آیت 12 یٰیَحْیٰی خُذِ الْکِتٰبَ بِقُوَّۃٍ کتاب سے مراد یہاں زبور ‘ تورات اور دیگر صحائف ہیں جو اس وقت بنی اسرائیل کے درمیان موجود تھے۔ وَاٰتَیْنٰہُ الْحُکْمَ صَبِیًّا اب حضرت یحییٰ علیہ السلام کے خصوصی اوصاف بیان کیے جا رہے ہیں۔ یوں سمجھئے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت یحییٰ علیہ السلام John The Baptist and Jesus of Nazarat دونوں ایسی غیر معمولی شخصیات ہیں کہ ان جیسے اوصاف دوسرے انبیاء و رسل علیہ السلام میں بھی نہیں پائے گئے۔ چناچہ حضرت یحییٰ علیہ السلام کو بچپن ہی میں حکمت عطا کردی گئی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

13 سیدنا یحییٰ کے اوصاف :۔ یعنی اللہ کی کتاب کو خود بھی سیکھو دوسروں کو بھی سکھاؤ۔ اس کے احکام پر خود بھی پوری طرح عمل کرو دوسروں کو بھی اس کی دعوت دو ۔ یہی وہ مشن تھا جس کے لئے سیدنا زکریا ( علیہ السلام) نے دعا کی تھی۔ چناچہ اللہ نے سیدنا یحییٰ کو سن رشد پر پہنچتے ہی منصب نبوت پر سرفراز فرما کر یہ حکم دے دیا تھا۔ اور ساتھ ہی قوت فیصلہ، قوت اجتہاد، تفقہ فی الدین، معاملات میں صحیح رائے قائم کرنے کی صلاحیت اور معاملات میں فیصلہ کرنے کا اختیار بھی دے دیا گیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

16۔ (آیت) ” الکتب “۔ سے یہاں مراد اس زمانہ کی کتاب شریعت الہی ہے۔ یہ ارشاد حضرت یحییٰ (علیہ السلام) سے اس وقت ہوا جب آپ سن تمیز کو پہنچ چکے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 7–15

آیت نمبر 7 تا 15 ترجمہ : اے زکریا ہم تجھے ایک فرزند کی خوشخبری دیتے ہیں جو تیری درخواست کے مطابق وارث ہوگا اس کا نام یحییٰ ہوگا اس کا ہمنام پہلے ہم نے کسی کو نہیں کیا یعنی یحییٰ کا ہم نام تو زکریا (علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے پروردگار میرے لڑکا کس طرح ہوگا حالانکہ میری بیوی بانجھ ہے اور میں بڑھاپے کی انتہائی درجہ کو پہنچ گیا ہوں عِیِّیًّا عَتَا سے ماخوذ ہے بمعنی یَبِسَ یعنی عمر کے آخری مرحلہ میں پہنچ چکا ہوں جو ایک بیس سال ہے اور میری بیوی 98 سال کی ہوچکی ہے عِتِیٌ اصل عُتُوْوٌ بروزن قُعُوْدٌ تخفیف کے لئے تا کو کسرہ دے دیا اور اول واو کو کسرہ کی مناسبت سے ی سے بدل دیا اور پھر دوسرے واو کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ییحی اے یحییٰ ‘ پورا کلام اس طرح تھا ‘ زکریا کی بیوی حاملہ ہوگئی ‘ پھر یحییٰ پیدا ہوگئے اور جب مخاطب بنانے کے قابل ہوگئے تو ہم نے کہا اے یحییٰ ‘ محلی نے لکھا ہے جب یحییٰ کی عمر دو سال ہوگئی تو ان سے خطاب کیا گیا۔ خذ الکتاب بقوۃ کتاب کو قوت کے ساتھ پکڑ لے۔ کتاب سے مراد ہے توریت۔ قوت سے مراد کوشش اور توفیق الٰہی سے استعانت۔ واتینہ الحکم صبیا۔ اور ہم نے بچپن میں ہی اس کو حکم یعنی حکمت اور کتاب کی سمجھ عطا کردی تھی ‘ تین سال کی عمر میں حضرت یحییٰ نے توریت پڑھ لی اور سمجھ لی تھی آیت کے اسی جملہ کے پیش نظر کہا گیا ہے کہ جس نے قرآن پڑھ لیا وہ اس آیت کے حکم کا مصداق ہوگیا۔ روایت میں آیا ہے کہ بچے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 12–14

(12۔ 13۔ 14) پھر یحییٰ ؑ نے جس وقت بالغ ہوئے اور سن شعور کو پہنچ گئے تو الہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا کہ اے یحییٰ کتاب توریت میں جو احکامات ہیں ان کی پوری کوشش اور پابندی کے ساتھ پیروی کرو اور ہم نے یحییٰ ؑ کو لڑکپن ہی میں عقل وعلم عطا کیا تھا اور خاص اپنی طرف سے ان کے والدین کے لیے رحمت اور صلہ رحمی یا یہ کہ ان کو دین میں صلاحیت عطا کی تھی۔ اور وہ اپنے رب کے بڑے تابعدار اور اپنے والدین کے بڑے خدمت گزار تھے اور وہ دین میں نافرمانی کرنیوالے اور غصہ میں قتل کرنے والے اور اپنے پروردگار کی نافرمانی کرنے والے نہیں تھے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

يٰــيَحْـيٰى خُذِ الْكِتٰبَ بِقُوَّةٍ۔۔ : اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے بہت سی وہ باتیں چھوڑ دیں جو خود ہی سمجھ میں آجاتی ہیں۔ قصہ مختصر یہ کہ یحییٰ ؑ پیدا ہوئے، کچھ سمجھدار ہوئے تو والد کے جانشین کے طور پر تیار کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے انھیں حکم دیا کہ اے یحییٰ ! تورات کو قوت کے ساتھ پکڑو، یعنی اسے حفظ کرو، معانی و مطالب سمجھو، اس پر عمل کرو اور اس کے احکام پوری قوت کے ساتھ اپنے آپ پر اور پوری قوم پر نافذ کرو۔ اس مقصد کے لیے اللہ تعالیٰ نے انھیں بچپن ہی میں فیصلہ کرنے کی قوت عطا فرما دی اور وہ نو عمری ہی میں اپنے والد کے علم و فضل، بنی اسرائیل کی سیادت اور وحی و نبوت کے وارث بن گئے اور پوری…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 11–12

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فخرج علی قومہ من المحراب یعنی اپنی عبادت گاہ سے ان کی طرف جھانکا ہے۔ محراب بلند جگہ اور معزز مجلس ہوتی ہے۔ لوگ عبادت گاہیں زمین سے اونچی بناتے تھے۔ اس کی دلیل حضرت داؤد (علیہ السلام) کی محراب ہے جیسا کہ آگے آئے گا۔ لوگوں کا اس کے اشتقاق میں اختلاف ہے۔ بعض علماء نے کہا : یہ الحرب سے مشتق ہے گویا اس میں ہمیشہ رہنے والا شیطان اور شہوات سے جنگ کرتا ہے۔ ایک جماعت نے کہا : الحرب (راء کے فتحہ کے ساتھ) سے مشتق ہے گویا عبادت خانہ میں رہنے والا تھکن اور مشقت اٹھاتا ہے۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ یہ آیت دلیل ہے کہ امام کا مقتدیوں سے بلند ہوناان کے نزدیک مشروع تھا۔ اس مسئلہ میں فقہاء…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 12–15

1:۔ ابن ابی شیبہ، عبدبن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” یحییٰ خذ الکتب بقوۃ “ یعنی سنجیدگی سے کتاب کو لیجئے (آیت) ” واتینہ الحکم صبیا “ یعنی ان کو ہم نے بچپن ہی میں فہم عطا فرمایا۔ 2:۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” خذالکتب بقوۃ “ کے بارے میں روایت کیا کہ عمل کرو جو اس میں فرائض میں سے ہیں۔ 3:۔ ابن منذر نے مالک بن دینار (رح) سے روایت کیا کہ ہم نے عکرمہ ؓ سے (آیت) ” واتینہ الحکم صبیا “ کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا اس سے مراد ہے عقلمندی۔ 4:۔ ابونعیم، ابن مردویہ اور دیلمی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے (آیت) ”…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[يٰــيَحْـيٰى: اے یحییٰ (علیہ السلام) ] [خُذِ : آپ (علیہ السلام) پکڑیں ] [الْكِتٰبَ : کتاب (یعنی تورات)] [بِقُوَّةٍ : مضبوطی سے ] [وَاٰتَيْنٰهُ : اور ہم نے دیا ان (علیہ السلام) کو ] [الْحُكْمَ : فیصلہ کرنے کی صلاحیت ] [صَبِيًّا : بچہ ہوتے ہوئے ] نوٹ۔ 1: حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کے جو حالات مختلف انجیلوں میں بکھرے ہوئے ہیں، تفہیم القرآن میں ان کو جمع کر کے ان کی سیرت پاک کا ایک نقشہ پیش کیا گیا ہے۔ ہم اس کا خلاصہ دی رہے ہیں۔ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) ، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے چھ ماہ بڑے تھے۔ تقریباً تیس سال کی عمر میں وہ نبوت کے منصب پر عملاً مامور ہوئے۔ وہ لوگوں سے گناہوں کی توبہ کراتے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کے اوصاف حمیدہ و اخلاق عالیہ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کی پیدائش ہوگئی اللہ تعالیٰ نے ان سے خطاب فرمایا (یَا یَحْیٰی خُذِ الْکِتَابَ بِقُوَّۃٍ ) اے یحییٰ کتاب کو مضبوطی کے ساتھ لے لو مفسرین نے فرمایا کہ اس سے توریت شریف مراد ہے چونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد انبیاء بنی اسرائیل توریت شریف پر ہی عامل تھے جیسا کہ سورة مائدہ میں فرمایا ہے (یَحْکُمُ بِھَا النَّبِیُّوْنَ الَّذِیْنَ اَسْلَمُوْا) (الآیۃ) لفظ بقوۃ میں خوب اچھی طرح یاد رکھنا بھی آگیا اور عمل کرنے کو بھی یہ لفظ شامل ہوگیا اللہ تعالیٰ نے حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کو حضرت زکریا (علیہ السلام) کے واسطہ سے خطاب…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–15

قصہء اول حضرت زکریا و حضرت یحییٰ (علیہما السلام) قال اللہ تعالیٰٰ ۔ کٓھٰیٰعٓصٓ، ذکر رحمت ربک عبدہ زکریا۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ ویوم یبعث حیا۔ (ربط) حضرت زکریا (علیہ السلام) انبیاء بنی اسرائیل میں سے ہیں۔ صحیح بخاری میں ہے کہ وہ نجار (یعنی بڑھئی) کا پیشہ کرتے تھے اور اپنے ہاتھ کی محنت سے کما کر کھاتے تھے۔ ان کے کوئی فرزند نہ تھا اور اعزاء اوراقرباء کی طرف سے یہ کھٹکا تھا کہ میرے بعد دین حق میں تغیر و تبدل کر ڈالیں گے۔ جیسا کہ بنی اسرائیل میں ہوتا رہا۔ اس لیے انہوں نے پچھلی رات میں نہایت عجز وزاری کے ساتھ ایک فرزند کی دعا مانگی کہ جو میرے بعد تیرے دین کی حفاظت کرسکے اور دعا کا آغاز اپنے ضعف اور ناتوانی سے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 12–13

10:۔ اس سے پہلے اندماج ہے کیونکہ یہ حکم تو ان کے پیدا ہونے کے بعد ہی دیا جاسکتا تھا۔ ای فلما ولد و بلغ سنا یومر مثلہ فیہ قلنا ییحی (روح) الکتاب میں الف لام عہد کے لیے ہے اور اس سے مراد تورات ہے۔ کتاب کو قوت سے پکڑنے سے اس پر پورا پورا عمل کرنے کی طرف اشارہ ہے۔ ” و اتینہ الحکم صبیا “۔ الحکم سے حکمت یعنی دین کی سمجھ یا عقل یا نبوت مراد ہے انہ الحکمۃ وھو الفہم فی التوراۃ والفقہ فی الدین والثانی قول معمر انہ العقل والثالث انہ النبوۃ و ذلک لان اللہ تعالیٰ بعث یحییٰ و عیسیٰ علیھما السلام و ھما صبیان لا کما بعث موسیٰ و محمدا علیھما السلام۔ وقد بلغا الاشد (کبیر باختصار ج 5 ص 774) ۔ ” حنانا “ یہ ”…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 12–15

ربط آیات : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت زکریا (علیہ السلام) کی دعا کر ذکر فرمایا کہ انہوں نے بڑھاپے میں ایک ایسے بیٹے کی درخواست کی جو انکی علمی جانشینی کا حق ادا کرسکے ، اللہ تعالیٰ نے اس دعا کو قبول فرمایا اور زکریا (علیہ السلام) کی خوشی اور سرور کے لیے استقرار حمل کی نشانی بھی بتلائی کہ آپ تین دن رات تک سوائے اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا اور تسبیح وتحمید کے کوئی کلام نہیں کرسکیں گے ، یہ نشانی بھی ظاہر ہوئی اور پھر اللہ نے بانجھ بیوی سے زکریا (علیہ السلام) کو ایک عظیم الشان فرزند عطا فرمایا ، یہ بھی اللہ کا نبی تھا اور اس کا نام بھی اللہ تعالیٰ نے خود ہی بتلا دیا تھا اور یہ بھی کہ اس سے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يٰــيَحْـيٰى خُذِ الْكِتٰبَ بِقُوَّۃٍ۝ 0ۭ وَاٰتَيْنٰہُ الْحُكْمَ صَبِيًّا۝ 12ۙ أخذ الأَخْذُ : حوز الشیء وتحصیله، وذلک تارةً بالتناول نحو : مَعاذَ اللَّهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنا مَتاعَنا عِنْدَهُ [يوسف/ 79] ، وتارةً بالقهر نحو قوله تعالی: لا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلا نَوْمٌ [ البقرة/ 255] ( اخ ذ) الاخذ ۔ کے معنی ہیں کسی چیز کو حاصل کرلینا جمع کرلینا اور احاطہ میں لے لینا اور یہ حصول کبھی کسی چیز کو پکڑلینے کی صورت میں ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ { مَعَاذَ اللهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهُ } ( سورة يوسف 79) خدا پناہ میں رکھے کہ جس شخص کے پاس ہم نے اپنی چیز…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 12–13

یٰـیَحْیٰی خُذِالْکِتٰبَ بِقُـوَّۃٍ ط وَاٰ تَیْنٰـہُ الْحُکْمَ صَبِیًّا۔ وَّحَنَانًا مِّنْ لَّدُنَّا وَزَکٰوۃً ط وَکَانَ تَقِیًّا۔ وَّبَرًّا م بِوَالِدَیْہِ وَلَمْ یَکُنْ جَبَّارًا عَصِیًّا۔ (مریم : 12، 13، 14) (اے یحییٰ ! کتاب کو مضبوطی سے پکڑو، ہم نے اس کو بچپن ہی میں قوت فیصلہ عطا فرمائی تھی۔ اور سوز و گداز اور پاکیزگی بخشی تھی اپنی جناب سے اور وہ نہایت پرہیزگار تھا۔ اور وہ والدین کا فرمانبردار تھا اور وہ سرکش اور نافرمان نہ تھا۔ ) کتاب تھامنے کا حکم حضرت یحییٰ (علیہ السلام) جب سنِ رُشد کو پہنچے تو آپ ( علیہ السلام) کو حکم دیا گیا کہ آپ ( علیہ السلام) مضبوطی سے کتاب کو تھا میں۔ کتاب سے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کو ہدایات : قرآن مجید کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ یحییٰ (علیہ السلام) کو بچپن میں نبوت کے منصب پر فائز کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے کتاب سے سرفراز فرمایا تھا۔ کیونکہ اس آیت میں ارشاد ہوا ہے کہ ہم نے اسے بچپن میں ہی حکمت و دانائی اور قوت فیصلہ عنایت کی تھی اور انھیں حکم دیا تھا کہ کتاب اللہ کو فکری اور عملی طور پر پوری قوت کے ساتھ پکڑے رکھنا یعنی اس کے ابلاغ، نفاذ اور اس پر عمل کرنے میں آپ سے دانستہ طور پر سستی اور کوتاہی سرزد نہیں ہونا چاہیے۔ قرآن مجید کے ظاہری الفاظ سے تو یہی پتہ چلتا ہے کہ یحییٰ (علیہ السلام) کو بچپن میں یہ چیزیں عنایت کی گئیں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

یحییٰ ( علیہ السلام) کی صفات : 12: یٰـیَحْیٰی خُذِالْکِتٰبَ اے یحییٰ تو کتاب کو پکڑ) مطلب یہ ہے کہ ہم نے ان کو یحییٰ عطا کیا اور ہم نے یحییٰ کو ولادت کے بعد یا خطاب کے زمانے میں کہا اے یحییٰ کتاب سے تورات مراد ہے۔ بِقُوَّۃٍ (مضبوطی کے ساتھ) یہ حال ہے مطلب یہ ہے کہ خوب کوشش کے ساتھ اور اللہ کی تائید و توفیق کی پشت پناہی کے ساتھ۔ وَّاٰتَیْنٰہُ الْحُکْمَ صَبِیًّا ہم نے بچپن میں ہی ان کو حکم دیا) حکم سے مراد یہاں توراۃ کی سمجھ اور دین کی فہم ہے۔ صَبِیًّا یہ حال ہے ایک قول یہ ہے کہ بچے حضرت یحییٰ کو کھیلنے کیلئے بلاتے تو آپ فرماتے ہم کھیل کیلئے پیدا نہیں کئے گئے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

12۔ یایحییٰ ، اس میں حذف کلام ہوا ہے، پورا کلام اس طرح تھا زکریاعلیہ السلام کی بیوی حاملہ ہوگئی، پھر یحییٰ (علیہ السلام) پیدا ہوگئے جب وہ بولنے کے قابل ہوگئے توہم نے ان کو خطاب کیا۔ خذ الکتاب، تورات کو پکڑو، بقوہ، کوشش کے ساتھ۔ واتیناہ الحکم، ابن عباس کا قول ہے کہ اس سے مراد نبوت ہے ۔ صبیا اور وہ تین سال کے تھے۔ بعض نے کہا کہ حکم سے مراد کتاب کی سمجھ، وہ تورات پڑھتے تھے بچپن میں۔ بعض سلف و صالحین کا قول ہیھ کہ جس نے بلوغت سے پہلے قرآن یاد کرلیا سیکھ لیا وہ ان میں سے شمار ہوگا جن کو بچپن میں حکمت عطا کی گئی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 12–14

12۔ 14۔ مطلب کو مختصر کرنے کے لیے یہاں اتنی عبادت کو حذف کردیا گیا ہے کہ زکریا ( علیہ السلام) کو یحییٰ (علیہ السلام) کے پیدا ہونے کی خوشخبری جو دی گئی تھی اس کے موافق یحییٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے اور حضرت عبداللہ بن ؓ عباس کے قول کے موافق جب سات برس کی عمر کو پہنچ گئے تو ان کو یہ حکم ہوا کہ اے یحییٰ توریت کے احکام کے موافق تم خود بھی مستعدی سے عمل کرو اور بنی اسرائیل کو بھی ان احکام کا پابند رکھو اگرچہ اس میں اختلاف ہے کہ کتنی عمر میں یحییٰ (علیہ السلام) کو احکام توریت کے موافق عمل کرنے کا حکم ہوا لیکن ترمذی میں سبرہ بن معبد جہینی کی صحیح حدیث ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا جب لڑکا سات…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 12–15

آیت 12 گزشتہ کلام، حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کی ولادت، ان کے شباب اور ان کی تربیت پر دلالت کرتا ہے۔ جب حضرت یحییٰ (علیہ السلام) اس عمر کو پہنچ گئے جس عمر میں خطاب سمجھ میں آجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ قوت یعنی کوشش اور اجتہاد کے ساتھ کتاب اللہ کو پکڑے رکھیں یعنی اس کے الفاظ کی حفاظت، اس کے معانی کے فہم اور اس کے اوامرونواہی پر عمل میں پوری کوشش اور اجتہاد سے کام لیں۔۔۔. یہ ہے کتاب اللہ کو کامل طور پر پکڑنا۔ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی، انہوں نے کتاب اللہ کی طرف توجہ کی، اسے حفظ کیا اور اس کا فہم حاصل کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسی ذہانت و فطانت…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 11–22

محراب کیا ہے ؟ قول باری ہے (فخرج علی قومہ من المحراب۔ چناچہ وہ محراب سے نکل کر اپنی قوم کے سامنے آئے) ابوعبیدہ کا قول ہے کہ محراب صدر مجلس یعنی بیٹھنے کی جگہ کے درمیان والے حصے کو کہتے ہیں۔ اسی سے مسجد کا محراب نکلا ہے۔ ایک قول کے مطابق محراب غرفہ یعنی بالا خانہ کو کہتے ہیں۔ اسی سے قول باری ہے (اذ تسوروا المحراب ۔ جب وہ دیوار پھاند کر حجرہ میں آ گئے ) ایک اور قول ہے کہ محراب مصلی یعنی نماز پڑھنے کی جگہ کو کہتے ہیں۔ گونگے کے اشارے سے عمل درآمد ہوسکتا ہے قول باری ہے (فاوحی الیھم اس نے انہیں اشارے سے کہا) ایک قول کے مطابق حضرت زکریاعلیہ السلام نے اپنی قوم کو ہاتھ کے اشارے سے کہا اس طرح ہاتھ کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

13 فرزند زکریا حضرت یحییٰ کا ذکر : سو جب حضرت زکریا کے وہ فرزند گرامی یعنی حضرت یحیٰی سنِّ شعور کو پہنچ گئے تو ان کو یہ ہدایت فرمائی گئی۔ یہاں پر حذف و ایجاز اور اختصار و اندماج ہے کہ حضرت یحییٰ کی پیدائش سے لے کر بلوغ تک کے تمام مراحل کا تذکرہ چھوڑ دیا گیا۔ (روح، قرطبی، ابن کثیر اور فتح القدیر وغیرہ) ۔ کیونکہ ایک تو یہ سب کچھ خودبخود معلوم ہوسکتا ہے، اس لئے اس کو فہم سامع پر چھوڑ دیا گیا۔ اور دوسرے اس لئے کہ اس میں یہ درس بھی ہے کہ قرآن حکیم کوئی تاریخ اور قصے کہانیوں کی کتاب نہیں کہ قصے کو پورے کا پورا اور بالترتیب بیان کیا جائے۔ بلکہ یہ کتاب کتاب ہدایت ہے۔ اس میں قصے کا بیان اسی حد تک اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 12–15

سیدنا یحییٰ (علیہ السلام) کے اوصاف تشریح : جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا دستور ہے کہ وہ کسی قوم میں سے بہترین انسان کو نبوت کے لیے چن لیتا ہے۔ اور وہ انسان بچپن سے ہی نیک خصلت انسان ہوتا ہے۔ اسی طرح سیدنا یحییٰ (علیہ السلام) انتہائی نیک دل، نرم مزاج، پاکیزہ، نیک نیت، فرماں بردار، مشفق اور مہربان تھے۔ انہوں نے کبھی بھی کسی پر ظلم نہیں کیا تھا والدین کے انتہائی فرماں بردار انسان تھے۔ نہ خود کبھی برائی کی تھی اور نہ کسی کو برائی کا راستہ دکھاتے تھے۔ کیونکہ ان کو اللہ نے کتاب ہدایت دی تھی جو کہ پوری طرح نیکی اور ہدایت کی کتاب تھی اللہ نے آپ کو عطا کی اور حکم دیا کہ اسے مضبوطی سے پکڑلو۔ یعنی اس میں دیے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–15

سورة مریم : (رکوع نمبر 1) اسرارومعارف سورة مریم بھی مکی سورتوں میں سے ہے اور سورة کہف کی طرح اس میں بھی بہت سے واقعات عجیبہ کا تذکرہ ہے ، پہلی گزرنے والی سورة یعنی سورة کہف کی طرح اس میں بھی بہت سے واقعات کا ذکر تھا جو علمائے یہود نے مشرکین مکہ کو پوچھنے کے لیے کہا تھا اور یہ بھی کہا تھا کہ ان واقعات کو صحیح طور پر صرف اللہ جل جلالہ کا نبی ہی بیان کرسکتا ہے اللہ کریم نے وہ واقعات ارشاد فرما کر اپنے رسول فداہ ابی وامی کو مزید واقعات غریبہ سے مطلع فرمایا جن کے بارے کفار ومشرکین سوال بھی نہ کر پائے تھے کہ وہ اتنا بھی علم نہ رکھتے تھے ۔ (حروف مقطعات) کھیعص : حروف مقطعات کی بات پہلے گزر چکی کہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 11 یعنی جب یحییٰ پیدا ہونے کے بعد سوچنے سمجھنے کی عمر کو پہنچے تو ہم نے انہیں حکم دیا ” اے یحییٰ …(شوکانی) 12 سمجھ یعنی کتاب کو سمجھنے اور اس کے احکام کے مطابق تمام معاملات میں صحیح رائے قائم کرنے ک صلاحیت بعض مفسرین نے حکم سے مراد نبوت بھی لی ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے عام عادت کے خلاف حضرت یحییٰ کو بچپن ہی سے نبوت عطا فرمائی (ابن کثیر) شاہ صاحب لکھتے ہیں : باپ ضعیف تھے اور یہ جوان پس یہ باپ کی جگہ لوگوں کو علم کتاب سکھانے لگے (موضح)13 یعنی اخلاق و کردار کی پاکیزگی جو گناہوں سے بچے رہنے سے حاصل ہوتی ہے۔14 اللہ تعالیٰ نے حضرت یحییٰ کو ہر گناہ سے بچایا تھا۔ حدیث میں ہے کہ انہوں نے نہ کبھی گناہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(19:12) الحکم۔ حکمت ، دانائی۔ فراست، عقل وفہم۔ صبیا۔ بچہ۔ لڑکا۔ وہ بچہ جو بلوغ کو نہ پہنچا ہو۔ صبا۔ یصبوا صبو صبو وصبائ۔ مصدر۔ بچپن کی طرف مائل ہونا۔ بچوں کی خصلت والا۔ صبی بروزن فعیلصفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ اس کی جمع صبیان۔ صبیۃ ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 11–15

لغات القرآن آیت نمبر 11 تا 15 المحراب عبادت کرنے کی جگہ ۔ اوحی اس نے اشارہ کیا۔ سبحوا تسبیح کرو۔ عبادت کرو۔ بکرۃ صبح۔ عشی شام۔ خذ لے لو۔ پکڑو۔ الحکم حکمت و دانئای۔ صبی بچپن۔ حنان شفقت و محبت۔ برا نیکی کرنا۔ جبار سرکشی کرنے والا۔ عصی نافرمان۔ ولد پیدا کیا گیا۔ یبعث دوبارہ اٹھائے گا۔ تشریح : آیت نمبر 11 تا 15 جب حضرت زکریا (علیہ السلام) کی عمر مبارک ایک سو بیس سال کے قریب ہوئی اس وقت آپ نے عاجزی و انکساری سے اللہ کی بارگاہ میں یہ دعا فرمائی کہ اے اللہ مجھے ایک بیٹا عطا فرما دیجیے تاکہ وہ توریت کی تعلیمات کو عام کرسکے اور میرے اسلامی مقصد اور مشن کے لئے میرا صحیح جانشین اور وارث بن سکے۔ اللہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 12–15

یحییٰ (علیہ السلام) لڑکپن ہی میں عبادت اور تلقین کیا کرتے تھے، اور کھیل کود میں مصروف نہیں ہوئے۔ اور ان کو حکم ہوا کہ اے یحییٰ کتاب کو مضبوط ہو کرلو یعنی توراۃ پر استقلال کے ساتھ عمل کرو۔ اور وہ لڑکپن ہی میں ہمارے فضل سے علم لاہوتی حاصل کرچکے تھے۔ ہم نے یحییٰ (علیہ السلام) کو رحم دل اور پاکیزہ بنایا تھا۔ وہ پرہیزگار تھا اور ماں باپ سے سلوک کرتا تھا، اور ان کی خدمت میں مستعد تھا، اور سرکش اور نافرمان نہ تھا۔ اور جس دن وہ پیدا ہوا سلامتی کے ساتھ پیدا ہوا۔ اور یہی کیفیت اس کی موت کے دن کی ہے، اور یہی نقشہ اس کا اس روز ہوگا جس روز کہ قبر سے اٹھایا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 12–16

[6] کتاب سے مراد تورات ہے۔ خود یحییٰ (علیہ السلام) صاحب شریعت نہ تھے ان کا عمل موسوی شریعت پر تھا۔ [7] یعنی دین کی سمجھ اور حق و باطل میں امتیاز کی قوت و صلاحیت۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 11–12

انسانی تقاضے : (ف 1) اللہ تعالیٰ نے حضرت زکریا (علیہ السلام) کی سن لی ، اور ان کو بشارت دی اور فرمایا ہاں ضرور ایک سعادت مند لڑکا ہوگا ، حضرت زکریا (علیہ السلام) نے فرمایا کیا بڑھاپے میں بھی ایسا ہو سکتا ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے جوابا ارشاد فرمایا (آیت) ” ھو علی ھین “۔ کہ اس قسم کے خرق عادات ہمارے لئے کچھ بھی دشوار نہیں ، حضرت زکریا (علیہ السلام) اس جواب سے گو مطمئن ہوگئے مگر تقاضائے بشریت سے مزید تسلی کے لئے پوچھا کہ اس وقت سعادت کی علامتیں کیا ہوں گی ؟ کیونکر انبیاء (علیہم السلام) جہاں نبوت سے سرفراز ہوتے ہیں اور تائید الہی سے نوازے جاتے ہیں ، وہاں بشری تقاضے بھی ان میں موجود رہتے ہیں ، اور…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

- 12 اے یحییٰ (علیہ السلام) اس کتاب توریت کو مضبوطی کے ساتھ سنبھال کرلو اور ہم نے اس کو بچپنے ہی میں دین کی سمجھ

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 10–12

ف 2۔ یعنی توریت کہ اس وقت وہی کتاب شریعت تھی، اور انجیل کا نزول بعد میں ہوا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

یحیٰ (علیہ السلام) کو کتاب الہی کے مضبوط پکڑنے کی ہدایت : 12۔ غور کیجئے کہ اس آیت سے پہلے کتنا مضمون حذف کردیا گیا اور پھر ضرورت کی بات کو بیان کردیا ، قرآن کریم جو کتاب ہدایت ہے نہ کہ مربوط قصے کہانیوں کی کتاب وہ اس طرح ضرورت کی باتوں کو بیان کرتا اور غیر ضروری کو حذف کرتا ہے لیکن اکثر لوگ ایسے مواقع پر خواہ مخواہ کی بحثیں شروع کردیتے ہیں اور علمائے کرام بھی جاننے بوجھنے کے باوجود انہی لوگوں کی ترجمانی کرتے رہتے ہیں ، کیوں ؟ اس لئے کہ اس طرح کی باتیں سمجھانے اور ان کو بیان کرنے پر وقت خرچ ہوتا ہے جن لوگوں کے ذہن میں سنی سنائی باتیں بیٹھ گئی ہوتی ہیں وہ بات بات پر مزاحمت کرتے ہیں اور خواہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 10–12

سَوِيًّا means healthy. This word has been added here to denote that Sayyidna Zakariyya's (علیہ السلام) loss of speech for three days was not due to any illness, for during this entire period of three days he could utter words of prayer and supplication. This special condition was a miracle and a sign from Allah Ta’ ala about his wife's pregnancy.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

9. The details regarding the birth of Prophet John (peace be upon him), according to the divine will, and his coming of age, have been left out. Here, in one sentence, the mission of Prophethood entrusted to him on attaining maturity has been stated, which was to observe and follow the Torah in letter and spirit, and to exhort the Israelites as well to do the same. 10. The Arabic word hukm implies ability (1) to make decisions, (2) to form right opinions, (3) to interpret the divine law, (4) to solve problems, and (5) it also means authority from Allah to decide affairs.

Read the full tafseer →